
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٩)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» ”یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں“ (سورة البقرہ: ۲۱۹)۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں ایسا واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ”یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ“ (سورة النساء: ۴۳) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ایسا واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: «فهل أنتم منتهون» ”یعنی کیا تم باز آنے والے ہو“ (سورة المائدہ: ۹۱) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٠)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس کی تلاوت میں ان سے غلطی ہوئی۔تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ جب تک کہ تمہیں پتہ نہیں چلتا کہ تم کیا پڑھ رہے ہو“ نازل ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» (سورة النساء: ۴۳) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس»(سورة البقرہ: ۲۱۹) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» (سورة المائدة: ۹۰) نے منسوخ کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا میں اس وقت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اللہ تعالی نے شراب پر، اسے پینے والے پر،اسے پلانے والے پر،اسے فروخت کرنے والے پر،اس کو خریدنے والے پر،اس کو نچوڑنے والے پر، اس کو نچوڑوانے والے پر،اسے اٹھا کر لے جانے پر،اور جس کی طرف اسے اٹھانے کے لیے جایا جا رہا ہو ان سب پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْعِنَبِ يُعْصَرُ لِلْخَمْرِ؛آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم بچوں کے بارے میں دریافت کیا جنہیں وراثت میں شراب ملتی ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے بہا دو حضرت ابو طلحہ نے عرض کی کہ کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ تُخَلَّلُ؛شراب کا سرکہ بنانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٥)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بے شک انگور سے شراب بنتی ہے،کھجور سے شراب بنتی ہے،شہد سے شراب بنتی ہے،گندم سے شراب بنتی ہے اور جو سے شراب بنتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٣٦٧٦)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا:"خمر" انگور،کشمش،کھجور،گندم،جو، اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٣٦٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"خمر"ان دو درختوں سے بنتی ہے کھجور اور انگور۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ابو کثیر غبری کا نام یزید بن عبدالرحمن بن غفیلہ ہے جبکہ بعض حضرات نے ازینہ نقل کیا ہے جبکہ درست لفظ غفیلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)“۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٧٩)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا(تین مرتبہ کی صورت میں ہوگا)اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے“ عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی بچے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٨٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کرے،اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٨١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع(مخصوص قسم کی) شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٢)
حضرت دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”ہاں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس سے بچو“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٣)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد سے بنی ہوئی شراب کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا یہ بتع ہے میں نے عرض کی:جو یا مکئی سے جو نبیذ تیار کی جاتی ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا تم اپنی قوم کو بتا دو ہر نشہ اور چیز حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (سارنگی) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٥)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور اور سست کر دینے والی چیز سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کا بڑا پیالہ نشہ کرتا ہو اس کا ایک چلو بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٧)
مالک بن ابو مریم بیان کرتے ہیں: عبدالرحمن بن غنم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے طلاء کے(یعنی مخصوص قسم کی شراب)کے بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے بتایا حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ ضرور شراب پییں گے وہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الدَّاذِيِّ؛داذی(مخصوص قسم کی)شراب؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٨)
سفیان ثوری سے داذی کے بارے میں دریافت کیا گیا،تو انہوں نے بتایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "میری امت کے کچھ لوگ ضرور شراب پییں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:سفیان ثوری فرماتے ہیں داذی فاسق لوگوں کا مشروب ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الدَّاذِيِّ؛داذی(مخصوص قسم کی)شراب؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دبا،حنتم،مزفت اور نقیر سے منع کیا ہے۔ (حدیث میں وارد الفاظ: دباء، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» سے منسوخ ہو گئی۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٩٠)
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ برتن ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٣٦٩١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں“۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٣٦٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے وفد سے فرمایا میں تمہیں نقیر،مقیر،حنتم،دبا اور ایسے بڑے مشکیزے سے جو اوپر سے کاٹا گیا ہو پیندے کی طرف سے سوراخ نہ ہو اس سے منع کرتا ہوں،البتہ تم اپنے عام مشکیزوں میں پی لیا کرو اور اسے باندھ دیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے عبدالقیس قبیلے کا واقعہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:انہوں نے عرض کی:یا اللہ کے نبی!ہم کن چیزوں میں پیا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چمڑے کے مشکیزے استعمال کیا کرو جن کے منہ پر رسی لپیٹ دی جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٤)
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا (عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں شدت آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی شدت توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی شدت نہ جائے تو اسے بہا دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے“ یا یوں کہا: ”شراب، جوا، اور کوبہ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٦)
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دبا، حنتم، نقیر اور جو کی شراب سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٧)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ“۔ (ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٦٩٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مخصوص برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے کہا ہمارا ان کے بغیر گزارا نہیں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٦٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ برتنوں کا ذکر کیا یعنی دبا حنتم اور نقیر تو ایک دیہاتی نے عرض کی:ہمارے پاس تو ان کے علاوہ کوئی برتن ہی نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اس کو پیو جو حلال ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠٠)
یہی روایت ایک اور سند سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں تم اس چیز سے اجتناب کرو جو نشہ کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جب مشکیزہ نہیں ملتا تھا تو پتھر کے پیالے میں تیار کی جاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے، آپ نے تازہ اور کچی کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٣)
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ“۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٤)
ابن ابو لیلیٰ ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو ملا کر یا کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٥)
کبشہ بنت ابو مریم بیان کرتی ہے میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے منع کرتے تھے،انہوں نے جواب دیا آپ ہمیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ ہم کھجور کو اتنا پکائیں کہ اس کی گٹھلی ہی ختم ہو جائے یا ہم کشمش اور جو کو ملا کر نبیذ تیار کریں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تھی پھر اس میں کھجور ڈال دی جاتی تھی یا پھر کھجور کی نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اس میں کشمش ڈال دی جاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٧)
حضرت صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر (نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٨)
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور انہوں نے یہ رائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حاصل کی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي نَبِيذِ الْبُسْرِ؛کچی کھجور سے نبیذ بنانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧٠٩)
حضرت عبداللہ بن دیلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں،ہم کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے پاس“ پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خشک لو“ ہم نے عرض کیا: اس زبیب (سوکھے ہوئے انگور) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧١٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کے اوپری حصے پر ڈوری باندھ دی جاتی تھی اور اس کے نیچے کی طرف بھی سوراخ تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کے وقت نبیذ تیار کی جاتی تھی تو اپ شام کے وقت پی لیتے تھے یا اگر شام کے وقت نبیذ تیار کی جاتی تھی تو آپ صبح پی لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧١١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد (حیان) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٣)
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا“ تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي»(التحریم ١)سے لے کر «إن تتوبا إلى الله»(التحريم ٤)تک حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا»(التحريم ٣)میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ؛شہد کا شربت پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے“ تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ؛شہد کا شربت پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ پتہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے،ایک مرتبہ میں آپ کے افطاری کے لیے نبیذ لے کر آیا جسے میں نے دبا میں تیار کیا تھا میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس میں کچھ جھاگ بنا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اس دیوار پر دے مارو کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّبِيذِ إِذَا غَلِيَ؛جب نبیذ میں تیزی پیدا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٦)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ادمی کھڑا ہو کر کچھ پیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا؛کھڑے ہو کر کچھ پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٧)
حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔ (پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا؛کھڑے ہو کر کچھ پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے،منہ لگا کر پینے سے اور گندگی کھانے والے جانور پر سوار ہونے سے،اور جانور کو باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے منع کیا ہے۔ امام داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:"جلالۃ"وہ جانور ہے جو گندگی کھاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الشَّرَابِ مِنْ فِي السِّقَاءِ؛مشک کے منہ سے پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کا منہ الٹ کر پینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ؛مشکیزے کا منہ الٹ کر اس سے پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧٢٠)
عیسی بن عبداللہ جو ایک انصاری شخص ہیں وہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ منگوایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے منہ کو الٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پی لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ؛مشکیزے کا منہ الٹ کر اس سے پینا؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے اور مشروب میں پھونکنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ؛پیالہ میں ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٢)
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک دہقان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیباج پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ؛سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم(بہتے ہوئے پانی میں سے) پی لیتے ہیں“ اس نے عرض کی:جی ہاں!میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْكَرْعِ؛(چشمے یا نہر وغیرہ میں سے)پانی پینا؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٤)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں خود پیے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے پی لیا پھر دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا دائیں طرف والے کا حق پہلے ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ پیتے تھے تو درمیان میں تین دفعہ سانس لیتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے،اس طرح پیاس بجھتی ہے،ہضم ہوتا ہے اور تندرستی کا باعث ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ برتن میں سانس لیا جائے،یا اس میں پھونک ماری جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٨)
حضرت عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس(ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔)کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوک پھینکا، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو کراہت ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» ”اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ”اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے“ کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٣٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ اس پر کوئی لکڑی رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہیں تاہم یہ مکمل نہیں اس میں یہ الفاظ ہیں:کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا، بند منہ والا مشکیزہ نہیں کھولتا اور برتن پر رکھی ہوئی چیز نہیں ہٹاتا اور چوہا بعض اوقات لوگوں کے گھر کو جلا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے) "عشاء کے وقت(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)شام کے وقت اپنے بچوں کو گھروں میں بند رکھو کیونکہ اس وقت میں جنات پھیل جاتے ہیں اور اچک لیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (کوئی مضائقہ نہیں)“ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میٹھا پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیہ کے گھروں سے لایا جاتا تھا۔ قتیبہ کہتے ہیں:یہ ایک چشمے کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے دو دن کی مسافت پر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Ashreba
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَشْرِبَةِ
|
•