
کتاب:مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کی کیفیت۔ اللہ کے اس ارشاد کے متعلق:اور وہی ہے جو ابتداءً مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے(الروم ٢٧) الربیع بن خثیم اور حسن بصری نے کہا:ہر چیز اللہ پر آسان ہے اور هَيْنٌ اور هَيِّنٌ کے الفاظ لَيْنٍ اور لَيِّنٍ، کے مثل ہے۔اور مَيْتٍ اور مَيِّتٍ، کی مثل ہے اور ضَيْقٍ اور ضَيِّقٍ کے مثل ہے۔ تو کیا پہلی بار پیدا کرکے ہم تھک گئے ہیں (سورہ ق ١٥)یعنی جب اس نے تم پیدا کیا اور تمہارے مادے کو پیدا کیا تو کیا اس عمل نے ہم کو تھکا دیا تھا؟ لغوب کا معنی ہے تھکاوٹ، اور اطوارا کا معنی ہے احوال مختلفہ، کبھی اس حالت میں کبھی دوسری حالت میں۔عَدَا طَوْرَهُ کا معنی ہے فلاں اپنے مرتبہ سے بڑھ گیا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو! تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجئیے۔ اس پر نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا، اب تم اسے قبول کرلو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک(نامعلوم) شخص آیا اور کہا کہ عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں)کاش، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الْخَلْقِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ }حدیث نمبر ٣١٩٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم! خوش خبری قبول کرو۔انہوں نے دو بار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوش خبری دی ہے تو اب مال بھی دیجئیے۔ پھر یمن کے چند لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔نبی کریم ﷺ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوش خبری قبول کرلو اے یمن والو! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی۔ وہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! خوش خبری ہم نے قبول کی۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس (عالم کی پیدائش) کا حال پوچھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ (ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑا۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے (میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے)اللہ تعالیٰ کی قسم، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا (اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوتی) ۔ اور عیسیٰ نے رقبہ سے روایت کیا، انہوں نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہوجائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے(وہاں تک ساری تفصیل کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا)جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ }.حدیث نمبر ٣١٩١،و حدیث نمبر ٣١٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا۔ اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کی گالی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا ہے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلی بار پیدا کیا، دوبارہ (موت کے بعد) وہ مجھے زندہ نہیں کرسکے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ }حدیث نمبر ٣١٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرچکا تو اپنی اس کتاب میں(لوح محفوظ)میں،جو کہ عرش کے اوپر پر موجود ہے، اس میں لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ }حدیث نمبر ٣١٩٤)
باب:سات زمینوں کے متعلق احادیث۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی برابر زمینیں حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، (سورۃ الطلاق آیت ١٢) اور السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ سے مراد آسمان ہے۔سَمْكَهَا کا معنی ہے اس کی عمارت بنائی۔اور الْحُبُكُ کا معنی اس کی ہمواری اور اس کا حسن ہے۔اور وَأَذِنَتْ کا معنی ہے اس نے سنا اور اطاعت کی، اور وَأَلْقَتْ کا معنی ہے زمین میں جو مردے ہیں اس نے ان کو باہر نکال دیا اور زمین ان سے خالی ہو گئی۔اور وَتَخَلَّتْ کا معنی ہے زمین خالی ہو جائے گی،اور طَحَاهَا کا معنی ہے جس نے زمین کو پھیلایا۔اور السَّاهِرَةُ، کا معنی ہے روئے زمین جس میں جانوروں کا سونا ہے اور ان کا بیدار ہونا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی،انہیں علی بن مبارک نے کہا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کا ایک دوسرے صاحب سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے(جواب میں)فرمایا: ابوسلمہ! کسی کی زمین (کے ناحق لینے) سے بچو، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر ایک بالشت کے برابر بھی کسی نے (زمین کے بارے میں)ظلم کیا تو(قیامت کے دن) ساتھ زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ،حدیث نمبر ٣١٩٥)
سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ،حدیث نمبر ٣١٩٦)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:زمانہ گھوم پھر کر اسی حالت پر آگیا جیسے اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کی تھی۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، چار مہینے اس میں سے حرمت کے ہیں۔ تین تو پے در پے۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور (چوتھا) رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ،حدیث نمبر ٣١٩٧)
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بیان کرتے ہیں کہ ارویٰ سے ان کا ایک زمین کے متعلق تنازع ہوا ارویٰ کا یہ زعم تھا کہ انہوں نے ان کی زمین غصب کرلی ہے ارویٰ نے مروان کے پاس اس مقدمہ کو دائر کیا، سعید بن زید نے کہا:کیا میں اس کا حق دبا سکتا ہوں حالانکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے:جس نے کسی شخص کی ایک بالشت کے برابر زمین بھی ظلماً غصب کرلی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ ابو الزناد نے کہا از ہشام از والد خود انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سعید بن زید نے کہا کہ:میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ،حدیث نمبر ٣١٩٨)
باب:ستاروں کے متعلق۔ اور قتادہ نے کہا:(اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے) اور بے شک ہم نے نزدیک کے آسمان کو چراغوں سے روشن سے مزین فرمایا۔(الملک ٥)ان ستاروں کو تین وجوہ سے پیدا کیا گیا (١)ان کو آسمان کے لیے زینت بنایا (٢)ان کو شیاطین پر مارنے کے لیے بنایا(٣)اور ان راستے پر ہدایت کی علامت بنایا ۔سو جس شخص نے ان امور کے علاوہ کچھ اور کہا اس نے خطا کی، اور اس نے اپنا حصہ ضائع کردیا، اور جس چیز کا اسے علم نہیں ہے اس میں کوشش کی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ:هَشِيم کا معنی متغیر ہے۔اور الْأَبُّ کا معنی وہ چارا ہے جس مویشی کھاتے ہیں۔اور بَرْزَخٌ کا معنی آڑ ہے، اور مجاہد نے کہا:أَلْفَافًا کا معنی ہے گھنے (ایک دوسرے سے ملے ہوئے) اور الْغُلْبُ کا معنی بھی گھنے باغ ہے، اور فِرَاشًا کا معنی بچھونا ہے، جیسے اس آیت میں ہے:اور زمین تمہارے لیے ٹھکانہ ہے(البقرہ ٤٦)اور نَكِدًا کا معنی قلیل ہے۔ باب:اس کا بیان کے سورج اور چاند کی گردش حساب سے ہے۔مجاہد نے کہا جیسے چکی معین حساب سے گردش کرتی ہے، اور دوسروں نے کہا:سورج اور چاند کے حساب سے منازل مقرر ہیں جن وہ تجاوز نہیں کرتے ۔حسان کا معنی حساب کرنے والوں کی جماعت ہے۔جیسے شہاب اور شھبان ۔اور ضُحَاهَا کا معنی سورج کی روشنی ہے۔(سورہ یاسین میں ہے) سورج چاند کو نہیں پا سکتا۔اس کا معنی ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کی روشنی کو نہیں چھپا سکتا۔اور نہ یہ ان کو چاہیے(نیز اسی سورت میں ہے:اور نہ رات) دن پر سبقت کر سکتی ہے ۔اس کا معنی ہے:دن اور رات ہر ایک دوسرے کو طلب کرنے کے لیے جلدی کر رہے ہیں (اور اسی سورت میں:نسلخ کا لفظ ہے) اس معنی ہے:ہم دن اور رات میں ہر ایک کو دوسرے سے نکال لیتے ہیں۔اور وَاهِيَةٌ کا معنی ہے:اس کو پھاڑتی ہے ۔(الحاقہ ١٦)اور اسی سورت میں أَرْجَائِهَا، ہے۔یعنی جب تک آسمان پھٹے گا نہیں ۔فرشتے آسمانوں کے کنارے پر ہوں گے ۔جیسے کہتے ہیں :فلاں کنوئیں کے کناروں پر ہے۔اور أَغْطَشَ اور جَنَّ کا معنی ہے:اندھیرا کر دیا۔تاریک کردیا۔اور حسن بصری نے کہا:كُوِّرَتْ تُكَوَّرُ سے ماخوذ ہے، یعنی کسی چیز کو اس طرح لپیٹ دیا جائے کہ اس کی روشنی چلی جائے۔اور وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ۔کا معنی ہے:جو جمع کرے جیسے چوپایوں کو جمع کرے۔اور اتَّسَقَ کا معنی سیدھا ہوا۔اور بُرُوجًا کا معنی ہے سورج اور چاند کی منزلیں۔اور الْحَرُورُ کا معنی دن میں دھوپ کی گرمی۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:الْحَرُورُ،کا معنی رات کی گرمی۔اور السموم کا معنی ہے دن کی گرمی۔اور يُولِجُ کا معنی ہے لپیٹا ہے داخل کرتا ہے۔اور وَلِيجَةً کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ اس کا علم ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر(دوبارہ آنے)کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔چناں چہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان والشمس تجري لمستقر لها ذلک تقدير العزيز العليم (یٰسٓ:٣٨)(ترجمہ:اور سورج اپنی قرار گاہ تک چلتا رہتا ہے یہ بہت غلبہ والے بہت علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے:) اس میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : فِي النُّجُومِ،حدیث نمبر ٣١٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک (بےنور) ہوجائیں گے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٢٠٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نبی کریم ﷺ کے حوالے سے خبر دیتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اس لیے جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٢٠١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ اس لیے جب تم(ان میں) گرہن دیکھو تو اللہ کی یاد میں لگ جایا کرو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٢٠٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ جس دن سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ (مصلے پر) کھڑے ہوئے۔ الله اکبر کہا اور بڑی دیر تک قرآت کرتے رہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے رکوع کیا، ایک بہت لمبا رکوع، پھر سر اٹھا کر سمع الله لمن حمده کہا اور پہلے کی طرح کھڑے ہوگئے۔ اس قیام میں بھی لمبی قرآت کی۔ اگرچہ پہلی قرآت سے کم تھی اور پھر رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، اگرچہ پہلے رکوع سے یہ کم تھا۔ اس کے بعد سجدہ کیا، ایک لمبا سجدہ، دوسری رکعت میں بھی نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح کیا اور اس کے بعد سلام پھیرا تو سورج صاف ہوچکا تھا۔ اب نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب فرمایا اور سورج اور چاند گرہن کے متعلق بتلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے (ایک بڑی) نشانی ہیں اور ان میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، اس لیے جب تم(ان میں) گرہن دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپک جاؤ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٢٠٣)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے(ایک بڑی) نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٢٠٤)
باب:اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق جو کچھ وارد ہوا ہے:اور وہی ہے جو اپنی رحمت کی بارش سے پہلے خوش خبری دیتی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے۔(الاعراف ٥٧)قَاصِفًا کا معنی جو ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ تباہ دے۔(جیسا کہ ارشاد ہے :پھر وہ تم پر ہوا سخت طوفان بھیج دے۔بنی اسرائیل ٦٩)لَوَاقِحَ کا معنی ہے بادلوں سے بوجھل ہوائیں ۔(جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ہم نے بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی ہوائیں بھیجی۔الحجر ٢٢)إِعْصَارٌ کا معنی ہے ہلاک کرنے والی گرم ہوا جو زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف چلتی ہے جیسے کسی ستون میں آگ ہو(جیسا کہ ارشاد ہے۔تو اسے گرم کا ہوا کا ایک بگولہ پہنچا جس میں آگ تھی ۔البقرہ ٢٦٦)صِرٌّ کا معنی شدید سردی ۔(جیسا کہ ارشاد ہے :ایسی ہوا جس میں جلا دینے والی سخت سردی ہو۔آل عمران ١١٧) نُشُرًا کا معنی ہے متفرقہ ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بالصبا باد صبا(مشرقی ہوا)کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد دبور(مغربی ہوا) سے ہلاک کردی گئی تھی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ : وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ نُشُرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ،حدیث نمبر ٣٢٠٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ بادل کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپ کبھی آگے آتے، کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر تشریف لاتے، کبھی باہر آجاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس کے متعلق آپ سے پوچھا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ میں نہیں جانتا شاید یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا، پھر جب انہوں نے اس عذاب کو(بادل کا عذاب)اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تھا۔آخر آیت تک (کہ ان کے لیے رحمت کا بادل آیا ہے، حالانکہ وہ عذاب کا بادل تھا)۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ : وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ نُشُرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ،حدیث نمبر ٣٢٠٦)
باب:ملائکہ صلوات اللہ علیہم کا تذکرہ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بے شک حضرت جبریل علیہ السلام ملائکہ میں سے یہود کے دشمن ہیں۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کیا کہ قرآن مجید میں :لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ہے اس سے مراد ملائکہ ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا، پھر نبی اکرم ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان لیٹے ہوئے ایک تیسرے آدمی کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی۔ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی یعنی براق، میں اس پر سوار ہو کر جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ چلا۔ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو پوچھا گیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ محمد ( ﷺ ) پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر جواب آیا کہ اچھی کشادہ جگہ آنے والے کیا ہی مبارک ہیں، پھر میں آدم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، آؤ پیارے بیٹے اور اچھے نبی۔ اس کے بعد ہم دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی آئے ہیں؟ کہا کہ محمد ﷺ ، سوال ہوا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں۔ اب ادھر سے جواب آیا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ اس کے بعد میں عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) سے ملا، ان حضرات نے بھی خوش آمدید، مرحبا کہا اپنے بھائی اور نبی کو۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ جواب ملا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ بھی کوئی ہے؟ کہا کہ محمد ﷺ ، سوال ہوا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں، اب آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے آنے والے کیا ہی صالح ہیں، یہاں یوسف (علیہ السلام) سے میں ملا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو میرے بھائی اور نبی، یہاں سے ہم چوتھے آسمان پر آئے اس پر بھی یہی سوال ہوا، کون صاحب، جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ اور کون صاحب ہیں؟ کہا کہ محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، جواب دیا کہ ہاں، پھر آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے کیا ہی اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں ادریس (علیہ السلام) سے ملا اور سلام کیا، انہوں نے فرمایا، مرحبا، بھائی اور نبی۔ یہاں سے ہم پانچویں آسمان پر آئے۔ یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ﷺ ، پوچھا گیا، انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں، آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں۔ آنے والے کیا ہی اچھے ہیں۔ یہاں ہم ہارون (علیہ السلام) سے ملے اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، مبارک میرے بھائی اور نبی، تم اچھی کشادہ جگہ آئے، یہاں سے ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی سوال ہوا، کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ اور بھی کوئی ہیں؟ کہا کہ ہاں محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلایا گیا تھا کہا ہاں، کہا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرے بھائی اور نبی اچھی کشادہ جگہ آئے، جب میں وہاں سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا بزرگوار آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ نوجوان جسے میرے بعد نبوت دی گئی،اس کی امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے، میری امت کے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا کہ کوئی صاحب آپ کے ساتھ بھی ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ﷺ پوچھا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ مرحبا، اچھے آنے والے۔ یہاں میں ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا میرے بیٹے اور نبی، مبارک، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو، اس کے بعد مجھے بیت المعمور دکھایا گیا۔ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتلایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ستر ہزار فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور ایک مرتبہ پڑھ کر جو اس سے نکل جاتا ہے تو پھر کبھی داخل نہیں ہوتا۔ اور مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں، اس کے بعد مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں۔ میں جب واپس ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا لے کر آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ پچاس نمازیں مجھ پر (اور میری امت) پر فرض کی گئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انسانوں کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، بنی اسرائیل کا مجھے برا تجربہ ہوچکا ہے۔ تمہاری امت بھی اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی، اس لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دو، اور کچھ تخفیف کی درخواست کرو، میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نمازیں چالیس وقت کی کردیں۔ پھر بھی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بات (یعنی تخفیف کرانے) پر مصر رہے۔ اس مرتبہ تیس وقت کی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے وہی فرمایا اور اس مرتبہ بارگاہ رب العزت میں میری درخواست کی پیشی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس کردیا۔ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو اب بھی انہوں نے کم کرانے کے لیے اپنا اصرار جاری رکھا۔ اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی کردیں۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) سے ملا، تو انہوں نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ کردی ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے کم کرانے کا اصرار کیا۔ میں نے کہا کہ اب تو میں اللہ کے سپرد کرچکا۔ پھر آواز آئی۔ میں نے اپنا فریضہ(پانچ نمازوں کا)جاری کردیا۔ اپنے بندوں پر تخفیف کرچکا اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں۔ اور ہمام نے کہا، ان سے قتادہ نے کہا، ان سے حسن نے، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے بیت المعمور کے بارے میں الگ روایت کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٠٧)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا:اور آپ صادق و مصدوق ہیں کہ تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک(نطفہ کی صورت)میں کی جاتی ہے اتنی ہی دنوں تک پھر ایک بستہ خون کے صورت میں اختیار کئے رہتا ہے اور پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ایک ٹکڑا گوشت رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں(کے لکھنے) کا حکم دیتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کا رزق، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک، لکھ لے۔ اب اس نطفہ میں روح ڈالی جاتی ہے (یاد رکھ)ایک شخص (زندگی بھر نیک)عمل کرتا رہتا ہے اور جب جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور دوزخ والوں کے عمل شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص(زندگی بھر برے)کام کرتا رہتا ہے اور جب دوزخ اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور جنت والوں کے کام شروع کردیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔اور اس روایت کی متابعت ابوعاصم نے ابن جریج سے کی ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہیں نافع نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو، چناں چہ جبرئیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔پھر جبرئیل (علیہ السلام) تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چناں چہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین والے بھی اس کو مقبول سمجھتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٠٩)
نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: فرشتے عنان میں اترتے ہیں۔ اور عنان سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہوچکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کردیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہوجاتے ہیں اور سب سے پہلے آنے والے اور پھر اس کے بعد آنے والوں کو نمبر وار لکھتے جاتے ہیں۔ پھر جب امام (خطبے کے لیے منبر پر)بیٹھ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے رجسٹر بند کرلیتے ہیں اور ذکر سننے لگ جاتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١١)
حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس وقت یہاں شعر پڑھا کرتا تھا جب آپ سے بہتر شخص (نبی کریم ﷺ ) یہاں تشریف رکھتے تھے۔ پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہو کیا رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے تم نے نہیں سنا تھا کہ اے حسان!(کفار مکہ کو) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ حسان کی مدد کر۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں بے شک (میں نے سنا تھا) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا مشرکین مکہ کی تم بھی ہجو کرو یا (یہ فرمایا کہ) ان کی ہجو کا جواب دو، جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے وہ غبار میری نظروں کے سامنے ہے۔ موسیٰ نے روایت میں یوں زیادتی کی کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے (ساتھ آنے والے) سوار فرشتوں کی وجہ سے۔ جو غبار خاندان بنو غنم کی گلی سے اٹھا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ وحی آپ کے پاس کس طرح آتی ہے؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کئی طرح سے آتی ہے۔ کبھی فرشتہ کے ذریعہ آتی ہے تو وہ گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح نازل ہوتی ہے۔ جب وحی ختم ہوجاتی ہے تو جو کچھ فرشتے نے نازل کیا ہوتا ہے، میں اسے پوری طرح یاد کرچکا ہوتا ہوں۔ وحی اترنے کی یہ صورت میرے لیے بہت دشوار ہوتی ہے۔ کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آجاتا ہے وہ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور جو کچھ کہہ جاتا ہے میں اسے پوری طرح یاد کرلیتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا،نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ کی راہ میں جو شخص کسی چیز کا بھی جوڑا دے، تو جنت کے چوکیدار فرشتے اسے بلائیں گے کہ فلاں اس دروازے سے اندر آ جا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ تو وہ شخص ہوگا جسے کوئی نقصان نہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہوگا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرئیل (علیہ السلام) آئے ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جواب میں کہا، کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ وہ چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں میں نہیں دیکھ سکتی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی مراد نبی کریم ﷺ سے تھی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے ایک مرتبہ فرمایا: ہم سے ملاقات کے لیے جتنی مرتبہ آپ آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ بیان کیا کہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:وما نتنزل إلا بأمر ربک له ما بين أيدينا وما خلفنا: اور ہم(فرشتے) صرف آپ کے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اسی کی ملکیت ہے جو ہمارے آگے اور جو ہمارے پیچھے ہیں (مریم ٦٤) (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جبرئیل (علیہ السلام) نے قرآن پاک مجھے (عرب کے)ایک ہی محاورے کے مطابق پڑھ کر سکھایا تھا، لیکن میں اس میں برابر اضافہ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا، تاآنکہ عرب کے سات محاوروں پر اس کا نزول ہوا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت رمضان شریف کے مہینے میں اور بڑھ جاتی، جب جبرئیل (علیہ السلام) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے ہر روز آنے لگتے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کے لیے آتے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ خصوصاً اس دور میں جب جبرئیل (علیہ السلام) روزانہ آپ سے ملاقات کے لیے آتے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیرات و برکات میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے اور عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے، ان سے معمر نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح بیان کیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نقل کیا نبی کریم ﷺ سے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٢٠)
لیث بن سعد نے بیان کیا کہ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللہ علیہ ) نے ایک دن عصر کی نماز کچھ دیر کر کے پڑھائی۔ اس پر عروہ بن زبیر (رحمۃ اللہ علیہ ) نے ان سے کہا۔ لیکن جبرئیل (علیہ السلام)(نماز کا طریقہ نبی کریم ﷺ کو سکھانے کے لیے)نازل ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے آگے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، عروہ! آپ کو معلوم بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ عروہ نے کہا کہ (اور سن لیجیے )میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور انہوں نے مجھے نماز پڑھائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر (دوسرے وقت کی)ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، اپنی انگلیوں پر آپ نے پانچوں نمازوں کو گن کر بتایا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٢١)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرئیل (علیہ السلام) کہہ گئے ہیں کہ آپ کی امت کا جو آدمی اس حالت میں مرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا ہوگا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ خواہ اس نے اپنی زندگی میں زنا کیا ہو، خواہ چوری کی ہو، اور خواہ زنا اور چوری کرتا ہو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے زمین پر آتے جاتے رہتے ہیں، کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے اور یہ سب فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو تمہارے یہاں رات میں رہے۔ اللہ کی بارگاہ میں جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے .... حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے .... کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا، وہ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ (فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے۔ اور اسی طرح جب ہم ان کے یہاں گئے تھے، جب بھی وہ (عصر) کی نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ،حدیث نمبر ٣٢٢٣)
باب:جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں پھر ان میں سے ایک کی آمین دوسرے کے آمین کے موافق ہو جاتی ہے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ صحیح بخاری کتاب: مخلوقات کی ابتداء کا بیان باب: باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے ایک تکیہ بھرا، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ وہ ایسا ہوگیا جیسے نقشی تکیہ ہوتا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ ! ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا، یہ تو میں نے آپ علیہ السلام کے لیے بنایا ہے تاکہ آپ اس پر ٹیک لگا سکیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہوتی ہے اور یہ کہ جو شخص بھی تصویر بنائے گا، قیامت کے دن اسے اس پر عذاب دیا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ جس کی مورت تو نے بنائی ہے ، اب اسے زندہ بھی کر کے دکھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٢٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتے ہوں اور اس میں بھی(داخل) نہیں(ہوتے ہیں فرشتے) جس میں جاندار کی تصویر ہو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٢٥)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور (راوی حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبیداللہ خولانی بھی روایت حدیث میں شریک ہیں،جو کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی پرورش میں تھے۔ ان دونوں سے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں(جاندار کی)تصویر ہو۔بسر نے بیان کیا کہ پھر حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا، کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں(جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ حدیث نمبر ٣٢٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آنے کا وعدہ کیا تھا (لیکن نہیں آئے)پھر جب آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے وجہ پوچھی، انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا موجود ہو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب (نماز میں) امام کہے کہ سمع الله لمن حمده تو تم کہا کرو اللهم ربنا لک الحمد کیوں کہ جس کا ذکر ملائکہ کے ساتھ موافق ہوجاتا ہے اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص نماز کی وجہ سے جب تک کہیں ٹھہرا رہے گا اس کا یہ سارا وقت نماز میں شمار ہوگا اور ملائکہ اس کے لیے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اور اس پر اپنی رحمت نازل کر (اس وقت تک)جب تک وہ نماز سے فارغ ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائے یا بات نہ کرے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٢٩)
صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد (حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سورة الاحزاب کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے: ونادوا يا مالک ۔اور وہ(داروغہ جہنم کو) پکاریں گے اے مالک! اور سفیان نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں یوں ہے: ونادوا يا مال.۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٠)
عروہ نے بیان کیا کہ ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش)کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے(طائف کے سردار)کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام کو قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کردیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرئیل (علیہ السلام) اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ﷺ ! پھر انہوں نے بھی وہی بات کہی، آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں(جن سے وہ چکنا چور ہوجائیں) نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣١)
ابوعوانہ نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے (سورۃ النجم میں ارشاد:فكان قاب قوسين أو أدنى،فأوحى إلى عبده ما أوحى،(پھر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رب سے دو کمانوں کے مقدار نزدیک ہوی۔تو اللہ رب العزت نے اپنے عبد مکرم کی طرف وحی فرمائی جو وحی فرمائی ۔کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو (اپنی اصلی صورت میں) دیکھا، تو ان کے چھ سو بازو تھے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٢)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(اللہ تعالیٰ کے ارشاد)لقد رأى من آيات ربه الکبرى( بے شک انہوں نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں ضرور دیکھی) ۔کے متعلق بتلایا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک سبز رنگ کا بچھونا دیکھا تھا جو آسمان میں سارے کناروں کو گھیرے ہوئے تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ سیدنا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل (علیہ السلام) کو (معراج کی رات میں) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٤)
مسروق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا (ان کے اس کہنے پر کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں تھا) پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ثم دنا فتدلى، فکان قاب قوسين أو أدنى۔(یعنی پھر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رب سے دو کمانوں کے مقدار نزدیک ہوئے) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ آیت تو جبرئیل (علیہ السلام) کے بارے میں ہے، وہ انسانی شکل میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اس شکل میں آئے جو اصلی تھی اور انہوں نے تمام آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میں نے آج رات (خواب میں) دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے۔ ان دونوں نے مجھے بتایا کہ وہ جو آگ جلا رہا ہے۔ وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے۔ میں جبرئیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کردیا اور مرد اس پر غصہ ہو کر سو گیا، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ اس روایت کی متابعت، ابوحمزہ، ابن داود اور ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ (پہلے غار حراء میں جو جبرئیل (علیہ السلام) مجھ کو سورة اقراء دے کر گئے تھے اس کے بعد)مجھ پر وحی کا نزول(تین سال) بند رہا۔ ایک بار میں کہیں جا رہا تھا کہ میں نے آسمان میں سے ایک آواز سنی اور نظر آسمان کی طرف اٹھائی، میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا (یعنی جبرئیل علیہ السلام)آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں انہیں دیکھ کر اتنا خوف زدہ ہو گیا کہ زمین پر گرپڑا۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو، مجھے کچھ اوڑھا دو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ يا أيها المدثر۔اے چادر اوڑھنے والے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد فاهجر تک۔اور بتوں کو چھوڑیں رکھیے ۔ابوسلمہ نے کہا کہ آیت میں الرجز سے بت مراد ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:شب معراج میں، میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تھا، گندمی رنگ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی دیکھا تھا۔ درمیانہ قد، میانہ جسم، رنگ سرخی اور سفیدی لیے ہوئے اور سر کے بال سیدھے تھے (یعنی گھونگھریالے نہیں تھے) اور میں نے جہنم کے داروغہ کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی، منجملہ ان آیات کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دکھائی تھیں (سورۃ السجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ) پس (اے نبی! )آپ ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں،یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے ملنے میں، حضرت انس اور ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے نبی کریم ﷺ سے یوں بیان کیا کہ جب دجال نکلے گا تو فرشتے دجال سے مدینہ کی حفاظت کریں گے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ،حدیث نمبر ٣٢٣٩)
باب:جنت کی صفت میں احادیث اور اس کے مخلوق ہونے کا بیان۔ ابو العالیہ نے کہا کہ جنت کو حیض اور پیشاب سے اور تھوک سے پاک رکھا گیا ہے۔ كُلَّمَا رُزِقُوا کا معنی ہے:انہیں (یعنی جنتیوں کو) ایک پھل دی جائے گی پھر دوسری چیز دی جائے گی، تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے ۔(البقرہ ٢٥) اور ان کو(یعنی جنتیوں کو) صورت میں ایک جیسے پھل دیے جائیں گے ۔(البقرہ ٢٥)قُطُوفُهَا کا معنی ہے:وہ جس طرح چاہیں جنت کے پھلوں کو چن لیں، دَانِيَة کا معنی ہے :قریب ۔الْأَرَائِكُ کا معنی ہے:ٹیک لگانے کی جگہ ۔حسن بصری نے کہا کہ :النَّضْرَةُ کا معنی ہے:چہرہ کی ترو و تازگی ۔السُّرُورُ کا معنی ہے ۔دل میں خوشی۔اور مجاہد نے کہا:سَلْسَبِيلًا کا معنی ہے:ایسا چشمہ جو بہت تیزی سے جاری ہوگا۔غَوْلٌ کا معنی ہے:پیٹ کا درد ۔يُنْزَفُونَ کا معنی ہے:ان کی عقلیں زائل نہیں ہوں گی ۔اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:دِهَاقًا کا معنی ہے:بھرے ہوئے ۔كَوَاعِبَ کا معنی ہے: نَوَاهِدَ، یعنی وہ جوان لڑکیاں جس کے پستان ابھرے ہوئے ہوں گے ۔الرَّحِيقُ کا معنی ہے:انگور کی شراب ۔التَّسْنِيمُ کا معنی ہے:اہل جنت کی شراب کے اوپر جنت کے چشمہ کا پانی ہوگا۔خِتَامُهُ کا معنی ہے:وہ مشک کی مٹی مہر زدہ ہوگی ۔نَضَّاخَتَانِ کا معنی ہے:بہنے والے ۔مَوْضُونَةٌ کا معنی ہے:زر و جواہر سے بنی ہوئی اور اسی سے وَضِينُ النَّاقَةِ ماخوذ ہے۔یعنی اونٹنی کی بنی ہوئی جھول۔الْكُوبُ کا معنی ہے:جس کا نہ کان ہو نہ کنڈا ۔وَالْأَبَارِيقُ کا معنی ہے:جس کا کان اور کنڈا ہو ۔عُرُبًا ثقیل ہے ۔اس کا واحد عَرُوبٌ ہے۔جیسے صَبُورٍ اور صُبُرٍ ہے ۔جیسے اہل مکہ عروب کو الْعَرِبَةَ کہتے ہیں ۔اور اہل مدینہ الْغَنِجَةَ کہتے ہیں ۔اور اہل عراق الشَّكِلَةَ کہتے ہیں ۔اور مجاہد نے کہا روح کا معنی جنت اور فراخی ہے ۔اور رحیان کا معنی رزق ہے۔الْمَنْضُودُ کے الْمَوْزُ معنی کے لیے ہے۔الْمَخضُودُ کا معنی ہے:جو پھلوں کے بوجھ سے جھکا ہوا ہو یا وہ بیر کا درخت جس میں کانٹا نہ ہو ۔وَالْعُرُبُ : کا معنی ہے وہ عورتیں جو اپنی شوہر کو محبوب ہو۔مَسْكُوبٌ کا معنی ہے:بہتا ہوا پانی۔فُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ کا معنی ہے:اوپر تلے بچھے ہوئے بستر۔لَغْوًا کا معنی ہے:بے فائدہ اور گناہ کا معنی ہے۔أَفْنَانٌ کا معنی ہے:شاخیں ۔جَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ کا معنی ہے:جنتوں کے پھل جنتیوں کے قریب ہوں گے ۔خواہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں ان کے لیے پھلوں کو توڑنا آسان ہوگا ۔مُدْهَامَّتَانِ کا معنی ہے:گہرے سبز ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مرتا ہے تو (روزانہ) صبح و شام دونوں وقت اس کا ٹھکانا (جہاں وہ آخرت میں رہے گا) اسے دکھلایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت میں اگر وہ دوزخی ہے تو دوزخ میں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنتیوں میں زیادتی غریبوں کی نظر آئی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں کثرت عورتوں کی نظر آئی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٢)
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اشعری نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (جنتیوں کا)خیمہ کیا ہے، ایک موتی ہے خولدار جس کی بلندی اوپر کو تیس میل تک ہے۔ اس کے ہر کنارے پر مومن کی ایک بیوی ہوگی جسے دوسرے نہ دیکھ سکیں گے۔ابوعبدالصمد اور حارث بن عبید نے ابوعمران سے (بجائے تیس میل کے) ساٹھ میل بیان کیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ :لو فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين :تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے، ( بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں کا چاند روشن ہوتا ہے۔ نہ اس میں تھوکیں گے نہ ان کی ناک سے کوئی آلائش آئے گی اور نہ پیشاب، پاخانہ کریں گے۔ ان کے برتن سونے کے ہوں گے۔ کنگھے سونے چاندی کے ہوں گے۔ انگیٹھیوں کا ایندھن عود کا ہوگا۔ پسینہ مشک جیسا خوشبودار ہوگا اور ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی۔ جن کا حسن ایسا ہوگا کہ پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا۔ نہ جنتیوں میں آپس میں کوئی اختلاف ہوگا اور نہ بغض و عناد، ان کے دل ایک ہوں گے اور وہ صبح و شام اللہ پاک کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہا کریں گے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں کا چاند ہوتا ہے۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہوگا ان کے چہرے سب سے زیادہ چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہوں گے کہ کوئی بھی اختلاف ان میں آپس میں نہ ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے بغض و حسد ہوگا۔ ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی خوبصورتی ایسی ہوگی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا۔ وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے نہ ان کو کوئی بیماری ہوگی، نہ ان کی ناک میں کوئی آلائش آئے گی اور نہ تھوک آئے گا۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے اور کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن ألوة کا ہوگا، ابوالیمان نے بیان کیا کہ ألوة سے عود ہندی مراد ہے۔ اور ان کا پسینہ مشک جیسا ہوگا۔ مجاہد نے کہا کہ إبكار سے مراد اول فجر ہے۔ اور العشي سے مراد سورج کا اتنا ڈھل جانا کہ وہ غروب ہوتا نظر آنے لگے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٦)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا (نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ)سات لاکھ کی ایک جماعت جنت میں ایک ہی وقت میں داخل ہوں گی اور ان سب کے چہرے ایسے چمکیں گے جیسے چودہویں کا چاند چمکتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں سندس (ایک خاص قسم کا ریشم) کا ایک جبہ تحفہ میں پیش کیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ (مردوں کے لیے)ریشم کے استعمال سے پہلے ہی منع فرما چکے تھے۔ لوگوں نے اس جبے کو بہت ہی پسند کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٨)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا پیش کیا گیا اس کی خوبصورتی اور نزاکت نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر اور افضل ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٤٩)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چل سکتا ہے اور پھر بھی اس کو طے نہ کرسکے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چل سکے گا اور اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: وظل ممدود:اور لمبا سایہ۔ اور کسی شخص کے لیے ایک کمان کے برابر جنت میں جگہ اس پوری دنیا سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٢،و حدیث نمبر ٣٢٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہوگا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے، سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہوگا اور نہ حسد، ہر جنتی کی دو حورعین بیویاں ہوں گی، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جاسکے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے (صاحبزادے) حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں اسے ایک دودھ پلانے والی کے حوالہ کردیا گیا ہے(جو ان کو دودھ پلاتی ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جنتی لوگ اپنے سے بلند کمرے والوں کو اوپر اسی طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ستارے کو جو صبح کے وقت رہ گیا ہو، آسمان کے کنارے پورب یا پچھم میں دیکھتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے سے افضل ہوگا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ تو انبیاء کے محل ہوں گے جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہ پا سکے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انبیاء کی تصدیق کی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٦)
باب:جنت کے دروازوں کی صفت۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :جس نے اللہ کی راہ میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا۔ اور اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ جس سے داخل ہونے والے صرف روزے دار ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر ٣٢٥٧)
باب:دوزخ کی صفت کا بیان۔اور یہ کہ وہ پیدا کی جاچکی ہے۔ غَسَّاقًا کا معنی ہے:پیپ اور خون کہا جاتا ہے۔غَسَقَتْ عَيْنُهُ،یعنی اس کی آنکھ بہہ رہی ہے۔يَغْسِقُ الْجُرْحُ یعنی اس کا زخم بہہ رہا ہے۔الْغَسَاقَ اور الْغَسَقَ کا معنی واحد ہے۔غِسْلِينُ کا لفظ فعلین کے وزن پر ہے اس کا معنی ہے :دھون ۔کسی چیز کو دھونے سے جو پانی نکلتا ہے خواہ انسان کے زخم کو دھونے سے پانی نکلے یا اونٹ کے زخم کو دھونے سے پانی نکلے۔اور عکرمہ نے فرمایا کہ :حَصَبُ جَهَنَّمَ کا معنی حبشی زبان میں لکڑیاں ہے دوسروں نے کہا:حَاصِبًا کا معنی ہے تند و تیز ہوا اور آندھی ہے۔الْحَاصِبُ اس چیز کو کہتے ہیں جس کو ہوا اڑا کر لائے۔اور اسی سےحَصَبُ جَهَنَّمَ بھی ماخوذ ہے۔یعنی وہ ایندھن جس کو جہنم میں ڈالا جائے گا یعنی اس کو جہنم میں جھونکا جائے گا اور وہ اس کے ایندھن بنیں گے حَصَبَ فِي الْأَرْضِ کا معنی ہے:زمین میں دھنس گیا۔اور حصب کا لفظ:حَصْبَاءِ الْحِجَارَةِ سے ماخوذ ہے۔اس کا معنی ہے:کنکریاں۔صَدِيدٌ کا معنی ہے:پیپ اور خون۔خَبَتْ کا معنی ہے:بجھ گئی۔تُورُونَ کا معنی ہے:تم جلاتے ہو۔أَوْرَيْتُ کا معنی ہے:میں نے جلایا۔لِلْمُقْوِينَ کا معنی ہے:مسافرین۔وَالْقِيُّ کا معنی ہے ویران زمین ۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے:صِرَاطُ الْجَحِيمِ کی تفسیر میں فرمایا:دوزخ کا درمیانی حصہ۔لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ کا معنی ہے:دوزخیوں کے طعام میں کھولتا ہوا پانی ملایا جائے گا۔زَفِيرٌ اور شَهِيقٌ کا معنی ہے:سخت آواز سے رونا اور آہستہ آواز سے رونا۔وِرْدًا کا معنی ہے پیاسے۔غَيًّا کا معنی ہے :نقصان۔اور مجاہد نے کہا کہ :يُسْجَرُونَ کا معنی ہے:وہ آگ کا ایندھن بنیں گے ۔اور نُحَاسٌ کا معنی ہے:پگھلا ہوا پیتل ۔جو ان کے سروں کے اوپر انڈیلا جائے گا۔ذُوقُوا کا معنی ہے:جھیلو اور برتو اس مراد منھ سے چکھنا نہیں ہے۔مَارِجٌ کا معنی ہے:خالص آگ عرب کہتے ہیں:مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ۔بادشاہ نے اپنی رعایا کو چھوڑ دیا۔تو وہ ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں ۔مَرِيجٍ کا معنی ہے مشتبہ ۔عرب کہتے ہیں:مَرِجَ أَمْرُ النَّاسِ،لوگوں کا معاملہ مختلط ہو گیا۔مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ یہ مَرَجْتَ دَابَّتَكَ سے ماخوذ ہے ۔یعنی تونے اپنا جانور چھوڑ دیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے (جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان دینے اٹھے تو)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وقت ذرا ٹھنڈا ہو لینے دو، پھر دوبارہ(جب وہ اذان کے لیے اٹھے تو پھر)نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہی حکم دیا کہ وقت اور ٹھنڈا ہو لینے دو، یہاں تک کہ ٹیلوں کے نیچے سے سایہ ڈھل گیا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نماز ٹھنڈے اوقات میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ اے میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو، اس کا یہی سبب ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٠)
ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں مکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہاں مجھے بخار آنے لگا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس بخار کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کر، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی بھاپ کے اثر سے آتا ہے، اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرلیا کرو یا یہ فرمایا کہ زمزم کے پانی سے۔ یہ شک ہمام راوی کو ہوا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦١)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ بخار جہنم کے جوش مارنے کے اثر سے ہوتا ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرلیا کرو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرلیا کرو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرلیا کرو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری(دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کے مقابلے میں (اپنی گرمی اور ہلاکت خیزی میں)سترواں حصہ ہے۔ کسی نے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! (کفار اور گنہگاروں کے عذاب کے لیے) یہ ہماری دنیا کی آگ بھی بہت تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:دنیا کی آگ کے مقابلے میں جہنم کی آگ انہتر گنا بڑھ کر ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٥)
صفوان بن یعلیٰ نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر اس طرح آیت پڑھتے سنا ونادوا يا مالک(اور دوزخی لوگ پکاریں گے،اے مالک! ) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٦)
ابو وائل نے بیان کیا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ)کے یہاں جا کر ان سے گفتگو کرو تو اچھا ہے (تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں)انہوں نے کہا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر(تمہارے سامنے ہی)بات کرتا ہوں، میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح پر کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم ﷺ سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے؟حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم ﷺ کو میں نے یہ فرماتے سنا تھا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہوجائیں گے اور اس سے کہیں گے، اے فلاں! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا۔ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ،حدیث نمبر ٣٢٦٧)
باب :ابلیس اور اس کے لشکر کی صفت۔ اور مجاہد ہے کہا:يُقْذَفُونَ کا معنی ہے:ان کو پھینکا جانا ہے۔اور دُحُورًا کا معنی ہے:وہ دھتکارے ہوئے ہیں۔اور وَاصِبٌ کا معنی دائم ہے:اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ:مَدْحُورًا کا معنی ہے:دھتکارے ہوئے۔اور کہا کہ :مَرِيدًا کا معنی ہے سرکش۔اور کا بَتَّكَهُ کا معنی ہے:اس کو کاٹ دیا۔اور وَاسْتَفْزِزْ کا معنی ہے:اپنے گھوڑوں کا آہستہ چلاؤ، اور خیل کا معنی ہے سواروں کی جماعت ۔اور رجل اور رجالہ کا معنی ہے۔پیدل چلنے والے ۔اس کا واحد راجل ہے۔جیسے صحب کا واحد صاحب ہے۔اور نجر کا واحد نأجر ہے۔اور لَأَحْتَنِكَنَّ کا معنی ہے:میں اس کو ضرور جڑ سے اکھاڑ دوں گا ۔اور قَرِينٌ کا معنی ہے شیطان۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ پر (جب نبی اکرم ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تھے) جادو ہوا تھا۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے ہشام نے لکھا تھا، انہوں نے اپنے والد سے سنا تھا اور یاد رکھا تھا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ پر جادو کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ فلاں کام میں کر رہا ہوں حالاں کہ آپ اسے نہ کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے دعا کی پھر دعا کی کہ اللہ پاک اس جادو کا اثر دفع کرے۔ اس کے بعد آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتادی ہے جس میں میری شفا مقدر ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک تو میرے سر کی طرف بیٹھ گئے اور دوسرا پاؤں کی طرف۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا، انہیں بیماری کیا ہے؟ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا، جادو ان پر کس نے کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کہ وہ جادو (ٹونا) رکھا کس چیز میں ہے؟ کہا کہ کنگھے میں، کتان میں اور کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا، اور یہ چیزیں ہیں کہاں؟ کہا بئر دوران میں۔ پھر نبی کریم ﷺ وہاں تشریف لے گئے اور واپس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا، وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطان کی کھوپڑی۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، وہ ٹونا آپ نے نکلوایا بھی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا دی اور میں نے اسے اس خیال سے نہیں نکلوایا کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں کوئی جھگڑا کھڑا نہ ہو جائے۔اس کے بعد وہ کنواں بند کردیا گیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب کوئی تم میں سے سویا ہوا ہوتا ہے، تو شیطان اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے خوب اچھی طرح سے اور ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ لیکن اگر وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر شروع کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز فجر پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور صبح کو خوش مزاج خوش دل رہتا ہے۔ ورنہ بدمزاج سست رہ کر وہ دن گزارتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٦٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا، جو رات بھر دن چڑھے تک پڑا سوتا رہا ہو،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایسا شخص ہے جس کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس آئے اور یہ دعا پڑھے:بسم الله اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا:اللہ کے نام سے(میں عمل زوجیت کرتا ہوں)، اے اللہ! ہم کو شیطان سے دور رکھنا پھر اس کو اولاد عطا کی جائے ۔ تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکل آئے تو نماز نہ پڑھو جب تک وہ پوری طرح ظاہر نہ ہوجائے اور جب غروب ہونے لگے تب بھی اس وقت تک کے لیے نماز چھوڑ دو جب تک بالکل غروب نہ ہوجائے۔ اور تم نماز سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نہ پڑھو،اس لیے کہ سورج شیطان کے سر کے یا شیطانوں کے سر کے دونوں کونوں کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔ عبدہ نے کہا میں نہیں جانتا ہشام نے شیطان کا سر کہا یا شیطانوں کا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٢،و حدیث نمبر ٣٢٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی شخص تمہارے سامنے سے گزرے تو اسے گزرنے سے روکو، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکو اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑو وہ شیطان ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت پر مجھے مقرر کیا، ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ لپ بھربھر کرلینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی، اس (چور) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان مقرر ہوجائے گا اور شیطان تمہارے قریب صبح تک نہ آسکے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:بات تو اس نے سچی کہی ہے اگرچہ وہ خود جھوٹا ہے، وہ شیطان تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی، فلاں چیز کس نے پیدا کی؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے، شیطانی خیال کو چھوڑ دے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٧)
سعید بن جبیر نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے پوچھا (نوف بکالی کہتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جو حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے تھے وہ دوسرے موسیٰ تھے)تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رفیق سفر (حضرت یوشع بن نون) سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لا، اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے جب ہم نے چٹان پر پڑاؤ ڈالا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا (اور اپنے ساتھ نہ لاسکا) اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان نے غافل رکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت تک کوئی تھکن معلوم نہیں کی جب تک اس حد سے نہ گزر لیے، جہاں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ ہاں! فتنہ اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٧٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس(گھر میں) روک لو،اس لیے کہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو(چلیں پھریں)پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو(اور اگر ڈھکن نہ ہو)تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٠)
حضرت امام زین العابدین علی بن امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ان سے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے(مسجد میں)آئی، میں نبی اکرم ﷺ سے باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو نبی اکرم ﷺ بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ حضرت ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مکان حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان ہی میں تھا۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ(حضرت اسید بن حضیر، حضرت عبادہ بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) گزرے۔ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا، ذرا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا، سبحان اللہ: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! (کیا ہم بھی آپ کے بارے میں کوئی شبہ کرسکتے ہیں)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ نہ ڈال دے، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے(لفظ سوء کی جگہ)لفظ شيئا فرمایا، معنی ایک ہی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨١)
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور(قریب ہی)دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہوگیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ فرمایا: أعوذ بالله من الشيطان،میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، اس نے کہا، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور یہ دعا پڑھ لے۔ اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتني. اے اللہ! مجھے شیطان سے دور رکھ اور جو میری اولاد پیدا ہو، اسے بھی شیطان سے دو رکھ۔ پھر اس صحبت سے اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ اس پر تسلط قائم کرسکے گا۔ شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایسی ہی روایت کی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کردی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کردیا۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان اپنی پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔ جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے۔ پھر جب تکبیر ہونے لگتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور جب تکبیر ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالنے لگتا ہے کہ فلاں بات یاد کر اور فلاں بات یاد کر، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ تین رکعت نماز پڑھی تھی یا چار رکعت، جب یہ یاد نہ رہے تو سہو کے دو سجدے کرے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:شیطان ہر انسان کی پیدائش کے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے جب انہیں وہ کچوکے لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا تھا(جس کے اندر بچہ رہتا ہے۔ اس کی رسائی وہاں تک نہ ہوسکی، اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی اس حرکت سے محفوظ رکھا) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٦)
علقمہ نے بیان کیا کہ میں شام پہنچا تو لوگوں نے کہا، ابودرداء آئے انہوں نے کہا، کیا تم لوگوں میں وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر (یعنی آپ کے زمانے سے)شیطان سے بچا رکھا ہے? مغیرہ نے یہی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ:جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا، آپ علیہ السلام کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی ذات تھی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے بادل میں آپس میں کسی امر میں جو زمین میں ہونے والا ہوتا ہے باتیں کرتے ہیں۔ عنان سے مراد بادل ہے۔ تو شیاطین اس میں سے کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور وہی کاہنوں کے کان میں اس طرح لا کر ڈالتے ہیں جیسے شیشے کا منہ ملا کر اس میں کچھ چھوڑتے ہیں اور وہ کاہن اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ کیوں کہ جب کوئی(جمائی لیتے ہوئے)ہاہا کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٨٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو ابلیس نے چلا کر کہا کہ اے اللہ کے بندو! (یعنی مسلمانو)اپنے پیچھے والوں سے بچو، چناں چہ آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والوں کو (جو مسلمان ہی تھے) انہوں نے مارنا شروع کردیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے تھے۔ انہوں نے بہتیرا کہا کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ لوگوں نے جب تک انہیں قتل نہ کرلیا نہ چھوڑا۔ بعد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ خیر۔ اللہ تمہیں معاف کرے (کہ تم نے غلط فہمی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا) عروہ نے بیان کیا کہ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ تاآنکہ اللہ سے جا ملے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان کی ایک اچک ہے جو وہ تم میں سے ایک کی نماز سے کچھ اچک لیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩١)
عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس لیے اگر کوئی برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اس عمل سے شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملک، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير: اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔اسی کی حکومت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا دی جائیں گی۔ اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ شام ہوجائے اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہ آئے گا، مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩٣)
محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی کہ ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں (خود آپ کی بیویاں)آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے(خرچ میں)بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں۔ خوب آواز بلند کر کے۔ لیکن جونہی عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دی، نبی اکرم ﷺ مسکرا رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا رکھے۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، لیکن آپ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں، پھر انہوں نے کہا: اے اپنی جانوں کے دشمنو! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور نبی کریم ﷺ سے نہیں ڈرتیں۔ حضرات ازواج مطہرات بولیں کہ واقعہ یہی ہے کیوں کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے، تو جھٹ سے وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب کوئی شخص سو کر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیوں کہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے(جس سے آدمی پر سستی غالب آجاتی ہے۔ پس ناک جھاڑنے سے وہ سستی دور ہوجائے گی) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ،حدیث نمبر ٣٢٩٥)
باب:جنات کا ذکر اور ان کے ثواب و عقاب کا بیان۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے جنات اور انسان کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے جو تمہارے سامنے ہماری آیات تلاوت کرتے تھے یہ آیت عَمَّا يَعْمَلُونَ تک پڑھیں(الانعام آیت ١٣٠ تا ١٣٢)اور بَخْسًا کا معنی ہے نقص۔اور مجاہد نے کہا:اور مشرکین نے اللہ اور جنات کے درمیان نسب (کا رشتہ کا) ٹھہرادیا۔(الصٰفٰت آیت ١٥٨)کی تفسیر میں فرمایا:کافر قریش نے کہا:فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی مائیں جنات کے سرداروں کی بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:حالانکہ جنات یقیناً جانتے ہیں کہ بے شک ضرور وہ اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے (الصٰفٰت آیت ١٥٨) یعنی عنقریب وہ حساب کے لیے حاضر کیے جائیں گے ۔{ جُنْدٌ مُحْضَرُونَ }سورۃ الیٰٖسین آیت ٧٥)یعنی ان کے معبودوں کا لشکر اللہ کے سامنے حاضر کیا جائے گا ۔یعنی حساب کے وقت ۔ عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور(وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیوں کہ مؤذن کی آواز اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ ذِكْرِ الْجِنِّ وَثَوَابِهِمْ وَعِقَابِهِمْ،حدیث نمبر ٣٢٩٦)
باب:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یاد کیجیے جب جناب کی ایک جماعت ہم آپ کی طرف پھیر لائے،اور اس کے بعد یہاں تک ہے :وہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔(الأحقاف آیت ٢٩ تا ٣٢)مَصْرِفًا کا معنی مَعْدِلًا ہے یعنی پھرنے کی جگہ:صَرَفْنَا کا معنی وَجَّهْنَا یعنی ہم نے پھیر دیا ۔ باب:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور اس نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے۔(البقرہ آیت ١٦٤)اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:الثُّعْبَانُ ان میں سے نر سانپ کو کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے:الْحَيَّاتُ،کئی اجناس ہیں، اور الْجَانُّ، اور ۔الْأَفَاعِي،اور الْأَسَاوِدُ۔اور آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا(سورۃ ہود آیت ٥٦)اللہ تعالیٰ نے ان کی پیشانی کو پکڑ لیا۔یعنی وہ اس کی ملک اور تصرف میں ہے۔اور سورہ ملک میں:صافات، کا لفظ ہے۔یعنی پرندوں نے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں، اور اسی سورت میں يَقْبِضْنَ کا لفظ ہے ۔یعنی انہوں نے پر سمیٹے ہوئے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو(خصوصاً )ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی، کیوں کہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کردیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو، میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو سانپوں کے مارنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر نبی اکرم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جِن ہوتے ہیں دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا۔ اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ مجھ کو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خطاب (دونوں) نے دیکھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ }حدیث نمبر ٣٢٩٧،٣٢٩٨،٣٢٩٩)
باب: مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کفر کا سر مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو(عموماً )گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور سکون و طمانیت بکری والوں میں ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠١)
حضرت عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں! ہاں، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوں گے، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیوں کہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا (نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ)جب شام ہوجائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو، کیوں کہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کرلو، کیوں کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ اللہ کا نام لو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہوگئے۔ (یعنی ان کی صورتیں مسخ ہوگئیں)میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کردیا گیا۔ کیوں کہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے(کیوں کہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا)اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔ پھر میں نے یہ حدیث حضرت کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے(حیرت سے)پوچھا، کیا واقعی آپ نے نبی کریم ﷺ یہ حدیث سنی ہے؟ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا (کہ نبی کریم ﷺ سے میں نے متعدد بار سنی ہے۔اور اگر میں یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہوتا تو) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟(کہ اس سے نقل کر کے بیان کرتا ہوں) ۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گرگٹ(چھپکلی) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے نبی کریم ﷺ سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٦)
حضرت ام شریک رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں، انہیں مار ڈالا کرو، کیوں کہ وہ اندھا بنا دیتا ہے اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کردیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣٠٩)
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی، آپ نے فرمایا کہ دیکھو، وہ سانپ کہاں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے تلاش کیا(اور وہ مل گیا تو) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا۔ پھر میری ملاقات ایک دن حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو، کیوں کہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣١٠،٣٣١١،
نافع نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سانپوں کو مار ڈالا کرتے تھے۔ پھر ان سے حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ،حدیث نمبر ٣٣١٢،٣٣١٣،)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:پانچ جانور موذی ہیں، انہیں حرم میں بھی مارا جاسکتا ہے چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹ لینے والا کتا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، چوہا، کاٹ لینے والا کتا، کوا اور چیل۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں(کے منہ)کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کرلیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کرلیا کرو، کیوں کہ شام ہوتے ہی جنات(روئے زمین پر)پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیوں کہ موذی جانور (چوہا)بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے۔ ابن جریج اور حبیب نے بھی اس کو عطاء سے روایت کیا، اس میں جنات کے بدل شیاطین مذکور ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (مقام منیٰ میں) ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت والمرسلات عرفا نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بِل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بِل میں داخل ہوگیا، (نبی اکرم ﷺ نے)اس پر فرمایا تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت کیا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے اس سورة کو تازہ بتازہ سن رہے تھے اور اسرائیل کے ساتھ اس حدیث کو ابوعوانہ نے مغیرہ سے روایت کیا اور حفص بن غیاث اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قرم نے بھی اعمش سے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:ایک عورت ایک بلی کے سبب سے دوزخ میں گئی، اس نے بلی کو باندھ کر رکھا نہ تو اسے کھانا دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی۔ عبدالاعلیٰ نے کہا اور ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور وہ نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:گروہ انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے سائے میں اترے، وہاں انہیں کسی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ تو انہوں نے حکم دیا، ان کا سارا سامان درخت کے تلے سے اٹھا لیا گیا۔ پھر چیونٹیوں کا سارا چھتہ جلوا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم کو تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا، فقط اسی کو جلانا تھا۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ،حدیث نمبر ٣٣١٩)
باب: جب تم میں سے کسی ایک کے مشروب میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو دے کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے پر میں شفاء ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب مکھی کسی کے پینے(یا کھانے کی چیز) میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے (پر)میں شفاء ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ایک فاحشہ عورت صرف اس وجہ سے بخشی گئی کہ وہ ایک کتے کے قریب سے گزر رہی تھی، جو ایک کنویں کے قریب کھڑا پیاسا ہانپ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پیاس کی شدت سے ابھی مرجائے گا۔ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس میں اپنا دوپٹہ باندھ کر پانی نکالا اور اس کتے کو پلا دیا، تو اس کی بخشش اسی (نیکی)کی وجہ سے ہوگئی۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢١)
سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے اس حدیث کو اس طرح یاد رکھا کہ مجھ کو کوئی شک ہی نہیں، جیسے اس میں شک نہیں کہ تو اس جگہ موجود ہے۔(انہوں نے بیان کیا کہ)مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اور انہیں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا(رحمت کے) فرشتے ان گھروں میں نہیں داخل ہوتے جن میں کتا یا(جاندار کی) تصویر ہو۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص کتا پالے، اس کے عمل نیک میں سے روزانہ ایک قیراط (ثواب) کم کردیا جاتا ہے، کھیت کے لیے یا مویشی کے لیے جو کتے پالے جائیں وہ اس سے الگ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢٤)
سفیان بن ابی زہیر الشنی نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا کہ:آپ علیہ السلام فرما رہے تھے کہ جس نے ایسا کتا رکھا کو کھیتوں کی حفاظت کرتا ہو نہ مویشیوں کی اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔السائب نے پوچھا:کیا تم نے اس کو خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! اس قبلہ کے رب کی قسم! (بخاری شریف کتاب بدء الخلق ،بَابٌ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ ؛ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءً،حدیث نمبر ٣٣٢٥)
Bukhari Shareef : Kitabo Badaul Khalqe
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ بَدْءُ الْخَلْقِ
|
•