
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛طلاق کا بیان؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فیمن خبب امراۃ علی زوجھا؛عورتوں کو مرد کے خلاف برگشتہ کرنا؛جلد٢؛ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٢١٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرا لے(یعنی اس کا حصہ خود لے لے) اور خود نکاح کرلے،جو اس کے مقدر میں ہوگا وہ اسے ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المراۃ تسأل زوجھا طلاق امراۃ لہ؛جلد٢؛ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٢١٧٦)
محارب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی کراھیۃ الطلاق؛جلد٢؛ص٢٥٤؛حدیث نمبر؛٢١٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی کراھیۃ الطلاق؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی،تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے،پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے،پھر حیض آجائے،پھر پاک ہوجائے،پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے،ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے،یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٧٩)
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی،آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے پھر جب وہ پاک ہوجائے یا حاملہ ہو تو اسے طلاق دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی،عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اس کا ذکر کیا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوگئے پھر فرمایا اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرلے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے،پھر حائضہ ہو پھر پاک ہوجائے پھر چاہیئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٨٢)
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی؟تو انہوں نے کہا ایک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٥؛حدیث نمبر؛٢١٨٣)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے بتایا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا، میں نے کہا کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے(تو اس کا کیا حکم ہے؟)کہنے لگے کہ تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو پہچانتے ہو؟میں نے کہا ہاں،تو انہوں نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے اور عدت کے آغاز میں اسے طلاق دے۔میں نے پوچھا کیا اس طلاق کا شمار ہوگا؟انہوں نے کہا تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہوجائے یا دیوانہ ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٢١٨٤)
ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے عروہ کے غلام عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو؟تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے،عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایاجب وہ پاک ہوجائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے،ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی"يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن" (ترجمہ)اے نبی!جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو تم انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو"(سورۃ الطلاق ١) امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یونس بن جبیر،انس بن سیرین،سعید بن جبیر،زید بن اسلم،ابوالزبیر اور منصور نے ابو وائل کے طریق سے روایت کیا ہے،سب کا مفہوم یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اور چاہیں تو باقی رکھیں۔اسی طرح اسے محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے،اور سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ زہری کی جو روایت سالم اور نافع کے طریق سے ابن عمر سے مروی ہے،اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے،پھر اسے حیض آئے اور پھر پاک ہو، ھر اگر چاہیں تو طلاق دیں اور اگر چاہیں تو رکھے رہیں،اور عطاء خراسانی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابن عمر سے نافع اور زہری کی طرح روایت کی ہے،اور یہ تمام حدیثیں ابوالزبیر کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی طلاق السنۃ؛جلد٢؛ص٢٥٦؛حدیث نمبر؛٢١٨٥)
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کرلے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی،اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب الرجل یراجع ولا یشھد؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٨٦)
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کردیئے گئے،تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی سنۃ طلاق العبد؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٨٧)
عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ أخبرنا کے صیغے کے ساتھ،اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں؟انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے،زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے،زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی سنۃ طلاق العبد؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٨٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کے قروء دو حیض ہیں۔ ابوعاصم کہتے ہیں مجھ سے مظاہر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھ سے قاسم نے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے،لیکن اس میں ہے کہ اس کی عدت دو حیض ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث مجہول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی سنۃ طلاق العبد؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٨٩)
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایاطلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں،اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں،اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ(تمہارے ذمہ)صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الطلاق قبل النکاح؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے جس نے گناہ کرنے کی قسم کھالی تو اس قسم کا کوئی اعتبار نہیں نیز جس نے رشتہ توڑنے کی قسم کھالی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الطلاق قبل النکاح؛جلد٢؛ص٢٥٧؛حدیث نمبر؛٢١٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے یہی روایت آئی ہےاس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہی نذر ماننا درست ہے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الطلاق قبل النکاح؛جلد٢؛ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٢١٩٢)
محمد بن عبید بن ابوصالح(جو ایلیاء میں رہتے تھے)کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا،اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں،وہ کہتی ہیں میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہوگا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الطلاق علی غلظ؛جلد٢؛ص٢٥٨؛حدیث نمبر؛٢١٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہوگا،وہ یہ ہیں نکاح، طلاق اور رجعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الطلاق علی الھزل؛جلد٢؛ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٢١٩٤)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن» ”اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کر دیا ہے اسے چھپائیں“ (سورۃ البقرہ: ۲۲۸) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور ارشاد ہوا «الطلاق مرتان»یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٢١٩٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عبد یزید نے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا (اپنی بیوی)ام رکانہ کو طلاق دیدی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہ!ابورکانہ میرے کسی کام کا نہیں جیسے ایک بال دوسرے بال کے لئے اور یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے سر کا بال پکڑا(یعنی وہ نامرد ہے)لہذا میرے اور اس کے درمیان تفریق کرا دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو(اس کی اس غلط بیانی پر)غصہ آ گیا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا اور حاضرین مجلس سے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے ہو کہ اس کا یہ بچہ اس بچہ سے کتنا مشابہہ ہے اور فلاں بچہ عبد یزید سے کتنی مشابہت رکھتا ہے۔لوگوں نے کہا ہاں(یعنی جب عبد یزید کی اولاد پہلی بیوی سے موجود ہے اور بچے اپنے باپ سے اور دوسرے بھائی بہنوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ عورت نا مردی کے الزام میں سچی ہو(پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا کہ اس کو طلاق دیدے پس انہوں نے طلاق دیدی۔پھر فرمایا اپنی سابقہ بیوی ام رکانہ اور اس کے بھائیوں سے رجوع کر عبد یزید نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رکانہ کو تین طلاقیں دے رکھیں ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے معلوم ہے تو اس سے رجعت کر اور یہ آیت تلاوت فرمائی(یا اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَا ءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُواالْعِدَّةَ ) 65۔ الطلاق : 1) امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث کو نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجعت کا حکم دیا اور یہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حضرات اور مرد کا بیٹا رکانہ اور اس کے گھر والے اس قصہ سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ رکانہ نے(نہ کہ ابورکانہ نے)اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی پس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٥٩؛حدیث نمبر؛٢١٩٦)
حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عباس کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں۔عبداللہ بن عباس یہ سن کر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اس کو رجعت کا حکم دیں گے مگر پھر آپ نے کہا کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور حماقت پر سوار ہو جاتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے۔ اے ابن عباس۔ اے ابن عباس (کوئی خلاصی کی تدبیر بتاؤ)حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے لئے (مشکل سے نکلنے کے لئے) کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمائے گا جبکہ تو نے خوف خدا کو ملحوظ نہیں رکھا پس میں تیرے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں پاتا۔تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی(یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت (یعنی طہر)کے آغاز میں دو امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس روایت کو حمید اعرج و غیرہ نے بسند مجاہد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کیا ہے۔اسی طرح شعبہ نے بواسطہ عمرو بن مرہ بسند سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے اور روایت کیا ہے اس کو ایوب اور ابن جریج نے بواسطہ عکرمہ بن خالد بسند سعید بن جبیر اور روایت کیا ہے اس کو ابن جریج نے بواسطہ عبدالحمید بن رافع بسند عطاء اور روایت کیا اس کو اعمش نے بواسطہ مالک بن حارث۔اور اسی طرح روایت کیا اس کو ابن جریج نے بواسطہ عمرو بن دینار حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سب ہی نے اس میں تین طلاق کا ذکر کیا اور کہا کہ ابن عباس نے اس کو جانے دیا(یعنی طلاق ثلاثہ کو ایک قرار نہیں دیا)اور فرمایا کہ تو نے اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ اور ایسے ہی اسماعیل کی حدیث ہے بواسطہ ایوب بسند عبداللہ بن کثیر ابوداؤد نے کہا کہ حماد بن زید نے بواسطہ ایوب بسند عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک منہ سے کہے انت طالق ثلثا(یعنی ایک ہی دفعہ کہہ دے کہ میں نے تجھے تین طلاق دی)تو وہ ایک ہی شمار ہوگی اور یہی قول اسماعیل بن ابراہیم نے بسند ایوب بواسطہ عکرمہ روایت کیا ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے لیکن اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٢١٩٧)
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان محمد بن ایاس سے روایت ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاقیں دیدیں(تو اس کا کیا حکم ہے؟) تو ان سب کا جواب تھا کہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہو سکتی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے (اور پھر اس کے نکاح سے نکل جائے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس کو مالک نے بسند یحیی بن سعید بواسطہ بکیر بن اشجع معاویہ بن ابی عیاش روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے تو اس وقت وہ وہاں موجود تھے ان دونوں حضرات نے کہا ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس جاؤ میں ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چھوڑ کر آ رہا ہوں اس کے بعد راوی نے یہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٦٠؛حدیث نمبر؛٢١٩٨)
حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نامی ایک شخص حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتا تھا ایک دن اس نے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ابتدائی عہد خلافت میں جب کوئی شخص دخول سے قبل عورت کو تین طلاقیں دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار ہوتی تھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا ہاں مجھے معلوم ہے جب کوئی شخص دخول(جماع)سے قبل عورت کو طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی عہد رسالت میں عہد صدیقی میں اور عہد فاروقی کے ابتدائی دور میں لیکن جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ لوگ کثرت سے تین طلاقیں دینے لگے ہیں تو انہوں نے فرمایا میں ان تینوں کو ان پر نافذ کروں گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٢١٩٩)
حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں(ایک دفعہ میں دی گئی)تین طلاقیں ایک ہی سمجھی جاتی تھیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا ہاں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث؛جلد٢؛ص٢٦١؛حدیث نمبر؛٢٢٠٠)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جسکی اس نے نیت کی ہوگی پس جسکی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لئے سمجھی جائے گی اور جس نے ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے نکاح کے لئے کی ہوگی تو اس کی ہجرت اس کے لئے سمجھی جائے گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی ما عنی بہ الطلاق والنیات؛جلد٢؛ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٢٢٠١)
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن کعب جب نابینا ہو گئے تو وہ کعب کے بیٹوں کو لئے رہتے تھے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا کہ انہوں نے غزوہ تبوک کا قصہ سنایا(جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرکت نہ کرنے والوں سے تمام لوگوں کو گفتگو کرنے سے منع فرما دیا تھا)وہ کہتے ہیں کہ(نبی کو گفتگو کئے ہوئے)پچاس میں سے چالیس دن گزر چکے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک قاصد آیا اور اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ تو اپنی بیوی سے الگ ہو جا۔میں نے کہا کیا میں اس کو طلاق دیدوں؟یا میں اس کے ساتھ کچھ اور معاملہ کروں؟اس نے کہا نہیں صرف اس سے جدا رہ اور اس سے صحبت نہ کر پس میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تو اپنے میکہ چلی جا اور وہیں رہ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس مقدمہ کا فیصلہ نہ فرما دیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی ما عنی بہ الطلاق والنیات؛جلد٢؛ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٢٢٠٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو(طلاق کا یا اپنے ساتھ رہنے کا)اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (اختیار)کو کچھ نہیں سمجھا(یعنی طلاق نہیں سمجھا) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخیار؛جلد٢؛ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٢٢٠٣)
حماد بن زید سے روایت ہے کہ میں نے ایوب سے پوچھا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص سے واقف ہیں جس نے "امرک بیدک"میں حسن کے قول کو بیان کیا ہو؟(یعنی حسن کا یہ قول کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہ دے "امرک بیدک"تو اس پر تین طلاقیں وارد ہو جائیں گی)انہوں نے کہا نہیں مگر ایک روایت ہے جو قتادہ نے بسند کثیر مولیٰ بن سمرہ بواسطہ ابوسلمہ بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس مثل(حسن کے قول کے مثل)روایت کی ہے ایوب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا میں نے یہ حدیث کبھی بیان نہیں کی پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ کثیر نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی مگر ان کو یاد نہیں رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی امرک بیدک؛جلد٢؛ص٢٦٢؛حدیث نمبر؛٢٢٠٤)
حسن سے"امرک بیدک"کے سلسلے میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی امرک بیدک؛جلد٢؛ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٢٢٠٥)
حضرت رکانہ بن عبد یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ دی پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی رکانہ نے کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکانہ سے پوچھا کیا تو نے واقعی ایک طلاق کی نیت کی تھی؟رکانہ نے پھر کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیوی اس کو لوٹا دی(یعنی رجعت کا حکم فرمایا)پھر رکانہ نے دوسری طلاق حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں دی اور تیسری حضرت عثمان غنی کے عہد خلافت میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا پہلا حصہ ابراہیم کا روایت کردہ ہے اور دوسرا ابن سراح کا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی البتۃ؛جلد٢؛ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٢٢٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٠٦ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی امرک بیدک؛جلد٢؛ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٢٢٠٧)
علی بن یزید سے روایت ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تیری نیت کیا تھی؟بولا ایک طلاق کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اللہ کی قسم کھا سکتے ہو؟اس نے کہا ہاں واللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو وہی ہے جو تیری نیت تھی (یعنی ایک ہی طلاق واقع ہوگی) امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ابن جریح کی حدیث کی بنسبت یہ حدیث زیادہ صحیح ہے جس میں یہ مذکور تھا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اس حدیث کی صحت کی وجہ یہ ہے کہ گھر والے گھریلو معاملات سے زیادہ واقف ہوئے ہیں اور ابن جریح کی حدیث بنی ابی رافع کے کسی شخص کے حوالہ سے اور عکرمہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی امرک بیدک؛جلد٢؛ص٢٦٣؛حدیث نمبر؛٢٢٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کیا جو خطرے اور خیالات دل میں آتے ہیں جب تک کہ زبان سے اس کا اظہار نہ کرے یا اس پر عمل نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الوسوسۃ بالطلاق؛جلد٢؛ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٢٢٠٩)
حضرت ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا اے بہن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ تیری بہن ہے؟(یعنی وہ تیری بہن نہیں ہے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برا جانا اور اس سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الرجل یقول لامرتہ:یا اختی؛جلد٢؛ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٢٢١٠)
ابی تمیمہ کی قوم میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص سے سنا جس نے اپنی بیوی کو بہن کہہ دیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو(ایسا کہنے سے)منع فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس روایت کو عبدالعزیز بن مختار نے بسند خالد بواسطہ ابی عثمان بروایت ابی تمیمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور شعبہ نے بسند خالد بواسطہ ایک شخص بروایت ابی تمیمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الرجل یقول لامرتہ:یا اختی؛جلد٢؛ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٢٢١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین مواقع پر محض اللہ تعالیٰ کے لئے ایک یہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا"إِنِّي سَقِيمٌ"(میں بیمار ہوں)اور دوسرے جب انہوں نے(اپنی بت شکنی کو ان کے بڑے بت کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا"بَلْ فَعَلَهُ کَبِيرُهُمْ هَذَا"(بلکہ ان کے اس بڑے بت نے ایسا کیا ہے)اور تیسرے جب کہ وہ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں سفر کر رہے تھے(جو لوگوں کی بیویوں کو چھین لیتا تھا)اور ایک مقام پر اترے پس وہ ظالم آ گیا لوگوں نے اس کو بتایا کہ یہاں ایک شخص ہے جس کی بیوی حسین ہے پس اس نے ایک شخص کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیجا اور ان کی اہلیہ کے متعلق پوچھ گچھ کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ تو میری بہن ہے جب آپ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے پاس پہنچے تو ان سے بھی فرمایا کہ اس شخص نے مجھ سے تمہارے بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے بتایا کہ تم میری بہن ہو(اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں ہے کیونکہ)آج میرے اور تمہارے سوا اس سر زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہے اور اللہ کی کتاب کی رو سے تم میری(دینی)بہن ہو پس اگر اس ظالم کا سامنا ہو تو میری تکذیب نہ کرنا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث کو شعیب بن ابی حمزہ نے بواسطہ ابی الزنادبسند اعرج بروایت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الرجل یقول لامرتہ:یا اختی؛جلد٢؛ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٢٢١٢)
حضرت سلمہ بن صخر بیاضی سے روایت ہے کہ میں عورتوں کا اتنا خواہشمند تھا جتنا کہ دوسرا نہ ہوگا(یعنی میں کثیر الشہوت تھا)جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میں بیوی سے کچھ کر نہ بیٹھوں(جماع نہ کر بیٹھوں) جس کی برائی صبح تک میرا ساتھ نہ چھوڑے تو میں نے اس رمضان کے ختم تک ظہار کر لیا ایک دن ایسا ہوا کہ رات کے وقت وہ میری خدمت کر رہی تھی اس دوران اس کے بدن کا کچھ حصہ کھل گیا میں ضبط نہ کر سکا اور جماع کرنے لگ جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور ان کو اس واقعہ کی خبر دی اور کہا میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلو وہ بولے واللہ ہم نہ جائیں گے پس میں اکیلا ہی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے(رات کا)حال بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے سلمہ کیا تو نے واقعی ایسا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں نے ایسا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال مجھ سے دو مرتبہ کیا(اور دونوں مرتبہ میں نے اثبات میں جواب دیا)اور عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اللہ کے حکم پر راضی ہوں پس میرے بارے میں حکم صادر فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کر میں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں اس گردن کے سوا کسی گردن کا مالک نہیں ہوں(اور یہ کہتے ہوئے)میں نے اپنی گردن پر مارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا(اگر ایسا نہیں کر سکتا تو)تو پھر پے درپے دو مہینوں کے روزے رکھ میں نے عرض کیا یہ مصیبت تو روزوں ہی کی وجہ سے مجھ پر آئی ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق(یہ ایک پیمانہ کا نام ہے) کھجور کھلا میں نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم دونوں میاں بیوی نے رات بھوکے رہ کر گزاری ہے کیونکہ ہمارے پاس کھانا نہ تھا(یہ سن کر)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تو پھر بنی زریق کے ایک صدقہ دینے والے کے پاس جا وہ تجھ کو صدقہ دے گا پس اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو ایک ایک وسق کھجور دے اور باقی تو خود کھا اور بال بچوں کو کھلا اس کے بعد میں اپنی قوم کے پاس لوٹ آیا اور کہا میں نے تمہارے پاس تنگی اور خراب رائے پائی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کشادگی اور اچھی رائے پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے ابن العلاء نے یہ اضافہ کیا کہ ابن ادریس نے کہا کہ بیاضہ بنی زریق کی ایک شاخ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الظہار؛جلد٢؛ص٢٦٥؛حدیث نمبر؛٢٢١٣)
حضرت خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ سے روایت ہے کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں مجھ سے جھگڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے (دور جاہلیت میں اور ابتدائے اسلام میں ظہار طلاق سمجھا جاتا تھا خویلہ اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خویلہ کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اب وہ تیرا شوہر نہیں رہا بلکہ صرف چچا زاد بھائی رہ گیا ہے) پس میں نہیں ہٹی یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی(قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْ تَكِيْ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ ) 58۔ المجادلہ : 1) (ترجمہ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے،بیشک اللہ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے"اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ یعنی تیرا شوہر ایک غلام آزاد کرے میں نے عرض کیا اس کی طاقت نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر دو مہینہ کے پے درپے روزے رکھ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ بہت بوڑھا ہے اس میں روزے رکھنے کی سکت نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے میں نے عرض کیا اس کے پاس کچھ نہیں ہے جس سے وہ صدقہ دے خویلہ کہتی ہیں کہ تبھی کھجور کا ایک تھیلا آیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کو دوسرا کھجوروں کا تھیلا دے دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے جا اس کو لے جا اور اس میں سے اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا اور پھر(بے خوف و خطر)اپنے چچا کے بیٹے کے پاس رہ راوی کا بیان ہے کہ عرق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ابوداؤد نے کہا کہ خویلہ نے اپنے شوہر کو بتائے بغیر اس کی طرف سے کفارہ ادا کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الظہار؛جلد٢؛ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٢٢١٤)
ابن اسحاق سے بھی اسی طرح مروی ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ ہے کہ عرق ایک پیمانہ کا نام ہے جس میں تیس صاع آتے ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث یحیی بن آدم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٢٢١٥)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عرق ایک زنبیل(تھیلا)ہے جس میں پندرہ صاع آتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٢٢١٦)
حضرت سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ کھجوریں آئیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیدیں جو پندرہ صاع کے قریب ہوں گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو صدقہ کر دے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اس کو دوں جو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے بھی زیادہ غریب ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تو پھر یہ کھجوریں تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٢٢١٧)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا میں نے یہ حدیث محمد بن یزید مصری کے سامنے پڑھی تو میں نے ان سے کہا تم سے حدیث بیان کی بشر بن بکر نے باخبار اوزاعی تجدیث عطاء بواسطہ اوس برادر عبادہ بن صامت کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پندرہ صاع جَو دئیے ساتھ مسکینوں کو کھلانے کے لئے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا عطاء نے اوس کو نہیں پایا کیونکہ وہ بدری ہیں جن کی موت پہلے واقع ہو چکی تھی لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٢٢١٨)
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ خولہ اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت صامت کے نکاح میں تھیں اور اوس ایک دیوانہ آدمی تھا جب اس پر جنون کا غلبہ ہوتا تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتا تب اللہ تعالیٰ نے کفارہ ظہار والی آیت نازل فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٢٢١٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢١٩ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٢٢٢٠)
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر کفارہ کیا اور پھر کفارہ دینے سے قبل اس سے جماع کر لیا پس اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر ماجرا بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی چاندنی میں دیکھی(پس مجھ سے رہا نہ گیا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب تو اس سے جدا رہ جب تک کہ کفارہ نہ دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢١)
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ایک شخص نے اپنی عورت سے ظہار کیا تو اس نے اپنی بیوی کی پنڈلی کی سفیدی چاندنی میں دیکھی تو وہ اس سے جماع کر بیٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر اس میں پنڈلی دیکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٢٢ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٤)
حضرت عکرمہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے(یعنی مرسلاً کیونکہ اس میں ابن عباس کا واسطہ مذکور نہیں ہے)جیسا کہ حدیث سفیان ہے امام ابوداؤد نے کہا کہ میں نے سنا کہ محمد بن عیسیٰ نے اس کی حدیث کو بسند معتمر بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکم بن ابان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا مگر معتمر نے اس میں ابن عباس کا حوالہ ذکر نہیں کیا نیز ابوداؤد نے کہا کہ حسین بن حریث نے مجھے تحریر کیا کہ فضل بن موسیٰ نے بسند معمر بواسطہ حکم بن ابان بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اسی کے ہم معنی روایت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اظہار؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٥)
حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو عورت بلا وجہ شوہر سے طلاق طلب کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخلع؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٦)
حضرت حبیبہ بنت سہل انصاریہ سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلے تو دیکھا کہ حبیبہ بنت سہل آپ کے دروازے پر اندھیرے میں کھڑی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون ہے؟تو میں نے عرض کیا حبیبہ بنت سہل ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟میں نے کہا:یامیں نہیں یا میرا شوہر ثابت بن قیس نہیں(یعنی ہم دونوں اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے)جب ثابت بن قیس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ حبیبہ بنت سہل ہے جو کچھ اللہ کو منظور تھا اس نے بیان کر دیا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت بن قیس نے جو کچھ بطور مہر مجھ کو دیا وہ میرے پاس موجود ہے(اور وہ میں لوٹانے کے لئے تیار ہوں)یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا جو کچھ تو نے دیا تھا وہ اس سے واپس لے لے پس ثابت نے(اپنا دیا ہوا مال)واپس لے لیا اور حبیبہ اپنے گھر جا بیٹھیں(یعنی نکاح فسخ ہو گیا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخلع؛جلد٢؛ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٢٢٢٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں تھیں ثابت نے ان کو مارا تو انکا کوئی عضو ٹوٹ گیا پس وہ نماز فجر کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثابت کو بلایا اور فرمایا اس سے کچھ مال لے لے اور اس کو چھوڑ دے ثابت نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ درست ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں تو ثابت نے کہا میں نے اس کو (مہر میں دو باغ دئیے تھے وہ اسی کے پاس ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں باغ اس سے لے لے اور اس کو چھوڑ دے پس ثابت نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخلع؛جلد٢؛ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٢٢٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے اس سے خلع لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض مقرر کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس حدیث کو عبدالرزاق نے بسند معمر بواسطہ عمرو بن مسلم بروایت عکرمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخلع؛جلد٢؛ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٢٢٢٩)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خلع حاصل کرنے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی الخلع؛جلد٢؛ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٢٢٣٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت مغیث رضی اللہ عنہ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس سے میری سفارش کر دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بریرہ!اللہ سے ڈرو،وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہےکہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المملوکۃ تعتق وھی تحت حرا او عبد؛جلد٢؛ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا)اختیار دیا اور(نہ رہنے کی صورت میں)انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المملوکۃ تعتق وھی تحت حرا او عبد؛جلد٢؛ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو(آزاد ہونے کے بعد)اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا،اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے(بریرہ کو)اختیار نہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المملوکۃ تعتق وھی تحت حرا او عبد؛جلد٢؛ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المملوکۃ تعتق وھی تحت حرا او عبد؛جلد٢؛ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد تھا،اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من قال:کان حرا؛جلد٢؛ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٢٢٣٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا اگر اس نے تجھ سے صحبت کرلی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من قال:کان حرا؛جلد٢؛ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٢٢٣٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی المملوکین یعتقان معا ھل تخیر امراتہ؛جلد٢؛ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٢٢٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی،تو اس نے کہا یا رسول اللہ!یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب اذا اسلم احد الزوجین؛جلد٢؛ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٢٢٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہوگئی اور اس نے نکاح بھی کرلیا،اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب اذا اسلم احد الزوجین؛جلد٢؛ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٢٢٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا دو سال کے بعد۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب الی متی ترد علیہ امراتہ اذا اسلم بعدھا؟؛جلد٢؛ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٢٢٤٠)
حضرت حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا،میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان میں سے چار کا انتخاب کرلو(اور باقی کو طلاق دے دو) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی من اسلم وعندہ نساء اکثر من أربع او اختان؛جلد٢؛ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٢٢٤١)
ایک اور سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی من اسلم وعندہ نساء اکثر من أربع او اختان؛جلد٢؛ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٢٢٤٢)
فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی من اسلم وعندہ نساء اکثر من أربع او اختان؛جلد٢؛ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٢٢٤٣)
حضرت رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا،اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی بیٹی میری ہے(اسے میں اپنے پاس رکھوں گی)اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا،اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے(اسے میں اپنے پاس رکھوں گا)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا،اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا،پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ اسے ہدایت دے، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہوگئی تو انہوں نے اسے لے لیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب اذا اسلم احد الابوین،مع من یکون الولد؛جلد٢؛ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٢٢٤٤)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی،عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے عاصم!ذرا بتاؤ،اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی)شخص کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے،یا وہ کیا کرے؟میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو،چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے(بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری،جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آکر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں،میں نے سوال کیا اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا،وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ(اجنبی)آدمی کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کردیں گے،یا وہ کیا کرے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ،سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان کیا،اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ(لعان سے)فارغ ہوگئے تو عویمر رضی اللہ عنہ کہااگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو(گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے چناچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ابن شہاب زہری کہتے ہیں تو یہی(ان دونوں)لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٢٢٤٥)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایابچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٢٢٤٦)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا،پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ پھر وہ عورت حاملہ نکلی چنانچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٢٢٤٧)
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا،بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس(شوہر)نے سچ کہا ہے،اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے،چناچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٢٢٤٨)
ایک اور سندسے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےتو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٢٢٤٩)
ایک اور سندسے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں(عاصم بن عدی)نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا،اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہوگیا کہ انہیں جدا کردیا جائے،اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٢٢٥٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس واقعہ لعان کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق فرما دی یہ سفیان کی حدیث بواسطہ زہری کے الفاظ تھے اور مسدد کی حدیث یہاں پر پوری ہوگئی جب کہ دوسروں کی روایت یوں ہے کہ سہل بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی پس اس شخص(عویمر)نے کہا کہ اگر میں اس کو اپنے نکاح میں رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا اور بعضوں نے کہا کہ اس نے"علیہا" نہیں کہا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس بات پر عیینہ کا کوئی متابع نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٢٢٥١)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عورت حاملہ تھی اور عویمر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ حمل اس سے ہے پھر اس عورت کا بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا پھر میراث کے معاملہ پر یہ سنت جاری ہوئی کہ وہ بچہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس بچہ کی وارث قرار پائے گی جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٢٢٥٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن جمعہ کی رات مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک انصاری شخص آیا اور کہنے لگا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی مرد کو پائے اور پھر وہ اس پر زنا کا الزام لگائے تو تم اس کو حد قذف میں کوڑے لگاؤ گے اور قتل کرنے پر اس کو قتل کر ڈالو گے اور اگر خاموشی اختیار کرے تو خون کے گھوٹ پئے اللہ کی قسم میں یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا جب اگلا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور یہی کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی مرد کو پائے اور اس پر زنا کا الزام لگائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کوڑے لگائیں گے یا قتل کر دے تو اس کو قصاصاً قتل کر دیں گے اور اگر خاموشی اختیار کرے تو خون کے گھونٹ پئے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کے بارے میں کوئی حکم جاری فرما آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کر ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ)"جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگائیں اور ان کے پاس ثبوت پیش کرنے کے لئے کوئی گواہ موجود نہ ہو سوائے اپنی ذات کے تو"۔پس وہ شخص جو اس مصیبت میں مبتلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس کی بیوی بھی آئی پھر دونوں نے لعان کیا یعنی پہلے مرد نے چار مرتبہ اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ اپنے الزام میں سچا ہے پھر پانچویں مرتبہ لعنت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو جو جھوٹ بولے اس کے بعد عورت نے لعان کرنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جھڑک دیا لیکن وہ نہیں مانی اور اس نے بھی اسی طرح لعان کیا جب وہ دونوں وہاں سے چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شاید اس عورت کے گھونگریالے بالوں والا بچہ سیاہ رنگ کا پیدا ہوگا پھر جب اس کے بچہ پیدا ہوا تو وہ گھونگریالے بالوں والا اور سیاہ رنگ کا تھا یعنی عورت پر زنا کا الزام درست نکلا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٢٢٥٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ ان تین آدمیوں میں سے ایک ہے جن کا اللہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر (جہاد میں عدم شرکت کا) قصور معاف فرما دیا تھا پس ہلال بن امیہ رات کو اپنی زمین (کھیت) سے گھر آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو زنا کرتے ہوئے) پایا۔ پس اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ ہلال نے نہ اس کو ڈانٹا اور نہ دھمکایا۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شام کو اپنے گھر گیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پایا۔ پس میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور (ان کی آوازوں کو)اپنے کانوں سے سنا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری۔ہلال پر یہ امر سخت گزرا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی(تر جمہ)"جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں مگر ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتا تو ان میں سے ہر ایک پر چار گواہیاں ہیں(النور؛٦سے ٩ تک)۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی شدت جاتی رہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ہلال خوش ہوجا اللہ نے تیرے واسطے وسعت پیدا کی اور راستہ نکالا۔ ہلال نے کہا مجھے بھی اپنے رب سے ہی امید تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو بلا بھیجو وہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے یہی آیت پڑھی اور نصیحت کی اور خبردار کیا کہ آخرت کی تکلیف دنیا کی تکلیف سے شدید تر ہے۔ ہلال نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے سچ کہا اس کا حال۔ عورت نے کہا یہ جھوٹ بولتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنے اصحاب سے) فرمایا کہ ان دونوں کو لعان کراؤ۔ پہلے ہلال سے کہا گیا کہ گواہیاں دیں کہ میں سچ کہتا ہوں۔ جب پانچویں گواہی کا نمبر آیا تو ہلال سے کہا گیا کہ اے ہلال اللہ سے ڈر کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہی آخری گواہی ہے جو۔ جھوٹا ہونے پر تیرے اوپر عذاب کو واجب کر دے گی ہلال نے کہا اللہ کی قسم اللہ اس عورت پر الزام کی بنا پر مجھے عذاب نہیں دے گا جس طرح اس نے میری پیٹھ کو کوڑے لگنے سے بچایا ہے۔ سو اس نے پانچویں گواہی بھی دیدی کہ مجھ پر اللہ کی لعنت اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تو بھی گواہیاں دے۔ اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ (یعنی اس کا شوہر) جھوٹا ہے جب پانچویں گواہی کا نمبر آیا تو اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے کم ہے اور یہی پانچویں گواہی تجھ پر جھوٹا ہونے کی صورت میں اللہ کا عذاب واجب کر دے گی یہ سن کر وہ عورت ایک لمحے کے لئے ہچکچائی۔ پھر بولی اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی۔ اور یہ کہہ کر اس نے پانچویں گواہی بھی دیدی کہ اگر اس کا شوہر الزام میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے بچہ کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس عورت کو زنا کے الزام سے متہم کیا جائے گا اور نہ اس کے بچہ کو ولدالزنا کہا جائے گا اور جو شخص اس عورت پر زنا کی اور اس کے بچہ پر ولدالزنا ہونے کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری کی جائے گی اور یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ مرد کے ذمہ عورت کے لئے ٹھکانا فراہم کرنا اور نان و نفقہ دینا لازم نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور نہ اس کے شوہر کی وفات ہوئی نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا اگر اس کا بچہ بھورے بالوں والا پتلے سرین والا چوڑے پیٹ والا اور دبلی پنڈلیوں والا ہو تو یہ بچہ ہلال کا ہے اور اگر گندمی رنگ بال فربہ موٹی پنڈلیوں اور بڑی سرین والا پیدا ہو تو اس شخص کا ہے جس کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی گئی ہے پس جب اس کے بچہ پیدا ہوا تو وہ گندم گوں گھنگریالے بال فربہ موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر پہلے گواہیاں نہ ہو چکی ہوتیں تو میں اس عورت کو سزا دیتا عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں(وہ بچہ بڑا ہو کر)مصر کا حاکم بنا لیکن اس کو باپ کی طرف منسوب کر کے نہ پکارا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٢٢٥٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والوں کو لعان کے لئے فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ پانچویں گواہی پر پہنچے تو اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دے اور اس سے کہا کہ یہ پانچویں گواہی لعنت کا موجب ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٢٢٥٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ ان تین آدمیوں میں سے ایک ہے جن کا اللہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر(جہاد میں عدم شرکت کا)قصور معاف فرما دیا تھا پس ہلال بن امیہ رات کو اپنی زمین(کھیت) سے گھر آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو زنا کرتے ہوئے)پایا۔پس اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ہلال نے نہ اس کو ڈانٹا اور نہ دھمکایا۔جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شام کو اپنے گھر گیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پایا۔ پس میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور (ان کی آوازوں کو)اپنے کانوں سے سنا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری۔ہلال پر یہ امر سخت گزرا۔تب یہ آیت نازل ہوئی(تر جمہ)"جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں مگر ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتا تو ان میں سے ہر ایک پر چار گواہیاں ہیں"(النور ٦)۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی شدت جاتی رہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ہلال خوش ہوجا اللہ نے تیرے واسطے وسعت پیدا کی اور راستہ نکالا۔ہلال نے کہا مجھے بھی اپنے رب سے ہی امید تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو بلا بھیجو وہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے یہی آیت پڑھی اور نصیحت کی اور خبردار کیا کہ آخرت کی تکلیف دنیا کی تکلیف سے شدید تر ہے۔ہلال نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے سچ کہا اس کا حال۔ عورت نے کہا یہ جھوٹ بولتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(اپنے اصحاب سے) فرمایا کہ ان دونوں کو لعان کراؤ۔ پہلے ہلال سے کہا گیا کہ گواہیاں دیں کہ میں سچ کہتا ہوں۔جب پانچویں گواہی کا نمبر آیا تو ہلال سے کہا گیا کہ اے ہلال اللہ سے ڈر کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہی آخری گواہی ہے جو جھوٹا ہونے پر تیرے اوپر عذاب کو واجب کر دے گی ہلال نے کہا اللہ کی قسم!اللہ اس عورت پر الزام کی بنا پر مجھے عذاب نہیں دے گا جس طرح اس نے میری پیٹھ کو کوڑے لگنے سے بچایا ہے۔سو اس نے پانچویں گواہی بھی دیدی کہ مجھ پر اللہ کی لعنت اگر میں جھوٹ بولوں۔اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تو بھی گواہیاں دے۔اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ(یعنی اس کا شوہر)جھوٹا ہے جب پانچویں گواہی کا نمبر آیا تو اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے کم ہے اور یہی پانچویں گواہی تجھ پر جھوٹا ہونے کی صورت میں اللہ کا عذاب واجب کر دے گی یہ سن کر وہ عورت ایک لمحے کے لئے ہچکچائی۔پھر بولی اللہ کی قسم!میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی۔اور یہ کہہ کر اس نے پانچویں گواہی بھی دیدی کہ اگر اس کا شوہر الزام میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے بچہ کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس عورت کو زنا کے الزام سے متہم کیا جائے گا اور نہ اس کے بچہ کو ولدالزنا کہا جائے گا اور جو شخص اس عورت پر زنا کی اور اس کے بچہ پر ولدالزنا ہونے کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری کی جائے گی اور یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ مرد کے ذمہ عورت کے لئے ٹھکانا فراہم کرنا اور نان و نفقہ دینا لازم نہیں ہے کیونکہ کہ یہ دونوں بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور نہ اس کے شوہر کی وفات ہوئی نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا اگر اس کا بچہ بھورے بالوں والا پتلے سرین والا چوڑے پیٹ والا اور دبلی پنڈلیوں والا ہو تو یہ بچہ ہلال کا ہے اور اگر گندمی رنگ بال فربہ موٹی پنڈلیوں اور بڑی سرین والا پیدا ہو تو اس شخص کا ہے جس کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی گئی ہے پس جب اس کے بچہ پیدا ہوا تو وہ گندم گوں گھنگریالے بال فربہ موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر پہلے گواہیاں نہ ہو چکی ہوتیں تو میں اس عورت کو سزا دیتا عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں (وہ بچہ بڑا ہو کر) مصر کا حاکم بنا لیکن اس کو باپ کی طرف منسوب کر کے نہ پکارا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٢٢٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا کیا تم دونوں کا حساب اللہ کے پاس ہے تم دونوں میں سے یقینا ایک جھوٹا ہے(مرد سے فرمایا)تجھ کو اس عورت پر قابو نہیں اس نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا مال (یعنی اس سے میرا وہ مال دلایئے جو میں نے بطور مہر اس کو دیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو سچا ہے تو تیرا مال اس کے بدلہ میں گیا کہ تو نے اس کی شرم گاہ کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور اگر تو نے اس پر جھوٹ باندھا تو پھر وہ مہر مانگنا تیرے شایان شان نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٢٢٥٧)
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے(تو کیا ان کے درمیان تفریق کی جائے گی)انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دو بھائی بہنوں کو (عویمر اور اس کی بیوی کو) جدا کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یقینا یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے پس تم میں سے کون توبہ کرتا ہے؟آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے (لیکن جب ان دونوں میں کسی نے توبہ نہیں کی اور اپنی اپنی بات پر جمے رہے) تو آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق فرما دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٢٢٥٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچہ کے نسب کو عورت سے منسوب کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی اللعان؛جلد٢؛ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٢٢٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیوی کے کالا بچہ پیدا ہوا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟اس نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ان اونٹوں کا رنگ کیسا ہے؟اس نے کہا سرخ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا ان اونٹوں میں کوئی بھورے رنگ کا بھی ہے؟وہ بولا شاید یہ رنگ کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب إذا شک فی الولد؛جلد٢؛ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٢٢٦٠)
حضرت زہری نے اسی مفہوم کی روایت ذکر کی ہے اس میں یہ ہے کہ وہ مرد(بچہ کے کالے رنگ سے)اس بات کا اشارہ کر رہا تھا کہ وہ بچہ اس کا نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب إذا شک فی الولد؛جلد٢؛ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٢٢٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ جنا ہے۔باقی مضمون سابقہ حدیث کی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب إذا شک فی الولد؛جلد٢؛ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٢٢٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان والی آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس عورت نے اپنے بچہ کو اس قوم میں داخل کیا جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ عورت اللہ کی(رحمت کی) چیزوں میں سے کسی چیز میں داخل نہیں ہے اور اللہ اس کو ہرگز اپنی جنت میں داخل نہ کرے گا اور جو مرد ایسا ہو کہ بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کرے اس حال میں کہ وہ بچہ اس کی طرف (پیار بھری نظروں سے)دیکھ رہا ہو تو قیامت کے دن اس کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوق کے سامنے رسوا کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب التغلیظ فی الانتفاء؛جلد٢؛ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٢٢٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں پیشہ کرانا ممکن نہیں اور جس زمانہ جاہلیت میں پیشہ کیا تھا(اور اس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا تو)اس کا نسب اس کے مولیٰ سے ملے گا اور اگر کوئی بغیر نکاح کئے کسی بچہ کے نسب کا مدعی ہو تو نہ وہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ بچہ کا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی ادعاء ولد الزنا؛جلد٢؛ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٢٢٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس معاملہ میں فیصلہ کرنا چاہا جو بچہ اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے یعنی اس باپ سے جس کے نام سے پکارا جاتا ہے اور باپ کے وارث اس کو ملانا چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا اگر وہ بچہ اس باندی سے ہے جس کا بوقت جماع اس کا باپ مالک تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو چکا ہے اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ جو ترکہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوا اس میں اس کا حصہ ہوگا مگر جب وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جا رہا ہے اپنی زندگی میں اس کے نسب سے انکار کرتا رہا ہو تو وارثوں کے ملانے سے اس کا نسب نہیں ملے گا اور اگر وہ بچہ ایسی باندی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا وہ بچی آزاد عورت کے پیٹ سے پیدا ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ وہ اس کا وارث ہوگا اگرچہ اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعوی کیا ہو کہ یہ بچہ میرا ہے کیونکہ وہ ولد الزنا ہے خواہ آزاد عورت کے پیٹ سے ہو یا باندی کے پیٹ سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی ادعاء ولد الزنا؛جلد٢؛ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٢٢٦٥)
محمد بن راشد سے بھی اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی روایت مروی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ بچہ (ولدالزنا) اپنی ماں کے لوگوں میں مل جائے گا خواہ آزاد عورت سے ہو یا باندی سے اور یہ حکم اس میں ہے جو ابتداء اسلام میں ہو جو مال اسلام سے پہلے تقسیم ہو چکا وہ گزر گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی ادعاء ولد الزنا؛جلد٢؛ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٢٢٦٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے مسدد اور ابن سرح نے روایت کیا کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش تھے اور عثمان نے روایت کیا کہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پھوٹی پڑتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!کیا تمہیں پتہ ہے کہ آج مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کو دیکھا اس حال میں کہ ان کے سر چھپے ہوئے تھے صرف پاؤں دکھائی دے رہے تھے اس نے کہا یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ابوداؤد نے کہا اسامہ کا رنگ کالا تھا اور زید کا سفید۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی القافۃ؛جلد٢؛ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٢٢٦٧)
ابن شہاب کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے خطوط چمکنے لگے۔ اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: أسارير وجهه کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے، ابوداؤد کہتے ہیں: أسارير وجهه ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے أسارير وجهه کے بجائے لأسارير من غير کے الفاظ سنے ہیں اور أسارير کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی القافۃ؛جلد٢؛ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٢٢٦٨)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن سے ایک شخص آیا اور بولا کہ تین آدمی ایک بچہ کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے۔اور ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے دو کو الگ کر کے کہا کہ تم دونوں اس بچہ کو تیسرے شخص کو دیدو لیکن انہوں نے یہ بات نہیں مانی اور چیخنے چلانے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے دوسرے دو کو الگ کر کے یہی بات کہی لیکن انہوں نے بھی ماننے سے انکار کر دیا اور ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ حضرت علی نے فرمایا تم سب جھگڑنے والے شریک ہو میں قرعہ ڈالوں گا جس کے نام پر قرعہ نکلے وہ بچہ لے لے اور اپنے دو بقیہ ساتھیوں کو دیت کا ایک ایک تہائی ادا کر دے پس انہوں نے قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا تھا انہوں نے بچہ اسی کے حوالے کر دیا۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من قال باالقرعۃ اذا تنازعوا فی الولد؛جلد٢؛ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٢٢٦٩)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یمن میں حضرت علی کے پاس تین آدمی آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا۔حضرت علی نے دو کو الگ کر کے ان سے کہا کہ تم اس بچہ کے لئے اقرار کرو۔ انہوں نے نہ مانا اس طرح انہوں نے تینوں سے پوچھا۔پھر قرعہ ڈالا جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اس کو دیدیا اور اس سے ایک دیت کا ایک ایک ثلث بقیہ دو کو دلوادیا۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈاڑھیں مبارک دکھائی دینے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من قال باالقرعۃ إذا تنازعوا فی الولد؛جلد٢؛ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٢٢٧٠)
ابن خلیل سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تین شخص جھگڑتے ہوئے آئے ایک بچہ کے بارے میں جو ایک عورت نے ان تینوں سے جماع کے بعد حاملہ ہو کر جنا تھا لیکن اس میں یمن کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور نہ حضرت علی کے قول"طیبا بالولد"کا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من قال باالقرعۃ إذا تنازعوا فی الولد؛جلد٢؛ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٢٢٧١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلت میں نکاح چار طرح سے ہوتا تھا ان میں سے ایک نکاح کا طریقہ تو یہی تھا جو اب لوگوں میں جاری ہے یعنی ایک شخص دوسرے شخص کے پاس پیغام نکاح دیتا ہے اور وہ(اپنی بیٹی بہن یا جو بھی ہو)اس کا مہر مقرر کرتا ہے اور پھر نکاح کر دیتا ہے دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو جاتی تو مرد اس سے کہتا کہ فلاں شخص کو بلا بھیج اور اس سے جماع کروا۔اس کے بعد اس کا شوہر اس سے الگ رہتا اور اس سے جماع نہ کرتا یہاں تک کہ اس شخص کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے اس نے جماع کروایا تھا پس جب معلوم ہو جا تاکہ وہ حاملہ ہوگئی ہے تو اس کو شوہر اگر چاہتا تو اس سے جماع کرتا اور یہ طریقہ اس لئے جاری کر رکھا تھا تاکہ اچھی نسل کے بچے حاصل کئے جائیں اس نکاح کو نکاح استبضاع کہا جاتا تھا اور نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ آٹھ دس آدمی ایک عورت کے پاس آیا جایا کرتے اور سب اس سے جماع کرتے جب وہ حاملہ ہو جایا کرتی اور بچہ پیدا ہو جاتا چند روز کے بعد وہ سب کو بلا بھیجتی اور سب جمع ہوتے اور کوئی شخص آنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا جب سب آجاتے تو وہ ان سے کہتی کہ تم سب اپنا حال جانتے ہو اور اب میرے بچہ پیدا ہو چکا ہے اور یہ بچہ تم میں سے فلاں شخص کا ہے وہ ان میں سے جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ بچہ اسی شخص کو قرار پاتا۔اور چوتھی قسم کا نکاح یہ تھا کہ بہت سے آدمی ایک عورت کے پاس جاتے(یعنی اس سے جماع کرتے)اور وہ کسی کو بھی جماع سے نہ روکتی ایسی عورتیں بغایا (طوائف)کہلاتی تھیں ان کے گھروں کے دروازے پر جھنڈے لگے رہتے تھے یہ اس بات کی علامت تھی کہ جو چاہے ان کے پاس(بغرض)جماع آ سکتا ہے پس جب وہ حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے تمام آشنا اس کے پاس جمع ہوتے اور قیافہ شناش کو بلاتے پھر وہ جس کا بچہ کہہ دیتے وہ اسی کا قرار پاتا اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ دور جاہلیت کے نکاحوں کے تمام طریقوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اس طریقہ نکاح کے جو آج کل اہل اسلام میں رائج ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب فی وجوہ النکاح التی کان یتناکح بھا اھل الجاھلیۃ؛جلد٢؛ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٢٢٧٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ زمعہ کی باندی کے بچہ کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے جھگڑا کیا۔سعد کہتے تھے کہ میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی باندی کے بچہ کو دیکھوں اور اسے اصل کروں کیونکہ وہ میرا بچہ ہے اور عبد بن زمعہ کا کہنا تھا کہ وہ میرا بھائی ہے کیونکہ وہ میرےباپ کی باندی کا بیٹا ہے جو میرے گھر میں پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کو دیکھا تو واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سودہ سے فرمایا تو اس سے پردہ کیا کر ہر چند کہ سودہ بنت زمعہ کا وہ بچہ بھائی قرار پایا مگر چونکہ وہ عتبہ کا نطفہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پردہ کرنے کا حکم فرمایا)اور مسدد نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عبد بن زمعہ!یہ بچہ تیرا بھائی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب الولد للفراش؛جلد٢؛ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٢٢٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔فلاں بچہ میرا ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں میں نے اس کی ماں سے زنا کیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں( زنا کے سبب نسب کا) دعوی نہیں ہے۔جاہلیت کے تمام طریقے ختم ہو چکے ہیں۔اب تو بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہوا اور زنا کار کے لئے سنگ ساری کی سزا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ زمعہ کی باندی کے بچہ کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے جھگڑا کیا۔سعد کہتے تھے کہ میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی باندی کے بچہ کو دیکھوں اور اسے اصل کروں کیونکہ وہ میرا بچہ ہے اور عبد بن زمعہ کا کہنا تھا کہ وہ میرا بھائی ہے کیونکہ وہ میرےباپ کی باندی کا بیٹا ہے جو میرے گھر میں پیدا ہواہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب الولد للفراش؛جلد٢؛ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٢٢٧٤)
حضرت رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے گھر والوں نے۔گھر ہی کی ایک باندی سے میرا نکاح کر دیا پس میں نے اس سے جماع کیا تو مجھ جیسا ہی ایک کالا بچہ پیدا ہوا جس کا میں نے عبداللہ نام رکھا۔میں نے پھر اس سے صحبت کی تو پھر اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا جو میری ہی طرح کالا تھا میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھا۔پھر ایسا ہوا کہ میرے ہی گھر کے ایک رومی غلام نے اس کو پرچا لیا جس کا نام یوحنہ تھا یہ اس سے اپنی زبان میں اس سے گفتگو کرتا (جس کو ہم نہیں سمجھتے تھے)پھر اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا گویا کہ وہ گرگٹ تھا (یعنی اس کا رنگ رومیوں کی طرح سرخ تھا) میں نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے؟ (یعنی یہ کس کا نطفہ ہے؟)وہ بولی یہ یوحنہ کا ہے پس ہم نے یہ مقدمہ حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے ان دونوں سے(بچہ کے بارے میں)پوچھا تو انہوں نے اعتراف کر لیا اور ان سے پوچھا کہ کیا تم اس فیصلہ پر راضی ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ بچہ صاحب فراش کا ہے راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے حضرت عثمان نے ان دونوں۔ غلام اور باندی کو( زنا کی سزا میں) کوڑے لگائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب الولد للفراش؛جلد٢؛ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٢٢٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا بیٹا ہے۔ زمانہ حمل میں میرا پیٹ اس کا غلاف تھا اور زمانہ رضاعت میری چھاتی اس کے پینے کا برتن اور میری گود اس کا ٹھکانا۔اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دیدی اور چاہتا ہے کہ اس بچہ کو مجھ سے چھین لے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک کہ تو کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من أحق بالولد؛جلد٢؛ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٢٢٧٦)
حضرت ہلال بن اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابومیمونہ جس کا نام سلمہ تھا اہل مدینہ کا آزاد کردہ غلام اور سچا آدمی تھا اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک فارسی عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جس کے بارے میں میاں بیوی دعویدار تھے اور اس کے شوہر نے اس کو طلاق دے رکھی تھی اس نے فارسی زبان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی کہ میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو چھیننا چاہتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی بات سن کر کہا دونوں اس پر قرعہ اندازی کرلو یہ بات انہوں نے فارسی میں اس کو سمجھا دی۔اس کے بعد اس کا خاوند آیا اور بولا مجھ سے میرے بچہ کے بارے میں کون جھگڑتا ہے؟حضرت ابوہریرہ نے فرمایا واللہ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔میں آپ کی مجلس میں موجود تھا۔میں نے سنا وہ کہہ رہی تھی میرا شوہر مجھ سے میرا بیٹا چھیننا چاہتا ہے۔حالانکہ میرا بیٹا مجھ کو ابوعتبہ کے کنوئیں سے پانی لا کر پلاتا ہے اور میری خدمت کرتا ہے۔(یعنی میں نے پال پوس کر بڑا کیا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دونوں قرعہ ڈالو۔ بعد میں اس کا شوہر آیا اور بولا مجھ سے میرا بچہ کے بارے میں کون جھگڑتا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا۔یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کا جی چاہے تو ہاتھ پکڑ لے پس اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اس کو لے کر چلی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من أحق بالولد؛جلد٢؛ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٢٢٧٧)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ زید بن حارثہ مکہ گئے تو وہاں سے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کو لے کر آئے۔جعفر نے کہا اس کو تو میں لوں گا میں ہی اس کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میرے نکاح میں اس کی خالہ بھی ہے اور خالہ تو ماں ہوتی ہے حضرت علی نے کہا میں اس کا زیادہ حقدار ہوں یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں اور وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں۔زید بولے میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میں ہی اس کی خاطر گیا اور اس کو لے کر آیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا لڑکی جعفر کو ملے گی کیوں کہ اس طرح وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی جو ماں کے درجہ میں ہوتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من أحق بالولد؛جلد٢؛ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٢٢٧٨)
حضرت عبدالر حمن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن مکمل نہیں ہے۔اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔لڑکی جعفر کے پاس رہے گی کیونکہ اس کے نکاح میں اس کی خالہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من أحق بالولد؛جلد٢؛ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٢٢٧٩)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مکہ چلنے لگے تو حمزہ کی بیٹی ہمارے پیچھے آئی اور پکارنے لگی چچا چچا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو اٹھا لیا اور ہاتھ پکڑ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیدیا اور کہا لو سنبھالو اپنی چچاکی بیٹی کو پس حضرت فاطمہ نے اس کو اپنے ساتھ لے لیا اس کے بعد یہی قصہ بیان کیا۔جعفر نے کہا۔یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا خالہ ماں کی طرح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛ابواب تفریع ابواب الطلاق؛باب من أحق بالولد؛جلد٢؛ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٢٢٨٠)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہیں طلاق ہو گئی(اس وقت)طلاق یافتہ ہونے کی عدت نہیں ہوتی تھی،جب سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو طلاق ہوئی تو اللہ تعالی نے طلاق کی صورت میں بھی عدت کا حکم نازل کیا،تو وہ پہلی خاتون تھی جن کے بارے میں طلاق یافتہ عورتوں کے لیے عدت کا حکم نازل ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي عِدَّةِ الْمُطَلَّقَة؛مطلقہ عورت کی عدت کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٢٢٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "طلاق یافتہ عورتیں،تین" قروء"تک اپنے آپ کو روکے رکھے"(بقرہ ٢٢٨)(یعنی عدت گزارے)(اللہ تعالی نے فرمایا ہے)" تمہاری عورتوں میں سے،جو حیض سے مایوس ہو چکی ہو،اگر تمہیں شک ہو تو ان کے عدت تین ماہ ہے"(طلاق ٤)۔پھر یہ منسوخ ہوا،اور یہ فرمایا:" اگر تم کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے انہیں طلاق دے دو،تو تمہارے حوالے سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہوگی جسے تم شمار کرو۔"(احزاب ٤٩) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي عِدَّةِ الْمُطَلَّقَة؛مطلقہ عورت کی عدت کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٢٢٨٢)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي الْمُرَاجَعَةِ؛رجعت (طلاق واپس لے لینے) کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٢٢٨٣)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن،حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: ”اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہو گی،وہاں تم اپنے سر سے چادر اتار سکتی ہو، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابو سفیان اور ابوجہم کے پیغام نکاح کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے (یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٢٢٨٤)
یحییٰ بن ابو کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ (خرچ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نفقہ نہیں ہے“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٢٢٨٥)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش“،اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا:اپنی ذات کے بارے میں(مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے)فیصلہ نہ کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٢٢٨٦)
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی،پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ”انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی“۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٢٢٨٧)
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو خرچ یا رہائش(کا حق)نہیں دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٢٢٨٨)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٢٢٨٩)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں،اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور آپ سے دریافت کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو“، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں،اگر یہ اپنے سر سے چادر اتار بھی دیتی وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے“، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ تو قبیصہ(مروان کا قاصد)مروان کے پاس واپس آیا اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے،(ارشاد باری تعالیٰ ہے)تم ان کی عدت کے حساب سے انہیں طلاق دو"یہ آیت یہاں تک ہے“ تم نہیں جانتی ہو،ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نیا معاملہ ظاہر کردے"۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی؟ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان؛جلد٢؛ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٢٢٩٠)
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا:حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ (اصل بات) یاد بھی ہے یا بھول گئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٢٢٩١)
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سختی سے اعتراض کرتی تھی اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٢٢٩٢)
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ نے فاطمہ بنت قیس کا بیان ملاحظہ نہیں کیا؟تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے تذکرے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٢٢٩٣)
سلیمان بن یسار نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کے اپنے گھر سے منتقل ہونے کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے:ان کے مزاج میں تیزی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٢٢٩٤)
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو طلاق بتہ دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ کے نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٢٢٩٥)
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں میں مدینہ منورہ آیا تو مجھے سعید بن مسیب کے پاس لے جایا گیا میں نے کہا سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو جب طلاق ہوئی تھی وہ اپنے گھر سے منتقل ہو گئی تھی۔ تو سعید بن مسیب نے کہا وہ ایک ایسی خاتون تھی جنہوں نے لوگوں کو پریشان کیا ہوا تھا،وہ زبان دراز تھی تو انہیں حضرت ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ؛جنہوں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا(کی نقل کردہ روایت)کا انکار کیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٢٢٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہو سکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي الْمَبْتُوتَةِ تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ؛تین طلاق دی ہوئی عورت دن میں باہر نکل سکتی ہے؛جلد٢؛ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٢٢٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو انہیں گھر سے نکالے بغیر ایک سال تک خرچ دیا جائے" (البقرہ ٢٤٠) (اللہ تعالی نے)میراث کے حکم والے ایت کے ذریعے اسے منسوخ کر دیا، کیونکہ(اس آیت میں ان بیویوں کے لیے)چوتھائی یا اٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور ایک سال کی مدت کو اس حکم کے تحت منسوخ کر دیا کہ ان کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب نَسْخِ مَتَاعِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِمَا فُرِضَ لَهَا مِنَ الْمِيرَاثِ؛بیوہ عورت کو ایک سال تک خرچ فراہم کرنے کے حکم منسوخ ہونا،اس کے ذریعے،جو اس کا وارث میں حصہ مقرر کیا گیا ہے؛جلد٢؛ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٢٢٩٨)
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے“۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ”کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے“۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا: ”نہیں“، پھر فرمایا: ”تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کر سکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی“۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کر سکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کر سکتی تھی، جب سال پورا ہو جاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «حفش» چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب إِحْدَادِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا؛شوہر کی وفات پر بیوی کے سوگ منانے کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٢٢٩٩)
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا(ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (وہاں چلی جاؤ)“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا تَنْتَقِلُ؛کیا شوہر کی موت کے بعد عورت دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے؟؛جلد٢؛ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٢٣٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» (سورة البقرہ: ۲۴۰) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان"اگر وہ نکل جائیں تو انہوں نے جو کیا،اس حوالے سے تم پر کوئی گناہ نہیں“ کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب مَنْ رَأَى التَّحَوُّلَ؛عدت میں نقل مکانی کو جائز کہنے والوں کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٢٣٠١)
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے“۔ راوی یعقوب نے: ”سفید سیاہ دھاری دار کپڑے“ کے بجائے: ”دھلے ہوئے کپڑے“ کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا؛عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٢٣٠٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، تاہم یہ مکمل نہیں ہیں۔یزید نامی راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اس میں یہ الفاظ ہیں وہ خضاب نہیں لگائے گی، ہارون نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے اور وہ رنگین کپڑا نہیں پہنیں گے،البتہ پٹی کا حکم مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا؛عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٢٣٠٣)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے: بیوہ عورت(سوگ کے دوران)معصفر یا گیروا رنگ کے کپڑے نہ پہنے،زیور نہ پہنے،خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا؛عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٢٣٠٤)
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ «جلاء» (سرمہ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ «جلاء» کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آ جائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ام سلمہ یہ کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: ”یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے“ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر“۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا؛عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٢٣٠٥)
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں (وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں آراستہ دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم چار مہینے دس دن (کی عدت) گزارے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي عِدَّةِ الْحَامِلِ؛حاملہ کی عدت کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٢٣٠٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو بھی چاہے،میں اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں،کہ خواتین کے احکام سے متعلق چھوٹی سورت(یعنی سورہ نساء)چار ماہ دس دن کے حکم،(جو سورہ بقرہ میں ہے)کے بعد نازل ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي عِدَّةِ الْحَامِلِ؛حاملہ کی عدت کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٢٣٠٧)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تم لوگ ہمارے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو خلط ملط نہ کرو( یہاں ایک لفظ، ایک راوی نے مختلف نقل کیا)بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہوتی ہے،راوی کہتے ہیں ان کی مراد "ام ولد" تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ؛ام ولد کی عدت کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٢٣٠٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے“۔(یعنی وہ وظیفہ زوجیت ادا نہیں کرلیتے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب الْمَبْتُوتَةِ لاَ يَرْجِعُ إِلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ؛تین طلاق کے بعد عورت دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر پہلے شوہر کے پاس نہیں آسکتی؛جلد٢؛ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٢٣٠٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا“، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو“، نیز کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر اللہ تعالیٰ نےیہ آیت نازل فرمائی: " وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور جس کو اللہ تعالی نے محترم قرار دیا ہے اسے ناحق طور پر قتل نہیں کرتے اور وہ زنا نہیں کرتے" ۔(الفرقان ٦٨) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا؛زنا بہت بڑا گناہ ہے؛جلد٢؛ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٢٣١٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک انصاری کی کنیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اور بولی میرا اقا مجھے زنا کاری پر مجبور کرتا ہے۔راوی کہتے ہیں)تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔" تم اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو" (النور ٣٣) (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا؛زنا بہت بڑا گناہ ہے؛جلد٢؛ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٢٣١١)
معتمر، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ارشاد باری تعالی ہے:"اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالی ان کے مجبور کیے جانے کے بعد مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔" سعید بن ابو الحسن کہتے ہیں یعنی جن کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کیا جاتا ہے اللہ تعالی ان کی مغفرت کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الطلاق؛باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا؛زنا بہت بڑا گناہ ہے؛جلد٢؛ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٢٣١٢)
Abu Dawood Shareef : Kitabut Talaq
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الطَّلَاقِ
|
•