
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمام میں جانے سے منع کیا،پھر آپ نے مردوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ تہبند باندھ کر وہاں جا سکتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ؛حمام میں جانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٩؛حدیث نمبر:٤٠٠٩)
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ؛حمام میں جانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٩؛حدیث نمبر:٤٠١٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں عنقریب تمہارے لیے عجم کے علاقے فتح ہوں گے،تمہیں وہاں کچھ گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جاتا ہوگا مرد اس میں صرف تہبند باندھ کر داخل ہو اور عورتوں کو وہاں جانے سے منع کرنا،البتہ بیمار عورت یا نفاس والی(عورت کا حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ؛حمام میں جانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٩؛حدیث نمبر:٤٠١١)
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (کھلی جگہ میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ حیاء والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب النَّهْىِ عَنِ التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کی ممانعت؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ صفوان بن یعلی کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں پہلی روایت زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب النَّهْىِ عَنِ التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کی ممانعت؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٣)
عبدالرحمن بن جرھد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت جرہد رضی اللہ عنہ اصحاب صفہ میں سے تھے،وہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے،اس وقت میرے زانوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا،تو اپ نے فرمایا:کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ زانوں پردے کی چیز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب النَّهْىِ عَنِ التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کی ممانعت؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم اپنے زانوں سے کپڑا نہ ہٹاؤ،اور کسی زندہ یا مردہ شخص کے زانوں کی طرف نہ دیکھو" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہ روایت کچھ منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب النَّهْىِ عَنِ التَّعَرِّي؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٥)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں ایک وزنی پتھر اٹھا کر جا رہا تھا،وہ مجھ سے گر گیا(یعنی میرا کپڑا گر گیا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم اپنا کپڑا لو، اور بنا ہو کر نہ چلو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کا بیان؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٦)
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کا بیان؛جلد٤،ص٤٠؛حدیث نمبر:٤٠١٧)
عبدالرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:کوئی مرد کسی دوسرے مرد کا ستر نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی دوسرے عورت کا ستر نہ دیکھے اور کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں لیٹے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کا بیان؛جلد٤،ص٤١؛حدیث نمبر:٤٠١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے اور کوئی عورت کسی دوسرے عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے البتہ باپ بیٹے کے ساتھ ایسے لیٹ سکتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے تیسری بات بھی ذکر کی تھی لیکن میں اسے بھول گیا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحَمَّامِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي؛برہنہ ہونے کا بیان؛جلد٤،ص٤١؛حدیث نمبر:٤٠١٩)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Hammam
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الحمام
|
•