
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «مالک يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابو عبید بھی یہی پڑھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے، ۳- یحییٰ بن سعید اموی اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن جریج سے اور ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے حضرت ام سلمہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، کیونکہ لیث بن سعد نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک سے انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت ایک ایک حرف الگ کر کے بیان کی۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور لیث کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «مالک يوم الدين» “ پڑھتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٥؛حدیث نمبر ٢٩٢٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما (راوی زہری کہتے ہیں کہ) اور میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی الله عنہ نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۳- زہری کے بعض اصحاب (تلامذہ) نے یہ حدیث زہری سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٥؛حدیث نمبر ٢٩٢٨)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت کی : «أن النفس بالنفس والعينُ بالعين»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوعلی بن یزید، یونس بن یزید کے بھائی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد (تنہا) ہیں، ۴- اور ابو عبید (قاسم بن سلام) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح ( «العينُ» «بالعين») پڑھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٦؛حدیث نمبر ٢٩٢٩)
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيعُ ربَّكَ»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے، رشدین بن سعد اور (عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ (مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ۱۱۲) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔) (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٦؛حدیث نمبر ٢٩٣٠)
حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت یوں پڑھتے تھے «إنه عَمِلَ غير صالح»۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے تعلق سے ترجمہ کنز الایمان "اس کے کام بڑے نالائق ہیں" امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں، ۴- یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں، ۵- شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں، ۶- حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ؛سورۃ ہود کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٧؛حدیث نمبر ٢٩٣١)
حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عَمِلَ غيرَ صالح»۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ؛سورۃ ہود کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٧؛حدیث نمبر ٢٩٣٢)
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «قد بلغتَ من لدُنِّي عذرا» یعنی «لدني»بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا۔ کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں، ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں، ہم ان کا نام نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٨؛حدیث نمبر ٢٩٣٣)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عَينٍ حَمِئَةٍ» پڑھا۔( ایک سیاہ کیچڑ کے چشمےمیں) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے، ۳- مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا، اور اپنا معاملہ (فیصلہ کے لیے) کعب احبار کے پاس لے گئے۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٨؛حدیث نمبر ٢٩٣٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غُلِبتِ الروم» سے «يفرح المؤمنون») تک کی آیات نازل ہوئیں۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ؛سورۃ الروم کے متعلق روایات؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٩؛حدیث نمبر ٢٩٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا یزید بن ہارون نے اور یزید بن ہارون نے فضیل بن مرذوق سے کی حدیث روایت کی فضل بن مرذوق نے عطیہ سے اور عطیہ نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ؛سورۃ الروم کے متعلق روایات؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٩؛حدیث نمبر ٢٩٣٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهَل من مُدّكِر» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ؛سورۃ القمر میں «مدکر» کو دال مہملہ سے پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٠؛حدیث نمبر ٢٩٣٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فرُوحٌ وريحانٌ وجنةُ نعيمٍ» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ؛سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٠؛حدیث نمبر ٢٩٣٨)
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشَى»حضرت عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشَى والذَّكَّرِ والأُنثَى» پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں (یعنی «وما خلق والذكر والأنثَى») تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشَى والنهار إذا تجلَّى والذكر والأنثَى» (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ اللَّيْلِ؛سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩١؛حدیث نمبر ٢٩٣٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ؛سورۃ الذاریات میں «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩١؛حدیث نمبر ٢٩٤٠)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «وترى الناسَ سكارَى وما هم بسكارَى»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ صحابہ میں سے انس ابوطفیل کے علاوہ کسی اور صحابی سے ہم سماع نہیں جانتے، ۳- یہ روایت میرے نزدیک مختصر ہے۔ پوری روایت اس طرح ہے: روایت کی گئی قتادہ سے، قتادہ نے روایت کی حسن بصری سے، اور حسن بصری نے روایت کی حضرت عمران بن حصین سے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ نے آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم» پڑھی، (آگے) پوری حدیث بیان کی، ۴- حکم بن عبدالملک کی حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے مختصر ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَجِّ؛سورہ حج سے متعلق روایات؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٢؛حدیث نمبر ٢٩٤١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جس طرح چوپایا(رسی کھلنے)پر بھاگتا ہے قرآن اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ انسان کے دل سے نکلتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (یہ ممانعت ”نہی تحریمی“ نہیں ہے، بلکہ ”نہی تنزیہی“ ہے یعنی: ایسا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اور قرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ”ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے“ بعض روایات میں ”میں بھول گیا“ کہنا بھی ملتا ہے، اس لیے مذکورہ ممانعت ”نہی تنزیہی“ پر محمول کی گئی ہے۔ یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ۲؎: معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، اس لیے قرآن کوبار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔) (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٣؛حدیث نمبر ٢٩٤٢)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا، وہ سورۃ الفرقان پڑھ رہے تھے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی کی بات ہے، میں نے ان کی قرأت سنی، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کر دیتا مگر میں نے انہیں (نماز پڑھ لینے تک کی) مہلت دی۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا، میں نے ان سے پوچھا: یہ سورۃ جسے میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے، تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مجھے یہ سورۃ پڑھائی جو تم پڑھ رہے تھے، میں انہیں کھینچتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے حرفوں (طریقوں) پر پڑھتے ہوئے سنا ہے جن پر آپ نے مجھے پڑھنا نہیں سکھایا ہے جب کہ آپ ہی نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو، ہشام! تم پڑھو“۔ تو انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ایسی ہی نازل ہوئی ہے“۔ پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم پڑھو“، تو میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے، تو جو قرأت تمہیں آسان لگے اسی قرأت پر تم قرآن پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی روایت میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ؛قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٣؛حدیث نمبر ٢٩٤٣)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ہوئی۔ آپ نے فرمایا: ”جبرائیل! میں ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں جن میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں ہے،ان میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں، لڑکے اور لڑکیاں ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی تحریر پڑھی ہی نہیں ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: محمد! قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر، حذیفہ بن یمان، ابوہریرہ، اور ام ایوب رضی الله عنہم ام ایوب (ابوایوب انصاری کی بیوی)۔ اور سمرہ، ابن عباس، ابوجہیم بن حارث بن صمہ، عمرو بن العاص اور ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابی بن کعب سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب مَا جَاءَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ؛قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٤؛حدیث نمبر ٢٩٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم (لوگ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ (قرآن) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے (سمجھتے سمجھاتے) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، (اس روایت میں ہے کہ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٥؛حدیث نمبر ٢٩٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: ”مہینے میں ایک بار ختم کرو“، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر (یعنی کم مدت میں) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تو بیس دن میں ختم کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پندرہ دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”دس دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں ختم کر لیا کرو“۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ نے مجھے پانچ دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «أبي بردة عن عبد الله بن عمرو» غریب سمجھی گئی ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن تین دن سے کم مدت میں پڑھا، اس نے قرآن کو نہیں سمجھا“، ۴- عبداللہ بن عمرو سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن چالیس دن میں پڑھ ڈالا کرو“، ۵- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: ہم اس حدیث کی بنا پر کسی آدمی کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہ اس پر چالیس دن سے زیادہ گزر جائیں اور وہ قرآن پاک ختم نہ کر چکا ہو، ۶- اس حدیث کی بنا پر جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن پڑھ کر نہ ختم کیا جائے، ۷- اور بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے، ۸- اور عثمان بن عفان سے متعلق ہے مروی ہے کہ وہ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالتے تھے، ۹- سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھا، ۱۰- قرأت میں ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) اہل علم کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٦؛حدیث نمبر ٢٩٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چالیس دن میں قرآن مکمل پڑھا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعضوں نے معمر سے، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٧؛حدیث نمبر ٢٩٤٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: «الحال» اور «المرتحل» ۔ اس نے کہا: «الحال» اور «المرتحل»سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جب آدمی شروع سے لے کر اخر تک قرآن مجید پورا پڑھ لے تو پھر شروع سے پڑھنا شروع کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے مسلم بن ابراہیم نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے صالح مری نے قتادہ کے واسطہ سے اور قتادہ نے زرارہ بن اوفی کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی جیسی اسی معنی کی حدیث روایت کی، لیکن اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ روایت میرے نزدیک نضر بن علی کی اس روایت سے جسے وہ ہیثم بن ربیع سے روایت کرتے ہیں (یعنی: پہلی سند سے) زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٧؛حدیث نمبر ٢٩٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٨؛حدیث نمبر ٢٩٤٩)
Tirmizi Shareef : Abawabul Qera'ati
|
Tirmizi Shareef : ابواب القراءات
|
•