
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں“۔ (یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔) ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کو کئی اور لوگوں نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے مرفوعاً ہی روایت کیا ہے، جب کہ کچھ لوگوں نے عبداللہ بن سعید ہی کے واسطے سے (ابن عباس سے) موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ؛تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٠؛حدیث نمبر ٢٣٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے“،حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: ”تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو کامل مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو کامل مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حسن بصری کا سماع حضرت ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ۳- اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۴- ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ باب مَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ فَهُوَ أَعْبَدُ النَّاسِ؛حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥١؛حدیث نمبر ٢٣٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اعرج حضرت ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے، ۴- معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُبَادَرَةِ بِالْعَمَلِ؛اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٢؛حدیث نمبر ٢٣٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ؛موت کی یاد؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٣؛حدیث نمبر ٢٣٠٧)
ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“،حضرت عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٣؛حدیث نمبر ٢٣٠٨)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ؛جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٤؛حدیث نمبر ٢٣٠٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين»(اور اپنے قریب والے رشتے دار کو ڈرائیں)(الشعراء ٢١٤)نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے فاطمہ بنت محمد ! اے عبدالمطلب کی اولاد! مجھے تمہارے لیے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی اختیار نہیں میرے مال سے جو تم چاہو مانگو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-حضرت عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْذَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٥٥٤؛حدیث نمبر ٢٣١٠)
Tirmizi Shareef : Abwabuz Zuhdi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الزھد
|
•