
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پھر اسی مقام پر آپ نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرما دیا ہو،تو جو اسے یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا، اور وہ آپ کے ان اصحاب کو معلوم ہے، اور جب ان میں سے کوئی چیز ظہور پذیر ہو جاتی ہے تو مجھے یاد آ جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا تھا، جیسے کوئی کسی کے غائب ہو جانے پر اس کے چہرہ کو یاد رکھتا ہے اور دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٤،حدیث ٤٢٤٠)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اس امت میں چار فتنے ہوں گے جن کے اخر میں(دنیا)فنا ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٤،حدیث ٤٢٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ظاہر ہوگا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے ساتھی تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر (یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی)، پھر «دھیماء» (اندھیرے) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٤،حدیث ٤٢٤٢)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قسم اللہ کی میں نہیں جانتا کہ میرے اصحاب بھول گئے ہیں؟ یا جان بوجھ کر وہ ایسا ظاہر کرتے ہیں، قسم اللہ کی ایسا نہیں ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے کسی ایسے فتنہ کے سردار کا ذکر چھوڑ دیا ہو جس کے ساتھ تین سویا اس سے زیادہ افراد ہوں، اور اس کا اور اس کے باپ اور اس کے قبیلہ کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا نہ دیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٥،حدیث ٤٢٤٣)
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہو گا جیسے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ (حاکم) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی (اطاعت کر کے) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت قائم ہو گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٥،حدیث ٤٢٤٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں:میں نے دریافت کیا:تلوار کے بعد کیا ہوگا؟آپ نے فرمایا کچھ لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی زبانوں پر بھلائی ہوگی اور دلوں میں فساد ہوگا،اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث نقل کی ہے:اس کے بعد یہ بیان کرتے ہیں۔ قتادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں وہ مرتدین ہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زمانے میں مرتد ہوئے تھے کہ یہ لوگ ظاہری طور پر اصلاح کرتے تھے اور باطنی طور پر ان کے اندر فساد تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٦،حدیث ٤٢٤٥)
نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزمائش بھی ہوگی اور برائی بھی ہوگی“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذیفہ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو“ آپ نے یہ تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هدنة على الدخن» ہو گا اور جماعت ہو گی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہو گا“ میں نے عرض کیا: «هدنة على الدخن» کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسی آزمائش ہوگی جو اندھا کر دے گی،بہرا کر دے گی،اس میں جہنم کی طرف بلانے والے لوگ ہوں گے اے حذیفہ اس وقت اگر تم اس حالت میں مر جاؤ کہ(تم جنگل میں تنہا زندگی بسر کرتے ہوئے)درخت کی جڑ چباتے ہوئے مر جاؤ تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے کہ تم ان میں سے کسی ایک کی پیروی کرو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٦،حدیث ٤٢٤٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے: تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اگر تم اس وقت کسی خلیفہ کو نہ پاؤ تو تم بھاگ جانا یہاں تک کہ تم اس حالت میں مرو کہ تم درخت کی جڑ چبا رہے ہو اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں میں نے عرض کی اس کے بعد کیا ہوگا آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنی گھوڑے کے بچہ ہونے کا انتظار کرے گا تو اس کے ہاں بچہ ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٦،حدیث ٤٢٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی امام سے بیعت کی، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، اور اس سے عہد و اقرار کیا تو اسے چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر کوئی دوسرا امام بن کر اس سے جھگڑنے آئے تو اس دوسرے کی گردن مار دے“۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسے میرے دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، میں نے کہا: یہ آپ کے چچا کے لڑکے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہم سے تاکیداً کہتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں تو انہوں نے کہا: ان کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اور جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اس میں ان کا کہنا نہ مانو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٦،حدیث ٤٢٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اس شر کی وجہ سے عربوں کی بربادی ہے جو قریب آچکا ہے، جو شخص اس سے ہاتھ روک لے گا وہ کامیاب ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٧،حدیث ٤٢٤٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں گھیر لیا جائے گا،یہاں تک کہ ان کی حکومت صرف"سلاح"تک رہ جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٧،حدیث ٤٢٥٠)
زہری بیان کرتے ہیں:"سلاح"خیبر کے قریب ایک جگہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٧،حدیث ٤٢٥١)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی“ یا فرمایا: ”میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے اگرچہ دشمن ان کے خلاف دنیا بھر سے اکٹھا ہوجاے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے پیشواؤں سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس (۳۰) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا (ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٧،حدیث ٤٢٥٢)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالی نے تمہارے لیے تین چیزوں کو جائز قرار دیا ہے(یعنی طے کر دیا ہے)ایک یہ کہ تمہارا نبی تمہارے خلاف دعاے ضرر نہیں کرے گا کہ اس کے نتیجے میں تم سب ہلاکت کا شکار ہو جاؤ اور اہل باطل اہل حق پر مکمل طور پر غالب نہیں آئیں گے اور تم لوگ گمراہی پر متفق نہیں ہو گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٨،حدیث ٤٢٥٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اسلام کی چکی 35 (راوی کو شک ہے شاہد یہ الفاظ ہیں)36 یا 37 سال تک گھومتی رہے گی،اگر یہ لوگ ہلاک ہو گئے تو ہلاکت کے راستے میں ہلاک ہوں گے اور اگر یہ لوگ قائم رہے تو 70 سال تک قائم رہیں گے،راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا کیا جو باقی رہ چکے ہیں یا جو گزر چکے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا جو گزر چکے ہیں۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں: جس نے لفظ "خراش" استعمال کیا اس نے غلطی کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٨،حدیث ٤٢٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:زمانہ سمٹ جائے گا،علم کم ہو جائے گا،فتنے ظاہر ہوں گے،بخل پھیل جائے گا،"ھرج"زیادہ ہو جائے گا۔ عرض کی گئی:یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)اس سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا قتل،قتل۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا؛فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٩٨،حدیث ٤٢٥٥)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے“ عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے“ عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے (اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ (فتنوں سے)بچ سکتا ہو تو بچ جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص٩٩،حدیث ٤٢٥٦)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس حدیث میں کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے میں سے ہوجانا“، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی «لئن بسطت إلى يدك»۔(المائدہ ٢٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص٩٩،حدیث ٤٢٥٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: ”اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے“ اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا، پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص٩٩،حدیث ٤٢٥٨)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنہ ہوگا جس میں آدمی صبح کو مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہو جائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے (ہابیل) کے مانند ہو جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص١٠٠،حدیث ٤٢٥٩)
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے: بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا: میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے (ناحق) قتل کرے، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہو گا، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص١٠٠،حدیث ٤٢٦٠)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ میں حاضر ہوں، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟“(یعنی ایک قبر کی جگہ کے لئے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لئے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔)میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”صبر کو لازم پکڑنا“ یا فرمایا: ”صبر کرنا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت(مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام)کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے“ میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے“ میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا“ میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا (اور قتل ہو جانا) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص١٠١،حدیث ٤٢٦١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آگے آنے والے وقت میں ایسا فتنہ ا رہا ہے جو تاریک رات کے ایک ٹکڑے کی طرح ہوگا،ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا“، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص١٠١،حدیث ٤٢٦٢)
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "بے شک خوش نصیب وہ شخص ہے جو فتنے سے الگ رہے،بے شک خوش نصیب وہ شخص ہے جو فتنے سے الگ رہے،بے شک خوش نصیب وہ شخص ہے جو فتنے سے الگ رہے اور جس کو اس میں مبتلا کیا جائے اور وہ صبر سے کام لے تو اس کے کیا کہنے؟" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے؛جلد٤،ص١٠١،حدیث ٤٢٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے؛عنقریب ایسا فتنہ آئے گا جو بہرہ،گونگا اور اندھا ہوگا جو شخص اس کی طرف جھانکے گا یہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گا،اس میں زبان چلانا یوں ہوگا جیسے تلوار چلانا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي كَفِّ اللِّسَانِ؛فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا؛جلد٤،ص١٠٢،حدیث ٤٢٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عنقریب ایسا فتنہ آئے گا جو عربوں کو گھیرے گا،اس میں قتل ہونے والے لوگ جہنم میں جائیں گے،اس فتنے میں زبان تلوار کے حملے سے زیادہ تیز ہوگی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي كَفِّ اللِّسَانِ؛فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا؛جلد٤،ص١٠٢،حدیث ٤٢٦٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں عبداللہ بن عبدالقدوس نامی راوی کے یہ الفاظ ہیں: زیاد نامی شخص"سیمیں گوش" یعنی پتلے کانوں کا مالک تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي كَفِّ اللِّسَانِ؛فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا؛جلد٤،ص١٠٢،حدیث ٤٢٦٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے؛عنقریب وہ وقت آئے گا جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں ساتھ لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلا جائے گا یا جنگلات میں چلا جائے گا وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب مَا يُرَخَّصُ فِيهِ مِنَ الْبَدَاوَةِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ کے دنوں میں آبادی سے باہر دور چلے جانے کی رخصت کا بیان؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٦٧)
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا (تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں) تو مجھے (راستہ میں)حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے“ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل (کا جہنم میں جانا) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن مقتول کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْقِتَالِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد کے دنوں میں لڑائی کرنا منع ہے؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٦٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کے مضامین مختصر ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْقِتَالِ، فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ و فساد کے دنوں میں لڑائی کرنا منع ہے؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٦٩)
خالد بن دہقان کہتے ہیں کہ جنگ قسطنطنیہ میں ہم مقام ذلقیہ میں تھے، اتنے میں فلسطین کے اشراف و عمائدین میں سے ایک شخص آیا، اس کی اس حیثیت کو لوگ جانتے تھے، اسے ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی کہا جاتا تھا، اس نے آ کر عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کیا، وہ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف تھا، ہم سے خالد نے کہا: تو ہم سے عبداللہ بن زکریا نے حدیث بیان کی عبداللہ بن زکریا نے کہا میں نے ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”ہر گناہ کو اللہ بخش دے گا سوائے اس کے جو مشرک ہو کر مرے یا مومن ہو کر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے“، تو ہانی بن کلثوم نے کہا: میں نے محمود بن ربیع کو بیان کرتے سنا وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے، اور عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”جو کسی مومن کو ناحق قتل کرے، پھر اس پر خوش بھی ہو، تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض“۔ خالد نے ہم سے کہا: پھر ابن ابی زکریا نے مجھ سے بیان کیا وہ ام الدرداء سے روایت کر رہے تھے، اور وہ ابوالدرداء سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مومن ہمیشہ بے غم اور نیک رہتا ہے جب تک وہ کسی حرام قتل کا ارتکاب نہیں کرتا جب وہ حرام قتل کا ارتکاب کر لیتا ہے تو وہ بوجھل اور سست ہو جاتا ہے“۔ ہانی بن کلثوم نے بیان کیا، وہ محمود بن ربیع سے، محمود عبادہ بن صامت سے، عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے ہم مثل روایت کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٧٠)
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس (قتل) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی (ناحق) خون بہانے کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٤،حدیث ٤٢٧١)
حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس جگہ یہ بیان کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں: یہ آیت (ترجمہ)"اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا" ۔(نساء ٩٤) یہ آیت اس آیت کے بعد نازل ہوئی جو سورہ فرقان میں ہے: "اور جو لوگ اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور اس جان کو قتل نہیں کرتے جسے اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہو البتہ حق کے ساتھ (قتل)کرتے ہیں"۔(ص١٠٥) یہ پہلی والی آیت دوسرے کے چھ ماہ بعد نازل ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٤،حدیث ٤٢٧٢)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات» ”سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے“ (الفرقان: ۷۰) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورۃ نساء کی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہو جائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہو گی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو (یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٤،حدیث ٤٢٧٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قصہ میں مروی ہے کہ «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» سے مراد اہل شرک ہیں اور آیت کریمہ «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» ”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ“ (الزمر: ۵۳) نازل ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٥،حدیث ٤٢٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت "اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے"۔(نساء ٩٣) اس آیت کو کسی دوسری آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٥،حدیث ٤٢٧٥)
ابو مجلز اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: "اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کا بدلہ جہنم ہوگا"(نساء ٩٣) ابو مجلز کہتے ہیں یہ اس کا بدلہ ہے اگر اللہ تعالی اس سے درگزر کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٥،حدیث ٤٢٧٦)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے،آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا اور اس کی شدید مذمت کی۔ ہم نے عرض کی:یا شاید لوگوں نے کہا:یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)اگر وہ ہم تک پہنچ جائے اور ہمیں برباد کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ہرگز نہیں۔ تمہارے لیے قتل ہو جانا کافی ہے۔ سعید نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ انہیں قتل کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب مَا يُرْجَى فِي الْقَتْلِ؛ قتل ہونے والے کے لیے کس ثواب کی امید ہے؛جلد٤،ص١٠٥،حدیث ٤٢٧٧)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری امت"امت مرحومہ"ہے اس پر اخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا میں فتنوں،قتلوں اور زلزلوں کی صورت میں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب مَا يُرْجَى فِي الْقَتْلِ؛ قتل ہونے والے کے لیے کس ثواب کی امید ہے؛جلد٤،ص١٠٥،حدیث ٤٢٧٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Fitene Wal Malahim
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الفتن والملاحم
|
•