
Abu Daud Sharif Kitabus Saom Hadees No# 2313
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) آدمی جب روزہ رکھتا تھا تو سونے کے بعد آئندہ رات تک کھانا نہیں کھاتا تھا، صرمۃ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ (کھانا) ہے؟ وہ بولی: کچھ نہیں ہے لیکن جاتی ہوں ہو سکتا ہے ڈھونڈنے سے کچھ مل جائے، تو وہ چلی گئی لیکن حرمہ کو نیند آ گئی وہ آئی تو (دیکھ کر) کہنے لگی کہ اب تو تم (کھانے سے) محروم رہ گئے دوپہر کا وقت ہوا بھی نہیں کہ (بھوک کے مارے) ان پر غشی طاری ہو گئی اور وہ دن بھر اپنے زمین میں کام کرتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے جماع حلال کر دیا گیا ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «من الفجر» تک پوری آیت پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب مَبْدَإِ فَرْضِ الصِّيَامِ؛روزہ فرض ہونے کی ابتداء؛جلد٢؛ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٢٣١٤)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ قَوْلِهِ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ }آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية»کے منسوخ ہونے کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٢٣١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص ایک مسکین کا کھانا فدیہ دینا چاہتا دے دیتا اور اس کا روزہ مکمل ہو جاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم» (سورۃ البقرہ: ۱۸۴) ”پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے“، پھر فرمایا: «فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر» (سورۃ البقرہ: ۱۸۵) ”تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ قَوْلِهِ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ }آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية»کے منسوخ ہونے کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٢٣١٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کے حق میں یہ ثابت شدہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ هِيَ مُثْبَتَةٌ لِلشَّيْخِ وَالْحُبْلَى؛بوڑھوں اور حاملہ کے حق میں مذکورہ بالا حکم باقی ہے اس کے قائلین کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٢٣١٧)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:"جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں ان پر فدیہ دینا لازم ہے جو ایک مسکین کا کھانا ہے"۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:یہ رخصت عمر رسیدہ بوڑھے، عمر رسیدہ عورت کے لئے تھی جب کہ دونوں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں (رخصت یہ تھی)کہ وہ روزہ ترک کردیں اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ هِيَ مُثْبَتَةٌ لِلشَّيْخِ وَالْحُبْلَى؛بوڑھوں اور حاملہ کے حق میں مذکورہ بالا حکم باقی ہے اس کے قائلین کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٢٣١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم امی لوگ ہیں،ہم تحریر نہیں کرتے اور حساب نہیں کرتے،مہینہ ایسا، ایسا اور ایسا ہوتا ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا)“، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا۔ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے؛جلد٢؛ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٢٣١٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے؛جلد٢؛ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٢٣٢٠)
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: ”اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں (تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں)“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے؛جلد٢؛ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٢٣٢١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جتنی مرتبہ 30 روزے رکھے ہیں اپ کے ساتھ اس سے زیادہ مرتبہ 29 روزے رکھے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے؛جلد٢؛ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٢٣٢٢)
عبدالرحمن بن ابوبکر اپنے والد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے رمضان اورذوالحج" (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛روزوں کے احکام و مسائل؛باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے؛جلد٢؛ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٢٣٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے،جس میں یہ الفاظ ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ ختم کروگے اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو گے، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب إِذَا أَخْطَأَ الْقَوْمُ الْهِلاَلَ؛جب لوگوں سے چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٢؛ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٢٣٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا جتنا زیادہ اہتمام کرتے تھے اتنا کسی مہینے کا نہیں کرتے تھے،پھر آپ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرتے تھے اگربادل چھایا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعداد پوری کرتے تھے اور پھر روزے رکھنے شروع کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب إِذَا أُغْمِيَ الشَّهْرُ؛جب(بادل کی وجہ سے)مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٢؛ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٢٣٢٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو“۔ امام ابو داؤد علیہ رحمہ فرماتے ہیں یہ روایت سفیان اور دیگر راویوں نے اپنی سند کے ساتھ ایک صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ان راویوں نے صحابی کا تمام حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب إِذَا أُغْمِيَ الشَّهْرُ؛جب(بادل کی وجہ سے)مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٢؛ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٢٣٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، (جب تک کہ شوال کا) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «فأتموا العدة ثلاثين» کے بعد «ثم أفطروا» نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ قَالَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ؛انتیس تاریخ کو بادل ہوں تو پورے تیس روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٢٣٢٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا:کیا تم نے شعبان کے اخری دنوں میں روزہ رکھا ہے،اس نے جواب دیا جی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم روزے رکھنا ختم کرو تو ایک دن روزہ رکھ لینا۔" کسی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں" دو دن" (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي التَّقَدُّمِ؛تقدم کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٢٣٢٨)
ابوازہر مغیرہ بن فروہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیر مسحل پر (جو کہ حمص کے دروازے پر واقع ہے)، کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا: لوگو! ہم نے چاند فلاں فلاں دن دیکھ لیا ہے اور میں سب سے پہلے روزہ رکھ رہا ہوں، جو شخص روزہ رکھنا چاہے رکھ لے، مالک بن ہبیرہ سبئی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: معاویہ! یہ بات آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر کہی ہے، یا آپ کی اپنی رائے ہے؟ جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”پورا مہینہ روزے رکھو اور اس کے آغاز میں بھی“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي التَّقَدُّمِ؛تقدم کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٢٣٢٩)
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ ولید کہتے ہیں: میں نے ابوعمرو یعنی اوزاعی کو کہتے سنا ہے کہ «سرہ» سے مراد مہینے کا ابتدائی حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي التَّقَدُّمِ؛تقدم کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٢٣٣٠)
سعید بن عبد العزيز فرماتے ہیں:لفظ"سرہ"سے مراد اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ امام ابوداؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ"سرہ" سے مراد اس کا درمیان ہے بعض نے کہا کہا اس کا آخری حصہ مراد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي التَّقَدُّمِ؛تقدم کا بیان؛جلد٢؛ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٢٣٣١)
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے (وہاں پہنچ کر) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب إِذَا رُؤِيَ الْهِلاَلُ فِي بَلَدٍ قَبْلَ الآخَرِينَ بِلَيْلَةٍ؛اگر کسی شہر میں دوسرے شہر سے ایک رات پہلے چاند نظر آ جائے تو کیا کرے؟؛جلد٢؛ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٢٣٣٢)
حسن بصری علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ (پیر) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے (اور اتوار کو روزہ رکھا ہے) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب إِذَا رُؤِيَ الْهِلاَلُ فِي بَلَدٍ قَبْلَ الآخَرِينَ بِلَيْلَةٍ؛اگر کسی شہر میں دوسرے شہر سے ایک رات پہلے چاند نظر آ جائے تو کیا کرے؟؛جلد٢؛ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٢٣٣٣)
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَرَاهِيَةِ صَوْمِ يَوْمِ الشَّكِّ؛شک کے دن کے روزے کی کراہت کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٢٣٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:رمضان کے روزے سے ایک دن پہلے یا دو دن پہلے روزے رکھنے شروع نہ کرو،البتہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے (معمول کے مطابق)روزے رکھتا ہو تو وہ یہ روزہ رکھ سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ؛شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٢٣٣٥)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں:آپ سال میں کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزہ نہیں رکھتے تھے،صرف شعبان میں ایسا کرتے تھے،آپ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ؛شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٢٣٣٦)
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو“، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے۔ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ؛اس کا مکروہ ہونا؛جلد٢؛ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٢٣٣٧)
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے (جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ(کے احکام) کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب شَهَادَةِ رَجُلَيْنِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ شَوَّالٍ؛شوال کے چاند کی رویت کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٢٣٣٨)
ربعی بن حراش ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ خلف نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں:(اور اس بات کا حکم دیا)کہ وہ اگلے دن صبح عید گاہ میں آئیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب شَهَادَةِ رَجُلَيْنِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ شَوَّالٍ؛شوال کے چاند کی رویت کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٢٣٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ؛رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے؛جلد٢؛ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٢٣٤٠)
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ؛رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے؛جلد٢؛ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٢٣٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ؛رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے؛جلد٢؛ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٢٣٤٢)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي تَوْكِيدِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کی تاکید کا بیان؛جلد٢؛ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٢٣٤٣)
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور فرمایا مبارک ناشتے کی طرف آجاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي تَوْكِيدِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کی تاکید کا بیان؛باب مَنْ سَمَّى السَّحُورَ الْغَدَاءَ؛سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان؛؛جلد٢؛ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٢٣٤٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"مومنین کی بہترین سحری کھجور ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي تَوْكِيدِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کی تاکید کا بیان؛باب مَنْ سَمَّى السَّحُورَ الْغَدَاءَ؛سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان؛؛جلد٢؛ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٢٣٤٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بلال کی اذان اور افق میں اس طرح پھیلنے والی سفیدی تمہیں سحری سے نہ روکے،جب تک وہ چوڑائی کے سمت میں پھیلنے نہیں لگتی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کے وقت کا بیان؛ جلد٢،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٢٣٤٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے“۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے)۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کے وقت کا بیان؛ جلد٢،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٢٣٤٧)
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس روایت کو نقل کرنے میں اہل یمامہ منفرد ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کے وقت کا بیان؛ جلد٢،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٢٣٤٨)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”جب تک سفید دھاگہ،سیاہ دھاگہ کے مقابلے میں تمہارے سامنے واضح نہیں ہوجاتا"(سورۃ البقرہ: ۱۸۷) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، ”تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ عثمان کی روایت میں ہے: ”اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ السُّحُورِ؛سحری کھانے کے وقت کا بیان؛ جلد٢،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٢٣٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛جب کوئی شخص اذان کی اواز سنے اور برتن اس وقت اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھے نہیں،جب تک وہ اس سے اپنی ضرورت کو پورا نہیں کر لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرَّجُلِ يَسْمَعُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ؛آدمی کا(سحری کے وقت)آذان کی آواز سننا،جبکہ(کھانے کا)برتن اس کے ہاتھ میں ہو؛جلد٢،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٢٣٥٠)
عاصم اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف سے رخصت ہو جائے" یہاں مسدد نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے:"سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افتاری کرلے"۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ فِطْرِ الصَّائِمِ؛روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٢٣٥١)
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: ”جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب وَقْتِ فِطْرِ الصَّائِمِ؛روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٢٣٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تو لوگ جلد افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی اس میں تاخیر کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛افطار میں جلدی کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٢٣٥٣)
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان میں ایک افطار بھی جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، اور دوسرا ان دونوں چیزوں میں تاخیر کرتا ہے، (بتائیے ان میں کون درستگی پر ہے؟) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان دونوں میں افطار اور نماز میں جلدی کون کرتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛افطار میں جلدی کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٢٣٥٤)
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب کسی شخص کا روزہ ہو تو اسے کھجور کے ذریعے افطاری کرنی چاہیے، اگر اسے کھجور نہیں ملتی تو پانی کے ذریعے کر لے، کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا يُفْطَرُ عَلَيْهِ؛افطار کس چیز سے کیا جائے؛جلد٢،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٢٣٥٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ذریعے افطاری کرتے تھے،تازہ کھجوریں نہیں ہوتی تھی تو آپ خشک کھجوروں کے ذریعے افطاری کر لیتے تھے،اگر وہ بھی نہیں ہوتی تھی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے چند گھونٹ بھر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا يُفْطَرُ عَلَيْهِ؛افطار کس چیز سے کیا جائے؛جلد٢،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٢٣٥٦)
مروان بن سالم مقفہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے اپنی داڑھی کو مٹھی میں لیا اور جو بال مٹھی سے زائد تھے انہیں کاٹ دیا،انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب افطاری کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔(ترجمہ)" پیاس ختم ہو گئی رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا"۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقَوْلِ عِنْدَ الإِفْطَارِ؛افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٢،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٢٣٥٧)
معاذ بن زہرہ بیان کرتے ہیں: ان تک یہ روایت پہنچی ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب افطاری کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔" اے اللہ!میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق کے ذریعے افطاری کر رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقَوْلِ عِنْدَ الإِفْطَارِ؛افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٢،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٢٣٥٨)
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اقدس میں ایک مرتبہ ہم نے بادل والے دن میں افطاری کر لی،پھر سورج نکل آیا، ابو اسامہ راوی کہتے ہیں میں نے شام سے دریافت کیا کیا ان لوگوں کو قضا کرنے کا حکم دیا گیا تھا انہوں نے فرمایا یہ تو ضروری تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْفِطْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛سورج ڈوبنے سے پہلے افطار کر لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٢٣٥٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال رکھنے سے منع کیا تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صوم وصال رکھتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے کھلا بھی دیا جاتا ہے اور پلا بھی دیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْوِصَالِ؛صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٢٣٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ صوم وصال نہ رکھو تم میں سے جو شخص صوم وصال رکھنا چاہتا ہو وہ سحری تک صوم وصال رکھ لے،لوگوں نے عرض کی:اپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو صوم وصال رکھتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں،مجھے کھلانے والا ہے جو کھلا دیتا ہے اور پلانے والا ہے جو پلا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْوِصَالِ؛صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٢٣٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کا غیبت کرنا؛جلد٢،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٢٣٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کا غیبت کرنا؛جلد٢،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٢٣٦٣)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، مسدد راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:میں نے بےحد و بےشمار مرتبہ ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٢٣٦٤)
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: ”اپنے دشمن (سے لڑنے) کے لیے طاقت حاصل کرو“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّائِمِ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنَ الْعَطَشِ وَيُبَالِغُ فِي الاِسْتِنْشَاقِ؛روزہ دار کا پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالنا اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کرنا؛جلد٢،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٢٣٦٥)
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّائِمِ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنَ الْعَطَشِ وَيُبَالِغُ فِي الاِسْتِنْشَاقِ؛روزہ دار کا پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالنا اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کرنا؛جلد٢،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٢٣٦٦)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ؛روزہ دار پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟ ؛جلد٢،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٢٣٦٧)
ابوقلابہ جرمی نے خبر دی ہے کہ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اسی دوران (آپ نے فرمایا)، آگے راوی نے اس سے پہلی والی(٣٣٦٧) حدیث کی طرح بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ؛روزہ دار پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟ ؛جلد٢،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٢٣٦٨)
Abu Daud Sharif Kitabus Saom Hadees No # 2369
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنالگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ؛روزہ دار پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟ ؛جلد٢،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٢٣٧٠)
Abu Daud Sharif Kitabus Saom Hadees No # 2371
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ روزے سے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب بن خالد نے ایوب سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، اور جعفر بن ربیعہ اور ہشام بن حسان نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی حالت میں پچھنا لگوانے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٢٣٧٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں احرام باندھے ہوئے پچھنے لگوائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی حالت میں پچھنا لگوانے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٢٣٧٣)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (حالت روزے میں) پچھنا لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی حالت میں پچھنا لگوانے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٢٣٧٤)
ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کو صرف اس لیے ترک کرتے تھے، کیونکہ مشقت کا شکار ہونے کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی حالت میں پچھنا لگوانے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٢٣٧٥)
زید بن اسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَلِمُ نَهَارًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ؛رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٧٦)
عبدالرحمن بن نعمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت کستوری ملا ہوا سرمہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہےاپ نے فرمایا ہے: روزے دار کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْكَحْلِ عِنْدَ النَّوْمِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کے سوتے وقت سرمہ لگانے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے:وہ روزے کے دوران سرمہ لگا لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْكَحْلِ عِنْدَ النَّوْمِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کے سوتے وقت سرمہ لگانے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٧٨)
اعمش بیان کرتے ہیں:میں نے اپنے اصحاب(یعنی اساتذہ و مشائخ)میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے روزہ دار کے لیے سرمہ لگانے کو مکر و قرار دیا ہوا۔ ابراہیم نے یہ اجازت دی ہے:روزہ دار"صبر" کو سرمے کے طور پر لگا سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْكَحْلِ عِنْدَ النَّوْمِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار کے سوتے وقت سرمہ لگانے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کو روزے کے دوران خود بخود قے آجائے اس پر قضا لازم نہیں ہوگی،اور جو جان بوجھ کر قے کر دے وہ قضا کرے گا۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّائِمِ يَسْتَقِيءُ عَامِدًا؛روزہ دار قصداً قے کرے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٨٠)
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ ختم کردیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّائِمِ يَسْتَقِيءُ عَامِدًا؛روزہ دار قصداً قے کرے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٢٣٨١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے، اور روزے کی حالت میں مباشرت کر لیتے تھے لیکن آپ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار بیوی کا بوسہ لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٢٣٨٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں(اپنی ازواج کا) بوسہ لے لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار بیوی کا بوسہ لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٢٣٨٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لے لیتے تھے حالانکہ اس وقت آپ بھی روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور میں بھی روزے کی حالت میں ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار بیوی کا بوسہ لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٢٣٨٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو (تو کیا ہوا)“، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بس کوئی بات نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؛روزہ دار بیوی کا بوسہ لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٢٣٨٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے اور ان کی زبان کوچوستے تھے۔ ابن اعرابی کہتے ہیں:یہ سند صحیح نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّائِمِ يَبْلَعُ الرِّيقَ؛روزہ دار کے تھوک نگلنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٢٣٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَرَاهِيَتِهِ لِلشَّابِّ؛جوان شخص کے لیے بیوی سے مباشرت کی کراہت کا بیان؛جلد٢،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٢٣٨٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو (جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ؛رمضان میں جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٢٣٨٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں“، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ؛رمضان میں جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٢٣٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: ”دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟“ کہا: نہیں، فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“، کہا: نہیں، فرمایا: ”بیٹھو“، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”انہیں صدقہ کر دو“، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: ”اچھا تو انہیں ہی کھلا دو“۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٢٣٩٠)
یہی روایت ایک اور سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ (کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» ”اور اللہ سے بخشش طلب کر“ کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٢٣٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو (ان میں سے) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے لو اور صدقہ کر دو“، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دندان مبارک نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: ”تم ہی اسے کھا جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا»۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٢٣٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٢٣٩٣)
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر دو“، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ہلاک ہونے والا کہاں ہے؟“ وہ شخص کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو“، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: ”اسے تم ہی کھا لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٢٣٩٤)
یہ واقعہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک اور سند سے مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ؛رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٢٣٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب التَّغْلِيظِ فِي مَنْ أَفْطَرَ عَمْدًا؛جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی برائی کا بیان؛جلد٢،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٢٣٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ امام ابو داؤد علیہ رحمہ فرماتے ہیں: سفیان اور شعبہ نامی راوی سے یہ روایت نقل کرنے والوں نے یہ اختلاف کیا ہے کہ راوی کا نام ابن مطوس ہے یا ابو مطوس ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب التَّغْلِيظِ فِي مَنْ أَفْطَرَ عَمْدًا؛جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی برائی کا بیان؛جلد٢،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٢٣٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا؛جو شخص بھول کر کھا پی لے اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٢٣٩٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:مجھ پر رمضان کے روزے لازم ہوتے تھے تو میں ان کی قضا نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب تَأْخِيرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ؛رمضان کے روزے کی قضاء میں دیر کرنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٢٣٩٩)
المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ؛جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٢٤٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ؛جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٢٤٠١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٢٤٠٢)
حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں جانوروں والا شخص ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ! جیسا بھی تم چاہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٢٤٠٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٢٤٠٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر اعتراض کیا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر اعتراض کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٢٤٠٥)
قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کے سوالات کا جوابات دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا“، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو“، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٢٤٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛. باب اخْتِيَارِ الْفِطْرِ؛سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے؛جلد٢،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٢٤٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ“، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے (سفر میں) نماز آدھی کر دی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے“، قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛. باب اخْتِيَارِ الْفِطْرِ؛سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے؛جلد٢،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٢٤٠٨)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنِ اخْتَارَ الصِّيَامَ؛سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے؛جلد٢،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٢٤٠٩)
سنان بن سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کے پاس سواری ہو اور اسے پیٹ بھر کر کھانا مل جائے تو اسے چاہیے کہ وہ جہاں بھی رمضان کو پائے تو رمضان کے روزے رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنِ اخْتَارَ الصِّيَامَ؛سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے؛جلد٢،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٢٤١٠)
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سفر کے دوران رمضان کو پا لے…“، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِيمَنِ اخْتَارَ الصِّيَامَ؛سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے؛جلد٢،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٢٤١١)
جعفر بن جبر کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آ گیا، (جعفر کی روایت میں ہے کہ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے: نزدیک آ جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ (شہر کے) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ (ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں) کہنے لگے: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منہ موڑ رہے ہو؟ (جعفر کی روایت میں ہے) تو انہوں نے کھانا کھایا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَتَى يُفْطِرُ الْمُسَافِرُ إِذَا خَرَجَ؛مسافر سفر پر نکلے تو کتنی دور جا کر روزہ توڑ سکتا ہے؟؛جلد٢،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٢٤١٢)
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ ختم کر دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ ختم کرنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے (یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب قَدْرِ مَسِيرَةِ مَا يُفْطِرُ فِيهِ؛کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے؛جلد٢،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٢٤١٣)
نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ"غابہ"کی طرف تشریف لے جاتے تو روزہ ختم نہیں کرتے تھے اور نماز قصر نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب قَدْرِ مَسِيرَةِ مَا يُفْطِرُ فِيهِ؛کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے؛جلد٢،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٢٤١٤)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا“۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا (اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی)۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ يَقُولُ صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ؛یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے کیسا ہے؟؛جلد٢،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٢٤١٥)
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْعِيدَيْنِ؛عیدین(عیدالفطر اور عید الاضحی)کے دن روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٢٤١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء(«صماء» کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کر سکے)۔دوسرے ایک کپڑے میں احتباء کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْعِيدَيْنِ؛عیدین(عیدالفطر اور عید الاضحی)کے دن روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٢٤١٧)
ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں تو روزے سے ہوں“، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛ایام تشریق (ذی الحجہ) کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٢٤١٨)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛ایام تشریق (ذی الحجہ) کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٢٤١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب النَّهْىِ أَنْ يُخَصَّ يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِصَوْمٍ؛جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے؛جلد٢،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٢٤٢٠)
حضرت عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب النَّهْىِ أَنْ يُخَصَّ يَوْمُ السَّبْتِ بِصَوْمٍ؛سنیچر کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے؛جلد٢،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٢٤٢١)
ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟“ کہا: نہیں، فرمایا: ”کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟“ بولیں: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر روزہ ختم کردو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٢٤٢٢)
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص کے رہنے والے شخص کی نقل کردہ حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٢٤٢٣)
امام اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٢٤٢٤)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اس سوال پر غصہ آ گیا، عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا: «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں“ عمر رضی اللہ عنہ یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر (عمر رضی اللہ عنہ نے) پوچھا: اللہ کے رسول! جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”نہ اس نے روزہ ہی رکھا اور نہ افطار ہی کیا“۔ پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کسی کے اندر طاقت ہے بھی؟“۔ (پھر) انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے“۔ پوچھا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور دو دن افطار کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت ملے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ کے تین روزے اور پورے رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں، یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ (دس محرم الحرام) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الدَّهْرِ تَطَوُّعًا؛سدا نفلی روزے سے رہنا۔؛جلد٢،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٢٤٢٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الدَّهْرِ تَطَوُّعًا؛سدا نفلی روزے سے رہنا؛جلد٢،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٢٤٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟“ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو“ وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور حضرت داود علیہ السلام کا روزہ ہے“ میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بڑھ کر اور کوئی طریقہ نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الدَّهْرِ تَطَوُّعًا؛سدا نفلی روزے سے رہنا؛جلد٢،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٢٤٢٧)
مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہو؟“ جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟“ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں(مسلسل روزے رکھا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟“ پھر فرمایا: ”صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ ایک روزہ رکھو“ انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھو“، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ لو“، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھ لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو،تم حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھ لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، اور تم حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھ لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ؛حرمت والے مہینوں کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٢٤٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْمُحَرَّمِ؛محرم کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٢٤٢٩)
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْمُحَرَّمِ؛محرم کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٢٤٣٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے رکھنے کے لیے سب سے پسندیدہ مہینہ شعبان تھا،آپ تقریبا اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ شَعْبَانَ؛شعبان کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٢٤٣١)
حضرت مسلم قرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا“۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں زید عکلی نامی راوی نے اس کی متابعت کی ہے جبکہ ابو نعیم نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے انہوں نے راوی کا نام مسلم بن عبداللہ ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ شَوَّالٍ؛شوال کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٢٤٣٢)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ؛شوال کے چھ روزوں کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٢٤٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَيْفَ كَانَ يَصُومُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٢٤٣٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: ”آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب كَيْفَ كَانَ يَصُومُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٢٤٣٥)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال (اونٹ) کی تلاش میں گئے (اسامہ کا معمول یہ تھا کہ) دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا: آپ دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں؟ کہنے لگے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٢٤٣٦)
ُہنیدہ بن خالد اپنی بیوی کے حوالے سے روایت کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں،وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْعَشْرِ؛عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٢٤٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پا سکتا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الْعَشْرِ؛عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٢٤٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو(ذوالحجہ کے پہلے)عشرے میں کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي فِطْرِ الْعَشْرِ؛عشرہ ذی الحجہ میں روزہ نہ رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٢٤٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ؛عرفہ کے دن عرفات میں روزے کی ممانعت؛جلد٢،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٢٤٤٠)
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چنانچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ؛عرفہ کے دن عرفات میں روزے کی ممانعت؛جلد٢،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٢٤٤١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زمانہ جاہلیت میں اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٢٤٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٢٤٤٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چنانچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٢٤٤٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے“، لیکن آئندہ سال آنے سے پہلے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا رُوِيَ أَنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ؛یہ جو روایت ہے:عاشورہ کے دن سے مراد(محرم کی)٩ تاریخ ہے؛جلد٢،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٢٤٤٥)
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَا رُوِيَ أَنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ؛یہ جو روایت ہے:عاشورہ کے دن سے مراد(محرم کی)٩ تاریخ ہے؛جلد٢،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٢٤٤٦)
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم لوگ آج روزہ رکھا ہے؟“ جواب دیا: نہیں، فرمایا: ”دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي فَضْلِ صَوْمِهِ؛عاشوراء کے روزے کی فضیلت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٢٤٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے پسندیدہ طریقہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے،اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے،وہ نصف رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات میں نوافل ادا کرتے تھے پھر آپ رات کا چھٹا حصہ سو جاتے تھے،وہ ایک دن نفلی روزہ ترک کر دیتے تھے اور ایک دن نفلی روزہ رکھ لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ؛ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑ دینے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٢٤٤٨)
ابن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں یہ پورا سال روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الثَّلاَثِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ؛ہر مہینے تین روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٢٤٤٩)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے،یعنی ہر مہینے کے تین روشن دنوں میں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي صَوْمِ الثَّلاَثِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ؛ہر مہینے تین روزے رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٢٤٥٠)
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی (پہلے ہفتہ کے) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ قَالَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٢٤٥١)
ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ قَالَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٢٤٥٢)
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ قَالَ لاَ يُبَالِي مِنْ أَىِّ الشَّهْرِ؛مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنے کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٢٤٥٣)
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صبح صادق ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل (یعنی مرفوعاً) روایت کیا ہے، اور اسے معمر، زبیدی، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے، یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ؛روزے کی نیت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٢٤٥٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: ”میں روزے سے ہوں“، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لاؤ اسے حاضر کرو“۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روزہ رکھا ہوا تھا،لیکن پھر آپ نے روزہ ختم کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی نیت نہ کرنے کی رخصت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٢٤٥٥)
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟“ جواب دیا نہیں، فرمایا: ”اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛روزے کی نیت نہ کرنے کی رخصت کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٢٤٥٦)
حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ؛توڑے ہوئے نفلی روزے کی قضاء کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٢٤٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے (نفل) روزے رکھنے کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٢٤٥٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے“۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: ”کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفل روزہ) نہ رکھے“۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو"۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے (نفل) روزے رکھنے کے حکم کا بیان؛جلد٢،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٢٤٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے“۔ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں حفظ بن غیاث نے بھی یہ روایت ہشام سے نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الصَّائِمِ يُدْعَى إِلَى وَلِيمَةٍ؛روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟؛جلد٢،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٢٤٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛ باب مَا يَقُولُ الصَّائِمُ إِذَا دُعِيَ إِلَى الطَّعَامِ؛جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا جواب دے؟؛جلد٢،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٢٤٦١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وصال تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الاِعْتِكَافِ؛اعتکاف کا بیان؛جلد٢،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٢٤٦٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال (کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الاِعْتِكَافِ؛اعتکاف کا بیان؛جلد٢،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٢٤٦٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الاِعْتِكَافِ؛اعتکاف کا بیان؛جلد٢،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٢٤٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب أَيْنَ يَكُونُ الاِعْتِكَافُ؛اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟؛جلد٢،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٢٤٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب أَيْنَ يَكُونُ الاِعْتِكَافُ؛اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟؛جلد٢،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٢٤٦٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو (مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں قضائے حاجت کے لیے داخل ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ؛معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے؛جلد٢،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٢٤٦٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ امام داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہی روایت بعض دیگر اسناد سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے،(تاہم اس کی سند میں کچھ اختلاف ہے) (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ؛معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے؛جلد٢،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٢٤٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کھڑکی میں سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی تھی۔ مسدد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنگھی کر دیتی، جبکہ میں حیض کی حالت میں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ؛معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے؛جلد٢،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٢٤٦٩)
ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے (ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے)“، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! (آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ؛معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے؛جلد٢،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ ابن شہاب زہری سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے پر پہنچے،جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے قریب ہے،تو ان دونوں کے پاس سے دو اشخاص گزرے،(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ؛معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے؛جلد٢،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے تو عام صورتحال کی طرح گزر جاتے،اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔ ابن عیسی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دوران بیمار کی عیادت کر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ؛اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟؛جلد٢،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ؛اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟؛جلد٢،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اعتکاف کرو اور روزہ بھی رکھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ؛اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟؛جلد٢،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٢٤٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ”الله أكبر“ کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کنیز کو بھی ان کے ساتھ چھوڑ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ؛اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟؛جلد٢،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٢٤٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ (خون میں) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں (یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے (خون کے لیے) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت نماز میں ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛كتاب الصيام؛باب فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ؛مستحاضہ عورت اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے؛جلد٢،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٢٤٧٦)
Abu Dawood Shareef : Kitabus Saom
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الصَّوْمِ
|
•