
فضائل کا بیان۔ باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے (کنز الایمان) سورۃ الحجرات ١٣(۔اے لوگو !) اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو(النساء ١)الشُّعُوبُ نسب بعید ہیں اور قبائل اس سے کم ہیں اس کا معنی:اور وہ جو زمانہ جاہلیت کی چیخ و پکار سے منع کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے:سورۃ الحجرات آیت نمبر ١٣:اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو:کی تفسیر میں فرمایا:شعوب سے مراد ہے بڑے قبیلے اور قبائل سے مراد بڑے قبیلے کی شاخیں ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ پوچھا گیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارا سوال اس کے بارے میں نہیں ہے، اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :پھر(نسب کی رو سے) اللہ کے نبی یوسف (علیہ السلام) سب سے زیادہ شریف تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب۔بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٩٠)
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیر پرورش رہ چکی تھیں، کلیب نے بیان کیا کہ ہمیں نے زینب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر کس قبیلہ سے تھا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبیلہ مضر کی شاخ بنی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٩١)
کلیب نے بیان کیا کہ ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم لے پالک نے حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہوسکتا ہے یقیناً نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ نے فرمایا:تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے(بھلائی اور برائی میں)جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو۔ اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا)ہو۔ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے، دوسروں میں دوسرا منہ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٩٣،و حدیث نمبر ٣٤٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس (خلافت کے) معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں، عام مسلمان قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں جس طرح ان کے عام کفار قریشی کفار کے تابع رہتے چلے آئے ہیں۔ اور انسانوں کی مثال کان کی طرح ہے، جو لوگ جاہلیت کے دور میں شریف تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں جب کہ انہوں نے دین کی سمجھ بھی حاصل کی ہو تم دیکھو گے کہ بہترین اور لائق وہی ثابت ہوں گے جو خلافت و امارت کے عہدے کو بہت زیادہ ناپسند کرتے رہے ہوں، یہاں تک کہ وہ اس میں گرفتار ہوجائیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا،حدیث نمبر ٣٤٩٥،و حدیث ٣٤٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا إلا المودة في القربى کے متعلق(طاؤس نے)بیان کیا کہ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قرابت نہ رہی ہو اور اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ:-تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت- (بخاری شریف کتاب المناقب،بَابٌ،حدیث نمبر ٣٤٩٧)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسی طرف سے فتنے اٹھیں گے یعنی مشرق سے اور بےوفائی اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں اور گایوں کی دم کے پاس چلاتے رہتے ہیں یعنی ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ علیہ السلام فرما رہے تھے کہ فخر اور تکبر ان چیخنے اور شور مچانے والے اونٹ والوں میں ہے اور بکری چرانے والوں میں نرم دلی اور ملائمت ہوتی ہے اور ایمان تو یمن میں ہے حکمت(حدیث) بھی یمنی ہے، ابوعبداللہ(امام بخاری)نے کہا کہ یمن کا نام یمن اس لیے ہوا کہ یہ کعبہ کے دائیں جانب ہے اور شام کو شام اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کعبہ کے بائیں جانب ہے۔ المشأمة بائیں جانب کو کہتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کو الشؤمى کہتے ہیں اور بائیں جانب کو الأشأم. کہتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٤٩٩)
محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی جب وہ قریش کی ایک جماعت میں تھے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب (قرب قیامت میں)بنی قحطان سے ایک حکمراں اٹھے گا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ غصہ ہوگئے، پھر آپ خطبہ دینے اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو نہ تو قرآن مجید میں موجود ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دیکھو! تم میں سب سے جاہل یہی لوگ ہیں۔ ان سے اور ان کے خیالات سے بچتے رہو جن خیالات نے ان کو گمراہ کردیا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سرنگوں اور اوندھا کر دے گا جب تک وہ(قریش)دین کو قائم رکھیں گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ ،حدیث نمبر ٣٥٠٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ خلافت اس وقت تک قریش کے ہاتھوں میں باقی رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ حدیث نمبر ٣٥٠١۔
جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہمیں اور حضرت عثمان بن عفان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دونوں مل کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! بنو مطلب کو تو آپ نے عطا فرمایا اور ہمیں(بنی امیہ کو)نظر انداز کردیا حالاں کہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا(یہ صحیح ہے)مگر بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں۔ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بنو زہرہ کے لوگوں کے پاس ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گیے اور وہ بنو زہرہ پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کے وجہ سے بڑے نرم دل تھیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ حدیث نمبر ٣٥٠٢،و حدیث نمبر ٣٥٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیرخواہ ہیں اور ان کا بھی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ.،حدیث نمبر ٣٥٠٤)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق بھی ان کو ملتا وہ اسے صدقہ کردیا کرتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے (کسی سے)کہا ام المؤمنین کو اس سے روکنا چاہیے (جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کی بات پہنچی )تو انہوں نے کہا: کیا اب میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا، اب اگر میں نے عبداللہ سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو راضی کرنے کے لیے) قریش کے چند لوگوں اور خاص طور سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نانہالی رشتہ داروں(بنو زہرہ)کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لیے بھیجا لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ پھر بھی نہ مانیں۔ اس پر بنو زہرہ نے جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماموں ہوتے تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم ایک دفعہ آن کر پردہ میں گھس جاؤ۔ چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا (جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خوش ہوگئیں تو)انہوں نے ان کی خدمت میں دس غلام (آزاد کرانے کے لیے بطور کفارہ قسم )بھیجے اور ام المؤمنین نے انہیں آزاد کردیا۔ پھر آپ برابر غلام آزاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کردیئے پھر انہوں نے کہا کاش میں نے جس وقت قسم کھائی تھی (منت مانی تھی) تو میں کوئی خاص چیز بیان کردیتی جس کو کر کے میں فارغ ہوجاتی (بخاری شریف کتاب المناقب ۔۔بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ.،حدیث نمبر ٣٥٠٥)
باب :قرآن نازل ہوا لسان قریش میں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو بلایا (اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چناں چہ ان حضرات نے)قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے(ان چاروں میں سے)تین قریشی صحابہ کرام سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے(جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے)قرآن کے کسی مقام پر(اس کے کسی محاورے میں)اختلاف ہوجائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیوں کہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابٌ : نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ،حدیث نمبر ٣٥٠٦۔
باب: یمن والوں کا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے صحابہ کرام کی طرف سے گزرے جو بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو کہ تمہارے باپ اسماعیل (علیہ السلام) بھی تیرانداز تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں، یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لیے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپ دوسرے فریق کے ساتھ ہوگئے تو پھر ہم کیسے تیر اندازی کریں؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی جاری رکھو۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ نِسْبَةِ الْيَمَنِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ. مِنْهُمْ أَسْلَمُ بْنُ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ مِنْ خُزَاعَةَ،حدیث نمبر ٣٥٠٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی(نسبی)تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٥٠٨)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عن بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی۔ اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٥٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان(راستے میں) کفار مضر کا قبیلہ پڑتا ہے، اس لیے ہم آپ کی خدمت اقدس میں صرف حرمت کے مہینوں میں ہی حاضر ہوسکتے ہیں۔ مناسب ہوتا اگر آپ ہمیں ایسے احکام بتلا دیتے جن پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہتے اور جو لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں بھی بتا دیتے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، اول اللہ پر ایمان لانے کا، یعنی اس کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں مال غنیمت ملے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کو(یعنی امام وقت کے بیت المال کو) ادا کرو اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت (کے استعمال)سے منع کرتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب ،حديث نمبر ٣٥١٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،آپ علیہ السلام منبر پر فرما رہے تھے:آگاہ ہوجاؤ اس طرف سے فساد پھوٹے گا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے یہ جملہ فرمایا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٥١١)
باب: اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع قبیلوں کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے خیرخواہ ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی ان کا حمایتی نہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ۔بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ.حدیث نمبر ٣٥١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا :قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ،حدیث نمبر ٣٥١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ: قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ،حدیث نمبر ٣٥١٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:بتاؤ کیا جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں؟ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:ہاں یہ چاروں قبیلے بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ۔حدیث نمبر ٣٥١٥)
عبد الرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت اقرع بن حابس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا:آپ سے صرف ان لوگوں نے بیعت کی ہے جو حجاج کا سامان چرایا کرتے تھے قبیلہ اسلم، اور غفار، اور مزینہ کے لوگ۔راوی نے کہا میرا گمان ہے کہ عبد الرحمن نے جہینہ کا بھی ذکر کیا۔یہ ابن یعقوب کا شک ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ بتاؤ کہ قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ اور میرا گمان ہے کہ آپ نے جہینہ کا بھی ذکر فرمایا(یہ بتاؤ کہ یہ چاروں قبیلے) بنو تمیم بنو عامر اور اسد اور غطفان سے بہتر نہیں ہے؟ (یہ قبائل) کیا ناکام اور نقصان زدہ نہیں ہوئے! اقراع نے کہا :جی ہاں! آپ علیہ السلام نے فرمایا :اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے۔یہ ان سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ،حدیث نمبر ٣٥١٦)
باب: ایک مرد قحطانی کا تذکرہ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ قبیلہ قحطان میں ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جو لوگوں پر اپنی لاٹھی کے زور سے حکومت کرے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ ذِكْرِ قَحْطَانَ،حدیث نمبر ٣٥١٧)
باب:جاہلیت کی سی باتیں کرنا منع ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک تھے، مہاجرین بڑی تعداد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے۔ وجہ یہ ہوئی کہ مہاجرین میں ایک صاحب تھے بڑے دل لگی کرنے والے، انہوں نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی، انصاری بہت سخت غصہ ہوا۔ اس نے اپنی برادری والوں کو مدد کے لیے پکارا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان لوگوں نے یعنی انصاری نے کہا: اے قبائل انصار! مدد کو پہنچو! اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! مدد کو پہنچو! یہ شور سن کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (خیمہ سے) باہر تشریف لائے اور فرمایا: کیا بات ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صورت حال دریافت کرنے پر مہاجر صحابی کے انصاری صحابی کو مار دینے کا واقعہ بیان کیا گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی جاہلیت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو اور عبداللہ بن ابی سلول (منافق)نے کہا کہ یہ مہاجرین اب ہمارے خلاف اپنی قوم والوں کی دہائی دینے لگے۔ مدینہ پہنچ کر ہم سمجھ لیں گے، عزت دار ذلیل کو یقیناً نکال باہر کر دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم اس ناپاک پلید عبداللہ بن ابی کو قتل کیوں نہ کردیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ لوگ کہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اپنے لوگوں کو قتل کردیا کرتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَا يُنْهَى مِنْ دَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٥١٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو(نوحہ کرتے ہوئے)اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَا يُنْهَى مِنْ دَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٥١٩)
باب: قبیلہ خزاعہ کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:عمرو بن لحیی بن قمعہ بن خندف قبیلہ خزاعہ کا باپ تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابٌ : قِصَّةُ خُزَاعَةَ،حدیث نمبر ٣٥٢٠)
حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ بحيرة وہ اونٹنی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی۔اس لیے کہ وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی۔اس لیے کوئی بھی شخص اس کا دودھ نہیں دوھتا تھا اور سائبة اسے کہتے جس کو وہ اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیتے اور ان پر کوئی بوجھ نہ لادتا اور نہ کوئی سواری کرتا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر بن لحیی خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا اور یہی عمرو وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبة کی رسم نکالی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابٌ : قِصَّةُ خُزَاعَةَ،حدیث نمبر ٣٥٢١)
باب:زمزم شریف کا قصہ۔ ابو جمرہ نے کہا کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کیا میں تم کو حضرت ابو ذر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے اسلام لانے کی خبر نہ دوں!ابو جمرہ نے کہا:کیوں نہیں! حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:حضرت ابو ذر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے بتایا کہ میں قبیلہ غفار کا ایک مرد تھا،ہمیں خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص نکلا ہے۔اس کا یہ زعم ہے کہ وہ نبی ہیں ۔تو میں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی۔ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے۔ مسجدالحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا،حضرت ابو ذر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وہاں زمزم کو پانی پیتے تھے اور مسجد الحرام میں ٹھہرے تھے کہ کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا آپ میرے گھر چل کر آرام کیجئے۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجدالحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتادوں گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں( راستے میں)کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا ( کسی دیوار کے قریب )گویا مجھے پیشاب کرنا ہے۔ اس وقت تم میرا انتظار مت کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، آپ علیہ السلام کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاو یہاں تک کہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے( تو پھر ہمارے پاس آ جانا )حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجدالحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں" یہ سنتے ہی ان پر سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور سب نے انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے انہوں نے کہا افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے، اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجدالحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگے۔ اس دن بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔اور ان بچایا سو یہ حضرت ابو ذر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے اسلام لانے کا ابتدائی قصہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قِصَّةِ زَمْزَمَ،حدیث نمبر ٣٥٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا "قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ اور جہنیہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا( بیان کیا کہ )جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔" (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قِصَّةِ زَمْزَمَ،حدیث نمبر ٣٥٢٣)
باب: عرب قوم کی جہالت کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم کو عرب کی جہالت معلوم کرنا اچھا لگے تو سورة الانعام میں ایک سو تیس آیتوں کے بعد یہ آیتیں پڑھ لو:{ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ: بے شک وہ لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے حماقت کی وجہ سے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا۔(الانعام ١٤٠) اس آیت کو قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ تک پڑھیں۔بے شک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت پانے والے نہ تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ جَهْلِ الْعَرَبِ،حدیث نمبر ٣٥٢٤)
باب:جو شخص زمانہ اسلام میں یا زمانہ جاہلیت میں اپنے باپ دادا کی طرف منسوب ہوا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ ہیں۔ اور حضرت ابو البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:آپ اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو عذاب سے ڈرائیں۔(الشعراء ٢١٤)تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم قریش کے قبیلوں کو ندا کرتے تھے۔يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ! ایک دوسری سند کے ساتھ یہ ہے کہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:آپ اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو عذاب سے ڈرائیں۔(الشعراء ٢١٤)تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبائل۔قبائل کو پکار کر بلاتے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنِ انْتَسَبَ إِلَى آبَائِهِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٥٢٥،و حدیث نمبر ٣٥٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عبدمناف کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو(یعنی نیک کام کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لو) ۔اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی والدہ! رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ بنت محمد! تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ سے بچا لو۔ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں(از خود) کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ تم دونوں میرے مال میں جتنا چاہو مانگ سکتی ہو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنِ انْتَسَبَ إِلَى آبَائِهِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٥٢٧)
باب:قوم کے بھانجے کا قوم میں شمار ہوتا ہے اور قوم کے آزاد کردہ غلام کا بھی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا، پھر ان سے پوچھا کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابٌ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ،حدیث نمبر ٣٥٢٨)
باب: حبشیوں کا قصہ۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:يَا بَنِي أَرْفِدَةَ۔اے ابنی ارفد! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں (انصار کی) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا:حضرت ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ کو پردہ میں رکھے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو نیزوں کا کھیل مسجد میں کر رہے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا۔ لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:انہیں چھوڑ دو،(اور فرمایا :اے!) بنی ارفدہ تم بےفکر ہو کر کھیلو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قِصَّةِ الْحَبَشِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي أَرْفِدَةَ،حدیث نمبر ٣٥٢٩،و حدیث نمبر ٣٥٣٠،
باب: جو شخص یہ چاہے کہ اس کے باپ دادا کو کوئی برا نہ کہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مشرکین(قریش)کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں۔ اس پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو(شعر میں)اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور (ہشام نے)اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا، انہیں برا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ لَا يُسَبَّ نَسَبُهُ،حدیث نمبر ٣٥٣١)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسماء کے متعلق احادیث۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار پر بڑے سخت ہیں(الفتح ٢٩)اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ہے(الصف ٦) محمد بن جیبر بن مطعم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد، احمد اور ماحی ہوں(یعنی مٹانے والا ہوں) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا (قیامت کے دن)میرے بعد حشر ہوگا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور سب و ستم کو کس طرح دور کردیا! وہ مُذمّم کو سب و ستم کرتے ہیں اور مذمّم پر لعنت کرتے ہیں، اور میں تو محمد ہوں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٣)
باب: نبی کریم ﷺ کا خاتم النبیین ہونا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کردیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑجاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٥)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :(اپنے بچوں کا نام) میرا نام تو رکھو اور میری کنیت(پر) ابو القاسم نہ رکھو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٦)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کنیت کا بیان۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک صاحب کی آواز آئی۔ یا اباالقاسم! آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے (تو معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی اور کو پکارا ہے) اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر نام مت رکھو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ كُنْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے نام پر (اپنے بچوں کا) نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ كُنْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ كُنْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٣٩)
جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب۔حدیث نمبر ٣٥٤٠)
باب: مہر نبوت کا بیان (جو آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ میں تھی)۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرا بھانجا بیمار ہوگیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ علیہ السلام کے وضو کا پانی پیا، پھر آپ کی پیٹھ کی طرف جا کے کھڑا ہوگیا اور میں نے مہر نبوت کو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان دیکھا۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ حجلة، حجل الفرس سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں جو اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ہوتی ہے۔ ابراہیم بن حمزہ نے کہا: مثل زر الحجلة یعنی رائے مہملہ پہلے پھر زائے معجمہ۔ امام بخاری نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ رائے مہملہ پہلے ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ،حدیث نمبر ٣٥٤١)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفات کا بیان۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے (خوش ہو رہے تھے) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٢)
حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا تھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں آپ کی پوری شباہت موجود تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٣)
حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے،حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ میں آپ کی شباہت پوری طرح موجود تھی۔ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا، میں نے حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفت بیان کریں۔ انہوں نے کہا آپ سفید رنگ کے تھے، کچھ بال سفید ہوگئے تھے اور آپ نے ہمیں تیرہ اونٹنیوں کے دیئے جانے کا حکم کیا تھا۔ لیکن ابھی ہم نے ان اونٹنیوں کو اپنے قبضہ میں بھی نہیں لیا تھا کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٤)
حضرت ابوجحیفہ سُوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ علیہ السلام کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٥)
حریز بن عثمان نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ علیہ السلام کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہوگئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٦)
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا،آپ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اوصاف مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ آپ علیہ السلام درمیانہ قد کے تھے۔ نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے۔ رنگ کِھلتا ہوا تھا(سرخ و سفید)نہ خالی سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں۔ آپ علیہ السلام کے بال نہ بالکل مُڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ سیدھے لٹکے ہوئے ہی تھے۔ نزول وحی کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔ مکہ میں آپ علیہ السلام نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ کا قیام دس سال تک رہا۔ آپ علیہ السلام کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے۔ ربیعہ(راوی حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں نے آپ علیہ السلام کا ایک بال دیکھا تو وہ لال تھا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ خوشبو لگاتے لگاتے لال ہوگیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے۔ نہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ شریف میں دس سال تک قیام کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٨)
ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا،آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرا مبارک تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور آپ علیہ السلام کے اخلاق تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے، اور آپ علیہ السلام کا قد نہ بہت لمبا تھا اور نہ چھوٹا (بلکہ درمیانہ قد تھا) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٤٩)
قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب بھی استعمال فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ علیہ السلام نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔ صرف آپ علیہ السلام کی دونوں کنپٹیوں پر (سر میں)چند بال سفید تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک بہت کشادہ اور کھلا ہوا تھا۔ آپ علیہ السلام کے (سر کے) بال کانوں کی لو تک لٹکتے رہتے تھے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ یوسف بن ابی اسحٰق نے اپنے والد کے واسطہ سے إلى منكبيه. بیان کیا(بجائے لفظ شحمة أذنه) یعنی آپ کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥١)
ابواسحٰق نے بیان کیا کہ کسی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار کی طرح (لمبا پتلا)تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، چہرہ مبارک چاند کی طرح(گول اور خوبصورت) تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٢)
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادہ سے نکلے۔ بطحاء نامی جگہ پر پہنچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعت (قصر) پڑھی پھر عصر کی بھی دو رکعت (قصر نماز) پڑھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ (بطور سترہ) گڑا ہوا تھا۔ عون نے اپنے والد سے اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نیزہ کے آگے سے آنے جانے والے آ جا رہے تھے۔ پھر صحابہ کرام آپ علیہ السلام کے پاس آگئے اور آپ علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں کو تھام کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔ اس وقت وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل(علیہ السلام) کی ملاقات ہوتی تو آپ علیہ السلام کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔حضرت جبرئیل (علیہ السلام) رمضان کی ہر رات میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے یہاں بہت ہی خوشہ خوشی داخل ہوئے، خوشی اور مسرت سے پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:عائشہ! تم نے سنا نہیں المُدلِجی نے زید و اسامہ کے صرف قدم دیکھ کر کیا بات کہی؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں کے جز نظر آتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٥)
عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے(توبہ قبول ہونے کے بعد)حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو چہرہ مبارک مسرت و خوشی سے چمک رہا تھا۔ جب بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرہ مبارک چمک اٹھتا، ایسا معلوم ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خوشی کو ہم اسی سے پہچان جاتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں (حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر)برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا ہوں(یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں)یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (سر کے آگے کے بالوں کو پیشانی پر) پڑا رہنے دیتے تھے اور مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ آگے کے سر کے بال دو حصوں میں تقسیم کرلیتے تھے(پیشانی پر پڑا نہیں رہنے دیتے تھے) اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ )سر کے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان معاملات میں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آپ کو نہ ملا ہوتا۔ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے (اور حکم نازل ہونے کے بعد وحی پر عمل کرتے تھے) پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بدزبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں(جو لوگوں سے کشادہ پیشانی سے پیش آئے) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٥٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ علیہ السلام کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔ کیوں کہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ علیہ السلام اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس سے ضرور بدلہ لیتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٥٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نہ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی ریشم و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٦١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیا کرنے والے تھے۔اور دوسری سند میں ہے کہ اور جب کوئی چیز نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ناپسند ہوتی تو آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک سے معلوم ہو جاتا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٥٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر کھانا آپ کو پسند ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٥٦٣)
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ پیٹ مبارک سے الگ رکھتے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں ہم لوگ دیکھ لیتے، ابن بکیر نے بکر سے روایت کی اس میں یوں ہے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٥٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دعا استسقاء کے سوا اور کسی دعا میں (زیادہ اونچا)ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس دعا میں آپ علیہ السلام اتنا اونچا ہاتھ اٹھاتے کہ بغل مبارک کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣٥٦٥) وضاحت یاد رہے! یہاں دعا سے مراد خطبہ ہے نماز یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ استسقاء کے علاوہ اور کسی خطبہ میں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے(از نعمۃ الباری از علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ)
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد(حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے نقل کرتے تھے کہ میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابطح میں (محصب میں) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آگئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے (سترہ کے لیے)نیزہ گاڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔حدیث نمبر ٣٥٦٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس قدر ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے کہ اگر کوئی شخص (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ) گن لینا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ ایک دوسری سند کے ساتھ یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ )پر تمہیں تعجب نہیں ہوا۔ وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے سنانے کے لیے بیان کرنے لگے۔ میں اس وقت نماز پڑھ رہی تھی۔ پھر وہ میری نماز ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے۔ اگر وہ مجھے مل جاتے تو میں ان کی خبر لیتی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تمہاری طرح یوں جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٥٦٧،و حدیث نمبر ٣٥٦٨)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور آپ علیہ السلام کو دل نہیں سوتا تھا۔ اس حدیث کی سعید بن مِیناء نے از حضرت جابر رضی اللہ عنہ از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم روایت کیا ہے۔ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا کہ رمضان شریف میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رمضان المبارک یا دوسرے کسی بھی مہینے میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے پہلے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے، وہ رکعتیں کتنی لمبی ہوتی تھیں۔ کتنی اس میں خوبی ہوتی تھیں اس کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے۔ یہ چاروں بھی کتنی لمبی ہوتیں اور ان میں کتنی خوبی ہوتی۔ اس کے متعلق نہ پوچھو۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیوں سو جاتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے (بخاری شریف کتاب المناقب ۔بَابٌ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ،حدیث نمبر ٣٥٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ وہ مسجد الحرام سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ (معراج شریف سے پہلے) تین فرشتے آئے۔ یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں (دو آدمیوں حضرت حمزہ اور حضرت جعفر بن ابی طالب کے درمیان) سو رہے تھے۔ ایک فرشتے نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ (جن کو لے جانے کا حکم ہے) دوسرے نے کہا کہ وہ درمیان والے ہیں۔ وہی سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ پھر جو سب سے بہتر ہیں انہیں ساتھ لے چلو۔ اس رات صرف اتنا ہی واقعہ ہو کر رہ گیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں نہیں دیکھا۔ لیکن فرشتے ایک اور رات میں آئے۔ آپ دل کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ کی آنکھیں سوتی تھیں پر دل نہیں سوتا تھا، اور تمام انبیاء علیہم السلام کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ جب ان کی آنکھیں سوتی ہیں تو دل اس وقت بھی بیدار ہوتا ہے۔ غرض کہ پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو اپنے ساتھ لیا اور آسمان پر چڑھا لے گئے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابٌ : كَانَ النَّبِيُّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ،حدیث نمبر ٣٥٧٠)
باب: زمانہ اسلام میں نبوت کی علامت۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ کیا (چوں کہ ہم تھکے ہوئے تھے)اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا۔ سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے۔ لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو، جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام خود ہی جاگتے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے۔ اس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا۔ (پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے)اور یہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اترے اور آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہوگئی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کرلو(پھر اس نے بھی تیمم کے بعد)نماز پڑھی۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ علیہ السلام نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔(تاکہ پانی تلاش کریں کیوں کہ ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان (سواری پر)اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آخر ہم اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی۔ ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے(اس لیے واجب الرحم ہے) آپ علیہ السلام کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ علیہ السلام نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے (کھانے کی چیزوں میں سے)میرے پاس لاؤ۔ چناں چہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کردیں گئیں۔ پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ(اس کے ماننے والے)لوگ کہتے ہیں، وہ واقعی نبی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن حاضر کیا گیا (پانی کا) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت (مدینہ شریف کے نزدیک) مقام زوراء میں تشریف رکھتے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں ہاتھ رکھا تو اس میں سے پانی آپ علیہ السلام کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا اور اسی پانی سے پوری جماعت نے وضو کیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تین سو رہے ہوں گے یا تین سو کے قریب رہے ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تھا، اور لوگ وضو کا پانی تلاش کر رہے تھے لیکن پانی کا کہیں پتہ نہیں تھا، پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک برتن کے اندر) وضو کا پانی لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں سے فرمایا کہ اسی پانی سے وضو کریں۔ میں نے دیکھا کہ پانی آپ علیہ السلام کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا تھا چناں چہ لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ہر شخص نے وضو کرلیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی تھے، چلتے چلتے نماز کا وقت ہوگیا تو وضو کے لیے کہیں پانی نہیں ملا۔ آخر جماعت میں سے ایک صاحب اٹھے اور ایک بڑے سے پیالے میں تھوڑا سا پانی لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس کے پانی سے وضو کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیالے پر رکھا اور فرمایا کہ آؤ وضو کرو، پوری جماعت نے وضو کیا اور تمام آداب و سنن کے ساتھ پوری طرح کرلیا۔ ہم تعداد میں ستر یا اسی کے لگ بھگ تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کا وقت ہوچکا تھا، مسجد نبوی سے جن کے گھر قریب تھے انہوں نے تو وضو کرلیا لیکن بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کا بنا ہوا ایک برتن لایا گیا۔اس میں پانی تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا لیکن اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے اندر اپنا ہاتھ پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چناں چہ آپ علیہ السلام نے انگلیاں ملا لیں اور برتن کے اندر ہاتھ کو ڈال دیا پھر(اسی پانی سے) جتنے لوگ باقی رہ گئے تھے سب نے وضو کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ حضرات کی تعداد کیا تھی؟حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اسّی آدمی تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مشکیزہ رکھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مشکیزہ میں رکھ دیا اور پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے۔حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے ہم نے اس سے اتنا پانی کھینچا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا (جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ علیہ السلام تشریف لائے) اور کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی دعا کی اور اس پانی سے کلی کی اور کلی کا پانی کنویں میں ڈال دیا۔ ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کہ کنواں پھر پانی سے بھر گیا۔ ہم بھی اس سے خوب سیر ہوئے اور ہمارے اونٹ بھی سیراب ہوگئے یا پانی پی کر لوٹے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (میری والدہ)حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا۔ میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، چناں چہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی او اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیجا۔ میں جو گیا تو آپ علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت سے صحابہ کرام بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ علیہ السلام کے پاس کھڑا ہوگیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا ابوطلحہ نے تمہیں بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ علیہ السلام نے پوچھا، کچھ کھانا دے کر؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! جو صحابہ کرام آپ علیہ السلام کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ان سب سے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ چلو اٹھو، آپ علیہ السلام تشریف لانے لگے اور میں آپ علیہ السلام کے آگے آگے لپک رہا تھا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بولے، ام سلیم! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جاسکے؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں (ہم فکر کیوں کریں؟ ) خیر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ملے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے۔حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے وہی روٹی لا کر آپ علیہ السلام کے سامنے رکھ دی، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کردیا گیا، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کپی نچوڑ کر اس پر کچھ گھی ڈال دیا، اور اس طرح سالن ہوگیا، آپ علیہ السلام نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر فرمایا دس آدمیوں کو بلا لو، انہوں نے ایسا ہی کیا، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو بلا لو۔ چناں چہ دس آدمیوں کو بلایا گیا، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، جب یہ لوگ باہر گئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دس ہی آدمیوں کو اندر بلا لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب وہ باہر گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چناں چہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹ رہا تھا اور ہم تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھاتے وقت کھانے کے تسبیح سنتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ، بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٧٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام، جنگ احد میں)شہید ہوگئے تھے۔ اور وہ مقروض تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ میرے والد اپنے اوپر قرض چھوڑ گئے۔ ادھر میرے پاس سوا اس پیداوار کے جو کھجوروں سے ہوگی اور کچھ نہیں ہے اور اس کی پیداوار سے تو برسوں میں قرض ادا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آپ علیہ السلام میرے ساتھ تشریف لے چلیے تاکہ قرض خواہ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر زیادہ منہ نہ پھاڑیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے (لیکن وہ نہیں مانے)تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھجور کے جو ڈھیر لگے ہوئے تھے پہلے ان میں سے ایک کے چاروں طرف چلے اور دعا کی۔ اسی طرح دوسرے ڈھیر کے بھی۔ پھر آپ علیہ السلام اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ کھجوریں نکال کر انہیں دو۔ چناں چہ سارا قرض ادا ہوگیا اور جتنی کھجوریں قرض میں دی تھیں اتنی ہی بچ گئیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٠)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ صفہ والے محتاج اور غریب لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لیتا جائے اور جس کے گھر چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچواں آدمی اپنے ساتھ لیتا جائے یا چھٹے کو بھی یا آپ نے اسی طرح کچھ فرمایا (راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے)خیر تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لائے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے اور میں گھر میں تھا اور میرے ماں باپ تھے۔ابوعثمان نے کہا مجھ کو یاد نہیں حضرت عبدالرحمٰن نے یہ بھی کہا، اور میری عورت اور خادم جو میرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھروں میں کام کرتا تھا۔ لیکن خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور عشاء کی نماز تک وہاں ٹھہرے رہے(مہمانوں کو پہلے ہی بھیج چکے تھے) اس لیے انہیں اتنا ٹھہرنا پڑا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کھانا کھالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور تھا اتنا حصہ رات کا جب گزر گیا تو آپ گھر واپس آئے۔ان کی بیوی نے ان سے کہا، کیا بات ہوئی۔ آپ کو اپنے مہمان یاد نہیں رہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مہمانوں کو اب تک کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی نے کہا کہ مہمانوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کیا۔ ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانے۔حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تو جلدی سے چھپ گیا (کیوں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غصہ ہوگئے تھے)۔آپ نے ڈانٹا، اے پاجی! اور بہت برا بھلا کہا، پھر(مہمانوں سے)کہا چلو اب کھاؤ اور خود قسم کھالی کہ میں تو کبھی نہ کھاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم، پھر ہم جو لقمہ بھی (اس کھانے میں سے) اٹھاتے تو جیسے نیچے سے کھانا اور زیادہ ہوجاتا تھا(اتنی اس میں برکت ہوئی)سب لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ رہا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو کھانا جوں کا توں تھا یا پہلے سے بھی زیادہ۔ اس پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، اے بنی فراس کی بہن (دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہوا)انہوں نے کہا، کچھ بھی نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم، کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے، پھر وہ کھانا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور فرمایا کہ یہ میرا قسم کھانا تو شیطان کا اغوا تھا۔ایک لقمہ کھا کر اسے آپ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہاں وہ صبح تک رکھا رہا۔ اتفاق سے ایک کافر قوم جس کا ہم مسلمانوں سے معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی تھی۔ ان سے لڑنے کے لیے فوج جمع کی گئی۔ پھر ہم بارہ ٹکڑیاں ہوگئے اور ہر آدمی کے ساتھ کتنے آدمی تھے یہ اللہ ہی جانتا ہے مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ نے ان نقیبوں کو لشکر والوں کے ساتھ بھیجا۔ حاصل یہ کہ فوج والوں نے اس میں سے کھایا۔ یا حضرت عبدالرحمٰن نے کچھ ایسا ہی کہا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سال قحط پڑا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے لیے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! گھوڑے بھوک سے ہلاک ہوگئے اور بکریاں بھی ہلاک ہوگئیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر پانی برسائے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آسمان شیشے کی طرح (بالکل صاف) تھا۔ اتنے میں ہوا چلی۔ اس نے ابر (بادل)کو اٹھایا پھر ابر کے بہت سے ٹکڑے جمع ہوگئے اور آسمان نے گویا اپنے دہانے کھول دیئے۔ ہم جب مسجد سے نکلے تو گھر پہنچتے پہنچتے پانی میں ڈوب چکے تھے۔ بارش یوں ہی دوسرے جمعہ تک برابر ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ کو وہی صاحب یا کوئی دوسرے پھر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مکانات گرگئے۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ بارش کو روک دے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: اے اللہ! اب ہمارے چاروں طرف بارش برسا (جہاں اس کی ضرورت ہو) ہم پر نہ برسا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ اسی وقت ابر پھٹ کر مدینہ کے ارد گرد(زرد و جواہر سے مرصّع) تاج کی طرح ہوگیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ، بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک لکڑی کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر جب منبر بن گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے اس پر تشریف لے گئے۔ اس پر اس لکڑی نے باریک آواز سے رونا شروع کردیا۔ آخر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے قریب تشریف لائے اور اپنا ہاتھ اس پر پھیرا اور عبدالحمید نے کہا کہ ہمیں عثمان بن عمر نے خبر دی، انہیں معاذ بن علاء نے خبر دی اور انہیں نافع نے اسی حدیث کی مثل روایت کی اور اس کی روایت ابوعاصم نے کی، ان سے ابورواد نے، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت (کے تنے) کے پاس کھڑے ہوتے یا (بیان کیا کہ) کھجور کے درخت کے پاس۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کردیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا جی چاہے تو کر دو۔ چناں چہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کردیا۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ علیہ السلام اس منبر پر تشریف لے گئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسجد نبوی کی چھت کھجور کے تنوں پر بنائی گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب خطبہ کے لیے تشریف لاتے تو آپ ان میں سے ایک تنے کے پاس کھڑے ہوجاتے لیکن جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے منبر بنادیا گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس پر تشریف لائے۔ پھر ہم نے اس تنے سے اس طرح کی رونے کی آواز سنی جیسی بوقت ولادت اونٹنی کی آواز ہوتی ہے۔ آخر جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے قریب آ کر اس پر ہاتھ رکھا تو وہ چپ ہوا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فتنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث کس کو یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے کہ مجھے زیادہ یاد ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر بیان کرو(ماشاء اللہ)تم تو بہت جری ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ایک آزمائش (فتنہ) تو اس کے گھر، مال اور پڑوس میں ہوتا ہے جس کا کفارہ، نماز، روزہ، صدقہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی نیکیاں بن جاتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا، بلکہ میری مراد اس فتنہ سے ہے جو سمندر کی طرح (ٹھاٹھیں مارتا) ہوگا۔ انہوں نے کہا اس فتنہ کا آپ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ پھر تو بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کے متعلق جانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اسی طرح جانتے تھے جیسے دن کے بعد رات کے آنے کو ہر شخص جانتا ہے۔ میں نے ایسی حدیث بیان کی جو غلط نہیں تھی۔ ہمیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (دروازہ کے متعلق) پوچھتے ہوئے ڈر معلوم ہوا۔ اس لیے ہم نے مسروق سے کہا تو انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک نہیں قائم ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہ کرلو جن کے جوتے بال کے ہوں اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہوگی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے۔ اور تم حکومت کے لیے سب سے زیادہ بہتر شخص اسے پاؤ گے جو حکومت کرنے کو برا جانے(یعنی اس منصب کو خود کے لیے ناپسند کرے)یہاں تک کہ وہ اس میں پھنس جائے۔ لوگوں کی مثال کان کی سی ہے جو جاہلیت میں شریف تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں۔ اور تم پر ایک ایسا دور بھی آنے والا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے سارے گھربار اور مال و دولت سے بڑھ کر مجھ کو دیکھ لینا زیادہ پسند کرے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٨٧،و حدیث نمبر ٣٥٨٨،و حدیث نمبر ٣٥٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کرلو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہوگی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔ یحییٰ کے علاوہ اس حدیث کو اوروں نے بھی عبدالرزاق سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٠)
قیس نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت میں تین سال رہا ہوں، اپنی پوری عمر میں مجھے حدیث یاد کرنے کا اتنا شوق کبھی نہیں ہوا جتنا ان تین سالوں میں تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کر کے فرمایا کہ قیامت کے قریب تم لوگ(مسلمان)ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔سفیان نے ایک مرتبہ وهو هذا البارز کے بجائے الفاظ وهم أهل البازر. نقل کئے(یعنی ایرانی، یا کُردی، یا دیلم والے لوگ مراد ہیں)۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩١)
حضرت عمرو بن تغلِب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہوگی اور ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ تم یہودیوں سے ایک جنگ کرو گے اور اس میں ان پر غالب آجاؤ گے۔ اس وقت یہ کیفیت ہوگی کہ (اگر کوئی یہودی جان بچانے کے لیے کسی پہاڑ میں بھی چھپ جائے گا تو) پتھر بولے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جہاد کے لیے فوج جمع ہوگی، پوچھا جائے گا کہ فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی۔ پھر ایک جہاد ہوگا اور پوچھا جائے گا: کیا فوج میں کوئی ایسے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گا۔ پھر ان کی دعا کی برکت سے فتح ہوگی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٤)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدی! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ (جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور(مکہ پہنچ کر)کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہوگا۔ میں نے(حیرت سے) اپنے دل میں کہا، پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوؤں کا کیا ہوگا جنہوں نے شہروں کو تباہ کردیا ہے اور فساد کی آگ سلگا رکھی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو کسریٰ کے خزانے (تم پر)کھولے جائیں گے۔ میں (حیرت میں) بول پڑا کسریٰ بن ہرمز (ایران کا بادشاہ) کسریٰ؟نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں کسریٰ بن ہرمز! اور اگر تم کچھ دنوں تک اور زندہ رہے تو یہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا، اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہوگی (جو اس کی زکوٰۃ)قبول کرلے لیکن اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کرلے۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جو دن مقرر ہے اس وقت تم میں سے ہر کوئی اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ درمیان میں کوئی ترجمان نہ ہوگا(بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلاواسطہ باتیں کرے گا)اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا۔ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجا تھا جنہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچا دیا ہو؟ وہ عرض کرے گا بیشک تو نے بھیجا تھا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا میں نے مال اور اولاد تمہیں نہیں دی تھی؟ کیا میں نے ان کے ذریعہ تمہیں فضیلت نہیں دی تھی؟ وہ جواب دے گا بیشک تو نے دیا تھا۔ پھر وہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا تو سوا جہنم کے اسے اور کچھ نظر نہ آئے گا پھر وہ بائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ علیہ السلام فرما رہے تھے کہ جہنم سے ڈرو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو۔ اگر کسی کو کھجور کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہ آسکے تو (کسی سے) ایک اچھا کلمہ ہی کہہ دے۔حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک اکیلی مسافر عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور(مکہ پہنچ کر) اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی سے (ڈاکو وغیرہ) کا (راستے میں)خوف نہیں تھا اور مجاہدین کی اس جماعت میں تو میں خود شریک تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ اور اگر تم لوگ کچھ دنوں اور زندہ رہے تو وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں (زکوٰۃ کا سونا چاندی) بھر کر نکلے گا (لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا)مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو سعدان بن بشر نے خبر دی، ان سے ابومجاہد نے بیان کیا، ان سے محل بن خلیفہ نے بیان کیا، اور انہوں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، پھر یہی حدیث نقل کی جو اوپر مذکور ہوئی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ، بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٥)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ شریف سے باہر نکلے اور حضرات شہداء احد پر نماز پڑھی جو جنازہ کی نماز تھی۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر شریف پر تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تمہارا پیش رُو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم! میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں،مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٦)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ شریف کے ایک بلند ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا:جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں بھی نظر آ رہا ہے؟ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں وہ اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کی بوندیں گرا کرتیں ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٧)
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ہم کو حضرت زینب بنت ابی جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہوگیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی۔ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم میں نیک لوگ ہوں گے پھر بھی ہم ہلاک کردیئے جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! جب خباثتیں بڑھ جائیں گی(تو ایسا ہوگا) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا:سبحان اللہ! کیسے کیسے خزانے اترے ہیں(جو مسلمانوں کو ملیں گے) اور کیا کیا فتنے و فساد اترے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٥٩٩)
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بکریوں سے بہت محبت ہے اور تم انہیں پالتے ہو تو تم ان کی نگہداشت اچھی کیا کرو اور ان کی ناک کی صفائی کا بھی خیال رکھا کرو۔ کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جائے گا یا (آپ نے سعف الجبال کے لفظ فرمائے)وہ بارش گرنے کی جگہ میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے۔ اور دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ ابوبکر (راوی حدیث) نے اس روایت میں اتنا اور زیادہ بیان کیا کہ نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ چھوٹ جائے گویا اس کا گھربار سب برباد ہوگئے۔ (اور وہ عصر کی نماز ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠١،و حدیث نمبر ٣٦٠٢،)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کردیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے۔ محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوالتیاح نے، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٤)
عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا کہ ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس وقت میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہوگی۔ مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر؟ اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٥)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم زمانہ جاہلیت اور شر میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی)عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہوگا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہوگا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ ان میں کوئی بات اچھی ہوگی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے۔ ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا،میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آجائے اور تو اسی حالت پر ہو (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے (یعنی صحابہ کرام نے) تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھلائی کے حالات سیکھے اور میں نے برائی کے حالات دریافت کئے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو جماعتیں (مسلمانوں کی ) آپس میں جنگ نہ کرلیں اور دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا(کہ وہ حق پر ہیں) (بخاری شریف کتاب المناقب ،۔بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کرلیں۔ دونوں میں بڑی بھاری جنگ ہوگی۔ حالاں کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں۔ ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہوگا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٠٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (جنگ حنین کا مال غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا۔ اگر میں ظالم ہوجاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہوجائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔کیوں کہ اس کے کچھ اصحاب پیدا ہوں گے کہ تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہوجاتا ہے۔ اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز (خون وغیرہ)نظر نہ آئے گی پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو چھڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا۔ اس کے نفی (نفی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں)کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ حالاں کہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے۔ ان کی علامت ایک کالا شخص ہوگا۔ اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا)ہوگا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا اور حرکت کر رہا ہوگا۔ یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان سے جنگ کی تھی(یعنی خوارج سے)اس وقت میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا (جسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا) آخر وہ لایا گیا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیان کئے ہوئے اوصاف کے مطابق تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٠)
سوید بن غفلہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب میں تم سے کوئی بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حوالہ سے میں بیان کروں تو یہ سمجھو کہ میرے لیے آسمان سے گر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ باندھوں البتہ جب میں اپنی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو لڑائی تو تدبیر اور فریب ہی کا نام ہے(اس میں کوئی بات بنا کر کہوں تو ممکن ہے)۔دیکھو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانتوں والے، کم عقل اور بیوقوف ہوں گے۔ باتیں وہ کہیں گے جو دنیا کی بہترین بات ہوگی۔ لیکن اسلام سے اس طرح صاف نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیوں کہ ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١١)
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔اور آپ علیہ السلام اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے(ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں) ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا(ایمان لانے کی سزا میں) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کردیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے۔ اللہ کی قسم یہ امر (اسلام) بھی کمال کو پہنچے گا اور ایک زمانہ آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا (لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ یا صرف بھیڑئیے کا خوف ہوگا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھاجائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک دن حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نہیں ملے تو ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ چناں چہ وہ ان کے یہاں آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا کہ برا حال ہے۔ ان کی عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی اونچی آواز میں بولا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اسی لیے میرا عمل غارت ہوگیا اور میں دوزخیوں میں ہوگیا ہوں۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے ہیں۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا، لیکن دوسری مرتبہ وہی صحابی حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بڑی خوش خبری لے کر واپس ہوئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اہل جہنم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی(حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ) نے(نماز میں)سورة الکہف کی تلاوت کی۔ اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کردیا۔ (حضرت اسید رضی اللہ عنہ نے ادھر خیال نہ کیا اس کو اللہ کے سپرد کیا)اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہ کیوں کہ یہ سكينة ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا (اس کے بجائے راوی نے) تنزلت للقرآن کے الفاظ کہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چناں چہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں! رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑگیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کردی اور ایک چادر وہاں بچھا دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا (راوی نے کہا کہ)مکہ کے فلاں شخص سے، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! چناں چہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کرلے۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ علیہ السلام اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کرلیتے تھے۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (تو دیکھا کہ آپ سو رہے تھے)میں آپ علیہ السلام کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دودھ پی لیجئے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا کہ آگیا ہے۔ انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی۔ یہ شک (راوی حدیث) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے(اس مصیبت سے نجات کی) دعا کردیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چناں چہ آپ علیہ السلام نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کرچکا ہوں۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ بخار گناہوں کو دھو دے گا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ (یہ بخار) گناہوں کو دھو دے گا۔ اس نے اس پر کہا: آپ کہتے ہیں گناہوں کو دھونے والا ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو نہایت شدید قسم کا بخار ہے یا(راوی نے)تثور کہا (دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے) کہ بخار ایک بوڑھے کھوسٹ پر جوش مار رہا ہے جو قبر کی زیارت کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر یوں ہی ہوگا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا۔ پھر وہ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔ اس نے سورة البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہوگئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کردیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چوں کہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چناں چہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چوں کہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے(بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے) چناں چہ انہوں نے اسے یونہی (زمین پر)ڈال دیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٧)
سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ(شاہ ایران)ہلاک ہوجائے گا تو پھر کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں ضرور خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٨)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کسریٰ ہلاک ہوا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوا تو کوئی قیصر پھر پیدا نہیں ہوگااور راوی نے (پہلی حدیث کی طرح اس حدیث کو بھی بیان کیا اور) کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا اور یہ کہنے لگا کہ اگر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم امر (یعنی خلافت) کو اپنے بعد مجھے سونپ دیں تو میں ان کی اتباع کے لیے تیار ہوں۔ مسیلمہ اپنے بہت سے مریدوں کو ساتھ لے کر مدینہ آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے پاس (اسے سمجھانے کے لیے)تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپ وہاں ٹھہر گئے جہاں مسیلمہ اپنے آدمیوں کے ساتھ موجود تھا۔ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے چھڑی بھی مانگے تو میں تجھے نہیں دے سکتا (خلافت تو بڑی چیز ہے)اور پروردگار کی مرضی کو تو ٹال نہیں سکتا اگر تو اسلام سے پیٹھ پھیرے گا تو اللہ تجھ کو تباہ کر دے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ تو وہی ہے جو مجھے (خواب میں)دکھایا گیا تھا۔ (دوسری سند کے ساتھ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ)مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے(خواب میں) سونے کے دو کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے۔ مجھے اس خواب سے بہت فکر ہوا، پھر خواب میں ہی وحی کے ذریعہ مجھے بتلایا گیا کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ چناں چہ جب میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس سے یہ تعبیر لی کہ میرے بعد جھوٹے نبی ہوں گے۔ پس ان میں سے ایک تو اسود عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٠،و حدیث نمبر ٣٦٢٠،و حدیث نمبر ٣٦٢١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ،میں گمان کرتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں مکہ مکرمہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے باغات ہیں۔ اس پر میرا ذہن ادھر گیا کہ یہ مقام یمامہ یا ہجر ہوگا۔ لیکن وہ یثرب مدینہ منورہ ہے اور اسی خواب میں میں نے دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو وہ بیچ میں سے ٹوٹ گئی۔ یہ اس مصیبت کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو اٹھانی پڑی تھی۔ پھر میں نے دوسری مرتبہ اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی صورت میں ہوگئی۔ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح دی اور مسلمان سب اکٹھے ہوگئے۔ میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں اور اللہ تعالیٰ کا جو کام ہے وہ بہتر ہے۔ ان گایوں سے ان مسلمانوں کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے اور خیر و بھلائی وہ تھی جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے خیر و سچائی کا بدلہ بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لائیں، ان کی چال میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی چال سے بڑی مشابہت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی آؤ مرحبا! اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا، پھر ان کے کان میں آپ علیہ السلام نے چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ روتی کیوں ہو؟ پھر دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ ہنس پڑیں۔ میں نے ان سے کہا آج غم کے فوراً بعد ہی خوشی کی جو کیفیت میں نے آپ کے چہرے پر دیکھی وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا جب تک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ ہیں میں آپ کے راز کو کسی پر نہیں کھول سکتی۔ چناں چہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد پوچھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرئیل (علیہ السلام) ہر سال قرآن مجید کا ایک دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اب میری موت قریب ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی تم ہوگی۔(اے فاطمہ) میں (آپ علیہ السلام کی اس خبر پر) رونے لگی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ جنت کی عورتوں کی سردار بنو گی یا (آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ) مومنہ عورتوں کی، تو اس پر میں ہنسی تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٣،و حدیث نمبر ٣٦٢٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ مرض میں اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو بلایا اور چپکے سے (کان میں) کوئی بات ان سے فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور چپکے سے پھر(کان میں) کوئی بات فرمائی تو وہ ہنسیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کے متعلق پوچھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے آہستہ سے گفتگو کی تھی تو اس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ علیہ السلام کی اس مرض میں وفات ہوجائے گی جس میں واقعی آپ کی وفات ہوئی۔ میں اس پر رو پڑی۔ پھر دوبارہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے جو بات کہی اس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے اہل بیت میں، میں(فاطمہ) سب سے پہلے آپ علیہ السلام سے جا ملوں گی۔میں اس پر ہنسی تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٥،و حدیث نمبر ٣٦٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ اس پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ ان جیسے تو ہمارے لڑکے بھی ہیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ محض ان کے علم کی وجہ سے ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے آیت إذا جاء نصر الله والفتح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال تھا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو تم نے سمجھا ہے میں بھی وہی سمجھتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ مرض الوفات میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ ایک چکنے کپڑے سے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر جیسے ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: امابعد: (آنے والے دور میں)دوسرے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے اور ایک زمانہ آئے گا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی تعداد اتنی کم ہوجائے گی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی شخص کہیں کا حاکم بنے اور اپنی حکومت کی وجہ سے وہ کسی کو نقصان اور نفع بھی پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ انصار کے نیکوں(کی نیکیوں)کو قبول کرے اور جو برے ہوں ان سے درگزر کردیا کرے۔ یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آخری مجلس وعظ تھی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٨)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا :میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہلے ہی صحابہ کرام کو سنا دی تھی، اس وقت آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٣٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ان کی شادی کے موقع پر) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ (ہم غریب لوگ ہیں) اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔ اب جب میں اس سے(اپنی بیوی سے)کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چناں چہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں(اور چپ ہوجاتا ہوں) ۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٣١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے (مکہ شریف )آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے۔امیہ بھی شام جاتے ہوئے (تجارت وغیرہ کے لیے) جب مدینہ شریف سے گزرتا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا۔ امیہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابھی ٹھہرو، جب دوپہر کا وقت ہوجائے اور لوگ غافل ہوجائیں (تب طواف کرنا کیوں کہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے)حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، چناں چہ میں نے جا کر طواف شروع کردیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آگیا اور کہنے لگا، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالاں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی۔ پھر امیہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوالحکم(ابوجہل)کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی (مکہ)کا سردار ہے۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا(کیوں کہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ شریف سے جاتا ہے) بیان کیا کہ امیہ برابر حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں (مقابلہ سے)روکتا رہا۔ آخر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آگیا اور انہوں نے امیہ سے کہا۔تم ہمیں اپنی حال پر چھوڑ دو کیوں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا۔ امیہ نے پوچھا: مجھے؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہا: ہاں تجھ کو۔ تب تو امیہ کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے؟ اس نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا۔ وہ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم وادی مکہ کے رئیس ہو۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٣٢)
معتمر بن سلیمان نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرئیل (علیہ السلام) ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ علیہ السلام کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرئیل (علیہ السلام) چلے گئے تو آپ علیہ السلام نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ علیہ السلام کا خطبہ سنا جس میں آپ علیہ السلام جبرئیل (علیہ السلام) (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہوگیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا (انہوں نے اتنے ڈول کھینچے)کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ،حدیث نمبر ٣٦٣٤)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :وہ اس نبی کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے ایک گروہ جان بوجھ کر یقیناً حق کو چھپاتا ہے۔(البقرہ ١٤٦) حضرت امام مالک بن انس نے خبر دی کہ انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ یہود، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپالیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چناں چہ آپ علیہ السلام کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ،حدیث نمبر ٣٦٣٥)
باب:مشرکین کا سوال کرنا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کو معجزہ دکھائیں تو آپ علیہ السلام نے ان کو چاند کا شق ہونا دکھایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند شق ہو کر کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا اور آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگو اس پر گواہ رہنا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ سُؤَالِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٦٣٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ علیہ السلام نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا دو ٹکرے ہوجانا ان کو دکھایا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ سُؤَالِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ آيَةً،حدیث نمبر ٣٦٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،بَابُ سُؤَالِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ آيَةً،حدیث نمبر ٣٦٣٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے دو صحابی(حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) اٹھ کر(اپنے گھر)واپس ہوئے۔رات اندھیری تھی لیکن ان کے پاس دو چراغ کی مثل کوئی چیز ان کے آگے روشنی کرتی جاتی تھیں۔ پھر جب یہ دونوں(راستے میں، اپنے اپنے گھر کی طرف جانے کے لیے)جدا ہوئے تو وہ چیز دونوں کے ساتھ الگ الگ ہوگئی اور اس طرح وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٣٩)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت یا موت آئے گی اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٠)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ علیہ السلام فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤١)
علی بن عبداللہ نے کہا کہ ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہم سے شبیب بن غرقدہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے سنا تھا کہ وہ لوگ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے(جو ابوالجعد کے بیٹے اور صحابی رسول تھے وہ بیان کرتے ہیں )کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا کہ وہ اس کی ایک بکری خرید کرلے آئیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ کر دینار بھی واپس کردیا۔ اور بکری بھی پیش کردی۔ آپ علیہ السلام نے اس پر ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ پھر تو ان کا یہ حال ہوا کہ اگر مٹی بھی خریدتے تو اس میں انہیں نفع ہوجاتا۔ سفیان نے کہا کہ حسن بن عمارہ نے ہمیں یہ حدیث پہنچائی تھی شبیب بن غرقدہ سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا کہ شبیب نے یہ حدیث خود حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ چناں چہ میں شبیب کی خدمت میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حدیث خود حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی تھی۔ البتہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو ان کے حوالے سے بیان کرتے سنا تھا۔ البتہ یہ دوسری حدیث خود میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ علیہ السلام نے فرمایا خیر اور بھلائی گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ قیامت تک کے لیے بندھی ہوئی ہے۔ شبیب نے کہا کہ میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ستر گھوڑے دیکھے۔ سفیان نے کہا کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے بکری خریدی تھی۔ شاید وہ قربانی کے لیے ہوگی۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٢،و حدیث نمبر ٣٦٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت قیامت تک کے لیے باندھ دی گئی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ برکت باندھ دی گئی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین آدمیوں کے لیے ہیں۔ ایک کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں اور ایک کے لیے وہ معاف یعنی مباح ہیں اور ایک کے لیے وہ وبال ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا باعث ثواب ہے یہ وہ شخص ہے جو جہاد کے لیے اسے پالے اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو(جس سے وہ بندھا ہوتا ہے) خوب دراز کر دے تو وہ اپنے اس طول و عرض میں جو کچھ بھی چرتا ہے وہ سب اس کے مالک کے لیے نیکیاں بن جاتی ہیں اور اگر کبھی وہ اپنی رسی تڑا کر دو چار قدم دوڑ لے تو اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتی ہے اور کبھی اگر وہ کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں سے پانی پی لے اگرچہ مالک کے دل میں اسے پہلے سے پانی پلانے کا خیال بھی نہ تھا، پھر بھی گھوڑے کا پانی پینا اس کے لیے ثواب بن جاتا ہے۔ اور ایک وہ آدمی جو گھوڑے کو لوگوں کے سامنے اپنی حاجت، پردہ پوشی اور سوال سے بچے رہنے کی غرض سے پالے اور اللہ تعالیٰ کا جو حق اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ہے اسے بھی وہ فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے لیے ایک طرح کا پردہ ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر اور دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں پالے تو وہ اس کے لیے وبال جان ہے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس جامع آیت کے سوا مجھ پر گدھوں کے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا:ترجمہ:سو جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے تو وہ اس کی بھی جزا پائے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے تو وہ اس کی بھی سزا پائے گا۔(الزلزال آیت ٧ تا ٨) (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر (کھیتوں میں کام کرنے کے لیے)جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر آگئے، وہ قلعہ کی طرف بھاگے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا:اللہ اکبر! خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں (جنگ کے لیے)اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں نے آپ علیہ السلام سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چناں چہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد(اس میں اتنی برکت ہوئی کہ پھر میں) کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔ (بخاری شریف کتاب المناقب ،باب،حدیث نمبر ٣٦٤٨)
Bukhari Shareef : Kitabul Manaqibe
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الْمَنَاقِبِ
|
•