asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Magazi

From 3949 to 4473

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

کتاب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان. باب:غزوہ العشیرۃ یا السیرۃ کا بیان۔ امام ابن اسحاق نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے الابواء(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور جگہ)میں قتال کیا پھر بواط (پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کا نام اور بواط اور مدینہ منورہ کے درمیان بارہ میل کا فاصلہ ہے) میں پھر العشیرۃ میں۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں ایک وقت حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے؟ انہوں نے کہا انیس۔ میں نے پوچھا آپ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں۔ میں نے پوچھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ۔ پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ)عشیرہ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْعُشَيْرَةِ،حدیث نمبر ٣٩٤٩)

كِتَابُ الْمَغَازِي بَابُ غَزْوَةِ الْعُشَيْرَةِ، أَوِ الْعُسَيْرَةِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْوَاءَ، ثُمَّ بُوَاطَ، ثُمَّ الْعُشَيْرَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ : كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ؟ قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ. قِيلَ : كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ. قُلْتُ : فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ ؟ قَالَ الْعُسَيْرَةُ، أَوِ الْعُشَيْرُ. فَذَكَرْتُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ : الْعُشَيْرُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3949

باب: بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے،اس کے متعلق نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ امیہ بن خلف کے(جاہلیت کے زمانے سے)دوست تھے اور جب بھی امیہ مدینہ سے گزرتا تو ان کے یہاں قیام کرتا تھا۔اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ سے گزرتے تو امیہ کے یہاں قیام کرتے۔ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ عمرہ کے ارادے سے گئے اور امیہ کے پاس قیام کیا۔ انہوں نے امیہ سے کہا کہ میرے لیے کوئی تنہائی کا وقت بتاؤ تاکہ میں بیت اللہ کا طواف کروں۔ چناں چہ امیہ انہیں دوپہر کے وقت ساتھ لے کر نکلا۔ ان سے ابوجہل کی ملاقات ہوگئی۔ اس نے پوچھا، ابوصفوان! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ امیہ نے بتایا کہ یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابوجہل نے کہا، میں تمہیں مکہ مکرمہ میں امن کے ساتھ طواف کرتا ہوا نہ دیکھوں۔ تم نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اس خیال میں ہو کہ تم لوگ ان کی مدد کرو گے۔ خدا کی قسم! اگر اس وقت تم، ابوصفوان! امیہ کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامتی سے نہیں جاسکتے تھے۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، اس وقت ان کی آواز بلند ہوگئی تھی کہ اللہ کی قسم! اگر آج تم نے مجھے طواف سے روکا تو میں بھی مدینہ منورہ کی طرف سے تمہارا راستہ بند کر دوں گا اور یہ تمہارے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بن جائے گا۔ امیہ کہنے لگا، سعد! ابوالحکم (ابوجہل)کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو۔ یہ وادی کا سردار ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، امیہ! اس طرح کی گفتگو نہ کرو۔ اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ تو ان کے ہاتھوں سے مارا جائے گا۔ امیہ نے پوچھا۔ کیا مکہ مکرمہ میں مجھے قتل کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا مجھے علم نہیں۔ امیہ یہ سن کر بہت گھبرا گیا اور جب اپنے گھر لوٹا تو(اپنی بیوی سے) کہا، ام صفوان! دیکھا نہیں سعد میرے متعلق کیا کہہ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا کہہ رہے ہیں؟ امیہ نے کہا کہ وہ یہ بتا رہے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے انہیں خبر دی ہے کہ کسی نہ کسی دن وہ مجھے قتل کردیں گے۔ میں نے پوچھا کیا مکہ مکرمہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی مجھے خبر نہیں۔ امیہ کہنے لگا: خدا کی قسم! اب مکہ مکرمہ سے باہر میں کبھی نہیں جاؤں گا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ابوجہل نے قریش سے لڑائی کی تیاری کے لیے کہا اور کہا کہ اپنے قافلہ کی مدد کو چلو تو امیہ نے لڑائی میں شرکت پسند نہیں کی، لیکن ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہنے لگا، اے صفوان! تم وادی کے سردار ہو۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ تم ہی لڑائی میں نہیں نکلتے ہو تو دوسرے لوگ بھی نہیں نکلیں گے۔ ابوجہل یوں ہی برابر اس کو سمجھاتا رہا۔ آخر مجبور ہو کر امیہ نے کہا جب نہیں مانتا تو خدا کی قسم (اس لڑائی کے لیے) میں ایسا تیز رفتار اونٹ خریدوں گا جس کا ثانی مکہ میں نہ ہو۔ پھر امیہ نے(اپنی بیوی سے)کہا، ام صفوان! میرا سامان تیار کر دے۔ اس نے کہا، ابوصفوان! اپنے یثربی بھائی کی بات بھول گئے؟ امیہ بولا، میں بھولا نہیں ہوں۔ ان کے ساتھ صرف تھوڑی دور تک جاؤں گا۔ جب امیہ نکلا تو راستہ میں جس منزل پر بھی ٹھہرنا ہوتا، یہ اپنا اونٹ(اپنے پاس ہی)باندھے رکھتا۔ وہ برابر ایسا ہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کرا دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : ذِكْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُقْتَلُ بِبَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥٠)

بَابٌ : ذِكْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُقْتَلُ بِبَدْرٍ. حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ صَدِيقًا لِأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا مَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ، وَكَانَ سَعْدٌ إِذَا مَرَّ بِمَكَّةَ نَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْطَلَقَ سَعْدٌ مُعْتَمِرًا، فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ لِأُمَيَّةَ : انْظُرْ لِي سَاعَةَ خَلْوَةٍ لَعَلِّي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ. فَخَرَجَ بِهِ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَلَقِيَهُمَا أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ : يَا أَبَا صَفْوَانَ، مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ فَقَالَ : هَذَا سَعْدٌ. فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : أَلَا أَرَاكَ تَطُوفُ بِمَكَّةَ آمِنًا وَقَدْ أَوَيْتُمُ الصُّبَاةَ، وَزَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ تَنْصُرُونَهُمْ وَتُعِينُونَهُمْ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ مَعَ أَبِي صَفْوَانَ مَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمًا. فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ عَلَيْهِ : أَمَا وَاللَّهِ، لَئِنْ مَنَعْتَنِي هَذَا لَأَمْنَعَنَّكَ مَا هُوَ أَشَدُّ عَلَيْكَ مِنْهُ ؛ طَرِيقَكَ عَلَى الْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ أُمَيَّةُ : لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ يَا سَعْدُ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ سَيِّدِ أَهْلِ الْوَادِي. فَقَالَ سَعْدٌ : دَعْنَا عَنْكَ يَا أُمَيَّةُ ؛ فَوَاللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُمْ قَاتِلُوكَ ". قَالَ : بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي. فَفَزِعَ لِذَلِكَ أُمَيَّةُ فَزَعًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَجَعَ أُمَيَّةُ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ : يَا أُمَّ صَفْوَانَ، أَلَمْ تَرَيْ مَا قَالَ لِي سَعْدٌ ؟ قَالَتْ : وَمَا قَالَ لَكَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ : بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي. فَقَالَ أُمَيَّةُ : وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْ مَكَّةَ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَنْفَرَ أَبُو جَهْلٍ النَّاسَ، قَالَ : أَدْرِكُوا عِيرَكُمْ. فَكَرِهَ أُمَيَّةُ أَنْ يَخْرُجَ، فَأَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ : يَا أَبَا صَفْوَانَ، إِنَّكَ مَتَى مَا يَرَاكَ النَّاسُ قَدْ تَخَلَّفْتَ وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي تَخَلَّفُوا مَعَكَ. فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَبُو جَهْلٍ حَتَّى قَالَ : أَمَّا إِذْ غَلَبْتَنِي فَوَاللَّهِ لَأَشْتَرِيَنَّ أَجْوَدَ بَعِيرٍ بِمَكَّةَ. ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ : يَا أُمَّ صَفْوَانَ : جَهِّزِينِي. فَقَالَتْ لَهُ : يَا أَبَا صَفْوَانَ، وَقَدْ نَسِيتَ مَا قَالَ لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ. قَالَ : لَا، مَا أُرِيدُ أَنْ أَجُوزَ مَعَهُمْ إِلَّا قَرِيبًا. فَلَمَّا خَرَجَ أُمَيَّةُ أَخَذَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا عَقَلَ بَعِيرَهُ، فَلَمْ يَزَلْ بِذَلِكَ حَتَّى قَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَدْرٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3950

باب:غزوہ بدر کا قصہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد:اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بےسر و سامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو،جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،ہاں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے، اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں(سورہ آل عمران آیت نمبر ١٢٣ تا ١٢٧) اور وحشی نے کہا:حضرت حمزہ (بن عبد المطلب) رضی اللہ عنہ نے بدر کے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد:اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے(سورۃ الانفال آیت نمبر ٧) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جتنے غزوے کئے، میں غزوہ تبوک کے سوا سب میں حاضر رہا۔ البتہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکا تھا لیکن جو لوگ اس غزوے میں شریک نہ ہو سکے تھے، ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تھے۔(لڑنے کی نیت سے نہیں گئے تھے)مگر اللہ تعالیٰ نے ناگہانی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں سے بھڑا دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥١)

بَابٌ : قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : { وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُنْزَلِينَ بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ }. وَقَالَ وَحْشِيٌّ : قَتَلَ حَمْزَةُ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ يَوْمَ بَدْرٍ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى : { وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ }. الْآيَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتَبْ أَحَدٌ تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3951

باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد:جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے۔اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے، جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ، یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے(سورہ آل عمران آیت ٩ تا ١٣) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوجاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت مشرکین کے خلاف دعا کر رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا کہ جاؤ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خوش ہوگئے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ،حدیث نمبر ٣٩٥٢)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ } { وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَى وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ } { إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ } { إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ } { ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ }. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ ؛ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ : لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ، وَخَلْفَكَ. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ، وَسَرَّهُ. يَعْنِي قَوْلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3952

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے موقع پر فرمایا تھا کہ اے اللہ! میں تیرے عہد اور وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں، اگر تو چاہے(کہ یہ کافر غالب ہوں تو مسلمانوں کے ختم ہوجانے کے بعد)تیری عبادت نہ ہوگی۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور عرض کیا بس کیجئے، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی:‏ عنقریب کفار کا لشکر شکست کھائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔(سورۃ القمر ٤٥) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ،حدیث نمبر ٣٩٥٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ ". فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ : حَسْبُكَ. فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " { سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ } ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3953

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جو مسلمان غزوہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے اور اپنے گھروں میں بیٹھے رہے وہ ان مسلمانوں کے برابر نہیں ہیں جو اپنے گھروں سے نکل کر بدر کی طرف گئے ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ :حدیث نمبر ٣٩٥٤)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا - مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ - يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3954

باب: جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کا شمار۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (بدر کی لڑائی کے موقع پر)مجھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو نابالغ قرار دے دیا گیا تھا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں مجھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو نابالغ قرار دے دیا گیا تھا اور اس لڑائی میں مہاجرین کی تعداد ساٹھ سے کچھ زیادہ تھی اور انصار دو سو چالیس سے کچھ زیادہ تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥٥،و حدیث نمبر ٣٩٥٦)

بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ. حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : اسْتُصْغِرْتُ أَنَا، وَابْنُ عُمَرَ. 3956 حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : اسْتُصْغِرْتُ أَنَا، وَابْنُ عُمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ نَيِّفًا عَلَى سِتِّينَ، وَالْأَنْصَارُ نَيِّفًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3955/3956

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے جو بدر میں شریک تھے مجھ سے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں ان کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت (علیہ السلام) کے ان اصحاب کی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین کو پار کیا تھا۔ تقریباً تین سو دس۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! طالوت کے ساتھ نہر فلسطین کو صرف وہی لوگ پار کرسکے تھے جو مومن تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥٧)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَنَّهُمْ كَانُوا عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهَرَ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةٍ. قَالَ الْبَرَاءُ : لَا وَاللَّهِ مَا جَاوَزَ مَعَهُ النَّهَرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3957

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم اصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی اصحاب طالوت علیہ السلام کی۔ جنہوں نے آپ علیہ السلام کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور ان کے ساتھ نہر کو پار کرنے والے صرف مومن ہی تھے یعنی تین سو دس سے کچھ زیادہ آدمی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهَرَ، وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3958

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ جنگ بدر میں اصحاب بدر کی تعداد بھی تین سو دس سے اوپر، کچھ اوپر تھی، جتنی ان اصحاب طالوت علیہ السلام کی تعداد تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور اسے پار کرنے والے صرف ایمان دار ہی تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ،حدیث نمبر ٣٩٥٩)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ ثَلَاثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ بِعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهَرَ، وَمَا جَاوَزَ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3959

باب: کفار قریش، شیبہ، عتبہ، ولید اور ابوجہل بن ہشام کے خلاف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے کفار قریش کے چند لوگوں شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام کے خلاف دعا کی تھی۔ میں اس کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے (بدر کے میدان میں)ان کی لاشیں پڑی ہوئی پائیں۔ سورج نے ان کی لاشوں کو بدبودار کردیا تھا۔ اس دن بڑی گرمی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : دُعَاءُ النَّبِيِّ عَلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٠)

بَابٌ : دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ ؛ شَيْبَةَ، وَعُتْبَةَ، وَالْوَلِيدِ، وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَهَلَاكُهُمْ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : اسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ؛ عَلَى شَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3960

باب: (بدر کی جنگ میں )ابوجہل کا قتل ہونا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں وہ ابوجہل کے قریب سے گزرے ابھی اس میں تھوڑی سی جان باقی تھی اس نے ان سے کہا اس سے بڑا کوئی اور شخص ہے جس کو تم نے مارا ہے؟ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦١)

بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى أَبَا جَهْلٍ وَبِهِ رَمَقٌ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ أَعْمَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3961

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا "کوئی ہے جو معلوم کرے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟" حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے آئے تو دیکھا کے عفراء کے بیٹو ( حضرت معاذ اور معوذ رضی اللہ تعالٰی عنہما)نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ابوجہل نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے تم نے آج قتل کر ڈالا ہے؟ یا ( اس نے یہ کہا کہ کیا اس سے بھی بڑا ) کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے؟ احمد بن یونس نے( اپنی روایت میں )«أنت» ابوجھل کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ)حدیث نمبر ٣٩٦٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، قَالَ : أَأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟ أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ : أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3962

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن فرمایا:یہ کون دیکھ کر آئے گا کہ ابو جہل نے کیا کیا ہے؟ پس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ گئے تو انہوں نے ابو جہل کو اس حال میں پایا کہ حضرت عفراء رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے اس سے مار چکے تھے حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا پس انہوں نے اس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا:تو مرا پڑا ہے اے ابو جہل تو اس نے کہا کیا اس سے بھی بڑے کسی آدمی کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے! یا کہا کیا اسے بھی بڑے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے! حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اسی طرح آگے حدیث بیان کی۔ صالح بن ابراہیم نے اپنے والد سے انہوں نے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں یعنی حضرت عفراء رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں کی حدیث۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٣،و حدیث نمبر ٣٩٦٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ : أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ أَوْ قَالَ : قَتَلْتُمُوهُ ؟ ( م ) حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نَحْوَهُ. 3964 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَتَبْتُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ فِي بَدْرٍ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3963/3964

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنے جھگڑا کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات (حضرت حمزہ،حضرت علی اور حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین)کے بارے میں سورة الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی:- یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق نزاع کیا(الحج ١٩) انہوں نے بیان کیا کہ یہ وہی دو مقابل ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ یا حضرت ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین(اور کافروں کی طرف سے)شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَقَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : وَفِيهِمْ أُنْزِلَتْ : { هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ }، قَالَ : هُمُ الَّذِينَ تَبَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ ؛ حَمْزَةُ، وَعَلِيٌّ، وَعُبَيْدَةُ، أَوْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْحَارِثِ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةُ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3965

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا آیت کریمہ هذان خصمان اختصموا في ربهم‏:-یہ وہ دو مقابل ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق نزاع کیا(الحج ١٩) قریش کے چھ شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور وہ یہ ہیں کہ (تین مسلمانوں کی طرف کے یعنی حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اور (تین کفار کی طرف کے یعنی) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٦)

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : نَزَلَتْ : { هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ } فِي سِتَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ؛ عَلِيٍّ، وَحَمْزَةَ، وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3966

قیس بن عباد نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا یہ آیت هذان خصمان اختصموا في ربهم:ترجمہ :یہ وہ دو مقابل ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق نزاع کیا۔(الحج ١٩)ہمارے معاملے میں نازل ہوئی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ - كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي ضُبَيْعَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي سَدُوسَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3967

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ قسمیہ بیان کرتے تھے کہ یہ آیت ( هذان خصمان اختصموا في ربهم )انہیں چھ آدمیوں کے بارے میں، بدر کی لڑائی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ پہلی حدیث کی طرح راوی نے اسے بھی بیان کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ، نَحْوَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3968

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت :-هذان خصمان اختصموا في ربهم :ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حضرت حمزہ،حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین (مسلمانوں کی طرف سے)اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ(کافروں کی طرف سے) ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٦٩)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ : { هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ } نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ ؛ حَمْزَةَ، وَعَلِيٍّ، وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةَ، وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3969

ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے بیان کیا اور ان سے ان کے دادا ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ کہ ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بدر کی جنگ میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٠)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ : أَشَهِدَ عَلِيٌّ بَدْرًا ؟ قَالَ : بَارَزَ، وَظَاهَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3970

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے امیہ بن خلف سے(ہجرت کے بعد)معاہدہ کیا۔پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے (علی)کے قتل کا ذکر کیا۔حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے(جب اسے دیکھ لیا تو) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ، فَقَالَ بِلَالٌ : لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3971

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں)سورة النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا تو جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب سجدہ میں گرگئے۔سوائے ایک بوڑھے کے کہ اس نے ہتھیلی میں مٹی لے کر اپنی پیشانی پر اسے لگا لیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل ہوا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٢)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَرَأَ ( وَالنَّجْمِ ) فَسَجَدَ بِهَا، وَسَجَدَ مَنْ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، فَقَالَ : يَكْفِينِي هَذَا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3972

عروہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین (گہرے)زخموں کے نشانات تھے۔ ایک ان کے مونڈھے پر تھا(اور اتنا گہرا تھا)کہ میں بچپن میں اپنی انگلیاں ان میں داخل کردیا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ ان میں سے دو زخم بدر کی لڑائی میں آئے تھے اور ایک جنگ یرموک میں۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو(حجاج بن یوسف ظالم کے ہاتھوں سے)شہید کردیا گیا تو مجھ سے عبدالملک بن مروان نے کہا: اے عروہ! کیا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار تم پہچانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں پہچانتا ہوں۔ اس نے پوچھا اس کی نشانی بتاؤ؟ میں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر اس کی دھار کا ایک حصہ ٹوٹ گیا تھا، جو ابھی تک اس میں باقی ہے۔ عبدالملک نے کہا کہ تم نے سچ کہا(پھر اس نے نابغہ شاعر کا یہ مصرع پڑھا) فوجوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ان کی تلواروں کی دھاریں کی جگہ سے ٹوٹ گی ہیں، پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو واپس کردی ‘ ہشام نے بیان کیا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس تلوار کی قیمت تین ہزار درہم تھی۔ وہ تلوار ہمارے ایک عزیز (عثمان بن عروہ)نے قیمت دے کرلے لی تھی میری بڑی آرزو تھی کہ کاش! وہ تلوار میرے حصے میں آتی۔ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ ہشام نے کہا کہ (میرے والد)عروہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٣،و حدیث نمبر ٣٩٧٤)

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَ فِي الزُّبَيْرِ ثَلَاثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ إِحْدَاهُنَّ فِي عَاتِقِهِ، قَالَ : إِنْ كُنْتُ لَأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيهَا، قَالَ : ضُرِبَ ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوكِ. قَالَ عُرْوَةُ : وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ حِينَ قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ : يَا عُرْوَةُ، هَلْ تَعْرِفُ سَيْفَ الزُّبَيْرِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَمَا فِيهِ ؟ قُلْتُ : فِيهِ فَلَّةٌ فُلَّهَا يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ : صَدَقْتَ بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى عُرْوَةَ. قَالَ هِشَامٌ : فَأَقَمْنَاهُ بَيْنَنَا ثَلَاثَةَ آلَافٍ، وَأَخَذَهُ بَعْضُنَا، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُهُ. 3974 حَدَّثَنَا فَرْوَةُ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ. قَالَ هِشَامٌ : وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3973/3974

ہشام بن عروہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کردیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چناں چہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن(رومی فوج)پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی(مسلمان) نہیں رہا پھر(مسلمان فوج کی طرف)آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑگیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ : أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ. فَقَالُوا : لَا نَفْعَلُ. فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ حَتَّى شَقَّ صُفُوفَهُمْ، فَجَاوَزَهُمْ، وَمَا مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ رَجَعَ مُقْبِلًا، فَأَخَذُوا بِلِجَامِهِ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ عُرْوَةُ : كُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ. قَالَ عُرْوَةُ : وَكَانَ مَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، فَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ، وَكَّلَ بِهِ رَجُلًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3975

حضرت قتادہ نے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دئیے گئے۔(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی) عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے جنگ بدر کے خاتمہ کے تیسرے دن آپ علیہ السلام کے حکم سے آپ علیہ السلام کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ علیہ السلام روانہ ہوئے آپ علیہ السلام کے اصحاب بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے صحابہ کرام نے کہا، غالباً آپ علیہ السلام کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں آخر آپ علیہ السلام اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہوگئے اور کفار قریش کے مقتولین سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر آپ علیہ السلام انہیں آواز دینے لگے کہ اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بیشک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہوگیا تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا)تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ علیہ السلام ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:-اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔ قتادہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا (اس وقت)تاکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں اپنی بات سنا دیں ان کی توبیخ ‘ ذلت ‘ نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٦)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَمِعَ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا، ثُمَّ مَشَى، وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا : مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ. حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ : يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ". قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا، وَتَصْغِيرًا، وَنَقِيمَةً، وَحَسْرَةً، وَنَدَمًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3976

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ‘ قرآن مجید کی آیت الذين بدلوا نعمة الله کفرا‏(سورۃ ابراہیم 28) کے بارے میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! یہ کفار قریش تھے۔ عمرو نے کہا کہ اس سے مراد قریش تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت تھے۔ کفار قریش نے اپنی قوم کو جنگ بدر کے دن دار البوار یعنی دوزخ میں جھونک دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٧)

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا { الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا }، قَالَ : هُمْ وَاللَّهِ كُفَّارُ قُرَيْشٍ. قَالَ عَمْرٌو : هُمْ قُرَيْشٌ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَةُ اللَّهِ، { وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ }، قَالَ : النَّارَ يَوْمَ بَدْرٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3977

ہشام نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سامنے کسی نے اس کا ذکر کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے، اس پر رونے سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ عذاب میت پر اس کی بدعملیوں اور گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس کے گھر والے ہیں کہ اب بھی اس کی جدائی پر روتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئیں تھیں ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اسے سن رہے ہیں۔ تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ ان سے میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی إنک لا تسمع الموتى‏:بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے(سورۃ النحل آیت نمبر ٨١)اور یہ آیت تلاوت کی:-وما أنت بمسمع من في القبور:‏ اور آپ ان کو سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں(الفاطر آیت نمبر ٢٢)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان مردوں کو نہیں سنا سکتے)جو اپنا ٹھکانا اب جہنم میں بنا چکے ہیں۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٧٨،و حدیث نمبر ٣٩٧٩)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ ". فَقَالَتْ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ ". 3979 قَالَتْ : وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ "، إِنَّمَا قَالَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ ". ثُمَّ قَرَأَتْ : { إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى }، { وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ }، يَقُولُ : حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3978/3979

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا کیا جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے وعدہ کر رکھا تھا اسے تم نے سچا پا لیا؟پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اب بھی اسے سن رہے ہیں۔اس حدیث پاک کا ذکر جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اب جان لیا ہوگا کہ جو کچھ میں نے ان سے کہا تھا وہ حق تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آیت:-إنک لا تسمع الوتى۔بے شک آپ مردوں کو نہیں سناتے۔پوری پڑھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ،حدیث نمبر ٣٩٨٠،و حدیث نمبر ٣٩٨١)

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ : " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ ". فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ "، ثُمَّ قَرَأَتْ : { إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى }، حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3980/3981

غزوہ بدر میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو صحابہ معرکہ بدر میں مشرکین سے قتال کے لیے حاضر ہوۓ تھے وہ دوسرے صحابہ سے افضل ہیں امام بخاری کو چاہیے تھا کہ وہ لکھتے : غزوہ بدر میں حاضر ہونے والوں کی افضلیت نہ کہ فضیلت, حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معرکہ بدر کے دن حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور وہ نوعمر لڑکے تھے پس ان کی ماں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آ ئیں تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی۔ پس اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس پر صبر کرتی ہوں اور ثواب کی نیت کرتی ہوں اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! کیا تم کو معلوم نہیں، کیا وہاں صرف ایک جنت ہے وہاں تو بہت جنتیں ہیں اور وہ لڑکا جنت الفردوس میں ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا،حدیث نمبر ٣٩٨٢) اس میں جنت الفردوس کا لفظ ہے یہ سب سے بلند جنت ہے۔

باب فضل من شهد بدرًا حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ، وَإِنْ تَكُ الْأُخْرَى تَرَى مَا أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : " وَيْحَكِ، أَوَهَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ ؟ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3982

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور حضرت ابومرثد اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بھیجا اور ہم سب گھڑ سوار تھے آپ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ حتی کہ روضہ خارج پر پہنچ جاؤ کیونکہ وہاں مشرکین ایک عورت ہوگی اس کے پاس ایک مکتوب ہوگا جو حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین کی طرف لکھا ہے (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ)ہم نے اس عورت کو جالیا جو اپنے اونٹ پر اس جگہ سفر کر رہی تھی جہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ہم نے اس سے کہا: وہ مکتوب لاؤ اس نے کہا: ہمارے پاس مکتوب نہیں ہے ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کی تلاش کی تو ہم نے کوئی مکتوب نہیں دیکھا ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے غلط نہیں فرمایا تم ضرور مکتوب نکالو ورنہ ہم تمہیں برہنہ کر دیں گئے جب اس نے (ہماری) سنجیدگی دیکھی تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ ہاتھ بڑھایا وہ ایک چادر باندھے ہوۓ تھی، پھر اس نے وہ مکتوب نکالا ہم اس مکتوب کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنین سے خیانت کی ہے پس آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں! تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (حضرت حاطب سے فرمایا:تم کو اس کام پر کس نے ابھارا؟ تو حضرت حاطب نے کہا: میں صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والا ہوں میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ میرا اس قوم پر کوئی احسان ہو جاۓ جس کی وجہ سے اللہ تعالی میرے اہل اور مال سے ضرر اور شر کو دور کرۓ آپ کے جتنے اصحاب یہاں ہیں ان سب کا قبیلہ وہاں موجود ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ ان کے اہل اور مال کی حفاظت فرماتا ہے پس نبی ﷺ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے اور تم بھی اس کو بھلائی کے سوا اور کچھ نہ کہو حضرت عمر نے پھر کہا: اس شخص نے اللہ تعالی اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مؤمنین سے خیانت کی ہے سو آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں! تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ شخص اہل بدر سے نہیں ہے! پس فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:تم جو چاہے عمل کرو بے شک تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے یا فرمایا: میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہا: اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا،حدیث نمبر ٣٩٨٣)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا مَرْثَدٍ، وَالزُّبَيْرَ وَكُلُّنَا فَارِسٌ، قَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ؛ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ". فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا حَيْثُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا : الْكِتَابَ. فَقَالَتْ : مَا مَعَنَا كِتَابٌ. فَأَنَخْنَاهَا، فَالْتَمَسْنَا، فَلَمْ نَرَ كِتَابًا، فَقُلْنَا : مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَنُجَرِّدَنَّكِ. فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ أَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ ، فَأَخْرَجَتْهُ، فَانْطَلَقْنَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي فَلِأَضْرِبَ عُنُقَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " قَالَ حَاطِبٌ : وَاللَّهِ، مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ عَشِيرَتِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ، وَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا ". فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي فَلِأَضْرِبَ عُنُقَهُ. فَقَالَ : " أَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ " فَقَالَ : " لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ ". أَوْ : " فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ". فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ، وَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3983

حضرت ابوأسيد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا:جب وہ( کفار )تمہارے قریب پہنچ جائیں تو پھر تم ان پر تیر مارنا ( اور جب وہ دور ہوں تو اپنے تیروں کو محفوظ رکھنا ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٨٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ، وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3984

حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بدر کے دن فرمایا: جب وہ ( کفار ) تمہارے قریب پہنچ جائیں یعنی جب وہ تم سے زیادہ تعداد میں ہوں تو پھر تم ان پر تیر مارنا (اور جب وہ دور ہوں تو اپنے تیروں کو محفوظ رکھنا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٨٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " إِذَا أَكْثَبُوكُمْ - يَعْنِي : كَثَرُوكُمْ - فَارْمُوهُمْ، وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3985

حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے غزوۂ احد کے دن تیر مارنے والوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا پس ہم میں ستر (۷۰) صحابہ شہید ہو گئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کے ایک سو چالیس (١٤٠) مردوں کو نقصان پہنچا تھا' ستر (۷۰) مارے گئے تھے اور ستر (۷۰) گرفتار ہوۓ تھے ۔ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کا بدلہ ہے اور جنگ کنویں کا ڈول ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٨٦)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً ؛ سَبْعِينَ أَسِيرًا، وَسَبْعِينَ قَتِيلًا. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3986

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: اور اب کامل خیر وہ خیر ہوگی جو خیراللہ بعد میں عطاء فرماۓ گا اور بہترین بدلہ وہ ثواب ہے جو اللہ نے ہمیں بدر کے بعد عطاء فرمایا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٨٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ، وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3987

ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی از والد خود از جد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا: میں غزوہ بدر کے دن ایک صف میں تھا اچانک میں نے مڑ کر دیکھا تو میری دائیں طرف اور بائیں طرف دونوخیز جوان تھے جو کم عمر تھے پس میں گویا کہ ان کے اس مقام پر کھڑے ہونے سے بے خوف نہیں تھا کہ ان میں سے ایک نے مجھ سے اس طرح چپکے سے پوچھا کہ دوسرے کو پتا نہ چلے( اس نے کہا: اے میرے بچا مجھے ابوجہل دکھائیں میں نے پوچھا: اے میرے بھتیجے! تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں نے اللہ سے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں نے ابوجہل کو دیکھا تو میں اس کوقتل کر دوں گا یا پھر میں اس کے سامنے اپنی جان دے دوں گا ۔ دوسرے نوجوان نے بھی اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوۓ یہی بات کہی حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس سے خوشی نہیں ہوئی کہ میں ان دو نوجوانوں کی جگہ ہوتا پھر میں نے ان دونوں کو اشارے سے ابوجہل دکھایا سو ان دونوں نے دو عقابوں کی طرح اس پر حملہ کیا حتی کہ ان دونوں نے اسے مارکر گرا دیا وہ دونوں حضرت عفراء کے بیٹے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٣٩٨٨)

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنِّي لَفِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ إِذِ الْتَفَتُّ فَإِذَا عَنْ يَمِينِي، وَعَنْ يَسَارِي فَتَيَانِ حَدِيثَا السِّنِّ، فَكَأَنِّي لَمْ آمَنْ بِمَكَانِهِمَا إِذْ قَالَ لِي أَحَدُهُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ : يَا عَمِّ، أَرِنِي أَبَا جَهْلٍ. فَقُلْتُ : يَا ابْنَ أَخِي، وَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالَ : عَاهَدْتُ اللَّهَ إِنْ رَأَيْتُهُ أَنْ أَقْتُلَهُ، أَوْ أَمُوتَ دُونَهُ. فَقَالَ لِيَ الْآخَرُ سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ مِثْلَهُ، قَالَ : فَمَا سَرَّنِي أَنِّي بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَأَشَرْتُ لَهُمَا إِلَيْهِ، فَشَدَّا عَلَيْهِ مِثْلَ الصَّقْرَيْنِ حَتَّى ضَرَبَاهُ وَهُمَا ابْنَا عَفْرَاءَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3988

عمرو بن اسید بن جاریہ الثقفی نے خبر دی جو بنوزھرہ کے حلیف تھے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے تلامذہ میں سے تھے از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دس (۱۰) جاسوس بھیجے اور حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا جو عاصم بن عمر بن الخطاب کے نانا تھے جب وہ عسفان اور مکہ کے درمیان مقام الهداة میں پہنچے تو ھذیل کے ایک قبیلہ کوان کی اطلاع ہوگئی جس کو بنولحیان کہا جا تا تھا تو وہ تقریبا سو تیراندازوں کو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوۓ وہ ان کے قدموں کے نشانات پر چلنے لگے حتی کہ انہوں نے اس جگہ کو تلاش کر لیا جہاں بیٹھ کر انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں انہوں نے کہا: یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں پھر وہ ان کے نشانات پر چل پڑے جب حضرت عاصم اور ان کے اصحاب کو ان کے تعاقب کا علم ہو گیا تو انہوں نے ایک جگہ پناہ حاصل کر لى بنولحیان نے ان کا محاصرہ کر لیا اور کہا: تم لوگ نیچے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو اور ہم تم سے پکا عہد کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گئے حضرت عاصم بن ثابت نے کہا: اے لوگو! رہا میں تو میں ایک کافر کے وعدہ پر نہیں اتروں گا پھر انہوں نے دعا کی: اے اللہ! اپنے نبی کو ہمارے حال کی خبر کر دے پھر ان لوگوں نے ان پر تیر برساۓ اور حضرت عاصم کوشہید کر دیا اور تین اصحاب ان کے عہد و پیمان پر( اعتماد کر کے )نیچے اتر آۓ ان میں سے ایک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ تھے اور تیسرے ایک اور تھے جب بنولحیان نے ان پر قابو پالیا تو ان کی کمانوں کی تانت سے ان کو باندھ دیا اس تیسرے صحابی نے کہا: یہ تمہاری پہلی عہد شکنی ہے اور اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا میرے لیے ان لوگوں میں نمونہ ہے ان کی مراد شہداء سے تھی سو کافروں نے ان کو گھسیٹا اور زبردستی ان کو لے جانے لگے پس انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا (سو انہوں نے ان کو بھی شہید کر دیا پھر وہ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو لے گئے اور غزوہ بدر کے بعد ان کو فروخت کر دیا پس بنوالحارث بن عامر بن نوفل نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا اور حضرت خبیب نے ہی غزوہ بدر میں الحارث بن عامر کوقتل کیا تھا۔پس حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاں قیدی رہے حتی کہ انہوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ پس انہوں نے حارث کی کسی بیٹی سے زیر ناف بالوں کو کاٹنے کے لیے عاریتاً استرا مانگا اس نے ان کو استرا دے دیا پس اس کا چھوٹا بیٹا ان کی طرف آ گیا اور وہ اس سے غافل تھی حتی کہ وہ بچہ ان کے پاس آیا پس اس نے دیکھا کہ وہ بچہ ان کے زانو پر بیٹھا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے سو وہ بہت گھبرائی اور ڈری' حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اس کے خوف اور گھبراہٹ کو جان لیا پس کہا: کیا تم کو یہ ڈر ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں گا میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں' اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (حضرت) خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اور اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا ان کے ہاتھ میں انگوروں کا گچھا تھا جیسے وہ کھا رہے تھے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوۓ تھے اور اس وقت مکہ میں کوئی(انگور کا پھل نہیں تھا اور وہ کہتی تھیں کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالی نے خبیب کو دیا ہے اور جب وہ لوگ حضرت خبیب کوقتل کرنے کے لیے حرم سے باہر حِل میں لے گئے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو سو انہوں نے ان کو چھوڑ دیا پر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ یہ موت کے ڈر سے (نماز کولمبی کر رہا ہے ) تو میں نماز میں زیادہ دیر لگاتا پھر انہوں نے دعا کی: اے اللہ! ان کو الگ الگ قتل کر دے اور ان میں کسی ایک کو بھی نہ چھوڑا پھر انہوں نے یہ اشعار کہے: پس جب میں حالت اسلام میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر گرایا جاۓ گا اور(موت) تو صرف اللہ کی رضا میں ہے اور گر وہ چاہے تو کاٹے گئے اعضاء کے جوڑوں میں زیادہ برکت ڈال دے گا۔ پھر ان کی طرف ابوسروعہ عقبہ بن الحارث کھڑا ہوا اور اس نے ان کو شہید کر دیا اور ہر وہ مسلمان جس کو زبردستی قتل کیا جاۓ اس کے لیے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیے جانے سے پہلے نماز پڑھنے کی سنت قائم کی ہے اور نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو اس حادثہ کی اسی دن خبر دے دی تھی جس دن وہ پیش آیا تھا اور قریش کے لوگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت عاصم بن ثابت شہید کر دیئے گئے ہیں تو انہوں نے ان کی طرف آدمی روانہ کیے کہ وہ ان کے جسم کا کوئی ایسا حصہ لے آئیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے کیونکہ حضرت عاصم نے قریش کے سرداروں میں سے ایک بڑے سردار (عقبہ بن ابی معیط کوقتل کر دیا تھا سو اللہ تعالی نے حضرت عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حفاظت کے لیے شہد کی مکھیوں کی فوج کو بھیج دیا جو ان کے جسم پر بادل کی طرح چھائی ہوئی تھی سو ان قریش کے بھیجے ہوۓ آدمیوں سے ان کے جسم کی حفاظت کی اور وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نہیں کاٹ سکے اور حضرت کعب بن مالک نے کہا کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مرارہ بن الربیع العمری اور ہلال بن امیہ الواقفی دو نیک مرد تھے جو غزوہ بدر میں حاضر تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٨٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ جَدِّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ بَيْنَ عُسْفَانَ، وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو لِحْيَانَ، فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ، فَقَالُوا : تَمْرُ يَثْرِبَ. فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ، وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى مَوْضِعٍ، فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ، فَقَالُوا لَهُمُ : انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ، وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا. فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ : أَيُّهَا الْقَوْمُ، أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ. ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا، وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ ؛ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ، وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، قَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ، إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ أُسْوَةً. يُرِيدُ الْقَتْلَى، فَجَرَّرُوهُ، وَعَالَجُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَانْطُلِقَ بِخُبَيْبٍ، وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ، فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَوَجَدَتْهُ مُجْلِسَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، قَالَتْ : فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ. فَقَالَ : أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ. قَالَتْ : وَاللَّهِ، مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ. وَكَانَتْ تَقُولُ : إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا. فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ : دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. فَتَرَكُوهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ : وَاللَّهِ، لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَزِدْتُ. ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا ، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا. ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ : فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سَرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَتَلَهُ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ، وَأَخْبَرَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ، أَنْ يُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ، وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ، فَبَعَثَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا. وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ : ذَكَرُوا مُرَارَةَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيَّ، وَهِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيَّ رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3989

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ذکر کیا گیا کہ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بدری صحابی تھے وہ جمعہ کے دن بیمار ہو گئے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما دن چڑھنے کے بعد ان کی طرف گئے اور نماز جمعہ قریب تھی سو انہوں نے نماز جمعہ کو ترک کر دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٩٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا مَرِضَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَرَكِبَ إِلَيْهِ بَعْدَ أَنْ تَعَالَى النَّهَارُ، وَاقْتَرَبَتِ الْجُمُعَةُ، وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3990

اور لیٹ نے کہا:مجھے یونس نے حدیث بیان کی از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم الزہری کی طرف لکھا اس میں ان کو حکم دیا کہ وہ حضرت سبیعہ بنت الحارث الاسلمیہ کے پاس جائیں،پس ان سے ان کی حدیث کے متعلق سوال کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے ان سے کیا فرمایا تھا سو عمر بن عبداللہ بن ارقم نے عبداللہ بن عقبہ کی طرف لکھا اور ان کو خبر دی کہ حضرت سبیعہ بنت الحارث نے ان کو خبر دی کہ وہ حضرت سعد بن خولہ کے نکاح میں تھیں اور وہ بنو عامر بن لوی کے قبیلہ سے تھے اور وہ ان اصحاب میں سے تھے جو بدر میں حاضر تھے سو وہ حجۃ الوداع میں فوت ہو گئے اور اس وقت حضرت سبیعہ حاملہ تھیں اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے چند دنوں بعد ان کا بچہ پیدا ہوگیا، پھر جب وہ نفاس سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگھار کیا، پس ان کے پاس ابوالسنابل ابن بعکک آۓ جو بنو عبدالدار کے مرد تھے تو انہوں نے ان سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگھار کیا ہے آپ نکاح کی امید رکھتی ہیں، پس بے شک اللہ کی قسم! آپ اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں حتی کہ آپ کے اوپر ( آپ کی عدت کے چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں، حضرت سبیعہ نے بتایا کہ جب انہوں نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے شام کے وقت اپنے کپڑوں کو سمیٹا اور میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے مجھے یہ جواب دیا کہ جب میرا وضع حمل ہو گیا (یعنی میرا بچہ پیدا ہو گیا تو میری عدت پوری ہوگئی اور مجھے حکم دیا کہ میں جس سے چاہوں نکاح کرسکتی ہوں۔لیٹ کی متابعت اصبغ نے کی ہے از ابن وہب از یونس اور لیث نے کہا: مجھے یونس نے حدیث بیان کی از ابن شہاب اور ہم نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان بن ثوبان نے خبر دی جو بنو عامر بن لوی کے آزاد شدہ غلام ہیں کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے اس کی مثل خبر دی ان کے والد بدر میں حاضر تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٩١)

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا، وَعَنْ مَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا : مَا لِي أَرَاكِ تَجَمَّلْتِ لِلْخُطَّابِ تُرَجِّينَ النِّكَاحَ ؛ فَإِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ. قَالَتْ سُبَيْعَةُ : فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي. تَابَعَهُ أَصْبَغُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ - مَوْلَى بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ - أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ - وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا - أَخْبَرَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3991

باب:غزوہ بدر میں فرشتوں کا حاضر ہونا معاذ بن رفاعہ بن رافع الزرقی از والد خود اور ان کے والد اہل بدر میں سے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور کہا: آپ اہل بدر کو اپنے درمیان کیسا شمار کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا:وہ(عام) مسلمانوں سے افضل ہیں یا کوئی اور بات اس کی مثل فرمائی حضرت جبریل نے کہا: اسی طرح فرشتوں میں سے جو بدر میں حاضر تھے (وہ عام فرشتوں سے افضل ہیں)۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ شُهُودِ الْمَلَائِكَةِ بَدْرًا.،حدیث نمبر ٣٩٩٢)

بَابُ شُهُودِ الْمَلَائِكَةِ بَدْرًا. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ ؟ قَالَ : " مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ ". أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ : وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3992

معاذ بن رفاعہ بن رافع اور حضرت رفاعہ اہل بدر میں سے تھے اور حضرت رافع ابل العقبہ میں سے تھے وہ اپنے بیٹے سے کہتے تھے کہ مجھے اس سے خوشی نہیں ہے کہ میں العقبہ کے بجاۓ بدر میں حاضر ہوتا' انہوں نے بیان کیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔ (بخاری شریف،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ شُهُودِ الْمَلَائِكَةِ بَدْرًا،حدیث نمبر ٣٩٩٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ رِفَاعَةُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، فَكَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ : مَا يَسُرُّنِي أَنِّي شَهِدْتُ بَدْرًا بِالْعَقَبَةِ. قَالَ : سَأَلَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3993

معاذ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اس کی مثل حدیث ہے اور از ابو یحییٰ روایت ہے کہ یزید بن الھاد نے ان کو خبر دی کہ جس دن معاذ رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ حدیث بیان کی وہ ان کے ساتھ تھے پس یزید نے کہا:اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس فرشتہ نے سوال کیا تھا وہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ شُهُودِ الْمَلَائِكَةِ بَدْرًا،حدیث نمبر ٣٩٩٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ ، أَنَّ مَلَكًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنْ يَحْيَى ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ حَدَّثَهُ مُعَاذٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَزِيدُ : فَقَالَ مُعَاذٌ : إِنَّ السَّائِلَ هُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3994

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا: یہ حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہوۓ ہیں اور جنگ کے ہتھیار لگاۓ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ شُهُودِ الْمَلَائِكَةِ بَدْرًا،حدیث نمبر ٣٩٩٥)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ : " هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ، عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3995

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور انہوں نے کوئی اولا نہیں چھوڑی اور وہ بدری صحابی تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٣٩٩٦)

حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مَاتَ أَبُو زَيْدٍ وَلَمْ يَتْرُكْ عَقِبًا ، وَكَانَ بَدْرِيًّا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3996

این خباب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید بن مالک الخدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آۓ تو ان کے گھر والے ان کے لیے قربانی کے جمع شدہ گوشت میں ایک سے گوشت لاۓ انہوں نے کہا: جب تک میں اس کے متعلق تحقیق نہ کرلوں میں اس کونہیں کھاؤں گا پس وہ اپنے ماں شریک بھائی کے پاس گئے وہ بدری صحابی حضرت قتادہ بن النعمان رضی اللہ عنہ تھے سو انہوں نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: تمہارے جانے کے بعد ایک نیا حکم آیا جس نے اس سے پہلی ممانعت کو منسوخ کر دیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا جمع شد و گوشت نہ کھایا جائے ۔ (بخاری شریف،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٣٩٩٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدِ بْنَ مَالِكٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضْحَى، فَقَالَ : مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ. فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ : إِنَّهُ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضٌ لِمَا كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضْحَى بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3997

هشام بن عروة از والد خود بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر ﷺ نے بتایا کہ غزوہ بدر کے دن میرا مقابلہ عبیدہ بن سعید بن العاص سے ہوا وہ سرتا پا لو ہے میں غرق تھا اس کی صرف دو آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں، اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی اس نے مجھ سے کہا: میں ابوذات الکرش ہوں' میں نے نیزہ سے اس پر حملہ کیا اور وہ نیزہ اس کی آنکھ میں گھونپ دیا سو وہ مر گیا ہشام نے کہا: پس مجھے خبر دی گئی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنا پاؤں اس کے اوپر رکھ کر بہت زور لگایا تب جا کر میں وہ نیزہ اس کی آنکھ سے نکال سکا۔ اس کے دونوں کنارے مڑ چکے تھے عروہ کہتے ہیں کہ اللہ ﷺ نے اس نیزے کو طلب فرمایا تو میں نے آپ کو دہ پیش کر دیا پھر جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو میں نے اس پر قبضہ کر لیا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس نیزہ کوطلب کیا تو میں نے انہیں پیش کر دیا، پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو طلب فرمایا تو میں نے وہ نیزہ ان کو دے دیا پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات ہوگئی تو میں نے اس کو پھر لے لیا پھر اس نیزہ کو حضرت عثمان غنی طلب کیا تو میں نے وہ نیزہ ان کو دے دیا پھر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو وہ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھا پس حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کا مطالبہ کیا تو وہ ان کے پاس رہا حتی ان کوشہید کر دیا گیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٣٩٩٨)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ الزُّبَيْرُ : لَقِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ مُدَجَّجٌ لَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُكْنَى : أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ، فَقَالَ : أَنَا أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ. فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالْعَنَزَةِ ، فَطَعَنْتُهُ فِي عَيْنِهِ، فَمَاتَ. قَالَ هِشَامٌ : فَأُخْبِرْتُ أَنَّ الزُّبَيْرَ قَالَ : لَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلِي عَلَيْهِ، ثُمَّ تَمَطَّأْتُ فَكَانَ الْجَهْدَ أَنْ نَزَعْتُهَا، وَقَدِ انْثَنَى طَرَفَاهَا. قَالَ عُرْوَةُ : فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ سَأَلَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَقَعَتْ عِنْدَ آلِ عَلِيٍّ، فَطَلَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3998

ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں حاضر تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے بیعت کرو۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٣٩٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَايِعُونِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 3999

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں حاضر تھے انہوں نے حضرت سالم کو بیٹا بنایا تھا اور ان کا نکاح اپنی بھتیجی حضرت ہند بنت الولید بن عتبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کر دیا تھا اور وہ انصار کی ایک عورت کے آزاد کردہ غلام تھے جیسے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بیٹا بنایا تھا اور زمانہ جاہلیت میں جو شخص کسی کو بیٹا بنالیتا تو لوگ اس کو اس کا بیٹا کہتے تھے اور وہ بیٹا اس کا وارث ہوتا تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوگئی:ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپ ہی کا بیٹا کہہ کر بلایا کرو۔(الاحزاب: ۵ ) پھر حضرت سہلہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آ ئیں ۔سوامام بخاری نے اس حدیث کا ذکر کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : { ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ }. فَجَاءَتْ سَهْلَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4000

الربیع بنت معوز وہ بیان کرتی ہیں کہ شب زفاف کی صبح کو نبی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لاۓ اور میرے بستر پر بیٹھ گئے جس طرح تم میرے پاس بیٹھے ہو اور بچیاں دف بجارہی تھیں اور اپنے مرثیہ پڑھ رہی تھیں جو غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے حتی کہ ایک لڑکی نے یہ شعر پڑھا:اور ہم میں ایسے نبی موجود ہیں جن کو علم ہے کل کیا ہو گا تب نبی ﷺ نے فرمایا: اس طرح نہ کہو اور وہی کہتی رہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠١)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولِي هَكَذَا، وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4001

حضرت ابن عباس اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ اس گھر میں جس میں تصویر ہو اس سے ان کی مراد وہ مجسمے تھے جن کی روحیں ہوں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٢) ضروری نوٹ! اس حدیث میں تصویر بنانے کی ممانعت سے مراد جان دار کی تصویریں ہیں خواہ وہ کاغذ پر ہوں یا کپڑے پر ہوں یا مجسمے بنانے کی ممانعت مراد ہے اور بے جان چیزوں کی تصویریں بنانا جائز ہے خواہ ان تصویروں کو ہاتھ سے بنایا جائے یا کیمرے سے کھینچا جائے۔اور کتوں کی ممانعت سے مراد وہ کتے ہیں جوگھر کی حفاظت کے لیے یا شکار کے لیے یا کھیت کی حفاظت کے لیے نہ ہو۔(از شبیر احمد راج محلی)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ ". يُرِيدُ التَّمَاثِيلَ الَّتِي فِيهَا الْأَرْوَاحُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4002

حضرت حسین بن علی ﷺ نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے دو سال کی ایک اونٹنی تھی اور نبی ﷺ نے ایک اونٹنی مجھ کو مال خمس میں سے عطا کی تھی جو آپ کو اللہ نے اس دن عطاء کیا تھا۔پس جب میں نے حضرت فاطمہ علیہا السلام کے ساتھ گھر بسانے کا ارادہ کیا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صاحب زادی تھیں تو میں نے بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ لیا کہ وہ میرے ساتھ چلے گا اور ہم اذخر( ایک قسم کی گھاس ) لے کر آئیں گے میرا ارادہ تھا کہ میں وہ گھاس سناروں کو فروخت کروں گا اور اس کی آمدنی سے اپنی شادی کا ولیمہ کروں گا' پس جس وقت میں اپنی ان اونٹنیوں پر پالان بوریاں اور رسیاں وغیرہ رکھ رہا تھا اور وہ اونٹنیاں انصار کے ایک شخص کے گھر کے برابر میں بٹھائی ہوئی تھیں حتی کہ میں نے جمع کیا جو جمع کیا اچانک میں نے دیکھا کہ ان اونٹنیوں کے کوہان کاٹے ہوۓ تھے اور ان کی کوکھوں کو کاٹ کر ان كی كـلـيـجـیـاں کاٹ کر نکالی ہوئی تھیں، میں اس منظر کو دیکھ کر۔ آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکا' میں نے پوچھا: یہ کام کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کام حضرت سید نا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کیا ہے اور وہ اس گھر میں انصار کے شراب پینے والوں کے ساتھ ہیں اور ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے (دیگر ) اصحاب ہیں اس گانے والی نے اپنے گانے کے دوران کہا :سنو اے حمزه! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں، پس حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اچھل کر اپنی تلوار لی اور ان اونٹنیوں کی کوئیں کاٹ ڈالیں اور ان کی کلیجیاں نکال لیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گیا اس وقت آپ کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور نبی ﷺ نے جان لیا تھا کہ میرے ساتھ کیا حادثہ ہوا ہے آپ نے پوچھا: تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ پر آج ایسی مصیبت کبھی نہیں آئی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر تجاوز کر کے ان کے کوہان چیر ڈالے اور ان کی کوئیں کاٹ ڈالیں اور وہ یہیں ایک گھر میں شراب کی محفل جماۓ بیٹھے ہیں نبی ﷺ نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور آپ چل پڑے میں اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے چلے حتی کہ آپ اس گھر میں آۓ جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے آپ نے ان سے اجازت طلب کی انہوں نے آپ کو اجازت دی، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کو ان کے کیے ہوۓ کام پر ملامت کرنے لگے اس وقت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشہ میں تھے ان کی آنکھیں سرخ تھیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا پھر نظر اوپر اٹھائی پھر آپ کے گھٹنوں کی طرف دیکھا پھر نظر اوپر اٹھا کر آپ کے چہرہ انور کی طرف دیکھا پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب میرے باپ کے غلام ہو پس نبی ﷺ نے جان لیا کہ یہ اس وقت نشہ میں ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی وقت الٹے پیر اس گھر سے لوٹ آۓ اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکل آۓ ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٣)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ : كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا فِي بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، فَنَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مِنَ الْأَقْتَابِ ، وَالْغَرَائِرِ، وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا أَنَا بِشَارِفَيَّ قَدْ أُجِبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ الْمَنْظَرَ، قُلْتُ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ قَالُوا : فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ. فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا. قَالَ عَلِيٌّ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَقِيتُ. فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ؛ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ، فَارْتَدَى، ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَأُذِنَ لَهُ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ ، مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ : وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي. فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى ، فَخَرَجَ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4003

ابن عیینہ نے خبر دی انہوں نے کہا ابن الاصبہانی نے یہ حدیث لکھ کر ہمیں بھیج دی تھی انہوں نے اس کو ابن معقل سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پر تکبیرات پڑھیں اور فر مایا: یہ بدر میں حاضر تھے۔ (بخاری شریف کتاب ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٤) حضرت سہل بن حنیف کا مختصر تذکرہ:- علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں: حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ:ان کی کنیت ابوالولید ہے دوسرا قول یہ بھی ہے:ان کی کنیت ابوثابت ہے یہ اڑتیس (۳۸) ہجری میں کوفہ میں فوت ہوئے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (عمدۃ القاری ج ۷ ص ۱۳۸ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۳۲۱

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : أَنْفَذَهُ لَنَا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَبَّرَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَقَالَ : إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4004

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ ( کے فوت ہونے )سے بیوہ ہو گئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے اور بدر میں حاضر تھے مدینہ میں فوت ہو گئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میری حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے سامنے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو پیش کیا۔ پس میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ سے حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا نکاح کردوں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: میں عنقریب اپنے معاملہ میں غور کروں گا پھر میں کئی راتیں انتظار کرتا رہا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے۔کہا: میری رائے یہ ہوئی ہے کہ میں آج کل نکاح نہ کروں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا سو میں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا آپ سے نکاح کر دوں پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت ان کے جواب سے زیادہ رنج پہنچے میں کئی راتیں ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کا پیغام دیا سو میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا آپ علیہ السلام سے نکاح کر دیا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: شاید آپ کو اس سے رنج ہوا ہو کہ جب آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو مجھ پر پیش کیا تھا اور میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، میں نے کہا: جی ہاں! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مجھے آپ کی پیش کش کا جواب دینے سے اور کوئی امر مانع نہیں تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرما چکے ہیں تو میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والانہیں تھا اور اگر آپ ان کو ترک فرمادیتے تو میں ان کا رشتہ قبول کر لیتا۔ (بخاری شریف،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ - قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. قَالَ : سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، فَقَالَ : قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ. قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ، إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4005

امام بخاری روایت کرتے ہیں:ہمیں مسلم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از عدی از حضرت عبداللہ بن یزید انہوں نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے سنا از نبی کریم ﷺ آپ نے فرمایا: مرد کا اپنی بیوی پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4006

الزہری نے کہا: میں نے عروہ بن الزبیر سے سنا وہ عمر بن عبدالعزیز سے ان کی امارت کے دور میں حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز مؤخر کر دی اس وقت وہ کوفہ کے امیر تھے پس حضرت ابومسعود عقبہ بن عمروانصاری آۓ جو زید بن حسن کے دادا ہیں وہ بدر میں حاضر تھے پس انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوۓ پس انہوں نے نماز پڑھی پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۔پانچ نمازیں پھر کہا: مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح حضرت بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے روایت کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ : أَخَّرَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الْعَصْرَ، وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ جَدُّ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ - شَهِدَ بَدْرًا - فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمْتَ نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا أُمِرْتُ ". كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4007

حضرت ابومسعود البدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں کو جس نے ایک رات میں پڑھ لیا تو وہ اسے کافی ہوں گی عبدالرحمان نے کہا: میں حضرت ابومسعود سے اس وقت ملا جب وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے میں نے ان سے اس کا سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی (بخاری شریف، ۔كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠٠٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِيهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4008

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے حضرت محمود بن الربیع نے خبر دی کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہیں ان انصار میں سے ہیں جو بدر میں حاضر تھے وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آۓ ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٠٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4009

ابن شہاب نے کہا: پھر میں نے الحصین بن محمد سے سوال کیا اور وہ سالم کے بیٹوں میں سے ایک ہیں اور وہ ان کے سرات میں سے ہیں ۔ (ان سے) محمود بن الربیع کی حدیث کے متعلق سوال کیا از حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سو انہوں نے اس حدیث کی تصدیق کی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ - هُوَ : ابْنُ صَالِحٍ - حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ، وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، فَصَدَّقَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4010

عبداللہ بن عامر ابن ربیعہ نے خبر دی اور وہ عدی کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور ان کے والد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت قدامہ بن مظعون کو بحرین کا عامل بنایا اور وہ بدر میں حاضر تھے اور وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ماموں تھے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - وَكَانَ مِنْ أَكْبَرِ بَنِي عَدِيٍّ، وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ خَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4011

حضرت رافع بن خدیج نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو خبر دی کہ ان کے دونوں چچاؤں نے خبردی اور وہ دونوں بدر میں حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زراعت کی زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا میں نے سالم سے کہا:آپ تو زمینوں کو کراۓ پر دیتے ہیں انہوں نے کہا: ہاں! حضرت رافع نے اس معاملہ میں اپنے اوپر بہت سختی کی تھی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١٢،و حدیث نمبر ٤٠١٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ : أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ عَمَّيْهِ - وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا - أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ. قُلْتُ لِسَالِمٍ : فَتُكْرِيهَا أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4012/4013

عبداللہ بن شداد بن الھاد اللیثی بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت رفاعہ بن رافع انصاری کو دیکھا اور وہ بدر میں حاضر تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠١٤)

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيَّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رِفَاعَةَ بْنَ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4014

حضرت مسور بن مخرمہ نے خبر دی وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کو حضرت عمرو بن عوف نے خبر دی اور وہ بنو عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو بحرین کی طرف بھیجا کہ وہاں سے جزیہ لے کر آئیں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت العلاء بن الحضری کو عامل بنایا تھا۔ پس حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آۓ سو انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سن لی تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز میں پہنچ گئے، پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر مڑے تو وہ آپ کے درپے ہوۓ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو آپ مسکراۓ پھر آپ نے فرمایا: میرا گمان ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ مال لے کر آۓ ہیں انہوں ۔ نے کہا: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: پس تم بشارت قبول کرو اور اس چیز کی توقع کرو جو تم کو خوش کرے گی، پس اللہ کی قسم ! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جاۓ گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی تھی پس تم دنیا میں اس طرح رغبت کرو گے جس طرح انہوں نے رغبت کی تھی اور دنیا تم کو اس طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس (دنیا) نے ان کو ہلاک کر دیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١٥)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ؛ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ : " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ ؟ " قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَأَبْشِرُوا، وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4015

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما تمام سانپوں کو مار ڈالتے تھے۔ حتی کہ ان کو حضرت ابولبابہ الہدری نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے گھروں کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تب حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ان کو مارنے سے رک گئے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١٦،و حدیث نمبر ٤٠١٧)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا. 4017 حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ، فَأَمْسَكَ عَنْهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4016/4017

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انصار کے کچھ مردوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی پس کہا: آپ ہمیں اجازت دیں ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑ دیں آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ان سے ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠١٨)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : ائْذَنْ لَنَا فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ. قَالَ : " وَاللَّهِ، لَا تَذَرُونَ مِنْهُ دِرْهَمًا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4018

مقداد بن عمرو الکندی نے خبر دی اور وہ بنی زھرہ کے حلیف تھے وہ ان صحابہ میں سے تھے جو بدر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ان کو یہ خبر دی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ بتائیں کہ اگر میرا کفار کے کسی مرد سے مقابلہ ہو سو ہم ایک دوسرے سے قتال کریں، پس وہ میرے دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ پر ضرب لگا کر اس کو کاٹ ڈالے پھر وہ ایک درخت کی اوٹ میں مجھ سے پناہ لے لے پھر کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس کوقتل کر سکتا ہوں؟ تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کوقتل نہ کرنا پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا تھا پھر وہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اس نے اسلام قبول کیا ہے تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو قتل نہ کرنا اگر تم نے اب اس کوقتل کر دیا تو اس کو قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہوگا اور تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ح حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ، فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ. أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ". فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ؛ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4019

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فر مایا:یہ کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟ تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ گئے تو انہوں نے اس کو اس حال میں پایا کہ حضرت عفراء رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے اس کو مار چکے تھے حتی کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پس انہوں نے کہا: تو ابوجہل ہے۔ ابن علیہ نے کہا کہ سلیمان نے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو ابوجہل ہے اس نے کہا: کیا تم نے مجھ سے بھی کوئی بڑا آدمی قتل کیا ہے؟ سلیمان نے بتایا: اس نے کہا تھا کہ کسی ایسے شخص کو بھی اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ابومجلز نے بتایا کہ ابوجہل نے کہا تھا: کاش! مجھے کسی کسان کے علاوہ دوسرے نے قتل کیا ہوتا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٠)

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ". فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ : قَالَ سُلَيْمَانُ : هَكَذَا قَالَهَا أَنَسٌ، قَالَ : أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ : أَوْ قَالَ : قَتَلَهُ قَوْمُهُ. قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4020

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے حدیث بیان کی از حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے! ہم اپنے انصاری بھائیوں کی طرف چلیں، پس ہم نے انصار کے ان دو نیک مردوں سے ملاقات کی جو بدر میں حاضر تھے پس میں نے عروہ بن الزبیر سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ( دو بدری صحابہ )حضرت عویم بن ساعدہ اور حضرت معن بن عدی رضی اللہ تعالٰی عنہما تھے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠٢١)

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ. فَلَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ شَهِدَا بَدْرًا، فَحَدَّثْتُ بِهِ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : هُمَا عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَمَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4021

قیس بیان کرتے ہیں کہ بدریین کا وظیفہ پانچ ہزار درہم فی کس )تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کو ضرور بعد والوں پر فضیلت دوں گا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةَ آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ. وَقَالَ عُمَرُ : لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4022

محمد بن جبیر بن مطعم از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھ رہے تھے اور یہ وہ پہلی چیز ہے جس نے میرے دل میں ایمان کو مضبوط کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٣)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، وَذَلِكَ أَوَّلَ مَا وَقَرَ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4023

محمد بن جبیر بن مطعم از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا پھر وہ مجھ سے ان بد بودار قیدیوں کے متعلق سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان کو چھوڑ دیتا۔ اور اللیث نے کہا از یحیی بن سعید از سعید بن المسیب : پہلا فتند واقع ہوا یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل تب اصحاب بدر میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا، پھر دوسرا فتنہ واقع ہوا یعنی الحرہ،تب اصحاب حدیبیہ میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا پھر تیسرا فتہ واقع ہوا تو وہ اس وقت تک نہیں اٹھا' جب تک لوگوں میں کچھ بھی عقل وشعور تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٤)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ : " لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا، ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ ". وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى - يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ - فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ - يَعْنِي الْحَرَّةَ - فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدًا، ثُمَّ وَقَعَتِ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَلِلنَّاسِ طَبَاخٌ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4024

یونس بن یزید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے الزہری سے سنا انہوں نے کہا: میں نے عروة بن الزبیر اور سعید بن المسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ان میں سے ہر ایک نے مجھے حدیث کا ایک ٹکڑا بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اور ام مسطح آ رہی تھیں تو حضرت ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گریں، پس انہوں نے کہا مسطح ہلاک ہو جاۓ ! پس میں نے کہا: آپ نے مری بات کہی ہے آپ ایسے شخص کو بد دعا دے رہی ہیں جو بدر میں حاضر تھا پھر ان راویوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگانے کی حدیث بیان کی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ،حدیث نمبر ٤٠٢٥)

حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ. قَالَتْ : فَأَقْبَلْتُ أَنَا، وَأُمُّ مِسْطَحٍ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ. فَقُلْتُ : بِئْسَ مَا قُلْتِ ؛ تَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا. فَذَكَرَ حَدِيثَ الْإِفْكِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4025

محمد بن فلیح بن سلیمان نے حدیث بیان کی از موسی بن عقبہ از ابن شہاب انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مغازی ہیں پس انہوں نے حدیث ذکر کی پس جس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (مردہ کافروں کو بدر کے کنویں میں ڈال رہے تھے تو آپ فرما رہے تھے تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا کیا تم نے اس کو برحق پالیا؟ روای نے بیان کیا کہ نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے کہا: اور آپ کے اصحاب میں سے چند لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ مردوں کو پکار رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے جو بات کہی ہے تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ امام ابوعبدالله ( بخاری ) نے کہا: پس تمام وہ قریش جو بدر میں حاضر ہوئے تھے جن کو مال غنیمت سے حصہ دیا گیا ان کی تعداد اکیاسی مردتھی اور عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جن کو ( مال غنیمت سے حصے دیئے گئے ان کی تعداد سوتھی اور اللہ تعالی ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلْقِيهِمْ : " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " قَالَ مُوسَى : قَالَ نَافِعٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ مِمَّنْ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ أَحَدٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا، وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : قَالَ الزُّبَيْرُ : قُسِمَتْ سُهْمَانُهُمْ فَكَانُوا مِائَةً، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4026

امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے ابراہیم بن موسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے خبر دی از معمر از ہشام بن عروه از والد خود از حضرت زبیر رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن مہاجرین کے لیے سو حصے مقرر کیے گئے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٢٧)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : ضُرِبَتْ يَوْمَ بَدْرٍ لِلْمُهَاجِرِينَ بِمِائَةِ سَهْمٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4027

صحیح بخاری میں جن اہل بدر کے نام مذکور ہیں ان کو امام بخاری نے حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر کیا ہے (۱) حضرت سیدنا نبی محمد بن عبداللہ الہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم (۲) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (۳) پھر حضرت عمر بن الخطاب العدوى رضی اللہ عنہ (۴) پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جن کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کی تیمارداری کے لیے چھوڑ دیا تھا اور مال غنیمت میں سے ان کا حصہ مقرر کیا تھا(۵) پھر حضرت علی بن ابی طالب الہاشمی رضی اللہ عنہ ہے۔(۲) پھر ایاس بن البکیر رضی اللہ عنہ (۷) بلال بن رباح رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوبکر صدیق قرشی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں (۸) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب الہاشمی رضی اللہ عنہ (۹) حاطب بن ابی بقعہ رضی اللہ عنہ قریش کے حلیف (۱۰) ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ القرشی رضی اللہ عنہ (11) حارث بن الربيع رضی اللہ عنہ الانصاری یہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے یہی حارثہ بن سراقہ ہیں جو جاسوسوں میں تھے (۱۲) خبیب بن عدی الانصاری رضی اللہ عنہ (۱۳) خنیس بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ (۱۴) رفاعہ بن رافع الانصار رضی اللہ عنہ (۱۵) رفاعه بن عبدالمنذر ابولبابہ الانصاری رضی اللہ عنہ (۱۲) الزبير بن العوام القرشی رضی اللہ عنہ (۱۷) زید بن سہل رضی اللہ عنہ (۱۸) ابوطلحہ الانصار رضی اللہ عنہ (۱۹) ابوزید الانصار رضی اللہ عنہ (۲۰) سعد بن مالک الزہری رضی اللہ عنہ (۲۱) سعد بن خوله القرشی رضی اللہ عنہ (۲۲) سعید بن زید بن عمرو . بن نفيل القرشی رضی اللہ عنہ (۲۳) سہل بن حنیف الانصاری رضی اللہ عنہ (۲۴) ظہیر بن رافع الانصاری رضی اللہ عنہ (۲۵) اور ان کے بھائی رضی اللہ عنہ (٢٦)عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ رضی اللہ عنہ (۲٧) عبداللہ بن مسعود الهذلي رضی اللہ عنہ (۲٩) عتبہ بن مسعود المہدی رضی اللہ عنہ (۲٩) عبدالرحمن بن عوف الازہری رضی اللہ عنہ (٣٠) عبيدة بن الحارث القرشی رضی اللہ عنہ(۳١) عبادہ بن الصامت الانصاري رضی اللہ عنہ (۳٢) عمرو بن خطاب العدوی رضی اللہ عنہ"جو بنو عامر بن لؤی کے حلیف ہیں" (۳٣) عقبہ بن عمرو الانصاری رضی اللہ عنہ (۳٤) عامر بن ربیعہ العنزی رضی اللہ عنہ (۳٥) عاصم بن بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ (۳٦) عویم بن ساعده الانصاری رضی اللہ عنہ (۳٧) عتبان بن مالك الانصاری رضی اللہ عنہ (۳٨) قدام بن مظعون رضی اللہ عنہ (۳٩) قتادہ بن نعمان الانصاری رضی اللہ عنہ (٤٠) معاذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ عنہ (٤١) معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ (٤٢) اور ان کے بھائی"معاذ" رضی اللہ عنہ (٤٣) مالک بن ربیعہ ابواسید الانصاری رضی اللہ عنہ (٤٤) مراره بن الربیع الانصاری رضی اللہ عنہ (٤٥) معن بن عدی الانصاری رضی اللہ عنہ (٤٦) مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ (٤٧) مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ جو بنوزہرہ کے حلیف ہیں (٤٨) ہلال بن امیہ الانصاری رضی اللہ عنہ ۔ بنوالنضیر کی حدیث اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دومردوں کی دیت کے معاملہ میں ان کی طرف نکلنا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عہد شکنی کا جوارادہ کیا تھا۔ الزہری نے کہا از عروہ بن الزبیر یہ غزوہ بدر کے چھ ماہ بعد احد سے پہلے ہوا۔ اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد: وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے نکالا پہلی بار جلاوطن کرنے کے وقت ان کے نکل جانے کا تمہیں گمان نہ تھا۔(الحشر:۲) اور امام ابن اسحاق نے اس غزوہ کو بئر معونہ اور احد کے بعد قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ النضیر اور قریظہ نے جنگ کی تو آپ علیہ السلام نے بنوالنضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ پر احسان فرمایا اور ان کو برقرار رکھا حتی کہ قریظہ نے جنگ کی، پس ان کے مردوں کوقتل کر دیا اور ان کی عورتوں کو اور ان کے بچوں کو اور ان کے اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا سوا ان میں سے بعض کے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے پس آپ علیہ السلام نے ان کو امن دیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور آپ علیہ السلام نے مدینہ شریف کے تمام یہود یعنی بنو قینقاع کو جلا وطن کر دیا اور وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے اور یہود بنو حارثہ کو اور ہر یہودی کو مدینہ سے نکال دیا۔ (بخاری شریف, كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ. ،حدیث نمبر ٤٠٢٨)

بَابٌ : تَسْمِيَةُ مَنْ سُمِّيَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فِي الْجَامِعِ الَّذِي وَضَعَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلَى حُرُوفِ الْمُعْجَمِ، النَّبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِيَاسُ بْنُ الْبُكَيْرِ، بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لِقُرَيْشٍ، أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ، حَارِثَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ : حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ فِي النَّظَّارَةِ، خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، خُنَيْسُ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ، رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ، رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ، زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ، أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ الزُّهْرِيُّ، سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ الْقُرَشِيُّ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْقُرَشِيُّ، سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَأَخُوهُ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيُّ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَدَوِيُّ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقُرَشِيُّ خَلَّفَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَتِهِ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْهَاشِمِيُّ، عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَنَزِيُّ، عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ وَأَخُوهُ، مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، مَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، مِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ، وَمَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْنِ، وَمَا أَرَادُوا مِنَ الْغَدْرِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ : كَانَتْ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَبْلَ أُحُدٍ. وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ. وَجَعَلَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ بَعْدَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَأُحُدٍ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : حَارَبَتِ النَّضِيرُ، وَقُرَيْظَةُ فَأَجْلَى بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ، وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ ؛ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4028

سعید بن جبیر وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سامنے سورۃ الحشر کہا تو انہوں نے کہا: سورۃ النضیر کہو۔ ابوعوانہ کی متابعت ہشیم نے کی از ابی بشر ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ. ،حدیث نمبر ٤٠٢٩)

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : سُورَةُ الْحَشْرِ. قَالَ، قُلْ : سُورَةُ النَّضِيرِ. تَابَعَهُ هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4029

معتمر نے حدیث بیان کی از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ (انصاری) مرد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کے درخت مخصوص رکھتے تھے ( تا کہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں کھجوریں بھیج دی جائیں حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو قریظہ اور نضیر پر فتح عطاء فرمائی اس کے بعد آپ علیہ السلام ان کو وہ کھجوریں واپس کر دیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ. ،حدیث نمبر ٤٠٣٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرَ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4030

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بنوالنضیر کے کھجور کے درخت جلوا دیئے تھے اور کٹوادیے تھے یہ درخت مقام ۔ بویرہ میں تھے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: تم نے کھجور کے جودرخت کاٹے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ (سب ) اللہ کے اذن سے ہوا ۔ (الحشر:۵) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ. ،حدیث نمبر ٤٠٣١)

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَنَزَلَتْ : { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4031

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوالنضیر کے کھجور کے درخت جلا دیے اور ان ہی کے متعلق حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر ہے: بنو لوئی کے سرداروں نے (اس کو ) آسانی کے ساتھ برداشت کر لیا جو آگ مقام بویرہ میں پھیل رہی تھی۔ پھر ابوسفیان بن الحارث نے اس کے جواب میں کہا: اللہ کرے (مدینہ میں ہمیشہ یہ کام ہوتا رہے یعنی آگ لگتی رہے اور اس کے اردگرد شعلے بھڑکتے رہیں تم عنقریب جان لو گے کہ کون بویرہ سے دور ہے اور جان لو گے کہ ہم میں سے کس کی زمین کوزیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ،حدیث نمبر ٤٠٣٢)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، قَالَ : وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ : وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ قَالَ : فَأَجَابَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ : أَدَامَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ صَنِيعٍ وَحَرَّقَ فِي نَوَاحِيهَا السَّعِيرُ سَتَعْلَمُ أَيُّنَا مِنْهَا بِنُزْهٍ وَتَعْلَمُ أَيَّ أَرْضَيْنَا تَضِيرُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4032

مالک بن اوس بن الحدثان النصری نے خبر دی کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا تھا (دریں اثناء) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربان یرفاء آۓ اور ان سے کہا کہ حضرت عثمان حضرت عبدالرحمان حضرت الزبیر اور حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین بھی حاضر ہونے کی اجازت طلب کر رہے ہیں آپ کا کیا حکم ہے؟ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! تو یرفاء نے ان کو داخل کر لیا تھوڑی دیر بعد وہ پھر آ یا اور کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں، آپ کا کیا حکم ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! جب وہ دونوں داخل ہو گئے تو حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کیجئے اور وہ دونوں اس مال فئے میں جھگڑ رہے تھے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنونضیر کے مال سے عطاء فرمایا تھا۔ پس حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے ایک دوسرے کو برا کہا پس( پہلے آنے والے صحابہ کی جماعت نے کہا: اے امیر المؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیجئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے راحت دلائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھہرو! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے اذن سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا ہمارا جو کچھ ترکہ ہے وہ صدقہ ہے اس سے آپ کی مراد خود اپنی ذات تھی سب نے کہا:"ہاں" آپ علیہ السلام نے اس طرح فرمایا تھا، پھر حضرت عمر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوۓ اور کہا: میں آپ دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا تھا ؟ ان دونوں نے کہا: جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس معاملہ کی خبر دیتا ہوں: بے شک اللہ سبحانہ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مال فئے سے ایک چیز کے ساتھ خاص کر لیا تھا اور آپ علیہ السلام نے یہ مال فئے اپنے علاوہ اور کسی کو نہیں دیا۔ پس اللہ جل ذکرہ نے فرمایا: اور جو(مال)اللہ نے ان سے(نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے سو تم نے ان پر نہ گھوڑے دوڑاۓ تھے اور نہ اونٹ ۔ ( الحشر ۱ ) یہ آیت یہاں تک ہے، اور لیکن اللہ اپنے رسولوں کو مسلط فرما دیتا ہے جس پر چاہے اور اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے۔ (الحشر (۲) پس یہ اموال ( بنی نضیر ) خالص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ملکیت تھی پھر اللہ کی قسم ! آپ نے تمہیں نظر انداز کر کے اس مال کو اپنے ساتھ خاص نہیں کیا تھا اور نہ تم پر اپنی ذات کو ترجیح دی تھی تحقیق یہ ہے کہ آپ نے یہ مال تم کو دیا ہے اور آپ نے تم میں اس مال کو تقسیم کیا حتی کہ اس میں سے یہ مال بچ گیا سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس مال کو اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے اس مال میں سے ان کو ایک سال کا خرچ دیتے تھے پھر اس میں سے جو مال بچ جاتا اس کو اللہ کا مال قرار دیتے پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی حیات میں اس مال میں اس طرح تصرف کرتے رہے پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ولی ہوں تو اس مال کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اختیار میں لے لیا اور مال میں وہی تصرف کیا جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس مال میں تصرف کرتے تھے اور آپ لوگ یہیں موجود تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوۓ اور فر مایا: آپ دونوں کو یاد ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مال میں وہی تصرف کرتے تھے جیسا کہ آپ دونوں بھی اقرار کرتے ہیں اور اللہ کو خوب علم ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس تصرف میں سچے تھے نیکو کار تھے ہدایت یافتہ تھے اور حق کے پیروکار تھے پھر اللہ عز وجل نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو وفات دی تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ولی ہوں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ولی ہوں سو میں نے اپنی خلافت کے دوران دو سال اس مال پر قبضہ رکھا اور اس مال میں وہی تصرف کیا جو اس مال میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تصرف کرتے تھے اور اللہ کو خوب علم ہے کہ میں اس تصرف میں سچا ہوں' نیکو کار ہوں ہدایت یافتہ ہوں اور حق کا پیروکار ہوں پھر آپ دونوں میرے پاس آئے اور آپ دونوں ایک ہی ہیں اور آپ دونوں کا نظریہ بھی ایک ہے اور آپ دونوں کا مقصد بھی ایک ہے پھر آپ میرے پاس آۓ یعنی حضرت عباس تو میں نے آپ دونوں سے کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے پھر میری رائے یہ ہوئی کہ میں اس مال کا انتظام آپ ۔ دونوں کے حوالے کر دوں، میں نے کہا: اگر آپ دونوں چاہیں تو میں اس مال کا انتظام آپ کے حوالے کر دیتا ہوں اس شرط پر کہ آپ اللہ سے پکا عہد کریں کہ آپ اس مال کو ان ہی مصارف میں خرچ کریں گے جن مصارف میں اس مال کو رسول اللہ ماتم صرف کرتے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صرف کرتے تھے اور جب سے میں اس مال کا والی ہوا تو میں اس مال کو ان ہی مصارف میں صرف کرتا تھا اور اگر آپ یہ عہد و میثاق نہ کریں تو پھر آپ مجھ سے اس سلسلہ میں بات نہ کریں تو آپ دونوں نے کہا کہ آپ اس مال کو اس شرط پر ہمارے حوالے کر دیں سو میں نے یہ مال آپ کے حوالے کر دیا اب کیا آپ دونوں مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کرانا چاہتے ہیں؟ پس اللہ کی قسم! جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں میں۔ اس مال میں قیامت تک اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا اگر آپ دونوں اس کا انتظام کرنے سے عاجز ہیں تو یہ مال میرے حوالے کر دیں میں آپ دونوں کی جگہ اس کا انتظام کروں گا ۔ زہری نے کہا: پھر میں نے عروہ بن الزبیر سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: مالک بن اوس نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مال فئے سے جو عطا فرمایا ہے ان کی وراثت کا آٹھواں حصہ ان کو دیا جاۓ تو میں ان ازواج مطہرات کو منع کرتی تھی میں نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ سے ڈرتی نہیں ہیں کیا آپ کو معلوم نہیں ہیں! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا ہم نے جو بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے اس سے آپ کی مراد اپنی ذات تھی، محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آل صرف اس مال میں سے کھاۓ گی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات کے پاس گئے اور ان کو بتایا جو میں نے ان کو حدیث سنائی تھی، پھر یہ صدقات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تصرف میں آ گئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان صدقات میں سے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کو کچھ دینے سے منع کر دیا اور ان پر غالب رہے پھر یہ اموال حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے تصرف میں آۓ پھر یہ اموال حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ہاتھ میں پھر علی بن حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ہاتھ میں اور حضرت حسن بن حسن رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ہاتھ میں آۓ اور یہ مال باری باری ان کے تصرف میں آتا رہا پھر یہ مال حضرت زید بن حسن رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ہاتھ میں آیا اور یہ دراصل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا برحق صدقہ تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ. ،حدیث نمبر ٤٠٣٣،و حدیث نمبر ٤٠٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَاهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ، فَأَدْخِلْهُمْ. فَلَبِثَ قَلِيلًا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ، وَعَلِيٍّ يَسْتَأْذِنَانِ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا - وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي الَّذِي أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ - فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ، وَعَبَّاسٌ. فَقَالَ الرَّهْطُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ. فَقَالَ عُمَرُ : اتَّئِدُوا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ ؟ قَالُوا : قَدْ قَالَ ذَلِكَ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَبَّاسٍ ، وَعَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ ؟ قَالَا : نَعَمْ. قَالَ : فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ؛ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ : { وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ }. إِلَى قَوْلِهِ : { قَدِيرٌ }. فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ وَاللَّهِ، مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ ؛ لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا، وَقَسَمَهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ مِنْهَا، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ، فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ - فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، وَقَالَ - تَذْكُرَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهِ كَمَا تَقُولَانِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ. ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ : أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي أَعْمَلُ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهِ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي كِلَاكُمَا وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ ، فَجِئْتَنِي - يَعْنِي عَبَّاسًا - فَقُلْتُ لَكُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ : إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ، وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مُذْ وَلِيتُ، وَإِلَّا فَلَا تُكَلِّمَانِي. فَقُلْتُمَا : ادْفَعْهُ إِلَيْنَا بِذَلِكَ. فَدَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا، أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ ؟ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي فِيهِ بِقَضَاءٍ غَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهُ فَادْفَعَا إِلَيَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهُ. 4034 قَالَ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ ، أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ : أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ : أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ ؛ أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ - يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ - إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ ". فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا أَخْبَرَتْهُنَّ، قَالَ : فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4033/4034

عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور ان سے آپ علیہ السلام کی زمین جو فدک میں تھی اور آپ علیہ السلام کا جو حصہ خیبر میں تھا اس کی میراث سے اپنا حصہ طلب کیا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: ہمارا وارث نہیں بنایا جاتا ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے آل محمد اس مال میں سے کھاۓ گی اور اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے حسن سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ،حدیث نمبر ٤٠٣٥،و حدیث نمبر ٤٠٣٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ. 4036 فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ، وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4035/4036

باب:کعب بن اشرف کے قتل کا بیان۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن الاشرف کوکون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ( بہت زیادہ )ایزاء دی ہے پس حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوۓ سو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کوقتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیں کہ میں (اس کو خوش کرنے کے لیے ) کچھ باتیں کہوں؟ آپ نے فرمایا: تم کہہ دینا سو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے پس اس سے کہا: یہ شخص ہم سے صدقہ کا سوال کرتا ہے اور اس نے ہم کو تھکا دیا ہے اور میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تم ہمیں کچھ قرض دو اس نے کہا: ابھی دیکھنا یہ شخص تم کو ملال اور اکتاہٹ میں مبتلا کر دے گا حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک ہم نے اس کی پیروی کی ہے اور ہم اس کو اس سے پہلے چھوڑنا نہیں چاہتے حتی کہ ہم دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمیں ایک وسق یا دو وسق اناج قرض دو ( چھ من یا دس من) عمرو نے دوسری بار یہ حدیث بیان کی تو ایک وسق یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا میں نے ان سے کہا کہ حدیث میں ایک وسق یا دو وسق کا بھی ذکر ہے؟ انہوں نے کہا: میرا بھی یہ خیال ہے کہ حدیث میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر ہے کعب بن اشرف نے کہا: ہاں۔(مگر )تم میرے پاس کچھ گروی رکھو میں نے پوچھا: تم کیا گروی رکھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: تم اپنی عورتیں گروی رکھو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس کیسے گروی رکھ سکتے ہیں حالانکہ تم حسین ترین مرد ہو اس نے کہا: پھر تم اپنے بیٹے گروی رکھ دو انہوں نے کہا: ہم تمہارے پاس اپنے بیٹے کیسے گروی رکھ سکتے ہیں۔ پھر کوئی شخص ان میں سے کسی کو طعنہ دے گا کہ میپ ایک وسق یا دو وسق اناج کے عوض گروی رکھا گیا تھا اور یہ بات ہم پر باعث عار ہوگی لیکن ہم تمہارے پاس "لامہ" گروی رکھ سکتے ہیں، سفیان نے کہا کہ اس سے مراد ہتھیار ہیں پھر اس نے ان سے ملاقات کا وعدہ کر لیا پس وہ اس کے پاس رات کو آۓ اور ان کے ساتھ کعب کا رضاعی بھائی ابونائلہ بھی تھا اس نے ان کو قلعہ کی طرف بلا لیا پس وہ ان کی طرف اترنے لگا اس کی بیوی نے اس سے کہا: تم اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: یہ صرف محمد بن مسلمہ ہے اور اس کے ساتھ میرا بھائی ابونائلہ ہے ۔ عمرو کے علاوہ دوسرے راوی نے بیان کیا: اس کی بیوی نے کہا: میں ایسی آواز سن رہی ہوں جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو کعب بن اشرف نے کہا: یہ صرف میرا بھائی محمد بن مسلمہ ہے اور میرا دودھ شریک بھائی ابونائلہ ہے شریف آدمی کو اگر رات میں بھی نیزہ بازی کے لیے بلایا جاۓ تو وہ چلا جاتا ہے راوی نے کہا: اس نے محمد بن مسلمہ کو اور ان کے ساتھ دو اور مردوں کو داخل کر لیا سفیان سے پوچھا گیا: کیا عمرو نے ان دومردوں کا نام لیا تھا؟ انہوں نے کہا: بعض کا نام لیا تھا عمرو نے کہا تھا: ان کے ساتھ دومرد آۓ اور عمرو کے علاوہ ابو عبس بن جبر اور الحارث بن اوس اور عباد بن بشر نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ ان کے ساتھ دومرد آۓ پس انہوں نے ان کو سمجھایا کہ جب وہ آۓ گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا، پس جب تم یہ دیکھو کہ میں نے اس کے سر پر قابو پالیا ہے تو تم اس کو پکڑ کر مارڈالنا اور ایک مرتبہ یہ کہا کہ پھر میں اس کا سر سونگھوں گا پھر کعب بن اشرف ان کی طرف چادر لپیٹے ہوۓ آیا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی تھی محمد بن مسلمہ نے کہا: میں نے آج تک اتنی نفیس خوشبو نہیں پائی عمرہ کے علاوہ دوسرے راوی نے بتایا کہ کعب بن اشرف نے کہا: میرے پاس عرب کی سب سے حسین اور کامل عورت ہے جو ہر وقت خوشبو میں بسی رہتی ہے عمرو نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں تمہارے سرکو سونگھ لوں اس نے کہا:ہاں! پھر انہوں نے سونگھا پھر انہوں نے اپنے اصحاب کو سونگھا یا پھر کہا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! پس جب انہوں نے اس کے سر پر قابو پالیا تو کہا: اب اس کو پکڑ کر مارڈالو سو انہوں نے اس کوقتل کر دیا پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس کے قتل کی خبر دی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ،حدیث نمبر ٤٠٣٧)

بَابٌ : قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ؛ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ " فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قَالَ : فَائْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا. قَالَ : " قُلْ ". فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا، وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ. قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ. قَالَ : إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ، حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ، وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا، أَوْ وَسْقَيْنِ. وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ يَذْكُرْ : وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ. فَقُلْتُ لَهُ : فِيهِ : وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ ؟ فَقَالَ : أُرَى فِيهِ : وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ. فَقَالَ : نَعَمِ، ارْهَنُونِي. قَالُوا : أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ ؟ قَالَ : ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ. قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا، وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ. قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ أَبْنَاءَنَا، فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ ؟ فَيُقَالُ : رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ، هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ. قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي السِّلَاحَ. فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَجَاءَهُ لَيْلًا وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ - وَهُوَ أَخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ - فَدَعَاهُمْ إِلَى الْحِصْنِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ. وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : قَالَتْ : أَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ. قَالَ : إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ، إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لَأَجَابَ. قَالَ : وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ. قِيلَ لِسُفْيَانَ : سَمَّاهُمْ عَمْرٌو ؟ قَالَ : سَمَّى بَعْضَهُمْ. قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ، وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ. قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ، فَقَالَ : إِذَا مَا جَاءَ فَإِنِّي قَائِلٌ بِشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِنْ رَأْسِهِ فَدُونَكُمْ فَاضْرِبُوهُ. وَقَالَ مَرَّةً : ثُمَّ أُشِمُّكُمْ. فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ مُتَوَشِّحًا وَهُوَ يَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رِيحًا، أَيْ : أَطْيَبَ. وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : قَالَ : عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ، وَأَكْمَلُ الْعَرَبِ. قَالَ عَمْرٌو : فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ رَأْسَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَشَمَّهُ، ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ، ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِي ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ، قَالَ : دُونَكُمْ. فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4037

باب:ابو رافع کا قتل۔ عبداللہ بن ابی تحقیق ،اس کو سلا م بن ابی الحقیق بھی کہا جا تا ہے۔ یہ خیبر میں تھا۔اور کہا جا تا ہے کہ وہ سرزمین حجاز میں ایک قلعہ میں تھا، اور الزہری نے کہا کہ وہ کعب بن الاشرف کے بعد قتل کیا گیا۔ حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ابورافع کی طرف بھیجا پس حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہوۓ اس وقت وہ سویا ہوا تھا۔ پس اس کو انہوں نے قتل کر دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ،حدیث نمبر ٤٠٣٨)

بَابٌ : قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَيُقَالُ : سَلَّامُ بْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ، كَانَ بِخَيْبَرَ، وَيُقَالُ : فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ : هُوَ بَعْدَ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلَى أَبِي رَافِعٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ، فَقَتَلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4038

حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابورافع یہودی کی طرف انصار کے چند مردوں کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا اور ابورافع رسول اللہ کو ایذاء دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف ( آپ کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا وہ سرزمین حجاز کے ایک قلعہ میں رہتا تھا جب انصاری اس کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے مویشیوں کو لے کر جا چکے تھے سو حضرت عبداللہ نے اپنے اصحاب سے کہا: تم لوگ اپنی جگہوں پر بیٹھو میں (اس کے قلعہ میں ) جا رہا ہوں اور دربانوں سے کوئی حیلہ کرتا ہوں شاید میں( قلعہ میں داخل ہو جاؤں پھر وہ آگے بڑھے حتی کہ دروازہ تک پہنچ گئے انہوں نے اپنے آپ کو اپنے کپڑے سے اس طرح ڈھانپ لیا گویا وہ قضاء حاجت کر رہے ہیں قلعہ کے تمام لوگ اندر داخل ہو چکے تھے سو دربان نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندے! اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آجا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں (انہوں نے بتایا: ) سو میں اندر داخل ہو گیا۔ پس میں چھپ کر دیکھنے لگا۔ پس جب سب لوگ اندر چلے گئے تو اس نے دروازہ بند کر دیا اور چابیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا انہوں نے بتایا کہ میں چابیوں کی طرف بڑھا اور ان کو اٹھالیا سو میں نے دروازہ کھولا ابورافع کے پاس رات کو کہانیاں سنائی جارہی تھیں اور وہ اپنے بالا خانے میں تھا جب کہانیاں سنانے والے اس کے پاس سے چلے گئے تو میں ( اس کے بالا خانے کی طرف) پڑھا اس اثناء میں میں جتنے دروازے اس تک جانے کے لیے کھولتا تھا ان کو اندر سے بند کرتا جا تا تھا میں نے سوچا کہ اگر ان لوگوں کو میری خبر ہو بھی گئی تو یہ اس وقت تک میرے قریب نہ آ سکیں حتی کہ میں اس کو قتل کر لوں، سو میں جب اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے گھر والوں کے درمیان اندھیرے کمرے میں تھا مجھے نہیں پتا چل رہا تھا کہ وہ گھر میں کس جگہ پر ہے پس میں نے کہا: اے ابورافع ! اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو میں اس آواز کی طرف بڑھا اور میں نے اس پر تلوار ماری اس وقت اپنی کارروائی کی وجہ سے میرا دل دھڑک رہا تھا اس نے چیخ ماری تو میں کمرے سے باہر نکل گیا' میں تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر اس کے پاس آ گیا۔ میں نے کہا: اے ابورافع !یہ کیسی چیخ تھی؟ اس نے کہا: تیری ماں مر جاۓ ! کوئی مرد گھر میں ہے اور اس نے ابھی مجھ پر تلوار سے وار کیا ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے پھر اس پر تلوار مار کر اس کا خون بہا دیا اور ابھی میں نے اس کو قتل نہیں کیا تھا، پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں گھونپی حتی کہ وہ اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی پھر میں نے سمجھ لیا کہ اب میں اس کوقتل کر چکا ہوں، پھر میں ہر درواز کو کھولتا گیا حتی کہ سیڑھی تک پہنچ گیا سو میں نے اپنا پیر رکھا اور میرا گمان تھا کہ میں زمین تک پہنچ چکا ہوں پس میں چاندنی رات میں گر گیا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی سو میں نے اپنے عمامہ کو اس پر باندھ لیا پھر میں چل پڑا حتیٰ کہ دروازہ پر بیٹھ گیا۔ پس میں نے (دل میں کہا: میں پوری رات باہر نہیں نکلوں گا حتی کہ میں جان لوں کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے پھر جب مرغ نے اذان دی تو اس وقت قلعہ کی فصیل پر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ میں اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کی خبر دے رہا ہوں سو میں اپنے اصحاب کی طرف گیا اور ان سے کہا: جلدی چلو! اللہ تعالی نے ابورافع کوقتل کر دیا پس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچا اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا آپ نے مجھ سے فرمایا: اپنی ٹانگ پھیلاؤ! میں نے اپنی ٹانگ پھیلائی آپ نے اس پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا پس گویا اس میں کوئی تکلیف ہی بھی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ،حدیث نمبر ٤٠٣٩)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ وَقَدْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ : اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ ؛ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ، وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ. فَأَقْبَلَ حَتَّى دَنَا مِنَ الْبَابِ، ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً، وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ ؛ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ. فَدَخَلْتُ، فَكَمَنْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ، ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيقَ عَلَى وَتَدٍ. قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيدِ ، فَأَخَذْتُهَا، فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ، وَكَانَ فِي عَلَالِيَّ لَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ. قُلْتُ : إِنِ الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ. فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ. قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَأَنَا دَهِشٌ، فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا، وَصَاحَ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ، فَأَمْكُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ ؟ فَقَالَ : لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، إِنَّ رَجُلًا فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ. قَالَ : فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنَتْهُ، وَلَمْ أَقْتُلْهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ ظُبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ، حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أُرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ سَاقِي، فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ : لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ ؟ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ، فَقَالَ : أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ. فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ : النَّجَاءَ ؛ فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ. فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ : " ابْسُطْ رِجْلَكَ ". فَبَسَطْتُ رِجْلِي، فَمَسَحَهَا، فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4039

حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ ان کو چند لوگوں کے ساتھ ابورافع کی طرف بھیجا سو وہ روانہ ہوئے حتی کہ قلعہ کے قریب پہنچ گئے پس ان سے حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہاں ٹھہریں حتی کہ میں جا کر دیکھتا ہوں انہوں نے بتایا کہ پھر میں نے قلعہ میں داخل ہونے کا حیلہ کیا وہ لوگ اپنے گدھے کو ڈھونڈ رہے تھے پس وہ لوگ اس کی طلب میں روشنی لے کر نکلے پس مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں پہچان نہ لیا جاؤں سو میں نے اپنے سرکو اور ٹانگوں کو اس طرح ڈھانپ لیا جیسے میں قضاء حاجت کر رہا ہوں پھر دربان نے آواز دی کہ اس سے پہلے کہ میں قلعہ کا دروازہ بند کر دوں جس نے اندر داخل ہونا ہے وہ داخل ہو جاۓ پس میں بھی ( قلعہ میں داخل ہو گیا پھر میں گدھے کے اصطبل میں چھپ گیا جو قلعہ کے دروازہ کے پاس تھا پھر ان لوگوں نے ابورافع کے ساتھ رات کا کھانا کھایا اور باتیں کرنے لگے حتی کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا۔ پھر وہ اپنے کمروں کی طرف لوٹ گئے، پھر جب آوازیں آئی بند ہو گئیں اور میں کوئی حرکت نہیں سن رہا تھا تب میں نکلا اور میں نے دیکھ لیا تھا کہ دربان نے قلعہ کی کنجیاں ایک طاق میں رکھی ہیں سو میں نے وہ کنجیاں لیں اور قلعہ کا دروازہ کھول لیا انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر ان لوگوں کو میرا پتا چل گیا تو میں آسانی سے نکل جاؤں گا پھر میں نے ان کمروں کے دروازوں کا قصد کیا میں ان کمروں کے دروازوں کو اندر سے بند کرتا جا تا تھا پھر میں سیڑھی کے ذریعہ ابورافع کی طرف چڑھا سواس کے کمرے میں اندھیرا تھا اور چراغ بجھا ہوا تھا پس مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ شخص کہاں ہے! تو میں نے کہا: اے ابورافع ! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ پس میں نے اس کی آواز کا قصد کیا اور اس پر تلوار ماری وہ چلایا لیکن یہ وار ٹھیک سے نہیں لگا تھا پھر میں اس طرح اس کے پاس پہنچا گویا میں اس کی مددکر رہا ہوں میں نے اپنی آواز بدل کر پوچھا: اے ابورافع ! تم کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: بڑے تعجب کی بات ہے تیری ماں مر جاۓ! ابھی کوئی شخص مجھ پر داخل ہوا ہے اور اس نے مجھ پر تلوار سے وار کیا ہے انہوں نے بتایا کہ پھر میں نے دوبارہ اس پر حملہ کیا۔ اس وار سے بھی وہ بچ گیا پھر وہ چلایا اور اس کی اہلیہ بھی اٹھ گئی میں پھر اس کے پاس پہنچا گویا میں اس کی مدد کرنے والا ہوں اور میں نے اپنی آواز بدل لی تھی اس وقت وہ پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا تھا میں نے تلوار اس کے پیٹ میں گھونپ دی پھر میں نے اس کو زور سے دبایا حتی کہ میں نے اس کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز سنی پھر میں گھبرایا ہوا وہاں سے نکالا حتی کہ میں سیڑھی پر آیا میں نیچے اترنا چاہتا تھا، پس میں سیٹرھی سے گر گیا اس سے میری ٹانگ ٹوٹ گئی میں نے اس پر پٹی باندھ لی' پھر میں لنگڑاتا ہوا اپنے اصحاب کے پاس آیا' میں نے ان سے کہا: آپ جائیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خوش خبری دیں اور میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا حتی کہ میں اس کی موت کی خبر سن لوں پھر جب صبح ہوئی تو موت کی خبر دینے والا چڑھا اور اس نے کہا: میں ابورافع کی موت کی خبر دے رہا ہوں سو میں اٹھا اور میں اس حال میں چل رہا تھا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں تھی اور اس سے پہلے کہ میرے اصحاب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچے میں نے اپنے اصحاب کو پالیا پھر میں نے آپ کو خوش خبری دی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ،حدیث نمبر ٤٠٤٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحٌ - هُوَ : ابْنُ مَسْلَمَةَ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ فِي نَاسٍ مَعَهُمْ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى دَنَوْا مِنَ الْحِصْنِ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ : امْكُثُوا أَنْتُمْ حَتَّى أَنْطَلِقَ أَنَا، فَأَنْظُرَ. قَالَ : فَتَلَطَّفْتُ أَنْ أَدْخُلَ الْحِصْنَ، فَفَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ، قَالَ : فَخَرَجُوا بِقَبَسٍ يَطْلُبُونَهُ، قَالَ : فَخَشِيتُ أَنْ أُعْرَفَ. قَالَ : فَغَطَّيْتُ رَأْسِي كَأَنِّي أَقْضِي حَاجَةً. ثُمَّ نَادَى صَاحِبُ الْبَابِ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ فَلْيَدْخُلْ قَبْلَ أَنْ أُغْلِقَهُ. فَدَخَلْتُ، ثُمَّ اخْتَبَأْتُ فِي مَرْبِطِ حِمَارٍ عِنْدَ بَابِ الْحِصْنِ، فَتَعَشَّوْا عِنْدَ أَبِي رَافِعٍ، وَتَحَدَّثُوا حَتَّى ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى بُيُوتِهِمْ، فَلَمَّا هَدَأَتِ الْأَصْوَاتُ، وَلَا أَسْمَعُ حَرَكَةً خَرَجْتُ، قَالَ : وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْبَابِ حَيْثُ وَضَعَ مِفْتَاحَ الْحِصْنِ فِي كَوَّةٍ، فَأَخَذْتُهُ، فَفَتَحْتُ بِهِ بَابَ الْحِصْنِ، قَالَ : قُلْتُ : إِنْ نَذِرَ بِيَ الْقَوْمُ انْطَلَقْتُ عَلَى مَهَلٍ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، فَغَلَّقْتُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ ظَاهِرٍ، ثُمَّ صَعِدْتُ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فِي سُلَّمٍ فَإِذَا الْبَيْتُ مُظْلِمٌ قَدْ طَفِئَ سِرَاجُهُ، فَلَمْ أَدْرِ أَيْنَ الرَّجُلُ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ. قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : فَعَمَدْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ، وَصَاحَ فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا، قَالَ : ثُمَّ جِئْتُ كَأَنِّي أُغِيثُهُ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا أَبَا رَافِعٍ ؟ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي، فَقَالَ : أَلَا أُعْجِبُكَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ ؛ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ، فَضَرَبَنِي بِالسَّيْفِ. قَالَ : فَعَمَدْتُ لَهُ أَيْضًا فَأَضْرِبُهُ أُخْرَى فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا، فَصَاحَ، وَقَامَ أَهْلُهُ. قَالَ، ثُمَّ جِئْتُ، وَغَيَّرْتُ صَوْتِي كَهَيْئَةِ الْمُغِيثِ فَإِذَا هُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأَضَعُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهِ، ثُمَّ أَنْكَفِئُ عَلَيْهِ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْعَظْمِ، ثُمَّ خَرَجْتُ دَهِشًا حَتَّى أَتَيْتُ السُّلَّمَ أُرِيدُ أَنْ أَنْزِلَ فَأَسْقُطُ مِنْهُ، فَانْخَلَعَتْ رِجْلِي، فَعَصَبْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي أَحْجُلُ، فَقُلْتُ : انْطَلِقُوا فَبَشِّرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَإِنِّي لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ صَعِدَ النَّاعِيَةُ، فَقَالَ : أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ. قَالَ : فَقُمْتُ أَمْشِي مَا بِي قَلَبَةٌ ، فَأَدْرَكْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَشَّرْتُهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4040

غزوہ احد کا بیان۔ اور اللہ عز وجل کا یہ ارشاد: اور جب صبح کے وقت آپ اپنے اہل کے پاس سے باہر آۓ مسلمانوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر ٹھہراتے ہوۓ اور اللہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ (آل عمران:۱۲۱) اور اللہ عز وجل کا ارشاد: اورستی نہ کرو اور غمگین نہ ہو تم ہی غالب رہو گے اگر کامل مؤمن ہوں اگر تمہیں زخم آۓ ہیں تو تمہارے دشمنوں کو بھی اسی طرح زخم پہنچے ہیں اور ان ( گرم و سرد ) دنوں کو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں تا کہ اللہ ایمان والوں کو جدا کر دے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بناۓ اور اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاں اور اس لیے کہ اللہ مسلمانوں کو خالص کر دے اور کافروں کو مٹا دے کیا تم نے گمان کر لیا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو ( دوسروں سے ممتاز نہیں کیا اور بے شک تم موت آنے سے پہلے موت کی تمنا کرتے تھے سواب تم نے اس کو دیکھ لیا اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے ( آل عمران:۱۴۳۔۱۳۹) اور اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: اور بے شک اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے ان کوقتل کرتے تھے یہاں تک کہ تم نے بزدلی دکھائی اور (اپنے کام میں اختلاف کیا اور تم نے اس کے بعد نافرمانی کی جب کہ اللہ تمہیں تمہاری پسندیدہ چیز ( مال غنیمت دکھا چکا تھا تم میں سے کوئی دنیا کا ارادہ کرتا تھا اور کوئی آخرت کو چاہتا تھا پھر اللہ نے تمہارا منھ ان سے پھیر دیا تا کہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کر دیا۔ اور اللہ ایمان والوں پر بہت فضل والا ہے (آل عمران : ۱۵۲) اور اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے۔ گئے ہیں ان کو ہرگز ہرگز مردہ گمان نہ کرو۔(آل عمران:۱۲۹) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے ہوۓ ہیں اور ان پر جنگ کے ہتھیار ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤١)

بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ }. وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ : { وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ }. وَقَوْلُهُ : { وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ }. وَقَوْلُهُ : { وَلَا تَحْسِبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا }. الْآيَةَ. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : " هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ، عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4041

ابن المبارک نے خبر دی از حیوۃ از یزید بن ابی حبیب از ابي الخير از عقبہ بن عامر وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی جیسے آپ زندوں اور مردوں (سب)سے رخصت ہورہے ہوں پھر آپ منبر پر رونق افروز ہوۓ سوآپ نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور میرا تم سے حوض پر ( ملاقات کا وعدہ ہے اور بے شک میں اب بھی اپنی اس جگہ سے ضرور حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھے تمہارے متعلق یہ خوف نہیں ہے کہ تم (سب) مشرک ہو جاؤ گے لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم (سب) دنیا میں رغبت کرو گے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس میں آخری بار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ : " إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا ". قَالَ : فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4042

حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن ہمارا مشرکین سے مقابلہ ہوا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تیراندازوں کا لشکر بٹھا دیا تھا اور ان پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنادیا تھا اور آپ نے فرمایا: تم یہاں سے نہ جانا خواہ تم یہ دیکھو کہ ہم ان پر غالب آ چکے ہیں جب (بھی) تم یہاں سے نہ جانا اور اگر تم یہ دیکھو کہ وہ ہم پر غلبہ پاچکے ہیں تب بھی تم ہماری مدد کے لیے نہ آنا، پس جب ہمارا مقابلہ ہوا تو مشرکین بھاگ گئے حتی کہ ہم نے ان کی عورتوں کو اس طرح پہاڑ پر بھاگتے ہوۓ دیکھا کہ انہوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا ہوا تھا اور ان کی پازیبیں ظاہر ہو رہی تھیں تو وہ کہنے لگے غنیمت (لوٹو)، غنیمت (لوٹو) پس حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ یہاں سے نہ جانا تو انہوں نے انکار کر دیا پس جب انہوں نے انکار کیا تو ان کے چہرے پھیر دیے گئے سوستر (۷۰) مسلمان شہید ہو گئے اور ابوسفیان نے سر اٹھا کر کہا: کیا ان لوگوں میں (سیدنا) محمد (ﷺ) ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس کو جواب نہ دینا، پھر اس نے پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابوقحافہ کا بیٹا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کو جواب نہ دینا' پس اس نے کہا: کیا ان لوگوں میں خطاب کا بیٹا ہے؟ پھر اس نے کہا: یہ سب لوگ قتل ہو چکے ہیں اگر یہ زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے تب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے اوپر ضبط نہ کر سکے انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو نے جھوٹ کہا اللہ تعالی نے ان لوگوں کو تیرے خلاف باقی رکھا ہے تجھے غمگین کریں گے ابوسفیان نے کہا: ھبل بلند ہو! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جواب دو! صحابہ نے پوچھا: ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو: اللہ بلند اور برتر ہے ابوسفیان نے کہا: ہمارا عزٰی ہے اور تمہارا کوئی عزٰی نہیں ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جواب دو صحابہ نے پوچھا: ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو کہ ہمارا مددگار اللہ ہے اور تمہارا کوئی مددگارنہیں ہے ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور جنگ ( کنویں کا ڈول ہے ( کبھی ایک کے پاس کبھی دوسرے کے پاس ) اور تم ایک مثلہ (اعضاء کے ہوۓ ) کو دیکھو گئے میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ مجھے اس پر افسوس ہوا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ وَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ، وَقَالَ : " لَا تَبْرَحُوا ؛ إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلَا تَبْرَحُوا، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلَا تُعِينُونَا ". فَلَمَّا لَقِينَا هَرَبُوا حَتَّى رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ، فَأَخَذُوا يَقُولُونَ : الْغَنِيمَةَ، الْغَنِيمَةَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَبْرَحُوا، فَأَبَوْا، فَلَمَّا أَبَوْا صُرِفَ وُجُوهُهُمْ ، فَأُصِيبَ سَبْعُونَ قَتِيلًا، وَأَشْرَفَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ : أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ : " لَا تُجِيبُوهُ ". فَقَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ قَالَ : " لَا تُجِيبُوهُ ". فَقَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ قُتِلُوا، فَلَوْ كَانُوا أَحْيَاءً لَأَجَابُوا. فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ، فَقَالَ : كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أُعْلُ هُبَلْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيبُوهُ ". قَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلّْ ". قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَنَا الْعُزَّى، وَلَا عُزَّى لَكُمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيبُوهُ ". قَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُ مَوْلَانَا، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ ". قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ ، وَتَجِدُونَ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا، وَلَمْ تَسُؤْنِي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4043

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن صبح کو لوگوں نے شراب پی پھر وہ لڑائی میں شہید ہوگئے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٤)

أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : اصْطَبَحَ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ نَاسٌ، ثُمَّ قُتِلُوا شُهَدَاءَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4044

سعد بن ابراہیم از والد خود ابراہیم وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس طعام لایا گیا وہ روزہ دار تھے پس انہوں نے کہا: حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے انہیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا کہ اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پیر کھل جاتے اور اگر ان کے پیر ڈھانپے جاتے تو سرکھل جاتا اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اور وہ مجھ سے بہتر تھے پھر ہم پر اتنی دنیا کشادہ کی گئی جو کشادہ کی گئی یا کہا: ہمیں دنیا سے اتنا دیا گیا جو دیا گیا اور ہمیں یہ خوف ہے کہ ہماری نیکیوں کی جزاء ہمیں جلدی ( دنیا میں ہی دے دی گئی ہے پھر وہ رونے لئے حتی کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٥)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ؛ كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ. وَأُرَاهُ قَالَ : وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ. أَوْ قَالَ : أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا. ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي، حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4045

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یہ بتایئے کہ اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ نے فرمایا: جنت میں اس کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینک دیا پھر قتال کیا حتی کہ وہ شہید ہو گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4046

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہم اللہ کی رضا طلب کرتے تھے پس ہمارا اجر (اللہ کے کرم سے اللہ پر واجب ہو گیا ہم میں سے بعض گزر گئے یا چلے گئے انہوں نے اپنے اجر سے کچھ بھی نہیں کھایا ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے وہ احد کے دن شہید ہو۔انہوں نے صرف ایک چادر چھوڑی تھی جب ہم اس چادر سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پیر کھل جاتے اور جب اس چادر سے ان کے پیر ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا پس ہم سے نبی ﷺ نے فرمایا: ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس رکھ دو یا فرمایا: ان کے پیر پر اذخر ڈال دو اور ہم میں سے بعض وہ ہیں جن کے عمل کے پھل پک گئے اور وہ ان کو چن رہے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، وَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا ؛ كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ خَرَجَ رَأْسُهُ. فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلِهِ الْإِذْخِرَ ". أَوْ قَالَ : " أَلْقُوا عَلَى رِجْلِهِ مِنَ الْإِذْخِرِ ". وَمِنَّا مَنْ قَدْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4047

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچا غزوہ بدر میں حاضر نہیں ہوۓ تھے پس انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پہلی لڑائی میں غائب تھا اب اگر اللہ تعالی نے مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر رکھا تو اللہ تعالی دکھا دے گا کہ میں کتنی کوشش کرتا ہوں، پس احد میں ان کا مقابلہ ہوا تو لوگوں کو شکست ہو گئی،پس انہوں نے کہا: اے اللہ! ان لوگوں نے یعنی مسلمانوں نے جو کچھ کیا ہے میں تیری طرف اس کا عذر پیش کرتا ہوں اور مشرکین نے جو کچھ کیا ہے میں تیرے سامنے اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں پھر وہ اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے تو ان سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ملے پس انہوں نے کہا: اے سعد! آپ کہاں جا رہے۔ ہیں؟ میں تو احد کے پاس جنت کی خوشبو پا رہا ہوں سو وہ آگے بڑھے اور شہید کر دیے گئے وہ پہچانے نہیں جارہے تھے حتی کہ ان کو ان کی بہن نے ایک تیل یا انگلیوں کی پوروں سے پہچانا اور ان پر استی (۸۰) سے زیادہ تلواروں نیزوں اور تیروں کے زخم تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٨)

أَخْبَرَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ بَدْرٍ، فَقَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللَّهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أُجِدُّ . فَلَقِيَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَهُزِمَ النَّاسُ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ - وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ. فَتَقَدَّمَ بِسَيْفِهِ، فَلَقِيَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَقَالَ : أَيْنَ يَا سَعْدُ ؟ إِنِّي أَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ. فَمَضَى، فَقُتِلَ، فَمَا عُرِفَ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِشَامَةٍ، أَوْ بِبَنَانِهِ وَبِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ طَعْنَةٍ، وَضَرْبَةٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4048

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے مصحف کو لکھا تو سورہ احزاب کی ایک آیت کو کم پایا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ اس آیت کو پڑھتے تھے پس ہم نے اس آیت کو تلاش کیا تو ہم نے اس کو حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پایا (وہ آیت یہ ہے: ایمان والوں میں سے کچھ ایسے قوی) مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوۓ عہد کو سچا کر دکھایا پس ان میں سے کوئی (جہاد میں شریک ہوکر اپنی نذر پوری کر چکا اور ان میں سے کوئی انتظار کر رہا ہے ۔ ( الاحزاب:۲۳)) تو ہم نے اس آیت کو اس سورت کے ساتھ مصحف میں ملا دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٤٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا، فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ : { مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ }، فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4049

عبداللہ بن یزید مروی ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم احد کی طرف نکلے تو بعض اصحاب جو آپ کے ساتھ تھے وہ لوٹ آۓ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں دو گروہ ہو گئے تھے ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ہم ان منافقین سے مقابلہ کریں گے اور دوسرا گروہ یہ کہتا تھا کہ ہم ان سے مقابلہ نہیں کریں گے تب یہ آیت نازل ہوئی: پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے متعلق تم میں دوگر وہ ہو گئے اور اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں اوندھا کر دیا۔ (النساء:۸۸) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ (مدینہ طیبہ ہے یہ گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی چاندی کے میل کو دور کردیتی ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ ؛ فِرْقَةً تَقُولُ : نُقَاتِلُهُمْ. وَفِرْقَةً تَقُولُ : لَا نُقَاتِلُهُمْ. فَنَزَلَتْ : { فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا }. وَقَالَ : " إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4050

باب:جب تم میں سے دوگروہوں نے بزدلی ظاہر کرنے کا ارادہ کیا اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ ان کا مددگار تھا اور ایمان والوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے( آل عمران :۱۲۲) حضرت جابر رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے: جب تم میں سے دو گروہوں نے بزدلی ظاہر کرنے کا ارادہ کیا۔ (آل عمران : ۱۳۳) یہ دو گروہ بنوسلمہ اور بنو حارثہ ہیں اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی ( کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: اللہ ان دونوں کا مددگار ہے۔(آل عمران:۱۲۲) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥١)

بَابٌ : { إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ }. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا : { إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا }. بَنِي سَلِمَةَ، وَبَنِي حَارِثَةَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ، وَاللَّهُ يَقُولُ : { وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4051

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جابر کیا تم نے نکاح کر لیا میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کس سے نکاح کیا۔ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: نہیں! بلک بیوہ سے آپ نے پوچھا: تم نے کسی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کیا جوتم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میرے والد کو احد کے دن شہید کر دیا گیا تھا اور انہوں نے نو بیٹیاں چھوڑی تھیں جو میری نو بہنیں ہیں، پس میں نے اس کو ناپسند کیا کہ میں ان کے ساتھ ایسی نا تجربہ کار لڑکی جمع کر دوں جو ان ہی کی مثل ہو بلکہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو ان کی کنگھی چوٹی کرے اور ان کی تربیت کرے آپ نے فرمایا:تم نے درست کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : " مَاذَا، أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : لَا، بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ : " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ ؟ ". قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ، وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ. قَالَ : " أَصَبْتَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4052

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد احد کے دن شہید ہو گئے اور انہوں نے اپنے اوپر قرض چھوڑا اور چھ بیٹیاں چھوڑیں پھر جب کھجور کے درختوں سے کھجوریں اتارنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا پس میں نے عرض کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے بہت زیادہ قرض چھوڑا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قرض خواہ دیکھ لیں ( تاکہ وہ نرمی برتیں ، آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور ہرقسم کی کھجوروں کا ایک جانب ڈھیر لگا دو میں نے اس حکم پر عمل کر کے آپ کو بلایا جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو وہ اس وقت اور بھڑک گئے ( کیونکہ وہ یہودی تھے جب آپ نے دیکھ لیا کہ قرض خواہ کیا کر رہے ہیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے ۔ پھر آپ اس پر بیٹھ گئے پھر آپ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ پھر آپ ان کو ناپ ناپ کر کھجوریں دیتے رہے حتی کہ اللہ تعالی نے میرے والد کی امانت کو ادا کر دیا اور میں اس پر بھی راضی تھا کہ میرے والد کی امانت ادا ہو جاۓ اور میں اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی نہ لے کر جاؤں سو اللہ تعالی نے کھجوروں کے تمام ڈھیر سالم اور سلامت رکھے حتی کہ میں نے اس ڈھیر کی طرف دیکھا جس پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔ لگتا تھا اس میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٣)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، فَلَمَّا حَضَرَ جِزَازُ النَّخْلِ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ. فَقَالَ : " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ لَكَ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ، وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَلَا أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا، وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4053

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو احد کے دن دیکھا اور آپ کے ساتھ آپ کی طرف سے دومرد لڑ رہے تھے۔ ان پر سفید لباس تھا وہ بہت شدت سے لڑ رہے تھے میں نے ان کو اس سے پہلے دیکھا تھا نہ اس کے بعد دیکھا۔ (بخاری شریف،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَمَعَهُ رَجُلَانِ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4054

سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر مجھے دیئے اور فرمایا: تم پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں! تم تیر چلاؤ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٥)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ : نَثَلَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ : " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4055

سعید بن المسیب نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن میرے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ماں اور باپ کو جمع کیا ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ : جَمَعَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4056

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن میرے لیے اپنے باپ اور ماں دونوں کو جمع فرمایا ان کی مراد یہ تھی کہ جب آپ نے فرمایا: تم پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں! اور اس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ كِلَيْهِمَا. يُرِيدُ حِينَ قَالَ : " فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ". وَهُوَ يُقَاتِلُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4057

ابن شداد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اور کسی کے متعلق نہیں سنا کہ آپ نے اس کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع فرمایا ہو۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4058

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اور کسی کے متعلق نہیں سنا کہ آپ نے اس کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع فرمایا ہو کیونکہ میں نے احد کے دن آپ علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: اے سعد! تیر ماروتم پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٥٩)

حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ : " يَا سَعْدُ، ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4059

معتمر از والد خود انہوں نے کہا: ابوعثمان کا یہ گمان ) ہے کہ جن غزوات میں نبی ﷺ نے قتال کیا ہے ان میں سے بعض ایام ( أحد ) میں آپ علیہ السلام کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہاتھا ( جیسا کہ ان کی حدیث میں ہے۔) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٦٠،و حدیث نمبر ٤٠٦١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعْتَمِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4060/4061

محمد بن یوسف سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت السائب بن یزید سے سنا کہ میں حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت مقداد اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ رہا ہوں میں نے ان میں سے کسی سے نہیں سنا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتا ہو سوا اس کے کہ میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا جو احد کے دن کی حدیث بیان کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٦٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَالْمِقْدَادَ، وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4062

قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ احد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوۓ شل (مفلوج) ہو گیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٦٣)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ : رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ ؛ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4063

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب مسلمان نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور حضرت ابوطلحہ اپنی ڈھال کے ساتھ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے تھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ زبردست تیرانداز تھے وہ بہت طاقت کے ساتھ کمان کو کھینچتے تھے اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں اور جوشخص بھی ان کے پاس سے تیر کے ترکش لے کر گزرتا تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سے فرماتے : یہ تیر ابوطلحہ کو دے دو! اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب گردن اٹھا کر مشرکین کی طرف دیکھتے تو حضرت ابوطلحہ کہتے : آپ پر میرے باپ اور میری ماں قربان ہوں! آپ گردن نہ اٹھائیں، آپ کو مشرکین کے تیروں میں سے کوئی تیر نہ لگ جاۓ میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے ہے اور میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا اپنے پائنچے اوپر اٹھاۓ ہوۓ جا رہی تھیں اور ان کی پنڈلیوں کا زیور دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے اپنی پیٹھوں کے اوپر مشکیں اٹھائی ہوئی تھیں وہ ( زخمی ) صحابہ کے مونہوں میں پانی ڈال رہی تھیں، پھر وہ واپس جاتیں، پس مشکوں کو بھرتیں، پھر آ کر ( زخمی ) صحابہ کے مونہوں میں پانی ڈالتیں اور تحقیق یہ ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوارگری تھی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ كَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ بِجَعْبَةٍ مِنَ النَّبْلِ ، فَيَقُولُ : " انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ ". قَالَ : وَيُشْرِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لَا تُشْرِفْ ؛ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ، وَإِمَّا ثَلَاثًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4064

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب احد کے دن مشرکین شکست کھا گئے تو ابلیس لعنت اللہ علیہ(فریب دہی کے لیے چلایا: اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے ہوشیار رہو! تو اگلے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹے پس وہ اور پچھلے لوگ ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگے پس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمان ان کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کر رہے ہیں انہوں نے چلا کر کہا: اے اللہ کے بندو! یہ میرے والد ہیں میرے والد ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! انہوں نے میرے والد کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ ان کوقتل کر دیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے! عروہ نے کہا: پس اللہ کی قسم! میں ہمیشہ دیکھتا رہا کہ حضرت حذیفہ بقیہ زندگی میں ان کے لیے دعا ء خیر کرتے رہے ۔امام بخاری نے کہا:’بصرت “ کا معنی ہے: میں نے جان لیا یہ معاملات میں بصیرت سے ماخوذ ہے اور ابصرت “ کا معنی ہے: آنکھ سے دیکھا اور یہ بھی کہا جا تا ہے کہ بصرت‘اور’ابصرت‘ واحد ہیں ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا،حدیث نمبر ٤٠٦٥)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ، أُخْرَاكُمْ. فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَبَصُرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ، فَقَالَ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ، أَبِي أَبِي. قَالَ : قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ عُرْوَةُ : فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. بَصُرْتُ : عَلِمْتُ مِنَ الْبَصِيرَةِ فِي الْأَمْرِ، وَأَبْصَرْتُ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ، وَيُقَالُ : بَصُرْتُ، وَأَبْصَرْتُ وَاحِدٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4065

باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک جو لوگ تم میں سے پیٹھ موڑ کر بھاگے تھے جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئی تھیں شیطان نے ہی ان کے قدم پھسلا دیئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے اور بے شک اللہ نے ان کو معاف فرما دیا یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے (آل عمران:۱۵۵) ابوحمزہ نے خبر دی از عثمان بن موهب وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرد آیا اس نے بیت اللہ کا حج کیا پھر اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوۓ ہیں اس نے پوچھا: یہ کون لوگ بیٹھے ہوۓ ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ قریش ہیں اس نے پوچھا: یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ ہیں وہ آپ کے پاس آیا اور کہا: میں تم سے چند باتوں کے متعلق سوال کروں گا کیا تم مجھے بتاؤ گے؟ اس نے کہا: میں تم کو اس بیت کی حرمت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کیا تم کو معلوم ہے کہ ( حضرت ) عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) احد کے دن بھاگ گئے تھے؟ حضرت ابن عمر نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ وہ غزوہ بدر سے غائب رہے تھے اور اس میں حاضر نہیں تھے؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا: ہاں! پھر کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان سے غائب تھے اور اس میں حاضر نہیں تھے؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا: ہاں! تو اس نے کہا: اللہ اکبر! حضرت ابن عمر نے فرمایا: آؤ تاکہ تم نے مجھ سے جو سوالات کیے ہیں ان کے مفصل جواب دوں رہا ان کا اُحد کے دن بھاگنا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالی نے اس کو معاف فرما دیا رہا ان کا غزوہ بدر سے غائب ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحب زادی تھیں اور وہ بیمار تھیں پس ان سے نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک تم کو اس مرد کا اجر ملے گا جو بدر میں حاضر ہوا رہا ان کا بیت رضوان سے غائب ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی اور اہل مکہ کے نزدیک حضرت عثمان بن عفان سے زیادہ معزز ہوتا تو حضور اس کوان کی جگہ بھیج دیتے سو آپ نے حضرت عثمان کو بھیجا اور بیعت رضوان حضرت عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی تھی، تو نبی ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے پس آپ نے اس ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر مارا پس یہ فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے۔ اب تو ان جوابات کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا! (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ،حدیث نمبر ٤٠٦٦)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ }. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ، فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا، فَقَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ الْقُعُودُ ؟ قَالُوا : هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ : مَنِ الشَّيْخُ ؟ قَالُوا : ابْنُ عُمَرَ . فَأَتَاهُ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَتُحَدِّثُنِي ؟ قَالَ : أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَبَّرَ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ : تَعَالَ لِأُخْبِرَكَ، وَلِأُبَيِّنَ لَكَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ؛ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ ". وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَمَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى : " هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ". فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِعُثْمَانَ ". اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4066

باب:جب تم پڑھتے چلے جاتے تھے اور پیٹھ موڑ کر کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تمہاری پچھلی جماعت میں ( کھڑے ہوۓ ) تمہیں بلا رہے تھے تو ( اللہ نے تمہیں غم پرغم دیا اور ( معافی کی خوش خبری اس لیے سنائی ) کہ جو ( مال غنیمت) تمہارے ہاتھ سے گیا اور جو ( تکلیف تمہیں پہنچی اس پر تم غمگین نہ ہو اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے(آل عمران:۱۵۳) تصــدون‘ کا معنی ہے: تذهبون (یعنی تم جاتے ہو اور اصعد اور صعد کا معنی ہے: گھر کے اوپر چڑھا۔ حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن پیادہ مسلمانوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنادیا اور وہ مسلمان پسپا ہو کر بھاگے اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا: اور رسول تمہاری پچھلی جماعت میں (کھڑے ہوۓ تمہیں بلا ر ہے تھے۔) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ،حدیث نمبر ٤٠٦٧)

بَابٌ : { إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ }. تُصْعِدُونَ : تَذْهَبُونَ ؛ أَصْعَدَ، وَصَعِدَ فَوْقَ الْبَيْتِ. حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4067

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:پھر تم پر غم کے بعد امن کو اتارا' یہ وہ اونگھ تھی جس نے تم میں سے ایک جماعت کو ڈھانپ لیا اور دوسرا ( منافقوں کا گروہ تھا ) جو اپنی جانوں کے غم میں پڑے ہوۓ تھے وہ اللہ تعالی کے متعلق ناحق بدگمانی کرتے تھے جاہلیت کی سی بدگمانی وہ کہتے تھے کہ کیا اس کام میں ہمارے لیے بھی کچھ ہے؟ آپ کہیے کہ بے شک تمام کام اللہ ہی کے لیے ہیں وہ اپنے دلوں میں اس چیز کو چھپاتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے وہ کہتے ہیں: کاش! ہمارا کوئی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے ! آپ کہیے کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا لکھا جا چکا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اور ( یہ ) اس لیے ( ہوا ) کہ اللہ تمہارے دلوں کی بات کو آزماۓ اور (شیطانی وسوسوں سے تمہارے دلوں کو صاف کر دے اور اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے (آل عمران:۱۵٤) یزید بن زریع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا :ہمیں سعید نے حدیث بیان کی از قتادہ از حضرت انس رضی اللہ عنہ از حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان مسلمانوں میں سے تھا جن کو احد کے دن نیند نے ڈھانپ لیا تھا، حتیٰ کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے کئی بار گر گئی میں اس کو پکڑتا پھر گر جاتی میں اس پھر پکڑتا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا،حدیث نمبر ٤٠٦٨)

بَابٌ : { ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لَا يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَهُنَا قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ }. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ تَغَشَّاهُ النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ، حَتَّى سَقَطَ سَيْفِي مِنْ يَدِي مِرَارًا ؛ يَسْقُطُ وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ فَآخُذُهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4068

باب:اس معاملہ میں سے آپ کے لیے کچھ نہیں، اللہ ان پر رحمت سے رجوع فرماۓ یا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ یقینا ظالم ہیں (آل عمران: ۱۲۸) حمید اور ثابت نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشانی زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا: وہ لوگ کیسے فلاح پائیں گے جنہوں نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: اس معاملہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں۔ (آل عمران: ۱۳۸ ) سالم نے حدیث بیان کی از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جب آپ نے فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا تو آپ سمع الله لمن حمده ربنا لك والـحـمـد “ پڑھنے کے بعد یہ دعا کر رہے تھے: اے اللہ ! تو فلان || فلاں اور فلاں پرلعنت کر! تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: اس معاملہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں (یہاں تک ) کیونکہ وہ یقینا ظالم ہیں (آل عمران: ۱۲۸) اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے: میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور الحارث بن ہشام کے خلاف دعا ء ضر ر کر تے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی: اس معاملہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں ( یہاں تک وہ یقینا ظالم میں ( آل عمران : ۱۲۸) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ،حدیث نمبر ٤٠٦٩،و حدیث نمبر ٤٠٧٠،

بَابٌ : { لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ }. قَالَ حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ : شُجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ ". فَنَزَلَتْ : { لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ }. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا ". بَعْدَمَا يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ : { لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ }. إِلَى قَوْلِهِ : { فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ }. 4070 وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَنَزَلَتْ : { لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ }. إِلَى قَوْلِهِ : { فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4069/4070

حضرت ام سلیط کا ذکر ابن شہاب اور ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کی خواتین کے درمیان چادریں تقسیم کیں، پس ایک عمده چادر بچ گئی تو جو لوگ آپ کے پاس حاضر تھے ان میں سے کسی نے کہا: اے امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صاحب زادی کو عطا فرمائیں جو آپ کے نکاح میں میں ان کی مراد حضرت أم كلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ تھیں، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت ام سلیط رضی اللہ عنہا اس چادر کی ان سے زیادہ مستحق ہیں اور حضرت ام سلیط رضی اللہ تعالٰی عنہا انصار کی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ احد کے دن ہمارے لیے پانی کی مشک اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لا رہی تھیں ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ ذِكْرِ أُمِّ سَلِيطٍ. ،حدیث نمبر ٤٠٧١)

بَابُ ذِكْرِ أُمِّ سَلِيطٍ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَبَقِيَ مِنْهَا مِرْطٌ جَيِّدٌ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعْطِ هَذَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ. يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ، فَقَالَ عُمَرُ : أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ بِهِ، وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عُمَرُ : فَإِنَّهَا كَانَتْ تُزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4071

حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت۔ جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری بیان کرتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن عدی بن الخیار کے ساتھ نکلا جب ہم حمص میں پہنچے تو عبیداللہ بن عدی نے مجھ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم حضرت وحشی رضی اللہ عنہ سے حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کہ کے قتل کے متعلق معلوم کریں میں نے کہا: ہاں! اور حضرت وحشی رضی اللہ عنہ حمص میں رہتے تھے پس ہم نے ان کے متعلق پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ یہاں اس محل کے سائے میں ہیں، گویا وہ ایک بڑی مشک تھے پس ہم آۓ اور ان کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرے پھر ہم نے سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو اپنے سر کے گرد اس طرح لپیٹا ہوا تھا کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ صرف ان کی آنکھیں اور ان کی ٹانگیں دیکھ سکتے تھے عبیداللہ نے کہا: اے وحشی! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھا پھر کہا: اللہ کی قسم نہیں! ہاں میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن الخیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا جس کو ام قال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا اس سے مکہ میں ایک لڑکا پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دودھ پلانے والی کو تلاش کر رہا تھا پھر میں اس لڑکے کو اس کی رضاعی ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی، پس میں نے گویا تمہارے پیروں کی طرف دیکھا ۔ راوی نے کہا: پھر عبیداللہ نے اپنے چہرہ سے کپڑا ہٹایا پھر انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے متعلق کچھ بتائیں گے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن الخیار کو بدر میں قتل کر دیا تھا تو مجھ سے میرے مولی (آقا) جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم نے میرے چچا کے بدلہ میں حضرت حمزہ کوقتل کر دیا تو تم آزاد ہو پھر انہوں نے بتایا: جب لوگ عینین کی جنگ کے سال نکلے اور عینین احد کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ جنگ کے لیے نکالا پس جب دونوں فوجیں جنگ کے لیے صف آراء ہوئیں تو ( قریش کی صف میں سے ) سباع ( بن عبدالعزی ) نکلا اور اس نے کہا: ہے کوئی لڑنے والا ! تو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اس سے مقابلہ کے لیے نکلے اور فرمایا: اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا ۔ کرتی تھی، کیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آیا ہے! پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا اور اس کوقتل کر دیا اب وہ واقعہ گزرے ہوۓ کل کی طرح ہو گیا ادھر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی گھات میں ایک چٹان کے پیچھے تھا وہ جیسے ہی میرے قریب ہوۓ میں نے تاک کر ان پر نیزہ مارا وہ نیزہ ان کی ناف کے نیچے لگا اور ان کے کولھوں کے پار سے نکل گیا۔ یہی حملہ ان کے قتل کا سبب بنا پھر جب لوگ واپس آۓ تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں ٹھہرا رہا حتی کہ مکہ میں اسلام پھیل گیا پھر میں طائف کی طرف نکل گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف ایک قاصد بھیجا، پس مجھے بتایا گیا کہ آپ قاصدوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے سو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا پھر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوا جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: تم وحشی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کوقتل کیا تھا؟ میں نے کہا: واقعہ وہی ہے جس کی خبر آپ کو پہنچ چکی ہے آپ نے فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنا چہرہ میرے سامنے نہ لاؤ پھر میں چلا گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو مسیلمہ کذاب نکلا تو میں نے (دل میں کہا: میں مسیلمہ کی طرف نکلوں گا شاید میں اس کوقتل کر کے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کا کفارہ ادا کر دوں پس میں لوگوں کے ساتھ نکلا پھر اس کا معاملہ جس طرح ہونا تھا ہو گیا اس وقت ایک شخص دیوار کے ساتھ کھڑا تھا جیسے وہ گندی رنگ کا اونٹ ہو اس کے سر کے بال بکھرے ہوۓ تھے میں نے اس کے پستانوں کے درمیان تاک کر نیزہ مارا جو اس کے کندھوں کے درمیان سے نکل گیا پھر ایک انصاری مرد اس کی طرف چھپٹا اور تلوار، سے اس کی کھوپڑی اڑا دی۔ راوی نے کہا کہ عبداللہ بن فضل نے بتایا کہ مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر یہ کہا: افسوس! امیرالمؤمنین کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیا ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قَتْلُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر ٤٠٧٢)

بَابٌ : قَتْلُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ : هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ، فَسَأَلْنَا عَنْهُ، فَقِيلَ لَنَا : هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ كَأَنَّهُ حَمِيتٌ . قَالَ : فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ بِيَسِيرٍ، فَسَلَّمْنَا، فَرَدَّ السَّلَامَ. قَالَ : وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ. فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : يَا وَحْشِيُّ ، أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا : أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَكَّةَ، فَكُنْتُ أَسْتَرْضِعُ لَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّهِ، فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ. قَالَ : فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ : إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ. قَالَ : فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ - وَعَيْنَيْنِ جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ - خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ ؟ قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ : يَا سِبَاعُ، يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ. قَالَ : وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ. قَالَ : فَكَانَ ذَاكَ الْعَهْدَ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ، فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، فَقِيلَ لِي : إِنَّهُ لَا يَهِيجُ الرُّسُلَ. قَالَ : فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ : " آنْتَ وَحْشِيٌّ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : " أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ ؟ " قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ. قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي ". قَالَ : فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قُلْتُ : لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ. قَالَ : فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ. قَالَ : فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ . قَالَ : فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ. قَالَ : وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ. قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ : وَأَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4072

احد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جو زخم آۓ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں پر اللہ کا بہت شدید غضب ہو گا جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے آپ اپنے رباعیۃ ( نچلے دانت)کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں اور اس پر اللہ کا بہت شدید غضب ہوگا جس کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللہ کے راستہ میں قتل کریں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِرَاحِ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٧٣)

بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِرَاحِ يَوْمَ أُحُدٍ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِنَبِيِّهِ - يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ - اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4073

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس شخص پر اللہ کا بہت شدید غضب ہے جس کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں قتل کیا اور ان لوگوں پر اللہ کا بہت شدید غضب ہے جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ خون آلود کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِرَاحِ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٧٤)

حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4074

یعقوب نے حدیث بیان کی از ابی حازم انہوں نے حضرت سہل بن سعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور اس وقت وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق سوال کر رہے تھے انہوں نے کہا:سنو! اللہ کی قسم! میں ضرور سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کون رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زخم کو دھو رہا تھا اور کون پانی ڈال رہا تھا اور کس چیز سے آپ کا علاج کیا گیا حضرت سیدہ فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ ﷺ آپ کے زخم کو دھوتی تھیں اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی بھر کر لاتے تھے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ دیکھا کہ پانی ڈالنے سے تو خون اور زیادہ بہہ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کے ایک ٹکڑے کو جلایا اور اس کی راکھ کو آپ علیہ السلام کے زخم پر لیپ کر دیا تو خون رک گیا اور اس دن آپ کا نچلا دانت ( اس کا ایک کنارہ) ٹوٹ گیا تھا اس دن آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ علیہ السلام کا خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔ (بخاری شریف ،۔كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٧٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ، وَبِمَا دُووِيَ. قَالَ : كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُهُ، وَعَلِيٌّ يَسْكُبُ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا، وَأَلْصَقَتْهَا، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَئِذٍ، وَجُرِحَ وَجْهُهُ، وَكُسِرَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4075

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اس شخص پر اللہ کا شدید غضب ہوگا جس کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قتل کیا اور اس پر اللہ کا شدید غضب ہو گا جس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چہرے کوخون آلود کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ ،حدیث نمبر ٤٠٧٦)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4076

باب:وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا(آل عمران:۱۷۲) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عروۃ سے اس آیت کے متعلق کہا: وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم اس کے بعد مانا جب انہیں زخم پہنچ چکے تھے ان میں نیکی کرنے والوں اور متقین کے لیے بڑا اجر ہے ( آل عمران : ۱۷۳) اے میرے بھانجے! تمہارے والدین میں سے تھے حضرت الزبیر اور حضرت ابوبکر جب احد کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مصائب آۓ اور مشرکین آپ کے پاس سے چلے گئے تو آپ کو یہ خدشہ ہوا کہ وہ لوٹ آئیں گے تو آپ نے فرمایا: ان کا پیچھا کون کرے گا ؟ توستر (۷۰) صحابہ نے اس پر لبیک کہا اور حضرت ابو بکر اور حضرت الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما ان میں سے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ،حدیث نمبر ٤٠٧٧)

بَابٌ : { الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ }. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، { الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ }. قَالَتْ لِعُرْوَةَ : يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ أَبُوكَ مِنْهُمُ ؛ الزُّبَيْرُ، وَأَبُو بَكْرٍ لَمَّا أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ عَنْهُ الْمُشْرِكُونَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا، قَالَ : " مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ ". فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا. قَالَ : كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4077

با:احد کے دن جن مسلمانوں کو قتل کیا گیا ان میں سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت الایمان رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت انس بن النضر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ قتادہ بیان کرتے ہیں: ہمیں عرب کے قبائل میں سے کسی ایسے قبیلہ کا علم نہیں جس کے انصار کے مقابلہ میں زیادہ شہداء ہوں اور جو قیامت کے دن انصار سے زیادہ عزت والا ہو۔ قتادہ نے کہا: اور ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی:احد کے دن انصار میں سے ستر (۷۰) شہید کیے گئے اور پیرمعونہ کے دن ستر (۷۰) شہید کیے گئے اور جنگ یمامہ میں ستر (۷۰) شہید کیے گئے اور بیرمعونہ کا واقعہ ) رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں ہوا اور یمامہ کا دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تھا جو مسیلمہ الکذاب سے لڑائی کا دن تھا ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٧٨)

بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ؛ مِنْهُمْ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَالْيَمَانُ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ سَبْعُونَ. قَالَ : وَكَانَ بِئْرُ مَعُونَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَوْمُ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4078

عبدالرحمان بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ان کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شہداء احد میں سے دو دو مردوں کو ایک کفن میں جمع کرتے تھے پھر آپ پوچھتے کہ ان میں سے کس کو زیادہ قرآن یاد ہے پھر جس کی طرف اشارہ کیا جاتا اس کو لحد میں پہلے رکھتے، پھر فرماتے: میں قیامت کے دن ان کے حق میں گواہ ہوں گا اور آپ نے ان کو ان کے خون میں دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ نے ان کی نماز جنازہ (اس وقت) نہیں پڑھی اور نہ ان کو غسل دیا گیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد شہید کیے گئے تو میں رو رہا تھا اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب مجھے منع کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت روؤ یا تم ان پر مت رؤو! فرشتے ان پر سایا کیے ہوئے ہیں حتی کہ ان ( کے جنازہ ) کو اٹھالیا جاۓ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٧٩،و حدیث نمبر ٤٠٨٠،)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ : " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ " فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا. 4080 وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ : لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي، وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْكِهِ ". أَوْ : " مَا تَبْكِيهِ ؛ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4079/4080

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا آپ نے فرمایا: میں نے اپنے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو اس کا اگلا ۔ حصہ ٹوٹ گیا اس کی تعبیر وہ ہے جو مسلمانوں کو احد کے دن شکست ہوئی میں نے پھر دوبارہ تلوار کو ہلایا تو وہ پہلے سے اچھی حالت میں ہو گئی اس کی تعبیر یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالی نے اس کے بعد فتح عطاء فرمائی اور مسلمانوں کو جمع کر دیا اور میں نے خواب میں گاۓ کو دیکھا اور اللہ ( کا اجر ) بہتر ہے اس سے مراد احد کے دن مسلمانوں کی بزدلی کا ارادہ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٨١) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خواب کی تعبیر میں روایات۔ حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: عروہ نے بیان کیا: اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ احد کے دن آپ علیہ السلام کا چہرہ زخمی ہوا۔ امام ابن ہشام کی روایت ہے کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو خواب دیکھا تھا کہ آپ کی تلوار کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے کسی کو شہید کیا جاۓ گا ۔ اور میں نے خواب میں گائے دیکھی: عروہ نے کہا: اس کا معنی ہے کہ میں نے گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا۔ اور اللہ خیر ہے: یعنی اللہ کا اجر خیر ہے۔ گاۓ کو ذبح ہوتے ہوۓ دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ مسلمان اس معرکہ میں زخمی ہوں گے۔ ( فتح الباری ج ۵ص۲۴۴-۲۲۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱۳۲۲ھ )

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا، فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى، فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا، وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4081

حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اس حال میں کہ ہم اللہ تعالی کی رضا طلب کرتے تھے سو ہمارا اجر (اللہ کے کرم سے) اللہ پر واجب ہوگیا سو ہم میں سے بعض( دنیا سے) گزر گئے یا انہوں نے اپنے اجر سے کچھ بھی نہیں کھایا ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے وہ احد کے دن شہید ہو گئے اور ان کا ترکہ صرف ایک دھاری دار چادر تھی جب ہم اس چادر سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پیر چادر سے باہر نکل آتے اور جب ان کے پیروں کو ڈھانپتے تو ان کا سر چادر سے باہر نکل آتا تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ان کا سر ڈھانپ دو اوران کے پیروں پر اذخر ( گھاس ) رکھ دو یا فرمایا: ان کے پیروں پر اذخر ڈال دو اور ہم میں سے بعض وہ ہیں کہ ان کے پھل پک گئے اور وہ ان کو چن رہے ہیں ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،حدیث نمبر ٤٠٨٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى، أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ؛ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ ". أَوْ قَالَ : " أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ ". وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4082

باب:احد ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس کو عباس بن سہل نے کہا ہے: از ابوحمید از نبی ﷺ ۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ(أحد) پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : " أُحُدٌ يُحِبُّنَا ". حدیث نمبر ٤٠٨٣)

بَابٌ : " أُحُدٌ يُحِبُّنَا " قَالَهُ عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4083

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو احد(پہاڑ) دکھائی دیا تو آپ نے فرمایا: یہ پہاڑ ہم محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں اے اللہ! بے شک حضرت ابراہیم السلام نے مکہ کو حرم بنایا اور میں ان دو پتھریلی زمینوں کے درمیان (شہر) کو حرم قرار دیتا ہوں۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : " أُحُدٌ يُحِبُّنَا "حدیث نمبر ٤٠٨٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرٍو - مَوْلَى الْمُطَّلِبِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4084

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ( گھر سے) باہر نکلے پس آپ نے اہل احد پر ایسی نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر آپ منبر کی طرف واپس آۓ پس آپ نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں اور میں ضرور اپنے حوض کو اب بھی دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھے روۓ زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا فرمایا: مجھے روۓ زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور بے شک اللہ کی قسم! مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ تم (سب) میرے بعد شرک کرو گے، لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : " أُحُدٌ يُحِبُّنَا ". حدیث نمبر ٤٠٨٥)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ - أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ - وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4085

باب:غزوۃ الرجیع اور رعل اور ذکوان اور بیرمعونہ اور عضل اور القارۃ اور عاصم بن ثابت اور حضرت خبیب اور ان کے اصحاب کی حدیث۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسوں کا ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور وہ حضرت عاصم بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے نانا تھے سو وہ روانہ ہو گئے حتی کہ جب وہ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو ہذیل کے اس قبیلہ میں ان کا ذکر کیا گیا جس کو بنولحیان کہا جاتا تھا تو انہوں نے ایک سو تیراندازوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا وہ ان کے قدموں کے نشانات پر چلتے رہے حتی کہ وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں صحابہ ٹھہرے تھے پس وہاں انہوں نے ان کھجوروں کی گٹھلیاں پائیں جن کو وہ مدینہ سے سفر میں کھانے کے لیے لے کر چلے تھے کفار نے کہا: یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں پھر وہ ان کے نشانات پر چلتے رہے حتی کہ ان تک جا پہنچے حضرت عاصم اور ان کے اصحاب نے جب یہ صورت حال دیکھی تو ایک ٹیلہ کی طرف پناہ لے لی اور بنولحیان نے ان کو گھیر لیا۔ پس ان سے کہا: ہم تم سے پکا پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم ہماری طرف اتر کر آجاؤ تو ہم تم میں سے کسی مرد کوقتل نہیں کریں گئے، پس حضرت عاصم نے کہا: رہا میں تو میں کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا اے اللہ! ہماری خبر اپنے نبی کو پہنچادے! سو ان صحابہ نے بنو لحیان سے قتال کیا حتی کہ کافروں نے حضرت عاصم سمیت ان کے سات اصحاب کو تیروں سے قتل کر دیا اور حضرت خبیب حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ایک اور مرد بچ گئے بنو لحیان نے پھر پکا پکا وعدہ کیا۔ پس جب ان صحابہ نے ان سے پکا وعدہ لے لیا تو وہ ان کی طرف اتر کر آ گئے جب بنو لحیان نے ان پر قابو پالیا تو ان کی کمانوں کی تانت سے ان کو باندھنے لگے، تب اس تیسرے مرد نے کہا جو ان کے ساتھ تھا: یہ تمہاری پہلی عہد شکنی ہے سو اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تو بنولحیان نے ان کو گھسیٹا اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ نہیں مانے تو بنو لحیان نے ان کو بھی قتل کر دیا اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کو لے گئے، حتی کہ ان دونوں کو مکہ میں بیچ دیا۔ پس حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو الحارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے الحارث کو غزوہ بدر میں قتل کر دیا تھا وہ ان کے پاس قید میں رہے حتی کہ جب انہوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کوقتل کرنے کا تہیہ کر لیا تو انہوں نے الحارث کی کسی بیٹی سے استرا مانگا تاکہ زیر ناف بالوں کو صاف کریں اس لڑکی نے وہ استرا انہیں دے دیا وہ لڑکی بیان کرتی ہے کہ میں اپنے بچہ سے غافل ہوگئی تھی میرا بیٹا حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا انہوں نے اس کو اپنی ران پر بٹھالیا جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں سخت گھبرائی' حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے میری گھبراہٹ ( کے سبب) کو جان لیا اور اس وقت ان کے ہاتھ میں استرا تھا انہوں نے کہا: کیا تم کو یہ خوف ہے کہ میں اس کوقتل کر دوں گا میں ان شاءاللہ ایسانہیں کروں گا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے زیادہ نیک کوئی قیدی نہیں دیکھا میں نے ان کو انگوروں کے خوشے سے کھاتے ہوۓ دیکھا حالانکہ ان دنوں مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا اور وہ زنجیروں سے بندھے ہوۓ تھے اور یہ صرف وہ رزق تھا جو اللہ تعالی نے ان کو عطاء کیا تھا حارث کے بیٹے ان کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو تا کہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں پھر نماز سے فارغ ہو کر ان کے پاس جا کر کہا: اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں تو میں زیادہ لمبی نماز پڑھتا، پس حضرت خبیب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قتل کیے جانے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کی رسم، ڈالی پھر انہوں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! ان سب کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دے پھر یہ اشعار پڑھے: ” جب میں حالت اسلام میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے میں جس پہلو پر بھی کروں گا میرا گرنا اللہ ہی کے لیے ہوگا یہ قتل کیا جانا اللہ کی رضا کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو وہ میرے جسم کے ہر کئے ہوۓ ٹکڑے میں برکت ڈال دے۔ پھر عقبہ بن الحارث ان کی طرف کھڑا ہوا اور ان کوقتل کر دیا اور کفار قریش نے حضرت عاصم ( کی لاش) کے لیے لوگ بھیجے کہ وہ ان کے جسم کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر لے آئیں، جس سے وہ انہیں پہچانیں حضرت عاصم نے غزوہ بدر میں ان کے ایک بڑے سردار کو قتل کر دیا تھا، پس اللہ تعالی نے بھڑوں کی ایک فوج کو سائبان کی طرح ان کی لاش کے اوپر بھیجا جس نے ان کافروں سے ان کی حفاظت کی، پس وہ ان کے جسم سے کچھ کاٹنے پر قادر نہ ہو سکے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٨٦)

بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ، وَحَدِيثُ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ، وَعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ، وَخُبَيْبٍ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهَا بَعْدَ أُحُدٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ - وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ عُسْفَانَ، وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو لِحْيَانَ، فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى أَتَوْا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالُوا : هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ. فَتَبِعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ، فَلَمَّا انْتَهَى عَاصِمٌ، وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ ، وَجَاءَ الْقَوْمُ، فَأَحَاطُوا بِهِمْ، فَقَالُوا : لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا ؛ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا. فَقَالَ عَاصِمٌ : أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ. فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّبْلِ، وَبَقِيَ خُبَيْبٌ، وَزَيْدٌ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ، فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ. فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَجَرَّرُوهُ، وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَلَمْ يَفْعَلْ، فَقَتَلُوهُ، وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ، وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ، فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ أَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، قَالَتْ : فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي، فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى، فَقَالَ : أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَكَانَتْ تَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ؛ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ، فَخَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ، فَقَالَ : دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ. فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا. ثُمَّ قَالَ : مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَتَلَهُ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ، وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4086

سفیان بن عمرو نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کوقتل کیا وہ ابوسروعہ تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٨٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : الَّذِي قَتَلَ خُبَيْبًا هُوَ أَبُو سَرْوَعَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4087

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر مردوں کوکسی کام سے بھیجا ان کو قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا، پس بنو سلیم کے دو قبیلوں رعل اور ذکوان نے ایک کنویں کے پاس ان کے خلاف مزاحمت کی جس کو بیرمعونہ (معونہ کا کنواں ) کہا جاتا تھا ان قراء نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تم سے جنگ کے ارادہ سے نہیں آۓ تھے ہم تو صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی کام سے آئے تھے سو انہوں نے ان قراء کوقتل کر دیا تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں ان کے خلاف دعا کی اور یہیں سے قنوت نازلہ کی ابتداء ہوئی، پہلے ہم قنوت نہیں پڑھتے تھے ۔عبدالعزیز نے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: آیا قنوت رکوع کے بعد ہے یا قراءت سے فارغ ہونے کے بعد ہے؟ انہوں نے کہا نہیں! بلکہ قراءت سے فارغ ہونے کے بعد ہے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ رَجُلًا لِحَاجَةٍ، يُقَالُ لَهُمُ : الْقُرَّاءُ، فَعَرَضَ لَهُمْ حَيَّانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رِعْلٌ، وَذَكْوَانُ عِنْدَ بِئْرٍ يُقَالُ لَهَا : بِئْرُ مَعُونَةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ : وَاللَّهِ، مَا إِيَّاكُمْ أَرَدْنَا، إِنَّمَا نَحْنُ مُجْتَازُونَ فِي حَاجَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَتَلُوهُمْ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَسَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ، أَبَعْدَ الرُّكُوعِ، أَوْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : لَا، بَلْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4088

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی آپ عرب کے قبیلوں کے خلاف دعا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٨٩)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4089

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان نے اپنے دشمن کے خلاف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی تو آپ نے ستر (۷۰) انصار سے ان کی مددکی جن کو ہم ان کے زمانہ میں القراء(قرآن پڑھنے والے) کہتے تھے وہ دن میں (جنگل سے)لکڑیاں چن کر لاتے تھے اور رات کو نماز پڑھتے تھے حتی کہ جب وہ بیرمعونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان کے ساتھ غداری کی اور ان کوقتل کر دیا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچ گئی تو آپ علیہ السلام ایک ماہ تک عرب کے(ان)قبیلوں میں سے (چند قبیلوں کے خلاف صبح کی نماز میں دعا کرتے رہے رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنولحیان کے خلاف حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پس ہم نے قرآن میں یہ آیت پڑھی پھر یہ آیت اٹھالی گئی: ہماری قوم تک ہماری طرف سے یہ خبر پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کر لی سو وہ ہم سے راضی ہو گیا اور اس نے ہم کو راضی کر دیا۔ اور قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک نماز میں دعاء قنوت پڑھی، آپ عرب کے قبائل میں سے (چند) قبائل کے خلاف دعا کرتے تھے رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کے خلاف۔ خلیفہ نے یہ اضافہ کیا کہ ہمیں ابن زریع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے حدیث بیان کی از قتادہ انہوں کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی: وہ ستر (اصحاب) انصار میں سے تھے جو بیرمعونہ میں شہید کر دیئے گئے, قراناً (یعنی) کتاب جیسے عبدالاعلی کی روایت ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٠)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لِحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَدُوٍّ، فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ : الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ، وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ؛ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ. قَالَ أَنَسٌ : فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا، ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ : بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا. وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ؛ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، زَادَ خَلِيفَةُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ. قُرْآنًا : كِتَابًا، نَحْوَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4090

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں کو ستر سواروں میں بھیجا جو حضرت ام سلیم کے بھائی تھے اور مشرکین کا سردار عامر بن الطفيل تھا جس نے (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو) تین باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا: (۱) دیہاتیوں پر آپ کی حکومت ہو اور شہریوں پر میری حکومت ہو(۲) یا میں ( آپ کے بعد ) آپ کا خلیفہ ہوں (۳) ورنہ میں ہزار دو ہزار اہل غطفان کے ساتھ مل کر آپ پر حملہ کروں گا پھر وہ ام فلاں کے گھر میں طاعون کے مرض میں مبتلا ہو گیا اس نے کہا: آل بنی فلاں کے گھر کے اونٹ کی گلٹی کی طرح میری گلٹی نکل آئی ہے میرا گھوڑا لاؤ پھر وہ اس گھوڑے کی پشت پر ہی مر گیا۔ بہر حال! حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھائی حرام روانہ ہوۓ اور وہ لنگڑے آدمی تھے اور بنوفلاں کے ایک اور مرد ( روانہ ہوۓ ) حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے (ان سے کہا: تم دونوں میرے قریب رہنا حتی کہ میں ان کے پاس پہنچ جاؤں اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم میر سے قریب ہوگے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے اصحاب کے پاس پہنچ جانا۔ پس انہوں نے (ان کے پاس جا کر کہا: کیا تم مجھے امان دیتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پیغام تمہیں پہنچا دوں؟ سو وہ پیغام پہنچانے لگے اور ان لوگوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا وہ حضرت حرام کے پیچھے سے آیا اور ان کو نیز گھونپ دیا۔ ھمام نے کہا: میرا گمان ہے کہ اس نے ان کو نیزہ ماراحتی کہ وہ ان کے آر پار ہو گیا۔ انہوں نے کہا: اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا! پھر وہ شخص ان سے آملا اور انہوں نے لنگڑے کے سوا سب کو قتل کر دیا جو پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے پھر اللہ تعالی نے ہمارے متعلق یہ آیت نازل فرمائی جو بعد میں ) منسوخ ہوگئی تھی' (وہ آیت یہ ہے: بے شک ہم نے اپنے رب سے ملاقات کر لی سو وہ ہم سے راضی ہو گیا اور اس نے ہم کو راضی کر دیا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تین روز تک ان کے خلاف دعاء ضرر کی رعل ذکوان بنولحیان اور عصیہ کے خلاف جنہوں نے اللہ تعالی کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی کی تھی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ - أَخٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ - فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ خَيَّرَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ، فَقَالَ : يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ، وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَتَكَ، أَوْ أَغْزُوكَ بِأَهْلِ غَطَفَانَ بِأَلْفٍ وَأَلْفٍ. فَطُعِنَ عَامِرٌ فِي بَيْتِ أُمِّ فُلَانٍ، فَقَالَ : غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ آلِ فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي. فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ. فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ - وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ - وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ : كُونَا قَرِيبًا حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ آمَنُونِي كُنْتُمْ، وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ. فَقَالَ : أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ. قَالَ هَمَّامٌ : أَحْسِبُهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ. قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا، ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ : إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4091

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا گیا اور وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے اور وہ بیرمعونہ کا دن تھا تو انہوں نے اپنے خون کو اس طرح ملا یعنی اپنے چہرے اور سر پر پھیر کر کہا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٢)

حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، قَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا، فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4092

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے بہت سخت ایذاء پہنچائی کی انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مکہ سے نکلنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان سے فرمایا: ابھی تم ٹہرو تو انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! آپ کو بھی توقع ہے کہ آپ کو بھی نکلنے کی اجازت دی جاۓ گی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بے شک مجھے اس کی امید ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کا انتظار کیا پھر ایک دن ان کے پاس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر کے وقت آۓ سو ان کو آواز دی پس فرمایا: تمہارے پاس جو لوگ ہیں ان کو نکال دو تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ صرف میری دو بیٹیاں ہیں، آپ نے فرمایا: کیا تم کومعلوم ہے کہ مجھے مکہ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے پس انہوں نے پوچھا: یارسول اللہ! کیا میری) مصاحبت ہوگی؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ( تمہاری ) مصاحبت ہوگی! انہوں نے کہا: یارسول اللہ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جن کو میں نے ( مکہ سے) نکلنے کے لیے تیار کر رکھا ہے سو انہوں نے ایک اونٹنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دے دی اور اس کا نام الجدعاء ( کان کٹی)تھا سو وہ دونوں سوار ہوکر چل پڑے حتی کہ وہ دونوں غار ثور میں پہنچ گئے سو وہ دونوں اس میں چھپ گئے، پس عامر بن فہیرہ جو عبداللہ بن الطفيل بن کثیرہ کا غلام تھا ( اور عبداللہ بن طفیل ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ماں شریک بھائی تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ دینے والی اونٹنی تھی تو عامر بن فہیرہ صبح و شام اس اونٹنی کو چرانے لے جاتے تھے اور رات کے آخری حصہ میں (وہ اسے ) آپ دونوں کے پاس لے آتے تھے پھر صبح کو اسے چرانے کے لیے لے جاتے تھے اس طرح کوئی چرواہا اس پر مطلع نہ ہو سکا پھر جب آپ دونوں ( غارثور سے) نکلے تو وہ (غلام) بھی ان کے پیچھے نکلاحتی کہ وہ دونوں مدینہ پہنچ گئے پس عامر بن فہیرہ بھی بیرمعونہ کے حادثہ میں قتل کر دیئے گئے، ابواسامہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے کہا: پس میرے والد نے خبر دی، انہوں نے بتایا کہ جب بیر معونہ کے حادثہ میں (ستر) قاری قتل کر دیئے گئے اور حضرت عمرو بن امیہ الضمری قید کر لیے گئے تو ان سے عامر بن الطفیل نے پوچھا: یہ کون ہے؟ اور ایک لاش کی طرف اشارہ کیا تو حضرت عمرو بن امیہ نے انہیں بتایا: یہ حضرت عامر بن فہیرہ ہیں پس اس نے کہا کہ ان کے قتل کیے جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھالی گئی حتی کہ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ لاش زمین اور آسمان کے درمیان معلق تھی پھر اس لاش کو زمین پر رکھ دیا گیا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس ان(شہداء) کی خبر آ گئی تو آپ نے ان صحابہ کی شہادت کی خبر دی پس فرمایا: بے شک تمہارے اصحاب شہید کر دیئے گئے، اور انہوں نے اپنے رب سے یہ سوال کیا۔ پس کہا: اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے یہ خبر دے دے کہ ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے سو اللہ تعالی نے ان کی طرف سے یہ خبر دے دی اور اس دن اس حادثہ میں حضرت عروہ بن اسماء بن الصلت شہید ہو گئے پھر ان ہی کے نام پر عروہ (بن زبیر ) کا نام رکھا گیا اور حضرت منذر بن عمرو بھی شہید ہو گئے اور ان ہی کے نام پر حضرت منذر بن( زبیر ) کا نام رکھا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخُرُوجِ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَذَى، فَقَالَ لَهُ : " أَقِمْ ". فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ ؟ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرْجُو ذَلِكَ ". قَالَتْ : فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا، فَنَادَاهُ، فَقَالَ : " أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ. فَقَالَ : أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصُّحْبَةَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّحْبَةَ ". قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ. فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ فَرَكِبَا، فَانْطَلَقَا، حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ، فَتَوَارَيَا فِيهِ فَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلَامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ، فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ، وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ يَسْرَحُ فَلَا يَفْطُنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ، فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ، فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ. 4093 ( م ) وَعَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، فَأَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الَّذِينَ بِبِئْرِ مَعُونَةَ، وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ : مَنْ هَذَا ؟ فَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ : هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ. فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَمَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ وُضِعَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ، فَقَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ أُصِيبُوا، وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ، فَقَالُوا : رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ". فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ، وَأُصِيبَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ عُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ، فَسُمِّيَ : عُرْوَةُ بِهِ، وَمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو سُمِّيَ بِهِ مُنْذِرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4093

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی ﷺ نے ایک مہینہ رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھی آپ رعل اور ذکوان کے خلاف دعا کرتے تھے اور فرماتے تھے: عصیّہ نے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَيَقُولُ : " عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4094

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے خلاف تیس (۳۰) روز دعا کی۔جنہوں نے آپ کے بیر معونہ کے اصحاب کو شہید کیا۔ آپ رعل اور لحیان اور عصبیہ کے خلاف دعا کرتے تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ کے جو اصحاب پیرمعونہ میں شہید کر دیئے گئے تھے ان کے متعلق اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں آیات نازل کی جن کو ہم نے پڑھا حتیٰ کہ ان کو بعد میں منسوخ کر دیا گے (وہ آیات یہ تھیں: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کر لی پس وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے۔۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا - يَعْنِي أَصْحَابَهُ - بِبِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا حِينَ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَلِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَنَسٌ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ، حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ : بَلِّغُوا قَوْمَنَا فَقَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا، وَرَضِينَا عَنْهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4095

عاصم الاحول نے حدیث بیان کی انہوں کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں دعاء قنوت پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہاں! ( قنوت پڑھی جاتی ہے ) میں نے پوچھا: رکوع سے پہلے یارکوع کے بعد؟ انہوں بتایا: رکوع سے پہلے میں نے کہا: فلاں شخص نے مجھے آپ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ نے بتایا ہے کہ ( دعاء قنوت)رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے حضرت انس نے کہا: اس نے جھوٹ بولا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ رکوع کے بعد دعا قنوت پڑھی تھی کیونکہ آپ نے کچھ لوگوں کو بھیجا تھا جن کو قراء کہا جاتا تھا وہ ستر مرد تھے جن کو مشرکین کے لوگوں کی طرف بھیجا تھا، پہلے ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ان کو پناہ دینے کا عہد کیا تھا پھر جن لوگوں نے عہد کیا تھا وہ بعد میں ان قراء پر غالب آ گئے (اور ان کو شہید کر دیا ) تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک ماہ تک رکوع کے بعد ان کے خلاف دعا کرتے رہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ، وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَبِئْرِ مَعُونَةَ،حدیث نمبر ٤٠٩٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ : نَعَمْ. فَقُلْتُ : كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : قَبْلَهُ. قُلْتُ : فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ : بَعْدَهُ ؟ قَالَ : كَذَبَ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا ؛ أَنَّهُ كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمُ : الْقُرَّاءُ وَهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ قِبَلَهُمْ، فَظَهَرَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4096

غزوة الخندق اور یہی الاحزاب ہے موسی بن عقبہ نے کہا: یہ غزوہ شوال چار ہجری میں ہوا تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غزوہ احد میں اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر پیش کیا۔ اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی تو ۔ آپ علیہ السلام نے ان کو اجازت نہیں دی، پھر انہوں نے اپنے آپ کو خندق کے دن آپ علیہ السلام پر پیش کیا اور اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤٠٩٧)

بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهِيَ : الْأَحْزَابُ، قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : كَانَتْ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4097

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق میں تھے اور صحابہ خندق کھود رہے تھے اور ہم اپنی پیٹھوں پر مٹی لاد کر پھینک رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی ( کامل) زندگی نہیں سوتو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤٠٩٨)

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4098

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو مہاجرین اور انصار سرد صبح میں خندق کھودر ہے تھے ان کے پاس غلام نہیں تھے جو یہ کام کرتے جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم میں تھکاوٹ اور بھوک کو دیکھا تو یہ دعائیہ اشعار کہے: ”اے اللہ! بے شک زندگی تو آخرت کی زندگی ہے سوتو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما! پس صحابہ نے جواب دیتے ہوۓ کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم باقی رہیں گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤٠٩٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ ، وَالْجُوعِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ". فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4099

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار مدینہ کے گرد خندق کھودرہے تھے اور اپنی پیٹھوں پر مٹی لا کر پھینک رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اسلام پر بیعت کی ہے جب تک ہم باقی رہیں گے۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے جواب میں کہہ رہے تھے: ”اے اللہ! بے شک خیر تو صرف آخرت کی خیر ہے سوتو انصار اور مہاجرین میں برکت فرما! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مٹھی جو ان کے پاس آ تا اور ان کو بدبودار چربی میں پکایا جاتا ان کو صحابہ کے سامنے رکھ دیا جاتا اور صحابہ بھوکے ہوتے تھے وہ بدمزہ کھانا ان کے حلق میں چپکتا تھا اور اس سے بد بو آتی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ، وَهُمْ يَقُولُونَ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدَا قَالَ : يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيبُهُمُ : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ". قَالَ : يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفِّي مِنَ الشَّعِيرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ، وَلَهَا رِيحٌ مُنْتِنٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4100

عبدالواحد بن ایمن نے حدیث بیان کی از والد خود انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت جابر کے پاس آیا انہوں نے کہا کہ ہم خندق کے دن زمین کھودرہے تھے تو بہت سخت چٹان آگئی تب صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یہ بہت سخت چٹان خندق میں پیش آ گئی ہے آپ نے فرمایا: میں آرہا ہوں آپ اس حال میں کھڑے ہوۓ کہ آپ کے پیٹ سے پھر بندھا ہوا تھا اور ہم تین دن سے کوئی چیز نہیں چکھ رہے تھے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کدال پکڑی اور اس زور سے ضرب لگائی کہ وہ چٹان ریت کے ڈھیر کی طرح بہ گئی پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئے ! پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں کچھ بھوک کا اثر دیکھا ہے جس سے مجھے صبر نہیں ہو سکا کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کی چیز ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس جو ہیں اور بکری کا بچہ ہے سو میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جو پیسے حتی کہ ہم نے ہانڈی میں گوشت بنالیا پھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں آیا کہ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب تھی میں نے عرض کیا: میرے پاس تھوڑاسا کھانا ہے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ اٹھیے اور ایک یا دو افراد اور ہوں آپ نے پوچھا: کتنا کھانا ہے تو میں نے آپ کو بتا دیا آپ نے فرمایا: بہت ہے عمدہ ہے آپ نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو کہ ہانڈی کو چولہے سے نہ اتارے اور نہ روٹی کوتنور سے نکالے حتی کہ میں آجاؤں پھر آپ نے فرمایا: (لوگو!) چلو پس تمام مہاجرین اور انصار چل پڑے پس جب ( حضرت جابر ) اپنی بیوی کے پاس داخل ہوۓ تو کہا: تم پر افسوس ہے! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین اور انصار اور ان کے اصحاب کو لے کر آرہے ہیں ان کی بیوی نے کہا: کیا آپ نے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس کتنا کھانا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! پس آپ نے صحابہ سے فرمایا: اندر داخل ہواور بھیٹر نہ لگانا پھر آپ روٹی کے ٹکڑے کرتے گئے اور اس پر گوشت ڈالتے گئے اور ہانڈی اور تنور کواس میں سے لینے کے بعد ڈھانپتے گئے اور وہ طعام اپنے اصحاب کے قریب رکھتے گئے پھر آپ اسی طرح روٹی کو توڑتے رہے اور اس پر گوشت ڈالتے رہے حتی کہ تمام صحابہ سیر ہو گئے اور کھانا بچ گیا آپ نے (میری بیوی سے فرمایا: اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کو ہدیہ دو کیونکہ لوگوں کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠١)

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ : إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَاءُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ. فَقَالَ : " أَنَا نَازِلٌ ". ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ، وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ ، فَضَرَبَ، فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ ، أَوْ أَهْيَمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي إِلَى الْبَيْتِ. فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : عِنْدِي شَعِيرٌ، وَعَنَاقٌ . فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَجِينُ قَدِ انْكَسَرَ ، وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ، فَقُلْتُ : طُعَيِّمٌ لِي فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلٌ، أَوْ رَجُلَانِ. قَالَ : " كَمْ هُوَ ؟ " فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ : " كَثِيرٌ طَيِّبٌ ". قَالَ : " قُلْ لَهَا : لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ، وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتَّى آتِيَ ". فَقَالَ : " قُومُوا ". فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ : وَيْحَكِ، جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ، وَمَنْ مَعَهُمْ. قَالَتْ : هَلْ سَأَلَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. فَقَالَ : " ادْخُلُوا، وَلَا تَضَاغَطُوا ". فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ، وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ إِلَى أَصْحَابِهِ، ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ، وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا، وَبَقِيَ بَقِيَّةٌ، قَالَ : " كُلِي هَذَا، وَأَهْدِي ؛ فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4101

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں شدید بھوک دیکھی تو میں اپنی بیوی کی طرف مڑا پس میں نے کہا: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں شدید بھوک کا اثر دیکھا ہے پس اس نے میری طرف اپنا تھیلا نکالا جس میں ایک صاع ( چار کلوگرام جو تھے اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ تھا سو میں نے اس کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جو کو پیسا پس میری بیوی میرے بکری کے بچے کو ذبح کرتے ہوۓ جو کو پیس کر فارغ ہوگئی اور میں نے گوشت کے ٹکڑے کر کے اس کو دیگچی میں ڈالا پھر میں مڑ کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تک گیا میری بیوی نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے سامنے شرمندہ نہ کرنا سو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے چپکے سے کہا: یارسول اللہ ! میں نے اپنے بکری کے بچہ کو ذبح کیا ہے اور ہم نے ایک صاع جو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے سو آپ تشریف لائیں اور چند اصحاب آپ کے ساتھ ہوں تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: اے اہل خندق! جابر نے تمہارے لیے کچھ تیار کیا ہے سوتم آؤ! پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دیگچی کو چولہے سے نہ اتارتا اور نہ روٹی پکانا شروع کرنا حتی کہ میں پہنچ جاؤں پھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی لوگوں کے ساتھ آ گئے، حتی کہ میں اپنی بیوی کے پاس آیا اس نے کہا: اللہ تمہارے ساتھ برا کرے! ( تم اتنے لوگوں کو لے کر آ گئے اور کھانا تھوڑا ہے!) میں نے بتایا کہ میں نے وہی کیا تھا جوتم نے کہا تھا میری بیوی آپ کے سامنے گوندھا ہوا آٹالائی آپ نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور برکت کی دعا کی پھر آپ نے ہماری دینی کا قصد کیا اور اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا: روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹیاں پکاۓ اور اپنی دیگچی سے پیالہ میں سالن ڈالو اور دیگچی کو چولہے سے نہ اتارا اور وہ (اہل خندق) ایک ہزار تھے پس میں اللہ کی قسم کھا کر بتاتا ہوں کہ ان سب نے کھانا کھا لیا حتی کہ کھانا بچا رہااور وہ واپس چلے گئے اور ہماری دیگچی میں سالن پہلے کی طرح ابل رہا تھا اور ہمارے گوندھے ہوۓ آٹے سے اسی طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٢)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي، فَقُلْتُ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا. فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ، فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ، فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي، وَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَنْ مَعَهُ. فَجِئْتُهُ، فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ. فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا ، فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ، وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ ". فَجِئْتُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ : بِكَ وَبِكَ. فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ. فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا، فَبَصَقَ فِيهِ، وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا، فَبَصَقَ، وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي، وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهَا ". وَهُمْ أَلْفٌ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ، وَانْحَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4102

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ(اس آیت کی تفسیر میں ) بیان کرتی ہیں: جب کافرتم پر تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے سے چڑھ آۓ اور جب آنکھیں پھری کی پھری رہ گئیں اور دل منہ کو آنے لگے ۔ (الاحزاب:۱۰) حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ یوم خندق کا موقع ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٣)

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : { إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ }. قَالَتْ : كَانَ ذَاكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4103

حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے دن مٹی منتقل کر رہے تھے حتی کہ گردوغبار نے آپ کے پیٹ کو ڈھانپ لیا اور آپ فرمارہے تھے: اور اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے سوتو ہم پر ضرور سکون نازل فرما اور اگر ہمارا مقابلہ ہوتو ہمیں ثابت قدم رکھنا بے شک اس جماعت نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے جب وہ ہمیں فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کریں گے تو ہم انکار کریں گے۔ اور آپ نے آواز بلند کر کے کہا: ”آبینا آبینا ،‘یعنی ہم انکار کریں گے ہم انکار کر یں گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٤)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ ، أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ، يَقُولُ : " وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ : " أَبَيْنَا أَبَيْنَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4104

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا صباء (مشرق سے چلنے والی ہوا) سے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو دبور ( مغرب سے چلنے والی ہوا) سے ہلاک کر دیا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4105

حضرت البراء رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب الاحزاب اور خندق کا دن تھا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خندق کی مٹی کومنتقل کر رہے تھے حتی کہ گردوغبار نے مجھ سے آپ کے پیٹ کی کھال کو چھپالیا اور آپ کے گھنے بال تھے میں نے سنا آپ حضرت رواحہ کے رجزیہ کلمات کومٹی منتقل کرتے ہوۓ پڑھ رہے تھے: اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے سوتو ہم پر ضرور سکون نازل فرما! اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہم کو ثابت قدم رکھ بے شک انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے اور اگر وہ ہمیں فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کریں گے تو ہم انکار کر یں گے۔ پھر آپ آخر میں آواز کو کھینچ کر پڑھتے(’ابینا‘ کے آخری الف کو لمبا کر کے مد کے ساتھ پڑھتے )۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٦)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " قَالَ : ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4106

عبدالصمد نے حدیث بیان کی از عبدالرحمان وہ عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بتایا: میں جس پہلے دن غزوہ میں حاضر ہوا وہ یوم خندق تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٧)

حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - هُوَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ - عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4107

حضرت ابن عمر بن ابراہیم نے بتایا: مجھے طاؤس کے بیٹے نے خبر دی از عکرمہ بن خالد از حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس گیا اس وقت ان کی مینڈھیوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے میں نے کہا: آپ دیکھ رہی ہیں کہ لوگوں نے کس طرح حکومت ہتھیا لی ہے اور اس حکومت سے مجھے کوئی حصہ نہیں ملا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا: تم ان کے ساتھ جا ملو وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ تمہارا ان سے نہ ملنا اختلاف کا سبب ہوگا پھر حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ان کو اس وقت تک نہ چھوڑا حتیٰ کہ وہ چلے گئے پھر جب لوگ منتشر ہو گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو اس حکومت کے متعلق بات کرنا چاہتا ہو وہ اپنی دلیل سے ہم کو مطلع کرے سو ہم ضرور اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ اس حکومت کے حق دار ہیں، حبیب بن مسلمہ نے (حضرت ابن عمر سے) کہا: آپ اس کا جواب دیں! حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: میں نے اس وقت جواب دینے کے لیے اپنے گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں کے حلقہ سے نکالا تھا (یعنی سنبھل کر بیٹھ گیا تھا اور یہ کہنے کا ارادہ کیا تھا کہ تم سے زیادہ اس حکومت کے حق دار وہ تھے جنہوں نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کی خاطر جنگ کی تھی پھر میں اس بات سے ڈرا کہ میں کوئی ایسی بات کہوں جس سے مسلمانوں کی جمعیت میں افتراق ہو اور خون ریزی ہو اور میری مراد کے خلاف میرے کلام کو معمول کیا جاۓ پھر میں نے ان نعمتوں کو یاد کیا جو اللہ تعالی نے جنتوں میں تیار کی ہیں، حبیب نے کہا: آپ محفوظ رہے اور (فتنہ سے بچالیے گئے ۔ محمود نے عبدالرزاق سے روایت میں (نسواتها‘ کی جگہ)’نوساتها‘ کہا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٨) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا کہ ہم اس خلافت کے زیادہ حق دار ہیں شاید ان کی مراد یہ تھی کہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کرکے ان سے بیعت کرلی اور ان کی طرف خلافت سونپ دی اور اکثر لوگوں نے اس پر اتفاق کر لیا تو پھر وہ اس خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے ۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی رائے یہ تھی کہ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق وہ مہاجرین ہیں جو سابقین اولین میں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اسلام کی راہ میں خرچ کیا اور اسلام کی راہ میں قتال کیا پھر ان کو یہ خطرہ ہوا کہ اگر انہوں نے یہ بات کہی تو لوگ اس سے ان کی مراد کے خلاف معنی لیں گے اس لیے انہوں نے یہ بات نہیں کہی ۔ (یعنی لوگ سمجھیں گے کہ حضرت ابن عمر خود خلافت کے طالب ہیں ۔سعیدی غفرلہ ) (التوضیح لشرح الجامع صحیح ج ۲۱ ۲۳۵ وزارة الاوقاف ۱۳۲۹ھ، بحوالہ نعمۃ الباری فی شرح بخاری حدیث نمبر ٤١٠٨ کی تشریح کے تحت)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ ، قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ، فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ. فَقَالَتِ : الْحَقْ ؛ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ. فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ ، فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ، وَمِنْ أَبِيهِ. قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي، وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ : أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ، وَتَسْفِكُ الدَّمَ، وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ. قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ. قَالَ مَحْمُودٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4108

سلیمان بن صرد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: ہم ان سے جنگ کریں گے اور وہ ہم سے جنگ نہیں کرسکیں گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١٠٩) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کا پورا ہونا کہ آئندہ قریش مدینہ پر حملہ نہیں کرسکیں گے۔ علامہ عمر بن علی ابن ملقن شافعی متوفی ۸۰٤ ھ لکھتے ہیں: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی کہ اس سال کے بعد قریش مدینہ پر حملہ نہیں کرسکیں گئے پھر حدیبیہ کے سال قریش کی طرف نکلے کہ اگر قریش نے مسلمانوں کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تو مسلمان ان سے قتال کریں گئے سوقریش نے مسلمانوں کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا اور آپ کی اوٹنی بیٹھ گئی اس سے آپ نے جان لیا کہ اب اللہ تعالی کا منشاء یہ ہے کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کریں پھر آٹھ ہجری میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے مکہ ھوازن اور طائف کو فتح کر دیا اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوگئے اور جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا تھا اسی طرح ہو گیا۔ (التوضیح لشرح الجامع صحیح ج ۲۱ص۲۳۶۔۴۳۵ وزارة الاوقاف قطر ۱۳۲۹ھ ) علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں: امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ جب اہل خندق واپس چلے گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: آئندہ قریش تم سے لڑنے نہیں آئیں گے لیکن تم ان سے لڑتے جاؤ گے پھر اس کے بعد قریش مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے نہیں آۓ اور مسلمان اس کے بعد ان سے لڑنے کے لیے گئے حتی کہ اللہ تعالی نے ان کے لیے مکہ فتح کر دیا۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عظیم معجزہ کا ذکر ہے کیونکہ آپ نے مستقبل کے متعلق غیب کی خبر دی اور اسی طرح ہوا جس طرح آپ نے فرمایا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۷ ص ۲۳۹ دارالکتب العلمیہ بیروت بحوالہ نعمۃ الباری فی شرح صحيح بخاری،حدیث نمبر ٤١٠٩ کی تشریح کے تحت)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4109

سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: جب اللہ تعالی نے کفار کی فوجوں کو مدینہ سے نکال دیا تو آپ نے فرمایا: اب ہم ان سے لڑیں گے اور وہ ہم سے نہیں لڑ سکیں گے ہم ان کی طرف جا کر ان پر حملہ کر یں گے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٠)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ : " الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا، نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4110

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ علیہ السلام نے خندق کے دن فرمایا: اللہ تعالی ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے جس طرح انہوں نے ہمیں نماز وسطی ( نماز عصر پڑھنے سے ( خندق میں مشغول رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4111

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد آئے وہ کفار قریش کو برا کہہ رہے تھے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ! میں ( عصر کی نمازنہیں پڑھ سکا حتیٰ کہ اب سورج غروب ہو رہا ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے بھی نماز (عصر) نہیں پڑھی پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی ایک وادی میں آۓ سو آپ نے نماز کے لیے وضو کیا اور ہم نے بھی نماز کے لیے وضو کیا، پس آپ نے عصر کا وقت گزرنے اور غروب آفتاب کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ (بخاری شریف ،۔كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٢)

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ، مَا صَلَّيْتُهَا ". فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4112

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: ہمارے پاس قوم کی خبر کون لے کر آۓ گا ؟ تو حضرت الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ! آپ نے پھر فرمایا: ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر کون آۓ گا ؟ تو حضرت الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں! آپ نے پھر فرمایا: ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر کون آۓ گا ؟ تو حضرت الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں! پھر آپ نے فرمایا: بے شک ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری الزبیر ہیں۔ (بخاری شریف کتاب ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا. ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا. ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا. ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّ ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4113

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ اکیلا ہے جس کا لشکر غالب ہے اور جس نے اپنے بندہ کی مدد کی جوا کیلا ( کفار کی ) تمام فوجوں پر غالب رہا اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4114

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کفار کے فوجوں کے خلاف دعا کی: اے اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے جلد حساب لینے والے کفار کی فوجوں کو شکست دے دے! اے اللہ! ان کو شکست دے اور ان پر زلزلہ طاری کر دے! (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ، وَزَلْزِلْهُمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4115

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی غزوہ سے لوٹ کر آتے یا حج سے یا عمرہ سے تو تین باراللہ اکبر پڑھتے پھر پڑھتے:اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اس کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ہم لوٹ کر آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اپنے رب کو سجدہ کرنے والے ہیں حمد کرنے والے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تنہا کفار کی فوجوں کو شکست دی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٤١١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ، أَوِ الْحَجِّ، أَوِ الْعُمْرَةِ يَبْدَأُ، فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4116

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا غزوہ احزاب سے لوٹنا اور بنوقریظہ کی طرف نکلنا اور ان کا محاصرہ کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خندق سے واپس آۓ اور آپ نے ہتھیار اتار کر غسل کیا تو آپ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آۓ پس کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیئے اور اللہ کی قسم! ہم نے ہتھیار نہیں اتارے سو آپ ان کی طرف نکلیں، آپ نے پوچھا: کس طرف نکلیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے۔ (بخاری شریف ،بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ، وَمَخْرَجِهِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، وَمُحَاصَرَتِهِ إِيَّاهُمْ،حدیث نمبر ٤١١٧)

بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ، وَمَخْرَجِهِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، وَمُحَاصَرَتِهِ إِيَّاهُمْ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ، وَوَضَعَ السِّلَاحَ، وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ : قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ. قَالَ : " فَإِلَى أَيْنَ ؟ " قَالَ : هَاهُنَا. وَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4117

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس غبار کی طرف دیکھ رہا تھا جو بنو غنم کی گلیوں میں حضرت جبریل علیہ السلام کی سواری سے اٹھ رہا تھا جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنوقریظہ کی طرف جا رہے تھے۔. (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١١٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4118

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز بنوقریظہ کے سوا نہ پڑھے۔ پس بعض صحابہ نے عصر کو راستے میں پالیا تب بعض صحابہ نے کہا: ہم عصر کی نماز نہیں پڑھیں گے حتیٰ کہ ہم بنوقریظہ میں پہنچ جائیں اور بعض نے کہا: بلکہ ہم نماز پڑھیں گئے آپ نے ہم سے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں کی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١١٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ". فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4119

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کے چند درخت ہدیہ کر دیئے تھے حتی کہ بنوقریظہ اور بنونضیر فتح ہو گئے (تب آپ علیہ السلام ان کے درخت واپس کر رہے تھے اور میرے گھر والوں نے مجھے حکم دیا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں اور ان سے ان تمام درختوں کا سوال کروں جو انصار نے آپ کو دیے تھے یا ان میں سے بعض درختوں کا سوال کروں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہ درخت حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دے چکے تھے پس (اس وقت) حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا آگئیں انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے! اب تم کو وہ درخت نہیں دیں گے جب کہ آپ وہ درخت مجھے دے چکے ہیں یا جو بھی انہوں نے کہا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ان سے) فرما رہے تھے: آپ کو میں (ان کے بدلہ اتنے درخت دے دوں گا اور وہ کہہ رہی تھیں: نہیں! ہرگز نہیں! اللہ کی قسم ! حتی کہ آپ نے انہیں وہ عطا فرما دیئے میرا گمان ہے آپ نے فرمایا: میں تم کو ان کے بدلے میں دس گنا درخت دے دوں گا یا آپ نے جس طرح فرمایا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١٢٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ الَّذِينَ كَانُوا أَعْطَوْهُ، أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، تَقُولُ : كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَا يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا. أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ : كَذَا. وَتَقُولُ : كَلَّا وَاللَّهِ. حَتَّى أَعْطَاهَا. حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، أَوْ كَمَا قَالَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4120

حضرت ابوامامہ نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ اہل قریظہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حکم پر قلعہ سے اترنے کے لیے تیار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا سو وہ دراز گوش ( گدھے) پر سوار ہو کر آۓ جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو آپ نے انصار سے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو یا فرمایا: اپنے بہتر کی طرف کھڑے ہو پھر آپ نے فرمایا: یہ لوگ تمہارے حکم پر ( قلعہ سے نیچے اتر آۓ ہیں، پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے لڑنے والوں کوقتل کر دیا جاۓ اور ان کے بچوں کو قید کر لیا جاۓ آپ نے فرمایا: تم نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور بعض روایت میں ہے: آپ نے فرمایا کہ تم نے فرشتہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١٢١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ". أَوْ : " خَيْرِكُمْ ". فَقَالَ : " هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". فَقَالَ : تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ. قَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ ". وَرُبَّمَا قَالَ : " بِحُكْمِ الْمَلِكِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4121

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس تیر سے زخمی ہو گئے جو ان کو ایک قریشی شخص نے غزوہ خندق کے دن مارا تھا جس کو حبان بن العرقہ کہا جاتا تھا اس نے ان کے ہاتھ کے وسط میں تیر مارا تھا تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسجد میں خیمہ لگوایا تا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی قریب سے عیادت کر سکیں، پس جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خندق سے واپس آۓ آپ نے ہتھیار اتارے اور غسل کیا تو آپ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آۓ وہ اپنے سر سے گردوغبار جھاڑ رہے تھے پس انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیئے اللہ کی قسم! میں نے ہتھیار نہیں اتارے آپ ان کی طرف روانہ ہوں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا: کہاں؟ تو انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے پاس آۓ تو وہ آپ کے حکم سے ( قلعہ سے اتر آۓ آپ نے ان کا فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹا دیا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جاۓ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جاۓ اور ان کے اموال کو تقسیم کر دیا جاۓ ۔ ہشام نے کہا: پس میرے والد نے خبر دی از حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: اے اللہ! بے شک تو خوب جانتا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ یہ پسند ہے کہ میں اس قوم کے خلاف جہاد کروں جس نے تیرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی ہے اور ان کو ان کے وطن سے نکالا ہے اے اللہ! بے شک میں یہ گمان کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان مخالفین کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے اگر قریش کے لڑنے والوں میں سے کچھ لوگ باقی ہوں تو تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں ان سے تیری راہ میں جہاد کروں اور اگر تو نے جنگ ختم کر دی ہے تو تو اس زخم سے خون جاری کر دے اور اسی زخم کے سبب میری موت کر دے سو ان کی ہنسلی سے خون بہنے لگا اور مسجد میں بنو غفار کا خیمہ تھا وہ صرف اس چیز سے گھبراۓ کہ ان کی طرف خون بہہ کر آرہا تھا سو انہوں نے کہا کہ اے خیمہ والو! یہ ہمارے پاس تمہاری طرف سے کیسا خون بہتا ہوا آ رہا ہے پس اس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا اسی سے انتقال ہو گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١٢٢)

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ؛ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : حِبَّانُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ، وَاغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ : قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ ؟ " فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ. قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ. قَالَ هِشَامٌ : فَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا، وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا. فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا : يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ ؟ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4122

حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان کی ہجو کرو یا فرمایا: ان کی زیادہ ہجو کرو اور جبریل علیہ السلام بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریظہ کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو پس بے شک جبریل علیہ السلام بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ،حدیث نمبر ٤١٢٣،و حدیث نمبر ٤١٢٤)

حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ : " اهْجُهُمْ ". أَوْ : " هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ". 4124 وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ : " اهْجُ الْمُشْرِكِينَ ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4123/4124

باب:غزوۃ ذات الرقاع۔ اور یہ غزوہ محارب خصفہ ہے جو ثعلبہ کے بیٹوں سے ہے قبیلہ غطفان سے سو آپ مقام نخلہ میں ٹہرے۔اور یہ غزوہ خیبر کے بعد ہوا کیونکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ غزوہ خیبر کے بعد آئے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ساتویں غزوہ، غزوہ ذات الرقاع میں صلوۃ الخوف پڑھائی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں یوم محارب اور ثعلیہ میں نماز پڑھائی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الرقاع کے کھجور کے درختوں کی طرف نکلے تو آپ کا مقابلہ غطفان کی جماعت سے ہوا سو ان میں لڑائی نہیں ہوئی اور لوگوں نے ایک دوسرے کو ڈرایا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دو رکعت صلوۃ الخوف پڑھائی۔ اور یزید نے کہا از سلمہ کہ میں قرد کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ۔حدیث نمبر ٤١٢٥،و ٤١٢٦،و ٤١٢٧)

بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ، فَنَزَلَ نَخْلًا وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ ؛ لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : وَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ ؛ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ. 4126 وَقَالَ بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ : حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ جَابِرًا حَدَّثَهُمْ، صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ 4127 وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ، وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ، وَقَالَ يَزِيدُ ، عَنْ سَلَمَةَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4125/4126/4127

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے ہم کچھ افراد تھے اور ہمارے پاس ایک اونٹ تھا ہم باری باری اس پر سوار ہوتے تھے چلتے چلتے ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے اور میرے دونوں پیروں میں سوراخ ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے اور ہم اپنے پیروں پر کپڑے کی دھجیاں لپیٹ رہے تھے اس وجہ سے اس غزوہ کا نام غزوة ذات الرقاع رکھا گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں کی پھٹن پر کپڑے کی پٹیاں لپیٹ رہے تھے ۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا،پھر اس کے ذکر کو ناپسند کیا اور کہا: میں نے یہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ اس کا ذکر کیا جاۓ گویا کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا کہ ان کے کسی عمل کو ظاہر کیا جاۓ ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ،حدیث نمبر ٤١٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا ، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ؛ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا، وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ : مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ. كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4128

یزید بن رومان از صالح بن خوات وہ ان اصحاب سے روایت کرتے ہیں جو ذات الرقاع کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے صلوۃ الخوف پڑھائی ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بنائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہی سو آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کے ساتھ تھے پھر آپ سیدھے کھڑے رہے اور ان صحابہ نے اپنی نماز پوری کر لی پھر وہ مڑ کر چلے گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور صحابہ کی دوسری جماعت آ گئی آپ نے ان کو نماز کی وہ دوسری رکعت پڑھائی جو آپ کی اس نماز سے باقی رہ گئی تھی پھر آپ سیدھے بیٹھے رہے اور ان صحابہ نے اپنی نماز پوری کر لی پھر آپ نے ان کی نماز سے سلام پھیرا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے درختوں کے پاس تھے پس انہوں نے نماز خوف کا ذکر کیا۔امام مالک نے کہا: یہ وہ بہترین بات ہے جو کہ میں نے صلوۃ خوف کے متعلق سنی ۔ معاذ کی متابعت لیث نے کی ہے از ہشام از زید بن اسلم وہ بیان کرتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غزوۂ بنو انمار میں نماز ( خوف ) پڑھائی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ،حدیث نمبر ٤١٢٩،و حدیث نمبر ٤١٣٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ، أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ. 4130 وَقَالَ مُعَاذٌ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ، فَذَكَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ. تَابَعَهُ اللَّيْثُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4129/4130

سهل بن ابی حثمہ نے کہا کہ امام قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اور نمازیوں کی ایک جماعت بھی اس کے ساتھ ہو اور ایک جماعت دشمن کی طرف ہو ان کے منہ دشمن کی طرف ہوں پس امام ان کو ایک رکعت پڑھاۓ جو اس کے ساتھ ہوں پھر وہ نمازی کھڑے ہوکر اپنے لیے ایک رکوع کریں اور دو سجدے کریں اس جگہ پر پھر یہ نمازی دوسری نماز کے مقام کی طرف چلے جائیں اور امام اس دوسری جماعت کو ایک رکعت پڑھاۓ پس امام کی دو رکعات ہو جائیں گی پھر یہ دوسری جماعت ایک رکوع کرے اور دو سجدے کرے۔ صالح بن خوات از سہل بن ابی حشمه از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی مثل روایت ہے۔ صالح بن خوات نے خبر دی از سہل انہوں نے ان کو اپنا قول بیان کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ،حدیث نمبر ٤١٣١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُونَ، فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلَاءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَهُ ثِنْتَانِ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَحْيَى ، سَمِعَ الْقَاسِمَ ، أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلٍ حَدَّثَهُ قَوْلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4131

سالم نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گیا تو ہمارا دشمن سے سامنا ہوا سو ہم نے ان کے لیے صفیں بنائیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ.،حدیث نمبر ٤١٣٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ، فَصَافَفْنَا لَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4132

سالم بن عبداللہ بن عمر از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کو نماز پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوئی تھی پھر پہلی جماعت لوٹ کر گئی اور اپنے اصحاب کی جگہ کھڑی ہوگئی، پس وہ جماعت آئی اور آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے ان پر سلام پھیر دیا۔ پھر یہ دوسری جماعت کھڑی ہوئی اور انہوں نے اپنی رکعت ادا کی اور پہلی جماعت کھڑی ہوئی اور انہوں نے ایک رکعت ادا کی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ،حدیث نمبر ٤١٣٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ، فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلَاءِ، فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4133

ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ،حدیث نمبر ٤١٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِنَانٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4134

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واپس آۓ اور وہ ( بھی ) آپ کے ساتھ واپس آۓ اس وادی میں جہاں بہت زیادہ کانٹوں والے درخت تھے وہ سب دوپہر کے وقت وہاں پہنچے پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اترے اور لوگ ان کانٹوں والے درختوں میں مختلف جگہوں پر اترے وہ درختوں کا سایہ چاہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے آپ نے اس درخت پر اپنی تلوار لٹکا دی حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم لوگ سوچکے تھے پھر اچانک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمیں بلا رہے تھے سو ہم آپ کے پاس آۓ اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا اس شخص نے مجھ پر تلوار سونت لی تھی اور میں سویا ہوا تھا۔ پس جب میں بیدار ہوا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں سوتی ہوئی تھی سو اس نے مجھ سے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچاۓ گا میں نے اس سے کہا: اللہ !پس وہ یہ بیٹھا ہوا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے پس جب ہم ایک سایا دار درخت کے پاس آۓ تو ہم نے اس درخت کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا پس مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی اس نے وہ تلوار پکڑ لی اور آپ سے پوچھا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! اس نے پوچھا: اب آپ کو مجھ سے کون بچاۓ گا ؟ آپ نے فرمایا: اللہ ! پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آکر اس کو دھمکایا اور نماز قائم کی گئی، پھر آپ نے ایک جماعت کو دو رکعت پڑھائیں، پھر وہ پیچھے چلے گئے پھر آپ نے دوسری جماعت کو دو رکعت پڑھائیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے چار رکعات ہوئیں اور لوگوں کے لیے دو دو رکعت ہوئیں۔ اور مسدد نے کہا از ابی عوانہ از ابی بشر : اس شخص کا نام غورث بن الحارث ہے اور اس نے اس غزوہ میں محارب خصفۃ کی طرف سے قتال کیا تھا۔ اور ابوالزبیر نے کہا از حضرت جابر رضی اللہ عنہ : ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے درختوں میں تھے سو آپ نے نماز خوف پڑھائی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کے غزوہ میں نماز خوف پڑھی۔اور تحقیق یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایام خیبر میں آۓ تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ,حدیث نمبر ٤١٣٥،٤١٣٦،٤١٣٧)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ. قَالَ جَابِرٌ : فَنِمْنَا نَوْمَةً، ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ. فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ". ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. 4136 وَقَالَ أَبَانُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ : تَخَافُنِي ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : " اللَّهُ ". فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ. وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ : اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةَ. 4137 وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ، فَصَلَّى الْخَوْفَ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلَاةَ الْخَوْفِ. وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ خَيْبَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4135/4136/4137

خزاعہ کے بنو مصطلق کے خلاف غزوہ اور یہی غزوۃ المریسیع ہے, امام ابن اسحاق نے کہا: یہ غزوہ چھ ہجری میں ہوا۔ اور موسی بن عقبہ نے کہا: یہ غزوہ چار ہجری میں ہوا ہے۔ اور النعمان بن راشد نے کہا ازالزہری:افك ( حضرت عائشہ پر تہمت ) کی حدیث کا واقعہ غزوۃ المریسیع میں تھا۔ محمد بن یحیی بن حبان از این محیریز وہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں ان کے پاس بیٹھ گیا پس میں نے ان سے عزل کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بنوالمصطلق کے لیے نکلے تو ہم نے عرب کے قیدیوں میں سے چند قیدیوں کو پالیا۔ پس ہم کو عورتوں کی خواہش ہو رہی تھی اور عورتوں سے علیحدگی ہمیں بہت شدت سے محسوس ہورہی تھی اور ہم نے عزل کرنے کو پسند کیا سو ہم نے عزل کرنے کا ارادہ کیا اور ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم آپ سے پوچھے بغیر عزل کریں ( تو یہ درست نہیں ہے) سو ہم نے اس کے متعلق آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم ایسا نہ کرو جو روح بھی قیامت تک آنے والی ہے وہ ضرور آکر رہے گی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ،حدیث نمبر ٤١٣٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، وَقُلْنَا : نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ؛ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4138

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ نجد میں گئے، پس جب ہم پر سخت دوپہر کا وقت آیا اور اس وادی میں کانٹوں والے درخت بہ کثرت تھے تو آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور اس کے ساۓ میں ٹھہرے اور آپ نے اپنی تلوار( درخت پر) لٹکا دی اور صحابہ مختلف درختوں کے ساۓ میں آرام کرنے گئے جب ہم اس حال میں تھے تو ناگاہ ہم کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بلایا سو ہم آۓ اس وقت ایک اعرابی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، پس آپ نے بتایا: یہ شخص اس وقت میرے پاس آیا جب میں سویا ہوا تھا سواس نے میری تلوار اٹھا کر سونت لی پس میں بیدار ہو گیا اور یہ شخص میرے سر کے پاس کھڑا ہوا تھا اور میری تلوار سونتے ہوۓ تھا اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچاۓ گا ؟ میں نے کہا: اللہ ! تو اس نے وہ تلوار میان میں رکھ لی پھر بیٹھ گیا اور وہ یہ ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کو سز انہیں دی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ،حدیث نمبر ٤١٣٩)

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ، فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَاسْتَظَلَّ بِهَا، وَعَلَّقَ سَيْفَهُ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ، وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاخْتَرَطَ سَيْفِي، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي مُخْتَرِطٌ صَلْتًا ، قَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ. فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هَذَا ". قَالَ : وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4139

غزوة انمار حضرت جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو غزوۃ انمار میں دیکھا آپ سواری پر نفل نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ مشرق کی طرف تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ أَنْمَارٍ,حدیث نمبر ٤١٤٠)

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُتَطَوِّعًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4140

حدیث الافک (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت کا واقعہ)الإفك “اور ”الإفك النجس اور النجس کی طرح ہے۔کہا جاتا ہے:اِفكهم‘اور’آفکھم‘اور’افّکھم‘۔اور جس نے کہا: "افکھم“۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے حدیث بیان کی از حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہ جب ان پر تہمت باندھنے والوں نے جو کہا سو کہا اور ان میں ہر ایک نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کا ایک حصہ بیان کیا اور ان میں سے بعض حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کو دوسروں سے زیاد یاد رکھنے والے تھے اور اس قصہ کو زیادہ محفوظ رکھنے والے تھے، اور میں نے ان میں سے ہر مرد کی اس حدیث کو یادرکھا جو اس نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کی اور ان کی حدیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے ہر چند کہ ان میں سے بعض دوسروں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو ( ساتھ لے جانے کے لیے ) اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کے نام کا قرعہ نکلتا اس کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لے جاتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ آپ ایک غزوہ میں جا رہے تھے پس آپ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس غزوہ میں ساتھ جانے کے لیے میرا قرعہ نکل آیا سو حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلی، پس مجھے کجاوے( پالان) میں بٹھایا جاتا تھا اور اس سے اتارا جاتا تھا سو ہم چلتے رہے حتی کہ جب رسول اللہ ﷺ اس غزوہ سے فارغ ہو گئے اور واپس چلے ہم واپس آتے ہوۓ مدینہ کے قریب آپہنچے تو ایک رات آپ نے روانہ ہونے کا اعلان کیا تو جب انہوں نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھی اور چلتی رہی حتی کہ میں لشکر کے پار آگئی جب میں قضاء حاجت سے فارغ ہو گئی تو میں اپنے کجاوے کی طرف آئی میں نے اپنے سینہ کو چھوا تو میرا سیپیوں کا ہارٹوٹا ہوا تھا سو میں واپس گئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی سو اس ہار کی تلاش نے مجھے ٹھہراۓ رکھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: (ادھر وہ صحابہ جو میرا پالان اٹھاتے تھے انہوں نے میرا پالان اٹھا لیا اور اس پالان کو میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر مجھ کو سوار کرایا جاتا تھا اور ان کو یہ گمان تھا کہ میں اس پالان میں موجود ہوں اور اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں وہ فربہ نہیں ہوتی تھیں اور ان پر گوشت چڑھا ہوا نہیں ہوتا تھا وہ طعام سے معمولی خوراک کھاتی تھیں لہٰذا جن صحابہ نے پالان کو اٹھایا اور اس کو اونٹ پر رکھا ان کو اس کے ہلکے ہونے سے تعجب نہیں ہوا اور میں کم عمر لڑ کی تھی، پس ان صحابہ نے اونٹ کو اٹھایا اور روانہ ہو گئے اور مجھے اس لشکر کے جانے کے بعد اپنا ہار مل گیا۔ پس میں ان کے پڑاؤ کی جگہ آئی اور وہاں کوئی بلانے والا تھا نہ جواب دینے والا تھا، پس میں نے اس جگہ ٹہر نے کا قصد کیا جہاں پر میں پہلے تھی اور میں نے یہ گمان کیا کہ عنقریب وہ مجھے گم پائیں گے تو پھر وہ میری طرف واپس آئیں گئے سوجس وقت میں اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی تو مجھ پر نیند غالب آگئی، پس میں سوگئی اور حضرت صفوان بن معطل السلمی پھر ذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے رہتے تھے سو وہ صبح کے وقت میری جگہ پر پہنچے انہوں نے دیکھا کہ کوئی انسان سویا ہوا ہے انہوں نے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا اور وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے جب انہوں نے مجھے پہچانا تو بلند آواز سے کہا: اناللہ وانا الیہ راجعون! پس یہ سن کر میں بیدار ہوگئی،پس میں نے اپنی چادر سے اپنا منہ چھپالیا اور اللہ کی قسم! ہم نے کوئی بات نہیں کی اور میں نے ان سے سواۓ اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے کوئی اور بات نہیں سنی،وہ جھکے اور انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا۔ پس وہ سواری اپنے اگلے پیروں پر بیٹھ گئی میں اس کی طرف کھڑی ہوئی، پھر اس پر سوار ہوگئی وہ روانہ ہوۓ اور اس سواری کو چلاتے رہے حتی کہ ہم لشکر کے پاس پہنچ گئے ہم سخت دوپہر کے وقت داخل ہوۓ تھے اور اہل لشکر قیام کر چکے تھے پس میرے متعلق(تہمت پھیلا کر)وہ شخص ہلاک ہو گیا جو ہلاک ہوا تھا جو شخص اس تہمت کو سب سے زیادہ پھیلا رہا تھا وہ عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا عروہ نے بتایا کہ مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ شخص اس تہمت کو پھیلا رہا تھا اور جولوگ اس کے پاس یہ باتیں کرتے وہ ان کی توثیق کرتا اور کان لگا کر ان کی باتیں سنتا اور ان باتوں کو مزید پھیلاتا اور عروہ نے یہ بھی بتایا کہ تہمت لگانے والوں کے نام نہیں بتاۓ گئے سواۓ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ان کے علاوہ اور لوگ بھی تھے جن کا مجھے علم نہیں ہے سواۓ اس کے کہ تہمت لگانے والے لوگوں کی ایک جماعت تھی جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے اور بے شک تہمت لگانے والوں میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا“ عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہا جاۓ اور وہ فرماتی تھیں کہ حضرت حسان نے یہ شعر کہا ہے: بے شک میرا باپ اور میرے والد کے والد اور میری عزت (سیدنا) محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عزت کے لیے تمہارے سامنے ڈھال بنی رہے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ سو ہم مدینہ پہنچ گئے اور میں آتے ہی ایک ماہ پیار پڑی رہی اور لوگ تہمت لگانے والوں کے متعلق باتیں کر رہے تھے اور مجھے ان باتوں میں سے کسی بات کا کوئی پتا نہیں تھا اور مجھے اپنی بیماری میں یہ بات بہت تکلیف دیتی تھی کہ میں اب اپنے اوپر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وہ لطف و کرم نہیں دیکھتی تھی جو میں اس سے پہلے دیکھتی تھی صرف یہ بات تھی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے تھے مجھے سلام کرتے پھر فرماتے : تم کیسی ہو؟ پھر آپ واپس چلے جاتے اس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی اور مجھے اس شر کا علم نہیں تھا حتی کہ میں نہایت کمزوری سے گھر سے نکلی سو میں نے حضرت ام مسطح رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ گھر سے میدانوں کی طرف نکلی ہم وہاں قضاء حاجت کے لیے جاتے تھے اور ہم ایک رات سے دوسری رات تک کے لیے نکلتے تھے اور یہ اس سے پہلے کا واقعہ ہے کہ ہم اپنے گھروں کے قریب بیت الخلاء بناتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: ہمارا رہن سہن عرب کے پہلے لوگوں کی طرح قضاء حاجت کے لیے جنگل میں جانا تھا اور ہمیں اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے کراہت آتی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس میں اور حضرت ام مسطح ( گھر سے) چلیں اور وہ ابورھم بن المطلب بن عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھیں اور وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا حضرت مسطح بن أثاثہ بن عباد بن المطلب تھا رضی اللہ عنہ پس میں اور حضرت ام مسطح جب قضاء حاجت سے فارغ ہوئیں تو ہم اپنے گھر کی طرف چلیں پس حضرت ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گریں تو انہوں نے کہا مسطح ہلاک ہو جاۓ پس میں نے کہا: آپ نے بری بات کہی ہے، کیا آپ ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں جو غزوہ بدر میں حاضر ہوا ہے تو انہوں نے کہا: اے لڑکی! کیا آپ نے نہیں سنا کہ مسطح نے کیا کہا ہے! عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اور میں نے پوچھا: اور اس نے کیا کہا ہے؟ عروہ نے کہا: پس حضرت ام مسطح نے مجھ کو تہمت لگانے والوں کی بات بتائی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پھر میری بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا جب میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس آۓ پس آپ نے سلام کیا، پھر فرمایا: تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے والدین کے پاس جاؤں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اپنے والدین سے اس خبر کی تصدیق اور تحقیق کروں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں نے اپنی والدہ سے پوچھا: اے اماں جان ! لوگ یہ کیسی باتیں بنا رہے ہیں؟ میری والدہ نے کہا: اے میری بیٹی! آسانی سے رہو اور اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو پس اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خوب صورت عورت ہو اور اس کا شوہر اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں مگر اس کی سوکنیں اس پر غالب آجاتی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا واقعی لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: میں اس رات تمام رات روتی رہی حتی کہ میرے آنسو رکتے نہیں تھے اور میں نیند کواپنی آنکھوں کا سرمہ نہ بناسکی پھر میں نے روتے روتے صبح کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بلایا جب نزول وحی میں تاخیر ہو چکی تھی، آپ نے ان دونوں سے سوال کیا اور ان سے اپنی اہلیہ کو چھوڑ نے کے متعلق مشورہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو انہوں نے اس کا مشورہ دیا جس کا رسول اللہ ﷺ کوعلم تھا کہ آپ کی اہلیہ اس تہمت سے بری ہیں اور جس کے متعلق انہیں آپ کی محبت کا علم تھا پس حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آپ کی اہلیہ ہیں اور ہمیں ان کے متعلق نیکی اور پاکیزگی کے سوا اور کسی چیز کا علم نہیں اور رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !اللہ تعالی نے آپ پر تنگی نہیں کی ہے اور ان کے سوا اور بہت عورتیں ہیں اور آپ ان کی خادمہ سے پوچھیں وہ آپ کو سچ سچ بتاۓ گی پس رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہ کو بلایا اور پوچھا: کیا تم نے ایسی کوئی بات دیکھی جو تم کو (ان کے متعلق شک میں ڈالے؟ تب حضرت بریرہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا ہے! میں نے ان پر کبھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو ان کو عیب لگاۓ ماسوا اس کے کہ وہ کم سن لڑکی ہیں، اپنے گھر کا آٹا گوندھتے ہوۓ سو جاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی دن( منبر پر) کھڑے ہوۓ اور عبداللہ بن اُبی کے معاملہ میں صحابہ سے مدد طلب کی، پس آپ نے منبر پر فرمایا: اے مسلمانو کی جماعت! اس شخص کے معاملہ میں میری کون مدد کرے گا جس کی میری اہلیہ کے متعلق ایذاء رسانی کی خبر مجھے پہنچی ہے؟ اور اللہ کی قسم! میں نے اپنی اہلیہ کے متعلق نیکی اور پارسائی کے سوا کچھ نہیں جانا اور انہوں نے اس مرد کا ذکر کیا ہے جس کے متعلق مجھے نیکی کے سوا اور کسی بات کا علم نہیں وہ جب بھی میری اہلیہ کے پاس گیا تو میں اس کے ساتھ تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوۓ جو بنو عبد الاشہل کے بھائی ہیں سو انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں آپ کی مدد کروں گا۔ پس اگر وہ شخص اوس سے ہے تو میں اس کی گردن ماردوں گا اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں میں سے ہے تو آپ اس کے متعلق ہمیں حکم دیں ہم آپ کے حکم پرعمل کریں گئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پھر خزرج میں سے ایک مرد کھڑا ہوا حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی ماں اس کی بیٹی تھی اور وہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے اور وہ خزرج کے سردار تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: وہ اس سے پہلے نیک مرد تھے لیکن ان کو ان کے قبیلہ کے تعصب نے ابھارا انہوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی ذات کی قسم ! تم نے جھوٹ بولا تم اس کو قتل نہیں کرو گے اور نہ تم اس کوقتل کرنے پر قادر ہو گے اور اگر وہ تمہارے قبیلہ سے ہوا تو تم یہ پسند نہیں کرو گے کہ اس کو قتل کیا جاۓ پھر حضرت اسید بن حضیر کھڑے ہوۓ اور وہ حضرت سعد بن معاذ کے چچازاد بھائی تھے انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ سے کہا: تم نے جھوٹ بولا مجھے اللہ کی ذات کی قسم ! ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے سوتم ضرور منافق ہو اور منافقوں کی حمایت کر رہے ہو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس اوس اور خزرج دونوں قبیلے جوش میں آ گئے حتی کہ انہوں نے لڑنے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کو مسلسل ٹھنڈا کرتے رہے حتی کہ وہ خاموش ہو گئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ میں اس پورے دن میں روتی رہی میرے آنسو رکتے نہیں تھے اور میں نیند کو سرمہ نہ بناسکی حتی کہ میں نے گمان کیا کہ روتے روتے میرا جگر شق ہو جاۓ گا پس جس وقت میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوۓ تھے اور میں رو رہی تھی تو انصار کی ایک عورت نے اجازت طلب کئی سو میں نے اس کو اجازت دی وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: جس وقت ہم اس حال میں تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آۓ آپ نے سلام کیا پھر بیٹھ گئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: جب سے یہ تہمت لگائی گئی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینہ گزر چکا تھا اور آپ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالی کی حمد وثناء کے بعد واضح ہو کہ اے عائشہ! مجھے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی خبر پہنچی ہے اگر تم بے قصور ہوتو اللہ تعالی عنقریب تمہاری پاک دامنی ظاہر فرما دے گا اور اگر (بالفرض) تم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو تم اللہ تعالی سے استغفار کرو اور اس سے توبہ کرو کیونکہ جب بندہ گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی تو میرے آنسو رک گئے حتی کہ میں نے آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہیں کیا پس میں نے اپنے والد سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو میری طرف سے ان باتوں کا جواب دیں جو آپ نے فرمائی ہیں، پس میرے والد نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کیا کہوں پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان باتوں کا جواب دیں سومیری والدہ نے کہا: میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کیا کہوں پس میں نے جواب دیا حالانکہ میں کم عمر لڑ کی تھی اور بہت زیادہ قرآن نہیں پڑھتی تھی( میں نے کہا:) اللہ کی قسم! بے شک میں نے جان لیا ہے کہ آپ لوگوں نے جو بات سنی ہے حتی کہ وہ بات آپ لوگوں کے دلوں میں جم گئی ہے اور آپ لوگوں نے اس کی تصدیق کر دی ہے پس اگر میں آپ لوگوں سے یہ کہوں کہ میں بے قصور ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں آپ لوگوں سے اس تہمت کا اعتراف کرلوں اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ میں اس تہمت سے بری ہوں تو آپ لوگ ضرور میری تصدیق کریں گئے، پس اللہ کی قسم! میں اپنے اور آپ لوگوں کے درمیان صرف حضرت یعقوب علیہ السلام کی مثال پاتی ہوں جب انہوں نے فرمایا تھا: تو اب صبر ہی اچھا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اس پر میں اللہ سے ہی مدد طلب کرتا ہوں (یوسف: ۱۸) پھر میں اس جگہ سے اٹھی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس تہمت سے بری تھی اور بے شک اللہ میرے اس تہمت سے بری ہونے کو ظاہر فرمانے والا ہے اور لیکن اللہ کی قسم! میرا یہ گمان نہیں تھا کہ اللہ تعالی میرے متعلق ایسی وحی نازل فرماۓ گا جس کی تلاوت کی جاۓ گی اور میں اپنے دل میں اپنے آپ کو اس سے کم تر خیال کرتی تھی کہ اللہ تعالی میرے متعلق کلام فرماۓ لیکن میں یہ امید رکھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نیند میں کوئی ایسا خواب دکھا دے گا جس سے اللہ تعالی اس تہمت سے میری براءت کو ظاہر فرما دے گا۔ پس اللہ کی قسم ! ابھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی مجلس کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر نکلا تھا حتی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور آپ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کی شدت میں طاری ہوتی تھی اور آپ کے چہرے سے پسینہ کے قطرے موتیوں کی طرح گرنے لگے حالانکہ وہ سخت سردی کا دن تھا اور یہ شدت اس قول کے ثقل کی وجہ سے تھی جو آپ پر نازل ہوا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے وہ شدت کی کیفیت دور ہوگئی اور آپ ( خوشی سے ) ہنس رہے تھے سو پہلی بات جو آپ نے اس وقت فرمائی وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! سنو! اللہ تعالیٰ نے تم کو بری کر دیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس میری والدہ نے مجھ سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف کھڑی ہو میں نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! میں آپ کی طرف کھڑی نہیں ہوں گی پس بے شک میں صرف اللہ عز وجل کی حمد وثناء کروں گی اور اللہ تعالی نے سورہ نور کی دس آیتیں نازل فرمائیں: بے شک جو لوگ ( عائشہ صدیقہ پر کھلا بہتان لاۓ (وہ) تم میں سے ایک گروہ ہے ( یہ آیات النور : ۲۰۔۱۱) تک ہیں پھر اللہ تعالی نے یہ آیات میری براءت میں نازل فرمائی ہیں،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسطح بن اثاثہ پر اس کے ساتھ قرابت اور اس کے فقر کی وجہ سے خرچ کرتے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس واقعہ کے بعد میں اب کبھی بھی مسطح پر کوئی چیز خرچ نہیں کروں گا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: اور تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور وسعت والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ نہیں کر یں گے......اے ایمان والو! کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے۔ ( التور:۲۲) تب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں! اللہ کی قسم ! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے! پھر انہوں نے حضرت مسطح پر حسب سابق خرچ دینے کی طرف رجوع کر لیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان سے خرچ نہیں روکوں گا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت بخش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے میرے متعلق سوال کیا، پس حضرت زینب سے پوچھا: تم کو کیا علم ہے؟ یا فرمایا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں اور اللہ کی قسم! مجھے ان کے متعلق سواۓ نیکی کے اور کسی بات کا علم نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: اور یہی وہ سوکن تھیں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تمام ازواج میں سے میری ٹکر کی تھیں سو اللہ تعالی نے ان کے تقوی کی وجہ سے ان کو محفوظ رکھا اور ان کی بہن حضرت حمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ان کی خاطر لڑیں سو وہ بھی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئیں۔ابن شہاب نے کہا: سو یہ وہ حدیث ہے جو ان راویوں سے مجھ تک پہنچی ہے پھر عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ اللہ کی قسم! جس مرد کے ساتھ مجھے تہمت لگائی گئی تھی ( حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ) وہ یہ کہتے : سبحان اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! میں نے آج تک کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا (یعنی ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ پھر وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ,حدیث نمبر ٤١٤١)

بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ وَالْأَفَكِ، بِمَنْزِلَةِ النِّجْسِ وَالنَّجَسِ، يُقَالُ : إِفْكُهُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ، قَالُوا : قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ، فَأَيُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَكُنْتُ أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي، وَأُنْزَلُ فِيهِ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ، وَقَفَلَ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَافِلِينَ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ، فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ، فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى رَحْلِي ، فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ، فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي، فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ، قَالَتْ : وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يُرَحِّلُونِي فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي، فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ عَلَيْهِ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ، وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَهْبُلْنَ ، وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ ؛ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ خِفَّةَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ فَسَارُوا، وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ، وَلَا مُجِيبٌ، فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي، فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ، فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَكَانَ رَآنِي قَبْلَ الْحِجَابِ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي، فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي، وَوَاللَّهِ، مَا تَكَلَّمْنَا بِكَلِمَةٍ، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ، وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَرَكِبْتُهَا، فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ، قَالَتْ : فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ. قَالَ عُرْوَةُ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ، وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ، فَيُقِرُّهُ، وَيَسْتَمِعُهُ، وَيَسْتَوْشِيهِ . وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا : لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ أَيْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ يُقَالُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ. قَالَ عُرْوَةُ : كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ، وَتَقُولُ : إِنَّهُ الَّذِي قَالَ : فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ لَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي، إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُولُ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَلِكَ يَرِيبُنِي، وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ حِينَ نَقَهْتُ ، فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا، وَكُنَّا لَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا، قَالَتْ : وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا، قَالَتْ : فَانْطَلَقْتُ أَنَا، وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقْبَلْتُ أَنَا، وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ. فَقُلْتُ لَهَا : بِئْسَ مَا قُلْتِ، أَتَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقَالَتْ : أَيْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ ؟ قَالَتْ : وَقُلْتُ : مَا قَالَ ؟ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ. قَالَتْ : فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضِي، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " فَقُلْتُ لَهُ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ ؟ قَالَتْ : وَأُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا. قَالَتْ : فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّي : يَا أُمَّتَاهُ، مَاذَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ ؟ قَالَتْ : يَا بُنَيَّةُ، هَوِّنِي عَلَيْكِ ؛ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا. قَالَتْ : فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ، أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا ؟ قَالَتْ : فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي، قَالَتْ : وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا، وَيَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ. قَالَتْ : فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ، وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ. فَقَالَ أُسَامَةُ : أَهْلَكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا. وَأَمَّا عَلِيٌّ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ، وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ. قَالَتْ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ، فَقَالَ : " أَيْ بَرِيرَةُ، هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ ؟ " قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ ، غَيْرَ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ. قَالَتْ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي ؟ وَاللَّهِ، مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي ". قَالَتْ : فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْذِرُكَ، فَإِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ. قَالَتْ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ. قَالَتْ : وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدٍ : كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ رَهْطِكَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ يُقْتَلَ. فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ : كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ، لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ. قَالَتْ : فَثَارَ الْحَيَّانِ ؛ الْأَوْسُ، وَالْخَزْرَجُ، حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَتْ : فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ، قَالَتْ : فَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ كُلَّهُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، قَالَتْ : وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، حَتَّى إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي، فَبَيْنَا أَبَوَايَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي، قَالَتْ : فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ، قَالَتْ : وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا، وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْءٍ، قَالَتْ : فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، وَتُوبِي إِلَيْهِ ؛ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ، ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ". قَالَتْ : فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً، فَقُلْتُ لِأَبِي : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فِيمَا قَالَ. فَقَالَ أَبِي : وَاللَّهِ، مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ لِأُمِّي : أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ. قَالَتْ أُمِّي : وَاللَّهِ، مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا : إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ : إِنِّي بَرِيئَةٌ. لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ - وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي مِنْهُ بَرِيئَةٌ - لَتُصَدِّقُنِّي، فَوَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ : { فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ }. ثُمَّ تَحَوَّلْتُ، وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي حِينَئِذٍ بَرِيئَةٌ، وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ مُنْزِلٌ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى ؛ لَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ، وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا، فَوَاللَّهِ، مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ، وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنَ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ وَهُوَ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ. قَالَتْ : فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَكَانَتْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ، أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ ". قَالَتْ : فَقَالَتْ لِي أُمِّي : قُومِي إِلَيْهِ. فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ ؛ فَإِنِّي لَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَتْ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ }. الْعَشْرَ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ : وَاللَّهِ، لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ : { وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ }. إِلَى قَوْلِهِ : { غَفُورٌ رَحِيمٌ }. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : بَلَى وَاللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي. فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَقَالَ : وَاللَّهِ، لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا. قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي، فَقَالَ لِزَيْنَبَ : " مَاذَا عَلِمْتِ ؟ "، أَوْ " رَأَيْتِ ؟ " فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي ، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا. قَالَتْ عَائِشَةُ : وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ. قَالَتْ : وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا، فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ. ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا كَشَفْتُ مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ. قَالَتْ : ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4141

الزہری بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے الولید بن عبدالملک نے کہا: کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی میں نے کہا: نہیں! لیکن مجھے تمہاری قوم کے دو آدمیوں نے خبر دی ہے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے اور ابوبکر بن عبدالرحمان بن الحارث نے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں بالکل خاموش رہنے والے تھے۔ پس لوگوں نے اس مسئلہ میں زہری سے رجوع کیا تو انہوں نے اس کے سوا کوئی اور جواب نہیں دیا اور بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بلا شک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسلماً(یعنی تسلیم کرنے والے اور خاموش رہنے والے )کہا تھا اور وہ اس پر قائم رہے اور ان کی پرانی اصل میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے(یعنی’مسلما‘ لکھا ہوا تھا)۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ،حدیث نمبر ٤١٤٢) علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:ولید بن عبدالملک مروان کا پوتا تھا' یہ لوگ بنوامیہ میں سے تھے اور ناصبی تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے اس لیے ہشام بن یوسف نے ولید کی خوشامد کرتے ہوۓ اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مجھ پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی اور وہ میرے ساتھ مسینا (برائی کرنے والے تھے)۔ صاحب التوضیح نے کہا: یہ روایت بعید ہے۔ اس کی بنیاد یہ تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ سے اس تہمت کے متعلق تفتیش کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی طرح یہ نہیں کہا کہ وہ آپ کی اہلیہ ہیں اور ہم ان کے متعلق سواۓ خیر کے اور کچھ نہیں جانتے بلکہ یہ کہا کہ آپ پر اللہ تعالی نے تنگی تو نہیں کی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ اور بہت عورتیں ہیں(یعنی جس عورت پر تہمت لگ چکی ہے اس کو اپنے نکاح میں رکھنے کی آپ کو کیا ضرورت ہے)اس وجہ سے ناصبیہ کوموقع ملا اور انہوں نے یہ حدیث گھٹر لی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے ساتھ مسینا (برائی کرنے والے تھے)۔ اللہ تعالی امام زہری کو جزا دے! انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں مسلما( خاموش رہنے والے تھے ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تھا کہ اس تہمت کا بانی عبداللہ بن اُبی تھا اور وہ میرے ساتھ مسینا (برائی کرنے والے تھا) اور یوں زہری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ اعتراض دور کر دیا اور بتا دیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مسینا “ کا لفظ نہیں کہا تھا بلکہ عبداللہ بن ابیُ کے لیے کہا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۱۷ص۲۸۰ موضحاً دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۳۹ھ )

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ مِنْ حِفْظِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : قَالَ لِيَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ : أَبَلَغَكَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ ؟ قُلْتُ : لَا، وَلَكِنْ قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِكَ ؛ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُمَا : كَانَ عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4142

مسروق بن الاجدع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ام رومان نے حدیث بیان کی اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں اس وقت انصار کی ایک عورت داخل ہوئی اس نے کہا: اللہ تعالی فلاں کے ساتھ ایسا کرے اور فلاں کے ساتھ ایسا کرے تو حضرت ام رومان نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے بتایا کہ میرا بیٹا ان لوگوں میں سے ہے جس نے یہ (تہمت کی بات کی ہے حضرت ام رومان نے پوچھا: وہ (تہمت ) کیا ہے؟ تو اس نے بتایا: وہ اس طرح اس طرح ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی ہے؟ اس نے کہا: ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ؟ اس نے کہا: ہاں! تب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے ہوش ہو گئیں پھر ان کو جب ہوش آیا تو ان کو کپکپی والا بخار چڑھا ہوا تھا، پس میں نے ان کے اوپر ان کے کپڑے ڈال دیئے اور میں نے ان کو ڈھانپ دیا۔ پس اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آ گئے آپ نے پوچھا: اس کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! اس کو کپکپی والا بخار چڑھ گیا ہے آپ نے فرمایا: شاید اس نے وہ بات سن لی ہے جو کہی جارہی ہے انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اٹھ کر بیٹھ گئیں اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں (اپنی پاک دامنی پر قسم کھاؤں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں کہوں میں نے ایسا نہیں کیا تو آپ لوگ میرا عذر نہیں سنیں گے میری اور آپ لوگوں کی مثال تو حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا: تم جو کچھ کہہ ر ہے ہو اس پر اللہ سے ہی مدد طلب کی گئی ہے (یوسف:۱۸) حضرت ام رومان نے بتایا پھر آپ واپس گئے اور آپ نے کوئی بات نہیں فرمائی تب اللہ تعالی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عذر نازل فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: ( سب سے پہلے) اللہ تعالی کی حمد ہے کسی اور کی حمد نہیں ہے اور نہ آپ کی (سب سے پہلے) حمد ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ،حدیث نمبر ٤١٤٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا، وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتْ : فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ. فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتِ : ابْنِي فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ. قَالَتْ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ : كَذَا وَكَذَا. قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ. قَالَتْ : وَأَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ. فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ ، فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا، فَغَطَّيْتُهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَتْهَا الْحُمَّى بِنَافِضٍ. قَالَ : " فَلَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ ". قَالَتْ : نَعَمْ. فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ، لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ قُلْتُ لَا تَعْذِرُونِي، مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ، وَبَنِيهِ { وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ }. قَالَتْ : وَانْصَرَفَ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا، قَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ، وَلَا بِحَمْدِكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4143

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پڑھتی تھیں:اذ تلقونه بالسنتكم(النور:۱۵) اور کہتی تھیں: ”الولق‘ کا معنی جھوٹ ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا: وہ دوسروں سے زیادہ اس آیت کی قراءت کو جانے والی تھیں کیونکہ یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ،حدیث نمبر ٤١٤٤)

حَدَّثَنِي يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقْرَأُ : إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ. وَتَقُولُ : الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ ؛ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4144

ہشام از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہہ رہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اس کو برا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے پوچھا: پھر میرے نسب کا کیا ہوگا؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو ان کے درمیان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح گوندھے ہوۓ آٹے سے بال نکال لیا جا تا ہے۔ اور محمد بن عقبہ نے کہا: اور ہمیں عثمان بن فرقد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے ہشام سے سنا از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بہت زیادہ تہمت لگائی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ،حدیث نمبر ٤١٤٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : لَا تَسُبَّهُ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ : اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ : " كَيْفَ بِنَسَبِي ؟ " قَالَ : لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. 4145 ( م ) وَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ ، سَمِعْتُ هِشَامًا ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4145

مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور ان کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے اور وہ ایسے اشعار پڑھ رہے تھے جن میں انہوں نے تشبیب کی تھی انہوں نے کہا: پاک دامن باوقار خواتین جو کسی کی عیب جوئی سے متہم نہیں ہیں وہ صبح کو غافل عورتوں کا گوشت کھانے سے بھوکی اٹھتی ہیں۔ تب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہا لیکن تم تو اس طرح نہیں تھے ۔ مسروق نے بتایا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں ! حالانکہ اللہ تعالی نے ارشادفرمایا ہے : اور ان میں سے جس نے اس ( بہتان ) میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے ( النور ۱۱) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اندھے ہوجانے سے بڑا اور کون سا عذاب ہوگا ! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مدافعت کرتے تھے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف سے(مشرکین کی) ہجوکر تے تھے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَدِيثُ الْإِفْكِ،حدیث نمبر ٤١٤٦)

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، وَقَالَ : حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ. قَالَ مَسْرُوقٌ : فَقُلْتُ لَهَا : لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : { وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ } ؟ فَقَالَتْ : وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى ؟ قَالَتْ لَهُ : إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ، أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4146

باب:غزوۃ الحدیبیہ کا بیان۔ اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اللہ مؤمنین سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ (الفتح: ۱۸) حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ الحدیبیہ کے سال نکلے پس ایک رات ہم پر بارش ہوئی سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی زیادہ علم ہے تب آپ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میرے بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور بعض میرا کفر کرنے والے ہیں پس رہے وہ لوگ جنہوں نے کہا: اللہ کی رحمت اور اللہ کی عطاء سے اور اللہ کے فضل سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور ستارے کا کفر کرنے والے ہیں اور ر ہے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ ستارے پر ایمان رکھنے والے ہیں اور میرا کفر کر نے والے ہیں ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٤٧)

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ : " قَالَ اللَّهُ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي، وَكَافِرٌ بِي ؛ فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ، وَبِرِزْقِ اللَّهِ، وَبِفَضْلِ اللَّهِ. فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا. فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ، كَافِرٌ بِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4147

قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور وہ سب ذوالقعدہ میں کیے تھے سوا اس عمرہ کے جو آپ کے حج کے ساتھ تھا' (وہ چار عمرے یہ ہیں:) ذوالقعدہ میں حدیبیہ سے عمرہ کیا ذوالقعدہ میں آئندہ سال عمرہ کیا ذوالقعدہ میں الجعرانہ سے عمرہ کیا جہاں آپ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کو تقسیم کیا تھا اور وہ عمرہ جو آپ کے حج کے ساتھ تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٤٨)

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ ؛ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4148

عبداللہ بن ابی قتادہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو حدیث بیان کی انہوں نے بتایا کہ ہم حدیبیہ کا سال نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوۓ سو آپ کے اصحاب نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٤٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ : انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ أُحْرِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4149

حضرت البراء رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور بے شک مکہ کی فتح بھی فتح تھی اور ہم حدیبیہ کے دن بیعت الرضوان کو فتح شمار کرتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو اصحاب تھے اور حدیبیہ ایک کنواں تھا ہم نے اس کا تمام پانی نکال لیا سو ہم نے اس میں ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی آپ اس کنویں پر آۓ اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے پھر آپ نے ایک برتن میں پانی منگایا پھر آپ نے کلی کی اور دعا کی پھر آپ نے اس کنویں میں وہ پانی ڈال دیا تھوڑی دیر ہم نے اس کنویں کو یونہی رہنے دیا پھر اس کے بعد ہم نے جتنا چاہا اس کنویں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؛ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا، فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ، وَرِكَابَنَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4150

حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ بے شک حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو یا اس سے زیادہ اصحاب تھے پس وہ ایک کنویں کے پاس اترے اور اس کا (سارا) پانی نکال لیا پھر وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آۓ ( اور آپ کو بتایا) پس آپ کنویں پر آۓ اور اس کے منڈیر پر بیٹھ گئے پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس ایک ڈول میں اس کا پانی لاؤ آپ کے پاس پانی لایا گیا آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا پھر دعا کی پھر فرمایا: اس کو تھوڑی دیر چھوڑ دو پھر صحابہ خود بھی پانی سے سیراب ہوۓ اور اپنی سواریوں کو بھی سیراب کیا حتی کہ وہ روانہ ہوۓ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥١)

حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، أَوْ أَكْثَرَ، فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ، فَنَزَحُوهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الْبِئْرَ، وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ قَالَ : " ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا ". فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ، فَدَعَا، ثُمَّ قَالَ : " دَعُوهَا سَاعَةً ". فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ، وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4151

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگ پیاسے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ڈول تھا آپ نے اس سے وضو کیا، پھر لوگوں نے آپ کی طرف منہ کیا۔ پس رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! ہمارے پاس وضوء کرنے کے لیے پانی نہیں ہے اور نہ پینے کے لیے پانی ہے سوا اس پانی کے جو آپ کے ڈول میں ہے تب نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ ڈول میں رکھا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان پانی اس طرح جوش سے نکلنے لگا جیسے چشموں سے نکلتا ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم نے پانی پیا اور وضوء کیا، میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ اس دن کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی تھالیکن ہم پندرہ سو تھے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٢)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَلَا نَشْرَبُ، إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ. قَالَ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ. قَالَ : فَشَرِبْنَا، وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4152

سعید نے قتادہ سے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ (صحابہ) چودہ سو تھے تو مجھ سے سعید نے کہا: مجھے حضرت جابر نے یہ حدیث بیان کی کہ ہم پندرہ سو وہ صحابہ تھے جنہوں نے حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔الصلت کی متابعت ابوداؤد نے کی ہے انہوں نے کہا: ہمیں قرۃ نے حدیث بیان کی از قتادہ کی متابعت محمد بن بشار نے کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوداؤد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٣)

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ : بَلَغَنِي أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ : كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. فَقَالَ لِي سَعِيدٌ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ، كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4153

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ہم سے فرمایا: تم روۓ زمین میں سب سے بہتر ہو اور ہم ایک ہزار اور چارسو تھے اور اگر آج میری بینائی ہوتی تو میں تم کو ( اس ) درخت کی جگہ دکھا تا ۔ اس کی متابعت الاعمش نے کی ہے انہوں نے سالم سے سنا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک ہزار چارسو ( ١٤٠٠) سنا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٤)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ : " أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ". وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الْأَعْمَشُ ، سَمِعَ سَالِمًا ، سَمِعَ جَابِرًا : أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4154

عمرو بن مرۃ نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی انہوں نے بتایا کہ اصحاب الشجرۃ ایک ہزار اور تین سو تھے اور (قبیلہ) اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے ۔ عبیداللہ بن معاذ کی متابعت محمد بن بشار نے کی ہے انہوں نے کہا: ہمیں ابوداؤد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٥)

وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَمِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4155

مرداس اسلمی بیان کرتے ہیں اور وہ اصحاب الشجرۃ میں سے تھے: نیک لوگوں کی روح قبض کی جاتی رہے گی اول پس اول اور تلچھٹ ( بھوسی برادہ ) باقی رہ جاۓ گا جیسے کھجور اور جو کا کچرا ہوتا ہے اللہ ان کی بالکل پرواہ نہیں کرے گا (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٦) اس حدیث میں حفالہ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ہر چیز میں سے بچا ہوا ردی حصہ یعنی کسی چیز کے اصل جو پر نکلنے کے بعد ردی حصہ جیسے آٹا چھاننے کے بعد بھوسی بچ جاتی ہے اسی طرح دنیا سے نیک لوگوں کے چلے جانے کے بعد جو بدکار اور بے کار لوگ باقی رہ جاتے ہیں ان کی اللہ عز وجل بالکل پرواہ نہیں فرماۓ گا ۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ يَقُولُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ : يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4156

مردان اور المسور بن مخرمہ ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار اور چند ( سو ) اصحاب کے ساتھ نکلے سو جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپ نے اپنی قربانی کے جانور میں ہار ڈالا اور اشعار کیا( یعنی اس کے کوہان میں شکاف کیا)اور آپ اس سے محرم ہوگئے، میں شمار نہیں کر سکتا، میں نے یہ کتنی بارسفیان سے سنا ہے حتی کہ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے: مجھے زہری سے اشعار کرنا اور ہار ڈالنا یاد نہیں ہے سو میں اشعار اور قلادہ ڈالنے کی جگہ نہیں جانتا یا پوری حدیث نہیں جانتا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٧،و حدیث نمبر ٤١٥٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَا : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا، لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ، حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ : لَا أَحْفَظُ مِنَ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ. فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ، أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ ؟

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4157/4158

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھا کہ ان کے چہرہ پر جویں گر رہی تھیں آپ نے پوچھا: کیا تمہاری جویں تم کو تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنا سرمونڈ لیں اور وہ اس وقت الحدیبیہ میں تھے اور آپ نے ان سے یہ بیان نہیں کیا کہ وہ اس سے احرام سے باہر آجائیں گے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ مکہ میں داخل ہوں تب اللہ تعالی نے فدیہ دینے کا حکم نازل فرمایا تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ وہ ایک فرق (آٹھ کلوگرام )طعام چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٥٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4159

زید بن اسلم از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار کی طرف نکلا پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک جوان عورت ملی پس اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین! میرا خاوند فوت ہو گیا اور اس نے چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑی ہیں اللہ کی قسم ! اب ان کے پاس بکری کے پاۓ ہیں کہ ان کو پکالیں نہ کھیت ہے نہ دودھ دینے والے جانور ہیں اور مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ فقر اور فاقے سے مرجائیں گے اور میں حضرت خفاف بن ایماء الغفاری کی بیٹی ہوں اور میرے باپ حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے پس حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے ساتھ کھڑے رہے اور آگے نہیں بڑھے پھر فرمایا: نسب قریب کے لیے مرحبا ہو! پھر وہ ایک قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر غلہ سے بھری ہوئی دو بوریاں لاد دیں اور ان بوریوں کے درمیان ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی پھر کہا: اس کو لے جاؤ اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر مال دے دے گا ایک شخص نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ نے تو اس کو بہت زیادہ دے دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ پر تیری ماں روۓ ! اللہ کی قسم! میں اس کے باپ اور بھائی کو دیکھ رہا ہوں انہوں نے ایک مدت تک ایک قلعہ کا محاصرہ کیا تھا پھر اس کو فتح کر لیا تھا، پھر ہم صبح کو اس کے مال فئے سے حصے نکال رہے تھے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٠،و حدیث نمبر ٤١٦١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ، فَقَالَتْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلَكَ زَوْجِي، وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ، مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا ، وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ، وَلَا ضَرْعٌ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ. ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً، وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ، ثُمَّ قَالَ : اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَكْثَرْتَ لَهَا. قَالَ عُمَرُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4160/4161

قتادہ از سعید بن المسیب از والدخود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو دیکھا تھا، پھر بعد میں میں اس کے پاس آیا تو اس کو نہیں پہچان سکا ۔ امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا: محمود نے بتایا کہ پھر بعد میں مجھے وہ درخت بھلا دیا گیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٢) اس درخت سے مراد وہ درخت ہے جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا. قَالَ مَحْمُودٌ : ثُمَّ أُنْسِيتُهَا بَعْدُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4162

طارق بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ میں حج کرنے کے لیے گیا تو میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے میں نے پوچھا: یہ کیسی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کی تھی، پس میں سعید بن المسیب کے پاس گیا پس میں نے ان کو اس کی خبر دی تو سعید نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی تو انہوں نے بتایا: وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اس درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی انہوں نے بتایا: پھر جب ہم اگلے سال گئے تو ہم اس درخت کو بھول گئے اور ہم (اس کو معین کرنے پر) قادر نہ ہوۓ تب سعید نے (طنز) کہا: سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کونہیں جانتے تھے اور تم نے اس درخت کو جان لیا، پس تم صحابہ سے زیادہ جاننے والے ہو! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : انْطَلَقْتُ حَاجًّا، فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ، قُلْتُ : مَا هَذَا الْمَسْجِدُ ؟ قَالُوا : هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ. فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ. قَالَ : فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا. فَقَالَ سَعِيدٌ : إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4163

سعید بن المسیب از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی پھر ہم اگلے سال لوٹے تو وہ درخت ہم سے مخفی ہو گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا طَارِقٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4164

طارق بیان کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب کے سامنے اس درخت کا ذکر کیا گیا تو وہ ہنسے پس انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ان صحابہ میں سے تھے جو حدیبیہ میں حاضر تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٥) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس درخت کو کٹوانے کی توجیہ: حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: سعید بن المسیب نے ان لوگوں پر انکار کیا ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے اس درخت کو دیکھا ہے کیونکہ ان کے والد مسیب نے کہا تھا کہ اگلے سال ہم اس جگہ گئے تو ہم اس درخت کو نہیں پہچان سکے تاہم ان کا قول اس پر دلیل نہیں ہے کہ اس درخت کی معرفت بالکل اٹھالی گئی تھی کیونکہ اس سے پہلے امام بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث روایت کی: اگر آج میں بینا ہوتا تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا۔ (صحیح البخاری:٤١٥٤) پس یہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو اس درخت کی بعینہ جگہ منضبط اور محفوظ تھی اور جب اتناطویل عرصہ گزرجانے کے بعد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو ان کی آخری عمر میں یاد تھا کہ وہ درخت کس جگہ ہے تو اس میں یہ دلیل ہے کہ وہ اس درخت کو بعینہ پہچانتے تھے کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ جس وقت انہوں نے یہ بات کہی تھی اس وقت وہ درخت نہیں رہا تھا یا تو وہ سوکھ کرختم ہو چکا تھا یا کوئی اور وجہ تھی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو ہمیشہ اس درخت کی جگہ یاد تھی پھر مجھے امام محمد بن سعد کی سند صحیح کے ساتھ از نافع از ابن عمر یہ روایت ملی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اس درخت کے پاس جاتے ہیں اور وہاں نماز پڑھتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان لوگوں کو دھمکایا پھر اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا سو اس درخت کو کاٹ دیا گیا۔ (فتح الباری ج ۲۸۲۳۵ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۳) علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ نے بھی درخت کاٹنے کی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۱۷ص۱۲۹۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۱ ) تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ یہ روایت مخدوش ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مزاج اس طرح نہیں تھا انہوں نے تو مقام ابراہیم علیہ السلام کونماز کی جگہ بنانے کا مشورہ دیا تھا سواس کو نماز کی جگہ بنادیا گیا۔ (صحیح البخاری:۵۰۲) اور ان کے صاحب زادے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما مدینہ سے مکہ کے سفر میں لوگوں سے معلوم کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کسی جگہ نماز پڑھی تھی سو جہاں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی وہیں نماز پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری:٤٨٣) سو امام ابن سعد کی یہ روایت صحیح بخاری کی دو حدیثوں کے خلاف ہے اس لیے امام ابن سعد کی سی روایت معلول ہے اس پر عمل کرنا بھی جائز نہیں، چہ جائیکہ اس کو کسی عقیدہ کی بنیاد بنایا جاۓ اور اس درخت سے بڑی نشانیاں موجود ہیں جن کی مسلمانوں نے عبادت نہیں کی جیسے کعبہ اور روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (بحوالہ نعمۃ الباری فی شرح صحيح بخاری حدیث نمبر ٤١٦٥ کی تشریح کے تحت)

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ : ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ، فَضَحِكَ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَكَانَ شَهِدَهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4165

روایت ہے حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہما وہ( بھی )اصحاب الشجرہ میں سے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ صدقہ لے کر آتے تو آپ دعا کرتے: اے اللہ! ان پر رحمت نازل فرما! پھر میرے والد صدقہ لے کر آپ کے پاس آۓ تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت نازل فرما! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٦)

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ". فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4166

عباد بن تمیم بیان کرتے ہیں کہ جب حرہ کا دن تھا اور لوگ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر رہے تھے تو ابن زید نے پوچھا: لوگ ابن حنظلہ سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہیں؟ تو ان کو بتایا گیا کہ موت پر تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے موت پر بیعت نہیں کروں گا اور وہ حدیبیہ میں آپ کے ساتھ حاضر تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٧)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحَرَّةِ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، فَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ : عَلَى مَا يُبَايِعُ ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ ؟ قِيلَ لَهُ : عَلَى الْمَوْتِ. قَالَ : لَا أُبَايِعُ عَلَى ذَلِكَ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَانَ شَهِدَ مَعَهُ الْحُدَيْبِيَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4167

ایاس بن سلمہ بن الاکوع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی اور وہ اصحاب شجرۃ میں سے تھے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ رہے تھے پھر ہم واپس گئے اور اس وقت دیواروں کا سایا نہیں تھا جس میں ہم آرام کرتے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4168

یزید بن ابی عبید وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے پوچھا: آپ نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٦٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ ؟

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4169

العلاء بن المسیب از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ۔ حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے کہا: آپ کو مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحابیت ملی اور آپ نے درخت کے نیچے ان سے بیعت کی، پس انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! بے شک تم نہیں جانتے کہ ہم نے آپ کے بعد کیانئے کام کیے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٠) حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کا انکسار۔ علامہ بدرالدین محمود بن عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں: حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بھتیجے! تم نہیں جانتے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیا نئے نئے کام کیے ہیں حضرت البراء بن عازب نے یہ تواضع اور انکسار سے کہا یا صحابہ کے درمیان آپس میں جو فتنے اور لڑائیاں ہوئیں اس کے اعتبار سے کہا جیسے جنگ جمل اور جنگ صفین ۔ (عمدۃ القاری ج ۷ اس ۲۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۱ھ میں کہتا ہوں کہ حضرت البراء کے اس قول میں ہمارے لیے یہ ہدایت ہے کہ جب کوئی شخص ہماری بہ ظاہر نیکیوں کا ذکر کرے تو ہم اپنی کوتاہوں اور گناہوں کو یادکریں اور اس شخص سے کہیں کہ تم ہمارے اعمال سے واقف نہیں ہو اور اس سے اپنی تعریف سن کر خوش نہ ہوں بلکہ اپنے گناہوں پر اللہ کے عذاب سے ڈریں ۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ : طُوبَى لَكَ ؛ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ. فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4170

Bukhari Sharif Kitabul Magazi Hadees No# 4171

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - هُوَ : ابْنُ سَلَّامٍ - عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4171

شعبہ نے خبر دی از قتادہ از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (اللہ تعالی کا ارشاد ہے:) بے شک ہم نے آپ کے لیے ظاہر فتح مقدر کر دی ہے (الفتح 1) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتح حدیبیہ ہے ان کے اصحاب نے کہا: یہ فتح خوشی خوشی مبارک ہو! اس فتح سے ہمیں کیا ملے گا! تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:تاکہ مؤمنین اور مؤمنات کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے دریا بہتے ہیں ۔ (الفتح ۵ ) شعبہ نے بتایا کہ میں کوفہ آیا تو میں نے یہ پوری حدیث از قتادہ بیان کی پھر میں واپس آیا اور میں نے قتادہ سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا: بے شک ہم نے آپ کے لیے فتح کر دی ہے۔ (الفتح:1) یہ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور رہا یہ قول کرنا:یہ فتح خوشی خوشی مبارک ہو! یہ عکرمہ سے مروی ہے ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٢)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا }. قَالَ : الْحُدَيْبِيَةُ. قَالَ أَصْحَابُهُ : هَنِيئًا مَرِيئًا فَمَا لَنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : { لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ }. قَالَ شُعْبَةُ : فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ، فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ : أَمَّا : { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ }. فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا : هَنِيئًا مَرِيئًا فَعَنْ عِكْرِمَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4172

اسرائیل نے حدیث بیان کی از مجزاءة بن زاہر الاسلمی از والد خود اور وہ ان صحابہ میں سے تھے جو درخت (کے نیچے)حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں گدھے کے گوشت کی پتیلی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اچانک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تم کو گدھوں کے گوشت سے منع فرمارہے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ، قَالَ : إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4173

اور از مجزاءۃ ازان میں سے ایک مرد جو اصحاب شجرۃ سے ہیں ان کا نام احبان بن اوس ہے ان کے گھٹنے میں تکلیف تھی اور وہ جب سجدہ کرتے تو وہ اپنے گھٹنے کے نیچے گدا رکھ لیتے تھے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَعَنْ مَجْزَأَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ : أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4174

سوید بن النعمان سے روایت ہے اور وہ اس درخت(شجرہ بیعت رضوان) کے اصحاب میں سے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس ستو لاۓ گئے، پس انہوں نے اس کو گھول کر پیا۔ ابن ابی عدی کی متابعت معاذ نے کی ہے از شعبہ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلَاكُوهُ. تَابَعَهُ مُعَاذٌ ، عَنْ شُعْبَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4175

ابی جمرۃ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عائذ بن عم و رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سوال کیا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے تھے جو اصحاب شجرۃ تھے( میں نے پوچھا:)کیا وتر کی نماز توڑی جاسکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب تم رات کے اول حصہ میں وتر پڑھ چکے ہوتو پھر تم رات کے آخر حصہ میں وتر نہ پڑھو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ : هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ ؟ قَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ فَلَا تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4176

زید بن اسلم اپنے والد روایت کرتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی سفر میں جارہے تھے اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی رات میں آپ کے ساتھ جار ہے تھے پس حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہیں دیا انہوں نے پھر سوال کیا۔ پس آپ نے اس کا جواب نہیں دیا انہوں نے پھر سوال کیا آپ نے پھر اس کا جواب نہیں دیا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! تجھے تیری ماں روۓ! تو نے رسول اللہ ﷺ سے اصرار کے ساتھ سوال کر کے آپ کو تنگ کیا ہے تو نے رسون اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تین بار سوال کیا اور آپ نے کسی بار تجھ کو جواب نہیں دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اپنے اونٹ کو بھگایا پھر میں مسلمانوں سے آگے نکل گیا اور مجھے یہ خطرہ تھا کہ میرے متعلق قرآن مجید میں کچھ نازل ہوگا ابھی میں کچھ دیر ہی ٹھہرا تھا کہ میں نے سنا ایک چلانے والا میرا نام لے کر چلا رہا تھا میں نے دل میں کہا: مجھے پہلے ہی ڈر تھا کہ میرے متعلق قرآن میں کچھ نازل ہوگا اور میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے پھر آپ نے تلاوت کی: (اے رسول مکرم!) بے شک ہم نے آپ کو روشن فتح عطاءفرمائی ہے (الفتح:1) (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٧)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ. قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ، وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، قَالَ : فَقُلْتُ : لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ، وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ". ثُمَّ قَرَأَ : { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4177

سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے زہری سے سنا جب انہوں نے یہ حدیث بیان کی تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا از عروه بن الزبیر از المسور بن مخرمہ ومروان بن الحكم ان میں سے ایک اپنے صاحب سے اضافہ کرتا تھا ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار اور چند سو اصحاب کے ساتھ نکلے پس جب آپ ذوالحلیفہ پر پہنچے تو آپ نے ھدی کو قلادہ ڈالا اور اس میں اشعار کیا اور عمرہ کا احرام باندھ لیا اور قبیلہ خزاعہ سے اپنا ایک جاسوس بھیجا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے جب آپ قبیلہ الاشظاظ پر پہنچے تو آپ کے پاس آپ کا جاسوس آیا اور اس نے بتایا کہ قریش نے آپ سے مقابلہ کے لیے مختلف قبیلوں کی جماعت تیار کر لی ہے اور وہ آپ سے جنگ کریں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے اور آپ کو منع کر یں گے آپ نے فرمایا: اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کیا یہ مناسب ہوگا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے ہمارے جاسوس کو مشرکین سے محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلہ پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک شکست خوردہ جماعت سمجھ کر چھوڑ دیں گے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ! آپ تو صرف اس بیت اللہ کا قصد کر کے نکلے ہیں آپ کا ارادہ کسی کوقتل کرنے کا ہے نہ کسی کے ساتھ جنگ کرنے کا ہے تو آپ اس کا قصد کریں پس جس نے ہم کو بیت اللہ سے روکا ہم اس سے لڑیں گے آپ نے فرمایا: پھر تم اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٧٨،و حدیث نمبر ٤١٧٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَا : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ، قَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ، وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَمَانِعُوكَ. فَقَالَ : " أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ، وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ، وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ. قَالَ : " امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4178/4179

عروہ بن الزبیر نے خبر دی انہوں نے مروان بن الحکم اور حضرت المسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عمرہ حدیبیہ کی خبر دی عروہ نے ان دونوں سے جو خبر دی ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو کے لیے ایک مدت تک صلح کا معاہدہ لکھا اور اس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط لگائی کہ ہمارے پاس سے جو شخص بھی آۓ خواہ وہ آپ کے دین پر ہو آپ کو اسے ہماری طرف واپس کرنا ہوگا اور ہمارے اور اس کے درمیان تخلیہ کرنا ہو گا اور سہیل بن عمرو نے اس شرط کے بغیر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کرنے سے انکار کر دیا مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور ان پر یہ شرط سخت دشوار تھی انہوں نے اس کے خلاف گفتگو کی جب سہیل نے انکار کر دیا کہ وہ اس شرط کے بغیر صلح نہیں کرے گا تو رسول اللہ ﷺ نے معاہد لکھ دیا پس اس دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابوجندل بن سہیل کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کی طرف واپس کر دیا اور اس مدت کے دوران جوشخص بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اس کو واپس کر دیتے خواہ وہ مسلمان ہو اور ہجرت کرنے والی مسلمان عورتیں آ ئیں، پس حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ان خواتین میں سے تھیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف نکلیں اور وہ اس وقت نوجوان تھیں تو ان کے گھر والے رسول اللہ ﷺ کے پاس آۓ کہ آپ ان کو واپس کریں حتی کہ اللہ تعالی نے مومن عورتوں کے متعلق وہ آیت نازل کی جو نازل کی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٠،و حدیث نمبر ٤١٨١)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ : لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ. وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ، وَامَّعَضُوا، فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4180/4181

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ بیان کرتی ہیں کہ جو مؤمن عورتیں ہجرت کرکے آتی تھیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس آیت کی وجہ سے ان کا امتحان لیتے تھے: اے نبی! جب آپ کے پاس ایمان والی عورتیں حاضر ہوں کہ وہ آپ سے بیعت کریں (الممتحنہ:۱۲) اور ان کے چچا بیان کرتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسول نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کے مشرکین (شوہروں) کو وہ سب کچھ واپس کر دیا جاۓ جو وہ اپنی بیویوں کو دے چکے ہیں اور ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابوبصیر...... پھر ان کی طویل حدیث ذکر کی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٢)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ : { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ }. وَعَنْ عَمِّهِ قَالَ : بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ. فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4182

ہمیں قتبیہ نے حدیث بیان کی از مالک از نافع کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ایام فتنہ میں عمرہ کرنے کے لیے نکلے انہوں نے کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم اس طرح کریں گے جس طرح ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پس انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، فَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4183

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: انہوں نے احرام باندھا اور کہا: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہوئی تو میں اس طرح کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جب کفار قریش بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے اور یہ آیت تلاوت کی: بے شک تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے ۔ (الاحزاب ٢١ ) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَهَلَّ، وَقَالَ : إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ. وَتَلَا : { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4184

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ( بن عمر) رضی اللہ تعالٰی عنہما کے کسی بیٹے نے ان کو مشورہ دیا کہ اگر آپ اس سال ٹھہر جائیں کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے پس کفار قریش بیت اللہ کے سامنے حائل ہو گئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانوروں کو نحر کیا اور سرمنڈایا اور آپ کے اصحاب نے قصر کیا بال کاٹے اور حضرت عبداللہ نے کہا: میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو واجب کر لیا ہے اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان تخلیہ ہوا تو میں طواف کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہوئی تو میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر وہ تھوڑی دیر چلے پھر کہا: میری رائے یہ ہے کہ حج اور عمرہ کے افعال ایک جیسے ہیں، میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو واجب کر لیا ہے سو انہوں نے ایک قسم کا طواف کیا اور (ایک قسم کی سعی کی حتی کہ دونوں سے احرام کھول دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ : لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ ؛ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ. قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ، وَحَلَقَ، وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ : مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي. فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعْيًا وَاحِدًا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4185

نافع بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے تھے حالانکہ اس طرح نہیں ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے دن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا جو کہ انصار کے ایک مرد کے پاس تھا تاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہوکر لڑائی میں شریک ہوں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ درخت کے پاس بیعت کر رہے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا نہیں تھا۔ پس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے آپ سے بیعت کرلی پھر وہ گھوڑے کی طرف گئے اور اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آۓ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ لڑنے کے لیے ہتھیار اور زرہ سنبھال رہے تھے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی پس یہ ہے وہ سبب جس کی وجہ سے لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ درخت کے سایوں میں منتشر ہو گئے پس اچا نک لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گھیر کر آپ کو دیکھ رہے تھے پس حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبداللہ ! دیکھو کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گھیر کر دیکھ رہے ہیں، پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں، پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کرلی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی طرف گئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے بیعت کی۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٦،و حدیث نمبر ٤١٨٧)

حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِكَ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ : فَانْطَلَقَ، فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ. 4187 وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوا فِي ظِلَالِ الشَّجَرِ فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ، فَبَايَعَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ، فَخَرَجَ، فَبَايَعَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4186/4187

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عمرہ (قضاء) کیا تو ہم آپ کے ساتھ تھے پس آپ نے طواف کیا تو ہم نے آپ کے ساتھ طواف کیا اور جب آپ نے نماز پڑھی تو ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے صفا اور مردہ کے درمیان سعی کی تو ہم نے بھی سعی کی ہم آپ کی اہل مکہ سے حفاظت کر رہے تھے مبادا آپ کو کوئی تکلیف پہنچے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ فَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4188

ابوحصین نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ جب حضرت سہل بن حنیف (جنگ) صفین سے واپس آۓ تو ہم ان کے حالات معلوم کرنے کے لیے آۓ انہوں نے کہا: تم(میرے متعلق) اپنی راۓ پر تہمت لگاؤ کیونکہ میں نے (حدیبیہ میں) حضرت ابوجندل کے دن اپنے آپ کو دیکھا اور اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم کو رد کر سکتا تو اس دن رد کر دیتا اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ ہم نے جب بھی کسی مشکل کام کے لیے اپنی تلواروں کو اپنے کندھوں پر رکھا تو وہ کام ہمارے لیے آسان ہو گیا لیکن اس ( جنگ صفین ) کا حال یہ ہے کہ ہم اس کی ایک جانب فتنہ کو بند کرتے ہیں تو وہ فتنہ کسی دوسری جانب سے پھٹ جاتا ہے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم اس معاملہ کو کس طرح حل کریں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٨٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَصِينٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : لَمَّا قَدِمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ مِنْ صِفِّينَ أَتَيْنَاهُ نَسْتَخْبِرُهُ، فَقَالَ : اتَّهِمُوا الرَّأْيَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ لَرَدَدْتُ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ قَبْلَ هَذَا الْأَمْرِ مَا نَسُدُّ مِنْهَا خُصْمًا إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا خُصْمٌ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَأْتِي لَهُ ؟

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4189

کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں میرے پاس آۓ اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: تم اپنا سرمنڈالو اور تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک قربانی کردو ۔ راوی ایوب نے کہا: مجھے پتا نہیں انہوں نے کس چیز سے ابتداء کی۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٩٠)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : " فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". قَالَ أَيُّوبُ : لَا أَدْرِي بِأَيِّ هَذَا بَدَأَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4190

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم ( حالت احرام میں ) تھے اور مشرکین نے ہم کو روک لیا تھا اور میرے ( کانوں تک بڑے بال تھے پس جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں سو ( اس وقت میرے پاس سے نبی کریم صلی اللّٰہ گزرے آپ نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچارہی ہیں میں نے عرض کیا: جی ہاں! اور یہ آیت نازل ہوئی: پھر جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو اس پر (سرمونڈنے) کا فدیہ ہے روزے یا صدقہ خیرات یا قربانی۔(البقرہ:۱۹۷) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ،حدیث نمبر ٤١٩١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ، قَالَ : وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ ، فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4191

عکل اور عرینہ کا قصہ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ مدینہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور انہوں نے اسلام لانے کے متعلق باتیں کیں، پس انہوں نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم دودھ دوہنے والے ہیں اور کاشتکاری کرنے والے نہیں ہیں اور مدینہ کی آب ہوا ان کو موافق نہیں آئی سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں اور ان کے محافظوں کے ساتھ رہیں اور ان کی طرف نکلیں، پس اونٹنیوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں سو وہ چلے گئے حتی کہ جب وہ سیاہ پتھریلی زمین پر پہنچے تو انہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرواہے کوقتل کر دی اور اونٹنیوں کو ہنکا کر لے گئے، پس یہ خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچی لہٰذا آپ نے ان کو تلاش کرنے کے لیے صحابہ کو بھیجا (ان کو پکڑ کر لایا گیا آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو صحابہ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے اور انہیں سیاہ پتھریلی زمین کی طرف چھوڑ دیاحتی کہ وہ اسی حال میں مر گئے قتادہ نے کہا: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا: اور شعبہ اور ابان اور حماد نے از قتادہ بیان کیا: عرینہ ہے ۔ اور یحیی بن ابی کثیر اور ایوب نے کہا از ابی قلابہ از حضرت انس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ عکل سے ایک جماعت آئی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ،حدیث نمبر ٤١٩٢)

بَابٌ : قِصَّةُ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ. حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ، وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ. وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ، وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ، فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ، وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ. قَالَ قَتَادَةُ : بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ يَحُثُّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ . وَقَالَ شُعْبَةُ ، وَأَبَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ : مِنْ عُرَيْنَةَ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4192

ایوب اور الحجاج الصواف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابو رجاء جو ابوقلابہ کے آزاد کردہ غلام ہیں انہوں نے حدیث بیان کی اور وہ ان کے ساتھ شام میں تھے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن لوگوں سے مشورہ کیا کہ تم اس قسامت کے متعلق کیا کہتے ہو؟ لوگوں نے کہا: یہ حق ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا ہے اور آپ سے پہلے خلفاء نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ راوی نے کہا: اور ابوقلابہ ان کے تخت کے پیچھے تھے پس عنبہ بن سعید نے کہا: پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عرینیین کے متعلق جو حدیث ہے اس کا کیا ہوگا؟ تو ابوقلابہ نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خود مجھ سے یہ بیان کیا ہے عبدالعزیز بن حبیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف عرینہ کا ذکر کیا اور ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں عکل کا ذکر کیا اور قصہ بیان کیا ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ،حدیث نمبر ٤١٩٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ - مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، وَكَانَ مَعَهُ بِالشَّأْمِ - أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ اسْتَشَارَ النَّاسَ يَوْمًا، قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقَسَامَةِ ؟ فَقَالُوا : حَقٌّ قَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَضَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ قَبْلَكَ. قَالَ - وَأَبُو قِلَابَةَ خَلْفَ سَرِيرِهِ - فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ : فَأَيْنَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْعُرَنِيِّينَ ؟ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : إِيَّايَ حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ : مِنْ عُرَيْنَةَ. وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : مِنْ عُكْلٍ، ذَكَرَ الْقِصَّةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4193

غزوة ذی قرد یہ غزوہ ان کے خلاف ہے جو غزوہ خیبر سے تین سال پہلے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لوٹ کر لے گئے تھے۔ یزید بن ابی عبید وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ میں پہلی اذان دی جانے سے پہلے نکلا اور رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں مقام ذی قرد میں چر رہی تھیں پھر مجھے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام ملا سو اس نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو لوٹ لیا گیا میں نے پوچھا: کس نے لوٹا ہے؟ تو اس نے کہا: غطفان نے انہوں نے کہا: حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر میں نے تین مرتبہ زور سے پکارا: یا صباحاہ! پس میں نے مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان والوں تک اپنی آواز پہنچادی پھر میں اپنے منہ کی سیدھ میں دوڑا حتیٰ کہ کہ ان کو جالیا اس وقت وہ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے پھر میں نے ان پر تیر مارنے شروع کر دیئے اور میں مشہور تیر مارنے والا تھا اور میں یہ رجزیہ شعر پڑھ رہا تھا: ” میں ابن الاکوع ہوں آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں اسی طرح رجز پڑھتارہا حتیٰ کہ ان سے اونٹنیاں چھڑالیں اور ان کی تیس چادروں پر بھی قبضہ کر لیا حضرت سلمہ نے بتایا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی صحابہ کے ساتھ پہنچ گئے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے ان لوگوں کو پانی سے دور رکھا ہے اور یہ پیاسے ہیں ابھی ان کو گرفتار کرنے کے لیے فوج بھیج دیجئے آپ نے فرمایا: اے ابن الاکوع ! جب تم نے ان پر قابو پالیا ہے تو پھر نرمی اختیار کرو حضرت سلمہ نے بتایا کہ پھر ہم واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھالیا حتیٰ کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ،حدیث نمبر ٤١٩٤)

بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ، وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ : خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، قَالَ : فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ : أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ : مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ : غَطَفَانُ. قَالَ : فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ، يَا صَبَاحَاهْ . قَالَ : فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي، حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ : أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً، قَالَ : وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ. فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ". قَالَ : ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4194

غزوہ خیبر یحییٰ بن سعید از بشیر بن بیسار وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سوید بن النعمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ وہ خیبر کے سال نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتی کہ جب ہم مقام الصباء پر پہنچے اور یہ جگہ خیبر کے زیادہ قریب ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ نے سفر کا طعام منگایا تو صرف ستو لاۓ گئے پھر ان کو آپ کے حکم سے پانی یا گھی میں تر کیا گیا۔ پھر آپ نے وہ ستو کھاۓ اور ہم نے بھی کھاۓ پھر آپ نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوۓ پس آپ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤١٩٥)

بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَثُرِّيَ ، فَأَكَلَ، وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ، وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4195

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے سو ہم رات کو سفر کرتے رہے پس لوگوں میں سے ایک مرد نے حضرت عامر سے کہا: اے عامر! کیا آپ ہمیں اپنے رجزیہ کلام سے کچھ اشعار نہیں سناتے! اور حضرت عامر شاعر مرد تھے وہ اونٹوں کے لیے پڑھنے والے اشعار (ترنم سے) سنانے لگے: اے اللہ! اگر تو ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے اور نہ نماز پڑھتے سوتو ہماری مغفرت فرما جب تک ہم زندہ ہیں تیری راہ میں فدا ہیں اگر ہمارا دشمنوں سے مقابلہ ہوتو تو ہم کو ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکون نازل فرما بے شک جب ہمیں جہاد کے لیے بلایا جاتا ہے تو ہم حاضر ہو جاتے ہیں اور وہ بلند آواز سے ہمیں پکار کر مددطلب کر رہے ہیں۔ تب رسول رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ اونٹوں کو چلانے والا کون ہے؟ صحابہ نے بتایا: یہ حضرت عامر بن الاکوع ہیں آپ نے دعا کی: اللہ اس پر رحم فرماۓ لوگوں میں سے ایک مرد نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کی دعا قبول ہوگئی آپ نے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کیوں نہیں دیا! پس ہم خیبر پر آئے اور ہم نے ان کا محاصرہ کر لیا حتی کہ ہمیں سخت بھوک لگ گئی پھر اللہ تعالی نے ہمارے لیے خیبر فتح کر دیا، جس دن خیبر فتح ہوا تھا اس دن شام کو صحابہ نے جگہ جگہ آگ جلائی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیسی آگ ہے اور تم کس چیز پر آگ جلا رہے ہو؟ صحابہ نے بتایا: گوشت پر آپ نے پوچھا: کون سے گوشت پر؟ صحابہ نے بتایا: پالتو گدھوں کے گوشت پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتیلیاں الٹا دو اور ان کو توڑ دو ایک مرد نے کہا: یارسول اللہ ! یا ہم ایسا کریں کہ ہم ان پتیلیوں کو الٹ دیں اور ان کو دھولیں؟ آپ نے فرمایا: یا اس طرح کر لو صحابہ نے جب جنگ کی صف بندی کی تھی تو حضرت عامر کی تلوار چھوٹی تھی وہ ایک یہودی کی پنڈلی پر تلوار سے وار کرنے کے لیے جھکے تو تلوار کی نوک پلٹ کر حضرت عامر کے عین گھنٹے پر لگی اس وار سے وہ شہید ہو گئے پس جب لشکر واپس جا رہا تھا۔ سلمہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا اور اس وقت آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوۓ تھے آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: آپ پر میرے باپ اور ماں قربان ہوں! لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ حضرت عامر کے اعمال ضائع ہو گئے کیونکہ ان کی موت ان کی اپنی تلوار کے وار سے ہوئی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یہ بات کہی ہے وہ جھوٹا ہے بے شک اس کے لیے دو اجر ہیں آپ نے اپنی انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: بے شک وہ ضرور مشقت اٹھانے والے مجاہد ہیں عربوں میں بہت کم ان کی طرح چلنے والے ہیں۔ ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حاتم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ عربوں میں کوئی عامر کی مثل پیدانہیں ہوا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤١٩٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ : يَا عَامِرُ، أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ؟ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟ " قَالُوا : عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ. قَالَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ ". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ. فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ " قَالُوا : عَلَى لَحْمٍ. قَالَ : " عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟ " قَالُوا : لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوهَا، وَاكْسِرُوهَا ". فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا، وَنَغْسِلُهَا ؟ قَالَ : " أَوْ ذَاكَ ". فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ، فَمَاتَ مِنْهُ. قَالَ : فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي، قَالَ : " مَا لَكَ ؟ " قُلْتُ لَهُ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبَ مَنْ قَالَهُ ؛ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ - وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ - إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ". حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ قَالَ : نَشَأَ بِهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4196

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر میں پہنچے اور جب آپ کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو اس پر اس وقت تک حملہ نہیں کرتے تھے جب تک کہ صبح نہ ہو جاۓ پس جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی کلہاڑیاں اور ٹوکریاں لے کر نکلے جب یہودیوں نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے کہا: محمد ! اللہ کی قسم! محد لشکر کے ساتھ آۓ ہیں تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیبر برباد ہو گیا! ہم جب کسی قوم کے صحن میں ٹہرتے ہیں تو جن لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے ان کی صبح خراب ہو جاتی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤١٩٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى خَيْبَرَ لَيْلًا وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتِ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ ، وَمَكَاتِلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ ؛ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4197

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت خیبر پہنچے اس وقت وہاں کے لوگ کھالیں اٹھاۓ ہوۓ آرہے تھے پس جب انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے کہا: محمد ! اللہ کی قسم ! محمد لشکر کے ساتھ آ رہے ہیں تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا! بے شک جب ہم کسی قوم کے صحن میں ٹھہرتے ہیں تو جن کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے ان کی صبح خراب ہو جاتی ہے پس ہم نے گدھوں کا گوشت پالیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ بے شک اللہ اور اس کا رسول تم کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں کیونکہ وہ نجس ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤١٩٨)

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : صَبَّحْنَا خَيْبَرَ بُكْرَةً، فَخَرَجَ أَهْلُهَا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". فَأَصَبْنَا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ؛ فَإِنَّهَا رِجْسٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4198

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس ایک آنے والا آیا پس اس نے کہا: گدھوں کا گوشت کھایا گیا ہے آپ خاموش رہے پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا پس اس نے کہا: گدھوں کا گوشت کھایا گیا ہے پس آپ خاموش رہے پھر وہ تیسری بار آیا اور اس نے کہا: گدھے ختم ہو گئے تو آپ نے منادی کو حکم دیا اس نے لوگوں میں نداء کی کہ بے شک اللہ اور اس کے رسول تم کو پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرماتے ہیں: پس پتیلیاں الٹ دی گئیں حالانکہ اس وقت ان میں گوشت ابل رہا تھا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤١٩٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ. فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ. فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ : أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ. فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ . فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4199

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے قریب منہ اندھیرے صبح کی نماز پڑھی پھر آپ نے کہا: اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا! بے شک جب ہم کسی قوم کے صحن میں ٹہرتے ہیں تو جن لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے ان کی صبح خراب ہو جاتی ہے پھر خیبر کے لوگ گلیوں میں دوڑتے ہوۓ نکلے پس نبی ﷺ نے لڑنے والوں کو قتل کر دیا اور بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا اور قیدیوں میں حضرت صفیہ بھی تھیں پس وہ حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئیں، پھر وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف آ گئیں تو آپ علیہ السلام نے ان کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیا پس عبدالعزیز بن صہیب نے ثابت سے کہا: اے ابومحمد ! کیا تم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ نے ان کو مہر میں کیا دیا تھا؟ تو ثابت نے اثبات میں سر ہلا کر ان کی تصدیق کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٠)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ. 4200 ( م ) وَكَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، آنْتَ قُلْتَ لِأَنَسٍ : مَا أَصْدَقَهَا ؟ فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4200

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو قید کیا پھر ان کو آزادکر کے ان سے نکاح کر لیا پھر ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے بتایا: ان کا مہر ان کا نفس تھا پس آپ نے ان کو آزاد کر دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠١)

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَأَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا، فَأَعْتَقَهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4201

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، پس دونوں نے جنگ کی پس جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کی طرف آۓ اور دوسرے لوگ اپنے لشکر کی طرف گئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں ایک ایسا مرد تھا جو کسی کوقتل کیے بغیر نہیں چھوڑتا تھا خواہ تنہا ہو یا اکیلا ہو وہ اس کا پیچھا کرتا اور اس کو اپنی تلوار سے قتل کر دیتا پس کہا گیا: آج اس سے زیادہ جزاء کسی کونہیں ملے گی جیسی جزاء فلاں کو ملے گی تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا وہ سو وہ تو اہل دوزخ میں سے ہے پس صحابہ میں سے ایک مرد نے (دل میں ) کہا: میں اس کے ساتھ رہوں گا۔ پس وہ اس کے ساتھ نکلے جب وہ شخص ٹہرتا تو یہ بھی ٹھہر جاتے اور جب وہ بھاگتا یہ بھی اس کے ساتھ بھاگتے انہوں نے بتایا کہ وہ شخص بہت شدید زخمی ہو گیا سو اس نے موت کو جلدی طلب کیا اس نے اپنی تلوار کو زمین پر رکھا اور تلوار کی نوک اپنے دو پستانوں کے درمیان رکھی پھر اس نے اپنے آپ کو تلوار پر گرا دیا اور اپنے آپ کو قتل کر دیا پھر وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آۓ پس کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ تو اس صحابی نے بتایا کہ جس شخص کے متعلق ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے تو لوگوں پر آپ کا یہ ارشاد بہت شاق گزرا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ میں آپ لوگوں کو اس کی خبر دوں گا' سو میں اس کی طلب میں نکلا پھر وہ شخص بہت شدید زخمی ہو گیا۔ اس نے موت کو جلدی طلب کیا اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور اس کی نوک اپنے دو پستانوں کے درمیان رکھی پھر اپنے آپ کو اس پر گرا دیا۔ پس اس نے اپنے آپ کو قتل کر دیا پھر اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مردلوگوں کے سامنے اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک مرد لوگوں کے سامنے اہل دوزخ کے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٢) خودکشی کرنے والے مرد کا نام جس صحابی نے اس کا پیچھا کیا اس کا نام اور خودکشی کرنے والے کے دوزخی ہونے کی توجیہ، مسلمان خودکشی کرنے والے کا حکم! علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کی طرف آۓ : یعنی اس دن آپ جب جنگ سے فارغ ہو گئے تو اپنے لشکر کی طرف آئے۔ اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں ایک مرد تھے: ان کا نام قزمان الظفری انصاری تھا ان کی کنیت ابوالغیداق تھی وہ کسی شاذۃ اور فاذۃ کو نہیں چھوڑتا تھا: اس میں تاء مبالغہ کی ہے جیسے علامہ میں ہے اس سے مراد ہے: خواہ وہ بڑا آدمی ہو یا چھوٹا' دوسرا قول یہ ہے کہ شاذہ سے مراد ہے جو لشکر سے خارج ہو اور غازہ سے مراد ہے: منفرد ۔ صحابہ میں سے ایک مرد نے کہا: میں اس کے ساتھ رہوں گا۔ ان کا نام اکثم بن ابی الجون تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۷ ص ۳۲۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۱) علامہ ابن ملقن نے لکھا ہے: اس شخص نے اپنے آپ کوقتل کرنا جائز سمجھا تھا سو وہ کافر ہو گیا دوسرا قول یہ ہے کہ امام بیہقی نے لکھا ہے: شارع علیہ السلام کو علم تھا کہ وہ منافق ہے ۔ (دلائل النبوت ج ٤،ص ٢٥٤)(التوضيح لشرح الجامع صحیح ج ٢١،ص ٣٦٠،وزارة الاوقاف قطر ۱۳۲۹ھ) میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی مسلمان خودکشی کرے جب کہ وہ اس کو ناجائز اور گناہ سمجھتا ہوتو یہ گناہ کبیرہ ہے کفر نہیں ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے گا اور اس کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے البتہ اس کی نماز جنازہ کوئی عام مسلمان پڑھادے اور کوئی بڑا عالم دین اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاۓ (نعمۃ الباری فی شرح بخاری حدیث نمبر ٤٢٠٢ کی تشریح کے تحت،)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ، وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ : مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا صَاحِبُهُ. قَالَ : فَخَرَجَ مَعَهُ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ : فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ : أَنَا لَكُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خیبر میں حاضر ہوۓ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے متعلق فرمایا جو اسلام کا مدعی تھا کہ یہ اہل دوزخ میں سے ہے جب جنگ شروع ہوئی تو اس مرد نے زبردست قتال کیا حتی کہ اس کے زخم بہت زیادہ ہو گئے پس قریب تھا کہ بعض لوگ شک میں پڑ جاتے، پس اس مرد کو زخم سے بہت تکلیف ہوئی اس نے اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اس میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنا گلا کاٹ لیا پس مسلمان مرد دوڑتے ہوۓ آۓ سو انہوں نے کہا: یارسول اللہ! اللہ نے آپ کی بات پکی کر دی فلاں مرد نے تیر سے اپنا گلا کاٹ کر خود کوقتل کر دیا آپ نے فرمایا: اے فلاں! کھڑے ہو کر یہ اعلان کرو کہ جنت میں صرف مؤمن داخل ہو گا اور اللہ تعالی فاجر مرد سے بھی دین کی تائید کر دیتا ہے۔شعیب کی متابعت معمر نے کی ہے از الزہری ۔ اور شعیب نے کہا از یونس از ابن شهاب: مجھے ابن المسیب اور عبدالرحمان بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں حاضر ہوۓ۔ اور ابن المبارک نے کہا از یونس از الزہری از سعید از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ ابن المبارک کی متابعت صالح نے کی ہے از الزہری۔ اور الزبیدی نے کہا: مجھے زہری نے خبر دی کہ ان کو عبدالرحمن بن کعب نے خبر دی کہ عبید اللہ بن کعب نے کہا: مجھے انہوں نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں حاضر تھے ۔ الزہری نے کہا: اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید نے خبر دی از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ,حدیث نمبر ٤١٠٣،و حدیث نمبر ٤٢٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : شَهِدْنَا خَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ : " هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ". فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ، حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا، فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ ؛ انْتَحَرَ فُلَانٌ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ. فَقَالَ : " قُمْ يَا فُلَانُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ". تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . 4204 وَقَالَ شَبِيبٌ : عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا. وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. تَابَعَهُ صَالِحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَعِيدٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4203/4204

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں گئے یا کہا: جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کی طرف متوجہ ہوۓ تو صحابہ ایک وادی کے قریب ہوۓ پس انہوں نے بلند آواز سے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے نفسوں کے ساتھ نرمی کرو تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ غائب کو تم سنے والے قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا آپ نے میری آواز سنی اور میں اس وقت کہہ رہا تھا: گناہوں سے پھرنے اور نیک کام کرنے کی طاقت اللہ تعالی کی مدد کے بغیر نہیں ہے آپ نے مجھے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! میں نے کہا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ!تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تم کو وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! یا رسول اللہ! آپ پر میرے باپ اور ماں قربان ہوں آپ نے فرمایا: (وہ کلمہ:) "لاحول ولا قوة الا باللہ“ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، أَوْ قَالَ : لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا، وَهُوَ مَعَكُمْ ". وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. فَقَالَ لِي : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ". قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4205

یزید بن ابی عبید نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ کی پنڈلی میں ضرب کا نشان دیکھا میں نے پوچھا: اے ابومسلم ! یہ کیسی ضرب ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے بھی ضرب لگی تھی، لوگوں نے کہا کہ سلمہ زخمی ہو گیا سو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس پر تین مرتبہ لعاب دہن ڈالا پس اس وقت سے اب تک )اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٦)

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ. فَقَالَ النَّاسُ : أُصِيبَ سَلَمَةُ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4206

حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی غزوہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مشرکین سے مقابلہ ہوا پس دونوں نے قتال کیا، پھر ہر فریق اپنے لشکر کی طرف آ گیا اور مسلمانوں میں ایک مرد تھا جو کسی مشرک کو نہیں چھوڑتا تھا خواہ وہ لشکر سے خارج ہو یا منفرد ہو وہ اس کا پیچھا کر کے اس پر تلوار سے وار کرتا پس کہا گیا: یا رسول اللہ ! کسی شخص کو اتنی جزا نہیں ملے گی جتنی جزاء فلاں کو ملے گی تب آپ نے فرمایا: وہ اہل دوزخ میں سے ہے تب صحابہ نے کہا: اگر وہ اہل دوزخ میں سے ہے تو پھر ہم میں سے کون اہل جنت میں سے ہوگا! مسلمانوں میں سے ایک مرد نے کہا: میں ضرور اس کا تعاقب کروں گا پس جب وہ دوڑتا اور آہستہ چلتا تو میں اس کے ساتھ ساتھ ہوتا حتی کہ وہ زخمی ہو گیا پھر اس نے اپنی موت کو جلدی طلب کر لیا' اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور اس کی نوک اپنے دو پستانوں کے درمیان رکھی پھر اس نے اپنے آپ کو اس تلوار پر ڈال دیا سواپنے نفس کو قتل کر دیا پھر وہ مرد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا پس کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس مرد نے آپ کو اس کا ماجرا سنایا آپ نے فرمایا: ایک مرد لوگوں کے سامنے اہل جنت کے عمل کرتا ہے اور وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک مردلوگوں کے سامنے اہل دوزخ کے عمل کرتا ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ : الْتَقَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَاقْتَتَلُوا، فَمَالَ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا، فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجْزَأَ أَحَدُهُمْ مَا أَجْزَأَ فُلَانٌ. فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ". فَقَالُوا : أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : لَأَتَّبِعَنَّهُ، فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنْتُ مَعَهُ. حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4207

ابی عمران بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کی طرف دیکھا کہ (ان کے سروں پر ) چادریں ہیں انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اس وقت خیبر کے یہودیوں کی طرح ہیں ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٨) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ طیالسۃ کا معنی ہے: زردرنگ کی چادر اور اسی رنگ کی وجہ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان چادروں پر انکار فرمایا۔( فتح الباری ج ۵ ۱۳۰۵ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۲ھ ) زردرنگ کی چادر کے مسئلہ میں علامہ عینی اور علامہ ابن حجر کا مناقشہ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے زرد چادروں پر اس لیے انکار فرمایا کہ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے اور یہودیوں کے ساتھ تشبہ ممنوع ہے اور اس کا ادنی درجہ کراہت ہے۔ امام ابن خزیمہ اور امام ابونعیم کی روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے مسجد میں بہ کثرت زرد چادریں صرف خیبر کے یہودیوں کے اوپر دیکھی ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ اس سے زرد چادروں کے پہنے کی کراہت لازم نہیں آتی ۔(فتح الباری ج ٥،ص ٣٠٥) علامہ عینی فرماتے ہیں : ہم اس کو نہیں مانتے کیونکہ اگر اس سے کراہت لازم نہ آتی تو پھر اس کو یہودیوں کے ساتھ تشبیہ دینے کا کیا فائدہ ہے؟ حافظ ابن حجر نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت انس نے صرف چادروں کے رنگ پر انکار فرمایا۔ (فتح الباری ج۵ ص۳۰۵ ) علامہ عینی فرماتے ہیں کہ اس کا معتمد علماء میں سے کون قائل ہے؟ اور کس نے یہ کہا ہے کہ اس زمانہ میں یہود زرد رنگ کی چادر استعمال کرتے تھے؟ اور اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ وہ زرد چادریں تھیں تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے زرد رنگ کی چادروں کی وجہ سے ان کو خیبر کے یہودیوں کے ساتھ تشبیہ نہیں دی کیونکہ امام طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ورس اور زعفران میں رنگی ہوئی چادر تھی جس کو پہن کر آپ اپنی ازواج کے پاس جاتے تھے اور امام طبرانی نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے یہ بھی روایت کی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی چادر کو یا اپنے تہبند کو زعفران یا ورس کے ساتھ رنگ لیتے اور وہ پہن کر باہر جاتے۔ (عمدۃ القاری ج ۱۷ص٣٢٣ تا ٣٢٤،دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۱ ) میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی نے یہ تو لکھا ہے کہ وہ چادریں زرو نہیں تھیں اور زرد چادروں کا پہنا ممنوع نہیں ہے لیکن یہ بیان نہیں کیا کہ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو خیبر کے یہودیوں کے ساتھ کیوں تشبیہ دی اور ان کے انکار کی کیا وجہ تھی! علامہ احمد بن اسماعیل کورانی حنفی متوفی ۸۹۳ ھ لکھتے ہیں: لوگوں نے ان چادروں سے اپنے عماموں کو چھپایا ہوا تھا' اس وجہ سے حضرت انس نے ان پر انکار فرمایا۔ ( الکوثر الجاری ج ٧،ص ٢٦٤، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳۷۰) گویا یہاں چادروں کے رنگ کا مسئلہ نہیں تھا جیسا کہ حافظ ابن حجر نے سمجھا ہے اور علامہ عینی نے دلائل سے ثابت کر دیا کہ زردارنگ کی چادر اور تہبند نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کراہت کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان لوگوں نے خیبر کے یہودیوں کی طرح اپنے عماموں کو چادروں سے چھپایا ہوا تھا جیسا کہ علامہ کورانی نے بیان فرمایا ہے۔ شیخ سلیم اللہ خان کی غلط شرح شیخ سلیم اللہ خان نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: یہ ایک خاص قسم کی سیاہ چادرتھی جو یہود استعمال کرتے تھے اس لیے حضرت انس کو یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوئی کہ ان کے ساتھ مسلمان مشابہت کریں۔ ( کشف الباری ( کتاب المغازی ) ص ٤٢٧ تا ٤٢٨،مکتبہ فاروقیہ کراچی ) میں کہتا ہوں کہ شیخ سلیم اللہ خان کا یہ کہنا غلط ہے کہ سیاہ رنگ کی چادر کی وجہ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان پر انکار فرمایا۔ امام ترمذی نے کتاب الادب میں یہ عنوان قائم کیا ہے: باب ما جاء في الثوب الاسود یعنی سیاہ کپٹروں کے متعلق احادیث اور اس باب میں یہ حدیث روایت کی ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک صبح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ کے اوپر بالوں سے بنی ہوئی چادر تھی ۔ (جامع ترمذی شریف ۲۸۱۳ دارالمعرفة، مسند احمد ج ٦،ص ١٦٢) در اصل شیخ سلیم اللہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوۓ تتبع نہیں کیاحتی کہ ان پر منکشف ہوتا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے انکار کی وجہ کیا تھی! (نعمۃ الباری فی شرح بخاری حدیث نمبر ٤٢٠٨،کے تحت از علامہ غلام رسول سعیدی علیہ وسلم)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ : نَظَرَ أَنَسٌ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى طَيَالِسَةً، فَقَالَ : كَأَنَّهُمُ السَّاعَةَ يَهُودُ خَيْبَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4208

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پس انہوں نے کہا: ( کیا) میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جاؤں گا! پھر وہ جا کر آپ علیہ السلام سے مل گئے پس ہم جب اس رات سوۓ جس رات ( کے بعد ) خیبر فتح ہوا تھا۔ تو آپ نے فرمایا: کل میں جھنڈا اس کو عطا ء کروں گا یا فرمایا: کل جھنڈا وہ مرد لے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتا ہے اس پر فتح ہو گئی، پس ہم جھنڈے کی امید رکھتے تھے پس کہا گیا۔ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ تو آپ نے ان کو جھنڈا عطاء کیا سو ان پر خیبر فتح کیا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٠٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ : أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَحِقَ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا ". أَوْ : " لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ ". فَنَحْنُ نَرْجُوهَا، فَقِيلَ : هَذَا عَلِيٌّ. فَأَعْطَاهُ، فَفُتِحَ عَلَيْهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4209

ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: کل میں جھنڈا اس مرد کو عطاء کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر فتح فرماۓ گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں انہوں نے بتایا: پس صحابہ نے رات گزاری وہ اس رات میں مختلط اور مختلف تھے کہ آپ کس کو جھنڈا عطاء فرمائیں گئے پس جب صحابہ صبح کو اٹھے تو وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گئے ان میں سے ہر ایک کو یہ امید تھی کہ آپ اس کو جھنڈا عطاء فرمائیں گے تب آپ نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ پس بتایا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے آپ نے فرمایا: ان کو بلاؤ ، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لایا گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور ان کے حق میں دعا کی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہو گئیں گویا ان میں درد ہی نہ تھا، پس آپ نے ان کو جھنڈا عطاء کیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا حتی کہ وہ ہماری مثل ہو جائیں، پس آپ علیہ السلام نے فرمایا: یوں ہی چلے جاؤ ان کے میدان میں اتر کر پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان کو بتاؤ کہ ان کے اوپر اللہ کے کیا حقوق واجب ہیں پس اللہ کی قسم ! اگر اللہ تمہارے سبب سے ایک مرد کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہت بہتر ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ : " لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ : فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ : " أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟ " فَقِيلَ : هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ : فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا. فَقَالَ : " انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4210

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر میں آۓ پس جب اللہ تعالی نے قلعہ کو فتح کر دیا تو صفیہ بنت حیی بن اخطب کے حسن و جمال کا آپ سے ذکر کیا گیا اور ان کے شوہر قتل کیے جا چکے تھے اور وہ اس وقت دلہن تھیں، پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے نفس کے لیے پسند کرلیا۔ پس آپ ان کے ساتھ نکلے حتی کہ سد الصہباء کے مقام پر پہنچ گئے اس وقت حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حیض سے پاک ہو گئیں، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ شب زفاف گزاری، پھر آپ نے حیس( کھجور گھی اور پنیر کا آمیزہ ) بنا کر چمڑے کے ایک چھوٹے ٹکڑے میں رکھا پھر مجھے حکم دیا کہ تمہارے گرد جو لوگ ہیں انہیں بلالو سو یہ آپ کا حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر ولیمہ تھا پھر ہم مدینہ کی طرف نکلے پس میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے لیے اپنے پیچھے ایک چادر بچھا دی پھر آپ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ گئے اور اپنا گھٹنا رکھا اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اپنا پیر آپ کے گھٹنے پر رکھا حتی کہ وہ سوار ہوئیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَمْرٍو - مَوْلَى الْمُطَّلِبِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ لِي : " آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ". فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَتَهُ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ، فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ وَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4211

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس خیبر کے راستہ میں تین دن ٹہر ے حتی کہ ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور وہ ان مستورات میں سے ہوگئیں جن پر حجاب کے احکام جاری کیے گئے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٢)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا، وَكَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4212

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں ٹہر ے وہیں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے خلوت کی پس میں نے صحابہ کو آپ کے ولیمہ کے لیے بلایا آپ کے ولیمہ میں روٹی تھی نہ گوشت تھا اس میں صرف یہ تھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو چمڑے کا دستر خوان لانے کا حکم دیا گیا پھر اس کو بچھایا گیا اور اس پر کھجوریں پنیر اور گھی کا آمیزہ رکھ دیا گیا صحابہ نے (آپس میں) کہا: یہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہیں یا آپ کی باندی ہیں!انہوں نے کہا: اگر آپ نے ان کو پردہ میں رکھا تو یہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہیں اور اگر آپ نے ان کو پردہ میں نہیں رکھا تو پھر وہ آپ کی باندی ہیں پھر جب آپ روانہ ہوۓ تو آپ نے اونٹ پر اپنے پیچھے ان کے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور پردہ ڈال دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ، وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ، وَالْأَقِطَ، وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ؟ قَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ. فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4213

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر کا محاصرہ کر رہے تھے اسی اثناء میں کسی انسان نے چمڑے کی ایک تھیلی پھینکی جس میں چربی تھی میں اس کو لینے کے لیے اچھلا پس میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوۓ تھے پس مجھے حیاء آئی ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مُحَاصِرِي خَيْبَرَ، فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَحْيَيْتُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4214

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن لہسن اور پالتو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرما دیا لہسن کھانے کی ممانعت صرف نافع سے مروی ہے اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت سالم سے مروی ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ,حدیث نمبر ٤٢١٥)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ؛ نَهَى عَنْ أَكْلِ الثُّومِ هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ، وَلُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ عَنْ سَالِمٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4215

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرمایا اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے فرمایا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٦)

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ - ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ - عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4216

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع فرما دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4217

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرمادیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٨)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4218

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا اور گھوڑوں میں اجازت دی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢١٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4219

الشیبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سنا کہ خیبر کے دن ہم کو بھوک لگی، پس بے شک پتیلی( میں سالن )جوش کھا رہا تھا اور اس کا کچھ حصہ پک چکا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے آ کر کہا: گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ اور پتیلی کو الٹ دو حضرت ابن ابی اوفی نے کہا: ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ آپ نے گدھوں کے گوشت سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا: آپ نے اس سے یقینی طور پر منع فرمایا ہے کیونکہ گدھے نجاست کھاتے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي، قَالَ : وَبَعْضُهَا نَضِجَتْ، فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، وَأَهْرِقُوهَا. قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى : فَتَحَدَّثْنَا أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا ؛ لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4220

حضرت البراء و حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پس صحابہ کو گدھے مل گئے انہوں نے ان کو پکا لیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ پتیلیوں کو الٹ دو ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر, ٤٢٢١،٤٢٢٢)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابُوا حُمُرًا، فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4221/4222

حضرت البراء اور حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کے دن صحابہ نے پتیلیاں( چولہوں پر)رکھ دی تھیں، اس وقت آپ نے فرمایا: پتیلیوں کو الٹ دو ۔ حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں گئے اس کی مثل حدیث ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٣،٤٢٢٤،٤٢٢٥)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُحَدِّثَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ : " أَكْفِئُوا الْقُدُورَ ". 4225 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4223/4224/4225

حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کے گوشت گرادیں خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو پھر اس کے بعد آپ نے ہمیں اس کے کھانے کا حکم نہیں دیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٦)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4226

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ ﷺ نے (گدھوں کے گوشت ) سے اس لیے منع فرمایا کہ وہ لوگوں کا بوجھ اٹھانے والے جانور ہیں تو آپ نے اس کو ناپسند کیا کہ ان کا بوجھ اٹھانے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام فرمادیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَا أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ. لَحْمَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4227

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھڑ سوار کو ( مال غنیمت سے) دو حصے دیے اور پیدل کو ایک حصہ دیا انہوں نے بتایا کہ نافع نے اس کی تفسیر کی پس انہوں نے کہا: جب مرد کے ساتھ گھوڑا ہوتو اس کے تین حصے ہوں گے اور اگر اس کے ساتھ گھوڑا نہ ہو تو اس کا ایک حصہ ہوگا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا، قَالَ : فَسَّرَهُ نَافِعٌ، فَقَالَ : إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4228

حضرت جبیر مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل کر گئے، پس ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنوالمطلب کو خیبر کے خمس سے عطاء کیا ہے اور ہم کو چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ہماری آپ کے ساتھ ایک درجہ کی قرابت ہے! آپ نے فرمایا: اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ بنو ہاشم اور بنوالمطلب ایک چیز ہیں اور حضرت جبیر نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بنوعبد شمس اور بنونوفل کے لیے کچھ تقسیم نہیں کیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٢٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ قَالَ : مَشَيْتُ أَنَا، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا : أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ وَتَرَكْتَنَا، وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ. فَقَالَ : " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ ". قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4229

حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت ہمیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر پہنچی اس وقت ہم یمن میں تھے پس ہم نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کرتے ہوۓ نکلے میں تھا اور میرے دو بھائی تھے اور میں سب سے چھوٹا تھا ان دونوں میں سے ایک حضرت ابو بردہ تھے اور دوسرے حضرت ابورھم تھے یہ یا انہوں نے کہا: ہم چند اصحاب کے ساتھ یا کہا: ترپن یا باون میری قوم کے مرد تھے ہم کشتی میں سوار ہوۓ پس کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ (ایتھوپیا) میں پہنچا دیا وہاں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے موافقت ہوئی ہم ان کے ساتھ ٹہرے حتی کہ ہم ایک ساتھ (مدینہ)آۓ ہماری نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے اور اس وقت بعض صحابہ ہم کشتی والوں سے یہ کہتے تھے ہم تم سے ہجرت کرنے میں سابق ہیں اور حضرت اسماء بنت عمیس بھی آئی تھیں، اور میدان میں سے تھیں جو ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس ان کی زیارت کے لیے گئی تھیں اور انہوں نے بھی حضرت نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کی تھی، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس آۓ اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بھی ان کے پاس تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: میں حضرت اسماء بنت حمیس ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سمندر کے راستے سے حبشہ سے آئی ہیں؟ حضرت اسماء نے کہا: جی ہاں! حضرت عمر نے کہا: ہم تم سے ہجرت کرنے میں سابق ہیں، پس ہم تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حق دار ہیں تو حضرت اسماء غضب ناک ہوئیں، انہوں نے کہا: ہرگز نہیں! اللہ کی قسم ! تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ تمہارے بھوکوں کو کھلاتے تھے اور تم میں سے بے علم لوگوں کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایسے گھر میں تھے یا ائی دور کی زمین میں تھے جہاں کے لوگ ہم سے بغض رکھنے والے تھے ہم حبشہ میں تھے اور ہمارا وہاں جانا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے تھا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی حتی کہ میں آپ کی بات کا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ذکر نہ کر دوں اور ہم کو وہاں ایذاء دی جاتی تھی اور ہم کو خوف زدہ کیا جا تا تھا اور میں عنقریب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کروں گی اور آپ سے سوال کروں گی اور اللہ کی قسم! میں جھوٹ نہیں بولوں گی اور یہ تحریف کروں گی اور نہ آپ کی بات پر کوئی اضافہ کروں گی ۔ پس جب نبی ﷺ تشریف لاۓ تو حضرت اسماء نے کلا۔ اے اللہ کے نبی! بے شک حضرت عمر نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے آپ نے پوچھا: پھر تم نے ان سے کیا کہا ؟ حضرت اسماء نے بتایا: میں نے ان سے اس طرح اور اس طرح کہا آپ نے۔ فرمایا: وہ تم سے زیادہ میرے حق دار نہیں ہیں ان کے اور ان کے اصحاب کے لیے ایک ہجرت ہے او تمہارے لیے اے کشتی والو! دو ہجرتیں ہیں حضرت اسماء نے کہا: پس تحقیق یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوموسیٰ اور کشتی والے باری باری میرے پاس آتے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق سوال کرتے اور وہ دنیا کی کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوۓ تھے اور نہ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی چیز اتنی عظیم تھی جتنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث تھی حضرت ابو بردہ نے بتایا کہ حضرت اسماء نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوموسیٰ بار بار مجھ سے یہ حدیث ڈہرواتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٠،و حدیث نمبر ٤٢٣١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا، وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ ؛ أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ : بِضْعٌ، وَإِمَّا قَالَ : فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ. 4230 ( م ) وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ. قَالَ عُمَرُ : الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ ؟ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ ؟ قَالَتْ أَسْمَاءُ : نَعَمْ. قَالَ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ. فَغَضِبَتْ، وَقَالَتْ : كَلَّا وَاللَّهِ، كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ - أَوْ فِي أَرْضِ - الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْأَلُهُ وَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ، وَلَا أَزِيغُ ، وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ. 4231 فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ : كَذَا وَكَذَا. قَالَ : " فَمَا قُلْتِ لَهُ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : كَذَا وَكَذَا. قَالَ : " لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ، وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ". قَالَتْ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى، وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ، وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4230/4231

حضرت ابوبردہ نے کہا از حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اشعریین کے رفقاء کی قرآن پڑھنے کی آواز کو پہچانتا ہوں جب وہ رات میں داخل ہوتے ہیں اور جب وہ رات میں بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہیں تو میں ان کی قیام گاہوں کو پہچانتا ہوں اگر چہ وہ دن میں کسی جگہ ٹھہرتے ہیں تو میں نے ان کی قیام گاہوں کو نہیں دیکھا ہوتا اور ان میں سے ایک عقل مند مرد ہے جب اس کی گھڑ سواروں سے ملاقات ہوتی ہے یا فرمایا: کسی دشمن سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ ان سے کہتا ہے: میرے اصحاب تم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کر لو۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ، أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4232

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم فتح خیبر کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ آپ نے ہمارے لیے مال غنیمت تقسیم کیا اور ہمارے سوا اور کسی ایسے شخص کے لیے تقسیم نہیں کیا جو فتح خیبر پر حاضر نہ ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٣)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَسَمَ لَنَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4233

ابواسحاق نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ مالک بن انس نے کہا: مجھے ثور نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا۔ مجھے سالم مولی ابن مطیع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خیبر فتح کیا اور ہم نے مال غنیمت میں سے سونا اور چاندی نہیں لی ہم نے صرف بیل اور اونٹ اور سامان اور باغات لیے،پھر ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القری پر گئے اور ہمارے ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا وہ آپ کو بنوالضباب میں سے کسی نے ہبہ کیا تھا سوجس وقت وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا اچانک نامعلوم سمت سے ایک تیر آکر اس غلام کو لگا تو لوگوں نے کہا: اس کو شہادت مبارک ہو! تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جو چادر اس نے خیبر کے مال غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے پس جب ایک مرد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا تو وہ ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: یہ وہ ہیں جن کو میں نے لیا تھا تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کا ایک تسمہ یا دو تسمے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ - مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا، وَلَا فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ، وَالْإِبِلَ، وَالْمَتَاعَ، وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ : مِدْعَمٌ أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ، لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ، أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شِرَاكٌ - أَوْ شِرَاكَانِ - مِنْ نَارٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4234

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سنو!جس ذات کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میں آخر کے لوگوں کو محتاج اور فقیر چھوڑوں گا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اس کو وہاں کے مجاہد میں اس کو تقسیم کر دیا، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کوتقسیم کیا تھا۔ لیکن میں ان مفتوحہ اراضی کو مسلمانوں کا خزانہ بنا کر چھوڑ رہا ہوں تا کہ وہ اس کی آمدنی کواپنے درمیان تقسیم کرتے رہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَتْرُكَ آخِرَ النَّاسِ بَبَّانًا لَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ مَا فُتِحَتْ عَلَيَّ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا، كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَلَكِنِّي أَتْرُكُهَا خِزَانَةً لَهُمْ يَقْتَسِمُونَهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4235

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے آخری مسلمانوں ( کے اخلاص ) کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ہر مفتوحہ شہر کی زمینوں کو مجاہدین میں اس طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی ﷺ نے خیبر کی زمینوں کو تقسیم کیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا، كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4236

عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور (آپ علیہ السلام سے خیبر کی غنیمت کا)حصہ مانگا سعید بن العاص کے ایک بیٹے (حضرت ابان بن سعید)نے کہا:یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!اس کو نہ دیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ حضرت ابن قوقل کا قاتل ہے (اس پر حضرت ابان نے )کہا: اس وبر(بلی سے چھوٹا جانور پر)تعجب ہے جو قدوم الضان (پہاڑی)سے اتر کر آیا ہے۔ عنبسہ بن سعید نے خبر دی انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ سعید بن العاص کو خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابان رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پس حضرت ابان اور ان کے اصحاب خیبر کے فتح ہونے کے بعد خیبر میں پہنچے اور ان لوگوں کے گھوڑے درخت کی چھال کا گٹھا تھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!ان لوگوں کے لیے مال غنیمت تقسیم نہ کریں حضرت ابان نے کہا: اے وبر! تم یہ بات کہہ رہے ہو! تم ضان پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر آۓ ہو تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابان! بیٹھ جاؤ! پس آپ نے ان کے لیے مال غنیمت تقسیم نہیں کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٧،و حدیث نمبر ٤٢٣٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ : لَا تُعْطِهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ. فَقَالَ : وَا عَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ . 4238 وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِي، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَدِمَ أَبَانُ، وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَمَا افْتَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَقْسِمْ لَهُمْ. قَالَ أَبَانُ : وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَانُ، اجْلِسْ ". فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4237/4238

عمرو بن یحیی بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے دادا نے خبر دی کہ حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ پس آپ کو سلام کیا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ حضرت ابن قوقل رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے اور حضرت آبان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے بلی جیسے! تم پر تعجب ہے تم ضان پہاڑ سے لڑھکتے ہوۓ آۓ ہو اور مجھ پرایسے مرد( کی شہادت ) کی وجہ سے عیب لگارہے ہو جس کو اللہ تعالی نے میرے ہاتھ سے قتل ہونے کے سبب سے عزت اور کرامت دی اور اس مرد کو مجھے رسوا کرنے سے روکا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٣٩) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت آبان رضی اللہ عنہ کے مناظرہ پر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت آبان رضی اللہ عنہ دونوں نے ایک دوسرے کو برا کہا لیکن حضرت ابان رضی اللہ عنہ نے جوابی کارروائی کی ہے اور یہ واضح کیا کہ آپ جو مجھ پر حضرت ابن قوقل رضی اللہ عنہ کوقتل کرنے کی وجہ سے عیب لگارہے ہیں تو اس کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ میرا فعل زمانہ کفر کا تھا اور اسلام لانے کے بعد زمانہ کفر کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور حضرت ابن قوقل رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھوں قتل ہو کر شہادت کا مرتبہ پایا سو ان کو میری وجہ سے عزت اور کرامت ملی اور میں ان کے ہاتھوں سے قتل نہیں ہوا تو اللہ تعالی نے مجھے زمانہ کفر میں مرنے کی رسوائی سے بچایا اور ر ہے آپ تو آپ بلی جیسی جسامت رکھتے ہیں پہاڑ سے لڑھکتے ہوۓ آۓ ہیں اور آپ میں جہاد کرنے اور کافروں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے یوں حضرت آبان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملامت سے اپنی براءت ظاہر کی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو کوئی جواب نہیں دے سکے تاہم حضرت آبان رضی اللہ عنہ کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہ عیب لگانا بھی نامناسب تھا کہ تم بلی کی جسامت رکھتے ہو اور کافروں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے کیونکہ کسی شخص کا کم زور ہونا اور جسمانی طور پر بلی کے مشابہ ہونا اس کے اختیار کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ کی خلقت ہے وہ جس کو چاہے کم زور بنادے اور جس کو چاہے توانا بنا دے سو کسی کی جسمانی کمزوری پر طعن کرنا دراصل اللہ تعالی کی خلقت پر طعن کرنا ہے تاہم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ مغلوب الغضب ہو گئے تھے اور شدت جذبات سے بے قابو ہو کر ایسی بات کہہ گئے اللہ تعالی انہیں معاف فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ اور میرے گناہ معاف فرماۓ حقیقت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خطایں بھی ہماری نیکیوں سے بڑھ کر ہیں۔ علامہ ابن ملقن حافظ ابن حجر اور علامہ عینی سب نے یہ لکھا ہے کہ حضرت آبان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جسمانی کم زوری کی بناء پر ان کی تحقیر کی لیکن کسی نے بھی حضرت آبان رضی اللہ عنہ کی طرف سے توجیہ نہیں کی میں کہتا ہوں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے اس طعن پر صبر کیا اور اللہ تعالی ان کو اس کا ان شاء اللہ اجر عظیم عطاء فرماۓ گا۔ (نعمۃ الباری فی شرح بخاری جلد ہفتم کتاب المغازی حدیث نمبر ٤٢٣٩ کی تشریح کے تحت)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ. وَقَالَ أَبَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : وَاعَجَبًا لَكَ وَبْرٌ تَدَأْدَأَ مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ امْرَأً أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي، وَمَنَعَهُ أَنْ يُهِينَنِي بِيَدِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4239

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی سیدتنا فاطمہ علیہا السلام نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ ان سے اپنی میراث کے اس حصہ کا سوال کر رہی تھیں جو اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مدینہ میں مال فئے عطا فرمایا تھا اور فدک میں عطاء فرمایا اور جو خیبر کے خمس میں سے باقی مال تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم مورث نہیں بناۓ جاتے (یعنی ہم کسی کو وارث نہیں بنائیں گے ) ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آل صرف اس مال سے کھاۓ گی اور میں اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صدقہ کو اس حال پر رکھوں گا جس حال پر وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اور میں اس میں کچھ بھی تغیر نہیں کروں گا اور میں ان اموال میں وہی عمل کروں گا جو ان اموال میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان اموال میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو کچھ بھی دینے سے انکار کیا۔ سو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر غضب ناک ہوئیں، پس انہوں نے ان کو چھوڑ دیا اور اس سے کلام نہیں کیا حتی کہ ان کی وفات ہوگئی اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہی تھیں،پس جب وہ فوت ہوئیں تو ان کے شوہر حضرت علی نے ان کو راتوں رات دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر کو خبر نہیں دی اور ان کی خود نماز جنازہ پڑھی جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حیات تھیں لوگوں کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ تھی جب وہ فوت ہو گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی توجہ بدلی ہوئی پائی، پھر انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مصالحت طلب کی اور ان سے بیعت کرنا چاہی اور انہوں نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی، پس انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور ہمارے پاس نہ آۓ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آمد کو ناپسند کرنے کے سبب سے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں! اللہ کی قسم! آپ ان کے پاس اکیلے نہیں جائیں گے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کو توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ کوئی ( ناگوار ) سلوک کریں گے! اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا، پس کہا: ہم آپ کی فضیلت کو پہچانتے ہیں اور جو آپ کو اللہ تعالی نے مرتبہ دیا ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو جو خیر عطاء کی ہے ہم اس پر کوئی حسد نہیں کرتے لیکن آپ نے خلافت کے معاملہ کو از خود طے کر لیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جو ہماری قرابت ہے اس کی وجہ سے ( مشورہ میں ہم اپنا حق سمجھتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے پھر حضرت ابوبکر نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے البتہ!رسول اللہ ﷺ کی قرابت سے حسن سلوک کرنا میرے نزدیک اپنی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی بہ نسبت زیادہ پسندیدہ ہے رہے اموال جن کی وجہ سے میرے اور آپ کے درمیان اختلاف ہوا ہے تو میں نے ان اموال میں خیر اور نیکی کو ترک نہیں کیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اموال میں جو کچھ بھی تصرف فرماتے تھے میں ان اموال میں وہی تصرف کر رہا ہوں اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کل دن ڈھلے میرا آپ سے بیعت کرنے کا وعدہ ہے پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ منبر پر چڑھے پس کلمہ شہادت پڑھا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ ذکر کیا اور بیعت کرنے میں ان کی تاخیر کا عذر بیان کیا اور ان کا عذر قبول کیا اور استغفار کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعظیم کی اور ان کا حق بیان کیا اور بتایا کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھی اور نہ اس فضیلت کا انکار تھا جو اللہ تعالی نے ان کو عطاء کی ہے لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس خلافت کے معاملہ میں ہم سے بھی مشورہ لینا چاہیے تھا اور چونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو ازخود طے کر لیا اس سے ہمیں رنج ہوا پس مسلمان اس وضاحت سے بہت خوش ہوۓ اور کہا: آپ نے درست کیا پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے معروف طریقہ اختیار کر لیا تو مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٤٠،و حدیث نمبر ٤٢٤١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ ". وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ. كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ. فَقَالَ عُمَرُ : لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَقَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا. حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ. فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ، وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا : أَصَبْتَ. وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4240/4241

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب خیبر فتح ہو گیا تو ہم نے کہا: اب ہم سیر ہو کر کھجوریں کھائیں گے۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٤٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا : الْآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4242

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم سیر نہیں ہوۓ حتی کہ خیبر فتح ہو گیا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٤٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4243

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر عامل مقرر کرنا۔ حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک مرد کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا وہ وہاں سے جنیب نامی کھجوریں لاۓ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ہم دو صاع اور تین صاع ( دوسری) کھجوریں دے کر یہ ایک صاع کھجوریں لیتے ہیں آپ نے فرمایا: اس طرح نہ کرو تم الجمع کھجوروں کو دراہم کے بدلہ میں فروخت کر کے پھر دراہم کے بدلہ میں جنیب کھجوریں لے لو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے بنو عدی کے بھائی کو خیبر کی طرف بھیجا۔ سو ان کو خیبر والوں پر امیر بنایا ۔ اور از عبدالمجید از ابی صالح السمان از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اسی کی مثل مروی ہے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : اسْتِعْمَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ.،حدیث نمبر ٤٢٤٤،٤٢٤٥،٤٢٤٦،٤٢٤٧)

بَابٌ : اسْتِعْمَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " فَقَالَ : لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ. فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ". وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ : عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا. وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ مِثْلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4244/4245/4246/4247

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اہل خیبر کے ساتھ معاملہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو یہ پیش کش فرمائی کہ وہ کام کریں اور کھیتی باڑی کریں اور ان کو پیداوار کا نصف ملے گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : مُعَامَلَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٤٢٤٨)

بَابٌ : مُعَامَلَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4248

خیبر میں جس بکری کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے زہرآلود کیا گیا۔ اس حدیث کی عروہ نے از حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم روایت کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک زہر آلود بکری ہدیہ کی گئی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ الشَّاةِ الَّتِي سُمَّتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٤٢٤٩)

بَابُ الشَّاةِ الَّتِي سُمَّتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، رَوَاهُ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4249

حضرت زید بن حارثہ کا غزوہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر امیر بنایا تو لوگوں نے ان کی امارت پر طعن کیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے ہوتو اس سے پہلے تم اس کے والد کی امارت پر اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! وہ ضرور امارت کے لائق تھے اور بے شک یہ (اسامہ )مجھے ان کے بعد لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ،حدیث نمبر ٤٢٥٠)

بَابٌ : غَزْوَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ : " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4250

عمرۃ القضاء۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر کیا از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ میں عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا حتی کہ آپ نے ان سے اس پر صلح کر لی کہ آپ (آئندہ سال ) مکہ میں تین دن قیام کریں گے جب مسلمانوں نے صلح نامہ لکھا تو انہوں نے اس میں یہ لکھا کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ ( صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) نے صلح کی ہے کفار قریش نے کہا: ہم اس کا اقرار نہیں کرتے اگر ہم کو اس کا یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو کسی چیز سے منع نہ کرتے لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ( بھی ) ہوں پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: رسول اللہ ( کے الفاظ)کو مٹا دو حضرت علی نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! میں آپ (کے نام) کو ہرگز نہیں مٹاؤں گا! تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس مکتوب کو پکڑا اور آپ اچھی طرح نہیں لکھتے تھے پس آپ نے لکھا:یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے وہ مکہ میں (آئندہ) سال ہتھیاروں کے ساتھ داخل نہیں ہوں گے مگر یہ کہ تلوار میان میں ہو اور یہ کہ اہل مکہ میں سے اگر کوئی ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اس کو نہیں لے جائیں گے اور اگر ان کے اصحاب میں سے کوئی مکہ میں رہنا چاہے گا تو وہ اس کو نہیں روکیں گئے پھر جب (آئندہ سال ) آپ مکہ میں داخل ہوۓ اور ( تین دن کی) مدت پوری ہوگئی تو کفار قریش حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور ان سے کہا: اپنے صاحب ( نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم) سے کہو کہ ہمارے شہر سے نکل جائیں کیونکہ مدت پوری ہو چکی ہے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نکل گئے پھر حضرت حمزہ رضی اللہ کی صاحب زادی آپ کے پیچھے آئیں وہ پکار رہی تھی: اے چچا! اے چچا! پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو اٹھا لیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور سیدہ فاطمہ علیھا السلام سے کہا:آپ اپنے چاچا کی بیٹی کو لے لیں تو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس کو لے لیا پس اس( کی پرورش) میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ میں نزاع ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو میں رکھوں گا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے عقد میں ہے اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے حق میں کر دیا اور فرمایا: خالہ ماں کے درجہ میں ہوتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم صورت اور سیرت میں میرے مشابہ ہیں اور حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے آزاد شدہ غلام ہو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: کیا آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح نہیں کریں گئے آپ نے فرمایا:یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ (بخاری شریف ،بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٤٢٥١)

بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. قَالُوا : لَا نُقِرُّ لَكَ بِهَذَا ؛ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَقَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ". ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " امْحُ رَسُولَ اللَّهِ ". قَالَ عَلِيٌّ : لَا وَاللَّهِ، لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَكَتَبَ : " هَذَا مَا قَاضَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ؛ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا ". فَلَمَّا دَخَلَهَا، وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا : قُلْ لِصَاحِبِكَ : اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي : يَا عَمِّ، يَا عَمِّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ : دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ. حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي. وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ : " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ ". وَقَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ ". وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : " أَشْبَهْتَ خَلْقِي، وَخُلُقِي ". وَقَالَ لِزَيْدٍ : " أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا ". وَقَالَ عَلِيٌّ : أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4251

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے نکلے تو آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان قریش حائل ہو گئے سوآپ نے اپنی قربانی کے جانور کونحر کیا اور حدیبیہ میں اپنا سرمنڈایا اور کفار قریش سے اس پر صلح کی کہ آپ اگلے سال عمرہ کرنے آئیں گے اور (میان میں )تلواروں کے سوا ان کے خلاف کوئی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور مکہ میں اتنا عرصہ قیام کر یں گے جتنا وہ چاہیں گئے سو آپ نے اگلے سال عمرہ کیا۔ پس آپ مکہ میں داخل ہوۓ جس طرح ان سے صلح کی تھی تو جب آپ نے وہاں تین دن قیام کر لیا تو کفار قریش نے کہا: اب آپ ( مکہ سے نکل جائیں سو آپ نکل گئے ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ، وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا، وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ، فَخَرَجَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4252

مجاہد نے بیان کیا کہ میں اور عروة بن الزبیر مسجد میں داخل ہوۓ پس وہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کی طرف بیٹھے ہوۓ تھے پھر عروہ نے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بتایا: چار ان میں سے ایک عمرہ رجب میں تھا۔ پھر ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی عروہ نے کہا: اے ام المؤمنین! کیا آپ نہیں سن رہیں کہ ابوعبدالرحمان کیا کہہ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک رجب میں کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا اس کا ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما مشاہدہ کرنے والے تھے اور آپ نے رجب میں ہرگز عمرہ نہیں کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٣،و حدیث نمبر ٤٢٥٤)

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ قَالَ : كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعًا. 4254 ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ ، قَالَ عُرْوَةُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ؟ فَقَالَتْ : مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4253/4254

حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم مشرکین کے لڑکوں اور مشرکین کے سامنے آپ کی ڈھال بن گئے تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ : لَمَّا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَرْنَاهُ مِنْ غِلْمَانِ الْمُشْرِكِينَ وَمِنْهُمْ أَنْ يُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4255

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ( مکہ) آۓ تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس ایسا وفد آرہا ہے جس کو یثرب کے بخار نے کم زور کر دیا ہے اور نبی ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ وہ طواف کے ( پہلے تین چکروں میں رمل کر میں اور دو رکنوں کے درمیان ( معمول کے مطابق چلیں اور ان کو طواف کے تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم اس لیے نہیں دیا تا کہ طواف اپنی اصل پر باقی رہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس سال آۓ جس سال کے لیے آپ نے امن کا معاہدہ کیا تھا تو آپ نے فرمایا: رمل کرو تا کہ مشرکین مسلمانوں کی قوت دیکھیں اور مشرکین قعیقان پہاڑ کی جانب تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٦)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - هُوَ : ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَفْدٌ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ. وَزَادَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اسْتَأْمَنَ قَالَ : " ارْمُلُوا ". لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُمْ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4256

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں صفا اور مروہ کے بیان رمل کیا تا کہ مشرکین کواپنی قوت دکھائیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّمَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4257

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کیا اور اس وقت آپ محرم تھے اور آپ نے ان کے ساتھ جب شب زفاف گزاری اس وقت آپ احرام کھول چکے تھے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات بھی مقام سرف میں ہوئی تھی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے عمرۃ القضاء میں نکاح کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ، ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٥٨،و حدیث نمبر ٤٢٥٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ. 4259 وَزَادَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4258/4259

عزوہ موتہ کا بیان جو سرزمین شام میں ہوا تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ جس دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوۓ تھے وہ ان کے پاس ہی کھڑے ہوۓ تھے پس میں نے گنا ان پر نیزوں کے اور دوسری ضربات کے پچاس نشانات تھے اور ان میں سے کوئی نشان ان کی پیٹھ پر نہیں تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٠)

بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَقَفَ عَلَى جَعْفَرٍ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ قَتِيلٌ، فَعَدَدْتُ بِهِ خَمْسِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ، لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ فِي دُبُرِهِ، يَعْنِي : فِي ظَهْرِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4260

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کو امیر بنایا پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر زید شہید ہوجائیں تو پھر جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ امیر ہوں گے اور اگر جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید ہو جائیں تو پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی ان صحابہ میں اس غزوہ میں تھا سو ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا تو ہم نے ان کو شہداء میں پایا ہم نے ان کے جسم میں نوے(۹۰) سے زیادہ نیزوں اور تیروں کے زخم پاۓ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦١)

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنْتُ فِيهِمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى، وَوَجَدْنَا مَا فِي جَسَدِهِ بِضْعًا وَتِسْعِينَ مِنْ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4261

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ ،حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی لوگوں کو اس سے پہلے خبر دی کہ آپ کے پاس وہاں سے خبر آتی آپ نے فرمایا: زید نے جھنڈا پکڑا پس وہ شہید ہو گئے پھر جعفر نے جھنڈا پکڑا پس وہ شہید ہو گئے پھر ابن رواحہ نے جھنڈا کپڑا پس وہ شہید ہو گئے اور آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار(خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے جھنڈا پکڑا حتیٰ کہ اللہ تعالی نے رومیوں پر فتح عطا فرمائی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا، وَجَعْفَرًا، وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ - وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ - حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ، حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4262

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ سے غم کا اظہار ہو رہا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ میں دروازہ کی تھری سے دیکھ رہی تھی آپ کے پاس ایک مرد آیا اور اس نے بتایا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی خواتین رو رہی ہیں، آپ نے اس کو حکم دیا کہ ان کو منع کرے وہ شخص گیا اور پھر آکر کہا کہ میں نے ان کو منع کیا تھا اور اس نے بتایا کہ ان عورتوں نے اس کی بات نہیں مانی، آپ نے اس کو پھر حکم دیا وہ گیا اور اس نے پھر آ کر کہا: اللہ کی قسم! وہ عورتیں ہم پر غالب آ گئیں، پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: پس میں نے دل میں کہا: اللہ تیری ناک کو خاک آلود کرے! پس اللہ کی قسم ! تو وہ کیوں نہیں کرتا جو آپ ﷺ نے فرمایا ہے اور تو نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تکلیف اور مشقت میں کیوں چھوڑا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ : لَمَّا جَاءَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ - تَعْنِي مِنْ شَقِّ الْبَابِ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ. قَالَ : وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، قَالَ : فَذَهَبَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَى، فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ. وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُطِعْنَهُ، قَالَ : فَأَمَرَ أَيْضًا، فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى، فَقَالَ : وَاللَّهِ، لَقَدْ غَلَبْنَنَا. فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ تَفْعَلُ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4263

عامر وہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو سلام کرتے تو کہتے: السلام علیک !اے دو پروں والے کے بیٹے! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَيَّا ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4264

قیس بن ابی حازم وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے کہ غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نوتلواریں ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف یمن کی ایک چوڑی تلوار رہ گئی ۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ : لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلَّا صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4265

قیس نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا کہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں میری ایک یمن کی چوڑی تلوار رہ گئی ۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ : لَقَدْ دُقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، وَصَبَرَتْ فِي يَدِي صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4266

النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوگئی تو ان کی بہن عمرہ رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: ہاۓ اے پہاڑ اور ہاۓ اے فلاں اور اے فلاں ! ان کی صفات گن رہی تھیں جب وہ ہوش میں آۓ تو انہوں نے کہا: تم نے میرا جو وصف بھی بیان کیا تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اس طرح ہو۔ النعمان بن بشیر وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوگئی، پس جب وہ فوت ہو گئے تو ان کی بہن ان پر نہیں روئیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،حدیث نمبر ٤٢٦٧،و حدیث نمبر ٤٢٦٨)

حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تَبْكِي : وَا جَبَلَاهْ، وَا كَذَا، وَا كَذَا. تُعَدِّدُ عَلَيْهِ، فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ : مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي : آنْتَ كَذَلِكَ ؟ 4268 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، بِهَذَا. فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4267/4268

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو قبیلہ جہینہ کے خرقات کی طرف بھیجنا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےالحرقہ کی طرف بھیجا ہم ان لوگوں کی طرف صبح کے وقت پہنچے سو ہم نے ان کو شکست دیں اور میں اور انصار کے ایک مرد نے ان کے ایک مرد کا پیچھا کیا جب ہم نے اس پر غلبہ پالیا تو اس نے کہا : لا الہ الا اللہ پس وہ انصاری تو (اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اس پر اپنے نیزے سے حملہ کیا حتیٰ کہ میں نے اس کوقتل کر دیا جب ہم ( واپس آۓ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچ چکی تھی آپ نے فرمایا: اے اسامہ! تم نے اس کو اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد قتل کر دیا! میں نے عرض کیا: وہ اس کلمہ کی پناہ لے رہاتھا' آپ بار بار یہی ( گزشتہ جملہ فرماتے رہے حتی کہ میں نے تمنا کی کہ میں آج سے پہلے اسلام نہ لا یا ہوتا ! (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ،حدیث نمبر ٤٢٦٩)

بَابٌ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ إِلَى الْحُرُقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ، فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قُلْتُ : كَانَ مُتَعَوِّذًا. فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4269

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کیے ہیں اور نو ایسے لشکروں میں شریک رہا ہوں جو آپ نے بھیجے تھے ان میں ایک ایسا لشکر تھا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر تھے اور ایک ایسا لشکر تھا جس میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ امیر تھے ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کیے ہیں میں تو ان لشکروں میں شامل رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھیجے تھے ان میں ایک مرتبہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہ امیر تھے اور ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ امیر تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ،حدیث نمبر ٤٢٧٠،و حدیث نمبر ٤٢٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ؛ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ. 4271 وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبَعْثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ؛ عَلَيْنَا مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً أُسَامَةُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4270/4271

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کیے ہیں اور حضرت ابن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جن کو آپ نے ہم پر امیر بنایا تھا۔ ( بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ،حدیث نمبر ٤٢٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ، اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4272

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کیے ہیں پھر انہوں نے خیبر کا اور الحدیبیہ کا اور یوم حنین کا اور یوم القرد کا ذکر کیا یزید نے کہا: اور باقی غزوات کا ذکر میں بھول گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ،حدیث نمبر ٤٢٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ. فَذَكَرَ خَيْبَرَ، وَالْحُدَيْبِيَةَ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ، وَيَوْمَ الْقَرَدِ. قَالَ يَزِيدُ : وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4273

فتح مکہ کے غزوہ کا بیان اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے جو اہل مکہ کی طرف مکتوب روانہ کیا تھا جس میں ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غزوہ کی خبر دی تھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا تم جاؤ حتیٰ کہ روضہ خاخ میں پہنچ جاؤ وہاں ایک مسافرہ ہوگی اس کے پاس ایک مکتوب ہوگا تم اس سے وہ مکتوب لے لینا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: پس ہم روانہ ہوۓ ہم اپنے گھوڑوں کو دوڑا رہے تھے حتیٰ کہ ہم الروضتہ پر پہنچ گئے سو اچانک ہم نے ایک مسافرہ کو دیکھا ہم نے اس سے کہا: وہ مکتوب نکالو اس نے کہا: میرے پاس کوئی مکتوب نہیں ہے ہم نے اس سے کہا: تم ضرور مکتوب نکالوگی ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: تب اس نے اپنے بالوں کے گچھے سے مکتوب نکالا ہم اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آۓ پس اس میں یہ تھا کہ یہ مکتوب حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کی جانب ہے وہ ان کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ایک منصوبہ کی خبر دے رہا ہے تب رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے متعلق جلدی فیصلہ نہ کریں میں ایسا مرد ہوں جو قریش کے ساتھ جڑا ہوا ہوں میں ان کا حلیف ہوں اور میں ان میں سے نہیں ہوں اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی ان کے ساتھ رشتہ داریاں ہیں جن کے سبب سے وہ اپنے گھر والوں اور مال و اسباب کی حفاظت کریں گے تو میں نے چاہا کہ جب میری ان کے ساتھ رشتہ داریاں نہیں ہیں تو میں ان کے اوپر ایک احسان کر دوں جس کی وجہ سے یہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں دین (اسلام) سے مرتد ہو گیا ہوں اور نہ اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے اسلام کے بعد کفر کو پسند کر لیا ہے تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، پس آپ نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہو چکا ہے اور تمہیں کیا پتا کہ تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حاضرین بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو پس بے شک میں نے تم کو بخش دیا ہے پھر اللہ تعالی نے یہ سورت نازل فرمائی: اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ،تم انہیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کے ساتھ کفر کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ یہ آیت یہاں تک ہے:اور تم میں سے جس نے ایسا کیا وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیاں (الممتحنہ ١) (بخاری شریف ،بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ، وَمَا بَعَثَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِغَزْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٢٧٤)

بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ، وَمَا بَعَثَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِغَزْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَالزُّبَيْرَ، وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ؛ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوا مِنْهَا ". قَالَ : فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، قُلْنَا لَهَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ. قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ. فَقُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ. قَالَ : فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ : مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ. يَقُولُ : كُنْتُ حَلِيفًا، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي، وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ ". فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، قَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ }. إِلَى قَوْلِهِ : { فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4274

فتح مکہ کا غزوہ رمضان میں تھا، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ان کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کا غزوہ رمضان میں کیا انہوں نے کہا: اور میں نے ابن المسیب سے بھی اسی طرح سنا ہے, اور عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا حتیٰ کہ جب الکدید کے پانی پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ہے تو آپ نے روزہ کھول دیا پھر آپ نے مسلسل روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ مہینہ ختم ہو گیا۔ (بخاری شریف ،بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٤٢٧٥)

بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ. قَالَ : وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ. وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ - الْمَاءَ الَّذِي بَيْنَ قُدَيْدٍ، وَعُسْفَانَ - أَفْطَرَ، فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى انْسَلَخَ الشَّهْرُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4275

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مدینہ منورہ سے نکلے اور آپ علیہ السلام کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے اور یہ آپ علیہ السلام کے مدینہ منورہ آنے کے ساڑھے آٹھ سال بعد کا واقعہ ہے پس آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھ جو صحابہ کرام تھے مکہ کے لیے روانہ ہوۓ آپ علیہ السلام بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام بھی روزے سے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام مقام الکدید پر پہنچے جو عسفان اور قدید کے درمیان پانی کا چشمہ ہے تو آپ علیہ السلام نے روزہ کھول لیا اور صحابہ کرام نے بھی روزہ کھول لیا الزہری نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آخری عمل پر ہی عمل کیا جاۓ گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٤٢٧٦)

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ - وَهُوَ : مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ، وَقُدَيْدٍ - أَفْطَرَ وَأَفْطَرُوا. قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآخِرُ فَالْآخِرُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4276

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں حنین کی طرف نکلے اور لوگ مختلف تھے بعض روزے سے تھے اور بعض روزے سے نہیں تھے پس جب آپ علیہ السلام سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو آپ علیہ السلام نے ایک برتن میں دودھ یا پانی منگایا پھر اس برتن کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، پھر آپ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف دیکھا، پس روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ رکھنے والوں سے کہا تم روزہ کھول لو ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال نکلے۔ اور حماد بن زید نے کہا از ایوب از عکرمہ از حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٤٢٧٧،و حدیث نمبر ٤٢٧٨)

حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنٍ وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ، فَصَائِمٌ وَمُفْطِرٌ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، أَوْ مَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى رَاحَتِهِ، أَوْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ الْمُفْطِرُونَ لِلصُّوَّامِ : أَفْطِرُوا. 4278 وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ. وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4277/4278

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا۔ پس آپ علیہ السلام نے روزہ رکھا حتیٰ کہ آپ علیہ السلام عسفان پر پہنچے پھر آپ علیہ السلام نے پانی منگایا پس دن میں پانی پیا تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو دکھائیں سو آپ علیہ السلام نے روزہ کھول لیا حتیٰ کہ آپ علیہ السلام مکہ آۓ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور روزہ کھولا بھی ہے سو جو چاہے سفر میں روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ کھول لے (یا وزہ نہ رکھے)۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٤٢٧٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَرِبَ نَهَارًا لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4279

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن جھنڈا کہاں نصب کیا تھا؟ ہشام از والد خود بیان کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم روانہ ہوۓ سو یہ خبر قریش کو پہنچ گئی تو ابوسفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء نکلے وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق اس خبر کی تفتیش کر رہے تھے یہ لوگ جب مرالظہران پر پہنچے تو انہیں ایک جگہ آگ جلتی ہوئی دکھائی دی، گویا یہ مقام عرفات کی آگ ہے ابوسفیان نے کہا: یہ کیسی آگ ہے؟یہ تو مقام عرفات جیسی آگ ہے پس بدیل بن ورقاء نے کہا: یہ قبیلہ بن عمرو کی آگ ہے پھر ابوسفیان نے کہا: بنو عمرو اس سے کم تعداد میں ہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے محافظوں میں سے کسی نے ان کو دیکھ لیا سو وہ ان کو پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لاۓ پس ابوسفیان اسلام لے آۓ جب وہ روانہ ہوۓ تو آپ علیہ السلام نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ابوسفیان کو اس جگہ ٹھہراؤ جہاں سے زیادہ گھڑ سوار گزریں حتی کہ ابوسفیان مسلمانوں کی شوکت دیکھ لیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو ایسی جگہ روک لیا وہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک کر کے حضرت ابوسفیان کے سامنے متعدد قبیلے گزر رہے تھے ایک دستہ گزرا تو حضرت ابوسفیان نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا:یہ غفار ہیں حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے غفار سے کیا سروکار! پھر قبیلہ جہینہ گزرا تو حضرت ابوسفیان نے اس طرح سوال کیا پھر سعد بن ہزیم گزرے تو حضرت ابوسفیان نے اسی طرح سوال کیا پھر قبیلہ سلیم گزرا تو پھر انہوں نے اس طرح سوال کیا، پھر ایک ایسا دستہ گزرا کہ اس جیسا دستہ نہیں دیکھا گیا تھا حضرت ابوسفیان نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا:یہ انصار ہیں ان پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ امیر ہیں ان کے ساتھ جھنڈا ہے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اے ابوسفیان! آج کا دن قتل عام کا دن ہے آج کے دن کعبہ میں بھی قتل کرنا حلال ہے پس حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عباس! آج کیسا اچھا ہلاکت کا دن ہے! پھر سب سے چھوٹا دستہ گزرا جس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت الزبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ سے کہا: کیا آپ کو نہیں معلوم کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ آپ نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا ہے انہوں نے بتایا: انہوں نے ایسے ایسے کہا ہے آپ نے فرمایا: سعد نے غلط کہا ہے لیکن آج وہ دن ہے جس میں اللہ تعالی کعبہ کی عظمت کو ظاہر فرماۓ گا اور یہ وہ دن ہے جس میں کعبہ کو غلاف پہنایا جاۓ گا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ کا جھنڈ ا مقام حجون میں نصب کر دیا جاۓ عروہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر بن مطعم نے خبر دی ہے کہ میں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا وہ حضرت الزبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: اے ابوعبداللہ! کیا یہاں آپ کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جھنڈا نصب کرنے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ مکہ کے بالائی علاقہ میں مقام کداء کی جانب سے داخل ہوں اور خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کداء کی نشیبی جانب سے داخل ہوۓ اس دن حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے گھڑ سواروں میں سے دو مرد حبیش بن الاشعر اور کرز بن جابر الفہری یہ شہید ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٠)

بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ. حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ يَلْتَمِسُونَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلُوا يَسِيرُونَ حَتَّى أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا هُمْ بِنِيرَانٍ، كَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : مَا هَذِهِ لَكَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ : نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو. فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ. فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْرَكُوهُمْ، فَأَخَذُوهُمْ، فَأَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْيَانَ، فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ : احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ. فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ تَمُرُّ كَتِيبَةً كَتِيبَةً عَلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَمَرَّتْ كَتِيبَةٌ، قَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ غِفَارُ. قَالَ : مَا لِي وَلِغِفَارَ. ثُمَّ مَرَّتْ جُهَيْنَةُ، قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ هُذَيْمٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَرَّتْ سُلَيْمُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى أَقْبَلَتْ كَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا، قَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ عَلَيْهِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ. فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ، الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ. فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا عَبَّاسُ، حَبَّذَا يَوْمُ الذِّمَارِ . ثُمَّ جَاءَتْ كَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ الْكَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَرَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ؟ قَالَ : مَا قَالَ ؟ قَالَ : كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ : كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ. قَالَ : وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكَزَ رَايَتُهُ بِالْحَجُونِ. قَالَ عُرْوَةُ : وَأَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، هَاهُنَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكُزَ الرَّايَةَ. قَالَ : وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُدَا، فَقُتِلَ مِنْ خَيْلِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ رَجُلَانِ ؛ حُبَيْشُ بْنُ الْأَشْعَرِ، وَكُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِهْرِيُّ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4280

معاویہ بن قرۃ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن دیکھا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ سورۃ الفتح کی تلاوت کر رہے تھے اور آپ حروف کو حلق میں لوٹا رہے تھے معاویہ بن قرہ نے کہا۔ اگر لوگ میرے گرد جمع نہ ہوتے تو میں حروف کو حلق میں اس طرح لوٹاتا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے لوٹایا تھا۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ يُرَجِّعُ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ حَوْلِي لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4181

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے زمانہ میں کہا: یارسول اللہ! آپ کل کہاں ٹہریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی ٹہر نے کی جگہ چھوڑی ہے؟ پھر آپ نے فرمایا: مؤمن کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مؤمن کا وارث ہوتا ہے الزہری سے پوچھا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: ان کے وارث عقیل اور طالب ہوۓ تھے معمر نے کہا از الزہری: آپ کل کہاں ٹہریں گے یہ انہوں نے آپ کے حج میں کہا تھا اور یونس نے اپنی روایت میں فتح مکہ کے زمانہ کا ذکر کیا ہے نہ آپ کے حج کا ذکر کیا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٢،حدیث نمبر ٤٢٨٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ؟ ". 4283 ثُمَّ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ ". قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ : وَمَنْ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ ؟ قَالَ : وَرِثَهُ عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ. قَالَ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ : أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ. وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ : حَجَّتِهِ، وَلَا : زَمَنَ الْفَتْحِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4282/4283

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ تعالی نے فتح عطاء فرمائی تو ان شاء اللہ کل ہماری قیام گاہ خیف بنو کنانہ میں ہوگی جہاں قریش نے کفر ( کی حمایت) پرقسم کھائی تھی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4284

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حنین کا ارادہ کیا تو فرمایا : کل ان شاء اللہ ہماری قیام گاہ خیف بنو کنانہ میں ہوگی جہاں قریش نے کفر ( کی حمایت ) پر قسم کھائی تھی ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ حُنَيْنًا : " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4285

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوۓ اس حال میں کہ آپ کے سر پر خٓود تھا، پس جب آپ نے وہ خٓود اتارا تو آپ کے پاس ایک مرد نے آ کر کہا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو۔ امام مالک نے کہا: ہماری راۓ یہ ہے کہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ : ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ : " اقْتُلْهُ ". قَالَ مَالِكٌ : وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4286

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوۓ اس وقت بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت نصب تھے آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جو آپ ان بتوں کو چھبورہے تھے اور آپ فرمارہے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا(الاسراء: ۸۱ ) حق غالب ہو گیا اور باطل سے ابتداء میں کچھ ہوسکا اور نہ انتہاء میں کچھ ہو سکے گاں (السبا:٤٩) (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٧)

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ نُصُبٍ ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ، وَيَقُولُ : { جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ }، { جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4287

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ میں آۓ تو آپ نے بیت اللہ میں اس حال میں داخل ہونے سے انکار کر دیا جب کہ اس میں بت موجود تھے سو آپ کے حکم سے ان بتوں کو نکالا گیا۔ پس حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے مجسمے نکالے گئے جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے پس نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ ان کو ہلاک کر دے!یہ خوب جانتے تھے کہ انہوں نے بھی تیروں سے فال نہیں نکالی پھر آپ بیت اللہ میں داخل ہوۓ اور آپ نے بیت اللہ کے کونوں میں تکبیر پڑھی اور آپ بیت اللہ سے باہر نکل آۓ اور آپ نے اس میں نماز نہیں پڑھی۔ عبدالصمد کی متابعت معمر نے کی ہے از ایوب اور وہیب نے کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی از عکرمہ از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم، (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٨٨)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا مِنَ الْأَزْلَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ؛ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ ". ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ، وَخَرَجَ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ وُهَيْبٌ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4288

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مکہ کی بلند جگہ سے داخل ہونا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ کی بلند جانب سے آۓ آپ نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھایا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ساتھ حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تھے جو کعبہ کے دربانوں میں سے تھے حتیٰ کہ آپ نے مسجد (کے قرب میں اپنا اونٹ بٹھایا پھر آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کی چابیاں لائیں، پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوۓ اور آپ کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تھے آپ نے بیت اللہ میں طویل دن گزارا پھر آپ بیت اللہ سے نکلے پھر لوگوں نے بیت اللہ میں داخل ہونے میں (ایک دوسرے پر) سبقت کی، پس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہوۓ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑے ہوۓ پایا سو ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ میں کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، حضرت عبداللہ نے کہا: میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعات نماز پڑھی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ،حدیث نمبر ٤٢٨٩)

بَابٌ : دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ. وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ، حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَمَكَثَ فِيهِ نَهَارًا طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَاسْتَبَقَ النَّاسُ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا، فَسَأَلَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4289

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کرتی ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال کداہ سے مکہ میں داخل ہوۓ جو مکہ کی بلند جانب ہے۔ لفظ کداء کی روایت میں نص ہے حبص میسرہ کی متابعت اسامہ رضی اللہ عنہ اور وہیب نے کی۔. (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ،حدیث نمبر ٢٤٩٠)

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ. تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ، وَوُهَيْبٌ فِي كَدَاءٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4290

ہشام از والد خود بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کی بلند جانب کداء سے داخل ہوۓ ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ،حدیث نمبر ٤٢٩١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4291

فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قیام گاہ ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سوا ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا ہے صرف حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں غسل کیا پھر آپ نے آٹھ رکعات نماز پڑھی وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس سے پہلے آپ کو اتنی خفیف نماز پڑھتے ہوۓ نہیں دیکھا تا ہم آپ پورا پورا رکوع اور سجودکرتے تھے۔ (بخاری شریف ،بَابٌ : مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، حدیث نمبر ٤٢٩٢)

بَابٌ : مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ؛ فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، قَالَتْ : لَمْ أَرَهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4292

حضرت عائشه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: آپ علیہ السلام اپنے رکوع اور سجود میں پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! ہمارے رب! اور تیری حمد کے ساتھ ہم دعا کرتے ہیں: اے اللہ! مجھے بخش دے! (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ :حدیث نمبر ٤٢٩٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4293

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر مجھے غزوہ بدر کے بزرگوں کے ساتھ داخل کرتے تھے تو ان میں سے بعض نے کہا: آپ اس لڑکے کو ہمارے ساتھ کیوں داخل کرتے ہیں حالانکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ان ہی میں سے ہے جن کو آپ لوگ جانتے ہیں پھر ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی بلایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلایا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: میرا گمان یہ ہے کہ مجھے صرف اس لیے بلایا تھا کہ ان کو مجھے دکھائیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ اس آیت کی تفسیر میں کیا کہتے ہیں: جب اللہ کی مدد اور اس کی فتح آ جاۓ اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہو جائیں (الفتح:۱۲) حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورت ختم کی ان بزرگوں میں سے کسی نے کہا: ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب ہماری مدد کی جاۓ اور ہم کو فتح عطاء کی جاۓ تو ہم اللہ تعالی کی حمد کریں اور اس سے استغفار کریں اور کسی نے کہا: ہم نہیں جانتے اور کسی نے کچھ بھی نہیں کہا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ! کیا تم بھی اس طرح کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی مدت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو یہ خبر دی ہے کہ جب آپ کے پاس اللہ کی مدد اور اس کی فتح آ جاۓ اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے تو یہ آپ کی زندگی پوری ہونے کی علامت ہے سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھیں اور اس سے مغفرت طلب کریں بے شک وہ بہت تو بہ قبول فرمانے والا ہے حضرت عمر نے کہا: میں اس آیت کی تفسیر میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم جانتے ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : ،حدیث نمبر ٤٢٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ. قَالَ : فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَعَانِي مَعَهُمْ، قَالَ : وَمَا رُئِيتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي : { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ } { وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا } ؟ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : أُمِرْنَا أَنْ نَحْمَدَ اللَّهَ، وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا، وَفُتِحَ عَلَيْنَا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا نَدْرِي، أَوْ لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا. فَقَالَ لِي : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَكَذَاكَ تَقُولُ ؟ قُلْتُ : لَا. قَالَ : فَمَا تَقُولُ ؟ قُلْتُ : هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْلَمَهُ اللَّهُ لَهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ. { فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا }. قَالَ عُمَرُ : مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4294

لیٹ نے حدیث بیان کی از المقبری از ابی شرح العدوی انہوں نے عمرو بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ پر حملہ کرنے کے لیے فوج روانہ کر رہا تھا کہ اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کو وہ حدیث سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ سے اگلے دن فرمائی تھی اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا جب آپ علیہ السلام فرمارہے تھے آپ نے اللہ تعالی کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا: بے شک مکہ کو اللہ تعالی نے حرم قرار دیا ہے اور اس کو لوگوں نے حرم قرار نہیں دیا سو جو شخص بھی اللہ تعالی پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے مکہ میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ اس کے لیے مکہ کے کسی درخت کو کاٹنا جائز ہے اگر کوئی شخص مکہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قتال کرنے سے مکہ میں قتال کرنے کی اجازت پر استدلال کرے تو تم اس سے یہ کہو کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مکہ میں قتال کرنے کی اجازت دی تھی اور تم کو اجازت نہیں دی ہے اور مجھے بھی دن کی صرف ایک ساعت کے لیے اجازت دی تھی اور آج اس کی حرمت کل کی طرح لوٹ آئی ہے اور چاہیے کہ حاضر غائب کو یہ حدیث پہنچادے پھر ابو شریح سے پوچھا گیا: پھر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا: اے ابو شریح! میں اس مسئلہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس کو جوقتل کر کے (قصاص سے بھاگا ہو نہ اس کو جو چوری کر کے بھاگا ہو۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : ،حدیث نمبر ٤٢٩٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ : ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ ؛ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ : مَاذَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو ؟ قَالَ : قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ ؛ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : الخَرْبَةُ : الْبَلِيَّةُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4295

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اس وقت آپ مکہ میں تھے آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خمر (انگور کی شراب ) کی خرید وفروخت کو حرام فرما دیا ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٢٩٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4296

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں انیس دن ٹھہرے آپ علیہ السلام دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : مَقَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٩٨)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4298

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ(مکہ مکرمہ میں) انیس دن تک قیام کی مدت میں قصر کرتے تھے اور اگر اس سے زیادہ قیام کرتے تو پھر پوری نماز پڑھتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : مَقَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٤٢٩٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ تِسْعَ عَشْرَةَ نَقْصُرُ الصَّلَاةَ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَنَحْنُ نَقْصُرُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4299

عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر نے خبر دی اور نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٠)

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ وَجْهَهُ عَامَ الْفَتْحِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4300

سنین ابی جمیلہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں انہوں نے خبر دی اور ہم ابن المسیب کے ساتھ تھے اور ابو جمیلہ کا زعم یہ ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پایا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ کے سال نکلے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠١)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ قَالَ : أَخْبَرَنَا وَنَحْنُ مَعَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : وَزَعَمَ أَبُو جَمِيلَةَ أَنَّهُ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ مَعَهُ عَامَ الْفَتْحِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4301

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایوب نے بتایا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: تم حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مل کر سوال کیوں نہیں کرتے سو میں ان سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے بتایا: ہم اس پانی کے تالاب کے پاس تھے جو لوگوں کی گزرگاہ پر واقع تھا، ہمارے پاس سے سوار گزرتے تھے ہم ان سے پوچھتے: لوگوں کی کیا رائے ہے اور اس شخص کے متعلق کیا رائے ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ شخص یہ کہتا ہے کہ اس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے یا اس پر اللہ تعالٰی نے اس اس طرح وحی کی ہے سو میں اس کلام کو یاد کر لیتا اور وہ کلام میرے سینہ میں جم جاتا تھا اور عرب کے رہنے والوں نے اپنے اسلام لانے کو فتح مکہ پر موقوف کر دیا تھا وہ یہ کہتے تھے کہ ان کو اور ان کی قوم کو چھوڑ دو اگر وہ ان پر غالب ہو گئے تو وہ سچے نبی ہیں، پس جب مکہ فتح ہونے کا واقعہ ہوا تو ہر قبیلہ نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی اور میرے قبیلہ سے میرے والد نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی پس جب وہ اسلام لا کر واپس آئے تو انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس آیا ہوں اور اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں آپ نے فرمایا: تم فلاں فلاں وقت میں فلاں فلاں نماز پڑھا کرو سو جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان دے اور تم میں سے جس آدمی کو سب سے زیادہ قرآن مجید یاد ہو وہ نماز پڑھائے، پس لوگوں نے تفتیش کی تو مجھ سے زیادہ کسی شخص کو قرآن مجید یاد نہیں تھا، کیونکہ میں گزرنے والے سواروں سے سن کر قرآن مجید یاد کرتا رہتا تھا تو انہوں نے (نماز میں ) مجھ کو آگے کر دیا اور میں اس وقت چھ یا سات سال کا تھا اور میں نے چھوٹی چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا، جب میں سجدہ میں جاتا تو وہ تہبند سمٹ کر اوپر چڑھ جاتا تو قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی مقعد ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ! تو لوگوں نے میرے لیے قمیص خریدی تو میں کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوا تھا جتنا اس قمیص سے خوش ہوا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ . قَالَ : قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ : أَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ ؟ قَالَ : فَلَقِيتُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : كُنَّا بِمَاءٍ مَمَرَّ النَّاسِ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ، فَنَسْأَلُهُمْ : مَا لِلنَّاسِ ؟ مَا لِلنَّاسِ ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ ؟ فَيَقُولُونَ : يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَى إِلَيْهِ، أَوْ : أَوْحَى اللَّهُ بِكَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ، وَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ، فَيَقُولُونَ : اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ ؛ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ. فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ، مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا. فَقَالَ : صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا. فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي ؛ لِمَا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ، أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ : أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ ؟ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4302

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ عقبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ زمعہ کی باندی کے بیٹے پر قبضہ کرلیں اور عقبہ نے کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے سو جب رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے زمعہ کی باندی کے بیٹے کو لے لیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور اس کے ساتھ عبد بن زمعہ بھی آئے، پس حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا: یہ میرا بھتیجا ہے (میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے ) یہ وصیت کی تھی کہ یہ ان کا بیٹا ہے اور عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے اور زمعہ کی باندی کا بیٹا ہے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے زمعہ کی باندی کے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ تمام لوگوں سے زیادہ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ تھا' تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد بن زمعہ ! یہ تمہارا ہے اور تمہارا بھائی ہے کیونکہ یہ زمعہ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (حضرت سودہ بنت زمعہ سے فرمایا: ) اے سودہ! تم اس سے حجاب میں رہا کرو کیونکہ آپ نے اس میں عقبہ بن ابی وقاص کی مشابہت دیکھی تھی، ابن شہاب نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور ابن شہاب نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کا اعلان کر کے سناتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٣)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وَقَالَ عُتْبَةُ : إِنَّهُ ابْنِي. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ. قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخِي هَذَا ابْنُ زَمْعَةَ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَكَ، هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ". مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ". لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ". وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِيحُ بِذَلِكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4303

عروہ بن الزبیر نے خبر دی وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں غزوہ فتح مکہ کے دوران ایک عورت نے چوری کی تو اس کے قبیلہ کے لوگ بھاگ کر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ان سے سفارش طلب کرتے تھے عروہ نے بیان کیا کہ جب اس کے متعلق حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، آپ نے فرمایا: تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق مجھ سے سفارش کر رہے ہو! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ ! میرے لیے مغفرت طلب کیجئے ! پھر دن ڈھلے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق حمد وثناء کی، پھر حمد و ثناء کے بعد فرمایا: تم سے پہلی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئی تھیں کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی پس ماندہ آدمی چوری کرتا تو وہ اس پر حد جاری کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم دیا سو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اس عورت نے اس کے بعد بہت اچھی توبہ کی اور اس نے شادی کرلی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پھر اس واقعہ کے بعد وہ عورت ان کے پاس آتی تھی، پھر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اس کی ضرورتوں کو پیش کرتی تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ، قَالَ عُرْوَةُ : فَلَمَّا كَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ " قَالَ أُسَامَةُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ النَّاسَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ". ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ يَدُهَا، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، وَتَزَوَّجَتْ. قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4304

مجاشع نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کو لے کر آیا انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس اپنے بھائی کو لے کر آیا ہوں، تا کہ آپ اس کو ہجرت پر بیعت کر لیں، آپ نے فرمایا: اہل ہجرت تو ہجرت کی فضیلت کو لے کر چلے گئے میں نے پوچھا: پھر آپ اس کو کس چیز پر بیعت کریں گے؟ آپ نے فرمایا: میں اس کو اسلام ایمان اور جہاد پر بیعت کروں گا پھر اس کے بعد میں معبد سے ملا اور وہ دونوں بھائیوں سے بڑے تھے سو میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٥،و حدیث نمبر ٤٣٤٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ : " ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا ". فَقُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ ؟ قَالَ : " أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْإِيمَانِ، وَالْجِهَادِ ". فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ بَعْدُ وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4305/4306

حضرت مجاشع بن مسعود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گیا تا کہ آپ حضرت مجاشع کو ہجرت پر بیعت کرلیں، آپ نے فرمایا: ہجرت تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکی ہے، میں اس کو اسلام اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں، پھر میں حضرت ابو معبد سے ملا اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔ ہے اور خالد نے بیان کیا از ابی عثمان از مجاشع کہ وہ اپنے بھائی مجالد کو لے کر آئے۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٧،و حدیث نمبر ٤٣٠٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ : " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْجِهَادِ ". فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ. وَقَالَ خَالِدٌ : عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعٍ ، أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4307/4308

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہا کہ میں شام کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کرتا ہوں، انہوں نے کہا: اب ہجرت (فرض). نہیں ہے لیکن جہاد ہے سو اب تم جاؤ اور اپنے ( آپ کو جہاد پر ) پیش کرو اگر تم نے جہاد کو پالیا تو فبہا ورنہ واپس آجاؤ۔ مجاہد نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آج ہجرت نہیں ہے یا کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ہجرت (فرض ) نہیں ہے اس کی مثل ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣٠٩،و حدیث نمبر ٤٣١٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَى الشَّأْمِ. قَالَ : لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ، فَانْطَلِقْ فَاعْرِضْ نَفْسَكَ، فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلَّا رَجَعْتَ. 4310 وَقَالَ النَّضْرُ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ، أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مِثْلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4309/4310

مجاہد بن جبر المکی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کہتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ( فرض) نہیں ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣١١!

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4311

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زیارت کی، پس انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: آج ہجرت (فرض ) نہیں ہے، پہلے کوئی مومن اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف بھاگتا تھا، اس خوف سے کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہو جائے گا لیکن آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے سو مؤمن اب جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرے لیکن جہاد اور نیت ( کا ثواب) ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣١٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ : لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ ؛ كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4312

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کھڑے ہو گئے، پس آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، اسی دن اس نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا سو یہ اللہ تعالٰی کے حرام کرنے سے قیامت تک کے لیے حرام ہے یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور اس میں میرے لیے (قتال) صرف زمانہ کی ایک ساعت کے لیے حلال ہوا تھا، اس کے شکار کو بھگایا جائے گا نہ اس کے کانٹوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گھاس کو کاٹا جائے اور اعلان کرنے والے کے سوا کسی اور کے لیے مکہ مکرمہ میں گری ہوئی چیز کو اُٹھانا جائز نہیں ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ ! ماسوا اذخر گھاس کے کیونکہ وہ ہمارے لوہار کے لیے اور ہمارے گھروں کے لیے ضروری ہے تو آپ خاموش ہو گئے پھر آپ نے فرمایا: سوائے اذخر گھاس کے کیونکہ اس کو کاٹنا حلال ہے۔ اور از ابن جریج انہوں نے کہا: مجھے عبد الکریم نے خبر دی از عکرمه از حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس حدیث کی مثل یا نحو اس حدیث کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حدیث نمبر ٤٣١٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا سَاعَةً مِنَ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ". فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؛ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ. فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ ". وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا، أَوْ نَحْوَ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4313

اللہ عز وجل کے درج ذیل ارشاد کی تفسیر ترجمہ:اور حنین کے دن جب تمہاری کثرت نے تمہیں گھمنڈ میں ڈال دیا تو اس (کثرت ) نے کسی چیز کو تم سے دور نہ کیا اور زمین اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے واپس گئے پھر اللہ نے اپنی طرف سے طمانیت قلب اپنے رسول اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر نازل کیے جو تم نے نہ دیکھے اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ان کو عذاب دیا اور یہی کافروں کی سزا ہے پھر اللہ تعالیٰ جن کو چاہے گا ان کی توبہ قبول فرما لے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے (التوبہ: ۲۷ - ۲۵ ) اسماعیل نے خبر دی وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ضرب کا نشان دیکھا، انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن مجھے یہ چوٹ لگی تھی میں نے پوچھا کہ آپ حنین میں حاضر تھے؟ انہوں نے کہا: میں اس سے پہلے حاضر تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ. حدیث نمبر ٤٣١٤)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ } { ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ }. إِلَى قَوْلِهِ : { غَفُورٌ رَحِيمٌ }. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً قَالَ : ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ. قُلْتُ : شَهِدْتَ حُنَيْنًا ؟ قَالَ : قَبْلَ ذَلِكَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4314

ابی اسحاق نے کہا: میں نے حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے سنا ان کے پاس ایک مرد نے آکر کہا: اے ابو عمارہ! کیا آپ حنین کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگے تھے ؟ انہوں نے کہا: رہا میں تو میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری لیکن لوگوں نے جلد بازی کی اور ہوازن کے تیروں نے ان کو نشانہ بنایا اور حضرت ابوسفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا سر پکڑے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے: میں نبی ہوں اور یہ جھوٹ نہیں ہے اور میں عبید المطلب کا بیٹا ہوں ۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ،حدیث نمبر ٤٣١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَارَةَ، أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ ، فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ يَقُولُ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4315

ابی اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں سن رہا تھا کہ کیا تم لوگ حنین کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پیٹھ پھیر کر بھاگے تھے؟ پس انہوں نے کہا : رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ نہیں بھاگے تھے وہ لوگ تیر انداز تھے تو آپ نے فرمایا: بے شک میں نبی ہوں بے شک میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ،حدیث نمبر ٤٣١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قِيلَ لِلْبَرَاءِ وَأَنَا أَسْمَعُ : أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا، كَانُوا رُمَاةً، فَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4316

ابی اسحاق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے قبیلہ قیس کے ایک مرد نے سوال کیا: کیا تم حنین کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے تھے سو انہوں نے کہا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے ھوازن تیرانداز تھے اور جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ شکست کھا گئے تو ہم غنیمتوں پر جھک گئے سو انہوں نے ہمیں تیروں کا نشانہ بنا لیا اور تحقیق یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور بے شک حضرت ابوسفیان اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بے شک میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ،حدیث نمبر ٤٣١٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعَ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ : أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : لَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ ؛ كَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ، فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِزِمَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ " قَالَ إِسْرَائِيلُ ، وَزُهَيْرٌ : نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَغْلَتِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4317

عروہ بن الزبیر کا یہ زعم ہے کہ مروان اور حضرت المسور بن مخرمہ نے ان کو خبر دی کہ جب هوازن کا وفد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا تو آپ کھڑے ہو گئے انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ آپ ان کے اموال اور ان کے قیدی ان کی طرف لوٹا دیں تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کو تم دیکھ رہے ہو میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ بات وہ ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو تم دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کر لو یا قیدی یا مال اور میں نے تمہارے معاملہ میں تاخیر کی ہے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس آنے کے بعد دس سے زیادہ راتیں ان کا انتظار کیا، جب ھوازن کو یہ معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کو دو میں سے صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں، تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ تعالی کی ایسی حمد و ثناء کی جو اس کی شان کے لائق ہے پھر آپ نے فرمایا حمد وثناء کے بعد یہ تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرتے ہوئے آئے ہیں اور میں نے یہ مناسب سمجھا کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں، سو تم میں سے جو شخص خوشی سے اس فیصلہ پر عمل کرنا چاہتا ہوتو وہ کرے اور تم میں سے جو شخص اپنے حصہ کو رکھنا چاہتا ہوں حتیٰ کہ ہم اس کو مال فئے میں سے دے دیں جو اللہ تعالٰی ہم کو جنگ سے پہلے عطاء فرمائے گا تو وہ ایسا کرلئے پس لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! بے شک ہم نے خوشی سے یہ قبول کرلیا ہے تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ( از خود) نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اس کی اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی، پس تم سب واپس جاؤ حتی کہ ہمارے پاس تمہارے کار مختار آجائیں، پھر سب لوگ لوٹ گئے اور انہوں نے اپنے کار ہائے مختار سے مشورہ کیا پھر وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پس انہوں نے یہ خبر دی کہ انہوں نے خوشی سے اس فیصلہ کو قبول کیا ہے اور اس پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے یہ وہ حدیث ہے جو مجھے ہوازن کے قیدیوں سے پہنچی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ،حدیث نمبر ٤٣١٨،و حدیث نمبر ٤٣١٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ : وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا : فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا، وَأَذِنُوا، هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4318/4319

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم حنین سے واپس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے متعلق سوال کیا،"تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی نذرمانی تھی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں اس نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ اور بعض نے کہا: حماد نے روایت کی ہے از ایوب از نافع از ابن عمر۔ اور روایت کیا اس حدیث کو جریر بن حازم اور حماد بن مسلمہ نے از ایوب از نافع از حضرت ابن عمر از نبی صلی الله علیہ وسلم، (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْعِلْمُ | بَابُ مَنْ سُئِلَ عِلْمًا،حدیث نمبر ٤٣٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ. ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافًا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَفَائِهِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4320

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے جب ہمارا مقابلہ ہوا تو مسلمانوں میں کچھ کمزوری تھی پس میں نے دیکھا کہ ایک مشرک مرد مسلمان مرد کی پشت پر سوار تھا میں نے پیچھے سے اس کی گردن کے اوپر تلوار کا ایک وار کیا، سو میں نے اس کی زرہ کاٹ ڈالی وہ مشرک میری طرف پلٹا اور مجھے زور سے دبایا جس سے مجھے موت کی خوشبو آئی پھر اس مشرک کو موت آگئی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا پھر میں حضرت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے پوچھا لوگوں کیا ہوا ہے؟ انہوں کہا: یہ اللہ عزوجل کی تقدیر ہے پھر مسلمان پلٹے ۔اور (جنگ کے اختتام کے )بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی بیٹھ گئے، پس آپ نے فرمایا: جس نے کسی مشرک کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ بھی ہو تو اس سامان اسی کو ملے گا میں نے سوچا میرے متعلق کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا پس میں کھڑا ہو گیا،پس میں نے کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا،پھر میں بیٹھ گیا حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا پھر میں کھڑا ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے قتادہ کیا بات ہے! تو میں نے آپ کو خبر دی تو ایک شخص نے کہا:اس نے سچ کہا ہے اور اس کا سامان میرے پاس ہے آپ اس کو میری طرف سے راضی کر دیجئے، پس حضرت ابو بکر نے کہا نہیں! اللہ کی قسم! اللہ تعالی کے شیروں میں سے ایک شیر جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑتا ہے تو آپ علیہ السلام اس کا سامان تمہیں دے دیں!یہ نہیں ہو سکتا! تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر نے سچ کہا ہے، تم وہ سامان اس کو دے دو تو اس شخص نے وہ سامان مجھے دے دیا تو میں نے اس سامان سے بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا:جب حنین کا دن تھا تو میں نے ایک مسلمان مرد کی طرف دیکھا جو مشرکین میں سے ایک کے ساتھ لڑ رہا تھا اور دوسرا مشرک اس مسلمان کو پیچھے سے حملہ کر کے قتل کرنے کی گھات میں تھا سو میں جلدی سے اس دوسرے مشرک کی طرف بڑھا جو اُس مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا سو اس مشرک نے مجھ پر ضرب لگانے کے لئے ہاتھ اٹھایا اور میں نے اس ہر ضرب لگا کر اس کو کاٹ ڈالا سو اس نے مجھے پکڑ کر بہت زور سے دبایا حتیٰ کہ میں خوف زدہ ہو گیا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر وہ ڈھیلا پڑ گیا سو میں نے اس کو دھکا دیا پھر اس کو قتل کر دیا سو مسلمان شکست کھا گئے اور میں بھی ان کے ساتھ شکست خوردہ گیا پھر اچانک میں نے لوگوں میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا،میں نے ان سے کہا یہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، انہوں نے کہا یہ اللہ کی تقدیر ہے پھر لوگ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف پلٹے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے اس پر گواہ قائم کر دیا کہ میں نے کسی مشرک کو قتل کر دیا ہے تو وہ اس کے سامان کا مالک ہوگا پس میں کھڑا ہوا تاکہ اس پر کوئی گواہ تلاش کروں جس کو میں نے قتل کیا تو میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو میرے حق میں گواہی دیتا پس میں بیٹھ گیا،پھر مجھے خیال آیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ مقتول کا ہتھیار میرے پاس آپ ان کو میرے حق میں راضی کر دیں تا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں! آپ قریش کے ایک بزدل کو یہ ہتھیار نہ دیں اور اللہ کے شیروں میں سے اس شیر کو دیں دیں جو اللہ تعالیٰ اس کے رسول علیہ السلام کی طرف سے جنگ کرتا ہے،حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہتھیار مجھے عطاء فرما دیا میں نے اس سے ایک باغ خرید اور یہ پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ،حدیث نمبر ٤٣٢١،و حدیث نمبر ٤٣٢٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ - مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. ثُمَّ رَجَعُوا، وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ : صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنِّي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَا هَا اللَّهِ إِذَنْ، لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ فَأَعْطِهِ ". فَأَعْطَانِيهِ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ. 4322 وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ - مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَآخَرُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَأَسْرَعْتُ إِلَى الَّذِي يَخْتِلُهُ، فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِي وَأَضْرِبُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا، ثُمَّ أَخَذَنِي، فَضَمَّنِي ضَمًّا شَدِيدًا حَتَّى تَخَوَّفْتُ، ثُمَّ تَرَكَ، فَتَحَلَّلَ، وَدَفَعْتُهُ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ، وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ، وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ. ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي، فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَلَّا، لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4321/4322

باب:غزوہ اوطاس کا بیان۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ نے ایک لشکر کے ساتھ حضرت ابو عامر رضی اللہ کو وادی اوطاس کی طرف بھیجا پس وہاں درید بن الصمہ سے مقابلہ ہوا سو درید کو قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی، حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:اور آپ نے مجھے حضرت عامر کے ساتھ بھیجا "پس حضرت ابو عامر کے گھٹنے میں ایک جشمیٰ کا تیر لگا اور وہ ان کے گھٹنے میں پیوست ہو گیا، پس میں نے حضرت ابو عامر کے پاس جا کر پوچھا: اے میرے چچا! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ تو انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بتایا کہ وہ میرا قاتل ہے جس نے مجھے تیر مارا ہے سو میں اس کا قصد کر کے اس سے جاملا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ پیٹھ موڑ کر بھاگا پس میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں اس سے کہہ رہا تھا کہ تجھے حیاء نہیں آتی ! تو ٹھہرتا کیوں نہیں ! پس وہ ٹھہر گیا پھر ہم دونوں کی تلواریں ٹکرائیں، پس میں نے اس کو قتل کر دیا پھر میں نے حضرت ابو عامر سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے قاتل کو مارڈالا اُنہوں نے کہا: تم میرے گھٹنے سے یہ تیر نکال لو میں نے ان کے گھٹنے سے وہ تیر نکالا تو اس سے پانی نکلنے لگا، انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس جا کر میرا سلام پیش کرو اور آپ سے عرض کرو کہ میرے لیے بخشش کی دعا کریں اور حضرت ابو عامر نے مجھے لوگوں پر اپنا جانشین بنایا، پس وہ تھوڑی دیر زندہ رہے پھر وہ فوت ہو گئے، پھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا' آپ اپنے گھر میں کھجور کی رسیوں سے بنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس پر بستر تھا، چار پائی کی بنائی آپ کی پشت اور پہلوؤں پر نقش ہو گئی تھی، میں نے آپ کو اپنی خبریں بتا ئیں اور حضرت ابو عامر کی خبر بتائی اور میں نے بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں تو آپ نے پانی منگا کر وضو کیا، پھر دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی: اے اللہ ! عبید ابی عامر کو بخش دے اور میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر آپ نے دعا کی: اے اللہ ! اس کو قیامت کے دن اپنی مخلوق میں بہت لوگوں کے اوپر درجہ عطا فرمانا' میں نے عرض کیا: اور میرے لیے بھی بخشش طلب کریں تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! عبد اللہ بن قیس کے گناہوں کو معاف فرما اور اس کو قیامت کے دن عزت والی جگہ میں داخل فرما دیتا ! حضرت ابو بردہ نے کہا: ان میں سے ایک دعا حضرت ابو عامر کے لیے تھی اور دوسری دعا حضرت ابو موسیٰ کے لیے تھی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ غَزَاةِ أَوْطَاسٍ،حدیث نمبر ٤٣٢٣)

بَابُ غَزَاةِ أَوْطَاسٍ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ، قَالَ أَبُو مُوسَى : وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ، فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ ؛ رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ، مَنْ رَمَاكَ ؟ فَأَشَارَ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَقَالَ : ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي. فَقَصَدْتُ لَهُ، فَلَحِقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى، فَاتَّبَعْتُهُ، وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ : أَلَا تَسْتَحْيِي ؟ أَلَا تَثْبُتُ ؟ فَكَفَّ، فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِي عَامِرٍ : قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبَكَ. قَالَ : فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ. فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، أَقْرِئِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ : اسْتَغْفِرْ لِي. وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، فَمَكُثَ يَسِيرًا، ثُمَّ مَاتَ، فَرَجَعْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا، وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ، وَقَالَ : قُلْ لَهُ : اسْتَغْفِرْ لِي. فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ". وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ ". فَقُلْتُ : وَلِي فَاسْتَغْفِرْ. فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا ". قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : إِحْدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ، وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوسَى.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4323

غزوہ طائف کا بیان۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا: یہ غزوہ شوال آٹھ ہجری میں ہوا ہے۔ حضرت ام سلمه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت میرے پاس ایک مخنت (خواجہ سرا) تھا میں نے سنا وہ حضرت عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اے عبداللہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے کل تمہارے لیے الطائف کو فتح کر دیا تو تم غیلان کی بیٹی پر قبضہ کر لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل دکھائی دیتے ہیں اور جب وہ پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں (یعنی وہ بہت موٹی تازی ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص اب تمہارے پاس نہ آیا کرے ابن عیینہ نے کہا کہ ابن جریج نے بتایا کہ اس مخنت کا نام ھیت تھا۔ ہمیں محمود نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی از ہشام یہی حدیث اور یہ اضافہ کیا کہ آپ اس دن طائف کا محاصرہ کرنے والے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٢٤)

بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ. حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، سَمِعَ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ ؛ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ". وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : الْمُخَنَّثُ : هِيتٌ. حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا، وَزَادَ : وَهُوَ مُحَاصِرُ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4324

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے الطائف کا محاصرہ کیا اور ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا'تو آپ نے فرمایا: ہم کل ان شاء الله مدینہ لوٹ جائیں گئے صحابہ کو یہ ارشاد ناگوار گزرا انہوں نے کہا: ہم واپس جائیں گے اور الطائف کو فتح نہیں کریں گے ! سفیان نے دوسری بار کہا : آپ نے ارشاد فرمایا کہ صبح سویرے قتال کرنا انہوں نے صبح حملہ کیا تو وہ زخمی ہو گئے آپ نے فرمایا: کل ان شاء اللہ ہم واپس جائیں گئے سو صحابہ اس ارشاد سے خوش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہنسے اور دوسری بار سفیان نے بتایا : آپ مسکرائے۔ الحمیدی نے کہا: یہ پوری حدیث ہم کو سفیان نے بیان کی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٢٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا : نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ. وَقَالَ مَرَّةً : " نَقْفُلُ ". فَقَالَ : " اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ". فَغَدَوْا، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَأَعْجَبَهُمْ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : فَتَبَسَّمَ. قَالَ : قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4325

ابو عثمان نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں تیر مارا اور حضرت ابو بکرہ سے سنا اور وہ چند لوگوں کے ساتھ الطائف کے قلعہ پر چڑھے تھے اور وہ اس طرح نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان دونوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے آپ کو اپنے والد کے غیر کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ میرا باپ نہیں ) اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے کہا: اور ہم کو معمر نے خبر دی از عاصم از ابی العالیه یا ابوعثمان النہدی انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سنا از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم عاصم نے بیان کیا کہ میں نے کہا: آپ کو دو ایسے مردوں نے شہادت دی ہے جن کی شہادت آپ کے لیے کافی ہے انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ان دو میں سے ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور دوسرے وہ ہیں جو تئیس میں سے تئیسویں مرد تھے جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ. حدیث نمبر ٤٣٢٦،و حدیث نمبر ٤٣٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ". وَقَالَ هِشَامٌ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ : قُلْتُ : لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا. قَالَ : أَجَلْ ؛ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الطَّائِفِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4326/4327

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب آپ جعرانہ سے اُتر رہے تھے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اس وقت ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: کیا آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو آپ پورا نہیں کریں گے؟ آپ نے اس سے فرمایا: بشارت قبول کرو اس نے کہا آپ نے مجھ سے بہت دفعہ کہا ہے کہ بشارت قبول کرو! تب آپ حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہما کی طرف متوجہ ہوئے جیسے غصہ میں ہوں،آپ نے فرمایا: اس نے بشارت کو مسترد کر دیا تم دونوں اس کو قبول کر لو دونوں نے کہا: ہم نے قبول کیا، پھر آپ نے ایک پیالہ میں پانی منگایا اور اس سے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اس پیالہ میں کلی کی، پھر فرمایا: تم دونوں اس سے پی لو اور بقیہ پانی کو اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو اور تم دونوں بشارت کو قبول کرو سو ان دونوں نے پیالہ لیا، پس اسی طرح کیا، پھر پردہ کے پیچھے سے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آواز دی کہ اپنی ماں کے لیے ( پیالہ کا تبرک) بچانا، سو ان دونوں نے ان کے لیے پیالہ کچھ پانی بچایا۔۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ : أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي ؟ فَقَالَ لَهُ : " أَبْشِرْ ". فَقَالَ : قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ. فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ : " رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلَا أَنْتُمَا ". قَالَا : قَبِلْنَا. ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ : " اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا ". فَأَخَذَا الْقَدَحَ، فَفَعَلَا، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا. فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4328

صفوان بن یعلی بن امیہ نے خبر دی کہ حضرت یعلی کہتے تھے : کاش ! میں اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھتا جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہوتی ، پس جس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم الجعرانہ میں تھے اور آپ کے اوپر ایک کپڑا تھا جس سے آپ کے اوپر سایا کیا ہوا تھا اور آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ تھے اس وقت آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا جس نے جبہ (لمبا کوٹ) پہنا ہوا تھا اور اس پر خوشبو کا لیپ کیا ہوا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس مرد کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس نے عمرہ کا احرام جبہ میں باندھا اس کے بعد اس نے اس میں خوشبو کا لیپ کیا تو حضرت عمر نے حضرت یعلی کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ادھر آو پس حضرت یعلی آئے اور انہوں نے (اس کپڑے میں) اپنا سر داخل کیا، اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آپ سے اسی حالت میں تھوڑی دیر تک خراٹوں کی طرح آواز آتی رہی پھر جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ نے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق سوال کیا تھا؟ پس اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا، پھر آپ نے فرمایا: رہی وہ خوشبو جو تم پر لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھو لو رہا جبہ تو اس کو تم اتار دو پھر تم اپنے عمرہ میں اسی طرح افعال کرو جس طرح تم حج میں کرتے ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٢٩)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ : فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَمَا تَضَمَّخَ بِالطِّيبِ ؟ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ؟ " فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ : " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4329

عبدالله بن زید بن عاصم بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حنین کے دن اموال غنیمت لوٹائے تو آپ نے لوگوں میں سے مؤلفۃ القلوب کو وہ اموال عطاء کیے اور انصار کو کچھ بھی نہیں دیا، پس گویا کہ انصار کو اس پر غم اور غصہ ہوا کیونکہ ان کو وہ اموال نہیں ملے جولوگوں کو ملے تھے تو آپ نے ان کو خطبہ دیا، پس فرمایا: اے انصار کی جماعت ! کیا یہ بات نہیں ہے کہ میں نے تم کو گمراہی میں مبتلا پایا، پس اللہ تعالیٰ نے تم کو میرے سبب سے ہدایت دی اور تم متفرق تھے تو اللہ تعالی نے میرے سبب سے تم میں اُلفت ڈالی اور تم تنگ دست تھے تو اللہ تعالٰی نے میرے سبب سے تم کو غنی کر دیا جب بھی آپ کوئی جملہ ادا کرتے تو انصار کہتے: اللہ اور اس کا رسول ہم پر زیادہ احسان کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا: تمہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بات ماننے سے کیا چیز منع کرتی ہے؟ راوی نے کہا: جب بھی آپ کوئی بات فرماتے تو انصار کہتے: اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ ہم پر احسان کرنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو یہ کہتے: آپ ہمارے پاس ایسی ایسی حالت میں آئے تھے، کیا تم اس پر راضی ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر ہجرت فرض نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک مرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی اور کھائی میں جائیں تو میں اسی وادی اور گھائی میں جاؤں گا جس میں انصار گئے انصار بدن کا اندرونی لباس ہیں اور لوگ بیرونی لباس ہیں بے شک میرے بعد تم کچھ ترجیحات کا سامنا کرو گئے تم صبر کرنا حتی کہ تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ؟ وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللَّهُ بِي ؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي ؟ " كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. قَالَ : " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قَالَ : كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. قَالَ : " لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ ؟ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4330

Bukhari Sharif Kitabul Magazi Hadees No# 4331

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا - : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. قَالَ أَنَسٌ : فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ : أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ ؟ فَوَاللَّهِ، لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا. فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَجِدُونَ أُثْرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ : فَلَمْ يَصْبِرُوا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4331

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اموال غنیمت قریش کے درمیان تقسیم کیے تو انصار کو غم و غصہ ہوا پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لے جاؤ انصار نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں جاؤں گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، فَغَضِبَتِ الْأَنْصَارُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قَالُوا : بَلَى. قَالَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، أَوْ شِعْبَهُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4332

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا دن تھا تو ھوازن نے مقابلہ کیا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے اور الطلقاء تھے پس ہوازن شکست کھا گئے،آپ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت ! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں اور آپ کی اطاعت کے لیے موجود ہیں، ہم حاضر ہیں اور آپ کے سامنے موجود ہیں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اترے آپ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، پس مشرکین کو شکست ہو گئی تو آپ نے الطلقاء اور مہاجرین کو عطاء کیا اور انصار کو کچھ بھی عطا نہیں کیا تو انہوں نے کوئی اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو چمڑے کے ایک خیمے میں داخل کیا، پھر فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لے جاؤ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور انصار کسی اور گھاٹی میں جائیں تو میں اس گھاٹی کو اختیار کروں گا جس میں انصار گئے ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَالطُّلَقَاءُ ، فَأَدْبَرُوا، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ. فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ". فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ، وَالْمُهَاجِرِينَ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالُوا، فَدَعَاهُمْ، فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَاخْتَرْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4333

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا:بے شک قریش جاہلیت سے اور مصیبت سے ابھی ابھی نکلے ہیں اور میں نے ارادہ کیا کہ میں ان کی مصیبت کی تلافی کروں اور ان کی دل جوئی کروں کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا کو لے کر لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے کر لوٹو ؟ انصار نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور انصار ایک گھاٹی میں جائیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں جاؤں گا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ : " إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى. قَالَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4334

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حنین کے مال غنیمت کو تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک مرد نے کہا کہ آپ نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا تو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف آیا سو میں نے آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو بے شک انہیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی تھی تو انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٥)

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةَ حُنَيْنٍ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : مَا أَرَادَ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى ؛ لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا، فَصَبَرَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4335

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا دن تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو ترجیح دی الاقرع کو سو (۱۰۰) اونٹ دیئے اور عیینہ کو بھی اتنے ہی دیئے اور بھی چند لوگوں کو عطاء کیا تو ایک مرد نے کہا کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا تو میں نے دل میں کہا: میں ضرور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ! ان کو اس سے بہت زیادہ اذیت دی گئی تھی، انہوں نےاس پر صبر کیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا ؛ أَعْطَى الْأَقْرَعَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى نَاسًا، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُرِيدَ بِهَذِهِ الْقِسْمَةِ وَجْهُ اللَّهِ. فَقُلْتُ : لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى ؛ قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا، فَصَبَرَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4336

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا دن تھا تو ہوازن اور غطفان اور دوسرے قبائل اپنے اونٹوں کو اور اپنے بچوں کو لے آئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے اور طلقاء میں سے بھی تھے تو مسلمان لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگے حتی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے اس وقت آپ نے دو مرتبہ نداء کی اور ان کے درمیان کسی اور کلام کو نہیں ملایا' آپ نے دائیں طرف دیکھ کر فرمایا: اے انصار کی جماعت! انہوں نے کہا: یا سول اللہ ! ہم حاضر ہیں! آپ بشارت قبول کریں' ہم آپ کے ساتھ ہیں، پھر آپ نے بائیں طرف دیکھ کر فرمایا: اے انصار کی جماعت ! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں آپ بشارت قبول کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس وقت آپ سفید خچر پر سوار تھے آپ اس سے اُترے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، سو مشرکین شکست کھا گئے اور اس دن بہت اموال غنیمت حاصل ہوئے، آپ نے وہ اموال مہاجرین اور طلقا ء میں تقسیم کر دیئے اور انصار کو کچھ نہیں دیا تو انصار نے کہا: جب مشکل تھی تو ہمیں بلایا جاتا تھا اور مال غنیمت دوسروں کو دیا جا رہا ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچ گئی آپ نے ان سب کو ایک خیمہ میں جمع کیا، پس فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ تمہاری طرف سے مجھ تک کیسی بات پہنچی ہے تو وہ خاموش رہے، پس آپ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا کا مال لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ کسی وادی میں جائیں اور انصار کسی گھاٹی میں جائیں تو میں انصار کی گھاٹی کو پکڑلوں گا۔ راوی ہشام نے کہا: اے ابو حمزہ تم اس موقع پر حاضر تھے ؟ تو انہوں نے کہا: میں کب آپ سے غائب رہا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ، وَغَطَفَانُ، وَغَيْرُهُمْ بِنَعَمِهِمْ، وَذَرَارِيِّهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمِنَ الطُّلَقَاءِ ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا ؛ الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ. ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ. وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَنَزَلَ، فَقَالَ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ". فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ، وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : إِذَا كَانَتْ شَدِيدَةً فَنَحْنُ نُدْعَى وَيُعْطَى الْغَنِيمَةَ غَيْرُنَا. فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَسَكَتُوا، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ". فَقَالَ هِشَامٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَأَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ ؟ قَالَ : وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4337

اس لشکر کا بیان جونجد کی طرف روانہ ہوا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف لشکر بھیجا میں بھی اس لشکر میں تھا مال غنیمت سے ہمارا حصہ بارہ اونٹ تھا اور ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا، پس ہم تیرہ تیرہ اونٹ لے کر ہوئے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ السَّرِيَّةِ الَّتِي قِبَلَ نَجْدٍ،حدیث نمبر ٤٣٣٨)

بَابُ السَّرِيَّةِ الَّتِي قِبَلَ نَجْدٍ. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ فَكُنْتُ فِيهَا، فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا، فَرَجَعْنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4338

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ کی طرف روانہ کرنا سالم اپنے والد سے خود بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی، پس وہ اچھی طرح یہ نہیں کہہ سکے کہ ہم اسلام لے آئے تو وہ کہنے لگے: ہم ( سابقہ ) دین سے نکل گئے ہم ( سابقہ ) دین سے نکل گئے، پس حضرت خالد رضی اللہ عنہ ان کو قتل کرنے لگے اور قید کرنے لگے اور انہوں نے ہمارے ہر مرد کو ایک قیدی دیا حتی کہ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر مرد اپنے قیدی کو قتل کر دے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو نہیں قتل کروں گا اور نہ میرے اصحاب میں سے کوئی مرد اپنے قیدی کو قتل کرے گا حتی کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر دو مرتبہ دعا کی: اے اللہ ! خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں۔ (بخاری شریف ،بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ،حدیث نمبر ٤٣٣٩)

بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : صَبَأْنَا ، صَبَأْنَا. فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ، وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ، لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ. حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَاهُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". مَرَّتَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4339

حضرت عبد اللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ اور حضرت علقمہ بن مجزر المدلجی رضی اللہ عنہ کا سرایہ۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ انصاری کا سرایہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر انصار میں سے ایک مرد کو امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ وہ امیر کی اطاعت کریں، پھر کسی بات پر امیر غضب ناک ہو گیا، اس نے کہا: کیا تمہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ تم میری اطاعت کرنا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: تم میرے لیے لکڑیاں لاؤ سولوگ لکڑیاں لائے پھر اس نے کہا: ان میں آگ لگاؤ سو انہوں نے ان لکڑیوں میں آگ لگا دی، پھر اس نے کہا: اس آگ میں داخل ہو جاؤ سو بعض نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور بعض نے ایک دوسرے کو روکا اور انہوں نے کہا کہ ہم آگ سے ہی تو بھاگ کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہیں پھر وہ اسی کیفیت پر قائم رہے حتی کہ آگ بجھ گئی ، پس امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا' جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک نکل نہیں سکتے تھے صرف نیک کام کی اطاعت کی جاتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب المغازي،بَابٌ : سَرِيَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ مُجَزِّزٍ الْمُدْلِجِيِّ،حدیث نمبر ٤٣٤٠)

بَابٌ : سَرِيَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ مُجَزِّزٍ الْمُدْلِجِيِّ، وَيُقَالُ : إِنَّهَا سَرِيَّةُ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَاسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، فَغَضِبَ، فَقَالَ : أَلَيْسَ أَمَرَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ؟ قَالُوا : بَلَى. قَالَ : فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا. فَجَمَعُوا، فَقَالَ : أَوْقِدُوا نَارًا. فَأَوْقَدُوهَا، فَقَالَ : ادْخُلُوهَا. فَهَمُّوا، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يُمْسِكُ بَعْضًا، وَيَقُولُونَ : فَرَرْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ. فَمَا زَالُوا حَتَّى خَمَدَتِ النَّارُ، فَسَكَنَ غَضَبُهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؛ الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4340

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حجتہ الوداع سے پہلے یمن کی طرف بھیجنا۔ ابی بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان میں سے ہر ایک کو مختلف ضلعوں میں بھیجا انہوں نے بتایا کہ یمن میں دو یا اضلاع ہیں، پھر فرمایا: تم دونوں آسانی کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا اور بشارت دینا اور لوگوں کو متنفر نہ کرنا، پس ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے عمل کی طرف چلا گیا انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ہر ایک جب اپنی زمین میں جاتا جو ان کے صاحب کی زمین سے قریب تھی تو وہ ان سے عہد کو تازہ کرتا پس اس کو سلام کرتا سو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی زمین میں گئے جو ان کے صاحب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی زمین کے قریب تھی، پس وہ اپنی خچر پر سوار ہو کر جاتے حتیٰ کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچ جاتے اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ جمع تھے اور ان کے پاس ایک مرد تھا جس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے باندھے ہوئے تھے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! اس مرد کے ہاتھ۔کیوں باندھے ہوئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اس مرد نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک خچر سے نہیں اتروں گا حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص کو یہاں پر اسی لیے لایا گیا ہے، پس آپ اتر جائیں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں اتروں گا حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا جائے، پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کو قتل کر دیا گیا پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اترے پھر کہا: اے عبداللہ ! آپ کس طرح قرآن پڑھتے ہیں، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کو وقفے وقفے سے پڑھتا ہوں، پھر انہوں نے پوچھا: اے معاذ! آپ کس طرح پڑھتے ہیں انہوں نے بتایا: میں رات کے پہلے حصے میں سوتا ہوں، پھر قیام کرتا ہوں اور میں اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر چکا ہوتا ہوں، پھر میں اتنا قرآن پڑھتا ہوں جو اللہ نے میرے لیے مقدر کر دیا ہے سو میں اپنی نیند میں بھی ثواب کی نیت کرتا ہوں جس طرح اپنے قیام میں بھی ثواب کی نیت کرتا ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی،بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤١،و حدیث نمبر ٤٣٤٢)

بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ. حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ : وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ ، قَالَ : وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ. ثُمَّ قَالَ : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ". فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيُّمَ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ. قَالَ : لَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ. قَالَ : إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ فَانْزِلْ. قَالَ : مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ. فَأَمَرَ بِهِ، فَقُتِلَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ : فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ قَالَ : أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4341/4342

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے چند مشروبات کے متعلق پوچھا جو وہاں بنائے جاتے ہیں، آپ نے پوچھا: وہ کیسے مشروبات ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "البتع والمزر “ ۔ راوی کہتا ہے : میں نے ابو بردہ سے پوچھا: البتع کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ شہر کا نبیذ ہے . اور المزر وہ جٓو کا نبیذ ہے تو آپ نے فرمایا: ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اس حدیث کی جریر اور عبدالواحد نے روایت کی از الشیبانی از ابی برده (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤٣)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : " الْبِتْعُ، وَالْمِزْرُ ". فَقُلْتُ لِأَبِي بُرْدَةَ : مَا الْبِتْعُ ؟ قَالَ : نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ. فَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". رَوَاهُ جَرِيرٌ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4343

سعید بن ابی بردہ نے حدیث بیان کی از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، پس فرمایا: تم دونوں آسانی کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا اور بشارتیں دینا اور متنفر نہ کرنا اور ایک دوسرے کو خوش رکھنا، پس حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہماری زمین میں جٓو کے مشروب ہوتے ہیں، المزر اور شہد کے مشروب ہوتے ہیں البتع، آپ نے فرمایا: ہر نشہ آور حرام ہے پس وہ دونوں چلے گئے، پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کس طرح قرآن پڑھتے ہیں، انہوں نے کہا: کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور سواری پر اور میں اس کو وقفے وقفے سے پڑھتا ہوں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں پس میں اپنی نیند میں ثواب کی نیت کرتا ہوں جس طرح میں اپنے قیام میں ثواب کی نیت کرتا ہوں انہوں نے ایک خیمہ ڈلوایا تھا جس میں وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تھے پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، پس دیکھا ایک آدمی بندھا ہوا ہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیوں بندھا ہوا ہے؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ یہودی ہے اس نے اسلام قبول کیا، پھر مرتد ہو گیا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ضرور اس کی گردن مار دوں گا۔ اس حدیث میں مسلم کی العقد کی اور وہب نے متابعت کی ہے از شعبہ اور وسیع النضر اور ابو داؤد : نے کہا: از شعبه از سعید از والد خود از جد خود از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اسے روایت کیا جریر بن عبد الحمید نے از الشیبانی از ابی بردہ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤٤،و حدیث نمبر ٤٣٤٥)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدَّهُ أَبَا مُوسَى ، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ . فَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". فَانْطَلَقَا، فَقَالَ مُعَاذٌ لِأَبِي مُوسَى : كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَعَلَى رَاحِلَتِي، وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي، كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي. وَضَرَبَ فُسْطَاطًا فَجَعَلَا يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ. فَقَالَ مُعَاذٌ : لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ ، وَوَهْبٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَقَالَ وَكِيعٌ ، وَالنَّضْرُ ، وَأَبُو دَاوُدَ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4344/4345

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میری قوم کی زمین کی طرف بھیجا تو میں اس وقت آیا جب رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ کی ایک وادی میں ٹھہرے ہوئے تھے آپ نے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس ! کیا تم نے حج کر لیا ہے میں نے کہا: جی یا رسول اللہ ! آپ نے پوچھا: تم نے کس طرح نیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا کہ میں آپ کے احرام کی طرح احرام باندھ کر حاضر ہوں آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے ساتھ کوئی قربانی کا جانور روانہ کیا تھا انہوں نے کہا: نہیں! آپ نے فرمایا: سوتم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول دو سو میں نے اس طرح کیا حتیٰ کہ بنو قیس کی عورتوں میں سے ایک عورت نے میرے سر میں کنگھی کی اور ہم اسی طرح ٹھہرے رہے حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤٦)

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَجِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِكَ. قَالَ : " فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا ؟ " قُلْتُ : لَمْ أَسُقْ. قَالَ : " فَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَاسْعَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ ". فَفَعَلْتُ حَتَّى مَشَطَتْ لِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، وَمَكُثْنَا بِذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4346

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اس وقت فرمایا جب ان کو یمن کی طرف بھیجا کہ بے شک تم عنقریب اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جاؤ گئے، پس جب تم ان کے پاس جاؤ تو ان کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ اس پر ایمان لانے میں تمہاری اطاعت کرلیں تو تم ان کو خبر دینا کہ بے شک اللہ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس میں تمہاری اطاعت کر لیں تو ان کو خبر دینا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی، پس ان کے فقراء کی طرف لوٹائی جائے گی اگر وہ اس میں تمہاری اطاعت کر لیں تو پھر تم ان کے نفیس اور عمدہ مالوں کے لینے سے بچنا اور مظلوم کی دعا سے بچنا کیوں کہ مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ امام ابو عبد اللہ نے کہا: ” طوعت طاعت اور اطاعت یہ ایک لغت ہے اور طبعت اور طعت اور اطعت یہ بھی ایک لغت ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤٧)

حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ : " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : طَوَّعَتْ : طَاعَتْ، وَأَطَاعَتْ، لُغَةٌ : طِعْتُ، وَطُعْتُ، وَأَطَعْتُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4347

عمر و بن میمون بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں آئے تو انہوں نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں یہ آیت پڑھی اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا(النساء ۱۲۵) تو قوم کے ایک آدمی نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی۔ معاذ نے از شعبہ اضافہ کیا ہے از حبیب ار سعید از عمرو کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز میں سورہ نساء پڑھی تو جب انہوں نے کہا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا " (النساء: ۱۲۵) تو ایک آدمی جو ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٤٨)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَقَرَأَ : { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا }. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ. زَادَ مُعَاذٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا قَالَ : وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا. قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ : قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4348

حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت خالد بن الولید رضی اللہ کو حجتہ الوداع سے پہلے یمن کی طرف بھیجنا ابی اسحاق وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف بھیجا، پھر اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی جگہ بھیجا پس فرمایا: تم خالد رضی اللہ عنہ کے اصحاب سے کہنا کہ ان میں سے جو پیچھے (یمن) جانا چاہے وہ تمہارے ساتھ پیچھے چلا جائے اور جو آگے بڑھنا چاہئے وہ آگے بڑھ جائے، پس میں ان میں سے تھا جو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیچھے رہے، پس مجھے بہت زیادہ چاندی حاصل ہوئی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ، وَخَالِدِ إِلَى الْيَمَنِ. ،حدیث نمبر ٤٣٤٩)

بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ، فَقَالَ : " مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ ". فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ، قَالَ : فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4349

عبدالله بن بریده از والد خود بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تا کہ وہ خمس پر قبضہ کریں، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل کیا تھا، میں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان کی طرف دیکھ نہیں رہے، پس جب ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اے بریدہ! کیا تم علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ان سے بغض نہ رکھو کیوں کہ ان کا خمس میں اس سے بہت زیادہ حصہ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ، وَخَالِدِ إِلَى الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٥٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ : أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ". فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : " لَا تُبْغِضْهُ ؛ فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4350

عبد الرحمن بن ابی نعم نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف درخت کی چھال سے رنگے ہوئے چمڑے کی تھیلی میں کچھ سونا بھیجا جس کو ابھی مٹی سے الگ نہیں کیا گیا تھا آپ نے اس کو چار مردوں میں تقسیم کر دیا عیینہ بن بدر اور اقرع بن حابس اور زید الخیل اور چوتھے علقمہ تھے یا عامر بن الطفیل تھے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک مرد نے کہا: ان لوگوں کے بہ نسبت ہم زیادہ حق دار ہیں،حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی،آپ نے فرمایا: کیا تم مجھے امین قرار نہیں دیتے حالانکہ میں آسمان میں امین ہوں، میرے پاس صبح اور شام آسمان سے خبر آتی ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بتایا:پھر ایک مرد کھڑا ہوا جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں،گال اُبھرے ہوئے تھے پیشانی اونچی تھی،ڈاڑھی گھنی تھی، سرمنڈ ہوا تھا اور تہبند ٹخنوں سے اونچا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ سے ڈریئے! آپ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! کیا میں روئے زمین میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بتایا:پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!کیا میں اس کی گردن نہ اُڑا دوں، آپ نے فرمایا:نہیں!ہو سکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی. رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور میں ان کے پیٹوں کو چیروں کو آپ نے اس مرد کی طرف دیکھا جب کہ وہ پیٹھ پھیر چکا تھا، آپ نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے ایسی قوم نکلے گی جو تر زبان سے کتاب اللہ کی تلاوت کرے گی اور کتاب اللہ ان کے حلقوم سے تجاوز نہیں کرے گی اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گئے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر میں نے ان کو پالیا تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود کو قتل کیا گیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ، وَخَالِدِ إِلَى الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ ؛ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَأَقْرَعَ بْنِ حَابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ، وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ. قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَلَا تَأْمَنُونِي، وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ؟ " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ. قَالَ : " وَيْلَكَ، أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ ؟ " قَالَ : ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ. قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي ". فَقَالَ خَالِدٌ : وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ قُلُوبَ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ". قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ". وَأَظُنُّهُ قَالَ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4351

عطاء نے بتایا انہوں نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر برقرار رہے،محمد بن بکر نے یہ اضافہ کیا ہے از ابن جریج انہوں نے بتایا کہ عطاء نے کہا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنی ولایت سے (مال) لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے علی ! تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جس طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سو تم قربانی کا جانور بھیجو اور تم اپنا احرام اسی طرح برقرار رکھو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قربانی کا جانور روانہ کیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ، وَخَالِدِ إِلَى الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٥٢)

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ جَابِرٌ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ. زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ جَابِرٌ : فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسِعَايَتِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟ " قَالَ : بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : " فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ". قَالَ : وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4352

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج کا احرام باندھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج کا احرام باندھا پس ہم مکہ آئے تو آپ نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ اس احرام کو عمرے کا احرام کر لے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، پس ہمارے پاس حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ یمن سے حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اس کا احرام باندھا ہے جس کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم احرام باندھا ہے تو آپ نے فرمایا: تم اس احرام پر برقرار رہو کیوں کہ ہمارے پاس قربانی کا جانور ہے۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : بَعْثُ عَلِيِّ، وَخَالِدِ إِلَى الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٥٣،و حدیث نمبر ٤٣٥٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ : أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ". وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ؟ " قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : " فَأَمْسِكْ ؛ فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4353/4354

غزوہ ذی الخلصہ کا بیان حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت خانہ تھا جسے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتا تھا تو مجھ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں دیتے تو میں ایک سو پچاس سواروں کے ساتھ روانہ ہوا تو ہم نے اس کو توڑ دیا اور جو لوگ اس بت کے پاس تھے ان کو قتل کر دیا پھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے میرے لیے دعا کی اور احمس کے لیے بھی دعا کی۔ ( بخاری شریف،کتاب المغازی،بَابٌ : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ،حدیث نمبر ٤٣٥٥)

بَابٌ : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخَلَصَةِ، وَالْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، وَالْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ رَاكِبًا، فَكَسَرْنَاهُ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4355

قیس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے جریر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مجھے سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں دیتے اور وہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا جس کا نام کعبہ یمانیہ رکھا گیا تھا، پس میں احمس ( قریش) کے ایک سو پچاس گھڑ سواروں کے ساتھ روانہ ہوا اور وہ سب گھوڑے سوار تھے اور میں گھوڑے پر مضبوطی سے نہیں بیٹھ سکتا تھا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا حتیٰ کہ میں نے آپ کی انگلیوں کے نشان اپنے سینے پر دیکھے اور آپ نے دعا کی: اے اللہ ! اس کو ثابت قدم رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا پس حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس بت خانے کی طرف گئے اسے توڑ دیا اور اسے آگ لگا دی، پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف ایک قاصد روانہ کیا، پس حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس وقت تک آپ کے پاس نہیں آیا حتیٰ کہ میں نے اس بت خانہ کو اس حال میں چھوڑا گویا کہ وہ خارش زدہ (تارکول ملا ہوا ) اونٹ ہے قاصد نے بتایا: پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احمس کے لیے اور ان کے مردوں کے لیے پانچ مرتبہ دعا کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ،حدیث نمبر ٤٣٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ " وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى : الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا، وَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. قَالَ : فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ، وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4356

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں دو گے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ! پس میں احمس کے ایک سو پچاس گھڑ سواروں کے ساتھ روانہ ہوا اور وہ سب گھڑ سوار تھے اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا، میں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا حتیٰ کہ میں نے آپ کے ہاتھ کا نشان اپنے سینے پر دیکھا اور آپ نے دعا کی: اے اللہ ! اس کو ثابت قدم رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اس کے بعد میں گھوڑے سے نہیں گرا اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: ذوالخلصہ یمن میں خثعم کا اور بجیلہ کا بت خانہ تھا جس میں نصب کیے ہوئے بتوں کی عبادت کی جاتی تھی اور اس کو کعبہ کہا جاتا تھا، حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: پس وہ وہاں گئے اور اس کو آگ سے جلا دیا اور توڑ دیا۔ راوی نے بتایا کہ جب حضرت جریر رضی اللہ عنہ یمن گئے تو وہاں ایک مرد تھا جو تیروں سے فال نکالیا تھا، اس سے کہا گیا:بے شک رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قاصد یہاں ہے (یعنی حضرت جریر رضی اللہ عنہ)اگر وہ تم پر قادر ہوئے تو وہ تمہاری گردن اڑا دیں گے تو جس وقت وہ تیر سے فال نکال رہا تھا تو وہاں حضرت جریر رضی اللہ عنہ آگئے تو انہوں نے کہا: تم ضرور ان تیروں کو توڑو گے اور تم ضرور یہ شہادت دو گے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ورنہ میں تمہاری گردن ماردوں گا۔ راوی نے بتایا: اس نے ان تیروں کو توڑ دیا اور کلمہ شہادت پڑھا پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے احمس کے ایک مرد کو جس کی کنیت ابو ارطاۃ تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بشارت دینے کے لیے بھیجا، جب وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں آپ کے پاس اُس وقت تک نہیں آیا حتیٰ کہ میں نے اس بت خانہ کو اس طرح چھوڑ دیا گویا کہ وہ خارش زدہ اونٹ ہو انہوں نے بتایا: پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم احمس کے گھڑ سواروں اور مردوں کے لیے پانچ مرتبہ دعا کی۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ،حدیث نمبر ٤٣٥٧)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى. فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". قَالَ : فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ، قَالَ : وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ، وَبَجِيلَةَ فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ، يُقَالُ لَهُ : الْكَعْبَةُ، قَالَ : فَأَتَاهَا، فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، وَكَسَرَهَا، قَالَ : وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا، فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ. قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ، فَقَالَ : لَتَكْسِرَنَّهَا، وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ. قَالَ : فَكَسَرَهَا، وَشَهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى : أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. قَالَ : فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ، وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4357

غزوہ ذات السلاسل کا بیان اسماعیل بن ابی خالد نے کہا: یہ ہی قبیلہ لخم اور جذام کا غزوہ ہے۔ اور امام ابن اسحاق نے از یزید از عروہ روایت کی کہ یہ ہی بلی عذر اور بنی الیقین کے شہر ہیں۔ حضرت ابی عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ذات السلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا' انہوں نے کہا: میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا پس میں نے عرض کیا: آپ کو سب سے زیادہ لوگوں میں محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ میں نے پوچھا: اور مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد میں نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: عمر پھر آپ نے کئی مردوں کے نام لیے پھر میں اس خوف سے خاموش ہو گیا کہ آپ میرا شمار سب سے آخر میں کریں گے۔ (بخاری شریف کتاب المغازی،بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلَاسِلِ،حدیث نمبر ٤٣٥٨)

بَابٌ : غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، وَهِيَ غَزْوَةُ لَخْمٍ، وَجُذَامَ، قَالَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عُرْوَةَ : هِيَ بِلَادُ بَلِيٍّ، وَعُذْرَةَ، وَبَنِي الْقَيْنِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ ". قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُوهَا ". قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " عُمَرُ ". فَعَدَّ رِجَالًا، فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4358

باب:حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا یمن کی طرف جانا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سمندر میں تھا تو میری ملاقات اہل یمن کے دو مردوں ذاکلاع اور ذاعمرو سے ہوئی، پس میں ان کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگا تو مجھ سے ذو عمرو نے کہا: تم جو اپنے پیغمبر کا ذکر کر رہے ہو تو تین روز پہلے ان کی وفات ہو چکی ہے اور وہ دونوں میرے ساتھ چلے حتیٰ کہ جب ہم راستے کے کسی حصے میں تھے تو ہمیں مدینے کی طرف سے کچھ سوار آتے ہوئے ملے پس ہم نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے اور حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے اور لوگ ٹھیک ٹھاک ہیں تو ان دونوں نے کہا: تم اپنے خلیفہ کو خبر دینا کہ بے شک ہم آئے تھے اور شاید کہ ان شاء اللہ ہم دوبارہ آئیں گے اور وہ دونوں یمن کی طرف لوٹ گئے، پس میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کا پیغام سنایا تو انہوں نے کہا: تم ان کو لے کر کیوں نہیں آئے، پس کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مجھ سے ذوعمرو نے کہا: اے جریر! بے شک تمہارا مجھ پر ایک احسان ہے اور میں تم کو یہ خبر دے رہا ہوں کہ تم اہلِ عرب جب تک تمہارا ایک امیر فوت ہو جائے تو تم کسی دوسرے کو امیر بناتے رہو گے تو تم خیر کے ساتھ رہو گئے، پس جب حکومت تلوار اور غلبہ سے حاصل ہوگی تو پھر وہ بادشاہ ہوں گے اور بادشاہوں کی طرح راضی ہوں گے اور بادشاہوں کی طرح ناراض ہوں گے ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی،بَابٌ : ذَهَابُ جَرِيرٍ إِلَى الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٥٩)

بَابٌ : ذَهَابُ جَرِيرٍ إِلَى الْيَمَنِ. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْيَمَنِ، فَلَقِيتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ؛ ذَا كَلَاعٍ، وَذَا عَمْرٍو، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ ذُو عَمْرٍو : لَئِنْ كَانَ الَّذِي تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ صَاحِبِكَ، لَقَدْ مَرَّ عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلَاثٍ. وَأَقْبَلَا مَعِي، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْنَاهُمْ، فَقَالُوا : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ. فَقَالَا : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ أَنَّا قَدْ جِئْنَا، وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَرَجَعَا إِلَى الْيَمَنِ، فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرٍ بِحَدِيثِهِمْ، قَالَ : أَفَلَا جِئْتَ بِهِمْ. فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ قَالَ لِي ذُو عَمْرٍو : يَا جَرِيرُ، إِنَّ بِكَ عَلَيَّ كَرَامَةً، وَإِنِّي مُخْبِرُكَ خَبَرًا ؛ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا كُنْتُمْ إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ، فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ كَانُوا مُلُوكًا يَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ، وَيَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4359

سیف البحر کے غزوہ کا بیان اور وہ قریش کے قافلے کی گھات میں تھے اور ان کے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تھے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ساحل کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور وہ تین سو صحابہ تھے پس ہم نکلے اور ہم راستے کے کسی حصے میں تھے تو زادِ راہ ختم ہو گیا، پس حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لشکر کے پاس جو کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہیں ان کو جمع کیا جائے، پس تھیلوں میں کھجوریں تھیں تو ہم کو ہر روز تھوڑی تھوڑی خوراک ملتی تھی حتی کہ وہ بھی ختم ہوگئی، پھر ہم کو ایک ایک کھجور ملتی تھی، پس میں نے پوچھا کہ ایک کھجور سے آپ کی بھوک کیسے ختم ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آیا کہ وہ سخت ہو گئی، پھر ہم سمندر تک پہنچے تو وہاں ایک پہاڑی کے برابر مچھلی پڑی ہوئی تھی تو وہ لشکر اٹھارہ راتوں تک اس مچھلی کو کھا تا رہا، پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کی پسلیوں میں سے دو پسلیوں کو نصب کر دیا جائے پھر انہوں نے حکم دیا کہ ایک اونٹنی پر سامان رکھ کر ان پسلیوں کے نیچے سے گزرا جائے، پھر وہ اونٹنی ان پسلیوں کے نیچے سے گزری تو وہ اونٹنی ان پسلیوں کو نہیں چھوسکی۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی،بَابٌ : غَزْوَةُ سِيفِ الْبَحْرِ وَهُمْ يَتَلَقَّوْنَ عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَأَمِيرُهُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ،حدیث نمبر ٤٣٦٠)

بَابٌ : غَزْوَةُ سِيفِ الْبَحْرِ وَهُمْ يَتَلَقَّوْنَ عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَأَمِيرُهُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ، فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ، حَتَّى فَنِيَ، فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ : مَا تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ، فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4360

عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم تین سو سواروں کو بھیجا ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے ہم قریش کے قافلہ کی ابوعبیدہ گھات میں تھے ہم پندرہ دن تک ساحل سمندر پر ٹھہرئے، ہمیں سخت بھوک لگی حتیٰ کہ ہم نے کیکر کے درخت کے پتے کھائے اس وجہ سے اس لشکر کا نام پتوں کا لشکر رکھا گیا، پھر سمندر نے ہمارے لیے ایک (بڑی مچھلی) نکال کر پھینک دی، جس کو العنبر کہا جاتا تھا ہم اس کو پندرہ دن تک کھاتے رہے اور اس کی چربی کا تیل استعمال کرتے رہے حتی کہ ہمارے کمزور جسم فربہی کی طرف لوٹ آئے پس حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اس کو نصب کر دیا، پھر سب سے لمبے آدمی کو تلاش کیا، سفیان نے دوسری مرتبہ کہا کہ اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی کو لے کر نصب کیا اور اس دراز قد آدمی کو اونٹ پر بٹھایا تو وہ اونٹ اس آدمی کے ساتھ اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا، حضرت جابر نے بتایا کہ لشکر میں سے ایک آدمی تین اونٹوں کو ذبح کر چکا تھا، پھر اس نے مزید تین اونٹوں کو ذبح کیا، پھر اس نے اور تین اونٹوں کو ذبح کیا، پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کر دیا اور عمرہ کہتے تھے کہ ہمیں ابو صالح نے خبر دی کہ حضرت قیس بن سعد نے اپنے والد سے کہا کہ میں لشکر میں تھا، سو لوگ بھوکے تھے تو میرے والد نے کہا کہ اونٹ کو ذبح کرو تو میں نے ذبح کر دیا، پھر بھی لوگ بھوکے تھے تو ان کے والد نے کہا: اونٹ ذبح کرو تو میں نے پھر اونٹ ذبح کر دیا انہوں نے کہا: پھر بھی لوگ بھوکے تھے تو ان کے والد نے کہا: اونٹ ذبح کرو تو میں نے اونٹ ذبح کر دیا پھر بھی لوگ بھوکے تھے تو مجھے کہا: اونٹ ذبح کرو تو مجھے منع کر دیا گیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ سِيفِ الْبَحْرِ،حدیث نمبر ٤٣٦١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَمِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا : الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ، فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ. قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ، وَأَخَذَ رَجُلًا، وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ. قَالَ جَابِرٌ : وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ. 4361 ( م ) وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ لِأَبِيهِ : كُنْتُ فِي الْجَيْشِ، فَجَاعُوا، قَالَ : انْحَرْ. قَالَ : نَحَرْتُ. قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ : انْحَرْ. قَالَ : نَحَرْتُ. قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ : انْحَرْ. قَالَ : نَحَرْتُ. ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ : انْحَرْ. قَالَ : نُهِيتُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4361

عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم پتوں کے لشکر کے غزوہ میں گئے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو شکر کا امیر بنایا گیا، پس ہمیں سخت بھوک لگی تو سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینک دی جس کی مثل ہم نے نہیں دیکھی تھی جس کو عنبر کہا جاتا تھا، ہم اس کو پندرہ دن تک کھاتے رہے پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی پس ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا سو مجھے حضرت ابوالزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ! پس جب ہم مدینے پہنچے تو ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ! یہ وہ رزق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نکالا ہے اگر اس میں سے کچھ تمہارے ساتھ ہے تو ہمیں بھی اس میں سے کھلاؤ پھر کوئی شخص لے کر آیا تو آپ نے اس کو کھایا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : غَزْوَةُ سِيفِ الْبَحْرِ،حدیث نمبر ٤٣٦٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ، وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ : الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ. 4362 ( م ) فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : كُلُوا. فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ". فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ : فَأَكَلَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4362

نو ہجری میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو حج کرانا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حج میں بھیجا جس کا انہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع سے پہلے امیر مقرر کیا تھا کہ وہ قربانی کے دن ایک جماعت میں لوگوں میں یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے اور نہ کوئی بیت اللہ کا برہنہ طواف کرے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی،بَابٌ : حَجُّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ،حدیث نمبر ٤٣٦٣)

بَابٌ : حَجُّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ : لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4363

حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو آخری مکمل سورۃ نازل ہوئی وہ سورہ توبہ ہے اور جو سورۃ کی آخری آیت نازل :ہوئی وہ سورۃ النساء کی آخری آیت ہے وہ یہ ہے لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں، آپ کہیے: اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ (الفساد (۱٧٦) (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجُّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ،حدیث نمبر ٤٣٦٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً : بَرَاءَةٌ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ : خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ ؛ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ }.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4364

Bukhari Sharif Kitabul Magazi Hadees No

بَابٌ : وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4365

امام ابن اسحاق نے کہا: عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر بنو العنبری کا غزوہ بنو تمیم سے تھا، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی طرف عیینہ کو بھیجا جنہوں نے لوٹ مار کی اور ان کے لوگوں کو پکڑ لیا اور ان کی عورتوں کو قید کر لیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بنو تمیم سے ان کی تین خصلتوں کے باعث ہمیشہ محبت کرتا ہوں(وہ خصلتیں یہ ہیں : )جن کو میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: بن تمیم میں ایسے لوگ ہیں جو میری اُمت میں سے دجال کے اوپر سب سے زیادہ سخت ہیں اور ان کی ایک قیدی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی تو آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو کیوں کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہے اور ان کے صدقات آئے تو آپ نے فرمایا: یہ قوم کے یا میری قوم کے صدقات ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المغازی،باب ،حدیث نمبر ٤٣٦٦)

بَابٌ : قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : غَزْوَةُ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ بَنِي الْعَنْبَرِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَغَارَ، وَأَصَابَ مِنْهُمْ نَاسًا، وَسَبَى مِنْهُمْ نِسَاءً حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ : " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ ". وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَ : " أَعْتِقِيهَا ؛ فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ". وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ : " هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ ". أَوْ : " قَوْمِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4366

این ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن الزبیر نے ان کو خبر دی کہ بنو تمیم کے سواروں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: القعقاع بن معبد بن زرارہ کو امیر بنائیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم صرف میری مخالفت کا ارادہ کرتے ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا، پس وہ دونوں جھگڑنے لگے، حتی کی ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، پس اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ (الحجرات: ١) حتی کہ آیت پوری ہوئی۔ (بخاری شریف کتاب المغازی،باب،حدیث نمبر ٤٣٦٧)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ. قَالَ عُمَرُ : بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي. قَالَ عُمَرُ : مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ. فَتَمَارَيَا، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا }. حَتَّى انْقَضَتْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4367

عبد القیس کے وفد کا بیان۔ ابی جمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہا: میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میرے لیے نبیذ بنایا جاتا ہے پس میں اس کو پیتا ہوں جب وہ گھڑے میں میٹھا ہوتا ہے، بعض اوقات میں زیادہ مقدار میں پی لیتا ہوں، پس میں لوگوں میں بیٹھتا ہوں اور کافی دیر تک بیٹھا رہتا ہوں، میں اس لیے ڈرتا ہوں کہ کہیں میری رسوائی نہ ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں کو مرحبا ہو! تم لوگ نہ رسوا ہو گے نہ نادم ہو گئے تو انہوں نے بتایا: یا رسول اللہ ! بے شک ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے مشرکین ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسکتے ہیں سو آپ ہمیں ایسے احکام بتائیں جن پر ہم عمل کر کے جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں، ان کو بھی ان احکام پر عمل کی دعوت دیں، آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں' پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا معنی ہے؟ وہ اس بات کی شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور نماز قائم کرنا ہے اور زکوۃ ادا کرنا ہے اور رمضان کا روزہ رکھنا ہے اور یہ کہ تم غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور چار چیزوں سے روکتا ہے: خشک کدو میں جو نبیذ بنایا گیا ہو اور کھوکھلی لکڑی میں اور سبز گھڑوں میں اور تارکول ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے مندے کرتا ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب،حدیث نمبر ٤٣٦٨)

بَابٌ : وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنَّ لِي جَرَّةً يُنْتَبَذُ لِي نَبِيذٌ، فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا، فِي جَرٍّ، إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ، فَأَطَلْتُ الْجُلُوسَ، خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ. فَقَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى ". فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، حَدِّثْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ، إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ؛ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ؛ مَا انْتُبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4368

ابی جمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم اس قبیلہ ربیعہ سے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر حائل ہیں ہم آپ کے پاس ہے صرف حرمت والے مہینے میں آسکتے ہیں تو آپ ہمیں ایسی چیزوں کا حکم دیں جن پر ہم خود عمل کریں اور جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں ان کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں، آپ نے فرمایا: میں تم کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، میں تم کو اللہ پر ان ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں اور وہ اس بات کی شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور آپ نے انگلی سے ایک کلام عقد بنایا اور نماز قائم کرتا ہے اور زکوۃ ادا کرتا ہے اور یہ کہ تم اللہ کے لیے مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں ان چار چیزوں میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں: خشک کدو کھو کھلی لکڑی کے سبز گھڑا اور تارکول ملا ہوا برتن۔ (بخاری شریف كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ،حدیث نمبر ٤٣٦٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَشْيَاءَ نَأْخُذُ بِهَا، وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ؛ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - وَعَقَدَ وَاحِدَةً - وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4369

بکیر بیان کرتے ہیں کہ کریب مولی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کو حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت عبدالرحمن بن ازھر اور المسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا، پس انہوں نے کہا: تم ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق سوال کرنا اور کہنا کہ ہم کو یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دور کعتیں پڑھتی ہیں اور ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: اور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو ان دو رکعتوں کے پڑھنے پر مارتا تھا، کریب نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا اور ان کو وہ پیغام سنایا جو انہوں نے مجھے دے کر بھیجا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تم اس کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سوال کرو پس میں نے ان کو اس جواب کی خبر دی تو پھر انہوں نے مجھے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی طرف اسی طرح کا پیغام دے کر بھیجا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف پیغام دے کر بھیجا تھا حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا آپ ان دو رکعت کے پڑھنے سے منع فرماتے تھے اور آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور پھر میرے پاس آئے اور اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے وہ دو رکعت پڑھیں، میں نے آپ کی طرف خادمہ بھیجی، پس میں نے کہا کہ تم آپ کے پہلو میں کھڑی ہو جانا پھر کہنا کہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پوچھتی ہیں : یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں نے آپ سے یہ نہیں سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع فرماتے ہیں، پس میں نے آپ کو دیکھا آپ بھی دو رکعت پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے ٹھہرنے کا اشارہ کریں تو تم ٹھہر جانا تو اس خادمہ نے اس طرح کیا آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی جب آپ نماز پڑھ کر مڑے تو فرمایا: اے۔ ابو امیہ کی بیٹی ! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے متعلق سوال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس عبد القیس اپنی قوم کے اسلام لانے کے متعلق سوال کر رہے تھے تو انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں کے پڑھنے سے مشغول رکھا، سو یہ وہ دو رکعتیں ہیں۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ. حدیث نمبر ٤٣٧٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، أَنَّ كُرَيْبًا - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالُوا : اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ النَّاسَ عَنْهُمَا. قَالَ كُرَيْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي، فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ. فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، وَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْخَادِمَ، فَقُلْتُ : قُومِي إِلَى جَنْبِهِ فَقُولِي : تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ ؟ فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي. فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؛ إِنَّهُ أَتَانِي أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4370

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد سب سے پہلا جمعہ عبد القیس کی مسجد جواثی میں پڑھا گیا یعنی وہ بحرین کے شہروں میں سے ایک شہر تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ،حدیث نمبر ٤٣٧١)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ - هُوَ : ابْنُ طَهْمَانَ - عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى. يَعْنِي قَرْيَةً مِنَ الْبَحْرَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4371

باب:بنو حنیفہ کے وفد اور ثمامہ بن اثال کی حدیث کا بیان۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف گھڑ سواروں کو بھیجا وہ بنو حنیفہ کے ایک مرد کو پکڑ کر لے آئے، جن کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا اور ان کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے تو پوچھا: اے ثمامہ! تمہارے نزدیک کیا ہے (یعنی تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا: اے محمد ! میرے نزدیک خیر ہے اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک شخص کو کسی کے خون کی وجہ سے قتل کریں گے اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو آپ مجھ سے چاہتے ہیں، سوال کیجئے، سو ان کو اسی حال پر چھوڑ دیا گیا حتی کہ دوسرے روز پھر آپ نے ان سے فرمایا: اے ثمامہ! تمہارے نزدیک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے سو آپ نے ان کو اسی حال پر چھوڑ دیا، حتی کہ اس کے بعد اگلے روز آپ نے پھر فرمایا: اے ثمامہ! تمہارے نزدیک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ثمامہ کو آزاد کر دو پس وہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے باغ کی طرف گیا، پس وہاں غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اے محمد! اللہ کی قسم! پہلے میرے نزدیک روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض کوئی چہرہ نہیں تھا اور اب آپ کا چہرہ میرے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ کی قسم! پہلے میرے نزدیک کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہیں تھا اور اب آپ کا دین میرے نزدیک تمام ادیان سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ کی قسم ! پہلے آپ کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ مبغوض تھا اور اب آپ کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے اور بے شک آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے گرفتار کر لیا اور میں اس وقت عمرہ کرنے جا رہا تھا، پس اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ سو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو بشارت دی اور ان کو عمرہ کرنے کا حکم دیا سو جب وہ مکہ میں آئے تو ان سے کسی کہنے والے نے کہا: کیا تم اپنے دین سے نکل گئے ہو؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! لیکن میں سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہو گیا ہوں اور اللہ کی قسم ! اب تمہارے پاس ثمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ،حدیث نمبر ٤٣٧٢)

بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فَقَالَ : عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ ؛ إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ. حَتَّى كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " قَالَ : مَا قُلْتُ لَكَ ؛ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ. فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فَقَالَ : عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَقَالَ : " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ". فَانْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى ؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ : صَبَوْتَ ؟ قَالَ : لَا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4372

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسلمہ الکذاب، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں آیا وہ یہ کہتا تھا کہ اگر محمد اس امر کو اپنے بعد میرے لیے کر دیں تو میں ان کی پیروی کرلوں گا اور اس کے ساتھ اس کی قوم کے بہت سارے لوگ آئے تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی طرف آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں درخت کی شاخ کا ایک ٹکڑا تھا حتی کہ آپ مسلمہ اور اس کے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے، پس فرمایا: اگر تم نے مجھ سے اس شاخ کے ٹکڑے کا بھی سوال کیا تو میں تمہیں نہیں دوں گا اور اللہ نے تمہارے لیے جو مقدر کر دیا ہے تم اس سے تجاوز نہیں کر سکتے اور اگر تم نے پیٹھ پھیری تو اللہ تم کو ہلاک کر دے گا اور بے شک میں نے تم کو خواب میں دیکھا تھا، مجھے خواب میں دکھایا گیا جو دکھایا گیا اور یہ ثابت میری طرف سے تمہیں جواب دیں گئے، پھر آپ اس کے پاس سے مڑکر چلے گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق سوال کیا: بے شک تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، پس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں سویا ہوا تھا تو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھنے مجھے ان کا معاملہ بہت سنگین معلوم ہوا پس خواب میں میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں، سو میں نے ان دونوں پر پھونک ماری تو وہ دونوں اٹر گئے میں نے ان کی یہ تعبیر لی کہ یہ دو جھوٹے ہیں جو میرے بعد نکلیں گے اور ان میں سے ایک العنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ،حدیث نمبر ٤٣٧٣،و حدیث نمبر ٤٣٧٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَقُولُ : إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ. وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا، وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ 4374 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ أُرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ ". فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي ؛ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4373

ہمام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس وقت میں سویا ہوا تھا تو میرے پاس تمام روئے زمین کے خزانے لائے گئے پس میری ہتھیلیوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے جو مجھے سخت ناگوار ہوئے، پھر میری طرف یہ وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں، سو میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ غائب ہو گئے، میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ یہ وہ دو جھوٹے ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صاحب صنعاء ہے اور دوسرا صاحب الیمامہ۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ،حدیث نمبر ٤٣٧٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا، فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا ؛ صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4375

مہدی بن میمون سے سنا انہوں نے کہا: میں نے ابورجاء العطاردی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم پتھروں کی عبادت کرتے تھے، پھر جب ہمیں کوئی پتھر ملتا اور وہ پہلے پتھر سے اچھا ہوتا تو ہم پہلے پتھر کو پھینک دیتے اور اس دوسرے پتھر کو لے لیتے، پس جب ہمیں کوئی پتھر نہ ملتا تو ہم مٹی کا ایک ڈھیر بناتے پھر ہمارے پاس ایک بکری آتی تو ہم اس مٹی کے ڈھیر پر اس کا دودھ نکالتے اور اس ڈھیر کا طواف کرتے پھر جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو ہم کہتے یہ نیزوں سے پھلوں کے نکالنے کا مہینہ ہے، پھر جس نیزے میں بھی دھار ہوتی اور جس تیر میں بھی دھانہ ہوتی تو اس کو ہم پھینک دیتے اور رجب کے مہینے میں اس سے دور رہتے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ،حدیث نمبر ٤٣٧٦)

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يَقُولُ : كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ، وَأَخَذْنَا الْآخَرَ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ، فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ قُلْنَا : مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ . فَلَا نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ، وَلَا سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ، وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4376

اور میں نے ابو رجاء سے سنا کہ جس دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا میں لڑکا تھا اور اپنے گھر والوں کے اونٹ چراتا تھا پس جب ہم نے آپ کے ظہور کا سنا تو ہم آگ کی طرف بھاگئے یعنی مسیلمۃ الکذاب کی طرف۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ،حدیث نمبر ٤٣٧٧)

وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَرْعَى الْإِبِلَ عَلَى أَهْلِي، فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4377

Bukhari Sharif Kitabul Magazi Hadees No

بَابٌ : قِصَّةُ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ - وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ - أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ وَكَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ كُرَيْزٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضِيبٌ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ : إِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَمْرِ، ثُمَّ جَعَلْتَهُ لَنَا بَعْدَكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذَا الْقَضِيبَ مَا أَعْطَيْتُكَهُ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أُرِيتُ، وَهَذَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، وَسَيُجِيبُكَ عَنِّي ". فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. 4379 قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذُكِرَ لِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا ، وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ". فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ، وَالْآخَرُ : مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4378/4379

صله بن زفر از حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ العاقب اور السید نجران کے دو وزیر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مباہلہ کرنے آئے، پھر ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے صاحب سے کہا: مباہلہ نہ کرو پس اللہ کی قسم ! اگر وہ واقعی نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور نہ ہماری بعد کی نسلیں کامیاب ہو سکیں گی، تو ان دونوں نے آپ سے کہا: آپ ہم سے جس چیز کا سوال کریں گے وہ ہم آپ کو دے دیں گئے آپ ہمارے ساتھ ایک امین مرد کو بھیج دیں اور ہمارے پاس صرف امین مرد ہی کو بھیجیں، آپ نے فرمایا: میں ضرور تمہارے ساتھ ایک ایسے امین مرد کو بھیجوں گا جو بہت امین ہے، پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب انتظار کرنے لگے آپ نے فرمایا: اے عبیدہ بن الجراح ! تم کھڑے ہو جاؤ پس جب وہ کھڑے ہو گئے تو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ (بخاری شریف کتاب المغازی ،بَابٌ : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ،حدیث نمبر ٤٣٨٠)

بَابٌ : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ. حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا ؛ لَا نُفْلِحُ نَحْنُ، وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا. قَالَا : إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا. فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ". فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ". فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4380

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہل نجران کا وفد آیا تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے کوئی امین مرد بھیج دیجئے تو آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرف ضرور ایسا امین مرد بھیجوں گا جو بہت زیادہ امین ہے تو سب صحابہ منتظر تھے (کہ آپ کسی کو بھیجتے ہیں ) تو آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ (بخاری شریف ،كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ،حدیث نمبر ٤٣٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : ابْعَثْ لَنَا رَجُلًا أَمِينًا. فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ". فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4381

حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ (بخاری شریف، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ،حدیث نمبر ٤٣٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4382

عمان اور البحرین کے قصہ کا بیان۔ ابن المنکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : اگر بحرین سے مال آیا تو میں تم کو اتنا اور اتنا دوں گا پھر بحرین کا مال نہیں آیا حتیٰ کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، پس جب وہ مال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے حکم سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: جس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کوئی قرض لینا ہو یا اس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہو تو وہ میرے پاس آئے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو یہ خبر دی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تم کو اتنا اور اتنا دوں گا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ کو عطاء کیا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے نہیں دیا میں ان کے پاس پھر گیا اور ان سے سوال کیا ، پھر بھی انہوں نے مجھے نہیں دیا پھر میں ان کے پاس تیسری مرتبہ گیا تو انہوں نے مجھے نہیں دیا میں نے ان سے کہا: میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے نہیں دیا تو میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے نہیں دیا میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے نہیں دیا پس یا تو آپ مجھے دیں یا آپ مجھ سے بخل کرتے ہیں' حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا ؟ آپ مجھ سے بخل کرتے ہیں؟ اور کون سی بیماری (یا عیب) بخل سے زیادہ بڑی ہے انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کی پھر کہا: میں نے جب بھی تمہیں نہیں دیا مگر میں تمہیں دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اور از عمرو از محمد بن علی روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں آپ کے پاس آیا تو مجھے سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: لو ان کو گنو تو میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو تھے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دو مرتبہ کہا: لو اتنے ہی اور لے لو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ عُمَانَ، وَالْبَحْرَيْنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٣)

بَابٌ : قِصَّةُ عُمَانَ، وَالْبَحْرَيْنِ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ". ثَلَاثًا، فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي. قَالَ جَابِرٌ : فَجِئْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ". ثَلَاثًا، قَالَ : فَأَعْطَانِي. قَالَ جَابِرٌ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي. فَقَالَ : أَقُلْتَ : تَبْخَلُ عَنِّي، وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ - قَالَهَا ثَلَاثًا - مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ. وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : جِئْتُهُ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ : عُدَّهَا. فَعَدَدْتُهَا، فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ. فَقَالَ : خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4383

اشعریین اور اہل یمن کا آنا۔ اور حضرت ابو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مجھ سے ہے اور میں ان سے ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے ہم کافی عرصہ تک ٹھہرے رہے ہم یہی گمان کرتے تھے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اہل بیت میں سے ہیں، کیوں کہ وہ آپ علیہ السلام کے گھر بہ کثرت جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کے ساتھ لازم رہتے تھے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٤)

بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ ". حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ؛ مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ، وَلُزُومِهِمْ لَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4384

زہدم نے بیان کیا کہ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے جرم کے اس قبیلہ کی تکریم کی اور ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے اور وہ مرغی کھا رہے تھے اور لوگوں میں ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے اس کو بھی کھانے کی طرف بلایا اس نے کہا: میں نے اس مرغی کو دیکھا یہ( گندی چیز کھا رہی تھی تو مجھے اس سے گھن آئی حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ نے کہا: آؤ! میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس نے کہا: میں نے قسم کھائی کہ میں مرغی نہیں کھاؤں گا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: آؤ میں تمہاری قسم کے متعلق حدیث سناتا ہوں، انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریین کی ایک جماعت میں آئے ہم نے آپ سے سواری طلب کی آپ نے ہمیں سوار کرنے سے انکار فرمایا' ہم نے پھر آپ سے سواری طلب کی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ہم کو سوار نہیں کریں گئے پھر تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ نے ہمارے لیے پانچ اونٹ عطا کرنے کا حکم دیا تو ہم نے کہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بے توجہی سے قسم نہیں رہی، ہم اس کے بعد کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گئے، پس میں آپ کے پاس آیا سو میں نے کہا: یارسول اللہ ! بے شک آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کریں گے اور اب آپ نے ہم کو سوار کر دیا، آپ نے فرمایا: ہاں! لیکن جب میں کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھاتا ہوں تو پھر میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا کرنا زیادہ بہتر ہے تو میں اس کام کو کرتا ہوں جو زیادہ بہتر ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ، وَهُوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ. فَقَالَ : هَلُمَّ ؛ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ. فَقَالَ : إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ. فَقَالَ : هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ ؛ إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا قُلْنَا : تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا. فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، وَقَدْ حَمَلْتَنَا ؟ قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4385

عمران بن حصین نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم آئے تو آپ نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو! تو انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو عطاء بھی فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا پھر اہل یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بشارت کو قبول کرو کیونکہ بنو تمیم نے بشارت کو قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے قبول کر لیا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٦)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ : جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا : أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4386

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان وہاں ہے اور اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور جفاء اور دلوں کی تختی ان میں ہے جو اونٹوں کی دموں کو پکڑ کر چلاتے ہیں،جہاں سے شیطان کے دو سینگ طلوع ہوں گئے اور وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر ہیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٧)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ هَاهُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ - وَالْجَفَاءُ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ؛ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4387

حضرت ابو هریره رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس یمن کے لوگ آئیں گئے ان کے دل سب سے رقیق ہیں اور ان کے قلوب سب سے نرم ہیں، ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانیہ ہے اور فخر اور تکبر اونٹوں پر چلانے والوں میں ہے اور مسکینی اور خضوع بکریاں چرانے والوں میں ہے۔ اور غندر نے کہا: از شعبہ از سلیمان: میں نے ذکوان سے سنا از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ". وَقَالَ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4388

حضرت ابو هریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یمانی ہے اور فتنہ وہاں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٨٩)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِتْنَةُ هَاهُنَا، هَاهُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4389

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئیں گئے ان کے قلوب بہت نرم ہوں گے اور ان کے دل بہت رقیق ہوں گے فقہ یمانی ہے اور حکمت بیانیہ ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَضْعَفُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4390

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے پس حضرت خباب رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن ! کیا یہ نوجوان بھی اس طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جس طرح آپ قرآن پڑھتے ہیں؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں کسی کو حکم دوں وہ آپ کے سامنے قرآن پڑھے حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے علقمہ ! تم پڑھو تو زید بن حدیر نے جو زیاد بن حدیر کے بھائی ہیں انہوں نے کہا: کیا آپ علقمہ کو قرآن پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ وہ ہم سے اچھا قرآن پڑھنے والے نہیں ہیں؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے متعلق کیا کہا تھا اور اس کی قوم کے متعلق کیا کہا تھا، علقمہ نے کہا: پس میں نے سورہ مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے (حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: آپ نے کیسا پایا؟ انہوں نے کہا: بہت اچھا پڑھا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جس طرح بھی قرآن پڑھتا ہوں یہ بھی اسی طرح قرآن پڑھتا ہے پھر انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی پیس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابھی اس انگوٹھی کے لیے یہ وقت نہیں آیا کہ اسے پھینک دیا جائے! حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ آج کے بعد میرے ہاتھ میں یہ انگوٹھی نہیں دیکھیں گئے پھر انہوں نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا۔ اس حدیث کی غندر نے شعبہ سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قُدُومُ الْأَشْعَرِيِّينَ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ،حدیث نمبر ٤٣٩١)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَجَاءَ خَبَّابٌ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلَاءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ. قَالَ : أَجَلْ. قَالَ : اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ. فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ : أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ. فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَيْفَ تَرَى ؟ قَالَ : قَدْ أَحْسَنَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ يَقْرَؤُهُ. ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ : أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَأَلْقَاهُ. رَوَاهُ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4391

دوس اور طفیل بن عمرو دوسی کا قصہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ دوس ہلاک ہو گئے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور قبولِ اسلام سے انکار کیا، آپ ان کے خلاف اللہ سے ہلاکت کی دعا کیجئے آپ نے دعا کی: اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو یہاں لے آ ! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ دَوْسٍ، وَالطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدَّوْسِيِّ،حدیث نمبر ٤٣٩٢)

بَابٌ : قِصَّةُ دَوْسٍ، وَالطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدَّوْسِيِّ. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ ؛ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا، وَأْتِ بِهِمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4392

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو میں نے راستہ میں یہ شعر پڑھا: ہائے اس رات کا طول اور اس کی تکلیفیں، لیکن اس رات نے دار الکفر سے نجات دے دی۔ اور راستے میں میرا غلام بھاگ گیا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو میں نے آپ سے بیعت کی، پس جس وقت میں آپ کے پاس حاضر تھا اچانک وہ غلام ظاہر ہو گیا تو مجھ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام تو میں نے کہا: وہ اللہ کی رضا کے لیے ہے تو میں نے پھر اس کو آزاد کر دیا۔ (بخاری شریف کتاب المغازی ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : قِصَّةُ دَوْسٍ، وَالطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدَّوْسِيِّ،حدیث نمبر ٤٣٩٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ وَأَبَقَ غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا غُلَامُكَ ". فَقُلْتُ : هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ. فَأَعْتَقْتُهُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4393

طبی ء کا وفد اور حضرت عدی بن حاتم کی حدیث کا بیان حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ایک وفد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ایک ایک مرد کا نام لے کر اس کو بلا رہے تھے، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے نہیں پہچانتے ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ! تم اس وقت اسلام لائے جب لوگوں نے کفر کیا تھا اور تم اس وقت آگے بڑھے جب لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی اور تم نے اس وقت وفا کی جب لوگوں نے بے وفائی کی اور تم نے اس وقت پہچانا جب لوگوں نے انکار کر دیا حضرت عدی نے کہا: پھر مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابُ قِصَّةِ وَفْدِ طَيِّئٍ، وَحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،حدیث نمبر ٤٣٩٤)

بَابُ قِصَّةِ وَفْدِ طَيِّئٍ، وَحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدٍ، فَجَعَلَ يَدْعُو رَجُلًا رَجُلًا، وَيُسَمِّيهِمْ، فَقُلْتُ : أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : بَلَى ؛ أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَعَرَفْتَ إِذْ أَنْكَرُوا. فَقَالَ عَدِيٌّ : فَلَا أُبَالِي إِذَنْ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4394

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں گئے، پس ہم نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر ہم سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھے، پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے حتیٰ کہ حج اور عمرہ دونوں کے افعال پورے ہو جائیں، پس میں آپ کے ساتھ مکہ میں آئی اور میں اس وقت حائضہ ہو گئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف کیا تھا اور نہ صفا اور مردہ کی سعی کی تھی، پس میں نے اس کی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو چھوڑ دو سو میں نے ایسا ہی کیا، پس جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ساتھ (مقام) تنعیم کی طرف بھیجا، پس میں نے عمرہ کیا، آپ نے فرمایا: یہ تمہارے اس عمرہ کی جگہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پس جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، پھر انہوں نے احرام کھول دیا پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک اور طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، انہوں نے صرف ایک طواف کیا (یعنی صرف ایک قسم کا طواف کیا)۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٩٥)

بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ". فَقَدِمْتُ مَعَهُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ ". فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ : هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ. قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4395

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب کسی نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو وہ حلال ہو گیا یعنی اپنا احرام کھول دئے میں نے پوچھا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ کس دلیل سے کہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی کے اس قول ہے: پھر اس کا حلال ہونا یعنی اس کا احرام کھولنا بیت العتیق کے پاس ہے ( الج:۳۳) اور اس حدیث سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجتہ الوداع میں احرام کھول دیں۔میں نے کہا کہ یہ حکم تو صرف وقوف عرفہ کے بعد ہے۔ عطاء نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نزدیک یہ وقوف عرفہ سے پہلے بھی ہے اور بعد میں بھی ہے۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٩٦)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ قَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ }. وَمِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قُلْتُ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ . قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ، وَبَعْدُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4396

حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مکہ کی وادی میں پہنچا تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے حج کی نیت کر لی؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تم نے کیسے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا: جس طرح رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے میں اسی طرح احرام باندھ کر حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: تم بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ میں سعی کرو پھر احرام کھول دو پس میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی اور قبیلہ قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے سر میں جوئیں دیکھیں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٩٧)

حَدَّثَنِي بَيَانٌ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَارِقًا ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : " كَيْفَ أَهْلَلْتَ ؟ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : " طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ ". فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4397

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ حضرت حفصہ رضی الله تعالٰی عنہا زوجه نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو خبر دی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے سال اپنی ازواج کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول دیں، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پوچھا کہ آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوند سے چپکایا ہے اور اپنی قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالا ہے میں اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا حتیٰ کہ اپنی قربانی کو ذبح کرلوں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٩٨)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : فَمَا يَمْنَعُكَ ؟ فَقَالَ : " لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4398

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خثعم کی ایک عورت نے حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس وقت حضرت الفضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سواری پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے پس اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کا فریضہ بندوں پر ہے میرا باپ بہت بوڑھا ہے وہ سواری پر سیدھا بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ پس کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں اس کی طرف سے حج ادا کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٣٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4399

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حتیٰ کہ آپ نے بیت اللہ کے پاس اونٹنی کو بٹھایا اور آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ہمارے پاس (بیت اللہ کی ) چابی لاؤ، پس وہ چابی لے کر آئے، پس آپ کے لیے ( بیت اللہ کا ) دروازہ کھولا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ( بیت اللہ میں ) داخل ہو گئے، پھر ان پر دروازہ بند کر دیا پھر آپ دن کے کافی وقت تک بیت اللہ میں ٹھہرے رہے پھر باہر آئے اور لوگ جلدی جلدی بیت اللہ میں داخل ہونے لگئے سو میں ان سے پہلے داخل ہو گیا، پس میں نے دیکھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازہ کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: آپ نے ان سامنے کے دوستونوں کے درمیان میں نماز پڑھی اور اس وقت بیت اللہ دو قطاروں میں چھ ستونوں پر تھا اور آپ نے پہلی قطار کے دو ستونوں کے درمیان میں نماز پڑھی تھی اور بیت اللہ کے دروازہ کی طرف آپ نے پشت (مبارک) فرمائی اور اپنا منہ سامنے کیا جہاں سے تم بیت اللہ میں داخل ہوتے ہو آپ کے اور دیوار کے درمیان (تین ہاتھ کا فاصلہ تھا) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بتایا کہ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا تھا کہ آپ نے کتنی رکعت نماز پڑھی تھی، جس جگہ آپ نے نماز پڑھی تھی، وہاں سرخ سنگ مرمر بچھا ہوا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ : ائْتِنَا بِالْمِفْتَاحِ. فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ، فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ، ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَمَكَثَ نَهَارًا طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ، فَسَبَقْتُهُمْ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : صَلَّى بَيْنَ ذَيْنِكَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ، وَكَانَ الْبَيْتُ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ سَطْرَيْنِ، صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ مِنَ السَّطْرِ الْمُقَدَّمِ، وَجَعَلَ بَابَ الْبَيْتِ خَلْفَ ظَهْرِهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي يَسْتَقْبِلُكَ حِينَ تَلِجُ الْبَيْتَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ؟ وَعِنْدَ الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَرْمَرَةٌ حَمْرَاءُ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4400

عروہ بن الزبیر اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو خبر دی کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حجتہ الوداع میں حیض آگیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہم کو ( روانگی سے) روکنے والی ہیں، تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ وقوف عرفہ کر چکی ہیں اور طواف زیارت بھی کر چکی ہیں، تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ بھی روانہ ہو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُمَا، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " فَقُلْتُ : إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتَنْفِرْ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4401

حضرت ابن عمر رضی رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم حجتہ الوداع کے متعلق باتیں کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور ہم نہیں جانتے تھے کہ حجۃ الوداع کی کیا تعریف ہے؟ تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر مسیح الدجال کا ذکر کیا اور اس کا بہت مفصل ذکر کیا اور آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا اس نے اپنی اُمت کو دجال سے ڈرایا۔ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد نبیوں نے دجال سے ڈرایا اور اس کا خروج تم میں ہو گا سو تم میں سے کسی کے اوپر اس کی صفات مخفی نہ رہیں، پھر تین بار فرمایا کہ بے شک تمہارا رب جیسا کہ تم پر مخفی نہیں ہے بے شک تمہارا رب کانا نہیں ہے اور بے شک دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے گویا کہ اس کی آنکھ اُبھرا ہوا انگور ہے۔ سنو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری جانوں کو اور تمہارے مالوں کو اس طرح تم پر حرام کر دیا ہے جس طرح آج کے دن کی تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرمت ہے سنو! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! آپ نے تین بار (اللہ کے حضور ) عرض کیا: اے اللہ ! تو گواہ ہو جا! تم پر افسوس ہے! تم غور کرو اور تم میرے بعد کفر میں نہ پلٹ جانا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کی گردنیں ماریں۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠٢،و حدیث نمبر ٤٤٠٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلَا نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، وَقَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ ؛ أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ عَلَى مَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ - ثَلَاثًا - إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ . 4403 أَلَا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ". قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ثَلَاثًا. 4403 ( م ) " وَيْلَكُمُ - أَوْ : وَيْحَكُمُ - انْظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4402/4403

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انیس غزوات کیے اور آپ نے ہجرت کے بعد ایک حج کیا اور اس کے بعد کوئی حج نہیں کیا اور وہ حجتہ الوداع ہے ابو اسحاق نے کہا: اور مکہ میں دوسرا حج کیا تھا۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَبِمَكَّةَ أُخْرَى.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4404

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے حجتہ الوداع میں فرمایا: لوگوں کو خاموش کرو پھر فرمایا: تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠٥)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ : " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ "، فَقَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4405

حضرت ابو بکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ گھوم کر اپنی اس ہیئت پر آ گیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا اور سال کے بارہ مہینہ ہوتے ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، تین مہینے پے درپے ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور مضر کا رجب جو جمادی اور شعبان کے درمیان میں ہے یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، پس آپ خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ آپ اس کے معروف نام کے سوا کوئی اور نام لیں گئے آپ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے، پس آپ خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کے معروف نام کے سوا کوئی اور نام لیں گئے آپ نے فرمایا: کیا یہ شہر (مکہ) نہیں ہے، ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، پس آپ خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ آپ اس کے معروف نام کے سوا کوئی اور نام لیں گے آپ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے مال، راوی محمد نے کہا: میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح آج کے دن کی اس شہر میں اور اس مہینہ میں حرمت ہے اور عنقریب تمہاری تمہارے رب سے ملاقات ہو گی تو وہ تم سے تمہارے کاموں کے متعلق سوال کرے گا سنو! تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو سنو! حاضر غائب کو تبلیغ کر دئے ہو سکتا ہے کہ تم میں سے جس کو تبلیغ کی جائے وہ ان دوسروں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو جس نے اس کو سنا ہو پس راوی محمد اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے : سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا: سنو! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ (بخاری شریف ، كِتَابٌ : الْمَغَازِي. | بَابٌ : حَجَّةُ الْوَدَاعِ،حدیث نمبر ٤٤٠٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ؛ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ؛ ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ : " أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى. قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى. قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى. قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَأَعْرَاضَكُمْ - عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ". فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ : صَدَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ : " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " مَرَّتَيْنِ.

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4406

طارق بن شہاب وہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ آئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ آیت ہم میں نازل ہوتی ہے تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے، حضرت عمر نے پوچھا: وہ کون ہی آیت ہے؟ تو انہوں نے کہا: آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بہ طور دین پسند کر لیا ( المائدہ ۳) پس حضرت عمر نے کہا: بے شک میں جانتا ہوں کہ یہ آیت اس جگہ نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی مقام عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے(یعنی کھڑے تھے)۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنَ اليَهُودِ قَالُوا: لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ فَقَالُوا: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]. فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ مَكَانٍ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4407

حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ (مدینہ سے) نکلے پس ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، پس جنہوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوئے (یعنی احرام نہیں کھولا )حتی کہ قربانی کا دن آ گیا۔ ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حج الوداع میں ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث بیان کی اس کی مثل۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤٠٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ -: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، «وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ»، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالحَجِّ أَوْ جَمَعَ الحَجَّ وَالعُمْرَةَ، فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَقَالَ: مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4408

عامر بن سعد از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج الوداع میں میری اس بیماری میں عیادت کی جس بیماری سے میں موت کے کنارہ پر پہنچ چکا تھا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میرا درد وہاں تک پہنچ چکا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے کیا میں دو تہائی مال کو صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: کیا میں آدھے مال کا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: پس تہائی ؟ آپ نے فرمایا: تہائی اور تہائی بہت ہے بے شک اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو فقراء چھوڑو کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں اور تم جو چیز بھی اللہ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرو گے تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا حتی کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے اصحاب کے بعد پیچھے رہ جاؤں گا' آپ نے فرمایا: بے شک تم ہر گز پیچھے نہیں رہو گے تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے جو بھی کام کرو گئے اس سے تمہارا ایک درجہ زیادہ اور بلند ہوگا اور شاید کہ تم پیچھے رہ جاؤ حتی کہ کئی لوگوں کو تم سے نفع ہو اور دوسرے لوگوں کو تم سے ضرر ہو، اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت کو جاری رکھ اور ان کو ان کی ایڑیوں پر نہ لوٹا، لیکن سعد بن خولہ نقصان میں رہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں فوت ہونے پر افسوس کیا۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی ،بَابٌ حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤٠٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى المَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مِنَ الوَجَعِ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ؟ قَالَ: «لاَ». قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟، قَالَ: «وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ البَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ» رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4409

نافع وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر مونڈا ( یعنی مونڈ وایا)۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع، حدیث نمبر ٤٤١٠)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُمْ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4410

نافع بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں سرمونڈا ( یعنی کسی کو اپنا سر مونڈ نے کا حکم دیا ) اور آپ کے اصحاب میں سے بھی بعض لوگوں نے سرا مونڈا اور بعض اصحاب نے بال کاٹے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤١١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4411

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر بیٹھ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج الوداع میں منیٰ کے اندر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے پس گدھا صف کے بعض حصہ سے گزرا تو وہ گدھے سے اُتر گئے اور لوگوں کے ساتھ صف میں شامل ہو گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤١٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ «أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَسَارَ الحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4412

ہشام انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حج میں آپ کی رفتار کے متعلق سوال کیا گیا، میں بھی وہاں موجود تھا، انہوں نے بتایا کہ آپ تیز تیز چلتے تھے اور جب کھلا راستہ پاتے تو زیادہ تیز چلتے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤١٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ عَنْ سَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ؟ فَقَالَ: «العَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4413

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے خیر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی علیہ السلام کے ساتھ حجتہ الوداع میں مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب حجۃ الوداع ،حدیث نمبر ٤٤١٤)

حَدَّثَنَا- عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ «صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ المَغْرِبَ وَالعِشَاءَ جَمِيعًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4414

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے اصحاب نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ میں آپ سے ان کے لیے سواریوں کا سوال کروں کیونکہ وہ تنگی کے لشکر میں جو غزوہ تبوک ہے میرے ساتھ تھے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! بے شک میرے اصحاب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ آپ انہیں سواریوں پر سوار کریں آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا اتفاق سے جب میں آپ سے ملا تھا اس وقت آپ غصہ میں تھے اور مجھے اس کا پتا نہیں تھا، میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منع کرنے سے غم زدہ لوٹ آیا اور اس خوف کے ساتھ لوٹا کہ شاید نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مجھ پر غصہ آیا ہوں میں اپنے اصحاب کے پاس واپس آگیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے پس ابھی میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی وہ نداء کر رہے تھے: اے عبد اللہ بن قیس ! تو میں نے کہا: ہاں! انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو وہ تمہیں بلا رہے ہیں، جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: یہ دو ایک جیسے اونٹ لو اور یہ دو ایک جیسے اونٹ لو آپ نے چھ اونٹوں کے متعلق فرمایا جن کو آپ نے اسی وقت حضرت سعد سے خریدا تھا' ( آپ نے فرمایا: ) یہ اونٹ اپنے اصحاب کے پاس لے جاؤ پس کہو : بے شک اللہ نے یہ فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تم کو ان اونٹوں پر سوار کیا ہے سو تم ان پر سوار ہو پس میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے اصحاب کے پاس گیا' پس میں نے کہا کہ بے شک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تم کو ان اونٹوں پر سوار کیا ہے لیکن میں اللہ کی قسم ! تم کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا حتی کہ تم میں سے بعض میرے ساتھ ان صحابہ کی طرف) چلیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تھا تا کہ تم یہ گمان نہ کرو کہ میں نے اپنے پاس سے تمہیں کوئی بات بتائی تھی، جس کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا تو ان اصحاب نے مجھ سے کہا: بے شک آپ ہمارے نزدیک ضرور بہت صادق ہیں اور ہم ضرور وہ کریں گے جو آپ نے کہا ہے پس حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند اصحاب کو لے کر اُن صحابہ کے پاس گئے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تھا کہ پہلے آپ نے ان کو سواریاں دینے سے منع کیا تھا، پھر بعد میں آپ نے ؟ ان کو سواریاں عطاء کیں، سو ان صحابہ نے اسی طرح بیان کیا جس طرح حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے ان کو حدیث بیان کی تھی۔ ( بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهِيَ غَزْوَةُ العُسْرَةِ،حدیث نمبر ٤٤١٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الحُمْلاَنَ لَهُمْ، إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ العُسْرَةِ، وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ وَوَافَقْتُهُ، وَهُوَ غَضْبَانُ وَلاَ أَشْعُرُ» وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً، إِذْ سَمِعْتُ بِلاَلًا يُنَادِي: أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ: " خُذْ هَذَيْنِ القَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ القَرِينَيْنِ - لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ -، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ: إِنَّ اللَّهَ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ فَارْكَبُوهُنَّ ". فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لاَ تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ، حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4415

مصعب بن سعد از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف روانہ ہوئے ( اور مدینہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا تو حضرت علی نے کہا: کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے؟مگر بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور ابو داؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از حکم انہوں نے کہا: میں نے مصعب سے سنا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهِيَ غَزْوَةُ العُسْرَةِ ،حدیث نمبر ٤٤١٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، فَقَالَ: أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ؟ قَالَ: «أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي»، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، سَمِعْتُ مُصْعَبًا

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4416

صفوان بن یعلی بن امیہ نے خبر دی از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنگی کے لشکر میں غزوہ کیا یعلی کہتے تھے: یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے جن پر مجھے سب سے زیادہ اجر کی توقع ہے عطاء نے کہا کہ صفوان نے بتایا کہ یعلی کا ایک مزدور تھا وہ کسی انسان سے لڑا تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانتوں سے کاٹ لیا' عطاء نے کہا: مجھے یعلی نے بتایا تھا کہ کس نے دوسرے کا ہاتھ دانتوں سے کاٹا تھا، پس میں اس کو بھول گیا، انہوں نے بتایا کہ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک دانت گر گیا، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے اُس کے دانت کی دیت ساقط کر دی۔ عطاء نے کہا: میرا گمان ہے کہ صفوان نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دیتا؟ اور تم اس کو اس طرح چباتے جس طرح کوئی نر جانور اپنے منہ میں کسی کو چباتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهِيَ غَزْوَةُ العُسْرَةِ ،حدیث نمبر ٤٤١٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يُخْبِرُ قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العُسْرَةَ، قَالَ: كَانَ يَعْلَى يَقُولُ: تِلْكَ الغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِي، قَالَ عَطَاءٌ: فَقَالَ صَفْوَانُ: قَالَ يَعْلَى: فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الآخَرِ، قَالَ عَطَاءٌ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ: أَيُّهُمَا عَضَّ الآخَرَ فَنَسِيتُهُ، قَالَ: فَانْتَزَعَ المَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي العَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، كَأَنَّهَا فِي فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4417

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :اور اللہ تعالیٰ نے ان تین پر توبہ قبول فرمائی جو مؤخر رکھے گئے تھے (التوبہ آیت ١١٨) عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک وہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن کعب بن مالک حضرت کعب کے بیٹوں میں سے تھے جو ان کو راستہ دکھاتے تھے جب وہ نابینا ہو گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے تو اس کا قصہ بیان کرتے ہوئے حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو غزوہ بھی کیا میں غزوہ تبوک کے سوا کسی غزوہ میں پیچھے نہیں رہا ہاں! میں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہا تھا لیکن اس پر مجھے کسی نے ملامت نہیں کی تھی کہ میں غزوہ بدر سے پیچھے رہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے قافلہ کا ارادہ کر کے نکلے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمن کو بغیر کسی تعیین میعاد کے جمع کر دیا اور البتہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلہ العقبہ میں بھی حاضر تھا، جب ہم نے اسلام کی حمایت کا عہد کیا ( اور اس کے مقابلے میں) مجھے بدر میں حاضر ہونا پسند نہیں تھا، اگر چہ لوگوں میں بدر کا ذکر بہت زیادہ تھا اور میری خبر یہ ہے کہ جب میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہا، اس وقت میں اس سے پہلے بھی اتنا قوی اور اتنا خوشحال نہیں تھا اور اللہ کی قسم ! اس سے پہلے بھی میرے پاس دو اونٹنیاں جمع نہیں ہوئی تھیں حتیٰ کہ میں نے ان کو اس غزوہ میں جمع کیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو اس کا کسی اور غزوہ سے توریہ کرتے تھے حتی کہ اس غزوہ میں جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے روانگی کا ارادہ کیا تو گرمی بہت سخت تھی اور آپ دور دراز کے سفر اور جنگلات کی طرف جارہے تھے اور دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی تو آپ نے تمام مسلمانوں کے اوپر اپنے ارادہ کو ظاہر فرما دیا تا کہ وہ اس غزوہ کی تیاری کرلیں، پس آپ نے مسلمانوں کو بتا دیا جہاں جانے کا آپ کا قصد تھا اور مسلمان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنے زیادہ تھے کہ ان کا شمار کسی رجسٹر میں نہیں ہو سکتا تھا۔ حضرت کعب نے بتایا کہ اگر کوئی شخص اس غزوہ سے غائب ہونا چاہتا تو اس کا یہ گمان تھا کہ جب تک آپ کے اوپر اللہ کی وحی نازل نہ ہوگی تو اس کا یہ معاملہ پوشیدہ رہے گا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ اس وقت کیا تھا جب پھل پک چکے تھے ( اور آرام کرنے کے لیے ) درختوں کے گھنے سائے تھے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تیاری کی اور مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ تیاری کی، پس میں بھی تیاری کرنے لگا تا کہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوں، پس میں لوٹ آیا اور میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، پس میں دل میں کہتا کہ میں روانہ ہونے پر قادر ہوں، پس یوں ہی وقت گزرتا رہا حتیٰ کہ لوگوں نے تیاری مکمل کر لی اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہو گئے اس وقت تک میں نے کوئی تیاری نہیں کی تھی تو میں نے دل میں کہا: میں آپ کے بعد کل یا پرسوں روانہ ہو جاؤں گا اور پھر میں ان کے ساتھ مل جاؤں گا ان کے روانہ ہونے کے بعد میں صبح کو تیاری کے لیے اُٹھا اور پھر لوٹ گیا اور کوئی فیصلہ نہیں کیا، پھر دوسری صبح کو اٹھا اور پھر لوٹ آیا اور میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، پھر یوں ہی ہوتا رہا حتیٰ کہ لشکر بہت آگے نکل گیا اور بہت دور چلا گیا اور میں ارادہ کرتا رہا تھا کہ میں ان سے جاملوں گا اور کاش کہ میں نے ایسا کیا ہوتا، پس یہ میرے لیے مقدر نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روانہ ہونے کے بعد جب میں لوگوں میں نکلا تو مجھے اس چیز نے بہت غم زدہ کیا کہ میں جس شخص کو دیکھتا تھا اس پر نفاق کا عیب ہوتا تھا یا ان مردوں کو دیکھتا جن کو اللہ تعالٰی نے کمزوری کے سبب جہاد سے معذور رکھا تھا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرا ذ کر نہیں کیا تھا حتی کہ آپ تبوک پر پہنچ گئے تو جب آپ تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے پوچھا کہ کعب نے کیا کیا؟ تو بنو سلمہ کے ایک مرد نے کہا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو (اس کی خوشنما) اور چادروں نے اور ان کی طرف اترا کے دیکھنے نے روک لیا، پس حضرت معاذ بن جبل نے کہا: تم نے بہت بُری بات کہی ہے اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ! ہم نے کعب کے اوپر نیکی اور خیر کے سوا اور کوئی چیز نہیں جانی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ۔ حضرت کعب بن مالک نے بتایا کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ واپس تشریف لا رہے ہیں تو پھر میں فکر مند ہو گیا اور میں کوئی جھوٹا حیلہ سوچنے لگا جسے بیان کر کے میں کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں گا اور اس کے متعلق میں نے اپنے گھر کے ہر عقلمند آدمی سے مشورہ کیا ،پھر جب مجھے بیان بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اب مدینہ میں داخل ہونے والے ہیں تو تمام جھوٹی باتیں میرے دل سے نکل گئیں اور میں نے جان لیاکہ میں جھوٹ بول کر کبھی بھی آپ کی ناراضگی سے نہیں نکل سکوں گا تو میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور جب آپ کسی سفر سے آتے تو پہلے دو رکعت مسجد میں نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے اور جب آپ نے ایسا کیا تو اس غزوہ میں پیچھے رہنے والے آپ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے عذر پیش کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے اور وہ اسی سے زیادہ مرد تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمالیا اور ان کو بیعت کر لیا اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے باطنی معاملات کو اللہ کی طرف سونپ دیا سو میں بھی آپ کے پاس آیا جب میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ ناراضگی سے مسکرائے پھر آپ نے فرمایا: آگے آؤ! تو میں آگے چلا حتیٰ کہ میں آپ کے سامنے آکر بیٹھ گیا' آپ نے پوچھا تم کیوں پیچھے رہ گئے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! بے شک اللہ کی قسم ! اگر میں آپ کے علاوہ کسی دنیا دار کے پاس بیٹھا ہوتا تو آپ دیکھتے کہ میں جھوٹے عذر پیش کر کے آپ کی ناراضگی سے نکل جاتا اور مجھے چرب زبانی دی گئی ہے لیکن اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے آپ سے کوئی جھوٹی بات کہی جس سے آپ مجھ سے راضی ہو جائیں تو عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے گا اور اگر میں نے آپ کو سچی بات کہی جس سے آپ مجھ سے ناراض ہوں تو میں اللہ تعالیٰ سے معاف کرنے کی امید رکھتا ہوں اللہ کی قسم! میرا کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ کی قسم! میں اتنا قوی اور اتنا خوشحال کبھی نہیں تھا جب میں آپ سے پیچھے رہا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! اس شخص نے سچ کہا ہے پس تم اُٹھو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ فرمادے سو میں اُٹھا اور بنو سلمہ کے مرد دوڑ کر آئے، پس مجھ سے ملے اور مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں نہیں معلوم کہ تم نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا تھا، کیا تم اس سے عاجز تھے کہ تم بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی ایسا عذر پیش کرتے جیسا دوسرے پیچھے رہنے والوں نے عذر پیش کیا تھا' بے شک تمہارے گناہ کے لیے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کافی ہوتا، پس اللہ کی قسم! وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتی کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں واپس جاؤں اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دوں پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا کسی اور کو بھی میرے جیسا معاملہ پیش آیا ہے؟ انہوں نے بتایا: ہاں! دو مرد ہیں جنہوں نے تمہاری طرح کہا، پس ان سے اُسی طرح کہا گیا جس طرح تم سے کہا گیا میں نے پوچھا: وہ دونوں کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: وہ مرارہ بن الربیع العمری اور ہلال بن امیہ الواقعی ہیں، سو انہوں نے ان دو نیک بندوں کا ذکر کیا جو غزوہ بدر میں حاضر تھے سو اُن میں (میرے لیے ) نمونہ ہے سوجب انہوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں اپنے گھر آ گیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو منع فرما دیا تھا جو آپ سے اس غزوہ میں پیچھے رہے تھے سولوگوں نے ہم سے اجتناب کر لیا اور وہ ہم سے بالکل بدل گئے حتی کہ مجھے وہ زمین بھی بدلی ہوئی نظر آئی یہ وہ زمین ہی نہ تھی جسے میں پہلے پہچانتا تھا، ہم نے اسی حالت پر پچاس راتیں گزاریں رہے میرے دو صاحب تو وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تھے اور روتے رہتے تھے اور میں قوم میں جوان تھا اور با ہمت تھا، پس میں باہر نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا اور کسی کے ساتھ کوئی بھی بات نہ کرتا تھا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتا تھا تو آپ کو سلام کرتا تھا اور آپ نماز کے بعد اپنی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے میں دل میں سوچتا تھا کہ کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دینے کے لیے ہونٹوں کو حرکت دی تھی یا نہیں؟ پھر میں آپ کے قریب نماز پڑھتا تھا اور نظریں چرا کر آپ کی طرف دیکھتا تھا، پس جب میں نماز پڑھنے لگتا تو آپ میری طرف متوجہ ہوتے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ مجھ سے اعراض کرتے حتی کہ جب مجھ سے لوگوں کی بے رخی بڑھتی گئی تو ایک دن میں حضرت ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا اور وہ میرے چچازاد بھائی تھے اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب تھے پس میں نے ان کو سلام کیا تو اللہ کی قسم ! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا: اے ابوقتادہ ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں؟ تو وہ خاموش رہے میں نے اپنی بات دہرائی اور پھر قسم دی تب بھی وہ خاموش رہے میں نے پھر اپنی بات دہرائی اور پھر ان کو قسم دی تو انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ہی زیادہ علم ہے سو میری دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور میں واپس آ گیا حتی کہ میں دیوار پھاند کر اتر گیا حضرت کعب نے بتایا: جس وقت میں مدینہ کے بازار میں جارہا تھا تو اہل شام کے کسانوں میں سے ایک کسان آیا جو مدینہ میں غلہ بیچ رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ کعب بن مالک کی طرف میری کون رہنمائی کرے گا؟ تو لوگوں نے اسے اشارہ سے بتایا حتیٰ کہ وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے فسان کے بادشاہ کا مکتوب دیا اس میں لکھا ہوا تھا: اما بعد! مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے پیغمبر نے تمہارے ساتھ بے وفائی کی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ذلت کے گھر میں نہیں رکھا اور نہ ضائع ہونے کے لیے رکھا ہے تم ہم سے آکر مل جاؤ ہم تمہاری غم خواری کریں گئے میں نے اس خط کو پڑھنے کے بعد دل میں کہا: یہ میرے لیے ایک اور امتحان ہے! پس میں نے تنور کا قصد کیا اور اس خط کو جلا دیا حتی کہ جب پچاس میں سے چالیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کا قاصد میرے پاس آیا پس اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ پس میں نے پوچھا: کیا میں اس کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں ! بلکہ تم اس سے الگ ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ (یعنی مباشرت نہ کرو) اور آپ نے میرے دو صاحبوں کی طرف بھی ایسا ہی پیغام بھیجا' میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور ان ہی کے پاس رہوحتی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق اس امر کا فیصلہ فرما دے۔ حضرت کعب نے بتایا: حضرت ھلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئی' پس اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہلال بن امیہ بہت ہی بوڑھے اور کمزور ہیں ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہے کیا آپ اس کو نا پسند کریں گے کہ میں ان کی خدمت کروں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئیں ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ تو کسی کام کے لیے حرکت کر ہی نہیں سکتے اور اللہ کی قسم! جب سے ان کے معاملہ میں عتاب ہوا ہے اس دن سے لے کر اب تک وہ مسلسل روتے رہتے ہیں تب مجھ سے میرے بعض گھر والوں نے کہا : اگر تم بھی ؟ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے متعلق اسی طرح اجازت لے لو جس طرح آپ نے حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی کو ان کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لوں گا اور مجھے پتا نہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت طلب کروں تو آپ کیا فرمائیں؟ حالانکہ میں تو جوان مرد ہوں ( اور حضرت ہلال بن امیہ تو بوڑھے تھے ) پھر میں نے اس حال میں دس راتیں اور گزاریں حتیٰ کہ جب سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہم سے کلام کی ممانعت کی تھی اس پر پچاس روز مکمل ہو گئے، پس جب میں نے پچاسویں رات کی صبح کو فجر کی نماز پڑھی اور اس وقت میں اپنے گھر کی چھت پر تھا میں اسی حال میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر فرمایا کہ مجھ پر میرانفس بھی تنگ ہو گیا ہے اور زمین بھی اپنی کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی ہے تو اچانک میں نے کسی چلانے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکار رہا تھا: اے کعب بن مالک ! بشارت قبول کرو! حضرت کعب نے کہا: پس میں سجدہ میں گر گیا اور میں نے جان لیا کہ اب کشادگی آگئی ہے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب فجر کی نماز پڑھائی تو یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے تو لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لیے آئے اور میرے ان دو صاحبوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص نے میری طرف گھوڑا دوڑایا اور بنو اسلم کا ایک مرد میری طرف دوڑا پس وہ پہاڑ پر چڑھا اور اس کی آواز گھوڑے کی رفتار سے زیادہ تیز تھی پس جب میرے پاس وہ شخص آیا جس کی بشارت دینے کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے اس بشارت کی جزاء میں اپنی دونوں چادر میں نے اس کو پہنا دیں اور اللہ کی قسم ! اس وقت میرے پاس ان چادروں کے سوا اور کچھ نہیں تھا اور میں نے کپڑے عاریہ لے کے پہنے اور میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا پس لوگ مجھے فوج در فوج مل رہے تھے اور میری توبہ قبول ہونے پر مجھے مبارک باد دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرمالی ۔ حضرت کعب نے بتایا حتی کہ میں مسجد میں داخل ہوا، پس اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے گرد صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی اور اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے سوا اور کوئی نہیں کھڑا ہوا اور میں حضرت طلحہ کی یہ نیکی کبھی نہیں بھولوں گا۔ حضرت کعب نے بتایا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، آپ نے فرمایا: تمہیں اس مبارک دن کی بشارت ہو جب سے تم اپنی ماں سے پیدا ہوئے ہو یہ تمہارا سب سے بہترین دن ہے۔ حضرت کعب نے بتایا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا یہ آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں؟ یا اللہ کی طرف سے (فرما رہے ہیں)؟ آپ نے فرمایا: نہیں! بلکہ اللہ کی طرف سے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ اس طرح روشن ہو جاتا تھا جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم اس بات کو آپ کے چہرے سے پہچانتے تھے پس جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! بے شک میری توبہ ( کی خوشی یہ ہے ) کہ میں اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صدقہ کر دوں آپ نے فرمایا: تم اپنے کچھ مال کو اپنے پاس رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا' میں نے کہا: میں اس مال کو اپنے پاس رکھوں گا جو خیبر میں میرا حصہ ہے، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ ! بے شک اللہ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی سے اور بے شک میری توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی باقی زندگی میں سچ کے سوا کوئی بات نہ کہوں، پس اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی نے کسی مسلمان کو سچ بولنے کی وجہ سے ایسی آزمائش میں مبتلا کیا ہو جیسی آزمائش میں مجھے مبتلا کیا' جب سے میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد ذکر کیا تھا جس کی وجہ سے مجھے اللہ نے آزمائش میں مبتلا کیا تھا اور جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد ذکر کیا تھا اس وقت سے آج تک میں نے عمدا جھوٹ نہیں بولا اور بے شک میں اُمید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری باقی زندگی میں بھی جھوٹ سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی: بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی کی توبہ قبول فرمائی اور مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول فرمائی۔ (التوبہ ۱۷) اور یہ آیت یہاں تک ہے اور بچوں کے ساتھ ہو جاؤں (التوبہ: 119) پس اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اسلام کی ہدایت دینے کے بعد کوئی ایسی نعمت نہیں فرمائی جو میرے دل میں اس سے بڑی ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سچ بولا اور آپ سے جھوٹ نہیں بولا ورنہ میں بھی اس طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا، کیونکہ جب سے اللہ نے وحی نازل فرمائی ہے کسی کے متعلق ایسی سخت آیت نازل نہیں فرمائی اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: جب تم لوگ واپس آؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھائیں گے ( یہ آیت یہاں تک ہے:) پس بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتاں (التوبہ: ۹۵-۹۶ ) حضرت کعب نے بتایا: ہم تینوں کو ان لوگوں کے معاملہ،سے مؤخر رکھا گیا جن کے عذر کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُس وقت قبول فرمالیا جب انہوں نے (جھوٹی) قسمیں کھائی تھیں، پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو بیعت کر لیا اور ان کے لیے استغفار کیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمارے معاملہ کو مؤخر کر دیا حتی کہ اللہ تعالٰی نے ان کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ان تین لوگوں کے معاملہ کو مؤخر رکھا گیا۔ (التوبہ: ۱۱۸) اور جس تاخیر کا اللہ تعالٰی نے ذکر فرمایا ہے یہ وہ تا خیر نہیں ہے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، یہ ہمارے معاملہ کو ان سے مؤخر کرنا ہے جنہوں نے حلف اٹھایا تھا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے عذر کو قبول کر لیاتھا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} [التوبة: 118]حدیث نمبر ٤٤١٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ، قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ، حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ، تَبُوكَ، قَالَ كَعْبٌ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ العَقَبَةِ، حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ، أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، كَانَ مِنْ خَبَرِي: أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ، فِي تِلْكَ الغَزَاةِ، وَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ، حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الغَزْوَةِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً -[4]- إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الغَزْوَةُ، غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ، وَالمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ، وَلاَ يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ، يُرِيدُ الدِّيوَانَ، قَالَ كَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى لَهُ، مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيُ اللَّهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ، وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُسْلِمُونَ مَعَهُ، وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الغَزْوُ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ، وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ، أَحْزَنَنِي أَنِّي لاَ أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ، أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ: وَهُوَ جَالِسٌ فِي القَوْمِ بِتَبُوكَ: «مَا فَعَلَ كَعْبٌ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ، وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلًا حَضَرَنِي هَمِّي، وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الكَذِبَ، وَأَقُولُ: بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا، وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي البَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَيْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَيَرْكَعُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ المُخَلَّفُونَ، فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ، وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلاَنِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ المُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالَ» فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ -[5]-، فَقَالَ لِي: «مَا خَلَّفَكَ، أَلَمْ تَكُنْ قَدْ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ». فَقُلْتُ: بَلَى، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ، لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ اليَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي، لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَيَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ، تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ، إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، لاَ وَاللَّهِ، مَا كَانَ لِي مِنْ عُذْرٍ، وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى، وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ». فَقُمْتُ، وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لاَ تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ المُتَخَلِّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ: هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، رَجُلاَنِ، قَالاَ مِثْلَ مَا قُلْتَ، فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمَا؟ قَالُوا: مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ العَمْرِيُّ، وَهِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الوَاقِفِيُّ، فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ، قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، فِيهِمَا أُسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ، وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الأَرْضُ فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ، وَأَمَّا أَنَا، فَكُنْتُ أَشَبَّ القَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلاَةَ مَعَ المُسْلِمِينَ، وَأَطُوفُ فِي الأَسْوَاقِ وَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَيَّ أَمْ لاَ؟ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ، فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلاَتِي أَقْبَلَ إِلَيَّ، وَإِذَا التَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ، مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَفَاضَتْ عَيْنَايَ، وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الجِدَارَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ المَدِينَةِ، إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ، مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ، يَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ، حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ، فَإِذَا فِيهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ -[6]- وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ، وَلاَ مَضْيَعَةٍ، فَالحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ، فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُهَا: وَهَذَا أَيْضًا مِنَ البَلاَءِ، فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا، حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الخَمْسِينَ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا؟ أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لاَ، بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الحَقِي بِأَهْلِكِ، فَتَكُونِي عِنْدَهُمْ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الأَمْرِ، قَالَ كَعْبٌ: فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ، لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ؟ قَالَ: «لاَ، وَلَكِنْ لاَ يَقْرَبْكِ». قَالَتْ: إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ، وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي: لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ؟ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ؟ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ، حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلاَمِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلاَةَ الفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي، وَضَاقَتْ عَلَيَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ، أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ، فَأَوْفَى عَلَى الجَبَلِ، وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي، نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ، فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا، بِبُشْرَاهُ وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا، يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ: لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ كَعْبٌ: حَتَّى دَخَلْتُ المَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ، وَلاَ أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ كَعْبٌ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ: «أَبْشِرْ بِخَيْرِ -[7]- يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ»، قَالَ: قُلْتُ: أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: «لاَ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ». وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ». قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا، مَا بَقِيتُ. فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ المُسْلِمِينَ أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيتُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ} [التوبة: 117] إِلَى قَوْلِهِ {وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} [التوبة: 119] فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلاَمِ، أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ، فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا - حِينَ أَنْزَلَ الوَحْيَ - شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ} [التوبة: 95] إِلَى قَوْلِهِ {فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ القَوْمِ الفَاسِقِينَ} [التوبة: 96]، قَالَ كَعْبٌ: وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ، فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ: {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} [التوبة: 118]. وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الغَزْوِ، إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا، وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا، عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4418

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مقام الحجر میں اترنا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم الحجر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آئے جو ان پر آیا تھا، مگر تم روتے ہوئے گزر سکتے ہو پھر آپ نے اپنے سر پر کپڑا ڈال لیا اور رفتار تیز کرلی حتی کہ اس وادی سے گزر گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ،حدیث نمبر ٤٤١٩)

بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحِجْرِ قَالَ: «لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ الوَادِيَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4419

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر سے فرمایا کہ ان عذاب یافتہ لوگوں پر بغیر روئے نہ گزرو کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جیسا ان پر عذاب آیا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الحِجْرِ: «لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ المُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4420

حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی حاجت کے لیے گئے تو میں(آپ کے وضو کے لیے)پانی ڈالنے کے لیے کھڑا ہو گیا،راوی نے کہا: میں اس کے سوا نہیں جانتا کہ انہوں نے یہ حدیث غزوہ تبوک میں بیان کی تھی۔ سو آپ نے اپنا چہرہ دھویا اور اپنی کلائیاں دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ تھی تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے نکال لیا ! پھر ان دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر اپنے موزوں پر مسح کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ،حدیث نمبر ٤٤٢١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ المُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: «ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ المَاءَ، - لاَ أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4421

حضرت عباس بن سہل بن سعد از ابی حمید انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک سے آئے حتیٰ کہ جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ طابہ ہے اور یہ اُحد پہاڑ ہے یہ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٢)

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى المَدِينَةِ قَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4422

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے پس مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: بے شک مدینہ میں ایسے لوگ ہیں کہ تم جہاں بھی روانہ ہوئے اور تم نے جس وادی کو بھی عبور کیا تو وہ تمہارے ساتھ تھے صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! وہ مدینہ میں ہی تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ مدینہ میں ہی تھے کسی عذر نے ان کو روک لیا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ نُزُولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجْرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ المَدِينَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: «وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ العُذْرُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4423

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کسری اور قیصر کی طرف مکتوب۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی کے ساتھ اپنا مکتوب کسری کی طرف بھیجا، پس آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ مکتوب عظیم البحرین کو دے دیں، پس عظیم البحرین نے یہ مکتوب کسری کو دے دیا جب اس نے اس کو پڑھا تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سو میں نے یہ گمان کیا کہ ابن المسیب نے کہا کہ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعاء ضرر کی کہ ان کے پورے پورے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٤)

بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ البَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ البَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ، فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ المُسَيِّبِ، قَالَ: «فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4424

حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:مجھے اللہ نے اس بات سے نفع پہنچایا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا تھا یہ نفع جنگ جمل کے ایام میں پہنچایا جب کہ قریب تھا کہ میں اصحاب جمل کے ساتھ مل جاتا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرتا، حضرت ابوبکرہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا حکمران بنالیا تو آپ نے فرمایا: وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پاسکے گی جنہوں نے اپنے معاملات کا حاکم عورت کو بنالیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الجَمَلِ، بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ، قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى، قَالَ: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4425

السائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں لڑکوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لیے گیا تھا' سفیان نے دوسری بار اس حدیث میں (لڑکوں کے بجائے)بچوں کا لفظ کہا۔ السائب وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں بچوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا جب آپ غزوہ تبوک سے آرہے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ،حدیث نمبر ٤٤٢٦،و حدیث نمبر ٤٤٢٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَذْكُرُ أَنِّي «خَرَجْتُ مَعَ الغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الوَدَاعِ، نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً --: «مَعَ الصِّبْيَانِ» 4427 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ، أَذْكُرُ أَنِّي «خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى ثَنِيَّةِ الوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4426/4427

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مرض اور آپ کی وفات کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: بے شک آپ بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ بھی مرنے والے ہیں پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑا کروگے (الزمر: ۳۱-۳۰) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ جس مرض میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تھی اس مرض میں آپ نے فرمایا: اے عائشہ ! میں ہمیشہ اس کھانے کا درد محسوس کرتا رہا ہوں، جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور یہ وہ وقت ہے کہ میں نے اس زہر کے اثر سے اپنے دل کی رگ کے انقطاع کو پایا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٢٨)

بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ. ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4428

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما از أم الفضل بنت الحارث وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں المرسلت عرفاً پڑھ رہے تھے پھر اس کے بعد آپ نے ہمیں کوئی نماز نہیں پڑھائی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمالی۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٢٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أُمِّ الفَضْلِ بِنْتِ الحَارِثِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْرَأُ فِي المَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا، ثُمَّ مَا صَلَّى لَنَا بَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4429

سعید بن جبیر از حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو قریب رکھتے تھے تو ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے تو بیٹے ان جیسے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( اس کا قرب )اس کے علم کی حیثیت سے ہے پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے گی ( النصر (1) تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا: اس آیت میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اجل کا بیان ہے یہ آپ نے اُن کو خبر دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آیت کے متعلق اتنا ہی جانتا ہوں جتنا کہ تم جانتے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ، فَسَأَلَ عُمَرُ، ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ} [النصر: 1]. فَقَالَ: «أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ» فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4430

سعید بن جبیر وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: جمعرات کا دن وہ کیسا تھا جمعرات کا دن اس دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا درد زیادہ ہو گیا' آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز لاؤ تا کہ میں تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی بھی گم راہ نہیں ہو گئے پس صحابہ بحث کرنے لگے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس بحث کرنی نہیں چاہیے، انہوں نے کہا: آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ بیماری کی وجہ سے بے معنی کلام کر رہے ہیں؟ آپ سے پوچھ لو پس صحابہ آپ کی بات کا جواب دینے لگئے آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو میں، جس حال میں میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آپ نے ان کو تین چیزوں کی وصیت کی، آپ نے فرمایا: مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور وفد کو اسی طرح انعام دینا جس طرح میں انہیں انعام دیتا تھا اور آپ تیسری وصیت کرنے سے خاموش رہے یا راوی نے کہا: میں اس کو بھول گیا۔ [بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣١]

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الخَمِيسِ؟ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: «ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»، فَتَنَازَعُوا وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ، أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ؟ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «دَعُونِي، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ» وَأَوْصَاهُمْ بِثَلاَثٍ، قَالَ: «أَخْرِجُوا المُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ العَرَبِ، وَأَجِيزُوا الوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4431

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وفات کا وقت قریب آیا اور گھر میں بہت مرد تھے ہیں؟تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ! میں تمہیں ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گئے تو بعض مردوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے پس ہمیں کتاب اللہ کافی ہے پس گھر والوں کا اختلاف ہوا تو وہ بحث کرنے لگئے پس ان میں سے بعض نے کہا: آپ کے قریب ایسی چیز لاؤ کہ آپ تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو ان میں سے بعض نے اس کے سوا کہا جب بہت زیادہ شور اور اختلاف ہوا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھ جاؤ! عبید اللہ نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ کہتے تھے کہ مصیبت پوری پوری مصیبت وہ تھی جو صحابہ کے اختلاف اور ان کے شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درمیان اور آپ کے اس مکتوب کے لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی۔ [بخاری شریف، کتاب المغازی، بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٢]

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي البَيْتِ رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ»، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ القُرْآنُ حَسْبُنَا، كِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ البَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلاَفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، فَكَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الكِتَابَ، لِاخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4432

حضرت عائشه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ علیہا السلام کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپ کی وفات ہوگئی تھی، پس آپ نے ان سے چپکے چپکے کوئی بات کہی تو وہ روئیں، آپ نے پھران کو بلایا اور چپکے چپکے کوئی بات کی تو وہ ہنسیں،تو ہم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کے متعلق سوال کیا۔ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے چپکے چپکے کہا کہ آپ کی اس بیماری میں وفات ہو جائے گئی تو میں روئی، پھر مجھے چپکے چپکے یہ خبر دی کہ آپ کے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میں آپ علیہ السلام کے تابع ہوں گی تو میں ہنسی۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی ،باب مرض النبی صلی اللہ علیہ و وفاتۃ، حدیث نمبر ٤٤٣٣،و حدیث نمبر ٤٤٣٤)

حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ، فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: «سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4433/4434

حضرت عائشه رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت نہیں ہوتا حتی کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جائے، پس میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنی اس بیماری میں فرما رہے تھے جس میں آپ کی وفات ہوگئی، اس وقت آپ کی سانس کی نالی میں کوئی چیز آگئی تھی (جس سے آپ کی آواز بھاری ہو گئی تھی ) آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ (النساء (٦٩) پوری آیت پڑھی پس میں نے گمان کیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا۔ [بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ: " أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ} [النساء: 69] الآيَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4435

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس مرض میں آپ کی وفات ہوئی تھی تو آپ یہ فرماتے تھے: الرفیق الاعلیٰ میں۔ [بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4436

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تندرست تھے تو آپ فرماتے تھے: کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی حتی کہ جنت میں اس کا ٹھکانا اسے دکھا دیا گیا، پھر اس پر سلام پڑھا جاتا ہے یا اختیار دیا جاتا ہے پھر جب آپ بیمار ہو گئے اور آپ کی وفات قریب آ گئی اور آپ کا سر حضرت عائشہ کے زانو پر تھا تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے اپنی نظر گھر کے چھت کی طرف بلند کی، پھر دعا کی: اے اللہ !الرفیق الاعلیٰ میں، تو میں نے دل میں کہا کہ اب آپ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گئے پس میں نے جان لیا یہ اسی حدیث کا مصداق ہے جو آپ ہمیں تندرستی کی حالت میں بیان فرماتے تھے۔ [بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٧]

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الجَنَّةِ، ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ القَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ البَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» فَقُلْتُ: إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4437

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ٹیک میرے سینہ کی طرف تھی اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس ترو تازہ مسواک تھی، جس سے وہ اپنے دانت صاف کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لگا تار ان کو دیکھتے رہے پس میں نے وہ مسواک لی اس کو اوپر کی طرف سے کاٹا اور اس کو جھاڑا اور اس کو نرم کیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دی تو پھر آپ نے اس سے دانت صاف کیئے سو میں نے کبھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اتنے عمدہ طریقہ سے دانت صاف کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پس جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسواک کرنے سے فارغ ہو گئے تو پھر آپ نے اپنا ہاتھ یا پھر اپنی انگلی اوپر اُٹھائی اور پھر تین مرتبہ یہ دعا کی : الرفیق الاعلیٰ میں، پھر آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَصَمْتُهُ، وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَّ اسْتِنَانًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَهُ -- أَوْ إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى». ثَلاَثًا، ثُمَّ قَضَى، وَكَانَتْ تَقُولُ: مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4438

عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے اوپر المعوذات پڑھ کر دم کرتے اور اپنا ہاتھ اپنے جسم پر پھیرتے پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہو گئی تھی تو میں آپ کے اوپر المعوذات پڑھ کر دم کرتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی ۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٣٩)

حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، طَفِقْتُ أَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4439

عباد بن عبدالله بن الزبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے آپ کی وفات سے پہلے کان لگا کر سنا اس وقت آپ اپنی کمر سے میرے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے آپ دعا کر رہے تھے: اے اللہ ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے الرفیق کے ساتھ ملا دے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٠)

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَيَّ ظَهْرَهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4440

حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس کے بعد آپ کھڑے نہیں ہوئے: اللہ یہود پر لعنت فرمائے! انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا' حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ اسے سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا تو آپ کی قبر کو ظاہر کر دیا جاتا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤١)

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلاَلٍ الوَزَّانِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: «لَوْلاَ ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4441

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مرض شدید ہوگیا اور آپ کا مرض زیادہ ہوگیا تو آپ نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ آپ اپنی بیماری کے دن میرے گھر میں گزاریں تو انہوں نے آپ کو اجازت دے دی سو آپ دو مردوں کے درمیان اپنے پیروں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے نکلے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک اور مرد(یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے درمیان،عبید اللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ کو خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کہا تھا؟تو مجھ سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا مرد کون تھا جس کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہیں لیا ؟ تو میں نے کہا:نہیں! حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجه نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے اور آپ کو شدید درد تھا تو آپ نے فرمایا:مجھ پر سات ایسی مشکوں کا پانی ڈالو جن کا منہ کھولا نہ گیا ہو شاید میں لوگوں کو کوئی نصیحت کروں پس ہم نے آپ کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ٹب میں بٹھایا پھر ہم نے آپ کے اوپر ان مشکوں کا پانی انڈیلا حتی کہ آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم نے اپنا کام پورا کر لیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: پھر آپ لوگوں کی طرف گئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور ان کو خطبہ دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٢)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ وَهُوَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لاَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» وَكَانَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَ: «هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ، لَمْ تُحْلَلْ، أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ» فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ القِرَبِ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ، «أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ» قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ وَخَطَبَهُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4442

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بیماری آئی تو آپ اپنے چہرہ پر چادر ڈالتے رہے تھے پھر جب آپ کا دم گھٹنے لگتا تو آپ اپنا چہرہ کھول دیتے اور اسی حالت میں آپ فرما رہے تھے اللہ یہود اور نصاری پر لعنت کرے! جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا' آپ ان کے کیے ہوئے کاموں سے ڈراتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٣, و حدیث نمبر ٤٤٤٤)

وأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ كَذَلِكَ يَقُولُ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4443/4444

(بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٥)

أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي: أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا، قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ " رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو مُوسَى، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4445

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور اس وقت آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان میں تھے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی پر موت کی سختی کو نا پسند نہیں کرتی۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلاَ أَكْرَهُ شِدَّةَ المَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا، بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4446

بشر بن شعیب بن ابوحمزہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے خبر دی اور حضرت کعب بن مالک ان تین صحابہ میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی تھی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کو خبر دی کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بیماری میں نکلے جس میں آپ کی وفات ہو گئی تھی تو لوگوں نے کہا: اے ابو الحسن! رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے بتایا: الحمد للہ ! اب آرام ہے پھر حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ کی قسم ! تم تین دن کے بعد لاٹھی کے بندہ ہو جاؤ گے اور اللہ کی قسم ! بے شک میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں وہ اس بیماری میں فوت ہو جائیں گئے کیونکہ میں عبد المطلب کے بیٹوں کے چہروں کو موت کے وقت پہچانتا ہوں' ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس چلو ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ خلافت کس کے پاس ہوگی اگر وہ خلافت ہم میں ہے تو ہمیں علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے غیر میں ہے تب بھی ہم اسے جان لیں گئے سو آپ ہمیں وصیت کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ کی قسم ! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے خلافت کا سوال کیا، پس آپ نے ہم کو خلافت سے منع کر دیا تو لوگ آپ کے بعد ہمیں کبھی خلافت نہیں دیں گے اور بے شک میں اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے خلافت کا سوال نہیں کروں گا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٧)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، " كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا "، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ العَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ عِنْدَ المَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ، إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لاَ يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4447

عقیل نے حدیث بیان کی از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ جس وقت مسلمان پیر کے دن فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے تو ان کو اس بات نے حیران کر دیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کا پردہ کھولا پس مسلمانوں کی طرف نظر کی اور وہ اس وقت نماز کی صفوں میں تھے پھر آپ ہنستے ہوئے مسکرائے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں پر پیچھے ہٹ گئے تا کہ آپ علیہ السلام صف میں مل جائیں اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز کی طرف نکلنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خوشی سے ارادہ کیا کہ اپنی نماز کو توڑ دیں تو ان کی طرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم اپنی نماز کو پورا کرو پھر آپ حجرہ میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٨)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ المُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي لَهُمْ، لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ «كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي صُفُوفِ الصَّلاَةِ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ»، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقَالَ أَنَسٌ-: وَهَمَّ المُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاَتِهِمْ، فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ الحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4448

ابو عمرو ذکوان مولی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی تھیں کہ مجھ پر اللہ کی نعمتوں میں سے یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں اور میری باری میں اور میری ہنسلی اور میرے سینہ کے درمیان میں فوت ہوئے اور بے شک اللہ نے آپ کی وفات کے وقت میرے لعاب کو اور آپ کے لعاب کو جمع کر دیا۔حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ٹیک تھی، پس میں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام مسواک کی طرف دیکھ رہے تھے اور مجھے معلوم تھا کہ آپ مسواک کرنے کو پسند کرتے ہیں، میں نے پوچھا: کیا میں آپ کے لیے مسواک لوں؟ آپ نے سر کے اشارہ سے فرمایا: ہاں ! پس میں نے مسواک لی وہ آپ پر سخت تھی میں نے عرض کیا کہ کیا میں آپ کے لیے نرم کر دوں آپ نے سر کے اشارہ سے فرمایا: ہاں ! سو میں نے اسے نرم کیا اور آپ کے سامنے چھڑے کا یا لکڑی کا برتن تھا جس میں پانی تھا راوی عمر کو اس میں شک ہے آپ اپنے ہاتھوں کو پانی میں داخل کرتے، پھر آپ اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر ملتے اور کہتے : لا الہ الا اللہ! بے شک موت کی سختیاں ہیں، پھر آپ اپنا ہاتھ کھڑا کر کے یہ کہتے رہے : الرفیق الاعلیٰ میں، حتی کہ آپ کی روح مبارک قبض کر لی گئی اور آپ کا ہاتھ مبارک گر گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٤٩)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ: دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَبِيَدِهِ السِّوَاكُ، وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: «أَنْ نَعَمْ» فَتَنَاوَلْتُهُ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ: «أَنْ نَعَمْ» فَلَيَّنْتُهُ، فَأَمَرَّهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ - يَشُكُّ عُمَرُ - فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي المَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، يَقُولُ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ» ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4449

ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی وہ روایت کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ جس بیماری میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی' آپ پوچھتے تھے کہ میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ کا ارادہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کا تھا تو آپ کی ازواج نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں وہاں رہیں تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں رہے حتیٰ کہ ان ہی کے پاس آپ کی وفات ہو گئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن معمول کے مطابق آپ نے گھوم کر میرے گھر میں آنا تھا، پس اللہ تعالٰی نے آپ کی روح مبارک اس حال میں قبض فرمائی کہ آپ کا سر اقدس میرے سینہ اور میری ہنسلی کے درمیان میں تھا اور آپ کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے مل چکا تھا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہما آئے اور ان کے پاس مسواک تھی جس سے وہ دانت صاف کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبدالرحمن! مجھے یہ مسواک دو! پس انہوں نے مجھے وہ مسواک دی پس میں نے اس مسواک کو اوپر سے کاٹا، پھر اس کو ( نرم کرنے کے لیے)چبایا پھر میں نے وہ مسواک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دی، آپ نے اس حال میں اس سے دانت صاف کیے کہ آپ میرے سینہ کی طرف ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥٠)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ: «أَيْنَ أَنَا غَدًا، أَيْنَ أَنَا غَدًا» يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي اليَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ، فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي، ثُمَّ قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ، فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4450

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں اور میری باری میں اور میرے سینہ اور میری ہنسلی کے درمیان فوت ہوئے اور جب آپ بیمار ہوتے تو ہم ازواج میں سے کوئی ایک آپ کے لیے المعوذات کے ساتھ دعا کرتی تھی تو میں بھی آپ کے لیے المعوذات پڑھ رہی تھی اور آپ نے آسمان کی طرف سر اُٹھایا اور دعا کی: الرفیق الاعلیٰ میں ،الرفیق الاعلیٰ میں ۔حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما گزرے اور ان کے ہاتھ میں درخت کی تروتازہ شاخ تھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے گمان کیا کہ آپ کو اس کی ضرورت ہے پس میں نے وہ لے لی اور اس کے سر کو ( کاٹ کر ) چبایا اور اس کو جھاڑا پھر وہ آپ کو دے دی' آپ نے اس سے دانت صاف کیئے جیسے بہت عمدہ طریقہ سے دانت صاف کیئے پھر آپ نے وہ شاخ مجھے دے دی، پھر آپ کا ہاتھ گر گیا یا پھر آپ کے ہاتھ سے وہ شاخ گر گئی تو اللہ تعالی نے دنیا کے آخری دن میں اور آخرت کے پہلے دن میں میرا لعاب دہن اور آپ کا لعاب دہن جمع کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥١)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى، فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى»، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً، فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا، وَنَفَضْتُهَا، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا، ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا، فَسَقَطَتْ يَدُهُ، أَوْ: سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4451

ابوسلمہ نے خبر دی کہ ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر جو السنخ میں تھا سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے حتیٰ کہ گھوڑے سے اترے پس مسجد میں داخل ہوئے، پھر لوگوں سے کوئی بات نہیں کی حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے، پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قصد کیا اس وقت آپ کو ایک یمنی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا، پس انہوں نے آپ کا چہرہ کھولا پھر آپ پر جھک گئے،پس آپ کو بوسا دیا اور روئے، پھر کہا: آپ پرمیرے باپ اور میری ماں قربان ہو! اللہ کی قسم! اللہ آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں کرے گا رہی وہ موت جو آپ پر لکھ دی گئی تھی سو آپ نے اس کو پالیا۔الزہری نے کہا: اور مجھے ابو سلمہ نے حدیث بیان کی از عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ اے عمر! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیٹھنے سے انکار کیا، پس لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا، پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اما بعد ! تم میں سے جو شخص سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا،تو(سن لو)بے شک سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور بے شک تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو بے شک اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ( معبود نہیں )صرف(اللہ کے) رسول ہیں ان سے پہلے اور(بھی اللہ کے)رسول ہو چکے۔ یہ آیت شاکرین تک ہے۔(آل عمران: ١٤٤) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: اور اللہ کی قسم ! گویا کہ لوگوں نے یہ نہیں جانا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے حتیٰ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی، پھر تمام لوگوں نے اس آیت کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حاصل کیا، پس لوگوں میں سے جس بشر نے بھی اس آیت کو سنا وہ اس کی تلاوت کر رہا تھا، پس مجھے سعید بن المسیب نے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے اس آیت کو صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت سے سنا پس میں بے ہوش گیا، حتیٰ کہ میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھا رہی تھیں اور حتیٰ کہ جب میں نے اس آیت کی تلاوت سنی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو میں زمین پر گر گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥٢،و ٤٤٥٣،و ٤٤٥٤)

4452 و 4453 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ -[14]-، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ المَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمُ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: «بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا المَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ، فَقَدْ مُتَّهَا» 4454 - قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ: اجْلِسْ يَا عُمَرُ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} [آل عمران: 144] إِلَى قَوْلِهِ {الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144]، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى تَلاَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا " فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: «وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلاَهَا فَعَقِرْتُ، حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلاَيَ، وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلاَهَا، عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4452/4453/4454

امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن سعید نے حدیث بیان کی از سفیان از موسیٰ بن ابی عائشه از عبید الله بن عبد الله بن عتبہ از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو بوسا دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥٥, ٤٤٥٦،٤٤٥٧)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4455/4456/4457

یحییٰ نے حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیماری میں آپ کے منہ میں (زبردستی)دواء ڈالی تو آپ نے ہماری طرف اشارہ کر کے فرمایا: میرے منہ میں دواء نہ ڈالو تو ہم نے کہا: یہ بیمار کا دواء کو ناپسند کرنا ہے جب آپ صحت یاب ہو گئے تو آپ نے فرمایا: کیا میں نے تم کو منہ میں دواء ڈالنے سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: (ہمارے خیال میں)یہ بیمار کا دواء کو ناپسند کرنا ہے آپ نے فرمایا: گھر میں کوئی فرد نہیں بچے گا مگر اس کے منہ میں دواء ڈالی جائے گی اور میں دیکھ رہا ہوں گا سوائے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کیونکہ وہ اس وقت تمہارے پاس حاضر نہیں تھے۔اس حدیث کی ابن ابی الزناد نے ہشام سے روایت کی ہے از والد خود از حضرت عائشہ رضی الله عنہا از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥٨)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَزَادَ قَالَتْ عَائِشَةُ: لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا: «أَنْ لاَ تَلُدُّونِي» فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ المَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي»، قُلْنَا كَرَاهِيَةَ المَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: «لاَ يَبْقَى أَحَدٌ فِي البَيْتِ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا العَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ» رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4458

الاسود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے یہ ذکر کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف وصیت کی تھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: یہ بات کس نے کہی ہے؟ حالانکہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے سینہ کی طرف ٹیک لگائی ہوئی تھی، پھر آپ نے (تھوک کے لیے)تھال منگایا، پھر آپ جھکے، پس آپ کی وفات ہوگی، پس میں نہیں سمجھی کہ آپ نے کس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَتْ: مَنْ قَالَهُ؟ «لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَانْخَنَثَ فَمَاتَ فَمَا شَعَرْتُ فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ؟»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4459

حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا: نہیں! میں نے کہا: پھر لوگوں پر وصیت کس طرح فرض کی گئی ہے یا لوگوں کو کس طرح وصیت کا حکم دیا گیا ہے تو انہوں نے بتایا: آپ نے کتاب اللہ کی وصیت کی تھی ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لاَ، فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الوَصِيَّةُ، أَوْ أُمِرُوا بِهَا؟ قَالَ: «أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4460

عمرو بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم نہ غلام نہ باندی صرف ایک سفید خچر چھوڑی جس پر آپ سوار ہوتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور وہ زمین چھوڑی جس کو آپ نے مسافر کے لیے صدقہ کر دیا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٦١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ، قَالَ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلاَ دِرْهَمًا، وَلاَ عَبْدًا، وَلاَ أَمَةً، إِلَّا بَغْلَتَهُ البَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا، وَسِلاَحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4461

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ نے اپنے آپ کو چادر سے ڈھانپ لیا پس حضرت سیدتنافاطمہ علیہا السلام نے کہا: ہائے میرے والد کی تکلیف تو آپ نے ان سے فرمایا: آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی جب آپ کی وفات ہوگئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا: اے ابا جان! آپ اپنے رب کے بُلانے پر چلے گئے اے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے اے ابا جان! ہم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو حضرت فاطمہ علیہا السلام نے کہا: اے انس! کیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مٹی ڈال کر تمہارا دل خوش ہو گیا ؟ (بخاری شریف، کتاب المغازی ،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٤٤٦٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ: وَا كَرْبَ أَبَاهُ، فَقَالَ لَهَا: «لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ اليَوْمِ»، فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ، أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، يَا أَبَتَاهْ، مَنْ جَنَّةُ الفِرْدَوْسِ، مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، فَلَمَّا دُفِنَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ: يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4462

الزہری نے کہا: مجھے سعید بن المسیب نے چند اہل علم مردوں میں خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم صحت مند تھے تو آپ فرماتے تھے کہ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی حتی کہ وہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لئے پھر اس کو (موت کا) اختیار دیا جاتا ہے پس جب آپ پر موت کی بیماری آئی، اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا' آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر آپ ہوش میں آئے پھر آپ نے گھر کی چھت کی طرف نظر ڈالی پھر دعا کی: اے اللہ! الرفیق الاعلیٰ( کو میں اختیار کرتا ہوں ) تو میں نے دل میں کہا: اب آپ ہم کو اختیار نہیں کریں گے اور میں نے جان لیا یہ وہی حدیث ہے جو آپ ہمیں تندرستی کی حالت میں بیان فرماتے تھے اور جو آپ نے آخری کلام کیا وہ یہ تھا: اے اللہ ! الرفیق الاعلیٰ, (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٤٦٣)

بَابُ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: «إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الجَنَّةِ، ثُمَّ يُخَيَّرَ» فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ، وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ البَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى». فَقُلْتُ: إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4463

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔ حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے اور آپ پر قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ میں دس سال رہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٤٦٤،و حدیث نمبر ٤٤٦٥)

بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، يُنْزَلُ عَلَيْهِ القُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4464/4465

حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ ابن شہاب نے کہا: اور مجھے سعید بن المسیب نے اس کی مثل خبر دی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٤٦٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4466

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (۱۲۰ سے زائد کلوگرام) کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب،حدیث نمبر ٤٤٦٧)

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاَثِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4467

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے مرض وفات میں(امیر بنا کر) بھیجنا سالم از والد خود وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنایا سو لوگوں نے اس پر نکتہ چینی کی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اُسامہ پر اعتراض کیا ہے اور بے شک وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ،حدیث نمبر ٤٤٦٨)

بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ الفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ، فَقَالُوا فِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4468

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ( شام کی طرف) ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو امیر بناد یا تو لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا' تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر طعن کر رہے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر طعن کر چکے ہو اور اللہ کی قسم ! بے شک وہ ضرور امارت کے لائق تھے اور بے شک وہ میرے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے اور بے شک یہ ان کے بعد مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ،حدیث نمبر ٤٤٦٩)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4469

ابن ابی حبیب از ابی الخیر از الصنابحی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابوالخیر نے پوچھا: آپ نے کب ہجرت کی تھی ؟ انہوں نے کہا: ہم یمن سے ہجرت کرتے ہوئے آئے پس ہم الجحفہ پر پہنچے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے (مدینہ کی خبر پوچھی، اس نے کہا: پانچ روز ہوئے ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دفن کر چکے ہیں، میں نے پوچھا: کیا آپ نے لیلتہ القدر کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ! مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ آخری عشرہ کے ساتویں دن میں ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،باب ،حدیث نمبر ٤٤٧٠)

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ: مَتَى هَاجَرْتَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مِنَ اليَمَنِ مُهَاجِرِينَ، فَقَدِمْنَا الجُحْفَةَ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَقُلْتُ لَهُ: الخَبَرَ؟ فَقَالَ: «دَفَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ»، قُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ القَدْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي بِلاَلٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4470

ابو اسحاق نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوہ کیے؟ انہوں نے بتایا: سترہ میں نے پوچھا: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کتنے غزوہ کیے؟ انہوں نے بتایا: انیس ۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابٌ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟حدیث نمبر ٤٤٧١)

بَابٌ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: " كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4471

ابی اسحاق نے کہا: ہمیں حضرت البراء رضی اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوہ کیے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابٌ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟حدیث نمبر ٤٤٧٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا البَرَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4472

این بریده از والد خود انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ من ملی ایم کے ساتھ سولہ غزوہ کیے۔ (بخاری شریف ،کتاب المغازی ،بَابٌ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟،حدیث نمبر ٤٤٧٣)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلِ بْنِ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً»

Bukhari Shareef, Kitabul Magazi, Hadees No. 4473

Bukhari Shareef : Kitabul Magazi

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الْمَغَازِي

|

•