
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔“ (سورۃ البقرہ: ۱۲۴) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء)یہ تلاوت کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٦٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک شخص رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے تلاوت کر رہا تھا وہ بلند آواز میں قرآن پڑھ رہا تھا صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی فلاں شخص پر رحم کرے اس نے گزشتہ رات مجھے کتنی ایسی آیات یاد کروا دی جو میری توجہ میں نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:یہ آیت نازل ہوئی: "یعنی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے" (آل عمران ١٦١) یہ آیت ایک سرخ چادر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو غزوہ بدر کے موقع پر غیر موجود پائی گئی تھی تو بعض لوگوں نے کہا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حاصل کر لیا ہو،تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: "نبی کے لیے یہ مناسب ہی نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے" یہ آیت کے اخر تک ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں لفظ"یغل"میں"ی"پر زبر پڑھی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اے اللہ!میں کنجوسی اور بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٢)
عاصم بن لقیط اپنے والد حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:جو منتفق کے وفد میں شامل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم ہر گز یہ گمان نہ کرنا"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ تجسس نہیں کہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣١؛حدیث نمبر:٣٩٧٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ:(ترجمہ)" جو شخص تمہیں سلام کرتا ہے تم اسے یہ نہ کہو تم مومن نہیں ہو تم لوگ صرف دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو“ (سورۃ النساء: ۹۴) نازل ہوئی،اس سے مراد وہ چند بکریاں تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٤)
حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم یوں تلاوت کرتے تھے «غير أولي الضرر» سعید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں تلاوت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یوں پڑھا ہے«والعين بالعين» (رفع کے ساتھ)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» ”اور اس میں ہم نے ان پر لازم کیا تھاکہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ”(سورۃ المائدہ: ۴۵) (عین کے رفع کے ساتھ) پڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٧)
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» ”اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا“ (سورۃ الروم: ۵۴) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢؛حدیث نمبر:٣٩٧٩)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» ”لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے“ (سورۃ یونس: ۵۸) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (تاء کے ساتھ) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٠)
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليتفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا۔ (یعنی دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨١)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں تلاوت کرتے سنا «إنه عمل غير صالح» (بصیغہ ماضی) یعنی: ”اس نے ناسائشہ کام کیا“ (سورۃ ہود: ۴۶)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٢)
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» (فعل ماضی کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٣)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: ”اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی (خضر) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا(اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے:)«إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» ”کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا۔“ (سورۃ الکہف: ۷۶)۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٤)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» (نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا) اور انہوں نے اسے ثقل کے ساتھ پڑھ کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٣؛حدیث نمبر:٣٩٨٥)
مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» ”دلدل کے چشمہ میں“ (سورۃ الکہف: ۸۶) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "علین سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اہل جنت کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو اس کے چہرے کی وجہ سے جنت یوں روشن ہو جائے گی جیسے وہ کوئی چمکتا ہوا ستارہ ہو۔" راوی کہتے ہیں:اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں اور یہ دونوں اچھے لوگ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٧)
حضرت فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ”سبا“ کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کیا یہ علاقہ ہے یا کوئی عورت کا نام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہ کوئی علاقہ ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں“۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں:جس میں وحی کے متعلق روایت ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: «حتى إذا فزع عن قلوبهم» ”یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے“ (سورۃ سبا: ۲۳)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٤؛حدیث نمبر:٣٩٨٩)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ”ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا"۔(سورۃ الزمر: ۵۹) (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فرُوح وريحان» ”تو عیش و آرام ہے“ (سورۃ الواقعہ: ۸۹)(راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩١)
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» ”اور پکار پکار کہیں گے اے مالک!“ (سورۃ الزخرف: ۷۷) پڑھتے سنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت یوں پڑھائی تھی«إني أنا الرزاق ذو القوة المتين»۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ”تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا“ (سورۃ الذاریات: ۵۸) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «ايحسب أن ماله أخلده»(المھزہ ٣)پڑھتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٥؛حدیث نمبر:٣٩٩٥)
ابوقلابہ،اس صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت یوں تلاوت کروائی تھی(کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد ولا يوثق وثاقَه أحد»۔"تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا۔ اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا" امام ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٦)
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گفتگو کی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٨)
محمد بن حازم بیان کرتے ہیں:اعمش کے سامنے لفظ جبرئیل اور لفظ میکائل کی قرآت کی کیفیت کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور پھونکنے والے ہیں تو فرمایا: ”اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٦؛حدیث نمبر:٣٩٩٩)
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یوں تلاوت کرتے تھے:مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٠)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠١)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية"» ”ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا“ (سورۃ الکہف: ۸۶) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٢)
حضرت واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے چبوترے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ”اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند“ (سورۃ البقرہ: ۲۵۵) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے «هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٧؛حدیث نمبر:٤٠٠٤)
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا:"وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ" (ترجمہ)" اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے"(بقرہ ٥٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها» ”یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اُتاری اور ہم نے اس کے احکام فرض کئے“ (سورۃ النور: ۱) پڑھ کر سنایا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ؛ قران کی مختلف لہجوں اور قراتوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٨؛حدیث نمبر:٤٠٠٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Huroof Wal Qira At
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الحروف والقراءت
|
•