
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"جب کسی شخص کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں شریک ہو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں:اگر اس نے روزہ نہ رکھا ہوا ہو تو کھانا کھا لے اور اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو میزبان کے لیے دعا کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی دعوت دے تو اس سے(یعنی دوسرے شخص)کو دعوت قبول کر لینی چاہیے خواہ وہ شادی کی دعوت ہو یا اس کی مانند کوئی اور ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"جس شخص کو دعوت دی جائے اسے قبول کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو کھانا کھا لے اگر چاہے نہ کھائے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص کو دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو جو شخص دعوت کے بغیر چلا جائے تو وہ چور کے طور پر داخل ہوا اور لٹیرے کے طور پر باہر نکلا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے جس میں خوشحال لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٢)
ثابت کہتے ہی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ؛نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ؛نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٤)
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں(جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے“۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: (دعوت دینے والے) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ؛دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں"اگر تیسرے دن نہیں بلایا جاتا تھا تو وہ قبول نہیں کرتے تھے اور پیغام لانے والے کو کنکر مارتے تھے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ؛دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ(راوی کو شک ہے شاید)ایک گائے ذبح کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب الإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے آنے پر کھانا کھلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٧)
حضرت ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیئے،اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہے اور عام مہمان نوازی تین دن ہوگی،اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"میزبانی تین دن ہوتی ہے جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہو گی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٩)
حضرت ابو کریمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:ایک رات کی مہمان نوازی ہر مسلمان پر لازم ہے جو شخص اس کے صحن میں اترتا ہے،تو یہ مہمان نمازی اس کے ذمے قرض ہوتی ہے،اگر وہ چاہے تو اس کو اصول کر لے چاہے تو ترک کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٥٠)
حضرت مقدام ابو کریمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی کا مہمان ہو پھر وہ مہمان محروم رہے تو اس کی مدد کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے،یہاں تک کہ وہ شخص اس کے کھیت اور مال میں سے ایک رات کی خوراک حاصل کرے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں (جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے) بھیجتے ہیں تو (بسا اوقات) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لیے مناسب ہوتی ہے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو"۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ:" اور اپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طور پر نہ کھاؤ البتہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت ہو تو حکم مختلف ہوگا"(سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت:" تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے گھروں میں سے کھاتے ہو"( سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب نَسْخِ الضَّيْفِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ غَيْرِهِ؛دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلے بازی میں کھانا کھلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ؛جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھانا کھلائیں تو ان کے یہاں کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٤)
سفینہ ابوعبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی نقش و نگار والے گھر میں داخل ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يُدْعَى فَيَرَى مَكْرُوهًا؛غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٥)
حمید بن عبد الرحمن حمیری ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب إِذَا اجْتَمَعَ دَاعِيَانِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ؛جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے“۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا رکھ دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٧)
امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے والد(امام محمد باقر رحمت اللہ تعالی علیہ)کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "نماز کو کھانے یا کسی اور وجہ سے مؤخر نہ کیا جائے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٨)
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے کھانا کھالینا چاہیے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے تشریف لائے، آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا،لوگوں نے عرض کی: آپ وضو نہیں کریں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے اٹھوں"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الطَّعَامِ؛کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٦٠)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے توریت میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی“۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٦١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی کی طرف سے تشریف لائے،آپ نے قضائے حاجت کی تھی ہمارے سامنے ڈھال پر کھجوریں رکھی ہوئی تھی ہم نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو چھوا نہیں (یعنی وضو نہیں کیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا تھا اگر آپ کو کچھ کھانے کی خواہش ہوتی تو کھا لیتے تھے اگر کوئی چیز ناپسند ہوتی تو چھوڑ دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٣)
حضرت وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک (میزبان) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: ”شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ اپنا کھانا حلال کر لے، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں (اللہ کا نام) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے ”بسم الله أوله وآخره“ (اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٧)
مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: ”اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے“ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٨)
حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا (بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا جب میں واپس ایا تو میں نے اپ کو کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا اپ اس وقت ایک اقعاء طور پر بیٹھے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ؛ الے کے اوپری حصے میں سے کھانا؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٢)
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا برتن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ برتن لایا گیا، یعنی اس میں ثرید بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک لئے ایک اعرابی نے کہا :یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے نرم بندہ بنایا ہے، مجھے متکبر و سرکش نہیں بنایا ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ؛ الے کے اوپری حصے میں سے کھانا؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٣)
سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے کھانے سے منع کیا ہے ایک یہ کہ آدمی ایسے دسترخوان پر بیٹھے جہاں شراب پی جاتی ہو اور یہ کہ آدمی پیٹ کے بل اوندھا لیٹ کر کھانا کھائے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت جعفر نے زہری سے نہیں سنی ہے یہ روایت منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ؛ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا جس میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں ہوں؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ زہری سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ؛ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا جس میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں ہوں؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب کوئی شخص کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور پئے تو بائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ؛دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٦)
حضرت عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اے میرے بیٹے!میرے قریب ہو جاؤ،اللہ تعالی کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے اگے سے کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ؛دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٨)
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو (اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی: منقطع) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٧٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہڈی پسند تھی جو بکری کی ہو اور اس پر سے(زیادہ گوشت اتارا جا چکا ہو اور تھوڑاموجود ہو) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی پسند تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر بھی دستی کے گوشت میں دیا گیا تھا لوگ یہ بیان کرتے ہیں یہودیوں نے آپ کو زہر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ؛کدو کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ کھانا روٹی سے بنا ہوا ثرید اور حیس کا ثرید تھا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثَّرِيدِ:ثرید کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٣)
قبیصہ بن ہلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی ایسی چیز تمہارے ذہن میں شبہ نہ ڈالے ورنہ اس میں نصرانیت کی آمیزش کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ؛کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست کھانے والے جانور کا دودھ پینے سے منع کیا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست کھانے والے جانور پر سواری کرنے اور نجاست کھانے والی اونٹنی کا دودھ پینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا،البتہ اپ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑے،گدھے اور خچر ذبح کیے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (خچروں اور گدھوں)کا گوشت کھانے سے منع کر دیا البتہ آپ نے ہمیں گھوڑوں(کا گوشت کھانے)سے منع نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٩)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ ایک راوی نے یہ ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک کم عمر مضبوط جسم کا لڑکا تھا،میں نے خرگوش کا شکار کیا میں نے اسے بھون لیا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نچلا دھڑ میرے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بھیجا،میں اسے لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ؛خرگوش کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٢؛حدیث نمبر؛٣٧٩١)
محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، راوی نے یہ بات بیان کی:کہ خرگوش(یعنی مادہ خرگوش کو)حیض آتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ؛خرگوش کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٢؛حدیث نمبر؛٣٧٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو نہیں کھایا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٣)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے اس لئے میں اس سے بچتا ہوں“۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٤)
حضرت ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٥)
حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٦)
بریہ بن عمر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا(حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حبارا(پانی کی چڑیا)کا گوشت کھایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لَحْمِ الْحُبَارَ:حبارا کا گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٧)
ملقام بن تلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں میں نے حشرات الارض کے حرام ہونے کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ؛زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٨)
نمیلہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی(بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں۔) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)”اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے“۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ؛زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ”آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ اخیر تک پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ؛ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر:٣٨٠٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبع کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ ایک شکار ہے اگر احرام والا شخص اس کا شکار کرتا ہے تو اس میں دنبے کی ادائیگی لازم ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبُعِ؛لکڑ بگڑکھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠١)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نو کیلے دانتوں والے درندے(کا گوشت کھانے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نو کیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٣)
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار!دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا ملنے والا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر نوکیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٥)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے غزوہ خیبر میں شرکت کی، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے لوگوں نے ان کے مال مویشیوں کو لوٹ لیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے(منع کیا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر»(سمندر)نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٨)
حضرت غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے“ یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی کا نام حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٠)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:غزوہ خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے اور گندگی کھانے والے جانوروں کو گوشت کھانے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرما دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١١)
ابویعفور کہتے ہیں میں نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٢)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے (یعنی مرسلاً روایت کی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٣)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس میں یہ الفاظ ہیں): ”اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے“۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جانور سمندر باہر پھینک دے یا جو جانور پانی کے پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں زمین پر رہ جائے اسے تم کھا لو اور جو پانی کے اندر مر جائے اور پھر اوپر آجائے اسے تم نہ کھاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ الطَّافِي مِنَ السَّمَكِ؛مر کر پانی کے اوپر آ جانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاسکا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے (مردار کھانے سے) بے نیاز کرے“ اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کھاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی (اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ؛مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٦)
حضرت فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے باپ کی قسم یہ تو سخت بھوک ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں مردار کو حلال قرار دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ؛مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں سفید گندم کی ایسی روٹی کھاؤں جو گھی اور دودھ میں گوندھی گئی ہو“ تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس برتن میں تھا؟“ اس نے عرض کی:گوہ(کی کھال سے بنی ہوئی کپی میں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ مِنَ الطَّعَامِ؛ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی آپ نے اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹ لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجُبْنِ؛پنیر کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨١٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بہترین سالن سرکہ ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَلِّ؛سرکہ کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "سرکہ بہترین سالن ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَلِّ؛سرکہ کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨٢١)
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے“ یا آپ نے فرمایا: ”ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: ”کس چیز کی سبزی ہے؟“ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ کیونکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!سب چیزوں سے زیادہ بو لہسن کی ہوتی ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٣)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص قبلہ کی طرف منہ کر کے تھوکے گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا ہوگا اور جو شخص یہ ناپسندیدہ سبزی کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص اس درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے“۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینے پر پٹی بندھی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تو معذور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٦)
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سبزیوں سے منع کیا ہے،آپ نے ارشاد فرمایا ہے:"جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب بالکل نہ آئے"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:اگر تم ان کو کھانا ہی چاہتے ہو تو ان کو پکا کر ان کی بو ختم کر لو راوی کہتے ہیں:یعنی پیاز اور لہسن۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے،البتہ اگر پکایا گیا ہو تو(حکم مختلف ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:شریک نامی راوی سے مراد شریک بن حنبل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٨)
ابو زیاد خیار بن سلمہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخری مرتبہ جو کھانا تناول فرمایا تھا اس میں پیاز شامل تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٩)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت یوسف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اس پر کھجور رکھی اور آپ نے فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي التَّمْرِ؛کھجور کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٣٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس گھر میں کھجور موجود نہ ہو اس گھر والے بھوکے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي التَّمْرِ؛کھجور کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پرانی کھجور پیش کی گئی آپ نے اس کا اچھی طرح جائزہ لیا اور اس میں سے خراب حصہ نکال دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الأَكْلِ؛کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٢)
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور پیش کی گئی جس میں کیڑا لگا ہوا تھا،اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الأَكْلِ؛کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے سے منع کیا ہے البتہ اگر تم اپنے ساتھی سے اجازت لے لو(تو حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الإِقْرَانِ فِي التَّمْرِ عِنْدَ الأَكْلِ؛دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٤)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ساتھ ککڑی ملا کر کھایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کے ساتھ کھجور ملا کر کھایا کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے ہم اس کی گرمی کو اس کی ٹھنڈک کے ذریعے اور اس کی ٹھنڈک کو اس کی گرمی کے ذریعے ختم کر دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٦)
سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں بسر سلمی کے دو صاحبزادوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے وہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے مکھن اور کھجور پیش کیا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکھن اور کھجور پسند تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملے تو ہم نے انہیں استعمال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے لوگوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٨)
حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں( تو ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کا کیا حکم ہوگا)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک(جنگی مہم)پر روانہ کیا آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا،ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زاد راہ کے طور پر ہمیں کھجوروں کا ایک تھیلا عطا کر دیا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے بڑے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ“ ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:ایک مرتبہ ایک چوہا گھی میں گر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے آس پاس(کے گھی)کو نکال دو اور باقی کو کھا لو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو (اور باقی کھا لو) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ“۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » کے طریق سے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الطَّعَامِ؛کھانے میں مکھی گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو آپ تین انگلیوں کے ذریعے کھاتے تھےاور فرماتے: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ؛کھاتے میں نوالہ گر جائے تو کیا کرنا چاہئے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَادِمِ يَأْكُلُ مَعَ الْمَوْلَى؛مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا چٹوا نہیں لیتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمِنْدِيلِ؛رومال کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٧)
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور ہاتھ کو اس وقت تک کپڑے وغیرہ سے نہیں پونچھتے تھے،جب تک چاٹ نہیں لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمِنْدِيلِ؛رومال کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٨)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دسترخوان جب اٹھا لیا جاتا(یعنی جب آپ کھانا کھاکر فارغ ہوتے)تو یہ دعا پڑھتے تھے: ہر طرح کی حمد،اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے،جو زیادہ ہو، اس میں برکت موجود ہو،اس میں کفایت میں نہ کی گئی ہو،اور اس کو چھوڑا نہ گیا ہو،اور ہمارا پروردگار اس سے بے نیاز نہ ہو۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥٠)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ کھاتے یا پیتے،تو یہ پڑھتے تھے: ہر طرح کی حمد،اللہ کے لیے مخصوص ہے،جس نے کھلایا اور پلایا اور اسے خوشگوار بنایا اور اس کے باہر نکلنے کا نظام بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي غَسْلِ الْيَدِ مِنَ الطَّعَامِ؛کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ؛جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٧؛حدیث نمبر:٣٨٥٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے تو وہ روٹی اور روغن زیتون لے کر آگئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس روزہ داروں نے افطاری کی ہے نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ؛جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٧؛حدیث نمبر:٣٨٥٤)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Atyemate
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَطْعِمَةِ
|
•