
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس قمیص یا عمامہ کا نام لیتے پھر یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا؛نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٤١؛حدیث نمبر:٤٠٢٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا؛نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٤١؛حدیث نمبر:٤٠٢١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بن سلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا؛نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٤٢؛حدیث نمبر:٤٠٢٢)
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا ”تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ نیز فرمایا: ”اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا ”تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا؛نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٤٢؛حدیث نمبر:٤٠٢٣)
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟“ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام خالد کو میرے پاس لاؤ“ چنانچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں وہ چادر اوڑھا دی اور پھرفرمایا: ”پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو“ آپ نے دو مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کے سرخ یا زرد رنگ کے نشانات کو دیکھ کر فرمایا اے ام خالد!یہ اچھے ہیں،یہ اچھے ہیں“۔ (راوی کہتے ہیں)لفظ"سناہ"حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا؛نیا کپڑا پہننے والے کو دعا دینے کا بیان؛جلد٤،ص٤٢؛حدیث نمبر:٤٠٢٤)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ؛قمیص اور کرتے کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٢٥)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ اور کوئی لباس پسند نہیں تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ؛قمیص اور کرتے کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٢٦)
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کی آستین گٹے تک ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ؛قمیص اور کرتے کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٢٧)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پکڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مخرمہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے لیے سنبھال کر رکھ لیا تھا“ تو حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: ”مخرمہ خوش ہو گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے)"جو شخص شہرت کا لباس پہنے گا اسے قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی مانند لباس پہنائے گا"ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں" پھر اس میں آگ کو بھڑکایا جائے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٢٩)
حضرت ابوبردہ بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے!کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا،جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، بعض اوقات بارش ہو جاتی،تو تمہیں یہ محسوس ہوتا کہ ہم میں سے بھیڑوں کی بو آرہی ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے انہوں نے اونی لباس پہنا ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ؛اونی اور بال سے بنا ہوا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٤،حدیث نمبر ٤٠٣٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ذی یزن کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر ایک حلہ بھیجا جو اس نے 33 اونٹوں(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:)33 اونٹنیوں کے عوض میں خریدا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ؛اونی اور بال سے بنا ہوا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٤،حدیث نمبر ٤٠٣٤)
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 20 سے کچھ زیادہ اونٹوں کے عوض میں ایک حلہ خریدا جو آپ نے ذی یذن کی طرف تحفے کے طور پر بھجوایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ؛اونی اور بال سے بنا ہوا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٤،حدیث نمبر ٤٠٣٥)
ابوبردہ بیان کرتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک موٹا تہبند نکال کر دکھایا جو یمن میں بنایا جاتا تھا اور ایک چادر دکھائے جسے ملبدہ کہا جاتا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان کپڑوں میں ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب لباس الغلیظ؛موٹا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٤،حدیث نمبر ٤٠٣٦)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج کا ظہور ہوا تو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”تم ان لوگوں کے پاس جاؤ“ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور باوقار شخصیت کے حامل تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا:تم مجھ پر کیسے اعتراض کر سکتے ہو؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں :ابوزمیل نامی کا نام سماک بن ولید ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب لباس الغلیظ؛موٹا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٥،حدیث نمبر ٤٠٣٧)
حضرت عبداللہ بن سعد اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں انہوں نے بخارا میں ایک شخص کو دیکھا جو سفید خچر پر سوار تھا اور اس نے اپنے سر پر خز کی سیاہ پگڑی باندھی ہوئی تھی،اس نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مجھے پہنائی تھی۔ اس کی سند میں ایک راوی نے لفظ مختلف نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ؛خز پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٥،حدیث نمبر ٤٠٣٨)
عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں مجھ سے ابوعامر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے غلط بیانی نہیں کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو خز اور حریر (ریشم) کو حلال کر لیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ”ان میں سے کچھ قیامت تک کے لیے بندر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے حضرت انس اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ؛خز پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٥،حدیث نمبر ٤٠٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے تو یہ مناسب ہوگا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا حضرت عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو“ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ نے اسے اپنے ایک مشرک (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِير؛حریر (ریشم) پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٦،حدیث نمبر ٤٠٤٠)
سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں:جس میں یہ الفاظ ہیں: "ریشمی حلہ" اور اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیباج کا حلہ بھجوایا اور آپ نے ارشاد فرمایا تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِير؛حریر (ریشم) پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٦،حدیث نمبر ٤٠٤١)
ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو خط میں لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم استعمال کرنے سے منع کیا ہے البتہ اگر وہ اتنا یا اتنا یعنی دو یا تین یا چار انگلیوں کے برابر ہو(تو یہ جائز ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِير؛حریر (ریشم) پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ تحفے کے طور پر دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے بھیجوا دیا میں نے اسے پہنا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار محسوس ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میں تمہیں اس لیے نہیں بھیجا تھا تاکہ تم اسے پہن لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس سے خاندان کی خواتین میں تقسیم کر دوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِير؛حریر (ریشم) پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٣)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی پہننے، معصفر پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع کے دوران قرأت کرنے سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٤)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:رکوع اور سجدے میں قرأت کرنے سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "(حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں یہ نہیں کہتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو منع کیا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس (ایک باریک ریشمی کپڑا) کا ایک کپڑا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔اس کی لہراتی ہوئی آستینوں کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے، پھر آپ نے اسے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو“ انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٧،حدیث نمبر ٤٠٤٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں“۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو“۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٨،حدیث نمبر ٤٠٤٨)
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: ”دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٨،حدیث نمبر ٤٠٤٩)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سرخ گدوں(نیچے بچھائی جانے والی مخصوص قسم کی چادروں)سے منع کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٠)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے،قسی(مخصوص قسم کا کپڑا)پہننے اور سرخ زین پوش استعمال کرنے سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی میرے نماز ادا کرنے کے دوران میری توجہ منتشر کی تھی(یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تاہم پہلی روایت زیادہ سیر کرتی ہے(یعنی واضح ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ كَرِهَهُ؛جس نے اسے مکروہ قرار دیا؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٣)
عبداللہ ابوعمر مولی حضرت اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کر دیا تو میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ (اپنی خادمہ سے) بولیں بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے دیباج ٹکا ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ وَخَيْطِ الْحَرِيرِ؛ نشانات والے یا ریشم کی کڑھائی والے کپڑے کی اجازت؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالص ریشمی کپڑے سے منع کیا ہے البتہ اگر ریشم کے ذریعے کڑھائی ہوئی ہو یا کپڑے کا تانا ریشمی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ وَخَيْطِ الْحَرِيرِ؛ نشانات والے یا ریشم کی کڑھائی والے کپڑے کی اجازت؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو خارش لاحق ہونے کی وجہ سے سفر کے دوران ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِعُذْرٍ؛عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٤٩،حدیث نمبر ٤٠٥٦)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پکڑ کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا اور پھر فرمایا یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لیے حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان؛جلد٤،ص٥٠،حدیث نمبر ٤٠٥٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیراء کی چادر اڑی ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں سیراء قز سے بنی ہوئی چادر ہوتی ہے جس میں چوکور خانے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان؛جلد٤،ص٥٠،حدیث نمبر ٤٠٥٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم اسے یعنی ریشمی کپڑے کو لڑکوں سے اتار لیتے تھے اور لڑکیوں کے جسم پر رہنے دیتے تھے۔ مسعر بیان کرتے ہیں میں عمرو بن دینار سے اس بارے میں دریافت کیا تو وہ اس سے واقف نہیں تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان؛جلد٤،ص٥٠،حدیث نمبر ٤٠٥٩)
قتادہ بیان کرتے ہیں ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ لباس کون سا تھا تو انہوں نے جواب دیا"حبرہ" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الْحِبَرَةِ؛ نقش و نگار والے کپڑے کو پہننا؛جلد٤،ص٥٠،حدیث نمبر ٤٠٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْبَيَاضِ؛سفید کپڑوں کا بیان؛جلد٤،ص٥١،حدیث نمبر ٤٠٦١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: ”کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟“ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: ”کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ؛کپڑے کو دھونے اور پرانے کپڑے پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٥١،حدیث نمبر ٤٠٦٢)
ابو احوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم مالدار ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ؛کپڑے کو دھونے اور پرانے کپڑے پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٥١،حدیث نمبر ٤٠٦٣)
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْمَصْبُوغِ بِالصُّفْرَةِ؛زرد رنگ کے کپڑے پہننا؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٤)
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے اپ کو دو سبز چادریں اوڑھے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخُضْرَةِ؛سبز (ہرے) رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے کیسی چادر اوڑھ رکھی ہے؟“ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟“ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٦)
ہشام بیان کرتے ہیں مضرجہ سے مراد یہ ہے کہ وہ بہت سرخ بھی نہیں تھی اور بالکل گلابی بھی نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٧)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟“ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے «معصفر» (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جس نے سرخ چادر اوڑھی ہوئی تھی اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٢،حدیث نمبر ٤٠٦٩)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے“ (ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٣،حدیث نمبر ٤٠٧٠)
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْحُمْرَةِ؛لال رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٣،حدیث نمبر ٤٠٧١)
حضرت برا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک آپ کے کانوں کی لو تک آتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛لال رنگ کا استعمال جائز ہے؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٢)
بلال بن عامر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مِنیٰ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا آپ نے سرخ چادر اوڑھی ہوئی تھی،آپ کے آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛لال رنگ کا استعمال جائز ہے؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:میں نے ایک چادر پر سیاہ رنگ کیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں پسینہ آیا اور آپ کو اس میں سے روئی کی بو محسوس ہوئی تو آپ نے ان سے اتار دیا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ خوشبو پسند تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّوَادِ؛کالے رنگ کا بیان؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٤)
حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھٹنوں کو اٹھا کر کپڑا لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر پڑ رہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْهُدْبِ؛ کپڑے کے کنارے پر(نقش و نگار وغیرہ بنانا)؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَمَائِمِ؛عمامہ (پگڑی) کا بیان؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَمَائِمِ؛عمامہ (پگڑی) کا بیان؛جلد٤،ص٥٤،حدیث نمبر ٤٠٧٧)
ابو جعفر بن محمد،اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کشتی کی،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پچھاڑ دیا۔ حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "ہمارے اور مشرکین کے درمیان(عمامہ باندھنے کے طریقے میں)بنیادی فرق ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَمَائِمِ؛عمامہ (پگڑی) کا بیان؛جلد٤،ص٥٥،حدیث نمبر ٤٠٧٨)
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمامہ باندھا آپ نے اس کے کنارے کو میرے آگے کی طرف کر دیا اور کچھ کو پیچھے کی طرف رکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَمَائِمِ؛عمامہ (پگڑی) کا بیان؛جلد٤،ص٥٥،حدیث نمبر ٤٠٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس سے منع کیا ہے،ایک یہ کہ آدمی احتباء کے طور پر اس طرح کپڑا لپیٹے کے اس کی شرمگاہ کھلی ہو،اور یہ کہ آدمی یوں کپڑا لپیٹے کہ اس کا ایک کنارہ باہر نکال کر کپڑے کو اپنے کندھے پر ڈال دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لِبْسَةِ الصَّمَّاءِ؛جسم پر اس طرح کپڑا لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں منع ہے؛جلد٤،ص٥٥،حدیث نمبر ٤٠٨٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو صماء کے طور پر اور احتباء کے طور پر لپیٹنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لِبْسَةِ الصَّمَّاءِ؛جسم پر اس طرح کپڑا لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں منع ہے؛جلد٤،ص٥٥،حدیث نمبر ٤٠٨١)
معاویہ بن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کے کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے دامن میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَلِّ الأَزْرَارِ؛بٹن کھلا رکھنے کا بیان؛جلد٤،ص٥٥،حدیث نمبر ٤٠٨٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران کسی کہنے والے نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٦،حدیث نمبر ٤٠٨٣)
حضرت ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو اہمیت دیتے تھے جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عليك السلام» نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ” «السلام عليك» کہو۔“ میں نے کہا: (کیا) آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو اور تم دعا کرو تو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اس سے دعا کرو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا“، میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: ”کسی کو بھی گالی نہ دو۔“ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٦،حدیث نمبر ٤٠٨٤)
سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ)کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص تکبر کے طور پر اپنا کپڑا لٹکاتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرے تہ بند کا ایک پلو ڈھیلا ہو جاتا ہے اور لٹکتا رہتا ہے مجھے اس کا بڑا خیال رکھنا پڑے گا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٦،حدیث نمبر ٤٠٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جا وضو کر کے آؤ“ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور وضو کر کے آؤ“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر خاموش بھی رہے آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ ”تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٧،حدیث نمبر ٤٠٨٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“ میں نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٧،حدیث نمبر ٤٠٨٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تاہم پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: "احسان جتلانے والا وہ شخص کہ وہ جو بھی چیز دیتا ہے تو اس پر احسان جتاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٧،حدیث نمبر ٤٠٨٨)
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم حضرت ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کا اس سے کوئی نقصان بھی نہ ہوگا تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کہیں بھیجا، جب وہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص اس محفل میں آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا ”لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں“ بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ”سبحان اللہ!اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں“۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہاد کی نیت سے) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو“۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند کو لٹکاے نہیں“ یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو (یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ جیسے تم ان میں سے نمایاں فرد ہو، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور فحش چیز کے اظہار کو پسند نہیں کرتا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّقَنُّعِ؛ سر اور چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپ کر رکھنا؛جلد٤،ص٥٧،حدیث نمبر ٤٠٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالی فرماتا ہے:کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عظمت میری نیچے کی چادر ہے جو شخص ان کے بارے میں میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ؛تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٥٩،حدیث نمبر ٤٠٩٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے وزن جتنا تکبر ہوگا اور ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے وزن جتنا ایمان ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ؛تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٥٩،حدیث نمبر ٤٠٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ایک وجیہہ شخص تھا اس نے عرض کی:میں ایک ایسا شخص ہوں کہ خوبصورتی کی محبت میرے دل میں ڈال دی گئی ہےاور مجھے اس میں سے جو چیز عطا کی گئی ہے وہ ملاحظہ فرما رہے ہیں یہاں تک کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ کسی کا جوتے کا تسمہ بھی مجھ سے بہتر ہو(یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)اس نے دریافت کیا کیا یہ تکبر میں شمار ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں تکبر وہ ہوتا ہے جو حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ؛تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٥٩،حدیث نمبر ٤٠٩٢)
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے اس اس میں کوئی حرج نہیں(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)کوئی گناہ نہیں ہے جبکہ وہ نصف پنڈلی اور ٹکنوں کے درمیان ہو، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ؛تہ بند کے رکھنے کی جگہ؛جلد٤،ص٥٩،حدیث نمبر ٤٠٩٣)
سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "لٹکانا قمیص میں،تہبند میں اور عمامہ میں ہوتا ہے جو شخص ان میں سے کوئی بھی چیز تکبر کے طور پر لٹکائے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر نظر رحمت نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ؛تہ بند کے رکھنے کی جگہ؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٤)
یزید بن ابو سمیہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کے بارے میں جو ارشاد فرمایا ہے،قمیص کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ؛تہ بند کے رکھنے کی جگہ؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٥)
عکرمہ بیان کرتے ہیں:انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے تہبند باندھا ان کے تہبند کا اگلا کنارہ ان کے پاؤں کی پشت کو چھو رہا تھا اور پیچھے کی طرف سے وہ تہبند اٹھا ہوا تھا،میں نے دریافت کیا، آپ اس طرح سے تہبند کیوں باندھتے ہیں؟تو انہوں نے بتایا:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح تہبند باندھے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ؛تہ بند کے رکھنے کی جگہ؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین اور خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب لِبَاسِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے لباس کا بیان؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا سا لباس پہنتا ہے اور ایسی عورت پر لعنت کی ہے جو مرد کا سا لباس پہنتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب لِبَاسِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے لباس کا بیان؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٨)
ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی گئی ایک عورت(مردوں کا مخصوص)جوتا پہن لیتی ہے(اس کا کیا حکم ہوگا؟)تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب لِبَاسِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے لباس کا بیان؛جلد٤،ص٦٠،حدیث نمبر ٤٠٩٩)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے انصار کی خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تعریف کی،ان کی اچھائی بیان کی اور فرمایا جب سورہ نور نازل ہوئی، تو ان خواتین نے اپنے تہبند لیے انہیں چیر کر ان کی(سر پہلے لینے والی)چادریں بنا لیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلاَبِيبِهِنَّ }باب:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تذکرہ" وہ اپنے چادر اگے لٹکا کر رکھیں"(احزاب ٥٩)؛جلد٤،ص٦١،حدیث نمبر ٤١٠٠)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی: "وہ اپنی چادر اپنے اوپر لٹکالے" تو انصار کے خواتین نکلی تو یوں تھا جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوئے ہوں اس کی وجہ وہ چادریں تھیں(جو انہوں نے سر پر لی ہوئی تھیں)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلاَبِيبِهِنَّ }باب:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تذکرہ" وہ اپنے چادر اگے لٹکا کر رکھیں"(احزاب ٥٩)؛جلد٤،ص٦١،حدیث نمبر ٤١٠١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ تعالی ہجرت کرنے والی ابتدائی خواتین پر رحم کرے،جب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: "وہ اپنی چادر اپنے گریبان پر ڈال لیں"(نور ٣١) تو ان خواتین نے اون کی موٹی چادر پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لی(یہاں ایک راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ }"اللہ تعالی کے اس فرمان کا تذکرہ"انہیں چاہیے کہ اپنی چادریں اپنے گریبان پر رکھیں"(نور ٣١)؛جلد٤،ص٦١،حدیث نمبر ٤١٠٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ }"اللہ تعالی کے اس فرمان کا تذکرہ"انہیں چاہیے کہ اپنی چادریں اپنے گریبان پر رکھیں"(نور ٣١)؛جلد٤،ص٦١،حدیث نمبر ٤١٠٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اسماء! جب کوئی لڑکی حیض کی عمر تک پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَا تُبْدِي الْمَرْأَةُ مِنْ زِينَتِهَا؛عورت اپنی زینت اور سنگار میں سے کس قدر ظاہر کر سکتی ہے؟؛جلد٤،ص٦٢،حدیث نمبر ٤١٠٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں پچھنے لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلاَتِهِ؛غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے؛جلد٤،ص٦٢،حدیث نمبر ٤١٠٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلاَتِهِ؛غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے؛جلد٤،ص٦٢،حدیث نمبر ٤١٠٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک ہجڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے ہاں آیا جایا کرتا تھا،لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں عورتوں کی طرف کوئی میلان نہیں ہے، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے ہاں موجود تھا،اور کسی عورت کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو چار بل پڑتے ہیں اور جب جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے ہیں،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ یہ ان چیزوں کو جانتا ہے،یہ تمہارے ہاں نہ آیا کرے لوگوں نے اسے گھروں میں آنے سے روک دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ { غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ }نور٣١)؛جلد٤،ص٦٢،حدیث نمبر ٤١٠٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ { غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ }نور٣١)؛جلد٤،ص٦٢،حدیث نمبر ٤١٠٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہیں،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:"اسے باہر نکال دیا گیا وہ بیداء میں رہتا تھا وہ ہر جمعہ کے دن(شہر میں)آتا تھا اور کھانے کی چیز مانگتا تھا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ { غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ }نور٣١)؛جلد٤،ص٦٣،حدیث نمبر ٤١٠٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ مذکور ہے:عرض کی گئی: یا رسول اللہ!اس طرح تو یہ مر جائے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی کہ وہ ہر ہفتے میں دو مرتبہ آیا کرے اور کھانے کی چیزیں مانگا کرے اور چلا جایا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَوْلِهِ { غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ }نور٣١)؛جلد٤،ص٦٣،حدیث نمبر ٤١١٠)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“ (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» ”خواتین میں سے بیٹھی رہ جانے والی(بوڑھی عورتیں)جو نکاح کی خواہش نہ رکھتی ہوں“ (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ }؛ اللہ تعالی کا یہ فرمان"تم مومن عورتوں سے یہ فرما دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں؛جلد٤،ص٦٣،حدیث نمبر ٤١١١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“ تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھ رہی ہو؟“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا،کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے سر سے چادر تم ان کے پاس اتار سکتی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ }؛ اللہ تعالی کا یہ فرمان"تم مومن عورتوں سے یہ فرما دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں؛جلد٤،ص٦٣،حدیث نمبر ٤١١٢)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص اپنے کسی غلام کی شادی اپنی کنیز کے ساتھ کر دے تو پھر وہ اس کنیز کا ستر نہ دیکھے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ }؛ اللہ تعالی کا یہ فرمان"تم مومن عورتوں سے یہ فرما دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں؛جلد٤،ص٦٤،حدیث نمبر ٤١١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا خادم سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ }؛ اللہ تعالی کا یہ فرمان"تم مومن عورتوں سے یہ فرما دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں؛جلد٤،ص٦٤،حدیث نمبر ٤١١٤)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے وہ اس وقت سر پر چادر لے رہی تھیں،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک مرتبہ بل دو، دو مرتبہ نہیں۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان"ایک مرتبہ بل دو دو مرتبہ نہیں"اس سے مراد یہ ہے کہ تم مردوں کے عمامہ لپیٹنے کی طرح اس کو دو مرتبہ بل نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِخْتِمَارِ؛عورت سر پر اوڑھنی (دوپٹہ) کیسے اوڑھے؟؛جلد٤،ص٦٤،حدیث نمبر ٤١١٥)
حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے“ پھر جب واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یحی بن ایوب نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے راوی کا نام عباس بن عبید اللہ بن عباس بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي لُبْسِ الْقَبَاطِيِّ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے باریک کپڑا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٦٤،حدیث نمبر ٤١١٦)
صفیہ بنت ابو عبید بیان کرتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائے“ ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ الذَّيْلِ؛ عورت کی چادر کا پلو کتنا لمبا ہوگا؛جلد٤،ص٦٥،حدیث نمبر ٤١١٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابن اسحاق اور ایوب بن موسی نے روایت نافع کے حوالے سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ الذَّيْلِ؛ عورت کی چادر کا پلو کتنا لمبا ہوگا؛جلد٤،ص٦٥،حدیث نمبر ٤١١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المومنین کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ چادروں کے پلو ایک بالشت لمبے رکھیں،ان خواتین نے مزید کے اجازت دینے کی درخواست کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید ایک بالشت کی اجازت دے دی وہ خواتین وہ کپڑے ہماری طرف بھجواتی تھی تو ہم ان کے ایک بالشت لمبے دامن رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَدْرِ الذَّيْلِ؛ عورت کی چادر کا پلو کتنا لمبا ہوگا؛جلد٤،ص٦٥،حدیث نمبر ٤١١٩)
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک کنیز جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام ہے“ (نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٥،حدیث نمبر ٤١٢٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے،اس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگوں نے اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کیا؟ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے تاہم اس میں دباغت کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢١)
معمر بیان کرتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں ہر حال میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں امام اوزاعی یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں دباغت کا ذکر نہیں کیا،زبیدی نے اس کا ذکر کیا ہے سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے بھی دباغت کا ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب چمڑے کی دباغت کر لی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢٣)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ مردار کی کھال کی دباغت کے بعد اس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢٤)
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ایک مشکیزہ لٹکایا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا تو لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ یہ مشکیزہ مردار سے بنا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی دباغت اسے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢٥)
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی“ لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ؛مردہ جانور کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٦،حدیث نمبر ٤١٢٦)
عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں جہنیہ کی سرزمین پر ہمارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)تم مردار کے چمڑے یا اس کے پٹھوں کے ذریعے کوئی فائدہ حاصل نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛. باب مَنْ رَوَى أَنْ لاَ يُنْتَفَعَ بِإِهَابِ الْمَيْتَةِ؛مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل؛جلد٤،ص٦٧،حدیث نمبر ٤١٢٧)
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: ”مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب» نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛. باب مَنْ رَوَى أَنْ لاَ يُنْتَفَعَ بِإِهَابِ الْمَيْتَةِ؛مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل؛جلد٤،ص٦٧،حدیث نمبر ٤١٢٨)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو“۔ ابن سیرین کہتے ہیں:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں کوئی الزام عائد کیا نہیں جاسکتا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ابو معتمر کا نام یزید بن طہمان ہے انہوں نے حیرہ میں سکونت اختیار کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ؛چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٧،حدیث نمبر ٤١٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "فرشتے ان لوگوں کے ساتھ سفر نہیں کرتے جن کے درمیان چیتے کی کھال موجود ہو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ؛چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٨،حدیث نمبر ٤١٣٠)
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے مصیبت شمار کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: ”یہ مجھ سے ہیں، اور حسین علی سے ہیں“۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، حضرت معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ؛چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٨،حدیث نمبر ٤١٣١)
ابو ملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں(کو استعمال کرنے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ؛چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان؛جلد٤،ص٦٩،حدیث نمبر ٤١٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا اکثر جوتے پہن کر رکھا کرو کیونکہ آدمی نے جب تک جوتا پہنا ہو وہ سوار کی طرح آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٦٩،حدیث نمبر ٤١٣٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے میں دو پٹیاں(تسمے)ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٦٩،حدیث نمبر ٤١٣٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٦٩،حدیث نمبر ٤١٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے یا تو وہ دونوں پہن لے یا دونوں کو اتار دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٦٩،حدیث نمبر ٤١٣٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ جب تک اسے ٹھیک نہیں کرواتا اس وقت تک صرف ایک جوتا پہن کر نہ چلے اور صرف ایک موزہ پہن کر نہ چلے اور بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں سنت یہ ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنا جوتا اتار لے اور اسے اپنے پہلو میں رکھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب کوئی شخص جوتا پہننے لگے تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب اتارنے لگے تو بائیں سے آغاز کرے دایاں پاؤں پہنتے ہوئے پہلے ہونا چاہیے اور اتارتے ہوئے بعد میں ہونا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٣٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کاموں میں جہاں تک ہو سکے، دائیں طرف آغاز کرنا پسند تھا،کنگھی کرنے میں،وضو کرنے میں،جوتا پہننے میں، مسلم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :مسواک کرنے میں، انہوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کئے،تمام کاموں میں۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں مسواک کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب تم لباس پہنو یا جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے آغاز کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِنْتِعَالِ؛جوتا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٤١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ایک بستر آدمی کے لیے اور ایک اس کی بیوی کے لیے اور ایک مہمان کے لیے ہونا چاہیے،جبکہ چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٤٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں حاضر ہوا،تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن جراح نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:بائیں پہلو کے بل(ٹیک لگائے ہوئے دیکھا) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:اسحاق بن منصور نے اسرائیل کے حوالے سے یہی الفاظ نقل کیے ہیں:بائیں پاؤں کے بل(بیٹھے ہوئے دیکھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ مسافروں کو دیکھا جن کے پالان چمڑے کے تھے،تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا:جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ وہ دیکھے کون سے سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں تو وہ ان لوگوں کو دیکھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧٠،حدیث نمبر ٤١٤٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا:کیا تمہارے گھر میں عمدہ قسم کے بچھانے ہیں؟میں نے عرض کی ہمارے پاس عمدہ قسم کے بچھانے کہاں سے آئیں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہیں مل جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧١،حدیث نمبر ٤١٤٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک تکیہ تھا(یہاں ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:)چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا،جس پر آپ رات کے وقت سوتے تھے (اس کے بعد دونوں راوی یہ الفاظ نقل کرنے میں متفق ہیں)وہ چمڑے سے بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧١،حدیث نمبر ٤١٤٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧١،حدیث نمبر ٤١٤٧)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے:ان کا بچھونا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے سامنے ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْفُرُشِ؛بستر اور بچھونے کا بیان؛جلد٤،ص٧١،حدیث نمبر ٤١٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے راوی بیان کرتے ہیں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب(تمام ازواج کے ہاں تشریف لے جاتے تھے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جاتے تھے)اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟“ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ؛رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص٧٢،حدیث نمبر ٤١٤٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں وہ پردہ نقش و نگار والا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ؛رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان؛جلد٤،ص٧٢،حدیث نمبر ٤١٥٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس بھی گھر میں صلیب کا نشان دیکھتے تھے تو اسے مٹا دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلِيبِ فِي الثَّوْبِ؛کپڑے میں صلیب کی صورت بنی ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٧٢،حدیث نمبر ٤١٥١)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی شخص موجود ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٢،حدیث نمبر ٤١٥٢)
حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا بت موجود ہو“۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: ”اللہ تعالی نے جو رزق ہمیں عطا کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم اسے پتھروں اور اینٹوں کو پہنا دے“ پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٣،حدیث نمبر ٤١٥٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:میں نے کہا اے ام المؤمنین!انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: راوی نے اس کی سند میں سعید بن سیار،جو بنو نجار کے غلام ہیں کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٣،حدیث نمبر ٤١٥٤)
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو" بسر نامی راوی بیان کرتے ہیں پھر زید بیمار ہو گئے،ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، تو ان کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی،تو میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے عزیز عبید اللہ خولانی سے کہا:کیا زید نے پہلے کسی دن تصویروں کے بارے میں حدیث نہیں سنائی تھی؟تو عبید اللہ نے کہا کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اگر کوئی کپڑا نقش و نگار والا ہو تو اس کا حکم مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٣،حدیث نمبر ٤١٥٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بطحا میں موجود تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ خانہ کعبہ میں جائے اور اس سے موجود ہر تصویر کو مٹا دیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٤،حدیث نمبر ٤١٥٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے“ پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ”ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو“ پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے (کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٤،حدیث نمبر ٤١٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا،وہ اصل میں حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہما(جو بچے تھے)کا کتا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الصُّوَرِ؛تصویروں کا بیان؛جلد٤،ص٧٤،حدیث نمبر ٤١٥٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Lebaas
|
Abu Dawood Shareef : کتاب اللباس
|
•