
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق پوچھا جاے گا لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہوگی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا و مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو (سمجھ لو) تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ حَقِّ الرَّعِيَّةِ؛امام (حکمراں) پر رعایا کے کون سے حقوق لازم ہیں؟؛جلد٣،ص١٣٠؛حدیث نمبر؛٢٩٢٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الإِمَارَةِ؛حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١٣٠؛حدیث نمبر؛٢٩٢٩)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان میں سے ایک نے (اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی) گواہی دی پھر کہا کہ ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ اپ اپنے کام کاج یعنی(لوگوں سے زکوۃ وغیرہ کی اصولی کے کام میں ہم سے بھی مدد لے)دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے“۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے کوئی کام نہیں لیا یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الإِمَارَةِ؛حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١٣٠؛حدیث نمبر؛٢٩٣٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الضَّرِيرِ يُوَلَّى؛اندھے کو حاکم بنانا درست ہے؛جلد٣،ص١٣١؛حدیث نمبر؛٢٩٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے مخلص وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ مختلف ارادہ کرلے(یعنی اس کو خراب کرے)تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي اتِّخَاذِ الْوَزِيرِ؛وزیر مقرر کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣١؛حدیث نمبر؛٢٩٣٢)
حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا پھر ان سے فرمایا: ”قدیم! (مقدام کی تصغیر ہے) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر وفات پا گئے تو تم نے نجات پا لی“۔ (عریف: اپنے ساتھیوں کا تعارف کرانے والا، قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا، نقیب، یہ حاکم سے کم مرتبے کا ہوتا ہے، اور اپنی قوم کے ہر ایک شخص کا رویہ اور چال چلن حاکم سے بیان کرتا ہے اور اسے برے بھلے کی خبر دیتا ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الْعِرَافَة؛عرافت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٢؛حدیث نمبر؛٢٩٣٣)
غالب قطان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے جب ان کے پاس اسلام پہنچا تو چشمے والے نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا، چنانچہ وہ سب مسلمان ہو گئے تو اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو ان سے واپس لے لینا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ میرے والد نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، اور میرے والد نے اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا چنانچہ وہ اسلام لے آئے اور والد نے ان میں اونٹ تقسیم بھی کر دیئے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے اونٹ واپس لے لیں تو کیا وہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اب اگر آپ ہاں فرمائیں یا نہیں فرمائیں تو فرما دیجئیے میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اس چشمے کے وہ عریف ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ مجھے وہاں کا عریف بنا دیں، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو“۔ پھر انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں، تو وہ انہیں سو اونٹ دیں گے چنانچہ وہ سب اسلام لے آئے اور اچھے مسلمان ہو گئے، اب میرے والد چاہتے ہیں کہ ان اونٹوں کو ان سے واپس لے لیں تو کیا میرے والد ان اونٹوں کا حق رکھتے ہیں یا وہی لوگ حقدار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر وہ اونٹ ان کے پاس رہنے دیتا ہے تو یہ ٹھیک ہے اور اگر وہ واپس لے لینا چاہتا ہے تو ان لوگوں کی بہ نسبت وہ ان اونٹوں کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ اگر وہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو اس کا فائدہ ان لوگوں کو ہوگا اور اگر ان لوگوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا تو ان کے ساتھ اسلام کے لیے لڑائی کی جائے گی۔(یعنی اسلام سے پھر جانے کے باعث)“۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اور اس چشمے کے عریف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرافت تو ضروری (حق) ہے، اور لوگوں کو عرفاء کے بغیر چارہ نہیں لیکن (یہ جان لو) کہ عرفاء جہنم میں جائیں گے (کیونکہ ڈر ہے کہ اسے انصاف سے انجام نہیں دیں گے اور لوگوں کی حق تلفی کریں گے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الْعِرَافَة؛عرافت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٢؛حدیث نمبر؛٢٩٣٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:سجل نامی ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سکریٹری تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي اتِّخَاذِ الْكَاتِبِ؛سکریٹری رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٢؛حدیث نمبر؛٢٩٣٥)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:زکوۃ کو وصول کرنے والا شخص جو حق کے ہمراہ یہ کام کرتا ہے وہ اپنے گھر واپس آنے تک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ؛زکاۃ وصول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٢؛حدیث نمبر؛٢٩٣٦)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے "بھتہ لینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ؛زکاۃ وصول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٢؛حدیث نمبر؛٢٩٣٧)
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں:بھتہ لینے والے سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ؛زکاۃ وصول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٣؛حدیث نمبر؛٢٩٣٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھااور اگر میں کسی کو مقرر کر دیتا ہوں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مقرر کیا تھا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اللہ کی قسم! جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دونوں کا ذکر کیا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں کریں گے اور وہ کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کریں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الْخَلِيفَةِ يَسْتَخْلِف؛ ایسا خلیفہ جسے نامزد کیا گیا ہو؛جلد٣،ص١٣٣؛حدیث نمبر؛٢٩٣٩)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر(حاکم وقت کی)اطاعت و فرمانبرداری کی اطاعت کرنے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تلقین کی(ہم بھی یہ کہیں)"جہاں تک ہو سکے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْبَيْعَةِ؛بیعت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٣؛حدیث نمبر؛٢٩٤٠)
عروہ بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْبَيْعَةِ؛بیعت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٣؛حدیث نمبر؛٢٩٤١)
Abu Daud Sharif Kitabul Kharaje Wal Imarate Hadees No# 2942
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب ہم کسی کو کسی کام کا اہل مقرر کریں اور اسے اس کا معاوضہ دے تو اس کے علاوہ وہ جو کچھ حاصل کرے گا وہ خیانت ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ؛ملازمین کی تنخواہ کا بیان؛جلد٣،ص١٣٤؛حدیث نمبر؛٢٩٤٣)
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ؛ملازمین کی تنخواہ کا بیان؛جلد٣،ص١٣٤؛حدیث نمبر؛٢٩٤٤)
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے“۔ مستورد کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ؛ملازمین کی تنخواہ کا بیان؛جلد٣،ص١٣٤؛حدیث نمبر؛٢٩٤٥)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا (ابن سرح کی روایت میں ابن اتبیہ ہے) جب وہ (وصول کر کے) آیا تو کہنے لگا: یہ مال تو تمہارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”عامل کا کیا معاملہ ہے؟ کہ ہم اسے (وصولی کے لیے) بھیجیں اور وہ (زکاۃ کا مال لے کر) آئے اور پھر یہ کہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں، تم میں سے جو شخص کوئی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، اگر اونٹ ہو گا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر بیل ہو گا تو ڈکار رہا ہو گا، اگر بکری ہو گی تو ممیا رہی ہو گی“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کر دی،اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ؛ملازمین کو ہدیہ لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١٣٤؛حدیث نمبر؛٢٩٤٦)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا: ”ابومسعود! جاؤ (مگر دیکھو) ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت میں اپنی پیٹھ پر زکاۃ کا اونٹ جسے تم نے خیانت کے طور لئے تھے،آتا ہوا دیکھوں اور وہ بلبلا رہا ہو“، ابومسعود رضی اللہ عنہ بولے: اگر ایسا ہے تو میں نہیں جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تجھ پر جبر نہیں کرتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي غُلُولِ الصَّدَقَةِ؛(وصول ہونے والے)صدقہ میں خیانت کرنا؛جلد٣،ص١٣٥؛حدیث نمبر؛٢٩٤٧)
ابومریم ازدی (اسدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! بڑے اچھے آئے، میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بتا رہا ہوں، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائےتو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے“۔ یہ سنے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِيمَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ أَمْرِ الرَّعِيَّةِ وَالْحَجَبَةِ عَنْهُ؛ رعایا کے معاملے میں حکمران پر کیا لازم ہے،نیز اس کا ان سے دور رہنا؛جلد٣،ص١٣٥؛حدیث نمبر؛٢٩٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تمہیں میں جو بھی چیز دوں یا جو بھی چیز نہ دوں تو اس کے حوالے سے میں صرف،ایک خزانچی ہوں، میں اسی طرح خرچ کرتا ہوں جس طرح مجھے حکم دیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِيمَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ أَمْرِ الرَّعِيَّةِ وَالْحَجَبَةِ عَنْهُ؛ رعایا کے معاملے میں حکمران پر کیا لازم ہے،نیز اس کا ان سے دور رہنا؛جلد٣،ص١٣٦؛حدیث نمبر؛٢٩٤٩)
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن فیٔ (بغیر جنگ کے ملا ہوا مال) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہو گا یا جس نے (اسلام کے لیے) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہو گا یا حاجت مند ہو گا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہو گا، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے مال فیٔ تقسیم کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِيمَا يَلْزَمُ الإِمَامَ مِنْ أَمْرِ الرَّعِيَّةِ وَالْحَجَبَةِ عَنْهُ؛ رعایا کے معاملے میں حکمران پر کیا لازم ہے،نیز اس کا ان سے دور رہنا؛جلد٣،ص١٣٦؛حدیث نمبر؛٢٩٥٠)
حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کس ضرورت سے آنا ہوا؟ کہا: آزاد کئے ہوئے غلاموں کا وظیفہ لینے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ کے پاس فیٔ کا مال آتا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزاد غلاموں کا حصہ دینا شروع کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي قَسْمِ الْفَىْءِ؛مال فے کی تقسیم؛جلد٣،ص١٣٦؛حدیث نمبر؛٢٩٥١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں خونگے (قیمتی پتھر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد عورتوں اور کنیزوں میں تقسیم کر دیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے والد (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) آزاد مردوں اور غلاموں میں تقسیم کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي قَسْمِ الْفَىْءِ؛مال فے کی تقسیم؛جلد٣،ص١٣٦؛حدیث نمبر؛٢٩٥٢)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي قَسْمِ الْفَىْءِ؛مال فے کی تقسیم؛جلد٣،ص١٣٦؛حدیث نمبر؛٢٩٥٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں مومنین کے نزدیک ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں پس جو مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ (قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش) میرے ذمہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الذُّرِّيَّةِ؛مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٧؛حدیث نمبر؛٢٩٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص مال چھوڑ جائے گا وہ اس کے ورثہ کو ملے گا اور جو ذمہ داری چھوڑے گا وہ ہماری طرف آئے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الذُّرِّيَّةِ؛مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٧؛حدیث نمبر؛٢٩٥٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں جو شخص فوت ہو جائے اور قرض چھوڑ کر چلا جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے ورثہ کو ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَرْزَاقِ الذُّرِّيَّةِ؛مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٧؛حدیث نمبر؛٢٩٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (۱۴) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَتَى يُفْرَضُ لِلرَّجُلِ فِي الْمُقَاتِلَةِ؛لڑائی میں کس عمر کے مرد کا حصہ لگایا جائے؟؛جلد٣،ص١٣٧؛حدیث نمبر؛٢٩٥٧)
سلیم بن مطیر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حج کرنے کے ارادے سے نکلے، جب مقام سویدا پر پہنچے تو انہیں ایک (بوڑھا) شخص ملا، لگتا تھا کہ وہ دوا یا کوئی بوٹی کی تلاش میں نکلا ہے، وہ کہنے لگا: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں اس حال میں سنا کہ آپ لوگوں کو نصیحت کر رہے تھے، انہیں نیکی کا حکم دے رہے تھے اور بری باتوں سے روک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے لوگو!عطیات اس وقت اصول کرو جب تک وہ عطیات ہوں لیکن جب حکومت کے معاملے میں قریش سے جھگڑا شروع ہو جائے تو یہ تمہارے دین کا معاوضہ بن جائیں گے تو تم انہیں چھوڑ دینا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ابن مبارک نے محمد بن یسار سے انہوں نے سلیم بن مطیر سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الاِفْتِرَاضِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٧؛حدیث نمبر؛٢٩٥٨)
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے (لوگوں کو اچھی باتوں کا) حکم دیا (اور انہیں بری باتوں سے) منع کیا پھر فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) انہیں پہنچا دیا“، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے (یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے) تو اسے چھوڑ دو“۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائدہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الاِفْتِرَاضِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص١٣٨؛حدیث نمبر؛٢٩٥٩)
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ انصار کا ایک لشکر اپنے امیر کے ساتھ سر زمین فارس میں تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر سال لشکر تبدیل کر دیا کرتے تھے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (خیال نہیں رہا) دوسرے کام میں مشغول ہو گئے جب میعاد پوری ہو گئی تو اس لشکر کے لوگ لوٹ آئے تو وہ ان پر برہم ہوئے اور ان کو ڈانٹا حالانکہ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، تو وہ کہنے لگے: عمر! آپ ہم سے غافل ہو گئے، اور آپ نے وہ قاعدہ چھوڑ دیا جس پر عمل کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ایک کے بعد ایک لشکر بھیجنا تاکہ پہلا لشکر لوٹ آئے اور اس کی جگہ وہاں دوسرا لشکر رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَدْوِينِ الْعَطَاءِ؛وظیفہ کے مستحقین کے ناموں کو رجسٹر میں لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٨؛حدیث نمبر؛٢٩٦٠)
حضرت عدی بن عدی کندی کے ایک لڑکے کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ جو کوئی شخص پوچھے کہ مال فیٔ کہاں کہاں صرف کرنا چاہیئے تو اسے بتایا جائے کہ جہاں جہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے وہیں خرچ کیا جائے گا،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مسلمانوں نے انصاف کے موافق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ” «جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه» “ (اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کر دیا ہے) کا مصداق جانا، انہوں نے مسلمانوں کے لیے عطیے مقرر کئے اور دیگر ادیان والوں سے جزیہ لینے کے عوض ان کے امان اور حفاظت کی ذمہ داری لی، اور جزیہ میں نہ خمس (پانچواں حصہ) مقرر کیا اور نہ ہی اسے مال غنیمت سمجھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَدْوِينِ الْعَطَاءِ؛وظیفہ کے مستحقین کے ناموں کو رجسٹر میں لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٨؛حدیث نمبر؛٢٩٦١)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " بے شک اللہ تعالی نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا وہ اس کے مطابق بات کرتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَدْوِينِ الْعَطَاءِ؛وظیفہ کے مستحقین کے ناموں کو رجسٹر میں لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٣٩؛حدیث نمبر؛٢٩٦٢)
حضرت مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دن چڑھے بلوا بھیجا، چنانچہ میں آیا تو انہیں ایک تخت پر جس پر کوئی چیز بچھی ہوئی نہیں تھی بیٹھا ہوا پایا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے: مالک! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں کچھ دینے کے لیے حکم دیا ہے تو تم ان میں تقسیم کر دو، میں نے کہا: اگر اس کام کے لیے آپ کسی اور کو کہتے (تو اچھا رہتا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں تم (جو میں دے رہا ہوں) لے لو (اور ان میں تقسیم کر دو) اسی دوران یرفاء آ گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین! عثمان بن عفان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم آئے ہوئے ہیں اور ملنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں بلا لوں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (بلا لو) اس نے انہیں اجازت دی، وہ لوگ اندر آ گئے، جب وہ اندر آ گئے، تو یرفا پھر آیا، اور آ کر کہنے لگا: امیر المؤمنین! ابن عباس اور علی رضی اللہ عنہما آنا چاہتے ہیں؛ اگر حکم ہو تو آنے دوں؟ کہا: ہاں (آنے دو) اس نے انہیں بھی اجازت دے دی، چنانچہ وہ بھی اندر آ گئے، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے (یعنی علی رضی اللہ عنہ کے) درمیان (معاملے کا) فیصلہ کر دیجئیے، (تاکہ جھگڑا ختم ہو) اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں امیر المؤمنین! ان دونوں کا فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچائیے۔ مالک بن اوس کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ ان دونوں ہی نے ان لوگوں (عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم) کو اپنے سے پہلے اسی مقصد سے بھیجا تھا (کہ وہ لوگ اس قضیہ کا فیصلہ کرانے میں مدد دیں)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے! تم دونوں صبر و سکون سے بیٹھو (میں ابھی فیصلہ کئے دیتا ہوں) پھر ان موجود صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر مرتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟“، سبھوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں۔ پھر وہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین، و آسمان قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہمارا (گروہ انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟“، ان دونوں نے کہا: ہاں ہمیں معلوم ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی خصوصیت سے سرفراز فرمایا تھا جس سے دنیا کے کسی انسان کو بھی سرفراز نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ وہ مال ہے جو اللہ نے اپنے رسول کو عطا کیا ہے تم لوگوں نے اس کے لیے گھوڑے نہیں دوڑائے اور سواریاں نہیں دوڑائی لیکن اللہ تعالی اپنے رسول کو جس پر چاہتا ہے غلبہ عطا کرتا ہے اور اللہ تعالی ہر شے پر قدرت رکھتا ہے" الحشر: ۶)چنانچہ اللہ نے اپنے رسول کو بنو نضیر کا مال دلایا، لیکن قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہیں محروم کر کے صرف اپنے لیے نہیں رکھ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے صرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کا سال بھر کا خرچہ نکال لیتے تھے، اور جو باقی بچتا وہ دوسرے مالوں کی طرح رہتا (یعنی مستحقین اور ضرورت مندوں میں خرچ ہوتا)۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم اس بات کو جانتے ہو (یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے) انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں اس اللہ کی ذات کو گواہ بنا کر تم سے پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم اس کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں (یعنی ایسا ہی ہے) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات کا نگراں ہو، پھر تم اور یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تم اپنے بھتیجے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ترکہ میں سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کی میراث مانگ رہے ہیں جو انہیں ان کے باپ کے ترکہ سے ملنے والا تھا، پھر ابوبکر (اللہ ان پر رحم کرے) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“، اور اللہ جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے نیک اور حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مال پر قابض رہے، جب انہوں نے وفات پائی تو میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معاملات کا نگراں ہوں، اور اس وقت تک والی ہوں جب تک اللہ چاہے۔ پھر تم اور یہ (علی) آئے تم دونوں ایک ہی تھے، تمہارا معاملہ بھی ایک ہی تھا تم دونوں نے اسے مجھ سے طلب کیا تو میں نے کہا تھا: اگر تم چاہتے ہو کہ میں اسے تم دونوں کو اس شرط پر دے دوں کہ اللہ کا عہد کر کے کہو اس مال میں اسی طرح کام کرو گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دیکھ بھال کرتے تھے، چنانچہ اسی شرط پر وہ مال تم نے مجھ سے لے لیا۔ اب پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو کہ اس کے سوا دوسرے طریقہ پر میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں تو قسم اللہ کی! میں قیامت تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہ کروں گا، اگر تم دونوں ان مالوں کا (معاہدہ کے مطابق) اہتمام نہیں کر سکتے تو پھر اسے مجھے لوٹا دو (میں اپنی تولیت میں لے کر پہلے کی طرح اہتمام کروں گا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس بات کی درخواست کی تھی کہ یہ ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا کر دیا جائے، ایسا نہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: «لا نورث ما تركنا صدقة» ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“ معلوم نہیں تھا بلکہ وہ بھی حق ہی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پر تقسیم کا نام نہ آنے دوں گا (کیونکہ ممکن ہے بعد والے میراث سمجھ لیں) بلکہ میں اسے پہلی ہی حالت پر باقی رہنے دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٣٩؛حدیث نمبر؛٢٩٦٣)
یہی واقعہ ایک اور سند کے ہمراہ مالک بن اوس کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں حضرات نے یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں اختلاف کیا تھا جو اللہ تعالی نے بنو نضیر کی زمینیں اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر عطا کی تھی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ اس پر تقسیم کے لفظ کا اطلاق نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٠؛حدیث نمبر؛٢٩٦٤)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بنو نضیر کا مال اس قسم کا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا کیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے (یعنی جنگ لڑ کر حاصل نہیں کیا تھا) اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے۔ ابن عبدہ کہتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچہ لے لیا کرتے تھے اور جو بچ رہتا تھا اسے گھوڑے اور جہاد کی تیاری میں صرف کرتے تھے، ابن عبدہ کی روایت میں: «في الكراع والسلاح» کے الفاظ ہیں، (یعنی مجاہدین کے لیے گھوڑے اور ہتھیار کی فراہمی میں خرچ کرتے تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤١؛حدیث نمبر؛٢٩٦٥)
زہری بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:( ارشاد باری تعالی ہے) "اللہ نے اپنے رسول کو جو چیز مال فئے کے طور پر عطا کی ہے یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جن کے لیے تم نے اپنے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے۔"(حشر٦) زہری کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے اس سے مراد عرینہ کی کچھ بستیاں تھیں،فدک تھا اور فلاں فلاں جگہ تھی( ارشاد باری تعالی ہے)" اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مختلف بستیوں میں سے جو مال فئے کے طور پر عطا کیا وہ اللہ اور اس کے رسول،قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہوگا" (حشر٧) اور ان غریبوں کے لیے ہوگا جنہیں ان کے علاقوں اور زمینوں سے نکال دیا گیا ہے اور جنہوں نے ایک مخصوص جگہ اور ایمان کو ٹھکانہ بنا لیا اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے تو اس آیت میں تمام لوگوں کا ذکر ہو گیا مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا باقی نہیں رہا جس کا اس میں حق نہ ہو۔ ایوب نامی راوی نے الفاظ نقل کیے ہیں جس کا اس میں حصہ نہ ہو البتہ بعض ایسے لوگ جن کے تم مالک ہو جو غلام ہے ان کا حکم مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤١؛حدیث نمبر؛٢٩٦٦)
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس بات سے دلیل قائم کی وہ یہ تھی بنو نضیر، خیبر، اور فدک کی وہ زمینیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھی ان سے بنو نضیر کی زمینیں حادثات پیش آنے پر خرچ کرنے کے لیے مخصوص تھی اور جو مال فدک سے حاصل ہوتا تھا وہ محتاج مسافروں کے استعمال کے کام میں آتا تھا، اور خیبر کے مال کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حصے کئے تھے، دو حصے عام مسلمانوں کے لیے تھے، اور ایک اپنے ازواج کے خرچ کے لیے، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے خرچہ سے بچتا اسے مہاجرین کے فقراء پہ خرچ کر دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤١؛حدیث نمبر؛٢٩٦٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (کسی کو) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجوایا اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی وراثت کا مطالبہ کیا،جو اس مال میں تھی جو اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر مدینہ منورہ میں فدک میں عطا کیا تھا اور خیبر کے خمس میں سے جو باقی بچ جاتا تھا(اس میں سے جو وراثت تھی اس کا مطالبہ کیا)، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل ازواج اس مال سے صرف کھا سکتی ہے (یعنی کھانے کے بمقدار لے سکتی ہے)“، اور قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ کی جو صورت حال تھی اس میں ذرا بھی تبدیلی نہ کروں گا، میں اس مال میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، حاصل یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس مال میں سے (بطور وراثت) کچھ دینے والی بات کو نہیں مانا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٢؛حدیث نمبر؛٢٩٦٨)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت (اپنے والد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کی طلب گار تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس میں سے بچ رہا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اس مال میں سے (یعنی اللہ کے مال میں سے) صرف اپنے کھانے کی مقدار لے گی“ اور ان لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کھانے سے زیادہ کوئی چیز وصول کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٢؛حدیث نمبر؛٢٩٦٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بات نہیں مانی اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر بھٹک نہ جاؤں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے مدینہ کی زمینوں کو حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی تحویل میں دے دیا، علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی (یعنی خلیفہ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٢؛حدیث نمبر؛٢٩٧٠)
زہری اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں:(ترجمہ)"تم نے اس کے لیے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے"(حشر ٦) وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک والوں سے مصالحت کر لی تھی راوی نے ایک اور بستی کا نام بھی ذکر کیا تھا جو مجھے یاد نہیں ہے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور قوم کا بھی محاصرہ کیے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح کا پیغام بھجوایا تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:ترجمہ"تم لوگوں نے اس کے لیے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے"(حشر ٦)اس سے مراد یہ ہے: تم لوگوں نے جنگ کے بغیر وہ جگہ حاصل کر لی تھی زہری بیان کرتے ہیں بنو نضیر کی زمینیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لڑ کر حاصل نہیں کیا تھا بلکہ انہیں صلح کے ذریعے فتح کر لیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی زمین مہاجرین کے درمیان تقسیم کی تھی آپ نے ان میں سے انصار کو کچھ نہیں دیا تھا صرف دو انصاریوں کو دیا تھا جنہیں ان کی شدید ضرورت تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٣؛حدیث نمبر؛٢٩٧١)
مغیرہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (ازواج ، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال ، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات نہیں مانی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما گئے، پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٣؛حدیث نمبر؛٢٩٧٢)
ابو طفیل بیان کرتے ہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی وراثت کا مطالبہ کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جب اللہ تعالی کسی نبی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے تو اس کا نگران وہ شخص ہوتا ہے جو نبی کے بعد( اس کا جانشین ہوتا ہے)"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٤؛حدیث نمبر؛٢٩٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:میرے ورثہ دینار تقسیم نہیں کریں گے اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہلکاروں کی تنخواہوں کے بعد میں جو کچھ چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہوگا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اپنے اہلکاروں کے معاوضے سے مراد زمین پر کام کرنے والوں کا معاوضہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٤؛حدیث نمبر؛٢٩٧٤)
ابوالبختری کہتے ہیں میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے اچھی لگی، میں نے اس سے کہا: ذرا اسے مجھے لکھ کر دو، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا: حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم (پہلے سے) بیٹھے تھے، یہ دونوں (یعنی عباس اور علی رضی اللہ عنہما) جھگڑا کر رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے ازواج کو کھلا دے یا پہنا دے، بیشک ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا“، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے اپنے ازواج پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کر دیتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک رہے، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٤؛حدیث نمبر؛٢٩٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سب سے کہا (کیا تمہیں یاد نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٥؛حدیث نمبر؛٢٩٧٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ ابن شہاب زہری سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (دیگر امہات المؤمنین سے) کہا: تم اللہ سے ڈرتی نہیں، کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور یہ مال محمد کے گھر والوں کی ضروریات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، اور جب میں فوت ہوجاؤں گا تو یہ مال اس شخص کی نگرانی و تحویل میں رہے گا جو میرے بعد معاملہ کا والی ہو گا (مسلمانوں کا خلیفہ ہو گا)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ؛ مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان؛جلد٣،ص١٤٥؛حدیث نمبر؛٢٩٧٧)
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفان دونوں اس خمس کی تقسیم کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم فرمایا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب کو حصہ دلایا اور ہم کو کچھ نہ دلایا جب کہ ہمارا اور ان کا آپ سے تعلق و رشتہ یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں“ جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اپنی خلافت میں خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرماتے تھے مگر یہ تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کو اتنی زیادہ ادائیگی نہیں کرتے تھے جتنی زیادہ ادائیگی انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس میں سے ان کو دیتے تھے اور ان کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ان کو دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٥؛حدیث نمبر؛٢٩٧٨)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا، جب کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی خمس اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم کیا کرتے تھے، مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو اس طرح ادائیگی نہیں کرتے تھے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ادائیگی کیا کرتے تھے، البتہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے بعد جو خلیفہ ہوئے وہ بھی دیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٦؛حدیث نمبر؛٢٩٧٩)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، اور بنو نوفل اور بنو عبد شمس کو چھوڑ دیا، تو میں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دونوں چل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہیں میں سے کیا ہے، لیکن ہمارے بھائی بنو مطلب کا کیا معاملہ ہے؟ کہ آپ نے ان کو دیا اور ہم کو نہیں دیا، جب کہ آپ سے ہماری اور ان کی قرابت داری یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اور بنو مطلب دونوں جدا نہیں ہوئے نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، ہم اور وہ ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا (گویا دکھایا کہ اس طرح)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٦؛حدیث نمبر؛٢٩٨٠)
سدی بیان کرتے ہیں: قریبی رشتہ داروں سے مراد"بنو عبدالمطلب"ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٦؛حدیث نمبر؛٢٩٨١)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ہرمز نے خبر دی کہ نجدہ حروری (خارجیوں کے رئیس) نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے بحران کے زمانہ میں جس وقت حج کیا تو اس نے ایک شخص کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس «ذي القربى» کا حصہ پوچھنے کے لیے بھیجا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس سے کون مراد ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز و اقارب مراد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سب میں تقسیم فرمایا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمیں اس میں سے دیا تھا لیکن ہم نے اسے اپنے حق سے کم پایا تو لوٹا دیا اور لینے سے انکار کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٦؛حدیث نمبر؛٢٩٨٢)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کے پانچویں حصے کا نگراں مقرر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اسے مخصوص امور کے لیے خرچ کرتا رہا اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما زندگی میں پھر (عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: اس کو لے لو، میں نے کہا: میں نہیں لینا چاہتا، انہوں نے کہا: لے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو، میں نے کہا:ہم اس سے بے نیاز ہیں تو انہوں نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٦؛حدیث نمبر؛٢٩٨٣)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم چاروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو اللہ کی کتاب میں خمس کا جو حکم ہے اس میں سے ہمارے حق کا اپ مجھے نگراں مقرر کر دیں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسے خرچ کرتا رہوں گا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص اس بارے میں میرے ساتھ جھگڑا نہ کرے، تو آپ نے ایسا ہی کیا، پھر میں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات رہے اسے تقسیم کرتا رہا پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا اختیار سونپا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سال میں آپ کے پاس بہت سا مال آیا، آپ نے اس میں سے ہمارا حق الگ کیا، پھر مجھے بلا بھیجا، میں نے کہا: اس سال ہم کو مال کی ضرورت نہیں جب کہ دوسرے مسلمان اس کے حاجت مند ہیں، آپ ان کو دے دیجئیے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دے دیا، عمر رضی اللہ عنہ کے بعد پھر کسی نے مجھے اس مال (یعنی خمس الخمس) کے لینے کے لیے نہیں بلایا، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلنے کے بعد میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملا، تو وہ کہنے لگے: علی! تم نے ہم کو آج ایسی چیز سے محروم کر دیا جو پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے گی (یعنی اب کبھی یہ حصہ ہم کو نہ ملے گا) اور وہ ایک سمجھدار آدمی تھے (انہوں نے جو کہا تھا وہی ہوا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٧؛حدیث نمبر؛٢٩٨٤)
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے ان سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ اللہ کے رسول! ہم جس عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، اور ہم شادی کرنے کے خواہاں ہیں، اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رشتہ و ناتے کا خیال رکھنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کے رسول! ہمیں صدقہ وصولی کے کام پر لگا دیجئیے جو دوسرے عمال وصول کر کے دیتے ہیں وہ ہم بھی وصول کر کے دیں گے اور جو فائدہ (یعنی حق محنت) ہو گا وہ ہم پائیں گے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اسی حال میں تھے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے ہم سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قسم اللہ کی! ہم تم میں سے کسی کو بھی صدقہ کی وصولی کا عامل نہیں بنائیں گے“۔ اس پر ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو، تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل کیا تو ہم نے تم سے کوئی حسد نہیں کیا، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ اپنی چادر بچھا کر اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: میں ابوالحسن جو اپنی قوم کا سب سے سمجھدار آدمی ہےقسم اللہ کی! میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک کہ تمہارے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بات کا جواب لے کر نہ آ جائیں جس کے لیے تم نے انہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں گئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا ہم نے سب کے ساتھ نماز جماعت سے پڑھی، نماز پڑھ کر میں اور فضل دونوں جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کی طرف گئے ، آپ اس دن ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اور ہم دروازے پر کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور (پیار سے) میرے اور فضل کے کان پکڑے، اور کہا: ”بولو بولو، جو دل میں لیے ہو“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں چلے گئے اور مجھے اور فضل کو گھر میں آنے کی اجازت دی، تو ہم اندر چلے گئے، اور ہم نے تھوڑی دیر ایک دوسرے کو بات چھیڑنے کے لیے اشارہ کیا (تم کہو تم کہو) پھر میں نے یا فضل نے (یہ شک حدیث کے راوی عبداللہ کو ہوا) آپ سے وہی بات کہی جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھڑی تک چپ رہے، پھر نگاہیں اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیر تک دیکھتے رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی جواب نہ دیں، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ پردے کی آڑ سے (ام المؤمنین) زینب رضی اللہ عنہا اشارہ کر رہی ہیں کہ تم جلدی نہ کرو (گھبراؤ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہی مطلب کی فکر میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو نیچا کیا، اور فرمایا: ”یہ صدقہ تو لوگوں (کے مال) کا میل (کچیل) ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل (و اولاد) کے لیے حلال نہیں ہے، (یعنی بنو ہاشم کے لیے صدقہ لینا درست نہیں ہے) نوفل بن حارث کو میرے پاس بلاؤ“ چنانچہ نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوفل! اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب سے کر دو“، تو نوفل نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ“، محمیۃ بن جزء رضی اللہ عنہ بنو زبید کے ایک فرد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خمس کی وصولی کا عامل بنا رکھا تھا (وہ آئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم فضل کا (اپنی بیٹی سے) نکاح کر دو“، تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) کہا: ”جاؤ مال خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا ادا کر دو“۔ (ابن شہاب کہتے ہیں) عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٤٧؛حدیث نمبر؛٢٩٨٥)
فضل بن حسن ضمری کہتے ہیں کہ سیدہ ام الحکم رضی اللہ عنہا یا ضباعہ رضی اللہ عنہا (زبیر بن عبدالمطلب کی دونوں بیٹیوں) میں سے کسی ایک نے دوسرے کے واسطے سے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں اور میری بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم نے اپنی تکالیف کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا اور درخواست کی کہ کوئی قیدی آپ ہمیں دلوا دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں (یعنی تم سے پہلے آ کر انہوں نے قیدیوں کی درخواست کی اور انہیں لے گئیں)، لیکن (دل گرفتہ ہونے کی بات نہیں) میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہے، ہر نماز کے بعد (۳۳) مرتبہ اللہ اکبر، (۳۳) مرتبہ سبحان اللہ، (۳۳) مرتبہ الحمداللہ، اور ایک بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہہ لیا کرو“۔ عیاش کہتے ہیں کہ یہ (ضباعہ اور ام الحکم رضی اللہ عنہما) دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہنیں تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٠؛حدیث نمبر؛٢٩٨٧)
ابن اعبد کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چکی چلایا کرتی تھی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے تھے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: ”تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟“، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان (گٹھا) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ، (۳۳) بار الحمدللہ، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں“۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٠؛حدیث نمبر؛٢٩٨٨)
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ نقل کیا ہے،جس میں یہ الفاظ ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی خدمت گار نہیں دیا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٥١؛حدیث نمبر؛٢٩٨٩)
حضرت مجاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی دیت مانگنے آئے جسے بنو ذہل میں سے بنی سدوس نے قتل کر ڈالا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی مشرک کی دیت ادا کرتا ہوتا، تو تمہارے بھائی کی بھی ادا کر دیتا،البتہ میں تمہیں ایک اور چیز دوں گا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ذہل کے مشرکین سے پہلے پہل حاصل ہونے والے خمس میں سے سو اونٹ اسے دینے کے لیے لکھ دیا۔ مجاعہ رضی اللہ عنہ کو ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بنو ذہل کے مسلمان ہو جانے کے بعد ملے، اور مجاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باقی اونٹوں کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کے خلیفہ ہونے کے بعد طلب کئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب (تحریر) دکھائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجاعہ رضی اللہ عنہ کے یمامہ کے صدقے میں سے بارہ ہزار صاع دینے کے لیے لکھ دیا، چار ہزار صاع گیہوں کے، چار ہزار صاع جو کے اور چار ہزار صاع کھجور کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاعہ کو جو کتاب (تحریر) لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا: " اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، یہ کتاب محمد نبی کی جانب سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے ہے جو بنو سلمی میں سے ہیں، میں نے اسے بنی ذہل کے مشرکوں سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے سو اونٹ اس کے مقتول بھائی کے عوض میں دیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؛خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٥١؛حدیث نمبر؛٢٩٩٠)
عامر شعبی بیان کرتے ہیں ایک حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوتا تھا جسے"صفی"کہا جاتا تھا اگر آپ چاہتے تو وہ غلام ہوتا،اگر چاہتے تو وہ کنیز ہوتی، اور اگر چاہتے تو گھوڑا ہوتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خمس سے پہلے اختیار کر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٢؛حدیث نمبر؛٢٩٩١)
ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے محمد( بن سیرین)سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور صفی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرے مسلمانوں کے ساتھ حصہ مخصوص کیا جاتا تھا،اگر آپ جنگ میں شریک نہ ہوئے ہوں اور آپ "صفی" کو خمس میں سب سے پہلے حاصل کر لیتے تھے جو ہر چیز سے پہلے ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٢؛حدیث نمبر؛٢٩٩٢)
قتادہ رحمت اللہ تعالی علیہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے تو ایک آپ کا مخصوص حصہ ہوتا تھا کہ آپ جو چیز چاہے وہ حاصل کر سکتے ہیں تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اسی حصے میں آئی تھی،اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود جنگ میں شریک نہیں ہوتے تھے تو آپ کا حصہ مقرر کیا جاتا تھا اس میں آپ کو اختیار نہیں ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٢؛حدیث نمبر؛٢٩٩٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (غزوہ خیبر)میں صفی کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٢؛حدیث نمبر؛٢٩٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم خیبر آگئے جب اللہ تعالی نے اس کے قلعے کو فتح کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا تذکرہ کیا گیا حالانکہ ان کی ابھی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی تھی،ان کے شوہر انتقال کر گئے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے مخصوص کر لیا آپ انہیں لے کر نکلے یہاں تک کہ جب آپ مقام صہباء پر پہنچے تو وہ آپ کے لیے حلال ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رخصتی کروائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٢؛حدیث نمبر؛٢٩٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھی اس کے بعد وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آگئیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٣؛حدیث نمبر؛٢٩٩٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک لڑکی آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات غلاموں کے عوض اسے خرید لیا پھر سیدہ ام سلیم کے سپرد کر دیا تاکہ انہیں شادی کے لیے تیار کر دے اور سنوار دے۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کیے؛سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاری تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٣؛حدیث نمبر؛٢٩٩٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ایک لونڈی لے لو“، دحیہ نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے (صفیہ بنت حیی کو) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر (کے یہودیوں) کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دحیہ کو صفیہ سمیت بلا لاؤ“، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم کوئی اور لونڈی لے لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور ان سے نکاح کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٣؛حدیث نمبر؛٢٩٩٨)
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں ہم مربد (ایک گاؤں کا نام ہے) میں تھے اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے کہا: تم گویا کہ صحراء کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ہم نے کہا: چمڑے کا یہ ٹکڑا جو تمہارے ہاتھ میں ہے تم ہمیں دے دو، اس نے اس کو ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زہیر بن اقیش کے لیے ہے (انہیں معلوم ہو کہ) اگر تم اس بات کی گواہی دینے لگ جاؤ گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے لگو گے اور مال غنیمت میں سے (خمس جو اللہ و رسول کا حق ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صفی» کو ادا کرو گے تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہو گی“، تو ہم نے پوچھا: یہ تحریر تمہیں کس نے لکھ کر دی ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ؛خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان؛جلد٣،ص١٥٣؛حدیث نمبر؛٢٩٩٩)
عبد الرحمن بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:(اور آپ ان تین لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی): کعب بن اشرف (یہودی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف اکسایا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے اس وقت وہاں سب قسم کے لوگ تھے ان میں مسلمان بھی تھے، اور مشرکین بھی جو بتوں کو پوجتے تھے، اور یہود بھی، وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو بہت ستاتے تھے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو صبر اور عفوو درگزر کا حکم دیا، ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:ترجمہ"وہ لوگ جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں سے کچھ لوگوں کی طرف سے تم ضرور سنو گے" (سورۃ آل عمران: ۱۸۶) اتری تو کعب بن اشرف جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی سے باز نہیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ چند آدمیوں کو بھیج کر اس کو قتل کرا دیں تو آپ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، پھر راوی نے اس کے قتل کا قصہ بیان کیا، جب ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا تو یہودی اور مشرکین سب خوف زدہ ہو گئے، اور دوسرے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: رات میں ہمارا سردار مارا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ باتیں ذکر کیں جو وہ کہا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بات کی دعوت دی کہ آپ کے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا جائے جس کی سبھی لوگ پابندی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور ان کے درمیان ایک عمومی صحیفہ (تحریری معاہدہ) لکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنَ الْمَدِينَةِمدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے؛جلد٣،ص١٥٤؛حدیث نمبر؛٣٠٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: ”اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا“، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» ”کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے“ (سورۃ آل عمران: ۱۲) حدیث کے راوی مصرف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «فئة تقاتل في سبيل الله»، «وأخرى كافرة» تک تلاوت کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنَ الْمَدِينَةِمدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے؛جلد٣،ص١٥٤؛حدیث نمبر؛٣٠٠١)
حضرت محیصہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو“، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنَ الْمَدِينَةِمدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے؛جلد٣،ص١٥٥؛حدیث نمبر؛٣٠٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم مسجد میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: ”یہود کی طرف چلو“، تو ہم سب آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچ گئے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا: ”اے یہود کی جماعت! اسلام لے آؤ تو (دنیا و آخرت کی بلاؤں و مصیبتوں سے) محفوظ ہو جاؤ گے“، تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پھر یہی فرمایا: «أسلموا تسلموا» انہوں نے پھر کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا یہی مقصد تھا“، پھر تیسری بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزید یہ بھی کہا کہ: ”جان لو! زمین اللہ کی، اور اس کے رسول کی ہے (اگر تم ایمان نہ لائے) تو میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کر دینے کا ارادہ کرتا ہوں، جو شخص اپنے مال کے عوض کوئی چیز حاصل کر سکتا ہے تو اپنا مال فروخت کر دے ورنہ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنَ الْمَدِينَةِمدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے؛جلد٣،ص١٥٥؛حدیث نمبر؛٣٠٠٣)
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کفار قریش نے اس وقت جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے تھے اور جنگ بدر پیش نہ آئی تھی عبداللہ بن ابی اور اس کے اوس و خزرج کے بت پرست ساتھیوں کو لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے لڑ بھڑ (کر اسے قتل کر دو) یا اسے وہاں سے نکال دو، نہیں تو ہم سب مل کر تمہارے اوپر حملہ کر دیں گے، تمہارے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے مباح کر لیں گے۔ جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کو پہنچا تو وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ جا کر ان سے ملے اور انہیں سمجھایا کہ قریش کی دھمکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دھمکی ہے، قریش تمہیں اتنا ضرر نہیں پہنچا سکتے جتنا تم خود اپنے تئیں ضرر پہنچا سکتے ہو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے لڑنا چاہتے ہو(جو مسلمان ہو چکے ہیں)، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو وہ آپس میں ایک رائے نہیں رہے، بٹ گئے، (جنگ کا ارادہ سب کا نہیں رہا) تو یہ بات کفار قریش کو پہنچی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد پھر اہل یہود کو خط لکھا کہ تم لوگ ہتھیار اور قلعہ والے ہو تم ہمارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑو نہیں تو ہم تمہاری ایسی تیسی کر دیں گے (یعنی قتل کریں گے) اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پنڈلیوں و پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو گی، جب ان کا خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگا، تو بنو نضیر نے فریب دہی و عہدشکنی کا پلان بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے اصحاب میں سے تیس آدمی لے کر ہماری طرف نکلئے، اور ہمارے بھی تیس عالم نکل کر آپ سے ایک درمیانی مقام میں رہیں گے، وہ آپ کی گفتگو سنیں گے اگر آپ کی تصدیق کر لیں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ان کی یہ سب باتیں بیان کر دیں، دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لشکر لے کر ان کی طرف گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اللہ کی قسم ہمیں تم پر اس وقت تک اطمینان نہ ہو گا جب تک کہ تم ہم سے معاہدہ نہ کر لو گے“، تو انہوں نے عہد دینے سے انکار کیا (کیونکہ ان کا ارادہ دھوکہ دینے کا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس دن جنگ کی، پھر دوسرے دن آپ نے اپنے لشکر کو لے کر قریظہ کے یہودیوں پر چڑھائی کر دی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور ان سے کہا: ”تم ہم سے معاہدہ کر لو“، انہوں نے معاہدہ کر لیا کہ (ہم آپ سے نہ لڑیں گے اور نہ آپ کے دشمن کی مدد کریں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ سے معاہدہ کر کے واپس آ گئے، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستے لے کر بنو نضیر کی طرف بڑھے اور ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ جلا وطن ہو جانے پر راضی ہو گئے تو وہ جلا وطن کر دئیے گئے، اور ان کے اونٹ ان کا جتنا مال و اسباب گھروں کے دروازے اور کاٹ کباڑ لاد کر لے جا سکے وہ سب لاد کر لے گئے، ان کے کھجوروں کے باغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہو گئے، اللہ نے انہیں آپ کو عطا کر دیا، اور آپ کے لیے خاص کر دیا، اور ارشاد فرمایا: « اللہ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر جو عطا کیا ہے اس کے لیے تم نے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے“ (سورۃ الحشر: ۶)اس سے مراد یہ ہے جو کچھ تمہیں لڑائی کے بغیر حاصل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باغات کا اکثر حصہ مہاجرین کو عطا کیا اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیا ان میں سے دو انصاریوں کو اپ نے حصہ دیا جو ضرورت مند تھے اس کے علاوہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی انصاری کو حصہ نہیں دیا اور پھر ان میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص زمین بچ گئی جو بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے پاس رہی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي خَبَرِ النَّضِيرِ؛بنو نضیر سے جنگ کا بیان؛جلد٣،ص١٥٦؛حدیث نمبر؛٣٠٠٤)
Abu Daud Sharif Kitabul Kharaje Wal Imarate Hadees No# 3005
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جنگ کی، ان کی زمین، اور ان کے کھجور کے باغات پر قابض ہو گئے اور انہیں اپنے قلعہ میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر صلح کر لی کہ سونا چاندی اور ہتھیار جو کچھ بھی ہیں وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوں گے اور ان کے لیے صرف وہی کچھ (مال و اسباب) ہے جنہیں ان کے اونٹ اپنے ساتھ اٹھا کر لے جا سکیں، انہیں اس کا حق و اختیار نہ ہو گا کہ وہ کوئی چیز چھپائیں یا غائب کریں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو مسلمانوں پر ان کی حفاظت اور معاہدے کی پاس داری کی کوئی ذمہ داری نہ رہے گی تو انہوں نے حیی بن اخطب کے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کر دی، حیی بن اخطب خیبر سے پہلے قتل کیا گیا تھا، اور وہ جس دن بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تھے اسے اپنے ساتھ اٹھا لایا تھا اس میں ان کے زیورات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعیہ (یہودی) سے پوچھا: ”حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟“، اس نے کہا: لڑائیوں میں کام آ گئی اور مصارف میں خرچ ہو گئی پھر صحابہ کو وہ تھیلی مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حقیق کو قتل کر دیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا، اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا، ان کو جلا وطن کر دینے کا ارادہ کر لیا، تو وہ کہنے لگے: محمد! ہمیں یہیں رہنے دیجئیے، ہم اس زمین میں کام کریں گے (جوتیں بوئیں گے) اور جو پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس پیداوار سے) اپنی ہر ہر بیوی کو (سال بھر میں) (۸۰، ۸۰) وسق کھجور کے اور (۲۰، ۲۰) وسق جو کے دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٧؛حدیث نمبر؛٣٠٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لوگو!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے یہودیوں کو وہاں سے نکال دیں گے تو جس شخص کی وہاں زمین ہو وہ جا کر اس کی دیکھ بھال کرے کیونکہ میں انہیں وہاں سے نکالنے لگا ہوں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں سے نکال دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٨؛حدیث نمبر؛٣٠٠٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو (سال بھر میں) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا آپ میں سے جو چاہے میں انہیں ایک سو وسق کھجوروں کی پیداوار جتنے کھجور کے درخت دے دیتا ہوں وہ درخت ان کی زمین اور ان کا پانی اس خاتون کی ملکیت شمار ہوگا اور اتنا کھیت دے دیتا ہوں جس کی پیداوار 20 وسق کے قریب ہو اور اگر وہ چاہے تو اسے اسی طرح خمس میں سے ادائیگی کرتے رہیں گے جس طرح پہلے کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٨؛حدیث نمبر؛٣٠٠٨)
Abu Daud Sharif Kitabul Kharaje Wal Imarate Hadees No# 3009
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ایک حصہ آپ کے پیش آ جانے والے اتفاقی اخراجات کے لیے اور ذاتی ضروریات کے لیے مخصوص ہوتا تھا اور ایک حصہ مسلمانوں کے لیے مخصوص تھا اپ نے اس سے 18 حصوں میں ان کے درمیان تقسیم کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٩؛حدیث نمبر؛٣٠١٠)
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کو پیش آنے والی فوری نوعیت کی ضروریات اور حادثات کے لیے الگ کر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٩؛حدیث نمبر؛٣٠١١)
بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غلبہ حاصل کرلیا تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٩؛حدیث نمبر؛٣٠١٢)
حضرت بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ(نامی قلعے)اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ(نامی قلعے)ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٥٩؛حدیث نمبر؛٣٠١٣)
حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم (دیہات کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلایا اور ان کے ساتھ یہ طے کیا( کہ وہ یہاں کام کریں گے اور انہیں پیداوار کا نصف مل جائے گا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦٠؛حدیث نمبر؛٣٠١٤)
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦٠؛حدیث نمبر؛٣٠١٥)
محمد بن اسحاق نے زہری عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے کسی صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں(جب خیبر فتح ہو گیا) خیبر کے کچھ لوگ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا خون نہ بہایا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی درخواست قبول کر لی) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پر اترے تو فدک (اللہ کی جانب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص (عطیہ) قرار پایا، اس لیے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦١؛حدیث نمبر؛٣٠١٦)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا کچھ حصہ جنگ کے ذریعےفتح کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں:ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ ”خیبر کا بعض حصہ جنگ سے حاصل ہوا ہے، اور بعض صلح کے ذریعہ اور کتیبہ (جو خیبر کا ایک گاؤں ہے) کا زیادہ حصہ جنگ سے فتح ہوا اور کچھ صلح کے ذریعہ“۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کیا ہے؟ بولے: خیبر کی زمین کا ایک حصہ ہے، اور وہ چالیس ہزار کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عَذْق» کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اور «عِذْق» کھجور کے گچھے کی جڑ جو ٹیڑھی ہوتی ہے، اور گچھے کو کاٹنے پر درخت پر خشک ہو کر باقی رہ جاتی ہے اس کو کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦١؛حدیث نمبر؛٣٠١٧)
ابن شہاب بیان کرتے ہیں مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے بعد خیبر کو بزور طاقت حاصل کیا تھا اور پھر وہاں کے رہنے والے لوگوں نے لڑائی کے بعد اس شرط پر صلح کی کہ انہیں جلاوطن کر دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦١؛حدیث نمبر؛٣٠١٨)
ابن شہاب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا خمس نکالا پھر اس سارے خمس کو ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے خواہ وہ غزوہ خیبر میں شریک ہوے ہوں یا غزوہ خیبر میں شریک نہ ہوئے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦١؛حدیث نمبر؛٣٠١٩)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر مجھے بعد میں انے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بھی بستی فتح ہوتی میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ؛ خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦١؛حدیث نمبر؛٣٠٢٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ مرالظہران میں مسلمان ہو گئے، اس وقت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان ایک ایسے شخص ہیں جو فخر اور نمود و نمائش کو پسند کرتے ہیں، تو آپ اگر ان کے لیے کوئی چیز مخصوص کر دیں (جس سے ان کے اس جذبہ کو تسکین ہوتی تو اچھا ہوتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (یعنی ٹھیک ہے میں ایسا کر دیتا ہوں) جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ مامون ہے، اور جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے“ (ہم اسے نہیں ماریں گے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ مَكَّةَ؛فتح مکہ کا بیان؛جلد٣،ص١٦٢؛حدیث نمبر؛٣٠٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں (فتح مکہ کے لیے آنے والے مبارک لشکر کے ساتھ) پڑاؤ کیا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حاضر ہو کر امان حاصل نہ کر لی تو قریش تباہ ہو جائیں گے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر نکلا، میں نے (اپنے دل) میں کہا: شاید کوئی ضرورت مند اپنی ضرورت سے مکہ جاتا ہوا مل جائے (تو میں اسے بتا دوں) اور وہ جا کر اہل مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر کر دے (کہ آپ مع لشکر جرار تمہارے سر پر آ پہنچے ہیں) تاکہ وہ آپ کے حضور میں پہنچ کر آپ سے امان حاصل کر لیں۔ میں اسی خیال میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی آواز سنی، میں نے پکار کر کہا: اے ابوحنظلہ (ابوسفیان کی کنیت ہے) اس نے میری آواز پہچان لی، اس نے کہا: ابوفضل؟ (عباس کی کنیت ہے) میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: کیا بات ہے، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، میں نے کہا: دیکھ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے لوگ ہیں (سوچ لے) ابوسفیان نے کہا: پھر کیا تدبیر کروں؟ وہ کہتے ہیں: ابوسفیان میرے پیچھے (خچر پر) سوار ہوا، اور اس کا ساتھی (بدیل بن ورقاء) لوٹ گیا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا (وہ مسلمان ہو گیا) میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان فخر کو پسند کرتا ہے، تو آپ اس کے لیے (اس طرح کی) کوئی چیز مخصوص کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ہاں!جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کے لیے امن ہے (وہ قتل نہیں کیا جائے گا) اور جو اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے اس کے لیے امن ہے، اور جو مسجد میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے“، یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں میں اور مسجد میں بٹ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ مَكَّةَ؛فتح مکہ کا بیان؛جلد٣،ص١٦٢؛حدیث نمبر؛٣٠٢٢)
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کو غزوہ فتح مکہ میں کوئی چیز مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی تھی انہوں نے جواب دیا:جی نہیں! (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ مَكَّةَ؛فتح مکہ کا بیان؛جلد٣،ص١٦٣؛حدیث نمبر؛٣٠٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے (موت کی نیند) سلا دیں“، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے“، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر (کھڑے ہوئے) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح (معاہدہ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ مَكَّةَ؛فتح مکہ کا بیان؛جلد٣،ص١٦٣؛حدیث نمبر؛٣٠٢٤)
وہب بیان کرتےہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کی بیعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرط رکھی کہ نہ وہ زکاۃ دیں گے اور نہ وہ جہاد میں حصہ لیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب وہ مسلمان ہو جائیں گے تو وہ زکاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ الطَّائِفِ؛فتح طائف کا بیان؛جلد٣،ص١٦٣؛حدیث نمبر؛٣٠٢٥)
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر (زکاۃ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو تمہیں یہ چیز ملتی ہے کہ تمہیں جہاد کے لیے نہیں بلایا جائے گا اور تم سے زکوۃ نہیں وصول کی جائے گی لیکن ایسے دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع (نماز) نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ الطَّائِفِ؛فتح طائف کا بیان؛جلد٣،ص١٦٤؛حدیث نمبر؛٣٠٢٦)
حضرت عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو مجھ سے (قبیلہ) ہمدان کے لوگوں نے کہا: کیا تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے اور ہماری طرف سے اس سے بات چیت کرو گے؟ اگر تمہیں کچھ بھی اطمینان ہوا تو ہم اسے قبول کر لیں گے، اگر تم نے اسے ناپسند کیا تو ہم بھی برا جانیں گے، میں نے کہا: ہاں (ٹھیک ہے میں جاؤں گا) پھر میں چلا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ کا معاملہ ہمیں پسند آ گیا (تو میں اسلام لے آیا) اور میری قوم بھی اسلام لے آئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر ذی مران کو یہ تحریر لکھ کر دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن مرارہ رہاوی کو تمام یمن والوں کے پاس (اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے) بھیجا، تو عک ذوخیوان (ایک شخص کا نام ہے) اسلام لے آیا۔ عک ذوخیوان سے کہا گیا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے اپنی بستی اور اپنے مال کے لیے امان لے کر آ (تاکہ آئندہ کوئی تجھ پر اور تیری بستی والوں پر زیادتی نہ کرے) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھ کر دیا آپ نے لکھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ کے رسول ہیں عک ذوخیوان کے لیے اگر وہ سچا ہے تو اسے لکھ کر دیا جاتا ہے کہ اس کو امان ہے، اس کی زمین، اس کے مال اور اس کے غلاموں میں، اسے اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذمہ اور امان و پناہ حاصل ہے“۔ (راوی کہتے ہیں) خالد بن سعید بن العاص نے یہ پروانہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) اسے لکھ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ الْيَمَنِ؛یمن کی زمین کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦٤؛حدیث نمبر؛٣٠٢٧)
حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ کے پاس آئے تو آپ سے صدقے کے متعلق بات چیت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبائی بھائی! (سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے) صدقہ دینا تو ضروری ہے“، ابیض بن حمال نے کہا: اللہ کے رسول! ہماری زراعت تو صرف کپاس (روئی) ہے، (سبا اب پہلے والا سبا نہیں رہا) سبا والے متفرق ہو گئے (یعنی وہ شہر اور وہ آبادی اب نہیں رہی جو پہلے بلقیس کے زمانہ میں تھی، اب تو بالکل اجاڑ ہو گیا ہے) اب کچھ تھوڑے سے سبا کے باشندے مارب (ایک شہر کا نام ہے) میں رہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر سال کپڑے کے ایسے ستر جوڑے دینے پر مصالحت کر لی جو معافر کے ریشم کے جوڑے کی قیمت کے برابر ہوں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پردہ فرمانے تک برابر یہ جوڑے ادا کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد عمال نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ابیض بن حمال سے سال بہ سال ستر جوڑے دیتے رہنے کے معاہدے کو توڑ دیا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سال میں ستر جوڑے دئیے جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو دوبارہ جاری کر دیا، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا اور ان سے بھی ویسے ہی صدقہ لیا جانے لگا جیسے دوسروں سے لیا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ الْيَمَنِ؛یمن کی زمین کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٦٤؛حدیث نمبر؛٣٠٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی (ایک تو یہ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا، دوسرے یہ کہ وفود (ایلچیوں) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو کیا) لیکن میں اسے بھول گیا۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؛جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٥؛حدیث نمبر؛٣٠٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو ضرور با لضرور نکال دوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؛جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٥؛حدیث نمبر؛٣٠٣٠)
اسی سند سے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک سرزمین پر(یعنی عرب کی سرزمین پر)دو قبلے نہیں رہیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؛جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٥؛حدیث نمبر٣٠٣١؛،و حدیث نمبر ٣٠٣٢)
سعیدبن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران کو جلا وطن کیا، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا، اس لیے کہ تیماء بلاد عرب میں شامل نہیں ہے، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؛جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٥؛حدیث نمبر ٣٠٣٣)
امام مالک علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نجران اور فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؛جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٥؛حدیث نمبر؛٣٠٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایک وقت آئے گا) جب عراق اپنے پیمانے اور روپے روک دے گا اور شام اپنے مدوں اور اشرفیوں کو روک دے گا اور مصر اپنے اردبوں اور اشرفیوں کو روک دے گا پھر (ایک وقت آئے گا جب) تم ویسے ہی ہو جاؤ گے جیسے شروع میں تھے“، (احمد بن یونس کہتے ہیں:) زہیر نے یہ بات (زور دینے کے لیے) تین بار کہی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گوشت و خون (یعنی ان کی ذات) نے اس کی گواہی دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِيقَافِ أَرْضِ السَّوَادِ وَأَرْضِ الْعَنْوَةِ؛سواد(یعنی عراق)کی سرزمین اور غلبہ پاکے حاصل ہونے والے زمین کو وقف کردینا؛جلد٣،ص١٦٦؛حدیث نمبر؛٣٠٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی (اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا (یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِيقَافِ أَرْضِ السَّوَادِ وَأَرْضِ الْعَنْوَةِ؛سواد(یعنی عراق)کی سرزمین اور غلبہ پاکے حاصل ہونے والے زمین کو وقف کردینا؛جلد٣،ص١٦٦؛حدیث نمبر؛٣٠٣٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٦؛حدیث نمبر؛٣٠٣٧)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ وہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافری کپڑا وصول کریں یہ وہ کپڑا تھا جو اس علاقے میں یمن میں بنا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٧؛حدیث نمبر؛٣٠٣٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٧؛حدیث نمبر؛٣٠٣٩)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں زندہ رہا تو بنی تغلب کے نصاریٰ سے بھر پور جنگ کروں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ عہد نامہ میں نے ہی لکھا تھا اس میں تھا کہ وہ اپنی اولاد کو نصرانی نہ بنائیں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے۔ ابوعلی کہتے ہیں: ابوداؤد نے دوسری بار جب اس کتاب کو سنایا تو اس میں اس حدیث کو نہیں پڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٧؛حدیث نمبر؛٣٠٤٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے، آدھا صفر میں دیں، اور باقی ماہ رجب میں، اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور (ضرورت پوری ہو جانے پر) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہو گا جب یمن میں کوئی فریب کرے (یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے (اور وہاں جنگ در پیش ہو) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی،جب تک کہ وہ اپنے دین کے بارے میں آزمائش کا شکار نہ ہو جاتے یا کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرلیتے،یا سود کھانے شروع نہیں کردیتے۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں: پھر وہ سود کھانے لگے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کر لی (اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٧؛حدیث نمبر؛٣٠٤١)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:اہل فارس کے نبی کا جب انتقال ہوگیا،تو شیطان نے ان لئے مجوسیت طے کردی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٨؛حدیث نمبر؛٣٠٤٢)
ابوشعثاء بیان کرتے ہیں کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی (سیکرٹری) تھا، کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ): ”ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، اور انہیں زمزمہ (گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے) سے روک دو“، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کر دیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا، اور انہیں (کھانے کے لیے) بلوا بھیجا، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی (بطور جزیہ) لا کر ڈال دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٨؛حدیث نمبر؛٣٠٤٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بحرین کے رہنے والے اسبذیوں(ہجر کے مجوسیوں) میں کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں آیا اور آپ کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر نکلا تو میں نے اس سے پوچھا: اللہ اور اس کے رسول نے تم سب کے متعلق کیا فیصلہ کیا؟ وہ کہنے لگا: برا فیصلہ کیا، میں نے کہا:کیا ہے؟اس نے جواب دیا:مسلمان ہوجائیں یا قتل ہوجائیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ لینا قبول کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کیا اور اسبذی سے جو میں نے سنا تھا اسے چھوڑ دیا (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مقابل میں کافر اسبذی کے قول کا کیا اعتبار)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان؛جلد٣،ص١٦٨؛حدیث نمبر؛٣٠٤٤)
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو پایا جو حمص کا امیر تھا اس نے کچھ قطبی لوگوں کو جزیہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا تو انہوں نے دریافت کیا:یہ کیوں کیا ہے؟میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں دوسرے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي جِبَايَةِ الْجِزْيَةِ؛جزیہ کی وصولی کی شدید تاکید؛جلد٣،ص١٦٩؛حدیث نمبر؛٣٠٤٥)
حرب بن عبید اللہ،اپنے نانا کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ٹیکس عیسائیوں اور یہودیوں پر لازم ہوگا مسلمانوں پر ٹیکس لازم نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٦٩؛حدیث نمبر؛٣٠٤٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تاہم اس میں عشور(یعنی ٹیکس)کی بجائے لفظ"خراج"استعمال ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٦٩؛حدیث نمبر؛٣٠٤٧)
عطا،بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے،ان کے ماموں کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!کیا میں اپنی قوم سے عشر وصول کروں؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عشور(یعنی ٹیکس)یہودیوں اور عیسائیوں پر لازم ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٦٩؛حدیث نمبر؛٣٠٤٨)
حرب بن عبیداللہ، اپنے نانا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلامی تعلیمات کی تعلیم دی، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے،صرف صدقے کا معاملہ مختلف ہے،کیا میں ان سے ٹیکس وصول کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں،ٹیکس تو یہود و نصاریٰ پر ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٦٩؛حدیث نمبر؛٣٠٤٩)
عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں پڑاؤ کیا، جو لوگ آپ کے اصحاب میں سے آپ کے ساتھ تھے وہ بھی تھے، خیبر کا رئیس سرکش و شریر شخص تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد! کیا تمہارے لیے روا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو، ہمارے پھل کھاؤ، اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو؟ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت سوائے مومن کے کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اور سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، تو سب لوگ اکٹھا ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ صرف وہ چیز ہے جو قرآن میں موجود ہے خبردار! اللہ کی قسم میں نے وعظ کیا میں نے حکم دیا اور جو کچھ چیزوں سے بھی منع کیا یہ قران کی مانند یا اس سے زیادہ(تعداد)میں ہے اللہ تعالی نے تمہارے لیے یہ بات حلال قرار نہیں دی ہے کہ تم اجازت لیے بغیر اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہو جاؤ نہ ان کی عورتوں کو مارو نہ ان کے پھل کھاؤ جب کہ وہ تمہیں وہ چیز ادا کر رہے ہوں جو ان کے ذمہ لازم ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٧٠؛حدیث نمبر؛٣٠٥٠)
حلال،ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے جہینہ قبیلے کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب تم ایک قوم کے ساتھ جنگ کرو گے اور ان پر غالب آجاؤ گے تو وہ اپنے اموال کے ذریعے اپنی جانیں اور اپنے بال بچے بچانے کی کوشش کریں گے“۔ سعید کی روایت میں ہے: «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر (مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر) متفق ہو گئے کہ: جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٧٠؛حدیث نمبر؛٣٠٥١)
صفوان بن سلیم نے کئی اصحاب کے صاحبزادوں کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اپنے بڑوں کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: خبردار!جو شخص کسی ذمی پر ظلم کرے یا اس کے حق میں کمی کرے یا اسے اس کی طاقت سے زیادہ بات کا پابند کرے یا اس سے ان اس کی رضامندی کے بغیر کوئی چیز حاصل کرے تو قیامت کے دن میں اس کا مقابل فریق ہوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ؛ذمی جب سامان تجارت لے کر(غیر مسلم سلطنت سے اسلامی سلطنت میں)آتے جاتے ہوں تو ان سے ٹیکس وصول کرنا؛جلد٣،ص١٧٠؛حدیث نمبر؛٣٠٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے"مسلمان پر جزیہ لازم نہیں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي الذِّمِّيِّ يُسْلِمُ فِي بَعْضِ السَّنَةِ هَلْ عَلَيْهِ جِزْيَةٌ؛ذمی اگر دوران سال مسلمان ہو جائے تو کیا اس سے گزری مدت کا جزیہ لیا جائے گا؟؛جلد٣،ص١٧٠؛حدیث نمبر؛٣٠٥٣)
محمد بن کثیر بیان کرتے ہیں:سفیان سے اس کی وضاحت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا جب وہ مسلمان ہو جائے گا تو اس پر جز لازم نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي الذِّمِّيِّ يُسْلِمُ فِي بَعْضِ السَّنَةِ هَلْ عَلَيْهِ جِزْيَةٌ؛ذمی اگر دوران سال مسلمان ہو جائے تو کیا اس سے گزری مدت کا جزیہ لیا جائے گا؟؛جلد٣،ص١٧١؛حدیث نمبر؛٣٠٥٤)
عبداللہ ہوزنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے حلب میں ملاقات کی، اور کہا: بلال! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ ہوتا، بعثت سے لے کر وصال تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان ہوکر آتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ملاحظہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس مناسب لباس نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہدایت کرتے میں جا کے کسی سے قرض لے لیتا اور چادر خرید کر اسے اڑنے کے لیے دے دیتا ہے اسے کھانا کھلا دیتا، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا: بلال! میرے پاس وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں، مجھ سے لے لیا کریں، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی (اس سے لینے لگا) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: «يا لباه» حاضر ہوں، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت باتیں کیں اور بولا: تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: قریب ہے، اس نے کہا: مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا،مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے (میں بھی وہاں گیا) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے (اگر ادا نہ کیا) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو اتنا رزق عطا نہ کر دے جس سے میرا قرض ادا ہو جائے، یہ کہہ کر میں نکل آیا اور اپنے گھر چلا آیا، اور اپنی تلوار، موزہ جوتا اور ڈھال سرہانے رکھ کر سو گیا، صبح ہی صبح پو پھٹتے ہی یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا پکارتا ہوا آیا کہ اے بلال (تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد کر رہے ہیں) چل کر آپ کی بات سن لو، تو میں چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار لدے ہوئے جانور بیٹھے ہیں، آپ سے اجازت طلب کی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضرورت پوری کر دی، کیا تم نے چاروں بیٹھی ہوئی سواریاں نہیں دیکھیں؟“، میں نے کہا: ہاں دیکھ لی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ وہ جانور بھی لے لو اور جو ان پر لدا ہوا ہے وہ بھی ان پر کپڑا اور کھانے کا سامان ہے، فدک کے رئیس نے مجھے ہدیہ میں بھیجا ہے، ان سب کو اپنی تحویل میں لے لو، اور ان سے اپنا قرض ادا کر دو“، تو میں نے ایسا ہی کیا۔پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جو مال تمہیں ملا اس کا کیا ہوا؟“، میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سارے قرضے ادا کر دیئے اب کوئی قرضہ باقی نہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ مال بچا بھی ہے؟“، میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو بچا ہے اسے اللہ کی راہ میں صرف کر کے مجھے آرام دو کیونکہ جب تک یہ مال صرف نہ ہو جائے گا میں اپنی ازواج (مطہرات) میں سے کسی کے پاس نہ جاؤں گا“، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”کیا ہوا وہ مال جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟“ میں نے کہا: وہ میرے پاس موجود ہے، کوئی ہمارے پاس آیا ہی نہیں کہ میں اسے دے دوں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد ہی میں گزاری۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی (اس میں ہے) یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ چکے یعنی دوسرے دن تو آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا: ”وہ مال کیا ہوا جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو اس سے بے نیاز و بےفکر کر دیا (یعنی وہ میں نے ایک ضرورت مند کو دے دیا) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا بیان کی اس اندیشے سے کہ کہیں ایسی حالت میں آپ کو موت نہ آ جاے اور یہ مال آپ کے پاس باقی رہتا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے اور ایک ایک کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں رات گزارنی تھی، (اے عبداللہ ہوزنی!) یہ ہے تمہارے سوال کا جواب۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ؛امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا؛جلد٣،ص١٧١؛حدیث نمبر؛٣٠٥٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں،" جو میری طرف سے ادا کر دے" تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو میں اس سے اور زیادہ پریشان ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ؛امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا؛جلد٣،ص١٧٢؛حدیث نمبر؛٣٠٥٦)
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر ایک اونٹنی پیش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے میں نے کہا جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے مشرکین کے تحائف قبول کرنے سے منع کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ؛امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا؛جلد٣،ص١٧٢؛حدیث نمبر؛٣٠٥٧)
علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں"حضرت موت" میں ایک قطعہ اراضی عطاء کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٣؛حدیث نمبر؛٣٠٥٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٣؛حدیث نمبر؛٣٠٥٩)
حضرت عمرو بن حویرث بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے مدینہ منورہ میں کمان کے ذریعے ایک گھر کی پیمائش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مزید بھی دوں گا میں تمہیں مزید بھی دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٣؛حدیث نمبر؛٣٠٦٠)
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن کئی حضرات کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبیلے کی معادن(یعنی کانیں)عطا کی تھی جو فرع کی طرف تھیں،وہ کانیں تھیں جن سے آج کے دن تک زکوۃ لی جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٣؛حدیث نمبر؛٣٠٦١)
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں عطاء کی تھیں۔ (ابوداؤد کہتے ہیں) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے) اور قدس (ایک پہاڑ کا نام ہے) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی، وہ اس طرح تھی: ”بسم الله الرحمن الرحيم،، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو عطاء کیا قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں، اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا“۔ ابواویس راوی کہتے ہیں: مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٣؛حدیث نمبر؛٣٠٦٢)
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں: مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں۔ ابن نضر کی روایت میں ہے: اور اس کے جرس اور ذات النصب کو دیا، پھر دونوں راوی متفق ہیں: اور قدس کی قابل کاشت زمین دی، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ (یہ دستاویز) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٤؛حدیث نمبر؛٣٠٦٣)
Abu Daud Sharif Kitabul Kharaje Wal Imarate Hadees No# 3064
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے:تاہم اس میں یہ الفاظ منقول ہیں: "جہاں تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچ سکتے ہوں"اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹ درختوں میں سے وہاں تک کھاتے ہیں جہاں تک ان کے منہ پہنچتے ہیں اس کے اوپر والی ہر چیز کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٥؛حدیث نمبر؛٣٠٦٥)
حضرت ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیلو کے درختوں کو قبضے میں نہیں لیا جاسکتا“، انہوں نے کہا: پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیلو کے درختوں کو قبضے میں نہیں لیا جا سکتا“ (اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے)۔ فرج کہتے ہیں: «حظاری» سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٥؛حدیث نمبر؛٣٠٦٦)
حضرت صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا (یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے) چنانچہ جب حضرت صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں (پھر ایسا ہی ہوا) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ گئے۔ صخر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا: ”امّا بعد، اللہ کے رسول! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں (تاکہ آگے کی بات چیت کروں)“، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس کے لیے دس (باتوں کی) دعائیں مانگیں اور (ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی): «اللهم بارك لأحمس في خيلها ورجالها» ”اے اللہ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے“، پھر سب لوگ (یعنی صخر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور کہا: اللہ کے نبی! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ وہ اس (دین) میں داخل ہو چکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہو چکے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور فرمایا: ”صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کر لیتی ہے، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو“، تو صخر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دی، پھر صخر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے، صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ہاں ہاں (لے لو اور) رہو“، تو وہ لوگ رہنے لگے (اور کچھ دنوں بعد) بنو سلیم مسلمان ہو گئے اور صخر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور صخر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی (کا چشمہ) واپس دے دیں، صخر رضی اللہ عنہ (اور ان کی قوم) نے دینے سے انکار کیا (اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے) تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مسلمان ہو چکے ہیں، ہم صخر کے پاس پہنچے (اور ان سے درخواست کی) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: ”صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتی ہے (نہ اسے ناحق قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو“ صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت اچھا اللہ کے نبی! (صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ حیاء کی وجہ سے بدل گیا اور سرخ ہو گیا (یہ سوچ کر) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٥؛حدیث نمبر؛٣٠٦٧)
سبرہ بن عبد العزيز نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے درخت کے نیچے مسجد کی جگہ پڑاؤ کیا، وہاں تین دن قیام کیا، پھر تبوک کے لیے نکلے، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے؟“، لوگوں نے کہا: بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،، میں یہ زمین (علاقہ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا، اور اس میں محنت و مشقت (یعنی زراعت) کی۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٦؛حدیث نمبر؛٣٠٦٨)
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو کھجور کا ایک باغ عطا کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٦؛حدیث نمبر؛٣٠٦٩)
عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کا نمائندہ تھا،وہ اگے بڑھا اس نے اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کی پھر اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان موجود دہنا کے علاقے کو حد بندی کے طور پر تحریر کر دے ان میں سے کوئی بھی شخص اس کو پار کر کے ہمارے پاس نہیں ائے گا صرف مسافر شخص ائے گا یا وہاں سے گزرنے والا ائے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے دہنا کا علاقہ اس کے نام کر دو۔راوی کہتے ہیں جب میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ علاقہ تحریر کر کے اس کے نام کر رہے ہیں تو مجھے بہت پریشانی ہوئی کیونکہ میرا وطن وہیں تھا میرا گھر بھی وہاں تھا میں نے کہا یا رسول اللہ اس شخص نے اپ سے درمیانی قسم کی زمین نہیں مانگی ہے یہ دہنا نامی جگہ ہے جہاں اونٹوں کو باندھا جاتا ہے( یعنی چرایا جاتا ہے)یہ بکریوں کے چرانے کی جگہ بھی ہے بنو تمیم کی خواتین اور بچے اس کی دوسری طرف رہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے تم جاؤ یہ غریب عورت ٹھیک کہہ رہی ہے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے پانی اور درخت سب کے استعمال میں آتے ہیں اور وہ لوگ فتنے کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں “۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٧؛حدیث نمبر؛٣٠٧٠)
حضرت اسمر بن مضرس بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نےآپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تو آپ نے فرمایا جو شخص کسی ایسی جگہ پر پہلے پہنچ جائے جہاں تک اس سے پہلے کوئی مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ جگہ اسے مل جائے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں تو لوگ تیزی سے وہاں سے نکلے اور وہ نشان لگاتے ہوئے جا رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٧؛حدیث نمبر؛٣٠٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی جگہ جاگیر کے طور پر عطا کی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ کر جا سکے تو انہوں نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا یہاں تک کہ گھوڑا کھڑا ہو گیا تو پھر انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو وہاں تک زمین دے دو جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ؛زمین کے قطعات(انعام کے طور پر)عطاء کرنا؛جلد٣،ص١٧٧؛حدیث نمبر؛٣٠٧٢)
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص(کسی لاوارث)بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہو گا) کسی ظالم شخص کو(کسی دوسرے کی چیز پر قبضہ کرنے)کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٧؛حدیث نمبر؛٣٠٧٣)
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص(کسی لاوارث)بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے“۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو اس کی زمین دلا دی، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہو گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٨؛حدیث نمبر؛٣٠٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے مگر اس میں «الذي حدثني هذا» کی جگہ یوں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٨؛حدیث نمبر؛٣٠٧٥)
عروہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فیصلہ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص(کسی لاوارث) بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٨؛حدیث نمبر؛٣٠٧٦)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کسی(لاوارث)زمین کو گھیر لے تو وہ اس کی ملکیت ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٩؛حدیث نمبر؛٣٠٧٧)
ہشام کہتے ہیں سے"عرق ظالم"مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بھی زمین پر درخت لگائے اور پھر اس وجہ سے خود کو اس کا حقدار قرار دے۔ امام مالک رحمت اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں"عرق ظالم"سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے ناحق طورپر لیا جائے،یا وہاں کنواں کھودا جائے،یا درخت لگایا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٩؛حدیث نمبر؛٣٠٧٨)
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: ”تخمینہ(پیداوار کا اندازہ)لگاؤ (کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: ”آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا“، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے (جزیہ کی شرط پر) اپنے ملک میں رہنے کی دستاویز لکھ دی، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا: ”تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا؟“ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٩؛حدیث نمبر؛٣٠٧٩)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو صاف کر رہی تھی، اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ دوسرے مہاجرین کی عورتیں آپ کے پاس بیٹھیں تھیں اور اپنے گھروں کی شکایت کر رہی تھیں کہ ان کے گھر ان پر تنگ ہو جاتے ہیں، وہ گھروں سے نکال دی جاتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مہاجرین کی عورتیں ان کے مرنے پر ان کے گھروں کی وارث بنا دی جائیں، تو جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عورت مدینہ میں ایک گھر کی وارث ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛ باب فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ؛بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٧٩؛حدیث نمبر؛٣٠٨٠)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص جزیہ کو ہار کے طور پر اپنے گلے میں ڈال لے تو وہ اس چیز سے لا تعلق ہو جاتا ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گامزن تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي أَرْضِ الْخَرَاجِ؛خراج کی زمین میں داخل ہونا؛جلد٣،ص١٨٠؛حدیث نمبر؛٣٠٨١)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کوئی زمین اس کے جزیہ کے عوض حاصل کر لے تو اس نے اپنی ہجرت کو واپس کر دیا،اور جو شخص کافر کی کم تر حیثیت کو اس کی گردن سے الگ کر کے اپنے گردن میں ڈال لے تو اس نے اسلام کی طرف اپنی پشت کر لی“۔ (اس حدیث کے راوی سنان) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں۔ سنان کہتے ہیں: (میں نے ان سے کہا) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر (مجھ کو) دی، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس (کاغذ) مانگا میں نے ان کو دے دیا، جب انہوں نے اسے پڑھا، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں، شعبہ کے شاگرد نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي أَرْضِ الْخَرَاجِ؛خراج کی زمین میں داخل ہونا؛جلد٣،ص١٨٠؛حدیث نمبر؛٣٠٨٢)
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چرا گاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے“۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع (ایک جگہ کا نام ہے) کو «حمی» (چراگاہ) بنایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُل؛ وہ زمین جسے حکمران یا کسی شخص نے چراہگاہ کے طور پر مخصوص کر لیا ہو؛جلد٣،ص١٨٠؛حدیث نمبر؛٣٠٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع کو چراگاہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا:"چراگاہ صرف اللہ کے لیے ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُل؛ وہ زمین جسے حکمران یا کسی شخص نے چراہگاہ کے طور پر مخصوص کر لیا ہو؛جلد٣،ص١٨٠؛حدیث نمبر؛٣٠٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہی:"رکاز(دفینہ)میں خمس لازم ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُل؛ وہ زمین جسے حکمران یا کسی شخص نے چراہگاہ کے طور پر مخصوص کر لیا ہو؛جلد٣،ص١٨١؛حدیث نمبر؛٣٠٨٥)
حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"رکاز"سے مراد(کھنڈر سے ملنے والا)دفینہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُل؛ وہ زمین جسے حکمران یا کسی شخص نے چراہگاہ کے طور پر مخصوص کر لیا ہو؛جلد٣،ص١٨١؛حدیث نمبر؛٣٠٨٦)
ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے (وہ دیکھتے رہے) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے (۱۷) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل (۱۸) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا:آپ اس کا صدقہ وصول کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا“، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُل؛ وہ زمین جسے حکمران یا کسی شخص نے چراہگاہ کے طور پر مخصوص کر لیا ہو؛جلد٣،ص١٨١؛حدیث نمبر؛٣٠٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”یہ ابورغال(قوم ثمود کے ایک شخص کا نام تھا جو ثقیف کا جداعلیٰ تھا۔)کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا(کیونکہ حرم میں عذاب نازل نہیں ہو گا۔)لیکن جب (ایک مدت کے بعد) وہ (حدود حرم سے) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی (یعنی زلزلہ کا شکار ہوا) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے“، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی (سونے کی سلاخ) نکال لی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ؛باب نَبْشِ الْقُبُورِ الْعَادِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْمَالُ؛ایسی پرانی قبریں کھودنا،جن میں مال موجود ہو؛جلد٣،ص١٨١؛حدیث نمبر؛٣٠٨٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Kharaje Wal Imarate
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ
|
•