
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے“، آپ نے فرمایا: ”میں خواب میں قید (پیر میں بیڑی پہننا) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب أَنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٢؛حدیث نمبر ٢٢٧٠)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب أَنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٢؛حدیث نمبر ٢٢٧١)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہو گا“، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: ”البتہ بشارتیں باقی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ؛نبوت کے ختم ہونے اور بشارتوں کے باقی رہنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٣؛حدیث نمبر ٢٢٧٢)
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ (یونس: ۶۴) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچے خواب وہ ہیں جو سحری (صبح) کے وقت آتے ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٤)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی اس آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛باب قَوْله (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)؛ آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٣٤؛حدیث نمبر ٢٢٧٥)
Tirmizi Shareef : Abwabur Rooya
|
Tirmizi Shareef : ابواب الرؤیا
|
•