
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک تم پر 12 خلفاء نہیں آ جائیں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی“ پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٦،حدیث ٤٢٧٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا“ لوگوں نے یہ سن کر بلند آواز میں اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ سب قریش میں سے ہوں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٦،حدیث ٤٢٨٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”پھر قتل و غارت ہو گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٦،حدیث ٤٢٨١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جاے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ لوگ اتفاق کریں گے کہ اور وہ(اللہ تعالی)ان (لوگوں)میں مجھ سے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے)میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجے گا اس کا نام میرے نام جیسا ہوگا، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے“۔ سفیان کی روایت میں ہے: ”دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٦،حدیث ٤٢٨٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہے اگر زمانہ ختم ہونے میں صرف ایک دن رہ جائے تو اللہ تعالی میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجے گا جو زمین کو عدل سے یوں بھر دے گا جیسے پہلے وہ ظلم سے بھرے ہوئی تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٦،حدیث ٤٢٨٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔ عبداللہ بن جعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے استاد ابو الملیح کو سنا ہے وہ علی بن نفیل نامی راوی کی تعریف کر رہے تھے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٧،حدیث ٤٢٨٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مہدی مجھ سے ہوگا اور وہ روشن پیشانی اور اونچی ناک کا مالک ہوگا اور زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا جیسے پہلے ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی وہ سات برس تک حکومت کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٧،حدیث ٤٢٨٥)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام اور عراق کے بڑے بڑے لوگ اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام کو پوری دنیا میں پھیلا دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض نے ہشام سے ”نو سال“ کی روایت کی ہے اور بعض نے ”سات“ کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٧،حدیث ٤٢٨٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ قتادہ سے مروی ہے اس میں ”نو سال“ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ نے ہشام سے ”نو سال کی“ روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٨،حدیث ٤٢٨٧)
عبداللہ بن حارث نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی ہے تاہم معاذ نامی راوی کی نقل کردہ حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٨،حدیث ٤٢٨٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جس میں زمین میں دھنسائے جانے والے لوگوں کا قصہ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اس شخص کا کیا انجام ہوگا جو زبردستی ساتھ لایا گیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سب کو دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن انہیں ان کی نیت کے مطابق زندہ کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٨،حدیث ٤٢٨٩)
ابواسحاق کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا: ”یہ میرا بیٹا سردار ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا، اور اخلاق میں ان کے مشابہ ہو گا البتہ شکل و صورت میں مشابہ نہ ہو گا“ پھر انہوں نے «سيملأ الأرض عدلاً» کا واقعہ ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَهْدِيّ؛مہدی کا بیان؛جلد٤،ص١٠٨،حدیث ٤٢٩٠)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Mehdi
|
Abu Dawood Shareef : کتاب المہدی
|
•