asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Jizyate

From 3156 to 3189

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

جزیہ کا بیان۔ باب:جزیہ اور اہل الذمہ اور اہل حرب کے ساتھ موادعہ یعنی ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے (ان سے قتال کرتے رہو) جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہو کر(التوبہ آیت ٢٩) اور ابن عیینہ نے کہا از ابن ابی نجیع کہ میں نے مجاہد سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے کہ اہل شام پر جزیہ چار دینار ہیں اور اہل یمن پر جزیہ ایک دینار ہے؟ مجاہد نے کہا :یہ آسانی اور خوش حالی کی وجہ سے ہے۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں جابر بن زید اور عمرو بن اوس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ان دونوں بزرگوں سے بجالہ نے بیان کیا کہ ٧٠ ہجری میں جس سال حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ زمزم کی سیڑھیوں کے پاس انہوں نے بیان کیا تھا کہ میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا جزء بن معاویہ کا کاتب تھا۔ تو وفات سے ایک سال پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مکتوب ہمارے پاس آیا کہ جس پارسی نے اپنی محرم عورت کو بیوی بنایا ہو تو ان کو جدا کر دو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پارسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا۔ لیکن جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا( تو وہ بھی لینے لگے تھے )۔ (بخاری شریف ،كِتَابُ الْجِزْيَةِ،بَابُ الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣١٥٦،و حدیث نمبر ٣١٥٧)

كِتَابُ الْجِزْيَةِ بَابُ الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ. وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ }. أَذِلَّاءُ. وَالْمَسْكَنَةُ مَصْدَرُ الْمِسْكِينِ فُلَانٌ أَسْكَنُ مِنْ فُلَانٍ أَحْوَجُ مِنْهُ وَلَمْ يَذْهَبْ إِلَى السُّكُونِ، وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَالْعَجَمِ. وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ : قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ : مَا شَأْنُ أَهْلِ الشَّأْمِ عَلَيْهِمْ أَرْبَعَةُ دَنَانِيرَ، وَأَهْلُ الْيَمَنِ عَلَيْهِمْ دِينَارٌ ؟ قَالَ : جُعِلَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِ الْيَسَارِ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرًا ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، فَحَدَّثَهُمَا بَجَالَةُ سَنَةَ سَبْعِينَ عَامَ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ عِنْدَ دَرَجِ زَمْزَمَ، قَالَ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ : فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ. وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3156/3157

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے۔ انہوں نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے بحرین کے لوگوں سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا تھا۔ جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار کو معلوم ہوگیا کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ چناں چہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھا چکے تو لوگ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئے۔ نبی کریم ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، تمہیں خوش خبری ہو، اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو۔ جس سے تمہیں خوشی ہوگی، لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کچھ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دئیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دئیے گئے تھے، تو ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سے جلنے لگو اور یہ جلنا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ،بَابُ الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣١٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ الْأَنْصَارِيَّ - وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا - أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ : " أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ ". قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخَشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3158

بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر ہر دونوں نے بیان کیا کہ ان سے جبیر بن حیہ نے بیان کیا کہ کفار سے جنگ کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوجوں کو(فارس کے)بڑے بڑے شہروں کی طرف بھیجا تھا۔(جب لشکر قادسیہ پہنچا اور لڑائی کا نتیجہ مسلمانوں کے حق میں نکلا)تو ہرمزان(شوستر کا حاکم)اسلام لے آیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ میں تم سے ان(ممالک فارس وغیرہ)پر فوج بھیجنے کے سلسلے میں مشورہ چاہتا ہوں اس نے کہا جی ہاں! اس ملک کی مثال اور اس میں رہنے والے اسلام دشمن باشندوں کی مثال ایک پرندے جیسی ہے جس کا سر ہے، دو بازو ہیں۔ اگر اس کا ایک بازو توڑ دیا جائے تو وہ اپنے دونوں پاؤں پر ایک بازو اور ایک سر کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر سر توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں دونوں بازو اور سر سب بےکار رہ جاتا ہے۔ پس سر تو کسریٰ ہے، ایک بازو قیصر ہے اور دوسرا فارس! اس لیے آپ مسلمانوں کو حکم دے دیں کہ پہلے وہ کسریٰ پر حملہ کریں۔ اور بکر بن عبداللہ اور زیاد بن جبیر دونوں نے بیان کیا کہ ان سے جبیر بن حیہ نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے(جہاد کے لیے)بلایا اور حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا۔ جب ہم دشمن کی سر زمین(نہاوند)کے قریب پہنچے تو کسریٰ کا ایک افسر چالیس ہزار کا لشکر ساتھ لیے ہوئے ہمارے مقابلہ کے لیے بڑھا۔ پھر ایک ترجمان نے آ کر کہا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص(معاملات پر)گفتگو کرے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے(مسلمانوں کی نمائندگی کی اور) فرمایا کہ جو تمہارے مطالبات ہوں، انہیں بیان کرو۔ اس نے پوچھا آخر تم لوگ ہو کون؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم عرب کے رہنے والے ہیں، ہم انتہائی بدبختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا تھے۔ بھوک کی شدت میں ہم چمڑے، اور گٹھلیاں چوسا کرتے تھے۔ اون اور بال ہماری پوشاک تھی۔ اور پتھروں اور درختوں کی ہم عبادت کیا کرتے تھے۔ ہماری مصیبتیں اسی طرح قائم تھیں کہ آسمان اور زمین کے رب نے، جس کا ذکر اپنی تمام عظمت و جلال کے ساتھ بلند ہے۔ ہماری طرف ہماری ہی طرح(کے انسانی عادات و خصائص رکھنے والا)ایک نبی بھیجا۔ ہم اس کے باپ اور ماں کو جانتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تم سے اس وقت تک جنگ کرتے رہیں۔ جب تک تم صرف اللہ اکیلے کی عبادت نہ کرنے لگو۔ یا پھر اسلام نہ قبول کرنے کی صورت میں جزیہ دینا قبول کرلو اور ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں اپنے رب کا یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ(اسلام کے لیے لڑتے ہوئے)جہاد میں ہمارا جو آدمی بھی قتل کیا جائے گا وہ ایسی جنت میں جائے گا، جو اس نے کبھی نہیں دیکھی اور جو لوگ ہم میں سے زندہ باقی رہ جائیں گے وہ(فتح حاصل کر کے)تم پر حاکم بن سکیں گے (حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ گفتگو تمام کر کے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے کہا لڑائی شروع کرو) ۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا تم کو تو اللہ پاک ایسی کئی لڑائیوں میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک رکھ چکا ہے۔ اور اس نے(لڑائی میں دیر کرنے پر)تم کو نہ شرمندہ کیا نہ ذلیل کیا اور میں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑائی میں موجود تھا۔ آپ کا قاعدہ تھا اگر صبح سویرے لڑائی شروع نہ کرتے اور دن چڑھ جاتا تو اس وقت تک ٹھہرے رہتے کہ سورج ڈھل جائے، ہوائیں چلنے لگیں، نمازوں کا وقت آن پہنچے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ،بَابُ الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣١٥٩،و حدیث نمبر ٣١٦٠)

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ النَّاسَ فِي أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَسْلَمَ الْهُرْمُزَانُ فَقَالَ : إِنِّي مُسْتَشِيرُكَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ. قَالَ : نَعَمْ، مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيهَا مِنَ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِينَ مَثَلُ طَائِرٍ لَهُ رَأْسٌ، وَلَهُ جَنَاحَانِ، وَلَهُ رِجْلَانِ، فَإِنْ كُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ، فَإِنْ كُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَهَبَتِ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ، فَالرَّأْسُ كِسْرَى، وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ، وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ، فَمُرِ الْمُسْلِمِينَ فَلْيَنْفِرُوا إِلَى كِسْرَى. وَقَالَ بَكْرٌ، وَزِيَادٌ جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ : فَنَدَبَنَا عُمَرُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَقَامَ تَرْجُمَانٌ فَقَالَ : لِيُكَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ. فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : سَلْ عَمَّا شِئْتَ. قَالَ : مَا أَنْتُمْ ؟ قَالَ : نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، كُنَّا فِي شَقَاءٍ شَدِيدٍ وَبَلَاءٍ شَدِيدٍ، نَمَصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَى مِنَ الْجُوعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرَضِينَ - تَعَالَى ذِكْرُهُ وَجَلَّتْ عَظَمَتُهُ - إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا، نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَكُمْ حَتَّى تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ، أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ، وَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا، أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي نَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. فَقَالَ النُّعْمَانُ : رُبَّمَا أَشْهَدَكَ اللَّهُ مِثْلَهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُنَدِّمْكَ وَلَمْ يُخْزِكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَوَاتُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3159/3160

باب: اگر بستی کے حاکم سے صلح ہو جائے تو بستی والوں سے بھی صلح سمجھی جائے گی۔ حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم(یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم ﷺ کو ایک سفید خچر بھیجا اور نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابٌ : إِذَا وَادَعَ الْإِمَامُ مَلِكَ الْقَرْيَةِ، هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ لِبَقِيَّتِهِمْ ؟حدیث نمبر ٣١٦١)

بَابٌ : إِذَا وَادَعَ الْإِمَامُ مَلِكَ الْقَرْيَةِ، هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ لِبَقِيَّتِهِمْ ؟ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ .

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3161

باب: رسول اللہ ﷺ نے جن کافروں کو امان دی (اپنے ذمہ میں لیا) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا۔ جویریہ بن قدامہ تمیمی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جب وہ زخمی ہوئے)آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی(جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے)وصیت کرتا ہوں(کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا)کیوں کہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے (کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ الْوَصَايَا بِأَهْلِ ذِمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالذِّمَّةُ : الْعَهْدُ. وَالْإِلُّ : الْقَرَابَةُ،حدیث نمبر ٣١٦٢)

بَابُ الْوَصَايَا بِأَهْلِ ذِمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالذِّمَّةُ : الْعَهْدُ. وَالْإِلُّ : الْقَرَابَةُ. حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْنَا : أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ : أُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3162

باب: نبی کریم ﷺ کا بحرین سے (مجاہدین کو کچھ معاش) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کو بلایا، تاکہ بحرین میں ان کے لیے کچھ زمین لکھ دیں۔ لیکن انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! اللہ کی قسم! (ہمیں اسی وقت وہاں زمین عنایت فرمائیے)جب اتنی زمین ہمارے بھائی قریش(مہاجرین)کے لیے بھی آپ لکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تک اللہ کو منظور ہے یہ معاش ان کو بھی(یعنی قریش والوں کو)ملتی رہے گی۔ لیکن انصار یہی اصرار کرتے رہے کہ قریش والوں کے لیے بھی سندیں لکھ دیجئیے۔جب نبی اکرم ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، لیکن تم صبر سے کام لینا، تاآنکہ تم آخر میں مجھ سے آ کر ملو(جنگ اور فساد نہ کرنا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ مَا أَقْطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، وَمَا وَعَدَ مِنْ مَالِ الْبَحْرَيْنِ. وَالْجِزْيَةِ، وَلِمَنْ يُقْسَمُ الْفَيْءُ وَالْجِزْيَةُ،حدیث نمبر ٣١٦٣)

بَابُ مَا أَقْطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، وَمَا وَعَدَ مِنْ مَالِ الْبَحْرَيْنِ. وَالْجِزْيَةِ، وَلِمَنْ يُقْسَمُ الْفَيْءُ وَالْجِزْيَةُ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا. فَقَالَ : " ذَاكَ لَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ ". يَقُولُونَ لَهُ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3163

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا، تو میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا(تین لپ) دوں گا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا اور آپ کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چناں چہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو، میں نے ایک لپ بھری، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا۔ اور دوسری سند میں یہ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں بحرین سے خراج کا روپیہ آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسے مسجد میں پھیلا دو، بحرین کا وہ مال ان تمام اموال میں سب سے زیادہ تھا جو اب تک رسول اللہ ﷺ کے یہاں آ چکے تھے۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے بھی عنایت فرمائیے (میں زیر بار ہوں)کیوں کہ میں نے(بدر کے موقع پر) اپنا بھی فدیہ ادا کیا تھا اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کا بھی ادا کیا تھا! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا لے لیجئے۔ چناں چہ انہوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا (لیکن اٹھایا نہ جاسکا)تو اس میں سے کم کرنے لگے۔ لیکن کم کرنے کے بعد بھی نہ اٹھ سکا تو عرض کیا کہ نبی اکرم ﷺ کسی کو حکم دیں کہ اٹھانے میں میری مدد کرے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا، انہوں نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اٹھوا دیں۔ فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ کم کیا، لیکن اس پر بھی نہ اٹھا سکے تو کہا کہ کسی کو حکم دیجئیے کہ وہ اٹھا دے، فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، انہوں نے کہا پھر آپ ہی اٹھا دیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ آخر اس میں سے انہیں پھر کم کرنا پڑا اور تب کہیں جا کے اسے اپنے کاندھے پر اٹھا سکے اور لے کر جانے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت تک انہیں برابر دیکھتے رہے، جب تک وہ ہماری نظروں سے چھپ نہ گئے۔ ان کے حرص پر نبی اکرم ﷺ نے تعجب فرمایا اور آپ اس وقت تک وہاں سے نہ اٹھے جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی رہا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ مَا أَقْطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، وَمَا وَعَدَ مِنْ مَالِ الْبَحْرَيْنِ. وَالْجِزْيَةِ، وَلِمَنْ يُقْسَمُ الْفَيْءُ وَالْجِزْيَةُ،حدیث نمبر ٣١٦٤،و حدیث نمبر ٣١٦٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ قَالَ لِي : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". فَقَالَ لِي : احْثُهُ. فَحَثَوْتُ حَثْيَةً فَقَالَ لِي : عُدَّهَا. فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، فَأَعْطَانِي أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ : " انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ ". فَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي، إِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا. قَالَ : " خُذْ ". فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ : اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلَيَّ. قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ. قَالَ : " لَا ". فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَرْفَعْهُ، فَقَالَ : اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ عَلَيَّ. قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ. قَالَ : " لَا ". فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ عَلَى كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ، فَمَا زَالَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا ؛ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3164/3165

باب: کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے کسی ذمی کو(ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالاں کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جاسکتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ،حدیث نمبر ٣١٦٦)

بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ. حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3166

باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہم تم کو یہاں اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک تم کو اللہ برقرار رکھے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چناں چہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس(یہودیوں کا مدرسہ)پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،حدیث نمبر ٣١٦٧)

بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ. وَقَالَ عُمَرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ ". حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ". فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ ، فَقَالَ : " أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3167

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے جمعرات کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا،تمہیں معلوم ہے کہ جمعرات کا دن، ہائے! یہ کون سا دن ہے؟ اس کے بعد وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسووں سے کنکریاں تر ہوگئیں۔ سعید نے کہا میں نے عرض کیا، یا ابوعباس! جمعرات کے دن سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسی دن رسول اللہ ﷺ کی تکلیف(مرض الموت)میں شدت پیدا ہوئی تھی اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے(لکھنے کا)ایک کاغذ دے دو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھ جاؤں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر لوگوں کا اختلاف ہوگیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ نبی کی موجودگی میں جھگڑنا غیر مناسب ہے، دوسرے لوگ کہنے لگے، بھلا کیا نبی اکرم ﷺ بےکار باتیں فرمائیں گے اچھا، پھر پوچھ لو، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میری حالت پر چھوڑ دو، کیوں کہ اس وقت میں جس عالم میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے تین باتوں کا حکم فرمایا، کہ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور وفود کے ساتھ اسی طرح خاطر تواضع کا معاملہ کرنا، جس طرح میں کیا کرتا تھا۔ تیسری بات کچھ بھلی سی تھی، یا تو سعید نے اس کو بیان نہ کیا، یا میں بھول گیا۔ سفیان نے کہا یہ جملہ (تیسری بات کچھ بھلی سی تھی)سلیمان احول کا کلام ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،حدیث نمبر ٣١٦٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ. ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، قُلْتُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ : اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ". فَتَنَازَعُوا، وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا : مَا لَهُ أَهَجَرَ ؟ اسْتَفْهِمُوهُ. فَقَالَ : " ذَرُونِي ، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ ". فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ ؛ قَالَ : " أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ". وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ، إِمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا، وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا. قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3168

باب: اگر کافر مسلمانوں سے دغا کریں تو ان کو معافی دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو(یہودیوں کی طرف سے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بکری کا یا ایسے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو، چناں چہ وہ سب آگئے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو، میں تم سے ایک بات پوچھوں گا۔ کیا تم لوگ صحیح صحیح جواب دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا، تمہارے باپ کون تھے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارے باپ تو فلاں تھے۔ سب نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، اگر میں تم سے ایک اور بات پوچھوں تو تم صحیح واقعہ بیان کر دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بھی بولیں گے تو آپ ہماری جھوٹ کو اسی طرح پکڑ لیں گے جس طرح آپ نے ابھی ہمارے باپ کے بارے میں ہمارے جھوٹ کو پکڑ لیا،نبی اکرم ﷺ نے اس کے بعد دریافت فرمایا کہ دوزخ میں جانے والے کون لوگ ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں کے لیے تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے لیکن پھر آپ لوگ ہماری جگہ داخل کر دئیے جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس میں برباد رہو، اللہ گواہ ہے کہ ہم تمہاری جگہ اس میں کبھی داخل نہیں کئے جائیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو کیا تم مجھ سے صحیح واقعہ بتادو گے؟ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہاں! اے ابوالقاسم! نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں (نبوت میں) تو ہمیں آرام مل جائے گا اور اگر آپ واقعی نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابٌ : إِذَا غَدَرَ الْمُشْرِكُونَ بِالْمُسْلِمِينَ، هَلْ يُعْفَى عَنْهُمْ ؟حدیث نمبر ٣١٦٩)

بَابٌ : إِذَا غَدَرَ الْمُشْرِكُونَ بِالْمُسْلِمِينَ، هَلْ يُعْفَى عَنْهُمْ ؟ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا إِلَيَّ مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ يَهُودَ ". فَجُمِعُوا لَهُ، فَقَالَ : " إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ. قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَبُوكُمْ ؟ " قَالُوا : فُلَانٌ. فَقَالَ : " كَذَبْتُمْ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ ". قَالُوا : صَدَقْتَ. قَالَ : " فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُ عَنْهُ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَا عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا. فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ " قَالُوا : نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا، ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَئُوا فِيهَا، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ". ثُمَّ قَالَ : " هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ : " هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا ". قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3169

باب: وعدہ توڑنے والوں کے حق میں امام کی بددعا۔ عاصم احول نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب(محمد بن سیرین)تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا تھا کہ انہوں نے غلط کہا ہے۔ پھر انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعا قنوت کی تھی۔ اور آپ نے اس میں بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کی تھی۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت، راوی کو شک تھا، مشرکین کے پاس بھیجی تھی، لیکن بنو سلیم کے لوگ(جن کا سردار عامر بن طفیل تھا)ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالاں کہ نبی کریم ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا۔(لیکن انہوں نے دغا دی)نبی اکرم ﷺ کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ علیہ السلام رنجیدہ تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ دُعَاءِ الْإِمَامِ عَلَى مَنْ نَكَثَ عَهْدًا،حدیث نمبر ٣١٧٠)

بَابُ دُعَاءِ الْإِمَامِ عَلَى مَنْ نَكَثَ عَهْدًا. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَالَ : قَبْلَ الرُّكُوعِ. فَقُلْتُ : إِنَّ فُلَانًا يَزْعُمُ أَنَّكَ قُلْتَ : بَعْدَ الرُّكُوعِ. فَقَالَ : كَذَبَ. ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ. قَالَ : بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ - يَشُكُّ فِيهِ - مِنَ الْقُرَّاءِ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَعَرَضَ لَهُمْ هَؤُلَاءِ فَقَتَلُوهُمْ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3170

باب: (مسلمان) عورتیں اگر کسی (غیرمسلم) کو امان اور پناہ دیں؟ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی تھیں کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی(مکہ میں)میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صاحبزادی پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحبہ ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، آؤ اچھی آئیں، ام ہانی! پھر جب نبی کریم ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ نبی کریم ﷺ صرف ایک کپڑا جسم اطہر پر لپیٹے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری ماں کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو جسے میں پناہ دے چکی ہوں، قتل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہ شخص ہبیرہ کا فلاں لڑکا(جعدہ) ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہماری طرف سے بھی پناہ ہے۔حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ یہ وقت چاشت کا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ أَمَانِ النِّسَاءِ وَجِوَارِهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٧١)

بَابُ أَمَانِ النِّسَاءِ وَجِوَارِهِنَّ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ - ابْنَةَ أَبِي طَالِبٍ - أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئِ بْنَةَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ ؛ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَلِكَ ضُحًى.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3171

Bukhari Sharif Kitabul Jizyate Hadees No# 3172

بَابٌ : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَجِوَارُهُمْ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ. حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. فَقَالَ : فِيهَا الْجِرَاحَاتُ، وَأَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَالْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى فِيهَا مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3172

باب:جب کافروں نے کہا؛ ہم نے دین بدل لیا۔اور وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ ہم مسلمان ہو گئے۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یہ سن کر بھی قتل کرتے رہے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے اللہ! میں خالد کے فعل سے تیرے سامنے بری ہوتا ہوں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا:جب کسی شخص نے کسی حربی سے کہا:متّرس،مت ڈرو! تو اس نے اس کو امان دے دی۔بے شک اللہ تمام زبانوں کو جانتا ہے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:بات کرو کوئی حرج نہیں ہے۔ باب:مشرکین کے ساتھ مال وغیرہ سے صلح کرنا اور جنگ چھوڑ دینا اور جو عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں۔(الانفال ٦١)جنحوا، کا معنی ہے صلح کو طلب کرنا۔ سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ :حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما خیبر کی طرف گئے۔اور وہ صلح کے ایام تھے پس وہ متفرق ہو گئے، پس حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ اس وقت خون میں لت پت ہو رہے تھے، مقتول ہو چکے تھے،انہوں نے ان کو دفن کر دیا، پھر وہ مدینہ شریف آئے، پس حضرت عبد الرحمٰن بن سہل اور حضرت محیصہ اور حضرت حویصۃ جو دونوں مسعود کے بیٹے تھے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گئے پس حضرت عبد الرحمٰن بات کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو بات کرنے دو! اور حضرت عبد الرحمٰن ان دونوں میں سب سے کم عمر تھے پس وہ خاموش ہو گئے پھر ان دونوں نے بات کی، آپ نے پوچھا کیا تم دونوں حلف اٹھاؤ گے؟ اور اپنے قاتل یا اپنے صاحب کے مستحق ہو گے؟ انہوں نے کہا؛ ہم کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں جب کہ اس موقع پر ہم موجود نہ تھے، اور نہ ہم نے قاتل کو دیکھا تھا، آپ علیہ السلام نے فرمایا :پھر پچاس یہودی قسم کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے، انہوں نے کہا ہم کفار کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں گے؟پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس مقتول کی دیت عطا کر دی۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ الْمُوَادَعَةِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر ٣١٧٣)

بَابٌ : إِذَا قَالُوا : صَبَأْنَا، وَلَمْ يُحْسِنُوا أَسْلَمْنَا. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". وَقَالَ عُمَرُ : إِذَا قَالَ : مَتْرَسْ فَقَدْ آمَنَهُ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ كُلَّهَا. وَقَالَ : تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ. بَابُ الْمُوَادَعَةِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ، وَإِثْمِ مَنْ لَمْ يَفِ بِالْعَهْدِ. وَقَوْلِهِ : { وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا } الْآيَةَ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ : انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا فَأَتَى مُحَيِّصَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمٍ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ ". وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ، فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ : " أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ ؟ ". قَالُوا : وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ ؟ قَالَ : " فَتُبْرِيكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ ". فَقَالُوا : كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ فَعَقَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3173

باب: عہد پورا کرنے کی فضیلت۔ حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل(روم کے بادشاہ )نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا(یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ )جب رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان سے (صلح حدیبیہ میں)قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ فَضْلِ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ،حدیث نمبر ٣١٧٤)

بَابُ فَضْلِ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3174

باب:جب ذمی جادو کرے تو آیا اس کو معاف کیا جائے گا؟ اور ابن وہب نے کہا مجھے یونس نے خبر دی از ابن شہاب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ذمیوں میں سے جس نے جادو کیا تو کیا اس کو قتل کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا :ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے جادو کرنے والے کو قتل نہیں کیا، اور وہ جادو کرنے والا اہل کتاب میں سے تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ پر جادو کردیا گیا تھا۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ خیال کرتے کہ میں نے فلاں کام کرلیا ہے۔حالاں کہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابٌ : هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ ؟ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ،حدیث نمبر ٣١٧٥)

بَابٌ : هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ ؟ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سُئِلَ : أَعَلَى مَنْ سَحَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَتْلٌ ؟ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صُنِعَ لَهُ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْتُلْ مَنْ صَنَعَهُ، وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3175

باب:عہد شکنی سے ڈرانے کے متعلق احادیث۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور اگر وہ آپ کو دھوکا دینے کا ارادہ کریں تو بے شک آپ کو اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی تائید فرمائی(الانفال ٦٢) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کہ قیامت کی چھ نشانیاں شمار کرلو، میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک وبا جو تم میں شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس درجہ میں ہوگی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہوگا۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہوگا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آگیا ہوگا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر ( روم کے نصاریٰ) کے درمیان ہوگی، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ اس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہوگی(یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ،حدیث نمبر ٣١٧٦)

بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ. وَقَوْلِهِ تَعَالَى : { وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ } الْآيَةَ. حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ قَالَ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ : " اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ : مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً ، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3176

باب:جن سے معاہدہ کیا ہوا ہے ان معاہدہ کس طرح ختم کیا جائے گا؟ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور آپ کو جس قوم سے عہد شکنی کا خدشہ ہو تو ان کا عہد برابر ان کی طرف پھینک دیں(الانفال ٥٨) صحیح بخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے(حجۃ الوداع سے پہلے والے حج کے موقع پر)دسویں ذی الحجہ کے دن بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی منیٰ میں یہ اعلان کرنے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے اور حج اکبر کا دن دسویں تاریخ ذی الحجہ کا دن ہے۔ اسے حج اکبر اس لیے کہا گیا کہ لوگ(عمرہ کو)حج اصغر کہنے لگے تھے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سال مشرکوں سے جو عہد لیا تھا اسے واپس کردیا، اور دوسرے سال حجۃ الوداع میں جب نبی کریم ﷺ نے حج کیا تو کوئی مشرک شریک نہیں ہوا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابٌ : كَيْفَ يُنْبَذُ إِلَى أَهْلِ الْعَهْدِ،حدیث نمبر ٣١٧٧)

بَابٌ : كَيْفَ يُنْبَذُ إِلَى أَهْلِ الْعَهْدِ ؟ وَقَوْلُهُ : { وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ } الْآيَةَ. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى : لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ : الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ : الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، فَلَمْ يَحُجَّ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3177

باب:جس نے معاہدہ کرنے کے بعد عہد شکنی کی اس کا گناہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:جن سے آپ بارہا معاہدہ کیا پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑتے رہے اور وہ ذرا بھی نہیں ڈرے (الانفال ٥٦)یعنی عہد توڑنے کے متعلق جو بعض روایات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد:الَّذِينَ عَاهَدْتَ،سے مستفاد ہیں، اور دھوکہ دینا بالاتفاق حرام ہے خواہ مسلمان کو دھوکا دیا جائے یا ذمی کو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چاروں کسی ایک شخص میں جمع ہوجائیں تو وہ پکا منافق ہے۔ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے، تو وعدہ خلافی کرے، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندر ان چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے، تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٧٨)

بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ، وَقَوْلِهِ : { الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ }. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعُ خِلَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا : مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ . وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3178

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں(دین میں)کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہوگا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام)کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہوگی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہوگی اور نہ نفل ! (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3179

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب(جزیہ اور خراج میں سے )نہ تمہیں درہم ملے گا اور نہ دینار! اس پر کسی نے کہا۔ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کیسے سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو گا؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے۔ یہ صادق و مصدوق ﷺ کا فرمان ہے۔ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد( اسلامی حکومت غیر مسلموں سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں)توڑا جانے لگے، تو اللہ تعالیٰ بھی ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا۔ اور وہ جزیہ دینا بند کر دیں گے( بلکہ لڑنے کو مستعد ہوں گے )۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٨٠)

قَالَ أَبُو مُوسَى : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ؟ فَقِيلَ لَهُ : وَكَيْفَ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ. قَالُوا : عَمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3180

اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں(میں تھا) اور میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا(یعنی حدیبیہ کے دن) اگر میں نبی کریم ﷺ کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہوگئی۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہوگیا۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے (جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٨١)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ : شَهِدْتَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3181

ابو وائل نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ پھر حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو!تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں)اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیوں نہیں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کہ کیوں نہیں! پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے، جو نبی کریم ﷺ سے ابھی کرچکے تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورة فتح نازل ہوئی اور نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٨٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ ، قَالَ : كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ فَقَالَ : " بَلَى ". فَقَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " بَلَى ". قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ؟ أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا ". فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا. فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَفَتْحٌ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3182

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ قریش سے جس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ نے (حدیبیہ کی)صلح کی تھی، اسی مدت میں میری والدہ (قتیلہ) اپنے باپ(حارث بن مدرک) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ (عروہ نے بیان کیا کہ)حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ،حدیث نمبر ٣١٨٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ ، أَفَأَصِلُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ صِلِيهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3183

باب:تین دن یا کسی اور معین مدت کے لیے صلح کرنا۔ حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺ نے جب عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے مجھے مکہ میں داخلہ کے لیے مکہ کے لوگوں سے اجازت لینے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اس شرط کے ساتھ( اجازت دی) کہ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں۔ ہتھیار نیام میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں اور ( مکہ کے ) کسی آدمی کو اپنے ساتھ( مدینہ )نہ لے جائیں ( اگرچہ وہ جانا چاہے ) انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان شرائط کو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح "یہ محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صلح نامہ کی تحریر ہے۔" مکہ والوں نے کہا کہ اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو روکتے ہی نہیں بلکہ آپ پر ایمان لاتے، اس لیے تمہیں یوں لکھنا چاہئے، "یہ محمد بن عبداللہ کی صلح نامہ کی تحریر ہے"۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ گواہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ راوی نے کہا کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ یہ نہیں لکھ رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! یہ لفظ تو میں کبھی نہ مٹاؤں گا،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے دکھلاؤ، راوی نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو وہ لفظ دکھایا۔ اور نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا۔ پھر جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لے گئے اور ( تین )دن گزر گئے تو قریش حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اب اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں، چناں چہ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ الْمُصَالَحَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ وَقْتٍ مَعْلُومٍ،حدیث نمبر ٣١٨٤)

بَابُ الْمُصَالَحَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ وَقْتٍ مَعْلُومٍ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَسْتَأْذِنُهُمْ لِيَدْخُلَ مَكَّةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ، وَلَا يَدْعُوَ مِنْهُمْ أَحَدًا. قَالَ : فَأَخَذَ يَكْتُبُ الشَّرْطَ بَيْنَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَكَتَبَ : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَقَالَ : " أَنَا وَاللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَا وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ ". قَالَ : وَكَانَ لَا يَكْتُبُ. قَالَ : فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " امْحُ رَسُولَ اللَّهِ ". فَقَالَ عَلِيٌّ : وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهُ أَبَدًا. قَالَ : " فَأَرِنِيهِ ". قَالَ : فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ. فَلَمَّا دَخَلَ وَمَضَى الْأَيَّامُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا : مُرْ صَاحِبَكَ فَلْيَرْتَحِلْ. فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " نَعَمْ ". ثُمَّ ارْتَحَلَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3184

باب:بغیر تعین مدت کے صلح کرنا۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ہم تم کو اس وقت تک یہاں ٹھہرائیں گے جب تک اللہ تم کو یہاں ٹھہرائے گا۔ باب:مشرکین کی لاشوں کا کنوئیں میں پھینک دینا، اور ان کے معاوضہ میں قیمت نہ لینا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ میں (شروع اسلام کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ سجدہ کی حالت میں تھے اور قریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لایا اور نبی کریم ﷺ کی پیٹھ پر اسے ڈال دیا۔ نبی کریم ﷺ سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے۔ آخر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آئیں اور نبی اکرم ﷺ کی پیٹھ پر سے اس اوجھڑی کو ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلا کہا، نبی کریم ﷺ نے بھی ان کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ۔ اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو برباد کر۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب بدر کی لڑائی میں قتل کر دئیے گئے۔ اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا۔ سوا امیہ یا ابی کے کہ یہ شخص بہت بھاری بھر کم تھا۔ جب اسے صحابہ نے کھینچا تو کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے جوڑ جوڑ الگ ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ طَرْحِ جِيَفِ الْمُشْرِكِينَ فِي الْبِئْرِ، وَلَا يُؤْخَذُ لَهُمْ ثَمَنٌ،حدیث نمبر ٣١٨٥)

بَابُ الْمُوَادَعَةِ مِنْ غَيْرِ وَقْتٍ. وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ ". بَابُ طَرْحِ جِيَفِ الْمُشْرِكِينَ فِي الْبِئْرِ، وَلَا يُؤْخَذُ لَهُمْ ثَمَنٌ. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ، وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ، فَأَخَذَتْ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ - أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ - ". فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ - أَوْ أُبَيٍّ - فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلًا ضَخْمًا، فَلَمَّا جَرُّوهُ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ قَبْلَ أَنْ يُلْقَى فِي الْبِئْرِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3185

باب: دغا بازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بےعمل کے ساتھ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہوگا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٣١٨٦،و حديث نمبر ٣١٨٧)

بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَحَدُهُمَا : " يُنْصَبُ ". وَقَالَ الْآخَرُ : " يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3186/3187

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی دغا بازی کی علامت کے طور پر (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٣١٨٨)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ لِغَدْرَتِهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3188

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا، اب (مکہ سے)ہجرت فرض نہیں رہی۔ البتہ جہاد کی نیت اور جہاد کا حکم باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے نکالا جائے تو فوراً نکل جاؤ اور نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے، اسی دن اس شہر (مکہ) کو حرم قرار دے دیا۔ پس یہ شہر اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہی رہے گا، اور مجھ سے پہلے یہاں کسی کے لیے لڑنا جائز نہیں ہوا۔ اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے جائز کیا گیا۔ پس اب یہ مبارک شہر اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک کے لیے حرام ہے، اس کی حدود میں نہ(کسی درخت کا) کانٹا توڑا جائے، نہ یہاں کے شکار کو ستایا جائے، اور کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے سوا اس شخص کے جو (مالک تک چیز کو پہنچانے کے لیے) اعلان کرے اور نہ یہاں کی ہری گھاس کاٹی جائے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اذخر کی اجازت دے دیجئیے۔ کیوں کہ یہ یہاں کے سُناروں اور گھروں کی چھتوں پر ڈالنے کے کام آتی ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا اذخر کی اجازت ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجزیۃ ،بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٣١٨٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ". وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ ". فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ؛ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ. قَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Jizyate, Hadees No. 3189

Bukhari Shareef : Kitabul Jizyate

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الْجِزْيَةِ

|

•