
حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٣؛حدیث نمبر٣٦٠٥)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٣؛حدیث نمبر٣٦٠٦)
حضرت عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ قریش بیٹھے۔انہوں نے اپنے نسب کا تذکرہ کیا، تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی ٹیلے پر ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٤؛حدیث نمبر٣٦٠٧)
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، گویا وہ کوئی بات سن کر آے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے (وہ یہی روایت ہے) (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٤؛حدیث نمبر٣٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! نبوت آپ کو کب ملی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں میسرہ الفجر سے بھی روایت آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں سب سے پہلے( قیامت)کے دن زمین سے نکلوں گا جب لوگوں کو مبعوث کیا جائے گا، میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ وفد کی شکل میں آئیں گے، میں ان کو خوشخبری دوں گا جب وہ مایوس ہو چکے ہوں گے اور اس دن لواء حمد میرے ہاتھ میں ہوگا میں اپنے رب کی بارگاہ میں آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٥؛حدیث نمبر٣٦١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی سے میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!وسیلے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جنت میں موجود ایک درجہ ہے جس تک کوئی ایک ہی شخص پہنچے گا مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٢)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیگر انبیاء میں میری مثال اس طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی،(تو مناسب ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)انبیاء کے درمیان میں اس اینٹ کی جگہ کی مانند ہوں “۔ اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور (اور اس پر مجھے) کوئی گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر میرے اوپر صلاۃ (درود) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک (ایسا بلند) درجہ ہے جس تک اللہ تعالی کا صرف ایک ہی بندہ پہنچ سکے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا اور جس نے میرے لیے (اللہ سے) وسیلہ کی دعا مانگے گا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٦؛حدیث نمبر٣٦١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں لواء حمد ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور حضرت آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے، ۲- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے، وہ اسے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٧؛حدیث نمبر٣٦١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، دوسرے نے کہا: حضرت موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا حیران کرنے والی بات ہے، اور ایک نے کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو صفی بنایا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت (سفارش) کرے گا اور جس کی شفاعت (سفارش) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٧؛حدیث نمبر٣٦١٦)
حضرت محمد بن یوسف اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٨؛حدیث نمبر٣٦١٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن تھا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو اس دن ہر ایک چیز روشن ہو گئی تھی اور جب وہ دن آیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس دن ہر چیز تاریک ہو گئی تھی ہم نے آپ کو دفن کرنے کے بعد ابھی اپنے ہاتھوں کی مٹی نہیں جھاڑی تھی لیکن ہمیں اپنے دلوں کی کیفیت بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٨؛حدیث نمبر٣٦١٨)
مطلب بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں واقعہ فیل کے سال پیدا ہوئے، وہ کہتے ہیں: عثمان بن عفان نے قباث بن اشیم (جو قبیلہ بنی یعمر بن لیث کے ایک فرد ہیں) سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور پیدائش میں، میں آپ سے پہلے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی والے سال میں پیدا ہوئے، میری ماں مجھے اس جگہ پر لے گئیں (جہاں ابرہہ کے ہاتھیوں پر پرندوں نے کنکریاں برسائی تھیں) تو میں نے دیکھا کہ پرندوں کی بیٹ کی حالت تبدیل ہوچکی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي مِيلاَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٨٩؛حدیث نمبر٣٦١٩)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جناب ابوطالب شام کی طرف (تجارت کی غرض سے) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے درمیان میں سے گزرتا ہوا آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي بَدْءِ نُبُوَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کا آغاز ؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٠؛حدیث نمبر٣٦٢٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ چالیس سال کے تھے، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ (۶۳) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ كَمْ كَانَ حِينَ بُعِثَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩١؛حدیث نمبر٣٦٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ كَمْ كَانَ حِينَ بُعِثَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩١؛حدیث نمبر٣٦٢٢)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت چھوٹے قد والے اور نہ پھیکے سفید، نہ بالکل گندمی تھے ، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ كَمْ كَانَ حِينَ بُعِثَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٢؛حدیث نمبر٣٦٢٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي آيَاتِ إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدْ خَصَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیاں(معجزات)اور اللہ تعالی نے آپ کو جو خصوصیات عطاء کی ہیں؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٢؛حدیث نمبر٣٦٢٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے،راوی کہتے ہیں:ہم نے دریافت کیا: اس میں اضافہ کیسے ہوا؟ تو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کس بات پر حیران ہو رہے ہو اس میں اضافہ وہاں سے ہو رہا تھا، حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي آيَاتِ إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدْ خَصَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیاں(معجزات)اور اللہ تعالی نے آپ کو جو خصوصیات عطاء کی ہیں؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٣؛حدیث نمبر٣٦٢٥)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ”السلام علیک یا رسول اللہ“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٣؛حدیث نمبر٣٦٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تو اسے سکون آیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٤؛حدیث نمبر٣٦٢٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی شاخ کو بلاؤں اور وہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو کیا تم مان لو گے؟“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ (ٹہنی) کھجور کے درخت سے ٹوٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، پھر آپ نے فرمایا: ”لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٤؛حدیث نمبر٣٦٢٨)
حضرت ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٤؛حدیث نمبر٣٦٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ نے حضرت ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر ڈال دیا اور اسے اس میں ملا دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٥؛حدیث نمبر٣٦٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٦؛حدیث نمبر٣٦٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ روز روشن کی طرح پوری ہوجاتی تھی، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٦؛حدیث نمبر٣٦٣٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ ظاہر ہونے والی نشانیوں کو عذاب کی (علامت)سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا دست مبارک رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت والے پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٧؛حدیث نمبر٣٦٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے پاس وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی وہ فرشتہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح لے کر آتا ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے اور کبھی وہ فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ كَيْفَ كَانَ يَنْزِلُ الْوَحْىُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٧؛حدیث نمبر٣٦٣٤)
حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛ جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٨؛حدیث نمبر٣٦٣٥)
ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛ جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٨؛حدیث نمبر٣٦٣٦)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے قد تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، (یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں)، سینہ مبارک سے ناف تک باریک بال تھے، جب آپ چلتے تھے تو جھک کر چلتے تھے، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے میرے باپ وکیع نے بیان کیا اور انہوں نے مسعودی سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛ جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٨؛حدیث نمبر٣٦٣٧)
ابراہیم بن محمد جو حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے قد تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم مبارک پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف سینہ پر ناف تک بال تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے،جب کسی پر متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، گفتگو کے اعتبار سے سب سے سچے تھے، لہجے کے اعتبار سے سب سے زیادہ نرم تھے اور سب سے بہترین سلوک کرتے تھے جو شخص اچانک اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا تو مرعوب ہو جاتا، جو شخص جاننے کے بعد گھل مل جاتا تھا وہ اپ کو پسند کرنا شروع کر دیتا تھا ، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- (نسائی کے شیخ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» کا مطلب یہ ہے جس کا کچھ حصہ دوسرے حصے میں داخل ہو یعنی جو چھوٹے قد کا مالک ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد تعلق اور ساتھی ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ ساتھی ہے اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛ جلد٥؛صفحہ نمبر٥٩٩؛حدیث نمبر٣٦٣٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کر لیتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٠؛حدیث نمبر٣٦٣٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے (اچھی طرح) سمجھ لیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٠؛حدیث نمبر٣٦٤٠)
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي بَشَاشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش بشاشت اور مسکراہٹ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠١؛حدیث نمبر٣٦٤١)
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي بَشَاشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش بشاشت اور مسکراہٹ کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠١؛حدیث نمبر٣٦٤٢)
حضرت سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو مسہری کے بٹن کی طرح تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي خَاتَمِ النُّبُوَّةِ؛مہر نبوت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٢؛حدیث نمبر٣٦٤٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک غدود تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي خَاتَمِ النُّبُوَّةِ؛مہر نبوت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٢؛حدیث نمبر٣٦٤٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کا گوشت کم تھا اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٣؛حدیث نمبر٣٦٤٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٣؛حدیث نمبر٣٦٤٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ دہن کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا:پنڈلیوں پر کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٣؛حدیث نمبر٣٦٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک میں سورج چلتا تھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہم کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی تکلیف کے بغیر چلا کرتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٤؛حدیث نمبر٣٦٤٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس طرح تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے حضرت عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا آقا ہے، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٤؛حدیث نمبر٣٦٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ؛وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٤؛حدیث نمبر٣٦٥٠)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ؛وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٥؛حدیث نمبر٣٦٥١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ (۱۳) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی نازل ہوتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ (۶۳) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ؛وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٥؛حدیث نمبر٣٦٥٢)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی (اس وقت) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ؛وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٦؛حدیث نمبر٣٦٥٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ؛وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٦؛حدیث نمبر٣٦٥٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر خلیل کی «خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ آقا اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٧؛حدیث نمبر٣٦٥٥)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٧؛حدیث نمبر٣٦٥٦)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٨؛حدیث نمبر٣٦٥٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجات والوں کو (جنت میں) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٨؛حدیث نمبر٣٦٥٨)
حضرت ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: ”ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو (ترجیح دے) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بزرگ کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر) حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن (ہمارے اور ان کے درمیان) ایمان کی دوستی موجود ہے“۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل (دوست) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»، «على» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٨؛حدیث نمبر٣٦٥٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے جتنی وہ چاہے یا اپنا قرب عطا کرے تو اس نے اللہ تعالی کے قرب کو اختیار کیا“، اسے سنا تو حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کر دیں گے،ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ابوبکر کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر ایک دروازے کو بلند کر دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٩؛حدیث نمبر٣٦٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا آقا (یعنی خود) اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه؛حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٩؛حدیث نمبر٣٦٦١)
حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیروی کرنا ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ہم سے احمد بن منیع اور کئی دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے، وہ سب کہتے ہیں: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ہے اور سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے، کبھی تو انہوں نے اسے «عن زائدة عن عبد الملك بن عمير» ذکر کیا اور کبھی انہوں نے اس میں «عن زائدة» ذکر نہیں کیا، ۲- ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث سفیان ثوری سے، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے، ہلال نے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ربعی سے آئی ہے، جسے انہوں نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۴- سالم انعمی کوفی نے یہ حدیث ربعی بن حراش کے واسطہ سے حذیفہ سے روایت کی ہے۔۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٠٩؛حدیث نمبر٣٦٦٢)
حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٠؛حدیث نمبر٣٦٦٣)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے عمر رسیدہ والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، (آپ نے فرمایا:) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٠؛حدیث نمبر٣٦٦٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے عمر رسیدہ کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں حضرت انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٠؛حدیث نمبر٣٦٦٥)
حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١١؛حدیث نمبر٣٦٦٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ ہم سے اسے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اور شعبہ نے جریری کے واسطہ سے ابونضرہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: پھر انہوں نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی جیسی روایت ذکر کی لیکن اس میں ابو سعید خدری کا واسطہ ذکر نہیں کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١١؛حدیث نمبر٣٦٦٧)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس تشریف لاتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١١؛حدیث نمبر٣٦٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لائے، حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٢؛حدیث نمبر٣٦٦٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "تم غار میں بھی میرے ساتھ تھے اور حوض پر بھی میرے ساتھ ہو گے"۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٣؛حدیث نمبر٣٦٧٠)
حضرت عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ سمع اور بصر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٣؛حدیث نمبر٣٦٧١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے (ایسا ہی) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم عورتیں بھی یوسف علیہ السلام کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تمہاری وجہ سے مجھے کبھی کوئی بھلائی نہیں ملی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٣؛حدیث نمبر٣٦٧٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے مناسب نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٤؛حدیث نمبر٣٦٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے (جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، لازمی سی بات ہے ان میں سے جس بھی دروازے سے بلایا جائے گا اسے کوئی حرج نہیں ہوگا، مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٤؛حدیث نمبر٣٦٧٤)
حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس وقت میرے پاس کچھ مال موجود تھا، میں نے سوچا کہ آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا، اور آج ہی میں سبقت لے جا سکتا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں) اور حضرت ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٤؛حدیث نمبر٣٦٧٥)
حضرت جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی، اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ (تو کس کے پاس جاؤں) آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٥؛حدیث نمبر٣٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں (یہ کہہ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات پر یقین رکھتا اور ابوبکر و عمر بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے“۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٥؛حدیث نمبر٣٦٧٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسجد کی طرف کھلنے والے) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٦؛حدیث نمبر٣٦٧٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کی طرف سے دوزخ سے آزاد کیے ہوئے ہو، تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٦؛حدیث نمبر٣٦٧٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ حضرت جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر حضرت ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا (اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے) ۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٦؛حدیث نمبر٣٦٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنهَ؛حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٧؛حدیث نمبر٣٦٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے (راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق حضرت عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں حضرت فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنهَ؛حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٧؛حدیث نمبر٣٦٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما“، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (لیکن حدیث رقم: (۳۶۹۰) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٨؛حدیث نمبر٣٦٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ آآوسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٨؛حدیث نمبر٣٦٨٤)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو اور وہ حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی شان میں تنقیص کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٨؛حدیث نمبر٣٦٨٥)
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٩؛حدیث نمبر٣٦٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ حضرت عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٩؛حدیث نمبر٣٦٨٧)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے دریافت کیا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦١٩؛حدیث نمبر٣٦٨٨)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صبح کے وقت حضرت بلال رضی الله عنہ کو بلایا اور پوچھا: ”بلال! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو (آج بھی) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا: میں (بھی) عربی ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا: میں (بھی) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا:حضرت عمر بن خطاب کا ہے“، حضرت بلال رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کر لیا ہو اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دو رکعت ادا کرنی چاہیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا شاید ان دونوں کی وجہ سے ہی ایسا ہوا ہوگا“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے“، ۳- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: انبیاء کے خواب وحی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٠؛حدیث نمبر٣٦٨٩)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کسی جنگ میں تشریف لے گئے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی (حبشی) لونڈی نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لے آیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تو نے نذر مانی تھی تو دف بجا لے ورنہ نہیں“، چنانچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر حضرت علی رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر حضرت عثمان رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر حضرت عمر رضی الله عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی پیٹھ کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر! تو اس نے دف رکھ دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٠؛حدیث نمبر٣٦٩٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! آؤ، تم بھی دیکھ لو“، تو میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارا جی نہیں بھرا؟ کیا تمہارا دل نہیں بھرا؟“ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے؟ اتنے میں حضرت عمر رضی الله عنہ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢١؛حدیث نمبر٣٦٩١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا، پھر ابوبکر، پھر عمر رضی الله عنہما، (سے زمین شق ہو گی) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ مجھے دونوں حرمین کے درمیان اٹھایا جائے گا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٢؛حدیث نمبر٣٦٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ حضرت عمر بن خطاب ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٢؛حدیث نمبر٣٦٩٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“ تو حضرت ابوبکر رضی الله عنہ آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“، تو حضرت عمر رضی الله عنہ آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوموسیٰ اشعری اور جابر رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٢؛حدیث نمبر٣٦٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٣؛حدیث نمبر٣٦٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر،حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، اور حضرت زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہری رہ، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور شہید ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٤؛حدیث نمبر٣٦٩٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی الله عنہم بھی تو وہ ان کے ساتھ حرکت کرنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے احد! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٤؛حدیث نمبر٣٦٩٧)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں حضرت عثمان ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٤؛حدیث نمبر٣٦٩٨)
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے چھت سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟“، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر حضرت عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سلسلے میں فرمایا تھا: ”کون (اس غزوہ کا) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو گا (اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے)“ تو میں نے (خرچ دے کر) اس لشکر کو تیار کیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، پھر حضرت عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٥؛حدیث نمبر٣٦٩٩)
حضرت عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو حضرت عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو حضرت عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ”اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٥؛حدیث نمبر٣٧٠٠)
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے)، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا“، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٦؛حدیث نمبر٣٧٠١)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر رکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک لوگوں کی طرف سے ان کے اپنے ہاتھ سے بہتر تھا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٦؛حدیث نمبر٣٧٠٢)
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر کے پاس موجود تھا جب حضرت عثمان رضی الله عنہ نے لوگوں کے سامنے آکر یہ فرمایا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو حضرت عثمان رضی الله عنہ نے انہیں دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا (کھارا) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٧؛حدیث نمبر٣٧٠٣)
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے حضرت مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٨؛حدیث نمبر٣٧٠٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہیں کوئی کرتا پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٨؛حدیث نمبر٣٧٠٥)
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہما ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ احد کے دن واپس چلے گئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، انہوں نے کہا: ہاں، اس مصری نے اللہ اکبر کہا، اس پر حضرت ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں: رہا ان (عثمان) کا احد کے دن واپس جانے کا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا اور بخش دیا ہے اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہو گا“، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو میں حضرت عثمان رضی الله عنہ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے“، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا: ”یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے“، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٩؛حدیث نمبر٣٧٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا درجہ بدرجہ ذکر کیا کرتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٢٩؛حدیث نمبر٣٧٠٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس فتنہ میں یہ بھی مظلوم قتل کیا جائے گا“ (یہ بات آپ نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کے متعلق کہی)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٠؛حدیث نمبر٣٧٠٨)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرے تو آپ نے اس کی نماز نہیں ادا کی ، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کی جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٠؛حدیث نمبر٣٧٠٩)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣١؛حدیث نمبر٣٧١٠)
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣١؛حدیث نمبر٣٧١١)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (لشکر) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر حضرت علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ (لشکر) میں گئے، انہوں نے(مال غنیمت میں ملنے والی) ایک کنیز حاصل کر لی، لوگوں نے ان کی اس بات کو پسند نہیں کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٢؛حدیث نمبر٣٧١٢)
ابوسریحہ یا حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٣؛حدیث نمبر٣٧١٣)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی بیٹی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ (مدینہ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے (خرید کر) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق کہنے کی وجہ سے اب اس کا کوئی دوست نہیں ہے، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! وہ جہاں بھی جاے حق کو اس کے ساتھ رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٣؛حدیث نمبر٣٧١٤)
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے حضرت علی بن ابوطالب رضی الله عنہ نے «رحبیہ» (کے میدان میں) ارشاد فرمایا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ قریش! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: وہ کون شخص ہے؟ اللہ کے رسول! اور آپ سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی دریافت کیا : وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ اور حضرت عمر رضی الله عنہ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی رضی الله عنہ کو وہ جوتوں کی مرمت کرنے والا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے جوتے دیے تھے تاکہ وہ اسے مرمت کر دیں، (راوی کہتے ہیں) پھر بھی حضرت علی رضی الله عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ۳- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا: منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٣؛حدیث نمبر٣٧١٥)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٤؛حدیث نمبر٣٧١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو حضرت علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے جانتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔ مساور حمیری اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی تو میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”علی سے کوئی منافق دوستی نہیں کرتا اور نہ کوئی مومن ان سے بغض رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے مراد ابونصر وراق ہیں اور ان سے سفیان ثوری نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت علی رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٤؛حدیث نمبر٣٧١٧)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کرنے کی ہدایت کی ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”علی انہیں میں سے ہیں“، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے ”اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٦؛حدیث نمبر٣٧١٨)
حضرت حبشی بن جنادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (کسی بھی عہد) کو میرے اور علی کے علاوہ کوئی اور پورا نہیں کر سکتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٦؛حدیث نمبر٣٧١٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو حضرت علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٦؛حدیث نمبر٣٧٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندے کا گوشت موجود تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اےاللہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٦؛حدیث نمبر٣٧٢١)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگتا تو آپ مجھے عطاء کر دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی عطاء کرتے دیتے“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٧؛حدیث نمبر٣٧٢٢)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٧؛حدیث نمبر٣٧٢٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب (علی) پر تنقید نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ان پر ہرگز تنقید نہیں کر سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے (آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے حضرت علی رضی الله عنہ نے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں“، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا: ”علی کو بلاؤ“، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چنانچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم»(سورہ آل عمران ٦١)اتری۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٨؛حدیث نمبر٣٧٢٤)
حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا: ”جب جنگ شروع ہو ہو تو حضرت علی امیر رہیں گے چنانچہ حضرت علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے (مال غنیمت میں سے) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ حضرت خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٨؛حدیث نمبر٣٧٢٥)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن حضرت علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٩؛حدیث نمبر٣٧٢٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنابت کی حالت میں (داخل)ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٩؛حدیث نمبر٣٧٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور حضرت علی نے منگل کو نماز ادا کی ہے۔(یعنی انہوں نے اگلے دن اسلام قبول کر لیا) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٣٩؛حدیث نمبر٣٧٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن ہند جملی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ کہتے تھے: جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگتا تو آپ مجھے عطاء کردیتے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی عطاء کردیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٠؛حدیث نمبر٣٧٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ” تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی،البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٠؛حدیث نمبر٣٧٣٠)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ” تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤١؛حدیث نمبر٣٧٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ(مسجد نبوی کے)دیگر تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤١؛حدیث نمبر٣٧٣٢)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ایک درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤١؛حدیث نمبر٣٧٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے نماز پڑھی وہ حضرت علی رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ حضرت علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور حضرت علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ حضرت خدیجہ رضی الله عنہا ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٢؛حدیث نمبر٣٧٣٤)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ حضرت علی رضی الله عنہ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٢؛حدیث نمبر٣٧٣٥)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا“۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس زمانے سے تعلق رکھتا ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا خیر فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٢؛حدیث نمبر٣٧٣٦)
حضرت ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں حضرت علی رضی الله عنہ بھی تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ”اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٣؛حدیث نمبر٣٧٣٧)
حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٣؛حدیث نمبر٣٧٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو (دنیا ہی میں) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٤؛حدیث نمبر٣٧٣٩)
حضرت موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کیا(جس کا ذکر قرآن میں ہے)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٤؛حدیث نمبر٣٧٤٠)
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٤؛حدیث نمبر٣٧٤١)
حضرت طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے ایک ناواقف اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر دریافت کیا: آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ”کتاب الفوائد“ میں رکھا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٥؛حدیث نمبر٣٧٤٢)
حضرت زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ قریظہ کے دن اپنے والدین کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رضى الله عنه؛حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٦؛حدیث نمبر٣٧٤٣)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٦؛حدیث نمبر٣٧٤٤)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟“ تو حضرت زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور حضرت زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٦؛حدیث نمبر٣٧٤٥)
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ (رضی الله عنہما) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ انہوں نے اپنی شرمگاہ کا بھی تذکرہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٧؛حدیث نمبر٣٧٤٦)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید (سعید بن زید) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں (رضی اللہ علیہم اجمعین)“ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، (اور اسی طرح آئی ہے)، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه؛عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٧؛حدیث نمبر٣٧٤٧)
عبد الرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کچھ لوگوں کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص(رضی اللہ عنہم)(جنتی ہیں)“ وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو (۹) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے (اس لیے میں بتا رہا ہوں) ابوالاعور جنتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه؛عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٨؛حدیث نمبر٣٧٤٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی بیویوں سے) فرماتے تھے: مجھے اپنے بعد تمہاری زیادہ فکر ہے، تمہارے بارے میں صرف صبر کرنے والے لوگ ہی صبر کر سکیں گے(یعنی تمہارے حقوق صحیح طریقے سے ادا کر سکیں گے)۔ پھر حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے (حضرت ابوسلمہ سے) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی خدمت میں کچھ زمین پیش کی تھی جو 40 ہزار دینار کے عوض میں فروخت ہوئی تھی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه؛عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٨؛حدیث نمبر٣٧٤٩)
حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ (درہم) میں بیچا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه؛عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٩؛حدیث نمبر٣٧٥٠)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٩؛حدیث نمبر٣٧٥١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں(جو ان جیسا ہو)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ میرے ماموں ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٤٩؛حدیث نمبر٣٧٥٢)
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے والد اور والدہ کو جمع نہیں کیا، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم تیر مارو اے جوان پہلوان“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے حضرت سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٠؛حدیث نمبر٣٧٥٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا(یعنی فرمایا تھا:میرے ماں باپ تم پر قربان ہو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٠؛حدیث نمبر٣٧٥٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر قربان کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے والد اور ماں تم پر قربان ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٠؛حدیث نمبر٣٧٥٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو چند راتوں تک سو نہیں سکے، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه؛حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٠؛حدیث نمبر٣٧٥٦)
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ (ذرا اس کی وضاحت کیجئے) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق، ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ (انہوں نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؛حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥١؛حدیث نمبر٣٧٥٧)
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کسی بھی شخص میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ آپ لوگوں کے ساتھ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرح محبت نہیں کرے گا “، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه؛حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٢؛حدیث نمبر٣٧٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے آدمی ہیں ابوبکر، کیا ہی اچھے آدمی ہیں، عمر کیا ہی اچھے آدمی ہیں، ابوعبیدہ بن جراح“ (رضی الله عنہم)۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه؛حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٢؛حدیث نمبر٣٧٥٩)
حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے حضرت عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ حضرت عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه؛حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٣؛حدیث نمبر٣٧٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه؛حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٣؛حدیث نمبر٣٧٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه؛حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٣؛حدیث نمبر٣٧٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه؛حضرت جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٤؛حدیث نمبر٣٧٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٤؛حدیث نمبر٣٧٦٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب سے فرمایا: ”تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو“، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٤؛حدیث نمبر٣٧٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے میں ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں حضرت جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، حضرت جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٥؛حدیث نمبر٣٧٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، (جو ہمیں پیش کرتے) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٤؛حدیث نمبر٣٧٦٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ؛حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٦؛حدیث نمبر٣٧٦٨)
حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چادر کے اندر کوئی چیز اوڑھ رکھی تھی، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حضرت حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ؛حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٦؛حدیث نمبر٣٧٦٩)
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ تو حضرت ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حضرت حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ؛حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٧؛حدیث نمبر٣٧٧٠)
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ”میں حسین کے قتل کو دیکھ کر آرہا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ؛حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٧؛حدیث نمبر٣٧٧١)
حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ (رضی الله عنہما)، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ؛حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٧؛حدیث نمبر٣٧٧٢)
حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حضرت حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٨؛حدیث نمبر٣٧٧٣)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حضرت حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٨؛حدیث نمبر٣٧٧٤)
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین میرا نواسہ ہے۔(یعنی مجھے اس پر فخر ہے) امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٨؛حدیث نمبر٣٧٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٩؛حدیث نمبر٣٧٧٦)
حضرت ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٩؛حدیث نمبر٣٧٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حضرت حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو اس نے اپنے پاس موجود چھڑی کے ذریعے ان کی ناک کو کریدا اور بولا میں نے ایسا خوبصورت شخص نہیں دیکھا۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٥٩؛حدیث نمبر٣٧٧٨)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حضرت حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٠؛حدیث نمبر٣٧٧٩)
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے:وہ آگیا وہ اگیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: وہ آگیا وہ آگیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٠؛حدیث نمبر٣٧٨٠)
حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٠؛حدیث نمبر٣٧٨١)
حضرت براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦١؛حدیث نمبر٣٧٨٢)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی (مذکورہ) روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦١؛حدیث نمبر٣٧٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦١؛حدیث نمبر٣٧٨٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ“، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٢؛حدیث نمبر٣٧٨٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛اہل بیت کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٢؛حدیث نمبر٣٧٨٦)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتیلے صاحبزادے ہیں،بیان کرتے ہیں جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”بیشک اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ تم سے اے اہل بیت!تم سے ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک صاف کر دے“ [ الاحزاب: ۳۳ ] ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور حضرت علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے“،حضرت ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر ہو اور تم بھی نیکی پر ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛اہل بیت کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٣؛حدیث نمبر٣٧٨٧)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو اس بات کا خیال رکھنا تم میرے بعد ان سے کیا برتاؤ کرتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛اہل بیت کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٣؛حدیث نمبر٣٧٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں عطا کر رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛اہل بیت کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٤؛حدیث نمبر٣٧٨٩)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے حضرت ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض (میراث) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٤؛حدیث نمبر٣٧٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض (میراث) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٥؛حدیث نمبر٣٧٩١)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے «لم يكن الذين كفروا»کی تلاوت کروں، انہوں نے عرض کیا: کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں (یہ سن کر) وہ رو پڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔“ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٥؛حدیث نمبر٣٧٩٢)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں“، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا «إن ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» ”بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین وہ ہے جو باطل سے ہٹ کر حق پر گامزن ہو اور مسلمان ہو،یہودیت یا عیسائیت نہیں ہے۔جو شخص جو نیکی کرے گا، اسے ضائع نہیں کیا جائے گا“، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا: «ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغى إليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب» ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“، ۴- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں۔“ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٥؛حدیث نمبر٣٧٩٣)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٦؛حدیث نمبر٣٧٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے لوگ ہیں حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت ابوعبیدہ بن جراح،حضرت اسید بن حضیر، حضرت ثابت بن قیس بن شماس،حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاذ بن عمرو بن جموح“ (رضی الله عنہم)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٦؛حدیث نمبر٣٧٩٥)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث حضرت ابن عمر اور حضرت انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم؛معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٧؛حدیث نمبر٣٧٩٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے: علی، عمار، اور سلمان رضی الله عنہم کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رضى الله عنه؛حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٨؛حدیث نمبر٣٧٩٧)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضى الله عنه؛حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٨؛حدیث نمبر٣٧٩٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو معاملات کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر ہوتی تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کب تک رہوں گا (یعنی کتنے دنوں تک زندہ رہوں گا) تو تم ان دونوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے (اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی طرف اشارہ کیا اور عمار کی روش پر چلنا اور ابن مسعود جو تم سے بیان کریں اسے سچ جاننا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابراہیم بن سعد نے بھی اس حدیث کی روایت، بطریق: «سفيان الثوري عن عبد الملك بن عمير عن هلال مولى ربعي عن ربعي عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی ہے، اور سالم مرادی کوفی نے بطریق: «عمرو بن هرم عن ربعي ابن حراش عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضى الله عنه؛حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٨؛حدیث نمبر٣٧٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار! تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضى الله عنه؛حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٩؛حدیث نمبر٣٨٠٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " ابوذر سے زیادہ سچے کسی شخص پر آسمان نے سایہ نہیں کیااور زمین نے اسے اٹھایا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي ذَرٍّ رضى الله عنا:حضرت ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٩؛حدیث نمبر٣٨٠١)
حضرت ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو“، یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، بتا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي ذَرٍّ رضى الله عنا:حضرت ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٦٩؛حدیث نمبر٣٨٠٢)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عبداللہ بن سلام حضرت عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے،حضرت عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چنانچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين»" اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے گواہ نے اس کی مانند گواہی دی، وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کو اختیار کیا اور بے شک اللہ تعالی ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب»" "تم فرمادو گواہ ہونے کے اعتبار سے تمہارے اور میرے درمیان اللہ کافی ہے، اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے"میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی! اگر تم نے اسے قتل کر دیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آ سکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے: اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام» کہا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٠؛حدیث نمبر٣٨٠٣)
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے موت کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں کچھ وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر بولے: علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا، انہوں نے اسے تین بار کہا، پھر بولے: علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو: عویمر ابو الدرداء کے پاس، سلمان فارسی کے پاس، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس، (جو یہودی تھے پھر اسلام لائے) کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٠؛حدیث نمبر٣٨٠٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد (وصیت) کو مضبوطی سے تھامے رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٢؛حدیث نمبر٣٨٠٥)
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کو کہتے ہوے سنا کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ان کے گھر میں) آتے جاتے دیکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٢؛حدیث نمبر٣٨٠٦)
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھریلو معاملات کے بارے میں بھی واقف ہیں، جن کا علم ہمیں نہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے محفوظ لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٣؛حدیث نمبر٣٨٠٧)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٣؛حدیث نمبر٣٨٠٨)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٣؛حدیث نمبر٣٨٠٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٤؛حدیث نمبر٣٨١٠)
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے نعلین مبارک اٹھاتے تھےاور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٤؛حدیث نمبر٣٨١١)
حضرت حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!اگر آپ کسی کو اپنا نائب مقرر فرما دیتے(تو مناسب ہوتا) آپ نے فرمایا: ”اگر میں نے اپنا نائب مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو“، اور جو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) تمہارے سامنے جو قرآت کر کے سناے تم اس کے مطابق پڑھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضى الله عنه؛حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٥؛حدیث نمبر٣٨١٢)
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے والد سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ حضرت زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه؛حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٥؛حدیث نمبر٣٨١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”تم ان لوگوں کو ان کے حقیقی بات کی نسبت سے بلاؤ، یہ اللہ تعالی کے نزدیک انصاف کے زیادہ مطابق ہے “ (الاحزاب: ۵)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه؛حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٥؛حدیث نمبر٣٨١٤)
حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی حضرت جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه؛حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٦؛حدیث نمبر٣٨١٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر شبہات کا اظہار کیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کی امارت میں شبہات کا اظہار کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی شبہات کا اظہار کر چکے ہو، قسم اللہ کی! وہ (زید) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی (اسامہ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه؛حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٦؛حدیث نمبر٣٨١٦)
حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے) اتر کر مدینہ آیا اور (میرے ساتھ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان خاموش ہو چکی تھی، آپ کوئی کام نہیں کرتے تھے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضى الله عنه؛اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٧؛حدیث نمبر٣٨١٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضى الله عنه؛حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٧؛حدیث نمبر٣٨١٨)
حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں حضرت علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو معلوم ہے“، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد“، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں“، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر علی بن ابی طالب ہیں“، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا، آپ نے فرمایا: ”علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضى الله عنه؛حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٨؛حدیث نمبر٣٨١٩)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام قبول کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رضى الله عنہ؛جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٨؛حدیث نمبر٣٨٢٠)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے میں نے اسلام قبول کیا مجھے (اندر جانے سے) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رضى الله عنہ؛جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٩؛حدیث نمبر٣٨٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ۲- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٩؛حدیث نمبر٣٨٢٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٧٩؛حدیث نمبر٣٨٢٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا: «اللهم علمه الحكمة» ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنه؛حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٠؛حدیث نمبر٣٨٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب (ام المؤمنین) حضرت حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حضرت حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے“ یا فرمایا: ”عبداللہ مرد صالح ہیں“۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما؛حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٠؛حدیث نمبر٣٨٢٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میرا یہی خیال ہے کہ کہ اسماء کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ؛عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٠؛حدیث نمبر٣٨٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر قربان ہوں اللہ کے رسول! یہ اُنیس ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨١؛حدیث نمبر٣٨٢٧)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨١؛حدیث نمبر٣٨٢٨)
حضرت ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٢؛حدیث نمبر٣٨٢٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ (گھاس) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٢؛حدیث نمبر٣٨٣٠)
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٢؛حدیث نمبر٣٨٣١)
ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٣؛حدیث نمبر٣٨٣٢)
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا حضرت انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: حضرت انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور حضرت انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٣؛حدیث نمبر٣٨٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے سامنے اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٣؛حدیث نمبر٣٨٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٣؛حدیث نمبر٣٨٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٣؛حدیث نمبر٣٨٣٦)
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی حضرت ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ باتیں بیان کرتا ہے جو آپ نے ارشاد نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ (کھانے پینے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٤؛حدیث نمبر٣٨٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٥؛حدیث نمبر٣٨٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرنا نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے اور وہ (تھیلی) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن حضرت عثمان رضی الله عنہ شہید کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر (کہیں) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٥؛حدیث نمبر٣٨٣٩)
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٦؛حدیث نمبر٣٨٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه؛حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٦؛حدیث نمبر٣٨٤١)
صحابی رسول حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رضى الله عنه؛حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٦؛حدیث نمبر٣٨٤٢)
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ حضرت معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ حضرت معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ (لوگوں کو) ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رضى الله عنه؛حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٧؛حدیث نمبر٣٨٤٣)
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ مومن ہوے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي رضى الله عنه؛حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٧؛حدیث نمبر٣٨٤٤)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي رضى الله عنه؛حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٨؛حدیث نمبر٣٨٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رضى الله عنه؛حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٨؛حدیث نمبر٣٨٤٦)
حضرت براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ؛حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٩؛حدیث نمبر٣٨٤٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اور حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ (اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا): ”ان کے لیے رحمن کا عرش (بھی خوشی سے) جھوم اٹھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ؛حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٩؛حدیث نمبر٣٨٤٨)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین بولے : کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ؛حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٨٩؛حدیث نمبر٣٨٤٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی تعلق تھا، جو کوتوال کا امیر کے ساتھ ہوتا ہے۔ راوی حدیث (محمد بن عبداللہ) انصاری کہتے ہیں: یعنی وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے) آپ کے امور کے نگراں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔ ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے اسی جیسی حدیث بیان کی لیکن اس میں انصاری کا قول ذکر نہیں کیا (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رضى الله عنه؛حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٠؛حدیث نمبر٣٨٥٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس(پیدل) تشریف لائے، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما؛حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٠؛حدیث نمبر٣٨٥١)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ليلة البعير» (اونٹ کی رات) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو حضرت جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور حضرت جابر کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی الله عنہما احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں،حضرت جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ کا بندوبست کرتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے، ۳- اسی طرح ایک اور حدیث میں حضرت جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما؛حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩١؛حدیث نمبر٣٨٥٢)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(یعنی حکم سے)ہجرت کی ، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہوگیا، چنانچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر کی وجہ سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں کھایا اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں، اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رضى الله عنه؛حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٢؛حدیث نمبر٣٨٥٣)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالی کے نام پر کوئی قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالی اسے پوری کر دیتا ہے ، انہیں میں سے حضرت براء بن مالک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبِ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه؛حضرت براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٢؛حدیث نمبر٣٨٥٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت بریدہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه؛حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٣؛حدیث نمبر٣٨٥٥)
حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه؛حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٣؛حدیث نمبر٣٨٥٦)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ!زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حضرت انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه؛حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٤؛حدیث نمبر٣٨٥٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے میری زیارت کی ، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے میری زیارت کی“، طلحہ (راوی حدیث) نے کہا: تو میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ (راوی حدیث) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبَهُ باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٤؛حدیث نمبر٣٨٥٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی“۔(یعنی جھوٹی قسمیں اور جھوٹی گواہیاں ہوں گی) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبَهُ؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٤؛حدیث نمبر٣٨٥٩)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٥؛حدیث نمبر٣٨٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف (آدھا) مد ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٥؛حدیث نمبر٣٨٦١)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٥؛حدیث نمبر٣٨٦٢)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٦؛حدیث نمبر٣٨٦٣)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٧؛حدیث نمبر٣٨٦٤)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر فوت ہوگا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ رضی الله عنہ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٧؛حدیث نمبر٣٨٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر (عمری) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٧؛حدیث نمبر٣٨٦٦)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے: ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی سے کر دیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کر لیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٨؛حدیث نمبر٣٨٦٧)
حضرت بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت فاطمہ رضی الله عنہا تھیں اور مردوں میں حضرت علی رضی الله عنہ تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: یعنی اپنے اہل بیت میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٨؛حدیث نمبر٣٨٦٨)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہی تو اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، آپ نے فرمایا: ”فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، وہ چیز مجھے تکلیف دیگی جو چیز اسے تکلیف دیگی ، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ حدیث رقم: ۳۸۸۰) ۳- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو (اور ایسا بہت ہوا ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٨؛حدیث نمبر٣٨٦٩)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کے بارے میں فرمایا: ”میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٩؛حدیث نمبر٣٨٧٠)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے ناپاکی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے“، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو (بھی) خیر پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ۲- اس باب میں حضرت عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٦٩٩؛حدیث نمبر٣٨٧١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طریقے اور عادت و خصلت میں حضرت فاطمہ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھک گئیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر (عام) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٠؛حدیث نمبر٣٨٧٢)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حضرت فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پا جائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٠؛حدیث نمبر٣٨٧٣)
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی حضرت علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے: «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ؛حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠١؛حدیث نمبر٣٨٧٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ خَدِيجَةَ رضى الله عنها؛حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠١؛حدیث نمبر٣٨٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی الله عنہا پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کر چکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ خَدِيجَةَ رضى الله عنها؛حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٢؛حدیث نمبر٣٨٧٦)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” عورتوں میں سب سے بہتر حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں اور عورتوں میں سب سے بہتر حضرت مریم بنت عمران تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ خَدِيجَةَ رضى الله عنها؛حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٢؛حدیث نمبر٣٨٧٧)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ خَدِيجَةَ رضى الله عنها؛حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٢؛حدیث نمبر٣٨٧٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفے بھجوانے کے لیے اپنے تحفے بھجوانے کے لیے بطور خاص سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے مخصوص دن کا انتظار کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ،میری سوکنیں سب حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں: ام سلمہ! لوگ اپنے تحفے بھیجنے کے لیے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں (یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو) وہ لوگ وہیں آپ کو تحفے بھیجا کریں، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں: میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفے کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ تحفے بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ رضی الله عنہا سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ۴- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٣؛حدیث نمبر٣٨٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے کپڑے میں ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٤؛حدیث نمبر٣٨٨٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٥؛حدیث نمبر٣٨٨١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا: ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٥؛حدیث نمبر٣٨٨٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کسی معاملے میں مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں جانکاری ضرور ملی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٥؛حدیث نمبر٣٨٨٣)
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٥؛حدیث نمبر٣٨٨٤)
حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے باپ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٦؛حدیث نمبر٣٨٨٥)
حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٦؛حدیث نمبر٣٨٨٦)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ۳- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٦؛حدیث نمبر٣٨٨٧)
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے بارے میں کچھ کہا تو انہوں نے کہا: دفع ہوجا ،مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٧؛حدیث نمبر٣٨٨٨)
حضرت عبداللہ بن زیاد اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی حضرت عائشہ رضی الله عنہا دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٧؛حدیث نمبر٣٨٨٩)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها؛ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٧؛حدیث نمبر٣٨٩٠)
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جب تم اللہ کی طرف سے کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٧؛حدیث نمبر٣٨٩١)
ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حضرت حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حضرت حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٨؛حدیث نمبر٣٨٩٢)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٨؛حدیث نمبر٣٨٩٣)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا: ”حفصہ! اللہ سے ڈر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٨؛حدیث نمبر٣٨٩٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٠٩؛حدیث نمبر٣٨٩٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو“، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ (اجر و ثواب)کا ارادہ کیا، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو اس حوالے سےکیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٠؛حدیث نمبر٣٨٩٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کی کوئی بات مجھے نہ پہنچائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کا کچھ حصہ اس سند کے علاوہ سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مرفوعاً آیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٠؛حدیث نمبر٣٨٩٧)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سنایا آپ نے اس میں یہ کہا: اللہ تعالی کے نزدیک دین ایک ہی ہے جو صحیح مسلمان(دین ہے)یہودی عیسائی یا مجوسی نہیں، جو شخص کوئی نیک عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ بھی کہا اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی طلب کرے گا اگر دوسری ہو تو تیسری کی طلب کرے گا ابن ادم کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“، ۳- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مِنْ فَضَائِلِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه؛حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٠؛حدیث نمبر٣٨٩٨)
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا“۔ اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٢؛حدیث نمبر٣٨٩٩)
حضرت براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: ”ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٢؛حدیث نمبر٣٩٠٠)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےانصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”قریش اپنی جاہلیت اور (کفر کی) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، (اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٢؛حدیث نمبر٣٩٠١)
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ کے دن شہید ہوگئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٣؛حدیث نمبر٣٩٠٢)
حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم کو میرا سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں میرے علم کے مطابق“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٣؛حدیث نمبر٣٩٠٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ میرے خاص قریبی لوگ جن کی طرف میں لوٹ کر جاتا ہوں وہ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے قابل اعتماد لوگ انصار ہیں تو تم ان کے برے شخص کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٤؛حدیث نمبر٣٩٠٤)
حضرت سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٤؛حدیث نمبر٣٩٠٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٤؛حدیث نمبر٣٩٠٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے راز دار اور میرے قابل اعتبار لوگ ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے برے کی خطاؤں سے درگزر کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٥؛حدیث نمبر٣٩٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! قریش کو پہلے رسوائی کا مذہ چکھایا اب انہیں مہربانی کا مزہ چکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٥؛حدیث نمبر٣٩٠٨)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ”اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی خواتین کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْش؛انصار اور قریش کے فضائل کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٥؛حدیث نمبر٣٩٠٩)
حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہتر خاندان کی یا بہتر انصار کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو“ اور فرمایا: ”انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي أَىِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ؛انصار کا کون سا گھرانہ خیر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٦؛حدیث نمبر٣٩١٠)
حضرت ابواسید ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے خاندانوں میں سب سے بہتر خاندان بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے خاندانوں میں خیر ہے“، حضرت سعد نے کہا: میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ۳- اسی جیسی روایت حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۴- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي أَىِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ؛انصار کا کون سا گھرانہ خیر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٦؛حدیث نمبر٣٩١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي أَىِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ؛انصار کا کون سا گھرانہ خیر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٦؛حدیث نمبر٣٩١٢)
حضرت جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي أَىِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ؛انصار کا کون سا گھرانہ خیر ہے؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٧؛حدیث نمبر٣٩١٣)
حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا میں پہنچے جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا محلہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إن إبراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لأهل مكة بالبركة وأنا عبدك ورسولك أدعوك لأهل المدينة أن تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما باركت لأهل مكة مع البركة بركتين» ”مجھے وضو کا پانی دو“، چنانچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں (یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما)“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٨؛حدیث نمبر٣٩١٤)
حضرت علی اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (مسجد نبوی) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٨؛حدیث نمبر٣٩١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٩؛حدیث نمبر٣٩١٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مدینہ میں فوت ہو سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں فوت ہو کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٩؛ حدیث میں ٣٩١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ باندی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میرے لیے مدینہ منورہ میں زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہے اور میں عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لكاع» !(صبر سے کام لو)کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧١٩؛ حدیث میں ٣٩١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلامی شہروں میں سب سے اخر میں مدینہ منورہ بے آباد ہوگا “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے (یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے)۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٠؛ حدیث میں ٣٩١٩)
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کیا، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا، آپ مجھے میری بیعت مجھے واپس کردے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ میری بیعت مجھے واپس کر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کر دیتا ہے اپنے میل کچیل کو اور نکھار دیتا ہے صاف ستھرے کو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٠؛ حدیث میں ٣٩٢٠)
سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں کناروں کی درمیانی کا حصہ حرم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٠؛ حدیث میں ٣٩٢١)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احد پہاڑ آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس (مدینہ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢١؛ حدیث میں ٣٩٢٢)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢١؛ حدیث میں ٣٩٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کی شدت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ؛مدینہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٢؛ حدیث میں ٣٩٢٤)
حضرت عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حزوراء» (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں(تجھے چھوڑ کر) نہ جاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق: «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق: «أبي سلمة عن عبد الله بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ مکۃ؛مکہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٢؛ حدیث میں ٣٩٢٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ جاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي فَضْلِ مکۃ؛مکہ کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٢؛ حدیث میں ٣٩٢٦)
حضرت سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھنا ایسا نہ ہو کہ تم اپنے دین سے الگ ہوجاؤ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ؛عربوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٣؛ حدیث میں ٣٩٢٧)
حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ؛عربوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٤؛ حدیث میں ٣٩٢٨)
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو سیدہ ام حریر رضی اللہ عنہا پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ؛عربوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٤؛ حدیث میں ٣٩٢٩)
حضرت ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر چلے جائیں گے“،حضرت ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ (تعداد میں) تھوڑے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ؛عربوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٤؛ حدیث میں ٣٩٣٠)
حضرت سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور «یافث»، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ؛عربوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٤؛ حدیث میں ٣٩٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَجم؛عجمیوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٥؛ حدیث میں ٣٩٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم»(تَرجَمہ" اور ان میں سے بعد میں انے والے لوگ جو ابھی ان کے ساتھ شامل نہیں ہوئے")پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا(ستارے)پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور یہ متعدد سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَجم؛عجمیوں کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٥؛ حدیث میں ٣٩٣٣)
حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف(اسلام کی طرف)پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٦؛ حدیث میں ٣٩٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آرہے ہیں وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٦؛ حدیث میں ٣٩٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بادشاہت قریش میں ہوگی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں“۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن نے معاویہ بن صالح سے اور معاویہ نے ابومریم انصاری کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی، اور اسے مرفوع نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اور یہ زید بن حباب کی (اوپر والی) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٦؛ حدیث میں ٣٩٣٦)
حضرت انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ازد» (اہل یمن) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں پست کرنا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں بلندی عطاء کرے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٧؛ حدیث میں ٣٩٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوتے تو ہم لوگ کامل لوگ نہ ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٧؛ حدیث میں ٣٩٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا (میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْیمن؛یمن کی فضیلت کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٨؛ حدیث میں ٣٩٣٩)
حضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں، اور اللہ اوراس کے رسول ان کے مددگار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ وَجُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ؛قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٨؛ حدیث میں ٣٩٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسلم کو اللہ صحیح سالم رکھے، غفار کو اللہ بخشے اور عصیہ (قبیلہ) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب مَنَاقِبَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ وَجُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ؛قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٩؛ حدیث میں ٣٩٤١)
حضرت جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کر دیا، تو آپ اللہ سے ان کے خلاف دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا: «اللهم اهد ثقيفا» ”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٩؛ حدیث میں ٣٩٤٢)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال کے وقت تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٩؛ حدیث میں ٣٩٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثقیف قبیلے کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے: یہ کذاب ہے اور ہلاک کرنے والے ہیں “ ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے، ۳- اس باب میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٢٩؛ حدیث میں ٣٩٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی تحفے میں پیش کی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ اس بات ناراض رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٠؛ حدیث میں ٣٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ اس سے ناراض ہوا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ارشاد فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے ناراض رہتے ہیں، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٠؛ حدیث میں ٣٩٤٦)
حضرت ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“،حضرت عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اسے حضرت معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ”وہ مجھ سے ہیں اور میرے سپرد ہیں“، تو میں نے عرض کیا: میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“،حضرت معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: تو تم اپنے والد سے منقول حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣١؛ حدیث میں ٣٩٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ بخشے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے ہی احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣١؛ حدیث میں ٣٩٤٨)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخش دے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٢؛ حدیث میں ٣٩٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ“ یا آپ نے فرمایا: ”جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٢؛ حدیث میں ٣٩٥٠)
حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنی تمیم! خوش ہو جاؤ“، وہ لوگ کہنے لگے: آپ نے ہمیں پہلے بھی بشارت دی ہے، تو (کچھ) مال عطا کیجئیے، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ بشارت قبول کر لو“، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے قبول کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٢؛ حدیث میں ٣٩٥١)
حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں“، اور آپ نے اس لفط(یعنی، سے زیادہ بہتر ہیں)کو بلند آواز میں ادا کیا، تو لوگ کہنے لگے: نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”وہ ان (قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ) سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ؛قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٣؛ حدیث میں ٣٩٥٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی“، (یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٣؛ حدیث میں ٣٩٥٣)
حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور چمڑے کے ٹکڑوں سے قرآن اکھٹا کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”مبارکبادی ہو شام کے لیے“، ہم نے عرض کیا: کس چیز کی اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے پر پھیلاے ہوے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٣؛ حدیث میں ٣٩٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باز آ جائیں وہ قومیں جو اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کر رہی ہیں جو مر گئے ہیں، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں وہ اللہ کے نزدیک اس گوبر کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنے آگے اپنی ناک سے نجاست دھکیلتا رہتا ہے، اللہ نے تم سے جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کو ختم کر دیا ہے، اب تو لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٤؛ حدیث میں ٣٩٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم سے جاہلیت کے تکبر اور اپنے باپ دادا پر فخر کو ختم کر دیا ہے، اب لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت اور سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن اور یہ ہمارے نزدیک پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۲- سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ اپنے باپ کے واسطے سے بہت سی چیزیں ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- سفیان ثوری اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث ہشام بن سعد سے، ہشام نے سعید مقبری سے اور سعید مقبری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوعامر کی حدیث کے مانند روایت کی ہے جسے وہ ہشام بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف؛ابواب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛مناقب کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول(احادیث)کا مجموعہ؛باب؛جلد٥؛صفحہ نمبر٧٣٤؛ حدیث میں ٣٩٥٦)
Tirmizi Shareef : Abawabul Manaqibi
|
Tirmizi Shareef : ابواب المناقب
|
•