
حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں جا رہا تھا اتنے میں ان کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور تنہائی میں گفتگو کرنا چاہی جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ ان کو نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا اے علقمہ!آؤ میں آیا اس وقت حضرت عثمان نے کہا اے عبدالرحمن!کیا ہم تمہارا نکاح کسی کنواری لڑکی سے نہ کر دیں جو تمہاری کھوئی ہوئی قوت واپس دلا دے اس پر عبداللہ بن مسعود نے کہا تم یہ بات کہتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کی قوت نہ رکھے(یعنی بیوی کے اخراجات برداشت نہ کر سکے) تو پھر اس کے لئے روزہ ہے کیونکہ روزہ رکھنا اس کے لئے خصی ہونا ہے(یعنی اس سے شہوت کم ہو جائے گی) (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛نکاح کا بیان؛باب التحریض علی النکاح؛جلد٢؛ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٢٠٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عام طور سے نکاح چار وجوہ سے کیا جاتا ہے مال کی وجہ سے حسب کی وجہ سے حسن کی وجہ سے اور دینداری کی وجہ سے پس تو دیندار عورت کو ترجیح دے(اگر تو نے دین کو ترجیح نہ دی تو) تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من تزویج ذات الدین؛جلد٢؛ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٢٠٤٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تو نے نکاح کیا میں نے عرض کیا جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کنواری سے کیا یا شوہر دیدہ(بیوہ یا مطلقہ)سے؟میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو نے کنواری لڑکی سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تو اس کے ساتھ کھیلتا اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟ امام ابوداؤد نے کہا کہ حسین بن حریث مرزوی نے یہ حدیث(جو آگے آرہی ہے) مجھے لکھ کر بھیجی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی تزویج الابکار؛جلد٢؛ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٢٠٤٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیوی کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو طلاق دیدے اس نے کہا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا دل اس سے نہ لگا رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر رہنے دے اس سے فائدہ اٹھاتا رہ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٢٠٤٩)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ایک عورت ملی ہے جو خوبصورت بھی ہے اور خاندانی بھی لیکن اس کے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں پھر وہ دوسری مرتبہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر منع فرما دیا پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسی عورت سے نکاح کرو جو شوہر سے محبت کرنے والی ہو اور خوب بچے جننے والی ہو کیونکہ تمہاری کثرت کی بنا پر میں سابقہ امتوں کے مقابلہ میں فخر کروں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٢٠٥٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی مکہ کے مسلمان قیدیوں کو لے کر مدینہ جایا کرتا تھا اور مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت رہتی تھی جو(زمانہ جاہلیت میں)اس کی آشنارہ چکی تھی مرثد نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے پھر یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"بدکار عورت سے وہی مرد نکاح کر سکتا ہے جو خود بدکار ہو یا مشرک ہو(النور؛٣)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر مجھے سنائی اور فرمایا اس سے نکاح نہ کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی قولہ تعالیٰ"الزانی لا ینکح الا زانیۃ"؛جلد٢؛ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٢٠٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا(حد زنا میں)کوڑے کھایا ہوا شخص نکاح نہ کرے مگر اپنی ہی جیسی عورت سے ابومعمر نے کہا کہ حبیب المعلم نے اس روایت کو بواسطہ عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی قولہ تعالیٰ"الزانی لا ینکح الا زانیۃ"؛جلد٢؛ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٢٠٥٢)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور پھر اس سے نکاح کیا تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے(ایک آزاد کرنے کا دوسرا نکاح کرنے کا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا؛جلد٢؛ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٢٠٥٣)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد کیا(پھر ان سے نکاح کیا) اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا؛جلد٢؛ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٢٠٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ پلانے سے ویسی ہی حرمت قائم ہو جاتی ہے جیسا کہ ولادت سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب؛جلد٢؛ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٢٠٥٥)
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری بہن پسند ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں کیا بات ہے؟بولیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے نکاح کر لیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرو گی وہ بولیں صرف میں ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی نہیں ہوں اور میں اس بات کو پسند کروں گی کہ میری بہن بھی ان میں شامل ہو جائے جو میرے ساتھ خیر میں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں)شریک ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لئے حلال نہیں ہو سکتی(کیونکہ ایک ساتھ دو بہنوں سے نکاح جائز نہیں) (یہ سن کر) ام حبیبہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درہ (یا ذرہ) بنت ابی سلمہ سے نکاح کا پیغام دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیرت سے دریافت فرمایا کہ کیا ام سلمہ کی بیٹی درہ سے ام حبیبہ نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تو میری ربیبہ ہے اور اگر وہ ربیبہ نہ بھی ہوتی تو بھی وہ میرے دودھ شریک بھائی کی بیٹی ہے(پس دونوں صورتوں میں وہ میرے لئے حلال نہیں لہذا تمہیں اس کی جو خبر ملی ہے وہ غلط ہے) مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو تو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے پس تم میرے لئے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو پیش مت کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب؛جلد٢؛ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٢٠٥٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ افلح بن ابی القیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے میں نے ان سے پردہ کر لیا وہ بولے کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں میں نے پوچھا وہ کیسے؟وہ بولے تمہیں میری بھاوج نے دودھ پلایا ہے میں نے کہا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں اتنے میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے میں نے یہ مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک یہ تمہارے چچا ہیں اور شوق سے تمہارے پاس آسکتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی لبن الفحل؛جلد٢؛ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٢٠٥٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اس حال میں ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کا رنگ بدل گیا انہوں نے عرض کیا کہ یہ میرا دودھ شریک بھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذرا سوچو تو سہی تمہارا بھائی کون ہے؟دودھ کا رشتہ تو صرف بھوک سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی رضاعۃ الکبیر؛جلد٢؛ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٢٠٥٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے ابوموسی اشعری نے فرمایا کہ جب تک تم میں یہ صاحب علم( عبداللہ بن مسعود)موجود ہیں تب تک ہم سے مسائل دریافت نہ کرو(کیونکہ یہ ہم سے زیادہ دینی امور جاننے والے ہیں) (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی رضاعۃ الکبیر؛جلد٢؛ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٢٠٥٩)
ابوموسی الھلالی یہی حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں جس میں (بجائے ماشد العظم کے) أَنْشَزَ الْعَظْمَ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی رضاعۃ الکبیر؛جلد٢؛ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٢٠٦٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس نے سالم کو بیٹا بنا لیا تھا اور ان سے اپنے بھائی کی بیٹی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کر دیا تھا اور وہ یعنی سالم ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے(یہ بیٹا لینا ایسا ہی تھا)جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جو شخص کسی کو بیٹا بناتا لوگ بچے کو اسی کی طرف منسوب کرتے(مرنے کے بعدحقیقی بیٹے کی طرح) اس کو اس کا وارث قرار دیتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ آیت نازل فرمائی(اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَا ى ِهِمْ۔۔۔۔ فی الدین ) 33۔ الاحزاب : 5)یعنی ان کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو اللہ کے نزدیک یہی صحیح اور مبنی برحقیقت ہے اور اگر تم ان کے باپوں سے ناواقف ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور آزاد کردہ غلام" اس حکم کے نزول کے بعد لوگ لے پالکوں یعنی منہ بولے بیٹے کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے اور جس کا باپ معلوم نہ ہو سکا اس کو مولیٰ اور دینی بھائی قرار دیا تو ابوحذیفہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم تو سالم کو اپنے حقیقی بیٹے کی طرح ہی سمجھتے تھے اور وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا(جس طرح اپنے بچے رہتے ہیں) اور وہ مجھ کو گھریلو اور تنہائی کے لباس میں دیکھتا تھا اور اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو حکم فرمایا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں پس فرمائیے اب ہمارے لئے کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو دودھ پلا دے پس انہوں نے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیا اس کے بعد وہ اس دودھ پینے کی وجہ سے وہ ان کا رضاعی بیٹا سمجھا جانے لگا اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی بھتیجیوں بھانجیوں کو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلانے کا حکم فرمائیں جس کو وہ دیکھنا چاہتیں یا یہ چاہتیں کہ وہ ان کے پاس آیا جایا کرے اگرچہ وہ بڑا ہوتا اور اس کے بعد وہ ان کے پاس آتا جاتا لیکن حضرت ام سلمہ اور باقی دیگر ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتیں کہ کوئی ان کے پاس ایسی رضاعت کی بنا پر آیا جایا کرے جب تک کہ بچپن کی رضاعت نہ ہوتی(اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا استدلال میں اس واقعہ کو پیش کرتیں تو)وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرماتیں واللہ ہم نہیں جانتیں ممکن ہے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رخصت صرف سالم کو دی ہو باقی دوسرے لوگوں کو نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فیمن حرم بہ؛جلد٢؛ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٢٠٦١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ پہلے قرآن پاک میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوگی مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ مرتبہ دودھ پینا حرمت کے لئے ضروری ٹھہرا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ھل یحرم ما دون خمس رضعات؛جلد٢؛ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٢٠٦٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو بار دودھ کا چوسنا حرام نہیں کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ھل یحرم ما دون خمس رضعات؛جلد٢؛ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٢٠٦٣)
حضرت حجاج بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دایہ کے حق سے مجھ کو کیا چیز سبکدوش کرے گی؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کوئی غلام یا باندی دینا حجاج بن الحجاج الاسلمی نے روایت کیا اور اس حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرضع عند الفصال؛جلد٢؛ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٢٧٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی پر اور پھوپھی کا نکاح بھتیجی پر نہ کیا جائے اسی طرح کسی عورت کا نکاح اس کی خالہ پر اور خالہ کا نکاح اس کی بھانجی پر نہ کیا جائے اور نہ بڑے ناطے والی کا نکاح چھوٹے ناطہ والی پر اور نہ چھوٹے ناطے والی کا نکاح بڑے ناطے والی پر کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٢٠٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالہ اور بھانجی کو اور پھوپھی اور بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٢٠٦٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا پھوپھی اور خالہ کو جمع کرنے سے اور دو خالاؤں کے جمع کرنے سے اور دو پھوپھیوں کے جمع کرنے سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٢٠٦٧)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ(ترجمہ)"اگر تم یتیم لڑکیوں کے حق میں نا انصافی کا اندیشہ رکھتے ہو تو پھر ان کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو"(النساء؛٣)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بھانجے یتیمہ سے مراد وہ لڑکی ہے جو اپنے ولی کے گھر پرورش پاتی ہے اور ولی کے مال میں شریک ہے اور ولی اس کے مال اور جمال کو پسند کرتا ہو اس بنا پر وہ اس سے نکاح کا ارادہ کرے مگر مہر کے معاملہ میں وہ اس سے انصاف نہ کر سکتا ہو یعنی وہ اس کو اتنا مہر نہ دے سکے جتنا کوئی اور شخص اس سے نکاح کی صورت میں دے سکتا ہے تو وہ اس سے نکاح سے باز رہے اس کی ممانعت ہوئی کہ نکاح نہ کرے مگر جبکہ انصاف کرے اور پورا مہر جو اونچے سے اونچا اس کے لائق ہو ادا کرے بصورت دیگر حکم ہوا کہ اس کے علاوہ کسی اور عورت سے جو پسند ہو نکاح کرلے عروہ نے کہا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یتیم لڑکیوں کی بابت سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"اے رسول یہ تم سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کا حکم بتاتا ہے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے کتاب میں ان یتیم بچیوں کے بارے میں جن کو تم وہ نہیں دینا چاہتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے(یعنی مہر) اور ان سے نکاح کی خواہش رکھتے ہو"(النساء؛ ١٢٧)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا یہ جو اللہ نے فرمایا ہے پڑھا جاتا ہے ان پر کتاب میں اس سے مراد وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر تم اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو تم ان کو چھوڑ کر دوسری پسندیدہ عورتوں سے نکاح کرلو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ جو دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کے پاس یتیم لڑکی ہو جو تھوڑے مال والی اور کم حسن والی ہو(تو وہ اس سے نکاح کرنے میں رغبت نہیں رکھتا)پھر جب رغبت ہو اس سے نکاح کرنے میں بوجہ زیادتی مال وجمال کے لیکن عدل وانصاف نہ کر سکے تو پہلی آیت کی رو سے اس سے نکاح نہ کرے یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ آیت قرآنی اگر تم کو اندیشہ ہے کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو عدم انصاف کو خوف ہے تو ان کو چھوڑ دو (اور دوسری عورتوں سے نکاح کرلو) کیونکہ تم کو چار عورتوں تک نکاح کی اجازت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٢٠٦٨)
حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے لوٹ کر مدینہ آئے تو مسور بن مخرمہ ان سے ملے اور کہا کہ میرے لائق خدمت ہو تو فرمائیے میں نے کہا نہیں اس کے بعد مسور بن مخرمہ نے کہا کیا تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار دیتے ہو؟مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ تم سے تلوار چھین نہ لیں اور اگر تم مجھے دیدو گے تو واللہ جب تک میرے دم میں دم ہے وہ تلوار مجھ سے کوئی نہ لے سکے گا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح میں ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے پیغام نکاح دیا تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی موضوع پر اسی منبر پر خطبہ دیا تھا اور ان دنوں میں جوان تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دین کے بارے میں کسی فتنہ میں نہ پڑ جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دوسرے داماد کا ذکر کیا جس کا تعلق بنی عبدالشمس سے تھا(حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دامادی رشتہ کی خوب تعریف کی اور فرمایا اس نے جو بات مجھ سے کہی سچ کر دکھایا اور جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا ہوں البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور دشمن کی بیٹی ایک جگہ ہرگز جمع نہ ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٢٠٦٩)
عروہ و ایوب ابن ابی ملیکہ سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس رد عمل کے بعد) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نکاح سے رک گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٢٠٧٠)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تقریر کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیں لیکن میں اس کی اجازت نہیں دوں گا نہیں دوں گا ہرگز نہیں دوں گا ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری بیٹی کو طلاق دیدیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلیں فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو بات اسے ناگوار گزرتی ہے وہ مجھے بھی ناگوار گزرتی ہے اور جس بات سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے اور یہ الفاظ احمد بن یونس کی روایت کردہ حدیث کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ان یجمع بینھن من النساء؛جلد٢؛ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٢٠٧١)
حضرت امام زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے متعہ کا(متعینہ مدت کے لئے نکاح) ذکر چل نکلا تو ایک شخص نے کہا جس کا نام ربیع بن سبرہ تھا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ حجة الوداع کے موقعہ پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعہ کرنے کی ممانعت فرمادی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی نکاح المتعۃ؛جلد٢؛ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٢٠٧٢)
سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے متعہ کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی نکاح المتعۃ؛جلد٢؛ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٢٠٧٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے مسدد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ شغار کا کیا مطلب ہے؟انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح کسی شخص سے اس شرط پر کر دے کہ وہ بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس شخص سے کر دے گا اور مہر کچھ نہیں ہوگا یا اپنی بہن کا نکاح اس شرط پر کر دے گا کہ وہ بھی اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الشغار؛جلد٢؛ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٢٠٧٤)
حضرت عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمن بن حکیم سے کر دیا اور عبدالرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس بن عبداللہ بن عباس سے کر دیا اور ان دونوں نے اس شرط کو ہی مہر قرار دیا پس امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مروان کو لکھا کہ وہ ان دونوں کا نکاح تڑوا دیں اور اپنے خط میں لکھا کہ یہی شغار ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الشغار؛جلد٢؛ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٢٠٧٥)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے لعنت فرمائی ہے حلالہ کرنے والے پر اور اس پر جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی التحلیل؛جلد٢؛ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٢٠٧٦)
حارث الاعور ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی التحلیل؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٧٧)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی نکاح العبد بغیر اذن سیدہ؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٧٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ باطل ہے ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یہ موقوف ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی نکاح العبد بغیر اذن سیدہ؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی کراھیۃ ان یخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے۔ (یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہی۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی کراھیۃ ان یخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٨١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کرلی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا(پھر فرمایا)اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کرلیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل ینظر الی المرآۃ وھو یرید تزویجھا؛جلد٢؛ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٢٠٨٢،باب فی الولی؛جلد٢؛ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٢٠٨٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا(پھر فرمایا)اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کرلیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الولی؛جلد٢؛ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٢٠٨٣) ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٨٣ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الولی؛جلد٢؛ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٢٠٨٤)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الولی؛جلد٢؛ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٢٠٨٥)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابن جحش کے نکاح میں تھیں،ان کا انتقال ہوگیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سر زمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی(شاہ حبش)نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا،اور وہ انہیں لوگوں کے پاس(ملک حبش ہی میں)تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الولی؛جلد٢؛ص٢٢٩؛حدیث نمبر،٢٠٨٦)
حضرت معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا،اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آگئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کردیا،پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوگئی،پھر جب اس کے لیے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آگیا تو وہی پھر پیغام دینے آگئے،میں نے کہا اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا،تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی"وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن"اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو(سورۃ البقرہ ٢٣٢)راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیا،اور ان سے اس کا نکاح کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی العضل؛جلد٢؛ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٢٠٨٧)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو وہ اس کی ہوگی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیز کو دو آدمیوں سے فروخت کردیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب اذا انکح الولیان؛جلد٢؛ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٢٠٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں آیت کریمہ"لا يحل لکم أن ترثوا النساء کر ها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة"اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو(سورۃ البقرہ ٢٣٢)کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مرجاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب قولہ تعالیٰ"لا یحل لکم ان ترث النساء کرھا ولا تعضلوھن"(النساء؛١٩)؛جلد٢؛ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٢٠٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں آیت کریمہ"لا يحل لکم أن ترثوا النساء کر ها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة" اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو(سورۃ البقرہ ٢٣٢)کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مرجاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب قولہ تعالیٰ"لا یحل لکم ان ترث النساء کرھا ولا تعضلوھن"(النساء؛١٩)؛جلد٢؛ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٢٠٩٠)
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے:تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب قولہ تعالیٰ"لا یحل لکم ان ترث النساء کرھا ولا تعضلوھن"(النساء؛١٩)؛جلد٢؛ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٢٠٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاغیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے،اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے،لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ!اس کی اجازت کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اس کی اجازت یہ ہے کہ)وہ خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الاستئمار؛جلد٢؛ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٢٠٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی،اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الاستئمار؛جلد٢؛ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٢٠٩٣)
اس سند سے محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں"فإن بکت أو سکتت"اگر وہ رو پڑے یا چپ رہےیعنی بكت(رو پڑے)کا اضافہ ہے، امام ابوداؤد کہتے ہیں بكت(رو پڑے) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا یا رسول اللہ!باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الاستئمار؛جلد٢؛ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٢٠٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الاستئمار؛جلد٢؛ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٢٠٩٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کردیا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستامرھا؛جلد٢؛ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٢٠٩٦)
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے،اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستامرھا؛جلد٢؛ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٢٠٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الثیب؛جلد٢؛ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٢٠٩٨)
حضرت عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا۔امام ابوداؤد کہتے ہیں"أبوها" کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الثیب؛جلد٢؛ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٢٠٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں،اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الثیب؛جلد٢؛ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٢١٠٠)
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چناچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الثیب؛جلد٢؛ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٢١٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایابنی بیاضہ کے لوگو!ابوہند سے تم(اپنی بچیوں کی)شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الاکفاء؛جلد٢؛ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٢١٠٢)
حضرت سارہ بنت مقسم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کروم کو کہتے ہوئے سنا کہ حجة الوداع کے موقعہ پر میں اپنے والد کے ساتھ حج کے لئے نکلی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب گئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اونٹنی پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا جیسا کہ عام طور پر مکتب میں پڑھانے والوں کے پاس ہوتا ہے تو میں نے سنا کہ اعرابی اور سب لوگ کہہ رہے تھے الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاؤں پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے کا اقرار کیا اور ٹھہرے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنی۔اس کے بعد کہا کہ میں جیش عثران میں شریک رہا ہوں (ابن المثنی نے جیش غثران کہا ہے)وہاں طارق بن المرقع نے کہا کون ہے جو مجھے اس کے بدلہ میں ایک نیزہ دیتا ہے؟میں نے پوچھا کس چیز کے بدلہ میں؟اس نے کہا اس کے بدلہ میں کہ جو بھی میری پہلی بیٹی ہوگی میں اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دوں گا پس میں نے اپنا نیزہ اس کو دیدیا اور چلا گیا جب مجھے معلوم ہوا کہ اس کے بیٹی پیدا ہوئی ہے اور اب وہ جوان ہوگئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ اب میری بیوی میرے حوالہ کر تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تجھے اپنی بیٹی ہرگز نہ دوں گا جب تک کہ تو اس کا نیا مہر مقرر نہ کرے ماسوا اس کے جو میرے اور اس کے درمیان طے ہو چکا ہے(یعنی ایک نیزہ) میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں دے چکا ہوں اس کے علاوہ اور کچھ نہ دوں گا(یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اب اس کی عمر کیا ہو گی؟میرے والد نے کہا اب وہ بوڑھی ہو چکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دے میں یہ سن کر گھبرا گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا یہ حال دیکھا تو فرمایا نہ تو گناہ گار ہوگا اور نہ تیرا ساتھی ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا قتیر کے معنی بڑھاپے کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی تزویج من لم یولد؛جلد٢؛ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٢١٠٣)
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی،کہتی ہے میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ(تپتی زمین سے)لوگوں کے پیر جلنے لگے،ایک شخص بولا کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہوگی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں،اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہوگئی،پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں قتیر کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی تزویج من لم یولد؛جلد٢؛ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٢١٠٤)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کی ازواج مطہرات)کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا میں نے کہا نش کیا ہے؟فرمایا آدھا اوقیہ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الصداق ؛جلد٢؛ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٢١٠٥)
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے،اللہ ان پر رحم کرے،ہمیں خطاب فرمایا اور کہا خبردار !عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ(مہر کی زیادتی)دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے،آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ(چار سو اسی درہم)سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الصداق ؛جلد٢؛ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٢١٠٦)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں،حبشہ میں ان کا انتقال ہوگیا تو نجاشی(شاہ حبشہ)نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا،اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار(درہم)مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کردیا امام ابوداؤد کہتے ہیں حسنہ شرحبیل کی والدہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الصداق ؛جلد٢؛ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٢١٠٧)
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی(شاہ حبشہ)نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کردیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الصداق ؛جلد٢؛ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٢١٠٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟انہوں نے کہا یا رسول اللہ!میں نے ایک عورت سے شادی کرلی ہے،پوچھااسے کتنا مہر دیا ہے؟جواب دیا گٹھلی کے برابر سونا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب قلۃ المھر؛جلد٢؛ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٢١٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے(اس عورت کو اپنے لیے)حلال کرلیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے،صالح نے ابو الزبیر سے،ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب قلۃ المھر؛جلد٢؛ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٢١١٠)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے،پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی(اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا)تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟وہ بولا میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگر تم اپنا ازار اسے(مہر میں) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو،وہ بولا اور تو کچھ بھی نہیں ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو،تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھاکیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟کہنے لگا ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے (یاد کرانے کے)بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی التزویج علی العمل یعمل؛جلد٢؛ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٢١١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟جواب دیا سورة البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی التزویج علی العمل یعمل؛جلد٢؛ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٢١١٢)
حضرت مکحول سے بھی حضرت سہل کی طرح مروی ہے مکحول کہا کرتے تھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اب کسی کے لئے یہ(یعنی مہر کے بغیر نکاح)جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی التزویج علی العمل یعمل؛جلد٢؛ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٢١١٣)
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا اور مر گیا۔اس نے نہ اس عورت کے ساتھ صحبت کی اور نہ اس کا مہر ٹھہرایا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس عورت کو پورا مہر ملے گا اس پر عدت لازم ہے اور شوہر کے مال میں حصہ پائے گی۔معقل بن سنان نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتیٰ مات؛جلد٢؛ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٢١١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١١٤ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتیٰ مات؛جلد٢؛ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٢١١٥)
حضرت عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی اسی طرح کا ایک معاملہ آیا لوگ مہینہ بھر تک اختلاف کرتے رہے(اور کسی فیصلہ پر نہیں پہنچے)یا یہ کہا کہ مہینہ بھر میں کئی مرتبہ اختلاف کیا(بہت غور وفکر کے بعد) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس معاملہ میں میری یہ رائے ہے کہ اس عورت کا مہر ثابت ہے جیسا کہ اس کی قوم کی عورتوں کا ہوا کرتا ہے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ نیز یہ عورت میراث کی بھی مستحق ہوگی اور عدت بھی گزارے گی اگر میری رائے درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر اس میں مجھ سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہے تو وہ میری اور شیطان کی طرف سے ہے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خطا سے بری ہیں پھر قبیلہ اشجع کے کئی لوگ کھڑے ہوئے جن میں جراح اور ابوسفیان بھی تھے یہ سب لوگ بو لے اے ابن مسعود!ہم گواہ ہیں کہ بروع بنت واشق کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا جیسا کہ تم نے فیصلہ کیا۔بروع بنت واشق کے شوہر کا نام ہلال بن مرہ اشجعی تھا۔ عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر بیحد خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتیٰ مات؛جلد٢؛ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٢١١٦)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تو فلاں عورت سے نکاح کرنے پر راضی ہے؟اس نے کہا ہاں میں راضی ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت سے پوچھا کہ کیا تو فلاں شخص سے نکاح کرنے پر راضی ہے؟ اس نے کہا ہاں میں راضی ہوں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کا نکاح کر دیا۔پھر اس شخص نے اپنی بیوی سے صحبت کی لیکن اس کا مہر مقرر نہ کیا اور نہ اس کو کوئی چیز دی۔وہ شخص جنگ حدیبیہ میں شریک تھا اور اس کا حصہ خیبر میں نکلتا تھا جب وہ شخص مرنے لگا تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح فلاں عورت سے کیا تھا لیکن میں نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس کو کوئی چیز دی اب میں تم کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت کو اپنا وہ حصہ دیدیا ہے جو خیبر سے ملنے والا ہے چنانچہ اس عورت نے اس کا وہ حصہ لے کر ایک لاکھ درہم میں فروخت کیا۔ ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا شیخ عمربن الخطاب نے آغاز حدیث میں یہ اضا فہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہترین نکاح وہ ہے جو آسان ہو نیز اس کی روایت میں ہے کہ رجل کی بجائے للرجل ہے پھر حسب سابق روایت بیان کی ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا غالباً یہ روایت ملحق ہوگئی کیونکہ اصل بات اس کے علاوہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتیٰ مات؛جلد٢؛ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٢١١٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ہم کو حاجت کا خطبہ سکھایا"الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ آخر تک یعنی تمام خوبیوں کا سرچشمہ اللہ کی ذات بابرکت ہے ہم اس سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے مغفرت کے طلب گار ہیں اور اپنے نفس کی برائیوں سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں جس کو اللہ نے سیدھی راہ دکھائی اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں اے ایمان والوں!اللہ سے ڈرو جس کے وسیلہ سے تم آپس میں مانگتے ہو اور ناتوں کے توڑنے سے ڈرو کیونکہ اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے اے ایمان والوں!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو اے ایمان والوں!اللہ سے ڈرو اور انصاف کی بات کہو وہ تمہارے تمام کاموں کو درست کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی بلا شبہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔محمد بن سلیمان نے(اپنی روایت میں الحمد سے پہلے)لفظ اَنَّ ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی خطبۃ النکاح؛جلد٢؛ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٢١١٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے،پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں ورسوله کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں"أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا"(ترجمہ)اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا،وہ ہدایت پا چکا،اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی خطبۃ النکاح؛جلد٢؛ص٢٣٩؛حدیث نمبر؛٢١١٩)
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی خطبۃ النکاح؛جلد٢؛ص٢٣٩؛حدیث نمبر؛٢١٢٠)
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی،اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے چھ سال کی تھی)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے(شب زفاف منائی)اس وقت میں نو برس کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی تزویج الصغار؛جلد٢؛ص٢٣٩؛حدیث نمبر؛٢١٢١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اسے اپنے خاندان کے لیے بےعزتی مت تصور کرنا،اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی المقام عند البکر؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری،اور وہ ثیبہ تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی المقام عند البکر؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے،اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی المقام عند البکر؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اسے کچھ دے دو، انہوں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یدخل بامرتہ قبل ان ینقدھا شيئا؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٥)
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ!میرے پاس کچھ نہیں ہے،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے اپنی زرہ ہی دے دو،چناچہ انہیں زرہ دے دی،پھر وہ ان کے پاس گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یدخل بامرتہ قبل ان ینقدھا شيئا؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث نمبر ٢١٢٦ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یدخل بامرتہ قبل ان ینقدھا شيئا؛جلد٢؛ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٢١٢٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یدخل بامرتہ قبل ان ینقدھا شيئا؛جلد٢؛ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٢١٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہوگی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا(انعام وغیرہ)مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یدخل بامرتہ قبل ان ینقدھا شيئا؛جلد٢؛ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٢١٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے"بارک الله لک و بارک عليك وجمع بينكما في خير"اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے،اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یقال للمتزوج؛جلد٢؛ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٢١٣٠)
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا،میں اس کے پاس گیا،تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور(پیدا ہونے والا)بچہ تمہارا غلام ہوگا، اور جب وہ بچہ جن دے۔(حسن کی روایت میں)تو تو اسے کوڑے لگا(واحد کے صیغہ کے ساتھ)اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ(جمع کے صیغہ کے ساتھ)یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس پر حد جاری کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے،انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہےآپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنادیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یتزوج المرآۃ فیجدھا حبلی؛جلد٢؛ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٢١٣١)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یتزوج المرآۃ فیجدھا حبلی؛جلد٢؛ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٢١٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا،کہ اس کا ایک دھڑ جھکا ہوا ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٢١٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے،پھر یہ دعا فرماتے تھے(ترجمہ)"اے اللہ!یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے،رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے(یعنی دل کا میلان)تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٢١٣٤)
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بھانجے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں،اور بغیر محبت کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے،اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے،اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہوگئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کردیں گے تو کہنے لگیں یا رسول اللہ!میری باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی،عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ"وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا"(سورۃ النساء ١٢٨)نازل کی"اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٢١٣٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں آیت کریمہ"ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء"(ترجمہ)"آپ ان میں سے جسےچاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں"(سورۃ الاحزاب ٥١)نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟کہنے لگیں میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٢١٣٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا،وہ جمع ہوئیں تو فرمایا اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں،اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں،چناچہ ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٢١٣٧)
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی،سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکو دے رکھی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی القسم بین النساء؛جلد٢؛ص٢٤٣؛حدیث نمبر؛٢١٣٨)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی الرجل یشترط لھا دارھا؛جلد٢؛ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٢١٣٩)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حیرہ آیا،تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے،میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو یا رسول اللہ!آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے،تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہانہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا نہ کرنا،اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی حق الزوج علی المرآۃ؛جلد٢؛ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٢١٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی حق الزوج علی المرآۃ؛جلد٢؛ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٢١٤١)
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ،جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ،چہرے پر نہ مارو،برا بھلا نہ کہو،اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی اختیار نہ کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ولا تقبح کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے قبحک الله نہ کہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی حق الزوج علی المرآۃ؛جلد٢؛ص٢٤٤؛حدیث نمبر؛٢١٤٢)
حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں،اور کدھر سے نہ آئیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیااپنی کھیتی میں جدھر سے بھی چاہو آؤ،جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ،اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ،اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو،اور نہ ہی اس کو مارو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں شعبہ نے أطعمها إذا طعمت واکسها إذا اکتسيت کے بجائے تطعمها إذا طعمت وتکسوها إذا اکتسيت روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی حق الزوج علی المرآۃ؛جلد٢؛ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٢١٤٣)
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیاہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ،اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ،اور نہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی حق الزوج علی المرآۃ؛جلد٢؛ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٢١٤٤)
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں(تنہا) چھوڑ دو۔حماد کہتے ہیں یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی ضرب النساء؛جلد٢؛ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٢١٤٥)
ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو نہ مارو،چناچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے(آپ کے اس فرمان کے بعد)عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں،چناچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی،پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں،یہ (مار پیٹ کرنے والے)لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی ضرب النساء؛جلد٢؛ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٢١٤٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی ضرب النساء؛جلد٢؛ص٢٤٥؛حدیث نمبر؛٢١٤٧)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے(اجنبی عورت پر)اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اپنی نظر پھیر لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٢١٤٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہااے علی!(اجنبی عورت پر)نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے،دوسری جائز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٢١٤٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٢١٥٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو(اپنی بیوی)زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے ہمبستری فرمایا،پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیاعورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہےتو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے،کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٢١٥١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے(قرآن میں وارد لفظ)"لمم"(چھوٹے گناہ)کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چناچہ آنکھوں کا زنا(غیر محرم کو بنظر شہوت)دیکھنا ہے زبان کا زنا(غیر محرم سے شہوت کی)بات کرنی ہے،(انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٦؛حدیث نمبر؛٢١٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے،ہاتھ زنا کرتے ہیں،ان کا زنا پکڑنا ہے،پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٢١٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایااور کانوں کا زنا سننا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یومر بہ من غض البصر؛جلد٢؛ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٢١٥٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی،اور جنگ میں ان پر غالب رہے،اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں،تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا،تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی "والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم"(ترجمہ)اور(حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں(سورۃ النساء ٢٤)تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی وطی السبایا؛جلد٢؛ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٢١٥٥)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے، لوگوں نے کہا ہاں،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہوجائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں،وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی وطی السبایا؛جلد٢؛ص٢٤٧؛حدیث نمبر؛٢١٥٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے،یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی وطی السبایا؛جلد٢؛ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٢١٥٧)
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا سنو!میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھےاللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے،(آپ ﷺ کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کرلے،(یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے)اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی وطی السبایا؛جلد٢؛ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٢١٥٨)
ایک اورسند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےیہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کرلے،اس میں بحيضة کا اضافہ ہے،اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے،اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی وطی السبایا؛جلد٢؛ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٢١٥٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے"اللهم إني أسألک خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بک من شرها ومن شر ما جبلتها عليه" اے اللہ!میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں،جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے،اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٤٨؛حدیث نمبر؛٢١٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے"بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا"اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ!ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے مکر و فریب سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٢١٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کی دبر(پاخانہ کے مقام)میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٢١٦٢)
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہوگا،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم" (سورۃ البقرہ٢٢٣) (ترجمہ)"تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٢١٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہی اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بخشے ان کو"أنى شئتم" کے لفظ سے وہم ہوگیا تھا،اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود(جو کہ اہل کتاب ہیں کے)ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے،اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے،اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے،اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی،چناچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کردیتے تھے اور آگے سے،پیچھے سے،اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے،مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی(مشہور)آسن رائج ہے،لہٰذا یا تو اس طرح کرو،ورنہ مجھ سے دور رہو،جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر لگ گئی چناچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت"نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم"نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے،اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے۔ (کیوں کہ کھیتی اس مقام کو کہیں گے جہاں سے ولادت ہوتی ہے نہ کہ دبر کو جو نجاست کی جگہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٤٩؛حدیث نمبر؛٢١٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"يسألونک عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض"لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو(سورۃ البقرہ ٢٢٢)چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ،اس پر یہودیوں نے کہا کہ یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے،چناچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ!یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم(ان کی مخالفت میں)عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا،یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چناچہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے،اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آگیا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی اتیان الحائض و مباشرتہا؛جلد٢؛ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٢١٦٥)
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی،اگر کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اگر کہیں آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے آگے نہ بڑھتے اور کہیں کپڑے میں لگ تو اتنی ہی جگہ دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٥٠؛حدیث نمبر؛٢١٦٦)
حضرت عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی جامع النکاح؛جلد٢؛ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٢١٦٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھتا ہےفرمایاوہ ایک یا آدھا دینار (بطور کفارہ)صدقہ ادا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی کفارۃ من اتی حائضا؛جلد٢؛ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٢١٦٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اگر دوران خون صحبت کی تو ایک دینار،اور خون بند ہوجانے پر صحبت کی تو آدھا دینار(کفارہ)ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب فی کفارۃ من اتی حائضا؛جلد٢؛ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٢١٦٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟(یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے)،کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں قزعہ،زیاد کے غلام ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما جاء فی العزل؛جلد٢؛ص٢٥١؛حدیث نمبر؛٢١٧٠)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں،کیونکہ اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور مرد ہونے کے ناطے مجھے شہوت ہوتی ہے،حالانکہ یہود کہتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی چھوٹی شکل ہے،یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود جھوٹ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنا منظور ہوگا،تو تم اسے پھیر نہیں سکتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما جاء فی العزل؛جلد٢؛ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٢١٧١)
حضرت عبداللہ بن محیریز کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کے پاس بیٹھ گیا،ان سے عزل کے متعلق سوال کیا،تو آپ نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں،ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے،پھر ہم نے اپنے(جی میں)کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں(تو یہ کیونکر درست ہوگا) چناچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما جاء فی العزل؛جلد٢؛ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٢١٧٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچاہو تو عزل کرلو،جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا،ایک مدت کے بعد وہ شخص آکر کہنے لگا،کہ لونڈی حاملہ ہوگئی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما جاء فی العزل؛جلد٢؛ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٢١٧٣)
ابونضرہ کہتے ہیں مجھ سے قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے بیان کیا کہ مدینہ میں میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی کو بھی مہمانوں کے معاملے میں ان سے زیادہ چاق و چوبند اور ان کی خاطر مدارات کرنے والا نہیں دیکھا،ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں ان کے پاس تھا،وہ اپنے تخت پر بیٹھے تھے ان کے ساتھ ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں،نیچے ایک کالی کلوٹی لونڈی تھی، آپ رضی اللہ عنہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے،جب (پڑھتے پڑھتے)تھیلی ختم ہوجاتی تو انہیں لونڈی کی طرف ڈال دیتے،اور وہ انہیں دوبارہ تھیلی میں بھر کردیتی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا ایک واقعہ نہ بتاؤں؟میں نے کہا کیوں نہیں،ضرور بتائیے،انہوں نے کہا میں مسجد میں تھا اور بخار میں مبتلا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے اور کہنے لگے کس نے دوسی جوان (ابوہریرہ)کو دیکھا ہے؟یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا،تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!وہ یہاں مسجد کے کونے میں ہیں،انہیں بخار ہے،چناچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا،اور مجھ سے بھلی بات کی تو میں اٹھ گیا،اور آپ چل کر اسی جگہ واپس آگئے،جہاں نماز پڑھاتے تھے،اور لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو صف مردوں اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صف عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نماز میں شیطان مجھے کچھ بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں،اور عورتیں تالی بجائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز بھولے نہیں اور فرمایا اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو،اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو،پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر امابعد کہا اور پہلے مردوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اپنی بیوی کے پاس آ کر،دروازہ بند کرلیتا ہے اور پردہ ڈال لیتا ہے اور اللہ کے پردے میں چھپ جاتا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا ہاں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کے بعد وہ لوگوں میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایسا کیا میں نے ایسا کیا،یہ سن کر لوگ خاموش رہے،مردوں کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے بھی پوچھا کہ کیا کوئی تم میں ایسی ہے،جو ایسی باتیں کرتی ہے؟تو وہ بھی خاموش رہیں، لیکن ایک نوجوان عورت اپنے ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہو کر اونچی ہوگئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ سکیں اور اس کی باتیں سن سکیں،اس نے کہایا رسول اللہ!اس قسم کی گفتگو مرد بھی کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں۔نبی اکرم ﷺنے فرمایاجانتے ہو ایسے شخص کی مثال کیسی ہے؟پھر خود ہی فرمایا اس کی مثال اس شیطان عورت کی سی ہے جو گلی میں کسی شیطان مرد سے ملے،اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے، اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔خبردار!مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ظاہر ہو رنگ ظاہر نہ ہو اور خبردار!عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو بو ظاہر نہ ہو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے موسیٰ اور مومل کے یہ الفاظ یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخبردار!کوئی مرد کسی مرد اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک بستر میں نہ لیٹے مگر اپنے باپ یا بیٹے کے ساتھ لیٹا جاسکتا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ بیٹے اور باپ کے علاوہ ایک تیسرے آدمی کا بھی ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جو میں بھول گیا وہ مسدد والی روایت میں ہے،لیکن جیسا یاد رہنا چاہیئے وہ مجھے یاد نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب النکاح؛باب ما یکرہ ذکر الرجل ما یکون من اصابتہ اھلہ؛جلد٢؛ص٢٥٢؛حدیث نمبر؛٢١٧٤)
Abu Dawood Shareef : Kitabun Nikah
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب النِّكَاحِ
|
•