
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا،مجھے ایک کوڑا پڑا ملا،ان دونوں نے کہا اسے پھینک دو،میں نے کہا نہیں،بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا،پھر میں نے حج کیا،میرا گزر مدینے سے ہوا،میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا،تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی،اس میں سو(١٠٠)دینار تھے،میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فرمایاایک سال تک اس کی پہچان کراؤ،چناچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا،پھر آپ کے پاس آیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال اور پہچان کراؤ،میں نے ایک سال اور پہچان کرائی،اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک سال پھر پہچان کراؤ،چناچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا،پھر آپ کے پاس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیامجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی،اگر اس کا مالک آجائے(تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا۔ شعبہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے عرفها تین بار کہا تھا یا ایک بار۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب التعريف با للقطۃ؛ گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان؛جلد٢؛ص١٣٤؛حدیث نمبر؛١٧٠١)
اس سند سے شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں"عرفها حولا" تین بار کہا،البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٤؛حدیث نمبر؛١٧٠٢)
حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(لقطہٰ کی)پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایادو یا تین سال تک(اس کی پہچان کراؤ)اور فرمایا اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کرلو،اس میں اتنا مزید ہےاگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتادے تو اسے اس کے حوالے کر دو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"فعرف عددها"کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٤؛حدیث نمبر؛١٧٠٣)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ(پڑی ہوئی چیز )کے بارے میں پوچھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو،پھر اسے خرچ کر ڈالو،اب اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو،اس نے کہا یا رسول اللہ!گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پکڑ لو،اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے،یا تمہارے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے،اس نے پوچھا یا رسول اللہ!گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہوگئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایاتمہیں اس سے کیا سروکار؟اس کا جوتااور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٤؛حدیث نمبر؛١٧٠٤)
اس سند سے مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہےالبتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آجاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے،اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں خذها(اسے پکڑ لو)کا لفظ نہیں ہے،البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو،اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کرلو،اس میں استنفق کا لفظ نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ثوری،سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے"خذها"کا لفظ نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٥؛حدیث نمبر؛١٧٠٥)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاتم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو،اگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آجائے تو اسے(اس کی قیمت)ادا کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٥؛حدیث نمبر؛١٧٠٦)
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے(لقطے کے متعلق)پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو،اب اگر اس کا مالک آجائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو،اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٥؛حدیث نمبر؛١٧٠٧)
حضرت یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں اتنا اضافہ ہےاگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل،یحییٰ بن سعید،عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث (یعنی حدیث نمبر١٧٠٢ -١٧٠٣)میں کی ہے "إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووکاء ها فادفعها إليه"یعنی"اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتادے تو اس کو دے دو،اس میں فعرف عفاصها ووکاء ها تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتادے کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی عرفها سنة (ایک سال تک اس کی تشہیر کرو) موجود ہے۔اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایاعرفها سنة تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٦؛حدیث نمبر؛١٧٠٨)
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے،اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے،ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہےجسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٦؛حدیث نمبر؛١٧٠٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکتے ہوئے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو حاجت مند اسے کھائے اور چھپا کر نہ لے جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں،اور جو اس میں سے کچھ چھپا کرلے جائے تو اس کا دو گنا جرمانہ دے اور سزا الگ ہوگی،اور جب میوہ پک کر سوکھنے کے لیے کھلیان میں ڈال دیا جائے اور اس میں سے کوئی اس قدر چرا کرلے جائے جس کی قیمت سپر(ڈھال)کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔اس کے بعد گمشدہ اونٹ اور بکری کا ذکر کیا جیسا کہ اوروں نے ذکر کیا ہے،اس میں ہے آپ سے لقطے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لقطہٰ گزر گاہ عام یا آباد گاؤں میں ملے تو ایک سال تک اس کی تشہیر کرو،اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہارا ہے اور جو لقطہٰ کسی اجڑے یا غیر آباد مقام پر ملے تو اس میں اور رکاز(جاہلیت کے دفینہ)میں پانچواں حصہ حاکم کو دینا ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٦؛حدیث نمبر؛١٧١٠)
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایااسے پکڑے رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٧؛حدیث نمبر؛١٧١١)
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے گمشدہ بکری کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی،تو اسے پکڑے رکھا اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا تو تم اسے پکڑے رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٧؛حدیث نمبر؛١٧١٢)
اس سند سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہے گمشدہ بکری کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٧؛حدیث نمبر؛١٧١٣)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے،انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایاوہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے،چناچہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا،اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعلی!دینار ادا کر کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٧؛حدیث نمبر؛١٧١٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا،آٹے والے نے انہیں پہچان لیا،اور دینار واپس کردیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط کا گوشت خریدا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٧؛حدیث نمبر؛١٧١٥)
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے،تو انہوں نے پوچھا یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھوک(سے رو رہے ہیں)،حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا،وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے،چناچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا،تو یہودی نے پوچھا تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہےوہ بولے ہاں، اس نے کہا اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ،چناچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے،چناچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے آٹا گوندھا،ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی،اور اپنے والد(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کو بلا بھیجا،آپ تشریف لائے تو وہ بولیں اللہ کے رسول!میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر کھاؤ،ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا بازار میں مجھ سے(میرا دینار)گرگیا تھا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعلی!قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں دینار مجھے بھیج دو،تمہارا درہم میرے ذمے ہے،چناچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس(لڑکے) کو دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٨؛حدیث نمبر؛١٧١٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکڑی،کوڑے،رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٨؛حدیث نمبر؛١٧١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو(چھپانے والے پر)اس کا جرمانہ ہوگا،اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٩؛حدیث نمبر؛١٧١٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔احمد کہتے ہیں ابن وہب نے کہا یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے،یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے،ابن موہب نے أخبرني عمرو کے بجائے عن عمرو کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٩؛حدیث نمبر؛١٧١٩)
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی،جریر نے اس سے پوچھایہ کیسی گائے ہے؟اس نے کہایہ گایوں میں آکر مل گئی ہے،ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے،جریر نے کہا اسے نکالو،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناگمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب اللقطۃ؛باب تعریف با اللقطۃ؛جلد٢؛ص١٣٩؛حدیث نمبر؛١٧٢٠)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Laqatate
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب اللُّقَطَةِ
|
•