
کتاب:فضائل صحابہ کرام کا بیان۔ باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فضائل کا بیان میں۔اور جو مسلمان نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مصاحب رہا یا جس نے آپ علیہ السلام کو دیکھا پس وہ آپ علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہیں۔ تب ان کی فتح ہوگی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی کی صحبت اٹھانے والے(تابعی)بھی موجود ہیں؟ جواب ہوگا کہ ہاں ہیں اور ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی، اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس وقت سوال اٹھے گا کہ کیا یہاں کوئی بزرگ ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں میں سے کسی بزرگ کی صحبت میں رہے ہوں؟ جواب ہوگا کہ ہاں ہیں، تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی پھر ان کی فتح ہوگی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی، فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ،حدیث نمبر ٣٦٤٩)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہوجایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہوجائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے (حرام مال کھا کھا کر)ان پر مٹاپا عام ہوجائے گا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی، بَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٦٥٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آ جایا کرے گی۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد (کے الفاظ زبان پر لانے) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی، بَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٦٥١)
باب:مہاجرین کے مناقب اور ان کے فضائل۔ ان میں سے حضرت ابو بکر عبد اللہ بن ابی قحافۃ التیمی رضی اللہ عنہ ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یہ اموال! ان فقراء اور مہاجرین کے لیے بھی ہیں جو اپنے گھروں اور اپنے اموال اور جائداد سے نکال دیے گئے ہیں وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں وہی سچے ہیں (الحشر ٨) حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے(ان کے والد)حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء(اپنے بیٹے)سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر حضرت عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے)کس طرح نکلے تھے حالاں کہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ شریف سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا۔ لیکن جب دوپہر ہوگئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آجائے اور ہم اس میں کچھ آرام کرسکیں۔ آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ اب آرام فرمائیں۔ چناں چہ آپ لیٹ گئے۔ پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں۔ پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چناں چہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا۔ اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے۔ اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آپ علیہ السلام کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کردیا تھا (اس میں ٹھنڈا پانی تھا) پھر میں نے دودھ پر وہ پانی(ٹھنڈا کرنے کے لیے)ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا تو اسے آپ علیہ السلام کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام بھی بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا: دودھ پی لیجئے۔ آپ علیہ السلام نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہوگئی، پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہوگیا ہے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ چناں چہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آپہنچا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی، بَابُ مَنَاقِبِ الْمُهَاجِرِينَ وَفَضْلِهِمْ،حدیث نمبر ٣٦٥٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے جن میں تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی، بَابُ مَنَاقِبِ الْمُهَاجِرِينَ وَفَضْلِهِمْ،حدیث نمبر ٣٦٥٣)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ :ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا (مسجد نبوی میں کھلنے والے) تمام دروازے بند کر دو، اس حدیث کی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کرلیا جو اللہ کے پاس تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا، لیکن بات یہ تھی کہ خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور(حقیقتاً)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو اپنا خلیل بناتا تو وہ ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے (جو صحابہ کرام کے گھروں کی طرف کھلتے تھے)سب بند کردیئے جائیں۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " سُدُّوا الْأَبْوَابَ،حدیث نمبر ٣٦٥٤)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد ہی میں جب ہمیں صحابہ کرام کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٦٥٥)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو (وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ذات ہوتی۔) یہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا خلیل بناتا تو وہ ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے صاحب ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا "حدیث نمبر ٣٦٥٦)
معلیٰ بن اسد اور موسیٰ نے بیان کیا،کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے(یہی روایت) کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ کیا کم ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے اور ان سے ایوب نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا "حدیث نمبر ٣٦٥٧)
عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ کوفہ والوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دادا(کی میراث کے سلسلے میں)سوال لکھا تو آپ نے انہیں جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر اس امت میں کسی کو میں اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا (وہی)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ دادا، باپ کی طرح ہے (یعنی جب میت کا باپ زندہ نہ ہو تو باپ کا حصہ دادا کی طرف لوٹ جائے گا۔ یعنی باپ کی جگہ دادا وارث ہوگا) (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ".حدیث نمبر ٣٦٥٨)
محمد بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر آنا۔ اس نے کہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کے پاس چلی آنا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٥٩)
حضرت عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا ہے جب آپ علیہ السلام کے ساتھ (اسلام لانے والوں میں صرف) پانچ غلام، دو عورتوں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٠)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے، گھٹنا ظاہر کئے ہوئے آئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کسی سے لڑ کر آئے ہیں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی تھی اور اس سلسلے میں، میں نے جلدی میں ان کو سخت لفظ کہہ دیئے لیکن بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی تو میں نے ان سے معافی چاہی، اب وہ مجھے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ! تمہیں اللہ معاف کرے۔ تین مرتبہ آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور پوچھا کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر پر موجود ہیں؟ معلوم ہوا کہ نہیں تو آپ بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصہ سے بدل گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم زیادتی میری ہی طرف سے تھی۔ دو مرتبہ یہ جملہ کہا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہو یا نہیں؟ آپ نے دو دفعہ یہی فرمایا: آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦١)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ سے میں نے پوچھا، اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب سے۔ اس طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا آگیا اور ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے جانے لگا۔ چرواہے نے اس سے بکری چھڑانی چاہی تو بھیڑیا بول پڑا۔ درندوں والے دن میں اس کی رکھوالی کرنے والا کون ہوگا جس دن میرے سوا اور کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ اسی طرح ایک شخص بیل کو اس پر سوار ہو کرلیے جا رہا تھا، بیل اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ میری پیدائش اس کے لیے نہیں ہوئی ہے۔ میں تو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ وہ شخص بول پڑا۔ سبحان اللہ! (جانور اور انسانوں کی طرح باتیں کرے) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان واقعات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بن خطاب بھی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر اسے ابن ابی قحافہ(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرلی اور اسے عمر بن خطاب رضی اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کرلیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا(پاجامہ یا تہبند وغیرہ)تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے (اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں)موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا(مثلاً دو روپے، دو کپڑے، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیے)تو اسے جنت کے دروازوں میں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! ادھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہوگا اسے صیام اور ریان(سیرابی) کے دروازے سے بلایا جائے گا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے اے ابوبکر!۔کہ وہ شخص تم ہی ہوگے! (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٦)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت مقام سُنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا یعنی عوالی کے ایک گاؤں میں۔ آپ علیہ السلام کے متعلق خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اللہ کی قسم! اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا اور میں کہتا تھا کہ اللہ آپ علیہ السلام کو ضرور اس بیماری سے اچھا کر کے اٹھائے گا اور آپ علیہ السلام ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے(جو آپ کی موت کی باتیں کرتے ہیں)اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے قسم کھانے والے! ذرا تامل کر۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا:اے لوگو! دیکھو اگر کوئی سیدنا محمد( صلی اللہ علیہ وسلم)کی عبادت کرتا تھا(یعنی یہ سمجھتا تھا کہ وہ انسان نہیں ہیں،وہ کبھی نہیں وصال کریں گے)تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔(پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سورة الزمر کی یہ آیت پڑھی)ترجمہ:بے شک آپ فوت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں، (الزمر ٣٠)اور یہ آیت پڑھی! ترجمہ:اور محمد معبود نہیں صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید ہوں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور الٹے پاؤں پھرےگا تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ عطا فرمائے گا (آل عمران ١٤٤)راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ راوی نے بیان کیا کہ انصار بنی ساعدہ کے چبوترے میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر آپ(مہاجرین)میں سے ہوگا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ان کی مجلس میں پہنچے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے خاموش رہنے کے لیے کہا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم! میں نے ایسا صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ میں نے پہلے ہی سے ایک تقریر تیار کرلی تھی جو مجھے بہت پسند آئی تھی پھر بھی مجھے خدشہ تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی برابری اس سے بھی نہیں ہو سکے گی۔پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انتہائی بلاغت کے ساتھ بات شروع کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم(قریش) امراء ہیں اور آپ (جماعت انصار)وزارء ہو۔اس پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ بولے کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر آپ میں سے ہوگا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ہم امراء ہیں آپ لوگ وزارء ہو(وجہ یہ ہے کہ) قریش کے لوگ سارے عرب میں شریف خاندان شمار کیے جاتے ہیں اور ان کا ملک(یعنی مکہ مکرمہ)عرب کے بیچ میں ہے تو اب آپ لوگوں کو اختیار ہے یا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلو یا حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے۔آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی پھر سب لوگوں نے بیعت کی۔ اتنے میں کسی کی آواز آئی کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تم لوگوں نے مار ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں اللہ نے مار ڈالا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (وفات سے پہلے) اپنی نظر بلند کی اور آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! مجھے رفیق اعلیٰ میں(داخل کر)اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ دونوں ہی کے خطبوں سے نفع پہنچا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ڈرایا کیوں کہ ان میں بعض منافقین بھی تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس طرح (غلط افواہیں پھیلانے سے) ان کو باز رکھا۔ اور بعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو حق اور ہدایت کی بات تھی وہ لوگوں کو سمجھا دی اور ان کو بتلا دیا جو ان پر لازم تھا (یعنی اسلام پر قائم رہنا)اور لوگ جب وہاں سے نکلے تو وہ سب یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے:ترجمہ:اور محمد خدا نہیں ہیں صرف رسول ہیں ان سے پہلے دیگر رسول گزر چکے ہیں،یہ آیت الشاکرين تک پڑھی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٦٧،.٣٦٦٨،٣٦٦٩،٣٦٧٠)
حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتایا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجھے اس کا خوف ہوا کہ اب کہہ دیں گے کہ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر آپ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جب ہم مقام بیداء یا مقام ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گرگیا،اس لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی تلاش کے لیے وہاں ٹھہر گئے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ ٹھہرے لیکن نہ اس جگہ پانی تھا اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ ملاحظہ نہیں فرماتے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کیا کیا، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہیں روک لیا ہے۔اتنے صحابہ کرام آپ کے ساتھ ہیں۔ نہ تو یہاں پانی ہے اور نہ لوگ اپنے ساتھ(پانی) لیے ہوئے ہیں۔اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ وہ کہنے لگے، تمہاری وجہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اور سب لوگوں کو رکنا پڑا۔ اب نہ یہاں کہیں پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر غصہ کیا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا انہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے۔ میں ضرور تڑپ اٹھتی مگر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سوئے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پانی نہیں تھا اور اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرمایا اور سب نے تیمم کیا۔ اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جب اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے ہمیں ملا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو۔اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا(اللہ کی راہ میں)خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک کلو گرام یا اس کے نصف کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو جریر، عبداللہ بن داود، ابومعاویہ اور محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٣)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ایک دن اپنے گھر میں وضو کیا اور اس ارادہ سے نکلے کہ آج دن بھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر وہ مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو تشریف لے جا چکے ہیں اور آپ اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔چناں چہ میں آپ کے متعلق پوچھتا ہوا آپ کے پیچھے پیچھے نکلا اور آخر میں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام (قباء کے قریب) بئر اریس میں داخل ہو رہے ہیں، میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ جب آپ علیہ السلام قضائے حاجت کرچکے اور آپ علیہ السلام نے وضو بھی کرلیا تو میں آپ علیہ السلام کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام بئر اریس(اس باغ کے کنویں) کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی پنڈلیاں آپ علیہ السلام نے کھول رکھی ہیں اور کنویں میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں۔ میں نے آپ علیہ السلام کو سلام کیا اور پھر واپس آ کر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دربان رہوں گا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازہ کھولنا چاہا تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر! میں نے کہا تھوڑی دیر ٹھہر جائیے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت آپ سے چاہتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔ میں دروازہ پر آیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور اسی کنویں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی داہنی طرف بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لٹکائے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو بھی کھول لیا تھا۔ پھر میں واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ میں آتے وقت اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ آیا تھا۔ وہ میرے ساتھ آنے والے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا، کاش اللہ تعالیٰ فلاں کو خبر دے دیتا۔ ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی اور انہیں یہاں پہنچا دیتا۔ اتنے میں کسی صاحب نے دروازہ پر دستک دی میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ کہا کہ حضرت عمر بن خطاب۔ میں نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائیے، چناں چہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی پہنچا دو۔ میں واپس آیا اور کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ بھی داخل ہوئے اور آپ علیہ السلام کے ساتھ اسی منڈیر پر بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ میں پھر دروازے پر آ کر بیٹھ گیا اور سوچتا رہا کہ اگر اللہ تعالیٰ فلاں(ان کے بھائی)کے ساتھ خیر چاہے گا تو اسے یہاں پہنچا دے گا، اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بولے کہ عثمان بن عفان، میں نے کہا تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے، میں آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور میں نے آپ کو ان کی اطلاع دی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی جنت کی بشارت پہنچا دو۔ میں دروازے پر آیا اور میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے، ایک مصیبت پر جو آپ کو پہنچے گی۔ وہ جب داخل ہوئے تو دیکھا چبوترہ پر جگہ نہیں ہے اس لیے وہ دوسری طرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب نے کہا میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل لی ہے (کہ اسی طرح بنیں گی) ۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد پہاڑ کانپ اٹھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے احد! ٹھہر جاؤ کہ تجھ پر ایک نبی،ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر (خواب میں)کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہوگیا۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چناں چہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ العطن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ (وہیں) بیٹھ گئے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور(حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں(رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ )کے ساتھ(دفن) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ تھے،میں نے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کام کیا، میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ گئے اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٦٧٧
حضرت عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ علیہ السلام اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ علیہ السلام کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب ،حدیث نمبر ٣٦٧٨)
باب: ابوحفص عمر بن خطاب قرشی عدوی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں( خواب میں) جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاء کو دیکھا اور میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اس کے سامنے ایک عورت تھی، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے؟ تو بتایا کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آئی(اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَبِي حَفْصٍ الْقُرَشِيِّ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٦٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا۔ پھر مجھے ان کی غیرت و حمیت یاد آئی اور میں وہیں سے لوٹ آیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا؟ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٠)
حضرت حمزہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما )نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دودھ پیا، اتنا کہ میں دودھ کی سیرابی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پر بہ رہی ہے، پھر میں نے پیالہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس پر لکڑی کا چرخ لگا ہوا ہے،پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کرسکتا ہو۔انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔ ابن جبیر نے کہا کہ عبقري کا معنی عمدہ اور زرابي اور عبقري سردار کو بھی کہتے ہیں(حدیث میں عبقري سے یہی مراد ہے)یحییٰ بن زیاد فری نے کہا، زرابي ان بچھونوں کو کہتے ہیں جن کے حاشیے باریک، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٢)
محمد بن سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں(امہات المومنین میں سے) بیٹھی باتیں کر رہی تھیں اور آپ علیہ السلام کی آواز پر اپنی آواز اونچی کرتے ہوئے آپ علیہ السلام سے نان و نفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ جوں ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہو کر پردے کے پیچھے جلدی سے ہو گئیں۔ آخر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور وہ داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو ہمیشہ خوش رکھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ڈرنا تو انہیں آپ علیہ السلام سے چاہیے تھا۔ پھر انہوں نے(عورتوں سے) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں، عورتوں نے کہا کہ ہاں! آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ کہیں زیادہ سخت ہیں۔اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ غلبہ حاصل رہا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو(شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے ان کے جنازے کو گھیر لیا اور ان کے لیے (اللہ سے)دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے،جنازہ ابھی اٹھایا نہیں گیا تھا،میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور (ان کے جنازے کو مخاطب کر کے) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو (پہلے سے) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ گئے۔ میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ باہر آئے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو آپ علیہ السلام کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے،احد پہاڑ لرزنے لگا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکر مارا اور فرمایا:اے احد! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٦)
زید بن اسلم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے مجھ سے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعض حالات پوچھے، جو میں نے انہیں بتا دیئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کسی شخص کو دین میں اتنی زیادہ کوشش کرنے والا اور اتنا زیادہ سخی نہیں دیکھا اور یہ خصائل حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر ختم ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص(ذو الخویصرۃ الیمانی،یا ابو موسیٰ اشعری، یا پھر ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہما)نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقوع ہونے کے بارے میں سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تمہیں محبت ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی کسی بات سے بھی نہیں ہوئی جتنی آپ علیہ السلام کی یہ حدیث سن کر ہوئی کہ تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تمہیں محبت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہوں اور ان سے اپنی اس محبت کی وجہ سے امید رکھتا ہوں کہ میرا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا، اگرچہ میں ان جیسے عمل نہ کرسکا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہوسکتا ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑئیے نے اس کی ایک بکری پکڑ لی۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا۔ پھر بھیڑیا اس کی طرف متوجہ ہو کر بولا: درندوں کے دن اس کی حفاظت کرنے والا کون ہوگا؟ جب میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ صحابہ کرام اس پر بول اٹھے: سبحان اللہ!نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس واقعہ پر ایمان لایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی۔حالاں کہ وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٩٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو قمیص پہنے ہوئے تھے ان میں سے بعض کی قمیص صرف سینے تک تھی اور بعض کی اس سے بھی چھوٹی اور میرے سامنے عمر رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو وہ اتنی بڑی قمیص پہنے ہوئے تھے کہ چلتے ہوئے گھسٹتی تھی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ علیہ السلام نے اس کی تعبیر کیا لی؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین مراد ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٩١)
مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کردیئے گئے تو آپ نے بڑی بےچینی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے آپ سے تسلی کے طور پر کہا کہ اے امیرالمؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ اس درجہ گھبرا کیوں رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ تع رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت کا پورا حق ادا کیا اور پھر جب آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جدا ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے خوش اور راضی تھے، اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اٹھائی اور ان کی صحبت کا بھی آپ رضی اللہ عنہ نے پورا حق ادا کیا اور جب جدا ہوئے تو وہ بھی آپ رضی اللہ عنہ سے راضی اور خوش تھے۔ آخر میں مسلمانوں کی صحبت آپ رضی اللہ عنہ کو حاصل رہی۔ ان کی صحبت کا بھی آپ رضی اللہ عنہ نے پورا حق ادا کیا اور اگر آپ رضی اللہ عنہ ان سے جدا ہوئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہیں بھی آپ رضی اللہ عنہ اپنے سے خوش اور راضی ہی چھوڑیں گے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن عباس! تم نے جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت کا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رضا و خوشی کا ذکر کیا ہے تو یقیناً یہ صرف اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اور احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے۔ اسی طرح جو تم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اور ان کی خوشی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل و احسان تھا۔ لیکن جو گھبراہٹ اور پریشانی مجھ پر تم طاری دیکھ رہے ہو وہ تمہاری وجہ سے اور تمہارے ساتھیوں کی فکر کی وجہ سے ہے۔ اور اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا۔ حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر آخر تک یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٩٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ شریف کے ایک باغ (بئر اریس)میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوش خبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ ان کے لیے بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں(دنیا میں)واسطہ پڑے گا(دروازہ کھولا تو) وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ جب میں نے ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٩٣)
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ علیہ السلام اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٦٩٤)
باب:حضرت عثمان بن عفان بن ابی عمرو القرشی رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو رومۃ کا کنواں کھودے گا تو اس کو جنت ملے گی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کنواں کو کھودا تھا، اور آپ علیہ السلام نے فرمایا:جس نے تنگی کے لشکر میں سامان مہیا کیا تو اس کے لیے جنت ہے پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کے لیے سامان مہیا کیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک باغ (بئر اریس) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتا رہوں۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوش خبری بھی سنا دو، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوش خبری سنا دو، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور (دنیا میں)ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنا دو، وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔حماد بن سلمہ نے بیان کیا کہ ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ علیہ السلام اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ علیہ السلام نے اپنے گھٹنے کو چھپالیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،حدیث نمبر ٣٦٩٥)
عبیداللہ بن عدی بن خیار نے بیان کیا کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث دونوں نے ان سے کہا کہ تم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے مقدمہ میں(جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا)کیوں گفتگو نہیں کرتے، لوگ اس سے بہت ناراض ہیں۔ چناں چہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور جب وہ نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ رضی اللہ عنہ سے ایک ضرورت ہے اور وہ ہے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک خیر خواہی! اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلے آدمی تم سے(میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں)امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ معمر نے یوں روایت کیا، میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔میں واپس ان دونوں کے پاس گیا، اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھ کو بلانے کے لیے آیا میں جب اس کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ تمہاری خیر خواہی کیا تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل کی آپ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دو ہجرتیں کیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو دیکھا، لیکن بات یہ ہے کہ لوگ ولید کی بہت شکایتیں کر رہے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث ایک کنواری لڑکی تک کو اس کے تمام پردوں کے باوجود جب پہنچ چکی ہیں تو مجھے کیوں نہ معلوم ہوتیں۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امابعد: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا اور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جس دعوت کو لے کر بھیجے گئے تھے میں اس پر پورے طور سے ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا دو ہجرتیں بھی کیں۔ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا ہوں اور آپ علیہ السلام سے بیعت بھی کی ہے۔ پس اللہ کی قسم میں نے کبھی آپ علیہ السلام کے حکم سے تجاوز نہیں کی۔ اور نہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی دھوکا کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وفات دی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا تو کیا جب کہ مجھے ان کا جانشیں بنادیا گیا ہے تو مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں تھے؟ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر ان باتوں کے لیے کیا جواز رہ جاتا ہے جو تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں لیکن تم نے جو ولید کے حالات کا ذکر کیا ہے، ان شاء اللہ ہم اس کی سزا جو واجبی ہے اس کو دیں گے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ ولید کو حد لگائیں۔ چناں چہ انہوں نے ولید کو اسی کوڑے حد کے لگائے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،حدیث نمبر ٣٦٩٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ علیہ السلام کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے تو احد پہاڑ کانپنے لگا۔تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا:اے احد ٹھہر جا۔میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،حدیث نمبر ٣٦٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر(با اعتبار فضیلت)کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے،شاذ ان کی متابعت عبداللہ بن صالح نے بھی کی ہے از عبدالعزیز۔ عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ مصر والوں میں سے ایک نام نامعلوم آدمی آیا اورحج بیت اللہ کیا، پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا کہ یہ قریشی ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ان میں بزرگ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عبداللہ بن عمر ہیں۔اس نے پوچھا۔ اے ابن عمر! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ مجھے بتائیں گے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی سے راہ فرار اختیار کی تھی؟حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے؟ جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہیں تھے۔ جواب دیا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ یہ سن کر اس کی زبان سے نکلا اللہ اکبر! تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ قریب آجاؤ، اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاؤں گا۔ احد کی لڑائی سے فرار کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور اس وقت وہ بیمار تھیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہیں (مریضہ کے پاس ٹھہرنے کا) اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوگا اور اسی کے مطابق مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا اور بیعت رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر وادی مکہ میں کوئی بھی شخص(مسلمانوں میں سے)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ عزت والا اور بااثر ہوتا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی کو ان کی جگہ وہاں بھیجتے،یہی وجہ ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں (قریش سے باتیں کرنے کے لیے)مکہ بھیج دیا تھا اور جب بیعت رضوان ہو رہی تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ جا چکے تھے، اس موقع پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ یہ بیعت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کرنے والے شخص سے فرمایا کہ جا، ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے تو احد پہاڑ کانپنے لگا۔ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا اے احد! ٹھہر جا میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،حدیث نمبر ٣٦٩٨،و حدیث نمبر ٣٦٩٩)
باب:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کا قصہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اتفاق اور اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر ہے۔ عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے سے چند دن پہلے مدینہ شریف میں دیکھا کہ وہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے تھے اور ان سے یہ فرما رہے تھے کہ(عراق کی اراضی کے لیے، جس کا انتظام خلافت کی جانب سے ان کے سپرد کیا گیا تھا) تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ خدشہ تو نہیں ہے کہ تم نے زمین کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو۔ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان پر خراج کا اتنا ہی بار ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی زمین میں طاقت ہے، اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو پھر سے غور و فکر کر لو کہ تم نے ایسی خراج تو نہیں لگائی ہے جو زمین کی طاقت سے باہر ہو۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دونوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے پائے گا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا تو میں عراق کی بیوہ عورتوں کے لیے اتنا کر دوں گا کہ پھر میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔ راوی عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیئے گئے۔عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس صبح کو آپ رضی اللہ عنہ زخمی کئے گئے، میں(فجر کی نماز کے انتظار میں)صف کے اندر کھڑا تھا اور میرے اور ان کے درمیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی نہیں تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب صف سے گزرتے تو فرماتے جاتے کہ صفیں سیدھی کر لو اور جب دیکھتے کہ صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا ہے تب آگے(مصلی پر) بڑھتے اور تکبیر کہتے۔ آپ رضی اللہ عنہ (فجر کی نماز کی) پہلی رکعت میں عموماً سورۃ یوسف یا سورۃ النحل یا اتنی ہی طویل کوئی سورت پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے۔ اس دن ابھی آپ رضی اللہ عنہ نے تکبیر ہی کہی تھی کہ میں نے سنا، آپ رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ مجھے قتل کر دیا یا کتے نے کاٹ لیا۔ ابولولو نے آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا اور دائیں اور بائیں جدھر بھی بھاگتا تو لوگوں کو زخمی کرتا جاتا۔ اس طرح اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سات حضرات نے شہادت پائی۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب (حطان نامی) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس پر اپنی چادر ڈال دی۔ اس بدبخت کو جب یقین ہو گیا کہ اب پکڑ لیا جائے گا تو اس نے خود اپنا بھی گلا کاٹ لیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے بڑھا دیا (عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ) جو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے بھی وہ صورت حال دیکھی جو میں دیکھ رہا تھا لیکن جو لوگ مسجد کے کنارے پر تھے (پیچھے کی صفوں میں) تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہو سکا، البتہ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قرآت (نماز میں) انہوں نے نہیں سنی تو سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہتے رہے۔ آخر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر جب لوگ نماز سے پلٹے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! دیکھو مجھ پر کس نے قاتلانہ حملہ کیا ہے؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آ کر فرمایا کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام (ابولولو) نے آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا، وہی جو کاری گر ہے؟ جواب دیا کہ جی ہاں! اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اسے برباد کرے میں نے تو اسے اچھی بات کہی تھی(جس کا اس نے یہ بدلا دیا) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں مقدر کی جو اسلام کا مدعی ہو۔ تم اور تمہارے والد (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) اس کے بہت ہی خواہش مند تھے کہ عجمی غلام مدینہ میں زیادہ سے زیادہ لائے جائیں۔ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا، اگر آپ رضی اللہ عنہ فرمائیں تو ہم بھی کر گزریں۔ مقصد یہ تھا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہ چاہیں تو ہم (مدینہ شریف میں مقیم عجمی غلاموں کو) قتل کر ڈالیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ انتہائی غلط فکر ہے، خصوصاً جب کہ تمہاری زبان میں وہ گفتگو کرتے ہیں، تمہارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر اٹھا کر لایا گیا اور ہم آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر کبھی اس سے پہلے اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں تھی، بعض تو یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ (اچھے ہو جائیں گے) اور بعض کہتے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی خطرہ میں ہے۔ اس کے بعد کھجور کا پانی لایا گیا۔ اسے آپ رضی اللہ عنہ نے پیا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کے پیٹ سے باہر نکل آیا۔ پھر دودھ لایا گیا اسے بھی جوں ہی آپ رضی اللہ عنہ نے پیا زخم کے راستے وہ بھی باہر نکل آیا۔ اب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت یقینی ہے۔ پھر ہم اندر آ گئے اور لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کرنے لگے، اتنے میں ایک نوجوان اندر آیا اور کہنے لگایا:اے امیرالمؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ کو خوش خبری ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی۔ ابتداء میں اسلام لانے کا شرف حاصل کیا جو آپ کو معلوم ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے پورے انصاف سے حکومت کی، پھر شہادت پائی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس پر بھی خوش تھا کہ ان باتوں کی وجہ سے برابر پر میرا معاملہ ختم ہو جاتا، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔ جب وہ نوجوان جانے لگا تو اس کا تہبند (ازار) لٹک رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پاس واپس بلا لاؤ (جب وہ آئے تو) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بھتیجے! یہ اپنا کپڑا اوپر اٹھائے رکھو کہ اس سے تمہارا کپڑا بھی زیادہ دنوں چلے گا اور تمہارے رب سے تقویٰ کا بھی باعث ہے۔ اے عبداللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ جب لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر قرض کا شمار کیا تو تقریباً چھیاسی ہزار نکلا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا ہو سکے تو انہی کے مال سے اس کو ادا کرنا ورنہ پھر بنی عدی بن کعب سے کہنا، اگر ان کے مال کے بعد بھی ادائیگی نہ ہو سکے تو قریش سے کہنا، ان کے سوا کسی سے امداد نہ طلب کرنا اور میری طرف سے اس قرض کو ادا کر دینا۔ اچھا اب حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ عمر نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ امیرالمؤمنین (میرے نام کے ساتھ) نہ کہنا، کیوں کہ اب میں مسلمانوں کا امیر نہیں رہا ہوں، تو ان سے عرض کرنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر) سلام کیا اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔تو دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیٹھی رو رہی ہیں۔ پھر کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو سلام کہا ہے اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنے پر ترجیح دوں گی، پھر جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ آ گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اٹھاؤ۔ ایک صاحب نے سہارا دے کر آپ کو اٹھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا،کیا خبر لائے؟ کہا کہ جو آپ رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی اے امیرالمؤمنین! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمدللہ۔ اس سے اہم چیز اب میرے لیے کوئی نہیں رہ گئی تھی۔ لیکن جب میری وفات ہو چکے اور مجھے اٹھا کر (دفن کے لیے) لے چلو تو پھر میرا سلام ان سے کہنا اور عرض کرنا کہ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اجازت چاہی ہے۔ اگر وہ میرے لیے اجازت دے دیں تب تو وہاں دفن کرنا اور اگر اجازت نہ دیں تو مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کرنا۔ اس کے بعد حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں، جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم اٹھ گئے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب آئیں اور وہاں تھوڑی دیر تک آنسو بہاتی رہیں۔ پھر جب مردوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ مکان کے اندرونی حصہ میں چلی گئیں اور ہم نے ان کے رونے کی آواز سنی پھر لوگوں نے عرض کیا اے امیرالمؤمنین! خلافت کے لیے کوئی وصیت کر دیجئیے، فرمایا کہ خلافت کا میں ان حضرات سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے راضی اور خوش تھے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ،حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کا نام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ عبداللہ بن عمر کو بھی صرف مشورہ کی حد تک شریک رکھنا لیکن خلافت سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہے گا۔ جیسے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تسکین کے لیے یہ فرمایا ہو۔ پھر اگر خلافت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو مل جائے تو وہ اس کے اہل ہیں اور اگر وہ نہ ہو سکیں تو جو شخص بھی خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان کا تعاون حاصل کرتا رہے۔ کیوں کہ میں نے ان کو (کوفہ کی گورنری سے) نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے ساتھ بہتر معاملہ کرے جو دارالہجرت اور دارالایمان (مدینہ منورہ) میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے سے) مقیم ہیں۔ (خلیفہ کو چاہیے) کہ وہ ان کے نیکوں کو نوازے اور ان کے بروں کو معاف کر دیا کرے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھے کہ یہ لوگ اسلام کی مدد، مال جمع کرنے کا ذریعہ اور (اسلام کے) دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں اور یہ کہ ان سے وہی وصول کیا جائے جو ان کے پاس فاضل ہو اور ان کی خوشی سے لیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو بدویوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور اسلام کی جڑ ہیں اور یہ کہ ان سے ان کا بچا کھچا مال وصول کیا جائے اور انہیں کے محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی نگہداشت کی (جو اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں سے کیا ہے) وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کئے گئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے اور ان کی حیثیت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم وہاں سے ان کو لے کر (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرہ کی طرف آئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور عرض کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ہے۔حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا انہیں یہیں دفن کیا جائے۔ چناں چہ وہ وہیں دفن ہوئے، پھر جب لوگ دفن سے فارغ ہو چکے تو وہ جماعت (جن کے نام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے بتائے تھے) جمع ہوئی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنا معاملہ اپنے ہی میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دینا چاہیے اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے) کہا کہ آپ دونوں حضرات میں سے جو بھی خلافت سے اپنی برات ظاہر کرے ہم اسی کو خلافت دیں گے اور اللہ اس کا نگراں و نگہبان ہو گا اور اسلام کے حقوق کی ذمہ داری اس پر لازم ہو گی۔ ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون افضل ہے، اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں، اللہ کی قسم کہ میں آپ حضرات میں سے اسی کو منتخب کروں گا جو سب میں افضل ہو گا۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ جی ہاں، پھر آپ نے ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ آپ کی قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ابتداء میں اسلام لانے کا شرف بھی۔ جیسا کہ آپ کو خود ہی معلوم ہے، پس اللہ آپ کا نگہبان ہے کہ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ عدل و انصاف سے کام لیں گے اور اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ ان کے احکام سنیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے؟ اس کے بعد دوسرے صاحب کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی یہی کہا اور جب ان سے وعدہ لے لیا تو فرمایا: اے عثمان! اپنا ہاتھ بڑھایئے۔ چناں چہ انہوں نے ان سے بیعت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے بیعت کی، پھر اہل مدینہ آئے اور سب نے بیعت کی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ قِصَّةِ الْبَيْعَةِ، وَالِاتِّفَاقِ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،حدیث نمبر ٣٧٠٠)
باب:حضرت عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ أَبِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے مناقب۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ علیہ السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راضی تھے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئیے اسلامی جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو آپ علیہ السلام کی خدمت میں سب حضرات(جو سر کردہ تھے)حاضر ہوئے، سب کو امید تھی کہ اسلامی جھنڈا انہیں ہی ملے گا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوا لو، جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، اس سے انہیں ایسی شفاء حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں، چناں چہ آپ نے اسلامی جھنڈا انہیں کو عنایت فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں (یعنی مسلمان بن جائیں) آپ علیہ السلام نے فرمایا: ابھی یوں ہی چلتے رہو، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (کی دولت)سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ أَبِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٠١-
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آسکے تھے، پھر انہوں نے سوچا میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں! (یہ کیسے برداشت کروں) چناں چہ گھر سے (وہ) نکلے اور آپ علیہ السلام کے لشکر سے جا ملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی جھنڈا دوں گا یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل) ایک ایسا شخص اسلامی جھنڈا کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا، اتفاق سے حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے، حالاں کہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں دے دیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٢)
عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور کہا کہ یہ فلاں شخص اس کا اشارہ امیر مدینہ(مروان بن حکم) کی طرف تھا، برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتا ہے، ابوحازم نے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا کہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ انہیں ابوتراب کہتا ہے، اس پر حضرت سہل رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! یہ نام تو ان کا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے زیادہ اپنے لیے اور کوئی نام پسند نہیں تھا۔ یہ سن کر میں نے اس حدیث کے جاننے کے لیے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے خواہش ظاہر کی اور عرض کیا: اے ابوعباس! یہ واقعہ کس طرح سے ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں آئے (کچھ نااتفاقی ہوئی) اور پھر باہر آ کر مسجد میں لیٹ رہے، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے) دریافت فرمایا، تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مسجد میں ہیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، دیکھا تو ان کی چادر پیٹھ سے نیچے گرگئی ہے اور ان کی کمر پر اچھی طرح سے خاک لگ چکی ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مٹی ان کی کمر سے صاف فرمانے لگے اور بولے، اٹھو اے ابوتراب اٹھو! (دو مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا) ۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٣)
سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا جی ہاں! حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا کہ جی ہاں! حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے، جا، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا، کچھ کمی نہ کرنا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٤)
ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے)چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ علیہ السلام کے پاس آئیں لیکن آپ علیہ السلام موجود نہیں تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپ علیہ السلام کو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہوجاؤں لیکن آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ علیہ السلام ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ علیہ السلام کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں،(ہم نے عرض کی جی ارشاد فرمائیں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا )جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٥)
سعد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابراہیم بن سعد سے سنا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہارون (علیہ السلام) تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٦)
عبیدہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عراق والوں سے کہا کہ جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے اب بھی کیا کرو کیوں کہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہوجائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ )کی طرح دنیا سے چلا جاؤں، ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ عام لوگ(روافض)جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایات(شیخین کی مخالفت میں) بیان کرتے ہیں وہ قطعاً جھوٹی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٧)
باب:حضرت جعفر بن ابی طالب ہاشمی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے، حالاں کہ پیٹ بھرنے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت رہتا تھا، میں خمیری روٹی نہ کھاتا اور نہ عمدہ لباس پہنتا تھا(یعنی میرا وقت علم کے سوا کسی دوسری چیز کے حاصل کرنے میں نہ جاتا) اور نہ میری خدمت کے لیے کوئی فلاں یا فلانی تھی بلکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیا کرتا۔ بعض وقت میں کسی کو کوئی آیت اس لیے پڑھ کر اس کا مطلب پوچھتا تھا کہ وہ اپنے گھر لے جا کر مجھے کھانا کھلا دے، حالاں کہ مجھے اس آیت کا مطلب معلوم ہوتا تھا، مسکینوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں موجود ہوتا وہ ہم کو کھلاتے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ صرف شہد یا گھی کی کپی ہی نکال کر لاتے اور اسے ہم پھاڑ کر اس میں جو کچھ ہوتا اسے ہی چاٹ لیتے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٨)
شعبی نے بیان کیا کہ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے السلام عليك يا ابن ذي الجناحين. اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا حدیث میں جو جناحين، کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے (کونے) ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٧٠٩)
باب:حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧١٠
باب: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے فضائل اور حضرت فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی میراث کے متعلق پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال فی کی صورت میں مال عطا کیا تھا اس میں ان کی میراث دیں۔ یعنی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مطالبہ مدینہ کی اس جائیداد کے بارے میں تھا جس کی آمدن سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مصارف خیر میں خرچ کرتے تھے،اور اسی طرح فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کا بھی مطالبہ کر رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود فرما گئے ہیں کہ ہماری میراث نہیں ہوتی( یعنی ہمارا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا) ہم(انبیاء علیہم السلام )جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخراجات اسی مال میں سے پورے کئے جائیں مگر انہیں یہ حق نہیں ہوگا کہ کھانے کے علاوہ اور کچھ تصرف کریں اور میں، اللہ کی قسم! آپ علیہ السلام کے صدقے میں جو آپ علیہ السلام کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ان میں کوئی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ وہی نظام جاری رکھوں گا جیسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و مرتبہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا اور اپنے حق کا ذکر کیا،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے آپ علیہ السلام کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْقَبَةُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٧١١،و حدیث نمبر ٣٧١٢،
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا خیال رکھو۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٧١٣)
مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٧١٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ علیہ السلام کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات (ان کے کان میں) کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ علیہ السلام نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات(دوبارہ ان کے کان میں) کہی تو وہ ہنسنے لگیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اس کے متعلق پوچھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں وفات پاجائیں گے، میں اس پر رونے لگی۔ پھر مجھ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا کہ آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی، اس پر میں ہنسی تھی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٧١٥،و حدیث نمبر ٣٧١٦)
باب:حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں ان کو حواری اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے کپڑے سفید تھے۔ ہشام بن عروہ نے فرمایا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ رضی اللہ عنہ حج کے لیے بھی نہ جاسکے، اور(زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کردی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کسی کو خلیفہ بنادیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہوگئے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا: غالباً حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،حدیث نمبر ٣٧١٧)
ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ رضی اللہ عنہ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کیا اس کی( سب لوگوں کی طرف سے) خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! (اور زیادہ تر لوگوں کا) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تم میں بہتر ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،حدیث نمبر ٣٧١٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،حدیث نمبر ٣٧١٩)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا (کیونکہ یہ دونوں حضرات اس وقت بچے تھے)میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ (راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے والد) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ(یہودیوں کے ایک قبیلہ کی)طرف جا اور آرہے ہیں۔دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ بنو قریظہ کی طرف آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی (نقل و حرکت کے متعلق) اطلاع میرے پاس لاسکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں (خبر لے کر) واپس آیا تو آپ علیہ السلام نے (فرط مسرت میں)اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،حدیث نمبر ٣٧٢٠)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے بتایا کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حملہ کریں۔ چناں چہ انہوں نے ان(رومیوں) پر حملہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے (رومیوں نے)آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کو لگا تھا۔عروہ نے کہا کہ (یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہوجانے کے بعد)میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،حدیث نمبر ٣٧٢١)
باب: حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ علیہ السلام حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے راضی تھے۔ حضرت ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے (جیسے احد کی جنگ میں تو )آپ علیہ السلام کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ ذِكْرِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٧٢٢،و حدیث نمبر ٣٧٢٣)
قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی (جنگ احد میں)حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہوچکا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ ذِكْرِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٧٢٤)
باب: حضرت سعد بن ابی وقاص الزہری رضی اللہ عنہ کے فضائل اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماموؤں کے فضائل اور وہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،حدیث نمبر ٣٧٢٥)
عامر بن سعد نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ مجھے خوب یاد ہے۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرے مسلمان حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،حدیث نمبر ٣٧٢٦)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے (سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ کرام )بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،حدیث نمبر ٣٧٢٧)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ عرب میں سب سے پہلے اللہ کی راہ میں، میں نے تیر اندازی کی تھی (ابتداء اسلام میں) ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی میگنیوں کی طرح قضائے حاجت ہوتی تھی۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں (اگر) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بےنصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہوگئے۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی جھوٹی شکایت کی تھی۔ اور یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،حدیث نمبر ٣٧٢٨)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دامادوں کا بیان حضرت ابوالعاص بن ربیع بھی ان ہی میں سے ہیں۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو(جو مسلمان تھیں)پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کرنے لگی کہ آپ علیہ السلام کی قوم کا خیال ہے کہ آپ علیہ السلام کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ علیہ السلام نے صحابہ کرام کو خطاب فرمایا: میں نے آپ علیہ السلام کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے (اپنی شہزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کی )شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ میری شہزادی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا میرے (جسم کا)ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہوسکتیں۔ چناں چہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کردیا۔دوسری سند کے ساتھ اس طرح ہے کہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ علیہ السلام نے بنی عبد شمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا(یعنی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا) اور(ان کے) حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ أَصْهَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ،حدیث نمبر ٣٧٢٩)
باب: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ اور حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ(حضرت زید رضی اللہ عنہ )امیر بنائے جانے کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ اور یہ (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ )اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ؟ حدیث نمبر ٣٧٣٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ایک قیافہ شناس(یعنی ایسا انسان جو متشابہات اور علامات کے ذریعے فروع کو اصول کے ساتھ اور أبناء کو آباء کے ساتھ ملاتا ہو ایسا شخص)میرے پاس آیا۔(حجاب کے حکم سے پہلے کی یہ بات ہے)تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت وہیں تشریف رکھتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (ایک چادر میں) لیٹے ہوئے تھے۔ (منہ اور جسم کا سارا حصہ قدموں کے سوا چھپا ہوا تھا)اس قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں بعض، بعض سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (یعنی باپ بیٹے کے معلوم ہوتے ہیں) قیافہ شناس نے پھر بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے اس اندازہ پر بہت خوش ہوئے اور پھر آپ علیہ السلام نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ،حدیث نمبر ٣٧٣١)
باب:حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مناقب۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ قریش مخزومیہ عورت (جن کا نام فاطمہ بنت اسود تھا) کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کے سوا،جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں (اس عورت کی سفارش کے لیے) اور کون جرات کرسکتا ہے ! ( دوسری سند میں ہے کہ ) سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے مخزومیہ عورت کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہوگئے۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھا کہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی تھی۔ قریش نے(اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جاسکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کرسکا، آخر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما نے سفارش کی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہوگیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔(مگر آیت لوگو! سنو) اگر آج حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا (جو میری بیٹی ہے اگر اس ) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔(شرعی فیصلہ کرنے اپنا پرایا نہیں دیکھا جاتا ہے حکم سب کے لیے برابر ہے) (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ،حدیث نمبر ٣٧٣٢،و حدیث نمبر ٣٧٣٣)
عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں؟ کاش! یہ میرے قریب ہوتے۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٧٣٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیتے اور فرماتے: اے اللہ! تو انہیں اپنا محبوب بنا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ اور دوسری سند میں ہے کہ کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ایک غلام (حرملہ)نے خبر دی کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے دیکھا(نماز میں)انہوں نے رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں ادا کیا،(ایمن ابن ام ایمن، حضرت اسامہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کی ماں کی طرف سے بھائی تھے،حضرت ایمن رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے ایک فرد تھے)تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان سے کہا کہ (نماز) دوبارہ پڑھ لو۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٧٣٥،و حدیث نمبر ٣٧٣٦)
حضرت ابوعبداللہ(امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا اور ان سے زہری نے بیان کیا اور ان سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کے غلام حرملہ نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن (مسجد کے) اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھا اور نہ سجدہ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو۔ پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن ابن ام ایمن ہیں۔اس پر آپ نے کہا اگر انہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اور ان سے سلیمان نے کہ حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب،حدیث نمبر ٣٧٣٧)
باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے مناقب ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حیات میں جب بھی کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسے بیان کرتا۔ میرے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہوگئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں ان دنوں کنوارا تھا اور نوعمر بھی تھا۔ میں آپ علیہ السلام کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا تو میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا کہ مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بِل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی۔کنویں ہی کی طرح اس کے بھی دو کنارے تھے اور اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے ایک دوسرے فرشتے کی ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے کہا کہ خوف نہ کھا، میں نے اپنا یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بیان کیا۔ (دوسری سند سے بیان ہے کہ پھر) حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس خواب کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:عبد اللہ خوب اچھا آدمی ہے کاش! وہ رات کو تہجد پڑھا کرتا، سالم(بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما) بتایا کہ پھر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سویا کرتے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٧٣٨،و حدیث نمبر ٣٧٣٩)
سالم نے بیان کیا کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نیک آدمی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،حدیث نمبر ٣٧٤٠،و حدیث نمبر ٣٧٤١)
باب: حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ علقمہ نے بیان کیا کہ میں جب ملک شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں حضرت ابن أم عبد(یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ )نہیں ہیں؟جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نعلین ،گدا، اور مسواک اٹھانے والے تھے۔کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جاسکتا۔ (مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے تھی)کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔(یعنی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ )اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ:آیت والليل إذا يغشى کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذکر والأنثى اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَمَّارٍ، وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٧٤٢)
ابراہیم نے بیان کیا کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ملک شام میں تشریف لے گئے اور مسجد میں جا کر یہ دعا کی۔ اے اللہ! مجھے ایک نیک ساتھی عطا فرما، چناں چہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صحبت نصیب ہوئی۔حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟عرض کیا کہ کوفہ سے، اس پر انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے راز دار نہیں ہیں کہ ان رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟ (ان کی مراد حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے تھی) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں! موجود ہیں، پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ دی تھی۔ ان کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں وہ بھی موجود ہیں، اس کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود آیت کریمہ:والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى کی قرآت کس طرح کرتے تھے؟ میں نے کہا کہ وہ( وما خلق کے حذف کے ساتھ)والذکر والأنثى پڑھا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ ملک شام والے ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ اس آیت کی تلاوت کو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا تھا اس سے مجھے ہٹا دیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَمَّارٍ، وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٧٤٣)
باب: حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور میری امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٤٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو شوق ہوا لیکن آپ علیہ السلام نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٤٥)
باب:حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ (نوٹ:حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی شرائط کے مطابق حضرت مصعب بن عمير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے مناقب میں کوئی کوئی حدیث شاید نہیں ملی، اس لیے انہوں نے باب تو باندھا مگر حدیث ذکر نہیں کی لیکن ہاں! یاد رہے بخاری شریف کتاب الجنائز میں حضرت مصعب بن عمير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کی فضیلت میں ایک حدیث موجود ہے اور رہی بات دوسری کتابوں کی تو الحمد اللہ دوسری کتب احادیث میں آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب والی احادیث موجود ہیں۔لیکن اتنا ملاحظہ کرتے چلیں کہ :حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ :مدینہ منورہ میں مہاجرین میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس آئے وہ حضرت مصعب بن عمير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تھے وہ غزوہ بدر اور احد میں حاضر ہوئے اور احد میں شہید ہوئے اور انہیں کے پاس مسلمانوں کا جھنڈا تھا، وہ بہت فیاض تھے اور ان کے اخلاق بہت عمدہ تھے اور وہ بہت خوبصورت تھے اور بہت اچھے کپڑے پہنتے تھے اور نفیس خوشبو لگاتے تھے اور جب وہ اسلام لائے تو ان کے ماں باپ نے ان سے سب کچھ چھین لیا ان کے پاس صرف ایک پیوند لگی ہوئی چادر تھی حضرت مصعب بن عمير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے حضرت حمۃ بنت جحش رَضِيَ اللَّهُ تعالیٰ عنہا سے شادی کی تھی۔(الفتح الربانی جلد ٤ ص ٤٤٠١،بحوالہ نعمۃ الباری بشرح صحیح البخاری از علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ) باب:حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب۔ نافع بن جبیر نے کہا از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو گلے لگایا۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ علیہ السلام منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کے پہلو میں تھے، آپ علیہ السلام کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے او اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٧٤٦)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔أو كما قال.۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ رضی اللہ عنہ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا (کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا)اس پر حضرت انس رضی رضی اللہ نے کہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے وسمة،(سیائی مائل) کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٤٨)
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کے کاندھے مبارک پر تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٤٩)
عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو (اپنے کاندھے پر) اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مشابہ ہیں، علی رضی اللہ عنہ سے نہیں اور حضرت علی رضی اللہ (یہ سن کر) مسکرا رہے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٥٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (کی خوشنودی)کو آپ علیہ السلام کے اہل بیت کے ساتھ (محبت و خدمت کے ذریعہ)تلاش کرو۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٥١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٥٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے مُحرِم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص(احرام کی حالت میں)مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا:عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نواسے (حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ) کو قتل کرچکے ہیں،جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں(نواسے حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما )دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ،حدیث نمبر ٣٧٥٣)
باب:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے مناقب ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے فرمایا میں نے (اے بلال رضی اللہ تعالٰی) تمہاری جوتیوں کی آواز اپنے سامنے جنت میں سنی ہے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے تھی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٧٥٤)
قیس نے بیان کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کی راہ میں عمل کرنے دیجئیے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ،حدیث نمبر ٣٧٥٥)
باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٧٥٦)
باب:حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی شہادت کی خبر صحابہ کرام کو سنا دی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اسلامی جھنڈا کو حضرت زید رضی اللہ عنہ لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کردیئے گئے،اور اب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، اور اب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) نے اسلام کا جھنڈا اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٥٧)
باب:حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے مناقب مسروق نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما کے یہاں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، آپ علیہ السلام نے ابتداء حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی اور حضرت ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ،اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پہلے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا یا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٥٨)
باب:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ علیہ السلام کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔ اور انہوں نے کہا کہ(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) چار مردوں سے قرآن حاصل کرو! حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ جو کہ آزاد کردہ غلام ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اس سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور معاذ بن جبل رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٥٩،و حدیث نمبر ٣٧٦٠)
علقمہ نے بیان کیا کہ میں ملک شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی (نیک) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔چناں چہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں،جب وہ قریب آگئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہوگئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا آپ کے یہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نعلین گدا اور لوٹا اٹھاتے ہیں؟کیا آپ کے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے (اللہ کی) پناہ مل چکی ہے۔ (یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ )کیا آپ کے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا (پھر دریافت فرمایا)حضرت ابن ام عبد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ )آیت والليل کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ والليل إذا يغشى، والنهار إذا تجلى، والذکر والأنثى آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦١)
عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صحابہ کرام میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں حضرت ابن ام عبد(یعنی حضرت عبد ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ)حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦٣)
باب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ذکر ۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے آزاد کردہ غلام (کریب)بھی موجود تھے، جب وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا) اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔(اس لیے ان پر اعتراض نہ کرو) نوٹ اس روایت سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صحابی رسول ہونا صحابہ کرام سے ثابت ہوتا ہے اب جب وہ صحابی ہیں تو پھر ہم جیسے لوگوں کو کسی صحابی پر کسی طرح کا بدگمانی والا نظریہ رکھنا قطعاً درست نہیں بلکہ ہر صحابی ہمارے نزدیک قابل تعظیم و تکریم ہیں اور یہی اہل سنت و جماعت کا نظریہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦٤)
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمومنین حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں،(کیوں کہ) انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ وہ(حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) خود فقیہ ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦٥)
حمران بن ابان نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم لوگ ایک خاص نماز پڑھتے ہو، ہم لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور ہم نے کبھی آپ علیہ السلام کو اس وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز سے تھی (جسے اس زمانے میں بعض لوگ پڑھتے تھے)۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : ذِكْرُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٧٦٦)
باب: حضرت فاطمہ علیہا السلام کے مناقب۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جتنی عورتوں کی سردار ہیں۔ حضرت مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابٌ : مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، حدیث نمبر ٣٧٦٧۔
باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا:اے عائشہ! یہ جبرئیل(علیہ السلام) تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں، میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تھی) ۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٦٨)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران،(علیہا السلام) فرعون کی بیوی آسیہ(رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧٠)
قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیمار پڑیں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا:اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا تو ان کے پاس جا رہی ہیں جو صدق میں سابق ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس(بعد وصال ان سے ملاقات مراد تھی)۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧١)
ابو وائل نے بیان کیا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:(اے کوفہ والو)مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو(جو برحق خلیفہ ہیں)یا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧٢)
ہشام نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جانے کے لیے) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے(اپنی بہن)حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ایک ہار عاریتاً لے لیا تھا، اتفاق سے وہ راستے میں کہیں گم ہوگیا، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کرام کو بھیجا، اس دوران میں نماز کا وقت ہوگیا تو ان حضرات نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی،پھر جب آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام سے صورت حال کے متعلق عرض کیا۔ اس کے بعد تیمم کی آیت نازل ہوئی۔اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! تم پر جب بھی کوئی مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی سبیل تمہارے لیے پیدا کردی، اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی اس میں برکت پیدا فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧٣)
ہشام نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے مرض وصال میں بھی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی فرماتے رہے البتہ یہ دریافت فرماتے رہے کہ کل مجھے کس کے یہاں ٹھہرنا ہے؟ کیوں کہ آپ علیہ السلام حضرت کو عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر میں رہنے کی باحرص ہوتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ کو سکون ہوتا اور قرار اور چین آتا۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧٤)
ہشام نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے والد(عروہ)سے سنا اور انہوں نے کہا کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھیجنے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہتی ہیں کہ میری سوکنیں سب حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس گئیں اور ان سے کہا: اللہ کی قسم! لوگ جان بوجھ کر اپنے تحفے اس دن بھیجتے ہیں جس دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی باری ہوتی ہے، اور ہم خیر کا ارادہ کرتی ہیں جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا خیر کا ارادہ کرتی ہیں،اس لیے تم سب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ علیہ السلام لوگوں کو فرما دیں کہ میں جس بھی بیوی کے پاس رہوں جس کی بھی باری ہو اسی گھر میں تحفے بھیج دیا کرو۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ بات آپ علیہ السلام کے سامنے بیان کی، تو آپ علیہ السلام نے کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا جب بھی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار عرض کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے ام سلمہ! عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں مجھ کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔اللہ کی قسم! تم میں سے کسی بیوی کے لحاف میں(جو میں اوڑھتا ہوں سوتے وقت) مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہاں (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام یہ ہے کہ )ان کے لحاف میں (بھی مجھ پر) وحی نازل ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فضائل اصحاب النبی ،بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٧٧٥)
Bukhari Shareef : Kitabo Fazaile As Habun Nabi
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ
|
•