
وتروں کی فضیلت حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک زائد نماز رکھی ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے اسے اللہ تعالے نے عشاء کی نماز سے صبح صادق تک کے درمیان رکھا ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، عبد الله بن عمرو ، بریدہ اور ابو بصرہ (صحابی) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث خارجہ غریب ہے اور ہم اسے صرف یزید بن حبیب کی روایت سے جانتے ہیں ، بعض محدثین نے اس حدیث میں خطا کی اور عبد الله بن راشد زرقی کہا ہے ، یہ غلطی ہے (صحیح لفظ زرقی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر ؛ باب ۳۲۶؛ مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الْوِتْرِ ؛حدیث نمبر ٤٥٢)
وتر فرض نہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں وتر ، فرض نمازوں کی طرح فرض نہیں لیکن رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ایک طریقہ جاری فرمایا اور ارشاد فرمایا اور بے شک اللہ تعالی وتر (طاق ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے پس اے قرآن والو ! ( مسلمانو) تم بھی وتر پڑھا کرو اس باب میں حضرت ابن عمر ، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن صحیح ہے سفیان ثوری و غیره بواسطه ابو اسحق و عاصم بن ضمرۃ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا وتر فرض نمازوں کی طرح فرض نہیں لیکن ؛ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ سنت واجب ہیں ؛ بندار نے بواسطه عبد الرحمن بن مہدی ، سفیان سے اسی طرح بیان کیا اور یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے اصح ہے منصور بن معتمر نے بھی ابواسحٰق سے ابو بکر بن عیاش کی روایت کے ہم معنی حدیث نقل کی ہے ؛؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر ؛ باب ۳۲۷؛ مَا جَاءَ إِنَ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ ؛حدیث نمبر ٤٥٣ و حدیث نمبر ٤٥٤)
وتروں سے پہلے سونا مکروہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم فرمایا ۔ عیسیٰ بن عزہ فرماتے ہیں " شعبی رات میں پہلے وتر پڑھتے اور پھر سو جاتے اس باب میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرمانے ہیں حدیث ابی ہریرہ اس طریق سے حسن غریب ہے ، ابوثور ازدی کا نام حبیب بن ابی ملیکہ ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کو سونے سے پہلے وتر پڑھنا پسند ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جس کو رات کے آخر میں نہ جاگنے کا خوف ہو وہ شروع میں وتر پڑھ لے اور جسے پچھلی رات جاگنے کی امید ہو وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ اس وقت قرآن پڑھنے سے ، فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور یہ افضل ہے، یہی حدیث اعمش نے بواسطہ ابوسفیان حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے ،، (جامع ترمذی شریف،کتاب الوتر، باب۳۲۸،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ قَبلَ الْوِتْرِ،حدیث نمبر ٤٥٥)
رات کے اول اور آخر وتر پڑھنا حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نےام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا آپ رات کے تینوں حصوں میں پڑھا کرتے تھے کبھی شروع میں کبھی درمیان میں اور کبھی آخر رات وصال کے دنوں میں آپ سحری کے وقت وتر پڑھا کرتے تھے، امام ترمذی فرماتے ہیں ابوحصین کا نام عثمان بن عاصم اسدی ہے اس باب میں حضرت علی ، جابر ، ابو مسعود انصاری اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے اور علما نے اسے اختیار فرمایا کہ وتر پچھلی رات میں پڑھے جائیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۲۹؛مَا جَاءَ فِی الْوِتْرِ من أَولِ اللَّيْلِ وَاٰخِرِهٖ، حدیث نمبر ٤٥٦)
سات رکعتوں کے ساتھ وتر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم تیرہ رکعتوں کے ساتھ وتر پڑھا کرتے تھے۔ جب عمر زیادہ ہو گئی اور کمزوری واقع ہوئی تو آپ سات رکعتوں کے ساتھ وتروں کو ملا کر پڑھتے اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام سلمہ حسن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر تیرہ رکعتوں گیارہ رکعتوں ، نور کعتوں ، سات رکعتوں ، تا پانچ رکعتوں ، تین رکعتوں اور ایک رکعت کے ساتھ بھی مروی ہیں ۔ اسحق بن ابراہیم فرماتے ہیں اس روایت کا مطلب کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعتوں کے ساتھ وتر پڑھا کرتے تھے ، یہ ہے کہ آپ رات کو وتروں سمیت تیرہ رکعات ادا فرماتے ، پس رات کی نماز وتری مشہور ہی ہو گئی ۔ اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی حدیث مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے ارشاد کہ" اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو" سے دلیل دی گئی ہے کہ آپ نے قیام لیل مراد لیا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں قرآن یاد ہو، (جامع ترمذی شریف،کتاب الوتر،باب ۳۳۰؛مَا جَاءَ فِی الْوِتْرِ بِسَبْعٍ،حدیث نمبر ٤٥٧ و حدیث نمبر ٤٥٨)
پانچ رکعات کے ساتھ وتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعتیں ہوتی تھیں جن میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، انکے درمیان میں نہیں بلکہ صرف آخر میں (سلام کے لئے) بیٹھتے۔ جب موذن اذان دیتا آپ کھڑے ہو جاتے نہایت ہلکی پھلکی دور کعتیں پڑھتے اس باب میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا یہی مسلک ہے کہ وتروں کی پانچ رکعتیں ہیں ۔ جن میں صرف آخر میں بیٹھے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الوتر،باب۳۳۱؛مَا جَاءَ فِی الوِتْرِ بِخَمْسٍ،حدیث نمبر ٤٥٩)
و تر تین رکعات ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے جن میں قصار مفصل کی نو سورتیں پڑھتے ہر رکعت میں تین سورتیں ہوتیں ، سورہ اخلاص ان میں سے آخری ہوتی ۔ اس باب میں حضرت عمران بن حصین، عائشہ، ابن عباس،ابو ایوب اور عبد الرحمن ابزیٰ بواسطه ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں عبد الرحمن بن ابزٰی نے براہ راست نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسے روایت کیا ہے جس میں ابی بن کعب کا ذکر نہیں، بعض روایات میں عبد الرحمن بن ابزٰی اپنے والد کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر فقہاء کا یہی مسلک ہے کہ وتر تین رکعتیں پڑھے جائیں ۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں اگر چاہے تو پانچ وتر پڑھ لے چاہے تین وتر پڑھے چاہے ایک پڑھے ، تین رکعت کا پڑھنا اچھا ہے ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ محمد بن سیرین فرماتے ہیں ، صحابہ کرام پانچ،تین اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور تینوں طرح پڑھنا اچھا سمجھتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب ۳۳۲؛مَا جَاءَ فِی الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ،حدیث نمبر ٤٦٠)
ایک رکعت سے وتر بنانا حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا ؛ کیا میں صبح کی سنتیں طویل پڑھوں ، آپ نے فرمایا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نمار دو دو کی نیت سے پڑھا کرتے اور ایک رکعت ملا کر وتر بنا دیتے اور صبح کی سنتیں (اتنی جلدی) پڑھتے کہ اقامت آپ کے کانوں میں ہوتی ۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، جابر، فضل بن عباس ، ابوایوب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام ، اور تابعین کا یہی مسلک ہے کہ دو رکعتوں اور ایک رکعت کو جدا کرتے ہوئے ایک رکعت سے وتر بنائے ، امام مالک شافعی ، احمد اور اسحاق بھی اسی کے قائل ہیں ، (جامع ترمذی شریف٫کتاب الوتر٫باب ۳۳۳،ما جاء فی الوتر بركعة،حدیث نمبر ٤٦١)
وتروں کی قرآت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں " سبح اسم ربک الاعلی ؛ قل یا ایہاالکفرون؛ اور قل ہو اللہ احد" ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے اس باب میں حضرت علی عائشہ اور عبد الرحمن بن ابزیٰ بواسطه ابى كعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، ایک روایت میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری رکعت میں معوذتین (آخری دو سورتیں ) اور سورہ اخلاص " بھی پڑھی ہیں اکثر صحابہ کرام ، اور تابعین کا مختار مذہب یہ ہے کہ ؛ سبح اسم ربك الاعلى " قل یا ایہا الكفرون؛ اور قل ہو اللہ احد، میں سے ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھے ،، عبد العزيز بن جریج فرماتے ہیں " میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کونسی سورتیں پڑھتے تھے ؟ ام المومنین نے فرمایا؛ پہلی رکعت میں " سبح اسم ربک الا علی ، دوسری میں؛ قل یا ایہا الکفرون ؛ اور تیسری میں ؛ قل ہو اللہ احد ؛ اور معوذتین پڑھا کرتے تھے “ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور عبد العزیز ابن جریج کے والد عطاء کے شاگرد ہیں ، ابن جریج کا نام عبد الملک بن عبد العزيز بن جریج ہے ، یحیی بن سعید انصاری نے بھی یہ حدیث بواسطه عمرہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۳۴؛مَا جَاءَ مَا يُقرأُ فی الوتر؛ حدیث نمبر ٤٦٢ و حدیث نمبر ٤٦٣)
وتروں میں قنوت پڑھنا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتروں میں پڑھتا ہوں (ترجمہ) " اے اللہ مجھے اپنے بدایت یافتہ بندوں میں ہدایت دے، عافیت یافتہ لوگوں میں مجھے عافیت دے، مجھے اپنے دوستوں میں سے ایک دوست بنا میرے رزق کو با برکت کردے تقدیر کی برائی سے محفوظ رکھ بشک تو فیصلہ فرماتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکتا تیرا دروست کبھی ذلیل نہیں ہوتا ۔ اے ہمارے رب توبرکت والا اور بلند ہے ، اس باب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی روایت مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف اسی طریق یعنی ابوحوراء سعدی کی روایت سے پہچانتے ہیں ابوحوراء کا نام ربیع بن شیبان ہے، قنوت کے بارے میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں میں سے اس سے اچھی دعا ہم نہیں جانتے ، وتروں میں قنوت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک قنوت پورے سال ہے اور رکوع سے پہلے ہے بعض دیگر علماء بھی اسی کے قائل ہیں ؛ سفیان ثوری ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ، (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے متبعین) کا بھی یہی مسلک ہے، حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں رمضان شریف کے آخری نصف میں قنوت پڑھا جائے نیز آپ رکوع کے بعد پڑھا کرتے تھے بعض علماء کا یہ قول ہے امام شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۳۵؛مَا جَاءَ فِی الْقُنُوتِ فِی الوِترِ ،حدیث نمبر ٤٦٤)
وتر بھول جانے یا سو جانے کی صورت میں کیا کرے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے یا جس وقت جاگے پڑھ لے، زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو آدمی و تروں سے سوجائے وہ صبح کے وقت پڑھ لے ، یہ حدیث پہلی حدیث سے اصح ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابو داؤد سجزی یعنی سلیمان بن اشعث سے سُنا انہوں نے فرمایا میں نے امام احمد بن جنبل سے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا انکے بھائی عبداللہ ہیں کوئی ڈر نہیں امام بخاری سے سنا کہ علی بن عبداللہ نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور عبداللہ بن زید بن اسلم کو ثقہ کہا۔ بعض اہل کوفہ کا اس حدیث پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب یاد آئے وتر پڑھے ، اگر چہ طلوع آفتاب کے بعد ہو، سفیان ثوری بھی یہی فرماتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب ۳۳۶؛مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَنَا مُعَنِ الْوِتْرِوَیَنْسٰی؛حدیث نمبر ٤٦٥ و حدیث نمبر ٤٦٦)
صبح سے پہلے وتروں میں جلدی کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، " صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر جلدی پڑھ لیا کرو؟ امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن ہیں، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛ صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو." حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے٫ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٫ جب صبح صادق ہو جائے تو رات کی تمام نمازوں اور وتروں کا وقت ختم ہو جاتا ہے لہٰذا طلوع فجر سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ؛ صرف سلیمان بن موسےٰ نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ایک روایت میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز کے بعد وتر نہیں متعدد علماء کا بھی یہی قول ہے ، امام شافعی احمد اور اسحاق صبح کی نماز کے بعد وتروں کو جائز نہیں سمجھتے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۳۷؛مَا جَاءَ فِی مُبَادَرَةِ الصّيحِ بِالْوِتْرِ،حدیث نمبر ٤٦٧ و حدیث نمبر ٤٦٨ و حدیث نمبر ٤٦٩)
ایک رات میں دو وتر نہیں قیس بن طلق اپنے والد طلق بن علی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک رات میں دو (مرتبہ) وتر نہیں؛امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے؛علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے،جو شروع رات میں وتر پڑھ لے،اور پھر پچھلی رات کھڑا ہو جائے بعض صحابہ کرام اور تابعین فرماتے ہیں وتروں کو توڑ ڈالے اور ان سے ایک رکعت میں ملا لے پھر جتنا جی چاہے نماز پڑھ کر آخر میں وتر پڑھ لے ، کیونکہ ایک رات میں دو وتر نہیں،امام اسحاق کا یہی قول ہے بعد صحابہ کرام اور تابعین کے نزدیک اگر شروع رات میں وتر پڑھ لئے پھر سو گیا اور پچھلی رات کو اٹھا تو وہ جس قدر چاہے نماز پڑھے لیکن وتروں کو نہ توڑے اسی طرح چھوڑ دے،سفیان ثوری،مالک بن انس،احمد بن حنبل،اور ابن مبارک،اسی کے قائل ہیں،اور یہ اصح ہے کیونکہ متعدد روایات میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتروں کے بعد بھی نماز پڑھی ہے ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، حضرت ابو امامہ،عائشہ اور کئی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح مروی ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۳۸؛مَا جَاءَ لَا وِتْرانِ فِی لَيْلَةٍ،حدیث نمبر ٤٧٠ و حدیث نمبر ٤٧١)
سواری پر وتر پڑھنا حضرت سعید بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،میں ایک سفر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا،پس میں ان سے پیچھے رہ گیا،انہوں نے فرمایا،تو کہا تھا؟ میں نے عرض کیا؛میں وتر پڑھ رہا تھا ؛ حضرت ابن عمر نے فرمایا،کیا تیرے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہیں؟ میں نے آپ کو سواری پر وتر پڑھتے دیکھا ہے ،اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے،بعض صحابہ کرام و تابعین کا یہی مسلک ہے ، کہ سواری پر وتر پڑھنے جائز ہیں امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، جب کہ بعض علماء فرماتے ہیں سواری پر وتر نہ پڑھے ، بلکہ زمین پر اترے بعض اہل کوفہ کہتے ہیں ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۳۹؛مَا جَاءَ فِی الوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ،حدیث نمبر ٤٧٢)
چاشت کی نماز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھے،اس کے لئے اللہ تعالی جنت میں سونے کا محل بنائے گا،اس باب میں حضرت ام ہانی،ابوہریرہ،نعیم بن ہمار، ابوذر،عائشہ،ابو امامہ،عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفیٰ، ابو سعید،زید بن ارقم،اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث انس غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے البتہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ فتح مکہ کے دین حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں (فرماتی ہیں) میں نے ایسی مختصر اور خفیف نماز پڑھتے ہوئے آپ کو کبھی نہیں دیکھا ، اختصار کے باوجود رکوع اور سجدہ مکمل تھا،امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے امام احمد کے نزدیک اس باب میں حضرت ام ہانی کی حدیث، اصح ہے نعیم کے بارے میں اختلاف ہے بعض نےنعیم بن خمار کہا اور بعض ابن ہمار ،ابن ہمار بھی کہا گیا ہے اور ابن ہمام بھی، صحیح نام ابن ہمار ہے ابونعیم سے اس میں غلطی ہوئی ابن خمار کہا اور اس میں خطا کی پھر وہ غلطی چھوڑ دی اور کہاں نعیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، امام ترمذی فرماتے ہیں مجھے عبد بن حمید نے بواسطہ ابونعیم اس کی خبر دی ، حضرت ابو درداء اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (حدیث قدسی) نقل کرتے ہیں اللہ تعالی نے فرمایا ؛ اے انسان تو میرے لئے دین کی شروع میں چار رکعتیں پڑھ میں تیرے لیے آخر دن تک کفایت کروں گا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے، وکیع، نضر بن شمیل اور دیگر ائمہ نے یہ حدیث نہاس بن قہم سے روایت کی ہے اور ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرے ، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہو ں ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (لگاتار) چاشت کی نماز پڑھتے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب نہیں چھوڑیں گے، اور (کبھی) اتنے دین چھوڑتے کہ ہم کہتے اب نہیں پڑھیں گے ، امام ترمذی فرماتے ہیں،یہ حدیث حسن غریب ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۴۰؛مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ الضُّحٰى،حدیث نمبر ٤٧٣ و حدیث نمبر ٤٧٤،و حدیث نمبر ٤٧٥ و حدیث نمبر ٤٧٦ و حدیث نمبر ٤٧٧)
زوال کے وقت نماز حضرت عبد الله بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور فرما تے یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمانوں (رحمت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس میں میرے نیک اعمال اوپر اٹھائے جائیں۔ اس باب میں حضرت علی اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبد اللہ بن سائب حسن غریب ہے یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ایک سلام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۴۱؛مَا جَاءَ فِی الصَّلوةِ عِنْدَ الزَّوَالِ،حدیث نمبر ٤٧٨)
حاجت کی نماز حضرت عبد اللہ بن اوفٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس آدمی کو الله تعالے یا کسی انسان کی طرف حاجت ہو اسے چاہیئے کہ اچھی طرح و ضو کر کے دو نفل پڑھے اور پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور بارگاہ رسالت میں تحفہ دردو پیش کر کے یہ دعا مانگے لاالہ الا الله الخ (ترجمہ) الله تعالے کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بروبار بزرگ ہے بڑے عرش کے مالک ۔(ائے اللہ ) میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ تعالے کو لائق ہیں ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے (اے الله) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذرائع بخشش کے اسباب نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں ، میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم غلط کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضامندی کے مطابق ہو پوری فرما،اے سب مہربانوں سے بڑھ کر رحمت والے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں کلام ہے فائد بن عبدالرحمن سے مراد ابوورقاء ہے اور وہ حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۴۲؛ مَا جَاءَ فِی صَلوةِ الحَاجَةِ،حدیث نمبر ٤٧٩)
نماز استخاره حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام امور میں استخارہ اس طرح سکھاتے جس طرح ہمیں قرآن پاک کی کوئی سورت سکھاتے تھے آپ فرماتے جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو نفل پڑھ کریہ دعا مانگے " اللهم انی الخ( ترجمہ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے باعث طاقت چاہتا ہوں تیرے فضل عظیم کا طالب ہوں تو قادر ہے مجھے قدرت نہیں تو جانتا ہےمجھے علم نہیں تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے اے اللہ ! اگر تیرے علم کے مطابق یہ کام میرے دین زندگی اورانجام کاریا (فرمایا)میرے جلد ہونے والے کاموں کے لحاظ سے یا دیر سے ہونے والے کاموں میں ، اچھا ہے، تو اسے میرے لئے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اگر تیرے علم کے مطابق یہ کام میرے دین ، دنیا ، انجام کاریا (فرمایا ) جلد یا بدیر ہونے والے کاموں میں برا ہے تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے علیحدہ رکھ اور بھلائی جہاں بھی ہو میرے لئے مقدر فرما اور پھر مجھے اس پر راضی رکھ اس کے بعد اپنی حاجت کا نام لے ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود اور ابو ایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف عبد الرحمن بن ابی موالی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شیخ مدنی ہیں اور ثقہ ہیں سفیان نے ان سے حدیث روایت کی ہے اور دیگر کئی ائمہ بھی عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۴۳؛مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ الْاسْتِخَارَةِ،حدیث نمبر ٤٨٠)
نماز تسبیح حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ؛؛ اے چچا ؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو نفع نہ پہنچاؤں ؟ انہوں نے عرض کیا" ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ ! " آپ نے فرمایا؛؛ چار رکعات (اسطرح) پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھ کر پندرہ مرتبہ " اللہ اکبر والحمدلله وسبحان اللہ " کہیں پھر رکوع میں جائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں رکوع سے اٹھنے کے بعد بھی دس مرتبہ ، پھر سجدے میں دس مرتبہ سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ پھردوسرے سجدہ میں دس مرتبہ یہی کلمات کہو اور پھر کھڑا ہونے سے پہلے دس مرتبہ بھی کلمات کہو اسطرح ایک رکعت میں یہ کلمات پچھتر (۷۵) مرتبه اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ ہو جائیں گے اگر آپکے گناہ (صغیرہ)ریت کے ٹیلے کے برابر بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ؛یارسول اللہ ! اگر کوئی شخص روزانہ نہ پڑھ سکتا ہو؟ آپ نے فرمایا اگر روزانہ نہ ہو سکے تو ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو مہینے میں ایک مرتبہ اور یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک مرتبہ پڑھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابو رافع کی روایت سے غریب ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم نے صبح کے وقت بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا( یا رسول اللہ ) مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں نماز میں پڑھا کرو ،آپ نے فرمایا،دس مرتبہ اللہ اکبر،دس مرتبہ سبحان اللہ،اور دس مرتبہ الحمدللہ کہو،پھر اپنی حاجت مانگو اللہ تعالی فرمائے گا ،ہاں ہاں (یعنی قبول فرمائے گا) اس باب میں حضرت ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس، اور ابو رافع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس غریب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز تسبیح کے بارے میں اور بھی روایات ہیں لیکن ان کا زیادہ حصہ صحیح نہیں ، ابن مبارک اور کئی دوسرے ائمہ نے صلاۃ تسبیح بیان کی، اور اس کی فضیلت کا ذکر کیا،، ابو وھب کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے تسبیحات والی نماز کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا تکبیر کہہ کر سبحانک اللہم الخ پڑھے پھر پندرہ مرتبہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر " کہے پھر اعوذ بااللہ، کہے ، بسم اللہ، پڑھے سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھے اور پھر دس مرتبہ تسبیحات (مذکورہ بالا) کہے رکوع میں دس مرتبہ، رکوع سے اٹھ کر دس مرتبہ، سجدہ میں دس مرتبہ، سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ، اور پھر دوسرے سجدہ میں دس مرتبہ یہی تسبیحات کہے، یوں چار رکعتیں پڑھے ، اس طرح ہر رکعت میں پچھتر (۷۵) تسبیحات ہوں گی، ہر رکعت کے شروع میں پندرہ مرتبہ اور پھر قرآت کے بعد دس دس مرتبہ پڑھے تو ہر دو رکعتوں میں سلام پھیر نہ مجھے پسند ہے ، اگر دن کو پڑھے تو چاہے سلام پھیرے چاہے نہ پھیرے ابو وھب فرماتے ہیں مجھے ابو رزمہ عبدالعزیز نے بتایا کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا ، رکوع میں پہلے، سبحان ربی العظیم، کہے اور سجدے میں پہلے سبحان ربی الاعلی، کہے، پھر تسبیحات پڑھے ، ابو رزمہ عبد العزیز فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا اگر سہو ہو جائے تو کیا سجدہ سہو میں بھی دس دس مرتبہ تسبیحات کہے آپ نے فرمایا ،نہیں، یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الوتر؛باب۳۴۴؛مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ التَّسْبِیْحِ،حدیث نمبر ٤٨١ و حدیث نمبر ٤٨٢)
بارگاہ رسالت میں درود شریف کیسے بھیجا جائے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا ارشاد فرمائیے ، اور دورد شریف کیسے بھیجا جائے آپ نے فرمایا کہو ؛؛ اللہم صلی علی محمد الخ (ترجمہ) اے اللہ ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکی اولاد پر اس طرح رحمت نازل فرما جسطرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپکی اولاد پر اتاری بیشک تو ہی لائق تعریف اور بزرگ ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اولاد پر اسطرح برکت، اتار جس طرح ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کو تونے برکتیں عطا فرمائی بیشک تو ہی تعریف کے لائق اور بزرگ ہے، عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ہم یہ الفاظ زاہد کہتے ہیں " اور انکے ساتھ ہم پر بھی رحمت و برکت نازل فرما ) اس باب میں حضرت علی ،ابوحميد، ابومسعود،ابوسعید، بریدہ،زیدبں خارجہ، ابن جارثہ بھی کہاجاتا ہے) اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث کعب بن عجرہ، حسن صحیح ہے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابو عیسیٰ ہے اور ابولیلٰی کا نام یسا ر ہے، ف، حدیث مذکورہ سے معلوم ہوا کہ درود اور سلام دونوں پڑھنے چاہیں جیسا کہ قرآنی آیات،،وصلٰوعلیہ سلمواتسلیماً،،کا تقاضہ ہے،لہذا نماز سے باہر بھی درود ابراہیمی ہی پڑھنے کا نظریہ صحیح نہیں، کیونکہ اس میں سلام کا ذکر نہیں نماز میں چونکہ سلام علیحدہ سکھا دیا گیا تھا اس لیے یہ درودشریف سکھایا گیا پس درود پاک پڑھتے وقت ایسے کلمات ہوں جنہیں صلاۃ و سلام کا ذکر ہو ،(مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب الوتر،باب۳۴۵؛مَا جَاءَ فِی صِفَةِ الصَّلٰوةِ عَلَى النبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلّم،حدیث نمبر ٤٨٣)
درود شریف کی فضیلت، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،قیامت کے دن وہ آدمی میرے زیادہ قریب ہوگا جو مجھ پر کثرت سے،درود شریف پڑھتا رہا،امام ترمذی فرماتے ہیں،یہ حدیث حسن غریب ہے،نیز یہ بھی روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف بھیجے گا،اللہ تعالی اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں تحریر فرمائیے گا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجے اللہ تعالی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے،اس باب میں حضرت عبدالرحمن بن عوف،عامر بن ربیعہ،عمار،ابو طلحہ،انس اور ابی کعب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے ، سفیان ثوری اور کئی دیگر علماء فرماتے ہیں،صلوۃ کی نسبت رب کی طرف ہو تو رحمت مراد ہے اور فرشتوں کی طرف ہو تو ، طلب مغفرت ہے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،دعا زمین و آسمان کے درمیان ٹھری رہتی ہے اور اوپر کی طرف نہیں جاتی، (قبول نہیں ہوتی) جب تک تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف نہ بھیجے ، امام ترمذی فرماتے ہیں علاءبن عبدالرحمن یعقوب کے بیٹے ، حرقہ کے غلام ہیں، علاء تابعین میں سے ہیں، انہیں انس بن مالک اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے سماع حاصل ہے علاء کے والد عبد الرحمن بن یعقوب بھی تابعین میں سے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے سماع حدیث کیا یعقوب (علاء کے دادا) بڑے تابعین میں سے ہیں انہوں نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور ان سے حدیث بھی روایت کی ،، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،ہمارے بازار میں وہی خرید فروخت کرے،جو دین کی سمجھ رکھتا ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے،، (جامع ترمذی شریف،کتاب الوتر،باب۳۴۶؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّلٰوةِ عَلَى النبي صلى الله علیه وسلم،حدیث نمبر ٤٨٤ و حدیث نمبر ٤٨٥،و حدیث نمبر ٤٨٦،و حدیث نمبر ٤٨٧)
Tirmizi Shareef : Abwabul Witr
|
Tirmizi Shareef : أَبْوَابُ الوِتْرِ
|
•