
تفسیر القرآن کا بیان, الرحمن الرحيم “ یہ دو اسم رحمة " سے ماخوذ ہیں. الرحیم“ اور ” الراحِم " کا ایک معنی ہے جیسے العلیم اور"العالم" - سورۃ الفاتحہ کی تفسیر, اس سورت کا نام ام الکتاب رکھا گیا ہے کیونکہ اس سے مصاحف کو لکھنے کی ابتداء کی جاتی ہے اور اس کی قراءت سے نماز کی ابتداء کی جاتی ہے اور دین کا معنی ہے: خیر اور شر کی جزاء جیسے کہا جاتا ہے: جیسا کروگے ویسا بھرو گے ۔ مجاہد نے کہا: "بالدین " ( الماعون ١،الانفطار : 9) اس کا معنی ہے: حساب ۔ مدینین “ (الواقعہ: ۸۶) اس کا معنی ہے: "محاسبین یعنی جن کا حساب کیا گیا ہو۔ ابوسعید بن المعلیٰ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں نمای پڑھ رہا تھا، پس مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بلا یا سو میں نہیں گیا ہے میں نے بتایا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا :کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول جب تمہیں بلائیں تو تم چلے آؤ (الانفال: ۲۴) پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں ضرور ایک سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سورتوں میں سب سے زیادہ عظیم ہے اس سے پہلے کہ تم مسجد سے نکلو پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو جب آپ نے مسجد سے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ میں تم کو قرآن کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا ؟ آپ نے فرمایا: وہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ ) ہے اور وہی السبع المثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَاتِحَةِ الكِتَابِ،حدیث نمبر ٤٤٧٤)
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ" کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب امام پڑھے: "غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِينَ (الفاتحہ: ۷) تو تم کہو : آمین، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا' اس کے تمام پچھلے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير، بَابُ {غَيْرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7]حدیث نمبر ٤٤٧٥)
اللہ عز وجل کے ارشاد و علم آدم الاسماء كلها (البقرہ:۳۱) کی تفسیر, حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: قیامت کے دن مؤمنین جمع ہوں گئے پس وہ کہیں گے: کاش! ہم کسی کو اپنے رب کی طرف شفاعت کرنے والا بنائیں، پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گئے سو وہ کہیں گے : آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ کے لیے تمام فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، پس آپ اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کیجئے تا کہ آپ ہمیں اس جگہ سے راحت دیں حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں اور وہ اپنا (ظاہری) گناہ یاد کریں گئے، پس ان کو حیاء آئے گی اور فرمائیں گے تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین والوں کی طرف بھیجا، پس لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ فرمائیں گے: میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں اور ان کو اپنے رب سے کیا ہوا وہ سوال یاد آئے گا جس کا انہیں علم نہیں تھا سو انہیں حیاء آئے گی، پس وہ کہیں گے تم خلیل الرحمٰن یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ سولوگ ان کے پاس جائیں گئے وہ کہیں گے : میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ ایسے بندہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور ان کو تورات عطاء فرمائی' پس لوگ ان کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے : میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں اور وہ یاد کریں گے کہ انہوں نے ایک نفس کو بغیر کسی نفس کے بدلہ کے قتل کر دیا تھا، سو ان کو اپنے رب سے حیاء آئے گی، پس وہ کہیں گے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں وہ اللہ کا کلمہ ہیں اور اس کی پسندیدہ روح ہیں، پس وہ بھی کہیں گے : میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں، تم (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی کاموں کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے پس(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا) لوگ میرے پاس آئیں گئے پس میں جاؤں گا حتیٰ کہ میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دی جائے گئی، پس جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا' پس جب تک اللہ تعالٰی چاہے گا مجھے سجدہ میں چھوڑے رکھے گا، پھر کہا جائے گا: اپنا سر اُٹھائیے اور سوال کیجئے آپ کو دیا جائے گا اور کہئے آپ کی بات سنی جائے گی اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گئی پس میں اپنا سر اٹھاؤں گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ان کلمات حمد کے ساتھ تعریف کروں گا جن کی وہ مجھے اس وقت تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا پھر میری ایک حد مقرر کی جائے گی سو میں ان کو جنت میں داخل کر دوں گا پھر میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹوں گا پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو پھر اسی کی مثل ہوگا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گئی سو میں ان کو جنت میں داخل کر دوں گا پھر میں تیسری مرتبہ لوٹوں گا' پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا، پس میں کہوں گا: اب تو دوزخ میں صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک لیا ہے اور جن پر خلود اور دوام واجب ہو گیا۔ امام ابو عبد اللہ نے کہا: مگر جن کو قرآن نے روک لیا ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (البقرہ ۱٦٢) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ: {وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا} [البقرة: 31]حدیث نمبر ٤٤٧٦)
مجاہد نے کہا: "الی شیطينهم" یعنی اپنے اصحاب کی طرف جو منافقین اور مشرکین ہیں۔ محيط بالكفرين " یعنی اللہ ان کو جمع کرنے والا ہے۔صبغة“ کا معنی دین ہے۔اللہ سے ڈرنے والوں پر یعنی مؤمنوں پر حق ہے۔مجاہد نے کہا: اس قوت کے ساتھ جس سے اس میں عمل کرے۔اور ابوالعالیہ نے کہا کہ مرض کا معنی شک ہے۔یہ باقی لوگوں کے لیے عبرت ہے۔اس کا معنی ہے: سفیدی نہ تھی یا سفیدی نہ ہو ۔اور دوسروں نے کہا۔تم کو چکھاتے ہیں۔الولاية" جب واؤ پر زبر ہو تو یہ "الولاء“ کا مصدر ہے اور اس کا معنی ربوبیت ہے اور جب واؤ پر زیر ہو ( الولاية ) تو پھر اس کا معنی امارت ہے۔اور بعض مفسرین نے کہا ہے: تمام قسم کے دانے جو کھائے جاتے ہیں وہ سب "فوم" ہیں۔اور قتادہ نے کہا ہے: "فباؤا" کا معنی ہے: وہ اس میں لوٹے۔اور دوسروں نے کہا ہے : یستفتحون “ کا معنی ہے: وہ مدد طلب کرتے تھے۔شروا " یعنی انہوں نے فروخت کیا۔راعنا، رعونة" سے ماخوذ ہے جب وہ ارادہ کرتے کہ کسی انسان کو احمق قرار دیں تو راعنا کہتے تھے۔لَا تَجْزِی کفایت نہیں کرے گا۔خطوات، الخطو“ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے: اس کے قدموں کے نشان ابتکی“ کا معنی ہے۔ اس نے آزمایا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سو تم اللہ کے لیے شرکاء نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے ہو ( البقرہ:۲۲) کی تفسیر۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: (وہ یہ ہے کہ ) تم اللہ تعالی کے لیے شریک قرار دو حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے میں نے کہا: یہ بہت سنگین بات ہے میں نے پوچھا: پھر کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کو اس خوف سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: 22], حدیث نمبر ٤٤٧٧)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے تم پر المن اور السلوی نازل کیا،ان پاک چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (البقرہ:۵۷) کی تفسیر اور مجاہد نے کہا: المن ایک درخت کا گوند ہے اور سلوی پرندے تھے۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی( سانپ کی چھتری) بھی من کی قسم من سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابٌ: وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ المَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} [البقرة: 57]حدیث نمبر ٤٤٧٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تفسیر: اور جب ہم نے کہا: اس شہر میں داخل ہو اور اس میں تم جہاں سے چاہو بلا روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں جھکتے ہوئے داخل ہونا اور یہ کہو( ہمارے گناہ معاف فرما ) تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور عنقریب نیکی کرنے والوں کو زیادہ اجر دیں گے ( البقرہ:۵۸) رَغَدًا,اس کا معنی ہے: وسیع اور بہت زیادہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا: دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہونا اور کہنا (ہمارے گناہ) معاف کر دے۔ (البقرہ: ۵۸) تو وہ اپنی سرین کے بل گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور ان الفاظ کو بدل کر کہا: "حطة حبة فی شعرة، گندم کا دانہ جو میں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ القَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا البَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ -[19]- وَسَنَزِيدُ المُحْسِنِينَ} [البقرة: 58]حدیث نمبر ٤٤٧٩)
اللہ تعالی کا ارشاد: اور جو شخص جبریل علیہ السلام کا دشمن ہے (البقرہ: ۹۷) کی تفسیر۔ اور عکرمہ نے کہا:جبر، ميك اور سراف ان تینوں الفاظ کا معنی بندہ ہے اور لفظ ”ایل “ کا معنی اللہ ہے ( یہ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں)۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جس وقت اپنی زمین میں پھل توڑ رہے تھے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے (مدینہ میں ) تشریف لانے کے متعلق سنا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے (آپ سے) کہا: میں آپ سے ان تین چیزوں کے متعلق سوال کرتا ہوں جن کے متعلق صرف نبی کو علم ہوتا ہے ( بتائیے : ) قیامت کی پہلی علامت کیا ہے؟ اور اہل جنت کا پہلا طعام کیا ہو گا ؟! اور بچہ کس وجہ سے اپنے باپ یا ماں کے مشابہ ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے ابھی حضرت جبریل علیہ السلام نے ان چیزوں کی خبر دی ہے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جبریل نے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا: یہ فرشتوں میں سے یہودیوں کا دشمن ہے تب آپ نے یہ آیت پڑھی: "جو شخص جبریل کا دشمن ہے (تو ہوا کرے) کیونکہ اس نے آپ کے قلب کے اوپر (وحی) نازل کیا ہے۔ (البقرہ:۹۷) رہی قیامت کی پہلی علامت تو وہ ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کرے گئی رہا اہل جنت کا پہلا کھانا تو وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوتا ہے تو وہ بچہ کو (اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوتا ہے تو وہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! بے شک یہود بہتان لگانے والی قوم ہے اور جب ان کو آپ کے سوال کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کی خبر ہو گی تو وہ مجھ پر بہتان باندھیں گئے پھر یہود آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا کہ عبداللہ تم میں کیسا مرد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہم سب میں اچھے ہیں اور ہم میں سب سے نیک شخص کے بیٹے ہیں اور وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے: سردار کے بیٹے ہیں، آپ نے پوچھا: یہ بتاؤ کہ اگر عبداللہ بن سلام اسلام قبول کر لیں تو ؟ یہود نے کہا: اللہ ان کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے! پھر عبد اللہ بن سلام نے ان کے سامنے آ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم میں سب سے بُرا ہے اور ہم میں سب سے بُرے کا بیٹا ہے اور ان کے نقائص بیان کیئے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ وہ بات ہے جس سے میں ڈرتا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [البقرة: 97]حدیث نمبر ٤٤٨٠)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا اس کو مؤخر کر دیتے ہیں (البقرہ:۱۰٦) کی تفسیر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم میں سب سے عمدہ قرآن پڑھنے والے حضرت اُبی رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سب سے عمدہ فیصلہ کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بے شک ہم حضرت اُبی کے قول کو چھوڑتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت اُبی رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے: میں ایسی کوئی بات نہیں چھوڑوں گا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا اس کو مؤخر کرتے ہیں الایۃ ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا} [البقرة: 106]حدیث نمبر ٤٤٨١)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے وہ اس سے پاک ہے (البقرہ:۱۱۲) کی تفسیر۔ حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ علیہ السلام نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ابن آدم نے میری تکذیب کی اور اس کو یہ نہیں چاہیے تھا اور ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کو یہ نہیں چاہیے تھا رہا اس کا میری تکذیب کرنا تو وہ اس کا یہ زعم ہے کہ میں اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوں، جیسے وہ پہلے قادر تھا رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کسی کو اپنی بیوی بناؤں یا اولا د بناؤں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ} [البقرة: 116]حدیث نمبر ٤٤٨٢)
Bukhari Sharif Kitabut Tafsir Hadees No# 4483
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے تو وہ دعا کر رہے تھے: اے ہمارے رب! ہماری طرف سے اس کو قبول فرما، بے شک تو بہت سننے والا بہت جاننے والا ہے(البقرہ: ۱۲۷) کی تفسیر, القواعد “ کا معنی ہے: بیت اللہ کی بنیادیں اور اس کا واحد قاعدة “ ہے اور جو بوڑھی عورتیں نکاح کی اُمید نہیں رکھتیں ان کو جو" القواعد" فرمایا ہے ( النور :٦٠) اس کا واحد قاعد “ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجه نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ کو بنایا تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم رکھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا آپ ان بنیادوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں لوٹا دیتے ؟ آپ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی ( تو میں ایسا کر دیتا ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو میرا گمان ہے کہ جو دو رکن حطیم کے قریب ہیں، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی تعظیم کو صرف اس لیے ترک کر دیا کہ اس وقت بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ القَوَاعِدَ مِنَ البَيْتِ، وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ} [البقرة: 127] "حدیث نمبر ٤٤٨٤)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کہ تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا (البقرہ: ۱۳٦) کی تفسیر۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب عبرانی زبان میں تورات پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ ان کی تکذیب کرو اور تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔ (البقرہ: ۱۳٦) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: 136] حدیث نمبر ٤٤٨٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد:عنقریب جہلاء لوگوں سے کہیں گے: ان مسلمانوں کو اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے آپ کہیے مشرق اور مغرب الله ہی کی ملکیت ہیں وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے (البقرہ:۱٤٢) کی تفسیر، حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ کو یہ پسند تھا کہ بیت اللہ آپ کا قبلہ ہو اور بے شک آپ نے نماز پڑھی یا آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی، پس جن لوگوں نے آپ کے پاس نماز پڑھی تھی ان میں سے ایک مرد اہل مسجد کے پاس سے گزرا اور وہ اس وقت رکوع میں تھے اس نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے پس وہ لوگ نماز کی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور جولوگ بیت اللہ کی طرف نماز میں منہ کرنے سے پہلے فوت ہو گئے تھے یا شہید ہو گئے تھے تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اور اللہ تعالی تمہارے ایمان کو (یعنی نمازوں کو ) ضائع کرنے والا نہیں ہے بے شک اللہ لوگوں کے ساتھ بہت شفیق ہے اور بے حد مہربان ہے (البقرہ: ۱٤٣) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ المَشْرِقُ وَالمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [البقرة: 142] حدیث نمبر ٤٤٨٦)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین اُمت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہو جائیں (البقرہ:۱٤٣) کی تفسیر، حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا وہ کہیں گے: اے رب! میں حاضر ہوں! اور اطاعت کے لیے کمر بستہ ہوں اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا آپ نے تبلیغ کی تھی؟ وہ کہیں گے: جی ہاں ! پس ان کی اُمت سے پوچھا جائے گا: کیا انہوں نے تم کو تبلیغ کی تھی؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا پس اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھے گا: آپ کے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے: (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی اُمت، پس وہ سب گواہی دیں گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے تبلیغ کی تھی اور رسول تمہارے حق میں گواہ ہوں گے اور یہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا مصداق ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین اُمت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہو جائیں ۔ (البقرہ: ۱۴۳) اور "الوسط" کا معنی ہے: "العدل" یعنی بہترین۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} [البقرة: 143] حدیث نمبر ٤٤٨٧)
اللہ کے ارشاد: (اے رسول!) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے ہم نے اس کو اسی لیے قبلہ بنایا تھا تاکہ ہم ظاہر کر دیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اس سے ممتاز کر دیں جو اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاتا ہے اور بے شک جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے ان کے سوا سب پر یہ ( قبلہ کا بدلنا ) بھاری ہے اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرے بے شک اللہ لوگوں پر بہت مہربان ہے بے حد رحم فرمانے والا ہے(البقرہ:۱٤٣) کی تفسیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں: جس وقت لوگ صبح کی نماز مسجد قباء میں پڑھ رہے تھے اس وقت ایک شخص نے آ کر کہا کہ اللہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا کہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں تو سب نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا، پس سب کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمَا جَعَلْنَا القِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} حدیث نمبر ٤٤٨٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: بے شک ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف ضرور پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور (اے مسلمانو !) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنا چہرہ اسی کی طرف پھیر لو اور بے شک اہل کتاب کو علم ہے کہ یہ (حکم) ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے (البقرہ: ۱٤٤) کی تفسیر۔ حضرت انس رضی اللہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے سوا ان لوگوں میں سے اب کوئی باقی نہیں بچا جنہوں نے دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ المَسْجِدِ الحَرَامِ} [البقرة: 144] حدیث نمبر ٤٤٨٩)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اور اگر آپ اہلِ کتاب کے پاس ہر قسم کا معجزہ بھی لے کر آئیں، پھر بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے ( یہ آیت اس کے بعد یہاں تک ہے ) تو بے شک آپ ضرور ظلم کرنے والوں میں سے ہوں گے (البقرہ: ۱٤٥) کی تفسیر، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس وقت لوگ صبح کو قباء میں نماز پڑھ رہے تھے تو ایک مرد نے آکر کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ کعبہ کی طرف منہ کر لیں، سنو ! تم لوگ کعبہ کی طرف منہ کر لو اور لوگوں کا منہ اس وقت شام کی طرف تھا تو انہوں نے اپنا منہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ} [البقرة: 145] حدیث نمبر ٤٤٩٠)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے ایک فریق یقیناً جان بوجھ کر حق چھپاتا ہے (اس کے بعد آیت یہاں تک ہے : ) تم شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہونا (البقرہ:١٤٦ تا ١٤٧) کی تفسیر, حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس وقت قباء میں لوگ صبح کی نماز میں تھے تو ان کے پاس ایک آنے والا آیا پس اس نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے سو لوگوں نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور ان کے منہ شام کی طرف تھے پس لوگ کعبہ کی طرف پھر گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الحَقَّ} [البقرة: 146]- إِلَى قَوْلِهِ - {فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ المُمْتَرِينَ} [البقرة: 147]حدیث نمبر ٤٤٩١)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ (نماز میں ) منہ کرتا ہے سو تم نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکلو تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تم سب کو لے آئے گا بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ:۱٤٨) کی تفسیر, حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ کو قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الخَيْرَاتِ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}حدیث نمبر ٤٤٩٢)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور (اے رسول!) آپ جہاں سے بھی باہر نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور بے شک یہ ( تحویل قبلہ ) آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے (البقرہ: ۱٤٩) کی تفسیر شطرہ " کا معنی ہے: اس کی سمت میں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں: جس وقت لوگ صبح کو قباء میں تھے اس وقت ان کے پاس ایک مرد آیا سو اس نے کہا: آج رات قرآن نازل کیا گیا، پس آپ علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ کی طرف منہ کریں، پس تم کعبہ کی طرف منہ کر لو سولوگ اسی حالت میں گھوم کر کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے حالانکہ لوگوں کا چہرہ شام کی طرف تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ المَسْجِدِ الحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ} [البقرة: 149] " حدیث نمبر ٤٤٩٣)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور (اے رسول!) آپ جہاں سے بھی باہر نکلیں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو ( یہ آیت یہاں تک ہے ) اور تاکہ تم ہدایت پا جاؤں (البقره: ۱۵۰) کی تفسیر, حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس وقت لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اس وقت ایک آنے والا ان کے پاس آیا پس اس نے کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ کعبہ کی طرف منہ کر لیں، پس لوگوں نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور ان کے منہ شام کی طرف تھے پس وہی گھوم کر قبلہ کی طرف ہو گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ المَسْجِدِ الحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} إِلَى قَوْلِهِ {وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} [البقرة: 150] حدیث نمبر ٤٤٩٤)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے اور بے شک جس نے خوشی سے کوئی (نفلی) نیکی کی تو بے شک اللہ جزاء دینے والأخوب جاننے والا ہے (البقرہ:۱۵۸) کی تفسیر۔ شعائر " کا معنی ہے: علامات اور اس کا واحد شعیرہ ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا ہے : "الصفوان “ کا معنی ہے: پھر اور الحجارة الملس ( چکنے پتھر ) ان پتھروں کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کو نہ اُگائیں اور اس کا واحد صفوانة “ ہے اور اس کا معنی صاف ہے اور الصفا اس کی جمع ہے۔ ہشام بن عروه از والد خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا اور اس وقت میں کم عمر تھا ( میں نے کہا ) کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق بتائیے: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ: ۱۵۸) پس میں کسی پر کوئی حرج نہیں سمجھتا اگر وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہر گز نہیں ! اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم کہہ رہے ہو تو یہ آیت اس طرح ہوتی اس پر کوئی حرج نہیں ہے جو صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرئے یہ آیت ان انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے جو منات(بت)کے لیے احرام باندھتے تھے اور منات کا بت قدید سے متوازی تھا اور لوگ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج سمجھتے تھے، پس جب اسلام کے احکام آ گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں سوجس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ ۱۵۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ البَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 158] " حدیث نمبر ٤٤٩٥)
عاصم بن سلیمان نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے الصفا اور المروہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے پھر جب اسلام کے احکام آ گئے تو ہم ان کے درمیان طواف کرنے سے رُک گئے تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ: ۱۵۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ البَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 158] "حدیث نمبر ٤٤٩٦)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں (البقرہ ۱۹۵) کی تفسیر، اندادا “ کا معنی ہے: ” اضدادا “ اور اس کا واحد" ند“ہے۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کہی اور میں نے دوسری بات کہی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہو گا اور میں نے یہ کہا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دے کر اس کی عبادت نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ} [البقرة: 165] « حدیث نمبر ٤٤٩٧)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اے ایمان والو! تم پر مقتولین کے خون ( ناحق ) کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے آزاد کے بدلہ آزاد اور یہ آیت: درد ناک عذاب تک ہے ( البقرہ:۱۷۸) کی تفسیر عفی " کا معنی ہے: قصاص لینے کو ترک کر دیا گیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور ان میں دیت نہیں تھی تو اللہ تعالٰی نے اس اُمت کے لیے فرمایا: تم پر مقتولین کے خون (ناحق) کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے آزاد کے بدلہ آزاد غلام کے بدلہ غلام اور عورت کے بدلہ عورت سوا جس (قاتل) کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا گیا۔ (البقرہ: ۱۷۸) پس معاف کرنے کا معنی یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت کو قبول کرلے تو (اس کا ) دستور کے مطابق مطالبہ کیا جائے اور نیکی کے ساتھ اس کی ادائیگی کی جائے۔ (البقرہ:۱۷۸) پس دستور کے مطابق دیت کی اتباع کرے اور احسان کے ساتھ دیت ادا کی جائے: یہ (حکم) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ (البقرہ: ۱۷۸) یہ حکم ان احکام میں سے ہے جن کو تم سے پہلے فرض کیا گیا تھا: پھر اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے (البقرہ: ۱۷۸) یعنی جس نے دیت قبول کرنے کے بعد قاتل کو قتل کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاصُ فِي القَتْلَى الحُرُّ بِالحُرِّ} [البقرة: 178] إِلَى قَوْلِهِ {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 10] حدیث نمبر ٤٤٩٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاصُ فِي القَتْلَى الحُرُّ بِالحُرِّ} [البقرة: 178] إِلَى قَوْلِهِ {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 10]حدیث نمبر ٤٤٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ الربیع جو ان کی پھوپھی ہیں، انہوں نے ایک باندی کا سامنے کا دانت توڑ دیا انہوں نے اس باندی سے معافی طلب کیا تو انہوں نے انکار کر دیا پھر انہوں نے دیت کو پیش کیا' تب بھی انہوں نے انکار کر دیا پھر وہ لوگ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوائے قصاص کے ہر صورت کا انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قصاص لینے کا حکم دیا تو حضرت انس بن النضر نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا الربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے، پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے متعلق کسی کام کرنے کے متعلق قسم کھا لیں تو اللہ ان کو ان کی قسم میں سچا کر دیتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاصُ فِي القَتْلَى الحُرُّ بِالحُرِّ} [البقرة: 178] إِلَى قَوْلِهِ {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 10]حدیث نمبر ٤٥٠٠)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیا گیا تھا تا کہ تم متقی بن جاؤں (البقرہ:۱۸۳) کی تفسیر, حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ عاشوراء ( ۰ امحرم ) کے دن اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کا مہینہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے عاشوراء کا روزہ نہ رکھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183] حدیث نمبر ٤٥٠١)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رمضان سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا، پس جب رمضان آیا تو آپ نے فرمایا: جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183]حدیث نمبر ٤٥٠٢)
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس حضرت اشعث آئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے حضرت اشعث نے کہا: آج تو عاشوراء کا دن ہے حضرت عبداللہ نے کہا: رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا جاتا تھا، پس جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا، پس قریب آؤ سو کھاؤ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183]حدیث نمبر ٤٥٠٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے پس جب آپ مدینہ منورہ آئے تو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا پھر جب رمضان کی فرضیت نازل ہو گئی تو رمضان کے روزے فرض ہو گئے اور عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا گیا' پس جو چاہتا اس دن کا روزہ رکھتا اور جو چاہتا اس دن کا روزہ نہ رکھتا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183]حدیث نمبر ٤٥٠٤)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: معدودے چند دنوں میں سو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا مسافر (اور روزے نہ رکھے ) تو دوسرے دنوں میں عدد ( پورا کرنا لازم ہے ) اور جن لوگوں پر روزے رکھنا دشوار ہو ( ان پر ایک روزہ کا فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے پھر جو خوشی سے فدیہ کی مقدار بڑھا کر زیادہ نیکی کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اگر تمہیں علم ہو تو روزہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے( البقرہ:۱۸٤) کی تفسیر۔ اور عطاء نے کہا ہر مرض کی وجہ سے روزہ چھوڑ دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور حسن اور ابراہیم نے دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کے متعلق کہا: جب ان دونوں کو اپنی جان پر خطرہ ہو یا اپنے بچے کی جان پر خطرہ ہو تو یہ دونوں روزہ چھوڑ دیں، پھر دونوں روزے کی قضاء کریں۔ رہا بہت بوڑھا آدمی تو جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بہت بوڑھے ہونے کے بعد ایک سال یا دو سال تک ہر روز ایک مسکین کو روٹی اور گوشت اور روزہ چھوڑ دیا اور عامہ کی قراءت ہے: يُطِيقُونَہ یعنی جو روزے کی طاقت رکھیں اور یہ اکثر ہے۔ عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی از عطاء انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: اور جن لوگوں پر روزے رکھنا دشوار ہو ( ان پر ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے (انہوں نے يُطِيقُونَهُ" کو باب تفصیل سے پڑھا) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور ان لوگوں سے مراد بہت بوڑھا مرد اور بہت بوڑھی عورت ہے، جو روزہ رکھنے کی (آسانی سے) طاقت نہ رکھیں تو وہ ہر دن کے روزے کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ، وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا, حدیث نمبر ٤٥٠٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو وہ ضرور اس ماہ کر روزے رکھے (البقرہ: ۱۸۵) کی تفسیر, حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے پڑھا: "فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ “ ( مساکین کے طعام کا فدیہ ) انہوں نے کہا: یہ منسوخ ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: 185]حدیث نمبر ٤٥٠٦)
سلمہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں ان پر ایک مسکین کے طعام کا فدیہ ہے؟ (البقرہ: ۱۸٤) پھر جو روزہ چھوڑنا چاہتا وہ فدیہ دے دیتا حتیٰ کہ وہ آیت نازل ہوئی جو اس کے بعد ہے اور اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔ امام ابو عبد اللہ نے کہا: بکیر کی وفات یزید سے پہلے ہوئی تھی (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: 185]حدیث نمبر ٤٥٠٧)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: تمہارے لیے روزہ کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو، اللہ کو علم ہے کہ تم اپنے نفسوں میں خیانت کرتے تھے سو اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی اور تمہیں معاف کر دیا سو اب تم چاہو تو ان سے عمل زوجیت کرو اور جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر دیا ہے اس کو طلب کرو (البقرہ:۱۸۷) کی تفسیر، ابی اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تو لوگ پورے رمضان کے مہینے میں عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے اور بعض لوگ اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی: اللہ کو علم ہے کہ تم اپنے نفسوں میں خیانت کرتے تھے سو اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی اور تمہیں معاف کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ} [البقرة: 187] حدیث نمبر ٤٥٠٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ فجر کا سفید دھاگا ( رات کے ) سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے پھر روزہ کو رات آنے تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو ( کسی وقت بھی) اپنی بیویوں سے عمل زوجیت نہ کرو یہ آیت یہاں تک ہے تاکہ وہ متقی بن جائیں (البقرہ:۱۸۷) کی تفسیر، العكف ( الج:۲۵) کا معنی ہے مقیم ۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عدی نے سفید دھاگا لیا اور کالا دھاگا لیا، پس جب رات کا کچھ حصہ گزر جاتا تو وہ دیکھتے، پس جب وہ ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہوئے ( تو وہ کھاتے رہتے ) پس جب صبح ہوئی تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے تکیہ کے نیچے دو دھاگے رکھ لیے آپ نے فرمایا: تمہارا تکیہ تو بہت چوڑا ہے جب سفید دھاگا اور کالا دھاگا تمہارے تکیہ کے نیچے ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ} [البقرة: 187] " حدیث نمبر ٤٥٠٩)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! سفید دھاگے سے کالا دھاگا کس طرح ہے، کیا یہ دونوں دھا گے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بے شک تمہاری گدی بہت چوڑی ہے اگر تم نے ان دونوں دھاگوں کو دیکھ لیا' پھر آپ نے فر مایا نہیں! بلکہ وہ رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔(مراد ہے) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ} [البقرة: 187] "حدیث نمبر ٤٥١٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی: اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا ( رات کے ) سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے۔ اور فجر کا لفظ نازل نہیں ہوا تھا اور لوگ جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے تو ان میں سے کوئی شخص اپنی دونوں ٹانگوں میں سفید دھاگا اور کالا دھاگا باندھ لیتا اور اس وقت تک کھاتا رہتا حتیٰ کہ اس کے لیے وہ دھاگے دیکھائی دیتے، پس اللہ نے اس کے بعد فجر کا لفظ نازل فرما دیا تب لوگوں نے جانا کہ اس سے مراد رات اور دن ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ} [البقرة: 187] "حدیث نمبر ٤٥١١)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اور یہ کوئی نیکی کا کام نہیں کہ تم گھروں میں پیچھے سے داخل ہو لیکن ( حقیقت میں نیکی اس شخص کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی حاصل کروہ (البقرہ: ۱۸۹) کی تفسیر حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب لوگ زمانہ جاہلیت میں احرام باندھتے تھے تو اپنے گھر کی پچھلی دیوار پھاند کر آتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ کوئی نیکی کا کام نہیں کہ تم گھروں میں پیچھے سے داخل ہوا لیکن (حقیقت میں ) نیکی اس شخص کی ہے جو تقوی اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو ۔ (البقرہ: ۱۸۹) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَلَيْسَ البِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا البُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ البِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا البُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [البقرة: 189] حدیث نمبر ٤٥١٢)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور ان سے جہاد کرتے رہو حتی کہ فتنه (شرک) نہ رہے اور اللہ ہی کا دین رہ جائے پھر اگر وہ (شرک سے ) باز آجائیں تو صرف ظالموں کو ہی سزادی جائے (البقرہ:۱۹۳) کی تفسیر, ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے فتنہ میں ان کے پاس دو مرد آئے انہوں نے کہا: بے شک لوگ (اپنے دین اور دنیا کو ) ضائع کر رہے ہیں اور آپ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، پس آپ کو نکلنے سے کیا چیز مانع ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے یہ چیز مانع ہے کہ بے شک اللہ نے میرے بھائی کا خون حرام کر دیا ہے تو ان دونوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اور ان سے جہاد کرتے رہو تاکہ فتنہ (شرک) نہ رہے۔ (البقرہ: ۱۹۳) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: ہم نے قتال کیا حتیٰ کہ فتنہ نہیں رہا اور پورا دین اللہ کے لیے ہو گیا اور تم یہ ارادہ کرتے ہو کہ تم قتال کرو حتیٰ کہ فتنہ واقع ہو اور دین اللہ کے غیر کے لیے ہو جائے۔ اور عثمان بن صالح نے از ابن وہب اضافہ کیا ہے انہوں نے کہا: مجھے فلاں نے خبر دی اور حیوۃ بن شریح نے از بکر بن عمرو المعافری کہ بکیر بن عبد اللہ نے ان کو حدیث بیان کی از نافع کہ ایک مرد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس آیا اس نے کہا: اے ابو عبد الرحمن ! آپ کو کس چیز نے بر انگیختہ کیا کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال عمرہ کرتے ہیں؟ اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کو چھوڑ دیتے ہیں؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی نے جہاد میں کتنی تاکید کی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسلام کی, بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اللہ اور رسول کے اوپر ایمان لانے پر اور پانچ نمازوں پر اور رمضان کے روزوں پر اور زکوۃ ادا کرنے پر اور بیت اللہ کے حج پر، اس نے کہا: اے ابو عبد الرحمن ! کیا آپ نہیں سنتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا فرمایا ہے؟ اور اگر مومنوں کے دو گروہ باہم جنگ کریں تو ان میں صلح کرا دو پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے جنگ کرو حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے (الحجرات (۹) اور ان سے جہاد کرتے رہو حتی کہ فتنہ (شرک) نہ رہے ( البقرہ:۱۹۳) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد میں اس پر عمل کیا اور اس وقت اہلِ اسلام کی تعداد کم تھی، پس مرد کو اس کے دین کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا کیا جاتا تھا، وہ اس کو قتل کر دیتے تھے یا عذاب دیتے تھے حتیٰ کہ اہل اسلام کثیر ہو گئے اور فتنہ نہ رہا۔ اس مرد نے کہا: پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: رہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تو ان کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا اور تم ان کے معاف کیے جانے کو نا پسند کرتے ہو اور رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ تو وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ہیں اور ان کے داماد ہیں اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا: یہ ہے ان کا گھر جہاں تم دیکھ رہے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ} [البقرة: 193] حدیث نمبر ٤٥١٣, و ٤٥١٤،و ٤٥١٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (البقرہ: ۱۹۵) کی تفسیر التهلکہ “ اور ہلاک کا ایک معنی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (البقرہ: ۱۹۵) نفقہ کے متعلق یعنی خرچ کرنے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُحْسِنِينَ} [البقرة: 195] « حدیث نمبر ٤٥١٦)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو ( البقر : ۱۹٦) کی تفسیر، عبداللہ بن معقل نے کہا: میں اس مسجد یعنی مسجد کوفہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی طرف بیٹھا ہوا تھا، پس میں نے ان سے روزہ کے فدیہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ تم کو یہاں تک تکلیف پہنچ چکی ہے کیا تمہارے پاس ایک بکری نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا کہ تم تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ہر مسکین کو نصف صاع ( دوکلو) گندم دو اور اپنا سر مونڈ لو ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ حکم خاص میرے لیے نازل ہوا ہے اور یہ تم سب کے لیے عام ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير بَابُ قَوْلِهِ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: 196] حدیث نمبر ٤٥١٧)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تو جو شخص حج کے ساتھ عمرہ کو ملائے (البقرہ: ۱۹٦) کی تفسیر، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (حج) تمتع کی آیت کتاب اللہ میں نازل ہوئی تو ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا اور قرآن میں تمتع کی تحریم نازل نہیں ہوئی اور نہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ علیہ السلام کی وفات ہوگئی ایک مرد نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالعُمْرَةِ إِلَى الحَجِّ حدیث نمبر ٤٥١٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (حج کے دوران )اپنے رب کا فضل ( روزی) تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے (البقرہ: ۱۹۸) کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عکاظ اور مجنہ اور ذوالحجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، پس صحابہ حج کے ایام میں تجارت کرنے میں گناہ سمجھتے تھے پس یہ آیت نازل ہوگئی: (حج کے دوران ) اپنے رب کا فضل ( روزی ) تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ ۱۹۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ،حدیث نمبر ٤٥١٩)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: پھر تم وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں (البقرہ:۱۹۹) کی تفسیر, حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش اور جو دین میں ان کے قریب تھے وہ مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور اپنے آپ کو الحمس کہتے تھے اور باقی عرب عرفات میں وقوف کرتے تھے پھر جب اسلام کے احکام آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں جائیں اور وہاں وقوف کریں، پھر مزدلفہ میں جائیں، پس یہ اس آیت کا مصداق ہے: پھر تم وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں۔ (البقرہ:۱۹۹) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199] حدیث نمبر ٹ٤٥٢٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: جس شخص نے جب تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا وہ بیت اللہ کا (نفلی) طواف کرتا رہے حتیٰ کہ وہ حج کا احرام باندھ لئے پس جب وہ عرفہ کی طرف جانے کے لیے سوار ہو تو اس کو اونٹ گائے اور بکری میں سے جو قربانی میسر ہو وہ قربانی کرے اگر اس کو قربانی میسر نہ ہو تو وہ یوم عرفہ سے پہلے تین دن کے روزے رکھے اور اگر تین دنوں میں سے آخری دن یوم عرفہ ہو تب بھی اس پر کوئی گناہ نہیں، پھر وہ وقوف عرفات کے لیے روانہ ہوں اور وہاں عصر کی نماز سے لے کر اندھیرا پھیلنے تک وقوف عرفات کریں پھر عرفات سے واپس ہوں حتیٰ کہ المزدلفہ میں پہنچ جائیں اور وہاں رات گزاریں اور صبح سے پہلے تک اللہ کا بہت زیادہ ذکر کریں اور اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بہت زیادہ پڑھیں پھر صبح کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپس آئیں کیونکہ لوگ وہیں سے واپس ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: پھر تم وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں اور اللہ سے استغفار کرتے رہو بے شک اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے (البقرہ 199) حتیٰ کہ تم جمرات میں کنکریاں مارو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199]حدیث نمبر ٤٥٢١)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں اچھائی عطاء فرما اور آخرت میں ( بھی ) اچھائی عطاء فرما اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچاہ (البقرہ:۲۰۱) کی تفسیر, حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمارے رب ہمیں دنیا میں اچھائی عطاء فرما اور آخرت میں ( بھی ) اچھائی عطاء فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،باب،حدیث نمبر ٤٥٢٢)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد:حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑالو ہے(البقرہ:۲۰٤) کی تفسیر، اور عطاء نے کہا کہ النسل سے مراد ہے: جان دار۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مبغوض شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو۔ اور حضرت عبداللہ نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن جریج نے حدیث بیان کی از ابن ابی ملیکہ از حضرت عائشہ رضی الان از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَهُوَ أَلَدُّ الخِصَامِ} [البقرة: 204]حدیث نمبر ٤٥٢٣)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی تک تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ (اس قدر) جھنجھوڑ دیئے گئے کہ (اس وقت کے ) رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد عنقریب آئے گی (البقرہ: ۲۱٤) کی تفسیر۔ ابن ابی ملیکہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ آیت پڑھی: حتی کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور لوگوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا (یوسف:۱۱۰) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما "کذبوا" کو ذال کی تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے اور پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی حتیٰ کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اُٹھے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد عنقریب آئے گی ( البقرہ ۲۱٤) راوی نے کہا: پس میں عروہ بن الزبیر سے ملا اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا۔تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا: معاذ اللہ ! اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جس چیز کا بھی وعدہ کیا تو رسول کو یہ یقین تھا کہ ان کی وفات سے پہلے یہ وعدہ پورا ہوگا، لیکن رسولوں پر ہمیشہ آزمائشیں آتی رہیں، حتی کہ انہیں یہ خوف ہوا کہ ان کے اصحاب ان کی تکذیب کریں گئے، پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس آیت کو پڑھتی تھیں اور رسولوں نے گمان کیا کہ ان کی تکذیب کی جائے گی یعنی وہ کذبوا " کو تشدید کے ساتھ پڑھتی تھیں (كَذَّبُوا )۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ البَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ} [البقرة: 214] إِلَى {قَرِيبٌ} [البقرة: 186] حدیث نمبر ٤٥٢٤, و حدیث نمبر ٤٥٢٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تمہاری عورتیں تمہارے ( بیج ڈالنے کے لیے )کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہے آؤ اور اپنے لیے نیک عمل بھیجتے رہو( البقرہ:۲۲۳) کی تفسیر, نافع وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ جب قرآن مجید پڑھتے تھے تو کسی سے بات نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ قراءت سے فارغ ہو جاتے ایک دن میں قرآن مجید لے کر ان کے پاس بیٹھ گیا، پس انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی جب وہ اس جگہ پہنچے تو پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ آیت کس کے متعلق نازل ہوئی تھی؟ میں نے کہا: نہیں ! تو انہوں نے بتایا کہ یہ آیت فلاں فلاں کے متعلق نازل ہوئی تھی، پھر آگے پڑھنے لگے۔ نافع از ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: قرآن مجید میں ہے: سو تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہے آؤ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: وہ اس کی فرج میں دخول کرے ) ۔ اس حدیث کو محمد بن یحیی بن سعید نے از والد خود از عبید اللہ از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما روایت کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ} [البقرة: 223] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٢٦ و حدیث نمبر ٤٥٢٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہود کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے مجامعت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی : تمہاری عورتیں تمہارے ( بیج ڈالنے کے لیے کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔(البقره: ۲۲۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ} [البقرة: 223] الآيَةَ،حدیث نمبر ٤٥٢٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے پہلے خاوند کے ) ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو (البقرہ:۲۳۲) کی تفسیر، الحسن نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے معقل بن یسار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میری ایک بہن تھی جس سے نکاح کا میری طرف پیغام دیا جاتا تھا۔ الحسن، وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار کی بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی پھر چھوڑے رکھا حتی کہ اس کی عدت گزرگئی پھر اس کے خاوند نے اس کو نکاح کا پیغام دیا تو حضرت معقل نے اس سے نکاح کرنے سے ؟ انکار کر دیا تب یہ آیت نازل ہوئی: تو انہیں ان کے (پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو۔ (البقر و ۲۳۲) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232] حدیث نمبر ٤٥٢٩)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ (عورتیں) اپنے آپ کو ( عقد ثانی سے ) چار ماہ دس دن رو کے رکھیں (اور یہ آیت یہاں تک ہے : ) تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے (البقرہ:۲۳٤) کی تفسیر, يعفون " کا معنی ہے "یھین یعنی وہ مطلقہ عورتیں اپنے حصہ کے مہر کی رقم اپنے شوہروں کو ہبہ کر دیں۔ ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ آیت: اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں۔ (البقرہ:۲٤٠) اس کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے (اور وہ آیت البقرہ: ۲۳٤ ہے) پھر آپ نے اس آیت کو (مصحف میں) کیوں لکھا ہے یا آپ اس آیت کو چھوڑ دیتے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں قرآن میں لکھے ہوئے کسی لفظ کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کرتا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [البقرة: 234] حدیث نمبر ٤٥٣٠)
مجاہد نے کہا کہ اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں۔ (البقرہ: ۲۳٤) یہ آیت پڑھ کر کہا: یہ وہ عدت ہے ( چار ماہ دس دن ) کہ کسی شخص کی بیوی پر اس عدت کو گزارنا واجب ہے پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ انہیں ایک سال تک خرچ دیا جائے اور (گھر سے) نکالا نہ جائے پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر ( ان کے ) اس کام کا کوئی گناہ نہیں ہے جو انہوں نے اپنے معاملے میں دستور کے مطابق کیا۔ (البقرہ ۲٤٠) مجاہد نے کہا: اللہ تعالٰی نے اس کے لیے پورا سال عدت کر دی سات مہینہ اور بیس راتیں ( چار ماہ دس دن میں بڑھا دیں ) کہ اگر وہ چاہے تو وہ اس وصیت کے مطابق ٹھہری رہے اور اگر چاہے تو نکل آئے کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: انہیں ایک سال تک خرچ دیا جائے اور ( گھر سے) نکالا نہ جائے، پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر (ان کے) اس کام کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ ۲٤٠) پس یہ عدت جس طرح ہے اس طرح عورت پر واجب ہے یہ مجاہد کا زعم ہے۔ عطاء نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے بیوہ کی اس عدت کو منسوخ کر دیا جو وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتی ، پس بیوہ جہاں چاہے عدت گزارے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اس کو نکالا نہ جائے ۔ (البقرہ ۲۳۰) عطاء نے کہا کہ اگر بیوہ چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے۔ پاس عدت گزارے اور اپنی وصیت کے مطابق وہاں رہے اور اگر چاہے تو اس گھر سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم پر (ان کے) اس کام کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ ۲۳۰) عطاء نے کہا: پھر وراثت کے احکام آ گئے تو رہائش کا حکم منسوخ کر دیا گیا، پس بیوہ جہاں چاہے عدت گزارے، پس اس کے لیے رہائش نہیں ہوگی ۔ اور محمد بن یوسف سے روایت ہے: ہمیں ورقاء نے حدیث بیان کی از ابن ابی شیح از مجاہد اسی طرح ۔ اور از ابن ابی نجیج از عطاء از ابن عباس انہوں نے بیان کیا:اس آیت نے (البقرہ:۲۳٤٠) کی اس عدت کو منسوخ کر دیا جو اس کے گھر والوں کے ساتھ تھی، پس بیوہ جہاں چاہے عدت گزار نے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انہیں (گھر سے) نکالا نہ جائے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [البقرة: 234] حدیث نمبر ٤٥٣١)
محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا،جس میں انصار کے عظماء تھے اور ان میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بھی تھے پس میں حضرت سبیعہ بنت الحارث کے متعلق عبداللہ بن عقبہ کی حدیث بیان کی تو حضرت عبدالرحمن نے کہا لیکن ان کے چچا اس طرح نہیں کہتے تھے تو میں نے کہا کہ اگر میں ایسے شخص کے متعلق جھوٹ بولوں جو کوفہ کی ایک جانب میں رہتا ہے پھر تو میں بہت جرءت والا ہوں گا اور انہوں نے اپنی آواز بلند کی انہوں نے کہا: پھر میں نکلا تو مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے میری ملاقات ہوئی، میں نے کہا: جو بیوہ عورت حاملہ ہو اس کی عدت کے متعلق حضرت ابن مسعود کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت ابن مسعود یہ کہتے تھے کہ کیا تم اس کے لیے لمبی عدت مقرر کرتے ہو اور تم اس کے لیے آسانی مقرر نہیں کرتے ! کیونکہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۂ طلاق ) لمبی سورت کے بعد نازل ہوئی ہے (یعنی سورۃ البقرہ کے بعد )۔ اور ایوب نے کہا از محمد : میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [البقرة: 234]حدیث نمبر ٤٥٣٢)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تمام نمازوں کی پابندی کرو ( خصوصاً) درمیانی نماز کی (البقرہ: ۲۳۸) کی تفسیر, حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دوسری سند کے ساتھ ہے کہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطی پڑھنے سے روک دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا' آپ نے دعا کی: اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور ان کے گھروں کو یا فرمایا: ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے اس میں یحییٰ کو شک ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الوُسْطَى} [البقرة: 238] حدیث نمبر ٤٥٣٣)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور اللہ کے سامنے ادب سے قیام کروہ (البقرہ:۲۳۸) کی تفسیر,یعنی اس کی اطاعت کرتے ہوئے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں باتیں کرتے تھے ہم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے اپنی ضرورت میں بات کرتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہو گئی: تمام نمازوں کی پابندی کرو (خصوصاً) درمیانی نماز کی اور اللہ کے سامنے ادب سے قیام کروں (البقرہ: ۲۳۸) پس ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: 238] «أَيْ مُطِيعِينَ» حدیث نمبر ٤٥٣٤)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد:پس اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر (نماز پڑھ لو ) پھر جب خوف جاتا رہے تو پھر اسی طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے (البقرہ: ۲۳۹) کی تفسیر اور ابن جبیر نے کہا: "وسع کرسیه (البقرہ: ۲۵۵) یعنی اللہ کا علم محیط ہے۔ کہا جاتا ہے: بسطة یعنی زیادہ کشادگی (البقرہ:۲٤٧) یعنی زیادہ اور فضیلت - افرغ " (البقره: ۲۵۰) یعنی نازل فرما۔ ولا يؤوده “ (البقرہ: ۲۵۵) یعنی اس کے اوپر بوجھ نہیں اس سے لفظ ادنی بنا ہے یعنی اس نے مجھ کو بوجھل بنادیا اور لفظ آد“ اور اید“ کا معنی قوت ہے "السنة" (البقرہ: ۲۵۵) یعنی اونگھ - لم يتسنه " ( البقرہ:۲۵۹) یعنی وہ نہیں متغیر ہوتا ہے فبهت" (البقره: ۲۵۸) یعنی وہ کوئی دلیل نہ پیش کر سکا اور لا جواب ہو گیا "خاوية" (البقرہ: ۲۵۹) یعنی ایسی ویران جگہ جہاں کوئی رفیق نہ ہو عروشها (البقره: ۲۵۹) یعنی اپنی چھتوں پر" السنة " ( البقرہ: ۲۵۵) یعنی اونگی " ننشرها " (البقره: ۲۵۹) ہم اس کو نکالتے ہیں اعصار " ( البقرہ: ۲٦٦) یعنی وہ زبر دست آندھی جو زمین سے اُٹھ کر آسمان کی طرف ایک ستون کی طرح ہو جاتی ہے اور اس میں آگ ہوتی ہے "صلدا (البقرہ:۲۲۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ نے کہا کہ اس کا معنی ہے: وہ چکنا پتھر جس پر کوئی چیز نہ ٹھہرے ” وابل “ (البقرہ: ٢٦٤) عکرمہ نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے: شدید بارش الطل" ( البقرہ: ۲٥٩) یعنی شبنم یہ مؤمن کے عمل کی مثال ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جب نماز خوف کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ امام آگے بڑھ جائے اور لوگوں کی ایک جماعت کو امام ایک رکعت پڑھائے اور لوگوں کی دوسری جماعت مسلمانوں اور دشمنوں کے درمیان کھڑی رہے وہ نماز نہ پڑھیں، پس جب پہلی جماعت امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے تو وہ پیچھے آجائیں اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہوں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ آگے بڑھیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، پس وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں، پھر امام مڑ کر واپس آجائے اور وہ دو رکعت نماز پڑھ چکا ہو پھر دونوں جماعتوں میں سے ہر جماعت کھڑی ہو پھر ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی(رہی ہوئی) ایک رکعت پڑھے امام کے فارغ ہونے کے بعد پس ان دو جماعتوں میں سے ہر ایک کی دو دو رکعت ہو جائیں گی پھر اگر خوف اس سے بھی زیادہ شدید ہو تو پھر وہ پیدل چلتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے نماز پڑھیں یا سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھیں، خواہ ان کا منہ قبلہ کی طرف ہویا قبلہ کی طرف منہ نہ ہو۔ امام مالک نے کہا: نافع بیان کرتے ہیں کہ میرا یہی گمان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس حدیث کی صرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ہی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا حدیث نمبر ٤٥٣٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور تم میں سے جو لوگ مر جائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں (البقرہ: ۲٣٤) کی تفسیر, حضرت ابن الزبیر نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سورہ بقرہ کی اس آیت کے متعلق سوال کیا: اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ انہیں ایک سال تک خرچ دیا جائے اور (گھر سے ) نہ نکالا جائے۔ (البقرہ:۲٤٠) اس آیت کو دوسری آیت (البقرہ: ۲۳٤) نے منسوخ کر دیا ہے تو آپ نے اس آیت کو(مصحف میں) لکھنا چھوڑ کیوں نہیں دیا؟انہوں نے کہا:اے میرے بھتیجے!میں کسی آیت کو اس کے مقام سے بدل نہیں سکتا۔ حمید نے کہا: یا اس کی مثل کہا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،حدیث نمبر ٤٥٣٦)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور (یاد کیجئے ) جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا (البقرہ: ۲٦٠) کی تفسیر, فصرهن " اس کا معنی ہے: ان کو کاٹ دو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں، جب انہوں نے کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا اللہ نے فرمایا:کیا آپ کو یقین نہیں؟ عرض کیا: کیوں نہیں ! مگر تا کہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ (البقرہ ٢٦٠) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي المَوْتَى} [البقرة: 260] " حدیث نمبر ٤٥٣٧)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہے ( اور یہ آیت یہاں تک ہے تا کہ تم غور وفکر کروہ (البقرہ:۲٦٦) کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اور میں نے ان کے بھائی ابو بکر بن ابی ملیکہ سے سنا وہ حدیث بیان کرتے تھے : از عبید بن عمیر انہوں نے کہا کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے کہا: تمہارے خیال میں یہ آیت کس کے متعلق نازل ہوئی ہے: کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے ایک باغ ہو۔ (البقرہ: ۲٦٦) ان اصحاب نے کہا کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ غضب ناک ہوئے، پس کہا: تم صاف صاف کہو تم جانتے ہو یا نہیں جانتے ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: اے امیر المومنین ! میرے دل میں اس آیت کے متعلق کچھ چیز ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! بتاؤ! اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: اس آیت میں عمل کی مثال بیان کی گئی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سے عمل کی؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: ایک عمل کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مال دار آدمی اللہ عزوجل کی اطاعت میں عمل کرتا ہے پھر اللہ تعالٰی اس کے اوپر شیطان بھیج دیتا ہے پھر شیطان اس سے گناہ کراتا ہے حتیٰ کہ اس کے اعمال برباد کر دیتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ} [البقرة: 266] " حدیث نمبر ٤٥٣٨)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر سوال نہیں کرتے (البقرہ:۲۷۳) کی تفسیر, کہا جاتا ہے: "الحفَ عَلَى وَالحَ عَلَى وَاحْفَانِي بالْمَسْئَلَةِ یعنی اس نے سوال کرکے مجھے مشقت میں ڈالا ۔ فی حفكم اس کا معنی ہے: وہ تم کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ عطاء بن سیار اور عبدالرحمن بن ابی عمرہ الانصاری دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص مسکین نہیں ہے جس کو ایک کھجور یا دو کھجور میں لوٹا دیں اور نہ وہ مسکین ہے جس کو ایک لقمہ یا دو لقمہ لوٹا دے مسکین صرف وہ شخص ہے جو سوال نہ کرے اور اگر تم چاہو تو اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد پڑھو: وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر سوال نہیں کرتے ۔ (البقرة :۲۷۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} [البقرة: 273] " حدیث نمبر ٤٥٣٩،)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اور اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے (البقرہ: ۲۷۵) کی تفسیر, المس“ کا معنی ہے: جنون۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورہ بقرہ کے آخر میں سود کے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی پھر آپ نے شراب کی تجارت کو حرام فرما دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة: 275] " حدیث نمبر ٤٥٤٠)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اللہ سود کو مٹاتا ہے (البقرہ:۲۷٥) یعنی اسے لے جاتا ہے کی تفسیر, حضرت عائشه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی مسجد میں تلاوت کی، پس آپ نے شراب کی تجارت کو حرام فرما دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا «يُذْهِبُهُ»حدیث نمبر ٤٥٤١)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو ( البقرہ:۲۷۹) کی تفسیر, فاذنوا " کا معنی ہے: " فاعلموا " یعنی تم جان لو ۔ حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورۃ البقرۃ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان آیات کی مسجد میں تلاوت کی اور خمر ( انگور کی شراب ) کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير بَابُ {فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 279]: فَاعْلَمُوا ،حدیث نمبر ٤٥٤٢)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور اگر ( مقروض ) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخ دستی تک مہلت دو اور قرض کو معاف کر کے ) تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہوں (البقرہ: ۲۸۰) کی تفسیر, حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ نے ان آیات کی ہم پر تلاوت کی پھر آپ نے شراب کی تجارت کو حرام کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ، وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: 280] حدیث نمبر ٤٥٤٣)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے (البقرہ: ۲۸١) کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ سود کی آیت ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ} [البقرة: 281] حدیث نمبر ٤٥٤٤)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا سو جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (البقرہ: ۲۸٤) کی تفسیر، خالد الحذاء از مروان الاصفر از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک مرد اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں، انہوں نے کہا: یہ آیت منسوخ کر دی گئی اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ، فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ، وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: 284] حدیث نمبر ٤٥٤٥)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (ہمارے) رسول اس ( کلام ) پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ( البقرہ: ۳۸۵) کی تفسیر, اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: اصرا (البقرہ:۲۸٥) کا معنی ہے: عہد اور کہا گیا ہے: ”غفرانك (البقرہ: ۲۸۵) اس کا معنی ہے: تیری مغفرت اور بخشش فاغفر لنا“ (البقرہ: ۲۸۲) اس کا معنی ہے: سوتو ہماری مغفرت فرما! خالد الحذاء از مروان الاصفر از رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک مرد انہوں نے کہا: میرا گمان ہے کہ یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کر دیا تم اس کو چھپاؤ ۔ (البقرہ: ۲۸٤) انہوں نے کہا: کہ اس آیت کو اس کی بعد والی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} [البقرة: 285] حدیث نمبر ٤٥٤٦)
سورہ آل عمران کا بیان تقاة "اور تقیہ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ " صر" اس کا معنی ہے: " بود یعنی سخت سردی۔" شفا حفرة “ کا معنی ہے گڑھے کا کنارہ جیسے کچے کنویں کا کنارہ ہوتا ہے ۔تبوی" یعنی آپ لشکر کے پڑاؤ اور قیام کی جگہ بناتے تھے۔"المسوم " یعنی وہ چیز جس پر کسی علامت کی نشانی ہو یا اس پر ریشم کی نشانی ہو یا کوئی اور نشانی ہو۔ربیون" جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد ربی ہے۔تحسونھم اس کا معنی ہے: تم ان کو قتل کر کے جڑ سے اکھاڑ دیتے ہو۔غزا اور اس کا واحد غاز “ ہے اس کا معنی ہے: جہاد کرنے والا یعنی غازی۔سنكتب “ کا معنی ہے: ہم عنقریب محفوظ رکھیں گے۔نزلا " کا معنی ہے: ثواب اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا معنی ہو: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا جیسے کہتے ہیں:انزلته " میں نے اس کو اتارا۔ اور مجاہد نے کہا کہ علامت زدہ گھوڑوں سے مراد ہے: جو بہت موٹے تازے اور خوبصورت گھوڑے ہوں۔ اور ابن جبیر نے کہا: "حصوراً " کا معنی ہے: جو مرد عورتوں کے پاس نہ جائے۔ اور عکرمہ نے کہا: من فورهم " کا معنی ہے: بدر کے دن غصہ اور جوش ہے۔ اور مجاہد نے کہا: "يخرج الحی" کا معنی ہے کہ نطفہ اس حال میں نکلتا ہے کہ وہ مردہ ہوتا ہے اور اس سے اللہ عزو جل زندہ کو نکالتا ہے۔ الابكار " کا معنی ہے فجر کی اوّل ساعت اور "العشی" کا معنی ہے: سورج کے ڈھلنے کا وقت میرا گمان ہے مغرب تک۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اس میں بعض آیات محکمات ہیں (آل عمران:۷) کی تفسیر، اور مجاہد نے کہا: حلال اور حرام ( اور دوسری آیات متشابہات ہیں، بعض آیات بعض کی تصدیق کرتی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور وہ اس سے صرف فاسقوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے اور جیسے اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: اور وہ ان لوگوں پر نجاست ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور جولوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کی ہدایت کو زیادہ کر دیا اور ان کو ان کا تقویٰ دیا، زیع " کا معنی ہے: شک ابتغاء الفتنة“ کا معنی ہے: والراسخون" کا معنی ہے: جو لوگ عالم ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم ان (آیات) پر ایمان لائے۔ حضرت عائشه رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وہی (اللہ ) ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے (اس کتاب کی بعض آیات واضح ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور اس کی بعض آیات متشابہ ہیں، سوجن لوگوں کے دلوں میں بجھی ہے وہ فتنہ جوئی کے لیے اور متشابہ کا حمل نکالنے کے لیے آیت متشابہ کے درپے رہتے ہیں اور ان کا عمل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ لوگ جن کا علم راسخ اور مضبوط ہے وہ کہتے ہیں: سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور صرف عقل والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں ( آل عمران : 2 ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ ان سے دور رہو اور ان سے احتراز کرو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ} [آل عمران: 7]حدیث نمبر ٤٥٤٧)
وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی پیدا ہونے والا بچہ ایسا نہیں مگر اس کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے۔ پس وہ شیطان ہی کے چھونے کے سبب چیخنا چلاتا ہے، سوائے حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے کے۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم چا ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ اور میں اسے ترجمہ:کنز الایمان : اور میں اُسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندہے ہوئے شیطان سے (پ ۳ آل عمران ۳٦) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} [آل عمران: 36]حدیث نمبر ٤٥٤٨)
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا، أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ} [آل عمران: 77, کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں (پ ۳ آل عمران ۷۷) لاخلاق لهُمُ ان کے لیے بھلائی نہیں أَلِيمٌ اس کا ہم معنی مُؤْلِمٌ ہے یعنی دکھ درد سے بھر پور مُفْعِلٍ کی جگہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو وہ اللہ تعالٰی سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسے اپنے اوپر ناراض پائے گا پس اللہ تعالی نے اسی بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے: ترجمہ کنز الایمان : وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں (پ ۳ آل عمران ۷۷) ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ ابو عبد الرحمن نے تم سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ ہم نے کہہ دیا کہ یہ کچھ بیان فرمایا ہے۔ فرمایا، یہ آیت تو میرے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ میرا کنواں میرے چازاد بھائی کی زمین میں تھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ گواہ لے آ یا اس کی قسم ہوگی۔ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! وہ, تو قسم کھا جائے گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال حاصل کرنے کی غرض سے قسم کھائے اور اس میں وہ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا، أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ} [آل عمران: 77]: لاَ خَيْرَ،حدیث نمبر ٤٥٤٩, و حدیث ٤٥٥٠)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کوئی چیز فروخت کرنے کی غرض سے بازار میں لے کر آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ اس کے اتنے دام تو ملتے ہیں،حالانکہ وہ قیمت کسی نے نہیں لگائی تھی یہ صرف اس لیے کہا تھا کہ مسلمانوں میں سے کوئی تو لے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں (پ ۳ آل عمران ۷۷)۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا، أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ} [آل عمران: 77]: لاَ خَيْرَ،حدیث نمبر ٤٥٥١)
ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے کہ دو عورتیں کسی گھر یا حجرے میں بیٹھ کر موزے سی رہی تھیں ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس نے دعوی کیا کہ دوسری عورت نے اس کی ہتھیلی میں آر چھبودی ہے۔ یہ معاملہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما تک پہنچا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر دعوے کے مطابق دلایا جائے تو کتنے ہی لوگوں کی جانیں اور مال جاتے رہیں لہذا یہ کرو کہ اس کو خدا کے خوف سے ڈراؤ اور اس کے سامنے آیت پڑھو۔ ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں (پ ۳ آل عمران ۷۷) چناں چہ جب اسے خوف خدا یاد دلایا تو اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدعا علیہ پر قسم ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا، أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ} [آل عمران: 77]: لاَ خَيْرَ،حدیث نمبر ٤٥٥٢)
يَا أَهْلِ الْكِتَابِ ۔۔۔۔۔ کی تفسیر،ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے کتابیوں ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں ( آل عمران ٦٤) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی زبانی بتایا کہ ان دنوں جب کہ ہمارے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درمیان صلح تھی تو میں ملک شام گیا اور اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مکتوب مبارک ہرقل کے پاس پہنچا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ حضرت دحیہ کلبی نے حاکم بصرہ تک پہنچایا اور حاکم بصرہ نے ہر قل تک ۔ راوی کا بیان ہے کہ ہرقل نے کہا: کیا جس شخص نے دعوی نبوت کا کیا ہے اس کی قوم کا یہاں کوئی شخص ہے؟ لوگوں نے جواب دیا، ہاں۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے چند قرشی لوگوں کے ساتھ بلایا گیا اور ہم ہرقل کی خدمت میں پیش ہوئے اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا کہ دعوی نبوت کرنے والے کا تم میں سب کے لحاظ سے سب سے قریبی کون ہے؟ پس ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں تو اس نے مجھے اپنے بالکل سامنے بٹھا لیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلا کر کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس مدعی نبوت کے متعلق اس (حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ) سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، اگر یہ غلط بیانی کرے تو تم اس کی تردید کر دینا۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! اگر مجھے اپنے اوپر جھوٹ کا داغ لگنے کا خوف نہ ہوتا تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے اس نبی کا حسب پوچھو۔ ابوسفیان نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے پوچھا، کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نہیں۔ پھر پوچھا کہ اس دعوی سے پہلے کیا تم لوگوں نے اسے جھوٹ بولتے دیکھا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا، پوچھا کہ اس کی اتباع کرنے والے قوم کے امیر لوگ ہیں یا غریب؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ غریب لوگ ہیں اس نے پوچھا، ان میں اضافہ ہو رہا ہے یا کم ہورہے ہیں؟ میں نے جواب دیا، بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں پوچھا کہ اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس کے دین سے پھرا بھی ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا، کیا تمہاری اس سے کبھی جنگ ہوئی ہے؟میں نے جواب دیا ، ہاں۔ پوچھا کہ اس کے ساتھ جنگ کرنے کا نتیجہ کیا نکلا؟ میں نے جواب دیا کہ جنگ ہمارے درمیان ڈول کی طرح رہی ہے کبھی ان کا پلہ بھاری اور کبھی ہمارا۔ پھر پوچھا، کیا اس نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ بلکہ ان دنوں تو ہماری اور ان کی صلح ہے، ہمیں علم نہیں کہ وہ اس مرتبہ کیا کریں۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم یہی خلاف حقیقت ایک کلمہ تھا جو میں اپنے جوابات میں شامل کر سکا۔ اس نے پوچھا، کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے پہلے بھی ایسا دعویٰ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا، نہیں۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اسے بتادو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ عالی نسب ہے اور یہ سچ ہے کہ سارے رسول اپنی قوم میں صاحب حسب و نسب ہوتے ہیں پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے جواب دیا نہیں۔ پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اس کے اجداد میں کوئی بادشاہ ہوا ہوتا تو میں سمجھتا کہ ایسا دعویٰ کر کے اپنے بڑوں کا ملک حاصل کرنا چاہتا ہے پھر میں نے تم سے پوچھا کہ اس کی اتباع کرنے والے قوم کے غریب لوگ ہیں یا امیر ۔ تو تم نے غریب بتائے جب کہ غریب لوگ ہی رسولوں کی پیروی کیا کرتے ہیں پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا یہ دعوی کرنے سے پہلے تم نے کبھی اسے جھوٹ بولتے دیکھا ہے تو تم نے جواب دیا کہ نہیں دیکھا۔ تو میں سمجھ گیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کے بارے میں تو جھوٹ نہ بولے اور خدا کے بارے میں جھوٹ بولنے لگے۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی پھرا بھی ہے اس کی شدت کے سبب یا کسی اور وجہ سے تو تم نے جواب دیا نہیں۔ واقعی جب ایمان دل میں بس جاتا ہے تو نکلتا نہیں۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھتے ہیں یا کم ہورہے ہیں تو تم نے بتایا کہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے کہ وہ مکمل ہوکر رہتا ہے۔ پھر میں نے تم سے اس کے ساتھ جنگ کے متعلق پوچھا تو تم نے بتایا کہ اس کے ساتھ تم تمہاری جنگ ہوتی ہے، اور تمہارے اور اس کے درمیان لڑائی ڈول کی طرح رہی ہے، کبھی تم غالب رہے اور کبھی وہ۔ اور رسولوں کی اسی طرح آزمائش ہوتی رہی ہے لیکن آخر کار رسول ہی غالب آتے ہیں پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے تو تم نے بتایا کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ یہ سچ ہے کہ وعدہ خلافی کرنا رسولوں کی شان کے منافی ہے پھر میں نے تم سے پوچھا کہ جو دعویٰ اس نے کیا ہے کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے کیا تھا تم نے نفی میں جواب دیا۔ پس میں نے اپنے جی میں کہا کہ اگر اس کے بڑوں میں سے کسی نے ایسا دعوی کیا ہو تو وہ ایسا دعویٰ کر کے اپنے بڑے کی پیروی کر رہا ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر اس نے پوچھا کہ وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے۔ ابوسفیان نے جواب : دیا کہ وہ ہمیں نماز پڑھنے ، زکوۃ دینے صلہ رحمی کرنے اور پاک دامن رہنے کا حکم دیتا ہے ہرقل نے کہا کہ جو کچھ تم نے بیان کیا ہے اگر وہ سچ ہے تو اس کی نبوت میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ میں یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے لیکن یہ بات میرے گمان میں بھی نہ تھی کہ وہ تم لوگوں میں پیدا ہوں گے اگر مجھے یہ علم ہوتا تو ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا کیونکہ میں اُن کی زیارت کا شائق ہوں۔ کاش! میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے مبارک قدموں کو دھو کر غسالہ پیا کرتا۔ جہاں اب میرے قدم ہیں ان کا ملک یہاں تک ضرور پہنچے گا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مکتوب نامہ منگوایا اور اسے خود پڑھا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے ہر قل شاہ روم کے نام ہے سلام اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا. ہوں۔ اگر تم نے اسلام قبول کر لیا تو سلامتی میں رہو گے۔ تمہارے مسلمان ہو جانے سے اللہ تعالیٰ تمہارے اجر کو دگنا کر دے گا اور اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو تمہاری رعایا کا گناہ بھی تمہارے اوپر ہوگا ۔ ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ اے کتابیوں ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں (پ ۳ آل عمران (٦٤) جب ہر قل اس گرامی نامے کو پڑھ کر فارغ ہوا تو دربار میں اس کے پاس شور مچ گیا اور عجیب کہرام برپا ہو گیا لہٰذا ہمیں حکم دیا گیا تو ہم باہر چلے آئے۔ باہر نکل کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابو کبشۃ (رسول خدا) کے مقصد کو تو بڑی تقویت ملتی جارہی ہے، کہ بنی اصغر کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے۔ اسی وقت سے مجھے یہ یقین ہونے لگا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کا دین عنقریب غالب ہو جائے گا حتیٰ کہ میں خود اسلام میں داخل ہو گیا زہری کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہرقل نے روم کے سرداروں کو اپنے گھر بلایا اور کہا: اے رومیو! اگر تمہیں کامیابی و ہدایت کی تمنا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے تمہارا مقدر بن جائے اور تمہارا ملک بھی ہمیشہ باقی رہے تو ہدایت قبول کرلو۔ راوی کا بیان ہے کہ اس پر وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگنے لگے لیکن دروازے بند پائے۔ بادشاہ نے کہا: مجھ سے مت بھا گو بلکہ میرے نزدیک آجاؤ۔ میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اپنے دن میں کتنے مضبوط ہو پس میں دین پر تمہاری مضبوطی دیکھ کر بہت خوش ہوں اس پر سب نے اسے سجدہ کیا اور راضی ہو گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قُلْ: يَا {أَهْلَ الكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ} " حدیث نمبر ٤٥٥٣)
لَن تَنَالُوا البر ۔۔۔۔۔ کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے ( آل عمران ۹۲) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انصاری مدینہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سب سے زیادہ کھجوروں کے باغات تھے اور سارے اپنے باغات میں انہیں بیرحا باغ سب سے پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی اس میں وقتاً فوقتاً تشریف لے جاتے اور اس کا خوشگوار پانی نوش فرمایا کرتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ کنز الایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔ ( آل عمران (۹۲) تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان : تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔ ( آل عمران (۹۲) اور مجھے اپنی ساری جائیداد میں بیر حا کا باغ سب سے محبوب ہے یہ میں راہِ خدا میں صدقہ دیتا ہوں اس امید پر کہ بھلائی کو حاصل کروں اور یہ اللہ کے پاس میرا ذخیرہ آخرت بن جائے۔ لہذا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ رضائے الٰہی کے مطابق جس طرح چاہیں اسے خرچ فرمائیں، راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب یہ سودا تو بڑا نفع بخش ہے یہ سودا تو بڑا نفع بخش ہے جو تم نے کہا وہ میں نے سن لیا مگر میرا خیال یہ ہے کہ تم اسے اپنے قرابت داروں کو دے دو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں اس حکم کی تعمیل کروں گا۔ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ اپنے اقارب اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا ، عبداللہ بن یوسف اور روح بن عبادہ کی روایت میں ہے کہ یہ مال نفع بخش ہے۔ یحیی بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے امام مالک کے سامنے یوں پڑھا کہ یہ فائدہ دینے والا مال ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسان اور حضرت ابی بن کعب کو حصہ دیا مگر میں ان کی نسبت زیادہ قریب تھا لیکن مجھے اس میں سے کچھ بھی نہ دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،باب،{لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] إِلَى {بِهِ عَلِيمٌ} [البقرة: 215] حدیث نمبر ٤٥٥٤ و حدیث نمبر ٤٥٥٥)
قُلْ: فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ, کی تفسیر, حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں سزا دلوانے کے لیے آئے جنہوں نے زنا کیا تھا آپ نے فرمایا کہ جو تم میں سے زنا کرے تو اس کے ساتھ تم کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں زدو کوب کرتے ہیں آپ نے فرمایا: کیا توریت میں تمہیں رجم کا حکم نہیں دیا گیا؟ کہنے لگے ہمیں تو اس میں ایسا کوئی حکم نہیں ملا۔ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ذرا توریت تو لا کر پڑھو اگر تم سچے ہو۔ چنانچہ انہوں نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ لیا اور ادھر ادھر سے پڑھنے لگے اور رجم کی آیت کو نہیں پڑھتے تھے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ آیت رجم کے اوپر سے ہٹا کر فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ جب انہوں نے وہ دیکھی تو کہنے لگے کہ واقعی یہ رجم کی آیت ہے پس آپ نے ان دونوں کو سنگسار کر دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ مسجد کے قریب جو اس کام کے لیے جگہ مقرر فرمائی گئی تھی وہاں ان دونوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ زانیہ کو پتھروں سے بچانے کی خاطر زانی اس پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُلْ: فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} [آل عمران: 93] حدیث نمبر ٤٥٥٦)
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ، کی تفسیر۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں (آل عمران ۱۱۰) کے مطابق لوگوں کے لیے بہترین لوگ وہ ہیں جو کافروں کو ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر لاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: 110] حدیث نمبر ٤٥٥٧)
إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ کی تفسیر عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان : جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کر جائیں(آل عمران ۱۲۲) یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی اور وہ ہمارے دونوں گروہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ ہیں اور اپنی نامردی کا ذکر ہمیں پسند نہیں۔ ایک بار سفیان نے یوں کہا کہ : اس کا نازل نہ ہونا ہمارے لیے خوشی کا سبب نہیں کیونکہ اس میں یہ بھی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے (آل عمران ۱۲۲ ) ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ} [آل عمران: 122] حدیث نمبر ٤٥٥٨)
لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ کی تفسیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نماز فجر کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! فلاں فلاں پر لعنت فرما اور اس سے پہلے آپ سمع الله لمن حمدہ اور ربَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہہ چکے تھے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ کنز الایمان : یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں ۔۔۔۔ تا۔۔۔ وہ ظالم ہیں (آل عمران (۱۲۸) اس کی اسحاق بن راشد نے بھی زہری سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: 128] حدیث نمبر ٤٥٥٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی کی بربادی یا کسی کی بہتری کے لیے دعا مانگتے تو آپ رکوع کے بعد قنوت پڑھا کرتے اور کبھی سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمدَہ اور اللهُم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کے بعد کہتے : اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو بچا اور اے اللہ! قبیلہ مضر والوں کو سختی سے پکڑ اور ان پر ایسی خشک سالی مسلط فرما جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں فرمائی تھی اور بعض اوقات فجر کی نماز میں یوں دعا مانگتے : اے اللہ ! عرب کے فلاں فلاں قبیلوں پر لعنت فرما، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: ترجمہ کنز الایمان: یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا اُن پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں( آل عمران (۱۲۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: 128]حدیث نمبر ٤٥٦٠)
وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ کی تفسیر، أُخْرَاكُمْ مؤنث ہے أُخْرَكُمْ سے۔ ابنِ عباس کا قول ہے کہ احدى الْحُسْنَيْنِ سے مراد فتح یا شہادت ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ پیدل افراد"پر" حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر مقرر فرمایا۔ لیکن وہ شکست کھا کر پیٹھ پھیر گئے اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ:ترجمہ کنز الایمان : دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (آل عمران ۱۵۳) اور نبی کریم صلی کے پاس اس وقت بارہ افراد کے سوا اور کوئی نہ رہا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ} [آل عمران: 153] « حدیث نمبر ٤٥٦١)
{أَمَنَةً نُعَاسًا} [آل عمران: 154] کہ تفسیر، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: غزوہ احد کے دن جب کہ ہم میدانِ جنگ میں تھے تو ہم پر نیند طاری ہوگئی ، چنانچہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑی تھی۔ میں اسے پکڑتا تو پھر گر پڑتی اور پھر اٹھاتا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَمَنَةً نُعَاسًا} [آل عمران: 154] حدیث نمبر ٤٥٦٢)
{الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ -[39]-کہ تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : وہ جو اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نیکو کاروں اور پرہیز گاروں کے لئے بڑا ثواب ہے ( آل عمران (۱۷۲) - الْقَرْحُ زخم اسْتَجَابُوا اسی طرح آجابُوا سے بنا ہے جیسے يُجِيبُ سے يَسْتَجِيبُ بنا ہے۔ {إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ} [آل عمران: 173] الآيَةَ کی تفسیر: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور اچھا کارساز ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ اس وقت کہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے: ترجمہ کنز الایمان : لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو توان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز ( آل عمران (۱۷۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ -[39]- القَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ} [آل عمران: 172] حدیث نمبر ٤٥٦٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلام یہ تھا کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ ہی اچھا کارساز ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ} [آل عمران: 173] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٦٤)
ترجمہ کنز الایمان : اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمھارے کاموں سے خبردار ہے (آل عمران ۱۸۰) سيطوفون جیسے تم کہتے ہو کہ میں نے اُسے طوق پہنایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالی مال عطا فرمائے اور وہ اس میں سے زکوۃ نہ دے تو اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور بروز قیامت وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ چنانچہ وہ سانپ اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمھارے کاموں سے خبردار ہے( آل عمران ۱۸۰) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (وَلَا يَحْسِبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ، بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ، سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ) حدیث نمبر ٤٥٦٥)
باب ترجمہ کنز الایمان: اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے (آل عمران ۱۸۲) عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے دراز گوش پر سوار ہوئے جس پر نُدک کی بنی ہوئی چادر ڈالی ہوئی تھی اور اپنے پیچھے آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو بٹھا لیا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج کے محلے میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جارہے تھے۔ یہ واقعہ غزوہ بدر سے قبل کا ہے، راوی کا بیان ہے کہ آپ کا گزر ایک مجلس کے پاس سے ہوا جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول موجود تھا اور اس وقت تک عبد اللہ بن ابی سلول اسلام نہیں لایا تھا۔ وہ مجلس مسلمانوں اور مشرکوں، بت پرستوں اور یہودیوں کی مخلوط تھی۔ اس مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے، جب جانور کے چلنے کا غبار مجلس تک پہنچا تو عبد اللہ بن اُبی نے چادر کے ساتھ اپنی ناک چھپالی اور پھر کہا کہ ہم پر خاک نہ اڑاؤ۔ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا،کھڑتے ہو گئے اور سواری سے اتر آئے اس کے بعد انہیں اللہ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا۔ اس پر عبد اللہ بن ابی بن سلول کہنے لگا کہ جناب والا! آپ کی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن اگر یہ حق ہے تو ہماری مجلس میں آپ ہمیں کیوں تنگ کرتے ہیں؟ آپ گھر جائیے اور جو آپ کے پاس آئے اسے یہ قصے سنائیے پس حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، کیوں نہیں ، یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں اور ہمیں اس سے نفع پہنچایا کریں کیونکہ ہمیں یہ باتیں پسند ہیں، پس مسلمانوں، مشرکوں، اور یہودیوں میں شیخ کلامی شروع ہوگئی، حتی که دست و گریبان تک نوبت آنے لگی تھی، نبی کریم صلی و تنم نے بڑی کوشش سے انہیں خاموش ہونے پر تیار کیا۔ پھر نبی کریم جانور پر سوار ہوکر حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے ۔ نبی کریم صلی یا کہ تم نے فرمایا کہ اے سعد!کیا تم نے نہیں سنا جو ابو حباب نے کہا؟ اس نے یہ باتیں کی ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اسے معاف فرما دیجئے اور اس سے درگز رفرمائیے۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے، بیشک آپ حق کے ساتھ تشریف لائے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمایا ہے در اصل اہل مدینہ نے اسے اپنا سردار بنانے اور تاج پہنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بات نا منظور فرمائی اور حق و صداقت کا علم دے کر آپ کو بھیج دیا تو یہ بات اس پر صحابہ گزری جس کے باعث ایسی ناروا حرکتیں کرتا ہے جیسا کہ آپ نے خود ملاحظہ فرمایا تو رسول اللہ صلی یہ تم نے اس کو معاف فرما دیا۔ نبی کریم صلی اور آپ کے اصحاب کی یہ مبارک عادت تھی کہ وہ مشرکین اور اہل کتاب کو معاف فرما دیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم فرمایا تھا اور ان کی ایذا رسانی پر صبر سے کام لیا کرتے تھے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان: اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے (آل عمران ۱۸٦) نیز اللہ عزوجل نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنے دلوں کی جلن سے بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہو چکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے (پ ٢ البقرة ۱۰۹) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم متواتر درگزر سے کام لیتے رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم فرمایا تھا حتی کہ خدا نے آپ کو جہاد کی اجازت عطا فرمادی۔ پس جب غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں کفار قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کروا دیا تو ابن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں میں جو مشرک تھے انہوں نے کہا کہ اب یہ دین غالب ہو گیا ہے لہٰذا وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر اسلام کی بیعت کر کے بظاہر مسلمان ہو گئے، (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: 186] حدیث نمبر ٤٥٦٦)
(لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا) کی تفسیر، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں منافقین کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب کسی طرف جہاد پر جاتے تو یہ پیچھے بیٹھے رہتے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے بیٹھے رہنے پر خوشیاں مناتے اور جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تو یہ طرح طرح کے عذر بیان کرتے اور قسمیں کھاتے ۔ اور وہ بغیر کچھ کیے اپنی تعریف چاہتے پس یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: ہرگز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کئے اُن کی تعریف ہو ( آل عمران (۱۸۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا) حدیث نمبر ٤٥٦٧)
حضرت علقمہ بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مردان بن حکم نے اپنے دربان سے کہا، اے رافع ! جاؤ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے معلوم کرو کہ اگر ہر وہ شخص جسے کوئی چیز حاصل ہو اور وہ اس پر خوشی منائے اور چاہے کہ بغیر کچھ کیے اس کی تعریف بھی کی جائے تو اس صورت میں ہم سب کو عذاب دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ تمہارا اس سے کیا تعلق؟ وہ دعا تو اس کے متعلق ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ یہودیوں کو بلا کر ان سے کوئی بات دریافت فرمائی۔ وہ اصل بات کو چھپا گئے اور اس کی جگہ کچھ اور بتا دیا۔ اس کارگزاری پر انہوں نے تمنا کی کہ ان کی تعریف ہو اور اصل بات کو چھپا لینے پر خوشیاں بھی منانے لگے۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے تو کتنی بری خریداری ہے ( آل عمران ۱۸۷) اسی طرح یہ ارشاد ہوا ترجمہ کنز الایمان: ہرگز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کئے اُن کی تعریف ہو ایسوں کو ہرگز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے( آل عمران (۱۸۸) اسی طرح عبدالرزاق نے این جریج سے روایت کی ہے۔ نیز حجاج، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ ، حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ مردان نے یہی کہا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا)،حدیث نمبر ٤٥٦٨)
{إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِأُولِي الأَلْبَابِ} کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس ایک شب گزاری۔ تو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ دیر تو حضرت ام المومنین سے گفتگو فرمائی اور ان کے بعد آپ آرام فرمانے لگے جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے ( آل عمران (۱۹۰) پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ وضو فر مایا، مسواک کی، پھر آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھ دی تو آپ علیہ السلام نے دو رکعتیں (فجر کی سنتیں) پڑھیں پھر باہر تشریف لائے اور نماز فجر ( فرض ) ادا کی، (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِأُولِي الأَلْبَابِ} حدیث نمبر ٤٥٦٩)
{الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ، وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ} کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (آل عمران ۱۹۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شب اپنی خالہ، ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گزاری تو میں نے کہا کہ آج میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایک گدا بچھا دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس پر لمبائی کی طرف آرام فرما۔ ہو گئے۔ پھر آپ بیدار ہوئے اور چہرہ مبارک سے نیند کا اثر زائل کرنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ لٹکی ہوئی ایک مشک کے پاس تشریف لائے ۔ اس سے پانی لیا، وضو فرمایا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پس میں نے بھی اُسی طرح کیا جیسے آپ نے کیا تھا چنانچہ میں بھی آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا پس آپ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا پھر میرے کان پکڑ کر مسلے پس آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ، وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ} حدیث نمبر ٤٥٧٠)
{رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} [آل عمران: 192] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اے رب ہمارے بے شک جسے تو دوزخ میں لے جائے اُسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ( آل عمران ۱۹۲) گریب مولی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں بتایا کہ میں نے ایک شب اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گزاری۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے گدّے کی چوڑائی کی طرف لیٹ رہا اور لمبائی کی طرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ تھیں۔ جب آدھی رات گزرگئی یعنی اس سے تھوڑی سی کم یا تھوڑی سی زیادہ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ نے چہرہ انور کو ملا تاکہ نیند کے اثرات ختم ہو جائیں پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے اس سے پانی لے کر وضو فرمایا اور بڑی خوبصورتی سے وضو کیا اور آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ چنانچہ میں نے بھی اسی طرح کیا جیسے آپ نے کیا تھا، پھر میں جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا دست اقدس میرے سر پر رکھا، پھر داہنے دست اقدس سے میرے کان کو پکڑ کر ملا پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دورکعتیں، پھر دورکعتیں اور پھر وتر پڑھے، اس کے بعد آپ پھر لیٹ گئے حتی کہ مؤذن نے اذان پڑھی۔ پس آپ نے ہلکی سی دور کعتیں (فجر کی سنتیں) پڑھیں پھر آپ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} [آل عمران: 192] حدیث نمبر ٤٥٧١)
ترجمہ کنز الایمان: اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لیے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ (آل عمران ۱۹۳) ؛ کی تفسیر، کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں خبر دی کہ ایک شب میں نے اپنی خالہ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنها زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گزاری۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک بستر پر عرض کی طرف لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ لمبائی کی طرف، چنانچہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی یعنی آدھی رات سے تھوڑی دیر پہلے یا تھوڑی دیر بعد آپ بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک کو مل کر آپ نے نیند کے اثرات کو زائل کیا۔ پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کے پاس آپ تشریف لے گئے۔ پس آپ نے اس سے وضو فرمایا اور بڑی اچھی طرح وضو فرمایا اور پھر آپ نماز پڑھنے لگے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے بھی اسی طرح کیا جیسے آپ نے کیا تھا اور پھر آپ کے پہلو میں جا کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا دست اقدس میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مسلا ۔ پس آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر وتر پڑھے۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن نے اذان پڑھی ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہلکی سی دور کعتیں ( فجر کی سنتیں) پڑھیں۔ پھر آپ تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ} [آل عمران: 193] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٧٢)
سورة النساء ابن عباس کا قول ہے کہ يَسْتَنْكِفُ سے مراد ہے تکبر کرتے ہیں۔ قِوَامًا معاشی سہارا، لَهُنَّ سبیلا یعنی شادی شدہ کو سنگسار کرنا اور کنوارے کو درے لگانا۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مَثْنَى وَثُلاَثَ دو دو، تین تین اور چار چار اہل عرب چار سے زیادہ کے لیے یوں نہیں بھولتے ۔ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي اليَتَامَى کی تفسیر, حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک شخص کی سر پرستی میں کوئی یتیم لڑکی تھی اس نے اس سے نکاح کر لیا کیونکہ لڑکی کا ایک باغ تھا جسے یہ اپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا ورنہ اصل میں اسے لڑکی سے کوئی محبت نہ تھی۔ چنانچہ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ: ترجمہ کنز الایمان : اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (النساء ٣ ) ابراہیم بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہشام نے یہ کہا تھا کہ وہ لڑکی اس شخص کے اس باغ کے اس بائع اور دوسری جائیداد میں شریک تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي اليَتَامَى} حدیث نمبر ٤٥٧٣)
حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ارشادِ باری تعالٰی کے متعلق پوچھا: ترجمہ کنز الایمان: اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے(النساء ۳) انہوں نے فرمایا، اے بھتیجے! یہ ایک یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہو اور اس شخص کی جائیداد میں شریک ہو۔ ولی کو اس لڑکی کے مال اور جمال کا لالچ ہو۔ تو وہ اس لڑکی سے نکاح کرنے کا ارادہ کرلے اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ نہ ہو، جتنا کہ اسے دوسرا شخص دے سکتا ہے۔ تو ایسی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر نے سے ممانعت کردی گئی جب تک انہیں دوسرے لڑکیوں کی مثل پورا مہر انصاف کے ساتھ نہ دیا جائے اور ایسے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں، ایسی عورتوں سے جو انہیں پسند بھی ہوں عروہ کا بیان ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : لوگ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بعد عورتوں کے بارے میں معلوم کیا کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان : اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں (النساء ۱۲۷) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دوسری آیت( بلکہ اسی)میں اللہ تعالیٰ نے ان یتیم لڑکیوں کے متعلق فرمایا ہے ترجمہ کنز الایمان:اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منھ پھیرتے ہو (النساء ۱۲۷) جن سے مال یا جمال کی کمی کے سبب نکاح کرنے کی رغبت نہ ہو، آپ فرماتی ہیں کہ ایسی یتیم عورتوں کے ساتھ اس وقت نکاح کرنے سے ممانعت فرما دی گئی ہے، جب تک انہیں انصاف کے ساتھ پورا مہر نہ دیا جائے، جن سے مال یا جمال کی کمی کے سبب اعراض کیا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي اليَتَامَى}حدیث نمبر ٤٥٧٤)
ترجمہ کنز الایمان: اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،(النساء ٦ ) بِدَارًا جلدی کرنا۔ أَعْتَدْنَا ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ یہ الْعَتَادَ سے باب افعال ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد باری تعالیٰ: ترجمہ کنز الایمان اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے (النساء ٦) فرمایا کہ یہ یتیم کے مال کے متعلق ہے کہ جب تک اس کے پاس رہے تو ضرورت مند مناسب مقدرا میں کھا سکتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا} [النساء: 6] حدیث نمبر ٤٥٧٥)
ترجمہ کنز الایمان : پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں (النساء ۸) کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں,کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں ( النساء ۸) یہ محکم آیت ہے اور (کسی آیت سے) منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذَا حَضَرَ القِسْمَةَ أُولُو القُرْبَى وَاليَتَامَى وَالمَسَاكِينُ} الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٧٦)
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ} [النساء: 11] کی تفسیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ بنی سلمہ سے گزرتے ہوئے میرے عیادت کے لیے تشریف لائے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے بیہوشی کی حالت میں پایا تو پانی منگوایا، پھر وضو فرمایا اور میرے اوپر چھینٹے مارے تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ اپنے مال کے متعلق کیا کروں؟ پس یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں (النساء ۱۱ ) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ} [النساء: 11] حدیث نمبر ٤٥٧٧)
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ} [النساء: 12] کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں پہلے یہ ہوتا تھا کہ مال کا وارث بیٹا ہوتا اور والدین کے لیے وصیت کی جاتی۔ پس اللہ تعالی نے اس میں سے جو بات چاہی منسوخ فرمادی اور یہ اصول مقرر فرمایا:ترجمہ کنز الایمان : بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں"کے" برابر ہے (النساء ۱۱ ) میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا اور تیسرا حصہ مقرر فرمایا۔ یعنی عورت کے لیے آٹھواں یا چوتھا حصہ اور خاوند کے لیے آدھا یا چوتھائی حصہ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ} [النساء: 12] حدیث نمبر ٤٥٧٨)
لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا، وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: 19] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیائی کا کام کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (النساء ۱۹) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ لاَ تَعْضُلُوهُنَّ سے مراد ہے کہ ان کے ساتھ زبردستی نہ کرو ۔ حُوبًا گناہ ۔ تَعُولُوا تم ایک جانب جھک جاؤ۔ نِحْلَةً سے مراد ہے مہر یعنی النخلة - عکرمہ اور ابوالحسن سوائی دونوں حضرات نے علیحدہ علیحدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (النساء ۱۹) کے متعلق وہ فرماتے ہیں کہ پہلے جب آدمی مرجاتا تو اس کی بیوی کے زیادہ مستحق اس کے وارث ہی شمار کیے جاتے تھے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اسے اپنی زوجیت میں لے لیتا اور اگر وہ چاہتے تو اسے کسی دوسرے کے نکاح میں دیتے اور اگر وہ چاہتے تو کسی سے اس کا نکاح نہ ہونے دیتے پس اس کے وارثوں سے زیادہ وہ اس کے مستحق شمار کیے جاتے تھے۔ پس مذکورہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا، وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: 19] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٧٩)
ترجمہ کنز الایمان : اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،(النساء ۳۳) کی تفسیر، مَوَالِي سے اولیاء اور وارث مراد ہیں۔ عَاقَدَتْ جس کو قسم کھا کر موٹی بنایا ہو، الحَلِيفُ اور المَوْلَى کے اور بھی کئی معنی آئے ہیں جیسے چچا کا بیٹا، غلام یا لونڈی کا ملک جو بطور احسان اس کو آزاد کر دے، وہ غلام جو آزاد کر دیا گیا ہو اور جو دین میں مددگار ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ آیت : (اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنا دیئے ۔ یہ وارثوں کے متعلق ہے اور جملہ: (اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا۔ وہ یوں ہے کہ جب مہاجرین مدینہ منورہ میں آئے تھے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا اور اس کے اپنے رشتہ دار وارث نہیں ہوتے تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان (مهاجرین و انصار) کے درمیان مواخات (بھائی چارا قائم فرما دیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تر جمہ کنز الایمان: اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنا دیتے ہیں (النساء (۳۳) تو پہلا دستور منسوخ ہو گیا۔ پھر فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (پ ۵النساء ۳۳) یعنی مدد، خیر خواہی اور دوستی کا۔ چنانچہ اُن کا وارث ہوتا تو ختم ہو گیا لیکن وصیت اُن کے لیے باقی رہ گئی اسے ابواسامہ نے ادریس سے اور انہوں نے حضرت طلحہ بن مصرف سے سنا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ، وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا) حدیث نمبر ٤٥٨٠)
{إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ} [النساء: 40]: کی تفسیر، ذَرَّةٍ سے مراد جس میں ذرے کے برابر وزن ہو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم بروز قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! جب دوپہر کے وقت دھوپ نکلی ہوئی ہو اور آسمان میں بادل بھی نہ ہوں تو کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا، نہیں فرمایا، کیا چاندنی رات میں جبکہ چاندنی چھائی ہوئی ہو اور آسمان پر بادل بھی نہ ہوں تو کیا تمہیں چاند کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے لوگوں نے کہا، نہیں، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کو دیکھنے میں تمہیں اسی طرح کوئی دقت یا رکاوٹ نہیں ہوگی اور بروز قیامت تم اللہ عز و جل، کو اسی طرح بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھو گے جیسے آج ایک دوسرے کو دیکھتے ہو۔ بروز قیامت ایک پکارنے والا پکارے گا کہ تم میں سے جو گروہ خدا کے سوا جس بت یا تھان کو پوجتا تھا آج اس کے پیچھے ہو جائے۔ چنانچہ ایسے تمام لوگ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ حتیٰ کہ وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو ایک خدا کی عبادت کرتے تھے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جن میں اہل کتاب کے کچھ لوگ بھی ہوں گے پھر یہودی بلائے جائیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے حضرت عزیز علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے، اور نہ کوئی بیٹا ہے بتاؤ اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں پیاس لگی ہوئی ہے تو اے ہمارے رب! ہمیں پانی پلا دے۔ پھر ریت کے ایک میدان کے بارے میں کہا جائیگا کہ کیا تم وہ پانی نہیں دیکھتے چنانچہ وہ سب اس آگ میں جمع کر لیے جائیں گے یعنی وہ سراب ہوگی جس کے بعض شعلے دوسروں کو کھا رہے ہونگے ، پس وہ اس آگ میں ڈال دیئے جائیں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی پوجا کیا کرتے تھے ان سے کہا جائیگا کہ تم جھوٹے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ کوئی بیٹا ہے پھر ان سے کہا جائیگا کہ یہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو؟ چنانچہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ان سے پہلے یہودی گروہ کے ساتھ ہوا۔ حتیٰ کہ صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو ایک خدا کی عبادت کیا کرتے تھے خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ پھر اللہ تعالیٰ بہت قریب سے ایسی صورت میں جلوہ فرمائے گا جس میں اسے دیکھا جا سکے پھر ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ حالانکہ آج ہر ایک اس کے ساتھ ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہم نے تو ان لوگوں کو دنیا میں چھوڑ دیا تھا جبکہ ان کی بڑی حاجت تھی۔ اور ہم تو اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں ان سے فرمایا جائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ دو یا تین دفعہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ} [النساء: 40]: حدیث نمبر ٤٥٨١)
{فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] " کی تفسیر ، ترجمہ کنز الایمان : تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں (پ ۵ النساء ٤١) المُخْتَالُ اور الخَتَّالُ کا ایک ہی معنی ہے یعنی مغرور،نَطْمِسَ ہم ان کے منہ گدھے کی طرح برابر کر دینگے طَمَسَ الكِتَابَ اسی سے بنا ہے یعنی لکھا ہوا مٹا دینا، سَعِيرًا ایندھن ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جبکہ یحییٰ کا بیان ہے کہ اس حدیث کا ایک حصہ عمرو بن مرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کی کہ حضور! میں پڑھ کر سناؤں جبکہ نازل تو آپ پر ہوا ہے؟ فرمایا مجھے دوسروں کی زبانی سننا بہت پسند ہے۔ پس میں نے آپ کے حضور سورۃ النساء پڑھی جب میں اس آیت پر پہنچا کہ ترجمہ کنز الایمان : تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں (پ ۵ النساء ٤١) تو آپ نے فرمایا کہ بس کر جاؤ اور اس وقت آپ کی چشمانِ مبارک سے اشک رواں تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] " حدیث نمبر ٤٥٨٢)
{وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الغَائِطِ} [النساء: 43] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا (پ ۵ النساء (٤٣) صَعِيدًا زمین کی سطح - الطَّوَاغِيتُ وہ ہیں جن کی جانب کافر اپنے مقدمے لے جاتے تھے، چنانچہ وہ قبیل تجہینہ کا اپنا تھا۔ بنی اسلم کا اپنا اور ہر ایک قبیلے کا اپنا اپنا اور کاہنوں پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ الجِبْتُ سے جادو اور الطَّاغُوتُ سے شیطان مراد ہے عکرمہ کا قول ہے کہ الجِبْتُ حبشہ کی زبان کا لفظ ہے بمعنی شیطان اور الطَّاغُوتُ سے کاہن مراد ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا ہار گم ہو گیا جب میں نے عاریۃً حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے لیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند افراد روانہ فرمائے۔ لوگوں کے وضو نہ تھے اور وضو کے لیے انہیں پانی مل بھی نہیں رہا تھا۔ چنانچہ لوگوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]: کی تفسیر، ذَوِي الأَمْرِ یعنی جن کا حکم چلتا ہو۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ آیت۔ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (پ ۵ النساء (۵۹) یہ حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی کے متعلق نازل ہوئی۔ جب کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سریہ کا امیر بنا کر روانہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير بَابُ قَوْلِهِ: {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الغَائِطِ} [النساء: 43] حدیث نمبر ٤٥٨٣،و حدیث نمبر ٤٥٨٤)
{فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: 65] کہ تفسیر، حضرت عروہ کا بیان ہے کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ایک انصاری کا کھیت کے پانی پر تنازعہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اے زبیر! پہلے تم اپنے کھیت کو پانی دے لو اور پھر ہمسائے کے کھیت کی طرف چھوڑ دینا۔ اس پر انصاری نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا یہ اس لیے ہے کہ یہ آپ کی پھوپھی جان کے صاحبزادے ہیں؟ اس پر آپ کے چہرے مبارک کا رنگ سُرخ ہو گیا اور فرمایا کہ اے زبیر! پہلے تم اپنے کھیت کو پانی دو اور جب پانی کھیت کی منڈیروں سے باہر نکلنے لگے تو اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دینا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دلا دیا جبکہ آپ نے واضح حکم فرما دیا ورنہ پہلے حکم میں انصاری کے لیے رعایت فرمائی گئی تھی اور اس حکم میں دونوں کے حقوق کی طرف اشارہ فرما دیا تھا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ آیتیں ترجمہ کنز الایمان : تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں (پ النساء ٦٥) اسی کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: 65] حدیث نمبر ٤٥٨٥)
{فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ} [النساء: 69] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (پ ۵ النساء ٦٩) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی نبی جب بیمار ہو جاتے تو انہیں اختیار دیا جاتا کہ دنیا میں رہنا چاہتے ہیں یا آخرت میں، چنانچہ جب آپ اس مرض میں مبتلا تھے جس میں وصال ہوا اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں نے سنا کہ آپ فرمارہے تھے: ترجمہ کنز الایمان : جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ (پ ۵ النساء (٦٩) پس میں سمجھ گئی کہ آپ نے آخرت کو اختیار فرمالیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ} [النساء: 69] حدیث نمبر ٤٥٨٦)
{وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ} [النساء: 75] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں (پ ۵ النساء ۷۵) عبد الله بن محمد ، سفیان، عبید اللہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرا اور میری والدہ ماجدہ کا شمار ضعفاء میں تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ} [النساء: 75] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٨٧)
ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آیت: ترجمہ کنز الایمان : مگر وہ جو دبا لئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے (پ ۵ النساء (۹۸) تلاوت کی اور فرمایا کہ میرا اور میری والدہ محترمہ کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حصرت سے تنگ ہونا مراد ہے۔ تَلْوُوُا الْسِنَتِكُمْ زبان پھیر کر گواہی دینا اُن کے سوا دوسرے نے کہا ہے کہ المُرَاغَمُ سے مراد جائے ہجرت ہے۔ رَاغَمْتُ میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ مَوْقُوتًا ایک مقررہ وقت پر (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ} [النساء: 75] الآيَةَ،حدیث نمبر ٤٥٨٨)
{فَمَا لَكُمْ فِي المُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: 88] ترجمہ کنز الایمان: توتمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو گئے اور اللہ نے انہیں اوندھا کر دیا (پ ۵ النساء۸۸) کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ان کی طاقت کو توڑ دیا فِئَةٌ سے مراد جماعت ہے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت ترجمہ کنز الایمان : تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو گئے (پ ۵ النسا ء ۸۸) یہ اُس وقت نازل ہوئی جبکہ غزوہ احد کے لیے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے لیکن واپس لوٹ گئے تھے چنانچہ اُن کے متعلق لوگوں کے دو گروہ ہو گئے ایک گروہ کہتا کہ اُن کو قتل کر دیا جائے اور دوسرا گروہ انہیں قتل کر دینے سے انکار کرتا تھا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی کہ ترجمہ کنز الایمان: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو گئے (پ ۵ النساء ۸۸) نبی کریم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ تو طیبہ بھی ہے یہ میل کو اس طرح نکال دیتا ہے جیسے چاندی کے میل کو آگ نکال دیتی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَمَا لَكُمْ فِي المُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: 88] حدیث نمبر ٤٥٨٩)
{وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ} [النساء: 83]: کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور جب اُن کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (پ ۵ النساء ۸۳) یعنی اسے خوب ہوا دیتے ہیں، يَسْتَنبِطُونه چاہیے کہ اس کی تحقیق کریں۔حَسِيبًا كافي - إِلَّا إِنَاثًا بے جان چیزیں جیسے پتھر مٹی وغيره، مَرِيدا شرارتی، فَلْيُبَتِكُنَ بِهِ بَتَّكَة سے بنا ہے یعنی اسے کاٹ دیا قِيلًا اور قَوْلًا ہم معنی ہیں طَبَعَ کا معنی ہے مہر لگادی۔ مغیرہ بن نعمان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ اہل کوفہ میں اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے معلوم کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے (پ ۵ النساء (۹۳) یہ قتل کے بارے میں سب سے آخر میں نازل ہوئی اور اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93]حدیث نمبر ٤٥٩٠)
{وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: 94] « کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (پ ۵النساء ۹٤) السلم اور السَّلَامُ ہم معنی ہیں۔ عطاء کا بیان ہے کہ آیت : ترجمہ کنز الایمان : اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (پ ۵ النساء ۹٤) کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ اسے کچھ مسلمان ملے، اس نے اُن سے السَّلامُ علیکم کہا لیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے لیں۔ پس اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ حکم نازل فرمایا۔ عَرَضَ الحَيَاةِ الدُّنْيَا سے وہ بکریاں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قرآت میں اس آیت کے اندر لفظ" السلام" ہے، (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: 94] «حدیث نمبر ٤٥٩١)
{لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (پ ۵ النساء ۹۵) حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مروان بن الحکم کو مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں جاکر ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے آیت: ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (پ۵ النساء ۹۵) لکھوائی جب آپ لکھوا رہے تھے تو میرے پاس حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہ آگئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر میں بینائی سے محروم نہ ہوتا تو ضرور جہاد کرتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل فرمائی اور اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک میری ران پر تھی۔ میری ران پر اتنا بوجھ پڑا کہ مجھے اپنی ران کے ٹوٹ جانے کا خدشہ ہونے لگا تھا۔ پھر بوجھ کم ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا تھا۔ کہ یہ حکم ان کے بارے میں ہے جنہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] {وَالمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95] حدیث نمبر ٤٥٩٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھے رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (پ ۵ النسا ۹۵) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا۔ پس انہوں نے یہ لکھ دی۔ پھر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنی تکلیف کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ جو تکلیف والے نہ ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] {وَالمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95] حدیث نمبر ٤٥٩٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (پ۵ النساء ۹۵) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں شخص کو بلاؤ۔ چنانچہ وہ دوات اور تختی یا شانے کی ہڈی لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔ پس آپ نے فرمایا کہ لکھو: ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (پ ۵ النساء ۹۵) اس وقت حضرت ابن ام مکتوم بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں تو معذور ہوں۔ تو اس جگہ یہ وحی نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (النساء ٩٥) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] {وَالمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95] حدیث نمبر ٤٥٩٤)
مقسم مولی عبداللہ بن حارث کا بیان ہے کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ اس آیت میں بناعذر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں سے وہ مراد ہیں جو غزوہ بدر میں شامل نہ ہوئے اور مجاہدین سے مراد وہ بزرگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] {وَالمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95]،حدیث نمبر ٤٥٩٥)
{إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ المَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ، قَالُوا: فِيمَ كُنْتُمْ؟ قَالُوا: كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ، قَالُوا: أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا} ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے اُن سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے (پ ۵ النساء ۹۷) کی تفسیر ، حضرت محمد بن عبد الرحمن ابو الاسود فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا اور اس میں میرا نام بھی لکھ لیا گیا، اس کے بعد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ سے ملا تو انہوں نے مجھے سختی کے ساتھ اس میں شامل ہونے سے منع فرمایا۔ پھر بتایا کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں میں کچھ وہ تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور مشرکوں کی تعداد کو بڑھاتے تھے جب وہ کوئی تیر آتا ہوا دیکھتے تو ان میں سے کسی کو آلگتا اور وہ مرجاتا یا تلوار کے ذریعے قتل کر دیا جاتا تھا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے (پ ۵ النساء ۹۷) لیث بن سعد نے بھی ابو الاسود سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ المَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ، قَالُوا: فِيمَ كُنْتُمْ؟ قَالُوا: كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ، قَالُوا: أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا} الآيَةَ حدیث نمبر ٤٥٩٦)
{إِلَّا المُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالوِلْدَانِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلاَ يَهْتَدُونَ سَبِيلًا} [النساء: 98] ترجمہ کنز الایمان : مگر وہ جو دبالئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں (پ ۵ النساء ۹۸) کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ (سورۃ النساء، آیت ۹۸ میں ) اللہ تعالیٰ نے جن ضعفاء کا ذکر فرمایا ہے تو میری والدہ ماجدہ کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے عُذر قبول فرمایا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِلَّا المُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالوِلْدَانِ لاَ،حدیث نمبر ٤٥٩٧)
{فَأُولَئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 99] ترجمہ کنز الایمان: تو قریب ہے اللہ ایسوں کو معاف فرمائے اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے(پ ۵ النساء ۹۹) کی تفسیر، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ رہے تھے جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ چکے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ نے یوں دعا کی: اے اللہ ! عیاش بن ابو ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ !ضعیف مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر والوں پر سختی فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما دے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَأُولَئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 99] حدیث نمبر ٤٥٩٨)
{وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ، أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ} [النساء: 102] ترجمہ کنز الایمان : اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو (پ ۵ النساء ۱۰۲) کی تفسیر، سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ آیت : ترجمہ کنز الایمان: اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہویا بیمار ہو ( پ ۵ النساء ۱۰۲) یہ اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ، أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ} [النساء: 102] حدیث نمبر ٤٥٩٩)
{وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ، قُلْ: اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ، وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ} [النساء: 127] ترجمہ کنز الایمان: اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے اُن یتیم لڑکیوں کے بارے میں (پ ۵ النساء ۱۲۷) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ارشاد ربانی: ترجمہ کنز الایمان: اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے ۔۔۔۔تا۔۔۔ انہیں نکاح میں بھی لانے سے منھ پھیرتے ہو ( پ ۵ النساء ۱۲۷) یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہو اور وہ اس کا ولی اور وارث ہو اور وہ لڑکی اس کے مال میں شریک ہوتی کہ کھجور کے درخت میں بھی حصہ دار ہو ۔ پس وہ اس سے نکاح نہ کرنا چاہے اور کسی دوسرے شخص سے بھی نکاح نہ کرنے دے کہ وہ بھی مال میں شریک ہو جائے گا اس لیے اسے دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روکے تو یہ آیت ایسے اشخاص کے متعلق نازل فرمائی گئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ، قُلْ: اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ، وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ} [النساء: 127] حدیث نمبر ٤٦٠٠)
{وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: 128] ترجمہ کنز الایمان : اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے (پ ۵ النساء ١٢٨) کی تفسیر ، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ شِقَاقٌ سے توڑ پھوڑ اور فساد مراد ہے أُحْضِرَتِ الأَنْفُسُ الشُّحَّ میں الشُّحَّ سے کسی چیز کی جانب خواہش ہونا مراد ہے كَالْمُعَلَّقَةِ جو نہ بیوہ ہو نہ شوہر والی نظر آئے۔ نُشُوزًا - عداوت، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آیت ترجمہ کنز الایمان: اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے (پ ۵ النساء ۱۲۸) یہ ایسے شخص کے متعلق ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ محبت سے نہیں رہتا اور اسے طلاق دے کر الگ کر دینا چاہتا ہے۔ عورت کہتی ہے کہ طلاق نہ دو اور میں اپنے حقوق معاف کر دیتی ہوں۔ یہ آیت اسی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: 128] حدیث نمبر ٤٦٠١)
(إِنَّ المُنَافِقِينَ فِي اَلدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کی تفسیر، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ دوزخ کے سب سے نیچے والے حصے میں ۔ نَفَقًا زمین دوز راستہ ۔ ابراہیم اسود سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان تشریف لے آئے، حتی کہ ہمارے پاس کھڑے ہوئے پھر سلام کر کے فرمایا کہ نفاق ان لوگوں کے قلوب میں بھی داخل ہو گیا جو آپ حضرات سے بہتر تھے۔ اسود نے حیران ہوکر کہا کہ اللہ تعالی تو فرماتا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں (پ ۵ النساء ۱٤٥) پس حضرت عبداللہ بن مسعود مسکرائے اور حضرت حذیفہ مسجد کے الگ گوشے میں جابیٹھے پھر حضرت عبد اللہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اُن کے ساتھی بھی ادھر ادھر چلے گئے حضرت حذیفہ نے میری طرف کنکری پھینکی تو میں اُن کی خدمت میں حاضر ہو گیا تو حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ میں ان کے ہنسنے سے حیران ہوا تھا کیونکہ انہوں نے میری بات کو سمجھ لیا تھا کہ نفاق ان لوگوں میں بھی داخل ہو گیا تھا جو آپ حضرات کی نسبت بہتر تھے لیکن انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالٰی نے اُن کی توبہ قبول فرمائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (إِنَّ المُنَافِقِينَ فِي اَلدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) حدیث نمبر ٤٦٠٢)
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ترجمہ کنز الایمان: بے شک اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی (پ۱، النساء ۱٦٣) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ میرے بارے میں یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ} [النساء: 163] إِلَى قَوْلِهِ: {وَيُونُسَ -[50]-، وَهَارُونَ، وَسُلَيْمَانَ} [النساء: 163] حدیث نمبر ٤٦٠٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے بارے میں یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر ہوں تو اس نے جھوٹ بولا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ} [النساء: 163] إِلَى قَوْلِهِ: {وَيُونُسَ -[50]-، وَهَارُونَ، وَسُلَيْمَانَ} [النساء: 163]حدیث نمبر ٤٦٠٤)
{يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ: اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: ائے محبوب تم سے فتوی پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتوٰی دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (النساء ١٧٦) ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ برات (سورة توبہ ) ہے اور آخر میں نازل ہو نے والی آیت ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم سے فتوی پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتوی دیتا ہے (پ ۲ النسا ء ۱۷٦) یہ آیت ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ: اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ،حدیث نمبر ٤٦٠٥)
سورة المائده, حُرُمٌ کا واحد حَرَامٌ ہے فَبِمَا نَقْضِهِمْ عہد توڑنے کے باعث كَتَبَ اللَّهُ اور جَعَلَ اللَّهُ ہم معنی ہیں تَبُوءُ تو اٹھائے دَائِرَةُ گردش زمانہ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے الإِغْرَاءُ لگا دینا ۔ اُجُورَهُنَّ ان کے مہر الْمُهَيْمِنُ مراد قرآن کریم ہے جو پہلی تمام کتابوں کے علوم کا امین ہے سفیان ثوری کا قول ہے کہ مجھ پر قرآن کریم کی سب سے سخت آیت یہ ہے : تم کسی بات پر نہیں جب تک توریت، انجیل اور جو تمہاری طرف نازل فرمایا گیا، ان سب پر عمل نہ کرو۔ مَخْمَصَةٍ بھوک مَنْ أَحْيَاهَا جس نے قتل کرنے کو حرام جانا ما سوائے حق کے، گویا سارے افراد اس کی وجہ سے زندہ رہے۔ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا راستہ اور طریقہ۔, ابن عباس کا قول ہے کہ مخمصے سے مراد بھوک ہے۔طارق بن شہاب کا بیان ہے کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ جو یہ آیت پڑھتے ہیں اگر یہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن عید منایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خوب علم ہے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی، کہاں نازل ہوئی اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفات میں نازل ہوئی اور خدا کی قسم وہ عرفہ کا روز تھا۔ سفیان ثوری کا بیان ہے کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا (پ ۹ المائدہ (٣) نازل ہوئی تو یہ شبہ ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا نہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} [المائدة: 3]حدیث نمبر ٤٦٠٦)
{فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [المائدہ ٦] " ترجمہ کنز الایمان:پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیم کرو (المائدہ ٦) تَيَمَّمُوا تم ارادہ کرو ۔ آمِّينَ قصد کرنے والے چنانچہ أَمَّمْتُ اور تَيَمَّمْتُ ہم معنی ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ لَمَسْتُمْ تَمَشُوهُنَّ وَاللَّاتِي دَخَلْتُم مِنَ الْأَفضَاءُ - ان چاروں سے جماع مراد ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتی ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے۔ جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر تھے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی تلاش کے سبب ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رہے۔ نہ وہ پانی کی جگہ تھی اور نہ لوگوں کے پاس پانی تھا۔ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آکر کہنے لگے کہ آپ دیکھتے نہیں یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کیا؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا جب کہ نہ یہ پانی کی جگہ ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھ کر سورہے تھے انہوں نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور لوگوں کو کوچ کرنے سے روک دیا۔ جب کہ نہ یہ پانی کی جگہ ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ نے چاہا وہی وہ فرماتے رہے اور انہوں نے میری کوکھ میں ضرب بھی لگایا لیکن میں نے ذرا حرکت نہ کی کیونکہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم میری ران پر سر مبارک رکھ کر آرام فرما تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صبح بیدار ہوئے جب کہ پانی تھا ہی نہیں۔ پس اللہ تعالی نے تیمم کی آیت نازل فرما دی۔ اس پر حضرت اسید بن حصیر نے کہا کہ آل ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں تھی تو ہار اس کے نیچے موجود تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43] " حدیث نمبر ٤٦٠٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ کی جانب واپس آرہے تھے تو بیداء کے مقام پر میرا ہارٹوٹ کر گر گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھا دی اور اس جگہ ٹھہر گئے پھر آپ میری گود میں سر مبارک رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بڑے زور سے مکا مارتے ہوئے فرمایا کہ تونے ہار کی وجہ سے لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آرام کی وجہ سے مردے کی طرح بے حس و حرکت رہی حالانکہ مجھے تکلیف بہت پہنچی تھی پھر جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو صبح ہو چکی تھی۔ آپ نے پانی طلب فرمایا لیکن پانی دستیاب نہ ہوا۔ پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو (المائدہ (٦) چنانچہ اس پر حضرت اسید بن حضیر نے کہا: اے دل ابو بکر ! یہ تمہاری ہی برکت ہے۔ ( بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43] "حدیث نمبر ٤٦٠٨)
فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ} کی تفسیر، طارق بن شہاب کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اس وقت موجود تھا جب حضرت مقداد نے ۔ غزوہ بدر کے وقت خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے وہ بات ہرگز نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ : ترجمہ کنز الایمان: آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹے ہیں ( المائدہ (۲٤) آپ تشریف لے چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس بات سے خوشی ہوئی۔ وکیج ، سفیان، مخارق نے اس حدیث کی طارق بن شہاب سے روایت کی ہے کہ حضرت مقداد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہی عرض کیا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ} حدیث نمبر ٤٦٠٩)
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا زمین سے دور کر دئیے جائیں ( المائده (۳۳) الْمَحَارِبَةُ لِلہ اللہ کیساتھ کفر کرنا۔ سلمان ابو رجا مولی ابو قلابہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوقلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگ اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور کہا کہ سابقہ خلفاء نے قسامت کا قصاص لیا ہے پس انہوں نے حضرت ابوقلابہ کی طرف دیکھا جو ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور کہا کہ اے عبد اللہ بن زید ! آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں یا اے ابو قلابہ! آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو کسی جان کے قتل کو اسلام میں حلال نہیں جانتا سوائے تین مواقع کے۔ (۱) اگر کوئی آدمی شادی شدہ ہو کر زنا کرے (۲) کسی جان کو بغیر جان کے قتل کرے (۳) اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرے اس پر حضرت عنبہ بن سعید کہنے لگے کہ مجھ سے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یوں حدیث بیان کی ہے میں نے کہا کہ یہ حدیث تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بھی بیان کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر باتیں کرنے لگے اور کہا کہ ہمیں اس جگہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارے کچھ اونٹ جنگل میں چرنے کے لیے جارہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ چلے جانا اور ان کا دودھ، پیشاب پیتے رہنا۔ پس وہ ساتھ چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیتے رہے جس کے سبب تندرست ہو گئے ایک دن وہ چرواہے پر ٹوٹ پڑے اور اسے قتل کر دیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ گئے کیا ایسے لوگوں کے قتل کر دینے میں کوئی تردد ہوسکتا ہے جنہوں نے ایک شخص کو قتل کیا اللہ اور اس کے رسول سے لڑے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی حضرت عنبسہ نے حیران سے سبحان اللہ کہا میں نے کہا کہ کیا آپ مجھے متہم کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بھی بیان کی تھی لیکن اے اہل شام ! تم ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک یہ تمہارے اندر موجود ہیں یا ایسے لوگ تمہارے اندر موجود رہیں گے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ -[52]- يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا، أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} [المائدة: 33] إِلَى قَوْلِهِ {أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ} [المائدة: 33] « حدیث نمبر ٤٦١٠)
{وَالجُرُوحَ قِصَاصٌ} [المائدة: 45] کی تفسیر، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع نے ایک انصاری عورت کے سامنے کے دو دانت توڑ ڈالے۔ اس کی قوم نے قصاص کا مطالبہ کیا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم فرمایا تو حضرت انس بن نضر نے کہا جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا تھے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! خدا کی قسم ربیع کے دانت نہیں توڑے جائیں گے اس پر رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے اس عرصہ میں اس انصاری عورت کے اقربا دیت لینے پر راضی ہو گئے پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دیتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالجُرُوحَ قِصَاصٌ} [المائدة: 45] حدیث نمبر ٤٦١١)
{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: 67] کی تفسیر، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا ہم نے اس میں سے کچھ چھپایا جو ان کی جانب نازل فرمایا گیا تھا تو اس نے جھوٹ بولا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم فرمایا تھا: ترجمہ کنز الایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے بے شک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا (المائدہ ٦٧) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: 67] حدیث نمبر ٤٦١٢)
بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٨٩] کی تفسیر، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (پ۷ المائدہ ۸۹) ایسے شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے جو قسمیں کھاتا ہو جیسے نہیں خدا کی قسم کیوں نہیں خدا کی قسم۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٨٩] حدیث نمبر ٤٦١٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا ہے کہ میرے والد محترم (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے قسم کھا کر اُس کے خلاف کبھی نہیں کیا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارے کی آیت نازل فرمادی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں دیکھتا کہ جس بات پر میں نے قسم کھائی ہے دوسرے پہلو میں اس کی نسبت بھلائی ہے تو میں نے اللہ کی اجازت کو قبول کیا اور وہی کام کیا جس میں بھلائی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: 225] حدیث نمبر ٤٦١٤)
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ} [المائدة: 87] کی تفسیر، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جہاد کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ تھیں ہم نے کہا کہ کیا ہم اپنے آپ کو خصی نہ کر لیں۔ آپ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا اور اس کے بعد ہمیں اجازت عطا فرمائی کہ کچھ عرصہ کے لیے کسی عورت سے نکاح کر لیا جائے آپ نے پھر اس آیت کی تلاوت کی: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں ( المائدہ ۸۷) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ} [المائدة: 87] حدیث نمبر ٤٦١٥)
ترجمہ کنز الایمان: شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام ( المائد ۹۰)۔ کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ الأزلام سے مراد فال لینا ہے جس کے ذریعے کاموں میں قسمت معلوم کی جاتی ہے، الْأَنْصَابُ اور نُصُبُ سے تھان مراد ہیں جن پر کافر قربانی دیتے تھے دوسرے صاحب کا قول کہ الزَّلَمُ سے بے پر کا تیر مراد ہے۔ اس کی جمع الأزلام ہے الِاسْتِقْسَامُ تیر کا پھینکنا۔ اگر منع کا تیر نکلتا تو اس کام سے باز رہتے اور اگر حکم کا نکلتا تو اسے کرتے اور یوں تیروں کے ذریعے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ۔قسمت اس سے بنا ہی اور اس کا مصدر القُسُوم ہے۔ اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بشر، عبد العزیز بن عمر بن عبد العزیز، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب شراب کی حرمت (آیت (۹۰) نازل ہوئی تو مدینہ منورہ میں ان دنوں پانچ قسم کی شراب پائی جاتی تھی لیکن انگور کی شراب نہیں ہوتی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّمَا الخَمْرُ وَالمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] حدیث نمبر ٤٦١٦)
عبد العزیز بن صہیب حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ ہمارے پاس کھجور کی شراب کے علاوہ اور کوئی شراب نہ تھی جس کو فَضِيخِ کہا جاتا تھا۔ میں کھڑا ہو کر حضرت ابوطلحہ اور فلاں فلاں حضرات کو شراب پلا رہا تھا کہ اسی اثناء میں ہمارے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا آپ لوگوں تک خبر نہیں پہنچی ؟ پینے والوں نے پوچھا کس چیز کی؟ اس شخص نے کہا کہ شراب حرام فرما دی گئی ہے وہ کہنے لگے کہ اے انس! یہ مٹکا بہادو۔ راوی کا بیان ہے کہ کسی نے اس کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا اور نہ یہ خبر ملنے کے بعد کسی نے پھر شراب پی۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّمَا الخَمْرُ وَالمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] حدیث نمبر ٤٦١٧)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ اُحد کی صبح کو بعض مسلمانوں نے شراب پی تھی اور وہ سب میدانِ جنگ میں قتل ہو کر جام شہادت نوش کر گئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّمَا الخَمْرُ وَالمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90]،حدیث نمبر ٤٦١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منبر پر دورانِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو! بے شک شراب کی حرمت نازل ہو چکی اور وہ اس وقت پانچ قسم کی ہوتی تھی، یعنی انگور، گندم، کھجور، شہد اور جو کی۔ شراب وہ ہے جو عقل کو زائل کرے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّمَا الخَمْرُ وَالمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] حدیث نمبر ٤٦١٩)
ترجمہ کنز الایمان : جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا ۔۔۔۔تا۔۔۔۔ اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (المائده ۹۳) ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ جو شراب پھینکی گئی وہ فضیخ تھی اور محمد نے ابو نعمان سے یہ بھی روایت کی ہے کہ اس دن حضرت ابوطلحہ کے در دولت پر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا تو شراب کی حرمت نازل ہوگئی پھر ایک ندا کرنے والے کو منادی کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ حضرت ابوطلحہ نے فرمایا کہ باہر نکل کر تو دیکھو کہ یہ کیسی آواز ہے؟ میں باہر گیا اور بتایا کہ منادی یوں ندا کر رہا ہے کہ شراب حرام فرما دی گئی ہے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے پھینک دو حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس دن شراب بہہ رہی تھی اور ان دنوں فَضِيخ نامی شراب زیادہ استعمال کی جاتی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ مسلمانوں کے جو لوگ قتل کیے گئے ہیں ان کے پیٹوں میں تو شراب تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان : جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا ( المائدہ (۹۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: 93] إِلَى قَوْلِهِ: {وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحْسِنِينَ} [آل عمران: 134] حدیث نمبر ٤٦٢٠)
{لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] کی تفسیر، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا کہ اس طرح کا خطبہ ہم نے پہلے بھی نہیں سنا تھا۔ فرمایا جو کچھ مجھے معلوم ہے اگر تمہیں معلوم ہوتا تو یقیناً تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اپنے چہروں کو چھپا لیا اور رونے کی آواز آنے لگی پھر ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ فلاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں (پ ۷ المائده (۱۰١) نفر اور روح بن عبادہ نے بھی اس کی شعبہ سے روایت کی ہے، (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] حدیث نمبر ٤٦٢١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بطور تمسخر سوال کیا کرتے تھے۔ ایک کہتا کہ میرا باپ کون ہے؟ دوسرا کہتا کہ میری اونٹنی کم ہو گئی ہے، بتائیے میری اونٹنی کہاں ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جوتم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں(المائدہ (۱۰۱) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] حدیث نمبر ٤٦٢٢)
ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی(المائدہ ۱۰۳) وَاِذْ قَالَ اللهُ میں لفظ قَالَ يَقُول کے معنی میں ہے اور اذ بطور صلہ ہے۔ الْمَائِدَةُ اصل میں مفعول ہے جیسے، كَعِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ اور تَطلِيْقَةٍ بائنة اور اس کا مطلب ہے کہ جو نفع یا بھلائی اس کے ذریعے کسی نے حاصل کی، جیسے کہتے ہیں مَادَنِي يَمِيدُنِي - ابن عباس کا قول ہے کہ مُتَوَفِّيكَ . مراد ہے تجھے وفات دونگا۔ ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت سعید بن مسیب نے بیان فرمایا کہ بحیرہ وہ دودھ دینے والی اونٹنی ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جائے اور کوئی اس کا دودھ نہ دو ہے۔ سائبہ وہ جانور جس کو کافر اپنے (باطل) خداؤں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی سامان نہیں لادتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دوزخ میں دیکھا وہ اپنی آنتوں کو گھسیٹ رہا تھا۔ یہی وہ پہلا آدمی ہے جس نے سائبہ چھوڑنے کی رسم سب سے پہلے شروع کی تھی۔ وصیلہ اُس بن بیاہی اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی مرتبہ اوٹنی جنتی اور دوسری دفعہ بھی، پس ایسے جانوروں کو کافر اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے جبکہ مسلسل دوبارہ بچے جنتی اور درمیان میں کوئی نہ نہ ہوتا۔ عام اس نر اونٹ کو کہتے جس کے بارے میں مالک ایک تعداد مقرر کر لیتا کہ اس سے اتنے بچے مطلوب ہیں، جب مطلوبہ تعداد حاصل ہو جاتی تو اسے اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا اور اس سے سامان ڈھانے کا کام نہ لیتے بلکہ اس پر کوئی بھی چیز نہیں لا دتے تھے اور اسے حامی کہتے ۔ ابوالیمان، شعیب، زہری ، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ ابن الہاد، ابن شہاب، سعید، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ} [المائدة: 103] حدیث نمبر ٤٦٢٣)
محمد بن ابی یعقوب ابو عبد اللہ کریانی ،حسان بن ابراہیم، یونس، زہری، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو کچل رہا تھا اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا ہے۔ یہی وہ آدمی ہے جس نے سائبہ چھوڑنے کی رسم رائج کی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ} [المائدة: 103]حدیث نمبر ٤٦٢٤)
ترجمہ کنز الایمان : اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے( المائدہ ۱۱۷) کی تفسیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! تم روز حشر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں حاضر کیے جاؤ گے کہ برہنہ پا، برہنہ جسم اور بغیر ختنہ کے ہو گے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان: جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا (الانبیاء (۱۰٤) پھر آپ نے فرمایا کہ ساری مخلوق میں سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ کہ پھر میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا، پھر فرشتے انہیں دوزخ کی طرف ہانکیں گے۔ میں کہوں گا، اے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ فرمایا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے بعد یہ کیسے گل کھلاتے رہے، پس میں بھی وہی کہوں گا جو اللہ کے ایک نیک بندے نے کہا: ترجمہ کنز الایمان: اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھایا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے (المائدہ ۱۱۷) پس کہا جائے گا کہ جیسے ہی تم ان سے جدا ہوئے یہ اس وقت مُرتد ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: 117] حدیث نمبر ٤٦٢٥)
ترجمہ کنز الایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا ( المائدہ ۱۱۷) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روز حشر اللہ کی بارگاہ میں جمع کر لیے جاؤ گے، اس وقت کچھ لوگوں کو دوزخ کی طرف ہانکا جارہا ہوگا تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے بندے نے کہا کہ: ترجمہ کنز الایمان: اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا۔۔۔۔ تا۔۔۔ غالب حکمت والا ( المائدہ ١١٧) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ} [المائدة: 118] حدیث نمبر ٤٦٢٦)
سورۃ الانعام حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ فِتْنَهُم سے مراد ان کا عذر بیان کرنا مَعْرُوشَاتٍ وہ بیلیں جو دوسری چیزوں کا سہارا لیتی ہیں۔حَمُولَةً جن پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ وَلَلَبَسُنَا اور ہم ضرور شبہ ڈال دیں گے۔ يَنَاوُنَ دور رہتے ہیں۔ تُبْسَلُ ذلیل و خوار کرنا ۔ابسِلُوا ذلیل کیے گئے ، ہلاک کیے گئے ۔ بَاسِطُوا أَیدِیهِمُ اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ تُبْسَلُ مراد مارنا ہے اسْتَكْثَرْتُم تم نے گمراہ کیا کتنے ہی انسانوں کو۔ذَرَأَ مِنَ الحَرْثِ انہوں نے اپنی کھیتی میں ایک حصہ خدا کا اور ایک حصہ شیطان اور اپنے بتوں کا رکھا۔ أَكِنَّةً پردہ اس کا مفرد كِنَانٌ ہے۔ أَمَّا اشْتَمَلَتْ یعنی کیا یہ نر اور مادہ کے سوا کسی اور جنس پر مشتمل ہیں؟ پھر تم بعض چیزوں کو حرام اور بعض کو حلال کیوں ٹھہراتے ہو؟ مَسْفُوحًا بہتا ہوا۔ صدف اُس سے منہ پھیرا۔ أُبْسِلُوا ہلاک کیے گئے۔ ذلیل کیے گئے ۔ سَرْمَدًا ہمیشہ رہنے والا۔ اسْتَهْوَتْهُ اس کو گمراہ کر دیا،اس کو پھینک دیا ۔ تَمْتَرُونَ تم شک کرتے ہو۔ وَقْرٌ ڈاٹ، ٹینٹ الوِقْرُ وہ بوجھ جو جانور پر لادا جاتا ہے۔ اساطیر فضول قصے کہانیاں۔ اس کا واحد اُستُورَةً اور اِسْطَارَةً ہے۔ الْبَاسَاءُ سے مراد تختی اور محتاجی ہے۔ یہ الْبُو میں سے نکلا ہے۔ جَهْرَةً علانیہ، کھلم کھلا ۔ الصُّورُیہ صُورَۃ کی جمع ہے جیسے صَورَةٌ کی جمع سُورٌ ہے۔ مَلَكُوتُ بادشاہی جیسے رَهْبُوت رجموت سے بہتر ہے اور تُرهَبْ تُرحم سے بہتر ہے۔ جن اندھیرا چھایا۔ کہتے ہیں کہ اللہ کے سپرد اس کا حسبان یعنی حساب۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ حُسْبَانُ سے شیطان پر پھینکنے والے تیر اور کنکریاں مراد ہیں۔ مُسْتَقَرٌّ والد کی پیٹھ میں۔ مَسْتَودَع والدہ کے رحم میں۔ الْقِنُوُ کچھا، خوشہ۔ قنوان اس کی جمع ہے۔ قنوان اسی طرح ہے جیسے صِنُو کی جمع صِنْوَانٌ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ترجمہ کنز الایمان : بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کسی زمین میں مرے گی بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (لقمان ۳٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ} [الأنعام: 59] حدیث نمبر ٤٦٢٧)
ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے (الانعام (٦٥) کی تفسیر، يلْبِسَكُمْ تمہیں ملا دے، خلط ملط کردے۔ يَلْبِسُوا ملادے۔ یہ دونوں التباس سے نکلے۔ شِيَعًا فرقے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے (الانعام ٦٥) نازل ہوئی تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ ! میں تیری ذات کی پناہ پکڑتا ہوں۔ جب فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: یا تمہارے پاؤں کے تلے سے (الانعام ٦٥) تو دعا فرمائی کہ میں تیری ذات کی پناہ پکڑتا ہوں، اور یہ حصہ نازل ہوا: ترجمہ کنز الایمان: یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے ( الانعام ٦٥) اس پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب ہلکا ہے، یہ سہل ہے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {قُلْ: هُوَ القَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٦٢٨)
{وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} [الأنعام: 82] کی تفسیر، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی(الانعام ۸۲) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کہنے لگے کہ ہم میں سے ایسا کون ہے جو کوئی ناحق بات یا ظلم کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان : بیشک شرک بڑا ظلم ہے ( لقمان ۱۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} [الأنعام: 82] حدیث نمبر ٤٦٢٩)
ابو العالیہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ کسی کو نہیں پہنچتا کہ میرے بارے میں یہ کہے کہ میں "نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم) حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيُونُسَ، وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى العَالَمِينَ} [الأنعام: 86] حدیث نمبر ٤٦٣٠)
حمید بن عبد الرحمن بن عوف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے کسی بندے کو نہیں چاہیے کہ میرے بارے میں یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر یعنی افضل ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيُونُسَ، وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى العَالَمِينَ} [الأنعام: 86] حدیث نمبر ٤٦٣١)
ترجمہ کنز الایمان: یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (الانعام ۹۰) کی تفسیر، سلیمان احول کا بیان ہے کہ مجاہد نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے معلوم کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ پھر انہوں نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: ترجمہ کنز الایمان : اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کئے ۔۔۔۔تا۔۔ تو تم انہیں کی راہ چلو (الانعام ٨٤ تا ٩٠) اس کے بعد فرمایا کہ حضور بھی اسی گروہ میں سے ہیں۔ یزید بن ہارون، محمد بن عبید، سہل بن یوسف، عوام، مجاہد کا بیان ہے کہ جب میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان انبیائے کرام کے طریقے کی پیروی کا حکم فرمایا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: 90] حدیث نمبر ٤٦٣٢)
ترجمہ کنز الایمان: اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی (الانعام ۱٤٦) ابن عباس کا قول ہے کہ ذِي ظُفُرٍ سے اونٹ اور شتر مرغ مراد ہیں۔ الحَوَايَا سے وہ آنتیں مراد ہیں جن میں فضلہ رہتا ہے۔ اُن سے دوسرے کا قول ہے کہ هَادُوا سے یہودی ہونا مراد ہے اور وہ جو کہتے تھے کہ مدعا اس سے مراد ہے کہ ہم نے توبہ کی۔ هَائِدٌ توبہ کرنے والے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام فرمائی تو وہ اسے پگھلا کر اس کی تجارت کرتے اور کھاتے رہتے۔ نیز اس کی ابو عاصم، عبدالحمید، یزید، عطاء بن ابی ریاح، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ، وَمِنَ البَقَرِ وَالغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا} [الأنعام: 146] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٦٣٣)
{وَلاَ تَقْرَبُوا الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ} [الأنعام: 151] کی تفسیر، ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں اسی لیے اس نے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام فرما دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد وثنا سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہے اسی لیے اس نے اپنی مدح خود فرمائی ہے۔ میں نے حضرت ابو وائل سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ حدیث خود سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، میں نے پوچھا، کیا یہ حدیث مرفوع ہے؟ جواب دیا، ہاں! وکیل یہاں حفیظ اور مُحيط کے معنی میں ہے قبلاً سے ہر قسم کا عذاب مراد ہے اس کا واحد قبیل ہے۔ زُخْرُفَ ہر وہ چیز جو دیکھنے میں خوبصورت نظر آئے لیکن باطل ہو۔ حرث حجر ہر وہ چیز جو حرام یا ممنوع ہو۔ ہر تعمیر شدہ عمارت۔ گھوڑی۔ عقل کو بھی حجر کہتے ہیں۔ آگے جو قوم ثمود کی بستی کا نام بھی ہے جس زمین میں داخلہ ممنوع ہو وہ بھی حجر ہے۔ بیت اللہ کے حطیم کو بھی مجھ کہا جاتا ہے گویا وہ محطوم سے مشتق ہے جیسے قتیل مَقْتُول سے، اور حجرُ اليمامة ایک مکان کا نام ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلاَ تَقْرَبُوا الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ} [الأنعام: 151] حدیث نمبر ٤٦٣٤)
{هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ} [الأنعام: 150] " کی تفسیر، هَلُمَّ اہل حجاز کی زبان واحد تثنیہ اور جمع سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ {لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا} کی تفسیر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت جب تک قائم نہ ہوگی جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہو۔ جب لوگ اسے مغرب سے طلوع ہوتا ہوا دیکھ کر تمام ایمان لائیں تو اس وقت کا ایمان لانا کوئی فائدہ مند نہ ہوگا، ترجمہ کنز الایمان: کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی (الانعام ۱۵۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ} [الأنعام: 150] " حدیث نمبر ٤٦٣٥)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت جب تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہو جائے، جب سورج ادھر سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر سارے لوگ ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ کنز الایمان : کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا تمہارے رب کا عذاب یا تمہارے رب کی ایک نشانی آئے جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی تم فرماؤ رستہ دیکھو ہم بھی دیکھتے ہیں( الانعام ۱۵۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا} [الأنعام: 158]حدیث نمبر ٤٦٣٦)
سورۃ الاعراف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ رِيَاشًا سے مال مراد ہے۔ الْمُعْتَدِينَ دعا اور دوسرے کاموں میں حد سے بڑھنے والے۔ عَفَوْا ان کے مال کی کثرت ہو جانا۔ الفَتَّاحُ فیصلہ کرنے والا۔ افْتَحْ بَيْنَنَا ہمارے درمیان فیصلہ کر ۔ نَتَقْنَا ہم نے اٹھایا، بلند کیا۔ انْبَجَسَتْ آہستہ آہستہ پھوٹ نکلنا۔ مُتَبَّرٌ نقصان، آسَى افسوس کروں۔ تَأْسَ تو نے غم کھایا، افسوس کیا۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا؟ يَخْصِفَانِ پتوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ۔ سَوْآتِهِمَا یہ دونوں بزرگوں کی شرمگاہوں سے کنایہ ہے۔ مَتَاعٌ إِلَى حِينٍ یہاں قیامت تک مراد ہے۔ الرِّيَاشُ ہم معنی ہیں یعنی ظاہری لباس قبیلہ اس کے ساتھی شیطان جن میں سے وہ خود ہے۔ ادَّارَكُوا سب جمع ہو جا ئیں گے۔ انسان اور جانور سب کے مساموں کو سموما کہتے ہیں اور اس کا واحد سَمٌّ ہے یعنی آن نتھنے، منہ کانوں اور پیچھے آگے کی شرمگاہوں کا اِن میں ہی شمار ہے۔ غَوَاشٍ غلاف۔ نُشرا بکھرے ہوئے۔ نَكِدًا تھوڑے۔ يَغْنَوْا زندگی گزاری۔ حَقِيقٌ حق ہونا ۔ اسْتَرْهَبُوهُمْ ڈر کی وجہ ہے۔ تَلَقَّفُ لقمہ بنالے گا۔ طَائِرُهُمْ ان کا حصہ، اُن کا نصیب - طوفان سیلاب، اموات کی زیادتی کو بھی کہتے ہیں۔ القُملُ چیچڑیاں، چھوٹے کپڑے۔ عُرُوش اور عریش عمارت سُقِطَ جب کوئی نادم ہو تو کہتے ہیں فَقَدْ سَقَطَ فِي يَدِهِ الْأَسْبَاطَ بَنى اسرائیل کے قبلے يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ حد سے تجاوز کرتے تھے۔ شرعا پانی کے اوپر تیرتے ہوئے۔ بَئِيسٍ سخت أَخْلَدَ بیٹھا، پیچھے ہٹ گیا سَتَسْتَدْرِجُهُمْ ۔ ہم ان کو ایسی جگہ سے لائیں گے جو جائے امن ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے فَأَتَاهُمُ اللهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا جِنَّةٌ جنوں سے ہے۔ قمرت ہے۔ اس نے اپنے حمل کی مدت پوری کی۔ يَنْزَغَنَّكَ تجھے بہکاے ۔ طَيْفٌ اور طائف شیطانی وسوسہ۔ يَمُدُّونَهُمْ ۔ وہ خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں ۔ خِيْفَةٌ اور خُفْيَةً دونوں الْإِخْفَاءَ سے ہیں بمعنی خوف الاصال کا واحد اصیل ہے جو عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔ بُكْرَةً وَأَصِيلًا - قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں (پ ۸ الاعراف ۳۳) عمرو بن مرہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابووائل سے پوچھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، اور اسے مرفوع بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں، اسی لیے تو اس نے ظاہر اور پوشیدہ ہر قسم کی بے حیائی کو حرام فرما دیا اور اللہ تعالیٰ کو اپنی مدح سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں اسی لیے تو اپنی مدح خود فرمائی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ} [الأعراف: 33] حدیث نمبر ٤٦٣٧)
ترجمہ کنز الایمان : اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کر دیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (الاعراف (۱٤٣) ابن عباس کا قول ہے کہ آرنی سے مراد ہے مجھے اپنا عنایت عطا فرما۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس کے منہ پر تھپڑ مارا گیا تھا وہ کہنے لگا اے محمد ! مجھے آپ کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے فرمایا، اسے بلا لاؤ۔ پس وہ اسے بلایا۔ آپ نے فرمایا تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟ اس انصاری نے عرض کی یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہودی کے پاس سے گزر رہا تھا تو میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ کو تمام انسانوں میں سے چن لیا ہے۔“ میں نے دل میں کہا کہ یہ تو محمد مصطفےٰ پر بھی فضیلت دے رہا ہے، لہٰذا مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کو تھپڑ رسید کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے انبیائے کرام میں سے کسی پر فضیلت نہ دو۔ کیونکہ بروز قیامت جب تمام انسان بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا لیکن دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ عرش الٰہی کا پایہ پکڑ کر کھڑے ہونگے ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا طور کی بیہوشی کے بدلے میں بے ہوش ہی نہیں ہوئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ، قَالَ: رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ، قَالَ: لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي، فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ المُؤْمِنِينَ} [الأعراف: 143]حدیث نمبر ٤٦٣٨)
الْمَن والسلوى کی تفسیر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھنبی المَنِّ کی قسم سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،{المَنَّ وَالسَّلْوَى} [البقرة: 57]حدیث نمبر ٤٦٣٩)
إِنِّي رَسُولُ اللهِ الَيْكُمْ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور انکی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ (الاعراف ١٥٨) ابو ادرءس خولانی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے درمیان شکر رنجی۔حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو خفا کر دیا۔ حضرت عمر غصے میں اُن کے پاس سے چلے گئے ، لیکن حضرت ابوبکر بھی اُن کے پیچھے جا پہنچے اور معافی چاہی۔ انہوں نے معاف نہ کیا بلکہ ان کو دیکھتے ہوئے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا۔ پس حضرت ابوبکر وہاں سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے ۔ حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ ہم بھی خدمت میں حاضر تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہ دوست تو کسی سے جھگڑ کر آئے ہیں راوی کا بیان ہے کہ بعد میں حضرت عمر اپنے اس فعل پر نادم ہوئے اور وہ بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور تمام واقعہ عرض کر دیا۔ حضرت ابو درداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جلال آ گیا اور حضرت ابوبکر یہی عرض کر رہے تھے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! زیادتی مجھ سے ہوئی ہے اس پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرے ایسے ساتھی کو چھوڑ دو گے؟ کیا تم میرے ایسے ساتھی کو چھوڑ دو گے؟ بے شک میں نے کہا تھا کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، تم سب نے کہا تھا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچ فرماتے ہیں۔ امام بخاری (رحمتہ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں کہ غامر سے نیکی میں سبقت لے جانا مراد ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُلْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، لاَ إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، النَّبِيِّ الأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ، وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} حدیث نمبر ٤٦٤٠)
وَقُولُوا حِظَلة كي تفسیر ، ہمام بن منبہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے (االبقرۃ ۵۸) تو انہوں نے حکم بدل دیا اور اپنے سرین پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہتے ہوئے داخل ہوئے کہ بالی میں دانے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقُولُوا حِطَّةٌ} [البقرة: 58] حدیث نمبر ٤٦٤١)
ترجمہ کنز الایمان: اور جاہلوں ۔ منہ پھیر لو (الاعراف ۱۹۹) کی تفسیر العُرْفُ سے مراد ہے اچھا کام ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جب عیینہ بن حصن بن حذیفہ آئے تو اپنے بھتیجے کو حر بن قیس کے پاس آکر قیام کیا اور یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقربین میں تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس مشاورت میں قاری حضرات ہی ہوتے ہیں خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ حضرت عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ تمہاری تو امیر المومنین تک پہنچ ہے چنانچہ میرے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ جلد میں آپ کے لیے اجازت حاصل کرلوں گا۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جب حر نے حضرت عیینہ کے لیے اجازت مانگی تو حضرت عمر نے اجازت دیدی، جب یہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کہنے لگے کہ اے ابن خطاب ! خدا کی قسم، نہ تو آپ ہم پر مال لگاتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان عدل و انصاف فرماتے ہیں اس پر حضرت عمر ناراض ہوئے اور نہیں پیٹنے کا۔ قصد تک کیا، لیکن حضرت حر نے کہا۔ اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو (پ ۹ الاعراف (۱۹۹) راوی کا بیان ہے کہ خدا کی قسم، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس حکم سے نہ بڑھے اور انہوں نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو اللہ کی کتاب اللہ کے سامنے کھڑے رہ گئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {خُذِ العَفْوَ وَأْمُرْ بِالعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الجَاهِلِينَ} [الأعراف: 199] " حدیث نمبر ٤٦٤٢)
حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو ( الاعراف (۱۹۹) یہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی تہذیب اخلاق کے لیے نازل فرمائی ہے۔ دوسری سند کے ساتھ حضرت عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو (الاعراف ۱۹۹) یہ لوگوں کو حسنِ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ (او کما قال)۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {خُذِ العَفْوَ وَأْمُرْ بِالعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الجَاهِلِينَ} [الأعراف: 199] "حدیث نمبر ٤٦٤٣،و حدیث نمبر ٤٦٤٤)
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفال, كى تفسير، ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس میں میل رکھو (الانفال ۱) ابن عباس کا قول ہے کہ الانفال سے غنیمتیں مراد ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ رِيحُكُمْ لڑائی کہاگیا ہے کہ نَافِلَةٌ سے عطیہ اور تحفہ مراد ہے۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ سورت بدر کے مقام پر نازل ہوئی تھی۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ الشَّوْكَةُ سے دھار مراد ہے۔ مُردِفِينَ فوج در فوج - رَدَّفَنِي میرے بعد آیا ۔ ذُوقُو عذاب چکھو، تجربہ کر کے دیکھو۔ یہ منہ سے چکھنے کے بارے میں نہیں ہے۔ فَيَرْكُمَهُ اس کو جمع کرے۔ شَرِّدْ علیحدہ کر ۔ جَنَحُوا طلب کیا ۔ يُثْخِنَ غالب ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ مُکا کہتے ہیں انگلیاں منہ میں داخل کر کے سیٹی کی آواز نکالنے کو لِيُثْبِتُوكَ تا کہ مجھے قید کرلیں۔ تاکہ تجھے محبوس کرلیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ، قُلْ: الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: 1] حدیث نمبر ٤٦٤٥)
{إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان: بے شک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (الانفال ۲۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آیت: ترجمہ کنز الایمان : بے شک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں ( الانفال ۲۲) بنی عبدالدار کے کچھ غلط کار لوگوں کے بارے میں ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ البُكْمُ الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ} [الأنفال: 22] حدیث نمبر ٤٦٤٦)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے ( الانفال ٢٤) اسْتَجِيبُوا حاضر ہو جاؤ۔ لِمَا يُحْيِيكُمْ جو تمہاری اصلاح کرے۔ حفص بن عاصم کا بیان ہے کہ حضرت سعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔ آپ نے مجھے بلایا مگر میں آپ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوا۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: تمہیں میرے پاس آنے سے کیا چیز مانع ہوئی جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں (الانفال ٢٤)پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتادوں، اس سے پہلے کہ میں باہر نکلوں۔ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جانے کے لیے باہر تشریف لے جانے گے تو میں نے مذکوره ارشاد یاد کروایا۔ معاذ ، شعبہ، خبیب ، حفص بن عاصم نے حضرت ابوسعید بن معلی سے یہی سنا، جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص تھے حضور نے اُن سے فرمایا کہ وہ سورۃ الفاتحہ ہے جس کو سبع مثانی بھی کہتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ المَرْءِ وَقَلْبِهِ، وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ} [الأنفال: 24] " حدیث نمبر ٤٦٤٧)
ترجمہ کنز الایمان: اور جب بولے کہ اے اللہ اگر یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا ( الانفال ۳۲) ابن عیینہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں قرآن کریم میں جس کو بارش کا نام دیا وہ عذاب ہے اور اہل عرب بارش کو الغَيْثَ کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنز الایمان: اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے ناامید ہونے پر (الشوری ۲۸) عبدالحمید بن گردید صاحب الزیادی سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: ”اے اللہ !اگر یہ قرآن تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا کوئی دوسرا درد ناک عذاب ہم پر نازل فرما۔ اس پر یہ وحی نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں ( الانفال ٣٣ تا ٣٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَإِذْ قَالُوا: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [الأنفال: 32] حدیث نمبر ٤٦٤٨)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (پ ۱۹الانفال ۳۳) عبد الحمید صاحب الزیادی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو جہل نے کہا: اے اللہ ! اگر یہ تیرے نزدیک حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا ہم پر اور کوئی درد ناک عذاب نازل فرما۔ اس پر یہ وحی نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں(الانفال ۳۳- ۳٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} [الأنفال: 33] حدیث نمبر ٤٦٤٩)
{وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: 39] کی تفسیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک شخص آیا۔ پھر کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمن ! کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں (الحجرات ۹) پس آپ کو کون سی چیز ان کے ساتھ لڑنے سے مانع ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ انہوں نے جوابا فرمایا کہ اے بھتیجے! مجھے اس آیت میں تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑنا زیادہ محبوب ہے بنسبت اس کے کہ میں اللہ تعالٰی کے اس صاف حکم والی آیت میں تاویل کروں کہ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب (الأنفال ٣٣ تا ٣٤) وہ آدمی کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان : اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے (پ ٢ البقرة ۱۹۳) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ کام تو ہم مسلمان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کر چکے ہیں کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کم تھی لہٰذا کافر ان کے دین میں فتنہ ڈالتے کہ کسی کو قتل کر دیتے اور کسی کو قید کرتے تھے حتی کہ مسلمان اکثریت میں آگئے لہٰذا فتنہ مٹ گیا۔ جب اس آدمی نے دیکھا کہ یہ اس کی موافقت نہیں فرما رہے جیسا کہ وہ چاہتا ہے تو اس نے کہا: علی اور عثمان کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ میں حضرت علی اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہما) کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں جب کہ حضرت عثمان کی خطا اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی لیکن تمہیں وہ معافی نا پسند ہے۔ رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ تو وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نسبا چازاد بھائی اور داماد ہیں اور ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ ہے ان کا گھر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: 39] حدیث نمبر ٤٦٥٠)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ یہ جو قتال اور فتنہ برپا ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ فتنہ کس کو کہتے ہیں؟ سنو ! محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مشرکین سے قتال کیا کیونکہ کفار کے قریب جانا فتنہ کا شکار ہونا تھا۔ لہٰذا وہ قتال تخت وسلطنت کے لیے نہ تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: 39] حدیث نمبر ٤٦٥١)
حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دوسو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لئے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے (الانفال ٦٥) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ترجمہ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دوسو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لئے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے (الانفال ٦٥) نازل ہوئی تو مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے۔ سفیان بن عیینہ نے کئی مرتبہ یہ بھی کہا میں مسلمان دوسو کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگیں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان : اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی (الانفال ٦٦) پس یہ لازم کر دیا گیا کہ سو مسلمان دوسو کافروں کے مقابلے سے نہ بھا گئیں۔ ایک مرتبہ سفیان نے یہ بھی بیان کیا کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان: مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دوسو پر غالب ہوں گے (الانفال ٦٦) سفیان کہتے ہیں کہ ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہی اصول یا حکم کارفرما ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ المُؤْمِنِينَ عَلَى القِتَالِ، إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ، وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَ يَفْقَهُونَ} حدیث نمبر ٤٦٥٢)
(الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان : اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم ہے کہ تم کمزور ہو۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے (انفال ٦٦) یحیی بن عبد الله سلمی ، عبداللہ بن مبارک، جریر بن حازم، زبیر بن خِرِّيت، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے (پ ۱۰ الانفال (٦٦) تو مسلمانوں کو اس میں دشواری محسوس ہوئی جبکہ یہ فرض ہو گیا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے۔ اس کے بعد کمی کر دی آگئی اور فرمایا گیا: ترجمہ کنز الایمان : اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم ہے کہ تم کمزور ہو تو اگر تم میں سوصبر والے ہوں دوسو پر غالب آئیں گے (پ ۱۰ الانفال ٦٦) راوی کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کمی فرما دی تو جس قدر کمی فرمائی گئی اسی حساب سے مسلمانوں کے صبر و استقلال میں کمی واقع ہو گئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضُعْفًا) الآيَةَ حدیث نمبر ٤٦٥٣)
سورة التوبه وَلِيجَةً وہ چیز جو دوسرے کے اندر داخل کی جائے ۔ الشقَّةُ سفر - الْخَبَالُ موت ۔ وَلَا تَفْتِنِي مجھے مت چھڑ کو ۔ كَرْهًا اور كُرْهًا ہم معنی ہیں۔ مُدَّخَلًا داخل ہونے کی جگہ۔ يَجْمَعُونَ دوڑتے جائیں، وَالمُؤْتَفِكَاتِ وہ ہستیاں جو الٹ دی گئیں۔ أَهْوَى اسے گڑھے میں دھکیل دیا گیا۔ عَدْنٍ ہمیشہ رہنے کی جگہ۔ اہل عرب بولتے ہیں عَدَنْتُ بِأَرْضٍ میں اس زمین میں رہ گیا۔ مَعْدِنٌ اس سے نکلا ہے۔ اور مَعْدِنِ صِدْقٍ سے مراد سچائی کے اگنے یعنی پیدا ہونے کی جگہ ہے۔ الخَوَالِفُ یہ التخالف کی جمع ہے یعنی وہ جو مجھے چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے۔ يَخْلُفُهُ فِي الغَابِرِينَ اسی سے ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مؤنث کے لیے ہو، یوں اس کا واحد الخَالِفَةِ ہوگا اور اگر یہ مذکر کی جمع ہے تو جمع کی صورت میں یہاں دو حرف پائے جانے چاہئیں جیسے فَارِس سے فَوَارِش اور هَالِك سے هَوَلكُ الْخَيْراتُ اس کا واحد خَيْرَةٌ ہے یعنے بھلائی ۔ مُرْجَوْنَ مؤخر کیے گئے۔ الشَّفَا کنارا - الجُرُفُ نالیاں جو ندی نالوں کے بہاؤ سے بن جاتی ہیں۔ هَارٍ گرنے والی۔ جیسے کہا جاتا ہے تَهَوَّرَتِ البِئْرُ کنواں گر گیا اور اسی طرح نہرین۔ لَأَوَّاهٌ خدا سے ڈرنے والا ، آہ وزاری کرنے والا: جیسا کے شعر ہے: إِذَا قُمْتُ أَرْحَلُهَا بِلَيْلٍ تَأَوَّهُ آهَةَ الرَّجُلِ الحزين, ترجمہ کنز الایمان: بیزاری کا حکم سناتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے ( پ ۱۰ التوبۃ ۱) ابن عباس کا قول ہے کہ أُذُنٌ اس کو کہتے ہیں جو ہر ایک کی بات سن کر یقین کرے۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ دونوں ہم معنی ہیں اور ایسے ہم معنی الفاظ بہت سے ہیں جیسے الزكاةُ اور الطاعَةُ اور الْإِخْلَاصُ - لا. يُؤْتُونَ الزَّكوة یعنی وہ خدائے واحد کی گواہی نہیں دیتے - يُضَاهِون اُسی طرح کی بات کہتے ہیں۔ ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت یہ ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم سے فتوی پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہر چیز جانتا ہے (پ النساء (۱٧٦) اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ، سورۃ التوبہ ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ المُشْرِكِينَ} [التوبة: 1] حدیث نمبر ٤٦٥٤)
ترجمہ کنز الایمان : تو چار مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے (پ ۱۰ التوبة ٢ )) سِيحُوا سیر کرو، چلو پھرو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق نے اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا کہ یوم النحر کو منیٰ میں یہ اعلان کیا جائے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی آدمی برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ حمید بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب کو روانہ فرمایا کہ کافروں سے بیزاری کا اعلان کر دینا۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ہمارے ساتھ یوم النحر کو منٰی میں بیزاری کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی آدمی برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَسِيحُوا فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الكَافِرِينَ} [التوبة: 2] حدیث نمبر ٤٦٥٥)
ترجمہ کنز الایمان: اور منادی پکار دینا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو تو تمہارا بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو تو جان لو کہ تم اللہ کو نہ تھکا سکو گے اور کافروں کو خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی (پ ۱۰ التوبہ ۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے مجھے منادی کرنے والوں کے ساتھ بھیجا کہ یوم النحر کومنیٰ میں یہ اعلان کیا جائے کہ اس سال کے بعد مشرک حج نہ کرے اور کوئی آدمی برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ حمید بن عبد الرحمن بن عوف کا بیان ہے کہ ان کے پیچھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ مشرکوں سے بیزاری کا اعلان کر دیں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ منیٰ میں یوم النحر کو بیزاری کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر بے اور کوئی آدمی برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الحَجِّ الأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ المُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [التوبة: 3] " حدیث نمبر ٤٦٥٦)
حمید بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب حجۃ الوداع سے قبل حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے امیر بنایا تو انہوں نے مجھے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے روانہ فرمایا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی آدمی برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ حمید بن عبد الرحمن کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم النحر سے مراد حج اکبر کا دن ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ المُشْرِكِينَ} [التوبة: 4] حدیث نمبر ٤٦٥٧)
زید بن وہب کا بیان ہے کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کے مخاطبین سے صرف تین اور منافقوں میں سے چار باقی رہ گئے ہیں۔ اس پر ایک اعرابی کہنے لگا کہ آپ حضرات تو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، لہٰذا آپ کو معلوم ہوگا ، ذرا ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیے جو ہمارے گھروں میں نقب لگا کر عمدہ چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ وہ نافرمان لوگ ہیں لیکن منافقین میں سے صرف چار ہی زندہ رہ گئے ہیں اور ایک تو ان میں سے اتنا بوڑھا ہو گیا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی پئے تو اس کی ٹھنڈک محسوس نہیں کر سکتا (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ} [التوبة: 12] حدیث نمبر ٤٦٥٨)
ترجمہ کنز الایمان : اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی (پ ۱۰ التوبه ۳٤) عبد الرحمن اعرج، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس کے پاس جمع کیا ہوا مال ہوگا وہ بروز قیامت گنجا سانپ بن جائے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [التوبة: 34] حدیث نمبر ٤٦٥٩)
زید بن وہب کا بیان ہے کہ زبدہ کے مقام پر میں حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ ایسی کس چیز نے آپ کو اس جگہ لا کر ٹھہرایا؟ فرمایا کہ ہم ملک شام میں تھے تو میں نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی( پ ۱۰ التوبة (۳٤) اس پر حضرت معاویہ کہنے لگے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نہیں بلکہ یہ تو اہل کتاب کے متعلق ہے۔ حضرت ابوذر نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ یہ ہم سب کے بارے میں ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [التوبة: 34] حدیث نمبر ٤٦٦٠)
ترجمہ کنز الایمان : جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا (پ ۱۰ التوبہ ۳۵) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ بات زکوۃ فرض ہونے سے پہلے کی ہے۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہو گیا تو باقی مال کو اللہ تعالیٰ نے پاک قرار دے دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ، هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ} [التوبة: 35] حدیث نمبر ٤٦٦١)
ترجمہ کنز الایمان: بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان وزمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں ( پ ۱۰ التوبہ ۳٦) القَيِّمُ سے مراد ہے سیدھا۔ حضرت ابن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا گیا، زمانہ پھیرا کرتے ہوئے پھر اپنی اسی حالت پر ہے، یعنی سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، تین تو لگا تار ہیں یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ۔ چوتھا رجب ہے جو مضر قبیلے کا کہلاتا ہے اور یہ جمادی الآخری و شعبان کے درمیان ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ، يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ حدیث نمبر ٤٦٦٢)
ترجمہ کنز الایمان: دو میں سے دوسرا جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے ساتھی سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔(التوبہ ٤٠) السَّكِينَةُ یہ فَعِيلَةٌ کے وزن پرسکون سے بنا ہے۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے مشرکوں کے پاؤں دیکھے تو عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں اٹھائے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ حضور نے فرمایا: اُن دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اللہ تعالیٰ جن کا تیسرا ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] « حدیث نمبر ٤٦٦٣)
ابن ابی ملیکہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ جب ان کے اور عبداللہ بن زبیر کے مابین کلام ہوا تو میں نے کہا کہ ان کے والد محترم حضرت زبیر، ان کی والدہ محترمہ حضرت اسماء، ان کی خالہ حضرت عائشہ صدقہ رضی اللہ عنہا، ان کے نانا جان حضرت ابوبکر صدیق اور ان کی دادی حضرت صیفہ ہیں، میں نے سفیان سے کہا کہ اس کی سند تو بیان کرو۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث بیان کی، پھر ایک شخص نے انہیں باتوں میں لگا لیا اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ابن جریج نے بیان کی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] « حدیث نمبر ٤٦٦٤)
ابن جریج ابن ابی ملیکہ سے راوی ہیں کہ جب دونوں حضرات میں اختلاف رائے ہوا تو میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی۔ کیا آپ عبداللہ بن زبیر سے جنت اور کی حرمت کو حلال کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خدا کی پناہ۔ یہ جرات تو اللہ تعالیٰ نے عبد اللہ بن زبیر اور بنی امیہ ہی کو دی ہے کہ وہ اسے حلال ٹھہرا لیں اور خدا کی قسم میں تو اسے بھی حلال نہیں ٹھہراؤں گا۔ ان کا بیان ہے کہ لوگوں نے محبت سے کہا کہ آپ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلیں، میں نے انہیں جواب دیا کہ یہ امر ان سے دور نہیں کیونکہ ان کے والد محترم تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حواری ہیں، یعنی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ۔ ان کے نانا حضور کے یار غار ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی والدہ کا لقب ذات النطاقین ہے یعنی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا۔ ان کی خالہ ام المومنین ہیں یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی ان کی دادی ہیں یعنی حضرت صفیہ پھر وہ خود پاک باز مسلمان اور قرآن کریم کے قاری ہیں، خدا کی قسم اگر وہ ہم سے اچھا سلوک کریں اور انہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے قرابت دار ہیں۔ لہذا اگر یہ ہم پر حکومت کریں تو ہمارے برابر کے ہیں لیکن یہ کیا بات ہے کہ انہوں نے بنی اسد، بنی تویت اور بنی اسامہ کے لوگوں کو ہم پر مقدم کیا۔ کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ ابن ابی العاص یعنی عبدالملک بن مروان پیش قدمی کر رہا ہے لیکن عبد اللہ بن زبیر اس کی چال کا کوئی جواب نہیں دے رہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] « حدیث نمبر ٤٦٦٥)
ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا۔ کیا تم اس بات پر حیران نہیں کہ عبداللہ بن زبیر خلافت کے لیے کھڑے ہیں میں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ ان کے لیے ایسی کوشش کروں گا جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے لیے بھی نہیں کی تھی، حالانکہ وہ ان سے ہر طرح بہتر تھے۔ میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے صاحبزادے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے لخت جگر، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ لہذا وہ خود کو اتنی بلندی پر اٹھالے گئے اور مجھے قریب رکھنا نہیں چاہتے مجھے گمان بھی نہ تھا کہ وہ مجھ سے اس طرح اعراض کریں گے، لیکن میں بھلائی نہیں چھوڑوں گا اور اپنے چچا کی اولاد کا حاکم ہونا تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ دوسروں کی بیعت کرنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] «حدیث نمبر ٤٦٦٦)
وَالمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ} [التوبة: 60] کہ تفسیر، تالیف قلوب، مجاہد کا قول ہے کہ مال دے کر ان کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کیا گیا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں کچھ مال آیا تو آپ نے دو چار افراد کے مابین تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں نے ان کے قلوب کی تالیف کی ہے اس پر ایک شخص نے کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی پشت سے ایسی قوم پیدا ہوگی کہ وہ لوگ دین سے نکلے ہوئے ہوں گے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ} [التوبة: 60] حدیث نمبر ٤٦٦٧)
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں (پ ١٠ التوبة (٧٩) يَلْمِزُونَ عیب لگانا جُهْدَهُمْ اور جُهْدَهُمْ سے مراد ہے اپنی بساط بھر ۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ملا تو ہم بوجھ اٹھانے کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ابو عقیل خیرات کرنے کی غرض سے نصف صاع کوئی چیز لے کر ریا کاری ہوئے اور دوسرے ایک شخص (حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) بہت سا مال لائے ۔ منافقین کہنے لگے کہ اتنے حقیر مال کی اللہ کو کیا پروا ہے اور دوسرا شخص جو مال لے کر آیا ہے تو یہ محض دکھاوے کے لیے ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان: وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے (پ ۱۰ التوبۃ ۷۹) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ المُطَّوِّعِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: 79] حدیث نمبر ٤٦٦٨)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب خیرات کرنے کے لیے ارشاد فرماتے تو ہم بڑی کوشش سے ایک مد چیز لے کر آسکتے تھے، لیکن آج ہم میں ایسے بھی ہیں جو ایک لاکھ بھی پیش کر سکتے ہیں، گویا ان کا یہ اشارہ خود اپنی طرف تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ المُطَّوِّعِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: 79] حدیث نمبر ٤٦٦٩)
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر باران کی معافی چاہو گے (پ ۱۰ التوبة ۸۰) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مرگیا عبد اللہ بن عبداللہ یعنی اس کا بیٹا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس کے کفن کے لیے آپ علیہ السلام سے قمیص مبارک عطا فرمانے کا سوال کیا۔ آپ نے عطا فرمادی پھر اس نے نماز جنازہ پڑھانے کے لیے عرض کی، تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے تو آپ کے رب نے آپ کو روکا ہے۔ آپ نے فرمایا بلکہ میرے رب نے تو مجھے اختیار دیا ہے کہ تم اس کے لیے معافی چاہو یا اس کے لیے معافی نہ چاہو۔ اگر تم ستر مرتبہ بھی معافی چاہو گے۔ چنانچہ میں اس کے لیے ستر مرتبہ سے بھی زائد معافی طلب کرلوں گا۔ انہوں نے عرض کی کہ وہ تو منافق ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا:ترجمہ کنز الایمان : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا (پ ۱۰ التوبة ۸۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} [التوبة: 80] حدیث نمبر ٤٦٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چلنے کے لیے کھڑے ہو گئے تو میں آپ کا دامن تھام کر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا آپ ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اس نے فلاں دن یہ اور فلاں دن وہ بات کہی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی خرافات بیان کرنی شروع کر دیں تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا اے عمر ! مجھے نہ روکو! جب میں زیادہ مصر ہوا تو فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کا اختیار دیا گیا ہے تو میں نے یہ پہلو اختیار کرلیا ہے، لہذا اگر مجھے یہ علم ہو جائے کہ ستر مرتبہ سے زائد مغفرت مانگنے پر اس کی بخشش ہو جائیگی تو میں زیادہ دفعہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرونگا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور جب واپس تشریف لائے تو کچھ دُور ہی آئے تھے کہ سورہ برات کی یہ دونوں آیات نازل ہو گئیں۔ ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے (پ ۱۰ التوبہ ۸۵) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے تعجب ہوتا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو روکنے کی جرات کی تھی، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر علم رکھتے ہیں ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} [التوبة: 80] حدیث نمبر ٤٦٧١)
{وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا، وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: 84] کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا (پ ۱۰ التوبة (۸۵) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس منافقین کی موت واقع ہوئی تو عبداللہ بن عبد اللہ بن ابی یعنی اس کا بیٹا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ چنانچہ آپ نے اپنا مبارک کرتہ اسے عطا فرما دیا اور حکم دیا کہ اسے اس کا کفن دیا جائے پھر جب آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن تھام لیا اور عرض کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے جو منافق ہے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع فرمایا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے تو مجھے اختیار دیا ہے یا مجھے خبر دی ہے یعنی فرمایا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان : تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا ( پ ۱۰ التوبة ۸۰) پھر آپ نے فرمایا کہ میں اس کے لیے ستر سے زیادہ مرتبہ معافی طلب کرلوں گا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی ( اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اُس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمانی کی حالت ہی میں مرے۔) (آیت ۸٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا، وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: 84] حدیث نمبر ٤٦٧٢)
سَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اب تمہارے آگے اللہ کی قسم کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لئے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو وہ تو نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے (پ اا التوبۃ ۹۵) عبد اللہ بن کعب بن مالک کا بیان ہے کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے کہ خدا کی قسم، جب سے اللہ تعالٰی نے مجھے ہدایت دینے کے بعد تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت مجھ پر یہ فرمائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سچ عرض کر دیا اور جھوٹ بول کر ہلاک نہ ہوا جیسے جھوٹ بول کر دوسرے لوگ ہلاک ہو گئے تھے جب کہ یہ وحی نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان : تم سے بہانے بنائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (التوبہ (۹۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ، فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [التوبة: 95] حدیث نمبر ٤٦٧٣)
{وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا برا قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (پ ۱۰ التوبۃ 102) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک رات میرے پاس دو فرشتے آئے تو مجھے جگا کر ایک ایسے شہر کی جانب لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا۔ وہاں ہمیں ایسے لوگ بھی ملے جن کا نصف جسم دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت تھا اور نصف جسم بہت ہی بدصورت نظر آتا تھا۔ ان دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا کہ اس نہر میں داخل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اس میں داخل ہو گئے، جب وہ باہر آئے تو ان کی سابقہ بدصورتی دور ہو چکی تھی۔ اور ان میں سے ہر ایک کا جسم بہت ہی خوبصورت ہو چکا تھا۔ دونوں فرشتے مجھ سے کہنے لگے کہ یہ جنت عدن ہے اور یہی آپ کی رہائش گاہ ہے۔ پھر ان فرشتوں نے کہا کہ یہ لوگ جن کا نصف جسم خوبصورت اور نصف بدصورت تھا ، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے اور بڑے دونوں قسم کے عمل کیے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [التوبة: 102] حدیث نمبر ٤٦٧٤)
أن يَسْتَغْفِرُوا للْمُشْرِكِيْنَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں (پ ۱ التوبۃ ۱۱۳) سعید بن مسیب نے اپنے والد محترم حضرت متیب بن حزن رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور اُس وقت ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے چچا ! لا الہ الا اللہ کہہ دو تاکہ میں تمہارے بارے میں بارگاہ الٰہی میں کچھ عرض کر سکوں۔ اس پر ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے کہ اے ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے راستے سے منہ پھیر گئے؟ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ کے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا جب تک مجھے ایسا کرنے سے روک نہ دیا جائے۔ پس یہ آیت نازل ہوگئی۔ ترجمہ کنز الایمان : نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگر چہ وہ رشتہ دار ہوں جب کہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں(پ ۱۰ التوبۃ ۱۱۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] حدیث نمبر ٤٦٧٥)
لَقَد تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِی کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے ( التوبۃ ۱۱۸) حضرت عبد اللہ بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ حضرت کعب کے نابینا ہو جانے پر ان کے صاحبزادوں میں سے راستہ بتانے کی خدمت پر مامور تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کہ انہوں نے تین حضرات کے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کیا تو اس کے آخر میں بتایا کہ میں نے عرض کی کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے پر اپنا تمام مال اللہ اور رسول کی راہ میں خیرات کرتا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ مال اپنے پاس بھی رکھ لو اور ایسا کرنا تمہارے لیے بہتر ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ العُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ تَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ) حدیث نمبر ٤٦٧٦)
وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہو کر ان پر تنگ ہوگئی اور وہ اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (التوبۃ ۱۱۳) حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے (اپنے والد ماجد ) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور یہ اُن تین حضرات میں سے ایک تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے سے پیچھے رہ گئے تھے اور یہ غزوہ تبوک اور غزوہ بدر کے علاوہ اور کسی غزوہ میں شامل ہونے سے محروم نہیں رہے تھے اُن کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سچ بات عرض کر دینے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا جبکہ آپ بوقت چاشت تشریف لے آئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ سفر سے آپ چاشت کے وقت واپس لوٹا کرتے تھے اور اقامت کا آغاز مسجد سے کرتے کہ پہلے اس میں دو رکعت نماز ادا فرمایا کرتے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ کلام کرنے سے لوگوں کو ممانعت فرما دی اور ہم تینوں کے علاوہ کسی اور پیچھے رہ جانے والے کے ساتھ کلام کرنے سے ممانعت نہیں فرمائی۔ چنانچہ لوگ ہمارے ساتھ کلام کرنے سے بچنے لگے۔ جب مجھے اس کی حالت میں رہتے ہوئے ایک عرصہ گزر گیا تو مجھے یہ صدمہ ستانے لگا کہ اگر میں اس حالت میں فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے جنازے کی نماز بھی نہیں پڑھائیں گے اور اللہ نہ کرے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصال فرما گئے تو لوگوں کا ہمیشہ میرے ساتھ یہی رویہ رہے گا کہ میرے ساتھ نہ کوئی کلام کرے گا اور نہ میرے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔ پس اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ہماری توبہ کی قبولیت نازل فرمائی جبکہ رات کا تہائی حصہ باقی تھا اور آپ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رونق افروز تھے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس دوران میرے ساتھ بھلائی اور تعاون کو معمول بنائے رکھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ ! کعب کی توبہ قبول ہو گئی۔ انہوں نے عرض کی۔ کیا میں انہیں خوش خبری دینے کے لیے کسی کو بھیج دوں؟ فرمایا، جب لوگوں کو یہ بات معلوم ہو جائے گی تو تمہیں باقی رات آرام میسر نہیں آئے گا۔ پس جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کر لی تو ہماری توبہ قبول ہو جانے کا اعلان کروایا اور جب آپ کو خوشی پہنچتی تو آپ کا چہرہ مبارک یوں چمکنے لگتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہم تینوں ہیں جن کی توبہ سب سے آخر میں قبول ہوئی اور نہ پیچھے رہ جانے والے دوسرے لوگوں نے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جھوٹ بولتے ہوئے اپنے عذر پیش کر دیئے تھے لیکن وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کا اتنی برائی کے ساتھ ذکر فرمایا کہ کسی اور کا ایسا نہ فرمایا ہو گا۔ چنانچہ حق تعالیٰ سبحانہ نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان: تم سے بہانے بنا ئیں گے جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے ( التوبۃ ۹٤) (بخاری شریف، کتاب التفسير،بَابُ {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لاَ مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ، ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا، إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ} [التوبة: 118] حدیث نمبر ٤٦٧٧)
وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ کی تفسیر، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ (پ ۱۱، التوبۃ ۱۱۹) حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے جو حضرت کعب کو راستہ بتانے کی خدمت پر مامور تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ اپنے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان فرماتے تھے کہ خدا کی قسم میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو سچ بولنے پر اس قدر نوازا گیا ہو جتنا اللہ تعالیٰ نے مجھے نواز تھا۔ چنانچہ جب میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور صحیح بات عرض کی اس وقت سے آج تک جھوٹ بولنے کا خیال کبھی میرے ذہن میں بھی نہیں آیا چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر اس کے متعلق یہ وحی نازل فرمائی : ترجمہ کنز الایمان : بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہو کر ان پر تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو ( التوبة ۱۱۷ - ۱۱۹) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ -[71]- الصَّادِقِينَ} [التوبة: 119] حدیث نمبر ٤٦٧٨)
لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُول کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گیراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان(پ ۱۱ التوبة (۱۲۸) رَءُوفٌ یہ الرّافَةِ سے ہے یعنی مہربان۔ ابن سباق حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ جب یمامہ والوں سے مسلمان معرکہ آرائی کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے طلب فرمایا۔ اس وقت آپ کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ لہذا مجھے یہ اندیشہ ہے کہ مختلف مقامات پر کہیں قاری حضرات شہید نہ کر دئیے جائیں۔ اگر اللہ نہ کرے ایسا ہوا تو قرآن کریم کا اکثر حصہ ضائع ہو جائے گا۔ لہذا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کو جمع کروالیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس پر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جواب دیا کہ میں وہ کام کس طرح کروں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم یہ کام بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ متفق کرنے پر اصرار کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میرا بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اتفاق رائے ہو گیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دوران میں ان کے پاس چپ چاپ بیٹھے رہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نوجوان اور ذہین شخص ہو نیز ہم تم پر اعتماد بھی بہت کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جو وحی ہوتی تو اُسے بھی تم لکھا۔ کرتے تھے ، لہذا قرآن کریم کو جمع کرنے کی خدمت تم انجام دو۔ خدا کی قسم اگر ایک پہاڑ کو دوسرے کی جگہ منتقل کرنے کا مجھے حکم دیا جاتا تو قرآن کریم کو جمع کرنے سے وہ کام میرے لیے بھاری نہ ہوتا۔ پھر میں نے عرض کی کہ آپ دونوں حضرات وہ کام کیوں کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم یہ کام بہتر ہے۔ پس میں انہیں اپنے ساتھ متفق کرنے پر اصرار کرتا رہا حتی کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس طرح کھول دیا جس طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھول دیئے تھے۔ پس میں اس کام کے لیے ہمت پکڑی اور قرآن مجید کی تلاش شروع کردی، پس اسے ہڈی، کھال، کھجور کی شاخ کے پٹھے اور لوگوں کے سینوں سے لے کر جمع کیا۔ حتی کہ مجھے سورۃ التوبہ کی دو آیتین حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ملیں اور اُن کے علاوہ اور کسی کے پاس نہ تھیں، (یعنی لقد جاء کم رسول من انفسکم سے آخری سورت تک ) ( آیت ۱۲۸ ،۱۲۹) چنانچہ قرآن کریم کا جمع کرده نسخه حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا حتی کہ انہوں نے وصال فرمایا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا حتی کہ انہوں نے بھی وصال فرمایا۔ پھر حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس رہا۔ (۲) عثمان بن عمرو، اور لیث، یونس، ابن شہاب (۳) لیث، عبد الرحمن بن خالد، ابن شہاب، حضرت خزیمہ انصاری (۴) موسیٰ، ابراہیم، ابن شہاب، حضرت ابو خزیمہ (۵) یعقوب بن ابراہیم، ابراہیم بن سعد (٦) ابو ثابت ابراہیم ، حضرت خزیمہ یا حضرت ابوخزیمہ رضی اللہ عنہم ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ، حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} «مِنَ الرَّأْفَةِ» حدیث نمبر ٤٦٧٩)
سوره یونس ابن عباس کا قول ہے کہ فَاخْتَلَطَ سے مراد ہے کہ ہر قسم کا سبزہ پانی کی وجہ سے اگتا ہے۔ سُبْحَانَهُ بے نیاز ہے، پاک ہے۔ زید بن اسلم کا قول ہے کہ اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ سے مراد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مراد بھلائی ہے کہتے ہیں کہ تِلْكَ آيَاتُ سے مراد یہ قرآنی نشانیاں ہیں اور ان کے مانند۔ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ ... سے مراد بکم ہے۔ دَعْوَهُمْ سے ان کی دعا ئیں مراد ہیں۔ أُحِيطَ بِهِمْ ہلاکت کے نزدیک پہنچنا جیسے کہا گیا ہے کہ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ .... گناہوں نے اس کو گھیر لیا فَاتَّبَعَهُمْ اور وَأَتْبَعَهُمْ ہم معنی ہیں عَدْوًا یہ عنوان سے بنا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ..... اسْتِعْجَالَهُمْ بِالخَيْرِ ایسے الفاظ انسان اُس وقت منہ سے نکالتا ہے جب اپنی اولاد یا مال سے ناراض ہو کر کوستا ہے کہ اس میں برکت نہ ہو، اس پر لعنت ہو۔ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ اس کی مدت پوری ہوگئی ، جس کو کو سا تھا وہ مر گیا۔ لِلذين احْسَنُوا الحسنى وَزِيَادَةٌ سے مراد بخشش ہے۔ دوسرے حضرات نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھنا مرا دلیا ہے۔الكِبْرِيَاءُ بادشاہی حکومت۔ وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ البَحْرَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں (التوبہ ۹۰) تیری لاش کو اونچی جگہ پر ڈال دیں گے تا کہ تو سامان عبرت ہو جائے۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تو یہود عاشورے کا روزہ رکھتے تھے۔ وہ کہتے کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون پر غلبہ پایا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خوشی منانے کے ان کی نسبت تم زیادہ مستحق ہو، لہذا تم روزہ رکھا کرو! (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ البَحْرَ، فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الغَرَقُ قَالَ: آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ المُسْلِمِينَ} [يونس: 90] حدیث نمبر ٤٦٨٠)
سورة هود ابومیسرہ کا قول ہے کہ الأَوَّاهُ حبشہ کی زبان میں الرَّحِيمُ کو کہتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ بَادِئَ الرَّأْيِ جو ہم پر ظاہر ہوا۔ مجاہد کا قول ہے الجُودِيُّ یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے، حسن کا قول ہے إِنَّكَ لَأَنْتَ الحَلِيمُ .. یہ کفار بطور مذاق کہتے تھے۔ ابن عباس کا قول ہے أَقْلِعِي شہر جا۔ روک لے۔ عَصِیبٌ شدید، سخت - لاجرم کیوں نہیں۔ فَارَ التَّنُّورُ پانی جوش مارنے لگا۔ عکرمہ کا قول ہے کہ تنور سے سطح زمین مراد ہے۔ باب ترجمہ کنز الایمان: سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے (ھود ۵)۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ حاق اُترا۔ تحیق اترتا ہے۔ يَقُوس فُعُول کے وزن پر نا امید ہوتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ تَبْتَيْس غم کھا - يَثْنُونَ صَدُورَهُم سینوں کو دوہرا کرنا ستر چھپانے کی غرض لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ یعنی اللہ سے چھپائیں بساط بھر ۔ محمد بن عباد بن جعفر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو أَلاَ إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ پڑھتے ہوئے سنا تو اس کے متعلق ان سے پوچھا۔ پس انہوں نے فرمایا کہ کچھ لوگ تنہائی میں بھی کھلے آسمان کے نیچے قضائے حاجت اور اپنی بیویوں سے مجامعت کرتے ہوئے حیا کرتے تھے، جس کے سبب آسمان کی جانب سے جھک کر پردہ کر لیتے تھے یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ هُودٍ،حدیث نمبر ٤٦٨١)
محمد بن عباد بن جعفر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے أَلَا إِنَّهُمْ ثثْنُونِي صُدُورَ هُمْ کی تلاوت کی تو میں نے پوچھا کہ اے ابو عباس! یہ سینوں کو دوہرا کرنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ بعض لوگ اپنی عورتوں سے مجامعت کرتے وقت اور حوائج ضروریہ کے وقت حیا کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت اتری ترجمہ کنز الایمان: سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں (پ اا ھود (۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ هُودٍ،حدیث نمبر ٤٦٨٢)
عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے اس آیت کو یوں تلاوت فرما یا أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ، أَلاَ حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ - حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دوسرے حضرات نے نقل کیا کہ يَسْتَغْشُونَ اپنے سروں کو جھکا لیتے ہیں۔ سِيءَ بِهِمْ پھر ان سے بدگمان ہوا یعنی اپنی قوم سے وَضَاقَ بِهِمْ اپنے مہمانوں سے۔ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ رات کی تاریخی نہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ أُنِيبُ سے مراد ہے رجوع کرتا ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ هُودٍ،حدیث نمبر ٤٦٨٣)
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میری راہ میں مال خرچ کر میں تجھے مال دوں گا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں، رات دن خرچ کرنے سے بھی خالی نہیں ہوتے۔ فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے جب سے آسمان اور زمین کی پیدائش ہوئی اس وقت سے کتنا اس نے لوگوں کو دیا لیکن اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا اور میزان یعنی قدرت اسی کو حاصل ہے، جس کو چاہے گرائے اور جس کو چاہے اٹھائے ۔ اعْتَرَاكَ تجھ پر مار پڑی۔ عَرَوْتُهُ میں نے اسے پایا يَعْرُوهُ اور اعْتَرَانِي اس سے ماخوذ ہیں ۔ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا اسی کی بادشاہی اور قبضے میں ہے۔ {عَنِيدٌ} اور عَنُودٌ اور عَانِدٌ ہم معنی ہیں یعنی زیادہ سرکشی ۔ اسْتَعْمَرَكُمْ تمہیں آباد کیا، جیسے کہتے ہیں۔ أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ یعنی یہ گھر تازیست اسے رہنے کے لیے دیدیا۔ نَكِرَهُمْ ، وَأَنْكَرَهُمْ اور اسْتَنْكَرَهُمْ ہم معنی ہیں۔ حَمِيدٌ اور مجید فَعِیل کے وزن پر مَّاجِد سے ہے اور محمود جس کی حمد کی گئی۔ سجیل سخت اور بڑی چیز ۔ سِجِّيلٌ کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ لام اور میم دونوں بہنیں ہیں۔ چنانچہ تمیم بن مقبل شاعر نے کہا ہے۔ وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ البَيْضَ ضَاحِيَةً ... ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا " باب وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا یعنی مدین والوں کی طرف کیونکہ مدین تو شہر کا نام ہے۔ ایسا ہی یہ ارشاد ہے وَ اسأَلِ الْقَرْيَةَ وَاسْأَلِ الْعِيرِ یعنی گاؤں والوں اور قافلے والوں سے پوچھو۔ وَرَاءَ كُم ظهريا ... ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کوئی کسی کی جانب توجہ نہ دے یا کسی کی ضرورت پوری نہ کرے یعنی تو نے میری ضرورت سے پیٹھ پھیر لی یا مجھے سے پیٹھ پھیر لی۔ الظھری اس جانور یا برتن کو کہتے ہیں جسے کام کرتے وقت ساتھ رکھا جائے اور کام میں اس سے مدد لی جائے ۔ أَرَاذِلُنَا ہمارے کمین و ذلیل آدمی - اجرامى يه أَجْرَمْتُ يا بقول بعض حرمت کا مصدر ہے الْفُلْكَ اور الفلك ہم معنی ہیں یعنی کشتیاں سفینے - مُجْرَاهَا یہ أَجْرَيْتُ کا مصدر ہے اور أَرْسَيْتُ میں نے روکا یوں بھی پڑھتے ہیں مرْسَاهَا اس صورت میں یہ رست سے ہے اور فَجْرَاهَا جَرَّتْ سے ہے اور هَجْرِيْهَا وَمُرْسِيْهَا ہے مراد ہے جو لنگر انداز اور ٹھہری ہوئی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ} [هود: 7] حدیث نمبر ٤٦٨٤)
وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا ارے ظالموں پر خدا کی لعنت (پ ۱۲ ھود (۱۸) الْأَشْهَادُ اسی طرح شَاهِدٌ کی جمع ہے جیسے صَاحِبُ سے اَصْحَاب ہے۔ صفوان بن محرزہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے تو ایک شخص نے مخاطب ہو کر پوچھا۔ اے ابن عمر ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے انداز میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اہل ایمان کو ان کے رب سے بہت قریب کر دیا جائے گا۔ ہشام کا بیان ہے کہ مومن اپنے رب سے اتنے قریب ہو جائیں گے کہ وہ ان کے کندھوں پر اپنا دست قدرت رکھے گا تو وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے وہ پوچھے گا کہ تو فلاں گناہ کا اقرار کرتا ہے؟ آدمی دو دفعہ کہے گا کہ میں اعتراف کرتا ہوں۔ پس فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں اُن کی پردہ پوشی کی اور آج انہیں معاف کر دیتا ہوں، پھر اس کی نیکیوں کی کتاب بند کر دی جائے گی اور دوسرے لوگ جو کافر ہیں اُن سے علی الاعلان کہا جائے گا کہ: ترجمہ کنز الایمان: یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا ارے ظالموں پر خدا کی لعنت (پ ۱۲ التوبۃ ۱۸)شیبان، قتاده، صفوان نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18] «وَيَقُولُ الأَشْهَادُ حدیث نمبر ٤٦٨٥)
وَ كَذلِكَ أَخُذُ رَبِّكَ كى تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ درد ناک کتری ہے (پ ۱۲ التوبة ۱۰۲) الرِّفْدُ المَرْفُودُ سے مراد ہے مدد جو کی گئی ۔ رَفَدْتُهُ . میں نے اس کی مدد کی۔ تَرْكَنُوا تم مائل ہو جاؤ ۔ فَلَوْلاَ كَانَ تم کیوں نہ ہوئے أُتْرِفُوا ہلاک کر دیئے گئے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ زَفِيرٌ کرخت آواز اور شَهِيقٌ ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن جب اسے پکڑتا تو پھر چھوڑتا نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ کنز الایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ دردناک کتری ہے (پ ۱۲ التوبۃ ۱۰۲) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ القُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} [هود: 102] حدیث نمبر ٤٦٨٦)
وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ کی تفسیر, اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔(التوبہ ١٠٢) زُلَفًا گھڑیاں، ساعتیں اور المُزْدَلِفَةُ بھی اسی سے بنا ہے۔ الزُلف سے ایک منزل کے بعد دوسری اور زُلفی مصدور ہے جیسے الْقُرْبی اور ازْدَلَفُوا سے مراد ہے جمع کیے أَزْلَفْنَا ہم نے جمع کیے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک اجنبی عورت کو بوسہ دیا پھر وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کر دیا۔ پس اس بارے میں یہ آیت نازل ہوگئی۔ ترجمہ کنز الایمان : اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو ( پ ١ التوبۃ ۱۰۲) وہ شخص عرض گزار ہوا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ فرمایا میرے ہر ایسے امتی کے لیے ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {: وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ- وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [التوبہ ١٠٢] " حدیث نمبر ٤٦٨٧)
سورہ یوسف، فضیل نے حصین سے انہوں نے مجاہد سے سنا کہ مُتَّكَأً سے مراد لیمون ہے۔ فضیل کا قول ہے کہ لیموں کو حبشہ کی زبان میں متکاعۃ کہتے ہیں۔ ابو عیینہ کا قول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو معرفت مجاہد کا قول سنا کہ متکاع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو چھری سے کاٹی جائے۔ قتادہ کا قول ہے کہ لَذُو عِلْمٍ عالم با عمل کو کہتے ہیں۔ ابن جبیر کا قول ہے کہ صُوَاعَ کو فارسی میں مَلوكُ کہتے ہیں جس سے عجمی لوگ پانی وغیرہ پیتے ہیں، ابن عباس کا قول ہے کہ تُفَنِّدُونِ سے جاہل بتانا مراد ہے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ غَيَابَةٌ سے وہ چیز مراد ہے جو تم سے کسی چیز کو غائب کر دے۔ الجُبُّ کچا کنواں - بِمُؤْمِنٍ لَنَا ہمارا یقین کرنے والے۔ أَشُدَّهُ جوانی کی عمر، جیسا کہ کہتے ہیں ۔ بَلَغَ أَشُدہ وہ جوانی کی عمر کو پہنچا۔ بَلَغُوا أَشُدَّهُم . وہ جوانی کی عمر کو پہنچے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس کا واحد شَدُّ ہے۔ الْمُتَكَاءَ وہ مسند یا تکیہ جس کا سہارا لے کر کھاتے پیتے یا بات کرتے ہیں اور اس شخص کا رد کیا ہے جس نے اس کا مطلب تریج بتایا ہے کیونکہ کلامِ عرب میں اس کا معنی ترنج نہیں ہے اور جب اس سے کہا گیا کہ اس کا معنی تکیہ یا مند تو ہے لیکن ترنج کا ثبوت کیا ہے؟ اس پر اس نے پہلے سے بھی غلط بات کہی کہ یہ لفظ المُتكَ ہے یعنی تاء کے سکون سے اور یہ لفظ گالی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے ایسے لوگ عورت کو متکا اور مرد کو ابنُ مُتکا کہتے ہیں۔ اگر یہ مراد ہے کہ زلیخا نے عورتوں کو ترنج دیئے تھے تو وہ بھی مسند کے بعد ہوئے۔ شَغَفَهَا ڈھانپ لیتا، دل پر پردہ ڈال دینا اور شَعَفَهَا مَشْعُوفِ سے ہے۔ أَصْبُ میں مائل ہو جاؤں گا أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ پراگندہ خیالات جن کی کوئی تاویل نہ ہو۔ الضّغْفُ تکون وغیرہ کا مٹھا اور اس سے یہ ہے خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے۔ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ میں أَضْغَاثُ کا واحد ضِغْثٌ ہے۔ نَمِيرُہ المِيرَةِ سے ہے۔ نَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ اتنا وزن جسے ایک اونٹ اٹھا کر لے جا سکے۔ السِّقَايَةُ اناج نانپنے کا پیمانہ۔ اسْتَيْأَسُوا مایوس ہو گئے۔ اللہ تعالٰی کی رحمت سے نہیں بلکہ رہائی کی امید نہ رہی۔ خَلَصُوا نَجِيًّا. انہوں نے علیحدہ ہو کر مشورہ کیا۔ اس کی جمع أَنْجِيَةٌ ہے۔ يَتَنَاجَوْنَ کا واحد نَجِيٌّ ہے جو تثنیہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور نَجِيٌّ کی جمع انجية ہے حرضا رنج و غم سے گھل گیا۔ تَحَسَّسُوا تلاش گرو، خبردار مزجَاةٌ تھوڑی، قليل غاشِيَةٌ مِنْ عَذَابٍ الله، اللہ کے عذاب میں گھیرے ہوئے یا اللہ کے عذاب نے سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان: اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی (پ ۱۲ یوسف ٦) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم تو حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمُ الصَّلواتُ وَالتَّسْلِمَاتِ) ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ} حدیث نمبر ٤٦٨٨)
لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں (پ ۱۲ یوسف ۷) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ سب سے عزت والا کون شخص ہے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ لوگوں نے عرض کی کہ ہم اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔ فرمایا تو لوگوں میں سب سے معزز حضرت یوسف ہیں۔ جو خود نبی اللہ، نبی اللہ کے بیٹے ، نبی اللہ کے پوتے اور خلیل اللہ کے پڑپوتے ہیں انہوں نے عرض کی کہ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے، فرمایا کیا تم عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھتے ہو؟ کہنے لگے ہاں، فرمایا تو جو جاہلیت میں بہتر تھے زمانہ اسلام میں بھی وہی بہتر ہیں جبکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں۔ ابو اسامہ نے بھی عبید اللہ سے اس طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ} [يوسف: 7] حدیث نمبر ٤٦٨٩)
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنائی ہے (پ ۱۲ یوسف۱۸) سَوَّلَتْ بنالی سنوار لی۔ زہری کا بیان ہے کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب علقمہ بن وقاص، اور عبید اللہ بن عبداللہ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنها زوجه نبي کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے سنا جبکہ ان پر بہتان لگانے والوں نے بہتان لگایا اور اللہ تعالٰی نے اُن کا پاک دامن ہونا ظاہر فرمایا۔ ان چاروں حضرات نے اس حدیث کا ایک ایک حصہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم اس گناہ سے بری ہو تو جلد اللہ تعالیٰ تمہاری براءت ظاہر فرما دے گا اور اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو حضرت صدیقہ نے عرض کی کہ خدا کی قسم میں کوئی مثال نہیں پاتی مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے والد ماجد کی کہ تر جمہ کنز الایمان: تو صبر اچھا اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (پ ۱۲ یوسف (۱۸) چنانچہ ان کی صفائی میں اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیات نازل فرمائیں۔ ترجمہ کنز الایمان: تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب ہے کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ گھلا بہتان ہے اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتی تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو اور اللہ تمہارے لئے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہر والا ہے تو تم اس کا مزہ چکھتے اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بے حیائی اور بری ہی بات بتائے گا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہو سکتا ہاں اللہ ستھرا کر دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔ (پ ۱۸ یوسف ۱۱-۲۱) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {قَالَ: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ} [يوسف: 18] " حدیث نمبر ٤٦٩٠)
مسروق بن اجدع حضرت ام رومان رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ماجدہ ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمارے گھر میں تھیں اور انہیں بخار آتا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات کہی جارہی ہے شاید یہ اسی کے سبب سے ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں۔ اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اٹھ بیٹھیں اور عرض کی کہ میری اور آپ حضرات کی مثال حضرت یعقوب علیہ السلام اور اُن کے بیٹوں جیسی ہے۔ لہذا اللہ ہی سے کی طلبگار ہے ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {قَالَ: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ} [يوسف: 18] "حدیث نمبر ٤٦٩١)
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کر دیئے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (پ ۱۲ یوسف (۲۳) عکرمہ کا قول ہے کہ هَيْتَ لَكَ حورانی زبان ہے یعنی ادھر آؤ۔ ابن جبیر کا قول ہے کہ آگے آؤ۔ ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھا هَيْتَ لَكَ اور فرمایا کہ ہم اسی طرح پڑھتے ہیں جیسا ہمیں سکھایا گیا ہے۔ مَثْوَاهُ اس کے ٹھہرنے کی جگہ ٹھکانا أَلْفَيَا پایا ، ملا، أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ اور الْفَيْنا اسی سے ہیں ۔ حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کی قرات میں بَلْ عَجِبْتُ اور يَسْخَرُونَ (سورۃ الصافات) ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ، وَقَالَتْ: هَيْتَ لَكَ} [يوسف: 23] حدیث نمبر ٤٦٩٢)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب قریش نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی اور اسلام قبول نہ کیا تو آپ نے اُن کے حق میں یوں دعا کی: اے اللہ! انہیں ایسے طویل قحط میں مبتلا فرما جیسا حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں سات سال قحط بھیجا تھا۔ چنانچہ قریش کو ایسے قحط کا سامنا کرنا پڑا کہ سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا اور بھوک کے سبب ہڈیاں تک کھانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جب ان میں سے کوئی آسمان کی جانب دیکھتا تو اسے فضا میں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا (پ ۲۵ الدخان ۱۰) اور اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (پ ۲۵ الدخان (۱۵) ۔ ورنہ قیامت میں تو اُن سے عذاب ہٹایا نہیں جائے گا اور دُخان وبطشہ کے واقعات بھی گزرے ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ، وَقَالَتْ: هَيْتَ لَكَ} [يوسف: 23]حدیث نمبر ٤٦٩٣)
فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ کی تفسیر ، ترجمہ کنز الایمان: تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے بادشاہ نے کہا اے عورتو تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا بولیں اللہ کو پاکی ہے (پ ۱۲ یوسف (۵۰) حَاشَ اور حَاشَى یہ تنزیہ اور استثناء کے لیے آتے ہیں۔ حَصْحَصَ واضح ہو گیا۔ ظاہر ہو گیا۔ سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ انہوں نے سخت زبردست پناہ پکڑی تھی اور اگر اتنے دنوں میں قید میں رہتا جتنے دنوں حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو بلانے والے کی دعوت کو قبول کر لیتا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ہم یہ اطمینان حاصل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: فرمایا کیا تجھے یقین نہیں عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے ( البقرة ۲٦٠) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ} [يوسف: 51] " حدیث نمبر ٤٦٩٤)
{حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ} کی تفسیر، ابن شہاب بن زبیر سے راوی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد باری تعالٰی : (حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ) کے متعلق پوچھا کہ اس میں لفظ أَكُذِبُوا ہے یا كُذِّبُوا؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ كُذِّبُو( تشدید کے ساتھ ) ہے، میں نے عرض کی کہ انبیائے کرام کو تو یقین تھا کہ قوم نے انہیں جھٹلایا ہے پھر یہاں لفظ ظن کیوں استعمال کیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے میری عمر کی قسم، پیغمبروں کو واقعی اس بات کا یقین تھا۔ میں نے عرض کی کہ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا، پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ فرمایا : معاذ اللہ ! پیغمبر اپنے رب پر ایسا گمان نہیں کر سکتے۔ میں نے عرض کی ، تو اس آیت کا پھر صحیح مفہوم کیا ہے؟ فرمایا یہ رسولوں کے پیروکاروں کے بارے میں ہے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی تھی، جب وہ طویل عرصہ تک آزمائش میں مبتلا رہے اور مدد آنے میں تاخیر ہوتی تو جہاں اپنی قوم کے جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے رسول مایوس ہوتے تھے وہاں انہیں یہ گمان بھی گزرنے لگتا تھا کہ کہیں یہ پیروکار بھی جھٹلانے نہ لگ جائیں۔ چنانچہ ایسے وقت پر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ} [يوسف: 110] حدیث نمبر ٤٦٩٥)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ (اس آیت (۱۱۰) میں شاید لفظ كُذِبُوا بغیر تشدید کے ہے؟ انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ ! ایسا نہیں ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ} [يوسف: 110]حدیث نمبر ٤٦٩٦)
سُورَةُ الرَّعْدِ ابن عباس کا قول ہے کہ كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ مشرک کی مثال جو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرے اس پیاسے جیسی ہے جسے اپنے خیالات کی دنیا میں کافی دور پانی نظر آئے تو وہ اسے حاصل کرنا چاہے لیکن جس کا وجود ہی نہیں اسے حاصل کہاں سے کرے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ سَخَّرَ تابع کیا ۔ مُتَجَاوِرَاتٌ ایک دوسرے کے قریب ہونا۔ المَثُلاَتُ اس کا واحد مَثُلَةٌ ہے بمعنی بمثیل و نظیر ۔ بمقدار اندازے کے مطابق۔ مُعَقِّبَاتٌ نگران فرشتے جو باری باری آتے ہیں، جیسا کہ کہتے ہیں عَقَّبْتُ فِي إِثْرِهِ میں اس کے پیچھے آیا۔ المِحَالِ عذاب، سزا۔ جیسے پانی لینے کے لیے ہاتھ بڑھانا۔ رَابِيًا یہ ربا يَرْبُوا سے بنا ہے یعنی بڑھنے والا۔ الْمَتَاعُ جس سے تو فائدہ حاصل کرے۔ جُفَاء جھاگ جو ہانڈی کے جوش مارنے پر اوپر آجاتے ہیں اور ٹھنڈے ہونے پر بیٹھ جاتے ہیں چونکہ یہ بیکار چیز ہے اسی طرح حق و باطل میں تمیز کردی جاتی ہے۔ المِهَادُ بچھونا ۔ بستر ۔ يَدْرَءُونَ وہ ہٹائیں یہ دَرَأْتُهُ سے بنا ہے یعنی میں نے اسے ہٹایا۔ سلام عَلَيْكُمْ یعنے فرشتے ان کو سلام کرتے ہیں۔ إِلَيْهِ مَتَابِ میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ أَفَلَمْ يَيْئَسْ کیا وہ مایوس نہ ہوئے ، کیا ان پر ظاہر نہ ہوا۔ قَارِعَة دل ہلا دینے والی ۔ فَأَمْلَيْتُ میں نے مہلت دی۔ یہ المَلِيِّ اور الْمُلَاوَة سے بنا ہے اور مَلِيًّا بھی اسی سے ہے، چنانچہ لمبی چوڑی زمین کو مَلًى مِنَ الأَرْضِ کہتے ہیں۔ اسی سخت مشقت ۔ مُعَقِّب بدلنے والا۔ مجاہد کا قول ہے کہ مُتَجَاوِرَاتٌ قابل کاشت زمین اور بنجر زمین صِنْوَانٍ ملے ہوئے درخت ۔ غَيْرُ صِنْوَان وہ درخت جو دور، دور ہوں، چنانچہ ہر قسم کے درخت ایک ہی پانی سے پلتے ہیں ، اسی طرح سارے نیک اور بد انسانوں کا باپ ایک ہے۔ السَّحَابُ الثِّقَالُ . پانی سے بھرے ہوئے بادل كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ زبان سے پانی مانگنا اور لینے کے لیے ہاتھ بڑھانا لیکن کبھی کچھ نہ پانا۔ فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا .... نالوں میں اندازے سے پانی بہتا ہے زَبَدًا رَابِيًا ابھرے ہوئے جھاگ ۔ زَبَدُ السَّيْلِ لو ہے یا زیورات کی میل۔{اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان : اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں ( الرعد ٨) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صل وسلم نے فرمایا : غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی (1) اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں کل کیا ہو گا (۲) اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں کہ رحموں میں کیا ہے (۳) اللہ کے سوا کس کو علم نہیں کہ بارش کب آئے گی (۴) اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں کہ فلاں شخص کسی جگہ مرے گا (۵) اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ} [الرعد: 8] حدیث نمبر ٤٦٩٧)
سورۃ ابراہیم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ هَادٍ ہدایت کی طرف بلانے والا۔ مجاہد کا قول ہے کہ صَدِيدٌ کا معنی خون اور پیپ ہے۔ ابن عیینہ کا قول ہے کہ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں انہیں اور ان کے دنوں کو یاد کرو۔ مجاہد کا قول ہے کہ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ جن چیزوں کی طرف تم میلان رکھتے ہو۔ يَبْغُونَهَا عِوَجًا.. اس میں بھی تلاش کرتے ہو۔ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ تمہارے رب نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا۔ رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ ..... نافرمانی کرنے والوں کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ مِنْ وَرَائِهِ سامنے سے۔ تَبَعًا اس کا واحد تَابِعٌ ہے جیسے غَيَبٍ سے غَائِبٍ ۔ بِمُصْرِخِكُمْ اس سے اسْتَصْرَخَنِي اس نے میری فریاد سنی ، يَستَصْرِخُهُ یہ الصُّرَاحُ سے ہے وَلَا خِلال یہ مصدر ہے خَالَلْتُهُ کا نیز خِلاَلًا بھی ہو سکتا ہے اس کی جمع خُلَّةٍ اور خِلاَلٍ ہے۔ اجْتُثَّتْ جڑ سے اکھاڑا ہوا۔ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا فى تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے (پ ۱۳ ابراهیم ۲٤-۲۵) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے ایسا درخت بتاؤ جس کی مثال مسلمان مرد جیسی ہو اس کے پتے بھی نہ جھڑتے ہوں اور ہمیشہ اپنا پھل دیتا رہتا ہو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن جب میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی خاموش ہیں تو مجھے اپنا بولنا پسند نہ آیا جب کسی نے کوئی جواب نہ دیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ گئے تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ابا جان! خدا کی قسم میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں بولنے سے پھر کس چیز نے روکا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے جب آپ حضرات کو بولتے ہوئے نہ دیکھا تو ( ادب کے باعث ) میں نے بولنا پسند نہ کیا، لہذا کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم یہ جواب دیتے تو مجھے فلاں فلاں خوشیوں سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ) حدیث نمبر ٤٦٩٨)
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر (پ ۱۳ ابراهیم ۲۷) سعد بن عبیدہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہی وہ بات ہے جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : ترجمہ کنز الایمان : اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں (پ ۱۳ ابراھیم ۲۷) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27] حدیث نمبر ٤٦٩٩)
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا کی تفسیر۔ ترجمہ کنز الایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (پ ۱۳ ابراهیم (۲۸) اس أَلَمْ تَرَ کا وہی مطلب ہے جو اَلَمْ تَعْلَمُ - أَلَمْ تَرَكَيْفَ فَعَلَ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا. میں ہے۔ البَوَارُ کا مطلب ہلاکت ہے، یہ بَارَ يَبُورُ سے ہے۔ قَوْمًا بُورًا ہلاک ہونے والے لوگ۔ عطاء سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا: ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (پ ۱۳ ابراهیم (۲۸) وہ مکہ مکرمہ والے کافر ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا} [إبراهيم: 28] "حدیث نمبر ٤٧٠٠)
سورة الحجر مجاہد کا قول ہے کہ صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ سے وہ برحق راستہ مراد ہے جو سیدھا اللہ کی جانب جاتا ہے ۔ لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ راستے پر ۔ ابن عباس کا قول ہے لَعَمْرُكَ تمہاری عمر کی قسم ۔ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ انہیں اجنبی جانا حضرت لوط نے, دوسرے حضرات کا قول ہے کہ كِتَابٌ مَعْلُومٌ مقررہ وقت ۔ لَوْ مَا تَأْتِينَا ہمارے پاس کیوں نہیں لاتا۔ شِيَعٌ اُمتین اور کبھی اس سے دوست مراد لیتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ يُهْرَعُونَ جلدی کرنے والے۔ لِلْمُتَوَسمِين دیکھنے والوں کے لیے۔ سُكِّرَتْ ڈھانپ دی گئیں ۔ بُرُوجًا سورج اور چاند کی منزلیں۔ لَوَاقِحَ اور مَلاَقِحَ سے مراد ہے ملحقہ کی جگہ۔ حَمَإٍ یہ حَمْأَةٍ کی جمع ہے یعنی کیچڑ المَسْنُونُ سیاہ رنگ۔ تَوْجَلْ ڈر دَابِرَ آخری لَبِإِمَامٍ ہر وہ چیز جس کی اقتدا کی جائے اور راہ راست دکھائے۔ الصَّيْحَةُ ہلاکت تباہی۔ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ کی تفسیر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالی آسمانی فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کی وجہ سے اپنے پروں کو مارنے لگتے ہیں جیسے زنجیر کو صاف پتھر پہ مارا جائے ۔ علی بن مدینی کا بیان ہے کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے صفوان کہا ہے۔ پھر اللہ تعالٰی اس حکم کو نافذ فرما دیتا ہے۔ جب ان کی دلوں سے کچھ ڈر کم ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ اس نے فرمایا وہ حق ہے اور وہی بلند و برتر ہے پھر بات چرانے والے شیطان چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں اور چوری چھے سننے کے لیے شیطان یوں اوپر تلے رہتے ہیں۔ چنانچہ سفیان نے اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلیوں کو کھول کر اور نیچے اوپر کر کے دکھایا۔ چنانچہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ سننے والے شیطان کو چنگاری جالگتی ہے اور وہ جل جاتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھ والے کو بتائے اور بعض اوقات چنگاری لگنے سے پہلے وہ اپنے قریب والے شیطان کو جو اس کے نیچے ہوتا ہے، بتا چکا ہوتا ہے اور اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دی جاتی ہے یا سفیان نے کہا کہ زمین تک آپہنچتی ہے۔ پھر وہ جادوگر کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔ پھر وہ ایک کے ساتھ سو جھوٹ اپنی جانب سے ملاتا ہے۔ اس پر لوگ اس کی تصدیق کر کے کہنے لگتے ہیں کہ کیا اس نے فلاں دن ہمیں نہیں بتایا تھا کہ فلاں بات یوں ہوگی، چنانچہ ہم نے اس کی بات کو صو پایا حالانکہ یہ وہی بات تھی جو آسمان سے چوری چھپے سنی گئی تھی۔ علی بن عبداللہ سفیان، عمر و عکرمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم فرماتا ہے اور اس میں کاہن کا لفظ زیادہ کیا۔ سفیان، عمرو، عکرمہ حضرت ابوہریرہ سے راوی ہیں کہ جب اللہ تعالی کوئی حکم فرماتا ہے اور کہا کہ جادوگر کے منہ میں۔ چنانچہ میں ( علی بن عبد اللہ ) نے سفیان سے کہا کہ کیا اسے آپ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سناہے؟ جواب دیا، ہاں میں نے سفیان سے کہا کہ ایک شخص نے آپ سے بواسطه عمر و بن دینار، عکرمہ اور حضرت ابوہریرہ کے مرفوعاً روایت کی ہے اور اس میں لفظ فرغ پڑھا ہے۔ سفیان کا بیان ہے کہ عمرو بن دینار نے اسی طرح پڑھا تھا، لہذا مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اسی طرح سنا تھا یا نہیں۔ سفیان کہتے ہیں کہ ہم تو اسی طرح پڑھتے ہیں, (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ} [الحجر: 18] حدیث نمبر ٤٧٠١)
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الحِجْرِ المُرْسَلِينَ کی تفسیر، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اصحاب حجر کی جگہ ہے۔ تم میں سے کوئی ان کی جگہ میں نہ جائے مگر روتا ہوا۔ اگر تم رو نہیں سکتے تو اس جگہ میں نہ جانا، مبادا جو عذاب ان پر آیا تھا وہ تم پر نازل نہ ہو یا کہیں تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہو جاؤ جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الحِجْرِ المُرْسَلِينَ} [الحجر: 80] حدیث نمبر ٤٧٠٢)
وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں ( الحجر ۸۷) حضرت ابوسعید معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم گزرے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ پس آپ نے مجھے بلایا لیکن میں آپ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوا۔ جب میں نے نماز پڑھ لی تو حاضر خدمت ہو گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس آنے سے تمہیں کس چیز نے روکا تھا ؟ میں نے عرض کی کہ حضور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ ارشاد ہوا، کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (پ ۹ ابراهیم (۲٤) پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتادوں،اس پہلے کہ میں مسجد سے باہر نکلوں۔ پھر نبی کریم مسلم باہر نکلنے کے لیے جانے لگے تو میں نے یہ بات یاد کروائی، تو آپ نے فرمایا کہ وہ سورت الحمد لله رب العالمین (یعنی سورۃ الفاتحہ) ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ المَثَانِي وَالقُرْآنَ العَظِيمَ} [الحجر: 87] حدیث نمبر ٤٧٠٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ) ہی سبع مثانی (سات آیتوں والی سورت ) اور قرآن عظیم ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ المَثَانِي وَالقُرْآنَ العَظِيمَ} [الحجر: 87] حدیث نمبر ٤٧٠٤)
الَّذِينَ جَعَلُوا القُرْآنَ عِضِينَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : جنہوں نے کلام الٰہی کو تِکّے بوٹی کر لیا ( الحجر (۹۱) المُقْتَسِمِينَ وہ لوگ جنہوں نے قسمیں کھائی ہیں۔ اسی سے لاَ أُقْسِمُ ہے جس کا مطلب ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں یہ لاَ أُقْسِمُ پڑھا جاتا ہے۔ قاسمهُمَا شیطان نے ان دونوں کے سامنے قسم کھائی۔ ان دونوں نے شیطان سے قسم نہیں کھائی تھی۔ مجاہد کا قول ہے کہ تَقَاسَمُوا سے مراد ہے انہوں نے حلف اٹھایا۔ ارشاد باری تعالٰی : ترجمہ کنز الایمان : جنہوں نے کلام الہی کو تِکّے بوٹی کر لیا (الحجر (۹۱) کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے بنا لیے ہیں کہ کچھ حصے کو مانتے ہیں اور دوسرے کچھ کا انکار کرتے ہیں (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ جَعَلُوا القُرْآنَ عِضِينَ} [الحجر: 91] حدیث نمبر ٤٧٠٥)
ارشاد ربانی: ترجمہ کنز الایمان: جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا ( الحجر ۹۰) کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کتاب الٰہی کے بعض حصے پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے وہ یہودی و نصاری ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ جَعَلُوا القُرْآنَ عِضِينَ} [الحجر: 91] حدیث نمبر ٤٧٠٦)
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ اليَقِينُ کی تفسیر، الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو (پ الحجر 99) سالم کا قول ہے کہ اليَقِينُ سے یہاں موت مراد ہے۔ سورة النحل۔ رُوحُ الْقُدُوسِ اور نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الأَمِينُ دونوں سے جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں۔ {فِي ضَيْقٍ} جیسے کہ کہتے ہیں أَمْرٌ ضَيْقٌ چنانچہ ضَيْقُ اور ضَيِّقٌ اسی طرح ہم معنی ہیں جیسے هَيْنٍ اور هَيِّنٍ یا لَيْنٍ اور لَيِّنٍ یا مَيْتٍ اور مَيِّتٍ ہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ فِي تَقَلُّبِهِمْ اُن کے اختلاف میں۔ مجاہد کا قول ہے کہ تَمِيدُ جھک جاتا ۔ مُفْرَطُونَ بھلائے گئے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ فَإِذَا قَرَأْتَ القُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ میں عبارت آگے پیچھے ہو گئی ہے کیونکہ تعوذ تو قرآن کریم پڑھنے سے پہلے ہے اور اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑنا ہے ابن عباس کا قول ہے کہ تُسِيمُونَ چراتے ہو۔ شَاكِلَتِهِ اپنے اپنے طریقے پر قَصْدُ السَّبِيلِ بیان کرنا۔الدِّفْءُ وہ چیز جس سے گرمی حاصل کی جائے ۔ تُرِيحُونَ شام کو - تَسْرَحُونَ صبح کو بِشِقِّ یعنی مشقت کے ساتھ عَلَى تَخَوُّفٍ نقصان اٹھا کر - الأَنْعَامِ لَعِبْرَةً يه مذکورہ مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی النَّعَمُ اور اس کی جمع الْأَنْعَامُ ہے سَرَابِيلَ قمیص۔ تَقِيكُمُ الحَرَّ یہ قمیص ہیں، اور تَقِيكُمْ باسَكُمْ میں زرہیں ہیں۔ دَخَلًا بَيْنَكُمْ جو چیز درست نہ ہو۔ ابنِ عباس کا قول ہے کہ حَفْدَةً سے آدمی کی اولاد مراد ہے۔ السَّكَرُ جو نشہ لانے کی وجہ سے حرام ہے اور رزق حسن کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا ہے۔ ابن عیینہ کا قول ہے جو صدقہ سے نقل کیا گیا کہ أَنْكَاثًا ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ یہ خرقاء نامی عورت تھی جو سارا دن سوت کانتی اور شام کے وقت توڑ کر پھینک دیتی۔ ابن مسعود کا قول ہے کہ الأُمَّةُ سے مراد ہے لوگوں کو نیکی کی باتیں سکھانے والا۔القَانِتُ سے فرمانبردار مراد ہے۔ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ کی تفسیر، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ ! میں بخل سے، سستی سے انتہائی عمر سے، عذاب قبر سے، دجال کے فتنے سے اور زندگی وموت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ آمین۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ اليَقِينُ} [الحجر: 99] حدیث نمبر ٤٧٠٧)
سورۃ بنی اسرائیل, باب آدم، شعبہ، ابواسحاق، عبدالرحمن بن یزید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا کہ سورہ بنی اسرائیل, الکہف, اور مریم تینوں ایسی سورتوں میں سے ہیں جو فصاحت و بلاغت سے بھر پور ہیں اور کہ میں نے انہیں زبانی یاد کر لیا تھا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ فَسَيُنْغِضُونَ جلد اپنے سر ہلائیں گے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ نَغَضَتْ سِنُّكَ یعنی تیرا دانت ہل گیا۔ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ہم نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ جلد وہ فساد کریں گے اور القَضَاءُ کے کئی معنی آئے ہیں یعنی : وَقَضَى رَبُّكَ جیسے فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ میں - نَفِيرًا وہ لوگ جنگ کے لیے ساتھ نکلیں ۔ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا جن شہروں پر غالب آئیں انہیں برباد کردیں۔ حَصِيراً جیل خانہ۔ حَقَّ ثابت ہوا۔ واجب ہوا۔ مَيْسُورًا نرم - خطا گناہ، یہ خَطِنت اور الخطاء سے مفوح اثم مصدر ہے بمعنی گناہ اور خَطِئت بمعنی أَخْطَأْتُ ہے۔ تَخْرِقَ تو کاٹتا ہے۔ وَإِذْ هُمْ نَجْوَى یہ نَاجَيْتُ کا مصدر ہے اور اس کے ساتھ ان کی عادت بیان کی یعنی وہ مشورہ کرتے ہیں۔ رُفَاتًا ایندھن بنا دینا۔ وَاسْتَفْرِزُ ہلکا کردیا بِخَيْلِكَ اپنے سواروں سے- الرّجُلِ پیدلوں سے، اس کا واحد رَاجِلٌ ہے، جیسے وَصَحْبٍ آندھی اور وہ ہوا جو چیزوں کو اڑا کر لاتی ہے اور حَصَبُ جَهَنَّمَ... اسی سے ہے یعنی وہ جہنم میں پھینکے جائیں گے اور یہی اس کا کوڑا کرکٹ ہوں گے، یہ بھی کہتے ہیں کہ حَصَبَ فِي الْأَرْضِ وه زمین میں دھنس گیا اور یہ الحصباء سے بھی مشتق ہے بمعنی پتھر سنگریزے، تَارَةً ایک دفعہ، اس کی جمع تِيَرَةٌ اور تَارَاتٌ ہے۔ لَأَحْتَنِكَنَّ ضرور جڑ سے اکھاڑ دو گے، یہ بھی کہتے ہیں کہ احْتَنَكَ فُلاَنٌ مَا عِنْدَ فُلاَنٍ ...... یعنی فلاں نے فلاں کے متعلق تمام معلومات حاصل کر لیں۔ طَائِرَهُ اس کی قسمت۔ ابن عباس کا قول ہی کہ قرآن کریم میں جتنی جگہ میں سُلْطَانٍ کا لفظ ہے اس سے حجت اور دلیل مراد ہے۔ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ کمزوری کے سبب کسی کو دوست بنانا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر ٤٧٠٨)
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا واقعہ معراج۔ سعید بن مسیب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ شب معراج جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت المقدس میں رونق افروز ہوئے تو آپ کی خدمت میں ایک پیالہ دودھ کا اور ایک شراب کا پیش کیا گیا۔ جب آپ نے اُن دونوں کی طرف توجہ فرمائی تو دودھ کا پیالہ لے لیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی کہ سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی فرمائی، اگر آپ شراب کا پیالہ اختیار فرماتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ المَسْجِدِ الحَرَامِ} [الإسراء: 1] حدیث نمبر ٤٧٠٩)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب قریش نے مجھے بھٹلایا تو میں مقام جھر میں چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے لیے ظاہر فرما دیا، پس جو علامات وہ معلوم کرتے اس کی طرف دیکھ کر انہیں بتا تا رہا۔ یعقوب بن ابراہیم کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب قریش نے مجھے اس سیر کے متعلق جھٹلایا جو مجھے بیت المقدس تک کروائی گئی تھی، پھر باقی حدیث اُسی طرح بیان کی ۔ قَاصِفًا وہ آندھی جو ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ المَسْجِدِ الحَرَامِ} [الإسراء: 1] حدیث نمبر ٤٧١٠)
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ کی تفسیر, كَرَّمْنَا اور أَكْرَمْنَا ہم معنی ہیں۔ضِعْفَ الحَيَاةِ زندگی کا عذاب اور ضِعْفَ المَمَاتِ موت کا عذاب مراد ہے۔ خِلاَفَكَ اور خَلْفَكَ ایک ہیں یعنی تیرے پیچھے ۔ شَاكِلَتِهِ اپنے طریقے پر، یہ شَكْلِهِ سے ہے صَرَّفْنَا واضح کیا۔ قَبِيلًا سامنے رو برد، بعض حضرات نے اسے القَابِلَةُ سے بتایا ہے کیونکہ دائی سامنے ہوتی اور بچہ جناتی ہے۔ الإِنْفَاقِ تنگ دست ہو جانا ۔ نَفِقَ الشَّيْءُ جب کوئی چیز چلی جائے ۔ قَتُورًا بخیل، کنجوس۔ لِلْأَذْقَانِ ٹھوڑی، جہاں دونوں جبڑے ملتے ہیں، اس کا واحد ذَقَنٌ ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ مَوْفُورًا سے وَافِرًا مراد ہے۔ تَبِيعًا بدلہ لینے والا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ لاَ تُبَذِّرْ سے مراد ہے کہ برے کاموں میں خرچ نہ کر - ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ حلال روزی کی تلاش میں۔ مَثْبُورًا لعنت کیا گیا۔ لاَ تَقْفُ نہ کہہ فَجَاسُوا ارادہ کیا۔ يُزْجِي الفُلْكَ کشتی کو چلاتا ہے۔ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ منہ کے بل گرنا ۔ ( سجدے میں ) ۔.وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا کی تفسیر، اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنز الایمان : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بے علمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہو جاتی ہے تو ہم اسے تباہ کر کے برباد کر دیتے ہیں (پ ۱۵ بنی اسرائیل ۱٦) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں جب کسی قبیلے کے لوگ بہت زیادہ ہو جاتے تو ہم کہا کرتے ۔ أَمِرَ بَنُو فُلاَنٍ یعنی بنو فلاں بہت زائدہ ہو گئے۔ حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے جو روایت کی اس میں بھی أَمَرَ ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ} [الإسراء: 70] « حدیث نمبر ٤٧١١)
ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اے ان کی اولا د جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا بیشک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا ( بنی اسرائیل (۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایا گیا، چنانچہ ایک دستی اٹھا کر آپ کی خدمت میں پیش کی گئی کیونکہ دستی کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا۔ پس آپ نے اس میں سے تناول فرمایا اور اس کے بعد ارشاد ہوا کہ بروز قیامت سب لوگوں کا سردار میں ہوں۔ کیا تم اس کا سبب جانتے ہو؟ سنو! اگلے پچھلے تمام انسانوں کو ایک ہی میدان میں جمع کر لیا جائے گا، جو ایسا ہوگا کہ پکارنے والے کی آواز سن سکیں گے اور سب کو دیکھ سکیں گے اور سورج لوگوں کے اتنا نزدیک آجائے گا کہ گرمی کی شدت سے تڑپنے لگیں گے اور وہ برداشت سے باہر ہو جائے گی تو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم اپنی حالت نہیں دیکھتے ؟ پھر تم ایسی ہستی کو تلاش کیوں نہیں کرتے جو تمہارے رب کے پاس تمہاری شفاعت کرے؟ چنانچہ لوگ دوسروں سے کہیں گے کہ تمہیں حضرت آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں جانا چاہیے۔ پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص دست قدرت سے بنایا ہے آپ کے اندر اس نے اپنی طرف کی روح پھونکی تھی اور اس نے فرشتوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کے لیے سجدہ کیا تھا، لہذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام فرما ئیں گے کہ آج میرے رب نے غضب کا ایسا اظہار فرمایا ہے کہ ایسا نہ اس سے پہلے کبھی فرمایا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا فرمائے گا۔ بیشک اس نے مجھے ایک درخت سے روکا تھا لیکن مجھ سے لغزش ہو گئی لہٰذا مجھے اپنی فکر ہے ہائے میری جان، ہائے میری جان تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ، تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس وہ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے۔ اے حضرت نوح! آپ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے آنے والے رسول تھے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو عبداً شَكُوراً کا نام دیا تھا۔ آپ اپنے کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ وہ ان سے فرمائیں گے کہ آج میرے رب عز و جل نے غضب کا وہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ کبھی اس کی پہلے ایسا اظہار فرمایا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا اظہار فرمائے گا۔ بیشک میرے رب نے مجھے ایک مقبول دعا کی اجازت دی تھی تو میں نے وہ دعا اپنی قوم کے خلاف استعمال کی ، لہٰذا مجھے اپنی فکر ہے، ہائے میری جان، ہائے میری جان۔ تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ۔ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے۔ اے حضرت ابراہیم ! آپ اللہ تعالٰی کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے خلیل ہیں۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ ان لوگوں سے فرما ئیں گے کہ بیشک میرے رب نے غضب کا آج ایسا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا کیا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا کرے گا اور بیشک مجھ سے تین سچی باتیں ایسی واقع ہوئیں جو خلاف واقعہ تھیں۔ ابوحیان نے اپنی روایت میں ان تینوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ لہٰذا مجھے اپنی فکر ہے، ہائے میری جان، ہائے میری جان ۔ تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے حضرت موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت اور ہمکلامی کے ساتھ دوسری انبیاء کرام پر فضیلت دی تھی۔ آپ اپنے رب کے حضور شفاعت فرما ئیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ وہ فرما ئیں گے کہ میرے رب نے آج غضب کا ایسا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا فرمایا اور نہ اس کے بعد بھی ایسا فرمائیگا۔ بیشک میں نے ایک شخص کو جان سے مار دیا تھا جبکہ مجھے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ لہٰذا مجھے اپنی فکر ہے، ہائے میری جان، ہائے میری جان۔تم کسی اور کے پاس جاؤ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے۔ اے حضرت عیسی ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جو اُس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا فرمایا نیز آپ اس کی طرف کی روح ہیں اور آپ نے پنگھوڑے کے اندر پچپن میں لوگوں سے کلام فرمایا تھا۔ لہٰذا آپ ہماری شفاعت فرما ئیں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ آج میرے رب نے غضب کا وہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا غضب فرمایا اور نہ اس کے بعد ایسا فرمائے گا۔ وہ اپنی کسی لغزش کا ذکر نہیں فرما ئیں گے بلکہ فرما ئیں گے کہ مجھے اپنی فکر ہے، ہائے میری جان، ہائے میری جان۔ تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ، تم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ جاؤ چنانچہ لوگ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے، اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے رسول اور انبیائے کرام میں سب سے آخری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے تھے۔ لہٰذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟"تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" پس میں اس کام کے لیے چل پڑوں گا اور عرش عظیم کے نیچے آکر اپنے رب عزوجل کے حضور سجدہ کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی حمد اور ثنا ظاہر فرمائے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر ظاہر نہیں فرمائی ہوں گی۔ پھر مجھ سے فرمایا جائے گا۔ اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو کہ تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبولی فرمائی جائے گی۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا۔ اے رب ! میری امت، اے رب ! میری امت۔ پس فرمایا جائے گا کہ اے محمد ! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا ہمیں حساب نہیں لینا باب الایمن سے جنت میں داخل کر دو، جو اس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اور وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ جنت میں دوسرے دروازوں سے بھی جاسکتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بیشک جنت کے ہر دروازے کی چوڑائی اتنی ہے جتنا مکہ مکرمہ اور حمیر کے درمیان فاصلہ ہے یا مکہ معظمہ سے بھری جتنی دور ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا} [الإسراء: 3] حدیث نمبر ٤٧١٢)
وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت داؤد علیہ السلام پر قراءت آسان فرما دیا گیا تھا۔ پس وہ اپنے گھوڑے کو کسنے کا حکم دیتے اور اس کے تیار ہونے سے پہلے قرآن یعنی زبور کو پڑھ لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا} حدیث نمبر ٤٧١٣)
ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دورکرنے اور نہ پھیر دینے کا (پ ۱۵ بنی اسرائیل (۵٦) کی تفسیر, ابو معمر نے آیت: إِلَى رَبِّهِمُ الوَسِيلَةَ کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انسانوں میں سے بعض افراد بعض جنات کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ جن تو مسلمان ہو گئے لیکن یہ لوگ اپنے اسی دین پر قائم رہے۔ اشجعی، سفیان، اعمش کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ یہ واقعہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو ( پ ۱۵ بنی اسرائیل (۵٦) کا شان نزول ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُلْ: ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلاَ يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلاَ تَحْوِيلًا} [الإسراء: 56] حدیث نمبر ٤٧١٤)
أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الوَسِيلَةَ کی تفسیر, اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان : وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے (بنی اسرائیل ۵۷)۔ ابو معمر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت : ترجمہ کنز الایمان : وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے (بنی اسرائیل ۵۷) کے متعلق فرمایا کہ بعض جنات ایسے تھے جن کی کچھ لوگ عبادت کیا کرتے تھے ۔ پھر وہ جن تو مسلمان ہو گئے ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الوَسِيلَةَ} [الإسراء: 57] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٧١٥)
ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے نہ کیا وہ دکھا وا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو ( بنی اسرائیل ٦٠)۔کی تفسیر, عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آیت : ترجمہ کنز الایمان : اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو( بنی اسرائیل ٦٠) کے متعلق انہوں نے فرمایا: یہ سر کی آنکھوں سے دیکھنا ہے، کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تم کو شب معراج دکھایا گیا اور شجر ملعونہ سے تھوہر کا درخت مراد ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] حدیث نمبر ٤٧١٦)
إِنَّ قُرْآنَ الفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا کی تفسیر, الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں (بنی اسرائیل ۷۸ ) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے نماز فجر مراد ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جماعت کی نماز کو تنہا آدمی کی نماز پر پچیس گنا فضیلت ہے اور رات کے فرشتوں اور دن کے فرشتوں کا اجتماع نماز فجر کے وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر تم اس بات کا ثبوت دیکھنا چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ترجمہ کنز الایمان: بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں(بنی اسرائیل ۷۸ ) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ قُرْآنَ الفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] حدیث نمبر ٤٧١٧)
عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا کی تفسیر, الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں (پ ۱۵ بنی اسرائیل ٧٩) آدم بن علی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ گروہ بنا کر اپنے اپنے نبی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور! ہماری شفاعت فرمائیے ۔ حتی کہ شفاعت کی بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک آپہنچے گی۔ پس اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا فرمائے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] حدیث نمبر ٤٧١٨)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اذان سن کر یوں دعا مانگے "اے اللہ! اس مکمل اعلان اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام وسیلہ اور سب پر فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کرنا جس کا تو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔ ایسا کہنے والے کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گئی۔ اس کی حمزہ بن عبد اللہ نے بھی اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے, (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] حدیث نمبر ٤٧١٩)
وَقُلْ جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِلُ إِنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (پ ۱۵ بنی اسرائیل ۸۱) يَزْهَقُ ہلاک ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ میں تشریف آوری ہوئی تو بیت اللہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ پس آپ علیہ السلام ہر بُت کو وہ چھڑی مارتے جو آپ کے دست مبارک میں تھی اور فرماتے: ترجمہ کنز الایمان: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (پ ۱۵اینی اسرائیل (١۸) حق آگیا، اب نہ باطل ظاہر ہوگا اور نہ لوٹ کر آئے گا۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير ،بَابُ {وَقُلْ جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِلُ إِنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] " حدیث نمبر ٤٧٢٠)
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں (پ ۱۵ بنی اسرائیل ۸۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں موجود تھا اور آپ نے کھجور کی ایک لکڑی سے ٹیک لگا رکھی تھی کہ چند یہودی آپ کے پاس سے گزرے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق معلوم کرو، بعض کہنے لگے کہ تمہیں ان سے معلوم کرنے کی کیا حاجت ہے؟بعض نے کہا کہ ان کے پاس مت جاؤ،کہیں ایسا جواب نہ دیں جو تمہیں ناپسند ہو۔آخر کار یہی طے ہوا کہ معلوم کرنا چاہیے۔پس انہوں نے روح کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاموش رہے اور انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی کا نزول ہو رہا ہے، پس میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا ( پ ۱۵ بنی اسرائیل ۸۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: 85] حدیث نمبر ٤٧٢١)
وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ (بنی اسرائیل ۱۱۰) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد باری تعالٰی: ترجمہ کنز الایمان اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔ (پ ۱۵ بنی اسرائیل ۱۱۰) کے متعلق روایت کی تو انہوں نے فرمایا، اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ میں ہی رونق افروز تھے اور اپنے صحابہ کونماز پڑھاتے وقت آپ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھا کرتے تو اسے سن کر مشرکین کلام الٰہی کے متعلق بدکلامی کیا کرتے اور جس نے اسے نازل کیا اور جو لے کر آیا یا جس پر نازل ہوا، ان سب کے متعلق بد کلامی کیا کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی نمازوں میں قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے نہ کرو کہ اسے سن کر مشرکین قرآن کریم کے متعلق بد کلامی کریں اور نہ اتنی دھیمی آواز سے پڑھنا کہ تمہارے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان دونوں کا درمیانی راستہ اختیار کرو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] حدیث نمبر ٤٧٢٢)
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مذکورہ آیت ولا تَجْهَرُ بِصَلوتِك دعا کے متعلق نازل فرمائی گئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] حدیث نمبر ٤٧٢٣)
سورة الكهف مجاہد کا قول ہے کہ تَقْرِضُهُمْ کا معنی ہے ان سے کترا جانا وَكَانَ لَهُ ثُمُرٌ سونا اور چاندی۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے پھل مراد ہیں۔ بَاخِعٌ ہلاک کرنے والا ۔ أَسَفًا ندامت ہے۔ الْكَهْف پہاڑ کی غار - الرَّقِيمُ لکھا ہوا، یا رقم کرنا . رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ ہم نے ان کے دلوں میں صبر ڈالا، جیسے کہتے ہیں اگر ہم اس کے دل میں صبر نہ ڈالتے شَطَطًا حد سے بڑھنا۔ مرفقاً ہر وہ چیز جس کے ساتھ ٹیک لگاتے ہیں۔ تَزَاوَرُ جھک جاتا، یہ الزَّوَرِ سے مشتق ہے اور الْأَزْوَرُ سے مراد ہے بہت جھکنے والا ۔ فجوة کشادہ، اس کی جمع تجوات اور فجاء ہے جیسے زکوۃ اور رَكَاءِ الْوَصِیدُ صحن ، آنگن ، اس کی جمع الوصاية ہے، بعض کہتے ہیں کہ جمع وصل ہے اور بتاتے ہیں کہ الْوَصَيْدُ دروازے کو کہتے ہیں، چنانچه موصل یعنی دروازہ بند کر دیا گیا۔ بَعَثْنَاهُمْ ہم نے انہیں زندہ کیا۔ ان کی زیادہ۔ بعض کہتے ہیں کہ بہت حلال روزی، بعض کہتے ہیں وہ رزق جو پکانے پر پڑھ جائے۔ ابنِ عباس کا قول ہے کہ اُن کی خوراک۔ وَلَمْ تَظْلِمُ جو کم نہ ہو۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس کے حوالے سے کہا کہ الرَّقِيمُ سیسے کی ایک تختی تھی جس پر حاکم وقت نے اصحاب کہف کے نام لکھوا کر اپنے خزانے میں رکھ لیے تھے۔ فَضَرَبُ اللهُ عَلى آذَانِهِم پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سلا دیا۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مَوْئِلًا یہ أَلَتْ تَئِلُ سے مشتق ہے یعنی نجات پانے کی جگہ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مَوْئِلًا محفوظ مقام ، جائے امن ۔ اَ يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا سمجھ بوجھ سے عاری۔ باب۔ ترجمہ کنز الایمان : اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے کی تفسیر, امام حسین بن علی کا بیان ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور ایک مرتبہ میرے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم دونوں نے نماز نہیں پڑھی ہے؟ رَجْمًا بِالْغَيْبِ بغیر دیکھے۔ فُرُطًا ندامت، شرمندگی سُرَادِقُهَا ہر سے گھیرنے والی قناتوں کی طرح۔ يُحَاوِرُهُ محاورہ سے مشتق ہے۔ لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي یعنی وہی اللہ میرا رب ہے۔ اس میں ہمزہ کو حذف کر کے ایک نون کو دوسرے میں ملا دیا گیا ہے۔ زَلَقًا پھسلنے والی جگہ۔ هُنَالِكَ الوَلايَةُ اس کا مصدر الوَلِيِّ بمعنی وارث ہے۔ عُقْبًا اور عَاقِبَةً نيز عُقْبَى اور محثبته اور قُبُلًا تینوں طرح پڑھا جاتا ہے اور معنی ہے سامنے آنا۔ لِيُدْحِضُوا تا کہ پھسلا دیں، الدَّحْضُ پھسلانا گمراہ کرنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54] حدیث نمبر ٤٧٢٤)
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ البَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں یا قرنوں چلا جاؤں ( الکھف (٦٠) مراد طویل مدت ہے، اس کی جمع ہے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اس خدا کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے اُن پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اس کی جانب نہیں پھیرا تھا۔ پس اللہ تعالٰی نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ بیشک میرا ایک بندہ ہے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے اور وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ اے رب! میں اس تک کیسے پہنچوں؟ فرمایا ایک مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لو۔ پس جہاں وہ پچھلی گم ہو جائے وہ وہیں ہوگا۔ پس انہوں نے مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لی، پھر چل پڑے اور ان کے ساتھ ایک نوجوان حضرت یوشع بن نون بھی گئے تھے، حتیٰ کہ جب یہ ایک پتھر کے پاس پہنچے تو اس پر اپنے سر رکھ کر سو گئے، اس دوران پچھلی زنبیل میں تڑپی ، باہر نکلی اور پھر سمندر میں جاگری اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پاس سے پانی کا بہاؤ روک دیا تو اس کے لیے طاق کی طرح راستہ بن گیا۔ جب وہ بیدار ہوئے تو ساتھی بھول گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مچھلی کے متعلق کچھ بتاے۔ پس وہ باقی دن کا باقی حصہ اور پوری رات چلتے رہے، حتیٰ کہ جب صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خادم کو کہا کہ ہمارا صبح کا کھانا لاؤ ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا ہے ( آیت ٦٢) راوی کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تھکن اسی وقت محسوس ہوئی جب وہ اس جگہ سے آگے چلے گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا۔ پس خادم نے ان کی خدمت میں عرض کی: بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی (کے ذکر ) کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا ذکر کروں اور مچھلی نے تو سمندر میں اپنی راہ لی، تعجب ہے (آیت ٦٣) فرمایا۔ مچھلی کا سرنگ بنا کر جانا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کے لیے حیران کن تھا۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہی تو ہم چاہتے تھے۔ تو وہ اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے پیچھے لوٹے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب وہ اپنے قدموں کے نشانات کو دیکھتے ہوئے اس پتھر کے پاس واپس آپہنچے تو وہاں ایک شخص کو دیکھا جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ آپ کی زمین میں سلام کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ میں موسیٰ ہوں۔ کہا، کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ جواب دیا، ہاں وہی۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو جن کی تمہیں تعلیم دی گی ہے (آیت (٦٦) حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے ( آیت ٦٧) اے موسیٰ ! خدا کے علوم میں سے میں ایک ایسا علم سکھایا گیا ہوں جس کا آپ کو علم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم سے آپ کو ایسا علم دیا ہے جس کا مجھے علم نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ جلد اللہ چاہے تو تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور تمہارے کسی حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ اس پر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کے بارے میں نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (آیت (٦٨) اس کے بعد دونوں ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چل پڑے تو ایک کشتی گزری۔ انہوں نے ان سے بات کی تاکہ کشتی میں ان کو بھی بٹھا لیا جائے۔ انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر کسی معاوضے کے بٹھا لیا جب دونوں کشتی میں سوار ہو گئے۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ حضرت خضر علیہ السلام نے بھولے سے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا کہ جن لوگوں نے ہمیں کرائے کے بغیر بٹھا لیا، تم نے جان بوجھ کر ان کی کشتی کے تختے کو توڑ دیا تاکہ سارے سواروں کو ڈبو دو۔ بیشک یہ تم نے برا کیا ہے ( آیت ٧١ ) کہا، میں نے تو اس سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے ( آیت (۷۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ مجھ سے بھول پر گرفت نہ کرو اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالا ( آیت ۷۳) راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پہلی بھول ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک چڑیا کشی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ میں پانی بھر لیا تو حضرت خضر علیہ السلام کہنے لگے کہ میرے اور آپ کے علم کی مثال اللہ کے علم کے سامنے ایسی ہے جیسے اس چڑیا نے سمندر سے اپنی چونچ بھری لیکن اس ایک بوند سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پھر وہ دونوں کشتی سے باہر نکل آئے اور ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو دوسرے لڑکوں میں کھیلتے ہوئے دیکھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے سر سے پکڑا، اپنے ہاتھوں گردن مروڑی اور مار دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم نے تو ایک ستھری جان کو بغیر جان کے بدلے قتل کر دیا بیشک تم نے یہ بُرا کام کیا ہے، کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے ( آیت ۷٤، ۷۵ ) راوی کا بیان ہے کہ یہ بات پچھلی سے بھی زیادہ سخت تھی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہو چکا۔ پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے ان لوگوں سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کی مہمان نوازی کرنا قبول نہ کیا پھر دونوں نے گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنا چاہتی ہے تو اس بندے نے اسے سیدھا کر دیا (آیت ۷٦ ۷۷)۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ دیوار ایک طرف جھکی ہوئی تھی جو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اسے سیدھا کر دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب ان لوگوں نے ہمیں کھانا نہ دیا اور ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کیا تو اگر تم چاہتے تو اس پر ان سے کچھ مزدوری لے لیتے ( آیت ۷۷) اس پر حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ یہ میری اور آپ کی جدائی ہے۔ یہ ہے پھیر ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا ( آیت ۷۸ تا (۸۲) اس پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ حضرت حضرت موسی علیہ السلام صبر کرتے تا کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی ہمیں اور خبریں بھی بیان فرماتا۔ سعید بن جبیر کا بیان ہی کہ حضرت ابن عباس یوں پڑھا کرتے تھے: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا ۔ اور اسے یوں پڑھتے تھے: وَأَمَّا الغُلاَمُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ ( بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ البَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا} [الكهف: 60] «زَمَانًا وَجَمْعُهُ أَحْقَابٌ» حدیث نمبر ٤٧٢٥)
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے اپنی پچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی (پ ۱۵ الکھف (٦١) سَرَبًا راستہ - يَسْرُبُ چلنا، چلے اور سَارِبٌ بالنَّهَارِ اسی سے بنا ہے۔ یعلی بن مسلم اور عمرو بن دینار سعید بن جبیر سے راوی ہیں کہ اور دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کیا ہے ابن جریج کا بیان ہے کہ ان دونوں کے علاوہ میں نے اور حضرات سے بھی سنا کہ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس ان کے دولت کدے میں بیٹھا ہوا تھا انہوں نے فرمایا: مجھ سے کچھ پوچھوں میں نے عرض کی کہ اے حضرت ابن عباس! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ کوفہ میں ایک قصہ گو ہے جسے نوف کہا جاتا ہے، وہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل والے نہیں ہیں عمرو بن دینار کی روایت میں ہے کہ: انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اس خدا کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔ یعلی بن مسلم کی روایت میں ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ مجھے حضرت اُبی بن کعب نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کے سامنے ایسا وعظ فرمایا کہ وہ رونے لگے اور قلوب پر رقت طاری ہوگئی۔ جب یہ واپس لوٹے تو ایک شخص ان سے آکر ملا اور کہنے لگا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام !کیا اس وقت روئے زمین پر کوئی آپ سے زیادہ علم والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کوئی نہیں۔ چنانچہ ان پر عتاب ہوا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ تعالیٰ کی جانب نہیں لوٹا یا تھا۔ چنانچہ ان سے ارشاد ہوا کہ تم سے زیادہ علم والا کیوں نہیں!(یعنی ہے تم سے زیادہ علم والا) عرض گزار ہوئے اے رب! وہ کہاں ہے؟ فرمایا جہاں دو سمندر ملتے ہیں۔ عرض کی، اے رب! مجھے ایسی نشانی بتا دے کہ میں اس مقام کو پہچان لوں۔ ابن جریج کا بیان ہے کہ عمرو بن دینار نے مجھے بتایا کہ جس جگہ مچھلی تم سے جدا ہو جائے ۔ یعلی بن مسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ایک مردہ مچھلی لے لو، جہاں اُس میں روح پھونک دی جائے پس انہوں نے مچھلی لے کر زنبیل میں ڈال لی اور خادم سے فرمایا کہ میں تمہیں یہ کام دیتا ہوں کہ جہاں یہ مچھلی ہمارا ساتھ چھوڑے تو اسی وقت مجھے بتا دینا، خادم نے عرض کی کہ یہ کام کون سا زیادہ ہے؟ چنانچہ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ کنز الایمان : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا (پ ۱۵ الکھف (٦٠) سعید بن جبیر نے یوشع بن نوں کا نام نہیں لیا۔ راوی کا بیان ہے کہ جب وہ دونوں شریان کے مقام پر ایک پتھر کے سائے میں تھے تو اس وقت مچھلی تڑپنے لگی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نیند میں تھے خادم نے سوچا کہ میں انہیں بیدار نہ کروں۔ حتی کہ جب وہ خود بیدار ہوئے تو یہ انہیں بتانا بھول گئے کہ مچھلی تڑپ کر سمندر میں جا پہنچی! اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کا بہاؤ روک دیا اور اس کے لیے ایسا راستہ بن گیا جیسے پتھر میں۔عمرو بن دینار نے مجھے بتایا کہ جیسے اس طرح پتھر میں سوراخ ہو جاتا ہے اور اپنے دونوں انگوٹھوں اور ساتھ والی انگلیوں سے حلقے بنا کر دکھائے۔ ہمیں اس سفر میں دشواری پہنچی ہے۔خادم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دشواری دُور فرما دی۔ یہ الفاظ سعید بن جبیر کی روایت میں نہیں ہیں۔ پھر اس نے انہیں بتایا تو دونوں واپس لوٹے تو حضرت خضر علیہ السلام انہیں مل گئے۔ ابن جریج کا بیان ہے کہ عثمان بن ابوسلیمان کی روایت میں ہے کہ وہ سبز زمین پوش بچھا کر سطح سمندر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں لیٹے ہوئے تھے جس کا ایک سرا دونوں پیروں کے نیچے دبایا ہوا تھا اور دوسرا اُن کے سر کے نیچے تھا پس موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کہا: کیا میرے علاقے میں بھی سلام ہے؟ آپ کون ہیں؟ جواب دیا، میں موسیٰ ہوں، کہا بنی اسرائیل والے حضرت موسیٰ؟ جواب دیا، ہاں وہی، پوچھا، آپ کس غرض سے تشریف لائے ہیں؟ کہا کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ جو نیک بات تمہیں سکھائی گئی ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ سکھا دو ۔ کہا اے موسیٰ! کیا یہ آپ کے لیے کافی نہیں کہ آپ کے پاس توریت مقدس ہے اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہے؟ بیشک میرے پاس ایک ایسا علم ہے جس کا پوری طرح سیکھنا آپ کی استطاعت میں نہیں اور بیشک آپ کے پاس ایک ایسا علم ہے جس کا سیکھ لینا میری استطاعت میں نہیں ہے پھر ایک پرندے نے سمندر سے اپنی چونچ بھری تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ خدا کی قسم، میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے سامنے ایسے ہیں جیسے اس پرندے نے سمندر سے چونچ میں پانی لیا ہے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہو گئے۔ یعنی انہوں نے ایک چھوٹی سی کشتی پائی جو لوگوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی جانب لے جاتی تھی۔ پس انہوں نے پہچان کر کہا کہ یہ تو اللہ کا نیک بندہ ہے۔ ہم نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ کیا یہ انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں کہا تھا؟ جواب دیا۔ ہاں۔ کہنے لگے کہ ہم ان سے کرایہ نہیں لیں گے، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس میں سوراخ کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا، کیا یہ تم نے اس لیے چیرا ہے کہ سارے سواروں کو ڈبو دو۔ یہ تم نے بُرا کام کیا ( آیت ٧١)حضرت خضر علیہ السلام نے کہا، کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے (آیت ۷۲ ) پہلی بات بھول کر ہوئی۔ دوسری بطور شرط اور تیسری دانستہ کی تھی، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ مجھ پر میری بھول کے سبب گرفت نہ کریں اور مجھ پر میرے کام میں دشواری میں نہ ڈال (آیت ۷۳) ایک لڑکا ملا تو اس بندے نے اسے قتل کر دیا ( آیت ۷۴) یعلی بن مسلم نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ لڑ کے کھیلتے ہوے پائے تو ان میں سے ایک کافر اور ہونہار لڑکے کو پکڑ کر لٹایا اور چھری سے ذبح کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے ایک ستھری جان کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دیا ، ابھی تو یہ گنہگار بھی نہ تھا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قرات میں زَكِيَّة اور زَاكِيَةً دونوں طرح ہے جیسے غُلاَمًا زَكِيًّا پھر دونوں چل دیئے ، حتی کہ ایک دیوار پائی جو کرنے والی تھی تو وہ سیدھی کردی ( آیت ۷۷) سعید بن جبیر نے کہا کہ اپنے ہاتھ سے اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ اسے اس طرح سیدھا کیا تھا، یعلی بن مسلم کا بیان ہے کہ میرے خیال میں سعید بن جبیر نے کہا تھا کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ پھیر کر وہ سیدھی کھڑی کر دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدور لے لیتے ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ اتنی مزدوری جس سے کھانا کھا لیتے اور وَكَانَ وَرَاءَهُمْ کی جگہ حضرت ابن عباس کی قرآت میں كَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكُ ہے۔ سعید بن جبیر کے سوا دوسرے حضرات کے گمان میں بادشاہ کا نام ہر دین برد ہے اور مقتول لڑکے کا نام جیسور۔ بہر حال وہ بادشاہ ہر صحیح سالم کشتی کو جبرا چھین لیا کرتا تھا۔ جب یہ کشتی اس کے پاس سے گزرے گی تو اس کے عیب دار ہونے کے سبب اسے چھوڑ جائے گا۔ چنانچہ جب وہ گزر جائے گا تو یہ لوگ اسے ٹھیک کرلیں گے اور اس کے ساتھ نفع کماتے رہیں گے بعض حضرات کا قول ہے کہ کشتی کے سوراخ کو سیسے سے بند کر دیا اور بعض نے کہا ہے کہ وہ لاکھ سے بند کیا گیا۔ اس لڑکے کے والدین مومن تھے اور وہ خود کافر تھا تو ہمیں ڈر ہوا کہ مبادا وہ اُن کو سرکشی اور کفر پر چڑھا دے ( آیت ۸۰) کہ وہ اس کی محبت سے مجبور ہو کر دین میں اس کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ پس ہم نے چاہا کہ اُن دونوں کا رب اس سے بہتر ستھرا کیونکہ قرآن کریم میں اس کے لیے أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً فرمایا گیا ہے اور مہربانی میں زیادہ قریب عطا کر دے۔ (آیت ۸۱) یعنی ان دونوں کے لیے اس پہلے لڑکے سے جس کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا آنے والا رحم میں زیادہ نزدیک ہو۔ سعید بن جبیر کے علاوہ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس کی جگہ لڑکی پیدا ہوئی لیکن اُن کی انگلی اولاد کے متعلق داؤد بن ابو عاصم نے کئی حضرات سے روایت کی کہ وہ لڑکی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي البَحْرِ سَرَبًا} [الكهف: 61] « حدیث نمبر ٤٧٢٦)
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا ۔۔۔تا اپنی راہ لی اچنبا ہے۔ (الکھف (٦٣) صُنْعًا عمل - حِوَلًا پھر جانا۔ ترجمہ کنز الایمان : موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے (الکھف (٦٤) إِمْرًا برا کام - يَنْقَضَّ گرنے والی جیسے دانت گرنے والا ہوتا ہے۔ لَتَخِذْتَ اور وَاتَّخَذْتَ ہم معنی ہیں رُحْمًا یہ الرُّحْمِ سے ہے یعنی رحمت کا بہت ہی مبالغہ اور ہمارے خیال میں یہ الرّحِیم سے ہے۔ جیسے مکہ مکرمہ کو أُمَّ رُحْمٍ کہتے ہیں کیونکہ اس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بارگاہ میں عرض کی کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وہ موسیٰ علیہ السلام جدا ہے جس نے حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔ ہم سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ انہوں نے کہا، میں ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کی نسبت اس کی جانب نہ کی تھی اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جو تم سے زیادہ علم والا ہے۔ عرض کی اے رب! میں اس تک کیسے پہنچوں ؟ فرمایا ایک مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لو۔ جب مچھلی تم سے جدا ہو جائے تو اُس کے پیچھے چلے جانا۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چل دیئے اور ان کے ساتھ ان کا خادم حضرت یوشع بن نوں تھا۔ مچھلی ان کے پاس تھی حتیٰ کہ وہ ایک پتھر کے پاس پہنچے تو اس کے قریب ٹھہر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پر اپنا سر رکھ کر سو گئے۔ سفیان نے عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے کی روایت میں کہا ہے کہ اس پتھر کے نیچے ایک چشمہ تھا جس کو چشمہ حیات کہتے ہیں۔ جسے اس کا پانی مل جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے۔ پس مچھلی کو اس چشمے کا پانی مل گیا تھا راوی کا بیان ہے کہ اس نے حرکت کی پھر اچھل کر زنبیل سے باہر نکل گئی اور سمندر میں داخل ہو گئی جب حضرت موسی علیہ السلام جاگے تو خادم سے کہا کہ ہمارا صبح کا کھانا لاؤ (آیت ٦٣ ) راوی کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تھکن اسی وقت محسوس ہوئی جب اس جگہ سے آگے چلے گئے جس کا حکم فرمایا گیا تھا، ان کے خادم حضرت یوشع بن نون نے عرض کی۔ بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ اس کا ذکر کروں ( آیت ٦٣) ۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے تو انہوں نے طاق کی طرح سمندر میں مچھلی کی گزرگاہ دیکھی تو وہ خادم کے لیے حیران کن تھا اور مچھلی کے لیے سرنگ تھی۔ رادی کا بیان ہے کہ جب وہ اسی پتھر کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شخص کپڑے میں لپٹا ہوا موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا۔ اُس نے کہا، آپ کی زمین میں سلام کہاں سے؟ انہوں نے کہا کہ میں موسیٰ ہوں۔ کہا کیا بنی اسرائیل والے حضرت موسیٰ؟ جواب دیا، ہاں وہی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا، کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گے نیک بات جو تمہیں سکھائی گئی ہے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا، اے موسیٰ! بیشک آپ ایک ایسا علم رکھتے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھایا ہے اور مجھے اس کا علم نہیں اور میں ایک ایسا علم رکھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے اور آپ کو اس کا علم نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔ کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کسی بات کے متعلق نہ پوچھنا حتیٰ کہ میں خود اُس کے بارے میں آپ سے ذکر کروں؟ پس وہ دونوں چل دیئے، ساحل کے ساتھ ساتھ جارہے تھے کہ وہاں سے ایک کشتی گزری۔ حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر ان لوگوں نے بلا معاوضہ انہیں بٹھا لیا۔ پس یہ معاوضے کے بغیر کشتی میں بیٹھ گئے۔ راوی کا بیان ہے کہ کشتی کے کسی کنارے پر ایک چڑیا آبیٹھی اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ میں پانی بھر لیا ، حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میرا، آپ کا اور ساری مخلوق کا علم مل کر اللہ کے علم کے حضور ایسا ہے جیسے سمندر کے مقابلے میں اس چڑیا کی چونچ میں پانی کی بوند ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کچھ دیر ہی بیٹھے ہوا تھا کہ حضرت خضر علیہ السلام نے بسولہ لے کر کشتی میں سوراخ کر دیا یا تختہ چیر دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ ان لوگوں نے معاوضے کے بغیر ہمیں کشتی میں بٹھایا ہے لیکن یہ کیا کہ تم نے اس میں سوراخ کردیا تاکہ سارے سواروں کو ڈبو دو، یہ تو برا کیا ہے ( آیت ٧١ ) پھر وہ دونوں چل دیے، حتی کہ ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو حضرت خضر علیہ السلام نے اسے سر سے پکڑ لیا اور تن سے سر جدا کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ کیا تم نے ستھری جان بغیر کسی جان کے بدلے قتل کردی؟ بیشک تم نے بہت بری بات کی (آیت ۷٤) حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے. گاؤں والوں نے دعوت دینی قبول نہ کی۔ پھر دونوں نے گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنا ہی چاہتی تھی راوی کا بیان ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کے سہارے سے دیوار کو سیدھا کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ بیشک جب ہم اس گاؤں میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہماری دعوت کرنا قبول نہ کیا اور ہمیں کھانا نہ کھلایا۔ لہذا اگر تم چاہتے تو اس دیوار کی ان سے مزدوری لے لیتے ( آیت ۷۷) حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میری اور آپ کی جدائی ہے۔ اب میں آپ کو اُن باتوں کا راز بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا ( آیت ۷۸) اس پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ دونوں کے اور بھی واقعات ہمارے لیے بیان فرمائے جاتے۔ راوی کا بیان ہے کہ ان واقعہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ - غَصْبًا، وَأَمَّا الغُلاَمُ فَكَانَ كَافِرًا پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الحُوتَ} [الكهف: 63] حدیث نمبر ٤٧٢٧)
قُلْ: هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا کی تفسیر, مصعب بن سعد کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے آیت : ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں (الکھف ۱۰۳) کے متعلق دریافت کیا کہ کیا یہ خوارج کے متعلق ہے؟ فرمایا، نہیں بلکہ وہ یہود و نصاری ہیں۔ یہود نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصاری جنت کا انکار کرتے اور کہتے کہ اس میں کھانا پینا نہیں ہے، رہے حرور والے خوارج، تو یہ ان لوگوں میں ہیں: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد (سورۃ البقرہ، آیت ۲۷) اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان کا نام فاسق رکھا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُلْ: هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا} [الكهف: 103] حدیث نمبر ٤٧٢٨)
أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے ( الکھف (۱۰۵)۔ حضر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بروز قیامت ایک بہت ہی موٹے شخص کو جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، تو اتنا بھاری بھر کم ہونے کے باوجود اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا اور فرمایا کہ یہ آیت پڑھ لو: ترجمہ کنز الایمان : تو ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے ( الکھف (۱۰۵) اس کو یحییٰ بن بکیر، مغیرہ بن عبدالرحمن نے بھی ابوالزناد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ} [الكهف: 105] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٧٢٩)
سورة مريم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج کفار اپنی ظاہری گمراہی کے سبب نہ خدا کی باتوں کو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں۔ پس ارشاد باری تعالیٰ أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ کفار کے بارے میں ہے کہ قیامت میں خدا کی باتوں کو سنیں گے اور دیکھیں گے، لَأَرْجُمَنَّكَ میں تجھ پر گالیوں کا پتھراؤ کر دوں گا۔رِئْيًا دیکھنے میں، ابووائل کا قول ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو بخوبی علم تھا کہ متقی غیرت والا ہوتا ہے اسی لیے انہوں نے کہا تھا: إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا ابن عیینہ کا قول ہے کہ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا کا مطلب ہے کہ شیطان ان کو گناہ پر ابھارتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ إِدًّا سے مراد ہیں پیاسے۔ أَثَاثًا مالی لحاظ سے۔ اداً بڑی بات۔ رِكْزًا پست آواز ۔ غَيًّا نقصان میں ۔ بُكِيًّا یہ بَاكٍ کی جمع ہے مراد ہے رونے والے۔صِلِيًّا جلنا، یہ صَلِيَ يَصْلَى سے ہے ۔ نَدِيًّا اور النَّادِی دونوں سے مجلس مراد ہے۔ ترجمہ کنز الایمان :"اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا کی تفسیر؟ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے اہل جنت ! پس وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے، ہاں جانتے ہیں، یہ تو موت ہے کیونکہ سب نے اسے دیکھا ہوگا پھر پکارا جائے گا، اے اہل جہنم ! وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے ہاں جانتے ہیں یہ تو موت ہے کیونکہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر اسے ذبح کر کے کہا جائے گا۔ اے اہلِ جنت ! تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اب کسی کو موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہو چکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور نہیں مانتے ( مریم (۳۹) یعنی دنیا کے مشتاق اور ایمان نہیں لاتے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الحَسْرَةِ} [مريم: 39] حدیث نمبر ٤٧٣٠)
وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور(جبریل علیہ السلام نے محبوب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کی ) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے (پ ۱۹ مریم ٦٤ ) - - حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا کہ جتنی مرتبہ تم ہماری زیارت کو آتے ہو اس سے زیادہ مرتبہ آنے سے تمہیں کون روکتا ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان : ( اور جبریل نے محبوب سے عرض کی ) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں (مریم ٦٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا} [مريم: 64] حدیث نمبر ٤٧٣١)
أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے (مریم ۷۷)۔ مسروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی اجرت لینے عاص بن وائل سہمی کے پاس گیا تو وہ کہنے لگا کہ میں اس وقت تک تمہیں اجرت نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کردو۔ میں نے کہا، اگر تم مرکر دوبارہ بھی زندہ ہو جاؤ تو یہ کام میں پھر بھی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا، کیا میں مرکر زندہ ہو سکتا ہوں؟ میں نے جواب دیا، ہاں۔ اس نے کہا وہاں بھی میرے پاس مال و اولاد ہوگی لہٰذا وہیں تمہارا حساب چکا دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے (مریم ۷۷ ) ثوری، شعبه، حفص، ابو معاویہ اور وکیع نے بھی اعمش سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف، کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ: لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [مريم: 77] حدیث نمبر ٤٧٣٢)
أَطَّلَعَ الغَيْبَ أَمُ اتَّخَذَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے (مریم ۷۸)۔ عَهْدًا سے پکا وعدہ مراد ہے۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مکہ مکرمہ کے اندر لوہار کا کام کرتا تھا تو میں نے عاص بن وائل سہمی کے لیے ایک تلوار بنا کر دی تھی جب میں مزدوری لینے اس کے پاس گیا تو اس نے کہا۔ میں تمہیں اس وقت تک نہیں دوں گا۔ جب تک تم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرو۔ میں نے کہا کہ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار تو میں اس وقت بھی نہیں کروں گا کہ اللہ تعالیٰ موت دے اور دوبارہ زندہ کر دے۔ اس نے کہا جب اللہ تعالیٰ مجھے موت دے کر دوبارہ زندہ کرے گا تو اس وقت بھی میرے پاس مال و اولاد ہونگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے (مریم۔ ۷۸) اس روایت میں موثقًا کا لفظ ہے لیکن اشجعی نے جو سفیان سے روایت کی اُس میں نہ سَيْفًا کا لفظ ہے اور نہ مَوْثِقًا کا (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {أَطَّلَعَ الغَيْبَ أَمُ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا} حدیث نمبر ٤٧٣٣)
كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے (مریم ۷۹)۔ مسروق حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ دورِ جاہلیت میں، میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ میرا عاص بن وائل پر قرض تھا، جب میں تقاضا کرنے اس کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انکار نہ کر دو۔ پس میں نے کہا کہ اگر تمہیں اللہ تعالی مار کر دوبارہ زندہ کر دے، میں پھر بھی ان کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا، تو میرا پیچھا چھوڑ دو، جب میں مرکر دوبارہ زندہ ہو جاؤں گا، پھر مجھے مال و اولا د دیئے جائیں گے تو اس وقت تمہارا حساب چکا دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولا دملیں گے ( مریم ٧٧) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ العَذَابِ مَدًّا} [مريم: 79] حدیث نمبر ٤٧٣٤)
وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (مریم ۷۹)۔ ابن عباس کا قول ہے کہ الجِبَالُ هَدًّا سے پہاڑ کا مسمار ہونا مراد ہے۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں لوہار کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل پر میرا قرضہ تھا۔ میں تقاضا کرنے اس کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ میں اس وقت تک نہیں "ادا" کروں گا جب تک تم محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کر دو۔ میں نے کہا کہ مرکر دوبارہ زندہ ہو جاؤ تب بھی میں اُن کا انکار نہیں کروں گا اس نے کہا کہ مرنے کے بعد میں زندہ تو ضرور ہو جاؤں گا لہذا جلد ہی تمہارا قرضہ ادا کردوں گا جبکہ مال و اولاد بھی مجھے واپس لوٹا دیئے جائیں گے۔ اس پر یہ وحی نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان: کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے کیا غیب کو جھانک آیا ہے یارحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے ہر گز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (مریم ۷۷-۸۰) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا} [مريم: 80] حدیث نمبر ٤٧٣٥)
سُورَةُ طه ابن جبیر اور ضحاک کا قول ہے کہ حبشہ کی زبان میں طَهْ اور مرد اے فلاں کو کہتے ہیں۔ عُقْدَةٌ اس کو کہتے ہیں کہ آدمی سے حروف کی صحیح ادائیگی نہ ہو سکے یا اٹک اٹک کر بات کرے۔ أَزْرِي میری پیٹھ۔ فَيَسْحَتَكُمْ تمہیں ہلاک کرے۔ المُثْلَى یہ الأَمْثَلِ مونث ہے یعنی تمہارا دین، جیسا کہ کہتے ہیں خُذِ المُثْلَى يَا خُذِ الأَمْثَلَ, ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا کہتے ہیں کہ آج وہ صف میں شامل ہوا یعنی اس نے نماز کی جگہ پر آکر نماز پڑھی۔ فَأَوْجَسَ دل میں ڈر محسوس کیا، یہاں خاء کہے کسرہ کی وجہ سے واؤ حذف ہوگئی۔ جُذُوعِ شاخیں۔ خَطْبُكَ تیرا حال مِسَاسَ مصدر ہے۔ مَاسَّهُ مِسَاسًا لَنَنْسِفَنَّهُ ہموار زمین۔ مجاہد کا قول ہے کہ مِنْ زِينَةِ القَوْمِ قوم کے زیورات جو فرعون کے ساتھیوں سے مستعار لیے تھے۔ فَقَذَفْتُهَا پس میں نے ان کو ڈال دیا۔ أَلْقَى ڈالا۔ کیا فَنَسِيَ مُوسی وہ یہ کہتے تھے کہ رب نے غلطی کی ۔ لاَ يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا یعنی بچھڑا ان کی بات کا جواب نہیں دیتا۔ هَمْسًا پیروں کی چاپ۔ حَشَرْتَنِي أَعْمَى یہ میری حجت تھی کہ وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا دنیا میں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ بقبس جب راستہ بھول گئے اور سردی محسوس ہوئی تو کہا کہ میں جاتا ہوں شاید کوئی راستہ بتانے والا مل جائے یا تا پنے کے لیے تھوڑی سی آگ لے آؤں گا ۔ ابن عیینہ کا قول ہے کہ أَمْثَلُهُمْ ان کا عقلمند آدمی۔ ابن عباس کا قول ہے کہ هَضْمًا اس پر ظلم نہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں ضائع کر دی جائیں۔ عِوَجًا ناله أَمْتًا ٹیلہ - سِيرَتَهَا الأولى .... پہلی حالت پر۔ النُّهَى پرہیز گاری۔ ضَنْكًا بد بختی - هَوَى بدبخت ہوا۔ المُقَدَّسِ برکت والی طُوًى ایک وادی کا نام ہے۔ بِمِلْكِنَا ہمارے حکم سے۔ مَكَانًا سِوًى ہمارے اور تمہارے درمیان- يَابِسًا خشک۔ عَلَى قَدَرٍ اندازے پر بمطابق وعده لا تَنِيَا کمزوری نہ دکھانا۔ ترجمہ کنز الایمان : اور میں نے تجھے خاص اپنے لئے بنایا (طہ ٤١) کی تفسیر , حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ وہی ہیں جنہوں نے تمام انسانوں کو دشواری میں ڈالا اور جنت سے نکلوایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اُن سے کہا کہ آپ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے لیے چنا اور آپ پر توریت نازل فرمائی۔ کہا ہاں وہی ہوں، کہا تو آپ نے اس پر یہ بات میری پیدائش سے پہلے میرے لیے لکھی ہوئی پائی ہوگی۔ جواب دیا۔ ہاں، تو حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حجت قائم کر دی۔ الیم سے سمندر مراد ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي} [طه: 41] حدیث نمبر ٤٧٣٦)
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل اور ان کے لئے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی (طہ ٧٨)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو یہودی عاشورے کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب اُن سے اس متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آج کے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی نسبت ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ نزدیک ہیں، لہٰذا تم بھی اس کا روزہ رکھو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي البَحْرِ يَبَسًا لاَ تَخَافُ دَرَكًا وَلاَ تَخْشَى، فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُمْ مِنَ اليَمِّ مَا غَشِيَهُمْ وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَى} [طه: 78] «اليَمُّ البَحْرُ» حدیث نمبر ٤٧٣٧)
فَلاَ يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الجَنَّةِ فَتَشْقَى كي تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (طہ ١١٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بحث کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ وہی ہیں جنہوں نے اپنی لغزش کے سبب تمام انسانوں کو جنت سے نکلوایا اور دشواری میں ڈال دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ اے موسیٰ ! آپ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لیے چنا؟ کیا آپ مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لیے لکھ دی تھی! یا میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر فرمائی تھی؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلاَ يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الجَنَّةِ فَتَشْقَى} [طه: 117] حدیث نمبر ٤٧٣٨)
سورة الانبياء حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورہ بنی اسرائیل، الکہف، مریم، طہ اور الانبیاء میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے بہت فصاحت والی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو میں نے پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ جُذَاذًا ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ حسن بصری کا قول ہے کہ فِي فَلَكٍ تارے اس طرح آسمان میں گھومتے ہیں، جیسے چرخہ گھومتا ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ نَفَشَتْ چر گئیں۔ يَسْبَحُونَ رو کے جائیں گے۔ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً تمہارا دین ایک ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حَصَبُ حبشہ کی زبان میں حَطَبُ یعنی ایندھن ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ أَحَسُّوا اس سے توقع رکھی یہ أَحْسَسْتُ سے ہے۔ خَامِدِينَ بجھے ہوئے۔الحَصِيدُ جڑ سے کاٹا یا اکھاڑا ہوا، یہ واحد تثنیہ اور جمع سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لَا يَسْتَخْسِرُونَ وہ اُکتاتے نہیں اور حَسِير اسی سے نکلا ہے، جیسے حَسَرْتُ بَعِيرِی میں نے اپنے اونٹ کو تھکا دیا۔ عَمِيقٌ دور دراز - نُكِسُوا اٹھائے گئے۔ صَنْعَةَ لَبُوسٍ زر ہیں ۔ تَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ اختلاف کیا۔ الحَسِيسُ اور الحِسُّ، الجَرْسُ اور الهَمْسُ ہم معنی ہیں یعنی ہلکی آواز ۔ آذَنَّاكَ تجھ کو آگاہ کیا ۔ آذَنْتُكُمْ میں نے تمہیں خبر دی تو برابر ہو گئے اور کوئی دھوکا نہیں کیا ۔ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ ... شاید تم سمجھ جاؤ۔ ارْتَضَى راضی ہوا ۔ التَّمَاثِيلُ : اصنام - السِّجِلُّ صحیفہ، کتا بچہ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الأَنْبِيَاءِ،حدیث نمبر ٤٧٣٩)
ترجمہ کنز الایمان : جیسے پہلے اسے بنایا تھا (الانبیاء ۱۱۷) کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بروز قیامت جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی جانب اکٹھا کیا جائے گا تو تم برہنہ پاؤں، برہنہ بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جاؤ گے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنز الایمان : جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کر دیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا ( الانبیاء (۱۱۷) پھر قیامت میں جس کو سب پہلے لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ جان لو کہ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے اور فرشتے ان کو دوزخ کی طرف لے چلیں گے، میں عرض کروں گا اے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ پس کہا جائے گا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا چاند چڑھایا تھا؟ پس میں وہی کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا تھا کہ : ترجمہ کنز الایمان: اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے (المائدہ ۱۱۷) پھر کہا جائے گا کہ جیسے ہی تم ان سے جدا ہوئے تو یہ مرتد ہو کر اپنی ایڑیوں پر پھر گئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا} [الأنبياء: 104] حدیث نمبر ٤٧٤٠)
سورۃ الحج۔ ابن عیینہ کا قول ہے کہ المُطْمَئِنِّينَ اللہ پر بھروسہ کرنے والے ابن عباس کا قول ہے کہ فِي أُمْنِيَّتِهِ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے تو شیطان آپ کی بات میں اپنی بھی ملا دیتا۔تو اللہ تعالیٰ شیطان کی ملاوٹ کو مٹا دیتا اور اپنی آیات کو محکم فرما دیتا، بعض کے نزدیک یہ أُمْنِيَّتُهُ ہے یعنی اس کا پڑھنا۔ إِلَّا أَمَانِيَّ یعنی پڑھتے ہیں اور لکھتے نہیں، مجاہد کا قول ہے کہ مَشِيدٌ چونے کے ساتھ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ يَسْطُونَ زیادتی کرتے ہیں بعض نے کہا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ پکڑ کرتے ہیں۔ وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ دل میں بات ڈالی گئی ۔ ابن عباس کا قول ہے بِسَبَبٍ سے مراد ہے کہ رتی کے ساتھ جو گھر کی چھت تک ہو۔ تَذْهَلُ سے مشغول ہونا۔ غافل ہو جانا مراد ہے۔ وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں (الحج ۲ ) ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بروز قیامت اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اے آدم! وہ عرض کریں گے اے رب ! میں تیری بارگاہ میں حاضر اور حکم ماننے کے لیے تیار ہوں۔ پس ایک آواز آئے گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے جہنمیوں کو الگ کر دو، وہ عرض کریں گے کہ اے رب! جہنم کی جانب کس کو بھیجوں؟ فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو۔ پس اس وقت حاملہ کا حمل گر جائے گا اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے ترجمہ کنز الایمان : اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں کے مگر ہے یہ کہ اللہ کی بار کڑی ہے (الحج (۲) صحابہ کرام کو اس کا بڑا غم ہوا اور ان کے چہروں کا رنگ متغیر ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوسو نناوے یاجوج و ماجوج سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں میں اس طرح ہو گے جیسے سفید بیل کے پہلو میں کالا بال یا کالے بیل کے پہلو میں سفید بال ہوتا ہے۔ میں پرامید ہوں کہ تم اہل جنت میں چوتھائی ہو گے۔ پس ہم نے تکبیر کہی ، پھر آپ نے فرمایا۔ اہل جنت کا تہائی حصہ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا کہ اہل جنت کا نصف۔ ہم نے پھر تکبیر کئی۔ ابواسامہ نے اعمش سے روایت کی ہے کہ : ترجمہ کنز الایمان : اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے (الحج ۲ ) اور کہا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانویں۔ جریر اور عیسی بن یونس اور ابو معاویہ کی روایت میں ہے کہ: نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى} [الحج: 2] حدیث نمبر ٤٧٤١)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی منھ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاتا یہی ہے صریح نقصان اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا برا بھلا کچھ نہ کرے یہی ہے دور کی گمراہی (الحج ١١-١٢) عَلى حَرْفٍ شک کے ساتھ۔ آتْرَفْنَاهُمُ ہم نے انہیں وسعت دی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ کے متعلق فرمایا ہے کہ ایک شخص مدینہ منورہ میں ایسا بھی آکر رہا کہ اس کی بیوی اگر لڑکا جنتی اور جانور بھی بچے دیتے تو کہتا کہ یہ دین بہت اچھا ہے اور اگر اس کی بیوی لڑکا نہ جنتی اور اس کے جانور بچے نہ دیتے تو کہتا یہ دین تو بُرا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ} [الحج: 11]: شَكٍّ، {فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةَ} [الحج: 11] حدیث نمبر ٤٧٤٢)
هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ کہ تفسیر, ترجمہ کنز الایمان :یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے ( الحج ۱۹) کی تفسیر, قیس بن عباد نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ آیت ترجمہ کنز الایمان : یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے ( ،الحج ۱۹) یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں ساتھیوں اور عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی جبکہ غزوہ بدر میں وہ مقابلے پر آئے۔ سفیان نے ابو ہاشم سے اس کی روایت کی ہے، عثمان، جریر، منصور، ابو ہاشم نے ابو مجلز سے ان کا قول روایت کیا ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: 19] حدیث نمبر ٤٧٤٣)
قیس بن عباد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ بروز قیامت رحمن کے حضور سب سے پہلے میں اپنا مقدمہ فیصلے کے لیے پیش کروں گا۔ قیس کا بیان ہے کہ یہ آیت اسی کے متعلق نازل ہوئی ہے هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر میں ایک دوسرے کے مقابلے پر آئے۔ یعنی ادھر سے علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم اور دوسری طرف سے نشیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: 19] حدیث نمبر ٤٧٤٤)
سورة المومنون ابن عیینہ کا قول ہے کہ سَبعَ طَرَائِق سے مراد ہیں سات آسمان ۔ لَهَا سَابِقُونَ سعادت ان کا مدار ہے۔ قُلُوبَهُمْ وَجِلَةٌ ڈرے ہوئے۔ ابنِ عباس کا قول ہے هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ دُور دُور ۔ فَاسْأَلِ العَادِّينَ فرشتوں ہے۔ لَنَا كِبُونَ سیدھے راستے سے ہٹ جانے والے۔ كَالِحُونَ بدشکل ۔ سُلَالَةٍ لڑکا يا نطفہ، الجنَّةُ اور الجنون ہم معنی ہیں، دیوانگی۔ الْغُنَاء جھاگ جو پانی کی سطح پر آتا ہے اور جس سے نفع نہ ہو۔ يَجَارُونَ گائے کی طرح آواز نکالنا۔ علی اعْقَابِكُم واپس لوٹ جاتا۔ سَامِراً يہ السَّمَرِ سے ہے اور اس کی جمع الشمار ہے اور یہاں السُّمَّارُ جمع کی جگہ ہے۔ تُسْحَرُونَ جادو سے اندھے ہو گئے ہو۔ سورة النور مِنْ خِلاَلِهِ دلوں کے پردوں سے۔ سَنَا بَرْقِهِ اس کی بجلی کی روشنی ۔ مُذْعِنِينَ عاجزی کرنے والے، یہ مُذْعِنٌ کی جمع ہے۔ اَشْتَانًا،شَتی ،شَتَاتٌ اور شَتٌّ چاروں ہم معنی ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے۔ سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا ہم نے اس کو بیان کیا۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ سورتوں کے مجموعے کو قرآن کریم کہتے ہیں اور انہیں سورت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک دوسری سے الگ ہیں اور جب ایک دوسری سے مل جاتی ہیں تو قرآن مجید ہو جاتا ہے۔ سعد بن عیاض ثمالی کا قول ہے المِشْكَاةُ طاق ، یہ حبشہ کی زبان کا لفظ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ : إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ایک حصے سے دوسرے حصے کو جوڑنا۔ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ یعنی جب قرآن کریم کو ایک جگہ جوڑ کر جمع کروا دیں تو جیسے حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق عمل کرنا اور جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے باز رہنا اور کہتے ہیں کہ قرآن مجید کوئی شاعری نہیں بلکہ حقانیت کا مجموعہ ہے۔ اسے الْفُرْقَان اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حق اور باطن میں فرق کر دیتا ہے۔ عورت کے لیے کہتے ہیں مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ ..... کہ اس نے پیٹ میں کبھی بچہ نہیں رکھا۔ یہ جو فر مایا فَرَضْنَاهَا تو مراد ہے کہ ہم نے اس میں مختلف فرائض نازل فرمائے اور جس نے اسے فَرَضْنَاهَا پڑھا ہے تو مراد ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر اور بعد میں آنے والوں پر فرض کر دیا کہ ان احکام پر عمل کریں۔ مجاہد کا قول ہے کہ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا.... جو کم سنی کے سبب مرد و عورت کے معاملے کو نہیں جانتے ۔ شعبی کا قول ہے کہ {أُولِي الإِرْبَةِ} سے مراد ہے جو عورت کے قابل نہ ہو اور طاؤس کا قول ہے کہ اس سے مراد ایسا احمق سے جس کو عورت کی حاجت ہی نہ ہو اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص جس کا تعلق صرف کھانے پینے یعنی پیٹ سے ہو اور عورتوں سے ہاتھ لگانے کی تہمت کا انہیں خوف ہی نہ ہو۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمُ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے (النور ٦)۔ زہری حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ حضرت عویمر بنی عجلان کے سردار حضرت عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جو کسی شخص کو اپنی عورت کے ساتھ بدکاری کرتا ہوا دیکھ لے۔ اگر وہ اسے قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے آپ اسے قتل کر دیں گے؟ آخر وہ کیا کرے؟ اس کے متعلق میں مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے بتائیے۔ پس حضرت عاصم بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس طرح پوچھنے کو نا پسند فرمایا۔ جب حضرت عویمر نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے نا پسند فرمایا اور بُرا جانا۔ حضرت عویمر نے کہا کہ خدا کی قسم، میں تو اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ لوں۔ چنانچہ حضرت عویمر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا، اگر وہ اس کو قتل کر دے تو کیا آپ اس کو قصاص میں قتل کر دیں گے؟ ورنہ وہ کیا کرے؟ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق حکم نازل فرمایا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں حکم ملاعنت دیا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں حکم نازل فرمایا ہے۔ پس انہوں نے عورت سے لعان لیا، پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر میں اس عورت کو اپنے پاس رکھوں تو یہ اس پر ظلم ہوگا، لہٰذا میں نے اس کو طلاق دے دی ہے۔ پس بعد والوں کے لیے لعان میں یہی طریقہ مقرر ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتا اگر بچہ سانولا رنگ کا، کالی آنکھوں، بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو یہ سمجھوں گا کہ عویمر نے اپنی عورت کے متعلق سچ کہا ہے اور اگر بچہ ان کی طرح گورے رنگ کا پیدا ہوا تو میں سمجھ لوں گا کہ عویمر نے اپنی عورت کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔ پس بچہ اسی شکل صورت کا پیدا ہوا جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی۔ اور اس سے حضرت عویمر کی تصدیق ہوگئی۔ چنانچہ اس کے بعد وہ بچہ اپنی والدہ کی طرف ہی منسوب ہوتا رہا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: 6] حدیث نمبر ٤٧٤٥)
ترجمہ کنز الایمان: اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو ( النور ۷)۔ کی تفسیر, زہری حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر کوئی شخص دوسرے شخص کو اپنی عورت کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھ کر اسے قتل کر دے تو کیا آپ اس کو قتل کرنے کا حکم دیں گے؟ پھر وہ کیا کرے؟ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے بارے میں لعان کا حکم نازل فرمایا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا فیصلہ فرما دیا گیا ہے، پس دونوں نے لعان کیا اور اس وقت میں بھی وہاں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا۔ پس اس شخص نے عورت کو اپنے سے جدا کر دیا۔ چنانچہ یہ دستور مقرر فرما دیا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کر دی جائے اس وقت وہ عورت حاملہ تھی لیکن خاوند نے اپنا حمل ہونے سے انکار کیا چنانچہ وہ لڑکا اپنی والدہ کی طرف ہی منسوب ہوا۔ پھر میراث میں یہ دستور مقرر ہوا کہ وہ ماں بیٹے ایک دوسرے کے وارث ہونگے جو اللہ تعالٰی نے ان کا حصہ مقرر فرمایا ہے وہ انہیں ملے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الكَاذِبِينَ} حدیث نمبر ٤٧٤٦)
وَيَدْرَأُ عَنْهَا العَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے (النور ۸)۔ عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ہلال بن امیہ نے شریک بن سحماء پر تہمت لگائی کہ ان کی بیوی کے ساتھ اُس نے بدکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد قائم کی جائے گی۔ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے آدمی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے تو اس وقت کے گواہ کہاں سے تلاش کرے؟ لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم متواتر یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد قذف قائم کی جائے گی۔ چنانچہ حضرت ہلال نے عرض کی کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا کہ میں ضرور سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے متعلق کوئی حکم نازل فرما کر مجھ پر حد قائم نہیں ہونے دے گا۔ پس حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ پر یہ حکم نازل ہوا۔ ترجمہ کنز الایمان : اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگا ئیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے(النور ٦ تا ٩) پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ادھر توجہ فرمائی اور مدعی کو بلانے کے لیے آدمی روانہ کیا تو حضرت ہلال حاضر خدمت ہو گئے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، پس کیا تم میں سے کوئی تائب ہوتا ہے؟ پھر جو عورت کھڑی ہوئی تو اس نے لعان کے چاروں کلمے ادا کر دیئے لیکن جب پانچواں کلمہ ادا کرنے لگی تو لوگوں نے کہا کہ یہ جھوٹے کے لیے موجب عذاب ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ وہ عورت ہچکچائی اور گردن جھکا لی حتیٰ کہ ہم بھی سمجھنے لگے کہ وہ رجوع کریگی ، پھر اس عورت نے کہا کہ کیا میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا کر دوں، پس وہ بھی کہہ گزری۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم شما نے فرمایا کہ عورت کو دیکھتے رہنا، اگر یہ سیاہ آنکھوں، بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا۔ چنانچہ اس عورت کے پیٹ سے ایسا ہی بچہ پیدا ہوا۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں لعان کا حکم نہ آیا ہوتا جس پر عمل کیا گیا تو تم دیکھتے کہ میں اس عورت کو کیا سزا دیتا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَيَدْرَأُ عَنْهَا العَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الكَاذِبِينَ} [النور: 8] حدیث نمبر ٤٧٤٧)
والْخَامِسَةُ أَنْ غَضَبَ الله کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو (النور ۹)۔ نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور جو بچہ اس کے پیٹ میں تھا اس کے بارے میں بھی کہا کہ یہ میرا نہیں ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مرد اور عورت کو حکم فرمایا تو دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ پھر بچہ عورت کو دلایا گیا اور دونوں کے درمیان جدائی کروا دی گئی (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: 9] حدیث نمبر ٤٧٤٨)
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب ہے ( النور (۱١) أَفَّاكٌ بہت جھوٹا۔ عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے تہمت میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بابُ (إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَاَ تَحْسِبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ) حدیث نمبر ٤٧٤٩)
لَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ المُؤْمِنُونَ وَالمُؤْمِنَاتُ، بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ گھلا بہتان ہے ( النور (۱۲) ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے ( النور ۱٦) اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں (النور ۱۳) ابن شہاب نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنها زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان کیا جبکہ الزام لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس الزام سے بری قرار دیا تھا۔ ان چاروں حضرات نے حدیث کا ایک حصہ بیان کیا ہے اور ان میں سے ایک کا بیان دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اگر چہ ان میں بعض کا حافظہ دوسروں سے زیادہ ہے۔ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو اپنی ازواج مطہرات میں قرعہ ڈالتے کہ اپنے ساتھ کس کو لے جانا ہے۔ چنانچہ غزوہ بنی مصطلق کے وقت قرعہ ان کے نام نکلا اور یہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ گئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ پردے کا حکم نازل ہونے سے بعد کی بات ہے پس مجھے میرے ہودج میں بٹھا کر ہودج اونٹ پر رکھ دیا گیا اور ہم سفر کرتے رہے۔ حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہو کر واپس لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب ہی آپہنچے تھے۔ چنانچہ ایک رات آپ نے کوچ کا حکم فرما دیا اور میں اس وقت قضائے حاجت کے لیے گئی ہوئی تھی جبکہ آپ نے کوچ کا حکم فرمایا تھا۔ جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوکر واپس آنے لگی تو دیکھا کہ ظفار کے نگینوں والا میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا تھا۔ پس میں اسے ڈھونڈنے لگی اور اس تلاش نے مجھے دیر کروادی اور جو حضرات مجھے سوار کروانے پر مقرر تھے انہوں نے میرے ہودج کو جس کے اندر میں بیٹھا کرتی تھی اٹھا کر میرے اونٹ پر رکھ دیا تھا جس پر میں سوار ہوا کرتی اور وہ یہی سمجھے کہ میں ہودج میں بیٹھی ہوئی ہوں اور عورتیں ان دنوں گوشت اور وزن کی ہلکی پھلکی ہوتی تھیں کیونکہ کھانے کی قلت تھی۔ پس ان حضرات کو میرا ہودج اٹھاتے وقت اس کے کم وزن ہونے کا احساس نہ ہوا کیونکہ ان دنوں میں تھی بھی کم عمر لڑکی ۔ پس انہوں نے اونٹ کو اٹھایا اور چل دیئے۔ مجھے لشکر کے چلے جانے کے بعد ہار ملا۔ پس میں ان کے ٹھہرنے کی جگہ پر آگئی لیکن وہاں کوئی پکارنے اور جواب دینے والا بھی نہ تھا، لہٰذا میں جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور سوچا کہ جب مجھے لشکر میں نہ پائیں گے تو میری جانب واپس لوٹیں گے۔ اسی اثناء میں جبکہ میں اس جگہ بیٹھی ہوئی تھی تو مجھ پر نیند غالب ہوئی میں سو گئی اور حضرت صفوان ابن معطل سلمی ثم ذکوانی! جو لشکر کے پیچھے تھے۔ وہ پھرتے پھراتے صبح کے وقت میری جگہ کے نزدیک آئے اور سوئے ہوئے انسان کے جسم دیکھ کر میرے قریب آئے۔ پس انہوں نے مجھے پہچان لیا کیونکہ حکم حجاب سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔ انہوں نے مجھے پہچان کر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا اور میں جاگ گئی۔ پس میں نے اپنا چہرہ اپنے ڈوپٹے سے چھپا لیا۔ خدا کی قسم، نہ میں نے ان سے ایک لفظ بات کی اورر نہ ایک لفظ سنا سواے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کے لفظوں کے حتیٰ کہ اپنی اونٹنی کو بٹھا دیا اور اس کے اگلے پیر کو اپنے پیر سے دبائے رکھا تو میں سوار ہوگئی۔ وہ اونٹنی کو ہانکتے ہوئے میرے ساتھ پیدل چل دیئے، حتیٰ کہ ہم لشکر میں آپہنچے جبکہ دو پہر کے سبب گرمی شدید تھی۔ پس جس نے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا اور جس نے اس بہتان کی سر پرستی کی وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ جب ہم مدینہ منورہ میں آگئے تو میں بیمار پڑ گئی۔ چنانچہ ایک ماہ تک بیماری رہی اور لوگ بہتان لگانے والوں کی بات کا چرچا کرتے رہے جبکہ مجھے اس بارے میں کچھ بھی علم نہ تھا لیکن دوران علالت یہ شک مجھے گزرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جو نگاہ لطف و کرم مجھ پر تھی وہ اب نظر نہ آتی تھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے ، سلام کرتے ، پھر دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے اور تشریف لے جاتے ۔ یہ امر تو مجھے شبہے میں مبتلا کرتا تھا ورنہ مجھے اور کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ نقاہت کے بعد جب میں کچھ تندرست ہوئی تو ام مسطح کے ساتھ مناصع کی جانب رفع حاجت کے لیے گئی کیونکہ ہم اس مقصد کے لیے اُدھر ہی جایا کرتی تھیں اور ہم اس کام کے لیے صرف رات میں جاتی تھیں۔ ان دنوں ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے اور اہل عرب کا یہی رواج تھا کہ بدبو کے سبب وہ گھروں کے نزدیک بیت الخلاء نہیں بناتے تھے کیونکہ ان سے ہم اذیت محسوس کرتے تھے۔ پس میں گئی اور میرے ساتھ ام مسطح تھیں جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھیں۔ ان کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ پس میں اور ام مسطح جب حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کو واپس آرہی تھیں تو ام مسطح کا پاؤں ان کی چادر میں اُلجھ گیا جس کے سبب وہ گرنے لگیں ، تو انہوں نے کہا کہ مسطح کا برا ہو، میں نے ان سے کہا کہ یہ آپ نے بری بات کہی ہے، کیا آپ ایسے شخص کو برا بھلا کہہ رہی ہیں جو غزوہ بدر میں شامل ہوا تھا؟ وہ کہنے لگیں، تم تو بھولی بھالی ہو، تمہیں علم نہیں وہ کیا کہتا ہے؟ ان کا بیان ہے کہ میں نے ان سے پوچھا، بتاؤ انہوں نے کیا کہا؟ پس انہوں نے مجھے بہتان باندھنے والوں کی بات بتادی۔ پس میری بیماری میں روز بروز زیادتی ہونے لگی۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب میں اپنے گھر لوٹ آئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے ، دُور سے سلام کیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ کیا آپ مجھے اپنے والدین کے ہاں جانے کی اجازت عطا فرماتے ہیں؟ اور میں چاہتی تھی کہ اُن سے اس خبر کی تصدیق کروں اُن کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت عطا فرمادی۔ میں اپنے والدین کے پاس آگئی تو میں نے اپنی والدہ ماجدہ سے کہا: امی جان ! لوگ کیا پاتیں بناتے ہیں؟ فرمایا، میری بچی! تو غم نہ کھا، خدا کی قسم، ایسا ہوتا ہی آیا ہے کہ جب کوئی عورت حسینہ ہو اور اُس کا خاوند بھی اسے چاہے تو اس کی سوکنیں عموماً ایسا کیا ہی کرتی ہیں اُن کا بیان ہے کہ میں نے کہا سبحان اللہ ! لوگ اتنی بڑی باتیں کرنے لگے۔ وہ فرماتی ہیں کہ اس رات میں صبح تک روتی رہی، نہ میرے آنسور کتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی حتیٰ کہ روتے روتے صبح ہو گئی۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا کیونکہ ایک عرصہ سے وحی نہیں آرہی تھی تا کہ اپنی بیوی کو جدا کردینے کے متعلق مشورہ کیا جائے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رائے دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ اشارہ کیا کہ وہ اہل بیت کی برأت کا خوب علم رکھتے ہیں اور محبت کے سب وہ انہیں ذاتی طور پر بھی جانتے ہیں، چنانچہ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کی زوجہ مطہرہ میں ہم بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتے۔ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ پر دشواری نہیں فرمائے گا اور عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ رہی حقیقت تو وہ اس لونڈی سے پوچھیے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بریرہ (لونڈی) کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تم نے ان میں کوئی شک والی بات دیکھی ہے؟ بریرہ نے عرض کی کہ نہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے تو ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کے سبب ان پر کوئی لفظ کہوں، ہاں یہ بات ہے کہ وہ کم سِن لڑکی ہیں اور کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آکر اسے کھا لیتی ہے، پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس دن آپ نے عبد اللہ بن ابی بن سلول کے خلاف مدد چاہی۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہو کر فرمایا: اے مسلمانو! اس شخص کے مقابلے پر کون میری مدد کرتا ہے جس نے میری گھر والی کے متعلق مجھے تکلیف پہنچائی ہے؟ خدا کی قسم، میں اپنی زوجہ مطہرہ میں بھلائی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا اور وہ میرے گھر میں کبھی داخل نہیں ہوتا مگر میرے ساتھ ۔ پس حضرت سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں اس سے آپ کا بدلہ لوں گا۔ اگر وہ قبیلہ اوس سے ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائی قبیلہ خزرج والوں سے ہے تو جس طرح آپ حکم فرمائیں اس کی تعمیل کی جائے گی۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر قبیلہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے وہ نیک شخص تھے لیکن قبائلی حمیت نے انہیں اس بات پر جوش دلایا کہ حضرت سعد بن معاذ سے کہا کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں، آپ اُسے قتل نہیں کریں گے اور نہ قتل کر سکتے ہیں۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی حضرت اسید بن حضیر کھڑے ہو گئے اور سعد بن عبادہ سے کہا۔ آپ جھوٹ بولتے ہیں، خدا کی قسم، ہم اسے ضرور قتل کریں گے ، لگتا ہے کہ آپ بھی منافق ہیں اسی لیے تو منافقوں کی طرفداری پر ہیں۔ اس پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں والے کھڑے ہو گئے اور آپس میں لڑنے کے لیے تیار ہو گئے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر بیٹھے ہوئے مسلسل انہیں خاموش ہو جانے کے لیے فرماتے رہے حتیٰ کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ نے بھی خاموشی اختیار فرمالی۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس دن بھی میری یہی حالت رہی کہ نہ آنسو رکتے تھے اور نہ نیند آتی تھی۔ وہ فرماتی ہیں کہ صبح سے میرے والدین میرے پاس ہی تھے اور مجھے روتے ہوئے دو راتیں اور ایک دن گزر چکا تھا کہ نہ نیند آتی تھی اور نہ آنسو رکتے تھے اور ان دونوں کا خیال تھا کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب وہ دونوں حضرات میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی تو ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ پس میں نے اس کو اجازت دیدی۔ پس وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ اسی دوران رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تہمت کے وقت سے لے کر آپ علیہ السلام میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینے سے آپ پر میرے بارے میں کسی قسم کی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیٹھتے وقت اللہ کے ایک ہونے کی شہادت دی، اس کے بعد فرمایا: اے عائشہ ! بیشک تمہارے بارے میں مجھ تک یہ بات پہنچی ہے اگر تم اس سے بری ہو تو جلد اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بری کر دے گا اور اگر تم اس گناہ میں ملوث ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی چاہو اور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرے، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرما چکے تو میرے آنسورک گئے حتیٰ کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کی کہ آپ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں۔ انہوں نے فرمایا: خدا کی قسم، میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں۔ پھر میں نے اپنی والدہ محترمہ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جواب دینے کے لیے کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے خود عرض کی ، حالانکہ میں کم عمر لڑ کی تھی اور قرآن کریم بھی میں نے زیادہ نہیں پڑھا ہوا تھا کہ بیشک خدا کی قسم، مجھے معلوم ہے کہ لوگوں سے یہ بات سُن کر آپ علیہ السلام کے دلوں میں یہ بات سما گئی ہوگی اور آپ نے اسے سچ سمجھ لیا ہوگا۔ ان حالات میں اگر میں آپ سے کہوں کہ اس سے بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں، لیکن آپ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس بات کا اقرار کر لوں اور خدا جانتا ہے کہ میں اسے سے بری ہوں تو آپ ضرور میری تصدیق کریں گے، خدا کی قسم، مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ میری اور آپ حضرات کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے والد ماجد جیسی ہے جبکہ انہوں نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: تو صبر اچھا اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (یوسف (۱۸) پھر میں وہاں سے چلی گئی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی وہ فرماتی ہیں کہ میں خوب جانتی ہوں کہ اس سے بری ہوں اور اللہ تعالی ضرور میری برأت کو ظاہر فرمائے گا لیکن خدا کی قسم، میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرے متعلق اللہ تعالٰی وحی نازل فرمائے گا جو میری شان میں تلاوت کی جائے گی، کیونکہ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسا کلام فرمائے جس کی تلاوت کی جائے ، ہاں مجھے یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں میری برأت کا خواب دکھایا جائے گا۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے خدا کی قسم، ابھی تشریف بھی نہیں لے گئے تھے اور ہمارے گھر والوں میں سے کوئی ایک بھی باہر نہیں نکلا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہو گئی، حسب معمول آپ علیہ السلام پر وہی حالت طاری ہو گئی۔ چنانچہ آپ کے بدنِ اطہر سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگا اور یہ سردیوں کے دن تھے لیکن جو کلام آپ علیہ السلام پر نازل ہو رہا تھا یہ اس کی شدت کے باعث تھا۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب وحی کا نزول ہو چکا اور آپ علیہ السلام فارغ ہو گئے تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ چنانچہ پہلا کلام آپ نے یہ فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالٰی نے تمہیں اس الزام سے بری کر دیا ہے۔ اس پر میری والدہ محترمہ نے فرمایا کہ کھڑی ہو کر ان کا شکریہ ادا کرو۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا کہ، خدا کی قسم میں ان کا شکریہ ادا نہیں کروں گی بلکہ میں اللہ عزوجل کی حمد و ثنا ہی بیان کروں گی کیونکہ اللہ تعالٰی نے یہ دس آیات نازل فرمائیں: ترجمہ کنز الایمان : تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب ہے کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ گھلا بہتان ہے اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتی تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو اور اللہ تمہارے لئے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہر والا ہے ( النور (۱۱ تا ٢٠) جب اللہ تعالیٰ نے میری برات کا اعلان نازل فرما دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جو مسطح بن اثاثہ کی قرابت اور ان کی غربت کے سبب مالی امداد کیا کرتے تھے کہ خدا کی قسم ! اب میں مسطح کو کبھی ایک روپیہ بھی نہیں دوں گا کیونکہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ناروا بات کہی تھی ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ حکم نازل فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : اور قسم نہ کھائیں وہ جو تمہاری فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں، اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (النور (۲۲) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم، میں تو یہی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری بخشش فرمائے۔ پس یہ حضرت مسطح کو اتنا مال ہی دینے لگے جتنا دیا کرتے تھے اور کہا کہ خدا کی قسم، اب میں کبھی اسے نہیں روکوں گا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے اس معاملے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بھی دریافت فرماتے تھے کہ اے زینب! تم اسے کیسا جانتی ہو یا تم نے اسے کیسا دیکھا ہے، وہ عرض کرتیں ، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کو بدگوئی سے بچاتی ہوں، میری نظر میں تو اُن کے اندر بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ازواج مطہرات میں سے یہی تقریباً میری ہم عمر تھیں یا تقریباً برابر تھیں لیکن ان کی پرہیز گاری کے سبب اللہ تعالی نے انہیں میری بدگوئی کے گناہ سے بچا لیا لیکن ان کی بہن حمنہ اس بات پر لڑتی رہتی اور اس موقع پر بہتان لگانے والوں کی طرح وہ بھی ہلاک ہوئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ المُؤْمِنُونَ وَالمُؤْمِنَاتُ، بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا} [النور: 12] إِلَى قَوْلِهِ: {الكَاذِبُونَ} [النحل: 105] حدیث نمبر ٤٧٥٠)
وَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتی تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا (النور (۱٤) مجاہد کا قول ہے تَلَقَّوْنَهُ ایک دوسرے سے کہتے پھرتے ۔ تُفِيضُونَ تم کہتے ہو۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے اوپر بہتان سنا تو بیہوش ہو کر گر پڑی تھیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} حدیث نمبر ٤٧٥١)
إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے (النور (۱۵) ابن ملیکہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو (مذکورہ آیت میں) پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ} [النور: 15] حدیث نمبر ٤٧٥٢)
وَلَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا ، کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں ۔ الٰہی ! پاکی ہے تجھے۔ یہ بڑا بہتان ہے ( آیت ۱٦)۔ ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ وفات سے قبل وہ حالت نزع میں تھی۔ انہوں نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ یہ میری تعریف کریں گے۔ حاضرین نے کہا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چچازاد اور سرکردہ مسلمانوں سے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اچھا انہیں اجازت دے دو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ جواب دیا، اگر پرہیز گار ہوں تو بہتر ہے۔ یہ کہنے لگے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ بہتر ہی رہے گا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا انہوں نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی طہارت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ان کے بعد حضرت ابنِ زبیر اندر آئے تو حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما آئے تھے اور وہ میری تعریف کر رہے تھے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ کاش! میں گمنام ہوتی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ -[106]- نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: 16]حدیث نمبر ٤٧٥٣)
حضرت قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگی اور پھر حدیث مذکورہ بیان کی لیکن انہوں نے نَسِيًّا منسيا ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَوْلاَ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ -[106]- نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: 16]حدیث نمبر ٤٧٥٤)
يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا ( النور ۱۷ ) ۔ مسروق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی۔ میں نے کہا، کیا آپ ایسے شخص کو اندر آنے کی اجازت دیں گی؟ فرمایا، انہیں بہت بڑا عذاب پہنچا۔ سفیان راوی کا بیان ہے کہ بصارت سے محروم ہو جانا مراد ہے۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا جس کا مفہوم : سیدہ پاک دامن سنجیدہ صالحہ کی زبان کبھی غیبت سے آلودہ نہیں ہوسکتی۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا لیکن آپ تو ایسے نہیں ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا} [النور: 17] حدیث نمبر ٤٧٥٥)
وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ تمہارے لئے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے اور اللہ علم وحکمت والا ہے ( النور (۱۸)- مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور ان کی تعریف میں یہ شعر پڑھا جس کا مفہوم : پاک دامن سنجیده و با وقار سیده اپنی زبان غیبت سے پاک رکھتی ہیں۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، مگر آپ تو ایسے نہیں ہیں۔ میں نے عرض کی کہ آپ ایسے شخص کو بھی اپنے پاس آنے کی اجازت فرما دیتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ حکم نازل فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا (النور (۱۱) انہوں نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے اور کون سا عذاب بڑا ہے۔ اور فرمایا کہ یہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [النور: 18] حدیث نمبر ٤٧٥٦)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہر والا ہے تو تم اس کا مزہ چکھتے ( النور ١٨ تا ٢٠) - ترجمه کنز الایمان اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (النور (۲۲) عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی اور مجھے اس کا علم بھی نہ تھا تو میرے متعلق رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے۔ چنانچہ آپ نے اللہ کے ایک ہونے کی شہادت دی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کی بعد فرمایا۔ مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی پر بہتان لگایا ہے اور خدا کی قسم، مجھے اس میں ایسی کوئی برائی نظر نہیں آئی اور جس شخص پر وہ الزام لگا رہے ہیں مجھے اس میں بھی کوئی برائی نظر نہیں آتی اور وہ کبھی میرے گھر میں داخل نہیں ہوا مگر میری موجودگی میں اور جب میں سفر پر گیا تو وہ بھی میرے ساتھ جاتا تھا۔ پس حضرت سعد بن معاذ نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اُن سارے آدمیوں کی گردن اڑا دوں۔ اس پر بنی خزرج کا ایک شخص گھڑا ہو گیا اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی والدہ اسی کے خاندان سے تھیں۔ اس نے کہا آپ غلط کہتے ہیں اگر وہ اس قبیلے کے ہوتے تو آپ ہرگز ان کی گردنیں نہ اڑاتے ۔ اس پر بنی اوس اور خزرج کے درمیان مسجد میں جھگڑا ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہونے لگا اور مجھے اس وقت تک کچھ معلوم نہ تھا جب اس دن شام کا وقت ہو گیا تو میں قضائے حاجت کے لیے ام مسطح کے ساتھ باہر نکلی۔ ان کا پیر اُلجھا تو کہنے لگیں۔ مسطح کا بُرا ہو، میں نے کہا، آپ اپنے بیٹے کو کیوں برا بھلا کہتی ہیں ۔ وہ خاموش ہو گئیں۔ پھر دوبارہ پیر الجھا تو کہنے لگیں کہ مسطح کا برا ہو۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو بُرا بھلا کہہ رہی ہیں۔ پھر تیسری دفعہ ان کا پاؤں الجھا تو کہا کہ مسطح کا برا ہو۔ پس میں نے ان کو جھڑ کا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم، میں تو آپ کی وجہ سے کوستی ہوں۔ میں نے پوچھا میری وجہ سے کیوں؟ اُن کا بیان ہے کہ پھر انہوں نے بہتان طرازی کا پورا قصہ سنا دیا۔ میں نے کہا کہ یہ بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہی ہے خدا کی قسم پھر میں اپنے گھر کو واپس لوٹی لیکن میں کہاں سے گئی تھی اور کہاں سے آئی مجھے اس کا بھی کچھ ہوش نہ رہا اور میں بیمار ہوگئی۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے میرے والد محترم کے گھر بھیج دیجئے۔ چنانچہ آپ نے ایک لڑکا میرے ساتھ بھیج دیا۔ پس میں اُن کے گھر میں داخل ہوئی اور اپنی والدہ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کو گھر میں نیچے پایا جبکہ والد محترم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چھت پر قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ والدہ محترمہ نے فرمایا۔ بیٹی! کیسے آنا ہوا؟ میں نے سارا ماجرا اُن کے سامنے بیان کر دیا لیکن والدہ صاحبہ کو اس کا اتنا غم نہیں ہوا جتنا مجھے تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ بیٹی ! غم نہ کھاؤ خدا کی قسم، ایسا تو ہوتا ہی آیا ہے جب کوئی عورت خوبصورت ہو اور خاوند بھی اسے چاہے تو سوکنیں اس سے حسد کیا ہی کرتی ہیں اور جو بات تم تک پہنچی ہے ایسی باتیں پھیلایا ہی کرتی ہیں۔ میں نے کہا۔ کیا ابا جان کو اس بات کا معلوم ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس پر میں رونے لگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری آواز سن لی وہ چھت پر تلاوت کر رہے تھے۔ پس وہ نیچے اترے اور میری والدہ سے پوچھا کہ اسے کیا ہو گیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس بات کا شور ہورہا ہے وہ اس تک بھی پہنچ گئی۔ اس پر ان کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے ۔ فرمایا اے بیٹی ! میں تجھے قسم دیتا ہوں تو اپنے گھر چلی جا۔ پس میں لوٹ آئی اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے تو میری خادمہ سے میرے بارے میں دریافت فرمایا۔ پس اس نے کہا نہیں خدا کی قسم، میں تو ان میں کوئی عیب نہیں پاتی، ہاں یہ تو ہے کہ یہ آٹا گوندھ کر بھول جاتی اور سو جاتی ہیں، حتیٰ کہ بکری آکر اسے کھا لیتی ہے۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے کسی نے جھڑک کر اس سے کہا کہ تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا دے بلکہ اس پر اسے سخت سست بھی کہا۔ پس اس نے کہا ، سبحان اللہ ! خدا کی قسم، میں ان کو اس طرح جانتی ہوں جس طرح سنار خالص سونے کی ڈلی کو جانتا ہے۔ جب یہ خبر اس آدمی تک پہنچی جس کے بارے میں بہتان گھڑا گیا تھا، تو انہوں نے کہا، سبحان اللہ ! خدا کی قسم، جب۔ میری بیوی فوت ہوئی ہے میں نے تو کسی عورت کے کپڑے کو بھی مطلقاً ہاتھ نہیں لگایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت صفوان جہاد فی سبیل اللہ میں شہید ہوئے۔ وہ فرماتی ہیں کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس تھے وہ موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے ۔ نماز عصر پڑھ لی تھی جب تشریف لائے اور میرے والدین نے دائیں بائیں سے میرے کندھے پکڑے ہوئے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: اے عائشہ ! اگر تم سے برائی ہو گئی اور تم اپنی جان پر ظلم کر بیٹھی ہو تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرلو، بیشک وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اُس وقت ایک انصاری عورت آئی ہوئی تھی جو دروازے پر بیٹھی تھی۔ میں نے عرض کی کہ آپ ذکر کرتے وقت اس عورت کا خیال فرما لیتے اس کے بعد پھر رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت فرمائی تو میں اپنے والد ماجد کی جانب متوجہ ہوئی اور ان سے کہا کہ حضور کو جواب دیجئے۔ انہوں نے کہا کہ میں کیا عرض کروں؟ پھر میں نے اپنی والدہ محترمہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آپ حضور کو جواب دیں، انہوں نے بھی فرمایا کہ میں کیا عرض کروں؟ جب اُن دونوں نے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے اللہ اور رسول کی شہادت دی۔ پھر اللہ تعالٰی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد عرض کی کہ خدا کی قسم، اگر آپ کے حضور میں یہ کہوں کہ یہ کام میں نے ہرگز نہیں کیا اور خدا گواہ ہے کہ بیشک میں سچی ہوں لیکن آپ کے نزدیک یہ بات مجھے کوئی نفع نہیں پہنچائے گی کیونکہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی افواہ آپ کے دلوں میں گھر کر چکی ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ میں نے یہ کام کیا ہے اور خدا جانتا ہے کہ میں نے ایسا ہر گز نہیں کیا تو آپ ضرور کہیں گے اس نے خود اقرار کر لیا۔ پس میں اپنی اور آپ کی مثال تلاش کرتی ہوں تو مجھے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام نظر آتا ہے۔ پس میں اس کے سوا کیا کروں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد محترم کی طرح کہوں جیسا کہ انہوں نے فرمایا تھا: ترجمہ کنز الایمان : تو صبر اچھا اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو ( یوسف (۱۸) چنانچہ اسی ساعت میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پروحی نازل ہونی شروع ہوگئی ، تو ہم سب خاموش ہو گئے جب وحی نازل ہو چکی تو چہرہ انور خوشی سے دمک رہا تھا اور آپ فرماتے ہیں کہ اے عائشہ ! تجھے خوش خبری ہو کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تیری برات نازل فرما دی ہے اس وقت چونکہ میں غصے میں تھی کہ میرا اعتبار نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا جب میرے والدین نے مجھ سے فرمایا کہ حضور کا شکریہ ادا کرو، تو میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں ان کا شکریہ ادا نہیں کرتی اور اس بارے میں نہ ان کا تعریف کرتی ہوں اور نہ آپ دونوں کی، بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتی ہوں جس نے میری براءت نازل فرمائی ہے۔ آپ حضرات نے جو بات سن لی تھی نہ تو اُس کا انکار کیا اور نہ اسے مٹایا۔ اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اللہ تعالٰی نے اُن کی پر ہیز گاری کے سبب اس گناہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیا، چنانچہ انہوں نے بھلائی کے علاوہ میرے بارے میں کوئی کلمہ نہیں کہا لیکن ان کی بہن حمنہ دوسرے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہلاک ہوئی اور اس کا چرچا کرنے والے مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی تھے۔ یہ شخص جھوٹ گھڑتا اور لوگوں کو جمع کر کے سناتا تھا اور یہ تہمت لگانے والوں کی سر براہی کر رہا تھا جبکہ ابتدا اس نے اور حمنہ نے کی ۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ اب مسطح کی کبھی مالی امداد نہیں کریں گے۔ اس پر سورۃ النور کی آیت ۲۲ نازل ہو گئی، اس میں فضیلت اور گنجائش والے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مراد ہیں اور اہل قرابت و مساکین سے مسطح، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان : کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (النور (۲۲) اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں خدا کی قسم! اے ہمارے رب! ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ تو ہماری بخشش کردے۔ چنانچہ جو مالی امداد یہ کیا کرتے تھے وہ دوبارہ جاری کر دی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ، وَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} {تَشِيعُ} [النور: 19]: «تَظْهَرُ»، حدیث نمبر ٤٧٥٧)
ترجمہ کنز الایمان : اور دو پٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں ابن شبيب ، اُن کے والد، یونس، ابن شہاب، عروہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اُن عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ یہ حکم نازل فرمایا کہ ترجمه کنز الایمان: اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں (النور (۳۱) تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر اوڑھنیاں بنالیا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: 31] حدیث نمبر ٤٧٥٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں ( النور (۳۱) تو اس وقت کی مسلمان عورتوں نے اپنے تہبند ایک طرف سے پھاڑ کر، اس پٹے کے ساتھ اپنے سینوں کو چھپایا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: 31]،حدیث نمبر ٤٧٥٩)
سورة الفرقان, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ هَبَاءً مَنْثُورًا جو غبار ہوا کے ساتھ اڑ کر آتا ہے۔ مَدَّ الظِّلَّ صبح صادق سے سورج نکلنے تک کا وقت ہے۔ سَاكِنًا ہمیشہ ۔ عَلَيْهِ دَلِيلًا سورج کا طلوع ہونا ۔ خِلْفَةً جو کام رات کو رہ جائے اور دن میں کیا جائے اور دن میں رہ جائے تو رات کے وقت کیا جائے۔ حسن بصری کا قول ہے کہ هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ جو اللہ کی اطاعت اور ایسے کاموں میں مشغول رہیں کہ اپنے پیاروں کو ان میں مبتلا دیکھ کر مومن کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے ۔ ابن عباس کا قول ہے ثُبُورًا خرابی۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ السَّعِيرُ مذکر ہے اور التَّسَعُّرُ سے مشتق ہے۔ الاِضْطِرَامُ آگ کا خوب بھڑکنا۔ تُمْلَى عَلَيْهِ ان پر پڑھا جاتا ہے یہ آمُلَيْتُ یا اَملَلْتُ سے ہے الرَّسُّ کان، اس کی جمع ۔ رِسَاسٌ ہے ۔ مَا يَعْبَأُ کوئی پروا نہ کرنا۔ چنانچہ کہتے ہیں مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا لاَ يُعْتَدُّ بِهِ میں نے اسے کچھ بھی نہ سمجھا۔ غَرَامًا ہلاکت۔ مجاہد کا قول ہے کہ عَتَوْا سرکشی کی۔ ابن عیینہ کا قول ہے کہ عَاتِيَةٍ حد سے گزرنا جیسے لہروں کا کناروں سے باہر نکلنا۔ الَّذِينَ يُحْشَرُونَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منھ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا اور وہ سب سے گمراہ ( الفرقان ۳٤)۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیاکافر کو بروز قیامت میں منہ کے بل چلایا جائے گا؟ فرمایا : جو ذات دنیا میں پیروں سے چلاتی ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ قیامت میں منہ کے بل چلائے؟ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہمارے رب کی عزت کی قسم، کیوں نہیں ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَى جَهَنَّمَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ سَبِيلًا} [الفرقان: 34] حدیث نمبر ٤٧٦٠)
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّہ کی تفسیر, اور ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان : اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے( الفرقان (٦٨) یعنی عذاب۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو سندوں کے ساتھ مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا کسی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا شمار ہوتا ہے؟ فرمایا، یہ گناہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ تجھے پیدا اسی نے کیا ہے، میں نے پوچھا کہ پھر کون سا گناہ ہے؟ فرمایا پھر یہ کہ تو اپنی اولاد کو قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی۔ پھر میں نے کہا کہ اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ فرمایا یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان : اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے (الفرقان (٦٨) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] «العُقُوبَةَ» حدیث نمبر ٤٧٦١)
قاسم بن ابو بزہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر (تابعی) سے معلوم کیا کہ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ پھر میں نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ ولا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ میں نے یہ آیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حضور پڑھی تھی جیسے آپ نے میرے سامنے پڑھی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت مکی ہے اور اُس مدنی آیت سے منسوخ ہے جو سورۃ النساء کے میں موجود ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] «العُقُوبَةَ» حدیث نمبر ٤٧٦٢)
مغیرہ بن نعمان کا بیان ہے کہ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا: قتل مومن کے متعلق اہل کوفہ کا اختلاف ہے، اس لیے کہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں یہ آخری آیت ہے اور اسے منسوخ کرنے والی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] «العُقُوبَةَ» حدیث نمبر ٤٧٦٣)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے {فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تو بہ قبول نہیں ہے۔ اور جب ارشاد باری تعالى: لَا يَدُعُونَ مَعَ الَهَا أَخَرَ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یہ جب ہے جبکہ حالت کفر میں ایسا کیا ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] «العُقُوبَةَ» حدیث نمبر ٤٧٦٤)
يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا (الفرقان ٦٩ ) سعید بن جبیر ابن ابزی سے راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد باری تعالی : ترجمه کنز الایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے ( النساء ۹۳) اور ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان : اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے (الفرقان (٦٨) یہاں تک کہ ترجمہ کنز الایمان : مگر جو تو بہ کرے (الفرقان (۷۰) پڑھ کر ان کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : جب مذکورہ حکم نازل ہوا تو اہل مکہ نے کہا کہ ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے، جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہم اسے بھی قتل کرتے تھے اور ہم نے بے حیائی کے کام بھی کیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (الفرقان ۷۰) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يُضَاعَفْ لَهُ العَذَابُ يَوْمَ القِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا} [الفرقان: 69] حدیث نمبر ٤٧٦٥)
إِلَّا مَنْ تَابَ کی تفسیر, ترجمہ کنزالایمان: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ( الفرقان ۷۰ ) سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ مجھے عبدالرحمن بن ابزی نے حکم دیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو آیتوں کے متعلق معلوم کروں، پہلے جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے۔“ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ کسی آیت سے منسوخ نہیں ہوئی ہے اور دوسری " ترجمه کنز الایمان : اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے (پ ۱۹، الفرقان ٦٨)یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الفرقان: 70]حدیث نمبر ٤٧٦٦)
فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تو اب ہوگا وہ عذاب کہ نپٹ رہے گا (الفرقان ۷۷ ) یعنی ھلاکت۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ قیامت کی پانچ علامتیں گزر چکی ہیں (۱) دھواں (۲) شق القمر (۳) رومیوں کا مغلوب ہونا (۴) پکڑ (۵) بربادی میں اسی کا ذکر ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا} [الفرقان: 77] أَيْ هَلَكَةً حدیث نمبر ٤٧٦٧)
سورة الشعراء مجاہد کا قول ہے کہ تَعْبَثُونَ تم بناتے ہو۔ هَضِيم جو چھونے سے ریزہ ریزہ ہو جائے مُسَحَّرِينَ جن پر جادو کر دیا گیا ہو۔ لَيْكَةَ اور الأَيْكَةُ دونوں آیت کی جمع ہیں بمعنی جنگل ۔ يَوْمَ الظلة جب ان پر عذاب سایہ کرے۔ مَوْزُونٍ معلوم - كَالطَّوْدِ پہاڑ کی طرح ۔ لَشِرْذِمَةٌ چھوٹی جماعت - فِي السَّاجِدِينَ نمازیوں میں ۔ ابن عباس کا قول ہے لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ جیسے دنیا میں ہمیشہ رہو گے۔ أَرْيَاعٌ ہم معنی ہیں ۔ مَصَانِعَ ہر ایک عمارت ۔ یہ مَصْنَعَةٌ کی جمع ہے۔ فَرِهِينَ اتراتے ہوئے۔ یہ فَارِهِينَ کے معنی میں ہے۔ بعض کا قول ہے کہ فَارِهِينَ ماہرین کو کہتے ہیں۔ تَعْثَوْا سخت فساد۔ عَاثَ يَعِيثُ عَيْثًا - الجِبِلَّةَ پیدائش - جُبِلَ پیدا کیا گیا۔ اسی طرح جُبُلًا و جِبِلًا،اور جُبْلًا تینوں ہم معنی ہیں یعنی پیدائش۔ وَلاَ تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے (الشعراء ۸۷)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام بروز قیامت اپنے والد (چچا) کو ذلت اور رسوائی کی حالت میں دیکھیں گے۔ الغَبَرَةُ اور القَتَرَةُ دونوں ہم معنی ہیں ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلاَ تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ} [الشعراء: 87] حدیث نمبر ٤٧٦٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد (چچا آزر ) کو دیکھ کر عرض کریں گے، اے رب! بے شک تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے کافروں پر جنت کو حرام کیا ہوا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلاَ تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ} [الشعراء: 87]حدیث نمبر ٤٧٦٩)
وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء ٢١٤ تا ٢١٥) وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ کا مطلب ہے کہ اپنے بازو نرم کر دو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ( الشعراء ٢١٤) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور آپ نے آواز دی۔اے بنی فہر، اے بنی عدی ، قریش کی شاخوں حتیٰ کہ تمام لوگ اکھٹا ہو گئے اور جو نہ جا سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیجا تا کہ آکر بتائے کہ بات کیا ہے۔ ابولہب بھی آیا اور سارے قریش آئے۔ آپ نے فرمایا۔ ذرا یہ تو بتاؤ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ وادی کے اس جانب ایک لشکر جرار ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟ سب نے کہا، ہاں کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ بولتا ہی سنا ہے۔ فرمایا تو میں تم لوگوں کو قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو سب کے سامنے ہے۔ پس ابولہب نے کہا: ہلاک ہو، کیا ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے؟ پس یہ سورت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: تباہ ہو جا ئیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ اور اس کی جورولکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسا (اللھب ) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ} [الشعراء: 215] حدیث نمبر ٤٧٧٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ( الشعراء ٢١٤) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: اے گروہ قریش! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا: تم اپنی جانوں کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہ آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف!میں اللہ کے ہاں تمہارے کام نہ آؤں گا۔ اے عباس بن عبد المطلب! (اگر تم ایمان نہ لائے تو ) میں اللہ کے ہاں تمہارے کام نہیں آؤں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کام نہ آؤں گا۔ اے فاطمہ ! بنت محمد! میرے مال میں سے جتنا چاہو مانگ لولیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے بھی کام نہ گا۔ اصبغ ، ابن وہب، یونس نے ابن شہاب سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ} [الشعراء: 215] حدیث نمبر ٤٧٧١)
سورة النمل وَالخَبْءُ چھپی ہوئی چیز لاَ قِبَلَ طاقت نہیں۔الصَّرْحُ محل ۔ شیشہ ملایا ہوا گارا یا مسالہ اور اس کی جمع صُرُوحٌ ہے ابن عباس کا قول ہے کہ وَلَهَا عَرْشٌ بادشاہی تخت۔كَرِيمٌ کاریگری کا بہترین نمونہ اور بیش قیمت مُسْلِمِينَ اطاعت گزار ہو کر ۔ رَدِفَ قریب آیا ۔ جَامِدَةً قائم ۔ اور أَوْزِعْنِي مجھے مقرر کر دے۔ مجاہد کا قول ہے کہ نَكِّرُوا اس مراد ہے شکل بدل دو۔ وَأُوتِينَا العِلْمَ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ( لیکن کچھ کے نزدیک یہ بلقیس کا مقولہ ہے۔ الصَّرْحُ پانی کا حوض جو حضرت سلیمان نے شیشوں سے چھپایا ہوا تھا۔ سورة القصص كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ یعنی سوائے اس کی بادشاہی کے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ سوائے اللہ کی ذات کے مجاہد کا قول ہے کہ الأَنْبَاءُ سے دلائل اور حجتیں مراد ہیں۔ إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] كى تفسير, ترجمہ کنز الایمان: بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے ( القصص ۵٦) سعید بن مسیب اپنے والدہ ماجد حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لے گئے۔ دیکھا تو وہاں ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ بھی بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ چچا جان ! لا الہ الا اللہ کہہ دو تا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں تمہارے بارے میں کچھ عرض کرسکوں۔ پس ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے کہ کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جائیں گے؟ پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان پر یہی دعوت پیش کرتے رہے اور کلمہ پڑھنے کی بات کو بار بار دہراتے رہے، حتی کہ ابو طالب نے آخری کلام یہی کیا کہ عبدالمطلب کی ملت پر اور لا الہ الا اللہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم، میں متواتر آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے آپ سے روک نہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں (التوبۃ ۱۱۳) اور ابوطالب کے بارے میں حکم نازل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے ( القصص (۵٦) ابن عباس کا قول ہے کہ أُولِي القُوَّةِ مراد یہ ہے کہ اس کی کنجیاں کتنے ہی طاقتور آدمیوں سے نہیں اٹھائی جاتی تھیں۔ لَتَنُوءُ بھاری ہوتی تھیں فَارِغًا صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خیال تھا ۔ الْفَرِحِينَ خوشی سے اتراتے ہوئے۔ قُصِّيهِ اس کے پیچھے جا، یہ کلام کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ ہم یہ قصہ تم سے بیان کرتے ہیں عَنْ جُنُبٍ دور سے اور وَعَنِ اجْتِنَابٍ کا معنی بھی یہی ہے ، يَبْطِشُ کو يَبْطُشُ بھی پڑھتے ہیں۔ يَا تَمرُونَ مشورہ کر رہے ہیں الْعُدْوَانِ ، الْعَدَاءُ اور التَّعَدِی ہم معنی ہیں۔ آنَسَ دیکھا۔ الجَذْوَةُ لکڑی کا وہ موٹا سرا جس میں آگ لگی ہوئی نہ ہو ۔الشِّهَابُ لپٹ والی آگ ۔ الحَيَّاتُ سانپ ان کی کئی قسمیں ہوتی ہیں جیسے الجَانُّ پتلا سانپ الأَفَاعِي کالا اور زہریلا سانپ،الأَسَاوِدُ کالا اور بڑا سانپ، رِدْءًا مددگار سانپ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ یہ لفظ يُصَدِّقُنِي ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے سَنَشُدُّ عنقریب ہم تیری مدد کریں گے ، اہل عرب جب کسی کی مدد کرتے تو کہتے فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا واقعی تو نے اس کی مدد کی۔ مَقْبُوحِينَ ہلاک کیے گئے ۔ وَصَّلْنَا ہم نے اُسے بیان کیا اور پورا کیا۔ يُجْبَى کھینچے چلے آتے ہیں۔ بَطِرَتْ سرکشی کی ۔ أُمُّ القُرَى مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات۔ تُكِنُّ چھپاتی ہے، جیسے کہتے ہیں أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ أَخْفَيْتُهُ چیز میں نے چھپائی اور كَنَنْتُهُ میں نے اُسے چھپا لیا۔ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ کا وہی معنی ہے جو الم تر کا ہے يَبْسُطُ الرِّزْقَ الله کا وہی معنی ہے جو أَلَمْ تَرَ کا ہے يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ یعنی جس پر چاہے رزق وسیع کر دے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] حدیث نمبر ٤٧٧٢)
ترجمہ کنز الایمان : " بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا کی تفسیر, عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ارشادِ باری تعالٰی : ترجمہ کنز الایمان: وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (پ ۲۰ القصص (۸۵) میں یہ اشارہ مکہ مکرمہ کی طرف ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ القُرْآنَ} [القصص: 85] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٧٧٣)
سورة العنكبوت مجاہد کا قول ہے کہ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِینَ یعنی گمراہی کو فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ پس اللہ تعالٰی ضرور بتا دیگا، یہاں یہ تمیز کروانے کی جگہ ہے جیسے فرمایا ہے ۔ لِيَمِيزَ اللَّهُ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ اللہ نا پاک کی تمیز کروا دے گا۔ أَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بوجھ بھی۔ سورة الروم۔ فَلاَ يَرْبُو جو نفع کمانے کے لیے رقم دے اس کے لیے اجر نہیں ہے۔ مجاہد کا قول ہے يُحْبَرُونَ نعمتیں . دیئے جائیں گے۔ يَمْهُدُونَ اپنے لیے بستر بچھاتے ہیں ۔ المَضَاجِعَ بارش۔ ابنِ عباس کا قول ہے هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اپنے فرضی خداؤں سے۔ تَخَافُونَهُمْ کہ تمہارے وارث ہو جا ئیں گے جیسے ایک دوسرے کا وارث ہوتا ہے۔ يَصَّدعُونَ الگ الگ ہوجائیں گے۔ فَاصْدَعْ کھول کر بیان کردد ۔ دوسرے کا قول کہ ضُعْفٌ اور ضَعْفٌ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ السُّوأَى اور الإِسَاءَةُ برائی کرنے والوں کا بدلہ۔ مسروق کا بیان ہے کہ ایک شخص کندہ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ بروز قیامت ایک ایسا دھواں آئے گا جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں داخل ہو جائیگا اور اہل ایمان کو اس سے صرف اتنی اذیت پہنچے گی جیسے زکام ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر ہم خوفزدہ ہو گئے چنانچہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا اور وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ تو غضب ناک ہوئے، پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا : جو کسی بات کا علم رکھتا ہو تو کہے اور جو نہ رکھتا ہو تو اسے کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے کیونکہ یہ بھی علمی بات ہے کہ جس بات کا علم نہ ہو تو کہہ دے کہ مجھے علم نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں نہیں (ص ۸٦) چنانچہ جب قریش نے اسلام قبول نہ کیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن کے خلاف دعا مانگی۔ اے اللہ! ان کے مقابلے پر میری مدد فرما اور ان پر اپنے سات سال بھیج جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں بھیجے تھے۔ پس انہیں قحط نے گھیر لیا حتی کہ کتنے ہی اس میں ہلاک ہو گئے اور اُس دوران وہ مردار اور ہڈیاں تک کھا گئے اور ان میں سے جب کوئی شخص زمین و آسمان کے درمیان نظر دوڑاتا تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا، پس ابوسفیان آپ کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا کہ،اے محمد !آپ تو ہمیں صلہ رحمی کا حکم دینے آئے تھے،دیکھیے تو سہی آپ کی قوم ہلاک ہوگئی،پس اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے پھر یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا (الدخان (۱۰) تو کیا ان سے آخرت کا عذاب ٹل جائے گا جبکہ وہ آئے گا۔ پھر وہ اپنے کفر کی طرف پھر گئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے (الدخان (۱٦) یہ بدر کا دن ہے اور لِزَامًا سے بھی جنگ بدر ہی مراد ہے اور رومیوں کے مغلوب اور غالب ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ سُورَةِ الرُّومِ حدیث نمبر ٤٧٧٤)
{لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} ترجمہ کنز الایمان : اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (الروم ۳۰) کی تفسیر, خَلْقِ اللهِ یعنی اللہ کا دین ۔ خُلُقُ الأَوَّلِينَ پہلوں کے دین اسلام جو فطرت کے عین مطابق ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ ایسا نہیں مگر وہ اپنی فطرت دین اسلام) پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے جانور کا ہر بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم نے ان میں سے کوئی کان کٹا ہوا پیدا ہوتے دیکھا ہے؟ پھر آپ کہتے ہیں: ترجمہ کنز الایمان: اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ ک بنائی چیز نہ بدلنا یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے(الروم ٣٠) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} [الروم: 30]: لِدِينِ اللَّهِ " حدیث نمبر ٤٧٧٥)
سُورَةُ لُقْمَانَ باب ترجمہ کنز الایمان: اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا ۔ بیشک شرک بڑا ظلم ہے( لقمان (۱۳) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت: ترجمہ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی ( الانعام (۸۲) نازل ہوئی تو یہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ پر بڑی دشوار گزری اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ایسا کون ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم ( کسی نہ کسی گناہ) کے ساتھ نہ ملایا ہو۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کیا تم نہیں سنتے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کیا کہا: ترجمہ کنز الایمان : بیشک شرک بڑا ظلم ہے (لقمان (۱۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} [لقمان: 13] حدیث نمبر ٤٧٧٦)
ترجمہ کنز الایمان " بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان رونق افروز تھے کہ ایک شخص نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ایمان کیا ہے؟ فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ اُس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی حضور حاضر ہونے پر اور دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لاؤ، اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اسلام کیا ہے؟ فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! احسان کیا ہے؟ فرمایا، احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرو کہ اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو یہ ذہن رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ فرمایا جس سے یہ سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ، ہاں میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتا دیتا ہوں، جب لونڈی اپنے آقا کو جننے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے، ان پانچ میں سے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے ( لقمان (۳۴) پھر وہ شخص چلا گیا۔ آپ نے فرمایا اس شخص کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ لوگ اُسے بلانے کے لیے گئے لیکن وہ نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا۔ وہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ} [لقمان: 34] حدیث نمبر ٤٧٧٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ چیزیں ہیں اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے ہے ( لقمان ۳٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ} [لقمان: 34] حدیث نمبر ٤٧٧٨)
سُورَةُ السَّجْدَةِ مجاہد کا قول ہے کہ مَهِينٍ کمزور یعنی مرد کا نطفہ ۔ ضَلَلْنَا ہم تباہ ہو گئے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ الجُرُزُ سے وہ زمین مراد ہے جہاں بارش بہت کم ہو اور اس کے ساتھ کام نہ چلے۔ يَهْدِ ہم نے ظاہر کیا۔ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے (السجدہ ١٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی شخص کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ۔ ترجمہ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے (السجدہ ۱۷) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے..... آگے گزشتہ حدیث کے مطابق روایت کی۔ سفیان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں؟ جواب دیا اور کس سے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17] حدیث نمبر ٤٧٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ جنت کی جن نعمتوں پر تم آگاہ ہو گے انہیں ذخیرہ کی ہوئی نعمتوں کے مقابلے میں چھوڑ دو گے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا (السجدہ ۱۷) ابو معاویہ اعمش ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے اس میں قُرَّاتِ پڑھا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17] حدیث نمبر ٤٧٨٠)
سورۃ الاحزاب مجاہد کا قول ہے کہ صَيَاصِيهِمْ سے ان کے محلات اور قلعہ مراد ہیں ۔ ترجمہ کنز الایمان : " یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے کی تفسیر, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا اور آخرت میں جس کی جان کا میں اس سے بھی زیادہ مالک نہ ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ترجمہ کنز الایمان : یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے ( الاحزاب ٦) پس جو بھی مومن مال چھوڑے تو اس کے رشتہ دار ہی میراث پائیں گے لیکن اگر اس کے سر پر قرض ہے یا کسی کا مال ضائع کیا تھا تو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اس کا ذمہ دار میں ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: 6] حدیث نمبر ٤٧٨١)
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو ( الاحزاب (۵)۔ سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہم زید بن محمد کہا کرتے تھے، حتی کہ قرآن کریم میں یہ حکم نازل ہو گیا: ترجمہ کنز الایمان: انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے (الاحزاب (۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] حدیث نمبر ٤٧٨٢)
فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کر چکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے ( الاحزاب (۲۳) نَحْبَهُ اپنا وعده - أَقْطَارِهَا فتنے کے کناروں سے لَآتَوْهَا اسے قبول کرلیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (الاحزاب ۲۳) حضرت انس بن نضر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] " حدیث نمبر ٤٧٨٣)
خارجہ بن زید والد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ جب ہم قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کر رہے تھے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی حالانکہ میں اسے اکثر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا۔ وہ آیت ہمیں حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی مسلمان کے پاس نہ ملی۔ جس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن کی شہادت کو دو مسلمان مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ یعنی : ترجمہ کنز الایمان : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا ( الاحزاب ۲۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] "حدیث نمبر ٤٧٨٤)
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ فى تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اے غیب بتانے والے (نبی) اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں ( الاحزاب (۲۸) التَّبَرُّجُ بناؤ سنگار دکھانا۔ سُنَّةَ اللَّهِ اسْتَنَّهَا سے مشتق ہے یعنی اپنا طریقہ ٹھہرایا۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی ازواج مطہرات کو ساتھ رہنے نہ رہنے کا اختیار دیدو۔ چنانچہ آپ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے لگا ہوں اس کا جواب دینے میں عجلت نہ کرنا جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو اور آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین ہرگز آپ کے ساتھ میری علیحدگی پسند نہیں کرینگے۔ حضرت صدیقہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے غیب بتانے والے (نبی) اپنی بیبیوں سے فرما دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ( الاحزاب ۲۸۔۲۹) میں نے عرض کی کہ اس کے متعلق اپنے والدین سے میں کیا مشورہ کروں جبکہ میں بذات خود صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کی بھلائی ہی چاہتی ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 28] حدیث نمبر ٤٧٨٥)
وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے (الاحزاب (۲۹) قتادہ کا قول ہے کہ وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالحِكْمَةِ سے قرآن و سنت مراد ہیں۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ازواج مطہرات کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیجئے تو آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں تم سے ایک بات کہنے لگا ہوں لیکن اس کا جواب دینے میں عجلت نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لینا۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپ کو یہ بات خوب معلوم تھی کہ میرے والدین مجھے آپ سے علیحدہ ہونے کا ہر گز حکم نہیں دیں گے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ ترجمہ کنز الایمان: اے غیب بتانے والے (نبی) اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ( الاحزاب (٢٨ تا ٢٩) وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: اس کے متعلق اپنے والدین سے میں کیا مشورہ کروں جبکہ میں خود اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہوں۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بھی اسی طرح کیا جس طرح مجھ سے دریافت فرمایا تھا۔ اسی طرح موسیٰ بن امین، معمر، زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی۔ نیز عبدالرزاق، ابوسفیان معمری ، معمر، زہری، عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 29] حدیث نمبر ٤٧٨٦)
وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ كى تفسير, ترجمہ کنز الایمان :اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنے کا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (الاحزاب ۳۷)۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت : ترجمہ کنز الایمان: اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (الاحزاب ۳۷) یہ حضرت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ ،حدیث نمبر ٤٧٨٧)
تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کر دیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں ( الاحزاب ۵۱ ) ابن عباس کا قول ہے کہ تُرْجِئُ تم پیچھے ہٹاؤ ۔ اس سے أَرْجِئْهُ ہے میں پیچھے ہٹاتا ہوں۔ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جن عورتوں نے اپنی ذات کو رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا تھا مجھے اُن پر رشک آتا تھا چنانچہ میں نے کہا کہ عورت کس طرح اپنے آپ کو ہبہ کرسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کر دیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں( الاحزاب (١۵) اس پر میں نے عرض کی : میں دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ) حدیث نمبر ٤٧٨٨)
معاذ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہم میں سے باری والی اپنی بیوی سے اجازت لے کر دوسری کے پاس جایا کرتے تھے جبکہ یہ آیت نازل ہوگئی: ترجمہ کنز الایمان : پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کر دیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں ( الاحزاب (۵١) میں نے عرض کی کہ آپ نے کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپ کی خدمت میں یوں عرض کی تھی: "آپ مجھے سے دریافت فرما رہے ہیں تو میں ہر گز نہیں چاہتی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر دنیا کی کسی چیز کو ترجیح دوں۔“ اسی طرح عباد بن عباد نے حضرت عاصم سے سنا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ) حدیث نمبر ٤٧٨٩)
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا کھانے کے لئے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایذا دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد بھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو بیشک اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔ ( الاحزاب ۵۳) کہا گیا ہے إِنَاهُ سے پکنے کا انتظار مراد ہے جیسے أَنَى يَأْنِي أَنَاةً میں نے خوب پکا لیا۔ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا اگر قریبا کو السَّاعَةُ کی صفت قرار دیں تو مؤنث کے باعث قریبہ پڑھنا ہوگا اور اسے ظرف بدل قرار دیا جائے تو اس کی صفت نہیں بدلے گی بدل قرار دیا تو گی بلکہ مونٹ کی ھا ہٹا دی جائے گی اور یہ لفظ واحد تثنیہ اور جمع میں اسی طرح رہے گا اور خواہ موصوف مذکر ہو یامؤنث۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کی خدمت میں بھلے برے ہر قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں لہذا آپ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم فرما دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم نازل فرما دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ الخ، حدیث نمبر ٤٧٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح فرمایا تو ولیمہ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ چنانچہ جب سارے کھانا کھا چکے تو وہیں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے گویا وہ یہیں ٹھہرنے کا تہیہ کر کے آئے ہیں اور کوئی بھی کھڑا نہ ہوتا تھا۔ جب حضور نے یہ ملاحظہ فرمایا تو آپ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ دوسرے حضرات بھی کھڑے ہو گئے لیکن تین افراد پھر بھی بیٹھے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوبارہ اندر تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ تینوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے جا کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ پس آپ گھر میں اندر تشریف لے آئے اور آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا۔ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا کھانے کے لئے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو( ، الاحزاب ۵۳) ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ،الخ ،حدیث نمبر ٤٧٩١)
ابوقلابہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: دوسرے تمام لوگوں کی نسبت پردے کی آیت کے شان نزول کا مجھے زیادہ علم ہے۔ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بھیج دیا گیا اور وہ گھر میں آپ کے پاس تھیں۔ پس آپ نے دعوت ولیمہ کی اور لوگوں کو بلایا گیا تو لوگ آکر بیٹھ گئے اور باتیں کرتے رہے، پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر چلے جاتے پھر اندر تشریف لے آتے لیکن وہ بیٹھے باتیں ہی کرتے رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا کھانے کے لئے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (الاحزاب ۵۳) پس پرده ڈال دیا گیا اور لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ (بخاری شریف، کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ الخ،حدیث نمبر ٤٧٩٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ولیمہ گوشت اور روٹی سے کیا۔ پس آپ نے مجھے بھیجا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلا لاؤں۔ پس میرے ساتھ کچھ حضرات آئے اور وہ کھا کر چلے گئے پھر کچھ حضرات آئے اور وہ بھی کھا کر چلے گئے۔ چنانچہ اسی طرح جنہیں میں بلاتا وہ حضرات آتے اور کھا کر چلے جاتے حتیٰ کہ اب مجھے بلانے کے لیے کوئی نہیں مل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کھانا اٹھا کر رکھ دو۔ لیکن تین آدمی اس وقت بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر نکل گئے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان سے فرمایا۔ اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ۔ انہوں نے جواب دیا۔ اور آپ پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت آپ نے اپنی زوجہ مطہرہ کو کیسا پایا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ان میں برکت عطا فرمائے پھر آپ باری باری اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے یہی فرماتے رہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تھا اور وہ بھی اسی طرح جواب عرض کرتی رہیں جس طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب عرض کیا تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم واپس لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں اب بھی گھر میں موجود باتیں کر رہے ہیں چونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت ہی حیادار تھے لہذا آپ باہر آئے اور آکر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے پاس ٹہلنے لگے مجھے یاد نہیں رہا کہ پھر میں نے جا کر آپ کو بتایا یا کسی اور شخص نے کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ چناں چہ آپ واپس تشریف لے آئے اور ابھی ایک قدم مبارک ہی اندر رکھا تھا اور دوسرا باہر ہی تھا کہ میرے اور اپنے درمیان آپ نے پردہ لڑکا دیا۔ اور اس وقت پردے کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ،الخ ،حدیث نمبر ٤٧٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔ چنانچہ لوگ روٹی گوشت سے شکم سیر ہو گئے۔ پھر آپ اُمہات المومنین کے حجروں کی جانب تشریف لے گئے جیسا کہ شب زفاف کی صبح کو آپ کا معمول تھا۔ پس آپ انہیں سلام کرتے اور انہیں دعائیں دیتے اور وہ بھی سلام و دعا کا جواب دیتیں۔ اس کے بعد جب آپ کاشانہ اقدس کی طرف واپس تشریف لائے تو دو افراد کو وہاں باتیں کرتے ملاحظہ فرمایا۔ انہیں دیکھ کر آپ گھر سے واپس لوٹ گئے جب اُن دونوں آدمیوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دولت اقدس سے واپس لوٹتے دیکھا تو وہ جلدی سے نکل گئے۔ یہ مجھے علم نہیں کہ اُن دونوں کے چلے جانے کی بابت میں نے آپ کو بتایا یا کسی اور شخص نے۔ پس آپ واپس گھر تشریف لائے ، حتی کہ اندر داخل ہو گئے پھر میرے اور اپنے در میان پردہ لڑکا دیا اور اس کے بعد پردے کی آیت کا نزول ہوا۔ ابن ابی مریم ، یحی ، حمید نے حضرت انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ الخ،حدیث نمبر ٤٧٩٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ کسی حاجت سے باہر نکلیں اور وہ بھاری بدن والی عورت تھیں، جو انہیں جانتا تھا اُس کا انہیں پہچان لینا دشوار نہ تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا۔ اے حضرت سودہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ! خدا کی قسم! ہم آپ کو پہچان لیتے ہیں حالانکہ آپ پردہ کر کے نکلتی ہیں۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ یہ سن کر بارگاہِ اقدس کی طرف واپس لوٹ آئیں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت میرے پاس رونق افروز ہو کر کھانا تناول فرما رہے تھے اور دست مبارک میں ایک ہڈی تھی۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں اپنی کسی حاجت سے باہر نکلی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ کچھ کہا ہے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی فرمانی شروع کر دی۔ جب وحی کا نزول ہو چکا تو ہڈی اس وقت بھی آپ کے دست مبارک میں تھی اور آپ نے رکھی نہ تھی۔ پس آپ نے فرمایا کہ بیشک تمہیں اجازت مل گئی ہے۔ لہذا اپنی ضرورت کے تحت باہر جاسکتی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ،الخ،حدیث نمبر ٤٧٩٥)
إِنْ تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ان پر مضائقہ نہیں ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی رہو بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ( الاحزاب ۵۴-۵۵) عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو القعیس کے بھائی افلح نے مجھ سے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی جب کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا میں نے کہا کہ اس وقت تک میں اجازت نہیں دے سکتی جب تک میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں کیونکہ ابو القعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے تو میں آپ کی خدمت میں عرض گزار ہوئی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بیشک ابو القعیس کے بھائی افلح میرے پاس آنے کی اجازت مانگتے تھے تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ جب تک حضور اجازت عطا نہ فرمائیں۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے چچا کو اجازت دینے سے تمہیں کس چیز نے روکا ہے؟ میں نے عرض کی ۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! مجھے آدمی نے دودھ نہیں پلایا ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، پس اس نے فرمایا۔ انہیں اجازت دے دینا وہ تمہارے چچا ہیں خاک آلودہ ہاتھ والی۔ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اسی لیے فرماتی ہیں کہ رضاعت کے ذریعے بھی وہ رشتے حرام ہیں جو نسب کے ذریعے حرام ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنْ تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلاَ أَبْنَائِهِنَّ وَلاَ إِخْوَانِهِنَّ وَلاَ أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلاَ أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلاَ نِسَائِهِنَّ وَلاَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ وَاتَّقِينَ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا} [الأحزاب: 55] حدیث نمبر ٤٧٩٦)
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ( الاحزاب ( 60) ابو العالیہ کا قول ہے کہ اللہ کی صلوۃ یہ ہے کہ وہ فرشتوں کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتا ہے اور فرشتوں کی صلوۃ دعا کرنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ يُصَلُّونَ برکت ڈالتے ہیں۔ لَنُغْرِيَنَّكَ ہم ضرور تمہیں غالب کر دیں گے۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بارگاہ نبوت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم اچھی طرح جان گئے لیکن صلوٰۃ کس طرح بھیجیں؟ فرمایا یوں کہو۔ اے اللہ ! درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجی۔ بیشک تو تعریف کیا گیا بزرگ والا ہے۔ اے اللہ! برکت بھیج اوپر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اوپر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے جیسے تو نے برکت بھیجی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر بیشک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،باب:إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} حدیث نمبر ٤٧٩٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !سلام کرنا تو یہ ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ فرمایا، یوں کہو۔ اے اللہ! درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تیرے بندے اور رسول ہیں جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود بھیجی اور برکت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر جیسے برکت بھیجی تو نے ابراہیم علیہ السلام پر۔ ابو صالح نے لیث سے یوں روایت کی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر جیسے برکت بھیجی تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر۔ ابن ابو حازم اور در اوردی یزید بن حماد سے راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جیسے درود بھیجا تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور برکت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسے برکت بھیجا تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،باب،إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ،حدیث نمبر ٤٧٩٨)
لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان: ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسی کو ستایا (الاحزاب ٦٩) ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت ہی حیادار شخص تھے، اسی لیے اللہ تعالٰی نے اُن کے متعلق فرمایا ہے: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے اسے بری فرما دیا اس بات سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (الاحزاب (٦٩) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى} [الأحزاب: 69]حدیث نمبر ٤٧٩٩)
سورة سبا کہا گیا ہے کہ مُعَاجِزِینَ سے مراد آگے نکل جانے والے ہیں۔ بمعجزِین ہاتھوں سے نکل جانے والے جیسے کہتے ہیں:لايُعْجِزُونَ وہ ہمیں عاجز نہیں کر سکتے۔مُعْجِزِینَ دوسری قرأت میں بمُعَاجِزِينَ ہے یعنی ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے والے، ایک دوسرے کا عجز ظاہر کرنے والے۔ مِعْشَارٌ دسواں حصہ - الأُكُلُ پھل ۔ بَاعِدُ اور بَعِّدْ دونوں ہم معنی ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ لَا يَعْزُبُ نہیں ہوتے ۔ العَرِی رکاوٹ، یہ ایک سرخ پانی تھا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تو بند گر گیا، میدان میں گڑھا پڑ گیا اور باغ کی دو اطراف اونچی ہوگئیں۔ پھر پانی ان کی نگاہوں کے سامنے سے غائب ہو گیا اور دونوں باغ سوکھ گئے ، وہ سرخ پانی بند کا نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا اور ان کے لیے اُسے اللہ تعالٰی نے بھیجا جہاں سے چاہا۔ عمرو بن شرجیل کا قول ہے کہ الْعَزِمُ یمن والوں کی زبان میں بند کو کہتے ہیں اور کسی دوسرے کا قول ہے کہ العدم سے میدان مراد ہے۔ السّابِغَاتُ زرہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ مُجازی عذاب دیئے جاتے ہیں۔ آعِظُكُمْ بِوَاحِدَةِ اللہ کی اطاعت کرنے کی۔ مثلی و فرادی دو دو یا ایک ایک۔ التّسَاوُش آخرت سے دنیا کی طرف لوٹنا۔ مَا يَشْتَهُونَ مال و اولاد اور سامان کی جو زینت چاہیں۔ ابن عباس کا قول ہے كَالْجَوَابِ زمین کے تالاب یا گڑھے کی طرح۔ الخَمْطُ پیلو کا درخت۔ الأَثَلُ جھاؤ کا درخت العَرِمُ سخت چیز ۔ حَتَّى إِذَا فُزِعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے ایک دوسرے سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا ہی بات فرمائی وہ کہتے ہیں جو فر ما یا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا ( سبا ۲۳ ) ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا حکم فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی سے یوں پروں کو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں جیسے پتھر پر زنجیر مارنے کی جھنکار ۔ یہاں تک کہ جب اذان دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرما دی جاتی ہے تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا بات فرمائی۔ ترجمہ کنز الایمان : وہ کہتے ہیں جو فر ما یا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا ( سبا ۲۳) پس ان کی گفتگو کو چوری کرنے والے شیاطین سننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس طرح اوپر تلے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت سفیان راوی نے اپنی ہتھیلی کو موڑ اور اپنی انگلیوں کو اوپر نیچے جوڑ کر دکھایا۔ اگر وہ ایک بات بھی سن پائیں تو فورا اپنے نیچے والے کو بتا دیتے ہیں اور وہ اپنے نیچے والے کو، حتی کہ وہ بات جادوگر اور کاہن کی زبان تک پہنچ جاتی ہے۔ بعض اوقات پہلے شیطان کے دوسرے کے بتانے سے پہلے آگ کی چنگاری آلگتی ہے اور کبھی وہ چنگاری سے پہلے دوسرے کو بتا چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم نے فلاں فلاں دن فلان بات نہیں بتائی تھی ۔ چنانچہ آسمان سے سنی ہوئی اس ایک بات کے سبب اپنی تصدیق کرواتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا -[122]-: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الحَقَّ وَهُوَ العَلِيُّ الكَبِيرُ} حدیث نمبر ٤٨٠٠)
إِنْ هُوَ إِلا نَذِيرٌ لَكُمْ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : وہ تو نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایک سخت عذاب کے آگے (سبا ٤٦) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور آپ نے آواز دی: ”اے لوگو! پہنچو۔“ یہ سن کر قریش کے تمام افراد آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے اور کہا کس لیے ہے؟ آپ نے فرمایا، اگر میں آپ لوگوں سے یہ کہوں کہ دشمن جمع ہو کر صبح یا شام کو آپ پر حملہ کرنے والے ہیں تو کیا آپ مجھے سچا جانیں گے؟ سب نے کہا، کیوں نہیں۔ پس آپ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : وہ تو نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایک سخت عذاب کے آگے ( سبا ٤٦) اس پر ابولہب نے کہا: ہلاک ہونے کیا ہمیں اس لیے جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب نازل فرمادی کہ ترجمہ کنز الایمان : تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ اور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا (الھب۔١) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ} [سبأ: 46] حدیث نمبر ٤٨٠١)
سورۂ فاطر کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے کہ القِطْمِيرُ کھجور کی گٹھلی کا چھلکا - مُثْقَلَةٌ لدی ہوئی۔ دوسرے کا قول کا الحَرُورُ دن میں سورج کی گرمی۔ ابن عباس کا قول ہے کہ الحَرُورُ رات کی گرمی اور السَّمُومُ دن کی گرمی کو کہتے ہیں ۔ غَرَابِيبُ بہت ہی سیاه الغِرْبِيبُ سخت کالی چیز۔ سورہ یٰسن کی تفسیر، مجاہد کا قول ہے کہ فَعَزَّزْنَا سے مراد ہے ہم نے طاقت دی يَا حَسْرَةً عَلَى العِبَادِ ان لوگوں پر افسوس ہے جو رسولوں سے مذاق کرتے ہیں أَنْ تُدْرِكَ القَمَرَ ایک کی روشنی دوسرے کی روشنی کو سلب نہیں کرے گی اور نہ یہ ان کے لائق ہے۔ سَابِقُ النَّهَارِ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے رہتے ہیں نَسْلَخُ ہم ان میں سے ایک کو دوسرے سے نکالتے ہیں اور دونوں چلتے رہتے ہیں۔ مِنْ مِثْلِهِ چوپاۓ ۔ فَكِهُونَ خوش و خرم جُنْدٌ مُحْضَرُونَ حساب کے لیے۔ عکرمہ سے منقول ہے کہ الْمَشْحُونَ سے مراد ہے بھری ہوئی۔ ابن عباس کا قول ہے طَائِرُ كُم تمہاری مصیبتیں يَنْسِلُونَ نکل آئینگے ۔ مَرْقَدِنَا اپنے نکلنے کی جگہوں أَحْصَيْنَاهُ ہم نے اسے محفوظ کرلیا ہے مَكَانَتُهُمْ اور مَكَانُهُم دونوں ہم معنی ہیں۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَر کی تفسیر، ترجمہ کنز الایمان : اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لئے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا (یٰسن ۳۸) حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غروب آفتاب کے وقت مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ پس آپ نے فرمایا بے شک یہ جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، اس لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمعہ کنز الایمان : اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لئے یہ حکم ہے زبر دست علم والے کا (یٰسن ۳۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ} [يس: 38] حدیث نمبر ٤٨٠٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ارشاد باری تعالیٰ : ترجمہ کنز الایمان : اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لئے (یٰسن (۳۸) کے متعلق نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معلوم کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا ٹھہرنا عرشِ اعظم کے نیچے ہے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ} [يس: 38]حدیث نمبر ٤٨٠٣)
سورة الصافات, مجاہد کا قول ہے کہ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ كُل مَكَانٍ بَعِيْد اس میں مَكَانٍ بَعِيدٍ سے مراد ہے ہر جانب سے اور يَقْذِفُونَ سے مراد ہے وہ پھینکے جاتے ہیں وَاصِبٌ ہمیشہ لاَزِبٌ لازم ضروری تَأْتُونَنَا عَنِ اليَمِينِ یعنی کافر جن جنہیں شیاطین کہا جاتا ہے غَوْلٌ پیٹ کا درد۔ يُنْزَفُونَ ان کی عقلیں ضائع نہ ہوا نہ ہوں گی۔ قَرِيْنِ شیطان۔ يُهْرَعُونَ تیز دوڑتے ہیں يَزِفُّونَ تیز چلتے ہوں گے بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا كفار قریش کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی مائیں جنوں کے سرداروں کی بیٹیاں ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجَنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُون یعنی عنقریب حساب کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔ ابن عباس کا قول ہے لنَحْنُ الصَّافُونَ فرشتے۔ صِرَاطَ الْجَحِيمِ جہنم کے اندر لَشَوْبًا جہنمیوں کے کھانے میں سخت گرم پانی ملایا جائے گا۔ مدحُورًا بھگایا ہوا ۔ اللُّؤْلُؤُ المَكْنُونُ چمک دار موتی وتركُنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرينَ انہیں بعد والے بھلائی کے ساتھ یاد کریں گے۔ يَسْتَخِرُونَ ہنسہ کرتے ہیں بَعْلًا یمن والوں کی بولی میں رب کو کہتے ہیں۔ وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ کی تفسیر، ترجمه کنز الایمان اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے (الصافات ۱۳۹)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام بہتر ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ المُرْسَلِينَ} [الصافات: 139] حدیث نمبر ٤٨٠٤)
عطاء بن یسار حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو میرے بارے میں یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں تو اس نے ضرور جھوٹ بولا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ المُرْسَلِينَ} [الصافات: 139]حدیث نمبر ٤٨٠٥)
شعبہ کو عوام بن حوشب نے بتایا کہ میں نے مجاہد سے سورہ ص میں سجدے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کے متعلق معلوم کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان : یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو(الانعام ۹۰ ) لہذا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اس سورت کو پڑھ کر سجدہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ ص،حدیث نمبر ٤٨٠٦)
مجاہد سے سورۃ ص میں سجدے کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے معلوم کیا کہ آپ اس میں سجدہ کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا، کیا تم یہ نہیں پڑھتے اور ان کی اولاد میں داؤد اور سلیمان۔ ترجمہ کنز الایمان : یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (الانعام ۹۰ ) پس حضرت داؤد علیہ السلام بھی ان حضرات میں سے ہیں جن کے راستے پر چلنے کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم فرما یا گیا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا۔ عُجَابٌ عجیب - القِطُّ صحیفہ یہاں نیکیوں کا نامہ اعمال یعنی کتابچہ مراد ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ فِي عِزَّةٍ سرکشی کرنے والے المِلَّةِ الآخِرَةِ قوم قريش الاِخْتِلاَقُ جھوٹ الْأَسْبَابُ آسمان کے دروازوں والے راستے جُنْدٌ مَّا هُنَالِك مَهْزُوم یعنی قریش - أُولئِكَ الْأَحْزَابُ پچھلے لوگ ۔ فَوَاقٍ لوٹ کر آنا۔ قِطَّنَا ہمارا عذاب۔ اتَّخَذْنَاهُمْ سَخْرِیا ہم نے انہیں گھیر لیا۔ أَتْرَابٌ ان کے مانند۔ ابن عباس کا قول ہے الأَيْدُ عبادت کی طاقت الأبصَارُ حکم الہی پر نظر رکھنا ۔ حُبُّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي یہاں مِن کی جگہ ہے طِفْقَ مَسْعًا گھوڑوں کی گردنوں اور ٹانگوں پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ الأَصْفَادِ بیڑیاں ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ ص،حدیث نمبر ٤٨٠٧)
هَبْ لِي مُلْكًا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو بیشک تو ہی ہے بڑی دین والا (ص ۳۵) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلی شب ایک بڑا خبیث جن آکر مجھے چھیڑنے لگا یا ایسا ہی کوئی اور لفظ ارشاد فرمایا تاکہ وہ میری نماز تڑوا دے۔ پس اللہ تعالٰی نے مجھے اس پر قابو عطا فرمایا۔ چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تا کہ صبح کے وقت تم سب اسے دیکھتے۔ پس مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ ترجمہ کنز الایمان : اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو ( ص ۳۵) روح بن عبادہ راوی کا قول ہے کہ پھر وہ ذلیل وخوار ہوکر لوٹ گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، إِنَّكَ أَنْتَ الوَهَّابُ} [ص: 35]حدیث نمبر ٤٨٠٨)
وَمَا أَنَا مِنَ المُتَكَلِّفِينَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور میں بناوٹ والوں میں نہیں (ص ٨٦)۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے لوگو! جو تم میں سے کسی بات کا جانتا ہو تو اسے کہے اور جو نہ جانتا ہو تو اسے کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ یہ بھی علم کا حصہ ہے کہ جس بات کو آدمی نہ جانے اس کے بارے میں کہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ: ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں نہیں (ص (٨٦) اور لیجئے میں تمہیں دھوئیں کے متعلق بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی طرف دعوت دی تو وہ اس پر تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی۔ اے اللہ ! ان کے مقابلے پر میری مدد فرما اور ان پر ایسے سات سال بھیج دے۔ جیسا حضرت یوسف علیہ السلام کے عہد میں بھیجے تھے پس قریش کی تمام چیزیں ختم ہو گئیں، حتی کہ وہ مردار اور کھالیں تک بھی کھا گئے چنانچہ جب اُن میں سے کوئی آدمی فضا میں دیکھتا تو اسے بھوک کے باعث دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا چنانچہ اللہ عز وجل نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب ( الدخان 11) راوی کا بیان ہے کہ پھر انہوں نے دعا کی۔ ترجمہ کنز الایمان : اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں کہاں سے ہو انہیں نصیحت مانتا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا پھر اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے الدخان ۱۵۔۱۱) کیا ان لوگوں سے قیامت کے دن عذاب ہٹایا جائیگا ؟ حالانکہ یہ عذاب ہٹایا گیا لیکن پھر وہ اپنے کفر میں اور سخت ہوتے گئے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں میدانِ بدر میں پکڑا چنانچہ اللہ رب العزت نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان: جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں ( الدخان ۱٦) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمَا أَنَا مِنَ المُتَكَلِّفِينَ} [ص: 86] حدیث نمبر ٤٨٠٩)
سورۃ الزمر کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ جو منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائینگے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ القِيَامَةِ چنانچہ امن والا ہی بہتر ہے ذِي عِوَجٍ مشکوک رَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ یہ معبودان باطل اور خُدائے برحق کی مثال ہے وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بتوں سے خَوَّلْنَا ہم نے عطا کیا وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ قرآن مجید - وَصَدَّقَ بِهِ سے مراد مومن ہے جو قیامت کے دن اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا تو کہے گا کہ تو نے مجھے یہ عطا فرمایا اور میں نے اس کے مطابق عمل کیا ۔ مُتَشَاكِسُونَ یہ الشَّكِسُ سے مشتق ہے یعنی وہ بد مزاج جو انصاف پر راضی نہ ہو۔ رَجُلًا سَلَما صحیح سالم آدمی کو کہتے ہیں۔ اشْمَأَزَّتْ نفرت کرنے لگتے ہیں بِمَفَازَتِهِمُ یہ الْفَوْزُ سے مشتق ہے حَافِّينَ حلقہ باندھ کر طواف کرنا۔ مُتَشَابِهًا یہ الاشتباه سے مشتق نہیں بلکہ يُشبه سے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرے۔ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے ( الزمر ۵۳)۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ مشرکوں کے کچھ افراد نے بڑے قتل اور بہت ہی زنا کیے تھے پس وہ مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ باتیں تو بہت بھلی ہیں لیکن ہمیں یہ تو علم ہو جائے کہ ہمارے گناہوں کا کوئی کفارہ ہو سکتا ہے؟ اس پر یہ اس آیت کا نزول ہوا: ترجمہ کنز الایمان : اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے ( الزمر ۵۳) اور یہ آیت نازل فرمائی ۔ ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (الفرقان ٦٨) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، إِنَّهُ هُوَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53]حدیث نمبر ٤٨١٠)
Bukhari Sharif Kitabut Tafsir Hadees No# 4811
وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبضَتُهُ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے (الزمر ٦٧) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو سمیٹ دے گا، اور آسمانوں کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں حقیقی بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} حدیث نمبر ٤٨١٢)
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے (الزمر ٦٨) عامر شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرا صور پھونکنے کے بعد سب سے پہلے میں اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش اعظم کو پکڑے ہوئے ہوں گے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اسی حالت میں رہے یعنی بے ہوش ہی نہ ہوئے یا صور پھونکنے کے بعد ہوش میں آئے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} حدیث نمبر ٤٨١٣)
ابو صالح کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ چالیس روز کا؟وہ فرماتے ہیں کہ میں نے انکار کر دیا لوگوں نے پوچھا کیا چالیس سال کا؟ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے انکار کر دیا لوگوں نے پھر پوچھا کیا چالیس مہینے کا؟ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے انکار کر دیا حضور نے یہ بھی فرمایا کہ انسان کی ہڈی کے سوا سب کچھ گل جائے گا اور اسی پر اس کی دوسری پیدائش مرکب فرما دی جائے گی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} حدیث نمبر ٤٨١٤)
سورۃ المؤمن کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے کہ لفظ حم بطور مجاز ہے جیسے دیگر سورتوں کے آغاز میں بھی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاید اس سورت کا نام ہو جیسے شریح بن ابو اوفی عبسی نے کہا ہےجس کا مفہوم ہے: نیزے چلے اور حامیم یاد کروائی گئی، اس کاش اس یلغار سے پہلے ہی حامیم پڑھ لی جاتی الطَّولُ، احسان کرنا۔ دَاخِرِينَ ذلیل و خوار ہونے والے۔ مجاہد کا قول ہے کہ النّجاةُ سے مراد ایمان ہے لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ بُت کسی کی دعا قبول نہیں کر سکتے يُسَجَرُون جہنم کا ایندھن بنیں گے تَمرَحُونَ اتراتے تھے۔ واقعہ ہے کہ حضرت علاء بن زیاد لوگوں کو دوزخ سے ڈرا رہے تھے ایک شخص نے کہا کہ آپ لوگوں کو مایوس کیوں کر رہے ہیں؟ فرمایا کیا میں لوگوں کو مایوس کر سکتا ہوں جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (الزمر ۵۳) اور یہ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں (غافر(٤٣) اصل آپ حضرات یہ چاہتے ہیں کہ برائیاں کرتے رہیں اور جنت کی خوش خبری پائیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ اطاعت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور نافرمانی کرنے والوں کو دوزخ سے ڈرائیں۔ عُروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ مجھے یہ بتائیے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے شدید سلوک کیا کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک دن صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، تو عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبارک کندھوں سے پکڑ کر اپنا کپڑا آپ کی مبارک گردن میں ڈالا اور پوری قوت کے ساتھ آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسے کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سلم سے پرے ہٹایا اور فرمایا : کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے صاف نشانیاں لے کر آیا ہے۔(غافر ٢٨) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ المُؤْمِنِ،حدیث نمبر ٤٨١٥)
سُورَةُ حم السَّجْدَةِ کی تفسیر, طاؤس کا قول ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا ائْتِيَا طَوْعًا تم دونوں خوشی سے دو أَتَيْنَا طَائِعِينَ ہم نے خوشی سے دیا منہال کا قول ہے کہ سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ میں قرآن کریم میں بعض ایسی باتیں پاتا ہوں جو مجھے ایک دوسری سے مختلف نظر آتی ہیں مثلاً: (۱) ترجمہ کنز الایمان تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے ( المومنون ۴۳) (۲) ترجمہ کنز الایمان: تو ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منھ کیا پوچھتے ہوئے (پ ۲۳، الصافات ۵۰) (۳) ترجمہ کنز الایمان: اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے (النساء ۴۲) (۴) ترجمہ کنز الایمان : ہم مشرک نہ تھے (الانعام ۲۳) اس آیت میں انہوں نے بات چھپائی۔(۵) اور یہ فرما یا ترجمہ کنز الایمان : آسمان کا اللہ نے اسے بنایا اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی اور اس کے بعد زمین پھیلائی (النازعات ۲۷-۳۰) تو بتایا کہ زمین کو بنانے سے پہلے آسمان بنایا۔ (٦) پھر فرما یا ترجمہ کنز الایمان : کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی۔۔۔تا۔۔۔ پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے (فصلت ۹۔۱۱) اس میں بتایا کہ آسمان کو بنانے سے پہلے زمین کو بنایا۔ (۷) اور فرمایا وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا عَزِيزًا حَكِيمًا سَمِيعًا بَصِيرًا ۔ گویا وہ زمانہ ماضی میں ایسا تھا جو گئی گزری بات ہوئی۔ پس انہوں نے جوابا فرمایا: فَلاَ أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ یہ پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے وقت کی بات ہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب بیہوش ہو جائیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر جس کو اللہ چاہے لہذا فَلاَ أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَلاَ يَتَسَاءَلُونَ، ۔ پھر جب دوسری مرتبہ رفع صور پھونکا جائے گا اقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى يَتَسَأَلُونَ کا سماں ہوگا۔ اور رہا ان کا یہ کہنا کہ وَمَا كُنَّا مُشْرِكِينَ اور وَلا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا کا معاملہ، تو یقیناً اللہ تعالٰی اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا تو مشرکین کہیں گے کہ آؤ ہم بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم شرک نہیں کیا کرتے تھے، پس ان میں میں سے ہر ایک کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو ان کے ہاتھ بولیں گے پھر اس وقت سب جان لیں گے کہ خدا سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پس اس وقت يَودُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۔ آیت کی صورت ہوگی ۔ وَخَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ پھر آسمان کو پیدا فرمایا، پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور انہیں دوسرے دو دن میں برابر کیا۔ پھر زمین کو پھیلایا اور اس کا پھیلانا یہ ہے کہ پانی اور چرنے کی جگہیں اس سے نکالیں اور پہاڑ ٹیلے، جانور وغیرہ جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں دوسرے دو دن میں پیدا فرمائے ، اسی لیے فرمایا ہے دَحَاهَا اور یہ جو فرمایا ہے کہ زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا، پس زمین کو اور جو کچھ اس میں ہے انہیں چار روز میں پیدا فرمایا گیا۔ جبکہ آسمان کو دو روز میں پیدا فرمایا گیا۔ اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا یہ اس نے اپنی تعریف فرمائی ہے یہ اللہ کا ارشاد ہے اور وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گا اور اللہ تعالیٰ جس چیز کا قصد فرماتا ہے وہ اسی طرح ہو جاتی ہے لہذا تمہیں قرآن مجید میں اختلاف نہیں چاہیے کیونکہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ اور مجاہد کا قول ہے کہ مَمْنُونٍ سے شمار کیا ہوا مراد ہے أَقْوَاتَهَا اس کی روزی فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا ہر آسمان میں اسی کا حکم کار فرما ہے نَحِسَاتٍ منحوس وَقَضَيْنَالَهُمْ قَرْنَاء موت کے وقت ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اهْتَزَّتْ سرسبز ہوئی وَرَبَتْ اونچی ہوئی۔ دوسرے کا قول ہے مِنْ الْمَامِهَا اپنے غلاف سے لَيَقُولَنَّ هَذَا لِي میرے عمل سے سَوَاءٌ للسائلین یعنی پوچھنے والوں کے لیے پورا اندازہ ہے تا کہ بھلائی برائی کو سمجھ سکیں جیسے ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ہم نے اسے دونوں گھاٹیاں بتا دیں یعنی بھلائی اور برائی کی یا فرمایا ہم نے اسے راستے کی طرف ہدایت فرمائی اور ہدایت وہی ہے جو منزل پر پہنچائے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰى أُولئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهدَاهُمُ اقْدَدِہ میں ہے يُوزَعُونَ روکے جائیں گے آسمامِهَا گابھے کے پوست کو الكُمُّ کہتے ہیں ولی حَمِيمٌ قریبی دوست مِنْ مَحِيصٍ یہ حَاصَ سے مشتق ہے مِريَةٍ اور مُريَةٍ ہم معنی ہیں یعنی شک وشبہ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ یہ وعید ہے ابن عباس کا قول ہے کہ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سے غصے کے وقت صبر کرنا مراد ہے اور برائی کے وقت معاف کر دینا اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالٰی ان کی حفاظت فرمائے گا اور دشمن ان کے لیے ایسے نرم ہو جائیں گے جیسے وہ گہرے دوست ہیں۔ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (فصلت ۲۲) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت : ترجمہ کنز الایمان : اور تم اس سے کہاں چُھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (فصلت (۲۲) کے متعلق فرمایا کہ قریش کے دو شخص اور ان کی سسرال بنی ثقیف کا ایک شخص یا بنی ثقیف کے دو آدمی اور ان کی سسرال قریش کا ایک شخص یہ تینوں بیت اللہ میں بیٹھے تھے تو ایک نے دوسرے سے کہا: کیا آپ کے خیال میں اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ بعض باتیں سن لیتا ہے تیسرا کہنے لگا کہ اگر وہ بعض باتیں سنتا ہے۔ تو ساری باتیں بھی سن لیتا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا ( فصلت ۲۲) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ، وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لاَ يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ} [فصلت: 22] حدیث نمبر ٤٨١٦)
وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الخَاسِرِينَ} [فصلت: 23 کی تفسیر, حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی یہ تینوں بیت اللہ کے پاس جمع ہوئے۔ ان کی توند چربی سے بھری ہوئی تھیں لیکن دل سمجھ بوجھ سے خالی تھے ان میں سے ایک نے کہا: کیا آپ کے خیال میں اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کو سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا، جب ہم بلند آواز سے بولتے ہیں تو سن لیتا ہے اور جب دھیما بولتے ہیں تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا جب وہ ہماری بلند آواز کو سنتا ہے تو ہلکی آواز کو بھی سن لیتا ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: اور تم اس سے کہاں چُھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (فصلت (۲۲) سفیان ہم سے یہ حدیث بیان کرتے وقت منصور یا ابن نجیح یا حمید میں سے ایک یا دو سے روایت کیا کرتے لیکن پھر منصور پر قائم ہوگئے اور کئی مرتبہ دوسروں کا ذکر نہ کیا۔ عمرو بن علی، یحیی، سفیان ثوری، منصور، مجاہد، ابو معمر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذکر کردہ حدیث کے مطابق روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الخَاسِرِينَ} [فصلت: 23] حدیث نمبر ٤٨١٧)
سُورَةُ حم عسق کی تفسیر، ابن عباس سے منقول ہے کہ عَقِيمًا وہ عورت جو بچہ نہ بنے۔ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا قرآن مجید ۔ مجاہد کا قول ہے کہ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ایک نسل کے بعد دوسری نسل {لاَ حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} کوئی جھگڑا دشمنی نہیں۔ طَرْفٍ خَفِيٍّ نظر بچا کر۔ دوسرے کا قول ہے فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ حرکت کرتا لیکن دریا میں نہ چلنا شَرَعُوا ابتدا کی طرح ڈالی۔ باب ترجمہ کنزالایمان: مگر قرابت کی محبت (الشوریٰ پ۲۵) طاؤس کا بیان ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے آیت ترجمہ کنز الایمان : مگر قرابت کی محبت ( الشوری (۲۳) کے متعلق دریافت کیا گیا تو سعید بن جبیر نے کہا کہ اس سے محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آل مراد ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی بیشک قریش کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی جس کے ساتھ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قرابت نہ ہو۔ لہذا آپ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں میرے اور اپنے درمیان اس رشتہ داری کا لحاظ تو رکھنا چاہیے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِلَّا المَوَدَّةَ فِي القُرْبَى} [الشورى: 23]حدیث نمبر ٤٨١٨)
سُورَةُ حم الزُّخْرُفِ کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے کہ عَلَى أُمَّةٍ یہاں عَلَى اِمامٍ کے معنی میں ہے اور پہلی آیت اس کی تفسیر ہے یعنی کیا انہیں یہ گمان ہے کہ ہم ان کی مخفی باتیں ،مشورے اور باتوں کو نہیں سنتے ؟ ابن عباس کا قول ہے کہ ترجمہ کنز الایمان : اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہو جائیں ( الزخرف ۳۳) سے یہ مراد ہے کہ اگر تمام لوگوں کے کافر ہو جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو کفار کے گھروں کی چھتیں اور ۔ سیڑھیاں ہم سونے کی بنا دیتے اور ان کے تاج و تخت سونے کے ہوتے مُقْرِنِينَ زور والے آسَفُونَا ہمیں غصہ دلایا۔ یعش اندھا ہو رہے مجاہد کا قول ہے أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ کہ تم قرآنِ مجید کو جھٹلاتے رہو اور ہم تمہیں عذاب نہ دیں۔ وَمَضَى مَثَلُ الأَوَّلِينَ پہلوں کا طریقہ - مُقْرِنِينَ جانوروں پر ہم قابو نہ پاتے۔ يَنْشَأُ فِي الْحِلْيَةِ یعنی تم نے انہیں خدا کی اولاد ٹھہرایا یہ کیسا حکم چلاتے ہو لَوْ شَاءَ الرَّحْمَنُ مَا عَبَدْنَاهُمْ یعنی بتوں کو ۔ مَالَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ بت کچھ نہیں جانتے۔ فِي عَقِبِهِ اس کی اولاد میں مُقْتَرِنین ساتھ چلتے ہیں۔ سَلَفًا محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت کے کفار کے اسلاف فرعون اور اس کے ہم قوم ہیں مَثَلًا سامان عبرت - يَصِدُّونَ غل مچانے لگے ۔ مُجْرِمُونَ متفق ہونے والے اولُ العَابِدِينَ سب سے پہلا ایمان والا انَّنِي بَرَاء مَا تَعْبُدُونَ اہل عرب البَرَاءُ کو بیزاری اور لاتعلقی کے لیے استعمال کرتے ہیں البراء اور الْخَلاء دونوں واحد، تثنیہ جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو آج کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مصدر ہے اگر بَرِيءٌ کہیں تو شنیہ کے لیے بَرِيئَانِ اور جمع بريمون ہوگی اور یہ عبد اللہ بن مسعود کی قرات میں بَرِيءٌ الزُّخْرُفُ سونا - الْمَلَئِكَةُ يَخْلُفُونَ فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ باب ترجمہ کنز الایمان : اور وہ پکاریں گئے اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کر چکے (الزخرف ۷۷) حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت یوں تلاوت فرماتے سنا وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ اور قتادہ کا قول ہے کہ مَثَلًا لِلآخِرِينَ میں مثل سے نصیحت مراد ہے دوسرے کا قول ہے مُقرِنِينَ قابو میں لانے والے جیسے کہا جاتا ہے کہ فُلانٌ مُقْرِنٌ لفلان یعنی فلاں فلاں پر قابو رکھتا ہے الأَكْوَابُ بغیر نہیں لہذا سب سے پہلا انکار کرنے والا بھی میں ہوں یہ دو طرح پڑھا جاتا ہے یعنی رَجُلٌ عَابِدٌ اور عَبْد اور حضرت ابن مسعود کی قرات میں یوں ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ يُقَالُ أَوَّلُ الْعَابِدِينَ اس میں الْعَابِدِينَ سے مراد انکار کرنے والے ہیں اور یہ عید يَعبُد سے ہے قتادہ کا قول ہے کہ ام الکتاب سے ساری کتاب یا اصل کتاب مراد ہے أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ میں مُسْرِفِينَ سے مراد مشرکین ہیں خدا کی قسم، جس طرح ابتدا میں لوگوں نے قرآن کریم کا انکار کیا تھا، اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو ہم ہلاک ہو گئے ہوتے أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَطَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ پہلے لوگوں پر جو عذاب آئے جُزْءًا برابر کھڑا کر دیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ، قَالَ: إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: 77] حدیث نمبر ٤٨١٩)
سورۃ الدخان کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے کہ رَهْوًا سے خشکی کا راستہ مراد ہے۔ عَلَى العَالَمِينَ سے پچھلے تمام لوگ مراد ہیں۔ فَاعْتُلُوهُ پرے ہٹاؤ ۔ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ یعنی بڑی آنکھوں والی ایسی حوروں سے ہم نے اُن کا نکاح کر دیا جو آنکھوں کو خیر کردیں۔ تَرْجُمُونِ قتل کرنا رَهْوًا رہنا سکونت اختیار کرنا ابن عباس کا قول ہے کہ كَالْمُهْلِ ایسا سیاہ جو تیل کی چکیٹ کے مانند ہو ۔ دوسرے کا قول ہے تُبَّعٍ یمن کے بادشاہ جون میں سے ہر ایک تُبَّع کہلاتا تھا کیونکہ وہ اپنے پیشرو کے بعد اس کا جانشین ہوتا تھا اور دھوپ کو بھی تبع کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ سورج کے تابع ہوتی ہے۔ باب ترجمہ کنز الایمان : تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا ( الدخان ۱۰) قتادہ کا قول ہے فَارْتَقِبْ انتظار کرو۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ (قیامت کی ) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں (۱) دھواں (۲) رومیوں کا مغلوب ہونا (۳) شق القمر (۴) قریش کی پکڑ (۵) اُن کی ہلاکت۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} [الدخان: 10]حدیث نمبر ٤٨٢٠)
باب:ترجمہ کنز الایمان: کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے درد ناک عذاب (الدخان ۱۱) مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب قریش نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسے سات سالوں کی ان کے لیے دعا مانگی پس وہ قحط اور مصیبت کا ایسے شکار ہوئے کہ ہڈیاں تک کھا گئے پس ان میں سے جب کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے بھوک کے سبب زمین و آسمان کے درمیان دھواں ہی نظر آتا تھا۔پس اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان : تو تم اس دن کے منتظر رہو ۔ جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا کہ لوگوں کو ڈھانپیں لے گا یہ ہے درد ناک عذاب (الدخان ۱۰-۱۱) آپ فرماتے ہیں کہ پھر وہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالٰی سے مضر کے لیے بارش کی دعا کردیں کیونکہ وہ ہلاک ہو گئے۔ آپ نے قریش سے فرمایا کہ تم تو بڑے جری ہو پھر آپ نے بارش کی دعا فرمائی تو ان پر بارش ہوئی۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (الدخان (۱۵) چنانچہ جب ان پر خوشحالی کا دور آ گیا تو خوشحالی آتے ہی اپنی پچھلی حالت پر لوٹ گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ کنزالایمان : جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں (الدخان ۱٦) یہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بدر کا روز ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الدخان: 11] حدیث نمبر ٤٨٢١)
باب:ترجمہ کنز الایمان: اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں( الدخان (۱۲) مسروق کا بیان ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات بھی علم کا ایک حصہ ہے کہ جس بات کو تمہیں علم نہ ہو تو اُس کے بارے میں کہہ دو کہ مجھے علم نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ملی کام سے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں نہیں (ص ۸٦) بیشک قریش نے جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سرکشی کی اور آپ کی نافرمانی کی تو آپ نے اُن کے حق میں دعا مانگی: اے اللہ ! ان کے مقابلے پر میری مدد فرما اور ان پر ایسے سات سال بھیج جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آئے پس ان پر قحط مسلط ہو گیا حتی کہ تنگی میں ہڈیاں اور مردار تک کھا گئے اور جب اُن میں سے کوئی اپنے اور آسمان کے درمیان نظر کرتا تو اسے بھوک کے سبب دھواں نظر آتا تھا اس پر وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! یہ عذاب ہم سے دور کردے ہم ایمان لے آئیں گے۔“ چنانچہ اس کے متعلق فرمایا گیا کہ اگر ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا تو وہ پھر جائیں گے۔ بہر حال آپ نے اپنے رب سے دعا کی تو ان سے عذاب دور ہو گیا لیکن وہ اپنے وعدے سے پھر گئے، پس اللہ تعالٰی نے اس کا ان سے بدر کے دن انتقام لیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالٰی نے فرمایا : ترجمہ کنز الایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا ۔۔۔۔تا۔۔۔۔۔ بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں ( الدخان ۱۰-۱٦) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ} [الدخان: 12] حدیث نمبر ٤٨٢٢)
باب:ترجمہ کنز الایمان: کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لا چکا (الدخان (۱۳) الذِّكْرُ اور الذِّكْرَى دونوں نے ہم معنی ہیں۔ مسروق کا بیان ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قریش کو دعوت اسلام پیش کی تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پس آپ نے دعا کی: اے اللہ ! ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسے سات سال بھیج کر میری مدد فرما۔ چنانچہ وہ قحط سالی میں مبتلا کر دیئے گئے حتی کہ (کھانے کی ) ہر چیزں ختم ہوگئی تو وہ مردار تک کھانے لگے اور جب اُن میں سے کوئی اپنے اور آسمان کے درمیان نظر کرتا تو تکلیف اور بھوک کے سبب انہیں دھواں نظر آتا تھا پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے درد ناک عذاب۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (پالدخان ۱۰-۱۵) حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ کیا ان لوگوں سے قیامت کے دن عذاب ہٹایا جائے گا؟ اور انہوں نے فرمایا کہ بڑی پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ} [الدخان: 13] « حدیث نمبر ٤٨٢٣)
باب:ترجمہ کنز الایمان : پھر اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے (الدخان (۱٤) مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو آپ کو حکم دیا کہ: ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں نہیں (ص ۸٦) پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ قریش تو برابر نافرمانی ہی کرتے جارہے ہیں تو دعا کی: اے اللہ! ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسے سات سال بھیج کر میری مددفرما تو ان پر قحط مسلط کر دیا گیا حتیٰ کہ سب چیزیں ختم ہو گئیں اور ہڈیاں اور کھا لیں تک بھی کھا گئے ۔ ان میں سے ایک نے کہا: "حتیٰ کہ ہڈیاں اور مردار بھی کھا گئے۔“ اور انہیں زمین سے دھواں سا نکلتا ہوا نظر آتا تھا۔ چنانچہ ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، اے محمد ! اللہ تعالٰی سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اس عذاب کو دور کر دیے۔ چنانچہ آپ نے دعا کر دی لیکن فرمایا کہ تم عذاب ہٹنے کے بعد وعدے سے پھر جاؤ گے۔ منصور کی حدیث میں ہے کہ پھر آپ نے یہ آیتیں پڑھیں ۔ ترجمہ کنز الایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (الدخان ۱۰۔۱۵) کیا قیامت میں ان سے عذاب ہٹایا جائے گا؟ پس دھوئیں کی یہ بات زمانہ ماضی کی ہے پکڑ اور ہلاکت بھی ہو چکیں۔(٦) ایک کا قول ہے کہ شق القمر بھی (۵) دوسرے نے کہا رومیوں کا واقعہ بھی۔ {(بخاری شریف ،کتاب التفسير ، باب،ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ، وَقَالُوا: مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ} [الدخان: 14] حدیث نمبر ٤٨٢٤)
باب:ترجمہ کنز الایمان: جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں (الدخان ۱٦) مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ (قیات کی ) پانچ نشانیاں گزر چکی )ہیں: (۱) قریش کی ہلاکت (۲) رومیوں کی فتح (۳)قریش کی پکڑ (٤) شق القمر (۵) دھواں ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} [الدخان: 16] حدیث نمبر ٤٨٢٥)
سُورَةُ حم الجَاثِيَةِ کی تفسیر, مُسْتَوْفِزِينَ عَلَى الرُّكَبِ گھٹنوں کے بل بیٹھنے والے, مجاہد کا قول ہے:نَسْتَنْسِخُ ہم لکھتے ہیں نَنْسَاكُمْ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔ باب ترجمہ کنز الایمان : اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ(الجاثیه ۲٤) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے " آدم کی اولاد زمانے کو برا کہہ کر مجھے اذیت پہنچاتے ہیں کیونکہ زمانہ میں ہوں ہر کام میرے ہاتھ میں ہے اور دن رات کو میں گردش میں رکھتا ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ} [الجاثية: 24] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٨٢٦)
سُورَةُ حم الأَحْقَافِ کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: تُفِيضُونَ تم کہتے ہو, بعض حضرات کا قول ہے أَثَرَةٍ و أُثْرَةٍ اور أَثَرَةٍ تنوں کا معنی ہے علم کا باقی حصہ ہے ابن عباس کا قول ہے بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ سب سے پہلے آنے والا رسول نہیں ہوں دوسرے کا قول ہےأَرَأَيْتُمْ یہ ابتدائی الف وعید کے لیے ہے یعنی اگر تمہارا خیال درست ہو تو جن چیزوں کو تم پوجتے ہو وہ عبادت کے لائق نہیں ہیں اور یہ أَرَأَيْتُمْ آنکھ سے دیکھنے والی رویت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے؟ کیا تم تک کوئی ایسی خبر پہنچی ہے کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو انہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو؟ باب:ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اُف تم سے دل پک گیا کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے سنگتیں گذر چکیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر انگلوں کی کہانیاں ( الاحقاف ۱۷) ابو بشر نے یوسف بن مالک سے روایت کی ہے کہ مردان جب حجاز کا گورنر ہوا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ نے بنایا تھا پس وہ خطبہ دیتے ہوئے یزید بن معاویہ کی تعریف کرنے لگا تا کہ اس کے والد ماجد کے بعد لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اعتراض کیا اس نے حکم دیا کہ اسے پکڑ لو لیکن یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدے میں داخل ہو گئے جس کے باعث وہ انہیں نہ پکڑ سکے مروان نے کہا، یہی وہ آدمی ہے جس کے متعلق اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ترجمہ کنز الایمان : اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف تم سے دل پک گیا کیا ( الاحقاف ۱۷ ) اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآنِ کریم میں ہمارے خلاف کوئی بھی آیت نازل نہیں فرمائی ، ماسوائے اس کے جو اللہ نے میری برات کا اعلان فرمایا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ: أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي الخ،حدیث نمبر ٤٨٢٧)
بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے ایک آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ( الاحقاف ٢٤) کی تفسیر۔ ابن عباس کا قول ہے۔ عَارِض سے بادل مراد ہے۔ سلیمان بن یسار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنها زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ کا مبارک حلق دیکھ لیتی کیونکہ آپ کا ہنسنا صرف تبسم کی حد تک ہوتا تھا۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب آپ ابر یا ہوا کو ملاحظہ فرماتے تو آپ کے مبارک چہرے سے پریشانی ظاہر(ہوتی ایک بار)۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! لوگ جب ابر آتا دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی لیکن حضور کے چہرے سے نا پسندید گی کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ فرمایا : اے عائشہ! مجھے یوں اطمینان نہیں ہوتی کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو کیونکہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا۔ اور ایک قوم نے عذاب کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ بادل تو ہم پر بارش برسائے گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الأحقاف: 24] حدیث نمبر ٤٨٢٨ و ٤٨٢٩)
سورہ محمد کی تفسیر, أَوْزَارَهَا ان کے گناہ، یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ عَرَّفَهَا اس کو بیان کیا۔ مجاہد کا قول ہے: مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا ان کا مددگار ہے عَزْمِ الْأَمْرُ ہمت کا کام فَلا تَهِنُوا کمزوری نہ دکھانا۔ ابن عباس کا قول ہے أَضْغَانَهُمُ ان کا حسد کرنا۔ آسِنٍ رنگ بدل جانا۔ باب ترجمہ کنز الایمان:اور اپنے رشتے کاٹ دو(محمد ۲۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرنے سے فارغ ہو چکا تو صلہ رحمی نے کھڑے ہو کر دامن رحمت تھام لیا۔ اس سے فرمایا گیا، ٹہر ،اس نے عرض کی کہ میں اس لیے تیری پناہ چاہتا ہوں تا کہ مجھے کوئی قطع نہ کر سکے ارشاد ہوا: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھے ملائے اور میں اس سے توڑ لوں جو تجھے توڑے۔ اس نے عرض کی : اے رب ! کیوں نہیں ؟ فرمایا، بس تیرے ساتھ یہی ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ترجمہ کنز الایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو (محمد (۲۲) سعید بن یسار نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں یوں ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ترجمہ کنز الایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو (محمد (۲۲)۔ عبداللہ بن مبارک نے حضرت معاویہ بن ابوالمزرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مذکورہ کے مطابق روایت کی اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ترجمہ کنز الایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو (محمد (۲۲) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ} [محمد: 22] حدیث نمبر ٤٨٣٠ و حدیث نمبر ٤٨٣١،و حدیث نمبر ٤٨٣٢)
سورۃ الفتح کی تفسیر اور مجاہد کا قول ہے سِيمَاهُم فِي وُجُوهِهِمْ خوبصورتی و خوشنمائی ۔ منصور نے مجاہد سے نقل کیا کہ اس سے مراد تواضع ہے شَطْأَهُ اپنی سوئی یعنی پٹھا فَاسْتَغْلَظ پھر موٹی ہوئی ۔ سُوقِهِ یہ السَّاقُ سے مشتق ہے یعنی تنا جس پر درخت کھڑا ہوتا ہے دَائِرَةُ السَّوْءِ بھی اسی طرح بولا جاتا ہے جیسے رَجُلُ السَّوْءِ اور اس سے مراد عذاب ہے تُعَزِّرُوهُ تم اس کی مدد کرو شَطْأَهُ بالی کا پٹھا جس سے دانے پیدا ہوتے ہیں یعنی دس آٹھ یا سات اور ایک دوسرے کو قوت پہنچاتے ہیں اس لیے ارشاد باری تعالی ہے فَآزَرَهُ پھر اسے قوت دی۔ اگر وہ بالی تنہا ہوتی تو اپنے پٹھے پر قائم نہ رہ سکتی۔ یہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مثال بیان فرمائی ہے جبکہ آپ اکیلے راہ خدا میں نکلے تو اصحاب کے ساتھ آپ کو قوت دی گئی جس طرح دانے کو اس پودے سے قوت پہنچتی ہے جو اس سے پیدا ہوتا ہے۔ باب ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی ( الفتح ١ ) زید بن اسلم نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کوئی بات دریافت کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ انہوں نے دوبارہ عرض کی تو آپ نے انہیں جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے تیسری بار سوال کیا تو بھی کوئی جواب نہ دیا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر پر اس کی ماں روئے تو نے تین مرتبہ سوال کیا لیکن کسی بار بھی تیری بات کا جواب نہ دیا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور لوگوں کے آگے جا پہنچا اور مجھے خوف تھا کہ میرے متعلق قرآن مجید میں کچھ نازل نہ ہو جائے ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک پکارنے والا مجھے آواز دے رہا تھا۔ میں ڈرا کہ کہیں میرے متعلق قرآن مجید میں کچھ نازل نہ ہو گیا ہو۔ پس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے پھر آپ نے سورہ الفتح کی تلاوت فرمائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1]حدیث نمبر ٤٨٣٣)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی (الفتح ١ ) سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ معاویہ بن قره حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن سورۃ الفتح کی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت فرمائی۔ معاویہ بن قرہ نے کہا کہ اگر میں تمہارے سامنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس انداز پر پڑھنا چاہوں تو ایسا کر سکتا ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1]حدیث نمبر ٤٨٣٤ و حدیث نمبر ٤٨٣٥)
بَابُ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: تا کہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دے اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے (الفتح ٢) حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم راتوں کو اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدموں پر ورم آجاتا۔ پس آپ سے کہا گیا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کے سبب آپ کے انگلوں اور آپ کے پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیئے(پھر آپ رات رات بھر قیام کرتے ہیں! تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے )فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ اس نہ بنوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} [الفتح: 2] حدیث نمبر ٤٨٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کے وقت اس قدر قیام فرمایا کرتے کہ دونوں قدم مبارک پھٹ جاتے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے سبب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں آپ نے فرمایا: کیا مجھے یہ پسند نہیں کہ میں شکر گزار بندہ بنوں؟ جب جسم مبارک قدرے بھاری ہو گیا تو آپ نماز تہجد بیٹھ کر ادا فرمانے لگے اور جب رکوع کرنے کا ارادہ ہوتا تو کھڑے ہو کر قرآت کرتے اور پھر رکوع میں جاتے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ الخ،حدیث نمبر ٤٨٣٧)
بَابُ {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: 45] ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا (الفتح ٤٥)کی تفسیر, حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا (فتح ٤٥) یہ توریت میں اس طرح ہے: اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوش خبری سناتا اور ان پڑھوں کی جائے پناہ بنا کر۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام المتوکل رکھا ہے نہ تم سخت مزاج ہو نہ سخت دل، نہ بازاروں میں چکر لگانے والے ہو اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ہو لیکن معافی اور درگزر اختیار کرتے ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک تمہارے ذریعے بگڑی ہوئی قوم کو سنوار نہ دے اور وہ یہ نہ کہیں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ ۔ پس تمہارے ذریعے اندھی آنکھوں ، بہرے کانوں، اور پردے پڑے ہوئے دلوں کو کھول دے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: 45]حدیث نمبر ٤٨٣٨)
باب:ترجمہ کنز الایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا (الفتح ٤ ) حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی تلاوت کر رہے تھے اور وہیں گھر میں ان کا گھوڑا بندھا ہوا تھا تو اچانک وہ بدکنے لگا۔ پس اس صحابی نے باہر نکل کر دیکھا تو اس کے پاس کسی چیز کو نہ پایا۔ صبح کے وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ سکینہ ہے جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت نازل ہوتا ہے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ المُؤْمِنِينَ} [الفتح: 4] حدیث نمبر ٤٨٣٩)
باب:ترجمہ کنز الایمان : جب وہ اس پیٹر کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (الفتح ۱۸) عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: صلح حدیبیہ کے دن ہماری کی تعداد چودہ سوتھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18]حدیث نمبر ٤٨٤٠)
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع فرمایا۔ عقبہ بن صہبان کا بیان ہے، کہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے غسل خانے میں پیشاب کرنے کے بارے میں سنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18]حدیث نمبر ٤٨٤١، و حدیث نمبر ٤٨٤٢)
ابوقلابہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں جو درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والوں سے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18]حدیث نمبر ٤٨٤٣)
عبدالعزیز بن سیاہ نے حبیب بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابو وائل کے پاس پوچھنے گیا تو انہوں نے فرمایا ہم جنگ صفین میں موجود تھے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم اُن لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اللہ کی کتاب کی جانب بلائے جاتے ہیں اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہاں۔ اس پر سہل بن حنیف نے اس آدمی سے کہا کہ الزام تم اپنے اوپر رکھو کیونکہ ہم حدیبیہ کے مقام پر صلح کو دیکھ چکے ہیں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی۔ حالانکہ اس وقت اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑ سکتے تھے اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض گزار کی : کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے جہنم میں نہیں ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں۔ عرض کی کہ پھر ہم اپنے دین میں کیوں دب کر رہیں اور کیوں خالی ہاتھ واپس لوٹیں جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ نہ فرما دے۔ ارشاد فرمایا: اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے بھی نقصان میں نہیں رکھے گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہاں سے جوش و غضب کی حالت میں واپس لوٹے اور اسی بے چینی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور مشرکین باطل پر نہیں؟ فرمایا: اے ابنِ خطاب! بیشک وہ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کبھی نقصان میں نہیں رکھے گا اس پر سورہ الفتح نازل ہو گئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18]حدیث نمبر ٤٨٤٤)
سورۃ الحجرات کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے لا تُقَدِّمُوا تم رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جواب دینے میں پیش قدمی نہ کرنا حتی کہ اللہ تعالیٰ اُن کی زبان مبارک سے جواب پورا کروا دے۔ امْتَحَنَ خالص کر دیا ۔ تَنَابَزُوا مسلمان ہونے کے بعد انہیں کافر نہ کہو يَلِتْكُمْ کم کر دے گا أَلَتْنَا ہم نے کم کر دیا۔ باب ترجمہ کنز الایمان: اپنی آواز میں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (الحجرات (۲) : تَشْعُرُونَ تم جانتے ہو اور لفظ الشاعر بھی اسی سے مشتق ہے۔ حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دو بہترین حضرات ہلاک ہونے کے قریب جاپہنچے تھے ہوا یوں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی آوازیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں : بلند کر دی تھیں جبکہ بنی تمیم کے سوار بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے اُن میں سے ایک صاحب تھے اقرع بن حابس کی جانب اشارہ کیا جو بنی مجاشع کا بھائی تھا اور دوسرے نے ایک اور آدمی کی طرف۔ نافع کا بیان ہے کہ مجھے اس آدمی کا نام یاد نہیں رہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ صرف میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ پس یہ باتیں کرتے ہوئے ان دونوں حضرات کی آوازیں بلند ہو گئیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: اپنی آواز میں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (الحجرات ۲) کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ اس آیت کے بعد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنی دھیمی آواز سے بولنے لگے کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم سن نہ پاتے اور دوبارہ دریافت فرمایا کرتے۔ لیکن انہوں نے اپنے نانا جان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس بات کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٨٤٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ثابت بن قیس کو نہ دیکھا تو ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کو میں ان کی خبر لا کر دیتا ہوں، پس وہ شخص ان کے پاس گیا تو انہیں دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں اس آدمی نے دریافت کیا کہ آپ کا کیسا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بہت بُرا کیونکہ جو اپنی آواز کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند کر دے اس کے عمل رائیگاں ہو جاتے ہیں اور وہ دوزخی ہو جاتا ہے۔ پس وہ شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور بتایا کہ وہ ایسا کہتے ہیں۔ موسیٰ راوی کا بیان ہے کہ وہ آدمی دوبارہ ان کے پاس گیا اور بہت بڑی خوش خبری لے کر گیا۔ کیونکہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جاؤ اور ان سے کہو کہ تم دوزخی نہیں بلکہ جنتی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] الآيَةَ حدیث نمبر ٤٨٤٦)
باب ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں (الحجرات (٤) ابن ابی ملیکہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب بنی تمیم کے سوار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رائے پیش کی کہ قعقاع بن معبد کو ان پر امیر مقرر کر دیا جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اقرع بن حابس کو امیر مقرر کرنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ یہ باتیں کرتے ہوئے دونوں حضرات کی آوازیں بلند ہو گئیں تو اس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے ( الحجرات ١) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ} [الحجرات: 4]حدیث نمبر ٤٨٤٧)
باب:ترجمہ کنز الایمان : اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا (الحجرات ۵) سورۃ ق کی تفسیر, رَجِيعٌ بَعِيد لوٹا۔ فُرُوجِ شگاف، اس کا واحد فَرْجٌ الوَرِيدِ گلے کی رگ۔ مجاہد کا قول ہے مَا تَنْقُصُ الأَرْضُ ان کی ہڈیاں تَبْصِرَةً بصیرت - حَبَّ الْحَصِيدِ گندم بَاسِقَاتٍ لمبی أَفَعَيِينَا کیا ہم عاجز ہو جائیں گے۔ وَقَالَ قَرِينُهُ سے وہ شیطان مراد ہے جو اس پر مقرر کیا ہوا ہے فَنَقَّبُوا چلے پھرے۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ کان لگا کر سُنے اور ادھر اُدھر توجہ نہ لے جائے حِينَ أَنْشَأَكُمْ جب تمہیں پیدا کیا رَقِيبٌ عَتِيدٌ نگہبان تیار کھڑے، نگران مُستعد سَائِقٌ وَشَهِيدٌ دو فرشتے ایک لکھنے والا دوسرا گواہی دینے والا شَهِيدٌ قلبی توجہ سے مشاہدہ کرنے والا لُغُوبٍ تھکاوٹ دوسرے کا قول ہے نَضِيدٌ پٹھا، کلی، جب تک وہ اپنے غلاف میں رہے اور نہ برتہ ہوں یعنی ایک دوسرے کے اوپر تلے اور جب وہ غلام سے نکل جائے تو اب اسے نَضِيدٍ نہیں کہیں گے۔ وَإِدْبَارِ النُّجُومِ (سورة طور ٤٩) اور نہ اخبارِ السُّجُود ( سورہ ق ٤٠) عاصم کی قرآت سورہ ق والے الف پر زبر اور سورۃ الطور والے الف پر زیر ہے جبکہ بعض نے دونوں جگہ کسرہ اور بعض نے دونوں جگہ فتح بتائی ہے ابن عباس کا قول ہے کہ: يَوْمَ الخُرُوجِ جب قبروں سے نکلیں گے۔ باب ترجمہ کنز الایمان: وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے ( ق ٣٠) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب لوگ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے تو وہ کہے گی، کیا اور بھی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہے گی، بس، بس۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ} [الحجرات: 5] حدیث نمبر ٤٨٤٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں جبکہ ابو سفیان راوی اسے اکثر موقوفاً روایت کیا کرتے ہیں کہ دوزخ سے کہا جائے گا : ” کیا تو بھر گئی؟ وہ عرض کرے گی ۔ " کیا اور بھی ڈالنے ہیں؟ پس اللہ تبارک و تعالی اس پر اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہے گی بس ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير،بَابُ قَوْلِهِ: {وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ} [ق: 30] حدیث نمبر ٤٨٤٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم آپس میں بحث کرنے لگیں تو جہنم نے کہا کہ میں تکبر کرنے والوں اور ظالموں کے لیے خاص کر دی گئی ہوں۔ جنت کہے گی کہ مجھے کیا ہو گیا جبکہ میرے اندر تو وہی لوگ آئیں گے جنہیں کمزور اور حقیر سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ جنت سے فرمائے گا۔ تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں کمزور اور حقیر سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ جنت سے فرمائے گا۔ تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم فرماؤں گا۔ اور جہنم سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے پس تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک تعداد متعین ہے لیکن دوزخ چونکہ نہیں بھرے گی حتیٰ کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنا قدم رکھے گا تو اس وقت وہ بس بس کہنے لگے گی اور بھر جائے گی اور اس کے حصے سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں سے کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخلوق کو پیدا فرمائے گا۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ} [ق: 30]حدیث نمبر ٤٨٥٠)
باب:ترجمہ کنز الایمان: اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ق ٣٩) کی تفسیر, حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے چودھویں کے چاند کی جانب دیکھ کر فرمایا: جلد تم اپنے رب کو اس طرح دیکھا کرو گے اور اس کے دیدار میں تمہیں کسی قسم کی زحمت یا رکاوٹ پیش نہیں آئے گی ۔ لہٰذا جہاں تک ہو سکے تم سورج طلوع اور غروب ہو جانے سے پہلے نماز پڑھنا نہ چھوڑنا اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان : اس کی پاکی بولوسورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ق ٣٩) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الغُرُوبِ} [ق: 39] حدیث نمبر ٤٨٥١)
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھنے کا حکم دیا۔ کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنز الایمان: اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد (،ق ٤٠) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الغُرُوبِ} [ق: 39] حدیث نمبر ٤٨٥٢)
سورۃ الذاریات کی تفسیر, حضرت علی کا قول ہے کہ: الذَّارِيَاتِ سے ہوائیں مراد ہیں دوسرے کا قول ہے: تَذْرُوهُ بکھیر دیتی میں وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ کہ تم کھاتے پیتے کن راستوں سے ہو اور وہ نکلتا کن راستوں سے ہے اور وہ نکلتا کن راستوں سے ہے۔ فَرَاغَ پس لوٹا ۔ فَصَكَّتْ اپنی انگلیوں کو ملا کر اپنی پیشانی پر مارا۔الرَّمِيمُ وہ سوکھی ہوئی گھاس جو روند دی گئی ہو۔ لَمُوسِعُونَ طاقت والے اور عَلَى الْمُوسِع میں بھی یہی مراد ہے زَوجَيْنِ یعنی مردو عورت رنگوں کا اختلاف اور میٹھا کھٹا وغیرہ یہ جوڑے ہیں۔ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ یعنی اللہ کی جانب سے اللہ کی جانب ہی دوڑو ۔ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ جنوں اور انسانوں کے سعادت مندوں کو توحید پر قائم رہنے کے لیے بعض حضرات کا قول ہے کہ رضائے الہی کے کام کریں تو کسی نے کئے اور کسی نے نہ کئے اور اس میں قدریہ فرقے کے لیے کوئی دلیل نہیں الذَّنُوبُ چرس مجاہد کا قول ہے۔ صَرَّةٍ چیخ پکار ۔ ذُنُوبًا راستہ - العَقِيمُ وہ عورت جس کے پیٹ سے بچے پیدا نہ ہوں۔ ابنِ عباس کا قول ہے الحُبُكُ اس کا برابر اور خوبصورت ہونا۔ فِي غَمْرَةٍ اپنی گمراہی میں کھنچے جاتے ہیں۔ دوسرے کا قول ہے تَوَاصَوْا موافقت کرتے ہیں اور کہا کہ مُسَوَّمَةً نشان لگائے ہوئے، یہ السِّيمَا ے مشتق ہے۔ سورۃ الطور کی تفسیر, قتادہ کا قول ہے: مَسْطور لکھا ہوا۔ مجاہد کا قول ہے: الطُّورُ سریانی زبان میں ایک پہاڑ کا نام ہے رَقٍّ مَنْشُورٍ کتابچہ سَقْفِ الْمَرْفُوعَ آسمان - المَسْجُورِ بھڑکایا ہوا۔ حسن بصری کا قول ہے تسْجُرُ اس کا پانی سوکھ جائے گا یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ مجاہد کا قول ہے أَلَتْنَاهُمْ ہم نے انہیں کم کیا۔ دوسرے کا قول ہے: تَمُورُ گھوے گا۔ اَحْلَامُهُم عقلیں ۔ ابنِ عباس کا قول ہے: البَرُّ مہربان كَسِفًا ٹکڑا ۔ الْمَنُونُ موت۔ دوسرے کا قول ہے: يَتَنَاذَعُونَ ایک دوسرے کو دیں گے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں بیمار ہوں آپ نے فرمایا کہ تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لیا کرو۔ پس میں نے طواف کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے ایک گوشے میں سورۃ الطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالذَّارِيَاتِ اور سُورَةُ وَالطُّورِ ،حدیث نمبر ٤٨٥٣)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: ترجمہ کنز الایمان: کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے یا وہی بنانے والے ہیں یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے بلکہ انہیں یقین نہیں یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ کڑوڑے ہیں ( الطور ۳۵۔ ۳۷) تو قریب تھا کہ میرا دل بند ہو جاتا۔ سفیان راوی کا بیان ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے تو مجھے زہری نے انہیں محمد بن جبیر نے اور اُن سے اُن کے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا اور میں نے انہیں اس سے زیادہ کہتے ہوئے نہیں سنا, (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالطُّورِ حدیث نمبر ٤٨٥٤)
سورۃ النجم کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے۔ ذُوْمِرَّةٍ طَاقت ور ۔ قَابَ قَوْسَيْنٍ دائرے کا وتر دو کمانوں کا فاصلہ۔ ضِيزَى ٹیڑھی ۔ وَأَكْدَى بخشش روک لی ۔ رَبُّ الشِّعْرَى شعری ستارے کا رب، الَّذِي وَفَّى جو اس پر فرض ہوا اسے پورا کیا۔ أَزِفَتْ الآزِفَةُ قیامت قریب آگئی۔ سَامِدُونَ یہ برطمه نامی ایک کھیل بھی ہے۔ عکرمہ کا قول ہے يَتَغَنَّوْنَ یہ خمیری زبان کا لفظ ہے ابراہیم کا قول ہے: أَفَتُمَارُونَهُ کیا تم جھگڑتے ہو اور جس نے افتُمُرُونَ پڑھا تو معنی ہے کہ کیا تم انکار کرتے ہو۔ مَازَاغَ الْبَصَرُ یعنی محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نظر۔ وَمَا طَغَى اور جو چیز دیکھی اس سے ادھر اُدھر نہ ہوئی ۔ فَتَمَارَوْا انہوں نے جھٹلایا ۔ حسن کا قول ہے: اِذَا هَوى جب غائب ہوا۔ ابن عباس کا قول ہے أَغْنَى وَأَقْنَى دیا اور خوش کیا۔ مسروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا۔ امی جان! کیا سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟انہوں نے فرمایا کہ اس بات سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے جو تم نے کہی ہے اگر تم سے کوئی ان تین باتوں میں سے کہے تو اس نے جھوٹ بولا ۔ جو تمہیں بتائے کہ محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ کہا:پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان: آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبر دار (الانعام ۱٠٣) اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (الشوری (۵١) اور جو تم سے یہ کہے کہ وہ کل کی بات کا علم رکھتا ہے تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان: اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی (القمان (۳٤) اور جو تمہیں یہ بتائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات پوشیدہ رکھی تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے ( المائدہ ٦٧) بات دراصل یوں ہے کہ آپ علیہ السلام نے حضرت جبرئیل علیہ کے السلام کو دو مرتبہ اُن کی اصلی شکل صورت میں دیکھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالنَّجْمِ،حدیث نمبر ٤٨٥٥)
باب ترجمہ کنز الایمان : پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ( النجم ۹) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادِ باری تعالی ترجمہ کنز الایمان: پھر خوب اُتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم ( انجم ۹) کے متعلق فرمایا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] «حَيْثُ الوَتَرُ مِنَ القَوْسِ» حدیث نمبر ٤٨٥٦)
باب ترجمہ کنز الایمان : اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی ( النجم ۱۰) ارشاد باری تعالٰی: ترجمہ کنز الایمان: پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی ( النجم ۱۰) کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک محمد مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا جن کے چھ سو پر تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [النجم: 10] حدیث نمبر ٤٨٥٧)
باب ترجمہ کنز الایمان: بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (النجم ۱۸) علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے آیت: ترجمہ کنز الایمان: بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (النجم ۱۸) کے متعلق روایت کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رفرف کو دیکھا جس نے اُفق کو ڈھانپ رکھا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الكُبْرَى} [النجم: 18] حدیث نمبر ٤٨٥٨)
باب ترجمہ کنز الایمان: بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں ( النجم ۱۸) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( ترجمہ کنز الایمان) تو کیا تم نے دیکھا لات اور عزّیٰ( انجم ۱۹) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لات ایک آدمی گزرا ہے جو حاجیوں کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى} [النجم: 19] حدیث نمبر ٤٨٥٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر کوئی بھول کر کہہ بیٹھے اس کہ لات وعزّیٰ کی قسم، تو اسے چاہیے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پڑھ لے اور اگر کوئی اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آؤ جواء کھیلیں تو اس کو خیرات کرنی چاہیے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى} [النجم: 19]حدیث نمبر ٤٨٦٠)
باب ترجمہ کنز الایمان: اور اس تیسری منات کو (النجم ۲۰) عُروہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مناۃ طاغیہ سے احرام کرتے تھے جو مشلل میں ہے،اور صفا اور مروہ کے درمیان پھیرے نہیں لگایا کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ:بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانوں سے ہیں (البقرة (۱۵۸) پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور سارے مسلمان ان کے درمیان پھیرے لگاتے رہے دوسری سند کے ساتھ عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ اور قبیلہ غسّان والے مسلمان ہونے سے پہلے منات کے پاس آکر احرام باندھا کرتے تھے۔ تیسری سند کے ساتھ عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ انصار کے کچھ لوگ تھے جو منات کے پاس احرام باندھا کرتے تھے اور منات ایک بت تھا جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کو بتایا کہ یا نبی اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم منات کی تعظیم کے پیش نظر صفا و مروہ کا طواف نہیں کیا کرتے تھے۔۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى} [النجم: 20]حدیث نمبر ٤٨٦١)
باب:ترجمہ کنز الایمان: تو اللہ کے لئے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (النجم ٦٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھ کر سجدہ تلاوت کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں سب نے سجدہ کیا۔ ابن طہمان نے بھی ایوب سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن ابنِ عُلیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَاسْجُدُوا لِلَّهِ -[142]- وَاعْبُدُوا} [النجم: 62]حدیث نمبر ٤٨٦٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ سجدہ والی سورتوں میں سب سے پہلے سورۃ النجم نازل ہوئی اس کی تلاوت کر کے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور جتنے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے پیچھے تھے ان سب نے سجدہ کیا سوائے ایک آدمی کے میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کر لیا پس اُس کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں قتل ہوا پڑا تھا اور وہ امیہ بن خلف تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَاسْجُدُوا لِلَّهِ -[142]- وَاعْبُدُوا} [النجم: 62]حدیث نمبر ٤٨٦٣)
سورۃ القمر کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے مُسْتَمِرٌّ جانے والا ۔ مُزْدَجَرٌ رکاوٹ وَازْدُجِرَ پاگل کر کے چھوڑا گیا۔ دُسُرٍ کشتی کی میخیں - لِمَنْ كَانَ كُفِرَ جس کے لیے کفر کیا اس کا اللہ کی ک طرف سے بدلہ مُحْتَضَرٌ پانی کے پاس حاضر ہوتے ہیں ابن جبیر کا قول ہے مُهْطِعِينَ تیز دوڑنے والے۔ الخَبَبُ تیز چلنا۔ دوسرے کا قول ہے: فَتَعَاطَى اپنے ہاتھ سے وار کر کے پھر اسے ذبح کیا۔ المُحْتَظِرِ جلی ہوئی بار - ازْدُجِرَ یہ زَجَرَت کا باب افتعال ہے كُفِرَ ہم نے اُس کے اور اُن کے ساتھ یہ اس لیے کیا کہ جو حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ سلوک کیا گیا تھا اس کا بدلہ ہو جائے ۔ مُسْتَقِرٌّ عذاب حق ہے المَرَحُ اترانے کو کہتے ہیں اور شیخی دکھانے کو ۔ ترجمہ کنز الایمان شق ہو گیا چاند اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منھ پھیر تے ( القمر ۲) ابو معمر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ چاند شق ہونے کا واقعہ تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ہوا۔ چنانچہ اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ سے دور۔ پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : گواہ رہنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ،حدیث نمبر ٤٨٦٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ہیں کہ جب چاند شق کیا گیا اس وقت ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ پھر آپ علیہ السلام نے ہم سے فرمایا : گواہ رہنا، گواہ رہنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَانْشَقَّ القَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا} [القمر: 2]حدیث نمبر ٤٨٦٥)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ چاند شق ہونے کا واقعہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک عہد میں ہوا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَانْشَقَّ القَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا} [القمر: 2]حدیث نمبر ٤٨٦٦)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ اہل مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھایا جائے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے انہیں چاند کے ٹکڑے کر کے دکھائے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَانْشَقَّ القَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا} [القمر: 2]حدیث نمبر ٤٨٦٧)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَانْشَقَّ القَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا} [القمر: 2]حدیث نمبر ٤٨٦٨)
تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان, ہماری نگاہ کے سامنے بستی، اس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا اور ہم نے اسے نشانی بنا چھوڑا، پس ہے کوئی دھیان کرنے والا (القمر ١٥) قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو باقی رکھا یہاں تک کہ اس امت کے اگلے لوگوں نے اسے دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے ۔ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ - (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 15] حدیث نمبر ٤٨٦٩)
باب:ترجمہ کنز الایمان : اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (القمر ١٧) مجاہد کا قول ہے: يَسَّرْنَا ہم نے قرآن کا پڑنا آسان کر دیا۔ اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَقَدْ يَسَّرْنَا القُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 17] حدیث نمبر ٤٨٧٠)
باب ترجمہ کنز الایمان: وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ ہیں تو کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (القمر ٢١) کسی شخص نے اسود سے دریافت کیا کہ اس آیت میں مُدَّكِرٍ ہے یا مُذَّكِرٍ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ یعنی اس کے اندر حرف دال ہے۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير ،بَابُ {أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ} [القمر: 21]حدیث نمبر ٤٨٧١)
باب:ترجمہ کنز الایمان: جبھی وہ ہو گئے جیسے گھیرا بنانے کے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لئے تو ہے کوئی یاد کرنے والا ( القمر ۳۱-۳۲) اسود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ پڑھا کرتے تھے۔ . (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَكَانُوا كَهَشِيمِ المُحْتَظِرِ، وَلَقَدْ يَسَّرْنَا القُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 32] حدیث نمبر ٤٨٧٢)
باب:ترجمہ کنز الایمان: اور بے شک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (القمر ٣٩) اسود حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس آیت کو فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر پڑھا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ} [القمر: 39] إِلَى {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 15] حدیث نمبر ٤٨٧٣)
باب:ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک ہم نے تمہاری وضع کے ہلاک کر دیئے تو ہے کوئی دھیان کرنے والا ( القمر ٥١) اسود بن یزید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ پڑھا ہے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی اسے فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ پڑھتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: 51]حدیث نمبر ٤٨٧٤)
باب:ترجمہ کنز الایمان: اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیر دیں گے ( القمر ٤٥) عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے دو سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں یوں دعا کر رہے تھے: اے اللہ ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ یاد کرواتا ہوں، اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ ہو... اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے آپ علیہ السلام کو پکڑ کر کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ کافی ہے آپ اپنے رب کے حضور التجا پیش کر چکے ہیں اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ علیہ السلام یہ پڑھتے ہوئے باہر تشریف لے آئے : ترجمہ کنز الایمان : اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیر دیں گے ( القمر ٤٥) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] حدیث نمبر ٤٨٧٥)
باب:ترجمہ کنز الایمان : بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی (القمر ٤٦) کی تفسیر, آمَرُ یہ الْمَرَارَةِ سے مشتق ہے۔ ابن جریج کا بیان ہے کہ مجھے یوسف بن ماہک نے بتایا کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بارگاہ میں حاضر تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب یہ ۔آیت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تو ان دنوں میں نو عمرلڑ کی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [القمر: 46] « حدیث نمبر ٤٨٧٦)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں یوں دعا کر رہے تھے: اے اللہ ! میں تجھے تیرا عہد اور تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد کبھی تیری عبادت ہی نہ ہو... تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے آپ کو پکڑ کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور التجا پیش کر چکے۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ پہنی ہوئی تھی چنانچہ آپ یہ پڑھتے ہوئے باہر تشریف لائے: ترجمہ کنز الایمان: بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی ( القمر ٤٦) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [القمر: 46] «حدیث نمبر ٤٨٧٧)
سورۃ الرحمن کی تفسیر, وَأَقِيمُوا الوَزْنَ سے ترازو کی ڈنڈی مراد ہے۔ العَصْفُ کچھی فصل جبکہ اسے پکنے سے پہلے کاٹا جائے وَالرَّيْحَانُ روزى الحَبُّ دانہ جو کھایا جاتا ہے اہل عرب کی زبان میں الریحان رزق کو کہتے ہیں بعض حضرات کا قول ہے العصف سے مراد وہ دانے ہیں جو کھائے جاتے ہیں اور الریحان وہ رزق ہے جو دانوں کی شکل میں نہیں کھایا جاتا دوسرے کا قول ہے الْعَصْفُ سے گندم کے پتے مراد ہیں ضحاک کا قول ہے الْعَصْفُ سوکھی ہوئی گھاس۔ ابو مالک کا قول ہے۔ العصف جو فصل سب سے پہلے اُگے اور جس کو نبطی زبان میں هَبُوراً کہتے ہیں مجاہد کا قول ہے۔ العَصْفُ گندم کے پتے۔ الرَّيْحَان رزق - المارج وہ زرد اور سبز رنگ کے شعلے جو آگ جلانے پر بلند ہوتے ہیں دوسرے حضرات نے مجاہد سے نقل کیا : رَبُّ المَشيرِقَيْن دو مشرق اس لیے کہا کہ وہ جہاں سے سردیوں میں سورج نکلتا ہے اور دوسری جگہ وہ جہاں سے گرمیوں میں نکلتا ہے۔لَا يَبْغِيَانِ دونوں آپس میں نہیں ملتے ۔ المُنْشَآتُ ایسے جہاز مراد ہیں جن کے بادبان بلند کر دیئے گئے ہوں اور جن کے بلند نہ کیے جائیں انہیں منشاة نہیں کہا جاتا۔ مجاہد کا قول ہے نُحَاسٌ وہ تانبا جو پگھلا کر اُن کے سروں پر ڈال دیا جائے گا تا کہ یوں عذاب دیے جائیں خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ گناہ کا ارادہ کرنے پر خدا کو یاد کر کے اُس گناہ کا ارادہ چھوڑ دینا۔ الشُّوَاظُ آگ کے شعلے مُدْهَامَّتَانِ گہرا سبز رنگ مائل بہ سیاہی ۔ صَلْصَالٍ ریت ملی ہوئی مٹی جو کھنکھناتی ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد گلی ہوئی مٹی ہے اور اسے مل کہتے ہیں بعض کا قول ہے کہ جس طرح بند کرتے وقت دروازہ بجتا ہے اس طرح بجتی ہوئی مٹی۔ رہا صر صر تو وہ كَبُكَبَتُهُ کی طرح ہے فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ بعض کا قول ہے کہ کھجور اور انار میووں میں شمار نہیں ہیں لیکن اہل عرب انہیں میووں میں شمار کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ترجمہ کنز الایمان : نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی ( البقرۃ ۲۳۸) یہاں شروع میں ہر نماز کی حفاظت کا حکم ہے پھر عصر کا تاکید کی غرض سے دوبارہ ذکر فرمایا ، پس اس طرح کھجور اور انار کا دوبارہ ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کی مثال یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے: ترجمہ کنز الایمان : کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ( الحج (۱۸) پھر فرمایا ترجمہ کنز الایمان: اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا (الحج (۱۸) حالانکہ پہلے ارشاد میں عرشی اور فرشی ساری مخلوق کا ذکر فرمایا تھا۔ دوسرے کا قول ہے أَفْنَانٍ ٹہنیاں وَجَنَى الجَنَّتَيْنِ دَانٍ جس پھل کو چاہیں گے نزدیک آجائے گا۔ حسن بصری کا قول ہے : فَبِأَيِّ آلاَءِ اُس کی نعمت قتادہ کا قول ہے : رَبِّكُمَا جنوں اور انسانوں کا ابو درداء کا قول ہے كُل يوم في شَانٍ گناہ کو معاف کرتا اور مصیبت کو دور کرتا ہے۔ کسی قوم کو اٹھاتا اور کسی کو گراتا ہے۔ ابنِ عباس کا قول ہے : برزخ پردہ رکاوٹ الآنام مخلوق نَضَّاخَتَانِ جوش مارنے والے۔ ذُو الجلال عظمت والا دوسرے کا قول ہے: مَارِج خالص آگ، کہتے ہیں کہ مرج الامير رعیتہ جب حاکم اپنی رعیت کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے چھوڑ وے، تو اسے مَرَجَ أَمْرُ النَّاسِ کہیں گے مَرِيجٍ ملا ہوا۔ مرج دو دریاؤں کا ملنا جیسے تم جانور کو چھوڑ دو یہ لفظ اُس مَرْجَتْ سے نکلا ہے۔ سَنَفْرُغُ لَكُمْ ہم ضرور تمہارا ہر چیز کا حساب لیں گے اور یہ کلام عرب میں مشہور ہے کہ ایک چیز اُس کی توجہ کو دوسری چیزوں کی طرف سے نہیں روک سکتی جیسے عربی کا مقولہ ہے کہ میں تیرے لے ہر بات سے فارغ ہوں گا اور تیری غفلت پر تجھ کو پکڑوں گا۔ باب:ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں ( الرحمن ٦٢) حضرت عبداللہ بن قیس (ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دوں جنتیں۔چاندی کی ہونگی ، حتی کہ اُن کے برتن اور اُن کی تمام چیزیں بھی اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی کہ اُن کے برتن بلکہ وہاں کی ہر چیز سونے کی ہوگی لوگ اپنے خدا کو دیکھیں گے اس پر جنت عدن میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی سوائے اس کے کہ اُس کے چہرے پر کبریائی کی چادر پڑیں ہوئی ہوگی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ} [الرحمن: 62]حدیث نمبر ٤٨٧٨)
باب:ترجمہ کنز الایمان: حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (الرحمن ۷۲ ) ابن عباس کا قول ہے کہ الحُورُ سیاہ آنکھ والی کو کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے مَقْصُورَات روکی ہوئی جنہوں نے اپنی آنکھیں اور اپنے نفس اپنے خاوندوں کے لیے وقف کر رکھے ہیں قَاصِرَاتٌ وہ اپنے خاوندوں کے سوا اور کسی کی متلاشی نہ ہوں گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنت میں ایک خیمہ ایسا ہوگا جو ایک ہی کھو کھلے موتی کا ہوگا اور اُس کی چوڑائی ساٹھ میل ہوگی اُس کے ہر کونے میں حوریں ہونگی ایک کونے والی دوسرے کونے والی حوروں کو نہیں دیکھ سکیں گی اور اہل ایمان اُن کے پاس آئیں گے۔وہاں دو جنتیں چاندی کی ہوں گی حتی کہ اُن کے برتن اور تمام چیزیں بھی اسی طرح دو جنتیں سونے کی بلکہ اُن کی ہر چیز بھی اُن لوگوں کے لیے جنت عدن میں اپنے رب کی روئیت پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ اس کے کے چہرے پر کبریائی چادر پڑی ہوگی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الخِيَامِ} [الرحمن: 72] حدیث نمبر ٤٨٧٩ و حدیث نمبر ٤٨٨٠)
سورۃ الواقعہ کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: رُجَّتْ ہلا دی جائے گی۔ بُسَّتْ توڑ کر پینا جیسے ستو پیسے جاتے ہیں ۔ ”المَخْضُودُ “ بوجھ سے لدا ہوا اور اُس چیز کو بھی کہتے ہیں جس میں کانٹا نہ ہو مَنْضُودٍ " کیلا، العُرُبُ “ اپنے شوہر سے محبت کرنے والى ثُلَّةٌ" جماعت، يَحْمُومٍ “ دھواں سیاہ رنگ کا، يُصِرُّونَ " ہمیشہ کرتے رہتے ہیں، الهِيمُ " پیاسے اونٹ، لَمُغْرَمُونَ‘ الزام دیے گئے "رَوْحٌ" جنت اور خوش حالی، رَيْحَانٌ" روزی، وَنُنْشِئَكُمْ جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کرتے ہیں دوسرے کا قول ہے تَفَكَّهُونَ تم تعجب کرتے ہو ،عُرُبًا" خوبصورت عورتیں اس کا واحد عَرُوبٌ“ جیسے صبر کا واحد صبور ہوتا ہے، اہل مکہ اسے العَرِبَةَ “ اور اہل مدینہ الغَنِجَةَ “ کہتے ہیں جب کہ اہل عراق الشَّكِلَةَ " کہتے ہیں اور خَافِضَةٌ “ کے متعلق کہا کہ ایک جماعت کو جہنم میں گرانا اور دوسرے کو جنت کی طرف اٹھانا مراد ہے "مَوْضُونَةٍ“ بنا ہوا اور وَضِينُ النَّاقَةِ " اس سے مشتق ہے۔ الكُوبُ" وہ برتن جس میں ٹوٹی اور دستہ نہ ہو الأَبَارِيقُ“ ایسے برتن جن میں ٹوٹیاں اور دستے ہوں۔ "مَسْكُوبٍ" بہتا ہوا۔ فُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ ایک دوسرے کے اوپر ، تہ برتہ مُتْرَفِينَ“ نفع کمانے والے، مَا تُمْنُونَ“ یہ عورت کے رحم میں نطفہ ڈالنے سے استعارہ ہے "لِلْمُقْوِينَ" مسافروں کے لیے۔ القِيُّ ، چٹیل میدان " بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ " قرآن مجید کی آیات محکمہ کی قسم اور بعض نے کہا کہ ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ مراد ہے جب وہ ڈوبتے ہیں نیز ” مواقع اور موقع ہم معنی ہیں، مُدْهِنُونَ“ جھٹلانے والے جیسے لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ“ میں ہے ”فَسَلاَمٌ لَكَ یعنی تیرے لیے سلامتی ہے کیونکہ تو داہنی جانب والوں سے ہے۔ یہاں لفظ ”ان “ کو محذوف کر کے اس کو معناً برقرار رکھا گیا ہی جیسے کہتے ہیں ” أَنْتَ مُصَدَّقٌ مُسَافِرٌ عَنْ قَلِيلٍ تمہاری تصدیق کی جاتی ہے کہ عنقریب تم سفر کرو گے جب کہ اُس نے پہلے بتایا ہو کہ میں عنقریب سفر کرنے والا ہوں۔ کبھی یہ دعا کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے کہتے ہیں فَسَقْيًا مِنَ الرِّجَالِ“ اگر لفظ "السلام" مرفوع ہو تو وہ دعا کے معنی میں ہوتا ہے، تُورُونَ " تم نکالو گے۔ بھڑکائی گئی ۔ جلائی گئی لَغْوًا باطل تَأْثِيمًا جھوٹ ۔ باب:ترجمہ کنز الایمان: اور ہمیشہ کے سائے میں (الواقعہ ۳۰) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بیشک جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اُس کے ساپے میں سو سال تک چلتا رہے تو سایہ ختم نہ ہوگا اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ترجمہ کنز الایمان: اور ہمیشہ کے سائے میں (الواقعہ ۳۰) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} [الواقعة: 30]حدیث نمبر ٤٨٨١)
سورۃ الحدید کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ“ اس میں رہنے والے۔ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ گمراہی سے ہدایت کی طرف مَنَافِعُ لِلنَّاسِ‘ ڈھال اور ہتھیار۔ مَوْلاَكُمْ تم سے زیادہ نزدیک، تمہارا خیر کواه لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الكِتَابِ " تا کہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے وہ الظَّاهِرُ “ اور الباطن“ اس لحاظ سے ہے کہ ہر چیز اُس کے علم میں ہے أَنْظِرُونَا “ ہمارا انتظار کرو سورہ المجادلہ کی تفسیر مجاہد کا قول ہے کہ : "يُحَادُّونَ مخالفت کرتے ہیں كُبِتُوا ذلیل کیے گئے یہ "الخزی" سے مشتق ۔ اسْتَحْوَذَ غالب آیا۔ سورۃ الحشر کی تفسیر الجلاء" ایک علاقے سے دوسرے کی جانب نکال دینا ، جلا وطن کرنا ۔ باب سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سورۃ التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سورت ذلیل کرنے والی ہے۔ جب تک اس کی وہ آیتیں نازل ہوتی رہیں جن میں ومنهم. و منهم “ ہے تو ہمیں گمان ہوا کہ اُن میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں بچے گا جس کا اس میں ذکر نہ فرمایا جائے اُن کا بیان ہے کہ پھر میں نے سورۃ الانفال کے متعلق معلوم کیا تو فرمایا کہ یہ غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اُن کا بیان ہے کہ پھر میں نے سورۃ الحشر کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یہ بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الحَدِيد،حدیث نمبر ٤٨٨٢)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سورۃ الحشر کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا اسے سورۃ النظیر کہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ ،حدیث نمبر ٤٨٨٣)
باب: ترجمہ کنز الایمان : جو درخت تم نے کاٹے( المحشر ۵) عجوہ اور برنی کے علاوہ کھجور کی دیگر اقسام کے درختوں کو لینہ“ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے باغات جلا دیے اور بعض کاٹ دیے، جن میں بویرہ باغ بھی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے، یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے کہ نافرمان لوگوں کو رسوا کرے ) (حشر ۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير،بَابُ قَوْلِهِ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ} [الحشر: 5]حدیث نمبر ٤٨٨٤)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو(الحشر (٧) اوس بن حدثان حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ راوی ہیں کہ بنی نضیر کا سارا مال وہ ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بطور فئے عطا فرمایا، کیوں کہ مسلمانوں نے اُن پر گھوڑوں یا سواریوں کے ذریعے حملہ نہیں کیا تھا پس یہ خاص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حصہ تھا۔ جس سے آپ کسی اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا خرچ عطا فرمایا کرتے اور جو باقی بچتا اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے لیے ہتھیار اور زرہیں خریدی جاتی تھیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ} [الحشر: 7]حدیث نمبر ٤٨٨٥)
باب ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطال فرمائیں وہ لو ( الحشر ۷) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ گودنے والی ، گدوانے والی ،چہرے کے بال نوچنے والی ہے اور دانتوں کو جدا کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے کیونکہ وہ خدا کی تخلیق کو بدلتی ہیں۔ جب یہ بات ام یعقوب نامی بنی اسد کی ایک عورت تک پہنچی تو وہ آپ کے پاس آکر کہنے لگیں: مجھے علم ہوا ہے کہ آپ فلاں فلاں کام کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں اُن پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور جس کا ذکر اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔اُس عورت نے کہا: میں نے قرآن مجید پڑھا ہے، وہ میرے پاس دو تختیوں میں موجود ہے لیکن اُس میں تو یہ بات نہیں جو آپ بتاتے ہیں۔ فرمایا: اگر تم نے سمجھ کر پڑھا ہوتا تو اُس بات کو ضرور پالیا ہوتا۔اچھا تم نے یہ تو پڑھا ہے: ترجمہ کنز الایمان : اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرما ئیں باز رہو ( الحشر ۷) عورت نے کہا، کیوں نہیں، فرمایا تو بیشک حضور نے ان باتوں سے روکا ہے۔ اُس عورت نے کہا کہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ کو بھی تو ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہوں۔فرمایا، اچھا جاکر تو دیکھو پس وہ عورت گئی ، اس نے دیکھا بھلا لیکن اپنے مطلب کی کوئی چیز نہ پائی۔ انہوں نے فرمایا: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہم دونوں بھی ساتھ نہ رہ سکتے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ} [الحشر: 7]حدیث نمبر ٤٨٨٦)
علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُس عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ جو اپنے بال دوسری عورت کے بالوں سے جوڑے چنانچہ عبدالرحمن بن عابس کا بیان ہے کہ میں نے ایک عورت سے سنا۔ جس کو ام یعقوب کہا جاتا ہے تھا۔ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے اس حدیث منصور کے مطابق روایت کرتی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ} [الحشر: 7]حدیث نمبر ٤٨٨٧)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا (الحشر ۹) عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں خلیفہ کے لیے وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کا حق پہچانے اور خلیفہ کو انصار کے متعلق بھی وصیت کرتا ہوں جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں اپنا گھر بنایا، حالانکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہجرت کر کے ابھی یہاں تشریف بھی نہیں لائے تھے پس چاہیے کہ اُن کی اچھائیوں کو قبول کریں اور اُن کی برائیوں سے درگزر کریں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ} حدیث نمبر ٤٨٨٨)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (الحشر (۹) کی تفسیر۔ الخَصَاصَةُ ، فاقہ کشی المُفْلِحُونَ جنت میں داخل ہو کر کامیابی پانی والے۔ الفلاح حیات جاويد حَيَّ عَلَى الفَلاَحِ جلدی آؤ۔ حسن بصری کا قول ہے: ”حَاجَةً“ سے مراد حسد ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ آپ نے ازواج مطہرات کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا لیکن کھانے کی کوئی چیز نہ ملی۔ پس رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہے کوئی شخص جو آج رات اسے مہمان بنائے اور اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے ۔ پس انصار میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ پس وہ اپنے گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا "رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مہمان آیا ہے لہذا تم نے اُس سے کوئی چیز بچا کر نہیں رکھنی ہے۔ اُس محترمہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس تو بچوں کے کھانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ فرمایا ، جب عشاء کا وقت ہو جائے تو تم بہلا کر بچوں کو سلا دینا پھر تو تم چراغ درست کرنے کے بہانے آکر اُسے بجھا دینا۔کیا ہوا، آج رات ہم بھوکے پڑے رہیں گے۔ چنانچہ یہی کچھ کیا گیا۔ جب صبح کے وقت وہ شخص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری کارگزاری کو بہت پسند فرمایا ہے یا اللہ تعالیٰ کو فلاں آدمی اور فلاں عورت پر ہنسی آگئی پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں ( الحشر ۹) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} [الحشر: 9] الآيَةَ " حدیث نمبر ٤٨٨٩)
سورۃ الممتحنہ کی تفسیر مجاہد کا قول ہے "لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً“ ترجمہ کنز الایمان: ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال (الممتحنہ (۵) پھر وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو انہیں یہ تکلیف کیوں ) پہنچتی۔ بِعِصَمِ الكَوَافِرِ ، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کو حکم دیا گیا کہ جن کی بیویاں کافرہ ہونے کے سبب مکہ مکرمہ میں رہ گئی ہیں وہ انہیں جدا کر دیں۔ باب: ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (الممتحنه ۱) عبید اللہ بن ابو رافع کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ہے اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے کہ مجھے اور زبیر و مقداد کو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھیجا کہ جب تم روضہ خاخ کے پاس پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک بڑھیا ملے گی۔ جس کے پاس ایک خط ہے، پس وہ خط اُس سے لے آؤ۔ پس ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے گئے، حتی کہ روضہ خاخ کے پاس پہنچ گئے اور وہاں ایک بڑھیا ملی۔ پس ہم نے اُس سے کہا کہ خط نکال کر دے دو۔ اُس نے کہا میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا: خط نکال دو ورنہ ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے چنانچہ اس نے اپنی چوٹی سے ایک خط نکال کر دے دیا۔ پس ہم اُسے لے کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ وہ خط حضرت حاطب بن ابو بلتعہ نے مکہ مکرمہ کے بعض مشرکین کے نام لکھا تھا اور اُس کے ذریعے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعض کاموں کی انہیں خبر دی تھی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے متعلق جلدی نہ فرمائیے۔ میں قریش کے اندر شمار ہوتا ہوں لیکن اُن کے خاندان سے نہیں ہوں۔ چنانچہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کا مکہ مکرمہ میں کوئی رشتہ دار نہ ہو، جس کے سبب وہ اُن کے اہل وعیال اور مال واسباب کا خیال رکھتے ہیں۔ چونکہ میری اُن میں سے کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ اُن پر کچھ احسان کردوں تا کہ میرے اقارب کا وہ خیال رکھیں۔ یہ میں نے کفر یا اپنے دین سے پھر جانے کے سبب نہیں کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم نے سچی بات بتادی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔ ارشاد فرمایا: ارے یہ تو غزوہ بدر میں شریک تھا اور کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ تعالی اہل بدر کے حالات پر باخبر نہ تھا جس نے یہ فرمایا کہ اب تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ یہ آیت : ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ( الممتحندہ ١) سفیان راوی کہتے ہیں کہ یہ مجھے علم نہیں کہ یہ آیت اس حدیث میں موجود ہے یا عمرو بن دینار نے اسے اپنی جانب سے بیان کیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} [الممتحنة: 1]حدیث نمبر ٤٨٩٠)
باب؛ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ( کفرستان سے ) اپنے گھر چھوڑ کر آئیں (الممتحنه ۱۰) عروہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جومسلمان عورتیں آپ کی جانب ہجرت کر کے آتیں تو آپ اُن کا امتحان لیا کرتے بموجب آیت: ترجمہ کنز الایمان: اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کوقتل کریں اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے ہے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (الممتحنه ۱۲) عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو مسلمان عورتیں ان شرائط کا اقرار کرتیں تو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان عورتوں سے فرمایا کرتے کہ میں نے تمہیں بیعت کر لیا اور خدا کی قسم، بیعت کرتے وقت آپ کے دست مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو ہرگز نہیں چھوا ۔ آپ کا عورتوں کو بیعت کرنا صرف زبانی ہوتا کہ فرما دیتے کہ میں نے تمہیں فلاں بات پر بیعت کر لیا ہے۔ زہری نے بھی عروہ اور عمرہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذَا جَاءَكُمُ المُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ} [الممتحنة: 10]حدیث نمبر ٤٨٩١)
ترجمہ کنز الایمان : جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو (الممتحنہ ۱۲) حفصہ بنت سیرین کا بیان ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے یہ پڑھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمیں نوحہ کرنے سے ممانعت فرمائی۔ پس ایک عورت نے اپنے ہاتھ روک لیا کہ فلاں عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی لہٰذا میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ پہلے اتار دوں چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا۔ پس وہ چلی گئی اور پھر واپس آکر بیعت کر لی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذَا جَاءَكَ المُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: 12] حدیث نمبر ٤٨٩٢)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد باری تعالٰی: ترجمہ کنز الایمان اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی (الممتحنه ۱۲) کے متعلق فرمایا کہ یہ ایک شرط ہے جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے مقررفرمائی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذَا جَاءَكَ المُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: 12]حدیث نمبر ٤٨٩٣)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے بدکاری نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے۔ پھر آپ نے وہ آیت پڑھی جو عورتوں کی بیعت کے بارے میں ہے۔ سفیان اکثر صرف آیت ہی کا ذکر کرتے تھے۔ پھر فرمایا : پھر جو اپنا عہد پورا کرے تو اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ میں مبتلا ہوا اور اُس پر حد قائم ہوئی تو اُس کے لیے وہ کفارہ ہوگی اور جو ان میں سے کوئی ایسا گناہ کر بیٹھے جس کی اللہ تعالی پردہ پوشی فرمائے تو اُس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے عذاب دے اور چاہے اُسے معاف کردے۔ عبدالرزاق نے معمر سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذَا جَاءَكَ المُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: 12]حدیث نمبر ٤٨٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر کی نماز میں شامل تھا اور حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بھی تھے۔ پس سب نے عید کی نماز خطبے سے پہلے پڑھی پھر اُس کے بعد خطبہ پڑھا گیا۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب کہ آپ ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے، پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس پہنچے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ پس آپ نے فرمایا :ترجمہ کنزالایمان: اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کوقتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (الممتحنہ ۱۲) جب آپ اس سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: کیا تمہیں یہ منظور ہے؟ ایک عورت نے اس کے سوا اور کوئی جواب نہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہاں! حسن بن مسلم کا بیان ہے کہ مجھے علم نہیں کہ وہ عورت کون تھی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ خیرات کرو اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلا دیا تو عورتوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنی شروع کر دیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِذَا جَاءَكَ المُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: 12]حدیث نمبر ٤٨٩٥)
سورۃ الصف کی تفسیر مجاہد کا قول ہے مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ الله کی طرف کون میرے پیچھے آتا ہے؟ ابن عباس کا قول ہے مَرْصُوص ایک حصہ دوسرے سے گتھا ہوا دوسرے کا قول ہے : مَرْصُوصٌ سیسہ پلائی ہوئی۔ باب ۔ ترجمہ کنز الایمان : میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے (الصف ٦) حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے کتنے ہی نام ہیں: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کفر کو میرے ذریعے مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں اکٹھا کیا جائے گا اور میں سب سے آخری نبی ہوں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ} [الصف: 6]حدیث نمبر ٤٨٩٦)
سورۃ الجمعہ کی تفسیر ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں سے اوروں کو پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں جو ان اگلوں سے نہ ملے (الجمعه ۳) حضرت عمر نے فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ پڑھا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورۃ الجمعہ نازل ہونے لگی یعنی: ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں سے اوروں کو پاک کرتے اور علم عطا فر ماتے ہیں جو ان اگلوں سے نہ ملے ( الجمعہ ۳) ان کا بیان ہے کہ میں عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! وہ کون حضرات ہیں؟ جب آپ نے جواب عطا نہ فرمایا تو میں نے تین دفعہ سوال کیا ۔ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے تو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا دست کرم حضرت سلمان رضی اللہ عنہ پر رکھ کر فرمایا: اگر ایمان ثریا کے نزدیک بھی ہوتا تو ان میں سے سے کچھ لوگ یا ایک شخص اُسے وہاں سے بھی حاصل کرے گا۔ عبداللہ بن عبدالوہاب، عبدالعزیز، ابوالغیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُسے (ایمان کو ) ان میں سے کچھ لوگ پالیں گے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} [الجمعة: 3] حدیث نمبر ٤٨٩٧ و حدیث نمبر ٤٨٩٨)
باب: ترجمہ کنز الایمان : اور جب انہوں نے کوئی تجارت ( یا کھیل ) دیکھا (پ ۲۸، الجمعه ۱۱) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ المبارک کے دن تجارتی قافلہ آیا اور ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اُس وقت بارہ حضرات کے سوا باقی سارے چلے گئے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیئے اور تمہیں خطبہ میں کھڑا چھوڑ گئے(الجمعہ (۱١) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا} [الجمعة: 11] حدیث نمبر ٤٨٩٩)
سورة المنافقون باب ترجمہ کنز الایمان : جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں(المنافقون 1) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غزوہ میں عبد اللہ بن اُبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ترجمہ کنز الایمان: ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جا ئیں اور اللہ ہی کے لئے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلّت والا ہے ( المنافقون ۷۔۸) پس میں نے اس بات کا تذکرہ اپنے چچا یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور انہوں نے وہ بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کر دی۔ آپ نے مجھے بلایا تو میں نے یہ بات بیان کر دی۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اُس کے ساتھیوں کو بلایا۔ تو وہ قسم کھا گئے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اُسے سچا قرار دیا۔ اس پر مجھے ایسا دکھ پہنچا کہ اتنا دکھ کبھی بھی نہ پہنچا ہو گا۔ پس میں اپنے گھر میں جا کر بیٹھ گیا۔ پس میرے چچا نے مجھ سے کہا کہ اگر تو ایسا نہ کرتا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیوں تجھے جھوٹا قرار دیتے اور کیوں تجھ سے ناراض ہوتے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ منافقون نازل فرمائی پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ سورت پڑھی اور فرمایا : اے زید! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا کر دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِذَا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ قَالُوا: نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ} [المنافقون: 1] إِلَى {لَكَاذِبُونَ} [الأنعام: 28]حدیث نمبر ٤٩٠٠)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا (المنافقون (۲) یعنی اس کے ذریعے سے چھپا لیا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا۔ پس میں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ترجمہ کنز الایمان: کہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں (المنافقون (۷) اور یہ بھی کہا کہ ترجمہ کنز الایمان: ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (المنافقون ۸) پس میں نے اپنے چچا سے اس کا ذکر کر دیا اور میرے چچا نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور واقعہ عرض کر دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اُس کے ساتھیوں کو بلایا تو وہ قسمیں کھا گئے کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں سچا اور مجھے جھوٹا قرار دیا۔ اس پر مجھے اتنا دکھ ہوا کہ ایسا دکھ کبھی نہ پہنچا ہوگا چنانچہ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے سورہ منافقون نازل فرمائی اور بتایا کہ ترجمہ کنز الایمان : جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔۔۔تا۔۔ وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (المنافقون (۲) پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے ملایا ،اور اس سورت کو پڑھا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا کر دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً} [المجادلة: 16]: يَجْتَنُّونَ بِهَا حدیث نمبر ٤٩٠١)
باب: ترجمہ کنز الایمان: یہ اس لئے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے ( المنافقون ۳) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن اُبی نے کہا کہ ترجمہ کنز الایمان: کہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں (المنافقون ۷) اور یہ بھی کہا کہ ترجمہ کنز الایمان: ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے ( المنافقون (۸) تو میں نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دے دی۔ تو انصار نے مجھے ملامت کی کیونکہ عبداللہ بن ابی قسم کھا گیا کہ اُس نے یہ بات نہیں کہی۔ پس میں اپنے گھر جا کر سو گیا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تم نے مجھے بلایا۔ جب میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا کر دیا ہے اور یہ وحی نازل فرمائی ہے۔ (آیت ۸،۷) ابن ابی زائیدہ نے بھی اس کی اعمش، عمر و ابن ابی لیلی ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَفْقَهُونَ} [المنافقون: 3]حدیث نمبر ٤٩٠٢)
باب: ترجمه کنز الایمان : اور جب تو انہیں دیکھے ان کے جسم مجھے بھلے معلوم ہوں اور اگر بات کریں تو تو ان کی بات غور سے سنے گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے لگائی ہوئی ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں(المنافقون ٤) حضرت بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو لوگوں کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا اس پر عبداللہ بن اُبی نے اپنے ساتھیوں ہی سےے کہا کہ جولوگ رسول اللہ کے گرد ہیں اُن پر خرچ مت کر وحتی کہ وہ منتشر ہو جائیں اور کہا کہ اگر ہم مدینے کی طرف لوٹ کر گئے تو جو سب سے زیادہ عزت والا ہے وہ ضرور اُس سے اُس کو نکال دے گا جو سب سے زیادہ ذلت والا ہے۔ پس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور یہ بات آپ کو بتادی پس آپ نے عبداللہ بن اُبی کو بلایا اور اُس سے پوچھا تو اُس نے قسم کھا کر کہا کہ اُس نے ایسا نہیں کہا ہے۔ لوگ کہنے لگے کہ زید بن ارقم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جھوٹی بات کہی ہے۔ پس لوگوں کے اس فیصلے سے میرے دل کو بہت دکھ پہنچا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں سورہ منافقون نازل فرما دی:پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن منافقین کو بلایا تا کہ اُن کے لیے دعائے مغفرت کی جائے تو انہوں نے اپنے سر گھما لیے، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیوار پر لگی ہوئی کڑیاں کہا ہے اور وہ دیکھنے میں تھے بھی بظاہر بڑے خوبصورت۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ (وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ يَحْسِبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ العَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ) حدیث نمبر ٤٩٠٣)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لئے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منھ پھیر لیتے ہیں (المنافقون ۵) کی تفسیر۔ یعنی سروں کو اس طرح حرکت دیتے جس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تمسخر اڑانا مطلوب تھا بعض نے لَوَّوْا کو لَوَيْتُ سے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا کہ میں نے عبد اللہ بن اُبی بن سلول کو یہ کہتے ہوئے عنا کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں اُن پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹے تو جو سب سے زیادہ"عزت" والا ہے وہ ضرور اُس سے اُس کو نکال دے گا جو سب سے ذلت والا ہے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا جان سے کر دیا اور انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ (منافقین کے قسم کھانے پر ) آپ نے انہیں سچا کر دیا تو مجھے اتنا دکھ پہنچا کہ جتنا کبھی نہ پہنچا ہوگا میں اپنے گھر میں میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا جان نے فرمایا کہ اس بات سے تمہیں کیا ملا۔ جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹا قرار دیا اور تم سے ناراض ہو گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ المنافقون نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا پھر آپ نے یہ سورۃ پڑھ کر فرمایا کہ بیشک اللہ تعالٰی نے تمہیں سچا کر دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ، وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ} « حدیث نمبر ٤٩٠٤)
باب: ترجمہ کنز الایمان: ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چا ہو یا نہ چاہو اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا (المنافقون ٦) حضرت جابر"بن" عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے سفیان راوی نے ایک مرتبہ في غراةٍ کی جگہ في جيش کہا مہاجرین میں سے ایک نے کسی انصاری کو ٹھوکر ماری تو انصاری نے آواز دی کہ : انصار کی مدد کرو اور مہاجر نے بھی آواز دی کہ مہاجرین کی مدد کرو یہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسا سنا تو فرمایا: یہ دور جاہلیت کی یاد کیوں دلائی جارہی ہے لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار کے ایک آدمی کو ٹھوکر مار دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ دور جاہلیت کی طرح آواز نہیں لگانی چاہیے یہ تو بری بات ہے جب عبد اللہ بن اُبی نے یہ بات سنی تو کہا ، یوں کرو اور خدا کی قسم اگر ہم مدینہ کی جانب لوٹ کر گئے تو اُس سے جو سب سے زیادہ عزت والا ہے وہ ضروری اس کو نکال دے گا، جو سب سے زیادہ ذلت والا ہے۔“ جب یہ بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن۔ اُڑا دوں پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: اس بات کو چھوڑو، لوگوں میں یہ مشہور ہونے لگے گا کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کروا دیتے ہیں جب آپ نے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی تو انصار کی تعداد مہاجرین سے زیادہ تھی لیکن بعد میں مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوگئی تھی۔ سفیان کا بیان ہے کہ میں نے اس حدیث کو عمرو بن دینار سے سن کر یاد کیا ہے اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ -[154]- أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ، إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي القَوْمَ الفَاسِقِينَ} [المنافقون: 6] حدیث نمبر ٤٩٠٥)
باب ترجمہ کنز الایمان : وہی ہیں جو کہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں اور اللہ ہی کے لئے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں ( المنافقون ۷ ) عبد الله بن فضل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حرہ کے واقعے سے مجھے بہت دکھ پہنچا ہے۔ پس حضرت زید بن ارقم نے میرے لیے خط لکھا کہ مجھے بھی اس کا بہت غم ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کویہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور اُن کے بیٹوں کی ابن الافضل راوی کو اس میں شہہ ہے کہ انصار کے پوتوں کے لیے بھی آپ نے یہ دعا کی تھی یا نہیں۔ پس جو لوگ حضرت انس کے پاس تھے اُن میں سے کسی نے ان کے بارے میں پوچھا تو حضرت انس نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہیں جن کے بارے میں رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے کہ یہ وہ شخص ہے جس کی سماعت کو اللہ تعالی نے سچی قرار دیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: 7]، يَنْفَضُّوا: يَتَفَرَّقُوا {وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكِنَّ المُنَافِقِينَ لاَ يَفْقَهُونَ} حدیث نمبر ٤٩٠٦)
باب, ترجمہ کنز الایمان: کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں (المنافقون ۸) عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار کے ایک شخص کو ٹھوکر ماردی تو انصاری نے آواز دی: انصار کی مدد کرو ۔ “ اور مہاجر نے بھی آواز دی: "مہاجرین کی مدد کرو ۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سنائی تو آپ نے فرمایا: بات کیا ہوئی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو ٹھوکر ماروی تھی۔ تو انصاری نے انصار کو مدد کے لیے پکارا اور مہاجر نے مہاجرین کو ۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح پکارنا چھوڑو، یہ تو بری بات ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو انصار تعداد میں زیادہ تھے لیکن بعد میں مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ اس پر عبداللہ بن اُبی نے کہا کہ تم ایسا کرو اور اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو سب سے زیادہ عزت والا ہے وہ اُس سے ضرور اُسے نکال دے گا جو سب سے زیادہ ذلت والا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت عطا فرمائیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسانہ کرو کیونکہ لوگ چرچا کریں کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ المُنَافِقِينَ لاَ يَعْلَمُونَ} [المنافقون: 8]حدیث نمبر ٤٩٠٧)
سورۃ التغابن کی تفسیر علقمہ بن قیس حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ تعالٰی اُس کے دل کو نور ہدایت سے بھر دیتا ہے۔ ایسے شخص کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ رضائے الہی پر راضی رہتا اور جانتا ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ سورۃ الطلاق کی تفسیر اور مجاہد نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان: اگر تمہیں کچھ شک پڑے (المائدہ (۱۰٦) اگر نہ جانتے ہو اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا۔ اور اس معاملے کا کیا حال ہے اور اس کی جزا کیا ہے۔ باب, سالم کا بیان ہے کہ ( اُن کے والد ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُسے واپس لوٹاؤ اور اپنے پاس رکھ حتی کہ وہ پاک ہو جائے پھر جب حیض آئے اور اُس سے پاک ہو جائے تو اگر طلاق دینا چاہو تو پاکی کی حالت میں دے دو لیکن ہاتھ لگانے سے پہلے اور حکم الٰہی کے مطابق یہی عدت ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الطَّلاَقِ،حدیث نمبر ٤٩٠٨)
باب, ترجمہ کنز الایمان : اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرما دے گا (الطلاق (٤)۔ ابوسلمہ کا بیان ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اُس شخص نے کہا کہ مجھے اس عورت کے متعلق فتوی دیجئے جو اپنے خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد بچہ جنے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ دونوں عدتوں میں سے دوسری میں نے کہا اور ترجمہ کنز الایمان: اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں ( الطلاق (٤) حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ سے متفق ہوں۔ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے غلام گریب کو بھیجا کہ اس کا واقعی حکم حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھ کر آئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ اسلمیہ کے شوہر شہید ہو گئے تھے اور وہ اُس وقت حاملہ تھیں، تو اُن کے انتقال کے چالیس دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ پس اُن کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن کا نکاح کا پیغام بھیجا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُن کا نکاح پڑھایا۔ اور نکاح کا پیغام دینے والوں میں ابو السنابل بھی تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا} [الطلاق: 4] " حدیث نمبر ٤٩٠٩)
ایوب سختیانی محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ میں اُس حلقہ میں موجود تھا جس کے اندر عبدالرحمن بن ابولیلی تھے اور اُن کے ساتھی اُن کی تعظیم کرتے تھے تو انہوں نے دونوں عدتوں کا ذکر کیا۔ پس میں نے عبد اللہ بن عقبہ کے واسطے سے حضرت سبیعہ بنت حارث کا واقعہ بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اُن کے بعض ساتھیوں نے روکا محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابولیلی سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں دانستہ عبد اللہ بن عقبہ پر جھوٹ بولنے کی جرات کر رہا ہوں، حالانکہ وہ نواح کوفہ میں رہتے ہیں۔ وہ شرم سار ہو کر کہنے لگے کہ اُن کے چچا تو ایسا نہیں کہتے ۔ پھر میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا اور اُن سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھ سے حدیث سبیعہ بیان کی پھر میں نے اُن سے کہا کہ کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس موجود تھے کہ انہوں نے فرمایا: کیا تم عورتوں پر سختی کرتے ہو اور اُن کے بارے کے میں آسانی کو نظر انداز کر دیتے ہو حالانکہ عدت کے کم دنوں کے والی سورۃ النساء کی آیت عدت کے زیادہ دنوں والی آیت ) کے بعد نازل ہوئی ہے یعنی : ترجمہ کنز الایمان : اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں (الطلاق ٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا} [الطلاق: 4] "حدیث نمبر ٤٩١٠)
سورہ تحریم کی تفسیر باب ترجمہ کنز الایمان: اے غیب بتانے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہواور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (التحریم 1 ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حرام ٹھہرانے میں کفارہ دینا ہوگا۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا عمل بہترین نمونہ ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} حدیث نمبر ٤٩١١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم ام المومنين زينب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس شہد پیا کرتے اور کافی دیر قیام فرما رہتے۔ اس پر میں نے اور اُم المومنین حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپس میں طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس حضور تشریف لائیں تو وہ ضرور آپ سے کہے کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے کیونکہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس سے شہد پیا ہے۔ بہر حال میں اب یہ بھی نہیں پیوں گا اور میں نے قسم کھائی ہے۔ تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}حدیث نمبر ٤٩١٢)
باب ترجمہ کنز الایمان :اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو۔ بیشک اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا( التحریم ۱۔۲) عبید بن حنین کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سال تک میں یہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں پوچھوں لیکن اُن کے رعب کے باعث مجھے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی ، حتیٰ کہ وہ حج کے ارادے سے نکلے تو میں بھی اُن کے ساتھ نکلا۔ جب ہم آرہے تھے تو وہ ایک پیلو کے درخت کے پاس قضائے حاجت کے لیے گئے۔ یہ فرماتے ہیں کہ میں اُن کے انتظار میں کھڑا رہا۔ حتیٰ کہ جب وہ فارغ ہو گئے تو میں اُن کے ساتھ چل دیا۔ اُس وقت میں نے کہا: اے امیر المومنین! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے وہ کون سی دو ہیں جنہوں نے آپس میں مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا: وہ حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ یہ فرماتے ہیں، پھر میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں ایک سال سے یہ بات معلوم کرنے کا ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کے سبب نہ پوچھ سکا۔ انہوں نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ مجھے فلاں بات کا علم ہے تو مجھ سے پوچھ لیا کرو اگر مجھے اس کا علم ہوگا تو تمہیں بتا دیا کروں گا۔ یہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، دور جاہلیت میں ہم عورتوں کا کوئی حق نہیں سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے بارے میں وہ احکام نازل فرمائے جو نازل فرمائے ہیں۔ اور اُن کا وہ حق مقرر فرمایا جو بھی مقرر فرمایا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے کسی معاملے میں غور کر رہا تھا کہ میری اہلیہ نے کہا: کاش! آپ ایسا اور ایسا کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اُن سے کہا، تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں تم میرے اُس معاملے میں کیوں دخل دیتی ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابن خطاب یہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو بالکل جواب نہ دیا جائے۔ حالانکہ آپ کی صاحبزادی تو رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہیں جس پر پورا ایک دن حضور نے غضب کی حالت میں گزارا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اپنی چادر سنبھالی، حتیٰ کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس پہنچے اور اُن سے کہا: اے بیٹی ! کیا تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو حتی کہ حضور سارا دن حالت غضب میں گزارتے ہیں۔ پس حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا: خدا کی قسم ہم تو حضور کو جواب دیتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے اور رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غضب سے بچا سکتا ہوں؟ اے بیٹی! جس کا حُسن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھا گیا اور جس سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے محبت کی ہے اس کا معاملہ تمہیں دھوکا نہ دے جائے۔ اُن کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جانب تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں باہر نکل آیا اور رشتہ داری کے سبب اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس گیا اور اُن سے اس کے متعلق بات کی ، تو ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا: اے ابن خطاب! آپ پر حیرانی ہوتی ہے کہ آپ ہر بات میں دخل اندازی کرتے ہیں، حتی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے سے بھی نہیں رکھتے۔ پس خدا کی قسم انہوں نے ایسی سخت پرسش کیا کہ میرا غصہ رفع ہو گیا پس میں اُن کے پاس سے چلا آیا چنانچہ میرا ایک انصاری دوست تھا۔ جب میں خدمت اقدس سے غیر حاضر ہوتا تو وہ مجھے اُس وقت کی باتیں بتاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں جا کر اُسے بتایا کرتا اور اُن دنوں ہمیں غسان کے ایک بادشاہ کے حملے کا خدشہ تھا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ حملہ کرنے کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ ہمارے دل اس اندیشے سے گھرے ہوئے تھے جب میرے انصاری دوست نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا، پھر کہا کھولو، کھولو۔ پس میں نے کہا: کیا غسانی آ گیا؟انہوں نے کہا: بلکہ اُس سے بھی سخت معاملہ سامنے آگیا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار فرمالی ہے۔ پس میں نے کہا: حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ناک خاک آلودہ ہو۔ میں نے اپنا کپڑا لیا پھر باہر نکلا، حتی کہ دولت کدے تک جا پہنچا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اُس وقت بالا خانے پر تشریف فرما تھے، جس پر چڑھنے کے لیے سیڑھی لگائی ہوئی تھی اور سیڑھی کے پاس آپ کا ایک سیاہ فام غلام کھڑا تھا میں نے اُس سے کہا کہ میری طرف سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب حاضر ہوا ہے۔ پس مجھے اجازت عطا فرمائی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا۔ جب میں نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی باتیں بیان کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا: اُس وقت حضور ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جبکہ چٹائی اور جسم اطہر کے درمیان کوئی کپڑا بچھایا ہوا نہ تھا اور سر مبارک کے نیچے چمڑے کا سرہانہ تھا جو کھجور کی چھال سے بھرا ہوا تھا۔ اور مقدس پیروں کے نیچے مسلم کے پتے بچھائے ہوئے تھے۔ سرہانے کی طرف چند کچے چھڑے لٹک رہے تھے پس میں نے حضور کے پہلو میں چٹائی کے نشانات دیکھے تو میں بے اختیار رونے لگا۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں روتے ہو؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! بیشک یہ کسریٰ اور قیصر کیسے آرام سے زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دنیا اُن کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ}حدیث نمبر ٤٩١٣)
ترجمہ کنز الایمان: اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک راز کی بات فرمائی، پھر جب وہ اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کر دیا تو نبی نے اسے کچھ بتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی حضور کو کس نے بتایا فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا (تحریم ۳) اس کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ عبید بن حنین کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کا ارادہ کیا، پس میں نے کہا: اے امیر المونین ! رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے وہ دونوں کون سی تھیں جنہوں نے آپس میں مشورہ کرلیا۔تھا؟ ابھی میں بات پوری بھی نہیں کرنے پایا تھا کہ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا، فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ، فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ: مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا؟ قَالَ: نَبَّأَنِيَ العَلِيمُ الخَبِيرُ} حدیث نمبر ٤٩١٤)
باب, ترجمہ کنز الایمان: نبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو (تحریم ٤) صَفَوتُ اور أَصْغَيْتُ میں مائل ہوا لِتَصْغَى تاکہ تم مائل ہو ترجمہ کنز الایمان: ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں اور اگر ان پر زور باندھو تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں (التحریم (٤) سے مراد مددگار ہے تَظَاهَرُونَ وہ مدد کرتے ہیں مجاہد کا قول ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ یعنی اپنی جانوں اور اہل و عیال کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرو اور انہیں ادب سکھاؤ۔ عبید بن حنین کا بیان ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ارادہ کیا کہ ازواج مطہرات میں سے جن دو نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک معاملے میں مشاورت کی اُن کے متعلق معلوم کروں۔ چنانچہ ایک سال تک مجھے معلوم کرنے کا مناسب موقع ہاتھ نہ آیا۔ حتی کہ میں حج کے لیے اُن کے ساتھ نکلا جب ہم ظہران کے مقام پر تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رفع حاجت کے لیے گئے ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نے وضو کرنا ہے تو میں ایک چھاگل میں پانی لے آیا۔ میں پانی ڈال رہا تھا۔ یہ مجھے مناسب موقع نظر آیا چنانچہ میں نے عرض کی: اے امیر المومنین ! ازواج مطہرات میں سے کون سی دو تھیں جنہوں نے آپس میں مشاورت کی تھی ؟ ابھی میں اپنی بات مکمل کرنے بھی نہ پایا تھا کہ انہوں نے فرمایا۔ وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4] " حدیث نمبر ٤٩١٥)
باب: ترجمہ کنز الایمان : ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں توبہ والیاں بندگی والیاں روزہ داریں بیاہیاں اور کواریاں (التحریم ۵) حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے جمع ہوئیں ، تو میں نے کہا گر یہ آپ کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ اُن کا رب انہیں آپ سے بہتر بیویاں عطا فرما دے گا۔ چنانچہ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوگئی۔ (آیت ۵) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ، مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا) حدیث نمبر ٤٩١٦)
سورۃ الملک کی تفسیر, التَّفَاوُت اختلاف التَّفَاوُت اور التَّفَوُّت ہم معنی ہیں تَمَيَّزُ ٹکڑے ٹکڑے ہونا مَنَاكِبِهَا اُس کے گرد تدعون اور تَدعُونَ اُسی طرح ہیں جیسے تَذَكَّرُونَ اور تذكرون ہیں۔ يَقْبِضُنَ اپنے پروں کو مارتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے صَافَّاتٍ پروں کا پھیلانا وَنُفُورٌ کفر کرنا۔ سورۃ ن القلم کی تفسیر قتادہ کا قول ہے : حَرْدٍ اپنے دلوں میں کوشش کرنا۔ ابن عباس کا قول ہے : لَضَالُّونَ ہم بھول گئے کہ ہمارا باغ کہاں ہے دوسرے کا قول ہے: كَالصَّرِيمِ صبح کی طرح جو رات سے جدا ہو جاتی ہے اور رات کی طرح جو دن ہے الگ ہو جاتی ہے اور اسی طرح ریت کا ہر ذرہ جو ٹیلوں سے جدا ہو جاتا ہے اور الصَّرِيمُ بھی اسی طرح المَصْرُومُ سے ہے جیسے قَتِيلٍ سے مَقْتُولٍ ہے۔ باب ترجمہ کنز الایمان : درشت خو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا ( القلم ۱۳) مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی ہے کہ آیت : ترجمہ کنز الایمان: درشت خواس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (العلم ١٣) قریش کے جس شخص کے متعلق ہے اُس کی اصل میں خطا اس طرح نمایاں تھی جس طرح بکری کی خاص نشانی نمایاں ہوتی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ} [القلم: 13]حدیث نمبر ٤٩١٧)
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں جنتیوں کی پہچان نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور حقیر سمجھا جانے والا ، لیکن اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو وہ اُسے سچا کر دیتا ہے اور کیا میں تمہیں دوزخیوں کی پہچان نہ بتا دوں؟ ہر سخت خو، جھگڑالو اور مغرور ۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ} [القلم: 13]حدیث نمبر ٤٩١٨)
باب: ترجمہ کنز الایمان : جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے ) (القلم ٤٢) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی ساق کو ظاہر فرمائے گا تو تمام مومن مرد اور مومنہ عورت اُس کے لیے سجدہ ریز ہو جائیں گے اور جو دنیا میں صرف دکھاوے اور شہرت کے لیے سجدہ کیا کرتے تھے، جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو اُن کی کمر تختہ کی طرح ہو جائے گی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ} [القلم: 42]حدیث نمبر ٤٩١٩)
سورہ الحاقہ کی تفسیر عِيشَةٍ رَّاضِيةٍ الرّضَا سے ہے یعنی پسندیدہ الْقَاضِيَةِ پہلی موت جس کے بعد آدمی کو قیامت میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ اس میں أَحَدٍ جمع اور واحد دونوں کے لیے ہے۔ ابن عباس کا قول ہے: الوَتِينَ رگ جان ۔ ابن عباس کا قول ہے: طَغَى زیادہ ہو جانا، جیسے شدید آندھی کو الطَّاغِيَةِ کہتے ہیں جو طغیان سے ہے اور طَغَتْ عَلَى الْحُونِ بھی بولتے ہیں جیسے طَغَى المَاءُ عَلَى قَوْمِ نُوحٍ سورۃ المعارج کی تفسیر الْفَضِيلَةُ جو یتیم کے آباؤ اجداد میں اُس کا سب سے سے قریب ہو لِلشَّوَى دونوں ہاتھ ، دونوں پیر، پہلو اور سرکی کھال کو شَوَاةٌ کہتے ہیں اور جن کے کٹنے سے آدمی نہ نسل مرے وہ شَوًى ہیں۔ الْعِزُونُ جماعتیں، اس کا واحد وہ عِزَةٌ ہے۔ سورة نوح کی تفسیر, أَطْوَارًا کبھی کوئی حالت اور کبھی کوئی اور طَوْرَهُ سے اس کی قدر مراد ہے۔ الكُبارُ سے بہت ہی بوڑھا کے مراد ہے، جیسے جمیل سے جمال۔ اس میں الكَبِيرُ کا شدید مبالغہ ہے۔ یہ تخفیف کے ساتھ بھی بولا جاتا ہے کیونکہ اہل عرب حسان اور جمال کی جگہ حُسان اور جمال بھی استعمال کرتے ہیں۔ دَيَّارًا یہ دُور سے ہے اور اللہ وران سے فیعال کے وزن پر بنایا گیا ہے، جیسے حضرت عمر نے الْحَى القَيَّامُ پڑھا ہے جو قُمتُ سے ہے۔ دوسرے کا قول ہے: دَيَّارًا سے ایک آدمی مراد ہے۔ تَبَارًا ہلاکت۔ ابن عباس کا قول ہے: مِدْرَارًا لگا تار۔ وَقَارًا عزت و عظمت باب ترجمہ کنز الایمان : ود اور سُواع اور یغوث اور یعوق (نوح ٢٣) عطاء خراسانی یا عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ جو بُت حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں پوجے جاتے تھے وہی بعد میں اہل عرب نے اپنے معبود بنا لیے۔ ود بنی کلب کا بت تھا جو دومتہ الجندل کے مقام پر رکھا ہوا تھا۔ سوآع بت بنی ہذیل کا تھا۔ يَغُوتُ یہ بنی مراد کا تھا، پھر بنی غطیف کا جو سبا کے پاس جوف میں تھا۔ یعوق یہ ہمدان کا تھا اور نسر یہ ذی الکلاع کی آل حمیر کا بت تھا۔ یہ حضرت نوح کی قوم کے نیک لوگوں کے نام ہیں۔ جب وہ انتقال کر گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ جن جگہوں پر وہ نیک لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر رکھ دو اور ان بتوں کے نام بھی ان نیکوں کے نام پر ہی رکھ دو۔ لوگوں نے عقیدت میں ایسا کر دیا مگر ان کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ جب وہ لوگ دنیا سے چلے گئے اور علم بھی کم ہو گیا تو ان کی پوجا بھی شروع ہوگئی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَدًّا وَلاَ سُواعًا، وَلاَ يَغُوثَ وَيَعُوقَ} [نوح: 23] حدیث نمبر ٤٩٢٠)
سورۃ الجن کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان: تم غیر ماؤ مجھے وحی ہوئی ( الجن ١٩) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: لِبَدًا مددگار، دست و بازو۔ باب۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر بازار عکاظ کی طرف تشریف لے گئے۔اس وقت آسمانی خبروں اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ حائل کردی گئی تھی اور ان پر شعلے مارے جاتے تھے۔شیطان جب واپس لوٹے تو لوگ کہنے لگے کہ تم خبریں لا کر نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی گئی ہے اور ہمیں شعلے مارے جاتے ہیں۔ایک کہنے لگا کہ یہ جو ہمیں آسمانی خبروں سے روکا گیا ہے تو کوئی نیا نئی بات ظاہر ہوئی ہوگی۔پس زمین کو مشرق سے مغرب تک دیکھو کہ کون سا نیا واقعہ ظاہر ہوا ہے۔ پس وہ مشرقوں اور مغربوں تک دیکھتے پھرے کہ کس نئے واقعے کے سبب ہمیں آسمانی خبروں سے روکا گیا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ جو حضرات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تہامہ کی طرف بازار عکاظ کے ارادے سے گئے تھے ابھی وہ نخلہ کے مقام پر تھے۔ چنانچہ حضور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب شیطان نے قرآن کریم سنا تو اسے غور سے سننے لگے،پھر انہوں نے کہا کہ یہ ہے وہ چیز جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے۔ پس اسی وقت وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا، اے ہماری قوم! ترجمہ کنز الایمان:) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے (الجن ۱۔۲) اور اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا (الجن ۱)اور جنات نے جو کہا وہ آپ کو بذریعہ وحی بتا دیا گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ،حدیث نمبر ٤٩٢١)
سورۃ المزمل کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: تَبَتَّلْ اسی کا ہوجا۔ حسن کا قول ہے: أَنْكَالًا بیٹیاں - مُنْفَطِرٌ بِهِ اس کی وجہ سے بھاری ہو جائے گا ۔ ابن عباس کا قول ہے: كَثِيبًا مَهِيلًا اڑتی ہوئی ریت - دبیلا سخت۔ سورۃ المدثر کی تفسیر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: عَسِيرٌ سخت، مشکل قَسْوَرَةٌ لوگوں کا شوروغل۔ ابو ہریرہ کا قول ہے: کہ اس کا معنی شیر ہے اور ہر سخت چیز کو قَسْوَرَةٌ کہتے ہیں مُسْتَغْفِرَةٌ بدکے ہوئے ، خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے۔ یحیی بن ابی کثیر کا بیان ہے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے پوچھا کہ قرآن کریم کی کون سی سورت پہلے نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ سورۃ المدثر میں نے کہا: لوگ تو کہتے ہیں کہ سورۂ علق پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس پر ابو سلمہ نے فرمایا کہ مجھ سے تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں غار حرا میں خلوت نشیں تھا۔ جب میں اپنا وظیفہ پورا کر چکا اور نیچے اترنے لگا تو کسی نے مجھے آواز دی۔ میں نے اپنے دائیں جانب دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ آگے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا اور اپنے پیچھے دیکھا تب بھی کوئی نظر نہ آیا۔ پس میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو مجھے کچھ نظر آیا۔ پس میں خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو اور میرے اوپر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو ( المدثر ا۔ ۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ المُزَّمِّلِ،حدیث نمبر ٤٩٢٢)
باب: ترجمہ کنز الایمان: کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ( المدثر ۲) ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں غار حرا میں خلوت نشین تھا۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح گزشتہ حدیث عثمان بن عمر نے علی بن مبارک کے واسطے سے بیان کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {قُمْ فَأَنْذِرْ} [المدثر: 2]حدیث نمبر ٤٩٢٣)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو(المدثر (۳) یحیی کا بیان ہے کہ میں نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ قرآن کریم کا کون سا حصہ پہلے نازل فرمایا گیا؟ انہوں نے بتایا کہ سورۃ المدثر۔ پس میں نے کہا کہ مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ سورہ علق پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس پر ابو سلمہ نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کیا تھا کہ قرآن کریم کی کون سی سورت پہلے نازل ہوئی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ سورۃ المدثر۔ میں نے کہا کہ مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ سورہ علق پہلے نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں وہی بتایا ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غار حرا میں خلوت نشین تھا۔ جب اپنا وظیفہ ختم کر کے میں پہاڑ سے نیچے اترنے لگا تو وادی میں آگیا اس وقت کسی نے مجھے آواز دی تو میں نے اپنے آگے پیچھے اور داہیں بائیں جانب نظر دوڑائی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ زمین و آسمان کے درمیان کوئی تخت پر بیٹھا ہے۔ میں نے گھر آکر خدیجہ سے کہا کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ اس وقت مجھ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ترجمہ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو( المدثر ١ تا ٤) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} [المدثر: 3] حدیث نمبر ٤٩٢٤)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے کپڑے پاک رکھو (المدثر٤) ابو سلمہ بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو میں نے وحی بند ہو جانے کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دن میں جا رہا تھا جبکہ آسمان سے ایک آواز سنی۔ پس میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا جو غار حرا میں آیا تھا۔ اس کے دیکھنے سے مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی۔ پس میں گھر واپس لوٹ آیا اور کہا: مجھے کمبل اڑھاؤ پس میرے اوپر کپڑا ڈال دیا گیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو (المد ثر ١ تا ۵) یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے اور الرجز سے مراد اوثان (بت) ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: 4]حدیث نمبر ٤٩٢٥)
باب: ترجمہ کنز الایمان: اور بتوں سے دور رہو (المدثر(۵) بعض کا قول یہ ہے کہ الرجز اور الرجس سے عذاب مراد ہے۔ ابو سلمہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب پہلی وحی کے بعد وحی کا سلسلہ موقوف تھا تو میں ایک دن جارہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ پس میں نے نظر اٹھا کر آسمان کی جانب دکھا تو زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر وہی فرشتہ بیٹھا ہوا تھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ اسے دیکھ کر میرے اوپر ہیبت طاری ہو گئی کہ میں زمین پر گر پڑا۔ پس میں اپنی اہلیہ محترمہ کے پاس آگیا اور ان سے کہا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ پس مجھے کمبل اڑھا دیا گیا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان! اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو ( المد ثر ١ تا ۵) اور ابو سلمہ کا قول ہے۔کہ الرجز سے بہت مراد ہیں پھر وحی کا سلسلہ تیز ہوگیا اوت مسلسل وحی آنے لگی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ) "حدیث نمبر ٤٩٢٦)
سورۃ القیامہ کی تفسیر۔ سوره القیامہ میں ارشاد باری تعالٰی ہے ترجمہ کنز الایمان: جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (القیامه (۱٦) ابن عباس کا قول ہے: سُدً آزاد، مہمل - لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ جلدی توبہ کروں گا۔ جلدی عمل کروں گا۔لاَ وَزَرَ کوئی بچاؤ نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔ سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ زبان مبارک کو حرکت دیا کرتے تھے۔ سفیان راوی کا بیان ہے کہ آپ یاد کر لینے کے لیے ایسا کیا کرتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا: ترجمہ کنز الایمان: جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو بے شک اس۔ کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے ( القیامہ 16 تا 17) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةِ القِيَامَةِ،حدیث نمبر ٤٩٢٧)
باب: ترجمہ کنز الایمان: بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے (القیامہ ۱۷) سعید بن جبیر کا ارشادِ باری تعالی : لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ كے متعلق بیان ہے کہ ابن عباس رضی الله تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ جب وحی نازل ہوتی تو حضور اپنے مبارک ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے چنانچہ کہا کہ کے ترجمہ کنز الایمان: قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (القیامہ ۱٦) اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں بھول نہ جاؤ۔ ترجمہ کنز الایمان : بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے (القیامہ ۱۷) یعنی تمہارے سینے میں جمع کر دینا اور یہ کہ تم زبان سے پڑھ سکو۔ اور جب ہم پڑھ لیں یعنی وحی نازل کردیں تو اس کے مطابق پڑھنا۔ پھر اس کا بیان کرنا بھی ہمارے ذمے ہے یعنی تمہاری زبان سے بیان کروا دینا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} [القيامة: 17] حدیث نمبر ٤٩٢٨)
باب: ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (القیامہ (۱۸) ابن عباس کا قول ہے: قَرَأْنَاهُ ہم اسے بیان کر دیں فَاتَّبع اس کے مطابق عمل کرو۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ارشاد باری تعالی : ترجمہ کنز الایمان : جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو ( القیامہ ۱٦) کے متعلق روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جب حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی نازل کرتے تو حضور اپنی زبان اور ہونٹوں کو ان کے ساتھ حرکت دیا کرتے تھے اور اس سے آپ کو دشواری ہوتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوتی تھی۔ پس اللہ تعالٰی نے سورۃ القیامہ کی یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ کنز الایمان :جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے القیامه (۱٦-۱۷) یعنی فرمایا کہ اس کا تمہارے سینے میں محفوظ کر دینا اور تم سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے لہذا جب ہماری طرف سے پڑھا جاچکے تو اس ک پڑھے ہوئے کے مطابق عمل کرو اور جب ہماری طرف سے نازل ہو تو غور سے سنو۔ پھر اس کا بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ تمہاری زبان سے بیان کروا دیں۔ راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب چلے جاتے تو حضرت اس وقت پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو حکم دیا۔ اور کوئی أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى یہ وعید ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 18] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {قَرَأْنَاهُ} [القيامة: 18]: «بَيَّنَّاهُ»، {فَاتَّبِعْ} [القيامة: 18]: «اعْمَلْ بِهِ» حدیث نمبر ٤٩٢٩)
سورۃ الدہر کی تفسیر هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے اور لفظ ھل کبھی انکار کے لیے اور کبھی خبر کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ یہاں خبر کے لیے آیا ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ تھا توسہی لیکن نا قابل ذکر تھا اور یہ اس کے مٹی سے پیدا ہونے اور اس میں روح پھونکنے تک کا عرصہ ہے۔ أَمْشَاجٍ عورت کے پانی کا مرد کے پانی کے ساتھ ملنا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خون اور جما ہوا خون جب ملیں تو اسے مَشِيجٌ کہتے ہیں جیسے لفظ خليط ہے اور مَمْشُوجٌ کو یا مخلوط کی طرح ہے۔ کہتے ہیں کہ سَلاَسِلًا اور أَغْلاَلًا پڑھنا بعض کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ مُسْتَطِيرًا طويل مصیبت -القَمْطَرِيرُ سخت يوم قَمْطَرِيرٌ بھی کہتے ہیں اور يَوْمٌ قُمَاطِرٌ بھی۔ الْعَبُوسَ، الْقَمْطرِيرُ ، الْقَمَاطَرُ اور الْعَصِيبُ ایسے سخت دنوں کو کہتے ہیں جو مصیبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ مَعْمَر کا قول ہے: اسْتَرَهُمُ مضبوط پیدائش اور ہر وہ چیز جس کو مضبوطی سے باندھا جائے جیسے پالان وغیرہ اس کو مَا سُور کہتے ہیں۔ سورۃ المرسلات کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: جِمَالاَتٌ سے۔ اِرُكَعُوا نماز پڑھو جو نماز نہیں پڑھتے۔ حضرت ابن عباس سے لاَ يَنْطِقُونَ - وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ اور الْيَوْمُ نَختم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کافروں کی قیامت میں مختلف حالتیں ہوں گی کہ کبھی وہ بولیں گے اور کبھی ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب آپ پر سورة المرسلات نازل ہوئی اور ہم اسے آپ کی مبارک زبان سے سیکھ ہی رہے تھے کہ ایک سانپ نکل آیا۔ ہم اس غار کی جانب لپکے مگر وہ ہم سے آگے نکل کر اپنے پل میں تھی گیا۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے محفوظ ہو گیا جس طرح تم اس کے شرسے بچ گئے ہو۔ عبده بن عبداللہ یحیی بن آدم ، اسرائیل منصور نے اسی طرح روایت کی ہے۔ اسرائیل، اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ اس کی متابعت اسود بن عامر نے اسرائیل سے کی۔ حفص اور ابو معاویہ اور سلیمان بن قرم نے اعمش، ابراہیم، اسود سے یہی روایت کی۔ سیکیسی بن حماد، ابوعوانہ، مغیرہ ابراہیم، علقمہ،حضرت عبداللہ بن مسعود سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ابن اسحاق، عبدالرحمن بن الاسود، اسود بن یزید بن قیس شخصی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ )تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ "حدیث نمبر ٤٩٣٠)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غار میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جبکہ آپ پر سورۃ المرسلات نازل ہوئی۔ ہم آپ کی زبانِ مبارک سے اس سورت کو سیکھ رہے تھے اور آپ ابھی اس کی تلاوت فرما رہے تھے کہ ایک سانپ نکل آیا۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں چاہیے کہ اسے مار ڈالو۔ راوی کا بیان ہے کہ ہم اس کی جانب دوڑے مگر وہ ہم سے آگے نکل گیا۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ پھر آپ نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچ گیا جس طرح تم اس کے شر سے بچ گئے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالمُرْسَلاَتِ،حدیث نمبر ٤٩٣١)
ارشاد باری تعالی ہے: بے شک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے جیسے اونچے محل(المرسلات ۳۲) عبد الرحمن بن عابس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا کو إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالقَصَرِ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ ہم تین تین گز یا اس سے کچھ کم لمبی لکڑیاں لیتے اور انہیں سردیوں کے لیے اٹھا رکھتے تھے اور انہیں ہم القَصَرَ کا نام دیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالقَصْرِ} [المرسلات: 32] حدیث نمبر ٤٩٣٢)
ارشاد باری تعالٰی ہے:گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں ک (المرسلات (۳۲) عبدالرحمن بن عابس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالقَصَرِ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ ہم تین تین گزیا اس سے بھی زیادہ لمبی لکڑیاں جمع کرتے اور انہیں سردیوں کے لیے اٹھا رکھتے تھے اور انہیں ہم القصر کا نام دیا کرتے۔ گویا وہ جِمَالاَتٌ صُفْرٌ یعنی کشتی کے رہتے ہیں اور ہم اتنی جمع کر لیتے کہ ڈھیر درمیانے قد کے شخص کے برابر ہو جاتا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (كَأَنَّهُ جِمَالاَتٌ صُفْرٌ) حدیث نمبر ٤٩٣٣)
ارشاد باری تعالٰی ہے: ترجمہ کنز الایمان: یہ دن ہے کہ وہ نہ بول سکیں گے (المرسلات ۳۲) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غار میں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ اس کی تلاوت فرما رہے تھے اور ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سیکھ رہے تھے اور ابھی آپ اس کی تلاوت فرما رہے تھے کہ اچانک ہمارے نزدیک ایک سانپ آنکلا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس کو مار ڈالوں پس ہم اس کی طرف دوڑے مگر وہ چلا گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچ گیا جس طرح تم اس کے شر سے بچ گئے ہو۔ عمر بن حفص کا بیان کہ میں نے اس حدیث کو اپنے والد ماجد سے سن کر یاد کیا ہے جو منیٰ کی اس غار میں موجود تھے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {هَذَا يَوْمُ لاَ يَنْطِقُونَ} [المرسلات: 35] حدیث نمبر ٤٩٣٤)
سورۃ النباء کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: لَا يَرْجُونَ حِسَابًا حساب کا انہیں خوف ہی نہ تھا۔ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خطابا بغیر اس کی اجازت کے کوئی اس کے ساتھ کلام نہیں کر سکے گا۔ ابن کے عباس کا قول ہے: وَهَاجًا روشن، چمکدار عطاء حِسَابًا پورا بدلہ - اعطاني مَا أَحْسَبَنی یعنی مجھے پورا صلہ دیا۔ باب ترجمہ کنز الایمان : جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں (النباء (۱۸) گروه در گردہ، علیحدہ علیحدہ ٹولیاں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : دونوں مرتبہ صور پھونکنے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے۔ کسی نے دریافت کیا، کیا چالیس دن کا ؟ ان کا بیان ہے کہ میں نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا، کیا چالیس ماہ کا؟ ان کا بیان ہے کہ میں نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا، کیا چالیس سال کا؟ ان کا بیان ہے کہ میں نے انکار کر دیا۔ فرمایا پھر اللہ تعالی آسمان سے ایسی بارش برسائے گا کہ انسان یوں زمین سے نکل آئیں گے جیسے سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ انسان کے تمام اعضا گل جاتے ہیں سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے کہ قیامت کے دن اسی پر انسان کی تخلیق کی جائے گی۔ (بخاری شریف،کتاب التفسير،سُورَةُ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ،حدیث نمبر ٤٩٣٥)
سورۃ النازعات کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے کہ الآيَةَ الكُبْرَى ان کا عصا اور دست مبارک۔ کہتے ہیں النَّاخِرَةُ اور النَّخرةُ ہم معنی ہیں جیسے الطامع اور الطمع نیز الْبَاخِل اور البخيل - بعض کا قول ہے النَّخِرَةَ بوسيده التَّاخِرَقُ وہ کھوکھلی ہڈی جس سے ہوا گزرے تو آواز پیدا ہو۔ ابن عباس کا قول ہے : الْحَافِرَةِ زندگی سے پہلے کی حالت۔ دوسرے کا قول ہے: آیان مُرْسَهَا انتہا ہوگی اور وَمُرْسَى السَّفِينَةِ جہاں پیٹرہ لنگر انداز ہو۔ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنی درمیانی اور انگوٹھے کے قریب والی انگشت مبارک کو اس طرح کر کے فرمایا: مجھے قیامت کے ساتھ اس طرح مبعوث فرمایا گیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالنَّازِعَاتِ حدیث نمبر ٤٩٣٦)
سورۃ عبس کی تفسیر عَبَسَ تیوری چڑھا کر منہ پھیرنا دوسرے کا قول ہے: مَطهَّرَةٌ یعنی اس کو نہیں چھوتے مگر پاک بندے جو فرشتے ہیں۔ یہ ارشاد ربانی فَالْمُدَبِّرَاتِ آمراً کی طرح ہے کہ فرشتوں اور صحیفوں کو پاک رکھا ہے کیونکہ صحیفے پاک ہیں لہذا ان کے اٹھانے والے بھی پاک مقرر فرمائے۔ سَفَرَةٍ فرشتے ، اس کا واحد سَافِر ہے۔ سَفَرْتُ میں نے ان کی صلح کروائی اور فرشتے جو اللہ کی وحی لے کر آتے ہیں۔ وہ بھی سفیر کی طرح ہیں جو قوم کے درمیان صلح کرواتے ہیں۔ دوسرے کا قول ہے: تَصَدَّى اس سے غفلت برتی۔ مجاہد کا قول ہے: لَمَّا يَقْضِ جو حکم دیا جاتا ہے اس کو پورا نہیں کرتے۔ ابن عباس کا قول ہے: تَرْهَقُها اس کو سختی سے ڈھانپ لے گی ۔ مُسْفِرَةٌ چکنے والی - بايدى سَفَرَة کے بارے میں ابن عباس کا قول ہے کہ دیکھنے والے۔ اسفارا گتابیں ۔ تَلَهَّى مشغول ہوا۔ کہتے ہیں کہ الاسفار کا واحد سفر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو قرآن مجید کو پڑھتا ہے حتی کہ اسے یاد کر لیتا ہے تو وہ بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور اس شخص کی مثال جو قرآن کریم کو پڑھے اور اسے یاد کرتے ہوئے بڑی دقت کا سامنا ہو، تو اس کے لیے دگنا اجر ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سورہ عبس،حدیث نمبر ٤٩٣٧)
سورۃ التکویر کی تفسیر انْكَدَرَتْ بکھر جائیں گے۔ حسن کا قول ہے: سُجِّرَتْ خشک ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک قطرہ پانی بھی باقی نہیں رہے گا۔ مجاہد کا قول ہے : الْمَسْجُورُ بھرا ہوا۔ دوسرے کا قول ہے: سُجِرَتْ ایک دوسرے سے اس طرح مل جائیں کہ سب کا ایک ہی سمندر ہو جائے گا۔ الكنس اپنے چلنے کے مقام پر پھر لوٹ کر آنے والی۔ تَكْنِسُ ہرنی کی طرح چھپ جاتا۔ تنفّس دن چڑھ گیا۔ الظنين جس پر تہمت لگائی جاسکے۔ الضّنِينُ بخیل ۔ عمر کا قول ہے: النُّفُوسُ زُوجَتُ اپنی مثل کے ساتھ جنت یا جہنم میں ملا دیئے جائیں گے، اس کے بعد پڑھا: احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ اکٹھے کیے جائیں گے ظالم اور ان کی بیویاں، عَسْعَسَ پیٹھ پھیری ، واپس پھرے۔ سورہ انفطار کی تفسیر ربیع بن خثیم کا قول ہے: فُجِّرَتْ پھوٹ کر بہنا۔ اعمش اور عاصم نے فَعَدَلَكَ کو بغیر تشدید کے پڑھا ہے جبکہ اہل حجاز تشدید کے ساتھ پڑھتے اور معتدل شکل و صورت والا مراد لیتے ہیں اور تخفیف کے ساتھ پڑھنے والے مراد لیتے ہیں کہ جس میں چاہا پیدا فرمایا یعنی خوبصورت یا بدصورت، لمبے قد والا یا پستہ قد۔ سورہ تطفیف کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: رَانَ گناہوں کا رنگ چڑھ جانا۔ ثُوِّبَ بدلہ دیا گیا۔ دوسرے کا قول ہے الْمُطَفِّفُ دوسرے کو پورا بدلہ نہ دے۔ باب ترجمہ کنز الایمان : جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس روز تمام انسان پروردگار عالم کے حضور کھڑے ہوں گے تو کوئی اس حال تک پہنچا ہوا ہوگا کہ کانوں کی لو تک اپنے پسینے میں غرق ہو گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ العَالَمِينَ}حدیث نمبر ٤٩٣٨)
سورہ انشقاق کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ اپنے نامہ اعمال کو پیٹھ کے پیچھے سے پکڑے گا۔ وَسَقَ اپنے جانوروں کو جمع کرنا۔ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ کہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ باب ترجمہ کنز الایمان: اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا۔ عمرو بن علی، سیمی، عثمان بن اسود، ابن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابن ابی ملیکہ ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روای ہے کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں جس سے حساب لیا گیا مگر وہ ہلاک ہو گیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: "جس کو اس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو اس سے آسانی اور نرمی کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔ فرمایا یہ تو نامہ اعمال دیئے جانے کا بیان ہے جو انہیں دیے جائیں گے لیکن جو حساب کے مواخذے میں پھنس گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] حدیث نمبر ٤٩٣٩)
ترجمہ کنز الایمان: ضرور تم منزل به منزل چڑھو گے(۱الانشقاق ۱۹) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد باری تعالٰی : ترجمہ کنز الایمان: ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے (الانشقاق ۱۹) کے متعلق فرمایا: ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی جانب۔ ان کا بیان ہے کہ یہ مفہوم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ} [الانشقاق: 19] ،حدیث نمبر ٤٩٤٠)
سورۃ البروج کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: الأحدُودُ زمین کی دراڑیں، شگاف فُتِنُوا عذاب دیئے گئے۔ سورۃ الطارق کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: ذات الرجيع وہ بادل جو بار بار بارش برسائے ذَاتِ الرَّجْعِ سبزا اگنے کی جگہ سے پھٹ جانے والی۔ ترجمہ کنز الایمان: اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جو سب سے بلند ہے (الا علی ۱) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہمارے پاس سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم تشریف لائے۔ یہ دونوں حضرات ہمیں قرآن کریم سکھایا کرتے تھے۔ پھر حضرت عمار بن یاسر، حضرت بلال اور حضرت سعد بن ابی وقاص تشریف لائے ، پھر حضرت عمر بن خطاب بیس صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور ان کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قدم رنجہ فرمایا۔ میں نے اہلِ مدینہ کو اتنے کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ جتنے آپ کی تشریف آوری پر حتیٰ کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو بھی دیکھا کہ وہ سب یہی کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول کی تشریف آوری ہوگئی ۔ جس وقت آپ کی تشریف آوری ہوئی تو میں سورۃ الاعلی اور ایسی چند چھوٹی سورتیں سیکھ چکا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى،حدیث نمبر ٤٩٤١)
سورہ الغاشیہ کی تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ سے مراد نصاری ہیں۔ مجاہد کا قول ہے: عَيْنٍ آنِيَةٍ کناروں تک بھرا ہوا اور پینے کا وقت آگیا۔ {حَمِيمٍ آنٍ} ان کناروں تک بھرے ہوئے ۔ لاَ تَسْمَعُ فِيهَا لاَغِيَةً گالی، بد زبانی الضَّرِيعَ کہتے ہیں جبکہ وہ سوکھ جائے اور وہ زہریلی ہوتی ہے۔ بِمُسَيْطِرٍ مسلط ہونا ، یہ ص اور س دونوں سے پڑھا جاتا ہے۔ ابن عباس کا قول ہے: -إِيَابَهُمْ ان کے لوٹنے کی جگہ۔ سورۃ الفجر کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: الوَتْرُ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ إِرَمَ ذَاتِ العِمَادِ پچھلے لوگ، الْعِبَادُ سے ستونوں والے مراد ہیں جو ایک جگہ قیام نہیں کرتے تھے۔ سَوْطَ عَذَابٍ وہ چیز جس کے ساتھ عذاب دیئے گئے۔أَكْلًا لَمًّا جو ہاتھ آیا کھا جاتا۔ جَمًّا بہت زیادہ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہر چیز جو بھی خدا نے پیدا کی, اس کا جوڑا ہے اور اکیلا (الوَتْرُ) صرف اللہ تعالٰی ہے۔ دوسرے کا قول ہے : سَوطَ عَذَاب ایسا لفظ جس کو اہل عرب ہر قسم کے عذاب کے لیے بولتے ان میں سے سوط بھی ہے۔ لَبِالْمِرْصَادِ اس کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔ تُحاضُونَ تم حفاظت کرتے ہو۔ وَيَحُضُونَ کھانا کھلانے کا حکم دیتے ہیں۔ الْمُطْمَئِنَةَ ثواب کی تصدیق کرنے والی۔ حسن کا قول ہے: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ المُطْمَئِنَّةُ جب اللہ تعالٰی اس کو قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے مطمئن ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی اس کی طرف اطمینان بھیجتا ہے۔ وہ اللہ تعالٰی سے راضی ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس سے راضی ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالٰی اس سے راضی ہوتا ہے پس اللہ تعالی اس کی روح کو جنت میں داخل کرتا اور اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دیتا ہے۔ دوسرے کا قول ہے: جَابُوا سوراخ کیا،یہ جِيْبَ الْقَمِيصُ سے نکلا ہے کہ اس کا گریبان چاک کیا جاتا ہے، اسی طرح يَجُوبُ الْفَلَاةُ جنگل کو کاٹا جیسا کہ کہتے ہیں لَمَمْتُهُ أَجْمَعَ میں نے اسے آخری حد کو پہنچا کر چھوڑا۔ سورۃ البلد کی تفسیر۔ مجاہد کا قول ہے۔ بِهَذَا البَلَدِ مکہ مکرمہ جس میں تمہارے اوپر لوگوں کی طرح کوئی گناہ نہیں۔وَوَالِدٍ سے مراد حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اور وَمَا وَلَدَ سے ان کی اولاد لُبَدًا کثرت ہے۔ النَّجْدَيْنِ بھلائی اور برائی۔ مَسْغَبَةٍ بھوک۔ مَتْرَبَةٍ گرد آلوده کہتے ہیں کہ فَلَا اقْتَحِمِ الْعَقَبَةَ سے مراد ہے کہ دنیا کے اندر دشوار گزار گھائی میں داخل نہ ہوا۔ سورہ الشمس کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: بِطَغْوَاهَا اپنے گناہوں کی وجہ وَلا يَخافُ عُقْبَاهَا کوئی اس سے بدلہ نہیں لے سکتا۔ حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اونٹنی اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر فرمایا: پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان: جب کہ اس کا سب سے بد بخت اٹھ کھڑا ہوا (الاعلی ۱۲) یعنی ایسا شخص کھڑا ہوا جو طاقت ور، مفسد اور ابوز معہ قبیلے میں زور آور تھا۔ پھر آپ نے عورتوں کا ذکر فرمایا کہ ایک شخص اپنی عورت کو غلاموں کی طرح مارتا پیٹتا ہے اور پھر رات کے وقت اسے بستر پر اپنے پاس لٹاتا ہے۔ پھر آپ نے ریح خارج ہونے پر ہنسنے کے متعلق نصیحت فرمائی کہ اس کام پر تم کیوں ہنستے ہو جسے خود بھی کرتے ہو؟ ابو معاویہ، ہشام، عروہ بن زبیر، حضرت عبداللہ بن زمعہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو زمعہ کی طرح جو حضرت زبیر بن عوام کا چچا تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا،حدیث نمبر ٤٩٤٢)
ترجمہ کنز الایمان اور رات کی قسم جب چھائے(الیل 1 ) ابن عباس کا قول ہے:بِالحُسْنَى صلہ ملنے کا۔ مجاہد کا قول ہے: تَرَدَّى مرگیا۔ تَلَظَّى جوش مارتا ہے اور عبید بن عمر کی قرات میں یہ لفظ تَتَلَظَّى ہے, بَابُ {وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى} [الليل: 2] علقمہ کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شاگردوں کی ایک جماعت کے ساتھ شام گیا۔ جب حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہمارے بارے میں سنا تو وہ تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہارے اندر کوئی قاری ہے؟ ہم نے جواب دیا ہاں۔ فرمایا تم میں سے کون پڑھے گا؟ ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے فرمایا، پڑھو۔ پس میں پڑھنے لگا کہ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى انہوں نے فرمایا: کیا تم نے اس طرح اپنے صاحب کی زبان سے سنا ہے؟ میں نے کہا، ہاں انہوں نے فرمایا: اور میں نے اسی طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے لیکن یہ لوگ (شامی) ہمارے اس پڑھنے کی صحت کا انکار کرتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ،حدیث نمبر ٤٩٤٣)
باب ترجمہ کنز الایمان: اور اس کی جس نے نر و مادہ بنائے (الیل ۳) ابراہیم نخعی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شاگرد حضرت ابو درداء کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گئے۔ پس وہ خود ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے پاس جا پہنچے۔ پھر فرمایا: تم میں سے عبداللہ بن مسعود کی طرح کون قرآن کریم پڑھتا ہے؟ ہم نے کہا: سب اسی طرح پڑھتے ہیں: فرمایا تم میں سے زیادہ کس کو یاد ہے؟ ساتھیوں نے علقمہ کی طرف اشارہ کیا۔ فرمایا: جس طرح تم نے ان سے سنا ہے اسی طرح سورۃ واللیل پڑھو۔ پس علقمہ نے اس سورت میں وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى پڑھا۔ حضرت ابو دردا نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى پڑھوں۔ خدا کی قسم، میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى} [الليل: 3] حدیث نمبر ٤٩٤٤)
باب ترجمہ کنز الایمان : تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گاری کی ( الیل ۵) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع غرقہ میں ایک جنازے میں شریک تھے تو آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں مگر اس کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ اس کا ٹھکانا جنت میں ہے یا دوزخ میں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! پھر اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھے رہیں؟ آپ نے فرمایا: عمل کرو کیونکہ ہر ایک کو اسی کے حساب سے آسانی عطا کردی جاتی ہے۔ پھر آپ نے پڑھا۔ ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کر دیں گے ( الیل ۵ تا ١٠) ابو عبدالرحمن کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ پھر پوری گزشتہ حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} [الليل: 5] حدیث نمبر ٤٩٤٥)
ترجمہ کنز الایمان : تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے ( الیل ۷) ابو عبد الرحمن سلمی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے کہ ایک لکڑی لے کر آپ زمین گرید نے لگے۔ پھر فرمایا: تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ جس کا ٹھکانا دوزخ یا جنت میں لکھا ہوا نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں؟ فرمایا ، عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے اسی جانب آسانی عطا کر دی جاتی ہے۔ کیونکہ : ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے ( الیل ٥ تا ٧) شعبہ کا بیان ہے کہ منصور نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو میں نے سلیمان کی حدیث سے ان کا انکار کیا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى} [الليل: 7] حدیث نمبر ٤٩٤٦)
باب ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا ( الیل ۸) ابو عبد الرحمن کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں مگر اس کا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں لکھا ہوا ہے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں بلکہ عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے اس کے مطابق آسانی عطا کر دی جاتی ہے۔ پھر آپ نے یہ پڑھا: ترجمہ کنز الایمان : تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے (الیل ٥ تا ١٠) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى} [الليل: 8] حدیث نمبر ٤٩٤٧)
ترجمہ کنز الایمان: اور سب سے اچھی کو جھٹلایا(الیل ۹) ابوعبدالرحمن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شامل تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے ۔ پس آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گردا گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ چنانچہ آپ نے سر مبارک جھکا لیا اور اپنی اس چھڑی کے ساتھ زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جان اور کوئی ایک سانس لینے والا نہیں مگر اس کا ٹھکانا لکھا ہوا ہے کہ جنت میں ہوگا یا جہنم میں اور وہ شقی ہو گا یا سعید ۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیاں ہم اس لکھے ہوئے پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں کیونکہ جو ہم میں سے سعید ہوگا۔ وہ سعادت مندوں سے جائے گا اور جو ہم میں سے بد بخت ہوگا وہ بد بختوں جیسے عمل کرے گا۔ ارشاد فرمایا: جو سعید ہے اس کے لیے سعادت مندوں والے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں اور جوشقی ہوتا ہے اس کے لیے بدبختوں والے اعمال آسان کر دیئے کی جاتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کریم سے یہ پڑھا: ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے۔ ( الیل ٥ تا ٧)۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَذَّبَ بِالحُسْنَى} [الليل: 9] حدیث نمبر ٤٩٤٨)
ترجمہ کنز الایمان: تو بہت جلد ہم اسے دشواری مهیا کر دیں گے۔(١٠) ابو عبید الرحمن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شامل تھے تو آپ نے ایک چیز لے کر اس کے ساتھ زمین کو گریدنا شروع کر دیا۔ پھر فرمایا ، تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ اس کا ٹھکانا جہنم یا جنت میں لکھا ہوا نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس لکھے ہوئے پر بھروسہ کر کے عمل نہ چھوڑ دیں۔ فرمایا: عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے وہی آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر وہ سعید ہے تو اس کے لیے سعادت مندوں کے کام آسان کر دیئے جاتے ہیں اور اگر وہ شقی سے ہے تو اس کے لیے بد بختوں والے کام آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ پڑھا: ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے (الیل ٥ تا ٧) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 10] حدیث نمبر ٤٩٤٩)
سورة الضحى مجاہد کا قول ہے: إِذَا سَجَى برابر ہو جائے۔ دوسرے کا قول ہے: کہ جب رات تاریک اور پرسکون ہو جائے۔ عَائِلًا بال بچے دار۔ باب ترجمہ کنز الایمان: اور منگتا کو نہ جھڑ کو ۔ اسود بن قیس کا بیان ہے کہ میں نے جندب بن سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم علیل ہو گئے تو دو یا تین راتیں آپ نے قیام نہ فرمایا: پس ایک عورت آپ کے پاس آکر کہنے لگی: اے محمد ! مجھے امید ہے کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے دو تین راتوں سے اسے تمہارے پاس آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ پس اللہ تعالی نے یہ آیتیں نازل فرمایا ترجمہ کنز الایمان: چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا (والضحى ١ تا ٣) باب ترجمہ کنز الایمان: کہ تمہیں تمہارے رب نے چھوڑا اور نہ مکروہ جانا ۔ اسے دال کی تشدید سے پڑھیں یا تخفیف سے، دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے۔ حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ نہ اس نے تمہیں چھوڑا اور نہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى 3] حدیث نمبر ٤٩٥٠)
اسود بن قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا کہ ایک عورت نے کہاں ہے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں دیکھی ہوں کہ آپ کا ساتھی آپ کے پاس آنے میں تاخیر کرنے لگا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے ترجمہ کنز الایمان کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا (والضحی (۳) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى ٣)حدیث نمبر ٤٩٥١)
سورہ الم نشرح کی تفسیر ترجمہ کنز الایمان: کیا ہم نے تمھارا سینہ کشادہ نہ کیا (نشرح ۱) مجاہد کا قول ہے: وِزْرَكَ زمانہ جاہلیت میں أَنْقَضَ بوجھل کر دیا ۔ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً ایک کے ساتھ دوسری چیز ، یہ اس ارشاد ربانی کی طرح ہے جیسے هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الحُسْنَيَيْنِ فرمایا۔ مجاہد کا قول ہے: فَانْصَبْ حاجت کے وقت اپنے رب سے ابن عباس سے منقول ہے: أَلَمْ نَشْرَحْ یعنی آپ کے مبارک سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا تھا۔ سورۃ التین کی تفسیر مجاہد کا قول ہے: یہ انجیر اور زیتوں وہی ہیں جن کو لوگ کھاتے ہیں کہتے ہیں: فَمَا يُكَذِّبُكَ جو شخص تمہیں جھٹلائے گا تو سب لوگ اعمال کا بدلہ دیے جائیں گے۔ گویا یہ فرمایا ہے کہ ثواب اور عذاب کو سامنے رکھتے ہوئے تمہیں جھٹلانے کی جرات کرے۔ عدی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عشاء کی ایک رکعت میں سورۂ والتین پڑھی۔ تَقْوِيمٍ سے مراد پیدائش ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ وَالتِّينِ،حدیث نمبر ٤٩٥٢)
سورہ علق کی تفسیر قتیبه، حماد، یحیی بن عتیق نے امام حسن بصری سے روایت کی کہ قرآن مجید میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ لکھا کرو اور دو سورتوں کے درمیان امتیاز کے لیے بھی۔ مجاہد کا قول ہے : نَادِيَهُ اپنے رشتے دار الزَّبَانِيَةَ فرشتے ۔ اور کہا: الرُّجْعَى لوٹا ۔ لَنَسْفَعَنْ یہ نون حنفیہ کے ساتھ ہے اور سَفَعْتُ پیدائی سے نکلا ہے کہ میں نے پکڑا۔ ابن شہاب نے دوسندوں کے ساتھ حضرت عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما زوجہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز یوں ہوا کہ حالت نیند میں سچے خواب نظر آتے تھے۔ پس آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے تو صبح وہی ظاہر ہو جاتا۔ پھر خلوت نشینی کی رغبت آپ کے دل میں ڈالی گئی۔ چنانچہ آپ غار حرا میں تشریف لے جاتے اور اس میں عبادت کرت رہتے۔ یعنی کئی راتوں تک متواتر عبادت کرتے اور پھر اپنی زوجہ مطہرہ کی جانب واپس لوٹتے تھے اور پھر اسی طرح کھانے پینے کی ضروری اشیاء لے کر چلے جاتے حتی کہ جب آپ غار میں تھے تو وحی آگئی یعنی فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جواب دیا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر اس نے مجھے پکڑ کر دبایا حتی کہ مجھے تکلیف محسوس ہونے لگی پھر مجھے چھوڑ کر کہا : پڑھو۔ میں نے جواب دیا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں ۔ پس اس نے مجھے دوسری مرتبہ دبایا، حتی کہ مجھے تکلیف محسوس ہونے لگی۔ پھر مجھے چھوڑ کر کہا: پڑھو۔ میں نے کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں ۔ اس پر اس نے مجھے تیسری مرتبہ دبایا۔ یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ کر کہا: ترجمہ کنز الایمان : پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا (العلق ١ تا ٥)۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کانپتے ہوئے لوٹے حتی کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اُٹھا دو ۔ پس انہوں نے آپ کو کمبل اُڑھا دیا۔ حتی کہ وہ آپ سے دور ہوگئی۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا۔ اے خدیجہ مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہورہا اور پھر سارا واقعہ سنایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا: ایسا ہے تو آپ کو خوش خبری ہو ۔ خدا کی قسم، اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہیں ہونے دے گا کیونکہ خدا کی قسم، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، ہر ایک کا بوجھ اٹھاتے ہیں، معذوروں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، جو اُن کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہ دور جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے اور عربی کتابت کرتے تھے اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ انجیل سے عربی میں لکھا تھا۔ وہ بہت بوڑھے اور بینائی سے محروم ہو گئے تھے پس حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا: بھائی جان ! ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سینے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: اے بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بتا دیا تو ورقہ بن نوفل نے کہا، کہا : یہی تو وہ ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا تھا۔ کاش! میں جوان ہوتا۔ کاش! میں اُس وقت تک زندہ رہتا۔ پھر ایک لفظ کہا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا : کیا لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ، ہاں جو شخص بھی یہ چیز لے کر آیا جو آپ لائیں ہیں تو اس سے دشمنی کی گئی میں آپ کے اُس زمانے تک زندہ رہا تو آپ کی بھر پور مدد کروں گا۔ اس کے تھوڑے عرصے بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا اور وحی کا سلسلہ کچھ دنوں تک موقوف ہو گیا حتی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس کا صدمہ محسوس کرنے لگے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ،حدیث نمبر ٤٩٥٣)
حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وحی بند ہونے کے دوران کا واقعہ بیان فرما رہے تھے۔ اُس میں آپ نے فرمایا کہ ایک دن میں جا رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے نگاہ اُٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ زمین و آسمان کے مابین ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے گھبرایا، گھر واپس لوٹ آیا اور کہا: مجھے کمبل اڑھا دو، پس انہوں نے مجھے چادر اڑھادی۔ پھر اللہ تعالٰی نے یہ وحی نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی ہی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو (المدثر ا تا ۵)۔ ابو سلمہ کا بیان ہے کہ الرجز سے بت مراد ہیں جن کے دور جاہلیت میں لوگ پوجا کرتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر برابر وحی آنے لگی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ،حدیث نمبر ٤٩٥٤)
ارشاد باری تعالی ہے: ترجمه کنز الایمان آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا (العلق ۲) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے سچے خوابوں کے ذریعے وحی کا آغاز ہوا۔ پھر فرشتہ آیا اور اُس نے کہا: ترجمہ کنز الایمان: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ} [العلق: 2] حدیث نمبر ٤٩٥٥)
ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنز الایمان: پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے عبدالله بن محمد، عدالرزاق، معمر، زہری سے روایت کرتے ہیں۔ عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سچے خوابوں سے وحی کا آغاز ہوا پھر فرشتہ آیا اور اُس نے کہا: ترجمہ کنز الایمان : پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔ عروہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کی طرف واپس لوٹے اور فرمایا: مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمیل اُڑھا دو۔ پھر باقی حدیث بیان فرمائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ} [العلق: 3]حدیث نمبر ٤٩٥٦،و حدیث نمبر ٤٩٥٧)
كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ کی تفسیر, ترجمہ کنز الایمان : ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے کیسی پیشانی جھوٹی خطا کار ( العلق ۱۵-۱۶) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے کہا: اگر میں محمد کو کعبہ شریف کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں تو ان کی گردن کچل کر رکھ دوں گا (معاذ اللہ )۔ پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں جا پہنچے۔ ابو جہل نے کہا، اگر میں اسی طرح کرتا تو فرشتہ مجھے ضرور پکڑ لیتا۔ عمرو بن خالد، عبید اللہ، عبدالکریم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ} حدیث نمبر ٤٩٥٨)
سورۃ القدر کی تفسیر المَطْلَعُ بھی طلوع ہونے کو کہتے ہیں اور الْمَطلَعُ سے طلوع ہونے کی جگہ بھی مراد ہے۔ أَنْزَلْنَاهُ میں ہ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے۔ انزلناہ سے سارا قرآن کریم مراد ہے اور اس کا نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اہل عرب فعل واحد کو تاکیدی بنانے کی غرض سے ایسا لفظ لاتے ہیں جو جمع کا معنی دے اور اُس میں ثبوت اور تاکید زیادہ ہے۔. سورۃ البینہ کی تفسیر, مُنْفَكِّينَ دور ہونے والے۔ قَيِّمَةٌ قائم ہونے والى دين القَائِمَةُ یہاں دین کو مؤنث کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ باب حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا والی سورت پڑھ کر سناؤں۔ عرض کی کیا میرا نام لیا؟ فرمایا ہاں پس یہ رونے لگے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا: جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن کریم پڑھ کر سناؤں حضرت اُبی نے عرض کی: کیا اللہ تعالی نے آپ کے سے میرا نام لیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے تمہارا نام لیا ہے پس حضرت ابی رونے لگے۔ قتادہ کا بیان سے:مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے انہیں سورۃ البینہ پڑھ کر سنائی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ لَمْ يَكُنْ،حدیث نمبر ٤٩٥٩،و حدیث نمبر ٤٩٦٠،)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا بیشک مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن مجید سناؤں عرض کی : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لیا ہے؟ فرمایا ہاں۔ عرض کی : کیا میں پروردگار عالم کے نزدیک یاد کیا گیا ہوں؟ فرمایا، ہاں پس ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے (بخاری شریف، کتاب التفسير ،سُورَةُ لَمْ يَكُنْ،حدیث نمبر ٤٩٦١)
سورہ زلزال کی تفسیر باب ارشاد باری تعالی ہے: ارشاد باری تعالٰی ہے ترجمہ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا (الزلزالہ ۷) أَوْحَى لَهَا اس کی طرف وحی کی وَحَى لَهَا اور وَحَى إِلَيْهَا ہم معنی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے تین قسم کے آدمیوں کے پاس ہوتے ہیں ایک کے لیے اجر ہے دوسرے کے لیے پردہ پوشی اور تیسرے کے لیے بوجھ ہے پس وہ اجر تو اس شخص کے لیے ہے جس نے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پالا۔ پھر وہ اسے کسی چراگاہ یا باغ میں لمبی رسی سے باندھ دیتا ہے پس اس چراگاہ یا باغ میں سے جہاں تک وہ رسی پہنچے گی اتنی ہی اس شخص کو نیکیاں ملیں گی۔ پس اگر وہ رسی کو توڑ کر ایک دو ٹیلے پرے چلا جائے تو ۔ گھوڑے کے ہر قدم اٹھانے اور کودنے کے بدلے اس شخص کو نیکیاں ملیں گی اور اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گزرے اور اس کا پانی پی لے، اگر چہ مالک کا اراہ وہاں سے پانی پلانے کا نہ ہو تو اس شخص کو اس کے بدلے بھی نیکیاں ملیں گی۔ اس غرض کے لیے گھوڑا رکھنا تو اس شخص کے لیے باعث اجر ہے۔ جس شخص نے فائدہ حاصل کرنے اور سوال سے بچنے کی غرض سے گھوڑا پالا اور اس کی گردن اور پیٹھ میں اللہ کا حق نہ بھلایا ، تو اس غرض کے لیے گھوڑی پالنا اس شخص کے لیے پردہ پوشی ہے جس شخص نے فخر یا امارت دکھانے یا مسلمانوں کے خلاف گھوڑا باندھا، تو یہ اس پر بوجھ ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس بارے میں تو اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی ماسوائے اس آیت کے جو عام اور جامع ہے: ترجمہ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا (الزلزالہ ۷-۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةِ إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ زِلْزَالَهَا ،حدیث نمبر ٤٩٦٢)
ترجمہ کنز الایمان اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ( الزلزالہ -۸) ابو صالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق معلوم کیا۔ فرمایا، اس کے متعلق تو مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی ماسوائے اس آیت کے جو جامع اور عام ہے: ترجمہ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا (الزلزالہ ۷۔۸) (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ {وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8] حدیث نمبر ٤٩٦٣)
سورۃ والعادیات کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: الكَنُودُ ناشکری کرنے والا۔ کہتے ہیں: فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ان کے ذریعے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ لِحُبِّ الخَيْرِ مال کی محبت لَشَدِيدٌ ضرور بخیل ہے، کیونکہ بخیل کو شدید بھی کہتے ہیں۔ حُصِّلَ کھول دیجائے گی۔ سورۃ القارعہ کی تفسیر, كَالفَرَاشِ المَبْثُوثِ جس طرح ٹڈیاں ایک دوسری پر گرتی رہتی ہیں اسی طرح آدمی ایک دوسرے پر گر رہے ہونگے كَالعِهْنِ روٹی کی طرح ۔ عبداللہ بن مسعود کی قرات میں اس کی جگہ كَالصُّوفِ ہے۔ سورہ تکاثر کی تفسیر, ابن عباس کا قول ہے: التَّكَاثُرُ مال اور اولاد کی کثرت۔ سورۃ العصر کی تفسیر, یحییٰ کا قول ہے: العَصْرُ جس کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورہ هُمَزَةٍ کی تفسیر, الحُطَمَةُ سَقَرَ اور لَظَى کی طرح جہنم کے ایک حصے کا نام ہے۔ سورہ فیل کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: أَبَابِيلَ متواتر اور جھنڈ کے جھنڈ ۔ ابن عباس کا قول ہے: مِنْ سِجِّيلٍ یہ سنگ و کل کا معرب ہے۔ سورہ قریش کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: لِإِيلاَفِ اس کی رغبت دی کہ انہیں سردیوں اور گرمیوں میں سفر دشوار نہیں گزرتا کے وَآمَنَهُمْ اُن کے دشمنوں سے حرم میں ابن عيينة کا قول ہے لِإِيلاَفِ میری جو نعمت قریش پر ہے۔ سورۃ الماعون کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے: يَدُعُّ اس کے حق سے بھگاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ دَعَعْتُ سے ہے، لہذا يُدَعُّونَ دھکے دینا، بھگانا ، سَاهُونَ بھولے ہوئے۔ الْمَاعُونَ ہر ایک اچھی بات۔ بعض اہلِ عرب کا قول ہے: الْمَاعُون پانی۔ عکرمہ کا قول ہے: مالی خرچ میں زکوۃ کا سب سے اونچا درجہ فرضیت کے لحاظ سے ہے اور ادنی درجہ عام مانگنے کی چیزوں کا ہے۔ سورۃ الکوثر کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: شَانِئَكَ تمہارا دشمن حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی معراج کروائی گئی جس کے دونوں کناروں پر کھو کھلے موتیوں کے خیمے تھے، میں نے کہا: اے جبرئیل! یہ کیا ہے؟ جواب دیا: یہ کوثر ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الكَوْثَرَ،حدیث نمبر ٤٩٦٤)
ابو عبیدہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشادِ باری تعالیٰ : إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الکوثر کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نہر ہے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی گئی ہے اس کے دونوں کناروں پر کھو کھلے موتیوں کے خیمے ہیں اس کے برتن تاروں کی گنتی کے برابر ہیں اسی طرح زکریا، ابوالاحوص، مطرف نے ابو اسحاق سے بھی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الکوثر ،حدیث نمبر ٤٩٦٥)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ بیشک الکوثر سے مراد وہ بھلائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی۔ ابو بشر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے معلوم کیا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے؟ سعید بن جبیر نے فرمایا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اسی خیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو خصوصی طور پر عطا فرمائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الکوثر،حدیث نمبر ٤٩٦٦)
سورۃ الکافرون کی تفسیر, کہتے ہیں لَكُمْ دِينُكُمْ یعنی کفر تمہارے لیے اور وَلِيَ دِينِ اسلام ہمارے لیے، یہاں دِينِي نہیں کہا کیونکہ یہ آیتیں نون سے شروع ہوئی ہیں جس کے سبب یا حذف ہو گئی ہے جیسا کہ يَهْدِينِ اور يَشْفِينِ میں ہے دوسرے کا قول ہے {لاَ أَعْبُدُ مَا يَعْبُدُونَ) یعنی دس وقت عبادت کرتا ہوں اور نہ میں اس بات کو اپنی باقی زندگی میں قبول کروں گا وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ اور یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جن کے بارے میں فرمایا گیا وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا}( سورة المائده، آیت ٦٤) سورہ نصر کی تفسیر, مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم ملی میں یہ تم نے سورہ نصر نازل ہونے کے بعد کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ تسبیح:سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِی نہ پڑھی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ ،حدیث نمبر ٤٩٦٧)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رکوع اور سجود میں اکثر سُبحانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُم اغفر لی پڑھا کرتے تھے اور یہ آیت : وَرَأَيْتَ النَّاسُ يَدخَلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کی تعمیل میں تھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ النصر، حدیث نمبر ٤٩٦٨)
ترجمہ کنز الایمان: اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں۔ سعید بن جبير حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ارشاد باری تعالٰی: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ شہروں اور محلات کے فتح ہونے کا بیان ہے انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا کہ محمد مصطفے صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے یا اُس کی اس انداز میں مثال بیان فرمائی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا} [النصر: 2] حدیث نمبر ٤٩٦٩)
ترجمہ کنز الایمان: تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو (النصر (۳) بندوں کی توبہ قبول فرمانے والا اور انسانوں کی طرف نسبت ہو تو مراد ہے گناہ سے توبہ کرنا۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر مجھے بدری اکابر کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے بعض حضرات نے اس بات کو اپنے دلوں میں محسوس کیا اور کہا کہ انہیں آپ ہمارے برابر کیوں بٹھاتے ہیں جبکہ ان کے ہم عمر تو ہمارے بیٹے ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ کو اس کا سبب معلوم تو ہے چنانچہ حضرت عمر نے ایک دن مجھے بلایا تو میں ان بزرگوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے خیال میں مجھے اس دن صرف اس لیے بلایا گیا تھا کہ انہیں کچھ دکھایا جائے۔ حضرت عمر نے اُن سے فرمایا: آپ ارشاد بارى تعالى إِذَا جَاء نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اُن میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد کریں اور اس سے استغفار کریں جبکہ ہماری مدد فرمائی جائے اور ہمیں فتح سے نوازا جائے اور بعض حضرات خاموش رہے انہوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ چنانچہ حضرت عمر نے مجھ سے کہا : اے ابن عباس ! کیا آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا، میں تو یہ نہیں کہتا فرمایا پھر آپ کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے جس سے اللہ تعالٰی نے آپ کو آگاہ فرمایا چنانچہ فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: جب اللہ کی مدد اور فتح آئے ( النصر (1) اور یہ آپ علیہ السلام کے وصال کی نشانی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: تو اپنے رب کے کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے ( النصر ۳) حضرت عمر نے فرمایا: جو تم بیان کر رہے ہو مجھے بھی اس سے زیادہ معلوم نہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: 3] « حدیث نمبر ٤٩٧٠)
سورۃ اللہب کی تفسیر, تَبَّ تَبَابٌ خساره، نقصان تَتْبِيبٌ ہلاک کرنا ، تباہ کرنا۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ جب یہ آیت: وَانْذِرُ عشيرتكَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ المُخْلَصِينَ (سورة الشعراء) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے حتیٰ کہ کوہ صفا پر جا چڑھے اور پھر آپ نے پکارا: یا صباحا لوگوں نے کہا: یہ کون ہے؟ پھر آپ کے پاس آکر اکھٹا ہو گئے چنانچہ آپ نے فرمایا: کے بتاؤ اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ دشمن کے سوار اس پہاڑ کے دامن سے نکل کر تم پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟ لوگ کہنے لگے : ہم نے تم کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے نہیں سنا۔ فرمایا: تو میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو تمہارے سامنے موجود ہے اس پر ابولہب نے کہا: تو ہلاک ہو جائے (معاذ اللہ )، کیا ہمیں اسی لیے اکھٹا کیا تھا؟ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا اس پر یہ وحی نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان: تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا (اللھب ١) اعمش نے جس روز یہ حدیث سنائی تو تَبَّ سے آگے قد تب بھی پڑھا۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ،حدیث نمبر ٤٩٧١)
ترجمہ کنز الایمان: اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا ( اللهب ۲) سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وادی بَطْحَاءِ کی طرف تشریف لے گئے پھر ایک پہاڑ پر چڑھ گئے اور ندا فرمائی: يَا صباحا تو قریش آپ کے پاس اکھٹا ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں ۔ فرمایا تو میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو تمہارے سامنے موجود ہے۔ اس پر ابولہب نے کہا: تو ہلاک ہو جائے (معاذ اللہ ) کیا ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ اللہب نازل فرمائی۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ} [المسد: 2] حدیث نمبر ٤٩٧٢)
ترجمه کنز الایمان: اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں (اللھب (۳) سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : جب ابولہب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : تو ہلاک ہو، کیا ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ} [المسد: 3]حدیث نمبر ٤٩٧٣)
باب ترجمہ کنز الایمان : اور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی۔ مجاہد کا بیان ہے کہ جو بد گوئی کی گٹھڑیاں اٹھائے پھرتی تھی ۔ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ کے متعلق کہتے ہیں کہ گوندنے کی چھال سے بٹی ہوئی رہتی اور یہ وہ زنجیر ہے جو جہنم میں ڈالی جائے گی۔ سورۃ الاخلاص کی تفسیر کہتے ہیں کہ احد پر تنوین نہیں ہے اس کا معنی نہیں ہے اکیلا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں اور میرے لیے بدکلامی کی جبکہ یہ بھی اس کے لیے درست نہیں۔ پس اس کا جھٹلانا تو یہ ہے جو وہ کہتا ہے کہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا جیسا کہ ہمیں پہلے پیدا کیا گیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ بنانا میرے لیے دوبارہ زندہ کرنے سے دشوار نہیں ہے اور اس کا بد کلامی کرنا یہ ہے جو کہتا ہے کہ خدا کا بیٹا بھی ہے۔ حالانکہ میں اکیلا ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا اور اور نہ کسی نے مجھے جنا اور نہ کوئی ایک بھی میری برابری کرنے والا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: (وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةُ الحَطَبِ) حدیث نمبر ٤٩٧٤)
باب ترجمہ کنز الایمان: اللہ بے نیاز ہے ( الاخلاص (۲) اہل عرب اپنے سردار کو الصّمد کہتے تھے۔ ابو وائل کا قول ہے کہ السید اسے کہتے ہیں جس پر سرداری ختم ہوتی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ بنی آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں اور میرے لیے بدکلامی کی جبکہ یہ بھی اس کے لیے درست نہیں ہے اس کا جھٹلانا تو یہ ہے جو وہ کہتا ہے کہ جس طرح میں نے اسے پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ زندہ نہیں کروں گا اور اس کا بد کلامی کرنا یہ ہے کہ جو وہ کہتا ہے کہ اللہ کا بیٹا بھی ہے، حالانکہ میں وہ بے نیاز ہوں جو نہ کسی کو جنتا ہوں اور نہ جنا گیا ہوں اور میری برابر کرنے والا کوئی ایک بھی نہیں ہے (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ} [الإخلاص: 2] « حدیث نمبر ٤٩٧٥)
سورۃ الفلق کی تفسیر, مجاہد کا قول ہے۔ غَاسِقٍ رات۔إِذَا وَقَبَ سورج غروب ہونے کا وقت کہتے ہیں کہ صبح کے وقت فرق سے فلَقِ زیادہ روشن ہوتی ہے وقت جب ہر چیز پر اندھیرا چھا جائے۔ زر بن حبیش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا پس آپ نے جو مجھ سے فرمایا وہی میں کہتا ہوں۔ پس ہم وہی کچھ کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ ،حدیث نمبر ٤٩٧٦)
سورۃ الناس کی تفسیر, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے:الوَسْوَاسِ جب بچہ پیدا ہو تو شیطان اسے چھوتا ہے اور جب ذکر الٰہی کیا جائے تو چلا جاتا ہے اور اگر خدا کا ذکر نہ کیا جائے تو اس کے دل پر چھا جاتا ہے۔ زر بن حبیش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اے ابو المنذر! آپ کے بھائی حضرت ابنِ مسعود تو یوں فرماتے ہیں؟ حضرت ابی بن کعب نے فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معلوم کیا تو آپ نے فرمایا :جو مجھے بتایا گیا میں وہی کہتا ہوں۔ پس ہم وہ کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب التفسير ،سُورَةُ الناس، حدیث نمبر ٤٩٧٧)
Bukhari Shareef : Kitabo Tafsiril Quran
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ
|
•