asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabut Tib

From 3855 to 3925

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر سے اور ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا استعمال کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوا استعمال کیا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَدَاوَى:دوائی استعمال کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٣؛حدیث نمبر:٣٨٥٥)

كِتَاب الطِّبِّ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَتَدَاوَى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ فَقَالَ: «تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً، غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3855

سیدہ ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی نقاہت کا شکار ہو“(یعنی بیماری سے اٹھے ہو)یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے «عدویہ» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحِمْيَةِ:کھانے میں پرہیزی اور احتیاط کا بیان؛جلد٤،ص٣؛حدیث نمبر:٣٨٥٦)

بَابٌ فِي الْحِمْيَةِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو عَامِرٍ، - وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ - عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: «مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ» حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَتْ: وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا، فَجِئْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3856

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"تم لوگ دوا کے طور پر جو چیز استعمال کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگانا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِجَامَةِ:پچھنا لگوانے کا بیان۔؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٧)

بَابٌ فِي الْحِجَامَةِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرِةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3857

سیدہ سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں،وہ بیان کرتی ہیں:جب بھی کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سر میں درد کی شکایت لے کر آیا تو آپ یہی فرماتے تھے تم پچھنے لگواؤاور جب کوئی پاؤں میں درد کی شکایت لے کر آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تم مہندی لگاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِجَامَةِ:پچھنا لگوانے کا بیان۔؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاهُ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: احْتَجِمْ، وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ، إِلَّا قَالَ اخْضِبْهُمَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3858

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگواتے تھے،آپ یہ فرماتے تھے:جو شخص ان مقامات سے کچھ خون بہا دے تو اگر وہ کسی بیماری کے لیے کوئی اور دوائی استعمال نہیں کرتا تو بھی اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ:پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٥٩)

بَابٌ فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، - قَالَ: كَثِيرٌ إِنَّهُ حَدَّثَهُ -: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ، وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ، فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3859

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دونوں طرف کی رگوں اور کندھوں کے درمیان میں تین مرتبہ پچھنے لگوائے۔ معمر بیان کرتے ہیں میں نے پچھنے لگوائے تو میری یادداشت خراب ہو گئی یہاں تک کہ مجھے نماز کے دوران سورہ فاتحہ میں بھی لقمہ دیا جاتا تھا،راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے سر پر پچھنے لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ:پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٦٠)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَالْكَاهِلِ» قَالَ مُعَمَّرٌ: «احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِي، وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3860

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص 17 19 یا 21 کو پچھنے لگوائے تو یہ ہر بیماری کے لیے شفا ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٤؛حدیث نمبر:٣٨٦١)

بَابُ مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم: «مَنْ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3861

کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: ”منگل کا دن خون کا مخصوص دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَالَ: غَيْرُ مُوسَى كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهَا، كَانَ يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الحِجَامَةِ، يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3862

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کی وجہ سے اپنے پہلو پر پچھنے لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ:کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٣)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى وِرْكِهِ، مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3863

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا جس نے ان کی ایک رگ کو کاٹ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛اب فِي قَطْعِ الْعِرْقِ وَمَوْضِعِ الْحَجْمِ:رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان؛جلد٤،ص٥؛حدیث نمبر:٣٨٦٤)

بَابٌ فِي قَطْعِ الْعِرْقِ وَمَوْضِعِ الْحَجْمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيٍّ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3864

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(علاج کے طور پر گرم چیز)کا داغ لگوانے سے منع فرمایا، اور ہم نے(ایک مرتبہ علاج کے طور پر)داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الْكَىِّ:داغنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٥)

بَابٌ فِي الْكَيِّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمُّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَ، وَلَا أَنْجَحْنَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَكَانَ يَسْمَعُ تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ فَلَمَّا اكْتَوَى انْقَطَعَ عَنْهُ فَلَمَّا تَرَكَ رَجَعَ إِلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3865

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو تیر لگنے کی جگہ پر(زخم کی جگہ پر)داغ لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الْكَىِّ:داغنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمِيَّتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3866

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں ڈالی جانے والی دوائی استعمال کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي السَّعُوطِ:ناک میں دوا ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٧)

بَابٌ فِي السَّعُوطِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَطَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3867

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منتر پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي السَّعُوطِ:ناک میں دوا ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٨)

بَابٌ فِي النُّشْرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ فَقَالَ: «هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3868

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں کیا کرتا ہوں اگر میں نے تریاق پیا ہوا ہو یا تعویز لٹکایا ہوا ہو یا اپنی طرف سے شعر کہا ہوا ہو" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے جبکہ بعض حضرات نے اس کے بارے میں رخصت دی ہے یعنی تریاق کے بارے میں رخصت دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي التِّرْيَاقِ:تریاق کا بیان؛جلد٤،ص٦؛حدیث نمبر:٣٨٦٩)

بَابٌ فِي التِّرْيَاقِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يِزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شَرَاحِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا، أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً، أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3869

Abu Daud Sharif Kitabut Tib Hadees No# 3870

بَابٌ فِي الْأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ قَالَ: لَنَا حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3870

عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں ایک معالج نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بارے میں دریافت کیا،کہ کیا وہ اسے دوا میں استعمال کر سکتا ہے؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارنے سے منع کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثيِرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ: «أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3871

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے؛"جو شخص زہر پی لے گا آخرت میں وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ، ہمیشہ پیتا رہے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَسَا سُمًّا فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ، يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3872

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا(کے طور پر استعمال ہوتی)ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ بیماری ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٣)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ ذَكَرَ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ أَوْ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهَا دَوَاءٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3873

حضرت ابو درداء روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بے شک اللہ تعالی نے بیماری اور دبائی دونوں نازل کی ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوا مخصوص کی ہے،تو تم لوگ دوا استعمال کرو لیکن حرام چیز کو دوا کے طور پر استعمال نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ:ناپسندیدہ دواؤں کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3874

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہیں کھلا دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ:عجوہ کھجور کا بیان؛جلد٤،ص٧؛حدیث نمبر:٣٨٧٥)

بَابٌ فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي فَقَالَ: «إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3875

عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اس دن کوئی زہر یا جادو اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل:باب فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ:عجوہ کھجور کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3876

حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم خواتین اس عود ہندی کو استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» بنا کر پلایا جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل: باب فِي الْعِلاَقِ:انگلی سے بچوں کے حلق دبانے کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٧)

بَابٌ فِي الْعِلَاقِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ العُذْرَةِ فَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ: يُسْعَطُ مِنَ العُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " يَعْنِي بِالْعُودِ: الْقُسْطَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3877

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:تم سفید کپڑے پہنا کرو،کیونکہ یہ تمہارا سب سے بہتر لباس ہے اور انہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارے سرموں میں سب سے بہتر اثمد ہے یہ بنائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الأَمْرِ بِالْكُحْلِ:سرمہ لگانے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٨؛حدیث نمبر:٣٨٧٨)

بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْكَحْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ: يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3878

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"نظر لگ جانا حق ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ:نظر بد کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٧٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3879

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس شخص کو نظر لگتی تھی اسے یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے(اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی سے اسے دے جس کو نظر لگی ہے) اور جسے نظر لگی ہے اس کے ذریعے غسل کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ:نظر بد کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3880

سیدہ أسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:اپنی اولاد کو مخفی طور پر قتل نہ کرو،دودھ پلاتے عورت کے ساتھ صحبت کرنے کا اثر گھوڑ سوار تک پہنچتا ہے اور اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْغَيْلِ؛ دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨١)

بَابٌ فِي الْغَيْلِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3881

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے یہ قصد کیا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا“۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے اس وقت صحبت کرے جب وہ دودھ پلا رہی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْغَيْلِ؛ دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُدَامَةَ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ» قَالَ مَالِكٌ: " الْغِيلَةُ: أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3882

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جھاڑ پھونک (زمانہ جہالیت کے مطابق)تعویذ اور تولہ شرک ہیں“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ باب: تعویذ لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص٩؛حدیث نمبر:٣٨٨٣)

بَابٌ فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3883

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"دم صرف نظر لگنے پر یا زہریلے جانور کے کاٹنے پر کیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ باب:تعویذ لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ، أَوْ حُمَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3884

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس ‏"‏ ‏.‏ عن ثابت بن قيس» ”لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے“ پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وابْنُ السَّرْحِ، - قَالَ: أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وقَالَ: ابْنُ السَّرْحِ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ: ابْنُ صَالِحٍ: مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ - قَالَ: أَحْمَدُ وَهُوَ مَرِيضٌ - فَقَالَ: «اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ» ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الصَّوَابُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3885

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے،ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دم کے الفاظ میرے سامنے پیش کرو،دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١٠؛حدیث نمبر:٣٨٨٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3886

سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے،میں اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے جس طرح اسے لکھنا سکھایا ہے اس طرح اسے پھوڑے پھنسیوں کا دم کیوں نہیں سکھاتی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٧)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ لِي: «أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3887

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور جب باہر نکلا تو مجھے بخار ہوگیا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”ابوثابت کو کہو کہ وہ دم کرے“۔راوی خاتون کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ، يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي وَالرُّقَى صَالِحَةٌ فَقَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " الْحُمَةُ: مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3888

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"دم صرف نظر لگنے پر یا زہریلے جانور کے کاٹنے پر یا بہتے ہوئے خون پر ہوتا ہے"۔ عباس نامی راوی نے نظر لگنے کا ذکر نہیں کیا روایت کے یہ الفاظ سلیمان بن داؤد کی نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى:جھاڑ پھونک کا بیان؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٨٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ الْعَبَّاسُ: عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ، أَوْ حُمَةٍ، أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ» لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3889

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے فرمایا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ!اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٩٠)

بَابُ كَيْفَ الرُّقَى حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3890

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے میں پا رہا ہوں“۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١١؛حدیث نمبر:٣٨٩١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيرٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ: وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ، مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ " قَالَ: «فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي، فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3891

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ‌‌‌‏ ”اے ہمارے رب! جو آسمان میں ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما“ تو وہ صحت یاب ہو جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٢)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا، أَوْ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ، تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ، اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا، أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ، أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ، فَيَبْرَأَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3892

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھبراہٹ پر یہ کلمات کہنے کی تعلیم دیتے تھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی اس کے غضب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے“۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3893

یزید بن ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے:حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ قَالَ: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ: النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ» فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3894

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب کوئی شخص بیمار ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لعاب دہن کے ساتھ مٹی لگا کر اس شخص کو لگاتے اور یہ پڑھتے: (یعنی)"ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک شخص کے لعاب دہن کے ساتھ ہے ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت ہمارے بیمار کو شفا نصیب ہوگی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٥)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ- بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ: بِرِيقِهِ ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ: «تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3895

خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تو وہ اچھا ہو گیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟“۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں: «هل إلا هذا» کے بجائے: «هل قلت غير هذا» ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے لو، قسم ہے میری زندگی کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٣؛حدیث نمبر:٣٨٩٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِيهِ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «هَلْ إِلَّا هَذَا» وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فِي مَوْضِعٍ آخَرَ «هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ «خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3896

خارجہ بن صلت سے مروی ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا لعاب جمع کر کے اس پر دم کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٢؛حدیث نمبر:٣٨٩٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ، قَالَ: فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ، فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3897

سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے؟“ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اور ہر اس چیز سے جسے اس نے پیدا کیا“ تو ان شاءالله وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٣؛حدیث نمبر:٣٨٩٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا، مَنْ أَسْلَمَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ، قَالَ «مَاذَا؟» قَالَ: عَقْرَبٌ قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3898

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جسے بچھو نے ڈنگ مارا تھا راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی)اگر اس نے یہ پڑھا ہوتا:"یعنی میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے" تو اس شخص کو ڈنک نہ مارا جاتا(راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں:)نقصان نہ پہنچایا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٨٩٩)

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ مَخَاشِنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِلَدِيغٍ لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ، قَالَ: فَقَالَ: «لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يُلْدَغْ» أَوْ «لَمْ يَضُرَّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3899

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کر سکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چنانچہ وہ آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو گیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کر دی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کر لو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٩٠٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالُوا: اقْتَسِمُوا فَقَالَ: الَّذِي رَقَى لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَأْمِرَهُ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، أَحْسَنْتُمْ، اقْتَسِمُوا، وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3900

خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس آرہے تھے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا دعا ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”کھاؤ، قسم ہے میری زندگی کی لوگ تو باطل دم کے عوض کھاتے ہیں تم نے تو جائز دم کر کے کھایا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٤؛حدیث نمبر:٣٩٠١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً، وَعَشِيَّةً، كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، فَقُلْتُ: لَا، حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3901

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہے وہ بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیمار شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ پر پھیرتی تھی میں اس دست مبارک کی برکت کی امید رکھتے ہوئے(ایسا کرتی تھی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الرُّقَى:جھاڑ پھونک کیسے ہو؟؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3902

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں موٹی تازی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوجائے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ جو چاہتی تھی وہ نتیجہ صرف اس صورت میں حاصل ہوا جب انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو میں اس سے اچھی طرح صحت مند ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي السُّمْنَةِ؛موٹا ہونا؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٣)

بَابٌ فِي السُّمْنَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: " أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ، فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السَّمْنِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3903

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کاہن کے پاس جاے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت سے صحبت کرے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَاهِنِ؛کاہنوں کا بیان؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٤)

بَابٌ فِي الْكَاهِنِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى كَاهِنًا» قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ «فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ» ثُمَّ اتَّفَقَا «أَوْ أَتَى امْرَأَةً» قَالَ مُسَدَّدٌ: «امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً» قَالَ مُسَدَّدٌ: «امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3904

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"جو شخص علم نجوم کا ایک حصہ سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک حصہ سیکھتا ہے اب وہ جتنا مزید حاصل کرے گا اتنا ہی مزید(جادو سیکھ لے گا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي النُّجُومِ:علم نجوم کا بیان؛جلد٤،ص١٥؛حدیث نمبر:٣٩٠٥)

بَابٌ فِي النُّجُومِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3905

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر پڑھائی گزشتہ رات بارش ہوچکی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں ستارے کے سبب ہم بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛ باب فِي النُّجُومِ:علم نجوم کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي، وَكَافِرٌ: فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3906

قطن بن قبیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عیافہ، طیرہ اور طرق شیطانی کام ہے"طرق سے مراد پرندے اڑانا ہے اور عیافہ سے مراد لکیریں کھینچنا(یعنی علم رمل ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٧)

بَابٌ فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَوُفٌ، حَدَّثَنَا حَيَّانُ، قَالَ: غَيْر مُسَدَّدٍ، حَيَانُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعِيَافَةُ، وَالطِّيَرَةُ، وَالطَّرْقُ مِنَ الجِبْتِ» الطَّرْقُ: الزَّجْرُ، وَالْعِيَافَةُ: الْخَطُّ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3907

عوف کہتے ہیں عیافہ سے مراد پرندہ اڑانا (اور اس سے شگون لینا)اور طرق سے مراد زمین پر لکیریں کھینچنا(یعنی علم رمل)ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ عَوْفٌ: «الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ، وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3908

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچے ہیں(یعنی علم رمل کرتے ہیں)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے تو جس شخص کی لکیر ان کی لکیر کی موافق ہوتی اس کا نتیجہ درست ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ:رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان؛جلد٤،ص١٦؛حدیث نمبر:٣٩٠٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3909

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"طیرہ شرک ہے"یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی(اور پھر فرمایا)ہم میں سے ہر ایک(بدشگونی کا وہم پاتا ہے)لیکن اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے اسے ختم کردیتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٠)

بَابٌ فِي الطِّيَرَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3910

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور حلمہ(یہ بھی ایک قسم کی بدشگونی ہے)کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارش زدہ اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارش زدہ کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا؟“۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے“ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ حلمہ کی کوئی حیثیت ہے“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَّةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ» قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» قَالَ: فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ؟» قَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: «قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3911

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بیماری کے متعدی ہونے،حلمہ،ستاروں کے مؤثر ہونے اور صفر کے منحوس ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا صَفَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3912

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں"غول کی کوئی حیثیت نہیں ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا غُولَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3913

اشہب بیان کرتے ہیں امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت کے ان الفاظ کے بارے میں دریافت کیا گیا"صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے"انہوں نے بتایا:زمانہ جاہلیت کے لوگ صفر کے مہینے کو ایک سال کے لیے حرمت والا مہینہ قرار نہیں دیتے تھے اور ایک سال کے لیے حرمت والا مہینہ قرار دیتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔(یعنی اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٧؛حدیث نمبر:٣٩١٤)

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِيْنٍ وَأَنَا شَاهِدٌ - أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِهِ: «لَا صَفَرَ» قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ، يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا صَفَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3914

بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے(اسے حلم کہتے ہیں)، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ «هَامَ» قَالَ: كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُ صَفَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَفَرَ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ: هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ: «لَا صَفَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3915

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بیماری کے متعدی ہونے اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے،البتہ مجھے اچھی فال پسند ہے اور اچھی فال سے مراد اچھی بات ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ: الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3916

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو اچھی لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"ہم نے تمہاری زبانی فال(یعنی اچھا شگون) حاصل کر لیا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيلٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ: «أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3917

عطاء بیان کرتے ہیں لوگ یہ کہتے تھے صفر سے مراد ایک درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے میں نے دریافت کیا ہامہ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے یہ بتایا لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہامہ وہ پرندہ ہے جو لوگوں پر چیختا چلاتا ہے اس سے مراد انسان کی روح نہیں ہے بلکہ یہ ایک جانور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " يَقُولُ النَّاسُ: الصَّفَرُ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ "، قُلْتُ: فَمَا الْهَامَةُ؟ قَالَ: " يَقُولُ النَّاسُ الْهَامَةُ: الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ، إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3918

احمد قرشی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بدفالی کا ذکر کیا گیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے اچھی چیز فال ہے لیکن وہ کسی مسلمان کو(کوئی کام کرنے سے)روکتی نہیں ہے،جب تم کسی ایسی چیز کو دیکھو جو اس کو اچھی نہ لگے تو ادمی کو یہ کہنا چاہیے: " اے اللہ!بھلائی صرف تو ہی عطا کر سکتا ہے اور برائی صرف تو ہی دور کر سکتا ہے تیری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٨؛حدیث نمبر:٣٩١٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَحْمَدُ: الْقُرَشِيُّ، قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا -- تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3919

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو بدشگونی قرار نہیں دیتے تھے،جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے سے محسوس ہوجاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٠)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3920

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے"ہامہ،بیماری کے متعدی ہونے اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے،اگر بدشگونی(یا نحوست)کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے یا عورت یا گھر میں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3921

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ «الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ، وَالدَّارِ» قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ فَهَلَكُوا، ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ فَهَلَكُوا، فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3922

یحیی بن عبداللہ بیان کرتے ہیں مجھے ان صاحب نے یہ بات بتائی جنہوں نے حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا:میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!ہمارے ایک زمین ہے جس سے ابین کہا جاتا ہے اس میں ہمارے کھیت ہیں،غلہ اگانے کی جگہ ہے،لیکن اس جگہ پر وبا پائی جاتی ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے)انتہائی شدید وبا والی جگہ ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ کو چھوڑ دو کیونکہ ایسی جگہ پر رہنے سے آدمی ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص١٩؛حدیث نمبر:٣٩٢٣)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا، وَمِيرَتِنَا، وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ:- دَعْهَا عَنْكَ، فَإِنَّ مِنَ القَرَفِ التَّلَفَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3923

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ!پہلے ہم ایک ایسی جگہ رہتے تھے،جہاں ہماری تعداد بھی زیادہ تھی اور ہماری زمینیں بھی زیادہ تھی،پھر ہم وہاں سے ایک اور جگہ منتقل ہو گئے تو وہاں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارے اموال بھی کم ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ وہ بری جگہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا، وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُوهَا ذَمِيمَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3924

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جزام زدہ شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے پیالے میں ڈال کر ارشاد فرمایا:تم اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الطِّبِّ؛علاج کے احکام و مسائل؛باب فِي الطِّيَرَةِ؛بدشگونی کا بیان؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: «كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Tib, Hadees No. 3925

Abu Dawood Shareef : Kitabut Tib

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الطِّبِّ

|

•