
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی، میں نے (جی میں) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا (پھر بھی) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو۔“ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الْمُعَلِّمِ؛معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٦)
Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3417
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ (ڈنک مار دیا)لیا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے (وہ آئے) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کو کوئی دم کرنے آتا ہے جو ہمارے (ساتھی کو شفاء دے)؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ (صحابی) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے دم کیا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیسے جانا کہ اس کا دم ہوتا ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٥؛حدیث نمبر؛٣٤١٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٥؛حدیث نمبر؛٣٤١٩)
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ تم ان صاحب(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو (منہ میں) لعاب جمع کرتے پھر وہ لعاب اس پر ڈال دیتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ، قسم ہے (یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے) لوگ باطل دم کر کے کھاتے ہیں اور تم حق دم کر کے کھا رہے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٠)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:پچھنے لگانے والے کی آمدن حرام ہے،کتے کی قیمت حرام ہے اور فاحشہ عورت کی آمدن حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢١)
ابن محیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے والے کے معاوضے کے بارے میں اجازت لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا وہ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کرتے رہے اور ان سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس کی آمدن کو اپنے اونٹ کو کھلا دے یا غلام کو کھلا دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے،آپ نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ادا کیا اگر آپ کو یہ علم ہوتا کہ یہ حرام ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ نہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجوروں کا ایک صاع دینے کا حکم دیا آپ نے اس کے اقا کو یہ ہدایت دی کہ وہ اس کے خراج میں تخفیف کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیزوں کی کمائی سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٥)
طارق بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں حضرت رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا،سوت کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٦)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کی آمدنی سے منع کیا ہے جب تک یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کمائی کہاں سے آتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٧)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے کتے کی قیمت،فاحشہ عورت کی آمدنی اور کاہن کے نذرانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ؛کاہن اور نجومی کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور کو جفتی کے لیے معاوضے کے عوض میں دینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَسْبِ الْفَحْلِ؛نر سے جفتی کرانے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٩)
ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، (یہ شک راوی کو ہوا ہے)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے علاقے میں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام (پچھنا لگانے والے) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے (جس نے کان کاٹا ہے) قصاص لے، پھر جب حجام (پچھنا لگانے والا) بلا کر لایا گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام (پچھنہ لگانے والے)، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّائِغِ؛سنار (جوہری) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٣٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّائِغِ؛سنار (جوہری) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣١)
Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3432
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ پھل میں لوں گا)“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ نقل کرتے ہیں، جبکہ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور والا مسئلہ نقل کیا ہے، امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں زہری اور نافع نے چار روایات میں اختلاف کیا ہے یہ ان میں سے ایک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کا کوئی مال ہو تو وہ مال فروخت کرنے والے کو ملے گا البتہ اگر خرید دار نے شرط عائد کی ہو(توحکم مختلف ہوگا)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٥)
Abu Daud Sharif Kitabul Abwabul Ijarah Hadees No# 3436
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر (ارزاں) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے (کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے)۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ (خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلَقِّي؛(سوداگروں سے،منڈی سے باہر)ملاقات کرنا؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٣٧)
Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3438
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ شہری شخص دیہاتی کے لیے کوئی چیز فروخت کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا:شہری شخص کے دیہاتی کے لیے فروخت کرنے سے مراد کیا ہے انہوں نے فرمایا یہ کہ وہ اس کا ایجنٹ بن جائے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٣٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٤٠)
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھ والی اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا ایجنٹ بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے تم لوگوں کو(ان کے حال پر)چھوڑ دو اللہ تعالی انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو(منڈی سے باہر راستے میں)، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے“۔ (تصریہ؛تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تا کہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص تصریہ والی کوئی بکری خرید لیتا ہے تو تین دن تک اسے اس کو واپس کر دے ساتھ میں اناج کا ایک صاع دے،جو عمدہ قسم کی گندم نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص تصریہ والی بکری خرید کر پھر اس کا دودھ دوہ لے تو اگر بعد میں وہ راضی ہو تو اسے اپنے پاس رکھے اگر پسند نہ کرے تو اس نے جو دودھ دوہ لیا تھا اس کے عوض میں کھجور کا ایک صاع دے دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس نے محفلہ جانور خریدا،تین دن تک اسے اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اسے واپس کر دے اور اس کے ہمراہ اس کے دودھ کی مانند(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اس سے دوگنی گندم بھی واپس کرے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٦)
حضرت معمر بن ابو معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو“۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار سے متعلق ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْحُكْرَةِ؛ذخیرہ اندوزی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٧)
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو (کوئی حرج نہیں ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْحُكْرَةِ؛ذخیرہ اندوزی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٨)
علقمہ بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مسلمانوں میں رائج سکے کو توڑ دیا جائے،البتہ اگر انتہائی ضرورت ہو تو(حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْرِ الدَّرَاهِمِ؛(بلاضرورت) درہم (چاندی کا سکہ) توڑنا (اور پگھلانا) منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص آیا اس نے عرض کی یا رسول اللہ!(بازار میں)چیزوں کے نرخ مقرر کر دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں بلکہ میں دعا کر دیتا ہوں پھر ایک اور شخص آیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ نرخ مقرر کر دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں بلکہ اللہ تعالی (چیزوں کی قیمتوں کو)گھٹاتا اور بڑھاتا ہے مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا تو کوئی بھی شخص میری طرف سے ظلم کا دعوی دار نہیں ہوگا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْعِيرِ؛نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ چیزوں کے نرخ مہنگے ہو گئے ہیں آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی نرخ مقرر کرنے والا ہے وہ تنگی کرنے والا اور وسعت دینے والا ہے، رزق عطا کرنے والا ہے،مجھے یہ امید ہے کہ میں ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا کہ تم میں سے کوئی بھی شخص جان یا مال کے حوالے سے مجھ سے زیادتی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْعِيرِ؛نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: ”کیسے بیچتے ہو؟“ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: ”جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِشِّ؛خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٢)
یحیی بیان کرتے ہیں؛سفیان اس وضاحت کو ناپسند کرتے تھے"وہ ہم میں سے نہیں" سے مراد"وہ ہماری مانند نہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِشِّ؛خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:خرید و فروخت کرنے والوں کو سودا ختم کرنے کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہیں ہو جاتے البتہ اگر بیع خیار ہو تو حکم مختلف ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں:یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے یہ کہہ دے:تم اختیار کر لو" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، (تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے) بائع و مشتری کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ وہ اس اندیشے کے تحت اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے کہ وہ سودا ختم ہو سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٦)
ابو وضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں (وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب (پڑاؤ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں (ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں“۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٧)
یحییٰ بن ایوب بیان کرتے ہیں ابوزرعہ جب کسی شخص کے ساتھ کوئی سودا کرتے تھے تو اسے اختیار دیتے تھے پھر وہ یہ فرماتے تھے تم مجھے بھی اختیار دو پھر وہ یہ بیان کرتے تھے میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "دو آدمی باہمی رضا مندی کے بغیر ایک دوسرے سے جدا نہ ہو" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٨)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ اقالہ کر لے اللہ تعالی اس کی لغزشوں سے درگزر کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ الإِقَالَةِ؛اقالہ کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص ایک ہی سودے میں دو سودا کرے گا تو یا تو اس کے حصے میں کم قیمت آئے گی یا پھر سود ائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ؛ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت؛جلد٣،ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٣٤٦١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ کرو گے اور تم بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی سے مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے تو اللہ تعالی تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی بھی صورت میں زائل نہیں ہوگی جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہیں آجاتے۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت جعفر کی نقل کردہ ہے اور یہ الفاظ بھی اسی کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْعِينَةِ؛بیع عینہ منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٣٤٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں ایک،ایک دو،دو تین،تین سال تک کے لیے بیع سلف کر لیتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلف کرتا ہے اسے متعین ماپ متعین وزن میں متعین مدت کے لیے سودا کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٣)
محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے (کرتے تھے) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں"ان لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتے تھے جن کے پاس وہ چیزیں نہیں ہوتی تھی" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ راوی کا نام ابن ابو مجالد ہے جبکہ شعبہ نے اس روایت میں (راوی کا نام ذکر کرتے ہوئے)غلطی کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٥)
عبداللہ بن ابو اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے (یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہو گا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: ”تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجوروں میں جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائیں سلف نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَمِ فِي ثَمَرَةٍ بِعَيْنِهَا؛کسی متعین پھل کی بیع سلم کرنا؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی چیز میں بیع سلف کرتا ہے تو وہ اسے دوسری چیز میں تبدیل نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب السَّلَفِ لاَ يُحَوَّلُ؛بیع سلف کے ذریعہ خریدی گئی چیز بدلی نہ جائے؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خیرات دو“ تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: ”جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے“ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الْجَائِحَةِ؛آفت آنے کی صورت میں ادائگی معاف(یا کم)کرنا؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اگر تم اپنے بھائی کو کھجور فروخت کرو اور پھر اسے کوئی آفت لاحق ہو جائے تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے تم کسی حق کے بغیر کس بیناد پر اپنے بھائی کا مال حاصل کرو گے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الْجَائِحَةِ؛آفت آنے کی صورت میں ادائگی معاف(یا کم)کرنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٠)
عطا بیان کرتے ہیں آفات سے مراد تمام ظاہری اسباب ہیں جو خرابی پیدا کر دیتے ہیں جس میں بارش،سردی،آندھی یا جل جانا وغیرہ شامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ؛«جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧١)
یحیی بن سعید فرماتے ہیں جس آفت کے نتیجے میں پورے مال کا ایک تہائی سے کم کا نقصان ہو وہ آفت شمار نہیں ہوتی یحییٰ کہتے ہیں مسلمانوں کا یہی طریقہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ؛«جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اضافی پانی استعمال کرنے سے نہ روکا جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں گھاس اگنا بند ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرماے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی حکمران کی بیعت کرے اگر حکمران اسے کچھ دے تو وہ اس بیت کو پورا کرے اگر وہ اسے کچھ نہ دے تو وہ اس بیت کو پورا نہ کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں اللہ تعالی ان لوگوں کا تزکیہ نہیں کرے گا ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ سامان کے بارے میں وہ شخص یہ کہے گا اللہ کی قسم مجھے اس کے عوض میں اتنے اور اتنے پیسے دیے جا رہے تھے تو دوسرا شخص اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے حاصل کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٥)
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے درمیان داخل ہوگئے آپ کو بوسہ دینے لگے اور اپنے ساتھ چنٹانے لگے پھر انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھلائی کرتے رہنا تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٦)
ابو خداش ایک مہاجر صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تین غزوات میں شرکت کی میں نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان تین چیزوں میں ایک دوسرے کے حصے دار ہیں،گھاس،پانی اور آگ۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٧)
حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"اضافی پانی کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ؛فاضل پانی کے بیچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت(استعمال کرنے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ؛بلی کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ؛بلی کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٨٠)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے اور اگر کوئی شخص آ کر کتے کی قیمت کا مطالبہ کرے تو تم اس کی ہتھیلی کو مٹی سے بھر دو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٢)
عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کتے کی قیمت،کاہن کا نذرانہ اور فاحشہ عورت کی کمائی جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بے شک اللہ تعالی نے شراب اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے،اس نے مردار اور اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے،اس نے خنزیر اور اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے): ”اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٦)
یزید بن ابو حبیب بیان کرتے ہیں عطا نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت مجھے لکھ کر بھیجی،اس کے بعد حسب سابق ہے جس میں یہ الفاظ نہیں"وہ حرام ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن (حجر اسود) کے پاس تشریف فرما ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے“۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال " قاتل الله اليهود» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص شراب فروخت کرتا ہے اسے خنزیر کو بھی حلال سمجھنا چاہیے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ان آیات کی تلاوت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا گیا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٩٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں" وہ آخری آیات،جو سود سے متعلق ہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کوئی اناج خریدے تو وہ اسے اگے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک پہلے اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس(کسی شخص کو)بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ ہم اس اناج کو جگہ سے منتقل کر لیں جس جگہ پر ہم نے اسے خریدا ہے یا اس سے کسی ایسی جگہ پر منتقل کرے جو اس جگہ کے علاوہ ہو ایسا ہم اس اناج کو اگے فروخت کرنے سے پہلے کرے۔ راوی کہتے ہیں:اس سے مراد یہ ہے کہ اندازے کے تحت(کی گئی،خرید و فروخت)ممنوع ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے لوگ بازار کے بالائی حصے کی جانب اندازے کے تحت اناج کی خرید و فروخت کر لیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اس طرح فروخت کرنے سے منع کر دیا جب تک وہ اسے(دوسری جگہ)منتقل نہیں کر لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کسی اناج کو فروخت کرے جس کو اس نے متعین ماپ کے ہمراہ خریدا ہو ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ اسے پوری طرح اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے“۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ سونے کے عوض میں گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب کوئی شخص کوئی اناج خریدے تو اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے اپنے قبضے میں نہیں لیتا"۔ مسدد نامی راوی نے یہ الفاظ زائد کیے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے ہر چیز اناج کی مانند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اقدس میں ان کی اس بات پر پٹائی ہوتی تھی جب وہ اناج کو کسی انداز کے تحت خرید لیتے تھے اور پھر اسے اپنے پالان تک پہنچانے سے پہلے اسے فروخت کر دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٤٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کر لیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کر لوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٤٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اس کے ساتھ دھوکا ہو جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:جب تم کوئی سودا کرو تو یہ کہہ دو کہ دھوکہ نہیں چلے گا تو جب وہ شخص کوئی سودا کرتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ دھوکا نہیں چلے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ؛آدمی کا سودے کے وقت یہ کہنا:"کوئی دھوکہ نہیں ہے"؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٥٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا،لیکن اس کی زبان میں کچھ لکنت تھی،تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں (کے خرید و فروخت) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے (جس سے نقصان پہنچتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو:یہ اور یہ،لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی“۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے) «عن سعيد» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ؛آدمی کا سودے کے وقت یہ کہنا:"کوئی دھوکہ نہیں ہے"؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٥٠١)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ کہ کوئی شخص کسی سے کوئی غلام خریدتا ہے یا کوئی جانور کرائے پر لیتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے میں تمہیں ایک دینار دے رہا ہوں اس شرط پر اگر میں نے تمہیں سامان یا کرایہ نہیں دیا تو جو میں نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارا ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فى الْعُرْبَانِ؛ بیعانہ کا حکم؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٢)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ!ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا میں (اسے فروخت کرنے کے لیے)یا بازار سے وہ چیز خرید لوں(اور اس کے ساتھ سودا پہلے طے کر لوں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسی چیز فروخت نہ کرو جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؛جو چیز آدمی کے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:سلف(ادھار)اور بیع (سودا)اور ایک ہی بیع میں دو شرطیں عائد کرنا،اور ایسا منافع جس میں تاوان کی پابندی نہ ہو،اور ایسی چیز کو فروخت کرنا جو تمہارے پاس نہ ہو یہ سب جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؛جو چیز آدمی کے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اسے (یعنی اپنا) اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے ساتھ یہ سودا اس لیے کیا ہے تاکہ تمہارا اونٹ حاصل کر لوں جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي شَرْطٍ فِي بَيْعٍ؛بیع میں شرط کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٥)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"غلام کی ضمانت تین دن تک ہوتی ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ؛غلام کی ضمانت؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں اگر تین دن میں آدمی غلام میں کوئی بیماری پائے تو وہ کسی ثبوت کے بغیر اسے واپس کر دے گا اور اگر تین دن کے بعد کوئی بیماری کو پاتا ہے تو پھر وہ ثبوت پیش کرنے کا پابند ہوگا کہ اس نے اس شخص سے اسے خریدا تھا تو اس وقت اس میں یہ بیماری موجود تھی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہ وضاحت قتادہ کا کلام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ؛غلام کی ضمانت؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"خراج" ضمان کے حساب سے ہوتا ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٨)
حضرت مخلد بن خفاف غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: ”منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج (منافع) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند زیادہ مستند نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥١٠)
عبد الرحمن بن قیس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) دونوں کے درمیان (قیمت میں) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ؛جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١١)
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس کو ایک غلام فروخت کیا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس کے الفاظ میں کچھ کمی و بیشی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ؛جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ ہر مشترکہ زمین یا باغ میں کیا جاسکتا ہے، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر ایسے مال میں رکھا ہے جو تقسیم نہ ہوا لیکن جب حدود متعین ہو جائے اور راستے الگ ہو جائے تو اسے شفعہ کا حق نہیں رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٤)
Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3515
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "پڑوسی،اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٦)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:گھر کا پڑوسی،اپنے پڑوس کے گھر کا،(راوی کا شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)"زمین کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہوتا ہے اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا یہ اس صورت میں ہے جب دونوں کا راستہ ایک ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص مفلس ہو جائے،کوئی شخص اپنے سامان کو اس کے پاس پائے،تو وہ اس سامان کا دوسرے کسی سے زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٩)
ابوبکر بن عبدالرحمن،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کوئی سامان فروخت کرے اور پھر اسے خریدنے والا شخص مفلس ہو جائے اور فروخت کرنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا ہو اور پھر وہ اپنے مال کو اس شخص کے پاس ویسا ہی پائے تو اس سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥٢٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابوبکر بن عبدالرحمن کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اگر اس نے قیمت میں سے کچھ ادائیگی کی بھی ہو تو وہ اس بارے میں دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں:جس میں یہ الفاظ ہیں اگر اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول کر لیا ہو تو باقی بچ جانے والی رقم کے بارے میں وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا اور جو شخص فوت ہو جائے اس کے پاس کسی شخص کا سامان بعینہ موجود ہو تو خواہ اس دوسرے شخص نے اس کی قیمت میں سے کچھ اصول کیا ہو یا نہ کیا ہو وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی نقل کردہ روایت زیادہ درست ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٢)
عمر بن خلدہ بیان کرتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو مفلس ہو گیا تھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم لوگوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دوں گا جو شخص مفلس ہو جائے یا فوت ہو جائے اور پھر کوئی شخص اپنے سامان کو اس کے پاس پائے تو وہ اس سامان کا زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٣)
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے (کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا“۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے (ایک نہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَحْيَا حَسِيرًا؛ناکارہ جانور کو کارآمد بنا لینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٤)
شعبی مرفوع حدیث کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کسی جانور کو تباہ کن حالت میں چھوڑ دے اور پھر کوئی شخص اسے زندگی فراہم کرے(یعنی اسے چارہ فراہم کرے)تو وہ جانور اس کا ہوگا جس نے اسے زندگی فراہم کی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَحْيَا حَسِيرًا؛ناکارہ جانور کو کارآمد بنا لینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّهْنِ؛گروی رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی کتاب کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: خبردار!بے شک اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے"( یونس: ۶۲) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّهْنِ؛گروی رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٧)
عمارہ بن عمیر،اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا میرے زیر کفالت ایک یتیم لڑکا ہے کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سے پاکیزہ چیز وہ ہے جو وہ اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ“ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو (تو بقدر ضرورت لے لو) لیکن یہ الفاظ منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٢٩)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣٠)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کے پاس جاے گا،جس نے اسے فروخت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَجِدُ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ؛جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور (اپنے شوہر کے متعلق) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں، اگر ان کے مال میں سے ان سے اجازت لیے بغیر ان کی اولاد کے کھانے پینے پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا میرے لیے کوئی حرج (نقصان و گناہ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معروف (عام دستور) کے مطابق خرچ کرنے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٣)
یوسف بن ماہک مکی بیان کرتے ہیں میں فلاں شخص کا خرچ لکھتا تھا،جو کچھ یتیم بچوں کا خرچ ہوتا تھا،جن بچوں کا وہ شخص نگراں تھا،تو ان بچوں نے ان کو مغالطے کا شکار کر کے ایک ہزار درہم حاصل کر لیے،اس نے وہ رقم ان کو ادا کر دی جب میں نے ان یتیموں کے مال میں زیادہ ادائیگی پائی تو میں نے کہا آپ وہ ایک ہزار اصول کر لیں جو وہ اپ سے لے گئے ہیں تو اس نے جواب دیا جی نہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو تمہیں امین بنائے تم اسے امانت ادا کر دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص تمہیں امین بنائے اسے تم امانت ادا کر دو اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرنا"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول کر لیتے تھے اور اس کے بدلے میں تحفہ دیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي قَبُولِ الْهَدَايَا؛ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی قسم!میں اج کے بعد کسی شخص سے تحفہ قبول نہیں کروں گا صرف کسی قریشی مہاجر سے، یا انصاری سے یا دوس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے یا ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے تحفہ قبول کروں گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي قَبُولِ الْهَدَايَا؛ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا شخص اپنے قئے کو چاٹ لینے والے کی مانند ہے۔ ہمام اور قتادہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ہمارے نزدیک قے چاٹنا حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٣٨)
حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٤٠)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْهَدِيَّةِ لِقَضَاءِ الْحَاجَة؛کوئی کام کرنے پر تحفہ دینا؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٤١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئی چیز (بطور عطیہ) دی، (اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے (اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (آپ کو گواہ بنانے کے لیے) حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور (میری بیوی) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں (اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ہوں) آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ظلم ہے“ اور بعض کی روایت میں ہے: ”یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو (میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا)“۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں (مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو (مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں)“۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ”ان (بیٹوں) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں بعض نے: «أكل بنيك» کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے «بنيك» کے بجائے «ولدك» کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے «ألك بنون سواه» اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے «ألك ولد غيره» روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٣٥٤٢)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیسا غلام ہے؟“ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لوٹا دو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٣٥٤٣)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو،اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے (بشیر رضی اللہ عنہ سے) کہا: اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنا دیں، تو بشیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی (یعنی میری بیوی) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے“ کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں“ (اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٥)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں جبکہ اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک بن چکا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا جائز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"عمری جائز ہے" («عمرى» ہبہ ہی کی ایک قسم ہے اس میں ہبہ کرنے والا ہبہ کی جانے والی چیز کو جسے ہبہ کر رہا ہے اس کی زندگی بھر کے لئے ہبہ کر دیتا ہے۔) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٨)
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے:"عمری اس کا ہوتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جس شخص کو عمری کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو تو یہ اس شخص کو اور اس کے پسماندگان کو ملے گی اس کا وارث وہ شخص ہوگا جو اس کے پسماندگان میں وارث ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ ابن شہاب کے حوالے سے منقول ہے۔ امام ابوداؤد کہتے:یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ ابن شہاب کے حوالے سے منقول ہے، تاہم اس کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے (تو اس میں وراثت جاری ہو گی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہو جائے گی) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو (تو اس سے استفادہ کرو) تو وہ چیز (اس کے مرنے کے بعد) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے تو وہ اس کے وارثوں کا ہو جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے“ پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے“ (کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عمری اس کے اہل کے لیے جائز ہے اور رقبہ اس کے اہل کے لیے جائز ہے(یعنی جسے دیا گیا ہے اس کی ملکیت شمار ہوگی) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٨)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔ اور فرمایا: ”رقبیٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی“ (یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٩)
مجاہد کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٦٠)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ جو اصول کرتا ہے وہ اس پر لازم ہے جب تک وہ اسے ادا نہیں کر دیتا (یعنی واپس نہیں کر دیتا)پھر حسن اس روایت کو بھول گئے اور انہوں نے یہ کہا جو شخص تمہارا امین ہو اس پر ضمان نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦١)
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٢)
حضرت عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟“ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبردستی نہیں عاریۃً“ چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں(اسلام کی)جو جگہ ہے اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے (تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٣)
حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی آل میں سے کچھ لوگوں نے یہ بات نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر لی اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٤)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!اناج بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارا افضل مال ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی (اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور (دودھ ختم ہو جانے کے بعد) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے“ (یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٥)
حضرت صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا“ میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٣٥٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس خاتون نے(جس کے گھر میں آپ تھے) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا (وہ دو ٹکڑے ہو گیا)، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: ”تمہاری ماں کو غصہ آ گیا“ ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے (کہ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ“ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا (اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ“ اور خادم کو (جو کھانا لے کر آیا تھا) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا (کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا (جس میں آپ قیام فرما تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَفْسَدَ شَيْئًا يَغْرَمُ مِثْلَهُ؛جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے؛جلد٣،ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٣٥٦٧)
Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3568
حرام بن محیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ؛مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٦٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو نقصان پہنچایا کرتی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: ”دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے“۔ (اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ؛مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧٠)
Abu Dawood Shareef : Abwabul Ijarah
|
Abu Dawood Shareef : أَبْوَابُ الْإِجَارَةِ
|
•