
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر، ابوہریرہ، اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ؛جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨؛حدیث نمبر ٢٦٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٨؛حدیث نمبر ٢٦٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں (شمار) ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٧)
حضرت سخبرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرے گا تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- راوی ابوداود نفیع اعمی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۳- ہم عبداللہ بن سخبرہ سے مروی زیادہ حدیثیں نہیں جانتے اور نہ ان کے باپ کی، ابوداؤد نامی راوی کا نام نفیع الاعمیٰ ہے۔ ان کے بارے میں قتادہ اور دوسرے بہت سے اہل علم نے کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي كِتْمَانِ الْعِلْمِ؛علم چھپانے کی مذمت؛جلد٥؛صفحہ نمبر٢٩؛حدیث نمبر ٢٦٤٩)
ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے پاس (علم دین حاصل کرنے کے لیے) آتے، تو وہ کہتے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تمہارے پیرو کار ہوں گے کچھ لوگ تمہارے پاس زمین کے گوشہ گوشہ سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے تو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن عبداللہ بن المدینی نے کہا: یحییٰ بن سعید کہتے تھے: شعبہ ابوہارون عبدی کو ضعیف قرار دیتے تھے، ۲- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: ابن عون جب تک زندہ رہے ہمیشہ ابوہارون عبدی سے روایت کرتے رہے، ۳- ابوہارون کا نام عمارہ بن جوین ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِيصَاءِ بِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ؛علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠؛حدیث نمبر ٢٦٥٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس مشرق سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے آئیں گے پس جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ راوی حدیث کہتے ہیں:حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ ہمیں (طالبان علم دین کو) دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق ہمیں خوش آمدید کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو (ترمذی شریف؛ابواب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛علم اور فہم دین؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِيصَاءِ بِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ؛علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٣٠؛حدیث نمبر ٢٦٥١)
Tirmizi Shareef : Abwabul Ilm
|
Tirmizi Shareef : ابواب العلم
|
•