
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(روزانہ باقاعدگی سے)کنگھی کرنے سے منع کیا ہے البتہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن کی جائے(تو حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛جلد٤،ص٧٥،حدیث نمبر ٤١٥٩)
حضرت عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ (مزید) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ فلاں فلاں حدیث ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیب و زینت کا زیادہ سامان جمع کرنے سے منع کیا ہے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛جلد٤،ص٧٥،حدیث نمبر ٤١٦٠)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کی موجودگی میں دنیا(کی آرائش و زیبائش یا زیب و زینت)کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی ایمان کا حصہ ہے،بے شک سادگی ایمان کا حصہ ہے“ اس سے مراد ترک زینت و آرائش ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں:وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛جلد٤،ص٧٥،حدیث نمبر ٤١٦١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شیشی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو لگایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ الطِّيبِ؛خوشبو کا استعمال مستحب ہے؛جلد٤،ص٧٦،حدیث نمبر ٤١٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جس نے بال رکھے ہو اسے ان کی عزت افزائی کرنی چاہیے۔(یعنی انہیں سوار کے رکھنا چاہیے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي إِصْلاَحِ الشَّعْرِ؛بالوں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٧٦،حدیث نمبر ٤١٦٣)
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں:ایک عورت نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مہندی لگانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اس میں حرج کوئی نہیں ہے،تاہم میں اسے ناپسند کرتی ہوں کیونکہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو نا پسند کرتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس عورت کی مراد یہ تھی کہ مہندی کو خضاب کے طور پر سر کے بالوں میں لگانا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان؛جلد٤،ص٧٦،حدیث ٤١٦٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:ہند بنت عتبہ نے عرض کی:اے اللہ کے نبی!آپ مجھ سے بیعت لے لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بیعت اس وقت تک نہ لوں گا جب تک تم اپنی ہتھیلیوں کو صاف نہیں کرتی،کیونکہ یہ درندوں کی ہتھیلیوں کی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان؛جلد٤،ص٧٦،حدیث ٤١٦٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پیچھے کر لیا، اور فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا“ تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی“ یعنی مہندی سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان؛جلد٤،ص٧٧،حدیث ٤١٦٦)
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ استعمال کرنا شروع کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ؛مصنوعی بال لگوانا؛جلد٤،ص٧٧،حدیث ٤١٦٧)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال لگوانے والی اور جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ؛مصنوعی بال لگوانا؛جلد٤،ص٧٧،حدیث ٤١٦٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر لعنت کی ہے، (محمد کی روایت میں ہے) اور بال جوڑنے والیوں پر، (اور عثمان کی روایت میں ہے) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب نامی) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ“ (الحشر: ۷) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ؛مصنوعی بال لگوانا؛جلد٤،ص٧٧،حدیث ٤١٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی، چہرے کے بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے والی اور گودوانے والی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور «متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال (تل) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ؛مصنوعی بال لگوانا؛جلد٤،ص٧٨،حدیث ٤١٧٠)
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں دھاگوں سے بنی ہوئی چوٹی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:اس سے لگتا ہے کہ ان کی یہ رائے ہے کہ ممنوع چیز یہ ہے کہ عورتوں کے بال استعمال کیے جائیں۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ یہ فرماتے تھے دھاگوں سے بنی ہوئی چوٹی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ؛مصنوعی بال لگوانا؛جلد٤،ص٧٨،حدیث ٤١٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جسے خوشبو دی جائے وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اس کی بو عمدہ ہوتی ہے اور یہ وزنی بھی نہیں ہوتی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي رَدِّ الطِّيبِ؛خوشبو کا تحفہ لوٹانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٧٨،حدیث ٤١٧٢)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب کوئی عورت خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ مرد اس کی خوشبو کو محسوس کریں تو وہ عورت ایسی اور ایسی ہوتی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت بات ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَتَطَيَّبُ لِلْخُرُوجِ؛عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٧٨،حدیث ٤١٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے خوشبو آرہی تھی، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر غسل جنابت کی طرح غسل نہ کر لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَتَطَيَّبُ لِلْخُرُوجِ؛عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٧٩،حدیث ٤١٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی ہوئی ہو وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو" یہاں ایک راوی نے لفظ عشاء الاخرۃ نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَتَطَيَّبُ لِلْخُرُوجِ؛عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٧٩،حدیث ٤١٧٥)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق (ایک مرکب خوشبو ہے) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جا کر اسے دھو ڈالو“ میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر (دھبہ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جا کر اسے دھو ڈالو“ میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: ”فرشتے کافر کے جنازہ میں،زعفران لگانے والے شخص کے پاس اور جنبی شخص کے پاس بھلائی کے ساتھ نہیں آتے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٧٩،حدیث ٤١٧٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،جس میں یہ پورا واقعہ مذکور ہے،تاہم پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اور اس میں دھونے کا ذکر ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں:میں نے عمر بن عطاء نامی راوی سے دریافت کیا: کیا وہ لوگ اس وقت احرام کی حالت میں تھے؟ انہوں نے جواب دیا:جی نہیں!وہ مقیم تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٧٧)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اللہ تعالی ایسے شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے جسم پر ذرا سی خلوق(مخصوص قسم کی خوشبو)لگی ہوئی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٧٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع کیا ہے۔ اسماعیل نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس بات سے منع کیا ہے کہ مرد زعفران لگائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٧٩)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:تین قسم کے لوگوں کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے،کافر لاش،خلوق لگانے والا شخص اور جنبی شخص، البتہ اگر وہ وضو کر لے(تو حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٨٠)
حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو اہل مکہ اپنے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے لگے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا کرتے تھے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے جب مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس وقت میرے جسم پر خلوق لگی ہوئی تھی اس وجہ سے آپ نے مجھے چھوا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٨١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر جب کسی شخص پر کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تھے تو اسے مخاطب نہیں کرتے تھے،جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسے یہ ہدایت کر دو کہ وہ اس(نشان کو)اپنے پر سے دھو لے(تو یہ مناسب ہوگا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ؛مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٠،حدیث ٤١٨٢)
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ رنگ کے جوڑے میں،لمبے بالوں والا ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت ہو(محمد بن سلیمان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ کے بال دونوں شانوں سے لگ رہے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے کہ وہ بال آپ کے دونوں شانوں سے لگ رہے تھے اور شعبہ کہتے ہیں: ”وہ آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچ رہے تھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ؛بالوں کا بیان؛جلد٤،ص٨١،حدیث ٤١٨٣)
حضرت براہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بال رکھے ہوئے تھے،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کانوں کی لو تک آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ؛بالوں کا بیان؛جلد٤،ص٨١،حدیث ٤١٨٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال، کانوں کی لو تک آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ؛بالوں کا بیان؛جلد٤،ص٨١،حدیث ٤١٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال، نصف کان تک آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ؛بالوں کا بیان؛جلد٤،ص٨١،حدیث ٤١٨٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال و فرہ سے ذرا سے زیادہ تھے اور جمہ سے ذرا کم تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ؛بالوں کا بیان؛جلد٤،ص٨١،حدیث ٤١٨٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:اہل کتاب کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنے بال سیدھے پیچھے کی طرف لے جایا کرتے تھے اور مشرکین اپنے سر میں مانگ نکالا کرتے تھے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن چیزوں کے بارے میں کوئی باقاعدہ حکم نہیں دیا گیا ہوتا،ان کے بارے میں آپ کو اہل کتاب کی موافقت پسند تھی،تو پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال پیچھے کی طرف لے جایا کرتے تھے پھر آپ نے مانگ نکالنا شروع کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الْفَرْقِ؛بال میں مانگ نکالنے کا بیان؛جلد٤،ص٨٢،حدیث ٤١٨٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنے کا ارادہ کرتی تو میں درمیان میں سے نکالتی تھی اور آپ کے پیشانی کے اوپر والے بالوں کو دونوں آنکھوں کے درمیان کر دیتی تھی(یعنی بالکل درمیان میں مانگ نکالتی تھی) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الْفَرْقِ؛بال میں مانگ نکالنے کا بیان؛جلد٤،ص٨٢،حدیث ٤١٨٩)
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”یہ ٹھیک نہیں ہے،یہ ٹھیک نہیں ہے“ تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛ باب فِي تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ؛لمبے بال رکھنا؛جلد٤،ص٨٢،حدیث ٤١٩٠)
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ کے بالوں کی چار لٹیں تھیں،ان سے مراد یہ ہے وہ گندھے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فی الرجل یعقص شعرہ؛آدمی کا اپنے بال گوندھ لینا؛جلد٤،ص٨٣،حدیث ٤١٩١)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ(کی شہادت کے موقع پر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن مہلت دی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اج کے بعد تم میرے بھائی پر نہ رونا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ،تو ہمیں لایا گیا ہم چڑیا کے بچوں کی طرح تھے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجام کو بلا کر لاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت کی تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فی حلق الراس؛سر منڈوا لینا؛جلد٤،ص٨٣،حدیث ٤١٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛ باب فِي الذُّؤَابَةِ؛چوٹی(زلف)رکھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٣،حدیث ٤١٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛ باب فِي الذُّؤَابَةِ؛چوٹی(زلف)رکھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٣،حدیث ٤١٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛ باب فِي الذُّؤَابَةِ؛چوٹی(زلف)رکھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٣،حدیث ٤١٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میری لمبی زلفیں تھیں، میرے والدہ نے مجھ سے کہا میں انہیں،نہیں کاٹوں گی،(حضرت انس رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان بالوں کو(پیار سے) کھینچتے تھے اور پکڑا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ؛ اس بارے میں رخصت کا بیان؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤١٩٦)
حجاج بن حسان بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو انہوں نے بتایا کہ میری بہن مغیرہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے،وہ بیان کرتی ہیں: تم ان دنوں کم عمر لڑکے تھے،تمہاری دو لٹیں تھیں،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا تھا،اور تمہارے لیے برکت کی دعا کی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا انہیں مونڈ لو یا انہیں چھوٹا کروا لو کیونکہ یہ یہودیوں کا مخصوص طریقہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ؛ اس بارے میں رخصت کا بیان؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤١٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے فطرت پانچ چیزیں ہیں(راوی کو شک ہے،شاید یہ الفاظ ہیں) پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہے،ختنہ کروانا،زیر ناف بال صاف کرنا،بغلوں کے بال اکھیڑنا،ناخن تراشنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي أَخْذِ الشَّارِبِ؛ مونچھیں چھوٹی رکھنا؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤١٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں منڈوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي أَخْذِ الشَّارِبِ؛ مونچھیں چھوٹی رکھنا؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤١٩٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:زیر ناف بال صاف کرنے،ناخن تراشنے،مونچھیں اور بغلوں کے بال اکھڑنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے 40 دن میں ایک مرتبہ کی مدت مقرر کی ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے، اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں ہمارے لیے یہ مدت مقرر کی گئی ہے اور یہی روایت زیادہ درست ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي أَخْذِ الشَّارِبِ؛ مونچھیں چھوٹی رکھنا؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤٢٠٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ہم حج اور عمرہ کے علاوہ داڑھی کو چھوڑ دیتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: استحداد سے مراد زیر ناف بال صاف کرنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي أَخْذِ الشَّارِبِ؛ مونچھیں چھوٹی رکھنا؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤٢٠١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي نَتْفِ الشَّيْبِ؛سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٨٥،حدیث ٤٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: "بے شک یہودی اور عیسائی(بالوں کو) رنگتے نہیں ہیں تو تم ان کے برخلاف کرو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٤،حدیث ٤٢٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا،ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ پھول کی طرح سفید تھے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی چیز کے ذریعے ان کی رنگت تبدیل کر دو البتہ سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٥،حدیث ٤٢٠٤)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس کے ذریعے سفید بالوں کی رنگت تبدیل کی جائے،اس میں سب سے بہتر مہندی اور کتم ہے۔ "کسی چیز کے ذریعے ان کی رنگت تبدیل کر دو البتہ سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٥،حدیث ٤٢٠٥)
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،میں اپنے والد کے ساتھ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں تک آتے تھے،اور ان میں مہندی کی کچھ جھلک تھی،اس وقت آپ نے دو سبز چادر اوڑھی ہوئی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٥،حدیث ٤٢٠٦)
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں:ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ اپنے پشت مجھے دکھائیے،کیونکہ میں ایک طبیب ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طبیب، اللہ تعالی ہے،البتہ تم ایک مہربان شخص ہو، اس کا طبیب وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٥،حدیث ٤٢٠٧)
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارا تاوان ادا نہیں کرے گا (یعنی تمہارے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوگا)راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی مبارک میں مہندی لگائی ہوئی تھی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٦،حدیث ٤٢٠٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے:ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب لگانے کے بارے میں دریافت کیا گیا،تو انہوں نے بتایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا تھا،البتہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خضاب لگایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب فِي الْخِضَابِ؛خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٦،حدیث ٤٢٠٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبتی جوتے استعمال کرتے تھے،آپ اپنی داڑھی پر ورس اور زعفران لگاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي خِضَابِ الصُّفْرَةِ؛پیلے رنگ کے خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٦،حدیث ٤٢١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے“ پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس سے بھی اچھا ہے“ اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ان سب سے اچھا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي خِضَابِ الصُّفْرَةِ؛پیلے رنگ کے خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٦،حدیث ٤٢١١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو سیاہ خضاب استعمال کریں گے،یوں جیسے وہ کبوتر کے سینے ہوتے ہیں،وہ لوگ جنت کی خوشبو نہیں پا سکیں گے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي خِضَابِ الصُّفْرَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي خِضَابِ السَّوَادِ؛کالے خضاب کا بیان؛جلد٤،ص٨٧،حدیث ٤٢١٢)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ”ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ“ پھر فرمایا: ” یہ میرے گھر والے مجھے ان کے بارے میں یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ دنیاوی زندگی میں ہی اپنی نیکیوں کا پھل حاصل کر لے،اے ثوبان!تم فاطمہ کے لیے پتھروں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانت سے بنے ہوئے کنگن خرید لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب التَّرَجُّلِ؛بال سنوارنے کے بارے میں روایت؛باب مَا جَاءَ فِي الاِنْتِفَاعِ بِالْعَاجِ؛ہاتھی کے دانت کا استعمال کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٧،حدیث ٤٢١٣)
Abu Dawood Shareef : Kitabut Tarjjul
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الترجل
|
•