
ابو تشریح عدوی سے مروی ہے انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور وہ مکہ مکرمہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا ، اے امیر ! مجھے اجازت دو میں تم سے ایک بات بیان کروں جس کے ساتھ کل یوم فتح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور آنکھوں نے دیکھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات بیان فرمائی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر فرمایا بے شک اللہ تعالٰی نے مکہ مکرمہ کو قابل عزت بنایا اسے لوگوں نے قابل احترام نہیں بنا یا کسی شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے یا وہاں کے درخت کاٹے اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (وہاں) قتال کی وجہ سے اس میں لڑائی کو جائز سمجھے تو اسے کہو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی تجھے تو اجازت نہیں دی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا )مجھے ایک دن تھوڑی سی دیر کے لئے اجازت دی۔ پھر اس کی عزت و احترام ایسے ہی لوٹ آئی جیسی کل تھی۔ حاضر ، غائب تک یہ بات پہنچا دئے ۔ ابو شریح سے پوچھا گیا پھر آپ کو عمرو بن سعید نے کیا جواب دیا ؟ انہوں نے فرمایا عمرو نے جواب دیا اے ابو شریح ! میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف کسی گنہگار ،خون کر کے بھاگنے والے اور تقصیر کر کے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ خزیہ(بے حیائی کا کام) کا لفظ بھی مروی ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو شریح حسن صحیح ہے ابو شریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو عدوی کعبی ہے۔ ولا فارا بخربۃٍ۔ سے مراد جنایت یعنی تقصیر کر کے بھاگنے والا مراد ہے جو شخص نقصان کر کے خون ریزی کے بعد حرم میں آجائے اس پر حد قائم کی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۳۳؛ عنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَہ ، مَا جَاءَ فِي حُرُمَةِ مَكَةً -جلد ۱ص۴۳۳،حدیث نمبر ٨٠٩)
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حج اور عمرہ ایک دوسرے کے بعد کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہ کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے سونے اور چاندی کی میل کچیل کو دور کرتی ہے حج مقبول کا ثواب جنت ہے اس باب میں حضرت عمر ، عامر بن ربیعہ، ابو ہریرہ ، عبدالله بن حبشی ام سلمہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود اس روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۴۹؛مَا جَاءَ فِی ثَوَابِ الْحَجِّ وا لعُمْرَةِ۔ جلد ۱ص۴۳۴،حدیث نمبر ٨١٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے حج کیا پس نہ عورت سے ہمبستری کی اور نہ ہی گناہ کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ ابو حازم کوفی اشجعی ہیں ، ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ الاشجعیہ کے غلام ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۴۹؛مَا جَاءَ فِی ثَوَابِ الْحَجِّ وا لعُمْرَةِ۔ جلد ۱ص۴۳۴،حدیث نمبر ٨١١)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس سامان سفر اور سواری ہو جو اسے بیت اللہ شریف تک پہنچا دے پھر وہ حج نہ کرے پس اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کہ ۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے بیت اللہ شریف کا حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں اس کی سند میں کلام ہے ہلال بن عبد الله مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۰؛مَاجَاءَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِی تَرْكِ الحَج۔ جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک شخص نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس چیز سے حج فرض ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سامان سفر اور سواری سے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص زادراہ اور سواری کا مالک ہو اس پر حج فرض ہے ابراہیم بن یزید، خوزی مکی ہے ۔ بعض علماء نے اس کے حفظ میں کلام کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۱؛مَا جَاءَ فِیْ إِيجَابِ الْحَجِّ بِالزَّادِوَ الرَّاحِلَةِ، جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٣)
حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں جب آیت کر یمہ" وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ الخ " اور اللہ کے لئے لوگوں پر بیت اللہ کاحج فرض ہے جو وہاں تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں ) نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور فرمایا ، اگر میں ہاں کہدیتا تو واجب ہو جاتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھو کہ اگر تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں " اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی رضی اللہ عنہ اس طریق سے حسن غریب ہے ابو بختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے، اور وہ سعید بن فیروز ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۲؛مَا جَاءَ كَم فُرِضَ الحَجُّ، جلد ۱ص۴۳۵،حدیث نمبر ٨١٤)
حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد۔ اس کے ساتھ عمرہ بھی کیا آپ تریسٹھ (۶۳) اونٹ لے گئے باقی اونٹ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ یمن سے لیکر آئے ان میں ایک اونٹ ابو جہل کا بھی تھا اس کے ناک میں نکیل تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی قربانی کی اور ہر جانور سے ایک ایک بوٹی لیکر پکانے کا حکم فرمایا پس گوشت پکا یا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ شوربہ نوش فرمایا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے ، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ میں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن کو دیکھا انہوں نے یہ حدیث اپنی کتابوں میں عبد اللہ بن زیاد سے روایت کی میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سفیان ثوری کی سند سے نہیں پہنچانا میرا خیال ہے کہ وہ اسے محفوظ حدیث نہیں سمجھتے تھے ۔ نیز فرماتے تھے کہ یہ سفیان ثوری سے بواسطہ اسحٰاق و مجاہد مرسلاً مروی ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے انہوں نے فرمایا ایک حج اور چار عمرے ایک عمرہ ذی قعدہ میں دوسرا عمرہ حدیبیہ تیسرا عمرہ حج کے ساتھ اور چوتھا عمرہ جعرانہ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کی غنیمت تقسیم فرمائی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے حبان بن ہلال ابو حبیب بصری ہیں۔ اور وہ بڑے بزرگ ثقہ ہیں یحییٰ بن سعید قطان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۳؛ مَا جَاءَ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جلد ۱ص۴۳۶،حدیث نمبر ٨١٥)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے پہلا عمرہ حدیبیہ ، دوسرا عمرہ جو دوسرے سال قضاء کے طور پر کیا تیسرا عمرہ جعرانہ سے اور چوتھا حجۃ الوداع کے ساتھ اس باب میں حضرت انس ، عبد اللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس غریب ہے۔ ابن عیینہ نے یہ حدیث بواسطه عمرو بن دینار حضرت عکرمہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار عمرے کئے اس روایت میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ۔ سعید بن عبد الرحمٰن مخزومی نے بواسطہ سفیان بن عیینہ اور عمرو بن دینار حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۴؛مَا جَاءَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُ صَلى اللّٰهُ عِليْهِ وَسَلَمْ، جلد ۱ص۴۳۷،حدیث نمبر ٨١٦)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں سے احرام باندھا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو اطلاع دی اور مقام بیدا، پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر ، انس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۵۵۵؛ مَاجَاءَ فِیْ اَيِّ مَوْضِعٍ اَحْرَمَ النَّبي صلى الله عليه وسلم، جلد۱ص۴۳۷، حدیث نمبر ٨١٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مقام بیداء کا ذکر کر کے تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولتے ہو اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام کے پاس ایک درخت کے قریب احرام باندها امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۵۵۵؛ مَاجَاءَ فِیْ اَيِّ مَوْضِعٍ اَحْرَمَ النَّبي صلى الله عليه وسلم، جلد۱ص۴۳۷، حدیث نمبر ٨١٨)
رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کب احرام باندھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ عبد السلام بن حرب کے سوا کسی اور نے اسے روایت کیا ہو۔ اس بات کو علماء نے پسند کیا ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۶؛مَاجَا مَتٰى أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَليہ وَسَلِّم، جلد ۱ص۴۳۸،حدیث نمبر ٨١٩)
حج افراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا ۔ اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے حج افراد کیا۔ قتیبہ نے بواسطہ عبداللہ بن نافع صائغ ، عبید اللہ بن عمر اور نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی امام ترمذی حضرت سفیان کا قول نقل کرتے ہیں کہ افراد ، قران اور تمتع میں سے جو بھی ہو اچھا ہے امام شافعی نے بھی اسی طرح فرمایا اور کہا کہ ہمیں زیادہ پسند افراد ہے پھر تمتع پھر قران - ف : حج کی تین قسمیں ہیں افراد، قران، اور متمتع۔ صرف حج کا احرام جس باندھا وہ مفرد ہے ، حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھنے والا قارن اور عمرہ کا احرام باندھ کر افعال عمرہ بجا لائے پھر ایام حج میں حج کا احرام باندھ کر حج ادا کرے تو یہ متمتع ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو احرام نہ کھولے اور جانور ساتھ نہیں تو احرام کھول دے لیکن مکہ مکرمہ میں ہی ٹھہرا رہے اور حج سے پہلے کہیں نہ جائے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک قِران افضل ہے۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۷؛مَا جَاءَ فِیْ اِفْرَادِ الحَجِّ - جلد ۱ص۴۳۸،حدیث نمبر ٨٢٠)
حج و عمرہ جمع کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے، الٰہی میں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اس باب میں حضرت عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرمات ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے بعض علماء اسی طرف گئے ہیں کوفہ والوں اور دوسرے لوگوں نے اسے پسند کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۸؛مَاجَاءَ فِی الجَمْعِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالَعُمْرَةِ، جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢١)
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ حج اور عمرے کو ملا کر تمتع کرنے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا ایسا وہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بے خبر ہو ۔ حضرت سعد نے کہا اے بھائی ! تو نے بری بات کہی ضحاک نے کہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے، حضرت سعد نے کہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ اسی طرح کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹, حدیث نمبر ٨٢٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے تمتع کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢٣)
ابن شہاب سے مروی ہے سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک شامی کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عمرہ اور حج کو ملا کر تمتع کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ جائز ہے۔ شامی نے کہا آپ کے والد نے منع فرمایا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا بتاؤ اگر میرے باپ نے منع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا تو کیا میرے باپ کی اتباع کی جائے گی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اپنایا جائے گا ؟ اس شخص نے کہا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی پیروی کی جائے گی، آپ نے فرمایا تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں حضرت علی، عثمان ، جابر، سعد ، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے عمرہ کے ساتھ تمتع کو پسند کیا ہے، تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینے میں عمرہ کے ساتھ داخل ہو پھر ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کرے۔ یہ متمتع کہلاتا ہے ۔ اس پر ایک جانور کا ذبح کرنا فرض ہے جو بھی حاصل ہو ۔ جسے (قربانی کا جانور ) نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹ کر رکھے۔ متمتع کے لئے مستحب ہے کہ وہ تین روزے جو حج کے دنوں میں رکھ رہا ہے پہلے عشرہ میں ہوں اور آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔ اگر عشرہ اول میں نہیں رکھے تو پھر ایام تشریق میں رکھے یہ بعض صحابہ کرام کا قول ہے ان میں حضرت ابن عمر،اور عائشہ رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں امام مالک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے،بعض علماء فرماتے ہیں ایام تشریق میں نہ رکھے اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۵۹؛مَا جَاءَ فِی التَّمَتُّع - جلد ۱ص۴۳۹،حدیث نمبر ٨٢٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اُنہوں نے احرام باندھا اور یہ تلبیہ کہتے ہوئے چلے میں حاضر ہوں اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوں بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں حضرت نافع کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، آپ (حضرت ابن عمر ) اس تلبیہ میں اپنی طرف سے یہ اضافہ فرماتے میں حاضر بار گاہ ہوں میں حاضر بارگاہ ہوں میں تیری عبادت کے لیے ہر وقت تیار ہوں بھلائی تیرے ہی اختیار میں سے تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل تیری ہی رضا کے لیے ہے " یہ حدیث صحیح ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت ابن مسعود، جابر ، عائشہ، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر ، حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر کسی نے تلبیہ میں کچھ ایسے الفاظ زیادہ کیے جن میں اللہ تعالی کی تعظیم پائی جاتی ہے تو انشاءاللہ کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہی پڑھے امام شافعی فرماتے ہیں یہ بات کہ تعظیم خداوندی کے کچھ الفاظ زیادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہم نے اس لیے کہی کہ حضرت ابن عمر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یاد تھا پھر (بھی) آپ نے اپنی طرف سے اس میں یہ الفاظ زیادہ کیے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیری ہی طرف رغبت ہے اور تیرے ہی لیے عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۰؛مَا جَاءَ فِي التَّلبيةِ، جلد ۱ص۴۴۱, حدیث نمبر ٨٢٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اُنہوں نے احرام باندھا اور یہ تلبیہ کہتے ہوئے چلے میں حاضر ہوں اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوں بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں حضرت نافع کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، آپ (حضرت ابن عمر ) اس تلبیہ میں اپنی طرف سے یہ اضافہ فرماتے میں حاضر بار گاہ ہوں میں حاضر بارگاہ ہوں میں تیری عبادت کے لیے ہر وقت تیار ہوں بھلائی تیرے ہی اختیار میں سے تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل تیری ہی رضا کے لیے ہے " یہ حدیث صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۰؛مَا جَاءَ فِي التَّلبيةِ، جلد ۱ص۴۴۱, حدیث نمبر ٨٢٦)
تلبیہ اور قربانی کی فضیلت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں بلند آواز سے تلبیہ کہا جائے اور قربانی کی جائے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۶۱؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ التَّلْبِيَةِ وَالنَّحْرِ، جلد ۱ص۴۴۲،حدیث نمبر ٨٢٧)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان تلبیہ کہتا ہے،اس کے دائیں بائیں تمام پتھر ، درخت ڈھیلے (سب) تلبیہ کہتے ہیں یہاں تک کہ زمین ادھرادھر (مشرق و مغرب )سے پوری ہو جاتی ہے۔ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو بکر غریب ہے ہم اسے صرف ابن ابی فدیک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ محمد بن منکدر کو عبد الرحمٰن بن یربوع سے سماع حاصل نہیں محمد بن منکدر نے سعید بن عبد الرحمٰن کے واسطہ سے عبد الرحمٰن بن یربوع سے اس کے علاوہ حدیث روایت کی ہے ابو نعیم الطحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بواسطہ ابن ابی فدیک ، ضحاک بن عثمان محمد بن منکدر، سعید بن عبد الرحمٰن اور عبد الرحمٰن بن یربوع ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی اس میں ضرار سے خطاء واقع ہوئی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے احمد بن حنبل سے سنا آپ فرماتے تھے جس نے یہ حدیث بواسطہ محمد بن منکدر اور سعید بن عبد الرحمٰن ، عبد الرحمٰن یربوع سے روایت کی اس نے غلطی کی میں نے امام بخاری سے سنا جب ان کے سامنے ضرار بن صرد کی روایت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا یہ غلط ہے ۔ میں نے عرض کیا ابن ابی فدیک سے دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے تو امام بخاری نے فرمایا کچھ نہیں ان راویوں نے ابن ابی فدیک سے روایت نقل کی لیکن اس میں سعید بن عبد الرحمٰن کا ذکر نہیں (امام ترمذی کہتے ہیں ) میرے خیال میں امام بخاری کی ضرار بن صرد کو ضعیف سمجھتے ہیں" عج "کے معنی بلند آواز سے تلبیہ کہتا اور ثج کے معنی قربانی ذبح کرنا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۶۱؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ التَّلْبِيَةِ وَالنَّحْرِ، جلد ۱ص۴۴۲،حدیث نمبر ٨٢٨)
تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنا حضرت خلاد بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور کہا کہ میں اپنے صحابہ کرام کو اہلال یا (فرمایا) تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنے کا حکم دوں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث خلاد بواسطہ سائب حسن صحیح ہے بعض راویوں نے اسے بواسطہ خلاد بن سائب، فرید بن خالد سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ صحیح نہیں صحیح روایت وہ ہے جس میں خلاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں، اس باب میں حضرت زید بن خالد ابو ہریرہ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۲؛مَا جَاءَ فِی رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلبية، جلد ۱ص۴۴۳،حدیث نمبر ٨٢٩)
احرام باندھتے وقت غسل کرنا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے لئے کپڑے اتارے اور غسل فرمایا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے بعض علماء کے نزدیک احرام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے ۔ امام شافعی (اور امام ابو حنیفہ )رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۳؛مَا جَاءَ فِی الإِغْتِسَالِ عِندَ الإحرام، جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣٠)
غیرملکی کیلیے مقامات احرام حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کہاں سے احرام باندھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ والے ذوالحلیفہ سے ، اہل شام جحفہ سے ، نجد والے قرن سے اور یمن والے یلملم سے احرام باند ھیں ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس ، جابر بن عبداللہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۴؛مَا جَاءَ فِي مَوَاقِیتِ الْإِحْرَامِ لِأَهْلِ الافاق - جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لئے مقام عقیق کو میقات احرام باندھنے کی جگہ مقرر فرمایا امام ترمذی فرماتے ہی حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۴؛مَا جَاءَ فِي مَوَاقِیتِ الْإِحْرَامِ لِأَهْلِ الافاق - جلد ۱ص۴۴۴،حدیث نمبر ٨٣٢)
محرم کیلیے کونسا لباس جائز نہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں حالت احرام میں کونسا لباس پہننے کا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قمیض پاجامہ برنس (برساتی ، پگڑی اور موزے نہ پہنو لیکن اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں سے نیچے تک کے موزے پہن سکتا ہے وہ کپڑا بھی نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس (ایک خوشبو) لگی ہو ۔ عورت ، حالت احترام میں نقاب نہ ڈالے اور نہ ہی دستانے پہنے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي مَا لَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ لُبْسُہٗ، جلد ۱ص۴۴۵،حدیث نمبر ٨٣٣)
تہبند اور جوتا نہ ہوتو پاجامہ اور موزے پہننا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: محرم کو تہبند نہ ملے تو پاجامہ پہن لے اور اگر جوتا نہ پائے تو موزے پہن لے۔ قتیبہ نے بواسطہ حماد بن زید حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے ۔اس باب میں حضرت ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں اگر محرم کو جوتے نہ ملے تو موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۶؛مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السَّرَاوِيلِ وَالْخُفَّيْنِ لِلمُحرمِ إِذَ الم يجد الإِزَارَ وَ النَعْلَينِ - جلد ۱ص۴۴۵،حدیث نمبر ٨٣٤)
احرام کے وقت قمیض اور جبہ اتار دینا حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعرابی کو حالت احرام میں جبہ پہنے ہوئے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي الذِي يُحْرِمَ وَ عَلَيْهِ قَمِیْصٌ اَوْجُبَّةٌ - جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٥)
ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ، عمرو بن دینار، عطاء، اور صفوان بن یعلی ٫ یعلی بن امیہ سے بہ حدیث مرفوعاً بیان کی صحیح روایت وہ ہے ہے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے بواسطہ عطاء اور صفوان بن یعلی بن امیہ سےمرفوعاً روایت کیا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۷؛مَا جَاءَ فِي الذِي يُحْرِمَ وَ عَلَيْهِ قَمِیْصٌ اَوْجُبَّةٌ - جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٦)
محرم کے لیے جانوروں کا قتل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا پانچ موزی جانور رہا ، بچھو ، کوا ، چیل اور کاٹنے والا کتا ، حرم میں بھی مار ڈالے جائیں اس باب میں حضرت ابن مسعود ابن عمر ، ابو ہریرہ ،ابو سعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۸؛مَاجَاءَ وَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوابِ، جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٧)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا محرم حملہ آور جانوروں کاٹنے والے کتے چوہے ، بچھو، چیل اور کوے کو مار ڈالے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے، اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں محرم ، حملہ آور جانوروں اور کتے کو مار ڈالے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ درندہ جو لوگوں یا ان کے چارپایوں پر حملہ آور ہو اسے محرم قتل کر ڈالے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۸؛مَاجَاءَ وَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوابِ، جلد ۱ص۴۴۶،حدیث نمبر ٨٣٨)
محرم کے لیے سینگی کا حکم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالتِ احرام میں سینگی لگوائی ۔ اس باب میں حضرت انس عبد اللہ بن بحینہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ایک جماعت نے محرم کے لئے سینگی لگوانے کی اجازت دی ہے۔ لیکن بال منڈوانے کی نہیں ۔ امام مالک فرماتے ہیں محرم ضرورت کے تحت سینگی لگوا سکتا ہے ۔ سفیان ٹوری اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ محرم کے لئے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن بال نہ اُکھیڑے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۶۹؛مَا جَاءَ فِي الحَجَامَةِ لِلمُحرم، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٣٩)
محرم کو نکاح کی ممانعت نبیہ بن وہب کہتے ہیں ابن معمر نے اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہا تو مجھے امیر حج ابان بن عثمان کے پاس بھیجا میں نے آکر کہا آپ کا بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ آپ اس موقعے پر موجود ہوں۔ ابان بن عثمان نے فرمایا میں انہیں غافل اعرابی خیال کرتا ہوں۔ محرم نہ تو خود نکاح کر سکتا ہے اور نہ دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے ۔ یا جیسا کہ آپ نے فرمایا ) پھر حضرت عثمان سے مرفوع حدیث بیان کی ۔ اس باب میں حضرت ابو رافع اور میمونہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عثمان حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے جن میں حضرت عمربن خطاب علی ابن ابی طالب اور ابن عمر شامل ہیں بعض فقہاء تابعین کا یہی قول ہے امام مالک ، شافعی ، احمد اور اسحق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں انکے نزدیک محرم کا نکاح کرنا جائز نہیں اور باطل ہوگا (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تزْوِيْجِ الْمُحْرِمِ، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٤٠)
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم نہ تھے شب زفاف میں بھی آپ احرام میں نہیں تھے میں دونوں کے درمیان قاصد تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے ہم نہیں جانتے کہ حماد بن زید کے سوا کسی نے اس کو مسند بیان کیا ہو حماد، بواسطہ مطر الوراق، ربیعہ سے روایت کرتے ہیں۔ مالک بن انس نے بواسطہ ربیعہ سلیمان بن یسار سے مرسلًا روایت کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا تو آپ محرم نہ تھے سلیمان بن بلال نے بھی ربیعہ سے مرسل روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یزید بن اصم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا آپ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو آپ محرم تھے۔ بعض راویوں نے یزید بن اصم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یزید بن اصم حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تزْوِيْجِ الْمُحْرِمِ، جلد ۱ص۴۴۷،حدیث نمبر ٨٤١)
محرم کو نکاح کی اجازت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سےنکاح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت محرم تھے۔اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا بھی اسی پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٣)
ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔ ابوشعشاء کا نام جابر بن زید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت میمونہ کے ساتھ نکاح میں اختلاف ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مکہ مکرمہ کے راستے میں نکاح کیا اس لیے بعض علماء فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام سے نہیں تھے لیکن خبر نکاح احرم با ندھنے کے بعد پہلی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے راستے میں مقام شرف پر شب زفاف گزاری اور اسوقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے نہیں تھے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی مقام شرف میں ہوا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی وہاں ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دفن کیا گیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٤)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے نہ تھے اور اسی حالت میں اول شب گزاری حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی وہیں ہوا اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور متعدد راویوں نے اسے حضرت یزید بن اصم رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہ تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۱؛ماجاء في الرخصة في ذلك، جلد ۱ص۴۴۹،حدیث نمبر ٨٤٥)
محرم کے لیے شکار کھانے کا حکم حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکارنہ کرو اور یہ تہمارے حکم سے شکار کیا جائے اس باب میں حضرت ابوقتادہ اور طلحہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر مفسر ہے مطلب کیلیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ہمارے علم میں نہیں بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے وہ محرم کیلئے شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بشرطیکہ نہ تو اس نے خود شکار کیا ہواور نہ ہی اس کیلیے شکار کیا گیا ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں یہ حدیث احسن اور زیادہ عمدہ ہے اس پر عمل ہے ۔ اور امام احمد واسحاق رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٦)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب مکہ مکرمہ کے ایک راستے میں پہنچے تو اپنے بعض احرام باندھے ہوئے ساتھیوں کے ساتھ حضور سے پیچھے رہ گئے وہ خود احرام سے نہیں تھے انہوں نے ایک گور خر دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو گئے اور ساتھیوں سے لاٹھی مانگی ۔ انہوں نے انکار کیا تو نیزہ مانگا۔ انہوں نے اس سے بھی انکار کیا تو آپنے خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ بعض صحابہ کرام نے اس سے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کے متعلق دریافت کیا آپ نے فرمایا یہ ایک لقمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٧)
قتیبہ نے بوا سطلہ زید بن اسلم اور عطاء بن یسار حضرت ابو قتادہ سے ایک روایت نقل کی ابو نضر کی روایت کی طرح اس میں بھی گورخر کا ذکر ہے ۔ لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ (بچا ہوا) ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِیْ أَكلِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم، جلد ۱ص۴۵۰،حدیث نمبر ٨٤٨)
محرم کو شکار کا گوشت کھانے کی ممانعت حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا مقام بودان میں ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گور خر کا تحفہ پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹا دیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے چہرے پر نا خوش گواری کے اثرات دیکھے توفرمایا ہم نے یہ کسی ناراضگی کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اس لیے کہ ہم محرم ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پرعمل ہے۔ انکے نزدیک محرم کو شکار کا گوشت کھا نا مکروہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہما رے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے لوٹایا کہ شاید میرے لیے شکار کیاگیا ہو۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض احتیاطاً اسکے کھانے سے اجتناب فرمایا بعض اصحاب زہری نے یہ حدیث حضرت زہری سے روایت کی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کا گوشت پیش کیا یہ غیرمحفوظ ہے۔ اس باب میں حضرت علی اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۲؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لَحُمِ الصَّيْدِ لِلْمُحرِم - جلد ۱ص۴۵۱،حدیث نمبر ٨٤٩)
محرم کے لیے دریائی شکار کا حکم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حج یا عمرہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے۔ پس ٹڈیوں کا ایک دَل ہمارے سامنے آیا تو ہم اسے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھاؤ یہ دریا کا شکار ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابو مہزم کی روایت سے پہچانتے ہیں ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے اور اس کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے علماء کی ایک جماعت نے محرم کو اجازت دی ہے کہ وہ ٹڈیوں کا شکار کرے اور کھائے بعض علماء کے نزدیک ٹڈیوں کا شکار کرنے یا کھانے والے پر صدقہ واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۴؛مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْبَحْرِ لِلْمُحرم، جلد ۱ص۴۵۱،حدیث نمبر ٨٥٠)
بُجّو کا شکار ابن عمار کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا بجو شکار ہے ؟ آپ نے فرمایا " ہاں" فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ؟ فرمایا، ہاں، میں نے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی طرح) فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا " ہاں" امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت علی نے یحییٰ بن سعید کا قول نقل کیا کہ جریر بن حازم نے اس حدیث کو بواسطہ جا بر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔ ابن جریج کی روایت اصح ہے۔ امام احمد اور اسحق کا یہی قول ہے ۔ بعض علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ محرم جب بجو کا شکار کرے تو اس پر بدلہ دینا واجب ہے۔ فائدہ : بُجو کا شکار جائز ہے لیکن کھانا منع ہے۔ کیونکہ کیل والے شکاری درندوں کے کھانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے امام ابو حنیفہ،امام ابو یوسف،اور امام محمد رحمہم اللّٰہ کا یہی نظریہ ہے۔ شرح معانی الآثار جلد۲ص۲۴۰ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۵؛مَا جَاءَ فِیْ الضَّبَعِ يُصِيبُهَاالْمُحْرِمْ، جلد ۱ص۴۵۲،حدیث نمبر ٨٥١)
دخول مکہ کے لیے غسل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے مقام فخ میں غسل فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غیر محفوظ ہے صحیح روایت وہ ہے جسے حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل فرمایا کرتے تھے۔ امام شافعی اسی بات کے قائل ہیں کہ دخول مکہ کے لیے غسل مستحب ہے (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے) عبدالرحمٰن بن زید بن مسلم، حدیث میں ضعیف ہیں امام احمد بن حنبل علی بن مدینی اور دوسرے محدثین نے انہیں ضعیف کہا ہے ہم اس حدیث کو صرف انہی سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ ( جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۶؛مَا جَاءَ فِی الاغْتَسَأَلِ لِدَخُولِ مَکَّۃَ، جلد ۱ص۴۵۲،حدیث نمبر ٨٥٢)
مکہ مکرمہ میں داخل ہونا اور نکلنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اوپر کی جانب سے داخل ہوئے اور نیچے کی طرف سے باہر تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۷؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النَّبِيِّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَة مِنْ أَعْلَاهَاوَخُرُوجِهِ أَسْفَلَهَا، جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٣)
مکہ مکرمہ میں دن کو جانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۸؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ النبي صلى الله عليه وسلم مكةَ نَهَارًا . جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٤)
بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھ اٹھانا مہاجر مکی سے روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا،،یہاں بیت اللہ کو دیکھ کر آدمی ہاتھ اٹھائے ؟ آپ نے (فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔ تو کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں ؟ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ہم صرف شعبہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ شعبہ نے اسے ابو قزعہ سے روایت کیا۔ ابوقزعہ کا نام سوید بن حجر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۷۹مَا جَاء فِي كَرَاهِبَةِ رَفْعِ الْيَدِ عندَرُويَة البَيتِ - جلد ۱ص۴۵۳،حدیث نمبر ٨٥٥)
طواف کا طریقہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مسجد میں داخل ہوئے۔ حجر اسود کو بوسہ دیا پھر دائیں جانب چل دیے۔ تین چکر بازؤں کو تیز تیز ہلاتے ہوئے پورے کیے اور چار پھیروں میں اپنی رفتار سے چلے پھر مقام ابراہیم پر تشریف لائے اور آیت کریمہ " مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ " پڑھ کر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام ابراہیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان تھا۔ دو رکعتوں کے بعد حجر اسود کے پاس تشریف لائے اسے بوسہ دیا اور پھر صفا کی طرف چل پڑے میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا" ان الصفاء و المروة" الخ ) بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں سے ہیں) اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس عمل ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۰؛مَا جَاءَ كَيفَ الطَّوَافُ، جلد ۱ص۴۵۴،حدیث نمبر ٨٥٦)
حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مونڈھے ہلا تے ہوئے تیز تیز قدم چل کر حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر لگائے اور چار پھیروں میں عام رفتار سے چکر لگایا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں اگر بھول کر رمل (تیزی سے چلنا) چھوڑ دےتو اس نے غلطی کی لیکن اس پر کوئی بدلہ نہیں۔ اور اگر پہلے تین پھیروں میں رمل نہیں کیا تو باقی چکروں میں نہ کرے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اہل مکہ پر رمل نہیں اور نہ ہی ان پر جنہوں نے مکہ مکرمہ سے احرام باندھا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۱؛مَا جَاءَ فِي الرِّمَلِ مِنَ الحَجَر إلى الحجر - جلد ۱ص۴۵۴،حدیث نمبر ٨٥٧)
حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیتا حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم حضرت ابن عباس اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جس رکن سے گزرتے بوسہ دیتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیا کرتے تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیت اللہ شریف کی کوئی چیز خالی نہیں چھوڑی گئی۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو بوسہ دیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۲؛مَا جَاءَ فِی اسْتِلَام الْحَجَرِوَ الرُّكْنِ الْيَمَانِي دُونَ مَا سِوٰهُمَا - جلد ۱ص۴۵۵،حدیث نمبر ٨٥٨)
حالت اضطباع میں طواف کرنا حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر مبارک تھی۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ہم سفیان ثوری کی اس حدیث کو ابن جریج سے صرف اسی روایت سے پہچانتے ہیں ۔ اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبدالحمید سے مراد ابن جبیر بن شعبہ ہیں ۔ اور ابن یعلی کے والد حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ف : چادر کو داہنے بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۳؛مَا جَاءَ اَنَّ النَّبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَجِعًا - جلد ۱ص۴۵۵،حدیث نمبر ٨٥٩)
حجر اسود کو بوسہ دینا حضرت عابس بن ربیعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے تھے۔ میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اورمیں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی نہ چومتا۔ اس باب میں حضرت ابوبکر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔حدیث عمر حسن صحیح ہے اورعلماء کا اس پر عمل ہے وہ حجر اسود کو بوسہ دینا مستحب سمجھتے ہیں ۔ اگر اس تک پہنچنا نا ممکن ہو تو ہاتھ لگا کر اسے چوم لے اگر ہاتھ بھی نہ پہنچ سکتا ہو تو جب وہاں پہنچے اس کی طرف منہ کر کے اللہ اکبر کہے ۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۴؛مَا جَاءَ فِي تَقْبِيْلِ الْحَجَرِ۔ جلد ۱ص۴۵۶،حدیث نمبر ٨٦٠)
زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرے اسود کو چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔اس نے کہا: اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہو جاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں؟ تو اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:تم(یہ اپنا ) اگر مگر یمن میں رکھو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ دے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔ (سنن الترمذی،ابواب الحج،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الحَجَرِ،حدیث نمبر ٨٦١)
صفا سے سعی شروع کرنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا سات مرتبہ طواف کیا مقام ابراہیم پر آئے تو یہ آیت تلاوت کی (ترجمہ) اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ پکڑو" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے نمانہ پڑھی۔ پھر حجر اسود کے پاس تشریف لائے۔ اسے بوسہ دیا۔ پھر فرمایا ہم اسی مقام سے ابتداء کرتے ہیں جہاں سے اللہ تعالی نے آغاز فرمایا " یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاء سے سعی شروع کیا اور پڑھا ،، بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ مروہ سے پہلے صفا سے آغاز کیا جائے ۔ اگر مروہ سے ابتدا کرے گا تو جائز نہیں (دوبارہ) صفا سے شروع کرے جو آدمی بیت اللہ شریف کا طواف کرے لیکن صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں اگر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیے بغیر مکہ مکرمہ سے باہر آ گیا تو اگر اسے قریب ہی یاد آجائے تو واپس لوٹ کر صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اگر یاد نہ آیا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ گیا تو جائز ہے۔ اور اس پر خون (قربانی) واجب ہے سفیان ثوری کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں اگر سعی کیے بغیر گھر آگیا تو جائز نہیں۔ امام شافعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں۔ صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے اسکے بغیر حج جائز نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۵؛مَا جَاءَ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، جلد ۱ص۴۵۶،حدیث نمبر ٨٦٢)
صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ کے درمیان اس لیے دوڑے کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔ اس باب میں حضرت عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے علماء کے نزدیک مستحب ہے کہ صفا مروہ کے درمیان دوڑا جائے۔ اگر دوڑنے کی بجائے اپنی رفتار سے چلے تو بھی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۶؛مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَ المَرْوَةَ - جلد ۱ص۴۵۷،حدیث نمبر ٨٦٣)
کثیر بن جمہاں کہتے ہیں۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفامروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا ؟ کیا آپ صفا مروہ کے درمیان اپنی (عام) رفتار سے چلتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ۔ اگر میں دوڑ کر چلوں تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر اپنی عام رفتار سے چلوں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سعید بن جبیر نے بھی حضرت ابن عمر سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۶؛مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَ المَرْوَةَ - جلد ۱ص۴۵۷،حدیث نمبر ٨٦٤)
سوار ہو کر طواف کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر طواف کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ فرماتے۔ اس باب میں حضرت جابر، ابوطفیل اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک بلاعذر سوار ہوکر طواف اور سعی کرنا مکروہ ہے ۔ امام شافعی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۷)مَا جَاءَ فِی الطَّوَافِ راكِبًا، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٥)
طواف کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پچاس مرتبہ بیت اللہ شریف کا طواف کیا وہ گناہوں سے ایسے باہر آئے گا۔ جیسے پیدائش کے وقت تھا۔ اس باب میں حضرت انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس غریب ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حضرت ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۸؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الطَّوَافِ ، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٦)
حضرت ایوب کہتے ہیں۔ لوگ عبداللہ بن سعید کو ان کے والد سعید بن جبیر سے افضل خیال کرتے تھے ان کے ایک بھائی تھے جن کا نام عبدالملک بن سعید بن جبیر ہے ۔ ان سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۸؛مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الطَّوَافِ ، جلد ۱ص۴۵۸،حدیث نمبر ٨٦٧)
طواف کرنے والے کا صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنا حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اے عبد مناف کی اولاد ! کسی شخص کو اس گھر کے طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔ رات اور دن میں جس وقت بھی وہ چاہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جبیر بن مطعم حسن صحیح ہے۔ عبداللہ بن ابی نجیح نے اسے عبد الله بن باباہ سے بھی روایت کیا ہے ۔ مکہ مکرمہ میں فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں عصر اور صبح کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ انہوں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا بعض علماء فرماتے ہیں اگر عصر کے بعد طواف کرے تو غروب آفتاب تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر صبح کی نماز کے طواف کیا تو بھی طلوع شمس سے پہلے نماز نہ پڑھے ۔ ان حضرات نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ اور نماز پڑھے بغیر مکہ مکرمہ سے باہر تشریف لے گئے۔ یہاں تک کہ مقام ذی طویٰ میں اتر کر طلوع آفتاب کے بعد نماز پڑھی۔ سفیان ثوری اور مالک بن انس رحمہا اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۸۹؛مَا جَاءَ فِي الصَّلوةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْد َالصُّبْحِ فِی الطَّوَافِ لِمَنْ يَطُوفُ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٦٨)
نماز طواف کی قرآت حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں اخلاص کی دو سورتیں (یعنی) ” قل یاایہاالکفرون" اور قل ھو اللہ احد پڑھیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۹۰؛مَا جَاءَ مَا يُقرأ فِی رَكْعَتِىَ الِطَّوَافِ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٦٩)
جعفر بن محمد اپنے والد سے راوی ہیں کہ وہ طواف کی دو رکعتوں میں " قل یا ایہا الکفرون" اور قل ہو اللہ احد پڑھنا پسند کرتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث عبدالعزیز بن عمران کی روایت سے اصح ہے یعنی اس میں جعفر بن محمد کی اپنے والد سے روایت بنسبت اس روایت کے زیادہ صحیح ہے ۔ جسے وہ بواسطہ والد اور حضرت جابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ عید العزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۹۰؛مَا جَاءَ مَا يُقرأ فِی رَكْعَتِىَ الِطَّوَافِ، جلد ۱ص۴۵۹،حدیث نمبر ٨٧٠)
ننگے ہو کر طواف کرنے کی ممانعت زید بن اثیع کہتے ہیں میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا۔ آپ کس چیز کے ساتھ بھیجے گئے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا چار باتوں کے ساتھ کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔ بیت اللہ شریف کا طواف برہنہ ہو کر نہ کیا جائے۔ اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک جمع نہ ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس سے معاہدہ ہے وہ اپنی معیاد تک ہے اور جس کی معیاد نہیں وہ چار ماہ تک ہے۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُريَانَا - جلد ۱ص۴۶۰،حدیث نمبر ٨٧١)
ابن ابی عمر اور نضر بن علی (دونوں) نے بواسطہ سفیان ابو اسحق سے اس کی مثل حدیث روایت کی اور زید بن اثیع کی جگہ زیدبن یثیع کہا اور یہ زیادہ صحیح ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں شعبہ سے اس میں خطاء ہوئی اور انہوں نے زید بن اُثِیل کہا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُريَانَا - جلد ۱ص۴۶۰،حدیث نمبر ٨٧٢)
خانہ کعبہ میں داخل ہونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس سے نہایت مسرور اور خوش دل تشریف لے گئے اور پر یشان واپس ہوئے میں نے (سبب) پوچھا تو فرمایا میں کعبہ معظمہ میں داخل ہوا اور میں نے دل میں سوچا کہ نہ داخل ہوتا تو اچھا تھا (کیونکہ) مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد میری امت مشقت میں نہ پڑ جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۴۶۱؛مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الكَعْبَةِ، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٣)
خانہ کعبہ میں نماز پڑھنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط کعبہ میں نماز پڑھی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ صرف تکبیر کہی ۔ اس باب میں حضرت اسامہ بن زید فضل بن عباس ، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث بلال حسن صحیح ہے۔ اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ کعبہ مکرمہ میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں خانہ کعبہ میں نوافل پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ فرض نماز مکروہ ہے۔ امام شافعی کے نزدیک نفل اور فرض دونوں میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ طہارت اور قبلہ کا حکم فرض اور دونوں کے لیے ایک جیسا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج ،باب۵۹۳؛مَاجَاءَ فِی الصَّلٰوةِ فی الْكَعْبَةِ، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٤)
تعمیر کعبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ مکرمہ کو توڑ کر اس میں دو دروازے بناتا۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دور حکومت میں اسے توڑ کر دو دروازے بنائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۴؛مَا جَاءَ فِي كَسْرِ الكَعْبَة، جلد ۱ص۴۶۱،حدیث نمبر ٨٧٥)
حطیم میں نماز پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں چاہتی تھی کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں۔ پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں داخل کیا اور فرمایا حطیم میں نماز پڑھو۔ اگر تم بیت اللہ شریف میں داخل ہونا چاہتی ہو تو یہ بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے کعبہ مکرمہ بناتے وقت اسے چھوڑ دیا اور اسے کعبہ سے باہر کر دیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور علقمہ بن ابی علقمہ سے مراد علقمہ بن بلال ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۵؛مَا جَاءَ فِي الصّلٰوةِ فِی الْحِجْرِ، جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٦)
حجر اسود اور مقام براہیم کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حجر اسود جنت سے اترا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا۔ پھر انسان کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۶؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَجر الاَسْوَدِ وَالرُّكْنِ وَالْمَقَامِ -جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٧)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یا قوتوں میں سے دو یا قوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کی روشنی بجھا دی اور اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بجھاتا تو یہ مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن عمرو کا اپنا قول ( حدیث موقوف) مروی ہے ۔ اس بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے اور وہ غریب حدیث ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۶؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْحَجر الاَسْوَدِ وَالرُّكْنِ وَالْمَقَامِ -جلد ۱ص۴۶۲،حدیث نمبر ٨٧٨)
منٰی کی طرف جانا اور وہاں ٹھہرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھائیں اور پھر عرفات کی طرف تشریف لے گئے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ اسماعیل بن مسلم کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۷؛مَا جَاءَ فِي الخُرُوج إلٰى مِنٰى وَالْمَقَامُ بِھَا، جلد ۱ص۴۶۳،حدیث نمبر ٨٧٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منٰی میں ظہر اور فجر کی نماز پڑھائی اور اول وقت میں ہی عرفات کی طرف تشریف لے گئے ۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ علی بن مدینی نے بواسطه یحییٰ شعبہ کا قول نقل کیا کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں ۔ شعبہ نے ان حدیثوں کو شمار کرتے ہوئے اُن حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۷؛مَا جَاءَ فِي الخُرُوج إلٰى مِنٰى وَالْمَقَامُ بِھَا، جلد ۱ص۴۶۳،حدیث نمبر ٨٨٠)
منٰی پہلے پہنچنے والوں کی جگہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے عرض کیا۔ یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منٰی میں سایہ دار جگہ نہ بنادی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نہیں " منٰی ان لوگوں کی جگہ ہے ۔ جو پہلے وہاں پہنچ جائیں امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۵۹۸؛مَاجَاءَ آنَّ مِنٰى مُناخُ سَبَقَ، جلد ۱ص۴۶۴،حدیث نمبر ٨٨١)
منٰی میں نماز قضا کرنا حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے منٰی میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ادا کیں۔ لوگ اس وقت بہت امن میں اور زیادہ تھے اس باب میں حضرت عبدالله بن مسعود ، ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکر ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث حارثہ بن وہب حسن صحیح ہے۔ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں منیٰ میں دو رکعتیں نماز ادا کی۔ مکہ والوں کے لیے منٰی میں نماز قضا کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اہل مکہ منٰی میں قضا نہ کریں۔ قضا صرف مسافر کے لیے ہے۔ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اہل مکہ بھی منٰی میں قضا کر سکتے ہیں۔ امام اوزاعی ، مالک سفیان بن عینیہ اور عبدالرحمٰن بن مهدی رحمہم اللّٰہ اسی بات کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۵۹۹؛مَاجَاءَ فِی تقصير الصِّلٰوةِ بِمِنٰى، جلد ۱ص۴۶۴،حدیث نمبر ٨٨٢)
عرفات میں ٹھہرنا دعا کرنا یزید بن شیبان فرماتے ہیں۔ ہمارے پاس ابن مربع انصاری تشریف لائے۔ ہم اس وقت عرفات میں اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جسے عمرو دور بتاتے تھے ، انہوں نے فرمایا میں تمہاری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اپنی اپنی عبادت کی جگہ بیٹھے رہو ۔ کیو نکہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ترکہ میں سے ایک ترکہ پر ہو٫ اس باب میں حضرت علی ، عائشہ، جبیر بن مطعم اور شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہ ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن مربع حسن ہے۔ ہم اسے صرف این عیینہ کی روایت سے پہچانتے ہیں جو عمرو بن دینار سے روایت کی گئی ہے۔ ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے۔ ان سے صرف یہی ایک حدیث معروف ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۰؛مَا جَاءَ فِی الْوُقُوفِ بَعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ فِيْهَا، جلد ۱ص۴۶۵،حدیث نمبر ٨٨٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے یعنی حمس، مزدلفہ میں ٹھہر جاتے (عرفات نہ جاتے) اور کہتے ہم اللہ تعالیٰ کے پاس رہنے والے ہیں۔ دوسرے لوگ عرفات میں ٹھہرتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ) پھر وہاں واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفات حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور کہتے ہم اللہ تعالیٰ کے قطین یعنی اس کے پاس رہنے والے ہیں۔ غیر مکی عرفات میں ٹھہرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی،، پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس اتے ہیں۔ حمس۔ سے مراد اہل حرم ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۰؛مَا جَاءَ فِی الْوُقُوفِ بَعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ فِيْهَا، جلد ۱ص۴۶۵،حدیث نمبر ٨٨٤)
تمام عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں ٹھہرے اور فرمایا یہ عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارے کا سارا عرفات ٹھرنے کی جگہ ہے۔ غروب آفتاب کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بٹھایا اور اسی حالت میں ہاتھ سے اشارہ کرنے لگے۔ لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو چلانے کے لیے مارتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے لوگو! اطمینان سے چلو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے وہاں دو نمازیں ( مغرب وعشاء) اکٹھی پڑھیں۔ صبح ہوئی تو مقام قزح تشریف لائے اور وہاں ٹھہرے فرمایا یہ قزح ہے اور یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ مزدلفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہاں سے چل کر وادی محسر میں پہنچے تو اونٹنی کو ایڑ لگائی وہ دوڑ پڑی وادی محسر سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کواپنے پیچھے بٹھایا۔ پھر جمرہ پر پہنچ کر کنکریاں ماریں اس کے بعد قربانی کی جگہ پہنچے اور فرمایا یہ قربانی کی جگہ ہے اور سارے کا سارا منٰی قربان گاہ ہے (وہاں) قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک فتویٰ پوچھا۔ اس نے عرض کیا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور اس پر حج فرض ہے کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تو اس کی طرف سے حج کر،، راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس کی گردن (دوسری طرف) پھیردی۔ اس پر حضرت عباس نے فرمایا،،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد کی گردن کیوں پھیر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نوجوان مرد اور نوجوان عورت کو دیکھا تو میں ان پر شیطان سے بے خوف نہیں ہوا۔ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سر منڈانے سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف استفاضہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر منڈا لے یا فرمایا بال کٹوا دے کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں ایک دوسرے آدمی نے آکر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کنکریاں پھینکنے سے پہلے جانور ذبح کردیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنکریاں پھینکو کوئی حرج نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس آئے اسکا طواف کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم پر تشریف لائے اور فرمایا اے عبد المطلب کی اولاد اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آجائیں گے تو میں بھی زمزم کا پانی کھینچتا (نکالتا) یعنی اس صورت میں ہر کوئی اتباع سنت میں زمزم کا پانی نکالنے کی کوشش کرے گا۔ مترجم) اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث علی حسن صحیح ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی روایت سے پہچانتے ہیں کئی راویوں نے سفیان ثوری سے اسکی مثل حدیث روایت کی ہے علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ عرفات میں ظہراور عصرکی نماز ظہر کے وقت میں جمع کی جائیں بعض علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے خیمہ میں (اکیلا) نماز پڑھے اور امام کی جماعت میں شریک نہ ہوتو بھی امام کے طریقے پر دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ سکتا ہے زید بن علی سے زید بن حسین بن علی رضی اللّٰہ عنہم مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۱،مِا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوقِفٌ، جلد ۱ص۴۶۶،حدیث نمبر ٨٨٥)
عرفات سے واپسی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیزی سے چلتے بشر نے اس میں اضافہ کر کے کہا کہ آپ مزدلفہ سے واپس لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکون تھے اور سکون سے ہی چلنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بھی فرمایا ابو نعیم نے یہ الفاظ زائد نقل کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکریوں کی طرح کی کنکریاں مارنے کا حکم فرمایا اور فرمایا اور یا شاید میں اس سال کے بعد تم کو نہ دیکھوں۔ اس باب میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ ف : حدیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال مبارک کے وقت سے اگاہ کر رکھا تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو فرمایا کہ شاید میں آئندہ سال تمہیں نہ دیکھوں۔ موت کے وقت یا جگہ سے خدا کے بتائے بغیر کوئی آگاہ نہیں لیکن جسے چاہے وہ مطلع فرما دے۔ قرآن پاک کی آیات اور احادیث میں یوں ہی تطبیق ہے ورنہ تضاد لازم آئے گا۔ مترجم (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۲؛مَا جَاءَ فِي الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتِ، جلد ۱ص۴۶۷،حدیث نمبر ٨٨٦)
مزدلفہ میں عشاء اور مغرب کو اکٹھا پڑھنا عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ہی تکبیر سے پڑھیں اور فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۳؛مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بين المَغْرب وَالْعِشَاء بِالْمُزْدَ لفَةِ -جلد ۱ص۴۶۸،حدیث نمبر ٨٨٧)
حضرت سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی مثل حدیث مرفوعاً روایت کی۔ محمد بن بشار، یحییٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حدیث سفیان بہتر ہے۔ اس باب میں حضرت علی، ابوایوب عبداللہ بن مسعود، جابر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عمر بروایت سفیان اسماعیل بن خالد کی روایت سے اصح ہے۔ اور حدیث سفیان حسن صحیح ہے، اسرائیل نے یہ حدیث ابو اسحٰق اور مالک کے دو بیٹوں عبداللہ اور خالد کے واسطہ سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی۔ ابن عمر سے سعید بن جبیر کی روایت بھی حسن صحیح ہے سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے ابو اسحٰاق نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد کے واسطہ سے حضرت ابن عمر سے روایت کیا۔ علماء کا اس پر عمل ہے کہ مزدلفہ (پہنچنے) سے پہلے مغرب کی نماز نہ پڑھے۔ جب مزدلفہ پہنچے تو دو نمازوں کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ دونوں کے درمیان نفل نہ پڑھے بعض علماء نے اسے ہی اختیار کیا ہے اور سفیان ثوری کا یہی قول ہے۔ سفیان فرماتے ہیں اگر چاہیں تو مغرب پڑھ کر کھانا کھائے۔ کپڑے اتارے پھر اقامت کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہے اور نماز پڑھے۔ پھر اقامت کہہ کر عشاء کی نماز پڑھے۔ امام شافع اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۳؛مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بين المَغْرب وَالْعِشَاء بِالْمُزْدَ لفَةِ -جلد ۱ص۴۶۸،حدیث نمبر ٨٨٨)
امام کو مزدلفہ میں پانے والے نے حج کو پا لیا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجد کے چند آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفات میں تھے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم فرمایا۔ اس نے اعلان کیا۔ حج عرفات میں ہے۔ جو آدمی مزدلفہ کی رات صبح ہونے سے پہلے آجائے اس نے حج کو پا لیا منٰی کے تین دن ہیں جو جلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد واپس آگیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ محمد بن بشار کہتے ہیں یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ کہ آپ نے ایک آدمی کو (سواری پر) پیچھے بٹھایا اور اس نے اعلان کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٨٩)
ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان بن عیینہ ، سفیان ثوری اور بکیر بن عطاء عبدالرحمن بن یعمر سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً نقل کی ۔ ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ کا قول نقل کیا کہ یہ نہایت کھری حدیث ہے۔ سفیان ثوری نے اسے روایت کیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں صحابہ کرام اور تابعین کا عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر عمل ہے کہ جو آدمی صبح ہونے سے پہلے عرفات میں نہ ٹھہرا۔ اس کاحج چھوٹ گیا۔ صبح کے بعد آئے تو حج نہ ہو گا۔ اسے عمرہ بنادے۔ دوسرے سال حج کرے ۔ سفیان ثوری،شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے شعبہ نے بکیر بن عطاء سے حدیث ثوری کی مثل حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے جاردو سے سناوہ وکیع سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ یہ حدیث ام المناسک ( مسائل حج کی اصل) ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٩٠)
عروه بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام طائی سے مروی ہے ۔ فرماتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزدلفہ میں حاضر ہوا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالا۔ قسم بخدا ! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جس پر نہ ٹھہرا ہوں کیا میرا حج ہوگیا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہماری اس وقت کی نماز میں شرکت کی اور واپس جانے تک ہمارے پاس ٹھہرا۔ اس سے پہلے ایک رات دن عرفات میں ٹھہرا تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہوگئی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۴؛مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ الاِمام بِجَمْعِ فَقَدْ اَدْرَكِ الْحَجِ - جلد ۱ص۴۶۹،حدیث نمبر ٨٩١)
مزدلفہ سے کمزوروں کو پہلے بھیجنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے مسافروں کا سامان دے کر اپنے عیال کے ہمراہ رات پہلے ہی بھیج دیا۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ام حبیبہ، اسماء اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۵؛مَاجَاءَ فِی تَقْدِيمِ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، جلد ۱ص۴۷۰،حدیث نمبر ٨٩٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل وعیال کو پہلے بھیج دیا اور فرمایا۔ سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ اور وہ مزدلفہ سے کمزور لوگوں کو رات کے وقت منٰی کی طرف بھیجنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ حدیث کے مطابق بعض علماء نے فرمایا کہ وہ سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں ۔ بعض علماء نے رات کے وقت کنکریاں مارنے کی اجازت دی ہے ۔ (بہر حال )عمل حدیث ہی پر ہے۔ سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی قول ہے۔ اور ان سے کئی طرق سے مروی ہے شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ مشاش عطاء اورابن عباس ، حضرت فضل بن عباس سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل وعیال کو مزدلفہ سے پہلے ہی رات کو بھیج دیا۔ اس حدیث میں مشاش سے غلطی ہوئی اور فضل بن عباس کا واسطہ زیادہ کیا۔ انن جریج وغیرہ نے اس حدیث کو بواسطہ عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا اس میں فضل بن عباس کا ذکر نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۵؛مَاجَاءَ فِی تَقْدِيمِ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، جلد ۱ص۴۷۰،حدیث نمبر ٨٩٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں مارتے تھے لیکن دوسرے دنوں میں زوال شمس کے بعد مارتے، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ قربانی کے دن کے بعد زوال آفتاب کے بعد ہی کنکریاں ماری جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۶؛ جلد ۱ص۴۷۱،حدیث نمبر ٨٩٤)
مزدلفہ سے واپسی طلوع آفتا سے پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے واپس ہوئے ۔ اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے۔ دور جہالت کے لوگ طلوع آفتاب کی انتظار کرتے۔ اور پھر لوٹتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۷؛مَا جَاءَ اِنَّ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْع قَبلَ طُلُوع الشمس -جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٥)
عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سورج نکلنے سے پہلے واپس نہیں ہوتے تھے اور کہتے تھے ثبیر ! چمک ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت فرمائی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ طلوع آفتاب سے پہلے چل پڑے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۷؛مَا جَاءَ اِنَّ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْع قَبلَ طُلُوع الشمس -جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٦)
چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماری جائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خذف ( جو دوانگلیوں سے پھینکی جائے) کے برا ہر کنکریاں مارتے تھے ۔ اس باب میں حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص بواسطه ان کی والدہ ایم جندب ازدب یه ، ابن عباس، فضل بن عباس ، عبد الرحمٰن بن عثمان تیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے علماء نے اختیار کیا ہے کہ جو کنکریاں ماری جائیں ۔ وہ ایسی ہوں جن کو دو انگلیوں سے پھینکا جاسکے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب ۶۰۸؛مَا جَاءَ أَنَّ الْجِمَارَ الَّتِي تُرمٰى مِثْلُ حَصَى الْخَذَفْ، جلد ۱ص۴۷۲،حدیث نمبر ٨٩٧)
زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب کے بعد کنکریاں پھینکتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۰۹ماجاء في الرَمِيْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسَ، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٨٩٨)
سوار ہو کر کنکریاں مارنا حضرت ابن عباس رضی عنہما فرماتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سوار ہو کہ جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں۔ اس باب میں حضرت جابر ، قدامہ بن عبدالله اور ام سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکورہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن ہے ۔ اور بعض علما کا اس پر عمل ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک پیدل چل کر کنکریاں مارنا اچھا ہے۔ ہمارے نزدیک حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے بعض اوقات سوار ہو کہ کنکریاں ماریں ۔ تاکہ آپ کے فعل کی پیروی کی جائے۔ علماء کا دونوں حدیثیوں پرعمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۰مَا جَاءَ فِي رَمِيِ الجِمَارِ رَاكِبًا، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٨٩٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمروں پر کنکریاں مارنے کے یے پیدل جاتے اور اسی طرح واپس آتے ۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض محدثین نے اسے عبید اللہ سے غیر مرفوع بیان کیا ۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ قربانی کے دن سوار ہو کر اور باقی دنوں میں پیدل کنکریاں مار ے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں جس نے یہ کہا گویا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کا خیال کیا۔ کیونکہ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے دن سوار ہو کر کنکریاں ماریں قربانی کے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۰مَا جَاءَ فِي رَمِيِ الجِمَارِ رَاكِبًا، جلد ۱ص۴۷۳،حدیث نمبر ٩٠٠)
کنکریاں مارنے کا طریقہ حضرت عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد الله جمرہ عقبہ پر آئے تو وادی کے درمیان قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے اور اپنی داہنی جانب سے کنکریاں مارنے لگے سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی جگہ سے اس ذات بابرکات نے کنکریاں پھینکی ہیں جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ حضرت وکیع نے مسعودی سے سند مذکور کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت فضل بن عباس، ابن عباس، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنھم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی بطن وادی سے سات کنکریاں پھینکے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔ بعض علماء نے اجازت دی ہے کہ اگر وسط وادی سے پھینکنا شروع ہو تو جہاں سے ہو سکے پھینک دے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۱؛كَيْفَ تُرْمَى الجِمَارُ، جلد ۱ص۴۷۴،حدیث نمبر ٩٠١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جمعرات کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ کے درمیان دوڑنا اللہ تعالی کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۱؛كَيْفَ تُرْمَى الجِمَارُ، جلد ۱ص۴۷۴،حدیث نمبر ٩٠٢)
کنکریاں مارتے وقت لوگوں کو ہٹانا مکروہ ہے حضرت قدامہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر بیٹھے کنکریاں پھینکتے دیکھا۔ نہ تو وہاں مارتا تھا نہ ادھر ادھر کرتا اور نہ یہ کہ ایک طرف ہو جاؤ، اس باب میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث قدامہ بن عبد اللہ حسن صحیح ہے یہ حدیث صرف اسی طریق سے معروف ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امین بن نابل، محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۲؛مَا جَاءَ كَرَاهِبَة طَرْدِ النَّاسِ عِندَ رمِی الْجِمَارِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٣)
اونٹ اور گائے میں شرکت حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے گائے اور سات ہی کی طرف سے اونٹ کی قربانی دی۔ اس باب میں حضرت ابن عمر ابو ہریرہ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ہیں۔ سفیان ثوری، امام شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ بواسطہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ گائے اور اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے ہیں۔ امام اسحاق کا یہی قول ہے۔ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا۔ حدیث ابن عباس کو ہم صرف ایک طریق سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۳؛مَا جَاءَ فِي الْاشْتِرَاكِ فِی الْبُدْنَةِوالْبَقْرَةِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ اسی دوران عید قربان آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث یعنی حدیث حسین بن واقد غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۳؛مَا جَاءَ فِي الْاشْتِرَاكِ فِی الْبُدْنَةِوالْبَقْرَةِ ، جلد ۱ص۴۷۵،حدیث نمبر ٩٠٥)
اونٹ پر نشان لگانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر اونٹنی کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں اور ہدی کو دائیں جانب سے زخمی کر کے نشان لگایا۔ اور خون صاف کر دیا۔ اس باب میں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ۔ اور ابو الاحسان اعرج کا نام مسلم ہے اس حدیث پر صحابہ کرام اور تابعین کا عمل ہے وہ اشعار کو سنت سمجھتے ہیں ۔ امام ثوری، شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ میں نے یوسف بن عیسیٰ وکیع سے سنا۔ انہوں نے حدیث روایت کرتے ہوئے فرمایا یہ اس معاملے میں اہل رائے کا قول نہ دیکھو نشان لگانا سنت ہے۔ اہل رائے کہتے ہیں بدعت ہے۔ نیز امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ میں نے ابو سائب سے سنا وہ کہتے ہیں ہم وکیع کے پاس تھے کہ انہوں نے اہل رائے میں سے ایک شخص سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا۔ (نشان لگایا) اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں۔ یہ مثلہ (اعضاء کا کاٹنا) ہے اس شخص نے کہا۔ ابراہیم نخعی بھی کہتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے میں نے وکیع کو دیکھا سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا میں کہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تو کہتا ہے۔ ابراہیم نخعی نے یوں کہا تم اس قابل ہو کہ تمہیں قید کیا جائے۔ اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک تم اپنے قول سے باز نہ آ جاؤ۔ ف : شعار اپنی حد کے اندر ہو اور گوشت نہ کاٹا جائے تو کوئی کراہت نہیں۔ لیکن ایسی صورت جو جانور کی ہلاکت کا باعث ہو۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۴؛مَا جَاءَ فِی اِشْعَارِ الْبَدَنِ، جلد ۱ص۴۷۶،حدیث نمبر ٩٠٦)
ہدی کا جانور خریدنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام قدید سے ہدی کا جانور خریدا امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حدیث ثوری سے صرف یحییٰ بن یمان کی روایت سے پہچانتے ہیں حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ان عمر رضی اللہ عنہما نے مقام قدید سے ہدی کا جانور خریدا امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۵،جلد۱ص۴۷۷،حدیث نمبر ٩٠٧)
مقیم کا ہدی کے گلے میں ہار ڈالنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے ہار گوندھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو احرام باندھا اور نہ ہی کوئی کپڑا چھوڑا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں۔ حج کا ارادہ کرنے والے شخص کے لیے مہدی کے گلے میں ہار ڈالنے سے نہ تو ( سلا ہوا) کپڑا حرام ہوتا ہے اور نہ ہی خوشبو۔ جب تک کہ احرام نہ باند ھے بعض علماء فرماتے ہیں۔ ہدی کے گلے میں ہار ڈالنے سے وہ سب کچھ واجب ہو جاتا ہے۔ جو احرام باندھنے سے واجب ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۶؛مَا جَاءَ فِي تقْلِيدِ الْهَدَىِ لِلْمُقِيمِ، جلد ۱ص۴۷۷،حدیث نمبر ٩٠٨)
بکریوں کے گلے میں ہار ڈالنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے ہار گوندھتی تھی اور یہ جانور سب بکریاں ہوتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام نہیں باندھتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ بکریوں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۷؛مَا جَاءَ فِي تَقْلِيدِ الْغَنَمِ، جلد ۱ص۴۷۸،حدیث نمبر ٩٠٩)
ہدی مرنے کے قریب ہو تو کیا کیا جائے حضرت ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہدی مرنے کے قریب ہو تو کیا کروں؟ فرمایا اسے ذبح کر دو۔ پھر اس کے (ہاروں والے) جوتے اس کے خون میں ڈبو کر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو تا کہ وہ اس سے کھائیں۔ اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خراعی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ناجیہ حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں۔ اگر نفلی ہدی مرنے کے قریب ہو تو اسے نہ خود کھائے نہ اس کے ساتھی کھائیں بلکہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیں تا کہ وہ اس سے کھائیں، یہ اس کی طرف سے کافی ہوگی ۔ امام شافعی، احمد اور اسحق کا یہی قول ہے ۔ فرماتے ہیں اگر اس سے کچھ بھی کھایا تو کھانے کی مقدار تاوان دے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اگر نفلی ہدی سے کھائے گا تو تاوان دینا ہوگا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۱۸؛مَا جَاءَ إِذَا عَطِبَ الْهَدْیُ مَا يُصْنَعُ بِهٖ ، جلد ۱ص۴۷۸،حدیث نمبر ٩١٠)
ہدی پر سوار ہونا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کو ہانک کرلے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہوجا، عرض کرنے لگا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہدی کا جانور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تجھ پرافسوس یا تیرے لیے ہلاکت ہے۔ سوار ہو جا۔ اس باب میں حضرت علی ابو ہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث انس صحیح حسن ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے ضرورت کے وقت ہدی پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے ۔ امام شافعی احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علما فرماتے ہیں جب تک سوار ہونے پر مجبور نہ ہو سوار نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج، باب۶۱۹؛مَا جَاءَ فِی رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، جلد ۱ص۶۷۸،حدیث نمبر ٩١١)
سر کے بال کس طرف سے منڈوانے شروع کیے جائیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا پھر حجام (مونڈنے والا) کی طرف اپنے سر مبارک کا داہنا حصہ کیا اس نے مونڈا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے پھر دوسرا حصہ حجام کے سامنے رکھا اس نے اسے منڈا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بال لوگوں میں( تبرک کے لیے تقسیم کر دو) ابن ابی عمر نے بواسطه ابن سفیان ابن عیینہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۰؛مَاجَاءَ بِاَيِّ جَانِبِ الرأسِ يُبْدَاُ فِی الْخَلْقِ، جلد ۱ص۴۷۹،حدیث نمبر ٩١٢)
بال منڈوانا اور کتروانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے سرمنڈ وایا جبکہ بعض صحابہ کرام نے بال کتر وائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو بار فرمایا " اللہ تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پر رحم فرمائے یا پھر فرمایا ۔ بال کتروا نے والوں پر بھی( اللہ تعالی رحم فرمائے) اس باب میں حضرت ابن عباس ، ابن ام حسین ، مارب، ابوسعید ابو مریم ، حبشی بن جناده، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ ان کے نزدیک منڈوا نا بہتر ہے ۔ اگر چہ کتروانا بھی کافی ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۱؛مَا جَاءَ فِی الْحَلْقِ وَالتَّقْصِير، جلد ۱ص۴۷۹،حدیث نمبر ٩١٣)
عورتوں کے بال منڈوانا منع ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو سر منڈوانے سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۲،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَة الْحَلْقِ لِلنِّسَاءِ، جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٤)
محمد بن بشار نے بواسطه ابو داؤد اور ھمام ، خلاس سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی لیکن اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ذکر نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی رضی اللہ عنہ میں اضطراب ہے۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث بواسطہ قتادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماسے روایت کی کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر کے بال منڈوانے سے منع فرمایا۔ علماء کا اس پر عمل ہے کہ عورت کے لیے سر منڈوانا نہیں بلکہ بال کتروانے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۲،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَة الْحَلْقِ لِلنِّسَاءِ، جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٥)
ذبح سے پہلے سرمنڈوانے اور کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا حکم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کرو کوئی حرج نہیں۔ ایک دوسرے آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کنکریاں پھینکنے سے پہلے قربانی کر لی( کیا جائز ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنکریاں پھینکو کوئی حرج نہیں۔ اس باب میں حضرت علی ، جابر، ابن عباس ابن عمر اسامه بن شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عبداللہ بن عمرو حسن صحیح ہے ۔ اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام احمد اور اسحق رحمہا اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں افعال حج میں تقدیم و تاخیر سے جانور ذبح کرنا واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۳؛مَاجَاءَ فِي مَنْ حَلَقَ قَبْلُ أَن يَذْبَحَ او نَحَرَ قَبْلُ اَنْ یَرْمِی۔ جلد ۱ص۴۸۰،حدیث نمبر ٩١٦) -
احرام کھولنے پر طواف سے پہلے خوشبو لگانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے) احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی اور قربانی کے دن طواف سے پہلے مشک والی خوشبو لگائی ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ محرم کے لیے قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینک لینے ، جانور ذبح کر لینے اور سرمنڈوانے یا کتروانے کے بعد عورتوں کے سوا وہ سب کچھ حلال ہو جاتا ہے جو ابھی تک (بوجہ احرام ) حرام تھا۔ امام شافعی ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ عورتوں اور خوشبو کے سوا اس کے لیے سب چیزیں حلال ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا یہی نظریہ ہے اور اہلِ کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۴؛مَاجَاءَ في الطِيْبِ عِنْدَ الإحْلِالِ قَبْلَ الزِيَارَةِ ، جلد ۱ص۴۸۱،حدیث نمبر ٩١٧)
حج میں تلبیہ ختم کرنے کا وقت حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنے پیچھے بٹھا کر لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ اس باب میں حضرت علی ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ، فضل بن عباس حسن صحیح ہے۔ (بعض) صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ حاجی جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے سے سے پہلے تلبیہ کہتا ختم نہ کرے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا ہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۵؛مَاجَاءَ مَتٰى يُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِى الْحَجْ، جلد ۱ص۴۸۲،حدیث نمبر ٩١٨)
عمرہ میں تلبیہ کب ختم کیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھمامرفوعًا بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں حجرہ اسود کو بوسہ دینے سے پہلے تلبیہ بند نہیں کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں عمرہ کرنے والا حجرہ اسود کو بوسہ دینے سے پہلے تلبیہ ختم نہ کرے بعض علماء فرماتے ہیں مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو تلبیہ ختم کر دیں عمل رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ہے ۔ سفیان ثوری شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۶؛مَاجَاءَ مَتٰى يُقْطَعُ التَّلْبِيَةُ فِي العُمْرَةِ ، جلد ۱ص۶۸۲،حدیث نمبر ٩١٩)
رات کو طواف زیارت کرنا حضرت ابن عباس و عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اور بعض علماء نے طواف زیارت رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ بعض علماء کے نزدیک قربانی کے دن طواف زیارت مستحب ہے۔ بعض نے وسعت دیتے ہوئے منٰی کے آخر تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج،باب۶۲۷؛مَاجَاءَ فِي طَوَافِ الزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ، جلد ۱ص۴۸۲،حدیث نمبر ٩٢٠)
وادئ ابطح میں اترنا حضرت عبید اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر صدیق ، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم وادی ابطح میں اترتے تھے۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ابو رافع اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عمرحسن صحیح غریب ہے ہم اسے عبد الرزاق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک وادی البطح میں اترنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ جو چاہیے اترے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں ۔ وادی البطح میں اترنا حج کے افعال سے نہیں ۔ یہ ایک مقام ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۸؛مَاجَاءَ فِی نُزُولِ الْأَبْطَحِ، جلد ۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں تحصیب کوئی (لازمی) چیز نہیں۔ وہ ایک منزل ہے ۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں تحصیب کا مطلب وادی البطح میں اترنا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۸؛مَاجَاءَ فِی نُزُولِ الْأَبْطَحِ، جلد ۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢٢)
وادی ابطح میں اترنے کی وجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی البطح میں اس لیے اترتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے لیے یہ آسان تھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ہشام بن عروہ اس کے ہم معنی روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۲۹؛جلد۱ص۴۸۳،حدیث نمبر ٩٢٣)
بچے کا حج حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک عورت اپنا بچہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور تیرے لیے ثواب ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ حدیث جابر غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٤)
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی ہے۔ محمد بن منکدر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل حدیث بھی روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٥)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر میرے والد نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ اس وقت میں سات سال کا تھا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔علماء کا اتفاق ہے کہ اگر بچہ بالغ ہونے سے پہلے حج کرے تو بلوغت کے بعد بشرط استطاعت حج واجب ہوگا یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر غلام نے حالت غلامی میں حج کیا تو آزادی کے بعد استطاعت کی صورت میں دوبارہ حج کرنا ہوگا۔ غلامی کا حج کافی نہ ہو گا۔ سفیان ثوری، شافعی ، احمد اور اسحق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرتے تو عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے کنکریاں پھینکتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ۔ علماء کا اجماع ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی تلبیہ نہ کہے۔ بلکہ وہ خود کہے۔ لیکن اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۰؛مَاجَاءَ فِیْ حَجِّ الصَّبِيِّ، جلد ۱ص۴۸۴،حدیث نمبر ٩٢٧)
بہت بوڑھے اور میت کی طرف سے حج حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد پر حج فرض ہے۔ لیکن وہ بوڑھے ہیں۔ اونٹ کی پیٹھ پر نہیں ٹھر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کی طرف سے حج کر اس باب میں حضرت علی ، بریده حصین بن عوف ابو رزین عقیلی، سودہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث فضل بن عباس حسن صحیح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسے سنان بن عبداللہ جھنی اور ان کی چچی کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے ان روایات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس بارے میں اصح روایت وہ ہے جسے حضرت ابن عباس نے سے بواسطه فضل بن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ حدیث فضل ابن عباس وغیرہ کے واسطہ سے حضور سے سن کر مرسلًا روایت کی ہو ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث مروی ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے ان سب کے نزدیک میت کی طرف سے حج جائز ہے امام مالک فرماتے ہیں اگر میت نے (مرنے سے پہلے) وصیت کی تھی تو اس کی طرف سے حج کیا جائے بعض علماء نے زندہ کی طرف سے بھی حج کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ وہ بوڑھا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ حج نہ کر سکتا ہو۔ ابن مبارک اور شافعی رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۱؛مَاجَاءَ فِي الحَجِّ عَنِ الشيخ الكَبِيْرِ الْمَيِّتِ، جلد ۱ص۴۸۵،حدیث نمبر ٩٢٨)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابور رزین عقیلی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بہت بوڑھے ہو چکے ہیں نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی سفر کر سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں ہے۔ ابو رزین عقیلی کا نام لقیطہ بن عامر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۲؛منہ، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٢٩)
حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے را وی ہیں کہ ایک عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میری ماں فوت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے حج نہیں کیا۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان کی طرف سے حج کرو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۲؛منہ، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٣٠)
عمرہ واجب ہے یا نہیں ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا عمرہ واجب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، نہیں،، بلکہ افضل ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ بعض علماء کا یہی قول ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ عمرہ واجب نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دو حج ہیں بڑا حج قربانی کے دن اور چھوٹا حج عمرہ ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں۔ عمرہ سنت ہے ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس کے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اس کے نفل ہونے کے بارے کوئی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ضعیف روایت ثابت ہے۔ جس سے دلیل قائم نہیں کی جا سکتی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہمیں ایک روایت پہنچی ہے کہ یہ واجب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۳؛مَا جَاءَ فِي الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةً هِيَ أَمْ لَا، جلد ۱ص۴۸۶،حدیث نمبر ٩٣١)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا۔ اس باب میں حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن ہے ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ اسی طرح فرماتے ہیں۔ مفہوم حدیث یہ ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی اور فرمایا ۔ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا۔ یعنی حج کے مینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حج کے مینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔ کسی شخص کے لیے ان مہینوں کے سوا حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ عزت والے مہینے رجب۔ ذیقعدہ اور ذالحجہ اور محرم (کے مہینے) ہیں۔ متعدد صحابہ کرام اور تابعین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج؛باب۶۳۴، مِنْہُ، جلد ۱ص۴۸۷،حدیث نمبر ٩٣٢)
عمرہ کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمره تک درمیان کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہے۔ حج مقبول کا ثواب جنت ہی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۵؛ مَاجَاءَ فِیْ ذِكْرِ فَضْلِ الْعُمْرَةِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٣)
تنعیم سے عمرہ کرنا حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقام تنعیم سے عمرہ کرائیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۶؛مَا جَاءَ فِی العُمْرِ ۃِ مِنَ التَّنْعِيمِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٤)
جعرانہ سے عمرہ محرش کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مقام جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھ کر نکلے۔ رات کے وقت ہی مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اپنا عمرہ پورا کیا اور راتوں رات وہاں سے چل پڑے صبح کے وقت جعرانہ میں پہنچے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ہی یہاں گزاری تھی۔ دوسرے دن زوال آفتاب کے بعد میدان سرف کی طرف تشریف لے گئے یہاں تک کہ مزدلفہ کے ساتھ ساتھ میدان سرف کے وسطہ میں پہنچ گئے اسی لیے لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرہ پوشیدہ رہا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محرش کعبی سے اس کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج؛باب۶۳۷؛مَا جَاءَ فِي الْعُمَرَةِ مِنَ الْجَعْرَانَةِ، جلد ۱ص۴۸۸،حدیث نمبر ٩٣٥)
ماہ رجب میں عمرہ کرنا حضرت عروہ فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رجب میں۔ فرماتے ہیں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر عمرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ر ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب کے مہینے میں عمرہ نہیں کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ میں نے امام بخاری سے سنا۔ فرماتے تھے حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے حدیث نہیں سنی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۸؛مَاجَاءَ فِیْ عُمْرَةِ رَجَبٍ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے۔ ان میں ایک رجب کے مہینے میں تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۸؛مَاجَاءَ فِیْ عُمْرَةِ رَجَبٍ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٧)
ذی قعدہ میں عمرہ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۳۹؛مَاجَاءَ فِیْ عُمَرَ ةِ ذِی الْقَعْدَةِ، جلد ۱ص۴۸۹،حدیث نمبر ٩٣٨)
رمضان میں عمرہ حضرت ام معقل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، جابر، ابوہریرہ ، انس اور وہب بن خنبش رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ہرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے۔ بیان اور جابر نے شعبی سے وہب بن خنبش اور داؤد نے اودی اور شعبی سے ہرم بن خنبش نقل کیا ۔ وہب بن خنبش زیاده صحیح ہے۔ حدیث ام معقل اس طریق سے حسن غریب ہے۔ امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ کہ رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔ امام اسحٰق فرماتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب اسی طرح ہے۔ جیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے "قل ہواللہ احد " پڑھی اس نے قرآن کا ایک تہائی پڑھا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۰؛مَاجَاءَ فِي عُمرَة رَمَضَانَ، جلد ۱ص۴۹۰،حدیث نمبر ٩٣٩)
احرام باندھنے کے بعد معذور ہو جاتا حضرت عکرمہ فرماتے ہیں مجھ سے حجاج بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا پاؤں ٹوٹ گیا یا وہ لنگڑا ہو گیا وہ احرام سے نکل گیا۔ اب اس پر دوسرا حج واجب ہے ۔ عکرمہ فرماتے ہیں۔ میں نے حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو ان دونوں نے فرمایا ۔ اس ( حجاج بن عمرو)نے سچ کہا۔ اسحٰق بن منصور نے بواسطہ محمد بن عبداللہ انصاری حجاج سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ اور متعدد راویوں نے حجاج صواف سے اس کی مثل نقل کیا ہے۔ معمر اور معاویہ بن سلام نے یہ حدیث بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر عکرمہ اور عبداللہ بن رافع ، حجاج بن عمرو سے مرفوعاً روایت کی حجاج صواف نے اپنی روایت میں عبداللہ بن رافع کا ذکر نہیں کیا ۔ حجاج محدثین کے نزدیک ثقہ حافظ ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے سنا۔ انہوں نے فرمایا معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ عبد بن حمید نے بواسطہ عبد الرزاق، معمر، یحییٰ بن ابی کثیر، عکرمہ اور عبد اللہ بن رافع ، حجاج بن عمرو سے اس کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۱؛مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَيُكْسَرُ أوْ يَعْرَجُ، جلد ۱ص۴۹۰, حدیث نمبر ٩٤٠)
حج میں شرط لگانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ ضباعہ بنت زبیر نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ کیا میں شرط کر سکتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ کہنے لگیں۔ کیسے کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہو۔ حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اس میں جہاں تو رو کے احرام سے باہر آجاؤں گی ۔ اس باب میں حضرت جابر، اسماء اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ حج میں شرط کو جائز قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں اگر شرط رکھی تو بیماری پیش آنے یا کسی دوسرے عذر کی وجہ سے احرام سے باہر آسکتا ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک حج کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں اگر شرط کی تب بھی احرام سے نکلنے کا حق نہیں رکھتا گویا کہ شرط کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۲؛مَا جَاءَ فِي الاِشْتَرَاطِ فِی الحَجِّ ، جلد ۱ص۴۹۱،حدیث نمبر ٩٤١)
شرط نہ کرنا حضرت سالم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حج میں شرط کرنے کو برا سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کیا تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۳٫مِنْہُ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٢)
طواف زیارت کے بعد عورت کو حیض آنا حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا گیا کہ حضرت صفیہ بنت حیی کو ایام منٰی میں حیض آگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا انہوں نے طواف زیارت کر لیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کوئی بات نہیں اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ عورت طواف زیارت کر چکے پھرا سے حیض آئے تو وہ چلی آئے اس پر کوئی چیز واجب نہیں ۔ سفیان ثوری، شافعی احمد اور اسحٰق (اور امام ابوحنیفہ) رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج٫باب۶۴۴٫ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعد الإفاضةِ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو شخص بیت اللہ شریف کا حج کرے اسے چاہیے کہ اس کا آخری وقت خانہ کعبہ میں ہو البته حیض والی عورتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (طواف زیارت ترک کرنے کی) اجازت فرمائی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الحج٫باب۶۴۴٫ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعد الإفاضةِ، جلد ۱ص۴۹۲،حدیث نمبر ٩٤٤)
حائضہ، حج کے کون سے امور ادا کرے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں حائضہ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ تمام مناسک حج ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کےعلاوہ تمام مناسک ادا کرے۔ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے طریقوں سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابن عباس مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ نفاس اور حیض والی عورتیں غسل کر کے احرام باندھیں اور تمام مناسک حج ادا کریں سوائے طواف کعبہ کے جب تک کہ پاک نہ ہو جائیں یہ حدیث اسی طریق سے حسن غریب ے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ مَا تَقْضِی الْحَائِضُ مِنَ المَناسِکِ، جلد ۱ص۴۹۳،حدیث نمبر ٩٤٥)
طواف وداع حارث بن عبد اللہ بن ادرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے اس کا آخری وقت بیت اللہ شریف میں گزرنا چاہیے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اپنے ہاتھوں میں گرے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اور ہمیں نہیں بتائی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عارث بن عبد اللہ بن اوس غریب ہے اسی طرح کئی راویوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اس کی مثل روایت کی۔ لیکن بعض سندوں میں حجاج کے خلاف بھی مذکور ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۶؛مَاجَاءَ مَنْ حَجِّ أَوِ اعْتَمرَ فَلْيَكُن اٰخِرُ عَهْدِهِ بالْبَيْتِ ، جلد ۱ص۴۹۳،حدیث نمبر ٩٤٦)
قارن صرف ایک طواف کرے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ملایا اور دونوں کے لیے صرف ایک طواف کیا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ قارن صرف ایک طواف کرے۔ امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام فرماتے ہیں۔ دو طواف کرے اور (صفا مروہ کے درمیان) دو سعی کرے۔ سفیان ثوری اور اہلِ کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ انَ الْقَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا ، جلد ۱ص۴۹۴،حدیث نمبر ٩٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے حج اور عمرہ کا (اکٹھا) احرام باندھا اسے دونوں کی طرف سے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔ یہاں تک کہ دونوں کا احرام کھول دے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ دراوردی اس لفظ کے ساتھ متفرد ہوا جب کہ متعدد راویوں نے اسے عبیداللہ بن عمر سے غیر مرفوع (موقوف) روایت کیا ہے اور یہی اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۷؛مَاجَاءَ انَ الْقَارِنَ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا ، جلد ۱ص۴۹۴،حدیث نمبر ٩٤٨)
طوٰف وداع کے بعد مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کرنا حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مہاجر، حج کے افعال ادا کر چکنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں ٹھہرے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس سند کے ساتھ کئی طرق سے مرفوعاًمروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحج،باب۶۴۸ مَا جَاءَ إِنْ يَمُكُثَ المُهَا جرُبِمکَّةَ بَعْدَالصَّدْرِثَلٰثًا، جلد ۱ص۴۹۵،حدیث نمبر ٩٤٩)
حج اور عمرے سے واپسی پر کیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد یا حج عمرہ سے سے واپس تشریف لاتے وقت جب کسی بلند مقام پا ٹیلے پر چڑھتے تو تین مرتبہ تکبیر کہہ کر پڑھتے (ترجمہ) اللہ تعالی کے سواکوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی بادشاہی ہے وہی لائق تعریف ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے ہم لوٹنے والے ہیں (گناہوں سے) تو بہ کرنیوالے ہیں عبادت کر نیوالے ہیں پھر سے واپسی ہونیوالے ہیں۔ اور اپنے رب کی تعریف کر نیوالے ہیں اللہ تعالی نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تنہا تمام جماعتوں کو شکست دی اس باب میں حضرت براء انس اور جا بر رضی الله عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۴۹؛مَاجَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْقُفُولِ مِنَ الحج والعمرة، جلد ۱ص۴۹۵، حدیث نمبر ٩٥٠)
احترام کی حالت میں مرنے کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ سے گرا تو اسکی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا ۔ وہ احرام باندھے ہوئے تھا۔رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کو پانی اور بیری (کے پتوں )سے غسل دو انہی کپڑوں میں اسے دفن کرو لیکن سر کو مت ڈھانکو قیامت کے دن یہ اسی حالت میں احرام باندھے ہوئے یا تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سفیان ثوری، شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں محرم کے مرنے سے اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا اس کے ساتھ وہ عمل اختیار کیا جائے جو غیر محرم سے کیا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۰؛مَا جَاءَ فِی الْمُجْرِمِ يَمُوتُ فِیْ إحْرَامِهٖ، جلد ۱ص۴۹۵،حدیث نمبر ٩٥١)
محرم کی دکھی آنکھوں کا مُصَبَّرْ سے علاج عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں اور وہ اس وقت احرام میں تھے۔ چنانچہ انہوں نے ابان بن عثمان سے پوچھا (کہ کیا کروں ؟) انہوں نے فرمایا اس پر مصبر کا لیپ کرو میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث سنی ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر مصبر کا لیپ کیا کرو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے دوائی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب تک کہ اس میں خوشبو نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۱؛مَاجَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يَشْتَكِىْ عَيْنُه فَيَضُمدُ هَا بالصَّبْرِ، جلد ۱ص۴۹۶،حدیث نمبر ٩٥٢)
حالت احرام میں سرمنڈانے پر فدیہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حدیبیہ میں ان کے پاس سے گزرے وہ محرم تھے اور ابھی مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوئے تھے وہ ایک ہنڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں گر کر ان کے منہ پر پڑ رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، کیا تمہاری یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرمنڈوالو اور ایک فرق (تین صاع) کھانا چھ مسکینوں میں تقسیم کردو یا تین روزے رکھو یا ایک جانور ذبح کرو ابن ابی نجیح کہتے ہیں یا بکری ذبح کرو، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ محرم جب سر منڈوائے یا ایسا کپڑا پہن سے جو احرام میں نہیں پہننا چاہیے تھا یا خوشبو لگائے تو اس پر کفارہ ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۲؛مَاجَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يَحْلِقُ رَأْسَهُ في إحرامِهٖ مَا عَلَيْهِ ، جلد ۱ص۴۹۶،حدیث نمبر ٩٥٣)
چرواہوں کے لیے کنکریاں مارنے کا بیان ابو البداح بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن کنکریاں مارنے اور ایک دن چھوڑنے کی اجازت دی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ ابن عیینہ نے اس طرح روایت کیا ہے مالک بن انس نے بواسطہ عبد اللہ بن ابی بکر، ابو بکر ، ابو بداح بن عاصم بن عدی اور عاصم بن عدی سے روایت کیا مالک بن انس کی روایت اصح ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے چرواہوں کے لیے رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن کنکریاں ماریں اور ایک دن چھو ڑ دیں ۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۳مَا جَاءَ فِي الرخَّصَةِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوْا يَوْمًا وَيَدْعُوا يومًا، جلد ۱ص۴۹۷،حدیث نمبر ٩٥٤)
عاصم بن عدی فرماتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں رات گزارنے کے دنوں میں چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں۔ پھر دونوں کی رمی جمع کر کے ایک دن ماریں ۔ امام مالک فرماتے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان دونوں میں سے پہلے دن ماریں۔ پھر منٰی سے روانگی کے دن پھینکیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ ابن عینیہ کی روایت سے اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۳مَا جَاءَ فِي الرخَّصَةِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوْا يَوْمًا وَيَدْعُوا يومًا، جلد ۱ص۴۹۷،حدیث نمبر ٩٥٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ یمن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے عرض کیا جس نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام کھول دیتا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۴؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٦)
حج اکبر حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج اکبر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قربانی کا دن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۵؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٧)
حارث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوف حدیث روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اکبر قربانی کے دن ہے۔ یہ پہلی حدیث سے اصح ہے ۔ ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحٰق کی مرفوع روایت سے اصح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ متعدد حفاظ نے اسی طرح جو بواسطہ ابواسحٰق اور حارث، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے موقوفاً روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۵؛جلد۱ص۴۹۸،حدیث نمبر ٩٥٨)
رکنین کو ہاتھ لگانے اور طواف کرنے کی فضیلت عبید بن عمیر کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما رکنین (حجر اسود اور رکن یمانی) پر لوگوں پر غلبہ کرتے میں نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن ! آپ دونوں رکنوں پر اس قدر غلبہ کرتے ہیں کہ میں نے کسی صحابی رسول کو اس قدر غلبہ کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ہاتھ لگانا گنا ہوں کا کفارہ ہے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جس نے اس گھر کے سات چکر لگائے اور اس کی حفاظت کی تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی مثل ہے ۔ میں نے یہ بھی سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جب بھی ایک قدم رکھتا ہے اور ایک قدم اٹھاتا ہے اللہ تعالی اس کے سبب اس کی ایک غلطی معاف کرتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حماد بن زید نے بواسطہ عطاء بن سائب اور ابن عبید بن عمیر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی لیکن اس میں ان کے والد کا ذکر نہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛ باب۶۵۶؛مَا جَاءَ فِی اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ، جلد ۱ص۴۹۹،حدیث نمبر ٩٥٩)
طواف میں کلام کرنا کیسا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بیت اللہ شریف کے گرد طواف ، نماز کی مثل ہے۔ سن لو تم اس میں گفتگو کرتے ہو۔ پس جو اس میں کلام کرے وہ نیکی ہی کی بات کر ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ابن عباس اور دوسرے لوگوں سے بواسطه طاؤس حضرت ابن عباس کا قول (حدیث موقوف) مروی ہے ۔ ہم صرف عطاء بن سائب کی روایت سے اسے مرفوع جانتے ہیں ۔ اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مستحب ہے کہ طواف میں صرف ضرورت کے تحت کلام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو یا علمی گفتگو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۷؛جلد۱ص۴۹۹،حدیث نمبر ٩٦٠)
حجر اسود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا۔ اللّٰہ کی قسم! اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کے اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا۔ زبان ہوگی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ چوما اس پر گواہی دے گا امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہ۔ے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۸؛مَا جَاءَ فِیِ الحَجْرِ الْاَسْوَدِ، جلد ۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیه وسلم حالت احرام میں بلا خو شبو زیتون کا تیل استعمال فرماتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ ( مقتت )کے معنی خوشبو دارکے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے صرف فرقد سبخی کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے بارے میں کلام کیا ہے۔اور لوگوں نے ان سے روایت بھی لی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۸؛مَا جَاءَ فِیِ الحَجْرِ الْاَسْوَدِ، جلد ۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٢)
زمزم کا پانی لے جانا ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ رضی عنہ سے مروی ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی اٹھا کر لے جاتیں اور فرماتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے لے جاتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۵۹؛جلد۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٣)
حج کے موقعہ پر مقامات نماز عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی ؟ حضرت انس نے فرمایا منٰی میں فرماتے ہیں میں نے کہا واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی ؟ فرمایا وادی البطح میں، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اسی طرح کرو جس طرح تمہارے امیر کرتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسحٰق ارزق کی روایت سے غریب سمجھی گئی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الحج؛باب۶۶۰؛جلد،۱ص۵۰۰،حدیث نمبر ٩٦٤)
Tirmizi Shareef : Abwabul Haj
|
Tirmizi Shareef : أبواب الحج
|
•