
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں۔(نساء ٣) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین حضرات(حضرت علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کے قریب آے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق معلوم کریں۔جب انہیں بتایا گیا تو گویا اسے کم سمجھتے ہوئے کہنے لگے کہ ہماری کیا اوقات کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال دیکھیں جبکہ ان کے سبب تو ہر اگلی پچھلی لغزش معاف فرما دی گئی۔ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ التَّرْغِيبُ فِي النِّكَاحِ؛نکاح کی ترغیب؛جلد٧ص٢،حدیث نمبر ٥٠٦٣)
زہری نے،کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى أن لا تعولوا» کے متعلق پوچھا ترجمہ کنز الایمان:”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کرنا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے ورنہ اس کے سوا جس عورت سے چاہو نکاح کر لو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ التَّرْغِيبُ فِي النِّكَاحِ؛نکاح کی ترغیب؛جلد٧ص٢،حدیث نمبر ٥٠٦٤)
علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا،ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا:اے ابوعبدالرحمٰن!مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں تاکہ آپ کی زندگی کھل اٹھے۔جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس بات کے سوا مجھ سے کوئی اور کام نہیں تو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے علقہ!پس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوگیا تو وہ کہ رہے تھے جو کچھ آپ نے کہا اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، لأَنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ» ، وَهَلْ يَتَزَوَّجُ مَنْ لاَ أَرَبَ لَهُ فِي النِّكَاحِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ تم میں جو شخص جماع کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہئے، کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والا عمل ہے اور کیا ایسا شخص بھی نکاح کر سکتا ہے جسے اس کی ضرورت نہ ہو؟؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٦٥)
عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں علقمہ اور اسود (رحمہم اللہ) کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ مَنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ؛نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والا روزے رکھے؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٦٦)
عطا کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو انہیں ہلانے سے بچنا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی وفات کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لیے تو آپ نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ کثرۃ النساء؛زائد بیویاں رکھنا؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٦٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس ہر رات میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور نو تھیں۔خلیفہ،یزید بن زریع،سعید،قتادہ،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ کثرۃ النساء؛زائد بیویاں رکھنا؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٦٨)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا تم نے شادی کرلی کیوں کہ اس امت کا بہتر شخص وہ ہے جس کی زیادہ بیویاں ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛نکاح کے مسائل کا بیان؛بَابُ کثرۃ النساء؛زائد بیویاں رکھنا؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٦٩)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ اس لیے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادہ سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ مَنْ هَاجَرَ أَوْ عَمِلَ خَيْرًا لِتَزْوِيجِ امْرَأَةٍ فَلَهُ مَا نَوَى؛جس نے کسی عورت سے شادی کی نیت سے ہجرت کی ہو یا کسی اور نیک کام کی نیت کی ہو تو اسے اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا؛جلد٧ص٣،حدیث نمبر ٥٠٧٠)
اس کے متعلق حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کر رہے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیں۔یا رسول اللہ!کیا ہم اپنے آپ کو خصی کر لیں تو آپ نے ہمیں ایسا کرنے سے ممانعت کر دی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛. بَابُ تَزْوِيجِ الْمُعْسِرِ الَّذِي مَعَهُ الْقُرْآنُ وَالإِسْلاَمُ؛غریب قاری کا نکاح؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧١)
اس کو عبدالرحمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے۔ حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (ہجرت کر کے مدینہ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔حضرت سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاں تھیں۔انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل (بیوی) اور مال میں سے آدھا لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لأَخِيهِ انْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ شِئْتَ حَتَّى أَنْزِلَ لَكَ عَنْهَا؛اپنی زوجہ کا دوسرے مسلمان بھائی سے نکاح کرنا؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧٢)
سعید بن مسیب کا بیان ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو اس کام سے سے منع فرما دیا تھا۔اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتُّلِ وَالْخِصَاءِ؛غیر شادی شدہ رہنا اور خصی ہوجانا مکرو ہے؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧٣)
سعید بن مسیب کا بیان ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو اس کام سے سے منع فرما دیا تھا۔اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجرد رہنے کی اجازت عنایت فرما دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتُّلِ وَالْخِصَاءِ؛غیر شادی شدہ رہنا اور خصی ہوجانا مکرو ہے؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کر رہے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ تھا(کہ ہم شادی کر لیتے) اس لیے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرا لیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پرنکاح کر لیں۔ پھر اس کے آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنائی:ترجمہ کنز الایمان:"اے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں"۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتُّلِ وَالْخِصَاءِ؛غیر شادی شدہ رہنا اور خصی ہوجانا مکرو ہے؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ تیسری مرتبہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ!جو کچھ تمہیں ملا ہے اسے لکھ کر قلم خشک ہوگیا۔اب تمہاری مرضی ہے کہ اپنے آپ کو خصی کر لو یا نہ کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتُّلِ وَالْخِصَاءِ؛غیر شادی شدہ رہنا اور خصی ہوجانا مکرو ہے؛جلد٧ص٤،حدیث نمبر ٥٠٧٦)
ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ عروہ بن زبیر،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ درخت کے پتے چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نِكَاحِ الأَبْكَارِ؛کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان؛جلد٧ص٥،حدیث نمبر ٥٠٧٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے دو دفعہ تمہیں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص تمہیں ریشمی کپڑے میں اٹھائے ہوئے کہ رہا ہے کہ یہ آپ کی زوجہ مطہرہ ہیں۔جب میں نے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو تم تھیں پس میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ ایسا ہی کرے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نِكَاحِ الأَبْكَارِ؛کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان؛جلد٧ص٥،حدیث نمبر ٥٠٧٨)
اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی بیٹیاں اور بہنیں نکاح کے لیے میرے سامنے مت پیش کیا کرو۔“ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ سے واپس ہو رہے تھے۔ میں اپنے اونٹ کو، جو سست تھا تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آکر ملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہوگی۔اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور عشاء سے پہلے گھروں میں نہ جاؤ تاکہ جن عورتوں کے شوہر گھروں میں نہیں ہیں وہ کنگھی کر لیں اور ناپاکی دور کردیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الثَّيِّبَاتِ؛بیوہ عورتوں کا بیان؛جلد٧ص٥،حدیث نمبر ٥٠٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیلتے۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ مجھ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الثَّيِّبَاتِ؛بیوہ عورتوں کا بیان؛جلد٧ص٥،حدیث نمبر ٥٠٨٠)
عروہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا پیغام دیا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ میں تو آپ کا بھائی ہوں۔فرمایا۔تم اللہ کے دین اور اس کی کتاب میں میرے بھائی ہو اور وہ میرے لیے حلال ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الصِّغَارِ مِنَ الْكِبَارِ؛کم عمر لڑکی کا عمر رسیدہ مرد سے نکاح؛جلد٧ص٥،حدیث نمبر ٥٠٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں سے قریشی کی عفیفہ عورتیں بہتر ہیں کہ وہ بچوں پر ان کی کم سنی میں بہت مہربان اور خاوند کے ماں کی خوب نگہبان ہوتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِلَى مَنْ يَنْكِحُ،واي النساء خير، وما يستحب ان يتخير لنطفه من غير إيجاب،؛کیسی عورت سے نکاح کرنا بہتر ہے اور مستحب ہے کہ اپنی نسل کے لئے بہتر عورت منتخب کرے گویہ واجب نہیں؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٢)
حضرت ابوبردہ اپنے والد ماجد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔ عامر شعبی نے (اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس شخص نے باندی کو (نکاح کرنے کے لیے) آزاد کر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ اتِّخَاذِ السَّرَارِيِّ؛ومن اعتق جاريته ثم تزوجها؛لونڈی کو آزاد کرکے نکاح میں لانا؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے خلاف واقعہ کبھی بات نہیں کی مگر تین موقعوں پر۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہا السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا (کہ بادشاہ کے سامنے) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن (یعنی دینی بہن) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو (ہاجرہ) کو دے دیا۔ (حضرت سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور (ہاجرہ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی حضرت ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ اتِّخَاذِ السَّرَارِيِّ؛ومن اعتق جاريته ثم تزوجها؛لونڈی کو آزاد کرکے نکاح میں لانا؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ اتِّخَاذِ السَّرَارِيِّ؛ومن اعتق جاريته ثم تزوجها؛لونڈی کو آزاد کرکے نکاح میں لانا؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور یہی آزادی ان کا مہر قرار دیا گیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ مَنْ جَعَلَ عِتْقَ الأَمَةِ صَدَاقَهَا؛جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اگر وہ فقیر ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب۔(النور ٣٢) حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو حضور کے لیے پیش کردوں۔راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس (مہر کے لیے) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہبند ہے۔ انہیں (خاتون کو) اس میں سے آدھا دے دیجئیے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہبند کا کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔ کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ انہوں نے گن کر بتائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ تَزْوِيجِ الْمُعْسِرِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ}غریب سے شادی؛جلد٧ص٦،حدیث نمبر ٥٠٨٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا ہے آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی اور تمہارا رب قدرت والا ہے۔(فرقان ٥٤) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے منہ بولا بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور منہ بولا بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا۔ترجمہ کنز الایمان:انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد"(الاحزاب٥) تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے «مولى» اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ؛کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا؛جلد٧ص٧،حدیث نمبر ٥٠٨٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھ کو روک دے گا۔ اور (ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ؛کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا؛جلد٧ص٧،حدیث نمبر ٥٠٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔اس کے مال،اس کے حسب و نسب،اس کے حسن و جمال اور اس کے دین کی وجہ سے تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔تو دیندار کو حاصل کر۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ؛کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا؛جلد٧ص٧،حدیث نمبر ٥٠٩٠)
حضرت سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ ایک صاحب (جو مالدار تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا یہ روے زمین کے تمام غریبوں سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ؛کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩١)
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ترجمہ کنز الایمان؛اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے۔(النساء ٣)کے متعلق معلوم کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری کے سبب اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت «ويستفتونك في النساء» سے «وترغبون أن تنكحوهن» تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الْمَالِ، وَتَزْوِيجِ الْمُقِلِّ الْمُثْرِيَةَ؛کفائت میں مالداری کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا۔؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تمہاری کچھ بیبیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں۔(التغابن١٤) حمزہ اور سالم دونوں اپنے والد ماجد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست بیوی،گھر اور گھوڑا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ؛عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور لوگوں نے نحوست کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہے تو وہ گھر،عورت اور گھوڑا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ؛عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩٤)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نحوست کسی چیز میں ہے تو گھوڑا،عورت اور مکان میں ہوسکتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ؛عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩٥)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی فتنہ ایسا باقی نہیں رہا جو لوگوں کے لئے عورت کے فتنے سے زیادہ نقصان دہ ہو، (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ؛عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان؛جلد٧ص٨،حدیث نمبر ٥٠٩٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین مسئلےہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا (کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی (گوشت کی) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (چولہے پر) ہانڈی (گوشت کی) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ہم اسے کھا سکتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْحُرَّةِ تَحْتَ الْعَبْدِ؛آزاد عورت غلام کے نکاح میں؛جلد٧ص٩،حدیث نمبر ٥٠٩٧)
علی بن حسین کا بیان ہے کہ کہدو دو،تین تین اور چار چار مراد ہیں،ان کا مجموعہ مراد نہیں۔ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:دو دو اور تین تین اور چار چار۔(فاطر ١) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن خفتم أن لا، تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يَتَزَوَّجُ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ؛چار بیویوں سے زیادہ (بیک وقت) آدمی نہیں رکھ سکتا۔؛جلد٧ص٩،حدیث نمبر ٥٠٩٨)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جو رشتہ خون سے حرام ہوتا ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہوتا ہے۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک دودھ کے چچا کا نام لیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا فلاں، جو ان کے دودھ کے چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آ جا سکتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں،رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ}ترجمہ کنز الایمان:اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا؛جلد٧ص٩،حدیث نمبر ٥٠٩٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ آپ حضرت حمزہ کی صاحبزادی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ارشاد فرمایا۔وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔اسی طرح بشر بن عمر،شعبہ،قتادہ نے جابر بن یزید سے روایت کی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جو رشتہ خون سے حرام ہوتا ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہوتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ}ترجمہ کنز الایمان:اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا؛جلد٧ص٩،حدیث نمبر ٥١٠٠)
حضرت زینب بنت ابو سلمہ کا بیان ہے اور انہیں ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن (ابوسفیان کی لڑکی) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی (کہ تمہاری سوکن بہن بنے)؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی (غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ (جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں سخت عذاب میں ہوں ماسوائے اس کے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کے سبب مجھے پانی پلا دیا جاتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ}ترجمہ کنز الایمان:اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا؛جلد٧ص٩،حدیث نمبر ٥١٠١)
ترجمہ کنز الایمان:پورے برس اس کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے۔(بقرہ ٢٣٢)اور دودھ تھوڑا پیا ہو یا زیادہ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ میرا بھائی ہے۔فرمایا،یہ دیکھو بھلا تمہارے بھائی کون ہیں؟کیوں کہ رضاعت تو اس وقت ثابت ہوتی ہے جب بچہ صرف دودھ پر ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ مَنْ قَالَ لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ؛دو سال کی عمر کے بعد دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی؛جلد٧ص١٠،حدیث نمبر ٥١٠٢)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابو القعیس کے بھائی افلح نے اندر آنے کی اجازت مانگی جو ان کے رضاعی چچا لگتے تھے۔حضرت صدیقہ کا بیان ہے کہ میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جو میں نے کیا تھا وہ عرض کردیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ انہیں اجازت دے دینا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ؛جس مرد کا دودھ ہو وہ شیر خوار کا رضاعی باپ ہے؛جلد٧ص١٠،حدیث نمبر ٥١٠٣)
ایوب نے عبداللہ بن ابو ملیکہ سے روایت کی ہے کہ مجھ سے عبید بن ابو مریم نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت (ام یحییٰ بن ابی اہاب) سے نکاح کیا۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاں سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔“ (حدیث کے راوی) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کر کے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ شَهَادَةِ الْمُرْضِعَةِ؛دودھ پلانے والی کی شہادت؛جلد٧ص١٠،حدیث نمبر ٥١٠٤)
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجائے تو اس میں گناہ نہیں بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔(نساء ٢٣،٢٤) حضرت انس کا قول ہے کہ عورتوں میں سے آزاد اور خاوندوں والی عورتیں حرام ہیں،سوائے لونڈیوں کے۔اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی آدمی اپنی لونڈی کو اس کے غلام خاوند سے الگ کردے۔حکم خداوندی ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ آئیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ چار سے زیادہ بیویاں اسی طرح حرام ہیں جیسے آدمی کی بیٹی اور بہن۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سات رشتے نسب سے اور سات سسرال سے حرام ہیں،پھر انہوں نے سورہ نساء آیت نمبر ٢٣ پڑھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَحْرُمُ؛کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں؛جلد٧ص١٠،حدیث نمبر ٥١٠٥)
اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی (لیلٰی بنت مسعود) دونوں سے نکاح کیا،ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن علی نے ایک رات میں دو چچازاد بہنوں کو جمع کیا اور جابر بن زید تابعی نے قطع رحمی کے سبب اس کو مکروہ جانا مگر یہ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأحل لكم ما وراء ذلكم»(نساء ٢٤)کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں۔ اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی (سالی کی بہن) اس پر حرام نہ ہوگی۔ اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے، انہوں نے شعبی اور جعفر سے، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔ اور ابونصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابونصر کا حال معلوم نہیں۔ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں۔ اور عمران بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں (امام ثوری اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائےگی۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہوگی جب تک اس سے جماع نہ کرے اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی(اس کو رکھ سکتا ہے) اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی جبکہ یہ قول مرسل ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب مایحل من النساء وما یحرم؛جلد٧ص١٠) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ لفظ «دخول» اور «مسيس» اور «ماس» ان سب سے جماع ہی مراد ہے اور اس قول کا بیان کہ بیوی کی اولاد (مثلاً پوتی یا نواسی) بھی حرام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر نہ پیش کیا کرو تو بیٹیوں میں بیٹے کی بیٹی (پوتی) اور بیٹی کی بیٹی (نواسی) سب آ گئیں اور اس طرح بہوؤں میں پوت بہو (پوتے کی بیوی) اور بیٹیوں میں بیٹے کی بیٹیاں (پوتیاں) اور نواسیاں سب داخل ہیں اور بیٹی کی بیٹی ہر حال میں ربیبہ ہے خواہ خاوند کی پرورش میں ہو یا اور کسی کے پاس پرورش پاتی ہو، ہر طرح سے حرام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ربیبہ (زینب کو) جو ابوسلمہ کی بیٹی تھی ایک اور شخص (نوفل اشجعی) کو پالنے کے لیے دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حسن رضی اللہ عنہ کو اپنا بیٹا فرمایا۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو ابوسفیان کی صاحبزادی میں دلچسپی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں۔ فرمایا کیا تم اسے پسند کرو گی؟ میں نے عرض کیا میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں اور میں اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے (زینب سے) نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی کے پاس؟ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واہ واہ، اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی۔مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔لہٰذا میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔لیث نے ہشام کے واسطے سے بتایا کہ اس کا نام درہ بنت ابو سلمہ تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ: {وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو؛جلد٧ص١١،حدیث نمبر ٥١٠٦)
حضرت زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (غرہ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور مجھے اور کی شرکت سے اپنی نیک بہن کی شرکت زیادہ پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ (اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ:{وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ}دو سگی بہنوں کو جمع کرنا حرام ہے؛جلد٧ص١١،حدیث نمبر ٥١٠٧)
شعبی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی بھتیجی اور بھانجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔اسی طرح داؤد بن عون نے شعبی سے،انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا؛بیوی کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کرے؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ اس کی بھتیجی یا اس کی بھانجی کو جمع نہ کرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا؛بیوی کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کرے؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١٠٩)
قبیصہ بن ذویب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے نکاح کرے یا اس کی بھانجی سے۔پس ہم سسر کی خالہ کا بھی یہی حکم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جو نسب کی وجہ سے حرام ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا؛بیوی کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کرے؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے کے نکاح سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا اس سے نکاح کردے اور درمیان میں مہر نہ رکھا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الشِّغَارِ؛بدلے کا نکاح؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١١ و حدیث نمبر ٥١١٢ )
عروہ نے بیان کیا کہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کہ کیا عورت کو اپنا نفس مرد کے لیے ہبہ کرتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟۔ لپھر جب آیت «ترجئ من تشاء منهن»نازل ہوئی تو میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ!میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے اس حدیث کو ابوسعید (محمد بن مسلم)، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ هَلْ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لأَحَدٍ؛عورت کا اپنی جان شوہر کو ہبہ کرنا؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا جبکہ آپ حالت احرام میں تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ؛حالت احرام میں نکاح؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرما دیاتھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ آخِرًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں نکاح متعہ سے منع فرما دیا تھا؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١٥)
ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی کی وجہ سے ہوگی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔ (نوٹ: یہ حرمت سے قبل کی بات ہے بعد میں ہر حالت میں ہر شخص کے لیے متعہ حرام قرار دیا گیا جو قیامت تک کے لیے ہے) (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ آخِرًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں نکاح متعہ سے منع فرما دیا تھا؛جلد٧ص١٢،حدیث نمبر ٥١١٦)
حسن بن محمد حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔مجھے اجازت مل گئی ہے کہ تم متعہ کر سکتے ہو۔پس تم متعہ کر لیا کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ آخِرًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں نکاح متعہ سے منع فرما دیا تھا؛جلد٧ص١٣،حدیث نمبر ٥١١٧ و حدیث نمبر ٥١١٨)
سلمہ بن اکوع نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد اور عورت متعہ کر لیں اور کوئی مدت متعین نہ کریں تو (کم سے کم) تین دن، تین رات مل کر رہیں، پھر اگر وہ تین دن سے زیادہ اس متعہ کو رکھنا چاہیں یا ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے (سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ) مجھے معلوم نہیں یہ حکم صرف ہمارے (صحابہ) ہی کے لیے تھا یا تمام لوگوں کے لیے ہے ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس کے منسوخ ہونے کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت پیش کر کے واضح کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ آخِرًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں نکاح متعہ سے منع فرما دیا تھا؛جلد٧ص١٣،حدیث نمبر ٥١١٩)
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ اس کے پاس حیاء کی کس درجہ کمی ہے۔ہاے خرابی،ہاےخرابی،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِح؛عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لیے پیش کرنا؛جلد٧ص١٣،حدیث نمبر ٥١٢٠)
ابوحازم نے بیان کیا، ان سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ پھر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس (مہر کے لیے) کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہبند میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے۔حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہبند کا کیا کرے گی، اگر یہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے (اور جانے لگے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا، یا انہیں بلایا گیا (راوی کو ان الفاظ میں شک تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں، فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِح؛عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لیے پیش کرنا؛جلد٧ص١٣،حدیث نمبر ٥١٢١)
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کے متعلق سنا کہ جب (ان کی صاحبزادی) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا (اپنے شوہر) خنیس بن حذافہ سہمی کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں اور خنیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے لیے حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا۔ میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا۔ پھر مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی اور میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ رضی اللہ عنہا سے کر دوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کی اس بےرخی سے مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ سے بھی زیادہ رنج ہوا۔ کچھ دنوں تک میں خاموش رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شادی کر دی۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میرے سامنے پیش کیا تھا تو میرے اس پر میرے خاموش رہنے سے تمہیں تکلیف ہوئی ہو گی کہ میں نے تمہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ واقعی ہوئی تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے جو کچھ میرے سامنے رکھا تھا، اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ میرے علم میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں حفصہ کو اپنے نکاح میں لے آتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ عَرْضِ الإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ؛کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو نیک آدمی سے نکاح کے لیے پیش کرنا؛جلد٧ص١٤،حدیث نمبر ٥١٢٢)
زینب بنت ابو سلمہ کو حضرت ام حبیبہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی۔سنا ہے کہ آپ درہ بنت ابو سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا ام سلمہ کے ہوتے ہوئے؟اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ بھی کیا ہوتا تب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں کیوں کہ اس باپ میرا رضاعی بھائی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ عَرْضِ الإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ؛کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو نیک آدمی سے نکاح کے لیے پیش کرنا؛جلد٧ص١٤،حدیث نمبر ٥١٢٣)
اضمرتم وكل شيء صنته واضمرته فهو مكنون. «أكننتم» بمعنی «اضمرتم» ہے یعنی ہر وہ چیز جس کی حفاظت کرو اور دل میں چھپاؤ وہ «مكنون» کہلاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدام نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے مجاہد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «فيما عرضتم» کی تفسیر میں کہا کہ آدمی یوں کہے کہ میں بھی نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک عورت میسر آ جائے۔ قاسم بن محمد نے کہا کہ تم تو مجھ پر مہربان ہو اور مجھے تو تم پسند ہو اور بےشک اللہ تمہارے لیے بہتر کرنے والا ہے اور ایسے ہی الفاظ۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ تعریض و کنایہ سے کہے۔ صاف صاف نہ کہے (مثلاً) کہے کہ مجھے نکاح کی ضرورت ہے اور تمہیں بشارت ہو اور اللہ کے فضل سے اچھی ہو اور عورت اس کے جواب میں کہے کہ تمہاری بات میں نے سن لی ہے (بصراحت) کوئی وعدہ نہ کرے ایسی عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ حسن نے کہا کہ «لا تواعدوهن سرا» سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ «الكتاب أجله» سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ: {وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ} الآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورٌ حَلِيمٌ}؛اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں معروف ہے اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے؛جلد٧ص١٤،حدیث نمبر ٥١٢٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ(نکاح سے پہلے)میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام)ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے خود ہی پورا کر دے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ؛نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا؛جلد٧ص١٤،حدیث نمبر ٥١٢٥)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور نظر اٹھا کر دیکھا، پھر نظر نیچی کر لی اور سر کو جھکا لیا۔ جب خاتون نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو بیٹھ گئیں۔ اس کے بعد آپ کے صحابہ میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آکر عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دیکھ لو،اگر ایک لوہے کی انگوٹھی بھی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہبند ہے۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی (اس صحابی نے کہا کہ) ان خاتون کو اس تہبند میں سے آدھا عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صاحب بیٹھ گئے اور دیر تک بیٹھے رہے پھر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلانے کے لیے فرمایا، انہیں بلایا گیا۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس قرآن مجید کتنا آتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے ان سورتوں کو گنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھ لیتے ہو۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا جاؤ میں نے تمہارے قرآن کریم کے سبب تمہیں اس کا مالک بنا دیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ؛نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا؛جلد٧ص١٥،حدیث نمبر ٥١٢٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تو اے عورتوں کے والیوں انہیں نہ روکو۔(بقرہ٢٣٥)پس اس میں خاوند دیدہ اور کنواری دونوں داخل ہے اور فرمایا کہ مشرکوں کے ساتھ نکاح نہ کرواؤ جب تک ایمان نہ لائے اور فرمایا ترجمہ کنز الایمان:اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں۔(نور ٣٢) عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح سے ہوتے تھے۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے نفع کو اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے چھوتا بھی نہیں۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی، تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح ”استبضاع“ کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان تمام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے اور وہ ان سے کہتی کہ جو تمہارا معاملہ تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور اب میں نے یہ بچہ جنا ہے۔ پھر وہ کہتی کہ اے فلاں! یہ بچہ تمہارا ہے۔ وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا، وہ شخص اس سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا نکاح اس طور پر تھا کہ بہت سے لوگ کسی عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو روکتی نہیں تھی۔ یہ کسبیاں ہوتی تھیں۔ اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے۔ جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جاتا، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ پھر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ مبعوث ہوے تو آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ؛بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا؛جلد٧ص١٥،حدیث نمبر ٥١٢٧)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے آیت کریمہ ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں کہ تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو۔(النساء ١٢٧)کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کسی شخص کی پرورش میں ہو۔ ممکن ہے کہ اس کے مال و جائیداد میں بھی شریک ہو، وہی لڑکی کا زیادہ حقدار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میں حصہ دار بنے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ؛بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا؛جلد٧ص١٥،حدیث نمبر ٥١٢٨)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں۔ ابن حذافہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکاح نہ کروں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ؛بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا؛جلد٧ص١٥،حدیث نمبر ٥١٢٩)
حضرت حسن بصری نے آیت «فلا تعضلوهن» کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن» کہ ”تم عورتوں کو مت روکو“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ؛بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا؛جلد٧ص١٦،حدیث نمبر ٥١٣٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا اور سب سے قریب کے رشتہ دار اس عورت کے وہی تھے۔آخر انہوں نے ایک اور شخص (عثمان بن ابی العاص) سے کہا، اس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے ام حکیم بنت قارظ سے کہا کیا تم مجھے اپنا اختیار دیتی ہو؟اس نے کہا ہاں۔ عبدالرحمٰن نے کہا تو میں نے خود تجھ سے نکاح کیا۔ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا دو گواہوں کے سامنے اس عورت سے کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا یا عورت کے کنبہ والوں میں سے (گو دور کے رشتہ دار ہوں) کسی کو مقرر کر دے (وہ اس کا نکاح پڑھا دے) اور سہل بن سعد ساعدی نے روایت کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اپنا نفس آپ کو پیش کرتی ہوں، اس میں ایک شخص کہنے لگایا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئیے۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت ترجمہ کنز الایمان:اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے۔(نساء ١٢٧)آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو۔ وہ مرد اس کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ هُوَ الْخَاطِبَ؛اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے؛جلد٧ص١٦،حدیث نمبر ٥١٣١)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر اوپر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، تمہیں قرآن مجید کچھ آتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح قرآن کریم جاننے کے سب تمہیں اسے نکاح میں دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ هُوَ الْخَاطِبَ؛اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی۔(طلاق ٤) بالغ ہونے سے پہلے عدت تین مہینے ہے۔ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی۔جب ان سے خلوت کی گئی تو عمر نوسال تھی اور یہ آپ کے پاس نو سال رہی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ؛اپنے چھوٹے بچے کا نکاح کر دینا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٣)
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حفصہ کے لیے پیغام دیا تو میں نے اس کا آپ سے نکاح کردیا۔ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی۔جب ان سے خلوت فرمائی تو عمر نوسال تھی ہشام کا بیان ہے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ آپ کے پاس نو سال رہی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الأَبِ ابْنَتَهُ مِنَ الإِمَامِ؛اگر باپ اپنی بیٹی کا نکاح امام سے کرے؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٤)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے قرآن جاننے کے سبب میں نے اسے تمہارے نکاح میں دیا۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہبند کے سوا اور کچھ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہبند اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کے لیے تہبند بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی! اسے وہ بھی نہیں ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہیں کچھ قرآن مجید آتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حفصہ کے لیے پیغام دیا تو میں نے اس کا آپ سے نکاح کردیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ السُّلْطَانُ وَلِيٌّ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ؛بادشاہ کا ولی ہونا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔لوگ عرض گزار ہوے۔یا رسول اللہ!کنواری کی اجازت کیسے معلوم ہو؟فرمایا۔اگر پوچھنے پر وہ خاموش ہوجاے تو یہ اجازت ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يُنْكِحُ الأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالثَّيِّبَ إِلاَّ بِرِضَاهَا؛بالغہ اور شوہر دیدہ کا اس کی رضامندی سے نکاح کرنا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں عرض گزار ہوئیں۔یارسول اللہ!کنواری لڑکی تو اجازت دینے سے شرماتی ہے۔فرمایا اس کا خاموش ہوجانا ہی اجازت دینا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يُنْكِحُ الأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالثَّيِّبَ إِلاَّ بِرِضَاهَا؛بالغہ اور شوہر دیدہ کا اس کی رضامندی سے نکاح کرنا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٧)
یزید بن جاریہ کے دونوں صاحبزادوں یعنی عبد الرحمن اور مجمع نے حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ یہ شوہر دیدہ تھیں اور اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں۔پس یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں۔آپ نے فرمایا کہ وہ نکاح نہیں ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهْيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ؛بیٹی اگر ناراض ہو تو نکاح نہیں ہوا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٨)
عبد الرحمن بن یزید اور مجمع بن یزید دونوں کا بیان ہے کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا۔ آگے گزشتہ حدیث کے مطابق بیان کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهْيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ؛بیٹی اگر ناراض ہو تو نکاح نہیں ہوا؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٣٩)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ۔(نساء ٣)اور جب کوئی ولی سے کہے کہ فلاں عورت کا نکاح میرے ساتھ کر دیجئے تو وہ کچھ دیر خاموش رہے یا پوچھے کہ تمہارے پاس کیا ہے؟پس وہ کہے کہ میرے پاس فلاں فلاں چیزیں ہیں یا دونوں رکے ہیں پھر ولی کہے کہ میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ کر دیا تو یہ جائز ہے۔ حضرت سہل نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین! اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟ «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے۔“ «ما ملكت أيمانكم» تک۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں (اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو انہیں ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ويستفتونك في النساء» ”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ سے «وترغبون» تک نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مند یا خوبصورت نہیں ہوتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر دیتے ہیں (یہ کیا بات) ان کو چاہئے کہ جیسے مال و دولت اور حسن و جمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو نکاح کر لیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ؛یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا؛جلد٧ص١٨،حدیث نمبر ٥١٤٠)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت کو کچھ دو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا قرآن مجید جاننے کے سبب۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا قَالَ الْخَاطِبُ لِلْوَلِيِّ زَوِّجْنِي فُلاَنَةَ. فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ بِكَذَا وَكَذَا. جَازَ النِّكَاحُ، وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِلزَّوْجِ أَرَضِيتَ أَوْ قَبِلْتَ: باب: اگر کسی مرد نے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو، اس نے کہا میں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر راضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں؟؛جلد٧ص١٧،حدیث نمبر ٥١٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ؛اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے،حتیٰ کہ پہلا منگنی کا ارادہ ترک کر دے یا اسے پیغام بھیجنے کی اجازت دے؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ؛اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے،حتیٰ کہ پہلا منگنی کا ارادہ ترک کر دے یا اسے پیغام بھیجنے کی اجازت دے؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٣)
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ بھیجے،حتیٰ کہ وہ نکاح کرلے یا ارادہ ترک کر دے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ؛اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے،حتیٰ کہ پہلا منگنی کا ارادہ ترک کر دے یا اسے پیغام بھیجنے کی اجازت دے؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہےاور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ارادے کو ترک فرما دیتے تو میں منظور کرلیتا۔ اسی طرح یونس،موسیٰ بن عقبہ ابن ابی عتیق نے زہری سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ تَفْسِيرِ تَرْكِ الْخِطْبَةِ؛منگنی چھوڑنا؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٥)
زید بن اسلم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مشرق کی طرف سے دو شخص آے اور انہوں نے خطبہ دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک بعض تقریریں سحر انگیز ہوتی ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الخطبۃ؛خطبہ دینا؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٦)
خالد بن ذکوان نے بیان کیا،کہ حضرت ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میرے پاس جب میری رخصتی ہوئی اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ ضَرْبِ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ وَالْوَلِيمَةِ؛نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا؛جلد٧ص١٩،حدیث نمبر ٥١٤٧)
اور زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنا مہر جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔(نساء ٢٠) اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یا کوئی مہر مقرر کر لیا ہو۔(بقرہ ٢٣٦) اور اس کے بارے میں حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے کے مہر پر) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی علامات ملاحظہ فرمائیں تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً}:؛جلد٧ص٢٠،حدیث نمبر ٥١٤٨)
ابوحازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں اب جو آپ کی مرضی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے اب آپ کی مرضی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا،اب آپ کی مرضی۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ۔ وہ گئے اور تلاش کیا، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ التَّزْوِيجِ عَلَى الْقُرْآنِ وَبِغَيْرِ صَدَاقٍ؛بغیر مہر قرآن پڑھنے پر نکاح کردینا؛جلد٧ص٢٠،حدیث نمبر ٥١٤٩)
ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا۔نکاح کرو خواہ ایک لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ الْمَهْرِ بِالْعُرُوضِ وَخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ؛لوہے کی انگوٹھی بھی مہر ہوسکتی ہے؛جلد٧ص٢٠،حدیث نمبر ٥١٥٠)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حقوق کی ادائیگی شرائط پوری کرنے پر موقوف ہے۔حضرت مسور کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور سسرال کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اسکی تعریف فرمائی۔فرمایا کہ اس نے جو کہا وہ سچ کر دکھایا،جو وعدہ کیا اسے وفا کیا۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے ان میںسے ان شرائط کا پورا کرنا اور بھی ضروری ہے جن کے سبب تمہارے شرمگاہیں حلال ہوتی ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ؛نکاح کی شرطیں؛جلد٧ص٢٠،حدیث نمبر ٥١٥١)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنی بہن کی طلاق شرط نہ لگائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی عورت کے لیے اپنے مسلمان بہن کی طلاق کا سوال کرنا جائز نہیں ہے تاکہ اس کا حصہ بھی اسی کو مل جائے حالانکہ اس کو وہی ملے گا جو اس کی تقدیر میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ الشُّرُوطِ الَّتِي لاَ تَحِلُّ فِي النِّكَاحِ؛وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں؛جلد٧ص٢٠،حدیث نمبر ٥١٥٢)
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنی بہن کی طلاق شرط نہ لگائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الصُّفْرَةِ لِلْمُتَزَوِّجِ؛شادی کرنے والے کے لیے زرد رنگ کا جواز۔؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ (کھانے سے فراغت کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا (کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب......؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ كَيْفَ يُدْعَى لِلْمُتَزَوِّجِ؛دولہا کو کس طرح دعا دی جائے؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے نکاح فرمایا تو میری والدہ(ام رومان بنت عامر)میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔انہوں نے (مجھ کو اور میری ماں کو) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» ”۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلنِّسَاءِ اللاَّتِي يَهْدِينَ الْعَرُوسَ، وَلِلْعَرُوسِ؛جو عورتیں دولہن کو بناؤ سنگھار کر کے دولہا کے گھر لائیں ان کو اور دولہن کو کیونکر دعا دیں؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی نے غزوہ کیا اور (غزوہ سے پہلے) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کی ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ مَنْ أَحَبَّ الْبِنَاءَ قَبْلَ الْغَزْوِ؛جہاد میں جانے سے پہلے نئی دولہن سے صحبت کر لینا بہتر ہے تاکہ دل اس میں لگا نہ رہے؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٧)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ مَنْ بَنَى بِامْرَأَةٍ وَهْيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کنیز ہی رکھا ہے(کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ کنیز کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ الْبِنَاءِ فِي السَّفَرِ؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٥٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح فرمایا۔میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے صحبت فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْبِنَاءِ بِالنَّهَارِ بِغَيْرِ مَرْكَبٍ وَلاَ نِيرَانٍ؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٦٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم نمدے تیار کر لئے ہیں؟میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ!ہمارے پاس نمدے کہاں۔فرمایا۔جلد تمہارے پاس ہوں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الأَنْمَاطِ وَنَحْوِهَا لِلنِّسَاءِ:عورتوں کے لیے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھانا جائز ہے؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٦١)
عروہ بن زبیر،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کا نکاح کسی انصاری شخص کے ساتھ کروایا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عائشہ!تمہارے پاس تو بچیوں کے بجانے کے لیے کوئی چیز نہیں جبکہ انصار طرب کو پسند کرتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي يَهْدِينَ الْمَرْأَةَ إِلَى زَوْجِهَا؛وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٦٢)
ابوعثمان کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں (جو بصرہ میں ہے) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے (وہ آپ کی رضاعی خالہ تھیں)۔ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم (میری ماں) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا۔پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ (رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا (اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوگی) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور (زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ترجمہ کنز الایمان!”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے۔“(احزاب ٥٣) ابوعثمان نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی دس سالسعادت حاصل کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْهَدِيَّةِ لِلْعَرُوسِ؛دلہن کو تحائف بھیجنا؛جلد٧ص٢١،حدیث نمبر ٥١٦٣)
عروہ بن زبیر،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (اپنی بہن) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا (اور پانی نہیں تھا) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ سے اس کے متعلق عرض کی۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے کیونکہ خدا کی قسم آپ کی وجہ سے کوئی تکلیف ایسی نہیں آئی مگر اللہ نے اس کے ذریعے آسانی فرمادی اور اسے مسلمانوں کے لیے باعث برکت بنا دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا؛دلہن کے پہننے کے لیے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا؛جلد٧ص٢٣،حدیث نمبر ٥١٦٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو (اولاد) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ؛جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے؛جلد٧ص٢٣،حدیث نمبر ٥١٦٥)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو میری عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے خلوت فرمائی۔ پھر آپ نے لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں(کھانے کے بعد بھی) دیر تک وہیں بیٹھے (باتیں کرتے رہے) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ الْوَلِيمَةُ حَقٌّ؛ولیمہ کرنا اچھی بات ہے؛جلد٧ص٢٣،حدیث نمبر ٥١٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ؛ولیمہ ہو خواہ ایک بکری سے ہو؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٦٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کا ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا حضرت زینب کا کیا تھا۔یہ ولیمہ آپ نے بکری سے کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ؛ولیمہ ہو خواہ ایک بکری سے ہو؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٦٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ حیس سے کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ؛ولیمہ ہو خواہ ایک بکری سے ہو؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٦٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ خلوت فرمائی تو آپ نے مجھے بھیجا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلا لاؤں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ؛ولیمہ ہو خواہ ایک بکری سے ہو؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧٠)
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر ہوا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تو انہوں فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کا ایسا ولیمہ نہیں دیکھا جیسا ان کا کیا تھا۔ان کا ایک بکری کے ساتھ ولیمہ کیا گیا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ؛ایک بیوی کا ولیمہ دوسری بیوی سے زیادہ کرنا؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧١)
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کچھ ازواج مطہرات کا ولیمہ دو مد جو کے ساتھ کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَوْلَمَ بِأَقَلَّ مِنْ شَاةٍ؛ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧٢)
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کا دو روز کی مدت متعین نہیں فرمائی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جاے تو اسے چاہئے کہ چلا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ،ومن اولم سبعة ايام ونحوه؛دعوت ولیمہ قبول کرنی چاہیے،سات دن تک ولیمہ کرنے کا حکم؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧٣)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیدی کو چھڑایا کرو،دعوت کرنے والو کی دعوت کو قبول کیا کرو اور بیمار کی عیادت کیا کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ،ومن اولم سبعة ايام ونحوه؛دعوت ولیمہ قبول کرنی چاہیے،سات دن تک ولیمہ کرنے کا حکم؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے (یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے کہنا) قسم کو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا تھا اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن استعمال کرنے، ریشمی گدے، قسیہ (ریشمی کپڑا) استبرق (موٹے ریشم کا کپڑا) اور دیباج (ایک ریشمی کپڑا) کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔ ابوعوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ «إفشاء السلام.» میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ،ومن اولم سبعة ايام ونحوه؛دعوت ولیمہ قبول کرنی چاہیے،سات دن تک ولیمہ کرنے کا حکم؛جلد٧ص٢٤،حدیث نمبر ٥١٧٥)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ابو سید ساعدی نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا اور اس دن ان کی اہلیہ حالت عروسی میں ان کی خدمت کر رہی تھیں۔حضرت سہل نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہلایا تھا۔اس نے رات کے وقت آپ کے لیے کھجوریں بھگو دی تھیں۔جب آپ کھانا تناول فرما چکے تو اس نے آپ کو وہی شیرہ پلایا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ،ومن اولم سبعة ايام ونحوه؛دعوت ولیمہ قبول کرنی چاہیے،سات دن تک ولیمہ کرنے کا حکم؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے برا ولیمہ کا وہ کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت کو ترک کرے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ؛جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے سری کھانے کی دعوت دی جاتی تو میں قبول کرلیتا اور اگر مجھے سری کا ہدیہ دیا جاتا تو میں قبول کرلیتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ؛جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٧٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تمہاری دعوت کی جائے تو قبول کر لیا کرو۔ان کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزہ دار ہونے کے باوجود شادی وغیرہ کی دعوتوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ؛بَابُ إِجَابَةِ الدَّاعِي فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِهَا؛شادی وغیرہ کی دعوت قبول کرنا؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٧٩)
عبد العزیز بن صہیب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عورتوں اور بچوں کو دعوت ولیمہ سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ خوشی میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا خدا گواہ ہے کہ تم مجھے لوگوں میں سب سے محبوب ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ؛بَابُ ذَهَابِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ إِلَى الْعُرْسِ؛دعوت ولیمہ میں عورتوں اور بچوں کو لے جانا؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٨٠)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ولیمے والے گھر میں) ایک تصویر دیکھی تو وہ واپس آ گئے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ ابوایوب رضی اللہ عنہ کی دعوت کی (ابوایوب رضی اللہ عنہ نے) ان کے گھر میں دیوار پر پردہ پڑا ہوا دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (معذرت کرتے ہوئے) کہا کہ عورتوں نے ہم کو مجبور کر دیا ہے۔ اس پر ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اور لوگوں کے متعلق تو مجھے اس کا خطرہ تھا لیکن تمہارے متعلق میرا یہ خیال نہیں تھا (کہ تم بھی ایسا کرو گے) واللہ! میں تمہارے یہاں کھانا نہیں کھاؤں گا چنانچہ وہ واپس آ گئے قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھ لیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا یہاں کیسے آیا؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے (بنانے والوں کو) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویر سازی کی ہے اسے زندہ بھی کرو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ان میں (رحمت کے) فرشتے نہیں آتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ؛بَابُ هَلْ يَرْجِعُ إِذَا رَأَى مُنْكَرًا فِي الدَّعْوَةِ؛اگر دعوت میں جا کر وہاں کوئی کام خلاف شرع دیکھے تو لوٹ آئے؛جلد٧ص٢٥،حدیث نمبر ٥١٨١)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو اسید ساعدی کی شادی ہوئی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی دعوت کی۔ان کی دلہن نے ہی کھانا تیار کیا انہوں نے ہی مہمانوں کے سامنے پیش کیا اور ام اسید نے رات کے وقت پتھر کے ایک پیالے میں کچھ کھجور بھگودی تھیں۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما چکے تو اس نے وہ شیرہ ایک برتن میں نکال کر نوش فرمانے کے لئے آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛قِيَامِ الْمَرْأَةِ عَلَى الرِّجَالِ فِي الْعُرْسِ وَخِدْمَتِهِمْ بِالنَّفْسِ؛دلہن کا مہمان نوازی کرنا؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٢)
ابو حازم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب ابو اسید ساعدی نے اپنی شادی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی۔اس دن ان کی بیوی نے مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ وہ عروسی لباس میں تھیں۔ان کی بیوی یا ابو اسید نے کہا۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا چیز تیار کی تھی؟میں نے رات ہے وقت ایک پیالے میں آپ کے لیے کھجوریں بھگو دی تھیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ النَّقِيعِ وَالشَّرَابِ الَّذِي لاَ يُسْكِرُ فِي الْعُرْسِ؛دعوت میں نشہ نہ لانے والا شیرہ پلانا؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پسلی کی مثل ہے۔اگر اسے سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی،اگر اسی طرح اس کے ساتھ فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھا سکتے ہو ورنہ اس کے اندر ٹیڑھا پن موجود ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْمُدَارَاةِ مَعَ النِّسَاءِ،وقول النبي صلى الله عليه وسلم:" إنما المراة كالضلع"؛عورتوں کی ناز برداری کرنا:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عورت پسلی کی مثل ہے۔؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٤)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَصَاةِ بِالنِّسَاءِ؛عورتوں کے بارے میں وصیت؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٥)
اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں میری وصیت قبول کرو اور سب سے اوپر والی پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے،اگر تم اسے سیدھا کرنے چلو گے تو توڑ ڈالو گے اور اس کے حال پر چھوڑے رہو گے تب بھی ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَصَاةِ بِالنِّسَاءِ؛عورتوں کے بارے میں وصیت؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم عورتوں کے ساتھ زیادہ باتیں کرنے اور دل لگی کرنے سے بچتے تھے کہ کہیں ہمارے متعلق کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ کا وصال ہوگیا تو ہم ان کے ساتھ دل لگی اور باتیں کرنے لگے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَصَاةِ بِالنِّسَاءِ؛عورتوں کے بارے میں وصیت؛جلد٧ص٢٦،حدیث نمبر ٥١٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے (اس کی رعیت کے بارے میں) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا}؛اپنے بیوی بچوں کو آگ سے بچاؤ؛جلد٧ص٢٧،حدیث نمبر ٥١٨٨)
عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں (اس میں اتنے عیب ہیں) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ (لمبا تڑنگا) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر (بہادر) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں (کہ وہ کہاں گئی؟) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ ہو کر سو جاتا ہے نہ مجھے چھوتا ہے اور نہ کبھی میرا دکھ درد معلوم کرتا ہے۔ ساتویں عورت میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں ذرا سی بات پر سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ (غریبوں کو خوب کھلاتا ہے) لوگ جہاں مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں (میری ساس) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری (تابع فرمان اطاعت گزار) کپڑا بھر پور پہننے والی (موٹی تازی) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی (گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ (صبح ہی صبح) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتے کی طرح تھے جو اس کے بغل میں پستانوں سے کھیلتے ہوئے دودھ پی رہے تھے۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے لیے اسی طرح ہوں جیسے ام ذرع کے لیے ابو ذرع تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ الأَهْلِ؛اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا؛جلد٧ص٢٧،حدیث نمبر ٥١٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی اپنے ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے چھپا لیا اور میں ان کا کھیل دیکھتی رہی،حتیٰ کہ اپنی مرضی سے گئی۔اس سے سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کتنی دیر تک کھیل کود دیکھ سکتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ الأَهْلِ؛اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا؛جلد٧ص٢٨،حدیث نمبر ٥١٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ہم نے (عوالی سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف لائے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی پلٹ کر جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی۔ خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا۔ ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا) میں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا۔ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو۔ غلام اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو۔ اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔ میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا۔ اللہ اکبر۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے، دھوکا میں مت رہنا۔ ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی۔ سوا تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ رضی اللہ عنہانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہہ دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا اور انتیسویں رات گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «تخير» نازل کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے(اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا)تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَوْعِظَةِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا؛باپ کی خاوند کے متعلق بیٹی کو نصیحت؛جلد٧ص٢٨ تا ٣٠،حدیث نمبر ٥١٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شوہر کی موجودگی میں کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ صَوْمِ الْمَرْأَةِ بِإِذْنِ زَوْجِهَا تَطَوُّعًا؛شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے؛جلد٧ص٣٠،حدیث نمبر ٥١٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاے لیکن وہ آنے سے انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا؛بیوی کا خاوند کے بستر پر آنے سے انکار کرنا؛جلد٧ص٣٠،حدیث نمبر ٥١٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عورت اپنے خاوند کے بستر پر آنے سے انکار کردے تو اس پر فرشتوں کی لعنت ہوتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا؛بیوی کا خاوند کے بستر پر آنے سے انکار کرنا؛جلد٧ص٣٠،حدیث نمبر ٥١٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے اور عورت کسی کو اس کے گھر میں اس کی مرضی کے بغیر آنے کی اجازت نہ دے اور عورت جو کچھ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی صریح اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اس کے ایک حصے کی ذمہ دار ہوگی اس حدیث کو ابوالزناد نے موسیٰ بن ابی عثمان سے بھی اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اور اس میں صرف روزہ کا ہی ذکر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ تَأْذَنُ الْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا لأَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ؛بیوی کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے مگر خاوند کی اجازت سے؛جلد٧ص٣٠،حدیث نمبر ٥١٩٥)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی۔ مالدار (جنت کے دروازے پر حساب کے لیے) روک لیے گئے تھے البتہ جہنم والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیا تھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ تَأْذَنُ الْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا لأَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ؛بیوی کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے مگر خاوند کی اجازت سے؛جلد٧ص٣٠،حدیث نمبر ٥١٩٦)
عشیر خاوند کو کہتے ہیں جو ساتھی ہے اور عشیر مشتق ہے معاشرہ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ اس کی نماز پڑھی۔ آپ نے بہت لمبا قیام کی اتنا طویل کہ سورۃ البقرہ پڑھی جا سکے پھر طویل رکوع کیا۔ رکوع سے سر اٹھا کر بہت دیر تک قیام کیا۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر آپ نے دوسرا طویل رکوع کیا۔ یہ رکوع طوالت میں پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوبارہ قیام کیا اور بہت دیر تک حالت قیام میں رہے۔ یہ قیام پہلی رکعت کے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر طویل رکوع کیا، یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا۔ پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر رکوع کیا، طویل رکوع۔ اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو گرہن ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت یا کسی کی حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ سے کوئی چیز بڑھ کر لی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ ہم سے ہٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تھی یا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راوی کو شک تھا) مجھے جنت دکھائی گئی تھی۔ میں نے اس کا خوشہ توڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا اور اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے دوزخ دیکھی آج کا اس سے زیادہ ہیبت ناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ اس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور ان کے احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ زندگی بھر بھی حسن سلوک کا معاملہ کرو پھر بھی تمہاری طرف سے کوئی چیز اس کے لیے ناگواری خاطر ہوئی تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تم سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ كُفْرَانِ الْعَشِير؛خاوند کی ناشکری؛جلد٧ص٣١،حدیث نمبر ٥١٩٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب میں جنت کی طرف نکلا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اس میں اکثر مفلس لوگ ہیں اور جب میں دوزخ کی طرف نکلا تو دیکھا کہ اس میں اکثر عورتیں ہیں۔اسی طرح ایوب اور اسلم بن زریر نے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ كُفْرَانِ الْعَشِيرِ؛جلد٧ص٣١،حدیث نمبر ٥١٩٨)
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ!مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم (روزانہ) دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور بغیر روزے بھی رہو۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ؛بیوی کا شوہر پر حق؛جلد٧ص٣١،حدیث نمبر ٥١٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر (حاکم) ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ الْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا؛بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔(نساء ٣٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک الگ رہے اور اپنے ایک بالاخانہ میں قیام کیا۔ پھر آپ انتیس دن کے بعد گھر میں تشریف لائے تو کہا گیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے عہد کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس (29) کا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠١)
معاویہ بن حیدہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ماسوائے اس کے کہ گھر نہ جائے لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے۔ عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ام المومنین حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک واقعہ کی وجہ سے) قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح کے وقت گئے یا شام کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فِي غَيْرِ بُيُوتِهِنَّ؛خاوند کا اپنی بیویوں کے گھروں میں جانا؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک دن صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رو رہی تھیں، ہر زوجہ مطہرہ کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے۔ مسجد کی طرف گیا تو وہ بھی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اوپر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کمرہ میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر سلام کیا اور اس مرتبہ بھی کسی نے جواب نہیں دیا۔ تو آواز دی (بعد میں اجازت ملنے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ایک مہینہ تک ان سے الگ رہنے کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک الگ رہے اور پھر اپنے بیویوں کے پاس گئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فِي غَيْرِ بُيُوتِهِنَّ؛خاوند کا اپنی بیویوں کے گھروں میں جانا؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:"اور انہیں مارو"نساء٣٤) ضرب غیر شدید۔ حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو لونڈی غلاموں کی طرح نہ مارے پیٹے کہ پھر دن ختم ہو تو اس سے مجامعت کرنے بیٹھ جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ؛عورتوں کو مارنا مکروہ ہے؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لاَ تُطِيعُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي مَعْصِيَةٍ؛عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے؛جلد٧ص٣٢،حدیث نمبر ٥٢٠٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت ترجمہ کنز الایمان:"اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ کرے۔(نساء ١٢٨)۔“ کے متعلق فرمایا کہ آیت میں ایسی عورت کا بیان ہے جو کسی مرد کے پاس ہو اور وہ مرد اسے اپنے پاس زیادہ نہ بلاتا ہو بلکہ اسے طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے بجائے دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہو لیکن اس کی موجودہ بیوی اس سے کہے کہ مجھے اپنے ساتھ ہی رکھو اور طلاق نہ دو۔ تم میرے سوا کسی اور سے شادی کر سکتے ہو، میرے خرچ سے بھی تم آزاد ہو اور تم پر باری کی بھی کوئی پابندی نہیں تو اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں «فلا جناح عليهما أن يصالحا بينهما صلحا والصلح خير» کہ ”پس ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔“(نساء ١٢٨) (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛ بَابُ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا}اگر بیوی خاوند کی زیادتی اور بے رغبتی کا اندیشہ رکھے؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢٠٦)
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم عزل کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْعَزْلِ؛عزل کا حکم کیا ہے؟؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢٠٧)
عطاء کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب قرآن نازل ہورہا تھا تو ہم عزل کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْعَزْلِ؛عزل کا حکم کیا ہے؟؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢٠٨)
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم عزل کیا کرتے تھے حالانکہ قرآن مجید نازل ہو رہا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْعَزْلِ؛عزل کا حکم کیا ہے؟؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢٠٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں کچھ قیدی ہاتھ آے تو ہم عزل کیا کرتے تھے۔ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے تین دفعہ فرمایا۔تم ایسا کرتے ہو؟ایسی روح نہیں جو قیامت تک آنے والی ہو مگر وہ ضرور آکر رہے گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْعَزْلِ؛عزل کا حکم کیا ہے؟؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢١٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج مطہرات کے مابین قرعہ ڈالتے۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام نکلا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت معمولاً چلتے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے۔ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر،آپ مجھے دیکھتی رہیں اور میں آپ کو دیکھتی رہوں گی۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور (ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر) سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے اونٹ کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، پھر چلتے رہے، جب پڑاؤ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں (اس غلطی پر عائشہ کو اس درجہ رنج ہوا کہ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المؤمنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈال لیے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھ کو ڈس لے کیوں کہ میں ایک لفظ شکایتا بھی حضور سے کہنے کی جرت نہیں رکھتی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْقُرْعَةِ بَيْنَ النِّسَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا؛سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لیے قرعہ ڈالنا؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢١١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں خود ان کی باری کے دن اور سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا مِنْ زَوْجِهَا لِضَرَّتِهَا وَكَيْفَ يُقْسِمُ ذَلِكَ؛عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے؟؛جلد٧ص٣٣،حدیث نمبر ٥٢١٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو چاہے کتنی ہی حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو اَدھر میں لٹکتی چھوڑ دو اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہےاور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گااور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے۔(نساء ١٢٨،١٢٩) (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْعَدْلِ بَيْنَ النِّسَاءِ؛بیویوں کے درمیان انصاف کرنا؛جلد٧ص٣٣) ابو قلابہ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو کہ سکتا ہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے لیکن میں یہی کہتا ہوں کہ سنت یہ ہے کہ جب کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات روز رہے اور جب شوہر دیدہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن رہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ؛شوہر دیدہ کی موجودگی میں کنواری لڑکی سے نکاح کرنا؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سنت یہ کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ؛کنواری کی موجودگی میں ثیبہ سے نکاح کرنا؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٤)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان دنوں آپ کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ؛جو ایک غسل سے اپنی بیویوں کے پاس جاے؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٥) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر سے فارغ ہو کر اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور ہر ایک کے پاس کچھ قیام فرمایا لیکن جب آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو ان کے پاس نسبتاً کچھ زیادہ دیر ٹھہرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ دُخُولِ الرَّجُلِ عَلَى نِسَائِهِ فِي الْيَوْمِ؛ایک دن میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جانا؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وصال میں دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو حضرت عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں وصال ظاہری فرمائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وصال فرمایا جو میری باری کا دن تھا آپ کا وصال میرے گھر میں ہوا،اس وقت آپ میری گود میں گلے اور سینے کے درمیان لگے ہوے تھے اور اللہ نے میرا اور آپ کا لعاب دہن بھی ملا دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الرَّجُلُ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ بَعْضِهِنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ؛بیمار اپنی بیویوں کی اجازت سے ایک بیوی کے پاس رہ سکتا ہے؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت حفصہ کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے بیٹی!تم اسے دیکھ کر دھوکا نہ کھا جانا جس کا حسن و جمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آگیا ہے اور آپ اسے محبت رکھتے ہیں۔ان کی مراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھی۔جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کی تو آپ تبسم فرمانے لگے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ؛خاوند کا کسی بیوی سے زیادہ محبت کرنا ؛جلد٧ص٣٤،حدیث نمبر ٥٢١٨)
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری سوکن ہے اگر میں اسے اس سے زیادہ نان و نفقہ بتایا کروں جو میرا خاوند مجھے دیتا ہے تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی (دوسروں کے کپڑے) مانگ کر پہنے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يَنَلْ، وَمَا يُنْهَى مِنِ افْتِخَارِ الضَّرَّةِ؛کوئی چیز نہ ملے اور سوکن سے فخر کے طور پر کہے کہ ملی ہے؛جلد٧ص٣٥،حدیث نمبر ٥٢١٩)
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اگر کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو تلوار سے اس کا کام تمام کردوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں سعد رضی اللہ عنہ کی غیرت پر حیرت ہو گی اللہ کی قسم! مجھ کو اس سے بڑھ کر غیرت ہے اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے اور ایسا کوئی نہیں ہے جسے مدح و ثنا اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٥،حدیث نمبر ٥٢٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے امت محمد!تم میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت کوئی نہیں جبکہ وہ اپنے بندے اور بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔اے امت محمد!اگر تم وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو ضرور تم کم ہنستے اور ضرور زیادہ رویا کرتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٥،حدیث نمبر ٥٢٢١)
عروہ بن زبیر اپنی والدہ ماجدہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٥،حدیث نمبر ٥٢٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٥،حدیث نمبر ٥٢٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غیرت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا غیرت کرنا یہ ہے کہ کوئی مؤمن ایسا فعل کرے جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٥) حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا پھر(اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں۔ اس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلے اگر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیونکہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں) اس کے بعد میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بےفکر ہو گئی گویا والد ماجد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے پاس تھے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر (غصہ میں) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور (خادم سے) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا۔پس مجھے روکنے والی اور کوئی چیز نہ تھی سواے اس کے کہ تمہاری غیرت میرے علم میں تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے جنت دیکھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک محل کے کنارے ایک عورت وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتے نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں ان کی غیرت کا خیال کر کے واپس لوٹ آیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اس پر رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ الْغَيْرَةِ؛غیرت کا بیان؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے خوب معلوم ہوجاتا ہے کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آپ یہ بات کس طرح جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی ہو تو کہتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! (غصے میں) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ وَوَجْدِهِنَّ؛عورتوں کی غیرت اور روٹھنا؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ خدیجہ کو جنت میں ان کے موتی کے محل کی بشارت دے دیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ وَوَجْدِهِنَّ؛عورتوں کی غیرت اور روٹھنا؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٢٩)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل کا باپ تھا اس کی اولاد (حارث بن ہشام اور سلم بن ہشام) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہرگز اجازت نہیں دوں گا یقیناً میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہرگز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں (تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا) کیونکہ وہ (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ ذَبِّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الْغَيْرَةِ وَالإِنْصَافِ؛غیرت و انصاف کے خلاف بات کا اپنی بیٹی سے دور کرنا؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٣٠)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آخری زمانہ میں ایک مرد کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی کہ اس کی پناہ لیں ایسا مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کے سبب ہوگا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تم میں سے ایک ایسی حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے سوا اس حدیث کو تم سے کوئی بیان بھی نہیں کر سکتا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائے گا۔جہالت پھیل جائے گی۔زنا اور شراب نوشی کی کثرت ہوجاے گی۔مرد کم ہوجائیں گے،عورتیں زیادہ ہوجائیں گی،حتیٰ کہ پچاس عورتوں کی نگرانی ایک مرد پر ہوگی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ یقل الرجال ویکثر النساء؛مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت؛جلد٧ص٣٦،حدیث نمبر ٥٢٣١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تنہا عورت کے پاس جانے سے بچو۔انصار سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ دیور کے متعلق کیا ارشاد ہے؟فرمایا،دیور تو موت ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لا یخلون رجل بامراۃ الا ذو محرم والدخول علی المغیبۃ؛آدمی عورت کے پاس تنہائی میں نہیں جاسکتا؛جلد٧ص٣٧،حدیث نمبر ٥٢٣٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنہائی میں کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ جائے مگر اس کے ذی محرم کے ساتھ۔پس ایک آدمی نے کھڑے ہوکر عرض کی کہ یارسول اللہ!میری بیوی حج کرنے جارہی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے۔فرمایا کہ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لا یخلون رجل بامراۃ الا ذو محرم والدخول علی المغیبۃ؛آدمی عورت کے پاس تنہائی میں نہیں جاسکتا؛جلد٧ص٣٧،حدیث نمبر ٥٢٣٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انصاری کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اس کے ساتھ علیحدگی میں گفتگو فرمائی اور فرمایا کہ خدا کی قسم،تم(لوگ)مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ ما یجوز ان یخلو الرجل المرآۃ عند الناس؛لوگوں میں مرد کا عورت سے علیحدگی میں باتیں کرنا؛جلد٧ص٣٧،حدیث نمبر ٥٢٣٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے اور گھر میں ایک مخنث بھی موجود تھ۔پس مخنث نے حضرت ام سلمہ کے بھائی عبد اللہ بن ابو امیہ سے کہا کہ اگر کل اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو طائف پر فتح دی تو میں آپ کو غیلان کی بیٹی دکھاؤں گا کہ اس کے آگے چار بل پڑتے ہیں اور پیچھے آٹھ بل پڑتے ہیں۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے پاس نہ آیا کرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ ما ینھی من دخول المتشبھین با النساء علی المرآۃ؛ عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں کو عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت؛جلد٧ص٣٧،حدیث نمبر ٥٢٣٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مجھے اپنی چادر میں چھپا لیا اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں کھیل رہے تھے۔حتیٰ کہ دیکھتے دیکھتے میں خود تھک گئی۔اب دیکھ لیجیے کہ ایک کم عمر لڑکی کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے جو کھیل دیکھنے کی شوقین بھی ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ نظر المرآۃ الی الحبش ونحوھم من غیر ریبۃ؛عورتوں کا حبشیوں کا دیکھنا؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو انہیں حضرت عمر نے پہچان لیا اور کہا۔اے حضرت سودہ!آپ ہم سے چھپی ہوئی نہیں۔پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس لوٹیں تو آپ اس سے اس بات کا ذکر کیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے اور ایک ہڈی آپ کے دست مبارک میں تھی کہ وحی کا نزول شروع ہوگیا۔جب وحی نازل ہوچکی تو آپ فرمانے لگے کہ تمہیں ضروری حاجت کے وقت باہر نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ خروج النساء لحوائجھم؛ضروری کام کے لئے عورت کا باہر نکلنا؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٣٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی کی بیوی اس سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کیا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب استئذان المراۃ زوجھا فی الخروج الی المسجد وغیرہ؛مسجد وغیرہ میں جانے کے لیے خاوند سے اجازت لینا؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آے اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی پس میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لوں اجازت نہیں دے سکتی۔پس میں نے اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اجازت دے دیا کرو۔ان کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ! مجھے دودھ عورت نے پلایا تھا مرد نے نہیں۔ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وہ تمہارے چچا ہیں،تمہارے پاس ان کے آنے میں حرج نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ پردے کا حکم نازل ہوجانے کے بعد کی بات ہے نیز رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب ما یحل من الدخول والنظر الی النساء فی الرضاع؛رضاعی عورتوں کے پاس جانا اور انہیں دیکھنا حلال ہے؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٣٩)
ابو وائل حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی دوسری عورت کی خوبیاں اس طرح بیان نہ کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب لا تباشر المراۃ المراۃ فتنعتھا لزوجھا؛عورت اپنے خاوند سے کسی عورت کی خوبیاں بیان نہ کرے؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٤٠)
شفیق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت کسی دوسری عورت کی خوبیاں اپنے خاوند سے اس طرح بیان نہ کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب لا تباشر المراۃ المراۃ فتنعتھا لزوجھا؛عورت اپنے خاوند سے کسی عورت کی خوبیاں بیان نہ کرے؛جلد٧ص٣٨،حدیث نمبر ٥٢٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا،ہر بیوی ایک لڑکا جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔پس فرشتے نے ان سے کہا کہ انشاء اللہ کہ لیجیے جس کو وہ کہنا بھول گئے تھے۔پس وہ ان میں سے ہر ایک کے پاس گئے لیکن کسی کے یہاں بچہ پیدا نہ ہوا سواے ایک بیوی کے اور وہ بھی آدھا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ انشاءاللہ کہ لیتے تو ان کا قول نہ ٹوٹتا اور حاجت پوری ہوجاتی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ قول الرجل:لأطوفن اللیلۃ علی نسائی؛ مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا؛جلد٧ص٣٩،حدیث نمبر ٥٢٤٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس واپس آنے کو ناپسند فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لا یطرق اھلہ لیلا اذا أطال الغیبۃ مخافۃ ان یخونھم او یلتمس عثراتھم؛طویل عرصے کے بعد سفر سے رات کے وقت گھر نہ لوٹے تاکہ گھر والوں پر تہمت کا موقعہ نہ آئے؛جلد٧ص٣٩،حدیث نمبر ٥٢٤٣)
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص طویل عرصہ اپنے گھر سے دور رہا ہو تو اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت نہ آے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ لا یطرق اھلہ لیلا اذا أطال الغیبۃ مخافۃ ان یخونھم او یلتمس عثراتھم؛طویل عرصے کے بعد سفر سے رات کے وقت گھر نہ لوٹے تاکہ گھر والوں پر تہمت کا موقعہ نہ آئے؛جلد٧ص٣٩،حدیث نمبر ٥٢٤٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ(غزوہ تبوک) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔حضرت جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی کر لیں اور جو خاوند کی غیر حاضری کی وجہ سے زائد بالوں سے پاک نہ ہوئی۔ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا۔اے جابر اولاد کی طلب کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ طَلَبِ الْوَلَدِ؛اولاد کی طلب کرنا؛جلد٧ص٣٩،حدیث نمبر ٥٢٤٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت) فرمایا۔جب تم رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس واپس آنے لگو تو ذرا ٹھہر جاؤ تاکہ تمہاری عدم موجودگی کی وجہ سے وہ بالوں سے پاک ہولیں اور بکھرے بالوں میں کنگھا کر لیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تمہیں اولاد کی طلب کرنا چاہیے اولاد کی طلب کے بارے میں،عبید اللہ،وہب،حضرت جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ طَلَبِ الْوَلَدِ؛اولاد کی طلب کرنا؛جلد٧ص٣٩،حدیث نمبر ٥٢٤٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (غزوہ تبوک) میں تھے۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی، مارا۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا، کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت کنگھا کر لے اور زائد بالوں سے پاک ہوجائیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛بَابُ تَسْتَحِدُّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِثَةُ؛عورتوں کا زائد بالوں سے پاک ہونا اور کنگھی کرنا؛جلد٧ص٤٠،حدیث نمبر ٥٢٤٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں۔(نور،٣١) ابوحازم نے بیان کیا کہ اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف ہوا کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کون سی دوا استعمال کی گئی تھی۔ پھر لوگوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لا رہے تھے۔ (جب بند نہ ہوا تو)ٹاٹ کا ایک ٹکڑا لے کر جلا گیا اور اس کی راکھ آپ کے زخم میں بھری گئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛جلد٧ص٤٠،حدیث نمبر ٥٢٤٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے۔(نور ٥٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ تم بقر عید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کا اشارہ (اس زمانے میں) اپنے بچپن کی طرف تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور (لوگوں کے ساتھ عید کی) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر (اپنے زیورات) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛جلد٧ص٤٠،حدیث نمبر ٥٢٤٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مجھ پر غصہ آیا اور وہ اپنا ہاتھ میری کوکھ پر مارتے رہے لیکن میں نے ذرا حرکت نہ کی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرماتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب النِّكَاحِ؛باب طعن الرجل ابنۃ فی الخاصرۃ عند العتاب؛؛جلد٧ص٤٠،حدیث نمبر ٥٢٥٠)
Bukhari Shareef : Kitabun Nikah
|
Bukhari Shareef : كِتَاب النِّكَاحِ
|
•