
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ(ایجنٹ)کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ؛تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت قیس بن ابوغرزہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے،(تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں)"جھوٹ اور قسم"(شامل ہو جاتے ہیں)ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "لغو اور جھوٹ" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ؛تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (لے جاؤ) اس میں بھلائی نہیں ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے (قرض کو) خود ادا کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِخْرَاجِ الْمَعَادِنِ؛معدنیات نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٢٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بےشک حلال واضح ہے، اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں (جن کی حلت و حرمت میں شک ہے) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں،بےشک اللہ نے ایک چراگاہ مقرر کی، اور اللہ کی چراگاہ اس کے محارم ہیں (یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے) اور جو شخص چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ انہیں پار کر کے(حرام میں) مبتلا ہو جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٢٩)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں بہت سے لوگوں کو ان کا علم نہیں تو جو شخص مشتبہ چیز سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کر لیا اور جو مشتبہ چیز میں مبتلا ہوا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی غبار کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی“۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٣٣٣١)
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ایک انصاری(صحابی)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: ”پیروں کی جانب سے (قبر) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے فراغت پا کر) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے یہاں) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا (کھانا شروع کیا) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے“ پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو (اتفاق سے) وہ ہمسایہ (گھر پر) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو“۔ (چونکہ بکری، صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کر ڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ؛شبہات سے بچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،اسے کھلانے والے،اس کے گواہ اور اسکی لین دین کی شرائط وغیرہ)تحریر کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي آكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ؛سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٣)
حضرت سلیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: ”سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے (نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے“ وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ ”لوگوں نے تین بار کہا: ہاں (آپ نے پہنچا دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہوجا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الرِّبَاَ؛سود کو کالعدم قرار دینا؛جلد٣،ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٣٣٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے قسم اٹھانے سے سودا فروخت ہو جاتا ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔" ابن سرح نے لفظ" کسب"(کمائی)روایت کیا ہے،یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ؛خرید و فروخت میں (جھوٹی) قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٥)
سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر سے کپڑا خریدا اور اسے (بیچنے کے لیے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پیدل تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ سودا طے کیا تو ہم نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تولو اور جھکا ہوا تولو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٦)
حضرت ابوصفوان بن عمیرہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے،تاہم اس میں معاوضے کا وزن کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اسے قیس نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح سفیان نے نقل کیا ہے جبکہ سفیان کا قول ہی قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٧)
ابو رزمہ بیان کرتے ہیں:میں نے ایک شخص کو شعبہ سے یہ کہتے ہوئے سنا سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف نقل کیا ہے انہوں نے فرمایا میں بھی اس بات پر پریشان ہوں کیونکہ مجھ تک یحیی بن معین کا یہ قول پہنچا ہے جوبھی سفیان کے برخلاف روایت نقل کرے تو اس بارے میں سفیان کا قول معتبر ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٣٣٣٨)
وکیع نے شعبہ کا یہ قول نقل کیا ہے:سفیان مجھ سے بڑے"حافظ الحدیث" ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ؛تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ «عن ابن عباس» کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن (باٹ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ الْمَدِينَةِ "؛پیمانوں میں (معتبر) مدینہ کا پیمانہ ہے؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤٠)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے“۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ کبیرہ گناہ جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے ان میں اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٣٣٤٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ (میت) لایا گیا، آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو“، تو ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مر جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٣)
عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، عن شريك، عن سماك، عن عكرمة، - عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: ”آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ؛قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:خوشحال شخص کا(قرض کی واپسی میں)ٹال مٹول کرنا ظلم ہے،اور جب کسی(قرض خواہ)کو کسی خوشحال شخص کے حوالے کیا جائے تو اسے اس (خوشحال)کے پیچھے جانا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَطْلِ؛قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٥)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس شخص کو جوان اونٹ ادا کروں میں نے عرض کی:مجھے تمام اونٹوں میں صرف ایک رباعی اونٹ بہتر لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ؛قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٣٣٤٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض واپس لینا تھا، تو اپ نے مجھے ادائیگی کر دی اور مزید ادائیگی بھی کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ؛قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٧)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“ (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود کا حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٨)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٤٩)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے (قسم مختلف ہو جائے) تو جس طرح چاہو بیچو (مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّرْفِ؛بیع صرف کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٣٣٥٠)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ (جڑے ہوئے) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یہ خریداری درست نہیں) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو“ اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے (نگ) لینے کا تھا (یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو“ یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥١)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے غزوہ خیبر کے موقع پر بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا (۱۲) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥٢)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے ایک اوقیہ سونا ایک دینار کے بدلے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ؛ تلوار پر لگے ہوئے زیور(سونے چاندی کو)درہم کے عوض میں فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٣٣٥٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں (اسے) بعض اوقات دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول!میں آپ سے یہ مسلہ پوچھنا تھا: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ؛چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم پہلی روایت زیادہ مکمل ہے، اس راوی نے"اس دن کے بھاؤ کا"ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ؛چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٥)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً؛جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا،تو اونٹ کم پڑ گئے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی، کہ وہ اس وقت تک کے لیے ادھار اونٹ لے لے جب تک زکوۃ کے اونٹ نہیں آتے،تو انہوں نے زکوۃ کے اونٹ آنے تک،(ادھار کے طور پر)دو اونٹوں کے عوض میں ایک اونٹ حاصل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛ باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں کے عوض میں ایک غلام خریدا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ؛اس کا بیان،جبکہ دست بدست لین دین؛جلد٣،ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٣٣٥٨)
حضرت عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو «سلت» (بغیر چھلکے کے جو) سے بیچنا کیسا ہے؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (جب) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں:اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّمْرِ بِالتَّمْرِ؛کھجور کے عوض میں(کھجور کے)پھل کو فروخت کرنا؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٥٩)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے عوض،تازہ کھجور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے:یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ؛اس کا بیان،جبکہ دست بدست لین دین؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا ماپ کر سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَابَنَةِ؛مزابنہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦١)
خارجہ بن زید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک یا تازہ کھجوروں کے عوض میں،عرایا کو فروخت کر نے کی اجازت دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْعَرَايَا؛بیع عرایا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٢)
حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے عوض میں(درخت پر لگے ہوئے کھجور کے)پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے،البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی ہے،کہ اندازے کے تحت اسے فروخت کیا جا سکتا ہے،تاکہ وہ لوگ تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْعَرَايَا؛بیع عرایا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٣٣٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے (یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِقْدَارِ الْعَرِيَّةِ؛بیع عریہ کس مقدار تک درست ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٤)
عبدربہ بن سعید انصاری بیان کرتے ہیں: عریہ سے مراد یہ ہے:کوئی شخص کسی کو کھجور کا کوئی درخت یعنی اس کا پھل بلا معاوضہ دے دے یا کوئی شخص اپنے مال یعنی باغ میں سے کھجور کے ایک یا دو درختوں کا استثناء کر لے تاکہ وہ خود اسے کھائے اور پھر وہ کھجوروں کے عوض میں اسے فروخت کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا؛عرایا کی تفسیر؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٥)
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں:"عرایا"یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کھجور کے کچھ درخت ہبہ کر دے،اور پھر اس دوسرے شخص کا ان درختوں کی دیکھ بھال کے لیے(پہلے شخص کے باغ میں)آنا اسے گراں محسوس ہو تو وہ اندازے کے تحت اتنی کھجوروں کے عوض میں،اسے فروخت کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا؛عرایا کی تفسیر؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کو منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے زرد ہو جانے سے پہلے،بالی کے سفید ہو جانے سے پہلے، جبکہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے،(اس سے پہلے)اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کو منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٣٣٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے،مال غنیمت فروخت کرنے ہر طرح کی آفت سے محفوظ ہونے سے پہلے کھجوروں کے درخت(پر لگی ہوئی کھجوریں)فروخت کرنے اور آدمی کے حزام(کپڑے کو باندھے)بغیر نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٦٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے مشقح ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے،دریافت کیا گیا مشقح ہونے سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا وہ سرخ زرد ہو کر کھانے کے قابل ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کے سیاہ ہونے(یعنی پک جانے)سے پہلے اسے فروخت کرنے اور دانے کے پک جانے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧١)
یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ (وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو“اس کی وجہ لوگوں کے مقدمات اور ان کے اختلافات تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اسے دینار و درہم کے عوض میں ہی فروخت کیا جائے،البتہ عرایا کا حکم مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا؛پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٣؛حدیث نمبر؛٣٣٧٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی(غیر معین)سالوں کے بعد ادائیگی کی شرط پر سودا کرنے سے منع کیا ہے،اور آپ نے آفت لاحق ہونے سے ہونے والے نقصان(کے حساب سے قیمت کی ادائیگی میں سے کچھ حصہ)معاف کروایا ہے۔ امام ابوداؤد علیہ الرحمہ:(آفت لاحق ہونے پر)ایک تہائی(رقم کی معافی)کے بارے میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر کچھ منقول نہیں ہے،یہ اہل مدینہ کی رائے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ السِّنِينَ؛کئی سال(بعد ادائیگی کی شرط پر)سودا کرنا؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"معاومہ"(کئی سال کے بعد ادائیگی)کے سودے سے منع کیا ہے۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:کئی سال(کے بعد ادائیگی)کے سودے(سے منع کیا ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ السِّنِينَ؛کئی سال(بعد ادائیگی کی شرط پر)سودا کرنا؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے،عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: کنکریوں(کے ذریعے طے پانے)والے سودے (سے منع کیا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے لباس سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٣٣٧٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اشتمال صماءیہ ہے کہ آدمی ایک کپڑے کو یوں لپیٹے کہ وہ کپڑے کے دونوں کنارے بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں پہلو کو ظاہر رکھیں۔ منابذہ یہ ہے آدمی یہ کہے جب میں نے یہ کپڑا تمہاری طرف پھینک دیا تو سودا طے شمار ہوگا۔ ملامسہ یہ ہے جب آدمی اس کپڑے کو چھو لے حالانکہ اس نے اسے کھولا یا پلٹا نہ ہو تو چھونے سے ہی بے لازم ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٧٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)جو سفیان اور عبدالرزاق کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل والی بیع سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:راوی کہتے ہیں"حاملہ کے حمل"سے مراد یہ ہے جب اونٹنی بچہ پیدا کرے گی پھر وہ پیدا ہونے والی اوٹنی جب حاملہ ہوگی(اس وقت ادائیگی کی جائے گی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ؛دھوکہ کی بیع منع ہے؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨١)
بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا (یعنی صدقہ و خیرات نہیں کرے گا)حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ"اور تم آپس میں فضل(احسان و بھلائی کرنے)کو نہ بھولو"(سورۃ البقرہ: ۲۳۸) اضطراری حالت(مجبوری)کا شکار لوگوں کے ساتھ سودے کیے جائیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطراری حالت کا شکار شخص سے بیع کرنے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛26. باب فِي بَيْعِ الْمُضْطَرِّ؛لاچار و مجبور ہو کر بیع کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٣٣٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں:(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:)"اللہ تعالی فرماتا ہے:دو شراکت داروں کے ساتھ تیسرا میں ہوتا ہوں جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت نہیں کرتا،جب وہ اس کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فى الشَّرِكَةِ؛تجارت میں شراکت کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٣)
حضرت عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٤)
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں کچھ الفاظ مختلف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٥)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ؛ مضارب کا(مالک کے) برخلاف کچھ کرنا؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " تم میں سے جو شخص چاولوں کے بڑے برتن والے شخص کی مانند بن سکتا ہو اسے ایسا کرنا چاہیے“ لوگوں نے دریافت کیا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، (بویا اور بڑھایا) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق (مزدوری) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَّجِرُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؛آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٣٣٨٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہمیں غزوہ بدر میں جو حصہ ملا تھا،اس میں،میں عمار اور سعد شراکت دار بن گئے،(یعنی یہ طے کیا)تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ قیدی لے کر آئے لیکن میں اور عمار کچھ نہیں لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الشَّرِكَةِ عَلَى غَيْرِ رَأْسِ مَالٍ؛بغیر سرمایہ لگائے شرکت کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٨٨)
حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول (ٹھیکہ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٨٩)
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں (واقعہ یہ ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ایسے ہی (یعنی لڑتے جھگڑتے) رہنا ہے تو کھیتوں کو کرایہ (ٹھیکہ)پر نہ دیا کرو“۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین کرایہ پر نہ دیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٣٣٩٠)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے اس شرط پر کہ پانی کی نالی کے اس پاس کے حصے یا جس جگہ تک از خود پانی پہنچ جاتا ہے وہاں کی پیداوار زمین کے مالک کو ملے گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سےمنع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩١)
حضرت حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩٢)
حضرت حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٣٣٩٣)
حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرایہ پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو کرایہ پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین کرایہ پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ؛کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٣٣٩٤)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (کرایہ پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر کرایہ پر نہ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٣٣٩٥)
ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٦)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ نفع بخش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٧)
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ فائدہ والی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٨)
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ”(ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے“ لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو“ رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٣٣٩٩)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے اور فرمایا: ”زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں (۱) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، (۲) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، (۳) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٠)
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کر لو) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠١)
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟“ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُزَارَعَةِ؛مزارعت یعنی ٹھیکے پر زمین دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٢)
حضرت رافع بن خطیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں کھیتی باڑی کرے تو اسے زرعی پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا اسے اس کا خرچ ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛ باب فِي زَرْعِ الأَرْضِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا؛زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر زمین میں کھیتی کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٣٤٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين» کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔ وضاحت: ۱؎: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلہ سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں۔ ۲؎: درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ ۳؎: معاومہ اور بیع سنین ایک ہی معنی میں ہے یعنی کئی سال تک کا میوہ بیچنا۔ ۴؎: سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینے اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینے سے منع کیا ہے۔ ۵؎: عرایا یہ ہے کہ مالک باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لئے مفت دے دے اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خریدلے اور اس کے بدلے تر یا خشک میوہ اس کے حوالے کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٤)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور استثناء کرنے سے منع کیا البتہ اگر(استثناء)متعین ہو(تو حکم مختلف ہوگا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص مخابرہ نہیں چھوڑتا اسے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٦)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع کیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں)میں نے دریافت کیا مخابرہ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا یہ کہ تم نصف،ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں زمین حاصل کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُخَابَرَةِ؛مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے یہ طے کیا تھا کہ وہاں کے پھلوں اور زرعی پیداوار کا نصف انہیں ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٣٤٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے کھجوروں کے باغات اور وہاں کی زمین اس شرط پر یہودیوں کے پاس رہنے دی کہ وہ اپنی زمینوں میں کام کاج کریں گے اور وہاں کی نصف پیداوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی (واضح کر دیا) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں(مسلمانوں)سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا (اسی کو اہل مدینہ «خرص» (آنکنا) کہتے ہیں) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی (ان کا نصف ہمیں دے دو) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر (بوجھ ڈالنے کے لیے) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اگر یہ زیادہ ہے) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تمام زرد اور سفید(راوی کہتے ہیں)یعنی سونا اور چاندی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١١)
مقسم بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس میں یہ الفاظ ہیں)انہوں نے پیداوار کا اندازہ لگایا اور کہا میں کھجور اترواؤں گا اور تمہیں اتنا نصف حصہ ادا کروں گا جو میں نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمُسَاقَاةِ؛مساقات کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (خیبر) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آجائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٣٤١٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پر دے دیا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق (کھجور) کا اندازہ لگایا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا (کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق (کٹائی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَرْصِ؛درخت پر پھل کا اندازہ لگانا؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Buyu
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْبُيُوعِ
|
•