
کتاب۔مناقب الانصار کا بیان۔ باب: حضرات انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یہ اموال ان لوگوں کے لیے ہے جو دار ہجرت میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے آئے اور وہ اپنے دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو ان مہاجروں کو دی گئی ہے (الحشر ٩) غیلان بن جریر نے بیان کیا میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بتلائیے(انصار)اپنا نام آپ لوگوں نے خود رکھ لیا تھا یا آپ لوگوں کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہمارا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ غیلان کی روایت ہے کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ ہم سے انصار کی فضیلتیں اور غزوات میں ان کے مجاہدانہ واقعات بیان کیا کرتے پھر میری طرف یا قبیلہ ازد کے ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر کہتے: تمہاری قوم (انصار) نے فلاں دن فلاں دن فلاں فلاں کام انجام دیے۔ (بخاری شریف کتاب مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ،بَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٧٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی جنگ کو(جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چناں چہ جب آپ علیہ السلام مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے، کچھ زخمی تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ علیہ السلام سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ علیہ السلام کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہوجائیں۔ (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. حدیث نمبر ٣٧٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن انصار نے( نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق) کہا کہ آپ نے مال غنیمت سے قریش کو عطا کیا یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ ہماری تلواروں سے قریش کے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں اور ہماری غنیمتیں ان کو واپس کی جارہی ہیں! یہ خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انصار کو بلایا اور فرمایا :مجھے یہ تمہارے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے!اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے اس لیے انہوں نے کہا:وہی خبر ہے جو آپ علیہ السلام کو پہنچی ہے،آپ علیہ السلام نے فرمایا :کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ غنیمتوں کو لے کر اپنے گھر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر میں جاؤ! اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں اسی وادی یا گھاٹی میں جاؤں گا جس میں انصار گئے ہیں۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ.حدیث نمبر ٣٧٧٨)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں ہوتا یہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یا(یوں بیان کیا کہ)ابوالقاسم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہیں کی وادی میں جاؤں گا۔ اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ علیہ السلام پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ علیہ السلام نے یہ فرماکر کوئی ظلم والی بات نہیں فرمائی آپ علیہ السلام کو انصار نے اپنے یہاں ٹھہرایا اور آپ علیہ السلام کی مدد کی تھی یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (اس کے ہم معنی)اور کوئی دوسرا کلمہ کہا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ مِنَ الْأَنْصَارِ ". حدیث نمبر ٣٧٧٩)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرات انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا۔ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ان سے ان کے دادا نے فرمایا کہ جب مہاجر لوگ مدینہ منورہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھا مال لے لیں اور میری دو بیویاں ہیں آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔ اس پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت عطا فرمائے تمہارا بازار کدھر ہے؟ چناں چہ میں نے بنی قینقاع کا بازار انہیں بتادیا، جب وہاں سے کچھ تجارت کر کے لوٹے تو ان کے ساتھ کچھ پنیر اور گھی تھا پھر وہ اسی طرح روزانہ صبح سویرے بازار میں چلے جاتے اور تجارت کرتے آخر ایک دن خدمت نبوی میں آئے تو ان کے جسم پر (خوشبو کی)زردی کا نشان تھا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے شادی کرلی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: مہر کتنا ادا کیا ہے؟ عرض کیا کہ سونے کی ایک گٹھلی یا(یہ کہا کہ) ایک گٹھلی کے وزن برابر سونا ادا کیا ہے، یہ شک ابراہیم راوی کو ہوا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِخَاءُ النَّبِيِّ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے، انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دو بیویاں ہیں جو آپ رضی اللہ عنہ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزر جانے پر آپ اس سے نکاح کرلیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و عیال اور مال میں برکت عطا فرمائے،(آپ ایسا نہ کریں بلکہ مجھ کو اپنا بازار دکھلا دو) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مہر کیا دیا ہے؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا (یہ کہا کہ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔ (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِخَاءُ النَّبِيِّ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس پر انصار نے (مہاجرین سے)کہا پھر آپ لوگ ایسا کرلیں کہ کام ہماری طرف سے آپ لوگ انجام دیا کریں اور کھجوروں میں آپ لوگ ہمارے ساتھی ہوجائیں۔ مہاجرین نے کہا ہم نے آپ لوگوں کی یہ بات سنی اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِخَاءُ النَّبِيِّ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٢)
باب: انصار سے محبت رکھنے کا بیان۔ حدیث نمبر: 3783 حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا یا یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ پس جو شخص ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا (معلوم ہوا کہ انصار کی محبت نشان ایمان ہے اور ان سے دشمنی رکھنا بےایمان لوگوں کا کام ہے) ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : حُبُّ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : حُبُّ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٤)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ( انصار کی) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمایا اللہ (گواہ ہے)تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ". حدیث نمبر ٣٧٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انصار کی ایک عورت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ان کے ساتھ ایک ان کا بچہ بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو دو مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ". حدیث نمبر ٣٧٨٦)
باب: انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ علیہ السلام کی تابعداری کی ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَتْبَاعُ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٧)
عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے انصار کے ایک آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار حضرات نے عرض کیا ہر قوم کے پیروکار ہوتے ہیں، اور ہم نے تو آپ علیہ السلام کی پیروی کی۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار کو بھی ہم میں شریک کر دے۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:اے اللہ! ان کے پیروکار کو بھی انہیں میں سے کر دے۔عمرو نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے (تعجب کے طور پر) کہا زید نے ایسا کہا؟ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ زید، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں (نہ اور کوئی زید جیسے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے ابن ابی لیلیٰ نے گمان کیا) ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَتْبَاعُ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٨)
باب:انصار کے گھروں کی فضیلت۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے سب سے بہتر گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشہل کا، پھر بنو الحارث بن خزرج کا، پھر بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر کا،، جو اوس کا بھائی تھا، خزرج اکبر اور اوس دونوں حارثہ کے بیٹے تھے اور انصار کا ہر گھرانہ عمدہ ہی ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انصار کے کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے، ان سے کسی نے کہا آپ کو بھی تو بہت سے قبیلوں پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فضیلت دی ہے اور عبدالصمد نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی، اس روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام عبادہ مذکور ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : فَضْلُ دُورِ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٨٩)
ابوسلمہ نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ انصار میں سب سے بہتر یا انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار، بنو عبدالاشھل، بنو حارث اور بنو ساعدہ کے گھرانے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : فَضْلُ دُورِ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٩٠)
حضرت ابو حمید ساعدی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشھل کا پھر بنی حارث کا، پھر بنی ساعدہ کا اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔ پھر ہماری ملاقات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو وہ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے تمہیں معلوم نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بہترین گھرانوں کی تعریف کی اور ہمیں(بنو ساعدہ)کو سب سے اخیر میں رکھا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! انصار کے سب سے بہترین خاندانوں کا بیان ہوا اور ہم سب سے اخیر میں کردیئے گئے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے لیے کافی یہ نہیں کہ تمہارا خاندان بھی بہترین خاندان ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : فَضْلُ دُورِ الْأَنْصَارِ،حدیث نمبر ٣٧٩١)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو۔ یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ قتادہ نے نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنادیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد (دنیاوی معاملات میں) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ لِلْأَنْصَارِ : " اصْبِرُوا "حدیث نمبر ٣٧٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے (حوض کوثر پر) آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض(کوثر) پر ہوگی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ لِلْأَنْصَارِ : " اصْبِرُوا ". حدیث نمبر ٣٧٩٣)
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا مِلک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو،(حوض کوثر پر) کیوں کہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ لِلْأَنْصَارِ : " اصْبِرُوا ". حدیث نمبر ٣٧٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (خندق کھودتے وقت)فرمایا حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے:پس انصار کی مغفرت فرما دے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ". حدیث نمبر ٣٧٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقع پر(خندق کھودتے ہوئے) یہ شعر پڑھتے تھے نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا:ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(جب یہ سنا تو) اس کے جواب میں یوں فرمایا اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره! اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ". حدیث نمبر ٣٧٩٦)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے یہ دعا فرمائی:اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للمهاجرين والأنصار. اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ". حدیث نمبر ٣٧٩٧)
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور وہ دوسروں کو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو شدید ضرورت ہو(الحشر ٩) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب (خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ علیہ السلام نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا۔(تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا؟ ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا۔ چناں چہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو (بھوکا)سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں، لیکن ان دونوں نے (اپنے بچوں سمیت رات) فاقہ سے گزار دی، صبح کے وقت جب وہ صحابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ خوش ہوا یا(یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ عمل )پسند کیا،اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:ويؤثرون على أنفسهم ولو کان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون اور وہ دوسروں کو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو شدید ضرورت ہو اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا سو وہی لوگ کامیاب ہے(الحشر ٩) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ،حدیث نمبر ٣٧٩٨)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاموں سے درگزر کرو“۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس سے گزرے، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں، پوچھا آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے (یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے) اس کے بعد یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام کو واقعہ کی اطلاع دی، بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ علیہ السلام منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ علیہ السلام تشریف نہ لاسکے، آپ علیہ السلام نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا، وہ ملنا ابھی باقی ہے، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرتے رہنا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ "حدیث نمبر ٣٧٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (اپنے مرض الوصال میں ایک مرتبہ) باہر تشریف لائے، آپ علیہ السلام اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے، اور (سر مبارک پر)ایک سیاہ پٹی (بندھی ہوئی تھی) آپ علیہ السلام منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: امابعد اے لوگو! دوسروں کی تو بہت کثرت ہوجائے گی لیکن انصار کم ہوجائیں گے اور وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان و نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکو کاروں کی پذیرائی کرنی چاہیے۔ اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا چاہیے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ". حدیث نمبر ٣٨٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہوجائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیک لوگوں کی پذیرائی کیا کرنا، اور ان کے خطا کار لوگوں سے درگزر کیا کرنا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ".حدیث نمبر ٣٨٠١)
باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ(جبہ)آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال(جنت میں)اس سے کہیں بہتر ہیں یا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے کہ ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا، ایک صاحب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی، ہل گئی تھی، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ان دونوں قبیلوں(اوس اور خزرج)کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں)دشمنی تھی، میں نے خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک قوم(یہود بنی قریظہ)نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں)نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا)اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ)فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٤)
باب:حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے مناقب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں (اپنے گھر کی طرف) جانے لگے تو اچانک میں نے دیکھا کہ ان دونوں کے سامنے نور تھا جو ان کے آگے آگے چل رہا تھا، پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہوگیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے انصاری صحابی (کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی)اور حماد نے بیان کیا، انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی۔ یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب مناقب الانصار، بَابٌ : مَنْقَبَةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر ٣٨٠٥)
باب: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے مناقب حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا آپ علیہ السلام نے فرمایا : قرآن چار ( صحابہ کرام ) عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے سیکھو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٦)
باب:حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے مناقب قتادہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبدالاشھل کا، پھر بنو عبدالحارث کا، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے، ان سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے (اعتراض کی کیا بات ہے) ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنْقَبَةُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،حدیث نمبر ٣٨٠٧)
باب: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مناقب مسروق نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں کے نام سے ابتداء کی، اور ابوحذیفہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ سے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورة لم يكن الذين کفروا سناؤں۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرط مسرت سے رونے لگے۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٠٩)
باب:حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مناقب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل،حضرت ابوزید اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین میں نے پوچھا:حضرت ابوزید کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨١٠)
باب: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مناقب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کی لڑائی کے موقع پر جب صحابہ کرام نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہٹنے لگے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے چناں چہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں۔ اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دو۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے جھانکتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: یا نبی اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ علیہ السلام پر میرے ماں باپ قربان ہوں،آپ علیہ السلام نہ جھانکیں کیوں کہ کہیں کوئی تیر آپ علیہ السلام کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ علیہ السلام کے سینے کی ڈھال بنا ہوا ہے اور میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ام حضرت سلیم رضی اللہ عنہا (حضرت ابوطلحہ کی بیوی)کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے (غازیوں کی مدد میں)بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں۔(اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کرلے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨١١)
باب:حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مناقب امام مالک سے مروی ہے کہ وہ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں،اور وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں، بیان کیا کہ آیت وشهد شاهد من بني إسرائيل(سورۃ الاحقاف: 10)انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی(راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨١٢)
حضرت قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے العروة، مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ یہ خواب جب میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور العروة (گھنا درخت)عروة الوثقى ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔ یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام تھے اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمد نے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے منصف،(خادم)کے بجائے وصيف کا لفظ ذکر کیا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨١٣)
سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک (باعظمت)مکان میں داخل ہو گے (کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے)پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیوں کہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے (اپنی روایتوں میں)البيت(گھر)کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨١٤)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کرنا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:(اپنے زمانے میں)مریم علیہا السلام سب سے افضل عورت ہیں اور (اس امت میں)حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سب سے افضل ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨١٥)
لیث نے بیان کیا کہ ہشام نے میرے پاس اپنے والد(عروہ) سے لکھ کر بھیجا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے معاملہ میں محسوس کرتی تھی وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان سے میں(اکثر) ان کا ذکر سنتی رہتی تھی۔اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں (جنت میں)موتی کے محل کی خوش خبری سنا دیں۔ آپ علیہ السلام عا اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین(یعنی ان کی سہیلیوں) کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہوجاتا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨١٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے معاملہ میں، میں جتنی غیرت محسوس کرتی تھی اتنی کسی عورت کے معاملے میں نہیں کرتی تھیں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کا ذکر اکثر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ان کی وفات کے تین سال بعد ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا یا جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا تھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨١٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالاں کہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت(ذکر) فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ملنے والیوں(سہیلیوں) کو بھیجتے تھے۔ میں نے اکثر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری تمام اولاد ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨١٨)
اسماعیل نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی، جہاں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ تھکن ہوگی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آرہی ہیں جس میں سالن یا (فرمایا)کھانا یا (فرمایا) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہوگا اور نہ تکلیف و تھکن ہوگی۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ :حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ علیہ السلام کو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی،تو آپ علیہ السلام چونک اٹھے اور فرمایا "اللہ! یہ تو ہالہ ہیں" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی، میں نے کہا آپ قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ( صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ) اور جسے فوت ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے۔(تو پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر خیر کرنا شروع فرمایا) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ،حدیث نمبر ٣٨٢٠،و حدیث نمبر ٣٨٢١)
باب: حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا ذکر ۔ قیس نے بیان کیا کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے (گھر کے اندر آنے سے) نہیں روکا(جب بھی میں نے اجازت چاہی) اور جب بھی آپ علیہ السلام مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : ذِكْرُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٢٢)
قیس سے روایت ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:زمانہ جاہلیت میں ذوالخلصہ نامی ایک بت کدہ تھا اسے الکعبة اليمانية یا الکعبة الشأمية بھی کہتے تھے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ذی الخلصہ کے وجود سے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو؟انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کردیا، پھر ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام کو خبر دی تو آپ علیہ السلام نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : ذِكْرُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٢٣)
باب: حضرت حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ کا ذکر. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جنگ احد کی لڑائی میں جب مشرکین ہار چکے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو (قتل کرو) چناں چہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر چھپٹ پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کردیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد (حضرت یمان رضی اللہ عنہ )بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کرلیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔(ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کر بیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔ باب:حضرت ہند بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ : ہند بنت عتبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد)حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ علیہ السلام کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس میں ابھی اور ترقی ہوگی۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! پھر حضرت ہند نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں تو ؟ آپ علیہ السلام فرمایا ہاں! اجازت ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب،بَابٌ : ذِكْرُ هِنْدٍ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر ٣٨٢٤،و حدیث نمبر ٣٨٢٥)
باب:زید بن عمرو بن نفیل کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حضرت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے (وادی)بلدح کے نشیبی علاقہ میں ملاقات ہوئی، یہ قصہ نزول وحی سے پہلے کا ہے، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان بچھایا گیا تو حضرت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے کھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں نے دستر خوان بچھایا تھا ان سے کہا کہ اپنے بتوں کے نام پر جو تم ذبیحہ کرتے ہو میں اسے نہیں کھاتا میں تو بس وہی ذبیحہ کھایا کرتا ہوں جس پر صرف اللہ کا نام لیا گیا ہو، حضرت زید بن عمرو رضی اللہ عنہ قریش پر ان کے ذبیحے کے بارے میں عیب لگایا کرتے اور کہتے تھے کہ بکری کو پیدا تو کیا اللہ تعالیٰ نے، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی برسایا ہے اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اگائی، پھر تم لوگ اللہ کے سوا دوسرے (بتوں کے) ناموں پر اسے ذبح کرتے ہو۔ حضرت زید نے یہ کلمات ان کے ان کاموں پر اعتراض کرتے ہوئے اور ان کے اس عمل کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ،حدیث نمبر ٣٨٢٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ ملک شام گئے دین (خالص)کی تلاش میں نکلے، وہاں وہ ایک یہودی عالم سے ملے تو انہوں نے ان کے دین کے بارے میں پوچھا اور کہا ممکن ہے کہ میں تمہارا دین اختیار کرلوں اس لیے تم مجھے اپنے دین کے متعلق بتاؤ یہودی عالم نے کہا کہ ہمارے دین میں تم اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک تم اللہ کے غضب کے ایک حصہ کے لیے تیار نہ ہوجاؤ، اس پر حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واہ میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگ کر آیا ہوں، پھر اللہ کے غضب کو میں اپنے اوپر کبھی نہ لوں گا اور نہ مجھ کو اسے اٹھانے کی طاقت ہے! کیا تم مجھے کسی اور دوسرے دین کا کچھ پتہ بتاسکتے ہو؟ اس عالم نے کہا میں نہیں جانتا (لیکن کوئی دین سچا ہو تو دین حنیف ہے)حضرت زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ اس عالم نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے آئے اور ایک نصرانی پادری سے ملے، ان سے بھی اپنا خیال بیان کیا اس نے بھی یہی کہا کہ تم ہمارے دین میں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے ایک حصہ لو گے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی لعنت سے ہی بچنے کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہوں اللہ کی لعنت اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میں اس کا یہ غضب کس طرح اٹھا سکتا ہوں! کیا تم میرے لیے اس کے سوا کوئی اور دین بتلا سکتے ہو؟ پادری نے کہا کہ میری نظر میں ہو تو صرف ایک دین حنیف سچا دین ہے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ کہا کہ وہ دین ابراہیم ہے جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور اللہ کے سوا وہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جب دین ابراہیم کے بارے میں ان کی یہ رائے سنی تو وہاں سے روانہ ہوگئے اور اس سر زمین سے باہر نکل کر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کی اللهم إني أشهد أني على دين إبراهيم. اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں۔ اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھے ہشام نے لکھا، اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حضرت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا، اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ بیٹیوں کو زندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جو اپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتا کہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کا ذمہ میں لیتا ہوں، چناں چہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہوجاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کرسکتا ہوں اور اگر تمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ،حدیث نمبر ٣٨٢٧،و حدیث نمبر ٣٨٢٨)
باب: قریش نے جو کعبہ شریف کی مرمت کی تھی اس کا بیان۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب کعبہ شریف کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لیں اس طرح پتھر کی (خراش لگنے سے) بچ جائیں گے۔ تو آپ علیہ السلام نے جب ایسا کیا تو آپ زمین پر گرپڑے اور آپ علیہ السلام کی نظر آسمان پر گڑ گئی جب ہوش ہوا تو آپ علیہ السلام نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ میرا تہبند لائیں پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : بُنْيَانُ الْكَعْبَةِ،حدیث نمبر ٣٨٢٩) نوٹ:یاد رہے اس حدیث میں علمائے کرام نے کثرت کے ساتھ کلام فرمایا ہے یہاں تک کہ ہمارے زمانے کے اہل سنت کے نامور عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو درایۃً صحیح نہیں مانتے ہیں۔دیکھیں:نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری جلد ششم کتاب مناقب الأنصار حدیث نمبر ٣٨٢٩ کی شرح کے تحت۔(ناقل شبیر احمد راج محلی)
عبیداللہ بن ابی زید نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیت اللہ شریف کے گرد احاطہٰ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبہ شریف کے گرد نماز پڑھتے تھے پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے اس کے گرد دیوار بنوائی۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ یہ دیواریں بھی پست تھیں پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کو بلند کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : بُنْيَانُ الْكَعْبَةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٠)
باب: جاہلیت کے زمانے کا بیان۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ (محرم کے یوم ) عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا۔ جب آپ علیہ السلام (ہجرت کرکے ) مدینہ شریف تشریف لائے تو آپ علیہ السلام نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ ٢ھ میں فرض ہوا تو اس کے بعد آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے۔وہ مُحرم کو صفر کہتے۔ان کے یہاں یہ مثل مشہور تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور(حاجیوں کے)نشانات قدم مٹ چکیں تو اب عمرہ کرنے والوں کا عمرہ جائز ہوا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو حج کا احرام باندھے ہوئے (مکہ شریف ) تشریف لائے تو آپ علیہ السلام نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ کر ڈالیں(طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں)تو صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! (اس عمرہ اور حج کے دوران میں) کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام چیزیں! جو احرام کے نہ ہونے کی حالت میں حلال تھیں وہ سب حلال ہوجائیں گی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٢)
حضرت سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا کہ انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ(مکہ کی)دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہوگیا۔(یعنی کعبہ شریف کے دونوں جانب کے پہاڑ پانی سے بھر گئے) سفیان نے بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کے لیے ایک قصہ ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٣)
قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں؟ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے چپ رہ کر حج کرنے کی منت مانی ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:آپ بات کریں اس طرح چپ رہ کر حج کرنے کی منت درست نہیں ہے یہ تو جاہلیت کی رسم ہے،چناں چہ اس عورت نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ قریش سے، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے؟حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا آپ تو بہت پوچھنے والی عورت ہو،میں ابوبکر ہوں۔اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطا فرمایا ہے اس پر ہم (مسلمان)کب تک قائم رہ سکیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر آپ کا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک آپ کا امام حاکم سیدھے رہیں گے۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کی قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں؟انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ایک سیاہ فام عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے پاس آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی، لیکن جب باتوں سے فارغ ہوجاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی: اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجیب قدرت میں سے ہے کہ اسی نے (بفضلہ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا۔ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ان سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کا قصہ کیا ہے؟تو انہوں نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھرانے کی ایک لڑکی (جو نئی دولہن تھی) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ ہار گرگیا۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے بالکل اوپر اڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالاں کہ میں بےگناہ تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :سنو جو حلف اٹھائے وہ اللہ کے سوا کسی کا حلف نہ اٹھائے سو قریش اپنے آبا و اجداد کی قسمیں کھاتے تھے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:تم اپنے آبا و اجداد کی قسمیں نہ کھاؤ! (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٦)
عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لیے کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دو بار کہتے تھے کہ اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا اب تو دوبارہ مرنے والا نہیں ہے۔(یعنی تو دوبارہ زندہ کرکے مرنے والا نہیں ہے کیونکہ وہ حشر کے قائل نہیں تھے بلکہ ان کا تو نظریہ تھا کہ مرنے والے کسی پرندے کے بھیس میں رہتے ہیں نعوذبااللہ) (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٧)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مشرکین مزدلفہ سے اس وقت تک نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ سورج ثبیر پہاڑ پر چمک جاتا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی تو آپ علیہ السلام طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے لوٹے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٨)
عکرمہ نے (قرآن مجید کی سورۃ النباء آیت نمبر ٣٤ وَكَأْسًا دِهَاقًا) کے متعلق فرمایا کہاس کے (معنیٰ ہیں) بھرا ہوا جام جس کا مسلسل دور چلے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں(یہ لفظ استعمال کرتے تھے)اسقنا كأسا دهاقا. یعنی ہم کو بھرا ہوا جام پلاتے رہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٣٩،و حدیث نمبر ٣٨٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے سچی بات وہ ہے جو لبید شاعر نے کہی، سنو ہاں اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ اور امیہ بن ابی الصلت (جاہلیت کا ایک شاعر)مسلمان ہونے کے قریب تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھالیا(بھوک کی شدت کی وجہ سے بغیر چھان بین کیے)۔پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے؟ یہ کھانا کیسی کمائی سے ہے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کیسی کمائی سے ہے؟ اس غلام نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لیے کہانت کی تھی حالاں کہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھا لیکن اتفاق سے آج وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی،جسے آپ کھا بھی چکے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ حبل الحبلة تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبل الحبلة کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اونٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نو زائیدہ بچہ(بڑھ کر)حاملہ ہو، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس طرح کی خریدو فروخت ممنوع قرار دے دی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٣)
غیلان بن جریر نے بیان کیا کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٤)
باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا زمانہ جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا، بنو ہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص(خداش بن عبداللہ عامری)نے نوکری پر رکھا، اب یہ ہاشمی نوکر اپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے اپنے نوکر بھائی سے التجا کی میری مدد کر اونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہوگی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا(اور چلا گیا)۔پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھا تھا اس نے پوچھا سب اونٹ تو باندھے، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے؟ نوکر نے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوا اس کی رسی؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی۔ اس کے (مرنے سے پہلے)وہاں سے ایک یمنی شخص گزر رہا تھا۔ ہاشمی نوکر نے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں۔ اس نوکر نے کہا جب بھی تم مکہ پہنچو کیا میرا ایک پیغام پہنچا دو گے؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا۔ اس نوکر نے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکارنا: اے قریش کے لوگو! جب وہ تمہارے پاس جمع ہوجائیں تو پکارنا: اے بنی ہاشم! جب وہ تمہارے پاس آجائیں تو ان سے ابوطالب کے بارے پوچھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کردیا۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مرگیا، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہاں بھی گیا۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہوگیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی(لیکن وہ مرگیا تو)میں نے اسے دفن کردیا۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طرف سے یہی ہونا چاہیے تھا۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی، موسم حج میں آیا اور آواز دی: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے بتادیا کہ یہاں ہیں قریش اس نے آواز دی، اے بنو ہاشم! لوگوں نے بتایا کہ بنو ہاشم یہ ہیں اس نے پوچھا ابوطالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کردیا ہے۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہاں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کرلو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیوں کہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی اس کی قسم کھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کردیں گے۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہوگئے کہ ہم قسم کھا لیں گے۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا۔ اس نے کہا: اے ابوطالب! آپ مہربانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کردیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں(یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان)اس سے وہاں قسم نہ لیں۔ ابوطالب نے اسے معاف کردیا۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اور شخص آیا اور کہا: اے ابوطالب! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑتے ہیں۔ یہ دو اونٹ میری طرف سے آپ قبول کرلیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھانے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے۔ ابوطالب نے اسے بھی منظور کرلیا۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا۔(یعنی سب کے سب مر چکے تھے) (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ بُعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے (اپنی مصلحت سے) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے برپا کرا دی تھی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مدینہ شریف تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہوچکے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپا کیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اور عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر بن اشج نے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مولا کریب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بتایا صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہاں زمانہ جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٦،و حدیث نمبر ٣٨٤٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: اے لوگو! میری باتیں سنو کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور (جو کچھ تم نے سمجھا ہے) وہ مجھے سناؤ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ کر (بغیر سمجھے)چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے یوں کہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے یوں کہا۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کعبہ کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھاتا تو اپنا کوڑا، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٨)
عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہوگئے تھے اس بندریا نے زنا کرایا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ زمانہ جاہلیت کی عادتوں میں سے یہ عادتیں ہیں۔ نسب کے معاملہ میں طعنہ مارنا، میت پر نوحہ کرنا، تیسری عادت کے متعلق (عبیداللہ راوی)بھول گئے تھے اور سفیان نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کو بارش کی علت سمجھنا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ،حدیث نمبر ٣٨٥٠)
باب۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت یعنی اعلان نبوت کا بیان۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔(رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ شریف میں رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا اور پھر آپ علیہ السلام مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے۔ وہاں دس سال رہے پھر آپ علیہ السلام نے وفات فرمائی اس حساب سے آپ علیہ السلام کی کل عمر مبارک شریف تریسٹھ سال ہوتی ہے اور یہی صحیح ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٨٥١)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مکہ شریف میں پہنچنے والے مصائب کا بیان۔ قیس بن ابوحازم بیان کرتے تھے کہ میں نے خباب بن ارت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کعبہ شریف کے سائے تلے چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کیوں نہیں فرماتے؟ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام و کمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک(تنہا) جائے گا اور (راستے)میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہوگا۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈر ہوگا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ،حدیث نمبر ٣٨٥٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سورة النجم پڑھی اور سجدہ کیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام لوگوں نے سجدہ کیا صرف ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں اس نے کنکریاں اٹھا کر اس پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں نے پھر اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ،حدیث نمبر ٣٨٥٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ایک دن نماز پڑھتے ہوئے) سجدہ کی حالت میں تھے، کہ قریش کے کچھ لوگ وہیں اردگرد موجود تھے۔اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی بچہ دان لایا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر اسے ڈال دیا۔ اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک نہیں اٹھایا پھر حضرت فاطمہ علیہا السلام آئیں اور گندگی کو پیٹھ مبارک سے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعا کی۔تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی ان کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ لے۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا (امیہ کے بجائے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے )ابی بن خلف (کے خلاف دعا فرمائی) شبہ راوی حدیث شعبہ کو تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بدر کی لڑائی میں یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا سوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کا ہر ایک جوڑ الگ الگ ہوگیا تھا اس لیے کنویں میں نہیں ڈالا جاسکا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ،حدیث نمبر ٣٨٥٤)
سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ان دونوں آیتوں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے (ایک آیت ولا تقتلوا النفس التي حرم الله (الإسراء ٣٣)اور دوسری آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا(النساء ٩٣)ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورة الفرقان کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے(تو اگر ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے بھی آئے تو ہماری مغفرت کیسے ہوگی؟)۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی:- إلا من تاب وآمن:- مگر جس نے توبہ کرلی اور وہ ایمان لے آیا۔(الفرقان ٧٠)تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورة النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کرلیں۔ (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ،حدیث نمبر ٣٨٥٥)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس ظالم نے اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور یہ آیت پڑھی:کیا تم ایک مرد کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ،حدیث نمبر ٣٨٥٦)
باب:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچ غلام، دو عورتوں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی (مسلمان) نہیں تھا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٥٧)
باب: حضرت سعد(بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان۔ سعد بن مسیب نے کہا کہ میں نے حضرت ابواسحاق سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جس دن میں اسلام لایا ہوں دوسرے لوگ بھی اسی دن اسلام لائے اور اسلام میں داخل ہونے والے تیسرے آدمی کی حیثیت سے مجھ پر سات دن گزرے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ سَعْدٍ.،حدیث نمبر ٣٨٥٨)
باب:جنات کا ذکر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :آپ کہیے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے میری تلاوت کو غور سے سنا(الجن ١) معن بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات میں جنوں نے قرآن پاک سنا تھا اس کی خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کس نے دی تھی؟ مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جنوں کی خبر ایک ببول کے درخت نے دی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : ذِكْرُ الْجِنِّ،حدیث نمبر ٣٨٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے(پانی کا) ایک برتن لیے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ میں ابوہریرہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لیے چند پتھر تلاش کر لاؤ اور ہاں ہڈی اور لید نہ لانا۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لا کر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہوگئے تو میں پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس لیے کہ وہ جنوں کی خوراک ہیں۔ میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور کیا ہی اچھے وہ جن تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا میں نے ان کے لیے اللہ سے یہ دعا کی کہ جب بھی ہڈی یا گوبر پر ان کی نظر پڑے تو ان کے لیے اس چیز سے کھانا ملے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : ذِكْرُ الْجِنِّ،حدیث نمبر ٣٨٦٠)
باب: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ ان کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی، آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ معظمہ تشریف لے آئے، مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھتے تھے،جب کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آگئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی بھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتاسکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کرلو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں آپ کو سب کچھ بتادوں گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کرلیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں۔اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہوجاؤں گا۔ (کسی دیوار کے قریب)گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آجانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہوجانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ یہاں تک کہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہوجائے(تو پھر ہمارے پاس آجانا)حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آگئے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا۔ پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑگئے۔(اور ان کو بچایا) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦١)
باب: حضرت سعید بن زید) بن عمرو بن نفیل (رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا بیان۔ قیس نے بیان کیا کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام کیوں قبول کیا لیکن تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے یہ لائق تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٢)
باب: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ(اسلام لانے کے بعد قریش سے)ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہوگیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہوگیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہوگیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہوگئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوئی جیسا وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا۔ انہوں نے کہا یا تو میرا گمان غلط ہے یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے یا یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے۔ اس شخص کو میرے پاس بلاؤ۔ وہ شخص بلایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے بھی یہی بات دہرائی۔ اس پر اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میں تمہارے لیے ضروری قرار دیتا ہوں کہ تم مجھے اس سلسلے میں بتاؤ۔ اس نے اقرار کیا کہ زمانہ جاہلیت میں، میں اپنی قوم کا کاہن تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کردیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے کہا: اے دشمن! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ(جو وہاں موجود تھے)چونک پڑے(چل دئیے)میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے سچے رسول ہیں۔ (بخاری شریف،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٦)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اور اپنی بہن کو اس لیے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے اور آج تم نے جو کچھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو بد سلوکی کی ہے اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے سزاوار تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٨٦٧)
باب: چاند کے شق ہو جانے کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دئیے۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : انْشِقَاقُ الْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٨٦٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو! گواہ رہنا اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا اور ابوالضحیٰ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے، ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ شق قمر کا معجزہ مکہ میں پیش آیا تھا۔ ابراہیم نخعی کے ساتھ اس کی متابعت محمد بن مسلم نے کی ہے، ان سے ابونجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : انْشِقَاقُ الْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٨٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند شق ہو گیا تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : انْشِقَاقُ الْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٨٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند شق ہو گیا تھا۔ (بخاری شریف ۔ كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : انْشِقَاقُ الْقَمَرِ،حدیث نمبر ٣٨٧١)
باب:حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان. اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے تمہارا دار ہجرت دکھایا گیا وہاں کھجور کے باغات بہت ہیں وہ جگہ دو پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے سو جس نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنی تھی اس نے ہجرت کرلی اور جو عام مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے وہ بھی مدینہ شریف کی طرف چلے گئے۔ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم اپنے ماموں(امیرالمؤمنین)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کے ساتھ کیا تھا)عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیر خواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جو دیا تھا، سب میں نے بیان کردیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کردیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس(بلانے کے لیے)آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیر خواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیا تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔آپ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو)آپ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی)حد قائم کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنواری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر (ابتداء ہی میں)لبیک کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاء اللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر(گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ الْحَبَشَةِ،حدیث نمبر ٣٨٧٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں۔انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہوجاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے۔یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین مخلوق ہوں گے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ الْحَبَشَةِ،حدیث نمبر ٣٨٧٣)
حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا سناه، سناه.۔ حمیدی نے بیان کیا کہ سناه، سناه. حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ الْحَبَشَةِ،حدیث نمبر ٣٨٧٤)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ(ابتداء اسلام میں)نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس(مدینہ)آئے اور ہم نے(نماز پڑھتے میں)آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے(لیکن اب کیوں جواب نہیں دیتے ہیں)؟ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ الْحَبَشَةِ،حدیث نمبر ٣٨٧٥)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کردیا۔ ہماری ملاقات وہاں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی(جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے)ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ علیہ السلام خیبر فتح کرچکے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ الْحَبَشَةِ،حدیث نمبر ٣٨٧٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس دن نجاشی (حبشہ کے بادشاہ)کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:- آج ایک مرد صالح اس دنیا سے چلا گیا، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَوْتُ النَّجَاشِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٧٧)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازہ کی نماز پڑھی تھی اور ہم صف باندھ کر آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَوْتُ النَّجَاشِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٧٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (حبشہ کے بادشاہ)اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور چار مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز میں تکبیر کہی۔ یزید بن ہارون کے ساتھ اس حدیث کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی (سلیم بن حیان)سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَوْتُ النَّجَاشِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے بھائی کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَوْتُ النَّجَاشِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (نماز جنازہ کے لیے)عیدگاہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو صف بستہ کھڑا کیا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : مَوْتُ النَّجَاشِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٨١)
باب:- مشرکین کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف قسمیں کھانا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا قصد کیا تو فرمایا ان شاء اللہ کل ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہوگا۔جہاں مشرکین نے کافر ہی رہنے کے لیے عہد و پیمان کیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَقَاسُمُ الْمُشْرِكِينَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٣٨٨٢)
باب: ابوطالب کا واقعہ۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اپنے چچا(ابوطالب)کے کیا کام آئے کہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کے لیے غصہ ہوتے تھے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- (اسی وجہ سے) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٨٨٣)
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد مسیب بن حزن صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا چچا! کلمہ لا الہٰ الا اللہ ایک مرتبہ کہہ دو، اللہ کی بارگاہ میں(آپ کی بخشش کے لیے) ایک یہی دلیل میرے ہاتھ آجائے گی۔اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابوطالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے تم پھر جاؤ گے! یہ دونوں ان ہی پر زور دیتے رہے اور آخری کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کے لیے اس وقت تک مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے گا۔ چناں چہ (سورۃ براۃ میں) یہ آیت نازل ہوئی:-ترجمہ۔نبی اور مسلمانوں کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرے خواہ وہ ان کے قرابت دار ہوں، جب ان پر یہ ظاہر ہو چکا کہ وہ دوزخی ہیں(سورۃ التوبہ ١١٣)اور یہ آیت نازل ہوئی:- ترجمہ، اور بے شک آپ انہیں ہدایت یافتہ نہیں بناتے جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند ہو(سورۃ القصص ٥٦) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٨٨٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ علیہ السلام کے سامنے آپ علیہ السلام کے چچا کا ذکر کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت نفع پہنچائے گی بس ان کو ٹخنوں تک دوزخ میں رکھا جائے گا آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ کھول رہا ہوگا۔اور دوسری روایت میں ہے کہ ان کے دماغ کی اصل کھوپڑی کھول رہی ہوگی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ،حدیث نمبر ٣٨٨٥)
باب:معراج کی حدیث۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وہ ہر عیب سے پاک ہے جو اپنے مقدس بندے کو رات کے تھوڑے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک لے گیا (بنی اسرائیل ١) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے سلسلے میں)مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم کعبہ میں کھڑا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کردیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کردیئے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِسْرَاءِ،حدیث نمبر ٣٨٨٦)
باب: معراج کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب (جبرئیل علیہ السلام)آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا(قتادہ نے بیان کیا کہ)میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید! جارود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا:اے ابوحمزہ! کیا وہ براق تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرئیل علیہ السلام مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جبرئیل(علیہ السلام) پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)۔پوچھا گیا، کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی(انہیں) خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ، اور دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم (علیہ السلام) کو دیکھا، جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی! جبرئیل (علیہ السلام) اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں؟ کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔پوچھا گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) موجود تھے۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ حضرت عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے جبرئیل (علیہ السلام) مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرئیل(علیہ السلام) ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف (علیہ السلام) موجود تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! پھر جبرئیل (علیہ السلام) مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبرئیل علیہ السلام ! پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! اب دروازہ کھلا جب میں وہاں ادریس (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرئیل علیہ السلام پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، یہاں جب میں ہارون (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ حضرت ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرئیل علیہ السلام پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ میں جب وہاں موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کیجئے، میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رو رہا ہوں کہ یہ نوجوان میرے بعد مبعوث کیا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرئیل علیہ السلام ، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)۔پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم (علیہ السلام) تشریف رکھتے تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے! پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کردیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے بڑے)تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری۔ میں نے پوچھا اے جبرئیل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دو ظاہری نہریں، نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا، وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گیا۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی! پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑچکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ چناں چہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کردی گئیں۔ پھر میں جب واپسی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں۔ پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہوا تو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیا حکم ہوا؟ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ فرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑچکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کرچکا اور اب مجھے شرم آتی ہے۔ اب میں بس اسی پر راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی :-میں نے اپنا فریضہ جاری کردیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کرچکا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ الْمِعْرَاجِ،حدیث نمبر ٣٨٨٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اللہ کے اس ارشاد کہ تفسیر میں فرمایا:ترجمہ:اور ہم نے شب معراج وہ جلوہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے آپ کو دکھایا تھا(بنی اسرائیل ٦٠)کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں دکھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں الشجرة الملعونة کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے۔(یعنی ایک ایسا درخت جو کانٹے دار ہوتے ہیں جس کے پتے سبز ہوتے ہیں اور پھول رنگ برنگی ہوتے ہیں) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ الْمِعْرَاجِ،حدیث نمبر ٣٨٨٨)
باب:انصار کے وفود کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مکہ شریف میں آنا اور بیعت العقبة کرنا۔ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ انہیں حضرت عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ جب وہ نابینا ہوگئے تو وہ چلتے پھرتے وقت ان کو پکڑ کرلے چلتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا طویل واقعہ بیان کرتے تھے ابن بکیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عقبہ کی رات میں حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد کیا تھا، میرے نزدیک (لیلۃ العقبہ کی بیعت) بدر کی لڑائی میں حاضری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے اگرچہ لوگوں میں بدر کا چرچہ اس سے زیادہ ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وُفُودُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٨٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے دو ماموں مجھے بھی بیعت عقبہ میں ساتھ لے گئے تھے۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ ابن عیینہ نے بیان کیا ان میں سے ایک حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وُفُودُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ.حدیث نمبر ٣٨٩٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں میرے والد اور میرے دو ماموں تینوں بیعت عقبہ کرنے والوں میں شریک تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وُفُودُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٩١)
ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی اور عقبہ کی رات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عہد کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت آپ کے پاس صحابہ کی ایک جماعت تھی، کہ آؤ مجھ سے اس بات کا عہد کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہ لگاؤ گے اور اچھی باتوں میں میری نافرمانی نہ کرو گے، پس جو شخص اپنے اس عہد پر قائم رہے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے اس میں کمی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپا رہنے دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے، چاہے تو اس پر سزا دے اور چاہے معاف کر دے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چناں چہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ان امور پر بیعت کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وُفُودُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٩٢)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیباء میں سے تھا جنہوں نے(عقبہ کی رات میں) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کا عہد کیا تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کریں گے جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، لوٹ مار نہیں کریں گے اور نہ اللہ کی نافرمانی کریں گے جنت کے بدلے میں، اگر ہم اپنے عہد میں پورے اترے۔ لیکن اگر ہم نے اس میں کچھ خلاف کیا تو اس کا فیصلہ اللہ پر ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : وُفُودُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٨٩٣)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا اور ان کا مدینہ شریف آنا اور آپ علیہ السلام کا ان کے ساتھ شب زفاف گزارنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہوگئے پھر ایک دن میری والدہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالٰی عنہا آئیں۔ اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہوگئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کردیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو۔ میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ عَائِشَةَ،حدیث نمبر ٣٨٩٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ان کا چہرہ کھولئے۔ میں نے چہرہ کھول کر دیکھا تو تم تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ عَائِشَةَ،حدیث نمبر ٣٨٩٥)
ہشام نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد(عروہ بن زبیر)نے بیان کیا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہوگئی تھی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی یسے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ عَائِشَةَ،حدیث نمبر ٣٨٩٦)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ علیہ السلام کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔ اور حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر ہجرت مشروع نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک مرد ہوتا۔ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجوروں کے درخت ہیں تو میرا ذہن اس برف گیا کہ وہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر یا لیکن وہ جگہ مدینہ یثرب تھی۔ ابو وائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے (دنیا میں) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا۔ انہیں میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی۔ (کفن دیتے وقت)جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ (تاکہ چھپ جائیں)اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ(اس دنیا میں بھی) ان کے اعمال کا پھل پک گیا، پس وہ اس کو کاٹ رہے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٨٩٧)
علقمہ بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اعمال کا دارومدار نیت ہر موقوف ہے۔ پس جس کا مقصد، ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کرسکے گا یا مقصد، ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا۔ لیکن جن کا ہجرت سے مقصد، اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٨٩٨)
مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد (مکہ شریف سے مدینہ منورہ کی طرف) ہجرت باقی نہیں رہی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٨٩٩)
عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑجائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کردیا ہے اور آج (سر زمین عرب میں)انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کرسکتا ہے، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں، میں ان لوگوں سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں (ان کے وطن مکہ سے)نکالا۔ اے اللہ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہ ( یہ الفاظ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے)جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا،اور باہر نکال دیا۔اس سے قریش کے کافر مراد ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا گیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہجرت کی حالت میں دس سال گزارے۔(مدینہ منورہ میں)جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے(اعلانے نبوت)کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے،اور فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کرلے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے(آخرت میں)اسے پسند کر لے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کرلیا۔اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں)ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ضرور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو دین اسلام ہی پر پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں۔ پھرجب( مکہ میں) مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت کا ارادہ کر کے نکلے۔ جب آپ مقام برک غماد پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ملک ملک کی سیاحت کروں ( اور آزادی کے ساتھ )اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا لیکن ابوبکر! تم جیسے انسان کو اپنے وطن سے نہ خود نکلنا چاہئے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم محتاجوں کی مدد کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو، میں تمہیں پناہ دیتا ہوں واپس چلو اور اپنے شہر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرو۔ چناں چہ چہ وہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اس کے بعد ابن الدغنہ قریش کے تمام سرداروں کے یہاں شام کے وقت گیا اور سب سے اس نے کہا کہ ابوبکر جیسے شخص کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم ایسے شخص کو نکال دو گے جو محتاجوں کی امداد کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتا ہے؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ سے انکار نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں، وہیں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے وہیں پڑھیں، اپنی عبادات سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں، اس کا اظہار نہ کریں کیوں کہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں۔ یہ باتیں ابن الدغنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی آ کر کہہ دیں کچھ دنوں تک تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر قائم رہے اور اپنے گھر کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے رہے، نہ نماز برسر عام پڑھتے اور نہ گھر کے سوا کسی اور جگہ تلاوت قرآن کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے کچھ سوچا اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ(مسجد) بنائی جہاں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی اور تلاوت قرآن بھی وہیں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا مجمع ہونے لگا۔ وہ سب حیرت اور پسندیدگی کے ساتھ دیکھتے رہا کرتے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنسوؤں کو روک نہ سکتے تھے۔ اس صورت حال سے مشرکین قریش کے سردار گھبرا گئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا جب ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کے لیے تمہاری پناہ اس شرط کے ساتھ تسلیم کی تھی کہ اپنے رب کی عبادت وہ اپنے گھر کے اندر کیا کریں لیکن انہوں نے شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بنا کر برسر عام نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنے میں نہ مبتلا ہو جائیں اس لیے تم انہیں روک دو، اگر انہیں یہ شرط منظور ہو کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اظہار ہی کریں تو ان سے کہو کہ تمہاری پناہ واپس دے دیں، کیوں کہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری دی ہوئی پناہ میں ہم دخل اندازی کریں لیکن ابوبکر کے اس اظہار کو بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور اس نے کہا کہ جس شرط کے ساتھ میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے، اب یا آپ اس شرط پر قائم رہیے یا پھر میرے عہد کو واپس کیجئے کیوں کہ یہ مجھے گوارا نہیں کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی تھی۔ لیکن اس میں( قریش کی طرف سے )دخل اندازی کی گئی۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی پناہ پر راضی اور خوش ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری ہجرت کی جگہ مجھے خواب میں دکھائی گئی ہے وہاں کھجور کے باغات ہیں اور دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے، چناں چہ جنہیں ہجرت کرنی تھی انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ سر زمین حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ چلے آئے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کچھ دنوں کے لیے رک جاؤ،مجھے امید ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی مل جائے گی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا واقعی آپ کو بھی اس کی امید ہے، میرے باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر کے خیال سے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو اونٹنیوں کو جو ان کے پاس تھیں کیکر کے پتے کھلا کر تیار کرنے لگے چار مہینے تک۔ ابن شہاب نے بیان کیا،ان سے عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک دن ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے بھری دوپہر تھی کہ کسی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دے دی تو آپ اندر داخل ہوئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت یہاں سے تھوڑی دیر کے لیے سب کو اٹھا دو۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہاں اس وقت تو سب گھر کے ہی آدمی ہیں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا مجھے رفاقت سفر کا شرف حاصل ہو سکے گا؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ان دونوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیجئے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جلدی جلدی ان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور کچھ توشہ ایک تھیلے میں رکھ دیا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ٹکڑے کر کے تھیلے کا منہ اس سے باندھ دیا اور اسی وجہ سے انکا نام ذات النطاقین( دو پٹکے والی ) پڑ گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جبل ثور کے غار میں پڑاؤ کیا اور تین راتیں گزاریں۔حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات وہیں جا کر گزارا کرتے تھے، یہ نوجوان بہت سمجھدار تھے اور بہت زیادہ ذہین تھے۔ سحر کے وقت وہاں سے نکل آتے اور صبح سویرے ہی مکہ پہنچ جاتے جیسے وہیں رات گزری ہو۔ پھر جو کچھ یہاں سنتے اور جس کے ذریعہ ان حضرات کے خلاف کاروائی کے لیے کوئی تدبیر کی جاتی تو اسے محفوظ رکھتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو تمام اطلاعات یہاں آ کر پہنچاتے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ دونوں حضرات کے لیے قریب ہی دودھ دینے والی بکری چرایا کرتے تھے اور جب کچھ رات گزر جاتی تو اسے غار میں لاتے تھے۔ آپ اسی پر رات گزارتے اس دودھ کو گرم لوہے کے ذریعہ گرم کر لیا جاتا تھا۔ صبح منہ اندھیرے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ غار سے نکل آتے تھے ان تین راتوں میں روزانہ ان کا یہی دستور تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی الدیل جو بنی عبد بن عدی کی شاخ تھی، کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لیے اجرت پر اپنے ساتھ رکھا تھا۔ یہ شخص راستوں کا بڑا ماہر تھا۔ آل عاص بن وائل سہمی کا یہ حلیف بھی تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا۔ ان بزرگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنے دونوں اونٹ اس کے حوالے کر دیئے۔ قرار یہ پایا تھا کہ تین راتیں گزار کر یہ شخص غار ثور میں ان سے ملاقات کرے۔ چناں چہ تیسری رات کی صبح کو وہ دونوں اونٹ لے کر( آ گیا )اب عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور یہ راستہ بتانے والا ان حضرات کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ساحل کے راستے سے ہوتے ہوئے۔ سراقہ بن جعشم بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیا اور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا سراقہ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور ان کے ساتھی ہی ہیں ۔حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں۔اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔(سراقہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا)میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور تیز رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لیے ممکن تھا،آخر میں نے ان کو پا ہی لیا۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا۔ لیکن میں کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں۔ فال( اب بھی ) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لیے جا رہا تھا۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لیے ڈانٹا میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لیے پکارا۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا۔ اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے( دوپہر کو )انہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں۔( یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں )جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے۔انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا،وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد( قباء )جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر(جمعہ کے دن )نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ سہیل اور سہل( رضی اللہ عنہما )دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا۔ یہ دونوں بچے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاءاللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کو خریدنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی۔ اس کی تعمیر کے وقت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ”یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے کہ ”اے اللہ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٥،و حدیث نمبر ٣٩٠٦)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے بیان اور ان سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کرلو۔ چناں چہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین(دو پٹکوں والی) ہوگیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اسماء کو ذات النطاقين. کہا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٧)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔(تب) اس نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے(کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا کی۔(اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں(ریوڑ کی ایک بکری کا)تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٨)
حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ(جب) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے شکم میں تھے،انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہوچکی تھی،میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا۔ چناں چہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متابعت خالد بن مخلد نے کی ہے۔ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٠٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سب سے پہلے زمانہ اسلام میں حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما پیدا ہوئے، ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لائے، پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو چبایا پھر اس کو ان کے منھ میں ڈالا پس جو چیز سب سے پہلے ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ (بخاری شریف كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ. ،حدیث نمبر ٣٩١٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ضعیف ہوگئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ منورہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آچکا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ سوار آگیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے گرا دے چناں چہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار(سراقہ) نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف تھا شام جب ہوئی تونبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روکنے لگا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ پہنچ کر) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہوجائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہوگئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ منورہ میں بھی سب کو معلوم ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آگئے۔ اللہ کے نبی آگئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف چلتے رہے اور(مدینہ منورہ پہنچ کر)حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (ایک یہودی عالم نے)اپنے گھر والوں سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے (سنتے ہی)بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کرچکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے (نانہالی) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے؟حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا(اچھا تو جاؤ)دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیوں کہ انہیں اگر معلوم ہوگیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کردیں گے۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہوجاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہوگا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام! اب ان کے سامنے آجاؤ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آگئے اور کہا: اے یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١١)
عبیداللہ بن عمر نے خبر دی کہ انہیں نافع نے یعنی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ انہوں نے اپنے (عہد خلافت) میں تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کردیا تھا، لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے۔ اس لیے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١٢)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی۔ اور ان کے کفن کے لیے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کرلیا۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١٣،و حدیث نمبر ٣٩١٤)
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے پوچھا، کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جو ہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پاجائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہوجائے۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا اللہ کی قسم! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا (خیر ابھی تم سمجھو)لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پاجائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہوجائے۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے والد(حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ )میرے والد(حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بہتر تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١٥)
ابوعثمان نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے میں نے سنا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ تم نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی تو وہ غصہ ہوجایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس لیے ہم گھر واپس آگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور فرمایا کہ جا کر دیکھ آؤ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابھی بیدار ہوئے یا نہیں چناں چہ میں آیا (تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوچکے تھے)اس لیے اندر چلا گیا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت کی پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اندر گئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور میں نے بھی (دوبارہ)بیعت کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١٦)
ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان خریدا اور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حضرت عازب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت کا حال پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ چوں کہ ہماری نگرانی ہو رہی تھی (یعنی کفار ہماری تاک میں تھے)اس لیے ہم(غار سے) رات کے وقت باہر آئے اور پوری رات اور دن بھر بہت تیزی کے ساتھ چلتے رہے، جب دوپہر ہوئی تو ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ ہم اس کے قریب پہنچے تو اس کی آڑ میں تھوڑا سا سایہ بھی موجود تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس پر لیٹ گئے، اور میں قرب و جوار کی گرد جھاڑنے لگا۔ اتفاق سے ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کے تھوڑے سے ریوڑ کے ساتھ اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا اس کا مقصد اس چٹان سے وہی تھا جس کے لیے ہم یہاں آئے تھے(یعنی سایہ حاصل کرنا) میں نے اس سے پوچھا لڑکے تو کس کا غلام ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں کا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی بکریوں سے کچھ دودھ نکال سکتے ہو اس نے کہا کہ ہاں پھر وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری لایا تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے اس کا تھن جھاڑ لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر اس نے کچھ دودھ دوہا۔ میرے ساتھ پانی کا ایک چھاگل تھا۔ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ یہ پانی میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ساتھ لے رکھا تھا۔ وہ پانی میں نے اس دودھ پر اتنا ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا تو میں اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا دودھ نوش فرمایئے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا جس سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے پھر کوچ شروع کیا اور ڈھونڈنے والے لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پس جب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی! طبیعت کیسی ہے؟ (بخاری شریف، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩١٧،و حدیث نمبر ٣٩١٨)
Bukhari Sharif Kitabo Manaqibul Ansare Hadees No# 3919,wa 3920
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنوکلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کرلی تھی۔پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے۔اس عورت سے پھر اس کے چچا زاد بھائی(ابوبکر شداد بن اسود)نے شادی کرلی تھی، یہ شخص شاعر تھا اور اسی نے یہ مشہور مرثیہ کفار قریش کے(مقتولین کے) بارے میں کہا تھا۔ مقام بدر کے کنوؤں کو میں کیا کہوں کہ انہوں نے ہمیں درخت شیزیٰ کے بڑے بڑے پیالوں سے محروم کردیا جو کبھی اونٹ کے کوہان کے گوشت سے بہتر ہوا کرتے تھے، میں بدر کے کنوؤں کو کیا کہوں! انہوں نے ہمیں گانے والی لونڈیوں اور اچھے شرابیوں سے محروم کردیا ام بکر تو مجھے سلامتی کی دعا دیتی رہی لیکن میری قوم کی بربادی کے بعد میرے لیے سلامتی کہاں ہے یہ رسول ہمیں دوبارہ زندگی کی خبریں بیان کرتا ہے۔ کہیں الو بن جانے کے بعد پھر زندگی کس طرح ممکن ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم(باہر)نظر آئے میں نے کہا، اے اللہ کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-ابوبکر! خاموش رہو ہم دو ہیں ہم میں تیسرا اللہ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٢٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ہجرت کا حال پوچھنے لگا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر افسوس! ہجرت تو بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟اس نے کہا جی ہاں ہیں۔ فرمایا:-تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟اس نے عرض کیا جی ہاں ادا کرتا ہوں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اونٹنیوں کا دودھ دوسرے(محتاجوں)کو بھی دوہنے کے لیے دے دیا کرتے ہو؟اس نے عرض کیا کہ ایسا بھی کرتا ہوں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-انہیں گھاٹ پر لے جا کر(محتاجوں کے لیے)دوہتے ہو؟ اس نے عرض کیا ایسا بھی کرتا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-پھر تم سات سمندر پار عمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا بھی ثواب کم نہیں کرے گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : هِجْرَةُ النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٣٩٢٣)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کیا کہ سب سے پہلے(ہجرت کر کے)ہمارے یہاں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے پھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے ہمارے یہاں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ(نابینا)آئے یہ دونوں(مدینہ منورہ کے)مسلمانوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ ،حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر)تشریف لائے۔مدینہ منورہ کے لوگوں کو جتنی خوشی اور مسرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ہوئی میں نے کبھی انہیں کسی بات پر اس قدر خوش نہیں دیکھا۔ لونڈیاں بھی(خوشی میں)کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آگئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس سے پہلے میں مفصل کی دوسری کئی سورتوں کے ساتھ:-سبح اسم ربک الأعلى بھی سیکھ چکا تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار چڑھ آیا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: والد بزرگوار ! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار چڑھا تو یہ شعر پڑھنے لگے: ہر شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت تو جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے: کاش مجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد (خوشبودار گھاس)اذخر اور جلیل ہوں گی، اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اطلاع دی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! مدینہ منورہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ مکرمہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا۔ ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد(اناج ناپنے کے پیمانے) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٦)
عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حمد و شہادت پڑھنے کے بعد فرمایا:امابعد! کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر (ابتداء ہی میں)لبیک کہا اور میں ان تمام چیزوں پر ایمان لایا جنہیں لے کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔ پھر میں نے دو ہجرت کی اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف مجھے حاصل ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میں نے بیعت کی اللہ کی قسم کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ کبھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دھوکہ بازی کی، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت اسحاق کلبی نے بھی کی ہے، ان سے زہری نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج کا واقعہ ہے تو ان کی مجھ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاجیوں کو خطاب کرنے والے تھے اس لیے)میں نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! موسم حج میں معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے سب طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور شور و غل بہت ہوتا ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ اپنا ارادہ موقوف کردیں اور مدینہ پہنچ کر(خطاب فرمائیں) کیوں کہ وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے اور وہاں سمجھ دار معزز اور صاحب عقل لوگ رہتے ہیں۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلی فرصت میں لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ضرور کھڑا ہوں گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٨)
خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی کہ (ان کی والدہ)حضرت ام علاء رضی اللہ تعالٰی عنہا (ایک انصاری خاتون جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی)نے انہیں خبر دی کہ جب انصار نے مہاجرین کی میزبانی کے لیے قرعہ ڈالا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ان کے گھرانے کے حصے میں آئے تھے۔ حضرت ام علاء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں بیمار پڑگئے۔ میں نے ان کی پوری طرح تیمارداری کی وہ نہ بچ سکے۔ ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا تھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوسائب! (عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت)تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری تمہارے متعلق گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو اس سلسلے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! لیکن اور کسے نوازے گا؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں تو واقعی کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایک یقینی امر(موت)ان کو آچکا ہے۔ اللہ کی قسم کہ میں بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر خواہی کی امید رکھتا ہوں لیکن میں حالاں کہ اللہ کا رسول ہوں(لیکن میں از) خود اپنے متعلق نہیں جان سکتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔حضرت ام علاء رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا پھر اللہ کی قسم کہ اس کے بعد میں اب کسی کے بارے میں اس کی پاکی نہیں کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ پھر میں سو گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ ہے۔ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٢٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی کو(انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چناں چہ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہوچکے تھے۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کرلیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٣٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف رکھتے تھے عیدالفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، دو لڑکیاں یوم بعاث کے بارے میں وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار کے شعراء نے اپنے فخر میں کہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ شیطانی گانے باجے!(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر میں) دو مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا، لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-اے ابوبکر! انہیں چھوڑ دو۔ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور ہماری عید آج کا یہ دن ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ کے بلند جانب قباء کے ایک محلہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے(سب سے پہلے)قیام کیا جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چودہ رات قیام کیا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے بیان کیا کہ انصار بنی النجار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔ راوی نے بیان کیا گویا اس وقت بھی وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی سواری پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہیں اور بنی النجار کے انصار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے مسلح پیدل چلے جا رہے ہیں۔ آخر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب اتر گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابھی تک جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا وہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ بکریوں کے ریوڑ جہاں رات کو باندھے جاتے وہاں بھی نماز پڑھ لی جاتی تھی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم فرمایا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے لیے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-اے بنو النجار! اپنے اس باغ کی قیمت طے کرلو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں لے سکتے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس باغ میں وہ چیزیں تھیں جو میں تم سے بیان کروں گا۔ اس میں مشرکین کی قبریں تھیں، کچھ اس میں کھنڈر تھا اور کھجوروں کے درخت بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے مشرکین کی قبریں اکھاڑ دی گئیں، جہاں کھنڈر تھا اسے برابر کیا گیا اور کھجوروں کے درخت کاٹ دیئے گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ کھجور کے تنے مسجد کی طرف ایک قطار میں بطور دیوار رکھ دیئے گئے اور دروازہ میں(چوکھٹ کی جگہ) پتھر رکھ دیئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام جب پتھر لا رہے تھے تو شعر پڑھتے جاتے تھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ خود پتھر لاتے اور شعر پڑھتے۔ صحابہ کرام یہ شعر پڑھتے کہ اے اللہ! آخرت ہی کی خیر، خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٣٢)
عبد الرحمن بن حمید زہری نے بیان کیا کہ انہوں نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز سے سنا کہ وہ نمر کندی کے بھانجے سائب بن یزید سے دریافت کر رہے تھے کہ تم نے مکہ مکرمہ میں (مہاجر کے) ٹھہرنے کے مسئلہ میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-مہاجر کو(حج میں)طواف وداع کے بعد تین دن ٹھہرنے کی اجازت ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِقَامَةِ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ،حدیث نمبر ٣٩٣٣)
باب:- اسلامی تاریخ کی ابتداء کب سے ہوئی؟ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ(صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے اسلامی) تاریخ کا شمار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت سے کیا اور نہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال کے سال سے کیا بلکہ اس کا شمار مدینہ منورہ کی ہجرت کے سال سے کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ التَّارِيخِ، مِنْ أَيْنَ أَرَّخُوا التَّارِيخَ ؟حدیث نمبر ٣٩٣٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ (پہلے) نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو وہ فرض رکعات چار رکعات ہوگئیں۔البتہ سفر کی حالت میں نماز اپنی حالت میں باقی رکھی گئی۔اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے معمر سے کی ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ التَّارِيخِ، مِنْ أَيْنَ أَرَّخُوا التَّارِيخَ ؟حدیث نمبر ٣٩٣٥)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ دعا:- اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھنا اور مکہ شریف میں فوت ہوئے ان پر آپ کا افسوس کرنا۔ عامر بن سعد بن مالک نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حجۃ الوداع دس ہجری کے موقع پر میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ اس مرض میں میرے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فرما رہے ہیں، میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی وارث ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا صدقہ کر دوں؟ فرمایا کہ سعد! بس ایک تہائی کا کر دو، یہ بھی بہت ہے۔ تو اگر اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔احمد بن یونس نے بیان کیا،ان سے ابراہیم بن سعد نے کہ تم اپنی اولاد کو چھوڑ کر جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب دے گا، اللہ تمہیں اس لقمہ پر بھی ثواب دے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے مکہ میں رہ جاؤں گا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پیچھے نہیں رہو گے اور تم جو بھی عمل کرو گے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہوگی تو تمہارا مرتبہ اس کی وجہ سے بلند ہوتا رہے گا اور شاید تم ابھی بہت دنوں تک زندہ رہو گے تم سے بہت سے لوگوں(مسلمانوں)کو نفع پہنچے گا اور بہتوں کو (غیرمسلموں) نقصان ہوگا۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت پوری کر دے اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر (کہ وہ ہجرت کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس آجائیں) البتہ سعد بن خولہ نقصان میں پڑگئے اور احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے اس حدیث کو ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اس میں(اپنی اولاد ذریت کو چھوڑو،کے بجائے)تم اپنے وارثوں کو چھوڑو یہ الفاظ مروی ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ "حدیث نمبر ٣٩٣٦)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کیا؟ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس وقت ہم مدینہ منورہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ اور حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کا بھائی چارہ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ قائم کرایا تھا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ان کے اہل و مال میں سے آدھا وہ قبول کرلیں لیکن حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے۔ آپ تو مجھے بازار کا راستہ بتادیں۔ چناں چہ انہوں نے تجارت شروع کردی اور پہلے دن انہیں کچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا۔ چند دنوں کے بعد انہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر (خوشبو کی)زردی کا نشان ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مہر میں تم نے کیا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک گھٹلی برابر سونا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : كَيْفَ آخَى النَّبِيُّ بَيْنَ أَصْحَابِهِ،حدیث نمبر ٣٩٣٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے چند سوال کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔(اور تین چیزیں یہ ہیں) قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہوگی؟ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی؟ اور کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب ابھی مجھے جبرئیل علیہ السلام نے آ کر بتایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ جس کھانے سے سب سے پہلے اہل جنت کی ضیافت ہوگی وہ مچھلی کی کلیجی کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا(جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے)اور بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آجائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آجائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہودی بڑے بہتان لگانے والے لوگ ہیں۔ اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام کے بارے میں انہیں کچھ معلوم ہو، ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں۔ چناں چہ چند یہودی آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری قوم میں عبداللہ بن سلام کون ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، ہم میں سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسلام لائیں؟ وہ کہنے لگے اس سے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پناہ میں رکھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اور انہوں نے یہی جواب دیا۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ اب وہ کہنے لگے یہ تو ہم میں سب سے بدتر آدمی ہیں اور سب سے بدتر باپ کے بیٹے ہیں۔ فوراً ہی برائی شروع کردی، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اسی کا مجھے ڈر تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٣٨)
عبدالرحمٰن بن مطعم نے بیان کیا کہ میرے ایک شخص نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے، میں نے اس سے کہا: سبحان اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کی قسم! میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا۔ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے مدینہ منورہ )تشریف لائے تو اس طرح خریدو فروخت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدو فروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست (نقد) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیوں کہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے۔ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم (اس طرح کی) خریدو فروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لیے یا (یوں بیان کیا کہ)حج تک کے لیے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ،حدیث نمبر ٣٩٣٩،و حدیث نمبر ٣٩٤٠)
باب:جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کا مدینہ منورہ آنے کا بیان۔ هَادُوا کا معنی ہے وہ یہودی ہو گئے اور ریا هُدْنَا تو وہ اس معنی میں ہے ہم نے توبہ کی۔هَائِدٌ کا معنی ہے توبہ کرنے والا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر دس یہودی(علماء) مجھ پر ایمان لے آئیں تو سارے یہودی ایمان لے آئیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ.،حدیث نمبر ٣٩٤١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔اس کے متعلق ان یہودیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ(علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو فرعون پر فتح عنایت فرمائی تھی چناں چہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٤٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے۔ جن امور میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو(وحی کے ذریعہ)کوئی حکم نہیں ہوتا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ پھر بعد میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی مانگ نکالنے لگے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٤٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، سو وہ بعض کتاب پر ایمان لائے اور بعض کتاب کا انکار کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابُ إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ،حدیث نمبر ٣٩٤٥)
باب: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہا میں نے سنا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہ وہ ایک مالک سے دوسرے مالک تک دس سے زیادہ مالکوں کے غلام رہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.حدیث نمبر ٣٩٤٦)
ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں رام ہرمز(عراق کے قریب ایران کا ایک شہر)کا رہنے والا ہوں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٩٤٧)
ابو عثمان نہدی نے بیان کیا کہ ان سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہعیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان انقطاع رسالت کا وقفہ (جس کے درمیان دوسرا کوئی نبی نہیں آیا وہ فترة کا زمانہ)چھ سو برس کا وقفہ گزرا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ. | بَابٌ : إِسْلَامُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣٩٤٨)
Bukhari Shareef : Kitabo Manaqibul Ansare
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ
|
•