
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکاتب(مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے) اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٦)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے)“ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:راوی عباس جریری نہیں ہے لوگ یہ کہتے ہیں یہ وہم ہے بلکہ یہ کوئی اور بزرگ ہے (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٧)
زہری سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے مکاتب غلام نبہان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: "جب تم خواتین میں سے کسی ایک کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جس کے ذریعے وہ(کتابت کی رقم کی)ادائیگی کر سکتا ہو،تو اس عورت کو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٢٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء(ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔)میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو جو شخص کوئی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس شخص کو اس کا حق حاصل نہیں ہوگا خواہ اس نے سو شرطیں عائد کی ہو اللہ تعالی کی جائز کردہ شرط زیادہ حقدار اور زیادہ مضبوط ہوتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٢٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا حالانکہ ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٣٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جو نظروں کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کتابت کے سلسلے میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا،مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ اسی طرح اچھی لگے گیں جس طرح مجھے اچھی لگی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟“ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں“ وہ بولیں: میں تیار ہوں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٢؛حدیث نمبر:٣٩٣١)
حضرت سفینہ بیان کرتی ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْعِتْقِ عَلَى الشَّرْطِ:شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔؛جلد٤،ص٢٢؛حدیث نمبر:٣٩٣٢)
ابو ملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے“۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد ہونے کو درست قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو برقرار رکھا اور اس کی قیمت کے بقیہ حصے کا تاوان اس شخص پر عائد کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٤)
قتادہ اپنی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی غلام کو آزاد کر دے جو اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہو تو اس غلام کو مکمل ازاد کرنا اس شخص پر لازم ہوگا" روایت کے یہ الفاظ ابن سوید کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٥)
قتادہ اپنی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کے آزاد کر دے تو وہ غلام اس شخص کے مال میں سے آزاد شمار ہوگا،اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہو" ابن مثنی نے نضر بن انس کا تذکرہ نہیں کیا روایت کے یہ الفاظ ابن سوید کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی(آزادی)دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی“ پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ان دونوں روایتوں میں یہ الفاظ منقول ہیں:"اس سے مزدوری کروائی جائے گی لیکن اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا" روایت کے یہ الفاظ علی بن عبداللہ کے نقل کردہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:روح بن عبادہ نے یہ روایت سعید بن ابو عروبہ کے حوالے سے نقل کی ہے،انہوں نے مزدوری کروانے کا ذکر نہیں کیا۔ جبکہ دیگر راویوں نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے مزدوری کروانے کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ نافع بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: "تو اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا جو ازاد ہوا" بعض اوقات وہ ان الفاظ کو ذکر نہیں کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ایوب کہتے ہیں:مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے یہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے یا یہ بات نافع نے کہی ہے: "ورنہ اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا جو آزاد ہوا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پورے غلام کو آزاد کرنا اس پر لازم ہوگا، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا“ (اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،جس طرح امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نقل کی ہے،تاہم اس میں یہ مذکور نہیں ہے۔ "ورنہ اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا،جو آزاد ہوا ہے" یہ روایت یہاں تک مکمل ہوتی ہے"اور اس کی طرف سے غلام آزاد ہو جائے گا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دے،تو اس کے باقی مال میں سے وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد ہوگا اگر اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو اس غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٦)
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اگر وہ شخص خوشحال ہو تو اس غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی جس میں کوئی کمی یا بیشی نہ ہو اور پھر اس غلام کو آزاد کر دیا جائے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٧)
ابن تلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ توتلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٨)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٤٩)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے تو(رشتہ دار)آزاد ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٠)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں"جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے تو وہ(رشتہ دار)آزاد شمار ہوگا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥١)
یہی روایت قتادہ نے جابر بن زید اور حسن بصری کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:سعید،حماد سے بڑے حافظ الحدیث ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٢)
سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:زمانہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”حباب کا وارث کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے (سلامہ کو) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ؛ام ولد کو آزاد کرنا؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہم ام ولد کنیزوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا تو ہم اس سے باز آگئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا اس شخص کا اس غلام کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس غلام کو 700 یا شاید 92 میں فروخت کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم اس کی قیمت کے زیادہ حقدار ہو اور اللہ تعالی اس سے تم سے زیادہ بے نیاز ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”اسے کون خریدتا ہے؟“ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو وہ اپنی ذات پر پہلے خرچ کرے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے“ یا فرمایا: ”اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں(یعنی دوسرے لوگوں پر)خرچ کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے مرنے کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلوا کر ان کے تین حصے کیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٥٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت بات ارشاد فرمائی۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٥٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں اس کے دفن کے وقت موجود ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے مرنے کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور ان میں سے دو کو ازاد کر دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے البتہ اگر آقا نے اس کی شرط عائد کی ہو،تو حکم مختلف ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَال؛جو شخص اپنے مالدار غلام کو آزاد کرے تو مال مالک کا ہو گا؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اللہ کی راہ میں ایک کوڑا کسی کو دے دوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا؛زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرنا؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٣)
غریف بن دیلمی بیان کرتے ہیں ہم حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: ایک شخص تلاوت کرتا ہے حالانکہ اس کا قرآن اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے تو کیا وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے (براہ راست) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي ثَوَابِ الْعِتْقِ؛غلام آزاد کرنے کا ثواب؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٤)
حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے“ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٥)
سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں شرحبیل بن سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:جو کسی مومن کو ازاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا فدیہ ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٦)
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، پھر راوی نے معاذ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے جو ان الفاظ تک ہے"جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا اور جو عورت کسی مسلمان عورت کو ازاد کرے گی"۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: جو مرد،دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی ان دونوں کی ہر ہڈی اس شخص کی ہر ہڈی کی جگہ(جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی۔)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے (اس لیے یہ حدیث منقطع ہے) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٧)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص مرنے کے وقت غلام آزاد کرتا ہے،اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے،کہ جو خود سیر ہو جائے تو پھر(بچ جانے والی چیز)تحفے کے طور پر دیتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ الْعِتْقِ فِي الصِّحَّةِ؛صحت و تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Itke
|
Abu Dawood Shareef : کتاب العتق
|
•