
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ ایک سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے(پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا“)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ ایک سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہو گا“، نیز آپ نے فرمایا: ”یہی «ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے جس کا تنا سونے کا نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَجَرِ الْجَنَّةِ؛جنت کے درختوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧١؛حدیث نمبر ٢٥٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری رہتی ہے اور ہم دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہو کر اپنے بال بچوں میں چلے جاتے ہیں اور ان میں گھل مل جاتے ہیں تو ہم اپنے دلوں کو بدلا ہوا پاتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسی حالت و کیفیت میں رہو جس حالت و کیفیت میں میرے پاس سے نکلتے ہو تو تم سے فرشتے تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کرے ، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق کو پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمائے گا“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: ”پانی سے“، ہم نے عرض کیا: جنت کس چیز سے بنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک سونے کی اور اس کا گارا مشک اذفر کا ہے اور اس کے کنکر موتی اور یاقوت کے ہیں، اور زعفران اس کی مٹی ہے، جو اس میں داخل ہو گا وہ عیش و آرام کرے گا، کبھی تکلیف نہیں پائے گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی فنا نہیں ہو گی“، پھر آپ نے فرمایا: ”تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں: پہلا امام عادل ہے، دوسرا روزہ دار جب وہ افطار کرے، اور تیسرا مظلوم جب کہ وہ بد دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ (اس کی بد دعا کو) بادل کے اوپر اٹھا لیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: قسم ہے میری عزت کی میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد کروں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے اور نہ ہی میرے نزدیک یہ متصل ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے ابومدلہ کے واسطہ سے بھی آئی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا؛جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٢؛حدیث نمبر ٢٥٢٦)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“۔ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، یہ کوفی ہیں اور عبدالرحمٰن بن اسحاق جو قریشی ہیں وہ مدینہ کے رہنے والے ہیں اور یہ عبدالرحمٰن کوفی سے اثبت ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ غُرَفِ الْجَنَّةِ؛جنت کے کمروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٣؛حدیث نمبر ٢٥٢٧)
حضرت ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں دو ایسے باغ ہیں کہ جن کے برتن اور اس کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو ایسے باغ ہیں جس کے برتن اور جس کی تمام چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف وہ کبریائی چادر حائل ہو گی جو اس کی ذات پر ہے“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں موتی کا ایک لمبا چوڑا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر گوشے میں مومن کے گھر والے ہوں گے، مومن ان پر گھومے گا تو (اندرونی) ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ؛ باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ غُرَفِ الْجَنَّةِ؛جنت کے کمروں کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٦٧٣؛حدیث نمبر ٢٥٢٨)
Tirmizi Shareef : Abwabu Sifatiljannati
|
Tirmizi Shareef : ابواب صفۃ الجنۃ
|
•