
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم (صحیح معنوں میں) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے (سچی) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو (پھیلاؤ)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو عام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥١؛حدیث نمبر ٢٦٨٨)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) تیس نیکیاں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ السَّلاَمِ؛سلام کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٨٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟حضرت عمر رضی الله عنہ نے (دل میں کہا) تین بار اجازت طلب کر چکے، پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ واپس ہو لیے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر رضی الله عنہ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» (اجازت طلبی) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ (یہ سن کر) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر حضرت ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ (ابوسعید) عمر رضی الله عنہ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ۲- اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٢؛حدیث نمبر ٢٦٩٠)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ (رہ گیا حضرت عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً؛کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٣؛حدیث نمبر ٢٦٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وعليك» ”تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» ”اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو“ کا ذکر نہیں کیا، ۳- یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٤؛حدیث نمبر ٢٦٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ رَدُّ السَّلاَمِ؛سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٥؛حدیث نمبر ٢٦٩٣)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“۔ (وہ پہل کرے گا) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جو دوسروں کے ساتھ مشابہت اختیار کر لے، تم لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو کیونکہ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھیلی کے اشارے کے ذریعے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِشَارَةِ الْيَدِ بِالسَّلاَمِ؛ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٦؛حدیث نمبر ٢٦٩٥)
سیار سے مروی ہے کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں حضرت انس رضی الله عنہ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر حضرت انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٦)
حضرت اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید (راوی) نے بھی ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ اس طرح)، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان (حکومت) کے ملازم بن گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ؛عورتوں کو سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٧؛حدیث نمبر ٢٦٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؛اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلام سے پہلے سلام کرو" ایک اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ قَبْلَ الْكَلاَمِ؛بات چیت سے پہلے سلام کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩؛حدیث نمبر ٢٦٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں سے سلام کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠؛حدیث نمبر ٢٧٠٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» ”تم پر موت و ہلاکت آئے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم»، حضرت عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ”بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے“، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں سے سلام کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠؛حدیث نمبر ٢٧٠١)
حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ عَلَى مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ وَغَيْرُهُمْ؛ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١؛حدیث نمبر ٢٧٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو (یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١؛حدیث نمبر ٢٧٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٤)
حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور چلنے والا کھڑے ہوئے شخص کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ ضروری نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عِنْدَ الْقِيَامِ وَعِنْدَ الْقُعُودِ؛مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢؛حدیث نمبر ٢٧٠٦)
حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص پردہ ہٹا کر گھر کے اندر نگاہ ڈالے، اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی گئی ہو تو اس شخص نے پوشیدہ چیز کو دیکھ لیا اور اس نے اس جرم کا ارتکاب کیا جو اس کے لیے درست نہیں ہے، جس وقت اس نے اپنی نگاہ اندر ڈالی تھی کاش اس وقت اس کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جو اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر اسے خوں بہا نہ دیتا۔ اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر کوئی پردہ پڑا ہوا نہیں ہے اور دروازہ بند بھی نہیں ہے پھر اس کی نظر اٹھ گئی تو اس کی کچھ خطا نہیں۔ غلطی و کوتاہی تو گھر والے کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس طرح کی حدیث صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ قُبَالَةَ الْبَيْتِ؛گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣؛حدیث نمبر ٢٧٠٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے (اسی دوران) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اس کی طرف بڑھایا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؛کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٠٨)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا (اس وقت) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے (پہلے سے) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ(گھر والوں) پر نظر نہ پڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؛کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٠٩)
حضرت کلدہ بن حنبل رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، بوہلی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَان؛گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤؛حدیث نمبر ٢٧١٠)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: ”کون ہے؟“۔ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں میں (کیا ہے؟)“گویا آپ نے اس بات کو ناپسند کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَان؛گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥؛حدیث نمبر ٢٧١١)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات سے منع کیا تھا کہ( وہ طویل سفر سے)واپسی پر رات کے وقت اپنے گھر جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت جابر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴-حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رات میں بیویوں کے پاس سفر سے واپس لوٹ کر آنے سے روکا ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روکنے کے باوجود دو شخص رات میں لوٹ کر اپنی بیویوں کے پاس آئے (نتیجہ انہیں اس نافرمانی کا یہ ملا) کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے پاس ایک دوسرے مرد کو پایا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ طُرُوقِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ لَيْلاً؛بیوی کے پاس سفر سے رات میں واپس آنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥؛حدیث نمبر ٢٧١٢)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ یہ ضرورت کو زیادہ بہتر طور پر پورا کرتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَتْرِيبِ الْكِتَابِ؛خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦؛حدیث نمبر ٢٧١٣)
حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے: ”تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے مضمون زیادہ بہتر سمجھ میں اتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ۳- عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧؛حدیث نمبر ٢٧١٤)
حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا“، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب (تحریر) پڑھ کر آپ کو سنا دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ السُّرْيَانِيَّةِ؛سریانی زبان سیکھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧؛حدیث نمبر ٢٧١٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی (بادشاہ حبش اصحمہ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب فِي مُكَاتَبَةِ الْمُشْرِكِينَ:مشرکین سے خط و کتابت کرنے کا بیان۔؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨؛حدیث نمبر ٢٧١٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان بن حرب رضی الله عنہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل (شہنشاہ شام) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى أمابعد» ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو رحمان اور رحیم ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوسفیان کا نام حضرت صخر بن حرب رضی الله عنہ تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ يُكْتَبُ إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ؛کفار و مشرکین کو کس انداز سے خط لکھا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩؛حدیث نمبر ٢٧١٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی (بادشاہوں) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے (مہر کے لیے) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي خَتْمِ الْكِتَابِ؛خط (مکتوب) پر مہر لگانے کا بیان۔؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩؛حدیث نمبر ٢٧١٨)
حضرت مقداد بن اسود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست (مدینہ) آئے، فقر و فاقہ کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے، پھر آپ مسجد آتے نماز پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب كَيْفَ السَّلاَمُ؛سلام کس انداز سے کیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠؛حدیث نمبر ٢٧١٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سلام کیا جب آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت علقمہ بن فغواء، جابر، براء اور مہاجر بن قنفد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّسْلِيمِ عَلَى مَنْ يَبُولُ؛پیشاب کرتے ہوئے شخص کو سلام کرنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠؛حدیث نمبر ٢٧٢٠)
ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک فرد سے یہ بات نقل کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلاش میں نکلا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، مگر آپ تک پہنچ نہ سکا، میں بیٹھا رہا پھر کچھ لوگ سامنے آئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ میں آپ سے واقف نہ تھا، آپ ان لوگوں میں صلح صفائی کرا رہے تھے، جب آپ (اس کام سے) فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! تو مجھے پتا چلا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جب میں نے (لوگوں کو) ایسا کہتے دیکھا تو میں نے کہا: ” «علیک السلام یا رسول اللہ» !“ (آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول) اور ایسا میں نے تین بار کہا، آپ نے فرمایا: ” «علیک السلام» مردے کے سلام کرنے کا طریقہ ہے“، آپ نے بھی ایسا تین بار کہا، پھر آپ میری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے «السلام علیکم ورحمة اللہ» پھر آپ نے میرے سلام کا جواب اس طرح لوٹایا، فرمایا: «وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ» (تین بار)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوغفار نے یہ حدیث بسند «ابو تمیمہ الہجیمی عن ابی جری جابر بن سلیم الہجیمی» سے روایت کی ہے، ہجیمی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر آگے پوری حدیث بیان کر دی۔ ابو تمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١؛حدیث نمبر ٢٧٢١)
حضرت جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر آپ سے عرض کیا: «علیک السلام» آپ پر سلامتی ہو تو آپ نے فرمایا: «علیک السلام» مت کہو بلکہ «السلام علیک» کہو اور آگے پورا لمبا قصہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢؛حدیث نمبر ٢٧٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دھراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ فائدہ: تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ مُبْتَدِئًا؛بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢؛حدیث نمبر ٢٧٢٣)
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ لوگ بھی بیٹھے تھے، اسی دوران اچانک تین آدمی آئے، ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ آئے، اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رکے تو انہوں نے سلام کیا، پھر ان دونوں میں سے ایک نے مجلس میں کچھ جگہ (گنجائش) دیکھی تو وہ اسی میں (گھس کر) بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان لوگوں کے (یعنی صحابہ) کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ اور تیسرا تو پیٹھ موڑے چلا ہی گیا تھا، پھر جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تینوں اشخاص کے متعلق نہ بتاؤں؟ (سنو) ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے نے شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور رہا تیسرا شخص تو اس نے اعراض کیا، چنانچہ اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا، منہ پھیر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابو مرہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام یزید ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عقیل ابن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛. بَاب اجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِكَ الْمَجْلِسُ؛مجلس میں جہاں پہنچو وہیں بیٹھ جاؤ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣؛حدیث نمبر ٢٧٢٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے سماک سے بھی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛. بَاب اجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِكَ الْمَجْلِسُ؛مجلس میں جہاں پہنچو وہیں بیٹھ جاؤ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣؛حدیث نمبر ٢٧٢٥)
ابو اسحاق حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں،حالانکہ انہوں نے یہ حدیث ان سے نہیں سنی ہے: انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”(یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْجَالِسِ عَلَى الطَّرِيقِ؛راستے میں بیٹھنے والے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٤؛حدیث نمبر ٢٧٢٦)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور (سلام) و مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت براء سے متعدد سندوں سے بھی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٤؛حدیث نمبر ٢٧٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے عرض : کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (بس اتنا ہی کافی ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٢٨)
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٢٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی (مصافحہ کرنا) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(بعد نماز عشاء) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ابھی کچھ دیر بعد نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا (مصافحہ کرنا) ہے، ۳- اس باب میں حضرت براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٥؛حدیث نمبر ٢٧٣٠)
حضرت ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کی مکمل عیادت یہ ہے کہ تم میں سے عیادت کرنے والا اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے“، یا آپ نے یہ فرمایا: ”(راوی کو شبہ ہو گیا ہے) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے، پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہارے سلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرو۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: عبیداللہ بن زحر ثقہ ہیں اور علی بن یزید ضعیف ہیں۔ ۳ - قاسم بن عبدالرحمٰن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے اور یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ثقہ ہیں اور قاسم شامی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٦؛حدیث نمبر ٢٧٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف اوپری جسم پر کچھ اوڑھ کر ان کی طرف بڑھے،اپ اپنے تہبند کو کھینچ رہے تھے، اللہ کی قسم اس سے پہلے یا اس کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو(اوپر جسم پر)اوڑھے بغیر کسی سے ملتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے (بڑھ کر) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُعَانَقَةِ وَالْقُبْلَةِ؛معانقہ (گلے ملنے) اور بوسہ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٦؛حدیث نمبر ٢٧٣٢)
حضرت صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے (موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا (۱) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ (۲) چوری نہ کرو (۳) زنا نہ کرو (۴) ناحق کسی کو قتل نہ کرو (۵) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے (۶) جادو نہ کرو (۷) سود مت کھاؤ (۸) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ (۹) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» (سنیچر) کے سلسلے میں حد سے آگے نہ بڑھو، (آپ کا جواب سن کر) انہوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: حضرت داود علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نبی رہے۔ اس لیے ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع (پیروی) کی تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت یزید بن اسود، ابن عمر اور کعب بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي قُبْلَةِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ؛ہاتھ پیر کا بوسہ لینا (کیسا ہے؟)؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٧؛حدیث نمبر ٢٧٣٣)
حضرت ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے، اور حضرت فاطمہ رضی الله عنہا ایک کپڑے سے آپ کو آڑ کیے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا: ”کون ہیں یہ؟“ میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کا آنا مبارک ہو“۔ راوی کہتے ہیں پھر ابو مرہ نے حدیث کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي مَرْحَبًا؛مرحبا کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٨؛حدیث نمبر ٢٧٣٤)
حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں(اسلام قبول کرنے کے لیے) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔ ہم اسے صرف موسیٰ بن مسعود کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے بھی یہ حدیث سفیان سے اور سفیان نے ابواسحاق سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس سند میں مصعب بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہی صحیح تر ہے، ۳- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا: موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۴- محمد بن بشار کہتے ہیں: میں نے موسیٰ بن مسعود سے بہت سی حدیثیں لیں، پھر میں نے ان سے حدیثیں لینی چھوڑ دی، ۵- اس باب میں حضرت بریدہ، ابن عباس اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام؛باب مَا جَاءَ فِي مَرْحَبًا؛مرحبا کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٨؛حدیث نمبر ٢٧٣٥)
Tirmizi Shareef : Abwabul Isteezani Wal Adabi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاستئذان والادب
|
•