
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت اقرع بن حابس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ حج ہر سال فرض ہے یا زندگی میں ایک بار؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صرف ایک بار پھر جو زیادہ کرے تو وہ نفل ہے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ ابوسنان سے مراد ابوسناد ولی ہے عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے اسی طرح نقل کیا ہے اور عقیل نے صرف سنان کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فرض الحج؛جلد٢؛ص١٣٩؛حدیث نمبر؛١٧٢١)
حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع کے موقعہ پر اپنی ازواج سے فرمایا۔ یہی حج ہے۔ پھر گھروں میں رک کر بیٹھنا ہے۔ (اس کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ میری معیت میں تمہارا یہی حج ہے اس کے بعد میری میعت نصیب نہ ہو گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس حج کے بعد تمہارا حج کے لئے نکلنا جائز نہ ہوگا بلکہ گھر میں قیام و قرار ضروری ہوگا) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فرض الحج؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر بغیر محرم کے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے بغیر محرم کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٢٤ کے مثل مروی ہے اس میں لفظ" برید" کا اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٥)
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زائد کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا بھائی ہو یا شوہر ہو یا بیٹا ہو یا کوئی ایسا رشتہ دار ہو جو اس کا محرم ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو،(محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے شرعاً نکاح نہ ہو سکتا ہو) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤٠؛حدیث نمبر؛١٧٢٧)
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ"صفیہ"کو جو ان کی آزاد کردہ باندی تھی اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا کر مکہ لے جاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المراۃ تحج بغیر محرم؛جلد٢؛ص١٤١؛حدیث نمبر؛١٧٢٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں صرورة (صرورۃ کے معنی حج نہ کرنا اور نکاح نہ کرنا ہے جسے رہبانیت کہتے ہیں)کی گنجائش نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب لا صرورۃ فی الاسلام؛جلد٢؛ص١٤١؛حدیث نمبر؛١٧٢٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ بعض لوگ حج کرتے تھے مگر سفرِ خرچ ساتھ نہ رکھتے تھے ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یمن کے لوگ حج کرتے تھے اور سامان سفر ساتھ نہ رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو توکل کرنے والے ہیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی(ترجمہ)"سامان سفر ساتھ لو اور سب سے بہتر سامان سفر پرہیزگاری ہے"(البقرہ؛١٩٧) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التزود فی الحج؛جلد٢؛ص١٤١؛حدیث نمبر؛١٧٣٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ الخ۔)2۔البقرۃ:198) (یعنی)اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے (یعنی حج میں تجارت کو برا سمجھتے تھے)پس اجازت دی گئی ان کو تجارت کی جب عرفات سے(منیٰ کو لوٹ کو) آئیں(یعنی حج میں تجارت کی اجازت دی گئی) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التجارۃ فی الحج؛جلد٢؛ص١٤١؛حدیث نمبر؛١٧٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ حج کرنے میں جلدی کرے،(یعنی تاخیر نہ کرے ہو سکتا ہے بعد میں موقع نہ ملے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التجارۃ فی الحج؛جلد٢؛ص١٤١؛حدیث نمبر؛١٧٣٢)
حضرت ابو امامہ التمیمی سے روایت ہے کہ میں دوران حج جانوروں کو کرایہ پر چلاتا تھا لوگ کہتے تھے کہ اس طرح تیرا حج نہیں ہوتا پس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور کہا اے ابوعبدالرحمن میں ایک ایسا شخص ہوں جو حج کے سفر میں لوگوں کو جانور کرایہ پر دیدیا کرتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ تیرا حج درست نہیں ہے پس ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ کیا تو احرام نہیں باندھتا تلبیہ نہیں پڑھتا بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا،عرفات سے نہیں لوٹتا،اور کنکریاں نہیں مارتا؟میں نے کہا کیوں نہیں(میں یہ سب کام کرتا ہوں) ابن عمر نے کہا تو پھر تیرا حج درست ہے اسی طرح ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی آیا تھا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تھا جیسا کہ تو نے مجھ سے کیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت خاموش ہوگئے اور کوئی جواب نہیں دیا کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو جس نے یہ سوال کیا تھا بلا بھیجا اور اس کو یہ آیت سنا دی اور فرمایا تیرا حج درست ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الکری؛جلد٢؛ص١٤٢؛حدیث نمبر؛١٧٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ ابتداء میں منیٰ،عرفہ اور ذی المجاز کے بازار اور حج کے ایام میں خرید و فروخت کرتے تھے لیکن بعد میں حالت احرام میں خرید و فروخت سے لوگ تامل کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی(لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ الخ۔)2۔ البقرۃ: 198) ابن ابی ذئب کہتے ہیں کہ عبید بن عمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس اپنے مصحف میں فی مواسم الحج پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الکری؛جلد٢؛ص١٤٢؛حدیث نمبر؛١٧٣٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگ دوران حج خرید و فروخت کیا کرتے تھے(اسکے بعد راوی نے)ان کے قول فی مواسم الحج تک ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الکری؛جلد٢؛ص١٤٢؛حدیث نمبر؛١٧٣٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام روحاء میں تھے اتنے میں کچھ سوار ملے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سلام کیا اور پوچھا کون لوگ ہو؟انہوں نے کہا کہ مسلمان ہیں۔پھر ان سواروں نے پوچھا تم کون ہو؟صحابہ نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔یہ سن کر ایک عورت گھبرا گئی اور اپنے بچی کا بازو پکڑ کر محافہ سے باہر نکالا اور پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا بھی حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اور تجھے ثواب ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الصبی یحج؛جلد٢؛ص١٤٢؛حدیث نمبر؛١٧٣٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر فرمایا اور اہل شام کے لئے جحفہ کو اور اہل نجد کے لئے قرن کو اور اہل یمن کے لئے یلملم کو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٣؛حدیث نمبر؛١٧٣٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اورحضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میقات مقرر فرمائے ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک نے کہا کہ اہل یمن کے لئے یلملم مقرر فرمایا اور ان میں سے کسی ایک نے(بجائے یلملم کے)الملم کہا،نیز رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ مواقیت مذکورہ مقامات کے باشندوں کے لئے ہیں اور جو شخص کسی دوسری جگہ کا رہنے والا ان مواقیت میں آئے تو یہی میقات اس کے لئے بھی ہوگا جو حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں گے اور جو اس کے علاوہ ہو (یعنی مواقیت کا رہنے والا ہو تو)ابن طاؤس کہتے ہیں کہ وہ جہاں سے چاہے احرام باندھے اور اسی طرح اہل مکہ، مکہ اسے احرام باندھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٣؛حدیث نمبر؛١٧٣٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات مقرر فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٣؛حدیث نمبر؛١٧٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق (یعنی اہل عراق) کے لئے عقیق کو میقات قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٣؛حدیث نمبر؛١٧٤٠)
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے حج یا عمرہ کی نیت سے مسجد اقصی سے مسجد حرم تک کا احرام باندھا تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس کے لئے جنت واجب ہوگئی یہ شک عبداللہ کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا یا وہ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٣؛حدیث نمبر؛١٧٤١)
حضرت حارث بن عمروسہمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت منیٰ میں تھے یا یہ کہا کہ عرفات میں تھے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر رکھا تھا پس عرب کے دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روئے مبارک دیکھ کر کہتے یہ بابرکت چہرہ ہے حارث کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات مقرر فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المواقیت؛جلد٢؛ص١٤٤؛حدیث نمبر؛١٧٤٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ مقام شجرہ پر اسماء بنت عمیس کے،محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(ان کے شوہر)حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ(اسماء سے کہو کہ)غسل کرے اور احرام باندھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحائض تھل بالحج؛جلد٢؛ص١٤٤؛حدیث نمبر؛١٧٤٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حیض و نفاس والی عورتیں جب میقات پر آئیں تو غسل کر کے احرام باندھ لیں اور حج کے تمام ارکان ادا کریں سوائے طواف کعبہ کے۔ ابومعر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ نقل کیا ہے حتی تطہر یعنی یہاں تک کہ پاک صاف ہو جائیں اور ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کو ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا عن عطاء عن ابن عباس،نیز ابن عیسیٰ نے لفظ کلھا بھی ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحائض تھل بالحج؛جلد٢؛ص١٤٤؛حدیث نمبر؛١٧٤٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد طواف سے پہلے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطیب عند الاحرام؛جلد٢؛ص١٤٤؛حدیث نمبر؛١٧٤٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں اب بھی(چشم تصور میں)گویا کہ آپ کو دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانگ میں لگی ہوں مشک کی خوشبو محسوس کر رہی ہوں،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے(لیکن یہ خوشبو احرام باندھنے سے قبل لگائی گئی تھی) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطیب عند الاحرام؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال جمے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التلبید؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر مبارک کے بال شہد سے جماے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التلبید؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٤٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حدیبہ والے سال میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی اونٹ ہدی کے لئے لے گئے جن میں ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا جس کی ناک میں چاندی کا چھلا پڑا ہوا تھا ابن منہال کا بیان ہے کہ(اس کی ناک میں)ایک سونے کا چھلا تھا نفیلی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل مشرکین کو جلانے کے لئے تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٤٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آل(یعنی اپنی ازواج) کی طرف سے حجة الوداع میں ایک گائے ذبح کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی ھدی البقر؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان ازواج کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا ایک گائے ذبح کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی ھدی البقر؛جلد٢؛ص١٤٥؛حدیث نمبر؛١٧٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی پھر ایک اونٹ منگایا اور اس کا اشعار کیا یعنی کوہان کے داہنی طرف سے چیر دیا پھر دبا کر خون نکالا اور دو جوتے اس کے گلے میں لٹکا دیئے(ہدی کی پہچان کے لئے)اس کے بعد اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور بیداء پہنچ کر حج کا تلبیہ کہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الأشعار؛جلد٢؛ص١٤٦؛حدیث نمبر؛١٧٥٢)
یحیی نے بطریق شعبہ اس حدیث کو ابوالید کی روایت کے ہم معنی روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے دبا کر خون نکالا۔ امام ابوداؤد نے کہا کہ ہمام کی روایت میں ہے انگلی سے دبا کر خون نکالا۔ ابوداؤد نے کہا یہ حدیث اہل بصرہ کی ان سنن میں سے ہے جس کی نقل کرنے میں وہ منفرد ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الأشعار؛جلد٢؛ص١٤٦؛حدیث نمبر؛١٧٥٣)
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو ہدی کے گلے میں کچھ لٹکا دیا اور اس کا اشعار کیا پھر احرام باندھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الأشعار؛جلد٢؛ص١٤٦؛حدیث نمبر؛١٧٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی بکریاں تقلید کر کے ہدی کیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الأشعار؛جلد٢؛ص١٤٦؛حدیث نمبر؛١٧٥٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر اس کی قیمت سو دینار لگ گئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا ہے اور مجھے اس کی قیمت میں سو دینار مل رہے ہیں تو کیا میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے کوئی اور اونٹ خرید لوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں اسی کو ذبح کرو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لئے فرمایا تھا کیونکہ وہ(یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ )اس کا شعار کر چکے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب تبدیل الھدی؛جلد٢؛ص١٤٦؛حدیث نمبر؛١٧٥٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کے قلادے بٹے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکا اشعار کیا اور وہ قلادے ان کے گلے میں ڈال دیئے اور ان کو بیت اللہ کی طرف روانہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ میں تشریف فرما رہے اور کوئی چیز جو حلال تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرام نہیں ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من بعث بھدیہ واقام؛جلد٢؛ص١٤٧؛حدیث نمبر؛١٧٥٧)
Abu Daud Sharif Kitabul Manasik Hadees No# 1758
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کے جانور روانہ فرمائے اور میں نے اپنے ہاتھ سے روئی کے قلادے بٹے ہوئے تھے جو ہمارے پاس موجود تھی۔پھر صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال اٹھے وہ کام کر کے جو حلال اپنی بیوی سے کرتا ہے(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحبت کی)اور ہدی کے بھیجنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم نہیں ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من بعث بھدیہ واقام؛جلد٢؛ص١٤٧؛حدیث نمبر؛١٧٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ہدی کا اونٹ ہانک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جا اس نے کہا یہ تو ہدی کا اونٹ ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا سوار ہوجا،افسوس ہے تجھ پر،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دوسری بار فرمایا یا تیسری بار۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رکوب البدن؛جلد٢؛ص١٤٧؛حدیث نمبر؛١٧٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ہدی کے جانور پر سوار ہونا کیسا ہے؟انہوں نے کہا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آہستگی سے سوار ہو جا اگر تو مجبور ہو یہاں تک کہ دوسری سواری پالے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رکوب البدن؛جلد٢؛ص١٤٧؛حدیث نمبر؛١٧٦١)
حضرت ناجیة الا سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی کے جانور روانہ فرمائے تو فرمایا اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو پھر اس کو ذبح کر ڈال پھر(وہ جوتے جو قلادہ کے طور پر اس کے گلے میں لٹکے ہوئے ہیں) جوتوں کو اس کے خون سے رنگ دے پھر اس کو لوگوں کے واسطے چھوڑ دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی اذا عطب قبل أن یبلغ؛جلد٢؛ص١٤٨؛حدیث نمبر؛١٧٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی اسلمی کو بھیجا اٹھارہ اونٹ ہدی کے دے کر۔وہ بولا اگر ان میں سے کوئی چلنے سے عاجز ہو جائے تو کیا کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو ذبح کر دینا اور قلادہ کے جوتا کو اس کے خون میں رنگ کر گردن پر چھاپا مار دینا۔(تا کہ نشانی ہو کہ یہ ہدی کا اونٹ ہے)لیکن نہ تو تُو خود اس کا گوشت کھانا اور نہ ہی تیرے ساتھی اس کا گوشت کھائیں عبدالوارث کی روایت میں افر بہا کی بجائے اجعلہ علی صفتہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے کہا میں نے ابوسلمہ سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ سند اور معنی کا درست کر لینا تمہارے لئے کافی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی اذا عطب قبل أن یبلغ؛جلد٢؛ص١٤٨؛حدیث نمبر؛١٧٦٣)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کو نحر(قربان)کیا تو تیس اونٹ اپنے دست مبارک سے قربان کئے اور(باقی ماندہ کے لئے)مجھے حکم کیا پس باقی ماندہ اونٹوں کو میں نے قربان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی اذا عطب قبل أن یبلغ؛جلد٢؛ص١٤٨؛حدیث نمبر؛١٧٦٤)
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک مرتبہ میں بڑا دن یوم النحر ہے اور پھر یوم القر ہے یعنی یوم النحر کا دوسرا دن۔ راوی کا بیان ہے کہ اس دن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نحر کرنے کے لئے پانچ(یا چھ)اونٹ لائے گئے جن میں سے ہر اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تر ہوتا جاتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے اس کو نحر فرمائیں(پس جب وہ نحر کئے گئے)اور اپنے پہلوؤں پر گر پڑے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات آہستگی سے فرمائی جس کو میں نہیں سن سکا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا جی چاہے اس میں سے گوشت کا ٹکڑا کاٹ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی اذا عطب قبل أن یبلغ؛جلد٢؛ص١٤٨؛حدیث نمبر؛١٧٦٥)
حضرت عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا(جب ذبح کرنے کے لئے)اونٹ لائے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوالحسن کو بلاؤ(یہ حضرت علی کی کنیت تھی) لہذا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا گیا(جب وہ آگئے تو)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم بھالا کو نیچے سے پکڑ لو اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اوپر سے پکڑا اور پھر بھالا اونٹ کے حلق پر مارا (یعنی اس کو نحر کیا)جب آپ اس کام سے فارغ ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الھدی اذا عطب قبل أن یبلغ؛جلد٢؛ص١٤٩؛حدیث نمبر؛١٧٦٦)
عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اونٹ کو اسی طریقہ پر نحر کرتے تھے کہ وہ اس کو کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ دیتے تھے۔اور باقی تین ہاتھ پاؤں پر وہ کھڑا رہتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف تنحر البدن؛جلد٢؛ص١٤٩؛حدیث نمبر؛١٧٦٧)
زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ تھا۔ ابن عمر ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اونٹ کو بیٹھا کر نحر کر رہا تھا۔آپ نے اس سے فرمایا اس کو کھڑا کر کے اور باندھ کر نحر کر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف تنحر البدن؛جلد٢؛ص١٤٩؛حدیث نمبر؛١٧٦٨)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ(ذبح کے وقت)میں اونٹوں کے قریب موجود ہوں اور(جب ذبح ہو جائیں تو)ان کی کھالوں اور جھولوں کو تقسیم کر دوں نیز یہ بھی تاکید فرمائی کہ میں قصائی کو اس میں سے کچھ نہ دوں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قصائی کو ہم اپنے پاس سے دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف تنحر البدن؛جلد٢؛ص١٤٩؛حدیث نمبر؛١٧٦٩)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔اس پر حضرت ابن عباس نے فرمایا اصل صورت حال سے میں سب سے زیادہ واقف ہوں۔بات یہ ہے۔کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی حج کیا اور یہی اختلاف کا سبب ہے(اس کی تفصیل یوں ہے)رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے حج کے ارادہ سے نکلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی اپنی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی اور اسی جگہ احرام باندھا اور نماز سے فراغت کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا پس کچھ لوگوں نے اس کو سنا(اور کچھ لوگوں نے نہ سنا)لیکن میں نے اس کو یاد رکھا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے اور جب اونٹ سیدھا کھڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر حج کا تلبیہ پڑھا کچھ لوگوں نے اس وقت سنا جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (اکٹھے ہو کر نہیں بلکہ)الگ الگ ٹولیوں کی شکل میں آرہے تھے تو جن لوگوں نے اس وقت سنا وہ یہی سمجھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی اہلال کیا ہے(تلبیہ پڑھا ہے)یعنی جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اونٹ سیدھا کھڑا ہو گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیداء نامی مقام کی بلندی پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اہلال کیا (یعنی تلبیہ پڑھا) کچھ لوگوں نے اس وقت سنا اور انہوں نے لوگوں سے یہی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ اس وقت پڑھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیداء کی بلندی پر چڑھے۔ مگر واللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہی مسجد میں اہلال کر لیا تھا اس کے بعد دوسری مرتبہ اس وقت اہلال کیا۔ جب آپ بیداء کی بلندی پر چڑھے حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جس نے ابن عباس کے قول کو اختیار کیا ہے اس نے اسی مسجد میں دو رکعت نماز سے فراغت کے بعد اہلال کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٤٩؛حدیث نمبر؛١٧٧٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یہ ہے وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جھوٹ گھڑتے ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلال نہیں کیا مگر اپنی ذوالحیفہ کی مسجد میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٥٠؛حدیث نمبر؛١٧٧١)
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن!میں نے تم کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھا ہے جو میں نے تمہارے ساتھیوں میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا انہوں نے کہا وہ کیا چیزیں ہیں؟میں نے کہا کہ تم طواف میں صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہو اور تم ایسے جوتے پہنتے ہو جس کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے اور تم(بالوں یا کپڑوں کو رنگنے میں)زرد رنگ کا استعمال کرتے ہو اور میں نے دیکھا کہ جب تم مکہ میں ہوتے ہو(تو چاند دیکھتے ہی احرام نہیں باندھتے بلکہ)یوم الترویہ(آٹھویں تاریخ)کو باندھتے ہو جبکہ اور تمام لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ جہاں تک ارکان کو چھونے کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے رکن یمانی اور حجر اسود کے اور بغیر بالوں کے چمڑے کے جوتے کے متعلق عرض ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے چمڑے کے جوتے پہنے دیکھا ہے جس میں بال نہیں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پہنے پہنے وضو بھی کر لیتے تھے اس لئے میں بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زرد رنگ سے(بالوں یا کپڑوں)کو رنگتے ہوئے دیکھا ہے پس اسی لئے میں بھی زرد رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور اہلال(احرام باندھنے)کی بات یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے نہیں سنا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اونٹ چلنے کے واسطے کھڑا ہو جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٥٠؛حدیث نمبر؛١٧٧٢)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ جا کر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور رات وہیں گزاری جب صبح ہوئی تو اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور جب وہ سیدھا کھڑا ہو گیا تو تلبیہ پڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٥١؛حدیث نمبر؛١٧٧٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز (ذوالحلیفہ میں)پڑھی پھر اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور جب بیداء پہاڑ کی بلندی پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٥١؛حدیث نمبر؛١٧٧٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرع کے راستہ سے مکہ جاتے تو اس وقت تلبیہ پڑھتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اونٹ سیدھا کھڑا ہو جاتا اور جب احد کے راستہ سے جاتے تو بیداء کی بلندی پر چڑھ کر تلبیہ پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی وقت الاحرام؛جلد٢؛ص١٥١؛حدیث نمبر؛١٧٧٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حج کرنا چاہتی ہوں تو کیا میں شرط کر سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پوچھا کس طرح؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ"لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ"اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاشتراط فی الحج؛جلد٢؛ص١٥١؛حدیث نمبر؛١٧٧٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج میں افراد کیا(یعنی صرف حج کی نیت کی قران اور تمتع نہیں کیا) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٢؛حدیث نمبر؛١٧٧٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے جبکہ ذی الحجہ کا چاند آن پہنچا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو فرمایا جو شخص حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے اور جو عمرہ کا باندھنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھے موسیٰ نے وہیب کی حدیث میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہدی کا جانور نہ رکھتا ہوتا تو میں عمرہ کا احرام باندھتا اور موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تو حج کا احرام باندھوں گا کیونکہ میرے ساتھ ہدی(کا جانور)ہے اس کے بعد روایت میں سب کا اتفاق ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا راستہ میں مجھے حیض آگیا جب میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں روتی ہے؟میں نے کہا کاش میں اس سال(عمرہ کے لئے)نہ نکلی ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عمرہ چھوڑ دے اور سر کے بال دھو ڈال اور کنگھی کر موسیٰ نے کہا(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ)حج کا احرام باندھ لے اور سلیمان نے کہا(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا)جو کام مسلمان کریں تو بھی کرتی جا(سوئے طواف کے) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں پس جب واپسی کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی)عبدالرحمن کو حکم کیا تو وہ ان کو تنعیم لے گئے(تنعیم ایک مقام کا نام ہے جو حرم سے خارج ہے)موسیٰ نے اتنا اضافہ کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا اور خانہ کعبہ کا طواف کیا پس اللہ تعالیٰ نے ان کے حج اور عمرہ کو پورا کر دیا ہشام نے کہا اس میں ان پر کوئی ہدی لازم نہ آئی( ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے کہا) موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء کی رات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٢؛حدیث نمبر؛١٧٧٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے پس ہم میں سے کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بعض نے صرف حج کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا پس جس نے صرف حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اس نے یوم النحرتک احرام نہ کھولا۔ ابن سرح،ابن وہب،مالک،حضرت ابوالاسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٢؛حدیث نمبر؛١٧٧٩)
حضرت ابوالاسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٣؛حدیث نمبر؛١٧٨٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھے اور جب تک وہ دونوں سے فارغ نہ ہو جائے احرام نہ کھولے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں مکہ اس حال میں پہنچی کہ میں حائضہ تھی نہ تو میں نے طواف کیا تھا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی اس صورت حال کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے سر کے بال کھول کنگھی کر عمرہ چھوڑ دو اور حج کا احرام باندھ لو پس میں نے ایسا ہی کیا جب ہم حج کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیج دیا اور میں نے عمرہ ادا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ عمرہ تیرے پہلے والے عمرہ کا بدل ہے پھر جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہو گئے اور انہوں نے منیٰ سے واپسی کے بعد حج کے واسطے دوسرا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کی نیت کی تھی انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٣؛حدیث نمبر؛١٧٨١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نے حج کا لبیک کہا جب ہم سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے عائشہ!تو کیوں روتی ہے؟میں نے کہا مجھے حیض آگیا ہے کاش میں حج کو نہ آئی ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی تمام بیٹیوں کو لکھ دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب ارکان ادا کرو سوائے طواف کے پس جب ہم مکہ سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا دل چاہے حج کے احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل دے سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یوم النحر(دسویں تاریخ)کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔جب بطحاء کی رات آئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ کی عورتیں حج اور عمرہ کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تنعیم میں لے گئے جہاں انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٣؛حدیث نمبر؛١٧٨٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلے پس جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور جن لوگوں کے پاس ہدی نہ تھی ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا احرام کھول دینے کا حکم فرمایا پس جن لوگوں کے پاس ہدی نہ تھی انہوں نے احرام کھول دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٤؛حدیث نمبر؛١٧٨٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے پہلے سے یہ حال معلوم ہوتا تو میں بھی اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا محمد بن یحیی کہتے ہیں کہ مجھے یوں یاد پڑتا ہے کہ (میرے شیخ عثمان بن عمرو نے) یوں روایت کیا تھا میں بھی لوگوں کے ساتھ عمرہ کر کے احرام کھول دیتا (محمد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ) تاکہ سب لوگ یکساں ہو جاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٤؛حدیث نمبر؛١٧٨٤)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا تھاحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب سرف میں پہنچیں تو ان کو حیض آگیا یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے اور وہاں پہنچ کر ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی نہیں ہے وہ احرام کھول ڈالے اور حلال ہو جائے ہم نے پوچھا کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام چیزیں پس ہم نے عورتوں سے صحبت کی خوشبو لگائی اور سلے ہوئے کپڑے پہنے حالانکہ ابھی عرفہ میں چار راتیں باقی تھیں پھر ترویہ کے دن (آٹھویں تاریخ میں)ہم نے حج کا احرام باندھا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں روتی ہو؟انہوں نے کہا کہ مجھے حیض آگیا سب لوگوں نے احرام کھول دیا اور میں نے نہیں کھولا اور ابھی تک خانہ کعبہ کا طواف بھی نہیں کیا اب لوگ حج کے لئے روانہ ہو رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ حیض تو امر تقدیری ہے جو اللہ نے آدم کی تمام بیٹیوں کے لئے رکھ دیا ہے لہذا تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو پس انہوں نے غسل کیا اور سب ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب تم حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہوگئی ہو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے دل میں ایک خلجان سا ہے اور وہ یہ کہ میں نے حج کی ابتداء میں بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا(تو کیا اب میں کر لوں؟)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ان کو لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرو اور یہ واقعہ حصبہ کی رات کا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٤؛حدیث نمبر؛١٧٨٥)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے(ایک دوسری سند کے ساتھ)یہی روایت مذکور ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا حج کا احرام باندھ لو پھر حج کرو اور وہ تمام کرو جو حاجی لوگ کرتے ہیں مگر نہ تو خانہ کعبہ کا طواف کرنا اور نہ نماز پڑھنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٥؛حدیث نمبر؛١٧٨٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اور اس کے ساتھ کسی چیز کو نہیں ملایا(یعنی حج کے ساتھ عمرہ کی نیت نہیں کی)جب ہم مکہ پہنچے تو ماہ ذی الحجہ کی چار راتیں گذر چکی تھیں پس ہم نے طواف کیا اور (صفاومروہ کے درمیان)سعی کی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو احرام کھول دینے کا حکم فرمایا۔اور فرمایا اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا اس وقت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر سوال کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رعایت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اس سال کے لئے عنایت فرمائی ہے یا ہمیشہ کے لیے؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ کے لئے امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے اس روایت کو سنا تھا لیکن میرے حافظہ سے نکال گئی تھی بعد میں جب ابن جریح سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یاد دلا دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٥؛حدیث نمبر؛١٧٨٧)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب جب مکہ میں آئے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گذر چکی تھیں جب طواف اور صفاء مروہ کے درمیان سعی سے فارغ ہو کر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس حج کو عمرہ میں تبدیل کرلو مگر جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کرے جب یوم الترویہ ہوا(یعنی آٹھویں تاریخ ہوئی)تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھا اور یوم النحر ہوا (یعنی دسویں تاریخ ہوئی)تو خانہ کعبہ کا طواف کیا مگر صفاو مروہ کے بیچ سعی نہ کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٥؛حدیث نمبر؛١٧٨٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا اور اس دن ان میں سے کسی کے پاس بھی ہدی نہ تھی سوائے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نیز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو یمن سے آئے تھے ان کے پاس بھی ہدی کا جانور تھا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس چیز کی نیت کی جس چیز کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ سے بدل دیں اور طواف و سعی سے فارغ ہو کر بال کترائیں اور احرام کھول ڈالیں مگر جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو وہ احرام نہ کھولے یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکروں سے منی بہتی ہوئی ہو؟جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں پہلے سے اس امر سے واقف ہوتا تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٦؛حدیث نمبر؛١٧٨٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے اس لئے سب چیزیں حلال ہو گئیں اور قیامت تک ایام حج میں عمرہ کرنا جائز ہو گیا ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا یہ منکر ہے اور یہ ابن عباس کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٦؛حدیث نمبر؛١٧٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور طواف وسعی کر چکے تو وہ حلال ہو گیا اور اب اس کا احرام(بجائے حج کے) عمرہ کا ہو گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ اس روایت کو ابن جریج نے ایک شخص کے واسطہ سے حضرت عطاء سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے تھے تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حج کو عمرہ سے بدل دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٦؛حدیث نمبر؛١٧٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی ابن شوکر کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ تو بال کتروائے اور نہ ہی احرام کھولا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہدی تھی اور جس کے ساتھ ہدی نہ تھی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف وسعی کرنے اور بال کتروا کر احرام کھول دینے کا حکم فرمایا۔ابن منیع نے بجائے بال کتروانے کے بال منڈانے کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٦؛حدیث نمبر؛١٧٩٢)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وفات میں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٣)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن سفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں فلاں باتوں سے منع فرمایا ہے مثلایہ کہ چیتے کی کھال پر سوار ہونے سے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا ہاں پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج وعمرہ کے درمیان قِران سے بھی منع فرمایا ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں حضرت معاویہ نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا تھا مگر آپ لوگ اس کو بھول گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی افراد الحج؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرما رہے تھے لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٥)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات ذوالحلیفہ میں گذاری اگلے دن صبح کو(ظہر کی نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے جب بیداء پر پہنچے تو اللہ کی حمد بیان کی اور تسبیح و تکبیر کہی پھر حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا اور باقی لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا جب ہم مکہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو(جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ تھا)احرام کھول دینے کا حکم فرمایا اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعمیل کرتے ہوئے احرام کھول ڈالا اور ترویہ کے دن(آٹھویں تاریخ کو)لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے قربان کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو میں ان کے ساتھ تھا میں نے وہاں کئی اوقیہ چاندی جمع کی جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دیکھا اور دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر میں خوشبو بسا رکھی ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر کہا کہ آپ کو کیا ہوا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو احرام کھولنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے احرام کھول ڈالا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس چیز کی نیت کی جس چیز کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قران کیا ہے اور میں نے بھی قران کی نیت کی)پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے کیا کیا؟وہ بولے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیت پر نیت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور قران کر چکا ہوں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چھیاسٹھ(یا سرسٹھ) اونٹ قربان کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا تینتیس(یا چونتیس)اپنے لئے رکھ لے(یعنی چھیاسٹھ یا سرسٹھ اونٹ میری طرف سے قربان کر اور باقی اپنی طرف سے)اور فرمایا ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا میرے لئے رکھ چھوڑ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٨؛حدیث نمبر؛١٧٩٧)
حضرت ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صبی بن معبد نے بیان کیا کہ میں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا (یعنی قران کیا)تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے نبی کی سنت پر عمل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٨)
حضرت ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صبی بن معبد نے کہا کہ میں اعرابی نصرانی عیسائی تھا،پس میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں اپنے قبیلہ کے ھدیم بن ثرملہ نامی شخص کے پاس آیا تو میں نے اسے کہا:اے فلاں!مجھے جہاد کی بہت رغبت ہے اور مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہے تو میں اب ان دونوں کو کیونکر اکٹھا کر سکتا ہوں؟اس نے کہا؛ انہیں اکٹھا کرلو اور جو میسر ہو اس کی قربانی کردو،پس میں نے ان دونوں(حج قران)کا احرام باندھا۔پس جب میں"عذیب"(بنی تمیم کے پانی کی جگہ) کے مقام پر پہنچاسلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے ان دونوں کا تلبیہ پڑھا تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا:یہ کیا (کیسا)ہے یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ فقیہ ہے؟وہ(صبی)بیان کرتے ہیں کہ اس بات سے مجھے ایسا محسوس ہوا گویا مجھ پر پہاڑ رکھ دیا گیا ہے۔میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا:اے امیر المومنین!میں ایک اعرابی نصرانی شخص ہوں اور میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہے۔پس میں اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو اکٹھا کر لو اور قربانی میں سے جو میسر ہو اسے ذبح کرلو۔اور میں نے ان دونوں(حج قران)کے لئے احرام باندھا ہے۔یہ سن کر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے فرمایا:"تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پالیا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٧؛حدیث نمبر؛١٧٩٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے جس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق میں تھے کہ رات میں اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور بولا اس برکت والی وادی میں نماز پڑھ اور کہا کہ عمرہ حج کے اندر ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے (قال عمرة فی حجة کے بجائے)قل عمرة فی حجة کا جملہ نقل کیا ہے نیز علی بن مبارک نے ابن کثیر سے یہی جملہ نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٩؛حدیث نمبر؛١٨٠٠)
حضرت سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے جب ہم مقام عسفان پر پہنچے تو سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح بیان فرمائیے جس طرح بہت چھوٹے بچوں کے لئے بیان کیا جاتا ہے(یعنی خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے اس حج میں عمرہ کو شریک کر دیا ہے لہذا جب تم مکہ میں آؤ اور طواف و سعی سے فارغ ہو چکو تو تم حلال ہو جاؤ گے مگر جو شخص اپنے ساتھ ہدی کا جانور لایا ہوگا وہ حلال نہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٩؛حدیث نمبر؛١٨٠١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا بیان ہے کہ میں نے تیر کی نوک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے(یا یہ کہا کہ)میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیر کی پیکان سے بال کترتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٥٩؛حدیث نمبر؛١٨٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے مجھ سے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال ایک اعرابی کی تیر کی پیکان سے کترے تھے حسن نے اپنی حدیث میں جملہ کے آخر میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ حج کے موقعہ پر۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٦٠؛حدیث نمبر؛١٨٠٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور صحابہ نے حج کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٦٠؛حدیث نمبر؛١٨٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے حج کیا اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے کر گئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے عمرہ کو پکارا پھر حج کو(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے لبیک بعمرہ کہا اور پھر لبیک بحجة)اور لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا یعنی تمتع کیا مگر بعض لوگ ہدی لے گئے تھے اور بعض نہیں لے گئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا تم میں سے جو شخص ہدی ساتھ لایا ہو اس کے لئے کوئی چیز حلال نہیں ہے بلکہ حرام ہے جب تک کہ حج پورا نہ کرے اور جو ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ طواف و سعی کر کے بال کتروائے اور احرام کھول ڈالے اور اس کے بعد حج کا احرام باندھے اور ہدی دے اگر اس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو تین روزے حج میں رکھے اور سات روزے اپنے گھر واپس جا کر رکھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو چوما پھر تین مرتبہ دوڑ کر اور تن کر بیت اللہ کا طواف کیا اور چار مرتبہ معمول کی رفتار سے چل کر طواف کیا جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس جا کر دو رکعت نماز پڑھی اور سلام پھیرا نماز سے فارغ ہو کر کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور حج کے پورا ہونے تک احرام نہیں کھولا اور یوم النحر میں (دس تاریخ کو)ہدی کی قربانی کی اور مکہ میں آکر طواف کیا(طواف الزیارة)اس کے بعد احرام کھول دیا اور وہ سب کام کرنے لگے جو حالت احرام میں ممنوع تھے اور جن لوگوں کے ساتھ ہدی تھی انہوں نے بھی ایسا ہی کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٦٠؛حدیث نمبر؛١٨٠٥)
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کھولا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے سر کی تلبید کی اور ہدی کی تقلید کی تو میں حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی کا جانور قربان نہ کر لوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الاقران؛جلد٢؛ص١٦١؛حدیث نمبر؛١٨٠٦)
حضرت سلیم بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے حج کی نیت کی اور پھر اس کو فسخ کر کے عمرہ میں بدل دیا تو یہ درست نہ ہوگا بلکہ یہ امر ان لوگوں کے لئے خاص تھا جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یھل بالحج ثم یجعلہا عمرۃ؛جلد٢؛ص١٦١؛حدیث نمبر؛١٨٠٧)
حضرت بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا حج کا فسخ کرنا ہمارے لئے خاص ہے یا ہمارے بعد کے لوگوں کے لئے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صرف تم لوگوں کے لئے خاص ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یھل بالحج ثم یجعلہا عمرۃ؛جلد٢؛ص١٦١؛حدیث نمبر؛١٨٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر فضل بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اسی دوران قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور مسئلہ دریافت کرنے لگی فضل نے اس عورت کی طرف دیکھا اور وہ عورت بھی فضل کو دیکھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فضل کا منہ اس عورت سے دوسری طرف پھیر دیا وہ عورت بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور میرے والد پر حج ایسے وقت میں فرض ہوا جب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور وہ سواری نہیں کر سکتے تو کیا ایسی صورت میں میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ واقعہ حجة الوداع کا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحج عن غیرہ؛جلد٢؛ص١٦١؛حدیث نمبر؛١٨٠٩)
عمرو بن اوس،ابی رزین سے جو کہ بنی عامر سے تعلق رکھتے ہیں روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں وہ حج اور عمرہ کے سفر کے لئے طاقت نہیں رکھتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اپنے باپ کی طرف سے حج بھی کر سکتا ہے اور عمرہ بھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحج عن غیرہ؛جلد٢؛ص١٦٢؛حدیث نمبر؛١٨١٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا لبیک عن شبرمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا شبرمہ کون ہے؟اس نے کہا وہ میرا بھائی ہے(یا یہ کہا کہ وہ میرا رشتہ دار ہے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو اپنا حج کر چکا ہے؟اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پہلے تو اپنا حج ادا کر پھر اس کے بعد شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحج عن غیرہ؛جلد٢؛ص١٦٢؛حدیث نمبر؛١٨١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں یہ اضافہ کرتے تھے لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ۔اے اللہ!میں تیری خدمت میں حاضر ہوں میں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں تیری خدمت میں حاضر ہوں سب تعریف اور نعمت تیرے لئے ہی ہے اور سلطنت بھی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٢؛حدیث نمبر؛١٨١٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا(حضرت جابر نے)پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلبیہ اسی طرح ذکر کیا جس طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ہے اور کہا کہ لوگ اپنی طرف سے چند الفاظ کا اضافہ بھی کر لیا کرتے تھے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے تھے اور کچھ نہیں کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٢؛حدیث نمبر؛١٨١٣)
حضرت خلاد بن السائب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور مجھ کو حکم دیا کہ میں اپنے دوستوں اور ساتھ والوں کو حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے پڑھیں(البتہ عورت کے لئے پست آواز سے پڑھنا بہتر ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب کیف التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٢؛حدیث نمبر؛١٨١٤)
فضل بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے (یعنی جب کنکریاں ماریں تب لبیک کہنا بند کیا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب متی یقطع التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٣؛حدیث نمبر؛١٨١٥)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ منیٰ سے عرفات کی طرف چلے ہم میں سے کچھ لوگ لبیک کہتے تھے اور کچھ لوگ تکبیر کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب متی یقطع التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٣؛حدیث نمبر؛١٨١٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عمرہ کرنے والا حجر اسود کو چومنے تک لبیک کہتا رہے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس روایت کو عبدالمالک بن ابی سلیمان اور ہمام نے بواسطہ عطاء ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے موقوفاً نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب متی یقطع المعتمر التلبیۃ؛جلد٢؛ص١٦٣؛حدیث نمبر؛١٨١٧)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے جب مقام اعرج پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے پس ہم لوگ بھی اتر گئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی اور میں(اپنے والد)حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پس بیٹھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانے پینے کا سامان ایک اونٹ پر تھا جو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک غلام کے پاس تھا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس غلام کی آمد کے انتظار میں بیٹھے تھے جب وہ آیا تو اونٹ اس کے ساتھ نہ تھا ابوبکر نے پوچھا اونٹ کہاں ہے؟غلام نے کہا کل رات وہ کہیں گم ہو گیا تھا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے ایک ہی تو اونٹ تھا تو نے وہ بھی گم کر دیا یہ کہہ کر ابوبکر نے غلام کو مارنا شروع کر دیا یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرماتے رہے اور کہتے رہے ذرا دیکھو تو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟ابن ابی رزمہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا ذرا دیکھو تو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟اور تبسم فرمایا اس سے زائد کچھ نہیں کہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یودب غلامہ؛جلد٢؛ص١٦٣؛حدیث نمبر؛١٨١٨)
صفوان بن یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ میں تھے ایک شخص آیا جس کے بدن پر خوشبو والا رنگ تھا(یا یہ کہا کہ زرد رنگ کا نشان تھا)اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا اس نے پوچھا یا رسول اللہ! مجھے عمرہ میں کیا کرنا چاہئے(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا سوال سن کر خاموش ہو گئے)پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حکم واضح ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہےجب وہ آپ کے پاس آیاتو آپ نے فرمایا خوشبو کا نشان دھو ڈال(یا یہ کہا کہ زردی کا نشان دھو ڈال)اور اپنے اوپر سے جبہ اتار دے اور اپنے عمرہ میں وہی کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحرم فی ثیابہ؛جلد٢؛ص١٦٣؛حدیث نمبر؛١٨١٩)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قصہ(ایک دوسری سند کے ساتھ)مذکور ہے اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا اپنا جبہ اتار دے تو اس نے سر سے جبہ اتار لیا اس کے بعد حدیث کا باقی مضمون ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحرم فی ثیابہ؛جلد٢؛ص١٦٤؛حدیث نمبر؛١٨٢٠)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث(ایک دوسری سند کے ساتھ)مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جبہ اتار دے اور دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحرم فی ثیابہ؛جلد٢؛ص١٦٤؛حدیث نمبر؛١٨٢١)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جعرانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھا اور اس نے ایک جبہ بھی پہن رکھا تھا اور اس کی داڑھی و سر میں زرد رنگ لگا ہوا تھا پھر راوی نے باقی حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرجل یحرم فی ثیابہ؛جلد٢؛ص١٦٥؛حدیث نمبر؛١٨٢٢)
زہری،سالم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ محرم کو کون کون سے کپڑے پہننے چاہئیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا محرم کو کرتہ ٹوپی ازار(پاجامہ یا شلوار وغیرہ)اور عمامہ پہننا نہیں چاہئے اور نہ ہی کوئی ایسا کپڑا استعمال کرنا چاہئے جو ورس یا زعفران سے رنگا ہوا ہو۔(یعنی ایسا رنگ استعمال کرنا ممنوع ہے جس میں خوشبو ہو)اور نہ ہی خفیفین استعمال کرے۔البتہ وہ شخص خفین استعمال کر سکتا ہے جس کے پاس جوتے نہ ہوں۔پس جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ خفین استعمال کرے مگر ٹخنوں سے نیچے تک کے حصہ کو کاٹ لے(یہاں ٹخنہ سے مراد وہ ہڈی ہے جو پنجے کے پاس پیر کے بیچ میں ہوتی ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٥؛حدیث نمبر؛١٨٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٢٣ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٥؛حدیث نمبر؛١٨٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے(ایک دوسری سند کے سا تھ)یہ روایت مذکور ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ احرام والی عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے(یعنی حالت احرام میں عورت چہرہ کو بالکل کھلا رکھے۔یا نقاب اس طرح ڈالے کہ وہ چہرہ سے بالکل الگ رہے اس کو چھوئے نہیں) ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل اور یحی بن ایوب نے بروایت موسیٰ بن عقبہ حضرت نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح لیث نے روایت کیا ہے اور اس کو موسیٰ بن طارق نے بواسطہ موسیٰ بن عقبہ حضرت ابن عمر پر موقوف کیا ہے نیز اس کو عبیداللہ بن عمر مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً ہی روایت کیا ہے اور ابراہیم بن سعید مدینی نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ عورت حالت احرام میں منہ پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ابرا ہیم بن سعید مدینی اہل مدینہ کے شیوخ میں سے ہیں ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں ہیں(بلکہ بہت کم ہیں) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٥؛حدیث نمبر؛١٨٢٥)
حضرت ابن عمر سے ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا محرمہ عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور نہ ہی دستانے پہنے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٥؛حدیث نمبر؛١٨٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے،منہ پر نقاب ڈالنے،ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے اس کے بعد جس رنگ کا کپڑا چاہے پہن سکتی ہے خواہ وہ کسم کا ہو یا ریشمی۔یا کوئی زیور ہو یا پاجامہ کرتہ یا موزہ ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث کو عبدہ اور محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق سے وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنْ الثِّيَابِ تک روایت کیا ہے اس کے بعد والا مضمون ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٦؛حدیث نمبر؛١٨٢٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو سردی لگی انہوں نے حضرت نافع سے کہا کہ میرے اوپر کوئی کپڑا ڈال دے پس انہوں نے ان پر برنس ٹوپی یا ایسا کپڑا جس سے سر ڈھک جائے)ڈال دیا۔حضرت ابن عمر نے فرمایا تم مجھ پر برنس ڈالتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو یہ پہننے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٦؛حدیث نمبر؛١٨٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن سکتا ہے ایسے ہی جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٦؛حدیث نمبر؛١٨٢٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔جب احرام باندھنے کا وقت آیا تو ہم نے اپنی پیشانیوں پر خوشبوؤں کا لیپ لگایا جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو بہہ کر منہ پر آجاتی اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٦؛حدیث نمبر؛١٨٣٠)
محمد بن اسحاق سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ابن شہاب سے(قطع خفین)کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسا کرتے تھے یعنی محرمہ عورت کے خفین کاٹ دیا کرتے تھے پھر ان سے(ان کی اہلیہ)صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو خفین(موزے) پہننے کی رخصت دی ہے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے محرمہ عورت کے لئے موزے کاٹنے کا عمل ترک کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یلبس المحرم؛جلد٢؛ص١٦٦؛حدیث نمبر؛١٨٣١)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ والوں سے حدیبیہ کے مقام پر صلح کی تو یہ شرط قرار پائی کہ مسلمان بیت اللہ میں اپنے ہتھیاروں کو غلاف میں رکھ کر لائیں گے (یعنی ہتھیار کھلے ہوئے نہیں ہوں گے بلکہ پیک ہوں گے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یحمل السلاح؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ(دوران حج و عمرہ)سوار ہمارے سامنے سے گذرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے ہوتے پس جب سوار ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنے منہ پر نقاب ڈال لیتے(اس طرح کہ کپڑا منہ سے الگ رہتا) اور جب وہ گذر جاتے تو ہم پھر منہ کھول لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المحرمۃ تغطی وجھھا؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٣)
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نے حجة الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کیا میں نے دیکھا کہ اسامہ اور بلال میں سے کوئی ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے ہے اور دوسرے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک کپڑے کے ذریعے سے سایہ کر رکھا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی المحرم یظلل؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یحجم؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیماری کی بناء پر اپنے سر میں حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یحجم؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٦)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درد کی بنا پر پشت قدم پر حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یحجم؛جلد٢؛ص١٦٧؛حدیث نمبر؛١٨٣٧)
نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمرو بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں۔ ان کے پاس ایک آدمی بھیج کر معلوم کرایا کہ میں ان آنکھوں کا کیا علاج کروں انہوں نے کہا کہ ایلوے کا لیپ لگاؤ کیونکہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یکتحل المحرم؛جلد٢؛ص١٦٨؛حدیث نمبر؛١٨٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٣٨ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یکتحل المحرم؛جلد٢؛ص١٦٨؛حدیث نمبر؛١٨٣٩)
حضرت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں(محرم کے سر دھونے کے متعلق)مقام ابواء میں عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ کے درمیان اختلاف ہوا ابن عباس کا کہنا تھا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور کہتے ہیں کہ محرم سر نہیں دھوسکتا پس مسئلہ دریافت کرنے کے لئے عبداللہ نے عبداللہ بن حنین کو حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا عبداللہ بن حنین نے ابوایوب انصاری کو کنوئیں پر لگی ہوئی دو لکڑیوں کے بیچ میں ایک کپڑے کی آڑ میں غسل کرتے ہوئے پایا عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے کہا میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے عبداللہ بن عباس نے آپ سے یہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟(یہ سن کر) ابوایوب نے کپڑے پر ہاتھ رکھا اور سر اٹھایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر انہوں نے اسی شخص سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا کہا تو پانی ڈال پس اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا اور انہوں نے اپنے سر کو ہاتھوں سے ملا اور ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یغتسل؛جلد٢؛ص١٦٨؛حدیث نمبر؛١٨٤٠)
نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے ایک شخص کو حضرت ابان بن عثمان کے پاس مسئلہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا ان دنوں ابان حاجیوں کے امیر تھے اور یہ دونوں حضرات محرم تھے(مسئلہ یہ پوچھا تھا کہ)میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس نکاح میں شرکت فرمائیں(بتائیے کیسا رہے گا) حضرت ابان نے(حالت احرام میں نکاح سے)انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ محرم نہ اپنا نکاح کرے اور نہ دوسرے کا نکاح کروائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یتزوج؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤١)
ابان بن عثمان سے ایک حدیث اسی کی مانند مروی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ نہ نکاح کا پیغام دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یتزوج؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤٢)
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام سرف میں مجھ سے نکاح فرمایا اس وقت ہم دونوں حلال تھے(یعنی احرام باندھے ہوئے نہ تھے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یتزوج؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یتزوج؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے ان کا وہم ہے(صحیح بات یہ ہے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم نہ تھے۔)بلکہ حلال تھے جیسا کہ خود حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیان سے صاف ظاہر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المحرم یتزوج؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کرسکتا ہے؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں بچھو،چوہیا،چیل،کوا اور کاٹ کھانے والا کتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یقتل المحرم من الدواب؛جلد٢؛ص١٦٩؛حدیث نمبر؛١٨٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے سانپ،بچھو،کوا،چیل،چوہیا،اور کاٹ کھانے والا کتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یقتل المحرم من الدواب؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاسانپ،بچھو، چوہیا کو(مار سکتا ہے)اور کوے کو بھگا دے،اسے مارے نہیں،اور کاٹ کھانے والے کتے،چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو(مار سکتا ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یقتل المحرم من الدواب؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٤٨)
حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے(حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے)وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور،نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا،وہ کہتے ہیں انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چناچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں،اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا کھاؤ،تو وہ کہنے لگے لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں (احرام نہ باندھے ہوں)میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب لحم الصید للمحرم؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا زید بن ارقم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا،اور فرمایا ہم احرام باندھے ہوئے ہیں؟انہوں نے جواب دیاہاں(معلوم ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب لحم الصید للمحرم؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٥٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب لحم الصید للمحرم؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٥١)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے،انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا،پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا،انہوں نے انکار کیا،پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا،پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا،جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب لحم الصید للمحرم؛جلد٢؛ص١٧١؛حدیث نمبر؛١٨٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الجراد للمحرم؛جلد٢؛ص١٧٠؛حدیث نمبر؛١٨٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا،ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا،اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الجراد للمحرم؛جلد٢؛ص١٧١؛حدیث نمبر؛١٨٥٤)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الجراد للمحرم؛جلد٢؛ص١٧١؛حدیث نمبر؛١٨٥٥)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟“کہا: ہاں،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوا دو،پھر ایک بکری ذبح کرو،یا تین دن کے روزے رکھو،یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎“۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٢؛حدیث نمبر؛١٨٥٦)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو،اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٢؛حدیث نمبر؛١٨٥٧)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے،پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟انہوں نے کہا نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تین دن کے روزے رکھو،یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ،اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٢؛حدیث نمبر؛١٨٥٨)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(اور انہیں سر میں جوؤوں کی وجہ سے)تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٢؛حدیث نمبر؛١٨٥٩)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑگئیں،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں"فمن کان منکم مريضا أو به أذى من رأسه"کی آیت نازل فرمائی،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایاتم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو،یا چھ مسکینوں کو ایک فرق منقٰی کھلاؤ،یا پھر ایک بکری ذبح کرو چناچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٢؛حدیث نمبر؛١٨٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٦٠ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الفدیۃ؛جلد٢؛ص١٧٣؛حدیث نمبر؛١٨٦١)
حضرت حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے،یا لنگڑا ہوجائے تو وہ حلال ہوگیا،اب اس پر اگلے سال حج ہوگاعکرمہ کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا انہوں نے سچ کہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاحصاء؛جلد٢؛ص١٧٣؛حدیث نمبر؛١٨٦٢)
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہوجائے یا بیمار ہوجائے،پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، سلمہ بن شبیب نے"عن معمر"کے بجائے "أنبأنا معمر"کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاحصاء؛جلد٢؛ص١٧٣؛حدیث نمبر؛١٨٦٣)
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے،جب ہم اہل شام(مکہ کے محاصرین)کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چناچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کردی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا،چناچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا،تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاحصاء؛جلد٢؛ص١٧٣؛حدیث نمبر؛١٨٦٤)
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے (ابی داؤد، کتاب المناسک ،حدیث نمبر ١٨٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا(بلند گھاٹی)سے داخل ہوتے،(یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے) اور ثنیہ سفلی(نشیبی گھاٹی)سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب دخول مکۃ؛جلد٢؛ص١٧٤؛حدیث نمبر؛١٨٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ(جو ذی الحلیفہ میں تھا)کے راستے سے(مدینہ سے)نکلتے تھے اور معرس(مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے)کے راستہ سے(مدینہ میں) داخل ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب دخول مکۃ ؛جلد٢؛ص١٧٤؛حدیث نمبر؛١٨٦٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کدی کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے،البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب دخول مکۃ؛جلد٢؛ص١٧٤؛حدیث نمبر؛١٨٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب دخول مکۃ؛جلد٢؛ص١٧٤؛حدیث نمبر؛١٨٦٩)
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد ،کتاب المناسک ،حدیث نمبر ١٨٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں(یعنی فتح مکہ کے روز) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رفع الیدین اذا رای البیت؛جلد٢؛ص١٧٥؛حدیث نمبر؛١٨٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا،پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے،پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں اور انصار آپ کے نیچے تھے،ہاشم کہتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رفع الیدین اذا رای البیت؛جلد٢؛ص١٧٥؛حدیث نمبر؛١٨٧٢)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما،اور کہا میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رفع الیدین اذا رای البیت؛جلد٢؛ص١٧٥؛حدیث نمبر؛١٨٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب استلام الارکان؛جلد٢؛ص١٧٥؛حدیث نمبر؛١٨٧٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول "معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے"،تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم!میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا،میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (رکن عراقی اور رکن شامی)کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہوگا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب استلام الارکان؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے،راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب استلام الارکان؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٧٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا،آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٧٧)
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٧٨)
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا،آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، (محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے)پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا ومروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا،اور صفا ومروہ کی سعی کی،تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں،اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں،اور آپ سے پوچھ سکیں،کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٦؛حدیث نمبر؛١٨٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چناچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے،جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور(طواف کی)دو رکعتیں پڑھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٧؛حدیث نمبر؛١٨٨١)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کرلو تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور"والطوروکتاب مسطور" کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الطواف الواجب؛جلد٢؛ص١٧٧؛حدیث نمبر؛١٨٨٢)
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا۔ (اضطباع کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا ننگا رکھے،اور یہ صرف پہلے طواف میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاضطباع فی الطواف؛جلد٢؛ص١٧٧؛حدیث نمبر؛١٨٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاضطباع فی الطواف؛جلد٢؛ص١٧٧؛حدیث نمبر؛١٨٨٤)
حضرت ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے،انہوں نے کہا لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی،میں نے دریافت کیالوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟فرمایا انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے(واقعہ یہ ہے)کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مرجائیں گے،پھر جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ آپ آئندہ سال آکر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایاتین پھیروں میں رمل کرو،اور یہ سنت نہیں ہےمیں نے کہا آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا ومروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے،وہ بولے انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی،میں نے دریافت کیا کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟وہ بولے یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا ومروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے،دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٧؛حدیث نمبر؛١٨٨٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کردیا تھا،تو مشرکین نے کہا تمہارے پاس وہ لوگ آرہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنادیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے،تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کردیا،تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ(طواف کعبہ کے)پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں،تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کردیا ہے،یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٨؛حدیث نمبر؛١٨٨٦)
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کردیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کردیا ہے،اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٨؛حدیث نمبر؛١٨٨٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا،یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا،پھر استلام کیا،اور تکبیر بلند کی،پھر تین پھیروں میں رمل کیا،جب لوگ(یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم)رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہوجاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے،قریش کہتے تھے گویا یہ ہرن ہیں،ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو یہ فعل سنت ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٩٠)
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا،اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی الرمل؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٩١)
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود)کے درمیان"ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار"(سورۃ البقرہ؛٩٦)کہتے سنا،اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما،اور آخرت میں بھی،اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدعاء فی الطواف؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے،پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدعاء فی الطواف؛جلد٢؛ص١٧٩؛حدیث نمبر؛١٨٩٣)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس گھر(کعبہ)کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو،رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو۔فضل کی روایت میں ہے"إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا"رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنی عبد مناف!کسی کو مت روکو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدعاء فی الطواف؛جلد٢؛ص١٨٠؛حدیث نمبر؛١٨٩٤)
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے(جنہوں نے قران کیا تھا)صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف القارن؛جلد٢؛ص١٨٠؛حدیث نمبر؛١٨٩٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے،اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کرلیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف القارن؛جلد٢؛ص١٨٠؛حدیث نمبر؛١٨٩٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایابیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا ومروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے۔امام شافعی کہتے ہیں سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے،اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف القارن؛جلد٢؛ص١٨٠؛حدیث نمبر؛١٨٩٧)
حضرت عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا میں اپنے کپڑے پہنوں گا(میرا گھر راستے میں تھا)پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں،تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں،انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الملتزم؛جلد٢؛ص١٨١؛حدیث نمبر؛١٨٩٨)
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیاجب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے،پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا،اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ،اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا،پھر بولے اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الملتزم؛جلد٢؛ص١٨١؛حدیث نمبر؛١٨٩٩)
حضرت عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہوگئی)اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کردیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ ان سے کہتے کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟وہ کہتے ہاں،تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الملتزم؛جلد٢؛ص١٨١؛حدیث نمبر؛١٩٠٠)
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تب میں نے زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا تھا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ"صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں"(البقرہ:١٥٨)پس جو شخص حج یا عمرہ کرے اور ان کے درمیان سعی نہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ یا جنایت نہیں ہے اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اگر یہی بات ہوتی تو جو تم کہہ رہے ہو تو آیت قرآنی یوں ہوتی کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی تھی جبکہ وہ زمانہ جاہلیت میں منات کے واسطے حج کیا کرتے تھے اور منات قدید کے مقابل تھا یہ لوگ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کو برا سمجھتے تھے جب اسلام آیا(اور یہ لوگ مسلمان ہو گئے)تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب امر الصفا والمروۃ؛جلد٢؛ص١٨١؛حدیث نمبر؛١٩٠١)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب عمرہ کیا تو خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے رکھا تھا(تاکہ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں) حضرت عبداللہ سے پوچھا گیا کہ(جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائے)تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے تھے؟فرمایا نہیں(کیونکہ اس وقت تک وہاں بت رکھے ہوئے تھے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب امر الصفا والمروۃ؛جلد٢؛ص١٨٢؛حدیث نمبر؛١٩٠٢)
حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث(دوسری سند کے ساتھ)مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفاء و مروہ پر تشریف لائے اور ان کے درمیان سات مرتبہ سعی کی پھر سر منڈایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب امر الصفا والمروۃ؛جلد٢؛ص١٨٢؛حدیث نمبر؛١٩٠٣)
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم صفاء مروہ کے درمیان چلتے ہو جبکہ دوسرے لوگ دوڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر میں چلتا ہوں تو میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر دوڑوں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے نیز اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں(لہذا میرے لئے چلنا درست ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب امر الصفا والمروۃ؛جلد٢؛ص١٨٢؛حدیث نمبر؛١٩٠٤)
حضرت محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا کہ کون کون ہے؟یہ نابینا تھے اس لئے سوال کیا)یہاں تک کہ میری باری آئی۔ میں نے کہا میں محمد بن علی بن حسین ہوں،پس انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرا اوپر کا دامن اٹھایا پھر نیچے کا دامن اٹھایا اور اپنا ہاتھ میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھا ان دنوں میں جوان لڑکا تھا اور فرمایا تجھ کو خوشی ہو۔تو اپنے لوگوں میں آیا اے بھتیجے!جو تیرا جی چاہے پوچھ تو میں نے ان سے سوالات کئے وہ نابینا تھے جب نماز کا وقت آیا تو ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوئے جو اس قدر چھوٹا تھا کہ ایک کندھے پر ڈالتے تو دوسرا کندھا کھل جاتا آخر کار اس کپڑے کو رکھ کر نماز پڑھائی اور ان کی چادر برابر میں ایک تپائی پر رکھی تھی(نماز سے فراغت کے بعد)میں نے ان سے کہا کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کا اصول بتائیے۔انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے نو کا عدد بتلایا اور فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ میں نوسال تک رہے مگر حج نہیں فرمایا اس کے بعد دسویں سال لوگوں میں اعلان کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کو جانے والے ہیں۔یہ سن کر بہت سے لوگ مدینہ میں آکر جمع ہو گئے ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرے اور جو عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا وہی عمل خود بھی کرے پس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(حج کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے)ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم ذوالحلیفہ میں پہنچے تو اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معلوم کروایا کہ اب میں کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا غسل کرکے کپڑے کا ایک لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ذوالحلیفہ کی مسجد میں)نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیداء کے میدان پر کھڑی ہوئی تو جابر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا جہاں تک میری نگاہ جاتی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں آگے پیچھے پیدل اور سواروں کا ہجوم تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معنی سمجھتے تھے اور ہم لوگ تو وہی کام کرتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کر لبیک کہا۔یعنی میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اے اللہ!میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔تیرا کوئی شریک نہیں۔حاضر ہوں میں تیری خدمت میں سب تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور سلطنت بھی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔اور لوگوں نے بھی اسی طرح لبیک کہی جس طرح دوسروں نے لبیک کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہ فرمایا اور آپ لبیک کہتے رہے جابر کہتے ہیں کہ ہم نے صرف حج کی نیت کی تھی اور ہم(ایام حج میں)عمرہ کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پر آئے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں معمولی چال سے چلے پھر آگے مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور یہ آیت پڑھی (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰه مَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ : 125)(یعنی)"مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ"مقام ابراہیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور کعبہ کے درمیان میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں میں"قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" اور"قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ پڑھیں"(یعنی پہلی رکعت میں"قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ" اور دوسری رکعت میں"قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ")پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے پاس تشریف لائے اور اس کو بوسہ دیا اس کے بعد مسجد کے دروازے سے کوہ صفا کی طرف نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی(اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَا ى ِرِاللّٰهِ ) 2۔ البقرۃ : 158)(یعنی)"صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ شروع کرتے ہیں ہم سعی کو اس پہاڑ سے جس کا نام پہلے اللہ نے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سعی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر چڑھ گئے یہاں تک کہ خانہ کعبہ کو دیکھ لیا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تکبیر کہی اور اس کی تو حید بیان کی اور فرمایا کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور تعریف اسی کو سجتی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس کے اور وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے بندے(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد کی اور کافروں کے گروہوں کو شکست سے ہمکنار کیا۔اور یہ کام تن تنہا کیا۔پھر اس کے درمیان میں دعا کی اور انہی کلمات کو دہرایا۔اس کے بعد مروہ جانے کے لئے پہاڑ سے اتر آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم نشیب میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے اندر دوڑ کر چلے۔جب نشیب سے نکل کر اوپر چڑھنے لگے تو معمولی چال سے چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے اور وہاں بھی ایسا ہی کیا جیسا کہ صفا پر کیا تھا پھر جب آخر کا پھیرا مروہ پر ختم ہوا تو فرمایا اگر مجھے پہلے وہ حال معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور حج کے بدلہ عمرہ کرتا لیکن تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے اور حج کو عمرہ میں بدل دے سب لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور بال کتروائے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور جس کے ساتھ ہدی تھی اس نے احرام نہیں کھولا۔سراقہ بن جعثم کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(حج کو عمرہ میں بدل دینے کا حکم)اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا دو مرتبہ عمرہ حج میں شریک ہوگیا۔نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لے کر آئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے احرام کھول ڈالا ہے اور وہ رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو فعل منکر خیال کیا اور پوچھا تمہیں ایسا کرنے کے لئے کس نے حکم دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد (محمدصلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت جابر نے کہا کہ حضرت علی عراق میں کہتے تھے کہ میں فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شکایت کرنے کی غرض سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے اور جب میں نے منع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لینے لگی۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔سچ کہتی ہیں پھر پوچھا تم نے احرام باندھتے وقت کیا نیت کی تھی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میرے ساتھ تو ہدی ہے پس اب احرام نہ کھولنا جابر نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدی کے جتنے جانور مدینہ سے لائے تھے اور جتنے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے لائے تھے سب ملا کر سو ہوئے پس سب لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور بال کتروائے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور جن کے ساتھ ہدی تھی انہوں نے احرام نہیں کھولا۔جب یوم الترویہ ہوا(یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ ہوئی)تو سب لوگ منی کی طرف متوجہ ہوئے اور حج کا احرام باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور منیٰ پہنچ کر ظہر وعصر کی اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھی پھر دوسرے دن فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمہ لگانے کا حکم فرمایا جو بالوں کا بنا ہوا تھا۔وادی نمرہ میں(یہ حرم کی حد ہے)پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ سے عرفات کی طرف چلے اور قریش کو اس بات کا یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ٹھہریں گے جیسا کہ وہ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے نہیں بلکہ آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچے تو دیکھا کہ وادی نمرہ میں قبہ تیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں اترے جب آفتاب ڈھل گیا تو قصواء(اونٹنی کا نام)کو لانے کا حکم فرمایا اس پر پالان کسا گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔فرمایا تمہاری جانیں اور مال تم پر حرام ہیں جیسا کہ اس شہر میں اس مہینہ میں آج کا دن حرمت والا ہے سنو آج زمانہ جاہلیت کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہوگئی ہے اور زمانہ جاہلیت کے سب خون معاف کردیئے گئے اور سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربعیہ بن الحارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔جو بنی سعد کا ایک دودھ پیتا بچہ تھا اور جس کو قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے قتل کر ڈالا تھا اور جتنے سود زمانہ جاہلیت کے تھے سب موقوف ہوئے اور پہلا سود جو میں معاف کرتا ہوں وہ میرے چچا(عباس بن عبدالمطلب)کا سود ہے کیونکہ اب سود ختم ہو چکا ہے اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو(یعنی ان کی حق تلفی نہ کرو)کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے اور اللہ کے حکم سے تم نے ان کی شرمگاہوں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو فضل ان عورتوں کی طرف دیکھنے لگے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ فضل کے منہ پر رکھ دیا اور فضل نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھر ہاتھ رکھا انہوں نے دوسری طرف منہ پھیر لیا اور دیکھتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی محسر میں آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں پہنچے تو اپنی سواری کو تھوڑی سے حرکت دی(یعنی تیز چلایا)پھر دوسرے بیچ والے راستہ سے چلے جو جمرہ عقبہ پر لے جاتا ہے یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے پھر اس پر سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر کہا اور ہر کنکری ایسی تھی جسے انگلی میں رکھ کر پھینکتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر وہاں سے لوٹ کر اپنے نحر کرنے کی جگہ آئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹوں کی نحر کی اور باقی کے واسطے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی اونٹوں کو نحر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہدی میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شریک کیا پھر حکم کیا ہر اونٹ میں سے ایک ایک پرچا(ٹکڑا) گوشت لینے کا وہ سب ٹکرے دیگ میں پکائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو کھایا اور انکا شوربا پیا سلیمان نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے بیت اللہ کی طرف چلے اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی اس کے بعد بنی عبدالمطلب کے پاس آئے اس حال میں کہ وہ زمزم کا پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بنی عبدالمطلب!پانی کھینچو اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر تمہیں مغلوب کرلیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا انہوں نے ایک ڈول کھینچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پانی پیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص١٨٢ تا١٨٦؛حدیث نمبر؛١٩٠٥)
حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر اور عصر عرفات میں ایک ہی اذان سے پڑھیں اور ان کے درمیان کے نفل نہیں پڑھے لیکن تکبیریں دو کہیں۔اسی طرح مغرب و عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت سے پڑھا اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس روایت کو حاتم بن اسماعیل نے طویل حدیث میں مسندا روایت کیا ہے جس پر محمد بن علی جعفی نے بروایت جعفر بواسطہ والد(محمد بن علی)نے حضرت جابر سے روایت کرتے ہوئے ان کی موافقت بھی کی ہے بجز اس کے محمد بن علی جعفی نے اس میں یہ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان و اقامت سے ادا کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص١٨٦؛حدیث نمبر؛١٩٠٦)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اس جگہ نحر کیا اور سارا منیٰ نحر کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے اور فرمایا میں اس جگہ ٹھہرا اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے اور فرمایا سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص١٨٧؛حدیث نمبر؛١٩٠٧)
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی سند کے ساتھ روایت مذکور ہے اس میں"فانحروا فی رحالکم"کا اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص١٨٧؛حدیث نمبر؛١٩٠٨)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ طویل حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے مگر اس میں"وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی"پڑھنے کے بعد یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو رکعتوں میں توحید(قُل ہوَ اللہ اَحَد)اور"قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ"پڑھا اور اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول(بجائے عراق کے)کوفہ میں مذکور ہے نیز اس میں یہ لفظ نہیں ہے کہ میں ان کی شکایت کرنے گیا بلکہ تمام قصہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص١٨٧؛حدیث نمبر؛١٩٠٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ٹھہرا کرتے تھے اور اس قیام کو حمس کہتے تھے اور باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے جب دین اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں جائیں اور وہاں ٹھہریں اور پھر وہاں سے واپس ہوں یہ حکم اس آیت میں ہے(ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ)2۔البقرۃ:199) (یعنی پھر لوٹو وہاں سے جہاں سے سب لوٹتے ہیں یعنی عرفات سے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الوقوف بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٧؛حدیث نمبر؛١٩١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھویں تاریخ کی ظہر اور نویں تاریخ کی فجر منیٰ میں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخروج الی منی؛جلد٢؛ص١٨٨؛حدیث نمبر؛١٩١١)
حضرت عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ مجھے وہ بات بتائے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد رکھی ہو یعنی آپ نے آٹھویں تاریخ کی ظہر کہاں پڑھی؟انہوں نے کہا ابطح میں پھر فرمایا اب تو وہ کر جو تیرے امیر کریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخروج الی منی؛جلد٢؛ص١٨٨؛حدیث نمبر؛١٩١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر منیٰ سے(عرفات کے لئے) روانہ ہوئے جب عرفات کے قریب پہنچے تو مقام نمرہ میں اترے اور یہی عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فورا عرفات کی طرف روانہ ہوئے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھی پھر خطبہ پڑھا اس کے بعد روانہ ہوئے اور عرفات کے موقف میں وقوف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخروج الی عرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٨؛حدیث نمبر؛١٩١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر ڈالا تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مسئلہ دریافت کیا کہ آج کے دن(عرفہ کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے کس وقت نکلے تھے؟کہا جس وقت ہم نکلیں گے پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ ابھی سورج نہیں ڈھلا(اس وقت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا ہو چکے تھے)انہوں نے(کچھ دیر کے بعد پھر) پوچھا کہ کیا آفتاب ڈھل گیا؟لوگوں نے کہا نہیں پھر جب لوگوں نے بتایا کہ آفتاب ڈھل گیا ہے تو وہ نماز کے لئے نکلے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الرواح الی عرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٨؛حدیث نمبر؛١٩١٤)
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنی ضمرہ کے ایک شخص کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے اپنے باپ سے یا چچا سے سنا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں منبر پر(خطبہ دیتے ہوئے)دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٩؛حدیث نمبر؛١٩١٥)
سلمہ بن نبیط سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٩؛حدیث نمبر؛١٩١٦)
حضرت خالد بن عداء بن ہوزہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں ایک اونٹ پر اس کی دونوں رکابوں پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح ہناد نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٩؛حدیث نمبر؛١٩١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١٧ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٩؛حدیث نمبر؛١٩١٨)
حضرت یزید بن شیبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن مربع انصاری ہمارے پاس آئے اور ہم عرفات میں ایسی جگہ اترے تھے جس کو عمرو امام سے دور خیال کرتے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم اپنی نشانیوں کی جگہ کھڑے ہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃ؛جلد٢؛ص١٨٩؛حدیث نمبر؛١٩١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے اطمینان و سکون کے ساتھ واپس ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسامہ سوار تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگو اطمینان کے ساتھ چلو کیونکہ گھوڑوں اور اونٹوں کے دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ اس کے بعد میں نے کسی گھوڑے یا کسی اونٹ کو نہیں دیکھا جو ہاتھ(آگے کے دو پاؤں)اٹھائے دوڑتا ہو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں آئے وہب نے یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر وہاں سے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا اے لوگو!نیکی اونٹ یا گھوڑے کے دوڑانے کا نام نہیں ہے پس اطمینان و سکون اختیار کرو(یعنی آہستہ چلو)ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے کسی گھوڑے یا اونٹ کو نہ دیکھا جو ہاتھ اٹھائے دوڑتا ہو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں پہنچ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩٠؛حدیث نمبر؛١٩٢٠)
حضرت کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شام کو سوار ہو کر آئے تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟انہوں نے کہا کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ رات کو اترنے اور سونے کے لئے اپنے اونٹوں کو بٹھاتے ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا اونٹ بٹھایا پھر استنجاء فرمایا کریب کہتے ہیں کہ اسامہ نے پانی بہانے کا ذکر نہیں کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا لیکن وضو میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا(ہلکا وضو کیا یعنی اعضاء وضو کو ایک مرتبہ دھویا تین مرتبہ نہیں دھویا)اسامہ کہتے ہیں پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آگے چل کر پڑھیں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں میں اونٹ بٹھائے اور ابھی ان کی پیٹھ سے بوجھ اتار بھی نہ پائے تھے کہ عشاء کی تکبیر ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اس کے بعد لوگوں نے اپنے اونٹوں سے بوجھ اتارے محمد بن کثیر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ کریب نے کہا کہ میں نے اسامہ سے پوچھا کہ پھر جب صبح ہوئی تو تم نے کیا کیا؟انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس سوار ہوئے اور میں قریش کے لوگوں کے ساتھ پیدل روانہ ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩٠؛حدیث نمبر؛١٩٢١)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا پھر درمیانہ چال سے اونٹ چلانے لگے اور لوگ اپنے اونٹوں کو دائیں بائیں چلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے اور فرماتے تھے اے لوگو!اطمینان سے چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے جب سورج غروب ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩٠؛حدیث نمبر؛١٩٢٢)
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید سے سوال کیا گیا اور میں اس وقت انہیں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حجة الوداع میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹے تو اونٹ کو کس طرح چلاتے تھے؟انہوں نے کہا کہ عنق چال سے چلتے تھے(عنق دوڑنا مگر کم رفتار سے)اور جب راہ کشادہ پاتے تو نص چال سے چلاتے تھے ہشام کہتے ہیں کہ نص عنق سے زیادہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٣)
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ(ایک اونٹ پر) سوار تھا جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(عرفات سے) لوٹے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے لوٹے یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھاٹی میں اترے اور پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن مکمل وضو نہیں کیا(اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو شرعی نہیں کیا بلکہ وضو لغوی کیا یعنی ہاتھ منہ دھویا یا یہ کہ اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ نہیں دھویا بلکہ ایک مرتبہ دھونے پر اکتفاء کیا)میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آگے چل کر پڑھیں گے پھر سوار ہوئے جب مزدلفہ میں پہنچے تو وہاں اترے اور پورا وضو کیا نماز کی تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر ہر ایک آدمی نے اپنا اونٹ اپنے ٹھکانے میں بٹھایا اس کے بعد عشاء کی تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اور مغرب و عشاء کے درمیان میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الدفعۃ من عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٦)
زہری سے اسی سند و مفہوم کی روایت مذکور ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ الگ الگ تکبیر سے اور احمد نے وکیع سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں نمازیں ایک ہی تکبیر سے پڑھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٧)
حضرت زہری سے سابقہ سند و مفہوم کے ساتھ روایت مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہر نماز کے لئے ایک تکبیر کہی اور پہلی نماز کے لئے اذان نہ دی اور نہ ان دونوں نمازوں میں سے کسی نماز کے بعد نفل پڑھے مخلد نے کہا کسی نماز کے لئے اذان نہ دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩١؛حدیث نمبر؛١٩٢٨)
حضرت عبداللہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں تو مالک بن حارث نے پوچھا یہ کس طرح کی نماز ہے؟انہوں نے کہا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٢؛حدیث نمبر؛١٩٢٩)
عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک تکبیر کے ساتھ پڑھی اس کے بعد ابن کثیر کی حدیث(سابقہ حدیث)کا مضمون ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٢؛حدیث نمبر؛١٩٣٠)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عرفات سے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ لوٹے جب مزدلفہ میں پہنچے تو انہوں نے ہم کو مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں ایک ہی تکبیر سے۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اس جگہ اسی طرح نماز پڑھائی تھی(یعنی دونوں نمازیں ایک ہی تکبیر سے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٢؛حدیث نمبر؛١٩٣١)
سلمہ بن کہیل سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مزدلفہ میں تکبیر کہی اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں پھر عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں اس کے بعد فرمایا میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے اس جگہ ایسا ہی کیا تھا اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ ایسا ہی کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٢؛حدیث نمبر؛١٩٣٢)
اشعث بن سلیم سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ کو آیا راستے میں وہ برابر تکبیر وتہلیل میں مشغول رہے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے پس انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی یا یہ کہا کہ انہوں نے کسی شخص کو حکم کیا اس نے اذان دی اور اقامت کہی اس کے بعد انہوں نے ہم کو مغرب کی تین رکعت پڑھائیں اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ایک اور نماز پڑھو اور انہوں نے ہم کو عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں اس کے بعد انہوں نے اپنا رات کا کھانا طلب کیا اشعث کہتے ہیں کہ علاج بن عمرو نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح میرے والد سُلیم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب اس طریقہ کے متعلق ابن عمر سے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٢؛حدیث نمبر؛١٩٣٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی غیر وقت پر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے مزدلفہ کے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب و عشاء کی نماز جمع کی اور اگلے دن صبح کی نماز معمول کے وقت(اسفار)سے پہلے پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٣؛حدیث نمبر؛١٩٣٤)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب(مزدلفہ میں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قزح(پہاڑ کا نام)کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا یہ قزح ہے اور یہ وقوف کی جگہ ہے اور سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے(اور منیٰ تشریف لائے تو فرمایا)میں نے یہاں نحر کیا اور منیٰ نحر کی جگہ ہے پس تم اپنے ٹھکانوں پر نحر(قربانی)کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٣؛حدیث نمبر؛١٩٣٥)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں عرفات میں یہاں پر ٹھہرا۔اور عرفات سارا کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے اور میں مزدلفہ میں یہاں پر ٹھہرا اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے(اور منیٰ میں فرمایا کہ)میں نے یہاں قربانی کی اور سارا منیٰ قربانی کی جگہ ہے پس تم اپنے اپنے ٹھکانوں پر قربانی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٣؛حدیث نمبر؛١٩٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا منیٰ نحر (قربانی)کی جگہ ہے اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہ ہیں اور قربانی کی جگہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٣؛حدیث نمبر؛١٩٣٧)
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دور جہالت کے لوگ(مزدلفہ سے)نہیں لوٹتے تھے تاوقتیکہ ثبیر پہاڑ پر سورج کو نہ دیکھ لیتے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے(مزدلفہ سے لوٹ آئے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بجمع؛جلد٢؛ص١٩٤؛حدیث نمبر؛١٩٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزور جان کر(عورت اور بچے)مزدلفہ کی رات میں آگے(منیٰ کی طرف)بھیج دیا تھا(تا کہ ان کو ہجوم کے وقت تکلیف نہ ہو)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٤؛حدیث نمبر؛١٩٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مزدلفہ کی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اور بنی مطلب کے لڑکوں کو گدھوں پر سوار کرا کے آگے(منیٰ کی طرف)بھیج دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری رانوں پر نرمی سے مارتے تھے اور فرماتے تھے کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ سورج نہ نکل آئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا لطح کے معنی ہیں آہستگی سے مارنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٤؛حدیث نمبر؛١٩٤٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لوگوں میں سے جو کمزور ہوتے تھے(جیسے عورتیں اور بچے) ان کو اندھیرے منہ ہی(منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیتے تھے اور فرمادیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ سورج نہ نکلے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٤؛حدیث نمبر؛١٩٤١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یوم النحر میں رات ہی کو(منیٰ کی طرف)روانہ فرما دیا تھا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں ماریں اور خانہ کعبہ میں جا کر طواف افاضہ کر آئیں اور یہ(یوم النحر)وہ دن تھا جس دن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ رہتے تھے(یعنی ان کی باری کا دن تھا) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٤؛حدیث نمبر؛١٩٤٢)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کنکریاں ماریں اور کہا کہ ہم نے رات ہی میں کنکریاں مار لیں اور ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٥؛حدیث نمبر؛١٩٤٣)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان سے لوٹے اور فرمایا کہ چھوٹی کنکریاں مار لیں اور وادی محسر میں سواری کو تیز دوڑایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التعجیل من جمع؛جلد٢؛ص١٩٥؛حدیث نمبر؛١٩٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر یوم النحر کو(دسویں ذی الحجہ کو) جمرات کے پاس کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا یہ کونسا دن ہے؟لوگوں نے کہا یوم النحر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ حج اکبر کا دن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یوم الحج الاکبر؛جلد٢؛ص١٩٥؛حدیث نمبر؛١٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں یوم النحر کو مجھے یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے اور حج اکبر کا دن قربانی کا دن ہے اور حج اکبر(بڑاحج)سے مراد حج ہے(اور حج اصغر سے مراد عمرہ ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یوم الحج الاکبر؛جلد٢؛ص١٩٥؛حدیث نمبر؛١٩٤٦)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج میں خطبہ پڑھا تو فرمایا زمانہ پلٹ کر ویسا ہی ہو گیا ہے جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تھا سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں چار حرام(حرمت و عظمت والے)ہیں(اور ان چار میں سے)تین پے درپے ہیں یعنی ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم اور رجب جو کہ جمادی الآخرہ اور شعبان کے درمیان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاشھر الحرم؛جلد٢؛ص١٩٥؛حدیث نمبر؛١٩٤٧)
محمد بن سیرین،ابن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٩٤٧ کے مثل مروی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا اس حدیث میں ابن عون نے ابوبکرہ کا نام عبدالرحمن روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاشھر الحرم؛جلد٢؛ص١٩٦؛حدیث نمبر؛١٩٤٨)
عبدالرحمن بن یعمر الدیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں تھے تو چند نجد کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا پس اس نے پکار کر پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کس طرح ہوتا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے بلند آواز میں جواب دیا کہ حج عرفہ کے دن ہے جو شخص دسویں شب کو فجر سے پہلے عرفہ میں آجائے گا تو اس کا حج پورا ہو جائے گا اور منیٰ میں رہنے کے تین دن ہیں جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھالیا اور وہ یہی پکارتے چلا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس کو مہران نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے الحج الحج دو مرتبہ کہا ہے۔اور یحیی بن سعید القطان نے سفیان سے الحج صرف ایک مرتبہ ذکر کیا ہے۔ وقوف عرفہ فرض ہے اس کا وقت نویں تاریخ کے زوال سے لے کر دسویں تاریخ کی شب میں طلوع فجر تک ہے اس کے درمیان اگر ایک ساعت بھی ٹھہر گیا تو اس کا حج صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من لم یدرک عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩٦؛حدیث نمبر؛١٩٤٩)
حضرت عروہ بن مضرس الطائی سے روایت ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موقف میں آیا یعنی مزدلفہ میں،میں نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طے کے پہاڑوں میں سے چلا آتا ہوں میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا ہے اور خود کو بھی تھکایا ہے اللہ کی قسم!مجھے راستہ میں کوئی پہاڑ نہیں ملا جس پر میں نہ ٹھہرا ہوں تو کیا میرا حج درست ہو گیا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ اس نماز کو پائے(یعنی مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز)اور وہ اس سے پہلی رات کو یا دن کو عرفات میں ٹھہرچکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا پس وہ اپنا میل کچیل دور کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من لم یدرک عرفۃ؛جلد٢؛ص١٩٦؛حدیث نمبر؛١٩٥٠)
حضرت عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں کے سامنے تقریر کی اور ان کو اپنے ٹھکانوں میں اتارا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کے داہنی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا انصار یہاں اتریں پھر باقی لوگوں کے لئے حکم ہوا کہ وہ ان کے(مہاجرین و انصارکے)ارد گرد اتریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب النزول بمنی؛جلد٢؛ص١٩٧؛حدیث نمبر؛١٩٥١)
قبیلہ بنی بکر کے دو شخصوں سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے قریب کھڑے ہوئے تھے ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے اور یہ خطبہ ایام تشریق کے بیچ والے دن تھا اور یہی وہ خطبہ تھا جو منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ای یوم یخطب بمنی؛جلد٢؛ص١٩٧؛حدیث نمبر؛١٩٥٢)
حضرت ربیعہ بن عبدالرحمن بن حصین سے روایت ہے کہ میری دادی سراء بنت نبہان جو کہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت خانہ کی مالکہ تھیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو یوم الروئس میں(قربانی کے دوسرے دن)خطبہ سنایا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے؟ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ایام تشریق کے بیچ کا دن ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق کے درمیانی دن خطبہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ای یوم یخطب بمنی؛جلد٢؛ص١٩٧؛حدیث نمبر؛١٩٥٣)
حضرت ہرماس بن زیاد باہلی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی اونٹنی عضباء پر منیٰ میں قربانی کے دن خطبہ پڑھتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من قال:خطب یوم النحر؛جلد٢؛ص١٩٨؛حدیث نمبر؛١٩٥٤)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے منیٰ کے دن(یعنی دسویں تاریخ میں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب من قال:خطب یوم النحر؛جلد٢؛ص١٩٨؛حدیث نمبر؛١٩٥٥)
حضرت رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ(دسویں تاریخ میں)جس وقت کہ آفتاب بلند ہوا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفید رنگ کے خچر پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ(دور کے لوگوں کے سامنے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترجمانی کر رہے تھے اور کچھ لوگ کھڑے تھے اور کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ای وقت یخطب یوم النحر؛جلد٢؛ص١٩٨؛حدیث نمبر؛١٩٥٦)
حضرت عبدالرحمن بن معاذ تیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ منیٰ میں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ سنایا پس ہمارے کان کھل گئے یہاں تک کہ ہم اپنے اپنے ٹھکانوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سن رہے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو ارکان حج سکھانے شروع کئے یہاں تک کہ کنکریاں مارنے کے بیان تک پہنچے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کیں اور(بلند آواز سے)فرمایا چھوٹی چھوٹی کنکریاں مارنا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین کو حکم فرمایا پس وہ مسجد کے اگلے حصے میں اترے اور پھر انصار کو حکم فرمایا وہ مسجد کے پچھلے حصے میں اترے اس کے بعد باقی لوگ اترے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب ما یذکر الإمام فی خطبتہ بمنی؛جلد٢؛ص١٩٨؛حدیث نمبر؛١٩٥٧)
حضرت عبدالرحمن بن فروخ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگوں کا مال بیچا کرتے ہیں(جسکی بناء پر ہمارے ساتھ بہت سا مال رہتا ہے جسکی حفاظت ضروری ہے) تو کیا ہم میں سے کوئی شخص(منیٰ سے آکر)مکہ میں اپنے مال کے پاس رہ سکتا ہے؟فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کو منیٰ ہی میں رہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٨؛حدیث نمبر؛١٩٥٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منیٰ والی راتوں میں پانی پلانے کی غرض سے مکہ میں رہنے کی اجازت چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دیدی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٥٩)
حضرت عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں پس عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو رکعت ہی نماز پڑھی ہیں(یعنی قصر کیا)اور ابوبکر کے ساتھ اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں(اور مسدد نے)حفص کے حوالہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ اور حضرت عثمان کے آغاز خلافت میں خود ان کے ساتھ بھی دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں مگر وہ بعد میں پوری پڑھنے لگے تھے(اس کے بعد مسدد نے) معاویہ کے واسطہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ(حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اداء صلوة کے سلسلہ میں)پھر تمہارے طریقے مختلف ہو گئے(یعنی کچھ لوگوں نے اتمام کو اختیار کیا اور کچھ لوگ قصر ہی کرتے رہے)اور مجھے تو چار کے مقابلہ میں وہ دو رکعت ہی پیاری ہیں جو قبول ہوں اعمش کہتے ہیں کہ معاویہ بن قرہ نے اپنے بعض شیوخ کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ(ایک مرتبہ)عبداللہ بن مسعود نے بھی(حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چار رکعتیں پڑھی ہیں اس پر کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ تم نے(اتمام صلوة کے سلسلہ میں)حضرت عثمان پر طعن کیا تھا اور اب تم خود چار پڑھنے لگے فرمایا(امام کی)خلاف ورزی بری ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ بمنی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٦٠)
حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں اس لئے پڑھی تھیں کیونکہ انہوں نے حج کے اقامت کی نیت کرلی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٦١)
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ چار رکعتیں اس لئے پڑھی تھیں کیونکہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٦٢)
حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے طائف میں مکانات بنا لئے اور وہیں اقامت کا ارادہ کر لیا تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں اس کے بعد لوگوں نے یہی طریقہ اختیار کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٦٣)
حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں پوری نماز اس لئے پڑھی تھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے پس انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اصل میں اس نماز میں رکعتیں چار ہی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب یبیت بمکۃ لیالی منی؛جلد٢؛ص١٩٩؛حدیث نمبر؛١٩٦٤)
حضرت حارثہ بن وہب الخزاعی جنکی والدہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں اور جن کے بطن سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے تھے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور وہاں بہت لوگ تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو حجة الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب القصر لاھل مکۃ؛جلد٢؛ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛١٩٦٥)
حضرت سلیمان بن عمرو بن الاحوص اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطن وادی سے رمی جمار کرتے دیکھا ہے(جمرہ عقبہ پر)اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھا میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا وہ فضل بن عباس ہیں تبھی لوگوں نے ہجوم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگو ایک دوسرے کو ہلاک مت کرو(یعنی ہجوم کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالو)اور جب تم کنکریاں مارو تو چھوٹی کنکریاں مارنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛١٩٦٦)
حضرت سلیمان بن عمرو بن الاحوص اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس(اونٹ پر)سوار دیکھا ہے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں انگلیوں کے بیچ میں کنکریاں تھیں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کنکری پھینکی اور دوسرے لوگوں نے بھی پھینکی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛١٩٦٧)
یزید بن ابی الزیاد سے بھی اسی طرح مروی ہے اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(رمی جمار سے فراغت کے بعد جمرہ عقبہ پر)ٹھہرے نہیں رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛١٩٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نحر کے بعد تین دن تک رمی جمار کے لئے آتے تھے پیدل آتے اور پیدل واپس جاتے اور فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛١٩٦٩)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو قربانی کے دن اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے :"تاکہ تم اپنا مناسک حج سیکھ سکو"۔ اور فرمایا:"مجھے معلوم نہیں شاید کہ میں اپنے اس حج کےبعد حج نہ کرسکوں"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠١؛حدیث نمبر؛١٩٧٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نحر کے دن چاشت کے وقت اور اس کے بعد(دوسرے دن)زوال آفتاب کے بعد اونٹنی پر سوار ہو کر رمی جمار کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠١؛حدیث نمبر؛١٩٧١)
حضرت وبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کنکریاں کب ماروں؟انہوں نے کہا جب تیرا امام کنکریاں مار چکے تب تو کنکریاں مار پھر میں نے بھی ان کے سامنے مسئلہ پیش کیا(یعنی خود ان کے ذاتی عمل کے بارے میں دریافت کیا)انہوں نے کہا کہ ہم تو زوال آفتاب کے منتظر رہتے تھے جب آفتاب ڈھل جاتا تب کنکریاں مارتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠١؛حدیث نمبر؛١٩٧٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(عیدالاضحی کے)دن آخر میں فرض طواف ادا کیا جبکہ مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی پھر منیٰ میں آکر تشریق کے دنوں میں وہاں ٹھہرتے آفتاب ڈھلنے پر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے اور پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس دیر تک ٹھہرتے اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے مگر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مار کر نہیں ٹھہرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠١؛حدیث نمبر؛١٩٧٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں طرف کیا اور منیٰ کو داہنی طرف اور جمرہ پر سات کنکریاں ماری اس کے بعد کہا اسی طرح کنکریاں ماری تھیں اس ذات گرامی نے جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی(یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠١؛حدیث نمبر؛١٩٧٤)
حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ چرانے والوں کو رخصت دی رات کو منیٰ میں رہنے کی اور ان کو یوم النحر کو رمی کرنے کا حکم فرمایا پھر دوسرے اور تیسرے دن دو دن کے لئے(اور اگر منیٰ میں رہیں)تو چوتھے دن بھی رمی کریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٧٥)
حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ چرانے والوں کو رخصت دی کہ ایک دن وہ رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں(اور پھر رمی کریں یعنی ایک دن چھوڑ کر رمی کریں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٧٦)
حضرت ابومجلز سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رمی جمار کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٧٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لئے سب چیزیں حلال ہو جائیں گی سوائے عورتوں کے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایایہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ حجاج نے نہ زہری کو دیکھا اور نہ ان سے کچھ سنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی رمل الجمار؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بال کتروانے والوں پر بھی(رحم کی دعا فرمائیے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بال کتروانے والوں پر بھی(رحم کی دعا فرمایئے تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ) اے اللہ!بال کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع میں اپنا سر منڈایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛١٩٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لائے اور قربانی کا جانور منگا کر اس کو ذبح فرمایا پھر سر مونڈنے والے کو بلایا اور داہنی طرف کا آدھا سر منڈا کر ایک دو بال وہاں پر موجود لوگوں میں تقسیم فرمائے پھر بائیں جانب سر منڈایا اور دریافت فرمایا کہ ابوطلحہ یہاں موجود ہیں؟پھر وہ سب بال ابوطلحہ کو مرحمت فرما دیئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨١)
ہشام بن حسان سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق(سر مونڈنے والے)سے فرمایا:میرے دائیں جانب سے شروع کرو اور اسے مونڈو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منیٰ میں(حج کے متعلق)کچھ سوالات کئے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر سوال کے جواب میں فرمایا کچھ حرج نہیں ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈادیا(تو اب میں کیا کروں؟)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قربانی کر اور کوئی مضائقہ نہیں(ایک دوسرے شخص نے سوال کیا کہ مجھے شام ہوگئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی پس اب میں کیا کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رمی کرلے کوئی بات نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر حلق نہیں ہے ان پر صرف قصر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے(ایک دوسری سند کے ساتھ) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر حلق نہیں ہے ان پر صرف قصر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحلق والتقصير؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛ترجمہ؛عمرہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛١٩٨٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ذی الحجہ میں صرف اس خیال سے عمرہ کرایا تھا کہ مشرکین کا خیال غلط ہو کیونکہ قریش کے لوگ اور وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے یہ کہتے تھے کہ عمرہ کرنے والے کا عمرہ تبھی درست ہوگا جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور اس کے پیٹ کا زخم اچھا ہو جائے اور ماہ صفر آجائے اور وہ عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے یہاں تک کہ ذی الحجہ اور محرم کا مہینہ گزر جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛١٩٨٧)
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے مروان کے قاصد نے خبر دی جو کہ ام معقل کے پاس پیغام لے کر گیا تھا کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابومعقل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے جب وہ(ابو معقل گھر میں) آئے تو ام معقل نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مجھ پر حج لازم ہے پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ام معقل نے کہا کہ یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر حج فرض ہے اور ابومعقل کے پاس ایک اونٹ ہے ابومعقل نے کہا یہ سچ کہتی ہے میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو وہ اونٹ ام معقل کو دیدے تاکہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کرے ابومعقل نے وہ اونٹ ام معقل کو دیدیا ام معقل نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک بیمار اور بوڑھی عورت ہوں کوئی کام ایسا بتا دیجئے جو حج کا بدل بن جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان میں ایک عمرہ کرنا حج کا بدل ہو سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛١٩٨٨)
یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنی دادی ام معقل سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا مگر ابومعقل نے اس کو اللہ کے راستے میں دیدیا تھا ہم بیمار ہوئے اور ابومعقل اسی بیماری میں فوت ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کو تشریف لے گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج سے فارغ ہو کر آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے ام معقل!تم ہمارے ساتھ حج کے لئے کیوں نہ گئیں؟میں نے عرض کیا میں نے تیاری کرلی تھی لیکن ابومعقل انتقال کر گئے نیز ہمارے پاس صرف ایک اونٹ تھا جس پر ہم حج کرتے مگر ابومعقل نے (مرتے وقت)وصیت کر دی کہ اس اونٹ کو اللہ کے راستہ میں دے دیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو تُو اسی اونٹ پر حج کے لئے کیوں نہ نکلی کیونکہ حج بھی تو فی سبیل اللہ ہے خیر اب تو ہمارے ساتھ تیرا حج جاتا رہا پس تو رمضان میں عمرہ کر لے کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا(ثواب میں)حج کے برابر ہے ام معقل کہا کرتی تھیں کہ حج پھر حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں یہ فرمایا تھا(کہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے)پتہ نہیں یہ حکم میرے لئے ہی خاص تھا یا(عام حکم تھا) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛١٩٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا ایک عورت(ام معقل)نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی اجازت دیدے اس نے کہا کہ میرے پاس کیا ہے جس پر سوار کرکے تجھے حج کراؤں؟ عورت بولی اپنے فلاں اونٹ پر شوہر نے کہا وہ اونٹ تو اللہ کے راستہ میں دینے کے لئے روکا ہوا ہے پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنا چاہتی ہے وہ مجھ سے کہتی ہے کہ میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے بھیج دوں میں نے اس سے کہا میرے پاس کون سی سواری ہے جس پر تجھے حج کراؤں؟وہ بولی فلاں اونٹ پر میں نے کہا وہ تو اللہ کے راستہ میں دینے کی نیت سے روکا ہوا ہے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس کو اس اونٹ پر حج کرا دیتا تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہوتا نیز اس نے مجھ سے یہ بھی کہا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر(ثواب میں)دوسری عبادت کونسی ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو میرا سلام کہنا اور بتا دینا کہ رمضان کے مہینہ میں عمرہ کرنا(ثواب اور فضیلت میں)میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛١٩٩٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو عمرے کئے ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛١٩٩١)
حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟انہوں نے کہا کہ دو عمرے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ابن عمر یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین عمرے کئے ہیں سوا اس عمرہ کے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛١٩٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے ایک عمرہ حدیبہ کا دوسرا اگلے سال مصالحت کے بعد کا تیسرا جعرانہ اور چوتھا وہ عمرہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛١٩٩٣)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ سب ذی قعدہ میں تھے سوائے اس عمرہ کے جو حج کے ساتھ تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس کے بعد حدیث ہدبہ کے الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں جو میں نے ابوولید سے بھی سنے ہیں مگر مجھے ابوولید کے الفاظ ٹھیک سے یاد نہیں وہ زمن الحدیبہ تھے یا من الحدیبہ عمرہ حدیبہ اور عمرہ جعرانہ دونوں ذی قعدہ میں تھے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذیقعدہ میں حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور ایک عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے ساتھ تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛١٩٩٤)
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا اے عبدالرحمن!اپنی بہن عائشہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر لے جا اور ان کو تنعیم سے عمرہ کرا لا جب تو پہاڑ سے چڑھ کر تنعیم میں اترے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہنا کہ احرام باندھ لے کیونکہ یہ عمرہ قبول ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المھلۃ بالعمرۃ تحیض فیدرکھا الحج فتنقض عمر تھا وتھل بالحج ھل تقضی عمرتھا؛جلد٢؛ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛١٩٩٥)
حضرت محرش کعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ میں آئے تو مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں نماز پڑھی جو اللہ نے چاہا پھر احرام باندھا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بطن سرف کی طرف رخ کر لیا یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ پر آگئے پھر صبح مکہ میں جا کر آئے جیسے کوئی رات میں مکہ میں رہا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المھلۃ بالعمرۃ تحیض فیدرکھا الحج فتنقض عمر تھا وتھل بالحج ھل تقضی عمرتھا؛جلد٢؛ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛١٩٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ قضاء میں(یعنی اس کی ادائیگی کے بعد مکہ میں)تین دن قیام فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب المقام فی العمرۃ؛جلد٢؛ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛١٩٩٧)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن طواف افاضہ کیا پھر منیٰ جا کر ظہر کی نماز پڑھی(یعنی مکہ سے منیٰ )واپسی میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الافاضۃ فی الحج؛جلد٢؛ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛١٩٩٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ یوم النحر کی شام(کے بعد آنے والی)رات وہی تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس رہتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ایک اور شخص ابوامیہ کی نسل میں سے کرتا پہنے ہوئے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہب سے پوچھا اے ابوعبداللہ!تم طواف اضافہ کر چکے ہو؟انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ (ابھی طواف نہیں کیا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنی قمیض اتار ڈالو انہوں نے اپنی قمیض اتار ڈالی اور ان کے ساتھی نے بھی اتار ڈالی پھر دریافت کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیوں فرمایا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جب تم اس میں کنکریاں مار چکو تو تم پر وہ سب چیزیں حلال ہو جائیں گی جو احرام کی حالت میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے پس اگر تم نے طواف سے پہلے شام(رات)کی(یعنی رات سے پہلے طواف نہ کیا)تو تمہارا احرام باقی رہے گا جیسا کہ کنکریاں مارنے سے قبل تھا یہاں تک کہ تم طواف کر لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الافاضۃ فی الحج؛جلد٢؛ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛١٩٩٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن طواف میں تاخیر کی رات ہونے تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الافاضۃ فی الحج؛جلد٢؛ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٢٠٠٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف اضافہ کے ساتھ پھیروں میں رمل نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الافاضۃ فی الحج؛جلد٢؛ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٢٠٠١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ(ارکان حج کی تکمیل کے بعد)مکہ سے ہر طرف سے نکل جاتے تھے(طواف وداع نہیں کرتے تھے) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص مکہ سے نہ جائے مگر آخری طواف(طواف وداع) کرکے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الوداع؛جلد٢؛ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٢٠٠٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر کیا تو کہا گیا کہ ان کو حیض آگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والی ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ طواف افاضہ کر چکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تب پھر کوئی بات نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحائض تخرج بعد الافاضۃ؛جلد٢؛ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٢٠٠٣)
حضرت حارث بن عبدالرحمن بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں حضرت عمر کے پاس آیا اور ان سے اس عورت کے متعلق مسئلہ دریافت کیا جس نے یوم النحر میں طواف افاضہ کیا(مگر طواف وداع نہیں کیا)اور اس کو حیض آگیا انہوں نے کہا طواف وداع تک انتظار کرے(ولید بن عبدالرحمن)کہتے ہیں کہ اس پر حارث نے کہا(میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی یہی مسئلہ دریافت کیا تھا)اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے یہی مسئلہ بتایا تھا(یہ سن کر)حضرت عمر نے کہا تیرے ہاتھ گریں تو نے مجھ سے وہ مسئلہ پوچھا جو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ چکا تھا تاکہ(لا علمی کی بنا پر)میں اس سے مختلف مسئلہ بیان کردوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الحائض تخرج بعد الافاضۃ؛جلد٢؛ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٢٠٠٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پس میں مکہ میں گیا اور عمرہ ادا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابطح میں میرا انتظار کرتے رہے جب میں فارغ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو روانگی کا حکم فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مکہ میں تشریف لائے اور طواف وداع کیا اس کے بعد (مدینہ کے لئے)روانہ ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف الوداع؛جلد٢؛ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٢٠٠٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ(حج کے لئے) نکلی جب(منیٰ سے واپسی کے بعد)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محصب میں اترے تو(عمرہ سے فارغ ہو کر)میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب لوگوں کو روانگی کا حکم فرمایا پس سب لوگ روانہ ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کی طرف تشریف لے گئے اور(مدینہ روانگی سے پہلے)طواف وداع کیا پھر نکلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف الوداع؛جلد٢؛ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٢٠٠٦)
حضرت عبدالرحمن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یعلی کے مکان سے آگے بڑھتے تو کعبہ کی طرف منہ کر کے دعا کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب طواف الوداع؛جلد٢؛ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٢٠٠٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محصب میں محض اس لئے اترے تھے تاکہ لوگوں کو(مدینہ کی طرف)نکلنے میں آسانی ہو یہاں اترنا سنت نہیں ہے جس کا جی چاہے اترے اور جس کا جی چاہے نہ اترے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٢٠٠٨)
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محصب میں اترنے کا حکم نہیں فرمایا تھا بلکہ میں نے (اتفاق سے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیمہ وہاں لگایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں اترگئے مسدد کہتے ہیں کہ ابورافع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامان کے محافظ تھے عثمان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ابطح میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٢٠٠٩)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل حج میں کہاں اتریں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے مکہ میں کوئی گھر چھوڑا ہے؟پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں پر قریش نے کفر پر عہد لیا تھا یعنی محصب میں یہاں بنی کنانہ نے بنو ہاشم کے متعلق عہد لیا تھا کہ ہم ان سے شادی بیاہ نہ کریں گے ان کو پناہ نہ دیں گے اور ان سے کسی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں گے۔امام زہری نے کہا کہ خیف وادی کا نام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٢٠١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ سے چلنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کل ہم وہاں اتریں گے پھر ویسا ہی بیان کیا جیسا کہ اوپر حدیث میں گذرا لیکن اس روایت میں نہ تو اول حدیث کے الفاظ ہیں اور نہ وادی خیف کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٢٠١١)
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر بطحاء(محصب)میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے تھے پھر مکہ میں جاتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٢٠١٢)
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نماز بطحاء(محصب)میں پڑھی پھر نیند کا ایک جھپکا لیا اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے(نافع کہتے ہیں کہ)ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب التحصیب؛جلد٢؛ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٢٠١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع میں منیٰ میں کھڑے ہوئے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے(حج کے مسائل) پوچھنے لگے پس ایک شخص آیا اور بولا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بھول کر قربانی سے پہلے سر منڈا لیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں تو قربانی کر ایک دوسرا شخص آیا اس نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بھول سے رمی سے پہلے قربانی کرلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی بات نہیں تو رمی کر راوی کہتے ہیں کہ اس دن ارکان کی تقدیم وتاخیر کے متعلق جتنے بھی سوال کئے گئے(سب کے جواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فیمن قدم شيئا قبل شيئا فی حجہ؛جلد٢؛ص٢١١؛حدیث نمبر؛٢٠١٤)
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے اور(حج کے متعلق)سوال کرتے تھے پس ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی(کوئی کہتا ہے کہ)میں نے فلاں کام پہلے کر لیا یا بعد میں کیا(سب کے جواب میں)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کوئی حرج نہیں حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کی عزت یا جان کو ظلماً برباد کر دے جس نے ایسا کیا وہ حرج(گناہ)میں مبتلاء ہو گیا اور برباد ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فیمن قدم شيئا قبل شيئا فی حجہ؛جلد٢؛ص٢١١؛حدیث نمبر؛٢٠١٥)
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ میں بنی سہم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گذر رہے تھے اور درمیان میں کوئی سترہ نہ تھا سفیان نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا سفیان نے کہا کہ ابن جریج نے ہم کو اس کی خبر دی کہ بیان کیا ہم سے کثیر نے اپنے والد کے واسطہ سے پس میں نے کثیر سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنا بلکہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی سے اپنے دادا کے واسطہ سے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی مکۃ؛جلد٢؛ص٢١١؛حدیث نمبر؛٢٠١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں مکہ فتح کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان(تقریر کے لئے)کھڑے ہوئے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کو تو مکہ(پر قبضہ کرنے)سے روک دیا تھا مگر اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر قبضہ دلا دیا ہے اور میرے لئے(یہاں) کچھ دیر کے لئے(قتال کرنا)حلال ہوا اس کے بعد قیامت تک کے لئے حرام ہوا اب نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ یہاں کا جانور شکار کے لئے اڑایا جائے اور نہ ہی یہاں کی گری پڑی چیز کسی کے لئے حلال ہے سوائے اس کے جو اس کا ڈھونڈنے والا ہو اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے(یا یہ کہا کہ) حضرت عباس رضی اللہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذخر (اذخر ایک گھاس کا نام ہے یعنی اس کے کاٹنے کی اجازت چاہی)کیونکہ وہ ہماری قبروں اور گھروں کی ضرورت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوائے اذخر کے(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کاٹنے کی اجازت مرحمت فرمادی)۔ إمام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث میں ابن المصفی نے ولید کے واسطہ سے یہ زیادتی نقل کی ہے کہ پس یمن کا ایک شخص ابو شاہ کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے لکھ دیجئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوشاہ کو لکھ کر دیدو(ولید کہتے ہیں کہ)میں نے حضرت اوزاعی سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ابوشاہ کو لکھ کر دیدو کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟حضرت اوزاعی نے فرمایا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تقریر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب تحریم حرم مکۃ؛جلد٢؛ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٢٠١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی واقعہ(تحریم مکہ)میں اسی طرح روایت ہے اور(یہ اضافہ ہے)"لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب تحریم حرم مکۃ؛جلد٢؛ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٢٠١٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم منیٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک گھر(یا یہ کہ ایک عمارت)بنا دیں جو دھوپ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچاؤ کرے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں منیٰ تو اس کے لئے ہے جو پہلے وہاں پہنچ جائے (یعنی ارض حرم وقف ہے یہ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب تحریم حرم مکۃ؛جلد٢؛ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٢٠١٩)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حرم میں غلہ کا روکنا بے دینی اور ظلم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب تحریم حرم مکۃ؛جلد٢؛ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٢٠٢٠)
حضرت بکر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ کیا حال ہے اس گھر کے لوگوں کا(تمہارے گھر کے لوگوں کا؟)کہ یہ نبیذ(کھجور کا شربت)پلاتے ہیں جبکہ ان کے چچا کے بیٹے(قریش)دودھ شہد ستو پلاتے ہیں۔ یہ لوگ بخیل ہیں یا نادار؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا نہ ہم بخیل ہیں نہ نادار(بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم)اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کے لئے کوئی چیز طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے نبیذ پیش کی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پیا اور جو باقی بچا وہ اسامہ کو دیا پس انہوں نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کام تم نے بہت اچھا کیا اور آئندہ بھی کرتے رہنا یہ ہے وہ وجہ جسکی بنا پر ہم ایسا کرتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ہم اس چیز کو بدل لیں جسکی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحسین فرمائی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی نبیذ السقایۃ؛جلد٢؛ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٢٠٢١)
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم نے(مہاجرین کے لئے)مکہ میں رہنے کے متعلق سنا ہے؟انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن الحفرمی نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین سے فرما رہے تھے کہ ارکان حج سے فراغت کے بعد(مکہ میں)رہنے کے لئے تین دن ہیں(تا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر لیں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الاقامۃ بمکۃ؛جلد٢؛ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٢٠٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ(جب مکہ فتح ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید عثمان بن طلحہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم تھے انہوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا (تا کہ ہجوم اندر داخل نہ ہو) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں (تھوڑی دیر) رہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ستون کو اپنے بائیں جانب رکھا اور دو کو داہنی طرف اور تین ستون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت پر تھے ان دنوں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٢٠٢٣)
مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے مگر اس میں ستونوں کا ذکر نہیں ہے اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ سے تین ہاتھ پیچھے ہٹ کر نماز پڑھی) (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث قعنبی(کی پہلی حدیث)کے ہم معنی روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعت نماز پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٥)
حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے اندر گئے تو کیا کیا؟انہوں نے فرمایا دو رکعتیں پڑھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں آئے (فتح مکہ کے موقع پر) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر جانے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے اندر بت رکھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تو ان کو نکال دیا گیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ ان میں ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی نکلیں ان دونوں تصویریوں کے ہاتھوں میں پانسے تھے(یہ دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان پر اللہ کی مار ہو واللہ ان کو خوب معلوم ہے کہ ان مقدس ہستیوں نے کبھی پانسے نہیں ڈالے تھے ابن عباس کہتے ہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کے کونوں میں تکبیر کہی پھر وہاں سے نکل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں خانہ کعبہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہتی تھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر حطیم میں داخل کر دیا اور فرمایا جب تو کعبہ کے اندر جانا چاہے تو حطیم میں نماز پڑھ لے کیونکہ وہ خانہ کعبہ کا ہی ایک حصہ ہے پس تیری قوم(قریش) نے کوتاہی کی جب انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور اس کو کعبہ سے خارج کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب الصلاۃ فی الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ(ایک مرتبہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گئے اس حال میں کہ وہ خوش تھے لیکن جب لوٹ کر آئے تو افسردہ تھے(میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا)میں کعبہ میں گیا اگر یہ بات میں پہلے جانتا جو بعد میں معلوم ہوئی کہ کعبہ کے اندر جانے میں دشواری ہوگی تو میں نہ جاتا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میری امت کو تکلیف نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی دخول الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٢٠٢٩)
حضرت اسلمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عثمان(بن طلحہ حجبی)سے پوچھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو بلایا تو تم سے کیا کہا تھا؟انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے یہ کہنا بھول گیا کہ(مینڈھے کے)سینگ چھپادو کیونکہ خانہ کعبہ میں کسی ایسی چیز کی موجودگی مناسب نہیں ہے جو نمازی کے دھیان کو ہٹائے ابن السرح کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا نام مسافع بن شیبہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی دخول الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٢٠٣٠)
حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جہاں تم بیٹھے ہو اس جگہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگے جب تک خانہ کعبہ کا مدفون مال تقسیم نہیں کر دوں گا نہیں نکلوں گا میں نے پھر کہا آپ ایسا نہیں کریں گے فرمایا وہ کیوں؟میں نے کہا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مال کے مقام کو دیکھا تھا اور ان دونوں حضرات کو مال کی آپ سے زیادہ ضرورت تھی مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کو نہیں نکالا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر باہر نکل آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی مال الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٢٠٣١)
حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لیہ سے آئے(لیہ ایک مقام کا نام ہے)جب بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے مقابل قرن اسود کے کنارے پر کھڑے ہوئے(قرن اسود ایک پہاڑی کا نام ہے)اور نخب(ایک جگہ کا نام)کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر گئے اور سب لوگ بھی ٹھہر گئے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وجّ(ایک مقام کا نام ہے)کا شکار اور اس کے درخت حرام ہیں جو اللہ کے لئے حرام کئے گئے ہیں یہ واقعہ طائف جانے سے پہلے کا ہے بلکہ ثقیف کے محاصرہ سے بھی پہلے کا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی مال الکعبۃ؛جلد٢؛ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٢٠٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کجاوے نہ باندھے جائیں(سفر نہ کیا جائے)مگر تین مسجدوں کی طرف(مکہ میں)مسجد حرام دوسرے(مدینہ میں)میری مسجد کی طرف اور تیسرے(بیت المقدس کی طرف)مسجد اقصی کی طرف۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی اثیان المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٢٠٣٣)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن اور اس صحیفہ کے علاوہ کچھ نہیں لکھا صحیفہ سے مراد دیت کے وہ احکام ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھوائے تھے اور وہ ان کی تلوار کے نیام میں رہتے تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر سے لے کر ثور تک حرم ہے جو کوئی دین میں نئی بات نکالے یا ایسے شخص کو پناہ دے اس پر اللہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہے ایسے شخص کا نہ فرض قبول ہوگا اور نہ نفل اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے جب ان میں سے کسی ادنی شخص نے کسی کافر کو پناہ دی اور کسی مسلمان نے اس کی پناہ کو توڑا تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہے ایسے شخص کا نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل اور جو شخص ولا(دوستی کرے)کسی قوم سے بغیر اپنے دوستوں کی اجازت کے اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہے ایسے شخص کا نہ فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٢٠٣٤)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ کی نہ گھاس کاٹی جائے اور نہ وہاں جانور شکار کے لئے دوڑا جائے اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے اور نہ وہاں قتال کے لئے ہتھیار اٹھانا درست ہے اور نہ وہاں کا درخت کاٹنا درست ہے مگر یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کے چارے کے لئے کاٹے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٢٠٣٥)
حضرت عدی بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے ہر طرف سے ایک ایک برید کو محفوظ قرار دیدیا یعنی نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے اور نہ پتے توڑے جائیں مگر اونٹ کے چارے کے واسطے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٢٠٣٦)
حضرت سلیمان بن ابی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مدینہ میں ایک شکار والے شخص کو پکڑا اور اس کے کپڑے چھین لئے اس پر اس شخص کے لوگوں نے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آکر گفتگو کی حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حرم کو حرام ٹھہرایا ہے اور فرمایا اگر کوئی اس حرم میں کسی کو کوئی شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کے کپڑے چھین لے اور میں تم کو وہ سامان ہرگز نہ دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دلایا ہے ہاں اگر تم چاہو تو میں تم کو اس کی قیمت دے سکتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٢٠٣٧)
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک غلام سے روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ میں ایک شخص کو درخت کاٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اس کا مال اس سے چھین لیا اور اس کے مالکوں سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرماتے تھے مدینہ کے درخت کو کاٹنے سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص مدینہ کے درخت کاٹے اور پھر کوئی اس کو پکڑے تو وہ اس کے کپڑے چھین لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٢٠٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے حرم میں سے نہ پتے توڑے جائیں اور نہ درخت کاٹا جائے مگر آہستگی سے پتے توڑ لئے جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٢٠٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب فی تحریم المدینہ؛جلد٢؛ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٢٠٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کوئی مجھ پر درود و سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب زیارۃ القبوت؛جلد٢؛ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٢٠٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں اور میری قبر کو عید مت بنانا بلکہ مجھ پر درود بھیجنا تم جہاں بھی ہو گے وہیں سے تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب زیارۃ القبوت؛جلد٢؛ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٢٠٤٢)
حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شہیدوں کی قبروں کی زیارت کے لئے نکلے یہاں تک کہ ہم (ایک ٹیلے)حرہ واقم پر چڑھے پس جب ہم اس سے اترے تو وہاں متعدد قبریں تھیں حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہی ہمارے(شہید)بھائیوں کی قبریں ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ہمارے اصحاب کی قبریں ہیں جب ہم شہداء کی قبروں پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب زیارۃ القبوت؛جلد٢؛ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٢٠٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطحاء میں جو ذوالحلیفہ میں ہے وہاں اپنا اونٹ بٹھایا اور نماز پڑھی اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب زیارۃ القبوت؛جلد٢؛ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٢٠٤٤)
قعنبی نے بیان کیا کہ مالک فرماتے ہیں کہ جو شخص مکہ سے مدینہ لوٹ کر آئے اس کے لئے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ معرس سے آگے بڑھ جائے یہاں تک کہ وہ وہاں نماز پڑھے جس قدر چاہے کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نزول فرمایا ہے امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا میں نے محمد بن اسحاق مدنی سے سنا ہے کہ معرس مدینہ سے چھ میل دور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب المناسک؛باب زیارۃ القبوت؛جلد٢؛ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٢٠٤٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Manasik
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْمَنَاسِكِ
|
•