
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّارِ؛جہنم کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠١؛حدیث نمبر ٢٥٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتا ہو، اور تصویر بنانے والوں پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اشعث بن سوار نے بھی «عن عطية عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّارِ؛جہنم کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠١؛حدیث نمبر ٢٥٧٤)
حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں:حضرت عمر رضی الله عنہ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس (آنکڑے) لوہے کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، حضرت عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ قَعْرِ جَهَنَّمَ؛جہنم کی گہرائی کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٢؛حدیث نمبر ٢٥٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ قَعْرِ جَهَنَّمَ؛جہنم کی گہرائی کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی، اس کی ران بیضاء (پہاڑ) جیسی ہو گی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہو گی جس طرح ربذہ کی دوری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٣؛حدیث نمبر ٢٥٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اسے روندیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- فضل بن یزید کوفی ہیں، ان سے کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۳- ابوالمخارق غیر معروف راوی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٨٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل»(کہف٢٩) کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب کوئی جہنمی اسے اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٤؛حدیث نمبر ٢٥٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» (گرم پانی) انڈیلا جائے گا تو وہ (بدن میں) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر نکل آئے گا اور ان کے ٹخنوں میں پہنچ جاے گا ۔ یہی وہ «صہر» ہے (جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٥؛حدیث نمبر ٢٥٨٢)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول:(تمرجمہ)"انہیں پیپ کا مشروب پلایا جائے گا جسے وہ گھونٹ، گھونٹ کر کے پئیں گے"(ابراہیم: ۱۶) کے بارے میں فرمایا: ” «صديد» (پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم» ”وہ «ماء حمیم» (گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا“ (سورۃ محمد: ۱۵) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے“ (الکہف: ۲۹) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٥؛حدیث نمبر ٢٥٨٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «كالمهل» یعنی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے (جہنمی) اپنے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ اور اسی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کا احاطہٰ چار دیواریں ہیں اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت کے مانند ہے۔ اور اسی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «غساق» (جہنمیوں کے مواد) کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے سڑ جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں اور رشدین کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے، ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «كثف كل جدار» کا مطلب ہے ہر دیوار کی موٹائی۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٦؛حدیث نمبر ٢٥٨٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”تم اللہ سے ڈرنے کی طرح ڈرو اور مسلمان ہی رہتے ہوئے مرو“ (آل عمران: ۱۰۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر «زقوم» کا ایک قطرہ بھی دنیا کی زمین میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگی برباد کر جائے، بھلا اس آدمی کا کیا ہو گا جس کی غذا ہی «زقوم» ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کے مشروب کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٦؛حدیث نمبر ٢٥٨٥)
حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہو جائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» (خاردار پودا) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» (جہنمیوں کے مواد) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیئے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے (ہمیں موت دیدے)“، آپ نے فرمایا: ”ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ (ہمیشہ کے لیے) اسی میں رہنے والے ہو“۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہو گا، آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، آپ نے فرمایا: ”اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہو جائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ۲- ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٧؛حدیث نمبر ٢٥٨٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ «وهم فيها كالحون» ”کافر جہنم کے اندر بد شکل ہوں گے“ (المؤمنون: ۱۰۴) کے بارے میں فرمایا: ”ان کے چہروں کو آگ جھلسا دے گی تو ان کے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر بیچ سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف سے جا لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٨؛حدیث نمبر ٢٥٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے برابر ایک ٹکڑا (اور آپ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا) آسمان سے زمین کی طرف جو پانچ سو سال کی مسافت ہے، تو وہ رات ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا اور اگر اسے زنجیر کے سرے سے لٹکا کر جہنم میں ڈالا جائے تو وہ 40 سال میں اس کی تہ تک پہنچے گا اس عرصے میں دن اور رات سب شامل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن یزید مصری ہیں۔ ان سے لیث بن سعد اور کئی ائمہ نے حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَعَامِ أَهْلِ النَّارِ؛جہنمیوں کی غذا کا بیان؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٨؛حدیث نمبر ٢٥٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری (دنیا کی) آگ جسے تم جلاتے ہو جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ٹکڑا (حصہ) ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر یہی آگ رہتی تو کافی ہوتی، آپ نے فرمایا: ”وہ اس سے انہتر حصہ بڑھی ہوئی ہے، ہر حصے کی گرمی اسی آگ کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧٠٩؛حدیث نمبر ٢٥٨٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اس کے ہر حصے کی گرمی اسی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛؛ابواب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ؛دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٤؛صفحہ نمبر ٧١٠؛حدیث نمبر ٢٥٩٠)
Tirmizi Shareef : Abwabu Sifati Jahannama
|
Tirmizi Shareef : ابواب صفۃ جھنم
|
•