
تہائی مال کی وصیت حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں فتح مکہ کے سال بیمار ہوا اور موت کے قریب پہنچ گیا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سارا مال ہے لیکن ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں،کیا میں اس کے لیے تمام مال کی وصیت کر دوں آپ نے فرمایا ،،نہیں،، میں نے پوچھا دو تہائی؟فرمایا ،،نہیں،، میں نے عرض کیا،،ایک تہائی،،فرمایا ہاں ایک تہائی اور یہ بھی زیادہ ہے تمہارا اپنے ورثاءکو مالدار چھوڑنا اس بات سے بہتر ہے کہ انہیں مفلس چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے تم جو کچھ بھی خرچ کرو یہاں تک کہ ایک لقمہ اٹھا کر بیوی کے منہ میں ڈالو اس کا بھی تمہیں اجر دیا جائے گا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا (یعنی مدینہ طیبہ نہ جاؤں گا) آپ نے فرمایا اگر تم میرے بعد رہ جاؤ گے اور رضائے الہی کے حصول کے لیے کوئی کام کرو گے تو تمہارے درجات بلند ہوں گے اور امید ہے کہ تم میرے بعد زندہ رہو گے یہاں تک کہ آئندہ کچھ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان، یا اللہ! میرے صحابہ کی ہجرتوں کو پورا فرما اور انہیں ایڑیوں کے بل نہ لوٹا لیکن سعد ابن خولہ کا افسوس ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مکہ مکرمہ میں انتقال کرنے کا دکھ تھا،اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے،اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ آدمی کے لیے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں بعض علماء نے تہائی سے کم کی وصیت کو مستحق قرار دیا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی زیادہ ہے، ،، ف ،، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فتح عراق تک زندہ رہے،اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک کہ تم میرے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے ذریعے کچھ لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان،حرف بحرف صحیح ہوا معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے برگزیدہ بندوں کو غیب اور مستقبل کے باتوں پر مطلع فرماتا ہے کون کب مرے گا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اس لیے یہ کہنا کہ ان باتوں کا کسی کو علم میں نہیں ہوتا،یہ جہالت اور تعصب ہے،البتہ ذاتی علم خاصہ خداوندی ہے،وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتا-اور نہ ہی کوئی مسلمان اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے،یہ عقیدہ شرک ہے،اہل سنت و الجماعت کے نزدیک انبیاء اولیاء کا علم عطیہ خداوندی ہے. (ترمذی شریف أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ حدیث نمبر ٢١١٦)
وصیت میں جس چیز کا ذکر تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتنی ہی مرد اور عورتیں ساٹھ برس تک اللہ تعالی کی اطاعت میں عمل کرتے رہتے ہیں پھر ان کو موت آتی ہے تو وصیت میں نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے ( جہنم کی) آگ واجب ہوتی ہے راوی فرماتے ہیں پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (تائیدا) آیت سنائی من بعد وصيه الخ ،،وصیت پوری کرنے کے بعد جو وصیت کی جائے یا ادائیگی قرض کے بعد،لیکن وصیت میں کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے یہ اللہ تعالی کا حکم ہے الخ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے نصر بن علی جو اشعث بن جابر سے راوی ہیں نصر بن علی جہضمی کے دادا ہیں - (ترمذی شریف أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بابُ مَا جَاءَ فِي الضِّرَارِ فِي الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١١٧)
وصیت کی ترغیب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان جس کے پاس وصیت کے لیے مال ہو تو اسے لازم ہے کہ دوراتیں بھی اسی حالت میں نہ گزارے کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے ،بواسطہ زہری ،سالم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ( ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَثِّ عَلَى الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١١٨)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت نہیں فرمائی طلحہ بن مصرف کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی؟ انہوں نے جواب دیا،، نہیں،،میں نے کہا پھر وصیت کیسے مقرر ہوئی اورآپ نے لوگوں کو کیسے حکم دیا ابن ابی اوفی نے فرمایا اللہ تعالی کی کتاب پر عمل پیرا ہونے کی وصیت فرمائی،یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے پہچانتے ہیں (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوصِ حدیث نمبر ٢١١٩)
وارث کے لیے وصیت نہیں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا فرما دیا،پس وارث کے لیے وصیت نہیں بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہے جو آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا دعوی کرے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے اس پر قیامت تک اللہ تعالی کی لعنت مسلسل برستی رہے گی اور عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے خرچ نہ کرے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کھانا بھی نہ دے؟ فرمایا یہ تو ہمارے مالوں میں سے افضل مال ہے نیز فرمایا ادھار لی ہوئی چیز قابل دلچسپی ہے،دودھ کے لیے ادھار لیے ہوئے جانور واپس کیے جائیں قرض ادا کرنے کی چیز ہے اور کفیل ضامن ہے، اس باب میں حضرت عمرو بن خارجہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث بواسطہ ابو امامہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے مروی ہے اہل عراق اور اہل حجاز سے اسماعیل بن عیاش کی وہ روایات جن میں وہ منفرد ہیں کچھ قوی نہیں کیونکہ وہ ان سے منکر روایات روایت کرتے ہیں، اہل شام سے ان کی روایت اصح ہے، امام بخاري علیہ الرحمہ نے اسی طرح فرمایا میں ( امام ترمذی) نے احمد بن حسن سے سنادہ امام احمد بن حنبل کا قول نقل کرتے ہیں اسماعیل بن عیاش بقیہ سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ بقیہ،ثقہ راویوں سے بھی منکر احادیث روایت کرتے ہیں میں نے عبداللہ ابن عبدالرحمن سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے زکریا ابن عدی سے سناوہ اسحاق فزاری کا نقل کرتے ہیں کہ بقیہ سے وہ حدیثیں لے لو جو ثقات سے روایت کرتے ہیں لیکن اسماعیل بن عیاش ثقات سے روایت کریں یا غیر ثقات سے ان کی کوئی روایت نہ لو، (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ حدیث نمبر ٢١٢٠)
وارث کے لیے وصیت نہیں حضرت عمر وبن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اونٹنی پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیا میں اس کی گردن کے نیچے تھا وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا پس وارث کے لیے وصیت ،،نہیں،،بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے،جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا (غلام) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ حدیث نمبر ٢١٢١)
قرض وصیت سے پہلے ادا کیا جائے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض دینے کا فیصلہ فرمایا اور تم پڑھتے ہو کہ وصیت قرض سے پہلے ہیں،عام علماء کا اس پر عمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض دیا جائے، (ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١٢٢)
موت کے وقت صدقہ کرنا یا غلام آزاد کرنا حضرت ابو حبیبہ طائی فرماتے ہیں میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصے کی میرے حق میں وصیت کی میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو پوچھا کہ میرے بھائی نے میرے لیے کچھ مال کی وصیت کی ہے، آپ کا کیا خیال ہے،وہ مال کہاں خرچ کیا جائے،فقراء پر مساکین پر یا اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والوں پر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ دیتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مرتے وقت غلام آزاد کرنے والے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص شکم سیر ہو کر ہدیہ بھیجے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے ( ترمذی شریف٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يَعْتِقُ عِنْدَ المَوْتِ حدیث نمبر ٢١٢٣)
حق ولاءکس کے لیے ہے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ حضرت بریدہ ان کے پاس اپنے مال کتابت میں امداد طلب کرنے حاضر ہوئیں ابھی تک انہوں نے اپنی کتابت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اپنے مالکوں کے پاس واپس جاؤ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری کتابت ادا کر دوں اور حق ولاء مجھے حاصل ہو تو میں ایسا کروں گی،حضرت بریدہ نے یہ بات ان لوگوں کو بتائی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چاہیں تو ثواب کی نیت کر لیں اور حق ولاء ہمیں حاصل ہو تو ہم ایسا کریں گے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ نے فرمایا اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ جو ایسی شرط باندھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں تو وہ جائز نہیں اگرچہ سوبار شرط کرے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے،اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ حق ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے. (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يَعْتِقُ عِنْدَ المَوْتِ حدیث نمبر ٢١٢٤)
Tirmizi Shareef : Abwabul Wasaya
|
Tirmizi Shareef : ابواب الوصایا
|
•