asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Huroof Wal Qira At

From 3969 to 4008

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔“ (سورۃ البقرہ: ۱۲۴) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء)یہ تلاوت کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٦٩)

كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3969

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک شخص رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے تلاوت کر رہا تھا وہ بلند آواز میں قرآن پڑھ رہا تھا صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی فلاں شخص پر رحم کرے اس نے گزشتہ رات مجھے کتنی ایسی آیات یاد کروا دی جو میری توجہ میں نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَائِنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أُسْقِطْتُهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3970

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:یہ آیت نازل ہوئی: "یعنی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے" (آل عمران ١٦١) یہ آیت ایک سرخ چادر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو غزوہ بدر کے موقع پر غیر موجود پائی گئی تھی تو بعض لوگوں نے کہا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حاصل کر لیا ہو،تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: "نبی کے لیے یہ مناسب ہی نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے" یہ آیت کے اخر تک ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں لفظ"یغل"میں"ی"پر زبر پڑھی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: 161] فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: بَعْضُ النَّاسِ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: 161] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3971

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اے اللہ!میں کنجوسی اور بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَخَلِ وَالْهَرَمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3972

عاصم بن لقیط اپنے والد حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:جو منتفق کے وفد میں شامل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم ہر گز یہ گمان نہ کرنا"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ تجسس نہیں کہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ -- بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْسِبَنَّ» وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3973

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ:(ترجمہ)" جو شخص تمہیں سلام کرتا ہے تم اسے یہ نہ کہو تم مومن نہیں ہو تم لوگ صرف دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو“ (سورۃ النساء: ۹۴) نازل ہوئی،اس سے مراد وہ چند بکریاں تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [النساء: 94] تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3974

حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم یوں تلاوت کرتے تھے «غير أولي الضرر» سعید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں تلاوت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ أَشْبَعُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3975

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یوں پڑھا ہے«والعين بالعين» (رفع کے ساتھ)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ) "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3976

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» ”اور اس میں ہم نے ان پر لازم کیا تھاکہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ”(سورۃ المائدہ: ۴۵) (عین کے رفع کے ساتھ) پڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٧)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ: (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ) "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3977

عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» ”اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا“ (سورۃ الروم: ۵۴) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٨)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ} [الروم: 54] فَقَالَ: (مِنْ ضُعْفٍ) «قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَأَخَذَ عَلَيَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3978

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ضُعْفٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3979

حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» ”لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے“ (سورۃ یونس: ۵۸) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (تاء کے ساتھ) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: (بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا) " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «بِالتَّاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3980

ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليتفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا۔ (یعنی دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ: (بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ)

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3981

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں تلاوت کرتے سنا «إنه عمل غير صالح» (بصیغہ ماضی) یعنی: ”اس نے ناسائشہ کام کیا“ (سورۃ ہود: ۴۶)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْرَأُ (إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ)»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3982

شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» (فعل ماضی کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} [هود: 46]؟ فَقَالَتْ: «قَرَأَهَا (إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ)» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ، عَنْ ثَابِتٍ، كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3983

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: ”اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی (خضر) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا(اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے:)«إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» ”کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا۔“ (سورۃ الکہف: ۷۶)۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ: " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ صَبَرَ لَرَأَى مِنْ صَاحِبِهِ الْعَجَبَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي} [الكهف: 76] " طَوَّلَهَا حَمْزَةُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3984

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» (نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا) اور انہوں نے اسے ثقل کے ساتھ پڑھ کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ -جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " قَرَأَهَا {قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي} [الكهف: 76] وَثَقَّلَهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3985

مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» ”دلدل کے چشمہ میں“ (سورۃ الکہف: ۸۶) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ} [الكهف: 86] مُخَفَّفَةً "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3986

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "علین سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اہل جنت کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو اس کے چہرے کی وجہ سے جنت یوں روشن ہو جائے گی جیسے وہ کوئی چمکتا ہوا ستارہ ہو۔" راوی کہتے ہیں:اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں اور یہ دونوں اچھے لوگ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ - قَالَ: وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ دُرِّيٌّ مَرْفُوعَةٌ الدَّالُ لَا تُهْمَزُ - وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3987

حضرت فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ”سبا“ کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کیا یہ علاقہ ہے یا کوئی عورت کا نام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہ کوئی علاقہ ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں“۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرْضٌ أَمُ امْرَأَةٌ؟ فَقَالَ: «لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ» قَالَ عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيُّ، مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3988

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں:جس میں وحی کے متعلق روایت ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: «حتى إذا فزع عن قلوبهم» ”یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے“ (سورۃ سبا: ۲۳)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً فَذَكَرَ -حَدِيثَ الْوَحْيِ قَالَ: " فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ} [سبأ: 23] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3989

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ”ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا"۔(سورۃ الزمر: ۵۹) (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يَذْكُرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ} [الزمر: 59] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3990

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فرُوح وريحان» ”تو عیش و آرام ہے“ (سورۃ الواقعہ: ۸۹)(راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩١)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا {فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ} [الواقعة: 89] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3991

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» ”اور پکار پکار کہیں گے اے مالک!“ (سورۃ الزخرف: ۷۷) پڑھتے سنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ - قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ: لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا - عَنْ صَفْوَانَ - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: ابْنُ يَعْلَى - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: 77] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «يَعْنِي بِلَا تَرْخِيمٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3992

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت یوں پڑھائی تھی«إني أنا الرزاق ذو القوة المتين»۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3993

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ”تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا“ (سورۃ الذاریات: ۵۸) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٤)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَؤُهَا {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 15] يَعْنِي مُثَقَّلًا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «مَضْمُومَةُ الْمِيمِ مَفْتُوحَةُ الدَّالِ مَكْسُورَةُ الْكَافِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3994

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «ايحسب أن ماله أخلده»(المھزہ ٣)پڑھتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -- الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ " النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ أَ {يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ} [الهمزة: 3]

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3995

ابوقلابہ،اس صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت یوں تلاوت کروائی تھی(کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد ولا يوثق وثاقَه أحد»۔"تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا۔ اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا" امام ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٦)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " {فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثَقُ} [الفجر: 26] وَثَاقَهُ أَحَدٌ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وأَبِي قِلَابَةَ رَجُلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3996

ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ‏ولا يوثق‏» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ " أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ} [الفجر: 25] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «قَرَأَ عَاصِمٌ، وَالْأَعْمَشُ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَمُجَاهِدٌ، وَحُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ إِلَّا الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ، فَإِنَّه يُعَذَّبُ بِالْفَتْحِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3997

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گفتگو کی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَقَالَ: «جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «قَالَ خَلَفٌ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَيْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3998

محمد بن حازم بیان کرتے ہیں:اعمش کے سامنے لفظ جبرئیل اور لفظ میکائل کی قرآت کی کیفیت کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور پھونکنے والے ہیں تو فرمایا: ”اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٩)

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: ذُكِرَ كَيْفَ قِرَاءَةُ جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ عِنْدَ الْأَعْمَشِ، فَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ: «عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 3999

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یوں تلاوت کرتے تھے:مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: مَعْمَرٌ وَرُبَمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، يَقْرَءُونَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}، وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا (مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ) مَرْوَانُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ، وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4000

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا " قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ) يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4001

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية‏"‏» ”ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا“ (سورۃ الکہف: ۸۶) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ، وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ؟» قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ «فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4002

حضرت واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے چبوترے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ”اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند“ (سورۃ البقرہ: ۲۵۵) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ مَوْلًى لِابْنِ الْأَسْقَعِ، رَجُلَ صِدْقٍ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ: أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} [البقرة: 255] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4003

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے «هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَرَأَ {هَيْتَ لَكَ} [يوسف: 23] فَقَالَ: شَقِيقٌ: إِنَّا نَقْرَؤُهَا (هِئْتُ لَكَ) يَعْنِي فَقَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ «أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4004

ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٥)

حَدَّثَنَا هَنَادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ} [يوسف: 23] فَقَالَ: " إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ {وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ} [يوسف: 23] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4005

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا:"وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ" (ترجمہ)" اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے"(بقرہ ٥٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ: (ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ) "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4006

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٧)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ بِإِسْنَادِه مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4007

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها‏» ”یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اُتاری اور ہم نے اس کے احکام فرض کئے“ (سورۃ النور: ۱) پڑھ کر سنایا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَرَأَ عَلَيْنَا {سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا} [النور: 1] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «يَعْنِي مُخَفَّفَةً حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Huroof Wal Qira At, Hadees No. 4008

Abu Dawood Shareef : Kitabul Huroof Wal Qira At

|

Abu Dawood Shareef : کتاب الحروف والقراءت

|

•