asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Adabi

From 2736 to 2858

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، (۱) جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، (۲) جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، (۳) جب اسے چھینک آئے (اور وہ «الحمد لله» کہے) تو «يرحمك الله» کہہ کر اس کی چھینک کا جواب دے، (۴) جب وہ بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے، (۵) جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ (قبرستان) جائے، (۶) اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- بعض محدثین نے حارث اعور سے متعلق کلام کیا ہے، ۴- اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابوایوب، براء اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٠؛حدیث نمبر ٢٧٣٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ سِتٌّ بِالمَعْرُوفِ، يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَالبَرَاءِ، وَأَبِي مَسْعُودٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الحَارِثِ الأَعْوَرِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2736

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں، (۱) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے، (۲) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، (۳) جب دعوت کرے تو قبول کرے، (۴) جب ملے تو اس سے سلام کرے، (۵) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے، (۶) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٠؛حدیث نمبر ٢٧٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى المَخْزُومِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمُؤْمِنِ عَلَى المُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ، يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ [ص: ٨١] وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ». «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدِينِيُّ ثِقَةٌ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2737

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» یعنی تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ حضرت ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: کہنے کو تو میں بھی «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» کہہ سکتا ہوں لیکن اس طرح کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھلایا ہے۔ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زیاد بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا يَقُولُ الْعَاطِسُ إِذَا عَطَسَ؛آدمی کو جب چھینک آئے تو کیا کہے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨١؛حدیث نمبر ٢٧٣٨)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَضْرَمِيٌّ، مَوْلَى آلِ الْجَارُودِ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ: «الحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2738

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے «يرحمكم الله» ”اللہ تم پر رحم کرے“ کہیں گے۔ مگر آپ (اس موقع پر صرف) «يهديكم الله ويصلح بالكم» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کر دے“ فرماتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی، ابوایوب، سالم بن عبید، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٢؛حدیث نمبر ٢٧٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَانَ اليَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2739

حضرت سالم بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ان میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» (اس کے جواب میں)حضرت سالم رضی الله عنہ نے کہا: «عليك وعلى وأمك» (سلام ہے تم پر اور تمہاری ماں پر)، یہ بات اس شخص کو ناگوار معلوم ہوئی تو سالم نے کہا: میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «عليك وعلى أمك»، (تم پر اور تمہاری ماں پر بھی سلامتی ہو)۔ (آپ نے آگے فرمایا) جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے «الحمدللہ رب العالمین» کہنا چاہیئے۔ اور جواب دینے والا «یرحمک اللہ» اور (چھینکنے والا) «يغفر الله لي ولكم» کہے، (نہ کہ «السلام عليك» کہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ایک ایسی حدیث ہے جس میں منصور سے روایت کرنے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، لوگوں نے ہلال بن یساف اور سالم کے درمیان ایک اور راوی کو داخل کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٢؛حدیث نمبر ٢٧٤٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ القَوْمِ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ ": [ص: ٨٣] «هَذَا حَدِيثٌ اخْتَلَفُوا فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَنْصُورٍ، وَقَدْ أَدْخَلُوا بَيْنَ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ وَسَالِمٍ رَجُلًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2740

حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله على كل حال» (تمام تعریفیں ہر حال میں اللہ کے لیے ہیں) کہے۔ اور جو اس کا جواب دے وہ «يرحمك الله» کہے، اور اس کے جواب میں چھینکنے والا کہے «يهديكم الله ويصلح بالكم» (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست فرما دے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے شعبہ نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح شعبہ نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے ابن ابی لیلیٰ نے ابوایوب کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- ابن ابی لیلیٰ کو اس حدیث میں اضطراب تھا، کبھی کہتے: ابوایوب روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور کبھی کہتے:حضرت علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ امام ترمذی کہتے: بیان کیا مجھ سے محمد بن بشار اور محمد بن یحییٰ ثقفی مروزی نے، دونوں کہتے ہیں: بیان کیا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اور یحییٰ بن سعید قطان نے ابن ابی لیلیٰ سے، ابن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، عیسیٰ نے عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت علی رضی الله عنہ سے اور حضرت علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کس طرح دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٣؛حدیث نمبر ٢٧٤١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ. " هَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى يَضْطَرِبُ فِي هَذَا الحَدِيثِ، يَقُولُ أَحْيَانًا: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ أَحْيَانًا: عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الثَّقَفِيُّ المَرْوَزِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2741

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ایک کی چھینک پر «يرحمك الله» کہہ کر دعا دی اور دوسرے کی چھینک کا آپ نے جواب نہیں دیا، تو جس کی چھینک کا آپ نے جواب نہ دیا تھا اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی چھینک پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا دی اور میری چھینک پر آپ نے مجھے یہ دعا نہیں دی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(چھینک آئی تو) اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور (تجھے چھینک آئی تو) تم نے اس کی حمد نہ کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ التَّشْمِيتِ بِحَمْدِ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٤؛حدیث نمبر ٢٧٤٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ عَطَسَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الآخَرَ، فَقَالَ الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2742

حضرت سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم فرمائے) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے تو زکام ہو گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے : محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عکرمہ بن عمار نے اور عکرمہ نے ایاس بن سلمہ سے، ایاس نے اپنے باپ سلمہ سے اور حضرت سلمہ رضی الله عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی، مگر اس روایت میں یہ ہے کہ آپ نے اس آدمی کے تیسری بار چھینکنے پر فرمایا: ”تمہیں تو زکام ہو گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ابن مبارک کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور شعبہ نے اس حدیث کو عکرمہ بن عمار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح روایت کیا ہے۔ بیان کیا اسے ہم سے احمد بن حکم بصریٰ نے، انہوں نے کہا: بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا ہم سے شعبہ نے اور شعبہ نے عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے عکرمہ بن عمار سے ابن مبارک کی روایت کی طرح روایت کی ہے۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے اس سے تیسری بار چھینکنے پر فرمایا: ”تمہیں زکام ہو گیا ہے“۔ اسے بیان کیا مجھ سے اسحاق بن منصور نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَمْ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٤؛حدیث نمبر ٢٧٤٣)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ»، ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا رَجُلٌ مَزْكُومٌ»: [ص: ٨٥] «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: «أَنْتَ مَزْكُومٌ». «هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ المُبَارَكِ» وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، هَذَا الحَدِيثَ نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ الحَكَمِ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، بِهَذَا وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ المُبَارَكِ، وَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: «أَنْتَ مَزْكُومٌ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2743

حضرت عبید بن رفاعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھینکنے والے کی چھینک کا جواب تین بار دیا جائے گا، اور اگر تین بار سے زیادہ چھینکیں آئیں تو تمہیں اختیار ہے جی چاہے تو جواب دو اور جی چاہے تو نہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند مجہول ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَمْ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٥؛حدیث نمبر ٢٧٤٤)

حَدَّثَنَا القَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ الكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُشَمَّتُ العَاطِسُ ثَلَاثًا، فَإِنْ زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2744

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛ باب مَا جَاءَ فِي خَفْضِ الصَّوْتِ وَتَخْمِيرِ الْوَجْهِ عِنْدَ الْعُطَاسِ؛چھینکتے وقت آواز دھیمی کرنے اور منہ ڈھانپ لینے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٦؛حدیث نمبر ٢٧٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ بِثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2745

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھینکنا اللہ کی جانب سے ہے اور جمائی شیطان کی جانب سے ہے۔ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیئے کہ جمائی آتے وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے، اور جب جمائی لینے والا آہ، آہ کرتا ہے تو شیطان جمائی لینے والے کے پیٹ میں گھس کر ہنستا ہے۔ اور بیشک اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو (جان لو) کہ آدمی جب جمائی کے وقت آہ آہ کی آواز نکالتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیٹ کے اندر گھس کر ہنستا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ؛اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٦؛حدیث نمبر ٢٧٤٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " العُطَاسُ مِنَ اللَّهِ وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، وَإِذَا قَالَ: آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ: آهْ آهْ إِذَا تَثَاءَبَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2746

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو ہر مسلمان کے لیے جو اسے سنے «یرحمک اللہ» کہنا ضروری ہے۔ اب رہی جمائی کی بات تو جس کسی کو جمائی آئے، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسے روکے اور ہاہ ہاہ نہ کہے، کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان اس سے ہنستا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور یہ ابن عجلان کی (اوپر مذکور) روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابن ابی ذئب: سعید مقبری کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے (احفظ) اور محمد بن عجلان سے زیادہ قوی (اثبت) ہیں، ۴- میں نے ابوبکر عطار بصریٰ سے سنا ہے وہ روایت کرتے ہیں: علی بن مدینی کے واسطہ سے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: محمد بن عجلان کہتے ہیں: سعید مقبری کی احادیث کا معاملہ یہ ہے کہ سعید نے بعض حدیثیں (بلاواسطہ) حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہیں۔ اور بعض حدیثیں بواسطہ ایک شخص کے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہیں۔ تو وہ سب میرے ذہن میں خلط ملط ہو گئیں۔ مجھے یاد نہیں رہا کہ بلاواسطہ کون تھیں اور بواسطہ کون؟ تو میں نے سبھی روایتوں کو سعید کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ سے روایت کر دی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ؛اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٧؛حدیث نمبر ٢٧٤٧)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُولَنَّ: هَاهْ هَاهْ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ ": «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ» سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ العَطَّارَ البَصْرِيَّ، يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ المَدِينِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ: أَحَادِيثُ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ رَوَى بَعْضَهَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ بَعْضُهَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَاخْتَلَطَتْ عَلَيَّ فَجَعَلْتُهَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2747

عدی بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے،اپنے دادا سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ الْعُطَاسَ فِي الصَّلاَةِ مِنَ الشَّيْطَانِ؛نماز میں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٨؛حدیث نمبر ٢٧٤٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي اليَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَفَعَهُ قَالَ: «العُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالحَيْضُ وَالقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ»: [ص: ٨٨] «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي اليَقْظَانِ». وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُ جَدِّ عَدِيٍّ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي»، وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ: " اسْمُهُ: دِينَارٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2748

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يُجْلَسُ فِيهِ؛کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٨؛حدیث نمبر ٢٧٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2749

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھ جائے“۔ راوی سالم کہتے ہیں:حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کے لیے اپنی جگہ خالی کرتا ت وہ (اس ممانعت کی وجہ سے) اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يُجْلَسُ فِيهِ؛کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٨؛حدیث نمبر ٢٧٥٠)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ» قَالَ: «وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ لِابْنِ عُمَرَ، فَلَا يَجْلِسُ فِيهِ»: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2750

حضرت وہب بن حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ کا زیادہ مستحق ہے، اگر وہ کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو وہی اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوبکرہ، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ؛مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٩؛حدیث نمبر ٢٧٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الوَاسِطِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ وَإِنْ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2751

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو عامر احول نے عمرو بن شعیب سے بھی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ وَسْطَ الْحَلْقَةِ؛مجلس کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٨٩؛حدیث نمبر ٢٧٥٢)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ رَوَاهُ عَامِرٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَيْضًا

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2752

ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقہ کے بیچ میں بیٹھ گیا، تو حضرت حذیفہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شخص ملعون ہے جو بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلقہ (دائرہ) کے بیچ میں جا کر بیٹھے۔ (راوی کو شک ہے یا شاید یہی الفاظ ہیں) اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس شخص کو ملعون قرار دیا ہے جو حلقے کے درمیان بیٹھتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ وَسْطَ الْحَلْقَةِ؛مجلس کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٠؛حدیث نمبر ٢٧٥٣)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَوْ «لَعَنَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ: لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2753

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں کے نزدیک کوئی بھی شخصیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں تھی۔ لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تھے وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ انہیں یہ پتہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ؛ ادمی کا کسی دوسرے کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٠؛حدیث نمبر ٢٧٥٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2754

ابومجلز کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی الله عنہ باہر نکلے،حضرت عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ تو حضرت معاویہ رضی الله عنہ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے"۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ؛ ادمی کا کسی دوسرے کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٠؛حدیث نمبر ٢٧٥٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ صَفْوَانَ حِينَ رَأَوْهُ. فَقَالَ: اجْلِسَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ [ص: ٩١] عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2755

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، (۱)زیر ناف بال صاف کرنا، (۲) ختنہ کرنا، (۳) مونچھیں کترنا، (۴) بغل کے بال اکھیڑنا، (۵) ناخن تراشنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ؛ناخن کاٹنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩١؛حدیث نمبر ٢٧٥٦)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسٌ مِنَ الفِطْرَةِ، الِاسْتِحْدَادُ، وَالخِتَانُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2756

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں فطرت سے ہیں (۱) مونچھیں کترنا (۲) داڑھی بڑھانا (۳) مسواک کرنا (۴) ناک میں پانی ڈالنا (۵) ناخن کاٹنا (۶) انگلیوں کے جوڑوں کی پشت دھونا (۶) بغل کے بال اکھیڑنا (۸) ناف سے نیچے کے بال مونڈنا (۹) پانی سے استنجاء کرنا، زکریا (راوی) کہتے ہیں کہ مصعب نے کہا: دسویں چیز میں بھول گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کلی کرنا ہو“، «انتقاص الماء» سے مراد پانی سے استنجاء کرنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمار بن یاسر، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ؛ناخن کاٹنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩١؛حدیث نمبر ٢٧٥٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، [ص: ٩٢] وَغَسْلُ البَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَحَلْقُ العَانَةِ، وَانْتِقَاصُ المَاءِ» قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ: الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ. وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2757

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے لیے مدت متعین فرما دی ہے کہ ہر چالیس دن کے اندر ناخن کاٹ لیں۔ مونچھیں کتروا لیں۔ اور ناف سے نیچے کے بال مونڈ لیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ؛ناخن کاٹنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٢؛حدیث نمبر ٢٧٥٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى أَبُو مُحَمَّدٍ صَاحِبُ الدَّقِيقِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ وَقَّتَ لَهُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً تَقْلِيمَ الأَظْفَارِ، وَأَخْذَ الشَّارِبِ، وَحَلْقَ العَانَةِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2758

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال کاٹنے ، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ (جو پہلی حدیث کی سند میں) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ؛ناخن کاٹنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٢؛حدیث نمبر ٢٧٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «وُقِّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ، وَنَتْفَ الْإِبْطِ، لَا يُتْرَكُ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا» هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2759

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھیں چھوٹی کروایا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ؛مونچھیں چھوٹی کروانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٣؛حدیث نمبر ٢٧٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الوَلِيدِ الكِنْدِيُّ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ أَوْ يَأْخُذُ مِنْ شَارِبِهِ، قَالَ: وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ يَفْعَلُهُ ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2760

حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی مونچھوں چھوٹی نہیں کروایا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ؛مونچھیں چھوٹی کروانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٣؛حدیث نمبر ٢٧٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا» وَفِي البَابِ عَنْ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2761

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی کی سمت میں تراشا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں (یعنی بخاری کو عمر بن ہارون) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کر دیا۔قتیبہ کہتے ہیں میں نے (اپنے استاد) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ (جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ مِنَ اللِّحْيَةِ؛داڑھی تراشنا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٤؛حدیث نمبر ٢٧٦٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا»: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ: " عُمَرُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الحَدِيثِ لَا أَعْرِفُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ - أَوْ قَالَ - يَنْفَرِدُ بِهِ، إِلَّا هَذَا الحَدِيثَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْيِ فِي عُمَرَ ": وَسَمِعْتُ قُتَيْبَةَ، يَقُولُ: " عُمَرُ بْنُ هَارُونَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ، وَكَانَ يَقُولُ: الإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ. سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الجَرَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ المَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ» قَالَ قُتَيْبَةُ: قُلْتُ لِوَكِيعٍ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: «صَاحِبُكُمْ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2762

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ مِنَ اللِّحْيَةِ؛داڑھی بڑھانا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٥؛حدیث نمبر ٢٧٦٣)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفُوا الشَّوَارِبَ وَاعْفُوا اللِّحَى»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2763

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مونچھیں چھوٹی رکھنے اور ڈاڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کے آزاد کردہ غلام ابوبکر بن نافع ثقہ آدمی ہیں، ۳- عمر بن نافع یہ بھی ثقہ ہیں، ۴- عبداللہ بن نافع ابن عمر رضی الله عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں اور حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَخْذِ مِنَ اللِّحْيَةِ؛داڑھی بڑھانا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٥؛حدیث نمبر ٢٧٦٤)

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ هُوَ: مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ثِقَةٌ، وَعُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ثِقَةٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يُضَعَّفُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2764

عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا،اپنا ایک پاؤں ،دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الأُخْرَى مُسْتَلْقِيًا؛چت لیٹ کر ایک پاؤں،دوسرے پر رکھنے کا حکم؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٥؛حدیث نمبر ٢٧٦٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، «أَنَّهُ رَأَى [ص: ٩٦] النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي المَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ هُوَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ المَازِنِيُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2765

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی کمر کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی راویوں نے سلیمان تیمی سے روایت کیا ہے۔ اور خداش (جن کا ذکر اس حدیث کی سند میں ہے) نہیں جانے جاتے کہ وہ کون ہیں؟ اور سلیمان تیمی نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ؛ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٦؛حدیث نمبر ٢٧٦٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ القُرَشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَا يَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى» هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَلَا يُعْرَفُ خِدَاشٌ هَذَا مَنْ هُوَ، وَقَدْ رَوَى لَهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ غَيْرَ حَدِيثٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2766

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء(کے طور پر)اور احتباء(احتباء کے طور پر)کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ؛ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٦؛حدیث نمبر ٢٧٦٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2767

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے اور ابوسلمہ نے یعیش بن طہفہ کے واسطہ سے ان کے باپ طہفہ سے روایت کی ہے، انہیں طخفہ بھی کہا جاتا ہے، لیکن صحیح طہفہ ہی ہے۔ اور بعض حفاظ کہتے ہیں: طخفہ صحیح ہے۔ اور انہیں طغفہ اور یعیش بھی کہا جاتا ہے۔ اور وہ صحابہ میں سے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت طہفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الاِضْطِجَاعِ عَلَى الْبَطْنِ؛پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٧؛حدیث نمبر ٢٧٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ» وَفِي البَابِ عَنْ طِهْفَةَ، وَابْنِ عُمَرَ: وَرَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " وَيُقَالُ: طِخْفَةُ، وَالصَّحِيحُ طِهْفَةُ، وَقَالَ بَعْضُ الحُفَّاظِ: الصَّحِيحُ طِخْفَةُ، وَيُقَالُ: طِغْفَةُ يَعِيشُ هُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2768

بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالےسے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی ستر کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی ستر کو چھپاؤ“، انہوں نے کہا: آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے کہا: آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے۔ ۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ الْعَوْرَةِ؛ستر (شرمگاہ) کی حفاظت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٧؛حدیث نمبر ٢٧٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا [ص: ٩٨] مَلَكَتْ يَمِينُكَ»، فَقَالَ: الرَّجُلُ يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ؟ قَالَ: «إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ»، قُلْتُ: وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا، قَالَ: «فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ القُشَيْرِيُّ، وَقَدْ رَوَى الجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2769

حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بائیں جانب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو کئی اور نے بطریق: «إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے، (اس میں ہے) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الاِتِّكَاءِ؛تکیہ کے ساتھ ٹیک لگانا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٨؛حدیث نمبر ٢٧٧٠)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الكُوفِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ» وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى يَسَارِهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2770

حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الاِتِّكَاءِ؛تکیہ کے ساتھ ٹیک لگانا؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٨؛حدیث نمبر ٢٧٧١)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2771

حضرت ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی بھی شخص کو اس کی حاکمیت میں مقتدی نہ بنایا جائے اور کسی شخص کے گھر میں اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر کسی دوسرے کو نہ بٹھایا جائے البتہ اس کی اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٩؛حدیث نمبر ٢٧٧٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2772

حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی سواری کے آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ ”پھر آپ اس پر سوار ہو گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ؛آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٩٩؛حدیث نمبر ٢٧٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ، وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ، إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي» قَالَ: قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِبَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَفِي البَابِ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2773

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس «انماط» (قالین) ہیں؟“ میں نے کہا: قالین ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس عنقریب «انماط» (قالین ) ہوں گے“۔ (تو اب وہ زمانہ آ گیا ہے) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» (قالین) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کر جاتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ؛ قالین رکھنے کی رخصت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٠؛حدیث نمبر ٢٧٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكُمْ أَنْمَاطٌ»؟ قُلْتُ: وَأَنَّى تَكُونُ لَنَا أَنْمَاطٌ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ» قَالَ: فَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ»؟ قَالَ: فَأَدَعُهَا: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2774

حضرت سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کو چلا کر لے جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس پر سوار تھے، یہاں تک کہ میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے آیا ، یہ (حضرت حسن) آپ کے آگے اور وہ (حضرت حسین) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس میں حضرت ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ ثَلاَثَةٍ عَلَى دَابَّةٍ؛ایک سواری پر (بیک وقت) تین آدمیوں کے بیٹھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٠؛حدیث نمبر ٢٧٧٥)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ العَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الجُرَشِيُّ اليَمَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَقَدْ قُدْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالحَسَنَ وَالحُسَيْنَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا قُدَّامُهُ، وَهَذَا خَلْفُهُ» [ص: ١٠١] وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2775

حضرت جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛ باب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ؛(غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠١؛حدیث نمبر ٢٧٧٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الفُجَاءَةِ «فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2776

حضرت بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف) نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛ باب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ؛(غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠١؛حدیث نمبر ٢٧٧٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ: «يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2777

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں وہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور حضرت میمونہ رضی الله عنہا بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي احْتِجَابِ النِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ؛عورتیں مرد سے پردہ کریں اس کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٢؛حدیث نمبر ٢٧٧٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةَ قَالَتْ: فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُمِرْنَا بِالحِجَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجِبَا مِنْهُ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2778

حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے کے غلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے انہیں حضرت علی رضی الله عنہ کے پاس (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس سے ملاقات کی اجازت مانگنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے اجازت دے دی، پھر جب وہ جس ضرورت سے گئے تھے اس سے کہہ سن کر فارغ ہوئے تو ان کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) نے ان سے (اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس ان کے شوہروں سے اجازت لیے بغیر جانے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الدُّخُولِ، عَلَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِإِذْنِ الأَزْوَاجِ؛شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٢؛حدیث نمبر ٢٧٧٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ العَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ العَاصِ، أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَأُذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ سَأَلَ المَوْلَى عَمْرَو بْنَ العَاصِ عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ» [ص: ١٠٣] وَفِي البَابِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2779

حضرت اسامہ بن زید اور سعید بن زید رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اپنے بعد لوگوں میں جو آزمائشیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، وہ ان میں مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی چیز نہیں ہے" امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی ثقہ لوگوں نے بطریق: «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اس سند میں «عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل» کا ذکر نہیں کیا، ۳- ہم معتمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے «عن أسامة بن زيد وسعيد بن زيد» (ایک ساتھ) کہا ہو، ۴- اس باب میں حضرت ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فی تحذير فتنۃ النساء؛عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٣؛حدیث نمبر ٢٧٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا المُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِي النَّاسِ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ: عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ المُعْتَمِرِ " وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2780

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کو مدینہ میں خطبہ کے دوران کہتے ہوئے سنا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان زائد بالوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اسے اپنا لیا تو وہ ہلاک ہو گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے حضرت معاویہ رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتِّخَاذِ الْقُصَّةِ؛زائد بالوں کا گچھا اپنے بال میں جوڑنے کی حرمت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٣؛حدیث نمبر ٢٧٨١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، بِالمَدِينَةِ يَخْطُبُ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ المَدِينَةِ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ هَذِهِ القُصَّةِ وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2781

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والیوں پر اور حسن میں اضافے کی خاطر آبروؤں کے بال اکھاڑنے والی اور اکھیڑوانے والیوں پر اور اللہ کی بناوٹ (تخلیق) میں تبدیلیاں کرنے والیوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ اور کئی دوسرے ائمہ نے بھی منصور سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ؛ نقلی بال لگانے والی نقلی بال لگوانے والی،جسم گودنے والی گدوانے والی خواتین کا حکم؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٤؛حدیث نمبر ٢٧٨٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ وَالمُتَنَمِّصَاتِ مُبْتَغِيَاتٍ لِلْحُسْنِ مُغَيِّرَاتٍ خَلْقَ اللَّهِ» [ص: ١٠٥] هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ " وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ عَنْ مَنْصُورٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2782

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو نقلی بال لگانے والی نقلی بال لگوانے والی، جسم گودنے والی جسم گدوانے والی عورتوں پر“، نافع کہتے ہیں: گودائی مسوڑھے میں ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ، معقل بن یسار، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں: ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ) روایت کی طرح روایت کی۔ مگر یحییٰ نے اس روایت میں نافع کا قول ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ؛ نقلی بال لگانے والی نقلی بال لگوانے والی،جسم گودنے والی گدوانے والی خواتین کا حکم؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٥؛حدیث نمبر ٢٧٨٣)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ» قَالَ نَافِعٌ: «الوَشْمُ فِي اللِّثَةِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ " وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، «وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ يَحْيَى قَوْلَ نَافِعٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2783

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ؛مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٦؛حدیث نمبر ٢٧٨٤)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ [ص: ١٠٦] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2784

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی عورتوں کی وضع قطع اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی وضع اختیار کرنے والی عورتوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ؛مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٦؛حدیث نمبر ٢٧٨٥)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَأَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ " وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2785

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زنا کرنے والی عورتوں کی طرحہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خُرُوجِ الْمَرْأَةِ مُتَعَطِّرَةً؛عطر لگا عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی حرمت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٦؛حدیث نمبر ٢٧٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الحَنَفِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا» يَعْنِي زَانِيَةً وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2786

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے، ابونضرہ نے طفاوی سے اور طفاوی نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم طفاوی کا ذکر صرف اسی حدیث میں سن رہے ہیں ہم ان کا نام بھی نہیں جانتے، اسماعیل بن ابراہیم کی حدیث «اتم» (مکمل) اور «اطول» (لمبی) ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي طِيبِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛مرد اور عورت کی خوشبو کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٧؛حدیث نمبر ٢٧٨٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ» حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ الطُّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ الطُّفَاوِيَّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا فِي هَذَا الحَدِيثِ وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ، وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ. وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2787

حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زین کے اوپر انتہائی سرخ ریشمی کپڑا ڈالنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي طِيبِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛مرد اور عورت کی خوشبو کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٧؛حدیث نمبر ٢٧٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الحَنَفِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ خَيْرَ طِيبِ الرَّجُلِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَخَيْرَ طِيبِ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ»، وَنَهَى عَنْ مِيثَرَةِ الأُرْجُوَانِ «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2788

ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی الله عنہ خوشبو (کی چیز) واپس نہیں کرتے تھے، اور حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو(کے تحفے)کو واپس نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ رَدِّ الطِّيبِ؛خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٨؛حدیث نمبر ٢٧٨٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، وَقَالَ أَنَسٌ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2789

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں (ہدیہ و تحفہ میں آئیں) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے،خوشبو، اور دودھ، دہن سے مراد خوشبو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ رَدِّ الطِّيبِ؛خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٨؛حدیث نمبر ٢٧٩٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ: الوَسَائِدُ، وَالدُّهْنُ، وَاللَّبَنُ " الدُّهْنُ: يَعْنِي بِهِ الطِّيبَ. هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ ابْنُ جُنْدُبٍ وَهُوَ مَدِينِيٌّ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2790

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے نکلی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حنان (نام کے) راوی کو ہم صرف اسی حدیث میں پاتے ہیں، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن انہیں آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا اور نہ ہی آپ سے کوئی حدیث سن سکے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ رَدِّ الطِّيبِ؛خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٨؛حدیث نمبر ٢٧٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ حَنَانٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُعْطِيَ أَحَدُكُمُ الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَلَا نَعْرِفُ [ص: ١٠٩] حَنَانًا إِلَّا فِي هَذَا الحَدِيثِ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2791

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی عورت کسی دوسری عورت کے اس طرح ساتھ نہ ہو کہ پھر وہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی خوبیاں بیان کرے تو یوں ہو جیسے وہ مرد اس عورت کو دیکھ رہا ہے"۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ؛مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ مباشرت حرام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٩؛حدیث نمبر ٢٧٩٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبَاشِرُ المَرْأَةُ المَرْأَةَ حَتَّى تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2792

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ؛مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ مباشرت حرام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٠٩؛حدیث نمبر ٢٧٩٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرُ المَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ المَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ، وَلَا تُفْضِي المَرْأَةُ إِلَى المَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2793

بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم اپنی ستر کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی ستر اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ“، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں (تو ہم کیا اور کیسے کریں؟) آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری ستر کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیاء کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ الْعَوْرَةِ؛سترکی حفاظت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٠؛حدیث نمبر ٢٧٩٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ القَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ: «إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا تُرِيَنَّهَا»، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ: «فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2794

حضرت جرہد اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس (یعنی میرے پاس سے) سے گزرے (اس وقت) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”ران بھی ستر (چھپانے کی چیز) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؛ران کے سترمیں داخل ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٠؛حدیث نمبر ٢٧٩٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي المَسْجِدِ وَقَدْ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَالَ: «إِنَّ الفَخِذَ عَوْرَةٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2795

حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ران کا چھپانا ضروری ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؛ران کے سترمیں داخل ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١١؛حدیث نمبر ٢٧٩٦)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْفَخِذُ عَوْرَةٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2796

حضرت جرہد اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ران ستر (چھپانے کی چیز) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی اور محمد بن عبداللہ بن جحش سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے بیٹے محمد رضی الله عنہما دونوں صحابی رسول ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؛ران کے سترمیں داخل ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١١؛حدیث نمبر ٢٧٩٧)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ الحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَرْهَدٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الفَخِذُ عَوْرَةٌ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ. وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ. وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ صُحْبَةٌ وَلِابْنِهِ مُحَمَّدٍ صُحْبَةٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2797

حضرت جرہد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی ران کھولے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستر (چھپانے کی چیز) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؛ران کے سترمیں داخل ہونے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١١؛حدیث نمبر ٢٧٩٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّهَا مِنَ العَوْرَةِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2798

صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا: اللہ طیب (پاک) ہے اور پاکی (صفائی و ستھرائی) کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک و صاف رکھو۔ (میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو“۔ (صالح کہتے ہیں) میں نے اس (روایت) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ البتہ مہاجر نے «نظفوا أفنيتكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي النَّظَافَةِ؛صفائی ستھرائی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١١؛حدیث نمبر ٢٧٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، وَيُقَالُ ابْنُ إِيَاسٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ [ص: ١١٢] سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الكَرَمَ، جَوَادٌ يُحِبُّ الجُودَ، فَنَظِّفُوا - أُرَاهُ قَالَ - أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِاليَهُودِ» قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ». هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ يُضَعَّفُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2799

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان (فرشتوں) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْجِمَاع؛جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٢؛حدیث نمبر ٢٨٠٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نِيْزَكَ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ»: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ يَعْلَى "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2800

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ (حمام) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ (حمام) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کر دیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْحَمَّامِ؛غسل خانہ میں جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٣؛حدیث نمبر ٢٨٠١)

حَدَّثَنَا القَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ المِقْدَامِ، عَنْ الحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الحَمَّامَ بِغَيْرِ إِزَارٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الحَمَّامَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَجْلِسْ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالخَمْرِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ طَاوُوسٍ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: «لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ صَدُوقٌ وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّيْءِ» وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: «لَيْثٌ لَا يُفْرَحُ بِحَدِيثِهِ، كَانَ لَيْثٌ يَرْفَعُ أَشْيَاءَ لَا يَرْفَعُهَا غَيْرُهُ فَلِذَلِكَ ضَعَّفُوهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2801

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات (عمومی غسل خانوں) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْحَمَّامِ؛غسل خانہ میں جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٣؛حدیث نمبر ٢٨٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنِ الحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي المَيَازِرِ. [ص: ١١٤] هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ القَائِمِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2802

ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات (عمومی غسل خانوں) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان موجود پردے کو فاش کر دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْحَمَّامِ؛غسل خانہ میں جانے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٤؛حدیث نمبر ٢٨٠٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الجَعْدِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي المَلِيحِ الهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ، أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الحَمَّامَاتِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2803

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجودہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ؛جس گھر میں تصویر اور کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٤؛حدیث نمبر ٢٨٠٤)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ المَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ»: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2804

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو“، (اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہو گیا کہ ان کے استاد نے «تماثیل» اور «صورة» دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ؛جس گھر میں تصویر اور کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٥؛حدیث نمبر ٢٨٠٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أبِي طَلْحَةَ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ نَعُودُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ المَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، أَوْ صُورَةٌ» شَكَّ إِسْحَاقُ لَا يَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ،: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2805

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ”کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر کچھ مردوں کی تصویریں تھیں، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک پردے پر یہ تصویریں بنی ہوئی تھی۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، (حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی:)تو آپ دروازے کی «تماثیل» (تصویر ) کے سر کو کاٹ دیجئیے کہ وہ تصویر پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئیے جو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حضرت حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ اور ابوطلحہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ؛جس گھر میں تصویر اور کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٥؛حدیث نمبر ٢٨٠٦)

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ البَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ عَلَيْكَ البَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي بَابِ البَيْتِ تِمْثَالُ الرِّجَالِ، وَكَانَ فِي البَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي البَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي بِالبَابِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُصَيَّرْ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ وَيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مُنْتَبَذَتَيْنِ تُوطَآنِ، وَمُرْ بِالكَلْبِ فَيُخْرَجْ "، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ذَلِكَ الكَلْبُ جَرْوًا لِلْحَسَنِ أَوِ الحُسَيْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2806

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا ۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو (یعنی زرد رنگ کا نہ ہو)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِلرَّجُلِ وَالْقَسِّيِّ؛مردوں کے لیے کسم میں رنگا اور قسی ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٦؛حدیث نمبر ٢٨٠٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ المُعَصْفَرِ، وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالحُمْرَةِ بِالمَدَرِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2807

حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے (مردوں کو) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے (ریشم ملے ہوئے) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِلرَّجُلِ وَالْقَسِّيِّ؛مردوں کے لیے کسم میں رنگا اور قسی ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٦؛حدیث نمبر ٢٨٠٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ القَسِّيِّ وَعَنِ المِيثَرَةِ وَعَنِ الجِعَةِ» قَالَ أَبُو الأَحْوَصِ: «وَهُوَ شَرَابٌ يُتَّخَذُ بِمِصْرَ مِنَ الشَّعِيرِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2808

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دے ، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے (یہ سب ریشمی کپڑے ہیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِلرَّجُلِ وَالْقَسِّيِّ؛مردوں کے لیے کسم میں رنگا اور قسی ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٧؛حدیث نمبر ٢٨٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الجَنَازَةِ، وَعِيَادَةِ المَرِيضِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَصْرِ المَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَآنِيَةِ الفِضَّةِ، وَلُبْسِ الحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَالقَسِّيِّ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ: أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ الْأَسْوَدِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2809

حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں میں اپنے مردوں کو کفن دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْبَيَاضِ؛سفید کپڑے پہننے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٧؛حدیث نمبر ٢٨١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «البَسُوا البَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2810

حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا (کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں۔ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں اور ابواسحاق نے براء بن عازب سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر سرخ جوڑا دیکھا، ہم سے بیان کیا اسی طرح محمود بن غیلان نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا وکیع نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا سفیان نے اور انہوں نے روایت کیا ابواسحاق سے۔ مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسی طرح ابواسحاق سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا، میں نے کہا: ابواسحاق کی حدیث جو براء سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے یا جابر بن سمرہ کی؟ تو انہوں نے دونوں ہی حدیثوں کو صحیح قرار دیا، ۲- اس باب میں براء اور حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْحُمْرَةِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے سرخ لباس پہننے کی اجازت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٨؛حدیث نمبر ٢٨١١)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ القَاسِمِ، عَنْ الأَشْعَثِ وَهُوَ ابْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى القَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، فَإِذَا هُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ القَمَرِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الأَشْعَثِ» وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً حَمْرَاءَ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا «وَفِي الحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا» سَأَلْتُ مُحَمَّدًا، قُلْتُ لَهُ: حَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ أَصَحُّ أَمْ حَدِيثُهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ؟ فَرَأَى كِلَا الحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا " وَفِي البَابِ عَنْ البَرَاءِ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2811

حضرت ابورمثہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سبز کپڑے استعمال کئے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبیداللہ بن ایاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- ابورمثہ تیمی کا نام حبیب بن حیان ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام رفاعہ بن یثربی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الثَّوْبِ الأَخْضَرِ؛سبز رنگ کے کپڑے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٩؛حدیث نمبر ٢٨١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَادٍ، وَأَبُو رِمْثَةَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ: حَبِيبُ بْنُ حَيَّانَ، وَيُقَالُ اسْمُهُ: رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2812

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، اس وقت آپ سیاہ رنگ کی پچادر اوڑھے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الثَّوْبِ الأَسْوَدِ؛کالے کپڑے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١١٩؛حدیث نمبر ٢٨١٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2813

حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی (اس میں ہے کہ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا۔ اس نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ» ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام ورحمة اللہ»، اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پرانے اور بغیر سلے ہوئے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے، اور ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي الثَّوْبِ الأَصْفَرِ؛زرد کپڑے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٠؛حدیث نمبر ٢٨١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتَاهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ، وَدُحَيْبَةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ، حَدَّثَتَاهُ، عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ - وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْهَا، وَقَيْلَةُ جَدَّةُ أَبِيهِمَا أُمُّ أُمِّهِ - أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتِ الحَدِيثَ بِطُولِهِ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» وَعَلَيْهِ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْمَالُ مُلَيَّتَيْنِ كَانَتَا بِزَعْفَرَانٍ وَقَدْ نَفَضَتَا وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسِيبُ نَخْلَةٍ: «حَدِيثُ قَيْلَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَّانَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2814

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ کے استعمال سے روکا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کو) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٠؛حدیث نمبر ٢٨١٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَرَوَى شُعْبَةُ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ، عَنْ شُعْبَةَ،: " وَمَعْنَى كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ: أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ، يَعْنِي أَنْ يَتَطَيَّبَ بِهِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2815

حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے، ۳- علی (علی ابن المدینی) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے (پہلے) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ (اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے)، ۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا، ۶- اس باب میں حضرت عمار، ابوموسیٰ، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢١؛حدیث نمبر ٢٨١٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا قَالَ: «اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ»: [ص: ١٢٢] " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ اخْتَلَفَ بَعْضُهُمْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَدِيمًا فَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ، وَسَمَاعُ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ إِلَّا حَدِيثَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُهُمَا مِنْهُ بِآخِرَةٍ ": " يُقَالُ: إِنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ كَانَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ «وَفِي البَابِ عَنْ عَمَّارٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَنَسٍ» وَأَبُو حَفْصٍ هُوَ: أَبُو حَفْصِ بْنُ عُمَرَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2816

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی الله عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں «حریر» (ریشمی کپڑا) پہنا تو وہ اسے آخرت (یعنی جنت) میں نہ پہنے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت علی، حذیفہ، انس رضی الله عنہم اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ؛(مردوں کے لیے) ریشم اور ریشم سے بنے ہوئے کپڑے مردوں کے پہنے کی حرمت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٢؛حدیث نمبر ٢٨١٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَنَسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي أَبْوَابِ اللِّبَاسِ. [ص: ١٢٣] هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُمَرَ. وَمَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ وَيُكْنَى أَبَا عُمَرَ. وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2817

حضرت مسور بن مخرمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو (ان میں سے) کچھ نہ دیا۔ حضرت مخرمہ رضی الله عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا: تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چنانچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی“، آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے رکھی تھی“۔ مسور کہتے ہیں: پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے: مخرمہ اسے پا کر خوش ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٣؛حدیث نمبر ٢٨١٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَج النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ: «خَبَأْتُ لَكَ هَذَا»، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «رَضِيَ مَخْرَمَةُ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2818

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوالاحوص کے باپ، عمران بن حصین اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (یعنی جس کی جیسی اچھی حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے اچھا کھائے پیے اور اچھا پہنے خوشحالی کے باوجود پھٹیچر نہ بنا رہے۔) (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ؛اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٣؛حدیث نمبر ٢٨١٩)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، [ص: ١٢٤] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2819

حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف دلہم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن ربیعہ نے دلہم (راوی) سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْخُفِّ الأَسْوَدِ؛کالے موزوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٤؛حدیث نمبر ٢٨٢٠)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ دَلْهَمٍ " وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ دَلْهَمٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2820

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے: ”یہ تو مسلمان کا نور ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ؛بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے کی ممانعت؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٤؛حدیث نمبر ٢٨٢١)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ نُورُ المُسْلِمِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ " قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2821

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے، اور شیبان، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا: جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ (یعنی پوری حدیث) بیان کر دیتا ہوں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ؛مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٥؛حدیث نمبر ٢٨٢٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيِّ، وَشَيْبَانُ هُوَ صَاحِبُ كِتَابٍ وَهُوَ صَحِيحُ الحَدِيثِ، وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ» حَدَّثَنَا عَبْدُ الجَبَّارِ بْنُ العَلَاءِ العَطَّارُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، «إِنِّي لَأُحَدِّثُ الحَدِيثَ فَمَا أَخْرِمُ مِنْهُ حَرْفًا»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2822

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جائے اس کو امین ہونا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن مسعود، ابوہریرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ؛مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٦؛حدیث نمبر ٢٨٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2823

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے (۱) عورت میں (۲) گھر میں (۳) اور جانورمیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب (تلامذہ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ بن عمر کے دونوں بیٹے سالم اور حمزہ سے اور ان دونوں نے اپنے والد عبداللہ سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور ہم سے سعید بن عبدالرحمن نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے سفیان نے بیان کیا: سفیان نے زہری سے، زہری نے سالم سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سعید بن عبدالرحمٰن نے «عن حمزة» کا ذکر اس حدیث میں نہیں کیا، سعید کی روایت «اصح» (صحیح تر) ہے اس لیے کہ علی ابن مدینی اور حمیدی دونوں نے سفیان سے، سفیان نے زہری سے، زہری نے سالم کے واسطہ سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر) سے روایت کی ہے۔ ان دونوں نے سفیان کے واسطے سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث زہری نے سالم ہی کے واسطے سے روایت کی ہے اور سالم نے (اپنے باپ)حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث زہری سے روایت کرتے ہوئے «عن سالم وحمزة ابني عبد الله بن عمر عن أبيهما» کہا، ۳- اس باب میں حضرت سہل بن سعد، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی“۔حکیم بن معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (کسی بھی چیز میں) کوئی نحوست نہیں ہے اور خیر و برکت گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔ ہم سے اس کی روایت علی بن حجر نے کی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا اسماعیل بن عیاش نے اور اسماعیل نے سلمان سے، سلیمان بن سلیم نے یحییٰ بن جابر طائی سے، یحییٰ نے معاویہ بن حکیم سے معاویہ نے اپنے چچا حکیم بن معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي الشُّؤْمِ؛نحوست کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٦؛حدیث نمبر ٢٨٢٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ، فِي المَرْأَةِ، وَالمَسْكَنِ، وَالدَّابَّةِ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ حَمْزَةَ إِنَّمَا يَقُولُونَ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى مَالِكٌ بن أنس هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِمَا. وَهَكَذَا رَوَى لَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص: ١٢٧] حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ، لِأَنَّ عَلِيَّ بْنَ المَدِينِيِّ وَالحُمَيْدِيَّ رَوَيَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: لَمْ يَرْوِ لَنَا الزُّهْرِيُّ هَذَا الحَدِيثَ إِلَّا عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَى مَالِكٌ، هَذَا الحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ: عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِمَا، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي المَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالمَسْكَنِ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا شُؤْمَ، وَقَدْ يَكُونُ اليُمْنُ فِي الدَّارِ وَالمَرْأَةِ وَالفَرَسِ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2824

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ایک ساتھ ہو، تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں“، سفیان نے اپنی روایت میں «لا يتناجى اثنان دون الثالث فإن ذلك يحزنه» کہا ہے، یعنی ”تیسرے شخص کو چھوڑ کر دو سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے اسے دکھ اور رنج ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے“، ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ ثَالِثٍ؛تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو سرگوشی کریں یہ درست نہیں ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٨؛حدیث نمبر ٢٨٢٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا» وقَالَ سُفْيَانُ، فِي حَدِيثِهِ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ»،: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي المُؤْمِنَ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَكْرَهُ أَذَى المُؤْمِنِ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2825

حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔آپ کا رنگ سفید تھا،اور بالوں میں بھی کچھ سفیدی آچکی تھی،حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما (شکل و صورت میں) آپ کے مشابہ تھے۔ آپ نے تیرہ (۱۳) جوان اونٹنیاں ہم کو عنایت کرنے کے لیے حکم صادر فرمایا، ہم انہیں لینے کے لیے گئے ہی تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر آ گئی، چنانچہ لوگوں نے ہمیں کچھ نہ دیا، پھر جب حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کسی کا بھی کوئی عہد و پیمان ہو تو وہ ہمارے پاس آئے (اور پیش کرے) چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے حکم سے آگاہ کیا، تو انہوں نے ہمیں ان اونٹنیوں کے دینے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مروان بن معاویہ نے یہ حدیث اپنی سند سے حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہ کے واسطے سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کئی اور لوگوں نے بھی اسماعیل بن ابوخالد کے واسطہ سے ابوجحیفہ سے روایت کی ہے، (اس روایت میں ہے) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ اور انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْعِدَةِ؛عہد و پیمان کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٨؛حدیث نمبر ٢٨٢٦)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ [ص: ١٢٩] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ، وَكَانَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ، وَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا»، فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَجِئْ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَمَرَ لَنَا بِهَا: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ رَوَى مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، هَذَا الحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، نَحْوَ هَذَا وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ» وَلَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2826

حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے،حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک نے اسماعیل بن ابوخالد سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہ کا نام وہب سوائی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْعِدَةِ؛عہد و پیمان کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٢٩؛حدیث نمبر ٢٨٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ». وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ نَحْوَ هَذَا. وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ: وَهْبٌ السُّوَائِيُّ. وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2827

حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا(میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو)۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؛”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٠؛حدیث نمبر ٢٨٢٨)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الجَوْهَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2828

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا( یعنی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں حضرت زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؛”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٠؛حدیث نمبر ٢٨٢٩)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ البَزَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي»، وَقَالَ لَهُ: «ارْمِ أَيُّهَا الغُلَامُ الحَزَوَّرُ» وَفِي البَابِ عَنْ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ» وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، هَذَا الحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2829

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی کے دن میرے لیے «فداك أبي وأمي» کہہ کر اپنے ماں باپ کو جمع کر دیا تھا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؛”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٠؛حدیث نمبر ٢٨٣٠)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: «جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2830

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ”اے میرے بیٹے“ کہہ کر پکارا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس سند کے علاوہ کچھ دیگر سندوں سے بھی انس سے روایت ہے، ۳- ابوعثمان یہ ثقہ شیخ ہیں اور ان کا نام جعد بن عثمان ہے، اور انہیں ابن دینار بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ ان سے یونس بن عبید اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں حضرت مغیرہ اور عمر بن ابی سلمہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي يَا بُنَىَّ؛کسی کو پیار و شفقت سے ”میرے بیٹے“ کہنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣١؛حدیث نمبر ٢٨٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ شَيْخٌ لَهُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا بُنَيَّ» وَفِي البَابِ عَنْ المُغِيرَةِ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ عَنْ أَنَسٍ. وَأَبُو عُثْمَانَ هَذَا شَيْخٌ ثِقَةٌ وَهُوَ: الجَعْدُ بْنُ عُثْمَانَ، وَيُقَالُ: ابْنُ دِينَارٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2831

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن نومولود بچے کا نام رکھنے اس کا بال مونڈنے اور اس کا عقیقہ کرنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ اسْمِ الْمَوْلُودِ؛نومولود کا نام جلد رکھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣١؛حدیث نمبر ٢٨٣٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبَرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِتَسْمِيَةِ المَوْلُودِ يَوْمَ سَابِعِهِ وَوَضْعِ الأَذَى عَنْهُ وَالعَقِّ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2832

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَسْمَاءِ؛پسندیدہ ناموں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٢؛حدیث نمبر ٢٨٣٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الوَرَّاقُ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2833

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَسْمَاءِ؛پسندیدہ ناموں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٢؛حدیث نمبر ٢٨٣٤)

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ العَمِّيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ العُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2834

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اس بات سے منع کرتا ہوں کہ رافع، برکہ اور یسار نام رکھا جائے"۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے حضرت عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» (عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ؛ناپسندیدہ ناموں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٣؛حدیث نمبر ٢٨٣٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، قَالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ وَبَرَكَةُ وَيَسَارٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ» هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَالمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2835

حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو (کیونکہ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ؛ناپسندیدہ ناموں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٣؛حدیث نمبر ٢٨٣٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَمِّي غُلَامَكَ رَبَاحٌ وَلَا أَفْلَحُ وَلَا يَسَارٌ وَلَا نَجِيحٌ. يُقَالُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَيُقَالُ: لَا ". [ص: ١٣٤] هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2836

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہو گا جس کا نام «ملک الاملاک» ہو گا“، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ؛ناپسندیدہ ناموں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٤؛حدیث نمبر ٢٨٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ المَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الأَمْلَاكِ» قَالَ سُفْيَانُ: " شَاهَانْ شَاهْ، وَأَخْنَعُ: يَعْنِي وَأَقْبَحُ «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2837

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے حضرت عمر سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن مطیع، عائشہ، حکم بن سعید، مسلم، اسامہ بن اخدری، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛ نام کی تبدیلی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٤؛حدیث نمبر ٢٨٣٨)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ: «أَنْتِ جَمِيلَةُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ» وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ، «مُرْسَلًا» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَعَائِشَةَ، وَالحَكَمِ بْنِ سَعِيدٍ، وَمُسْلِمٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَخَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2838

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برا نام بدل دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کے راوی ابوبکر بن نافع کہتے ہیں کہ کبھی تو عمر بن علی (الفلاس) نے اس حدیث کی سند میں کہا: «هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» یعنی مرسلاً روایت کی اور اس میں «عن عائشة» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛ نام کی تبدیلی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٥؛حدیث نمبر ٢٨٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ المُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْمَ القَبِيحَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرُبَّمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، فِي هَذَا الحَدِيثِ: هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2839

حضرت جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت حذیفہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٥؛حدیث نمبر ٢٨٤٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا المَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الكُفْرَ، وَأَنَا الحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا العَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ» وَفِي البَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2840

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص آپ کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ جمع کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم مکروہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت ایک ساتھ رکھے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے۔ حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بازار میں ابوالقاسم کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ تو اس نے کہا: میں نے آپ کو نہیں پکارا ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: ”میری کنیت نہ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالقاسم کنیت رکھنا مکروہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٦؛حدیث نمبر ٢٨٤١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اسْمِهِ وَكُنْيَتِهِ، وَيُسَمِّيَ مُحَمَّدًا أَبَا القَاسِمِ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ بَعْضُهُمْ» رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا فِي السُّوقِ يُنَادِي يَا أَبَا القَاسِمِ، فَالتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، «وَفِي هَذَا الحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يُكَنَّى أَبَا القَاسِمِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2841

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میرے نام پر نام رکھو تو میری کنیت نہ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٦؛حدیث نمبر ٢٨٤٢)

حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَسَمَّيْتُمْ بِي فَلَا تَكْتَنُوا بِي». [ص: ١٣٧] «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2842

محمد بن حنفیہ،حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں:انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ (ایسا کر سکتے ہو)حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛ باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٧؛حدیث نمبر ٢٨٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ أُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: «فَكَانَتْ رُخْصَةً لِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2843

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اسے ابوسعید اشج نے ابن ابی غنیہ کے واسطہ سے مرفوع روایت کیا ہے۔ اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن ابی غنیہ کے واسطہ سے اسے موقوف روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے، ۴- اس باب میں حضرت ابی بن کعب،حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ، حضرت بریدہ، اور حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً؛بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٧؛حدیث نمبر ٢٨٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ، إِنَّمَا رَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، وَرَوَى غَيْرُهُ عَنْ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ هَذَا الحَدِيثَ مَوْقُوفًا، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَفِي البَابِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَبُرَيْدَةَ، وَكَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2844

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً؛بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٨؛حدیث نمبر ٢٨٤٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2845

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان رضی الله عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے(کفار کے) اعتراضات کے جوابات دیا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ حسان کی مدد روح القدس (حضرت جبرائیل) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ (اپنے اشعار کے ذریعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث حضرت ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے اسماعیل بن موسیٰ اور علی بن حجر نے اور ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی الزناد نے بیان کیا اور ابن ابی الزناد نے اپنے باپ ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور براء رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ؛شعر پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٨؛حدیث نمبر ٢٨٤٦)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الفَزَارِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ المَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي المَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَتْ: يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ القُدُسِ مَا يُفَاخِرُ، أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالبَرَاءِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2846

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کفار کی اولاد! اس کے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی“ عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان (کفار و مشرکین) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں (یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے حضرت انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے (اس وقت) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ؛شعر پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٩؛حدیث نمبر ٢٨٤٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ القَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَمْشِي وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] خَلُّوا بَنِي الكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... اليَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَرَمِ اللَّهِ تَقُولُ الشِّعْرَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، فَلَهِيَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، هَذَا الحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ هَذَا، وَرُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الحَدِيثِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ القَضَاءِ وَكَعْبُ بْنُ مَالِكٍ بَيْنَ يَدَيْهِ» وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الحَدِيثِ لِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ، وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَةُ القَضَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ "

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2847

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ؛شعر پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٣٩؛حدیث نمبر ٢٨٤٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ المِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ: « [البحر الطويل] وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ» وَفِي البَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2848

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ مصرعہ ہے: «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» ”سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ؛شعر پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٠؛حدیث نمبر ٢٨٤٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَريكٌ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا العَرَبُ قَوْلُ لَبِيدٍ: [البحر الطويل] أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ « » هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ " وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2849

حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے (سنتے و سناتے) تھے، اور جاہلیت کے واقعات کا ذکر کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تھے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ؛شعر پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٠؛حدیث نمبر ٢٨٥٠)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ، وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ، فَرُبَّمَا يَتَبَسَّمُ مَعَهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، أَيْضًا

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2850

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی بھی شخص کے دماغ کا پیپ سے بھر جانا جو اس کو کھا رہی ہو اس کے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ(کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا؛دماغ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٠؛حدیث نمبر ٢٨٥١)

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». وَفِي البَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، [ص: ١٤١] وَأَبِي سَعِيدٍ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2851

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے دماغ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا؛دماغ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤١؛حدیث نمبر ٢٨٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2852

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان کے ذریعے اس طرح باتوں کو لپیٹتا ہے جیسے گائے چارے کو لپیٹتی ہے(یعنی بے معنی اور لایعنی گفتگو کرنا ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْفَصَاحَةِ وَالْبَيَانِ؛فصاحت و بیان کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤١؛حدیث نمبر ٢٨٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ المُقَدَّمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الجُمَحِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَبْغَضُ البَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَتَخَلَّلُ البَقَرَةُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَفِي البَابِ عَنْ سَعْدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2853

حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر جس کے آس پاس دیوارنہ ہو سونے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن منکدر کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ جابر سے روایت کرتے ہیں، ۳- عبدالجبار بن عمر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْفَصَاحَةِ وَالْبَيَانِ؛فصاحت و بیان کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤١؛حدیث نمبر ٢٨٥٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الجَبَّارِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ بِمَحْجُورٍ عَلَيْهِ»: [ص: ١٤٢] «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَعَبْدُ الجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ يُضَعَّفُ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2854

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو(دنوں میں)وقفے وقفے کے ساتھ وعظ کیا کرتے تھے، اس اندیشے کے تحت کے کہیں ہم پر اکتاہٹ طاری نہ ہو جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب مَا جَاءَ فِي الْفَصَاحَةِ وَالْبَيَانِ؛فصاحت و بیان کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٢؛حدیث نمبر ٢٨٥٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2855

ابوصالح سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا؟، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ ہشام بن عروہ سے مروی ہے، وہ اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند وہ عمل تھا جس پر مداومت برتی جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٢؛حدیث نمبر ٢٨٥٦)

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ، وَأُمُّ سَلَمَةَ، أَيُّ العَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتَا: «مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبُّ العَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دِيمَ عَلَيْهِ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2856

حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رات میں) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کر دیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی گھسیٹ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے حضرت جابر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٢؛حدیث نمبر ٢٨٥٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا المَصَابِيحَ فَإِنَّ الفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ البَيْتِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2857

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو (یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو تو تیزی کے ساتھ سفر کرنے کی کوشش کرو، اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ (راستے) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛آداب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہَ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٤٣؛حدیث نمبر ٢٨٥٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِنِقْيِهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الهَوَامِّ بِاللَّيْلِ». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسٍ

Tirmizi Shareef, Abwabul Adabi, Hadees No. 2858

Tirmizi Shareef : Abwabul Adabi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الادب

|

•