
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر سے اور ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا استعمال کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوا استعمال کیا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَدَاوَى:دوائی استعمال کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٣؛حدیث نمبر:٣٨٥٥)
سیدہ ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی نقاہت کا شکار ہو“(یعنی بیماری سے اٹھے ہو)یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے «عدویہ» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحِمْيَةِ:کھانے میں پرہیزی اور احتیاط کا بیان؛جلد٤،ص٣؛حدیث نمبر:٣٨٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"تم لوگ دوا کے طور پر جو چیز استعمال کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگانا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِجَامَةِ:پچھنا لگوانے کا بیان۔؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٧)
سیدہ سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں،وہ بیان کرتی ہیں:جب بھی کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سر میں درد کی شکایت لے کر آیا تو آپ یہی فرماتے تھے تم پچھنے لگواؤاور جب کوئی پاؤں میں درد کی شکایت لے کر آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تم مہندی لگاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِجَامَةِ:پچھنا لگوانے کا بیان۔؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٨)
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگواتے تھے،آپ یہ فرماتے تھے:جو شخص ان مقامات سے کچھ خون بہا دے تو اگر وہ کسی بیماری کے لیے کوئی اور دوائی استعمال نہیں کرتا تو بھی اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ:پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دونوں طرف کی رگوں اور کندھوں کے درمیان میں تین مرتبہ پچھنے لگوائے۔ معمر بیان کرتے ہیں میں نے پچھنے لگوائے تو میری یادداشت خراب ہو گئی یہاں تک کہ مجھے نماز کے دوران سورہ فاتحہ میں بھی لقمہ دیا جاتا تھا،راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے سر پر پچھنے لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ:پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص 17 19 یا 21 کو پچھنے لگوائے تو یہ ہر بیماری کے لیے شفا ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٦١)
کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: ”منگل کا دن خون کا مخصوص دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کی وجہ سے اپنے پہلو پر پچھنے لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا جس نے ان کی ایک رگ کو کاٹ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛اب فِي قَطْعِ الْعِرْقِ وَمَوْضِعِ الْحَجْمِ:رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(علاج کے طور پر گرم چیز)کا داغ لگوانے سے منع فرمایا، اور ہم نے(ایک مرتبہ علاج کے طور پر)داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الْكَىِّ:داغنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو تیر لگنے کی جگہ پر(زخم کی جگہ پر)داغ لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الْكَىِّ:داغنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں ڈالی جانے والی دوائی استعمال کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي السَّعُوطِ:ناک میں دوا ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منتر پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي السَّعُوطِ:ناک میں دوا ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں کیا کرتا ہوں اگر میں نے تریاق پیا ہوا ہو یا تعویز لٹکایا ہوا ہو یا اپنی طرف سے شعر کہا ہوا ہو" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے جبکہ بعض حضرات نے اس کے بارے میں رخصت دی ہے یعنی تریاق کے بارے میں رخصت دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي التِّرْيَاقِ:تریاق کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٩)
Abu Daud Sharif Kitabut Tib Hadees No# 3870
عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں ایک معالج نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بارے میں دریافت کیا،کہ کیا وہ اسے دوا میں استعمال کر سکتا ہے؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارنے سے منع کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے؛"جو شخص زہر پی لے گا آخرت میں وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ، ہمیشہ پیتا رہے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٢)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا(کے طور پر استعمال ہوتی)ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ بیماری ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٣)
حضرت ابو درداء روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بے شک اللہ تعالی نے بیماری اور دبائی دونوں نازل کی ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوا مخصوص کی ہے،تو تم لوگ دوا استعمال کرو لیکن حرام چیز کو دوا کے طور پر استعمال نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٤)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہیں کھلا دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ:عجوہ کھجور کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٥)
عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اس دن کوئی زہر یا جادو اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ:عجوہ کھجور کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٦)
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم خواتین اس عود ہندی کو استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» بنا کر پلایا جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل: باب فِي الْعِلاَقِ:انگلی سے بچوں کے حلق دبانے کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:تم سفید کپڑے پہنا کرو،کیونکہ یہ تمہارا سب سے بہتر لباس ہے اور انہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارے سرموں میں سب سے بہتر اثمد ہے یہ بنائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الأَمْرِ بِالْكُحْلِ:سرمہ لگانے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"نظر لگ جانا حق ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ:نظر بد کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس شخص کو نظر لگتی تھی اسے یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے(اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی سے اسے دے جس کو نظر لگی ہے) اور جسے نظر لگی ہے اس کے ذریعے غسل کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ:نظر بد کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٠)
سیدہ أسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:اپنی اولاد کو مخفی طور پر قتل نہ کرو،دودھ پلاتے عورت کے ساتھ صحبت کرنے کا اثر گھوڑ سوار تک پہنچتا ہے اور اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْغَيْلِ؛ دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے یہ قصد کیا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا“۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے اس وقت صحبت کرے جب وہ دودھ پلا رہی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْغَيْلِ؛ دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٢)
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جھاڑ پھونک (زمانہ جہالیت کے مطابق)تعویذ اور تولہ شرک ہیں“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ باب: تعویذ لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٣)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"دم صرف نظر لگنے پر یا زہریلے جانور کے کاٹنے پر کیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ باب:تعویذ لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٤)
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس " . عن ثابت بن قيس» ”لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے“ پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٥)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے،ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دم کے الفاظ میرے سامنے پیش کرو،دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٦)
سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے،میں اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے جس طرح اسے لکھنا سکھایا ہے اس طرح اسے پھوڑے پھنسیوں کا دم کیوں نہیں سکھاتی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٧)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور جب باہر نکلا تو مجھے بخار ہوگیا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”ابوثابت کو کہو کہ وہ دم کرے“۔راوی خاتون کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"دم صرف نظر لگنے پر یا زہریلے جانور کے کاٹنے پر یا بہتے ہوئے خون پر ہوتا ہے"۔ عباس نامی راوی نے نظر لگنے کا ذکر نہیں کیا روایت کے یہ الفاظ سلیمان بن داؤد کی نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٩)
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے فرمایا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ!اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٩٠)
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے میں پا رہا ہوں“۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٩١)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ”اے ہمارے رب! جو آسمان میں ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما“ تو وہ صحت یاب ہو جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٢)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھبراہٹ پر یہ کلمات کہنے کی تعلیم دیتے تھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی اس کے غضب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے“۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٣)
یزید بن ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے:حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب کوئی شخص بیمار ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لعاب دہن کے ساتھ مٹی لگا کر اس شخص کو لگاتے اور یہ پڑھتے: (یعنی)"ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک شخص کے لعاب دہن کے ساتھ ہے ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت ہمارے بیمار کو شفا نصیب ہوگی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٥)
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تو وہ اچھا ہو گیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟“۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں: «هل إلا هذا» کے بجائے: «هل قلت غير هذا» ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے لو، قسم ہے میری زندگی کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٣؛حدیث نمبر:٣٨٩٦)
خارجہ بن صلت سے مروی ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا لعاب جمع کر کے اس پر دم کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٧)
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے؟“ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اور ہر اس چیز سے جسے اس نے پیدا کیا“ تو ان شاءالله وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٣؛حدیث نمبر:٣٨٩٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جسے بچھو نے ڈنگ مارا تھا راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی)اگر اس نے یہ پڑھا ہوتا:"یعنی میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے" تو اس شخص کو ڈنک نہ مارا جاتا(راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں:)نقصان نہ پہنچایا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٨٩٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کر سکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چنانچہ وہ آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو گیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کر دی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کر لو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٩٠٠)
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس آرہے تھے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا دعا ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”کھاؤ، قسم ہے میری زندگی کی لوگ تو باطل دم کے عوض کھاتے ہیں تم نے تو جائز دم کر کے کھایا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٩٠١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہے وہ بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیمار شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ پر پھیرتی تھی میں اس دست مبارک کی برکت کی امید رکھتے ہوئے(ایسا کرتی تھی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں موٹی تازی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوجائے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ جو چاہتی تھی وہ نتیجہ صرف اس صورت میں حاصل ہوا جب انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو میں اس سے اچھی طرح صحت مند ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي السُّمْنَةِ؛موٹا ہونا؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کاہن کے پاس جاے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت سے صحبت کرے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَاهِنِ؛کاہنوں کا بیان؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"جو شخص علم نجوم کا ایک حصہ سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک حصہ سیکھتا ہے اب وہ جتنا مزید حاصل کرے گا اتنا ہی مزید(جادو سیکھ لے گا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي النُّجُومِ:علم نجوم کا بیان؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٥)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر پڑھائی گزشتہ رات بارش ہوچکی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں ستارے کے سبب ہم بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي النُّجُومِ:علم نجوم کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٦)
قطن بن قبیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عیافہ، طیرہ اور طرق شیطانی کام ہے"طرق سے مراد پرندے اڑانا ہے اور عیافہ سے مراد لکیریں کھینچنا(یعنی علم رمل ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٧)
عوف کہتے ہیں عیافہ سے مراد پرندہ اڑانا (اور اس سے شگون لینا)اور طرق سے مراد زمین پر لکیریں کھینچنا(یعنی علم رمل)ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٨)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچے ہیں(یعنی علم رمل کرتے ہیں)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے تو جس شخص کی لکیر ان کی لکیر کی موافق ہوتی اس کا نتیجہ درست ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"طیرہ شرک ہے"یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی(اور پھر فرمایا)ہم میں سے ہر ایک(بدشگونی کا وہم پاتا ہے)لیکن اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے اسے ختم کردیتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور حلمہ(یہ بھی ایک قسم کی بدشگونی ہے)کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارش زدہ اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارش زدہ کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا؟“۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے“ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ حلمہ کی کوئی حیثیت ہے“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بیماری کے متعدی ہونے،حلمہ،ستاروں کے مؤثر ہونے اور صفر کے منحوس ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں"غول کی کوئی حیثیت نہیں ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٣)
اشہب بیان کرتے ہیں امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت کے ان الفاظ کے بارے میں دریافت کیا گیا"صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے"انہوں نے بتایا:زمانہ جاہلیت کے لوگ صفر کے مہینے کو ایک سال کے لیے حرمت والا مہینہ قرار نہیں دیتے تھے اور ایک سال کے لیے حرمت والا مہینہ قرار دیتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔(یعنی اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٤)
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے(اسے حلم کہتے ہیں)، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٥)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بیماری کے متعدی ہونے اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے،البتہ مجھے اچھی فال پسند ہے اور اچھی فال سے مراد اچھی بات ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو اچھی لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"ہم نے تمہاری زبانی فال(یعنی اچھا شگون) حاصل کر لیا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٧)
عطاء بیان کرتے ہیں لوگ یہ کہتے تھے صفر سے مراد ایک درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے میں نے دریافت کیا ہامہ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے یہ بتایا لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہامہ وہ پرندہ ہے جو لوگوں پر چیختا چلاتا ہے اس سے مراد انسان کی روح نہیں ہے بلکہ یہ ایک جانور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٨)
احمد قرشی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بدفالی کا ذکر کیا گیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے اچھی چیز فال ہے لیکن وہ کسی مسلمان کو(کوئی کام کرنے سے)روکتی نہیں ہے،جب تم کسی ایسی چیز کو دیکھو جو اس کو اچھی نہ لگے تو ادمی کو یہ کہنا چاہیے: " اے اللہ!بھلائی صرف تو ہی عطا کر سکتا ہے اور برائی صرف تو ہی دور کر سکتا ہے تیری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٩)
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو بدشگونی قرار نہیں دیتے تھے،جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے سے محسوس ہوجاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٠)
حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے"ہامہ،بیماری کے متعدی ہونے اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے،اگر بدشگونی(یا نحوست)کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے یا عورت یا گھر میں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٢)
یحیی بن عبداللہ بیان کرتے ہیں مجھے ان صاحب نے یہ بات بتائی جنہوں نے حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا:میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!ہمارے ایک زمین ہے جس سے ابین کہا جاتا ہے اس میں ہمارے کھیت ہیں،غلہ اگانے کی جگہ ہے،لیکن اس جگہ پر وبا پائی جاتی ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے)انتہائی شدید وبا والی جگہ ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ کو چھوڑ دو کیونکہ ایسی جگہ پر رہنے سے آدمی ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ!پہلے ہم ایک ایسی جگہ رہتے تھے،جہاں ہماری تعداد بھی زیادہ تھی اور ہماری زمینیں بھی زیادہ تھی،پھر ہم وہاں سے ایک اور جگہ منتقل ہو گئے تو وہاں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارے اموال بھی کم ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ وہ بری جگہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جزام زدہ شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے پیالے میں ڈال کر ارشاد فرمایا:تم اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabut Tib
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الطِّبِّ
|
•