asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Wasaya

From 2116 to 2124

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

تہائی مال کی وصیت حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں فتح مکہ کے سال بیمار ہوا اور موت کے قریب پہنچ گیا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سارا مال ہے لیکن ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں،کیا میں اس کے لیے تمام مال کی وصیت کر دوں آپ نے فرمایا ،،نہیں،، میں نے پوچھا دو تہائی؟فرمایا ،،نہیں،، میں نے عرض کیا،،ایک تہائی،،فرمایا ہاں ایک تہائی اور یہ بھی زیادہ ہے تمہارا اپنے ورثاءکو مالدار چھوڑنا اس بات سے بہتر ہے کہ انہیں مفلس چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے تم جو کچھ بھی خرچ کرو یہاں تک کہ ایک لقمہ اٹھا کر بیوی کے منہ میں ڈالو اس کا بھی تمہیں اجر دیا جائے گا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا (یعنی مدینہ طیبہ نہ جاؤں گا) آپ نے فرمایا اگر تم میرے بعد رہ جاؤ گے اور رضائے الہی کے حصول کے لیے کوئی کام کرو گے تو تمہارے درجات بلند ہوں گے اور امید ہے کہ تم میرے بعد زندہ رہو گے یہاں تک کہ آئندہ کچھ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان، یا اللہ! میرے صحابہ کی ہجرتوں کو پورا فرما اور انہیں ایڑیوں کے بل نہ لوٹا لیکن سعد ابن خولہ کا افسوس ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مکہ مکرمہ میں انتقال کرنے کا دکھ تھا،اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے،اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ آدمی کے لیے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں بعض علماء نے تہائی سے کم کی وصیت کو مستحق قرار دیا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی زیادہ ہے، ،، ف ،، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فتح عراق تک زندہ رہے،اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک کہ تم میرے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے ذریعے کچھ لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان،حرف بحرف صحیح ہوا معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے برگزیدہ بندوں کو غیب اور مستقبل کے باتوں پر مطلع فرماتا ہے کون کب مرے گا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اس لیے یہ کہنا کہ ان باتوں کا کسی کو علم میں نہیں ہوتا،یہ جہالت اور تعصب ہے،البتہ ذاتی علم خاصہ خداوندی ہے،وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتا-اور نہ ہی کوئی مسلمان اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے،یہ عقیدہ شرک ہے،اہل سنت و الجماعت کے نزدیک انبیاء اولیاء کا علم عطیہ خداوندی ہے. (ترمذی شریف أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ حدیث نمبر ٢١١٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: " لَا "، قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي، قَالَ: " لَا "، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: " لَا "، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ، قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي، قَالَ: " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ لَيْسَ لِلرَّجُلِ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2116

وصیت میں جس چیز کا ذکر تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتنی ہی مرد اور عورتیں ساٹھ برس تک اللہ تعالی کی اطاعت میں عمل کرتے رہتے ہیں پھر ان کو موت آتی ہے تو وصیت میں نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے ( جہنم کی) آگ واجب ہوتی ہے راوی فرماتے ہیں پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (تائیدا) آیت سنائی من بعد وصيه الخ ،،وصیت پوری کرنے کے بعد جو وصیت کی جائے یا ادائیگی قرض کے بعد،لیکن وصیت میں کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے یہ اللہ تعالی کا حکم ہے الخ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے نصر بن علی جو اشعث بن جابر سے راوی ہیں نصر بن علی جہضمی کے دادا ہیں - (ترمذی شریف أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بابُ مَا جَاءَ فِي الضِّرَارِ فِي الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١١٧)

باب مَا جَاءَ فِي الضِّرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ جَدُّ هَذَا النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ "، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ: مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ سورة النساء آية 12 ـ 13، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الَّذِي رَوَى عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ جَابِرٍ هُوَ جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2117

وصیت کی ترغیب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان جس کے پاس وصیت کے لیے مال ہو تو اسے لازم ہے کہ دوراتیں بھی اسی حالت میں نہ گزارے کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے ،بواسطہ زہری ،سالم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ( ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَثِّ عَلَى الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١١٨)

باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2118

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت نہیں فرمائی طلحہ بن مصرف کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی؟ انہوں نے جواب دیا،، نہیں،،میں نے کہا پھر وصیت کیسے مقرر ہوئی اورآپ نے لوگوں کو کیسے حکم دیا ابن ابی اوفی نے فرمایا اللہ تعالی کی کتاب پر عمل پیرا ہونے کی وصیت فرمائی،یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے پہچانتے ہیں (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوصِ حدیث نمبر ٢١١٩)

باب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوصِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَتِ الْوَصِيَّةُ وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ؟ قَالَ: " أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2119

وارث کے لیے وصیت نہیں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا فرما دیا،پس وارث کے لیے وصیت نہیں بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہے جو آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا دعوی کرے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے اس پر قیامت تک اللہ تعالی کی لعنت مسلسل برستی رہے گی اور عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے خرچ نہ کرے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کھانا بھی نہ دے؟ فرمایا یہ تو ہمارے مالوں میں سے افضل مال ہے نیز فرمایا ادھار لی ہوئی چیز قابل دلچسپی ہے،دودھ کے لیے ادھار لیے ہوئے جانور واپس کیے جائیں قرض ادا کرنے کی چیز ہے اور کفیل ضامن ہے، اس باب میں حضرت عمرو بن خارجہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث بواسطہ ابو امامہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے طرق سے مروی ہے اہل عراق اور اہل حجاز سے اسماعیل بن عیاش کی وہ روایات جن میں وہ منفرد ہیں کچھ قوی نہیں کیونکہ وہ ان سے منکر روایات روایت کرتے ہیں، اہل شام سے ان کی روایت اصح ہے، امام بخاري علیہ الرحمہ نے اسی طرح فرمایا میں ( امام ترمذی) نے احمد بن حسن سے سنادہ امام احمد بن حنبل کا قول نقل کرتے ہیں اسماعیل بن عیاش بقیہ سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ بقیہ،ثقہ راویوں سے بھی منکر احادیث روایت کرتے ہیں میں نے عبداللہ ابن عبدالرحمن سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے زکریا ابن عدی سے سناوہ اسحاق فزاری کا نقل کرتے ہیں کہ بقیہ سے وہ حدیثیں لے لو جو ثقات سے روایت کرتے ہیں لیکن اسماعیل بن عیاش ثقات سے روایت کریں یا غیر ثقات سے ان کی کوئی روایت نہ لو، (ترمذی شریف - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ حدیث نمبر ٢١٢٠)

باب مَا جَاءَ لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ". ثُمَّ قَالَ: " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَأَهْلِ الْحِجَازِ لَيْسَ بِذَلِكَ فِيمَا تَفَرَّدَ بِهِ، لِأَنَّهُ رَوَى عَنْهُمْ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَتُهُ، عَنْ أَهْلِ الشَّامِ أَصَحُّ، هَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَال: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ حَدِيثًا مِنْ بَقِيَّةَ، وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ، وَسَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ: خُذُوا عَنْ بَقِيَّةَ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ، وَلَا تَأْخُذُوا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ، وَلَا عَنْ غَيْرِ الثِّقَاتِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2120

وارث کے لیے وصیت نہیں حضرت عمر وبن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اونٹنی پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیا میں اس کی گردن کے نیچے تھا وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا پس وارث کے لیے وصیت ،،نہیں،،بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے،جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا (غلام) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ حدیث نمبر ٢١٢١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى نَاقَتِهِ، وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: وَسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا أُبَالِي بِحَدِيثِ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، فَوَثَّقَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ، ثُمَّ رَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2121

قرض وصیت سے پہلے ادا کیا جائے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض دینے کا فیصلہ فرمایا اور تم پڑھتے ہو کہ وصیت قرض سے پہلے ہیں،عام علماء کا اس پر عمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض دیا جائے، (ترمذی شریف ٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الوَصِيَّةِ حدیث نمبر ٢١٢٢)

باب مَا جَاءَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ "، وَأَنْتُمْ تُقِرُّونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2122

موت کے وقت صدقہ کرنا یا غلام آزاد کرنا حضرت ابو حبیبہ طائی فرماتے ہیں میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصے کی میرے حق میں وصیت کی میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو پوچھا کہ میرے بھائی نے میرے لیے کچھ مال کی وصیت کی ہے، آپ کا کیا خیال ہے،وہ مال کہاں خرچ کیا جائے،فقراء پر مساکین پر یا اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والوں پر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ دیتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مرتے وقت غلام آزاد کرنے والے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص شکم سیر ہو کر ہدیہ بھیجے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے ( ترمذی شریف٢٨ - أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يَعْتِقُ عِنْدَ المَوْتِ حدیث نمبر ٢١٢٣)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخِي أَوْصَى إِلَيَّ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ تَرَى لِي وَضْعَهُ فِي الْفُقَرَاءِ أَوِ الْمَسَاكِينِ أَوِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2123

حق ولاءکس کے لیے ہے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ حضرت بریدہ ان کے پاس اپنے مال کتابت میں امداد طلب کرنے حاضر ہوئیں ابھی تک انہوں نے اپنی کتابت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اپنے مالکوں کے پاس واپس جاؤ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری کتابت ادا کر دوں اور حق ولاء مجھے حاصل ہو تو میں ایسا کروں گی،حضرت بریدہ نے یہ بات ان لوگوں کو بتائی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چاہیں تو ثواب کی نیت کر لیں اور حق ولاء ہمیں حاصل ہو تو ہم ایسا کریں گے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ نے فرمایا اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ جو ایسی شرط باندھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں تو وہ جائز نہیں اگرچہ سوبار شرط کرے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے،اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ حق ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے. (ترمذی شریف- أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يَعْتِقُ عِنْدَ المَوْتِ حدیث نمبر ٢١٢٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ، وَيَكُونَ لِي وَلَاؤُكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ فَلْتَفْعَلْ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Wasaya , Hadees No. 2124

Tirmizi Shareef : Abwabul Wasaya

|

Tirmizi Shareef : ابواب الوصایا

|

•