
کتاب :شرطوں کا بیان۔ باب:اسلام میں احکام میں اور خرید و فروخت کے معاملات میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے؟ عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے خلیفہ مروان اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ ﷺ سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم ﷺ کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہوگا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ)ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کردیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں(مکہ سے بھاگ کر آیا) نبی کریم ﷺ نے اسے ان کے حوالے کردیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آگئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن(مکہ سے نکل کر)نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ ﷺ سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ(سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا{ إذا جاء کم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن } إلى قوله { ولا هم يحلون لهن } جب تمہارے پاس ہجرت کرکے ایمان والی عورتیں آئیں تو انہیں آزما لیا کرو اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔یہ آیت یہاں تک ہے، وہ کفار ان مومنات کے لیے حلال نہیں ہے(الممتحنہ ١٢)۔ عروہ نے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کرنے والی عورتوں کا اس آیت کی وجہ سے امتحان لیا کرتے تھے { يا أيها الذين آمنوا إذا جاء کم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن } إلى { غفور رحيم }. اے مسلمانو! جب تمہارے پاس ہجرت کرکے ایمان والی عورتیں آئیں تو انہیں آزما لیا کرو اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔یہ آیت یہاں تک ہے، وہ کفار ان مومنات کے لیے حلال نہیں ہے(الممتحنہ ١٢)۔غفور رحیم تک۔عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ ان عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے بیعت کرتے تھے۔ قسم اللہ کی! بیعت کرتے وقت نبی کریم ﷺ کے ہاتھ نے کسی بھی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا، بلکہ نبی کریم ﷺ صرف زبان سے بیعت لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الشروط، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ،حدیث نمبر ٢٧١١،حدیث نمبر ٢٧١٢،حدیث نمبر ٢٧١٣)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الشروط، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ،حدیث نمبر ٢٧١٤)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے نماز قائم کرنے، زکات ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ،حدیث نمبر ٢٧١٥)
باب: پیوند لگانے کے بعد اگر کھجور کا درخت بیچے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہوچکی تھی تو اس کا پھل (اس سال کے) بیچنے والے ہی کا ہوگا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے(تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی) ۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابٌ : إِذَا بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ،حدیث نمبر ٢٧١٦)
باب: بیع میں شرطیں کرنے کا بیان۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں (اپنے مالکوں کو)کچھ دیا نہیں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر (ان سے دریافت کرو) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہوجائے تو میں ایسا کرسکتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا )اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کرسکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْبُيُوعِ،حدیث نمبر ٢٧١٧)
باب: اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام تک سواری کی شرط لگائی تو یہ جائز ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ (ایک غزوہ کے موقع پر) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کا ادھر سے گزر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چناں چہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔ میں نے انکار کیا مگر نبی کریم ﷺ کے اصرار پر پھر میں نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچ گئے، تو میں نے اونٹ نبی کریم ﷺ کو پیش کردیا اور نبی کریم ﷺ نے اس کی قیمت بھی ادا کردی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا (میں حاضر ہوا تو) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔ (اور قیمت واپس نہیں لی) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا)پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا)اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے۔ محمد بن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا)مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے۔ ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی نبی کریم ﷺ نے مجھے اجازت دی تھی۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے (کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا)میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے، چار دینار کا ایک اوقیہ ہوگا۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے (ان کی روایت میں اور) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ تبوک کے راستے میں (غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے)خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں (خریدا تھا)ابونضرہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے، یہ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابٌ : إِذَا اشْتَرَطَ الْبَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ،حدیث نمبر ٢٧١٨)
باب: معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار نے نبی کریم ﷺ کے سامنے (مؤاخات کے بعد)یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں (مہاجرین)میں تقسیم فرما دیں، لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کردیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہوجائیں، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُعَامَلَةِ،حدیث نمبر ٢٧١٩)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُعَامَلَةِ،حدیث نمبر ٢٧٢٠)
باب:عقد نکاح کے وقت مہر میں شرطیں لگانا۔ اور عمر(بن عبدالعزيز) نے کہا:حقوق کے منقطع ہونے کی جگہ شرائط کا وجود ہے اور تمہیں اپنی شرط کا حق ہے۔ اور حضرت مسور (بن مخرمہ) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ :میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے اپنے داماد (یعنی حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ حضرت زینت رضی اللہ تعالٰی عنہا کے شوہر ) کا ذکر کیا پس اس کی دامادی کی تحسین کی اور فرمایا :اس نے مجھے خبر دی اور مجھ سے سچ کہا اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا سو اس کو پورا کیا ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمَهْرِ عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ،حدیث نمبر ٢٧٢١)
باب:مزارعت (یعنی کھیتی باڑی میں) شرط لگانا۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ہم اکثر انصار کاشتکاری کیا کرتے تھے اور ہم زمین بٹائی پر دیتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کسی کھیت کے ایک ٹکڑے میں پیداوار ہوتی اور دوسرے میں نہ ہوتی، اس لیے ہمیں اس سے منع کردیا گیا۔ لیکن چاندی (روپے وغیرہ) کے لگان سے منع نہیں کیا گیا۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُزَارَعَةِ،حدیث نمبر ٢٧٢٢)
باب: جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت نہ بیچے۔ کوئی شخص مصنوعی قیمت نہ بڑھاے اور نہ اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر بھاؤ بڑھائے۔ نہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پیغام نکاح کی موجودگی میں اپنا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت (کسی مرد سے) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے(جو اس مرد کے نکاح میں ہو) تاکہ اس طرح اس کا حصہ بھی خود لے لے۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ،حدیث نمبر ٢٧٢٣)
باب: جو شرطیں حدود اللہ میں جائز نہیں ہیں ان کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرا فیصلہ کتاب اللہ سے کردیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ سے ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی)اجازت دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر اس نے ان کی بیوی سے زنا کرلیا، جب مجھے معلوم ہوا کہ(زنا کی سزا میں)میرا لڑکا رجم کردیا جائے گا تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دی، پھر علم والوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کو (زنا کی سزا میں کیوں کہ وہ غیر شادی شدہ تھا) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کردی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا اے انیس! تم اس عورت کے یہاں جاؤ، اگر وہ بھی (زنا کا)اقرار کرلے، تو اسے رجم کر دو(کیوں کہ وہ شادی شدہ تھی)بیان کیا کہ حضرت انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار کرلیا، اس لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے وہ رجم کی گئی۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ الَّتِي لَا تَحِلُّ فِي الْحُدُودِ،حدیث نمبر ٢٧٢٤،و حدیث نمبر ٢٧٢٥)
باب:مکاتب جب اس پر راضی ہو جائے کہ اس کو خرید کر آزاد کر دیا جائے تو اس کی کون سی شرائط جائز ہیں؟ عبدالواحد بن ایمن مکی نے بیان کیا کہ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بتلایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا میرے یہاں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاملہ کرلیا تھا۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اے ام المؤمنین! مجھے آپ خرید لیں، کیوں کہ میرے مالک مجھے بیچنے پر آمادہ ہیں، پھر آپ مجھے آزاد کردینا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ ہاں (میں ایسا کرلوں گی)لیکن حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پھر کہا کہ میرے مالک مجھے اسی وقت بیچیں گے جب وہ ولاء کی شرط اپنے لیے لگا لیں۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ پھر مجھے ضرورت نہیں ہے۔جب نبی کریم ﷺ نے سنا، یا نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا(راوی کو شبہ تھا)تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا کیا معاملہ ہے؟ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، وہ لوگ جو چاہیں شرط لگا لیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ میں نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو خرید کر آزاد کردیا اور اس کے مالک نے ولاء کی شرط اپنے لیے محفوظ رکھی۔ نبی کریم ﷺ نے یہی فرمایا کہ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے(دوسرے)جو چاہیں شرط لگاتے رہیں۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ بِالْبَيْعِ عَلَى أَنْ يُعْتَقَ،حدیث نمبر ٢٧٢٦)
باب:طلاق میں شرطوں کا بیان۔ اور ابن المسیب ،اور حسن بصری، اور عطا نے کہا:اگر اس نے طلاق کو شروع میں ذکر کیا یا آخر میں تو اس کی شرط کا زیادہ حق دار ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (تجارتی قافلوں کی)پیشوائی سے منع فرمایا تھا اور اس سے بھی کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت بیچے اور اس سے بھی کہ کوئی عورت اپنی(دینی یا نسبی)بہن کے طلاق کی شرط لگائے اور اس سے کہ کوئی اپنے کسی بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے، اسی طرح نبی کریم ﷺ نے کسی خریدار کو پھنسانے کے لیے مصنوعی قیمت بڑھانے اور اور اونٹنی یا بکری کے تھنوں کو باندھنے سے منع فرمایا۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ بن معاذ اور عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے اور غندر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے یوں کہا کہ ممانعت کی گئی تھی (مجہول کے صیغے کے ساتھ)آدم بن ابی ایاس نے یوں کہا کہ ہمیں منع کیا گیا تھا نضر اور حجاج بن منہال نے یوں کہا کہ منع کیا تھا (رسول اللہ ﷺ نے) ۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الطَّلَاقِ،حدیث نمبر ٢٧٢٧)
باب:لوگوں کے ساتھ زبانی شرطیں لگانا۔ ابن جریج نے خبر دی نے کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے اور ان میں ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے، ابن جریج نے کہا مجھ سے یہ حدیث یعلیٰ اور عمرو کے سوا اوروں نے بھی بیان کی، وہ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :حضرت موسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے رسول ہیں ۔پھر حدیث ذکر کی (کہ حضرت خضر نے کہا کہ) کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکو گے (الکہف ٧٢،تا ٧٥) پہلی مرتبہ بھول تھی اور دوسری مرتبہ شرط تھی اور تیسری مرتبہ قصد تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:میری بھول پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے ۔اور میرے کام میں مجھ پر دشواری نہ ڈالیے ۔(الکہف ٧٣)جب وہ دونوں ایک ایک لڑکے سے ملے(تو حضرت خضر علیہ السلام) نے اسے قتل کردیا۔(الکہف ٧٤)پھر وہ دونوں آگے چلے پھر ان دونوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو تو حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو سیدھا کر دیا(الکہف ٧٧) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے وراء هم ملك وراء هم کے بجائے أمامهم ملك. پڑھا ہے۔یعنی ان کے آگے بادشاہ تھا۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ مَعَ النَّاسِ بِالْقَوْلِ،حدیث نمبر ٢٧٢٨)
باب:ولاء میں شرائط۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کرلی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہوگا۔ آپ بھی میری مدد کیجئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں ایک دم انہیں اتنی قیمت ادا کرسکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میری ہوگی۔ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اپنے مالکوں کے یہاں گئیں اور ان سے اس صورت کا ذکر کیا لیکن انہوں نے ولاء کے لیے انکار کیا۔ جب وہ ان کے یہاں سے واپس ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں کے سامنے یہ صورت رکھی تھی، لیکن وہ کہتے تھے کہ ولاء انہیں کی ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے بھی یہ بات سنی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی کریم ﷺ کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو انہیں خرید لے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوسکتی ہے جو آزاد کرے۔ چناں چہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ ﷺ صحابہ میں گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہیں ہے ایسی کوئی بھی شرط جس کا پتہ(سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہ ہو باطل ہے خواہ سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرطیں ہی پائیدار ہیں اور ولاء تو اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔ (بخاری شریف الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْوَلَاءِ،حدیث نمبر ٢٧٢٩)
باب: مزارعت میں مالک نے کاشتکار سے یہ شرط لگائی کہ جب میں چاہوں گا تجھے بے دخل کر سکوں گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والوں نے توڑ ڈالے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر کے یہودیوں سے ان کی جائیداد کا معاملہ کیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لیے میں انہیں جلا وطن کردینا ہی مناسب جانتا ہوں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کرلیا تو بنو ابی حقیق (ایک یہودی خاندان) کا ایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمومنین! کیا آپ ہمیں جلا وطن کردیں گے حالاں کہ محمد ﷺ نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھول گیا ہوں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں رات لیے پھریں گے۔ اس نے کہا یہ ابوالقاسم (نبی کریم ﷺ )کا ایک مذاق تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹی بات کہی۔ چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کردیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کردی۔ اس کی روایت حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے نقل کی ہے جیسا کہ مجھے یقین ہے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مختصر طور پر۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابٌ : إِذَا اشْتَرَطَ فِي الْمُزَارَعَةِ : إِذَا شِئْتُ أَخْرَجْتُكَ،حدیث نمبر ٢٧٣٠)
باب:اہل حرب کے ساتھ جہاد اور صلح کی شرائط او شرائط ک لکھوانا۔ مسور بن مخرمہ اور مروان ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے صاحب کی تصدیق کرتا ہے ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں (مدینہ شریف سے مکہ شریف) جا رہے تھے ‘ ابھی نبی کریم ﷺ راستے ہی میں تھے ‘فرمایا خالد بن ولید قریش کے( دو سو )سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو قریش کو جلدی جلدی خبر دینے گئے۔ ادھر نبی کریم ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ کرام اونٹنی کو اٹھانے کے لیے حل حل کہنے لگے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ صحابہ کرام نے کہا کہ قصواء اڑ گئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا قصواء اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے ‘ اسے تو اس ذات نے روک لیا جس نے ہاتھیوں ( کے لشکر ) کو ( مکہ ) میں داخل ہونے سے روک لیا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو بھی ایسا مطالبہ رکھیں گے جس میں اللہ کی محرمات کی بڑائی ہو تو میں اس کا مطالبہ منظور کر لوں گا۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اٹھ گئی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ صحابہ کرام سے آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے آخری کنارے ثمد ( ایک چشمہ یا گڑھا ) پر جہاں پانی کم تھا، وہاں نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ کیا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی استعمال کرنے لگے، انہوں نے پانی کو ٹھہرنے ہی نہیں دیا، سب کھینچ ڈالا۔ اب رسول اللہ ﷺ سے پیاس کی شکایت کی گئی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا کہ اس گڑھے میں ڈال دیں بخدا تیر گاڑتے ہی پانی انہیں سیراب کرنے کے لیے ابلنے لگا اور وہ لوگ پوری طرح سیراب ہو گئے۔ لوگ اسی حال میں تھے کہ حضرت بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ یہ لوگ تہامہ کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے محرم راز بڑے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو پیچھے چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ جنہوں نے حدیبیہ کے پانی کے ذخیروں پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا ہے ‘ ان کے ساتھ بکثرت دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے نئے نئے بچوں کے ساتھ ہیں۔ وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کے بیت اللہ پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں اور واقعہ تو یہ ہے ( مسلسل لڑائیوں ) نے قریش کو بھی کمزور کر دیا ہے اور انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ‘ اب اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت ان سے صلح کا معاہدہ کر لوں گا ‘ اس عرصہ میں وہ میرے اور عوام ( کفار مشرکین عرب ) کے درمیان نہ پڑیں پھر اگر میں کامیاب ہو جاؤں اور ( اس کے بعد ) وہ چاہیں تو اس دین ( اسلام ) میں وہ بھی داخل ہو سکتے ہیں ( جس میں اور تمام لوگ داخل ہو چکے ہوں گے ) لیکن اگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تو انہیں بھی آرام مل جائے گا اور اگر انہیں میری پیش کش سے انکار ہے تو اس ذات کی قسم! جس کےدست قدرت میں میری جان ہے جب تک میرا سر تن سے جدا نہیں ہو جاتا، میں اس دین کے لیے برابر لڑتا رہوں گا یا پھر اللہ تعالیٰ اسے نافذ ہی فرما دے گا۔حضرت بدیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریش تک آپ کی گفتگو میں پہچاؤں گا چناں چہ وہ واپس ہوئے اور قریش کے یہاں پہنچے اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس شخص ( نبی کریم ﷺ ) کے یہاں سے آ رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے ‘ اگر تم چاہو تو تمہارے سامنے اسے بیان کر سکتے ہیں۔ قریش کے بے وقوفوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ تم اس شخص کی کوئی بات ہمیں سناؤ۔ جو لوگ صائب الرائے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم نے سنا ہے ہم سے بیان کر دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ( نبی کریم ﷺ ) کو یہ کہتے سنا ہے اور پھر جو کچھ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا تھا ‘ سب بیان کر دیا۔ اس پر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت تک کفار کے ساتھ تھے ) کھڑے ہوئے اور کہا اے قوم کے لوگو! کیا تم مجھ پر باپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے۔ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور رکھتے ہیں۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا کیا میں بیٹے کی طرح تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا تم لوگ مجھ پر کسی قسم کی تہمت لگا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے عکاظ والوں کو تمہاری مدد کے لیے کہا تھا اور جب انہوں نے انکار کیا تو میں نے اپنے گھرانے ‘ اولاد اور ان تمام لوگوں کو تمہارے پاس لا کر کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے میرا کہنا مانا تھا؟ قریش نے کہا کیوں نہیں ( آپ کی باتیں درست ہیں ) اس کے بعد انہوں نے کہا دیکھو اب اس شخص ( نبی کریم ﷺ ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز رکھی ہے ‘ اسے تم قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس ( گفتگو ) کے لیے جانے دو ‘ سب نے کہا آپ ضرور جایئے۔ چناں چہ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ سے گفتگو شروع کی۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے بھی وہی باتیں کہیں جو نبی کریم ﷺ بدیل سے کہہ چکے تھے ‘حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا۔ اے محمد ( ﷺ )! بتائیے اگر آپ نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو کیا اپنے سے پہلے کسی بھی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا ہو لیکن اگر دوسری بات واقع ہوئی ( یعنی ہم آپ پر غالب ہوئے ) تو میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں یہ مختلف جنسوں لوگ یہی کریں گے۔ اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے «امصص بظر اللات»۔ کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور نبی کریم ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا۔ بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ سے پھر گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس کھڑے تھے ‘ تلوار لٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ جب بھی نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نیام کو اس کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ اصل میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ رہے تھے پھر ان سب کو قتل کر کے ان کا مال لے لیا تھا۔ اس کے بعد ( مدینہ شریف ) آئے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے ( تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کا مال بھی رکھ دیا کہ جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں ) لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ تیرا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، رہا یہ مال تو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیوں کہ وہ دغا بازی سے ہاتھ آیا ہے جسے میں لے نہیں سکتا ‘ پھر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے۔ پھر راوی نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی اگر کبھی رسول اللہ ﷺ نے بلغم بھی تھوکا تو نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ کسی کام کا اگر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ نبی کریم ﷺ وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب نبی کریم ﷺ گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھا جاتی۔ نبی کریم ﷺ کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھی نظر بھر کر نبی کریم ﷺ کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ خیر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ جب اپنے ساتھیوں سے جا کر ملے تو ان سے کہا اے لوگو! قسم اللہ کی! میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیا ہوں ‘ قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھی اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے اصحاب نبی کریم ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔ قسم اللہ کی! اگر محمد ﷺ نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی۔ نبی کریم ﷺ نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ نبی کریم ﷺ کے وضو پر لڑائی ہو جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ان کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ نبی کریم ﷺ کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک بھلی صورت رکھی ہے ‘ تمہیں چاہئے کہ اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کا ایک شخص بولا کہ اچھا مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو ‘ لوگوں نے کہا تم بھی جا سکتے ہو۔ جب یہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قریب پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ ایک ایسی قوم کا فرد جو بیت اللہ کی قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ صحابہ کرام نے قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دیئے اور لبیک کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا جب اس نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ سبحان اللہ قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو کعبہ سے روکا جائے۔ اس کے بعد قریش میں سے ایک دوسرا شخص مکرز بن حفص نامی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے یہاں جانے دو۔ سب نے کہا کہ تم بھی جا سکتے ہو جب وہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے قریب ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے ایک بدترین شخص ہے۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ معمر نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ مجھے ایوب نے خبر دی اور انہیں عکرمہ نے کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی کریم ﷺ نے ( نیک فالی کے طور پر ) فرمایا تمہارا معاملہ آسان ( سہل ) ہو گیا۔ معمر نے بیان کیا کہ زہری نے اپنی حدیث میں اس طرح بیان کیا تھا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو «بسم الله الرحمن الرحيم» سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو «باسمك اللهم.» جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں «بسم الله الرحمن الرحيم» کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ «باسمك اللهم.» ہی لکھنے دو۔ پھر نبی کریم ﷺ نے لکھوایا یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے صلح نامہ کی دستاویز ہے۔ سہیل نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ آپ رسول اللہ ہیں تو نہ ہم آپ کو کعبہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ آپ تو صرف اتنا لکھئے کہ "محمد بن عبداللہ" اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ گواہ ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب ہی کرتے رہو ‘ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھو "محمد بن عبداللہ" زہری نے بیان کیا کہ یہ سب کچھ ( نرمی اور رعایت ) صرف نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کا نتیجہ تھا ( جو پہلے بدیل سے کہہ چکے تھے ) کہ قریش مجھ سے جو بھی ایسا مطالبہ کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم مقصود ہو گی تو میں ان کے مطالبے کو ضرور مان لوں گا ‘ اس لیے نبی کریم ﷺ نے سہیل سے فرمایا لیکن صلح کے لیے پہلی شرط یہ ہو گی کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ کے طواف کرنے کے لیے جانے دو گے۔ سہیل نے کہا قسم اللہ کی ہم ( اس سال ) ایسا نہیں ہونے دیں گے ورنہ عرب کہیں گے ہم مغلوب ہو گئے تھے ( اس لیے ہم نے اجازت دے دی ) آئندہ سال کے لیے اجازت ہے۔ چناں چہ یہ بھی لکھ لیا۔ پھر سہیل نے لکھا کہ یہ شرط بھی ( لکھ لیجئے ) کہ ہماری طرف کا جو شخص بھی آپ کے یہاں جائے گا خواہ وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نے ( یہ شرط سن کر کہا ) سبحان اللہ! ( ایک شخص کو ) مشرکوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہو کر آیا ہو۔ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آ پہنچے ‘ وہ مکہ کے نشیبی علاقے کی طرف سے بھاگے تھے اور اب خود کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ سہیل نے کہا اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے لیے ( صلح نامہ کے مطابق ) میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ ہمیں اسے واپس کر دیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے ( صلح نامہ کی اس دفعہ کو ) صلح نامہ میں لکھا بھی نہیں ہے ( اس لیے جب صلح نامہ طے پا جائے گا اس کے بعد اس کا نفاذ ہونا چاہئے ) سہیل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم پھر میں کسی بنیاد پر بھی آپ سے صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا مجھ پر اس ایک کو دے کر احسان کر دو۔ اس نے کہا کہ میں اس سلسلے میں احسان بھی نہیں کر سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہمیں احسان کر دینا چاہئے لیکن اس نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ البتہ مکرز نے کہا کہ چلئے ہم اس کا آپ پر احسان کرتے ہیں مگر ( اس کی بات نہیں چلی )حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ نے کہا مسلمانوں! میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا مجھے مشرکوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا؟ کیا میرے ساتھ جو اذیتیں پہنچائی گئیں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے نبی ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں! میں نے کہا پھر اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا نبی کریم ﷺ ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا نہیں ( نبی کریم ﷺ نے اس قید کے ساتھ نہیں فرمایا تھا ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم بیت اللہ تک ضرور پہنچو گے اور ایک دن اس کا طواف کرو گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا اور ان سے بھی یہی پوچھا کہ ابوبکر! کیا یہ حقیقت نہیں کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے نبی ہیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! میں نے کہا کہ پھر اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جناب! بلا شک و شبہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اپنے رب کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور رب ہی ان کا مددگار ہے پس ان کی رسی مضبوطی سے پکڑ لو ‘ اللہ گواہ ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا کیا نبی کریم ﷺ ہم سے یہ نہیں کہتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ پہونچیں گے اور اس کا طواف کریں گے انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی صحیح ہے لیکن کیا نبی کریم ﷺ نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال آپ بیت اللہ پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ ایک نہ ایک دن بیت اللہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ زہری نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعد میں میں نے اپنی عجلت پسندی کی مکافات کے لیے نیک اعمال کئے۔ پھر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چکے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب اٹھو اور ( جن جانوروں کو ساتھ لائے ہو ان کی ) قربانی کر لو اور سر بھی منڈوا لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ گواہ ہے صحابہ کرام میں سے ایک شخص بھی نہ اٹھا اور تین مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یہ جملہ فرمایا۔ جب کوئی نہ اٹھا تو نبی کریم ﷺ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ میں گئے اور ان سے لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ باہر تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ نہ کہیں بلکہ اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیں اور اپنے حجام کو بلا لیں جو آپ کے بال مونڈ دے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے۔ کسی سے کچھ نہیں کہا اور سب کچھ کیا ‘ اپنے جانور کی قربانی کر لی اور اپنے حجام کو بلوایا جس نے نبی کریم ﷺ کے بال مونڈے۔ جب صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ بھی ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس ( مکہ شریف سے ) چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» اے مسلمانو! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو امتحان لے لیا کرو (الممتحنة ١٠)«بعصم الكوافر» تک۔ اس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دی جو اب تک مسلمان نہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا تھا اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو قریش کے ایک فرد حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ ( مکہ سے فرار ہو کر ) حاضر ہوئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ قریش نے انہیں واپس لینے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہمارے ساتھ آپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قریش کے دونوں افراد جب انہیں واپس لے کر لوٹے اور ذوالحلیفہ پہنچے تو کھجور کھانے کے لیے اترے جو ان کے ساتھ تھی۔حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے فرمایا قسم اللہ کی تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے ساتھی نے تلوار نیام سے نکال دی۔ اس شخص نے کہا ہاں اللہ کی قسم نہایت عمدہ تلوار ہے ‘ میں اس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ اس پر بولے کہ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ اور اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا پھر اس شخص نے تلوار کے مالک کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ کر مدینہ آیا اور مسجد میں دوڑتا ہوا۔ داخل ہوا نبی کریم ﷺ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا یہ شخص کچھ خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب پہنچا تو کہنے لگا اللہ کی قسم میرا ساتھی تو مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا ( اگر آپ لوگوں نے ابوبصیر کو نہ روکا ) اتنے میں ابوبصیر بھی آ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ‘ آپ مجھے ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دلائی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ( تیری ماں کی خرابی ) اگر اس کا کوئی ایک بھی مددگار ہوتا تو پھر لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھتے۔ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے کہ نبی کریم ﷺ پھر کفار کے حوالے کر دیں گے اس لیے وہاں سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اپنے گھر والوں ( مکہ سے ) چھوٹ کر حضرت ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اب یہ حال تھا کہ قریش کا جو شخص بھی اسلام لاتا ( بجائے مدینہ آنے کے ) حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے یہاں ( ساحل سمندر پر ) چلا جاتا۔ اس طرح سے ایک جماعت بن گئی اور اللہ گواہ ہے یہ لوگ قریش کے جس قافلے کے متعلق بھی سن لیتے کہ وہ شام جا رہا ہے تو اسے راستے ہی میں روک کر لوٹ لیتے اور قافلہ والوں کو قتل کر دیتے۔ اب قریش نے نبی کریم ﷺ کے یہاں اللہ اور رحم کا واسطہ دے کر درخواست بھیجی کہ آپ کسی کو بھیجیں ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے یہاں کہ وہ قریش کی ایذا سے رک جائیں ) اور اس کے بعد جو شخص بھی نبی کریم ﷺ کے یہاں جائے گا ( مکہ سے ) اسے امن ہے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ نے ان کے یہاں اپنا آدمی بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم» "اور وہی اللہ نے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا او تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ میں، تمہیں ان پرکامیابی فرمانے کے بعد (الفتح ٢٤ تا ٢٦) اور ان کی حمیت ( جاہلیت ) یہ تھی کہ انہوں نے ( معاہدے میں بھی ) آپ کے لیے اللہ کے نبی ہونے کا اقرار نہیں کیا اسی طرح انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھنے دیا اور آپ بیت اللہ جانے سے مانع بنے۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،حدیث نمبر ٢٧٣١،حدیث نمبر ٢٧٣٢)
عقیل نے زہری سے بیان کیا ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کا(جو مکہ سے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں) امتحان لیتے تھے(زہری نے) بیان کیا کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مشرکوں کی طرف وہ رقم لوٹا دو جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہے جنہوں نے اپنے شوہروں سے ہجرت کرلی ہے اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ تم بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رکھو ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں قریبہ بنت ابی امیہ اور ایک جرول خزاعی کی لڑکی کو طلاق دے دی۔ بعد میں قریبہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی تھی(کیوں کہ اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے)اور دوسری بیوی سے ابوجہم نے شادی کرلی تھی لیکن جب کفار نے مسلمانوں کے ان اخراجات کو ادا کرنے سے انکار کیا جو انہوں نے اپنی (کافرہ) بیویوں پر کئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی تم سے چھوٹ کر کافروں کے پاس چلی جاے پھر کفار سے تم غنیمت حاصل کر لو (الممتحنۃ ١١) یہ وہ معاوضہ تھا جو مسلمان کفار میں سے اس شخص کو دیتے جس کی بیوی ہجرت کر کے (مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلمان کے نکاح میں آگئی ہو) پس اللہ نے اب یہ حکم دیا کہ:جس مسلمان کی بیوی مرتد ہو کر (کفار کے یہاں) چلی جائے اس کے (مہر و نفقہ کے) اخراجات ان کفار کی عورتوں کے مہر سے ادا کر دئیے جائیں جو ہجرت کر کے آگئی ہیں (اور کسی مسلمان نے ان سے نکاح کرلیا ہے) اگرچہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی مہاجرہ بھی ایمان کے بعد مرتد ہوئی ہوں اور ہمیں یہ روایت بھی معلوم ہوئی کہ ابوبصیر بن اسید ثقفی رضی اللہ عنہ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مومن و مہاجر کی حیثیت سے معاہدہ کی مدت کے اندر ہی حاضر ہوئے تو اخنس بن شریق نے نبی کریم ﷺ کو ایک تحریر لکھی جس میں اس نے (ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی واپسی کا) مطالبہ نبی کریم ﷺ سے کیا تھا۔ پھر انہوں نے حدیث پوری بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْجِهَادِ، وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ، وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،حدیث نمبر ٢٧٣٣)
باب: قرض میں شرط لگانا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جنہوں نے بنی اسرائیل کے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا اور اس نے ایک مقررہ مدت تک کے لیے دے دیا۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْقَرْضِ،حدیث نمبر ٢٧٣٤)
باب:مکاتب کا بیان اور اس میں جو شرائط کتاب اللہ کے خلاف ہو۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:مکاتب کی شرائط ان کے درمیان معتبر ہوتی ہے۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے خلاف ہو باطل ہے۔خواہ سو شرطیں لگائے۔اور امام ابو عبد اللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا :یہ اثر دونوں سے مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہا اپنی مکاتب کی ادائیگی کے متعلق سوال کرنے آئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:اگر تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو مکاتب کی رقم ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی۔پس جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ علیہ السلام سے اس کا ذکر کیا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو خرید لواور اس کو آزاد کردو اور ولاء صرف اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوے اور ارشاد فرمایا :ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہے جس نے ایسی شرطیں لگائیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہے تو اس کے لیے نہیں۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الْمُكَاتَبِ وَمَا لَا يَحِلُّ مِنَ الشُّرُوطِ الَّتِي تُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٧٣٥)
باب:اقرار میں شرط لگانے یا استثنا کرنے کا جواز اور ان شرطوں کا جواز جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوں اور جب کسی شخص نے کہا:مجھ پر فلاں کے ایک سو درھم ہیں مگر ایک یا دو۔ اور کہا ابن عون ابن سیرین سے کہ:کسی شخص نے اونٹ والے کہا :تم اپنے اونٹ اندر لاکر باندھ دے اگر میں فلاں فلاں دن تمہارے ساتھ نہ جا سکا تو میں تم کو دو سو درھم دوں گا پھر وہ اس دن نہ جا سکا تو قاضی شریح نے کہا:جس نے اپنی خوشی سے اپنے اوپر کوئی شرط لگائی جب کہ اس پر جبر نہیں کیا گیا تھا تو وہ شرط اس کو پوری کرنی ہوگی۔ اور ایوب نے کہا از ابن سیرین کہ کسی شخص نے غلہ فروخت کیا اور خریدار نے کہا:اگر میں تمہارے پاس بدھ کے دن تک نہ آسکا تو میرے اور تمہارے درمیان بیع باقی نہ رہے گی ۔پس وہ نہیں آیا تو شریح نے خریدار سے کہا:تم نے وعدہ خلافی کی ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کیا۔ روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو جس نے اس کا شمار کر لیا جنت میں داخل ہو جاے گا۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الِاشْتِرَاطِ وَالثُّنْيَا فِي الْإِقْرَارِ، وَالشُّرُوطِ الَّتِي يَتَعَارَفُهَا النَّاسُ بَيْنَهُمْ(الی آخرہ) حدیث نمبر ٢٧٣٦)
باب: وقف میں شرطیں لگانے کا بیان۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک قطعہ زمین ملی تو نبی کریم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مشورہ کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں ایک زمین کا ٹکڑا ملا ہے اس سے بہتر مال مجھے اب تک کبھی نہیں ملا تھا ‘ آپ اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو اصل زمین اپنے ملکیت میں باقی رکھ اور پیداوار صدقہ کر دے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس شرط کے ساتھ صدقہ کردیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا نہ اس کا ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس میں وراثت چلے گی۔ اسے آپ نے محتاجوں کے لیے ‘ رشتہ داروں کے لیے اور غلام آزاد کرانے کے لیے ‘ اللہ کے دین کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے اور مہمانوں کے لیے صدقہ(وقف) کردیا اور یہ کہ اس کا متولی اگر دستور کے مطابق اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق وصول کرلے یا کسی محتاج کو دے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔ ابن عون نے بیان کیا کہ جب میں نے اس حدیث کا ذکر ابن سیرین سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ (متولی) اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ (بخاری شریف کتاب الشروط ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْوَقْفِ،حدیث نمبر ٢٧٣٧)
Bukhari Shareef : Kitabus Shurute
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الشُّرُوطِ
|
•