
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی،آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا کافر ہوگئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےمجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں،لہٰذا جس نےلا إله إلا الله کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی سوائے حق اسلام کے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم!میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق کرے گا،اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے،قسم اللہ کی،یہ لوگ جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم!اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے،اس میں بعض نے عناقاکی جگہ عقالا کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں عناقا کا لفظ ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں شعیب بن ابی حمزہ،معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے"لو منعوني عناقا"نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔اس میں بھی عناقا کا لفظ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛ترجمہ؛زکاۃ کا بیان؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٦)
اسی سند سے زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہااس(اسلام)کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں عقالا کا لفظ آیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛جلد٢؛ص٩٤؛حدیث نمبر؛١٥٥٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہےپانچ اوقیہ سے کم(چاندی)میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق سے کم(غلے اور پھلوں)میں زکاۃ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجب فیہ الزکاۃ؛جلد٢؛ص٩٤؛حدیث نمبر؛١٥٥٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ مہر بند صاع کا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں ابوالبختری کا سماع ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجب فیہ الزکاۃ؛جلد٢؛ص٩٤؛حدیث نمبر؛١٥٥٩)
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجب فیہ الزکاۃ؛جلد٢؛ص٩٤؛حدیث نمبر؛١٥٦٠)
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا ابونجید!آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی،عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہوگئے،اور اس شخص سے یوں گویا ہوئےکیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم(زکاۃ)ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟اس نے کہا نہیں، آپ نے پوچھاپھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے،اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجب فیہ الزکاۃ؛جلد٢؛ص٩٤؛حدیث نمبر؛١٥٦١)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے امابعد!کہا پھر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب العروض إذا کانت للتجارۃ،ھل فیھا من زکاۃ؛جلد٢؛ص٩٥؛حدیث نمبر؛١٥٦٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی،اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھاکیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟اس نے کہا نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور بولی یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الکنز ما ھو؟وزکاۃ الحلی؛جلد٢؛ص٩٥؛حدیث نمبر؛١٥٦٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں میں سونے کے اوضاح پہنا کرتی تھی،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا یہ کنز ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو مال اتنا ہوجائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کردی جائے وہ کنز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الکنز ما ھو؟وزکاۃ الحلی؛جلد٢؛ص٩٥؛حدیث نمبر؛١٥٦٤)
حضرت عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے،وہ کہنے لگیں میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا اے عائشہ!یہ کیا ہے؟میں نے عرض کیا میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟میں نے کہا نہیں،یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الکنز ما ھو؟وزکاۃ الحلی؛جلد٢؛ص٩٥؛حدیث نمبر؛١٥٦٥)
اسی سند سے عمر بن یعلیٰ(عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ)سے حدیث نمبر ١٥٦٥ کی مثل مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟انہوں نے کہا تم اسے دوسرے میں ملا لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الکنز ما ھو؟وزکاۃ الحلی؛جلد٢؛ص٩٦؛حدیث نمبر؛١٥٦٦)
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی،وہ کہتے تھے یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی،جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کردی تھی،اس میں یہ عبارت لکھی تھی"یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے،لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے،وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے،وہ نہ دے پچیس(٢٥)سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے،جب پچیس اونٹ پورے ہوجائیں تو پینتیس(٣٥)تک میں ایک بنت مخاض ہے،اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیدے،اور جب چھتیس (٣٦)اونٹ ہوجائیں تو پینتالیس(٤٥)تک میں ایک بنت لبون ہے،جب چھیالیس(٤٦)اونٹ پورے ہوجائیں تو ساٹھ(٦٠)تک میں ایک حقہ واجب ہے،اور جب اکسٹھ(٦١)اونٹ ہوجائیں تو پچہتر (٧٥)تک میں ایک جذعہ واجب ہوگی، جب چھہتر(٧٦)اونٹ ہوجائیں تو نوے (٩٠)تک میں دو بنت لبون دینا ہوں گی، جب اکیانوے (٩١)ہوجائیں تو ایک سو بیس(١٢٠)تک دو حقہ اور جب ایک سو بیس(١٢٠)سے زائد ہوں تو ہر چالیس(٤٠)میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس(٥٠)میں ایک حقہ دینا ہوگا۔اگر وہ اونٹ جو زکاۃ میں ادا کرنے کے لیے مطلوب ہے،نہ ہو،مثلاً کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اسے جذعہ دینا ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو حقہ ہی لے لی جائے گی،اور ساتھ ساتھ دو بکریاں،یا بیس درہم بھی دیدے۔یا اسی طرح کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی قبول کرلی جائے گی،البتہ اب اسے عامل(زکاۃ وصول کرنے والا)بیس درہم یا دو بکریاں لوٹائے گا،اسی طرح سے کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ کے بجائے بنت لبون ہوں تو بنت لبون ہی اس سے قبول کرلی جائے گی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں موسیٰ سے حسب منشاء اس عبارت سے"ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له، أو عشرين درهمًا سے لے کر ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده إلا حقة فإنها تقبل منه" تک اچھی ضبط نہ کرسکا، پھر آگے مجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی اگر اسے میسر ہو تو اس سے دو بکریاں یا بیس درہم واپس لے لیں گے،اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں،جن میں بنت لبون واجب ہوتا ہو اور بنت لبون کے بجائے اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے قبول کرلیا جائے گا اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں جن میں بنت لبون واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس بنت مخاض کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس سے بنت مخاض لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم اور لیے جائیں گے،جس کے اوپر بنت مخاض واجب ہوتا ہو اور بنت مخاض کے بجائے اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو تو وہی اس سے قبول کرلیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز واپس نہیں کرنی پڑے گی، اگر کسی کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دیدے۔ اگر چالیس(٤٠)بکریاں چرنے والی ہوں تو ان میں ایک سو بیس (١٢٠)تک ایک بکری دینی ہوگی، جب ایک سو اکیس(١٢١)ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں دینی ہوں گی، جب دو سو سے زیادہ ہوجائیں تو تین سو(٣٠٠)تک تین بکریاں دینی ہوں گی،جب تین سو سے زیادہ ہوں تو پھر ہر سینکڑے پر ایک بکری دینی ہوگی، زکاۃ میں بوڑھی عیب دار بکری اور نر بکرا نہیں لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مصلحتاً زکاۃ وصول کرنے والے کو نر بکرا لینا منظور ہو۔ اسی طرح زکاۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ جمع مال متفرق کیا جائے گا اور جو نصاب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو وہ ایک دوسرے پر برابر کا حصہ لگا کرلیں گےاگر چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ مالک چا ہے تو اپنی مرضی سے کچھ دیدے،اور چاندی میں چالیسواں حصہ دیا جائے گا البتہ اگر وہ صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں سوائے اس کے کہ مالک کچھ دینا چاہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص٩٦؛حدیث نمبر؛١٥٦٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی کتاب لکھی،لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا،اس کتاب میں یہ تھاپانچ(٥)اونٹ میں ایک(١)بکری ہے، دس(١٠)اونٹ میں دو(٢)بکریاں، پندرہ(١٥)اونٹ میں تین (٣)بکریاں،اور بیس(٢٠)میں چار(٤) بکریاں ہیں،پھر پچیس(٢٥)سے پینتیس (٣٥)تک میں ایک بنت مخاض ہے،پینتیس (٣٥)سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس(٤٥) تک ایک بنت لبون ہے،جب پینتالیس(٤٥) سے زیادہ ہوجائے تو ساٹھ (٦٠)تک ایک حقہ ہے،جب ساٹھ(٦٠)سے زیادہ ہوجائے تو پچہتر(٧٥)تک ایک جذعہ ہے،جب پچہتر(٧٥)سے زیادہ ہوجائے تو نوے (٩٠) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے(٩٠)سے زیادہ ہوجائیں تو ایک سو بیس(١٢٠)تک دو حقے ہیں،اور جب اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس(٥٠)پر ایک حقہ اور ہر چالیس(٤٠)پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس(٤٠)سے لے کر ایک سو بیس(١٢٠)بکریوں تک ایک(١)بکری واجب ہوگی،اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو دو سو(٢٠٠)تک دو(٢)بکریاں ہیں،اس سے زیادہ ہوجائیں تو تین سو(٣٠٠)تک تین(٣)بکریاں ہیں،اگر اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر سو(١٠٠) بکری پر ایک(١) بکری ہوگی،اور جو سو(١٠٠)سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں،زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کرلیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا ۔ زہری کہتے ہیں جب مصدق(زکاۃ وصول کرنے والا)آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃالسائمۃ ؛جلد٢؛ص٩٨؛حدیث نمبر؛١٥٦٨)
محمد بن یزید واسطی کہتے ہیں ہمیں سفیان بن حسین نے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے اس میں ہےاگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون واجب ہوگا،اور انہوں نے زہری کے کلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص٩٩؛حدیث نمبر؛١٥٦٩)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں یہ نقل ہے اس کتاب کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے تعلق سے لکھی تھی اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی۔ابن شہاب زہری کہتے ہیں اسے مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے پڑھایا تو میں نے اسے اسی طرح یاد کرلیا جیسے وہ تھی،اور یہی وہ نسخہ ہے جسے عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ بن عمر سے نقل کروایا تھا،پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہاجب ایک سو اکیس(١٢١)اونٹ ہوجائیں تو ان میں ایک سو انتیس(١٢٩)تک تین(٣)بنت لبون واجب ہیں،جب ایک سو تیس(١٣٠) ہوجائیں تو ایک سو انتالیس(١٣٩)تک میں دو(٢)بنت لبون اور ایک(١)حقہ ہیں،جب ایک سو چالیس(١٤٠)ہوجائیں تو ایک سو انچاس(١٤٩)تک دو(٢)حقہ اور ایک(١) بنت لبون ہیں،جب ایک سو پچاس(١٥٠) ہوجائیں تو ایک سو انسٹھ(١٥٩)تک تین (٣)حقہ ہیں،جب ایک سو ساٹھ (١٦٠) ہوجائیں تو ایک سو انہتر(١٦٩)تک چار (٤)بنت لبون ہیں،جب ایک سو ستر (١٧٠)ہوجائیں تو ایک سو اناسی (١٧٩) تک تین (٣) بنت لبون اور ایک(١)حقہ ہیں، جب ایک سو اسی(١٨٠)ہوجائیں تو ایک سو نو اسی(١٨٩)تک دو(٢)حقہ اور دو (٢)بنت لبون ہیں، جب ایک سو نوے(١٩٠)ہوجائیں تو ایک سو ننانوے (١٩٩)تک تین(٣)حقہ اور ایک(١)بنت لبون ہیں،جب دو سو(٢٠٠)ہوجائیں تو چار(٤) حقے یا پانچ(٥)بنت لبون،ان میں سے جو بھی پائے جائیں،لے لیے جائیں گے۔اور ان بکریوں کے بارے میں جو چرائی جاتی ہوں، اسی طرح بیان کیا جیسے سفیان بن حصین کی روایت میں گزرا ہے،مگر اس میں یہ بھی ہے کہ زکاۃ میں بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی،اور نہ ہی غیر خصی(نر)لیا جائے گا سوائے اس کے کہ زکاۃ وصول کرنے والا خود چاہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص٩٩؛حدیث نمبر؛١٥٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول"جدا جدا"مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا کا مطلب یہ ہے مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں،جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کردیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے،اکٹھا مال جدا نہ کئے جانےکا مطلب یہ ہےدو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں(دونوں کی ملا کر دو سو دو )تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں،لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کرلیتے ہیں،اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے،یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص٩٩؛حدیث نمبر؛١٥٧١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(زہیر کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے)،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےچالیسواں حصہ نکالو،ہر چالیس(٤٠)درہم میں ایک(١)درہم،اور جب تک دو سو(٢٠٠) درہم پورے نہ ہوں تم پر کچھ لازم نہیں آتا، جب دو سو(٢٠٠)درہم پورے ہوں تو ان میں پانچ (٥)درہم زکاۃ کے نکالو،پھر جتنے زیادہ ہوں اسی حساب سے ان کی زکاۃ نکالو، بکریوں میں جب چالیس(٤٠) ہوں تو ایک(١) بکری ہے،اگر انتالیس(٣٩)ہوں تو ان میں کچھ لازم نہیں،پھر بکریوں کی زکاۃ اسی طرح تفصیل سے بیان کی جو زہری کی روایت میں ہے۔گائے بیلوں میں یہ ہے کہ ہر تیس(٣٠)گائے یا بیل پر ایک سالہ گائے دینی ہوگی اور ہر چا لیس(٤٠)میں دو سالہ گائے دینی ہوگی، باربرداری والے گائے بیلوں میں کچھ لازم نہیں ہے، اونٹوں کے بارے میں زکاۃ کی وہی تفصیل اسی طرح بیان کی جو زہری کی روایت میں گزری ہے، البتہ اتنے فرق کے ساتھ کہ پچیس(٢٥)اونٹوں میں پانچ (٥)بکریاں ہوں گی، ایک بھی زیادہ ہونے یعنی چھبیس(٢٦)ہوجانے پر پینتیس (٣٥)تک ایک(١)بنت مخاض ہوگی، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر ہوگا، اور جب چھتیس(٣٦)ہوجائیں تو پینتالیس (٤٥)تک ایک(١)بنت لبون ہے، جب چھیالیس (٤٦)ہوجائیں تو ساٹھ(٦٠) تک ایک(١)حقہ ہے جو نر اونٹ کے لائق ہوجاتی ہے ،اس کے بعد اسی طرح بیان کیا ہے جیسے زہری نے بیان کیا یہاں تک کہ جب اکیانوے(٩١)ہوجائیں تو ایک سو بیس(١٢٠)تک دو(٢)حقہ ہوں گی جو جفتی کے لائق ہوں،جب اس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس(٥٠)پر ایک(١)حقہ دینا ہوگا،زکاۃ کے خوف سے نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے اور نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے،اسی طرح نہ کوئی بوڑھا جانور قابل قبول ہوگا اور نہ عیب دار اور نہ ہی نر، سوائے اس کے کہ مصدق کی چاہت ہو۔ (زمین سے ہونے والی)،پیداوار کے سلسلے میں کہا کہ نہر یا بارش کے پانی کی سینچائی سے جو پیداوار ہوئی ہو،اس میں دسواں حصہ لازم ہے اور جو پیداوار رہٹ سے پانی کھینچ کر کی گئی ہو،اس میں بیسواں حصہ لیا جائے گا۔عاصم اور حارث کی ایک روایت میں ہے کہ زکاۃ ہر سال لی جائے گی۔زہیر کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ہر سال ایک بار کہا۔عاصم کی روایت میں ہے جب بنت مخاض اور ابن لبون بھی نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دینی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص٩٩؛حدیث نمبر؛١٥٧٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ابتدائی کچھ حصہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تمہارے پاس دو سو (٢٠٠)درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ(٥)درہم زکاۃ ہوگی،اور سونا جب تک بیس(٢٠)دینار نہ ہو اس میں تم پر زکاۃ نہیں،جب بیس (٢٠)دینار ہوجائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکاۃ ہے،پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکاۃ ہوگی(یعنی چالیسواں حصہ) راوی نے کہا مجھے یاد نہیں کہ "فبحساب ذلك"علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا اسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کیا ہے؟اور کسی بھی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے،مگر جریر نے کہا ہے کہ ابن وہب اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا اضافہ کرتے ہیں کسی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک اس پر سال نہ گزر جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٠؛حدیث نمبر؛١٥٧٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے گھوڑا،غلام اور لونڈی کی زکاۃ معاف کردی ہے لہٰذا تم چاندی کی زکاۃ دو ،ہر چالیس(٤٠)درہم پہ ایک(١)درہم،ایک سو نوے(١٩٠)درہم میں کوئی زکاۃ نہیں،جب دو سو(٢٠٠)درہم پورے ہوجائیں تو ان میں پانچ(٥)درہم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث اعمش نے ابواسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوعوانہ نے کی ہے اور اسے شیبان ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق،حارث سے حارث نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں نفیلی کی حدیث شعبہ و سفیان اور ان کے علاوہ لوگوں نے ابواسحاق سے ابواسحاق نے عاصم سے عاصم نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے،لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوعاً کے بجائے علی رضی اللہ عنہ پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠١؛حدیث نمبر؛١٥٧٤)
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچرنے والے اونٹوں میں چالیس(٤٠)میں ایک(١)بنت لبون ہے،(زکاۃ بچانے کے خیال سے)اونٹ اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا،اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کرلیں گے،اور (زکاۃ روکنے کی سزا میں)اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠١؛حدیث نمبر؛١٥٧٥)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس(٣٠)پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں،اور چالیس (٤٠) پر دو سالہ گائے،اور ہر بالغ مرد سے(جو کافر ہو)ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں(بطور جزیہ)لیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠١؛حدیث نمبر؛١٥٧٦)
اسی سند سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٥٧٦کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٢؛حدیث نمبر؛١٥٧٧)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا،پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا،لیکن اس میں یہ کپڑے یمن میں بنتے تھےکا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ راوی کی۔ (یعنی)محتلمًا کا ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسے جریر، یعلیٰ،معمر، شعبہ،ابو عوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے،انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے،یعلیٰ اور معمر نے اسی کے مثل اسے معاذ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٢؛حدیث نمبر؛١٥٧٨)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود گیا،یا یوں کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محصل کے ساتھ گیا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کی کتاب میں لکھا تھاہم زکاۃ میں دودھ والی بکری یا دودھ پیتا بچہ نہ لیں،نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق اس وقت آتا جب بکریاں پانی پر جاتیں اور وہ کہتا اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو،ایک شخص نے اپنا کو بڑے کوہان والا اونٹ کو دینا چاہا تو مصدق نے اسے لینے سے انکار کردیا،اس شخص نے کہا نہیں،میری خوشی یہی ہے کہ تو میرا بہتر سے بہتر اونٹ لے،مصدق نے پھر لینے سے انکار کردیا،اب اس نے تھوڑے کم درجے کا اونٹ کھینچا،مصدق نے اس کے لینے سے بھی انکار کردیا،اس نے اور کم درجے کا اونٹ کھینچا تو مصدق نے اسے لے لیا اور کہامیں لے لیتا ہوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر غصہ نہ ہوں اور آپ مجھ سے کہیں تو نے ایک شخص کا بہترین اونٹ لے لیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر اس میں لا تفرق کی بجائے لا يفرق ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٢؛حدیث نمبر؛١٥٧٩)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھازکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے،اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٢؛حدیث نمبر؛١٥٨٠)
مسلم بن ثفنہ یشکری کہتے ہیں نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا،میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چناچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا،جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے بھتیجے ! تم کس قسم کے جانور لو گے؟میں نے کہا ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا بھتیجے!میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا،ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں،تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو،میں نے کہا مجھے کیا دینا ہوگا؟انہوں نے کہا ایک بکری،میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا،جس کی جگہ مجھے معلوم تھی،وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی،میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا یہ بکری پیٹ والی (حاملہ)ہے،ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا تم کیا لو گے؟انہوں نے کہا ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہوگئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہوگئی ہو،میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا،اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہااسے ہم نے لے لیا،پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کرلیے چلے گئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے،انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٢؛حدیث نمبر؛١٥٨١)
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہےاس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ شافع وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے،انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں،روایت کی ہے،وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گاجو صرف اللہ کی عبادت کرے،"لا إله إلا الله"کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے،اور زکاۃ میں بوڑھا،خارشتی،بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے،اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٣؛حدیث نمبر؛١٥٨٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا،میں ایک شخص کے پاس سے گزرا،جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی،میں نے اس سے کہا ایک بنت مخاض دو،یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولابنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ(اس پر) سواری کی جاسکے،یہ لو ایک اونٹنی جوان،بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں،البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے،اب اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کردیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی،لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اللہ کے نبی!آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا،قسم اللہ کی!اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے،میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے،لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کردیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، یا رسول اللہ!اسے لے لیجئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے،لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کرلیں گے،وہ شخص بولا اے اللہ کے رسول!اسے لے لیجئے،یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٣؛حدیث نمبر؛١٥٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو،ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں،اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی،پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٤؛حدیث نمبر؛١٥٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا،زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٨٥)
حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے(ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا)وہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں،کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپالیا کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب رضا المصدق؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٨٦)
اس سند سے ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہایا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب رضا المصدق؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٨٧)
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے،جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں،اسے لینے دو،اگر انصاف کریں تو فائدہ انہیں کو ہوگا اور اگر ظلم کرے تو ان کا وبال انہیں پر ہوگا لہٰذا تم ان کو خوش رکھو،اس لیے کہ تمہاری زکوٰۃ اس وقت پوری ہوگی جب وہ خوش ہو اور انہیں چاہیے کہ وہ تمہارے حق میں دعا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب رضا المصدق؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٨٨)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے مصدقین کو راضی کرو، انہوں نے پوچھا اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں،یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاتم اپنے مصدقین کو راضی کرو،عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہےاگرچہ وہ تم پر ظلم کریں۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا،مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب رضا المصدق؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٨٩)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد(ابواوفی) اصحاب شجرہ میں سے تھے،جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے یا اللہ!آل فلاں پر رحمت نازل فرما،میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ!ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب دعاء المصدق لاھل الصدقۃ؛جلد٢؛ص١٠٥؛حدیث نمبر؛١٥٩٠)
ابوداؤد کہتے ہیں میں نے اونٹوں کی عمروں کی یہ تفصیل ریاشی اور ابوحاتم وغیرہ سے سنا ہے،اور نضر بن مشمیل اور ابوعبید کی کتاب سے حاصل کی ہے،اور بعض باتیں ان میں سے کسی ایک ہی نے ذکر کی ہیں،ان لوگوں کا کہنا ہے اونٹ کا بچہ(جب پیدا ہو)حوار کہلاتا ہے۔جب دودھ چھوڑے تو اسے فصیل کہتے ہیں۔ جب ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگ جائے تو دوسرے سال کے پورا ہونے تک اسے بنت مخاض کہتے ہیں۔ جب تیسرے میں داخل ہوجائے تو اسے بنت لبون کہتے ہیں۔جب تین سال پورے کرے تو چار برس پورے ہونے تک اسے حِق یا حقہ کہتے ہیں کیونکہ وہ سواری اور جفتی کے لائق ہوجاتی ہے،اور اونٹنی (مادہ)اس عمر میں حاملہ ہوجاتی ہے، لیکن نر جوان نہیں ہوتا،جب تک دگنی عمر(چھ برس)کا نہ ہوجائے،حقہ کو طروقۃالفحل بھی کہتے ہیں،اس لیے کہ نر اس پر سوار ہوتا ہے۔جب پانچواں برس لگے تو پانچ برس پورے ہونے تک جذعہ کہلاتا ہے۔جب چھٹا برس لگے اور وہ سامنے کے دانت گراوے تو چھ برس پورے ہونے تک وہ ثنی ہے۔جب ساتواں برس لگے تو سات برس پورے ہونے تک نر کو رباعی اور مادہ کو رباعیہ کہتے ہیں۔ جب آٹھواں برس لگے اور چھٹا دانت گرا دے تو آٹھ برس پورے ہونے تک اسے سدیس یا سدس کہتے ہیں۔جب وہ نویں برس میں لگ جائے تو اسے دسواں برس شروع ہونے تک بازل کہتے ہیں، اس لیے کہ اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں، کہا جاتا ہے بزل نابه یعنی اس کے دانت نکل آئے۔اور دسواں برس لگ جائے تو وہ مخلف ہے،اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں،البتہ یوں کہتے ہیں ایک سال کا بازل،دو سال کا بازل،ایک سال کا مخلف، دو سال کا مخلف اور تین سال کا مخلف،یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا ہے۔ خلفہ حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ابوحاتم نے کہا جذوعہ ایک مدت کا نام ہے کسی خاص دانت کا نام نہیں،دانتوں کی فصل سہیل تارے کے نکلنے پر بدلتی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہم کو ریاشی نے شعر سنائے(جن کے معنی ہیں)جب رات کے اخیر میں سہیل(ستارہ)نکلا تو ابن لبون حِق ہوگیا اور حِق جذع ہوگیا کوئی دانت نہ رہا سوائے ہبع کے۔ہبع وہ بچہ ہے جو سہیل کے طلوع کے وقت میں پیدا نہ ہو،بلکہ کسی اور وقت میں پیدا ہو، اس کی عمر کا حساب سہیل سے نہیں ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی زکاۃ السائمۃ؛جلد٢؛ص١٠٧) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہ جلب صحیح ہے نہ جنب لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی۔ (جلب زکاۃ دینے والا اپنے جانور کھینچ کر عامل کے پاس لے آئے،اور جنب زکاۃ دینے والا اپنے جانور دور لے کر چلا جائے تاکہ عامل کو زکاۃ لینے کے لئے وہاں جانا پڑے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب این تصدق الاموال؛جلد٢؛ص١٠٧؛حدیث نمبر؛١٥٩١)
محمد بن اسحاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان"لا جلب ولا جنب" کی تفسیر میں مروی ہے کہ"لا جلب"کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کرلی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں،اور جنب فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے وہ کہتے ہیں جنب یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب این تصدق الاموال؛جلد٢؛ص١٠٧؛حدیث نمبر؛١٥٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا،پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الرجل یبتاع صدقتہ؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاگھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں،البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الرقیق؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامسلمان پر اس کے غلام، لونڈی اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الرقیق؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کھیت کو آسمان یا دریا یا چشمے کا پانی سینچے یا زمین کی تری پہنچے،اس میں سے پیداوار کا دسواں حصہ لیا جائے گا اور جس کھیتی کی سینچائی رہٹ اور جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو،اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٧)
وکیع کہتے ہیں بعل سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے(بارش)اگتی ہو،ابن اسود کہتے ہیں یحییٰ(یعنی ابن آدم)کہتے ہیں میں نے ابو ایاس اسدی سے بعل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا بعل وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو،نضر بن شمیل کہتے ہیں بعل بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٨؛حدیث نمبر؛١٥٩٨)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا غلہ میں سے غلہ لو،بکریوں میں سے بکری،اونٹوں میں سے اونٹ اور گایوں میں سے گائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے مصر میں ایک ککڑی کو بالشت سے ناپا تو وہ تیرہ بالشت کی تھی اور ایک سنترہ دیکھا جو ایک اونٹ پر لدا ہوا تھا،اس کے دو ٹکڑے کاٹ کر دو بوجھ کے مثل کردیئے گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٩؛حدیث نمبر؛١٥٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر (دسواں حصہ)لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا،جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا،وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں(جواب میں)لکھااگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں،جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ،تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں،جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٩؛حدیث نمبر؛١٦٠٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے،پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے،اور مزید کہتے ہیں تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٩؛حدیث نمبر؛١٦٠١)
اس سند سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے اس میں"إن شبابة بطن من فهم"کے بجائے"إن بطنا من فهم" ہے اور"من کل عشر قرب قربة"کے بجائے من"عشر قرب قربة"اور"لهم واديهم"کے بجائے" واديين لهم"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الزرع؛جلد٢؛ص١٠٩؛حدیث نمبر؛١٦٠٢)
حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا جیسے درخت پر کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکاۃ اس وقت لی جائے جب وہ خشک ہوجائیں جیسے کھجور کی زکاۃ سوکھنے پر لی جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی خرص العنب؛جلد٢؛ص١١٠؛حدیث نمبر؛١٦٠٣)
ابن شہاب سے اسی سند سے حدیث نمبر ١٦٠٣ کے مثل مروی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی خرص العنب؛جلد٢؛ص١١٠؛حدیث نمبر؛١٦٠٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے،انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کرلو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا،اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الخرص؛جلد٢؛ص١١٠؛حدیث نمبر؛١٦٠٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خیبر کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتےتو وہ کھجور کو اس وقت اندازہ لگاتے جب وہ پکنے کے قریب ہوجاتی قبل اس کے کہ وہ کھائی جاسکے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب متی یخرص التمر؛جلد٢؛ص١١٠؛حدیث نمبر؛١٦٠٦)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے"جعرور"اور"لون الحبیق"کو زکاۃ میں لینے سے منع فرمایا،زہری کہتے ہیں یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما لایجوز من الثمرۃفی الصدقۃ؛جلد٢؛ص١١٠؛حدیث نمبر؛١٦٠٧)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے،آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی،ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایااس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا،پھر فرمایایہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز حشف(خراب قسم کی کھجور)کھائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما لایجوز من الثمرۃفی الصدقۃ؛جلد٢؛ص١١١؛حدیث نمبر؛١٦٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے،لہٰذا جو اسے (عید کی)نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١١؛حدیث نمبر؛١٦٠٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے،راوی کہتے ہیں چناچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب متی تودی؛جلد٢؛ص١١١؛حدیث نمبر؛١٦١٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر(فرض)ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٢؛حدیث نمبر؛١٦١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا،پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی،اس میں"والصغير والکبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة"ہر چھوٹے اور بڑے پر(صدقہ فطر واجب ہے)اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کردینے کا حکم دیا)کا اضافہ کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں على كل مسلم کے الفاظ ہیں(یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے) اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں من المسلمين کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں" من المسلمين"کا لفظ نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٢؛حدیث نمبر؛١٦١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں"والذکر والأنثى" بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے"ذكر أو أنثى"کے الفاظ(نکرہ کے ساتھ)ذکر کئے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٢؛حدیث نمبر؛١٦١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو،یا انگور نکالتے تھے،جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع(صدقہ فطر)مقرر کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٢؛حدیث نمبر؛١٦١٤)
حضرت نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کرلیا،عبداللہ(ایک صاع)کھجور ہی دیا کرتے تھے،ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہوگیا تو انہوں نے جو دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٣؛حدیث نمبر؛١٦١٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے،ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے،آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے،پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں،ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں،پھر لوگوں نے یہی اختیار کرلیا،اور ابوسعید نے کہا لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے،ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے،عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے أو صاعًا من حنطة بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٣؛حدیث نمبر؛١٦١٦)
اس سند سے اسماعیل(اسماعیل ابن علیہ)سے یہی حدیث(نمبر ١٦١٦ کے اخیر میں مذکور سند سے)مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے،ثوری نے زید بن اسلم سے،زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے نصف صاع من بُرٍّ نقل کیا ہے،لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٣؛حدیث نمبر؛١٦١٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا،ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور،یا جو،یا پنیر،یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے یا ایک صاع آٹے کا،حامد کہتے ہیں لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی،تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یودی فی صدقۃ الفطر؛جلد٢؛ص١١٣؛حدیث نمبر؛١٦١٨)
حضرت عبداللہ بن ابوصعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے(ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع)چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام،مرد ہوں یا عورت،رہا تم میں جو غنی ہے،اللہ اسے پاک کر دے گا،اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا،جتنا اس نے دیا ہے۔ سلیمان نے اپنی روایت میں غنيٍ أو فقيرٍ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من روی نصف صاع من قمح؛جلد٢؛ص١١٤؛حدیث نمبر؛١٦١٩)
حضرت ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔علی بن حسین نے اپنی روایت میں "أو صاع بر أو قمح بين اثنين" کا اضافہ کیا ہے(یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا)،پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من روی نصف صاع من قمح؛جلد٢؛ص١١٤؛حدیث نمبر؛١٦٢٠)
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے،وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ(جزم کے ساتھ بغیر شک کے)کہااحمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا،یہ خطبہ مقری(عبداللہ بن یزید)کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من روی نصف صاع من قمح؛جلد٢؛ص١١٤؛حدیث نمبر؛١٦٢١)
حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا اپنے روزے کا صدقہ نکالو ،لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہااہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ،اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع،اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام،مرد،عورت،چھوٹے اور بڑے پر،پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگےاللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کردی ہے،اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کرلو تو بہتر ہے۔ حمید کہتے ہیں حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من روی نصف صاع من قمح؛جلد٢؛ص١١٤؛حدیث نمبر؛١٦٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل،خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم نے(زکاۃ دینے سے)انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کردیا،رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہےپھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے۔ راوی کو شک ہے"صنو الأب" کہا،یا"صنو أبيه"کہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی تعجیل الزکاۃ؛جلد٢؛ص١١٥؛حدیث نمبر؛١٦٢٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ جلدی(یعنی سال گزرنے سے پہلے)دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار"فرخص له في ذلك"کے بجائے"فأذن له في ذلك"روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے،منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے(مرسلاً )روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے،(یعنی اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی تعجیل الزکاۃ؛جلد٢؛ص١١٥؛حدیث نمبر؛١٦٢٤)
عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا،جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا مال کہاں ہے؟انہوں نے کہا کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا؟ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لیتے تھے،اور اس کو صرف کردیا جہاں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صرف کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الزکاۃ ھل تحمل من بلد الی بلد؛جلد٢؛ص١١٥؛حدیث نمبر؛١٦٢٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بےنیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے،لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ!کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں۔یحییٰ کہتے ہیں عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تو سفیان نے کہاہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٦؛حدیث نمبر؛١٦٢٦)
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے،میری بیوی نے مجھ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں،پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے،چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا،وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم،تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے،تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ(چالیس درہم)یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسدی کہتے ہیں میں نے(اپنے جی میں) کہا ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے،وہ کہتے ہیں چناچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا،اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقی آیا،آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا،أو كما قال یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کردیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٦؛حدیث نمبر؛١٦٢٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا،میں نے(اپنے جی میں)کہا میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔(ہشام کی روایت میں ہے چالیس درہم سے بہتر ہے)،چناچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگاہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٦؛حدیث نمبر؛١٦٢٨)
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا،آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے،اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے اے محمد!کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس کے صحیفہ کی طرح ہو،جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بےنیاز کردیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے۔(ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کس قدر مال آدمی کو غنی کردیتا ہے؟(نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے ؟ )نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے۔ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو،نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٧؛حدیث نمبر؛١٦٢٩)
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی،پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی،اس میں انہوں نے کہا آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا مجھے صدقے میں سے دیجئیے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٧؛حدیث نمبر؛١٦٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے،بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو،اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٨؛حدیث نمبر؛١٦٣١)
اس سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٦٣١ کے مثل مروی ہےاس میں ہے لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے،مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ(مسکین وہ ہے)جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے،اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے،اسی کو محروم کہتے ہیں،اور مسدد نے" المتعفف الذي لا يسأل"کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے فذاک المحروم کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٨؛حدیث نمبر؛١٦٣٢)
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے،انہوں نے بھی آپ سے مانگا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی،آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایااگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٨؛حدیث نمبر؛١٦٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاصدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے(حلال ہے) امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے،اس میں"لذي مرة سوي"کے بجائے"لذي مرة قوي"کے الفاظ ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں"لذي مرة قوي"اور بعض میں لذي مرة سوي کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا"إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یعطی من الصدقۃ و حد الغنی؛جلد٢؛ص١١٨؛حدیث نمبر؛١٦٣٤)
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے،یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے،یا مقروض کے لیے،یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو،یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کردیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ وھو غنی ؛جلد٢؛ص١١٩؛حدیث نمبر؛١٦٣٥)
اس سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے،وہ کہتے ہیں مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ وھو غنی ؛جلد٢؛ص١١٩؛حدیث نمبر؛١٦٣٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے،عطیہ نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ وھو غنی ؛جلد٢؛ص١١٩؛حدیث نمبر؛١٦٣٧)
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کم یعطی الرجل الواحد من الزکاۃ؛جلد٢؛ص١١٩؛حدیث نمبر؛١٦٣٨)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر(نشان زخم)باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے(مانگنا)ترک کر دے،سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجوز فیہ المسألۃ؛جلد٢؛ص١١٩؛حدیث نمبر؛١٦٣٩)
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قرضے کا ضامن ہوگیا،چناچہ(مانگنے کے لے)میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،آپ نے فرمایاقبیصہ!رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آجائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں،پھر فرمایا قبیصہ!سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑگیا ہو،اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے،اس کے بعد اس سے باز رہے،دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو،جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو،اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کرسکے،تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے،اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کرسکے،اس کے بعد اس سے باز آجائے،اے قبیصہ!ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے،جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجوز فیہ المسألۃ؛جلد٢؛ص١٢٠؛حدیث نمبر؛١٦٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا،آپ نے پوچھاکیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟بولا کیوں نہیں،ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ دونوں میرے پاس لے آؤ،چناچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایایہ دونوں کون خریدے گا؟ایک آدمی بولا انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟دو بار یا تین بار،تو ایک شخص بولا میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ،وہ کلہاڑی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایاجاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں،چناچہ وہ شخص گیا،لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا،پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا،اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو،مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو،خاک میں لوٹتا ہو،دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کرسکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما تجوز فیہ المسألۃ؛جلد٢؛ص١٢٠؛حدیث نمبر؛١٦٤١)
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا ہم سات،آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے،آپ نے فرمایاکیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟جب کہ ہم ابھی بیعت کرچکے تھے،ہم نے کہا ہم تو آپ سے بیعت کرچکے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چناچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا یا رسول اللہ!ہم ابھی بیعت کرچکے ہیں؟اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے،پانچوں نمازیں پڑھو گے اور(حکم)سنو گے اور اطاعت کرو گے،ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے،چناچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کراھیۃالمسألۃ؛جلد٢؛ص١٢١؛حدیث نمبر؛١٦٤٢)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے،کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ثوبان نے کہا میں(ضمانت دیتا ہوں)چناچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کراھیۃالمسألۃ؛جلد٢؛ص١٢١؛حدیث نمبر؛١٦٤٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا،انہوں نے پھر مانگا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا،یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا،ختم ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیرے پاس جو بھی مال ہوگا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا،لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے،جو بےنیازی چاہتا ہے اللہ اسے بےنیاز کردیتا ہے،جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے،اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢١؛حدیث نمبر؛١٦٤٤)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہوگا،اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے(یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے)تو قریب ہے کہ اسے اللہ بےپروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢٢؛حدیث نمبر؛١٦٤٥)
حضرت ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا!یا رسول اللہ!کیا میں سوال کروں؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢٢؛حدیث نمبر؛١٦٤٦)
حضرت ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کردیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے(اجرت)کا حکم دیا، میں نے عرض کیا میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے،عمر رضی اللہ عنہ نے کہاجو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو،میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢٢؛حدیث نمبر؛١٦٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا،سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اور اوپر والا ہاتھ(اللہ کی راہ میں)خرچ کرنے والا ہاتھ ہے،اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے عبدالوارث نے کہا"اليد العليا المتعففة" (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے)،اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں"اليد العليا المنفقة"نقل کیا ہے(یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے)اور ایک راوی نے حماد سے المتعففة روایت کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢٢؛حدیث نمبر؛١٦٤٨)
حضرت مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاتھ تین طرح کے ہیں اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الاستعفاف؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٤٩)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا،اس نے ابورافع سے کہا میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہامیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقوم کا غلام انہیں میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی بنی ہاشم؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٥٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی بنی ہاشم؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٥١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور(پڑی)پائی تو فرمایااگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی بنی ہاشم؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی بنی ہاشم؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٥٣)
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں(ابوعبیدہ نے)یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی بنی ہاشم؛جلد٢؛ص١٢٣؛حدیث نمبر؛١٦٥٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا،آپ نے پوچھایہ گوشت کیسا ہے؟لوگوں نے عرض کیا یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہ پر صدقہ کیا گیا ہے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس(بریرہ)کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے(بریرہ کی طرف سے)ہدیہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الفقیر یھدی للغنی من الصدقۃ؛جلد٢؛ص١٢٤؛حدیث نمبر؛١٦٥٥)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہامیں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی،اب وہ مرگئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کرگئی ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارا اجر پورا ہوگیا،اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب من تصدق بصدقۃ ثم ورثھا؛جلد٢؛ص١٢٤؛حدیث نمبر؛١٦٥٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو ماعون میں شمار کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٤؛حدیث نمبر؛١٦٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی،پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے(دنیاوی)حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی،اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہوگی یا جہنم کی طرف۔(اسی طرح)جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق(زکاۃ)ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی،جتنی وہ تھیں،پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا،وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی،ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہوگی اور نہ ایسی ہوگی جسے سینگ ہی نہ ہو،جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری(مارنے کے لیے)لوٹائی جائے گی (یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا)یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے(دنیاوی)حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی،اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف( اسی طرح)جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق(زکاۃ)ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے،جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو (روندنے کے لیے)پھر لوٹایا جائے گا،(یہ عمل چلتا رہے گا)یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی)حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٤؛حدیث نمبر؛١٦٥٨)
اس سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول"لا يؤدي حقها"قال ومن حقها حلبها يوم وردها"کا جملہ بھی ہے(یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے(گھاٹ پر)آئیں تو ان کو دوہے)(اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو،زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو،سواری کے لیے جانور دو،جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦٠)
عبید بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ!اونٹوں کا حق کیا ہے؟پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی،البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے"وإعارة دلوها"(اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے،اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس کوئی فاضل(ضرورت سے زائد)سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو،جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو،یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب آیت کریمہ "والذين يکنزون الذهب والفضة"(التوبہ؛ ٣٤)(ترجمہ)"جو لوگ جمع کرتے ہیں سونا اور چاندی"نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں،چناچہ وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس)گئے اور عرض کیا یا نبی اللہ!آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہوجائیں(جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے)اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے،اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایاکیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی حقوق المال؛جلد٢؛ص١٢٦؛حدیث نمبر؛١٦٦٤)
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب حق السائل؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦٥)
اسی سند سے علی رضی اللہ عنہسے بھی حدیث نمبر ١٦٦٥ کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب حق السائل؛جلد٢؛ص١٢٥؛حدیث نمبر؛١٦٦٦)
ام بجید رضی اللہ عنہایہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی،وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایااگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب حق السائل؛جلد٢؛ص١٢٦؛حدیث نمبر؛١٦٦٧)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں،کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں، اپنی ماں سے اچھا سلوک کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الصدقۃ علی اھل الذمۃ؛جلد٢؛ص١٢٧؛حدیث نمبر؛١٦٦٨)
بُہیسہ نامی عورت کے والد ماجد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(آپ کے پاس آنے کی)اجازت طلب کی،(اجازت دے دی تو وہ آئے)اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص مبارک کو اٹھا کر جسم اطہر کو چومنے لگےاور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور لپٹ گئے پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپانی،انہوں نے عرض کیا اللہ کے نبی!وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانمک، انہوں نے عرض کیا اللہ کے نبی!وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب ما لا یجوز منعہ؛جلد٢؛ص١٢٧؛حدیث نمبر؛١٦٦٩)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے،میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب المسالۃ فی المسجد؛جلد٢؛ص١٢٧؛حدیث نمبر؛١٦٧٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب کراھیۃالمسألۃ بوجہ اللہ تعالیٰ؛جلد٢؛ص١٢٧؛حدیث نمبر؛١٦٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو،جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو،جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو،اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو،اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب عطیۃ من سأل باللہ؛جلد٢؛ص١٢٨؛حدیث نمبر؛١٦٧٢)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا یا رسول اللہ!مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے،آپ اسے لے لیجئے،یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا،وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا،پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا،اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کردیتا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے یہ صدقہ ہے،پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے،بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الرجل یخرج من مالہ؛جلد٢؛ص١٢٨؛حدیث نمبر؛١٦٧٣)
اسی سند سے ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے"خذ عنا مالک لا حاجة لنا به"اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الرجل یخرج من مالہ؛جلد٢؛ص١٢٨؛حدیث نمبر؛١٦٧٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے(بطور صدقہ)ڈال دیں،انہوں نے ڈال دیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے)کا حکم دیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا،آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا اپنے کپڑے لے لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الرجل یخرج من مالہ؛جلد٢؛ص١٢٨؛حدیث نمبر؛١٦٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا(یوں فرمایا)وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب الرجل یخرج من مالہ؛جلد٢؛ص١٢٩؛حدیث نمبر؛١٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کون سا صدقہ افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکم مال والے کا تکلیف اٹھا کردینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الرخصۃ فی ذالک؛جلد٢؛ص١٢٩؛حدیث نمبر؛١٦٧٧)
حضرت زید بن اسلم کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں،اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی،میں نے کہا اگر میں کسی دن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہوگا،چناچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھااپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟میں نے کہا اسی قدر یعنی آدھا مال،اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں،تب میں نے(دل میں)کہامیں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الرخصۃ فی ذالک؛جلد٢؛ص١٢٩؛حدیث نمبر؛١٦٧٨)
حضرت سعد بن عبادہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی (کا صدقہ) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی فضل سقی الماء؛جلد٢؛ص١٢٩؛حدیث نمبر؛١٦٧٩)
اسی سند سے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٦٧٩ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی فضل سقی الماء؛جلد٢؛ص١٢٩؛حدیث نمبر؛١٦٨٠)
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ام سعد(میری ماں)انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی۔راوی کہتے ہیں چناچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہایہ ام سعدکا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی فضل سقی الماء؛جلد٢؛ص١٣٠؛حدیث نمبر؛١٦٨١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا،اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے(جنت کی)مہربند شراب پلائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی فضل سقی الماء؛جلد٢؛ص١٣٠؛حدیث نمبر؛١٦٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے،جو کوئی بھی ان میں سے کسی(خصلت نیک کام)کو ثواب کی امید سے اور(اللہ کی طرف سے)اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گِنا جیسے سلام کا جواب دینا،چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی المنیحۃ؛جلد٢؛ص١٣٠؛حدیث نمبر؛١٦٨٣)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب اجر الخازن؛جلد٢؛ص١٣٠؛حدیث نمبر؛١٦٨٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب اجر الخازن؛جلد٢؛ص١٣١؛حدیث نمبر؛١٦٨٥)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی اللہ کے نبی!ہم(عورتیں)تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میرے خیال میں أزواجنا کا لفظ کہا(یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں)،ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے(کہ ہم خرچ کریں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رطب ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں رطب روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب اجر الخازن؛جلد٢؛ص١٣١؛حدیث نمبر؛١٦٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس(شوہر)کا آدھا ثواب ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب اجر الخازن؛جلد٢؛ص١٣١؛حدیث نمبر؛١٦٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ان سے کسی نے پوچھا،عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟انہوں نے کہا نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں(میاں بیوی)کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ہمام کی(پچھلی)حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب اجر الخازن؛جلد٢؛ص١٣١؛حدیث نمبر؛١٦٨٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب"لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون"(ال عمران؛ ٩٢)کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ!میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال کا سوال کرتا ہے،میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کردیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے،اور حسان ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں،اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ(پردادا)ہیں،اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار،اس طرح عمرو حسان،ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری(محمد بن عبداللہ)کہتے ہیں ابی رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣١؛حدیث نمبر؛١٦٨٩)
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کردیا،میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے،لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٢؛حدیث نمبر؛١٦٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا اللہ کے رسول!میرے پاس ایک دینار ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے کام میں لے آؤ،تو اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے بیٹے کو دے دو،اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنی بیوی کو دے دو،اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے اپنے خادم کو دے دو،اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااب تم زیادہ بہتر جانتے ہو(کہ کسے دیا جائے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٢؛حدیث نمبر؛١٦٩١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٢؛حدیث نمبر؛١٦٩٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے(یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٢؛حدیث نمبر؛١٦٩٣)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنااللہ تعالیٰ نے فرمایا ہےمیں رحمن ہوں جو رَحِم سے ہےاس صلہ رحمی کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے،لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا،میں اسے کاٹ دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٤)
اس سند سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ سے حدیث نمبر ١٦٩٤ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٥)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی صلۃ الرحم؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے،حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہوگئے،بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الشح؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٨)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں،کیا میں اس میں سے دوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو ورنہ تمہارا رزق روک لیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الشح؛جلد٢؛ص١٣٣؛حدیث نمبر؛١٦٩٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا (امام ابوداؤد کہتے ہیں دوسروں کی روایت میں"عدة من صدقة"(کئی صدقوں کا ذکر ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایادو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الزکاۃ؛باب فی الشح؛جلد٢؛ص١٣٤؛حدیث نمبر؛١٧٠٠)
Abu Dawood Shareef : Kitabuz Zakat
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الزَّكَاةِ
|
•