asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Imane Wan Nojore

From 3242 to 3325

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائے گا وہ جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر جانے کے لیے تیار رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب التَّغْلِيظِ فِي الأَيْمَانِ الْفَاجِرَة؛جھوٹی قسم کھانے پر وعید کابیان؛جلد٣،ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٣٢٤٢)

كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْأَيْمَانِ الْفَاجِرَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3242

حضرت عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا“۔حضرت اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: بے شک جو لوگ اللہ کے نام کی قسموں اور عہدوں کے عوض میں تھوڑی رقم حاصل کرتے ہیں"یہ آیت اخر تک ہے۔آل عمران: ۷۷) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٣٢٤٣)

بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا لِأَحَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ- رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3243

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارے پاس «بیّنہ» (ثبوت اور دلیل) ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت) فرمایا: ”جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ معذور ہوگا“ (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٤)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ» فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3244

حضرت علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے“ (جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا)، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ کچھ بھی ہو) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے (یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو)“ پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي، أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَاكَ»، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3245

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص میرے اس ممبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا اگرچہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں کیوں نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْيَمِينِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ممبر کے پاس قسم اٹھانے کا اہم ہونا؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْيَمِينِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ-، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ، مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا، عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ - أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ -»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3246

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے اپنی قسم میں یہ کہے:لات کی قسم!تو اسے لا الہ الا اللہ پڑھ لینا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھیوں سے یہ کہے کہ آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛4. باب الْحَلِفِ بِالأَنْدَادِ؛بتوں کے نام کی قسم اٹھانا؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٧)

بَابُ الْحَلْفِ بِالْأَنْدَادِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلْفِهِ وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3247

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اپنے باپ دادا کی اور اپنی ماؤں کی قسم نہ اٹھاؤ اور نہ ہی بتوں کی قسم اٹھاؤ قسم صرف اللہ کے نام کی اٹھاؤ اور اللہ کے نام کی قسم بھی تم اس وقت اٹھاؤ جب تم سچے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٨)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِالْآبَاءِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3248

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں؛حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ چند سواروں کے درمیان موجود تھے اور اپنے والد کے نام کی قسم اٹھا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے تمہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم اٹھاؤ جس نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ تعالی کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَسْكُتْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3249

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے سنا(امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں)اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)یعنی تمہارے باپ داداؤں،ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا بھولے سے کبھی بھی یہ قسم نہیں اٹھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٥٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ، زَادَ قَالَ عُمَرُ: «فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3250

سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ قسم اٹھاتے ہوئے دیکھا کعبہ کی قسم!تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:جو شخص اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھائے اس نے شرک کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، رَجُلًا يَحْلِفُ: لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3251

حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں (یہ حدیث ایک دیہاتی کے قصے سے متعلق ہے جس میں یہ الفاظ ہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کامیاب ہو گیا اس کے باپ کی قسم اگر اس نے ٹھیک کہا ہے یہ جنت میں داخل ہو گیا اس کے باپ کی قسم اگر اس نے ٹھیک کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ وَأَبِيهِ، إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3252

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس نے امانت سے متعلق قسم اٹھائی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالأَمَانَةِ؛امانت کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٣)

فِي بَابِ كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِالْأَمَانَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3253

عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمین لغو یہ ہے کہ آدمی کا اپنے گھر میں کلام ہے یعنی اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہے،اللہ کی قسم ایسا ہی ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب لَغْوِ الْيَمِينِ؛یمین لغو کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٤)

بَابُ لَغْوِ الْيَمِينِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " كَانَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ رَجُلًا صَالِحًا، قَتَلَهُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمِطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَهَا "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى- هَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَكُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3254

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:تمہاری قسم سے وہ مفہوم مراد ہوگا جس کا تمہارا ساتھی تصدیق کرے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ بیان کرتے ہیں اس حدیث کے راوی عبداللہ بن ابو صالح اور عباد بن ابو صالح دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ؛ قسم میں ذومعنی جملہ استعمال کرنا؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٥)

بَابُ الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهَا صَاحِبُكَ»، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هُمَا وَاحِدٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3255

حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ؛ قسم میں ذومعنی جملہ استعمال کرنا؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: «صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3256

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص اسلام کی بجائے کسی اور مذہب کی قسم اٹھائے اور وہ جھوٹی بھی ہو تو وہ شخص ایسا ہوگا جو اس نے کہا ہے اور جو شخص کسی چیز کے ذریعے خود کشی کر لے تو قیامت کے دن سے اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں کوئی نظر نہیں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ؛ اسلام سے بری ہونے یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَلْفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3257

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص نے قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو بھی وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے اور اگر وہ سچا ہو تو وہ کبھی بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہیں آسکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ؛ اسلام سے بری ہونے یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3258

یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے کے اوپر کھجور رکھی اور فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لاَ يَتَأَدَّمَ؛سالن نہ کھانے کی قسم کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٥٩)

بَابُ الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَتَأَدَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ تَمْرَةً عَلَى كِسْرَةٍ، فَقَالَ: «هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3259

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لاَ يَتَأَدَّمَ؛سالن نہ کھانے کی قسم کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٠)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3260

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات پتہ چلی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور انشاء اللہ کہہ دے تو اس نے استثناء کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ؛قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦١)

بَابُ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدْ اسْتَثْنَى "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3261

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص قسم اٹھائے اور استثناء کر لے تو اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس سے رجوع کرے اور اگر چاہے تو اسے چھوڑ دے تو وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ؛قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى، فَإِنْ شَاءَ رَجَعَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حِنْثٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3262

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان الفاظ میں قسم اٹھایا کرتے تھے"دلوں کو پھیرنے والی ذات کی قسم"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3263

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی"قسم"میں تاکید پیدا کرنی ہوتی تو یہ کہا کرتے تھے"اس ذات کی قسم!ابو القاسم کی جان جس کے دست قدرت میں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3264

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم اٹھانا ہوتی تھی تو یہ الفاظ کہتے تھے:"نہیں!میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں(اس کی قسم)"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا حَلَفَ يَقُولُ: «لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3265

حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ فدک کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت لقیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں)اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث نقل کی جس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پروردگار کی قسم! (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَيَّاشٍ السَّمَعِيُّ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ دَلْهَمٌ: وَحَدَّثَنِيهِ أَيْضًا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، أَنَّ لَقِيطَ بْنَ عَامِرٍ، خَرَجَ وَافِدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَقِيطٌ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَمْرُ إِلَهِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3266

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قسم نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٧)

بَابٌ فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْسِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3267

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو“حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:میں آپ کی قسم دیتا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قسم مت دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: ابْنُ يَحْيَى كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فَذَكَرَ رُؤْيَا فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا» فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي، مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْسِمْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3268

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے تا ہم اس میں لفظ قسم کا ذکر نہیں ہے اور اس میں صرف یہ بات زائد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں،نہیں بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرِ الْقَسَمَ زَادَ فِيهِ وَلَمْ يُخْبِرْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3269

حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ (یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا) تو وہ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ (ابوبکر) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ سچے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى الطَّعَامِ لاَ يَأْكُلُه؛کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧٠)

بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى طَعَامٍ لَا يَأْكُلُهُ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَوْ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ ضِيَافَةِ هَؤُلَاءِ، وَمِنْ قِرَاهُمْ، فَأَتَاهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَقَالُوا: لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ؟ أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاهُمْ؟ قَالُوا: لَا، قُلْتُ: قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَجِيءَ، فَقَالُوا: صَدَقَ، قَدْ أَتَانَا بِهِ فَأَبَيْنَا، حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكُمْ؟ قَالُوا: مَكَانَكَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَنَحْنُ وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، قَالَ: قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ، قَالَ: فَقَرَّبَ طَعَامَهُمْ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَطَعِمَ وَطَعِمُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ وَصَنَعُوا، قَالَ: «بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَصْدَقُهُمْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3270

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں سالم کہتے ہیں مجھے یہ اطلاع نہیں ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ کے لیے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى الطَّعَامِ لاَ يَأْكُلُهُ؛کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧١)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ عَنْ سَالِمٍ، فِي حَدِيثِهِ قَالَ: وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3271

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبے کے خزانے میں جمع ہوجائےگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال سے بےنیاز ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے (تقسیم میراث کی) بات چیت کرو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں (ایسی قسم اور نذر لغو ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧٢)

بَابُ الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ- فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَكَلِّمْ أَخَاكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3272

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:نذر صرف اس چیز کے بارے میں ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو اور قطع رحمی کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِيْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3273

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تمام روایات میں یہی مذکور ہے،آدمی اس قسم کا کفارہ دے،ماسوائے ان چیز کے جو عام سی ہو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٤)

حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يَعْبَأُ بِهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ، رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3274

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے ثبوت طلب کیا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعا علیہ سے قسم لی اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی اور کہا اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم نے جو کیا تمہارے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھنے کی وجہ سے تمہاری مغفرت کر دی گئی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ يَحْلِفُ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا؛جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٥)

بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّالِبَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى، قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3275

ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اللہ کی قسم!اگر اللہ نے چاہا تو میں نے جو بھی قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر محسوس کیا تو میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو،(راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں)وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٦)

بَابُ الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»، أَوْ قَالَ: «إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ يَمِينِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3276

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ، يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3277

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو پھر وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں؛اس بارے میں روایات حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ،حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ان سے منقول بعض روایات میں حانث ہونے کا ذکر کفارے سے پہلے ہے اور بعض میں کفارے کا ذکر حانث ہونے سے پہلے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، نَحْوَهُ قَالَ: فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ رُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْحِنْثُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3278

حضرت عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ حضرت ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ رضی اللہ عنہاقبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٩)

بَابُ كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ، - وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَخٍ لِصَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: «فَوَهَبَتْ لَنَا أُمُّ حَبِيبٍ صَاعًا، حَدَّثَتْنَا عَنِ ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ، عَنْ صَفِيَّةَ أَنَّهُ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ أَنَسٌ: " فَجَرَّبْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَحَزَرْتُهُ فَوَجَدْتُهُ مُدَّيْنِ وَنِصْفًا بِمُدِّ هِشَامٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3279

ابو عمر کہتے ہیں ہمارے پاس مکوک تھا جس کو "خالد کا مکوک"کہا جاتا تھا، جبکہ"کیلجہ"(نامی پیمانہ)ہارون کا تھا،محمد نامی راوی کہتے ہیں:خالد کا صاع، ہشام بن عبد الملک کا صاع تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ عِنْدَنَا مَكُّوكٌ يُقَالُ لَهُ: مَكُّوكُ خَالِدٍ وَكَانَ كَيْلَجَتَيْنِ بِكَيْلَجَةِ هَارُونَ قَالَ مُحَمَّدٌ: «صَاعُ خَالِدٍ صَاعُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3280

امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری کو والی بنایا گیا تو اس نے صاع کو کم کردیا، تو ایک صاع سولہ رطل کا ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کر دیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: «لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ، فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ، قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ: يَدَهُ وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ؟ قَالَ: أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3281

حضرت معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو میری یہ بات بہت بری لگی، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ“ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٢)

بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا»، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا، قَالَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: «أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3282

ابو سلمہ،شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3283

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لونڈی) سے پوچھا: ”ﷲ کہاں ہے؟“ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان میں ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: ”اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا، فَقَالَ لَهَا: «فَمَنْ أَنَا؟» فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3284

حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر کہا: ”ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ؛قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٥)

بَابُ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا»، ثُمَّ قَالَ: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْنَدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ: عَنْ شَرِيكٍ، ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3285

عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“، پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ؛قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا»، ثُمَّ قَالَ: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا» ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَرِيكٍ قَالَ: «ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3286

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کر دیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں: نذر کسی چیز(یعنی مصیبت)کو واپس نہیں کرتی اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔ مسدد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نذر کسی چیز(یعنی مصیبت)کو واپس نہیں کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ؛نذر کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٧)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ النُّذُورِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنِ النَّذْرِ»- ثُمَّ اتَّفَقَا وَيَقُولُ: - «لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ» قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3287

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ کہتا ہے:) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ؛نذر کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ الْقَدَرَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُهُ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ الْقَدَرَ قَدَّرْتُهُ، يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي مِنْ قَبْلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3288

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور جو یہ نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے گا تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي النَّذْرِ فِي الْمَعْصِيَةِ؛معصیت (گناہ) کی نذر کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٨٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّذْرِ فِي الْمَعْصِيَةِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِىُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3289

Abu Daud Sharif Kitabul Imane Wan Nojore Hadees No# 3290

بَابُ مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3290

اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے (یعنی اس حدیث کے بارے میں) کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر خراب کر دیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا خراب ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٩١)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ، يَقُولُ: «قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الزُّهْرِيَّ، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ» وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ: «وَتَصْدِيقُ ذَلِك مَا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: " أَفْسَدُوا عَلَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، قِيلَ لَهُ وَصَحَّ إِفْسَادُهُ عِنْدَكَ وَهَلْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ أَمْثَلَ مِنْهُ يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3291

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٩٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ»، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3292

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ پیدل حج کرے گی اور سر پر کوئی چیز نہیں لے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ سر پر چادر لے اور سواری پر سوار ہو اورتین دن کے روزے رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٣٢٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ: «مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3293

عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٣٢٩٤)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، مَوْلًى لِبَنِي ضَمْرَةَ وَكَانَ أَيَّمَا رَجُلٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ، أَخْبَرَهُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3294

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ!میری بہن نے یہ نذر مانی ہے(کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمہاری بہن کے مشقت کا شکار ہونے کا کوئی اجر نہیں دے گا اسے سوار ہو کر حج کرنا چاہیے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٥)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ يَعْنِي أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3295

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا:اس سے کہو کہ وہ سوار ہوجائے،اور جانور قربان کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى الْبَيْتِ " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَرْكَبَ وَتُهْدِيَ هَدْيًا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3296

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ پتہ چلا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی تو آپ نے فرمایا: "اللہ تعالی اس کی نذر سے بے نیاز ہے تم اس سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٧)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، نَحْوَهُ وَخَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3297

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ بِمَعْنَى هِشَامٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْهَدْيَ وَقَالَ: فِيهِ «مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بِمَعْنَى هِشَامٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3298

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری بہن نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل بیت اللہ تک جائے گی اس نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کروں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٩)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3299

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ، قَالَ: «مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3300

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان (سہارا لے کر) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے (خانہ کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے“ آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3301

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کے ناک میں رسی ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی رسی کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3302

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل چل کے حج کرے گی حالانکہ وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہارے بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے اسے سوار ہو جانا چاہیے اور قربانی کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، وَأَنَّهَا لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3303

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل چل کے جانے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری بہن کے بیت اللہ تک پیدل جانے پر کچھ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٤)

حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِمَشْيِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3304

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں پڑھ لو“ (یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے)، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”یہیں پڑھ لو“ پھر اس نے (سہ بارہ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تمہاری مرضی (چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل چل کے جانے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری بہن کے بیت اللہ تک پیدل جانے پر کچھ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؛بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٥)

بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ، أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: «صَلِّ هَاهُنَا»، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «صَلِّ هَاهُنَا»، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «شَأْنُكَ إِذَنْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رُوِيَ نَحْوُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3305

حضرت عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا“ (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؛بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٦)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، الْمَعْنَى حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًو - وَقَالَ عَبَّاسٌ: ابْنُ حَنَّةَ - أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ زَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ صَلَاةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عُمَرَ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ: وَقَالَ أَخْبَرَاهُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعْنْ رِجَالٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3306

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی جانب سے پوری کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٧)

بَابٌ فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3307

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مسئلہ پوچھنے) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٨)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتْ، ابْنَتُهَا أَوْ أُخْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3308

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں تمہارا اجر لازم ہوگیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی“ اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو (عمرو بن عون) کی حدیث (نمبر ۳۳۰۸) کی طرح ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣٠٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ؟ قَالَ: «قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ»، قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3309

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ؛مرنے والے کے باقی روزے اس کا ولی پورا کرے؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ الْمَعْنَى، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا، فَقَالَ: «لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3310

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے روزے لازم ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ؛مرنے والے کے باقی روزے اس کا ولی پورا کرے؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3311

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بجا کر) اپنی نذر پوری کر لو“ اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر (بھی) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کسی صنم (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: ”کسی دوسرے وثن (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١٢)

بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، قَالَ: «أَوْفِي بِنَذْرِكِ» قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ «لِصَنَمٍ»: قَالَتْ: لَا، قَالَ: «لِوَثَنٍ»، قَالَتْ: لَا، قَالَ: «أَوْفِي بِنَذْرِكِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3312

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو کیونکہ اللہ تعالی کی نافرمانی سے متعلق نظر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور اس نظر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی جو ایسی چیز کے بارے میں ہو جس کا انسان مالک نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٣)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟»، قَالُوا: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3313

حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے پوری توجہ سے آپ کو دیکھا، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس درہ تھا جس طرح مدرسہ کے معلمین کے پاس ہوتا ہے، میں نے دیہاتیوں کے شور و غوغا کی آوازیں سنیں،تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور (جا کر) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو“ انہوں نے (بکریاں) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حِجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُ النَّاسَ، يَقُولُونَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ، الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ، قَالَتْ: فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ فَاسْتَمَعَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: خَمْسِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ بِهَا مِنَ الأَوْثَانِ شَيْءٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ»- قَالَتْ: فَجَمَعَهَا فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا، فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي فَظَفِرَهَا فَذَبَحَهَا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3314

یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں؛تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہاں کوئی بت ہے؟ یا وہاں زمانے جاہلیت میں کوئی عید ہوتی تھی؟ انہوں نے عرض کی:جی نہیں،میں نے دریافت کیا:میری والدہ کے ذمے پر پیدل چلنے کی نظر تھی تو کیا میں اسے پورا کر دوں؟ بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:کیا ہم اسے پورا کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:جی ہاں! (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ: «هَلْ بِهَا وَثَنٌ، أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟» قَالَ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ، وَمَشْيٌ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا، وَرُبَّمَا، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ، أَنَقْضِيهِ عَنْهَا، قَالَ: «نَعَمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3315

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء(نامی اونٹنی)بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی (عضباء) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے (آپ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم یہ کہتے ہو تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو(یعنی ازاد ہو)اور تم ہر طرح کی کامیابی حاصل کر لو گے“ اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”یہ تمہاری ضرورت کی چیزیں ہیں(یعنی تمہارے کھانے پینے کی چیزیں ہیں)پھر اس کے بعد ان دو آدمیوں کے عوض میں اس شخص کو فدیہ کے طور پر دیا گیا“۔ راوی کہتے ہیں: اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا (یعنی واپس نہیں کیا)۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں آرام کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت (نکل بھاگنے کے ارادہ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا برا ہے جو تم نے اسے(اونٹنی کو) بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ؛جو چیز آدمی کی ملکیت میں نہ ہو اس کے بارے میں نذر ماننا؛جلد٣،ص٢٣٩؛حدیث نمبر؛٣٣١٦)

بَابٌ فِي النَّذْرِ فِيمَا لَا يَمْلِكُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، قَالَ: فَأُسِرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَأْخُذُنِي، وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ قَالَ: «نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ» قَالَ: وَكَانَ ثَقِيفُ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ: فِيمَا قَالَ: وَأَنَا مُسْلِمٌ - أَوْ قَالَ: وَقَدْ أَسْلَمْتُ - فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى نَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ " قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ حَاجَتُكَ» أَوْ قَالَ: «هَذِهِ حَاجَتُهُ»، فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ، قَالَ: وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ، قَالَ: فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ-: فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ، قَالَ: فَنُوِّمُوا لَيْلَةً، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَجَعَلَتْ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ، قَالَ: فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ، قَالَ: فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَجِيءَ بِهَا وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ: «بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا - أَوْ جَزَتْهَا - إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3316

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے یہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے وہ صاحبزادے ہیں جب حضرت کعب نابینا ہو گئے تھے تو یہ انہیں ساتھ لے کر چلا کرتے تھے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے“ تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٧)

بَابٌ فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3317

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی جب توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی میں اپنے مال سے لا تعلق ہوتا ہوں(اس کے بعد حسب سابق روایت ہے، جو ان الفاظ تک ہے)تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى «خَيْرٌ لَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3318

یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے اس محلے سے بھی لاتعلق ہو جاؤں جہاں میں نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا اور میں اپنی ساری زمین صدقہ کر دوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک تہائی تمہارے لیے جائز ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٩)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً؟ قَالَ: «يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ».

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3319

یہی روایات بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہیں تاہم اس میں حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُولُبَابَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْقِصَّةُ، لِأَبِي لُبَابَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بَعْضِ بَنِي السَّائِبِ ابْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3320

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي قِصَّتِهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَنِصْفُهُ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3321

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غیر نامزد(جسے اس نے متعین نہ کیا ہو)نذر مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر مانے تو اس کا (بھی) کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے پوری کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے وہ پوری کر سکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید (بن ابوہند) سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لاَ يُطِيقُهُ؛جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢٢)

بَابُ مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْهِنْدِ، أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3322

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عمرو بن حارث نے اسے کعب بن علقمہ کے حوالے سے ابن شماسہ کے حوالے سے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ:غیر معین نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢٣)

بَابُ مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3323

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ:غیر معین نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي بْنَ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3324

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَدْرَكَ الإِسْلاَمَ؛زمانہ جاہلیت میں نذر مانی پھر مسلمان ہو گیا تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٥)

بَابُ مَنْ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 3325

Abu Dawood Shareef : Kitabul Imane Wan Nojore

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ

|

•