
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «مالک يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابو عبید بھی یہی پڑھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے، ۳- یحییٰ بن سعید اموی اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن جریج سے اور ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے حضرت ام سلمہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، کیونکہ لیث بن سعد نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک سے انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت ایک ایک حرف الگ کر کے بیان کی۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور لیث کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «مالک يوم الدين» “ پڑھتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٥؛حدیث نمبر ٢٩٢٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما (راوی زہری کہتے ہیں کہ) اور میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی الله عنہ نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۳- زہری کے بعض اصحاب (تلامذہ) نے یہ حدیث زہری سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٥؛حدیث نمبر ٢٩٢٨)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت کی : «أن النفس بالنفس والعينُ بالعين»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوعلی بن یزید، یونس بن یزید کے بھائی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد (تنہا) ہیں، ۴- اور ابو عبید (قاسم بن سلام) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح ( «العينُ» «بالعين») پڑھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٦؛حدیث نمبر ٢٩٢٩)
حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيعُ ربَّكَ»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے، رشدین بن سعد اور (عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ (مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ۱۱۲) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔) (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٦؛حدیث نمبر ٢٩٣٠)
حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت یوں پڑھتے تھے «إنه عَمِلَ غير صالح»۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے تعلق سے ترجمہ کنز الایمان "اس کے کام بڑے نالائق ہیں" امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں، ۴- یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں، ۵- شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں، ۶- حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ؛سورۃ ہود کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٧؛حدیث نمبر ٢٩٣١)
حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عَمِلَ غيرَ صالح»۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ؛سورۃ ہود کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٧؛حدیث نمبر ٢٩٣٢)
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «قد بلغتَ من لدُنِّي عذرا» یعنی «لدني»بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا۔ کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں، ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں، ہم ان کا نام نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٨؛حدیث نمبر ٢٩٣٣)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عَينٍ حَمِئَةٍ» پڑھا۔( ایک سیاہ کیچڑ کے چشمےمیں) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے، ۳- مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا، اور اپنا معاملہ (فیصلہ کے لیے) کعب احبار کے پاس لے گئے۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ؛سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٨؛حدیث نمبر ٢٩٣٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غُلِبتِ الروم» سے «يفرح المؤمنون») تک کی آیات نازل ہوئیں۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ؛سورۃ الروم کے متعلق روایات؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٩؛حدیث نمبر ٢٩٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا یزید بن ہارون نے اور یزید بن ہارون نے فضیل بن مرذوق سے کی حدیث روایت کی فضل بن مرذوق نے عطیہ سے اور عطیہ نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ؛سورۃ الروم کے متعلق روایات؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٨٩؛حدیث نمبر ٢٩٣٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهَل من مُدّكِر» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ؛سورۃ القمر میں «مدکر» کو دال مہملہ سے پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٠؛حدیث نمبر ٢٩٣٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فرُوحٌ وريحانٌ وجنةُ نعيمٍ» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ؛سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩٠؛حدیث نمبر ٢٩٣٨)
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشَى»حضرت عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشَى والذَّكَّرِ والأُنثَى» پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں (یعنی «وما خلق والذكر والأنثَى») تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشَى والنهار إذا تجلَّى والذكر والأنثَى» (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ اللَّيْلِ؛سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩١؛حدیث نمبر ٢٩٣٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛(مختلف طرح کی)قرآت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث کا) مجموعہ؛باب وَمِنْ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ؛سورۃ الذاریات میں «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھنے کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر١٩١؛حدیث نمبر ٢٩٤٠)
Tirmizi Shareef : Abawabul Qera'ati
|
Tirmizi Shareef : ابواب القراءات
|
•