asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Buyu

From 3326 to 3415

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ(ایجنٹ)کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ؛تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٦)

كِتَاب الْبُيُوعِ بَابٌ فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلْفُ وَاللَّغْوُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3326

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت قیس بن ابوغرزہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے،(تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں)"جھوٹ اور قسم"(شامل ہو جاتے ہیں)ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "لغو اور جھوٹ" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ؛تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٧)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَعَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ، وَالْحَلْفُ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ: اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3327

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (لے جاؤ) اس میں بھلائی نہیں ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے (قرض کو) خود ادا کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِخْرَاجِ الْمَعَادِنِ؛معدنیات نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٢٨)

بَابٌ فِي اسْتِخْرَاجِ الْمَعَادِنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا، وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ» فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3328

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بےشک حلال واضح ہے، اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں (جن کی حلت و حرمت میں شک ہے) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں،بےشک اللہ نے ایک چراگاہ مقرر کی، اور اللہ کی چراگاہ اس کے محارم ہیں (یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے) اور جو شخص چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ انہیں پار کر کے(حرام میں) مبتلا ہو جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٢٩)

بَابٌ فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَلَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ»، وَأَحْيَانًا يَقُولُ: «مُشْتَبِهَةٌ» وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3329

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں بہت سے لوگوں کو ان کا علم نہیں تو جو شخص مشتبہ چیز سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کر لیا اور جو مشتبہ چیز میں مبتلا ہوا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٣٠)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: «وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3330

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی غبار کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی“۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ- دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ» قَالَ ابْنُ عِيسَى: «أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3331

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ایک انصاری(صحابی)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: ”پیروں کی جانب سے (قبر) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے فراغت پا کر) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے یہاں) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا (کھانا شروع کیا) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے“ پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو (اتفاق سے) وہ ہمسایہ (گھر پر) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو“۔ (چونکہ بکری، صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کر ڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ: «أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ»، فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ، ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا، فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا»، فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً، فَلَمْ أَجِدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً، أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا بِثَمَنِهَا، فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3332

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،اسے کھلانے والے،اس کے گواہ اور اسکی لین دین کی شرائط وغیرہ)تحریر کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي آكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ؛سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٣)

بَابٌ فِي آكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3333

حضرت سلیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: ”سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے (نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے“ وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ ”لوگوں نے تین بار کہا: ہاں (آپ نے پہنچا دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہوجا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الرِّبَاَ؛سود کو کالعدم قرار دینا؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٤)

بَابٌ فِي وَضْعِ الرِّبَا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ، لَا تَظْلِمُونَ، وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا، دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ» قَالَ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ»، قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ»، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3334

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے قسم اٹھانے سے سودا فروخت ہو جاتا ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔" ابن سرح نے لفظ" کسب"(کمائی)روایت کیا ہے،یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ؛خرید و فروخت میں (جھوٹی) قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٥)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ»، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: «لِلْكَسْبِ»، وَقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3335

سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر سے کپڑا خریدا اور اسے (بیچنے کے لیے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پیدل تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ سودا طے کیا تو ہم نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تولو اور جھکا ہوا تولو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٦)

بَابٌ فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالْأَجْرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ، فَبِعْنَاهُ، وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زِنْ وَأَرْجِحْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3336

حضرت ابوصفوان بن عمیرہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے،تاہم اس میں معاوضے کا وزن کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اسے قیس نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح سفیان نے نقل کیا ہے جبکہ سفیان کا قول ہی قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٧)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِنُ بِأَجْرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ قَيْسٌ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، " وَالْقَوْلُ قَوْلُ: سُفْيَانَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3337

ابو رزمہ بیان کرتے ہیں:میں نے ایک شخص کو شعبہ سے یہ کہتے ہوئے سنا سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف نقل کیا ہے انہوں نے فرمایا میں بھی اس بات پر پریشان ہوں کیونکہ مجھ تک یحیی بن معین کا یہ قول پہنچا ہے جوبھی سفیان کے برخلاف روایت نقل کرے تو اس بارے میں سفیان کا قول معتبر ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ: رَجُلٌ لِشُعْبَةَ، خَالَفَكَ سُفْيَانَ، قَالَ: دَمَغْتَنِي وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ، فَالْقَوْلُ: قَوْلُ سُفْيَانَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3338

وکیع نے شعبہ کا یہ قول نقل کیا ہے:سفیان مجھ سے بڑے"حافظ الحدیث" ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٣٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: «كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3339

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ «عن ابن عباس» کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن (باٹ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ الْمَدِينَةِ ‏"‏؛پیمانوں میں (معتبر) مدینہ کا پیمانہ ہے؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤٠)

بَابٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ الْمَدِينَةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ، وَالْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَافَقَهُمَا فِي الْمَتْنِ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَكَانَ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: «وَزْنُ الْمَدِينَةِ وَمِكْيَالُ مَكَّةَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَاخْتُلِفَ فِي الْمَتْنِ فِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3340

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے“۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤١)

بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَاهُنَا أَحَدٌ، مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟» فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: «هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟» فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: «هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟» فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكُمْ إِلَّا خَيْرًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ»، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَدَّى عَنْهُ حَتَّى مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «سَمْعَانُ بْنُ مُشَنِّجٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3341

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ کبیرہ گناہ جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے ان میں اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا، أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، لَا يَدَعُ لَهُ قَضَاءً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3342

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ (میت) لایا گیا، آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو“، تو ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مر جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ، فَقَالَ: «أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3343

عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، ‌‌‌‏ ‌‌‌‏ عن شريك، ‌‌‌‏ ‌‌‌‏ عن سماك، ‌‌‌‏ ‌‌‌‏ عن عكرمة، ‌‌‌‏ ‌‌‌‏ - عن ابن عباس، ‌‌‌‏ ‌‌‌‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: ”آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ عُثْمَانُ: وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ: اشْتَرَى مِنْ عِيرٍ تَبِيعًا وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ فَأُرْبِحَ فِيهِ فَبَاعَهُ فَتَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: «لَا أَشْتَرِي بَعْدَهَا شَيْئًا إِلَّا وَعِنْدِي ثَمَنُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3344

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:خوشحال شخص کا(قرض کی واپسی میں)ٹال مٹول کرنا ظلم ہے،اور جب کسی(قرض خواہ)کو کسی خوشحال شخص کے حوالے کیا جائے تو اسے اس (خوشحال)کے پیچھے جانا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَطْلِ؛قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٥)

بَابٌ فِي الْمَطْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3345

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس شخص کو جوان اونٹ ادا کروں میں نے عرض کی:مجھے تمام اونٹوں میں صرف ایک رباعی اونٹ بہتر لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ؛قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٦)

بَابٌ فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3346

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض واپس لینا تھا، تو اپ نے مجھے ادائیگی کر دی اور مزید ادائیگی بھی کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ؛قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3347

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“ (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود کا حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٨)

بَابٌ فِي الصَّرْفِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3348

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ، بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، بِإِسْنَادِهِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3349

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے (قسم مختلف ہو جائے) تو جس طرح چاہو بیچو (مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ، وَيَنْقُصُ وَزَادَ قَالَ: فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا، كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3350

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ (جڑے ہوئے) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یہ خریداری درست نہیں) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو“ اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے (نگ) لینے کا تھا (یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو“ یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥١)

بَابٌ فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ مَنِيعٍ فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ»، فَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا»، قَالَ: فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا وقَالَ ابْنُ عِيسَى: أَرَدْتُ التِّجَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ فَغَيَّرَهُ، فَقَالَ: التِّجَارَةُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3351

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے غزوہ خیبر کے موقع پر بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا (۱۲) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ، وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3352

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے ایک اوقیہ سونا ایک دینار کے بدلے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، قَالَ: غَيْرُ قُتَيْبَةَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، - ثُمَّ اتَّفَقَا -، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3353

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں (اسے) بعض اوقات دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول!میں آپ سے یہ مسلہ پوچھنا تھا: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ؛چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٤)

بَابٌ فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الوَرِقِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ، وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3354

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم پہلی روایت زیادہ مکمل ہے، اس راوی نے"اس دن کے بھاؤ کا"ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ؛چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٥)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ لَمْ يَذْكُرْ بِسِعْرِ يَوْمِهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3355

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً؛جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٦)

بَابٌ فِي الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3356

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا،تو اونٹ کم پڑ گئے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی، کہ وہ اس وقت تک کے لیے ادھار اونٹ لے لے جب تک زکوۃ کے اونٹ نہیں آتے،تو انہوں نے زکوۃ کے اونٹ آنے تک،(ادھار کے طور پر)دو اونٹوں کے عوض میں ایک اونٹ حاصل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛ باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٧)

بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتْ الْإِبِلُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ»، فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3357

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں کے عوض میں ایک غلام خریدا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ؛اس کا بیان،جبکہ دست بدست لین دین؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٨)

بَابٌ فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3358

حضرت عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو «سلت» (بغیر چھلکے کے جو) سے بیچنا کیسا ہے؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (جب) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں:اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّمْرِ بِالتَّمْرِ؛کھجور کے عوض میں(کھجور کے)پھل کو فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٥٩)

بَابٌ فِي التَّمْرِ بِالتَّمْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ البَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» قَالُوا نَعَمْ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، نَحْوَ مَالِكٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3359

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے عوض،تازہ کھجور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے:یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ؛اس کا بیان،جبکہ دست بدست لین دین؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٠)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3360

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا ماپ کر سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَابَنَةِ؛مزابنہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦١)

بَابٌ فِي الْمُزَابَنَةِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3361

خارجہ بن زید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک یا تازہ کھجوروں کے عوض میں،عرایا کو فروخت کر نے کی اجازت دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْعَرَايَا؛بیع عرایا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٢)

بَابٌ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3362

حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے عوض میں(درخت پر لگے ہوئے کھجور کے)پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے،البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی ہے،کہ اندازے کے تحت اسے فروخت کیا جا سکتا ہے،تاکہ وہ لوگ تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْعَرَايَا؛بیع عرایا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3363

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے (یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِقْدَارِ الْعَرِيَّةِ؛بیع عریہ کس مقدار تک درست ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٤)

بَابٌ فِي مِقْدَارِ الْعَرِيَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ لَنَا الْقَعْنَبِيُّ: فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَاسْمُهُ قُزْمَانُ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ» شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ جَابِرٍ، إِلَى أَرْبَعَةِ أَوْسُقٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3364

عبدربہ بن سعید انصاری بیان کرتے ہیں: عریہ سے مراد یہ ہے:کوئی شخص کسی کو کھجور کا کوئی درخت یعنی اس کا پھل بلا معاوضہ دے دے یا کوئی شخص اپنے مال یعنی باغ میں سے کھجور کے ایک یا دو درختوں کا استثناء کر لے تاکہ وہ خود اسے کھائے اور پھر وہ کھجوروں کے عوض میں اسے فروخت کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا؛عرایا کی تفسیر؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٥)

بَابُ تَفْسِيرِ الْعَرَايَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: «الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي النَّخْلَةَ، أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ، أَوِ الِاثْنَتَيْنِ يَأْكُلُهَا فَيَبِيعُهَا بِتَمْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3365

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں:"عرایا"یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کھجور کے کچھ درخت ہبہ کر دے،اور پھر اس دوسرے شخص کا ان درختوں کی دیکھ بھال کے لیے(پہلے شخص کے باغ میں)آنا اسے گراں محسوس ہو تو وہ اندازے کے تحت اتنی کھجوروں کے عوض میں،اسے فروخت کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا؛عرایا کی تفسیر؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ، فَيَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا فَيَبِيعُهَا، بِمِثْلِ خَرْصِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3366

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کو منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٧)

بَابٌ فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3367

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے زرد ہو جانے سے پہلے،بالی کے سفید ہو جانے سے پہلے، جبکہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے،(اس سے پہلے)اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کو منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3368

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے،مال غنیمت فروخت کرنے ہر طرح کی آفت سے محفوظ ہونے سے پہلے کھجوروں کے درخت(پر لگی ہوئی کھجوریں)فروخت کرنے اور آدمی کے حزام(کپڑے کو باندھے)بغیر نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٦٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ، حَتَّى تُقَسَّمَ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3369

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے مشقح ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے،دریافت کیا گیا مشقح ہونے سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا وہ سرخ زرد ہو کر کھانے کے قابل ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ، حَتَّى تُشْقِحَ» قِيلَ وَمَا تُشْقِحُ، قَالَ: «تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3370

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کے سیاہ ہونے(یعنی پک جانے)سے پہلے اسے فروخت کرنے اور دانے کے پک جانے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3371

یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ (وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو“اس کی وجہ لوگوں کے مقدمات اور ان کے اختلافات تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: قَدْ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومَتُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا»، لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3372

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اسے دینار و درہم کے عوض میں ہی فروخت کیا جائے،البتہ عرایا کا حکم مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ أَوْ بِالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3373

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی(غیر معین)سالوں کے بعد ادائیگی کی شرط پر سودا کرنے سے منع کیا ہے،اور آپ نے آفت لاحق ہونے سے ہونے والے نقصان(کے حساب سے قیمت کی ادائیگی میں سے کچھ حصہ)معاف کروایا ہے۔ امام ابوداؤد علیہ الرحمہ:(آفت لاحق ہونے پر)ایک تہائی(رقم کی معافی)کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر کچھ منقول نہیں ہے،یہ اہل مدینہ کی رائے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ السِّنِينَ؛کئی سال(بعد ادائیگی کی شرط پر)سودا کرنا؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٤)

بَابٌ فِي بَيْعِ السِّنِينَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثُّلُثِ شَيْءٌ، وَهُوَ رَأْيُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3374

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"معاومہ"(کئی سال کے بعد ادائیگی)کے سودے سے منع کیا ہے۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:کئی سال(کے بعد ادائیگی)کے سودے(سے منع کیا ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ السِّنِينَ؛کئی سال(بعد ادائیگی کی شرط پر)سودا کرنا؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُعَاوَمَةِ» وَقَالَ: أَحَدُهُمَا: بَيْعُ السِّنِينَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3375

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے،عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: کنکریوں(کے ذریعے طے پانے)والے سودے (سے منع کیا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٦)

بَابٌ فِي بَيْعِ الْغَرَرِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ» زَادَ عُثْمَانُ وَالْحَصَاةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3376

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے لباس سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ، أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3377

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اشتمال صماءیہ ہے کہ آدمی ایک کپڑے کو یوں لپیٹے کہ وہ کپڑے کے دونوں کنارے بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں پہلو کو ظاہر رکھیں۔ منابذہ یہ ہے آدمی یہ کہے جب میں نے یہ کپڑا تمہاری طرف پھینک دیا تو سودا طے شمار ہوگا۔ ملامسہ یہ ہے جب آدمی اس کپڑے کو چھو لے حالانکہ اس نے اسے کھولا یا پلٹا نہ ہو تو چھونے سے ہی بے لازم ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٧٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ: أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرُهُ وَلَا يُقَلِّبُهُ، فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3378

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)جو سفیان اور عبدالرزاق کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٧٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3379

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل والی بیع سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3380

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:راوی کہتے ہیں"حاملہ کے حمل"سے مراد یہ ہے جب اونٹنی بچہ پیدا کرے گی پھر وہ پیدا ہونے والی اوٹنی جب حاملہ ہوگی(اس وقت ادائیگی کی جائے گی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: «وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ، أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا، ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3381

بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا (یعنی صدقہ و خیرات نہیں کرے گا)حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ"اور تم آپس میں فضل(احسان و بھلائی کرنے)کو نہ بھولو"(سورۃ البقرہ: ۲۳۸) اضطراری حالت(مجبوری)کا شکار لوگوں کے ساتھ سودے کیے جائیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطراری حالت کا شکار شخص سے بیع کرنے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛26. باب فِي بَيْعِ الْمُضْطَرِّ؛لاچار و مجبور ہو کر بیع کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨٢)

بَابٌ فِي بَيْعِ الْمُضْطَرِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، - أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ ابْنُ عِيسَى: هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ - قَالَ: سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ، وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} [البقرة: 237] وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ «وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3382

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں:(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:)"اللہ تعالی فرماتا ہے:دو شراکت داروں کے ساتھ تیسرا میں ہوتا ہوں جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت نہیں کرتا،جب وہ اس کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فى الشَّرِكَةِ؛تجارت میں شراکت کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٣)

بَابٌ فِي الشَّرِكَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3383

حضرت عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٤)

بَابٌ فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ، قَالَ: «أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً، أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ كَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3384

یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں کچھ الفاظ مختلف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٥)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3385

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ، وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3386

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " تم میں سے جو شخص چاولوں کے بڑے برتن والے شخص کی مانند بن سکتا ہو اسے ایسا کرنا چاہیے“ لوگوں نے دریافت کیا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، (بویا اور بڑھایا) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق (مزدوری) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَّجِرُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؛آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٧)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَتَّجِرُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ، فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ» قَالُوا: وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْجَبَلُ، فَقَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ، قَالَ: " وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ، وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُهُ لَهُ حَتَّى جَمَعْتُ لَهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3387

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہمیں غزوہ بدر میں جو حصہ ملا تھا،اس میں،میں عمار اور سعد شراکت دار بن گئے،(یعنی یہ طے کیا)تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ قیدی لے کر آئے لیکن میں اور عمار کچھ نہیں لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الشَّرِكَةِ عَلَى غَيْرِ رَأْسِ مَالٍ؛بغیر سرمایہ لگائے شرکت کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٨٨)

بَابٌ فِي الشَّرِكَةِ عَلَى غَيْرِ رَأْسِ مَالٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ: فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3388

حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول (ٹھیکہ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٨٩)

بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا، حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ: «لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3389

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں (واقعہ یہ ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ایسے ہی (یعنی لڑتے جھگڑتے) رہنا ہے تو کھیتوں کو کرایہ (ٹھیکہ)پر نہ دیا کرو“۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین کرایہ پر نہ دیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ- هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ»، زَادَ مُسَدَّدٌ، فَسَمِعَ قَوْلَهُ: «لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3390

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے اس شرط پر کہ پانی کی نالی کے اس پاس کے حصے یا جس جگہ تک از خود پانی پہنچ جاتا ہے وہاں کی پیداوار زمین کے مالک کو ملے گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سےمنع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: «كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3391

حضرت حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩٢)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، كِلَاهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ - حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَيَهْلَكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلَكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ»، وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3392

حضرت حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3393

حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرایہ پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو کرایہ پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین کرایہ پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ؛کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٣٣٩٤)

بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ» فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي، كِرَاءِ الْأَرْضِ؟، قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى» «ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَكَذَا قَالَ: عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَبُو النَّجَاشِيِّ، عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3394

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (کرایہ پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر کرایہ پر نہ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٣٣٩٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، وَأَنْفَعُ، قَالَ: قُلْنَا وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلَا بِرُبُعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3395

ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَحَدِيثِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3396

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ نفع بخش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ، مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا، وَطَاعَةُ اللَّهِ، وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا، «نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا، إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3397

اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ فائدہ والی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللَّهِ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْهَاكُمْ عَنِ الحَقْلِ، وَقَالَ: مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لِيَدَعْ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ شُعْبَةُ: «أُسَيْدٌ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3398

ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ”(ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے“ لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو“ رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ؟، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، حَدِيثٌ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ، قَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ: أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ؟، قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ، قَالَ: «فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ»، قَالَ رَافِعٌ: «فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ»، قَالَ سَعِيدٌ: «أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3399

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے اور فرمایا: ”زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں (۱) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، (۲) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، (۳) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ»، وَقَالَ: " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3400

عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کر لو) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠١)

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ، فَقَالَ: أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ، بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: «دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3401

ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟“ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٢)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ «لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟» فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: «أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3402

حضرت رافع بن خطیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں کھیتی باڑی کرے تو اسے زرعی پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا اسے اس کا خرچ ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛ باب فِي زَرْعِ الأَرْضِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا؛زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر زمین میں کھیتی کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٣)

بَابٌ فِي زَرْعِ الْأَرْضِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3403

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين» کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔ وضاحت: ۱؎: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلہ سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں۔ ۲؎: درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ ۳؎: معاومہ اور بیع سنین ایک ہی معنی میں ہے یعنی کئی سال تک کا میوہ بیچنا۔ ۴؎: سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینے اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینے سے منع کیا ہے۔ ۵؎: عرایا یہ ہے کہ مالک باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لئے مفت دے دے اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خریدلے اور اس کے بدلے تر یا خشک میوہ اس کے حوالے کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٤)

بَابٌ فِي الْمُخَابَرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادًا، وَعَبْدَ الْوَارِثِ، حَدَّثَاهُمْ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ»، قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، وَقَالَ: أَحَدُهُمَا وَالْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ: الْآخَرُ بَيْعُ السِّنِينَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3404

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور استثناء کرنے سے منع کیا البتہ اگر(استثناء)متعین ہو(تو حکم مختلف ہوگا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ يُعْلَمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3405

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص مخابرہ نہیں چھوڑتا اسے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ يَعْنِي الْمَكِّيَّ، قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ: حَدَّثَنِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَمْ يَذَرْ الْمُخَابَرَةَ فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3406

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع کیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں)میں نے دریافت کیا مخابرہ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا یہ کہ تم نصف،ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں زمین حاصل کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُخَابَرَةِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ، قَالَ: أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبْعٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3407

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے یہ طے کیا تھا کہ وہاں کے پھلوں اور زرعی پیداوار کا نصف انہیں ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٨)

بَابٌ فِي الْمُسَاقَاةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3408

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے کھجوروں کے باغات اور وہاں کی زمین اس شرط پر یہودیوں کے پاس رہنے دی کہ وہ اپنی زمینوں میں کام کاج کریں گے اور وہاں کی نصف پیداوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤٠٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا، عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3409

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی (واضح کر دیا) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں(مسلمانوں)سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا (اسی کو اہل مدینہ «خرص» (آنکنا) کہتے ہیں) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی (ان کا نصف ہمیں دے دو) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر (بوجھ ڈالنے کے لیے) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اگر یہ زیادہ ہے) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٠)

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ، قَالَ: أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ، وَلَنَا نِصْفٌ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ: قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3410

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تمام زرد اور سفید(راوی کہتے ہیں)یعنی سونا اور چاندی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ، قَالَ فَحَزَرَ: وَقَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ لَهُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3411

مقسم بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس میں یہ الفاظ ہیں)انہوں نے پیداوار کا اندازہ لگایا اور کہا میں کھجور اترواؤں گا اور تمہیں اتنا نصف حصہ ادا کروں گا جو میں نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ، قَالَ: فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَقَالَ: فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3412

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (خیبر) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آجائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٣)

بَابٌ فِي الْخَرْصِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ، حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3413

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پر دے دیا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: «أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3414

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق (کھجور) کا اندازہ لگایا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا (کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق (کٹائی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ، أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Buyu, Hadees No. 3415

Abu Dawood Shareef : Kitabul Buyu

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْبُيُوعِ

|

•