
حضرت زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٤؛حدیث نمبر ٢٢٩٥)
ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ۳- اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٤؛حدیث نمبر ٢٢٩٦)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؛سب سے اچھے گواہوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٥؛حدیث نمبر ٢٢٩٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی درست اور مقبول نہیں ہے، اور نہ ان مردوں اور عورتوں کی گواہی مقبول ہے جن پر حد نافذ ہو چکی ہے، نہ اپنے بھائی سے دشمنی رکھنے والے کی گواہی مقبول ہے، نہ اس آدمی کی جس کی ایک بار جھوٹی گواہی آزمائی جا چکی ہو، نہ اس شخص کی گواہی جو کسی کے زیر کفالت ہو اس کفیل خاندان کے حق میں (جیسے مزدور وغیرہ) اور نہ اس شخص کی جو ولاء یا رشتہ داری کی نسبت میں متہم ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یزید بن زیاد دمشقی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یزید ضعیف الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث زہری کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے، ۴- فزازی کہتے ہیں: «قانع» سے مراد «تابع» ہے، ۵- اس حدیث کا مطلب ہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی سند کے اعتبار سے یہ میرے نزدیک صحیح ہے، ۶- اس بارے میں اہل علم کا عمل ہے کہ رشتہ دار کے لیے رشتہ کی گواہی درست ہے، البتہ بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے، ۷- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب گواہی دینے والا عادل ہو تو باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اسی طرح باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست ہے، ۸- بھائی کی گواہی کے جواز کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، ۹- اسی طرح رشتہ دار کے لیے رشتہ دار کی گواہی میں بھی اختلاف نہیں ہے، ۱۰- امام شافعی کہتے ہیں: جب دو آدمیوں میں دشمنی ہو تو ایک کے خلاف دوسرے کی گواہی درست نہ ہو گی، گرچہ گواہی دینے والا عادل ہو، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے کہ دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے، اسی طرح اس (مذکورہ) حدیث کا بھی مفہوم یہی ہے، (جس میں) آپ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ لاَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؛ ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٥؛حدیث نمبر ٢٢٩٨)
حضرت ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)"تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔“ (الحج: ۳۰)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٧؛حدیث نمبر ٢٢٩٩)
حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٧؛حدیث نمبر ٢٣٠٠)
حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا“، حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٨؛حدیث نمبر ٢٣٠١)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تبع تابعین)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ۲- اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ محمد بن فضیل کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ «يعطون الشهادة قبل أن يسألوها» سے جھوٹی گواہی مراد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان کا کہنا ہے کہ گواہی طلب کیے بغیر وہ گواہی دیں گے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٨؛حدیث نمبر ٢٣٠٢)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی (حق بات کی خاطر) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ خواب کے آداب و احکام؛ابواب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل؛ باب منہ؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٤٩؛حدیث نمبر ٢٣٠٣)
Tirmizi Shareef : Abwabus Shahadaati
|
Tirmizi Shareef : ابواب الشھادات
|
•