asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabuz Zabayehe Was Saide

From 5475 to 5544

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

اے ایمان والو! ضرور اللہ ان شکاروں کے ذریعے جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ سکیں گے تمہارا امتحان کرے گا تاکہ اللہ ان لوگوں کی پہچان کرادے جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس (ممانعت) کے بعد جو حد سے بڑھے تواس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“ الآیۃ اور اللہ تعالیٰ کا اسی سورۃ المائدہ میں فرمان کہ ”تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال کئے گئے سوا ان کے جن کا ذکر تم سے کیا جاتا ہے (مردار اور سور وغیرہ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ”پس تم (ان کافروں) سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو۔“ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «العقود» سے مراد حلال و حرام سے متعلق عہد و پیمان۔ «إلا ما يتلى عليكم‏» سے سور، مردار، خون وغیرہ مراد ہے۔ «يجرمنكم‏» باعث بنے۔ «شنآن‏» کے معنی عداوت دشمنی۔ «المنخنقة‏» جس جانور کا گلا گھونٹ کر مار دیا گیا ہو اور اس سے وہ مر گیا ہو۔ «الموقوذة‏» جسے لکڑی یا پتھر سے مارا جائے اور اس سے وہ مر جائے۔ «المتردية‏» جو پہاڑ سے پھسل کر گر پڑے اور مر جائے۔ «النطيحة‏» جس کو کسی جانور نے سینگ سے مار دیا ہو۔ پس اگر تم اسے دم ہلاتے ہوئے یا آنکھ گھماتے ہوئے پاؤ تو ذبح کر کے کھا لو کیونکہ یہ اس کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر یا لکڑی یا گز سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس کی نوک شکار کو لگ جائے تو کھا لو لیکن اگر اس کی عرض کی طرف سے شکار کو لگے تو وہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ «موقوذة‏» ہے اور میں نے آپ سے کتے کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جسے وہ تمہارے لیے رکھے (یعنی وہ خود نہ کھائے) اسے کھا لو کیونکہ کتے کا شکار کو پکڑ لینا یہ بھی ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے یا کتوں کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے نے شکار اس دوسرے کے ساتھ پکڑا ہو گا اور کتا شکار کو مار چکا ہو تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام (بسم اللہ پڑھ کر) اپنے کتے پر لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب التسمیۃ علی الصید؛جلد؛٧ص؛٨٥؛حدیث نمبر٥٤٧٥)

كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الصَّيْدِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: 94]- إِلَى قَوْلِهِ - {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 10] وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ {أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ} [المائدة: 1]- إِلَى قَوْلِهِ - {فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ} [المائدة: 3] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: العُقُودُ: «العُهُودُ، مَا أُحِلَّ وَحُرِّمَ» {إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ} [المائدة: 1]: «الخِنْزِيرُ»، {يَجْرِمَنَّكُمْ} [المائدة: 2]: «يَحْمِلَنَّكُمْ»، {شَنَآنُ} [المائدة: 2]: «عَدَاوَةُ»، {المُنْخَنِقَةُ} [المائدة: 3]: «تُخْنَقُ فَتَمُوتُ»، {المَوْقُوذَةُ} [المائدة: 3]: «تُضْرَبُ بِالخَشَبِ يُوقِذُهَا فَتَمُوتُ»، {وَالمُتَرَدِّيَةُ} [المائدة: 3]: «تَتَرَدَّى مِنَ الجَبَلِ»، {وَالنَّطِيحَةُ} [المائدة: 3]: «تُنْطَحُ الشَّاةُ، فَمَا أَدْرَكْتَهُ يَتَحَرَّكُ بِذَنَبِهِ أَوْ بِعَيْنِهِ فَاذْبَحْ وَكُلْ» حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ المِعْرَاضِ، قَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ» وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الكَلْبِ، فَقَالَ: «مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَ الكَلْبِ ذَكَاةٌ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلاَبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ، وَقَدْ قَتَلَهُ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5475

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے غلیل سے مر جانے والے شکار کے متعلق کہا کہ وہ بھی «موقوذة‏» کے حکم میں ہے۔اور سالم، قاسم، مجاہد، ابراہیم، عطاء اور امام حسن بصری رحمہم اللہ اجمعین نے اس کو مکروہ رکھا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ گاؤں اور شہروں میں غلیل چلانے کو مکروہ سمجھتے تھے اور ان کے سوا دوسری جگہوں (میدان، جنگل وغیرہ) میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق معلوم کیا جو تیر کے ڈنڈے سے کیا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اس کی نوک سے شکار کو مار لو تو اسے کھاؤ لیکن اگر اس کی عرض کی طرف سے شکار کو لگے اور اس سے وہ مر جائے تو وہ «موقوذة‏» (مردار) ہے اسے نہ کھاؤ۔ میں نے سوال کیا کہ میں اپنا کتا بھی (شکار کے لیے) دوڑاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھ کر شکار کے پیچھے دوڑاؤ تو وہ شکار کھا سکتے ہو۔ میں نے پوچھا اور اگر وہ کتا شکار میں سے کھا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر نہ کھاؤ کیونکہ وہ شکار اس نے تمہارے لیے نہیں پکڑا تھا، صرف اپنے لیے پکڑا تھا۔ میں نے پوچھا میں بعض وقت اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور بعد میں اس کے ساتھ دوسرا کتا بھی پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر (اس کا شکار) نہ کھاؤ کیونکہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ باب صید المعراص؛جلد؛٧ص؛٨٦؛حدیث نمبر٥٤٧٦)

بَابُ صَيْدِ المِعْرَاضِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ، فِي المَقْتُولَةِ بِالْبُنْدُقَةِ تِلْكَ المَوْقُوذَةُ وَكَرِهَهُ سَالِمٌ، وَالقَاسِمُ، وَمُجَاهِدٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَعَطَاءٌ، وَالحَسَنُ، وَكَرِهَ الحَسَنُ: رَمْيَ البُنْدُقَةِ فِي القُرَى وَالأَمْصَارِ، وَلاَ يَرَى بَأْسًا فِيمَا سِوَاهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المِعْرَاضِ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، فَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلاَ تَأْكُلْ» فَقُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي؟ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ» قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ: «فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ لَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ، إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ؟ قَالَ: «لاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى آخَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5476

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ!ہم سکھائے ہوئے کتے (شکار پر) چھوڑتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شکار وہ صرف تمہارے لیے رکھے اسے کھاؤ۔ میں نے عرض کیا اگرچہ کتے شکار کو مار ڈالیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ہاں) اگرچہ مار ڈالیں! میں نے عرض کیا کہ ہم تیر کے ڈنڈے سے شکار کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان کی دھار اس کو زخمی کر کے پھاڑ ڈالے تو کھاؤ لیکن اگر ان کے عرض سے شکار مارا جائے تو اسے نہ کھاؤ (وہ مردار ہے)۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما اصاب المعراض بعرضہ؛جلد؛٧ص؛٨٦؛حدیث نمبر٥٤٧٧)

بَابُ مَا أَصَابَ المِعْرَاضُ بِعَرْضِهِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُرْسِلُ الكِلاَبَ المُعَلَّمَةَ؟ قَالَ: «كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ» قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ» قُلْتُ: وَإِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ؟ قَالَ: «كُلْ مَا خَزَقَ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5477

امام حسن بصری علیہ الرحمہ اور ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ نے کہا کہ جب کسی شخص نے بسم اللہ کہہ کر تیر یا تلوار سے شکار کو مارا اور اس کی وجہ سے شکار کا ہاتھ یا پاؤں جدا ہو گیا تو جو حصہ جدا ہو گیا وہ نہ کھاؤ اور باقی کھا لو اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا کہ جب شکار کی گردن پر یا اس کے درمیان میں مارو تو کھا سکتے ہو اور اعمش نے زید سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی آل کے ایک شخص سے ایک نیل گائے بھڑک گئی تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ جہاں ممکن ہو سکے وہیں اسے زخم لگائیں (اور کہا کہ) گورخر کا جو حصہ (مارتے وقت) کٹ کر گر گیا ہو اسے تم چھوڑ دو اور باقی کھا سکتے ہو۔ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کے گاؤں میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتن میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے تو اس میں نہ کھاؤ لیکن تمہیں کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو تو (اس کا شکار) کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور شکار خود ذبح کیا ہو تو اسے کھا سکتے ہو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب صید القوس؛جلد؛٧ص؛٨٦؛حدیث نمبر٥٤٧٨)

بَابُ صَيْدِ القَوْسِ وَقَالَ الحَسَنُ، وَإِبْرَاهِيمُ: «إِذَا ضَرَبَ صَيْدًا، فَبَانَ مِنْهُ يَدٌ أَوْ رِجْلٌ، لاَ تَأْكُلُ الَّذِي بَانَ وَكُلْ سَائِرَهُ» وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِذَا ضَرَبْتَ عُنُقَهُ أَوْ وَسَطَهُ فَكُلْهُ»، وَقَالَ الأَعْمَشُ: عَنْ زَيْدٍ: «اسْتَعْصَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ حِمَارٌ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَضْرِبُوهُ حَيْثُ تَيَسَّرَ، دَعُوا مَا سَقَطَ مِنْهُ وَكُلُوهُ» حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فَمَا يَصْلُحُ لِي؟ قَالَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5478

عبداللہ بن بریدہ نے، عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے ایک شخص کو پتھر مارتے دیکھا تو فرمایا کہ پتھر نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پتھر پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا یا پتھر پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب باب الخذف والبندق؛جلد؛٧ص؛٨٦؛حدیث نمبر٥٤٧٩)

بَابُ الخَذْفِ وَالبُنْدُقَةِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ - وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ - عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لاَ تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الخَذْفَ وَقَالَ: «إِنَّهُ لاَ يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلاَ يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ العَيْنَ» ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5479

عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ: باب:اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨٠)

بَابُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، لَيْسَ بِكَلْبِ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارِيَةٍ، نَقَصَ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطَانِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5480

سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکاریوں اور مویشی کی حفاظت کی غرض کے سوا جس نے کتا پالا تو اس کے ثواب میں سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ: باب:اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨١)

حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا لِصَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5481

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مویشی کی حفاظت یا شکار کی غرض کے سوا کسی اور وجہ سے کتا پالا اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ: باب:اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارِيًا، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5482

اے حبیب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا ؟تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور ان شکاری جانور وں (کا شکار) جنہیں تم نے شکار پر دوڑاتے ہوئے شکار کرنا سکھا دیا ہے۔ الصوائد؛کمانے والے۔اجترحوا؛تم نے کمایا۔ تم انہیں وہ سکھاتے ہو جس کی اللہ نے تمہیں تعلیم دی ہے تواس میں سے کھاؤ جو وہ شکار کرکے تمہارے لئے روک دیں اور (شکاری جانور کو چھوڑتے وقت) اس پراللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر کتے نے شکار کا گوشت خود بھی کھا لیا تو اس نے شکار کو ناپاک کر دیا کیونکہ اس صورت میں اس نے خود اپنے لیے شکار کو روکا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اسی سورۃ میں فرمانا کہ ”تم انہیں سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے“ اس لیے ایسے کتے کو پیٹا جائے گا اور سکھایا جاتا رہے گا، یہاں تک کہ شکار میں سے وہ کھانے کی عادت چھوڑ دے۔ ایسے شکار کو ابن عمر رضی اللہ عنہما مکروہ سمجھتے تھے اور عطاء نے کہا کہ اگر صرف شکار کا خون پی لیا ہو اور اس کا گوشت نہ کھایا ہو تو تم کھا سکتے ہو۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیتے ہو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ خواہ وہ شکار کو مار ہی ڈالیں۔ البتہ اگر کتا شکار میں سے خود بھی کھا لے تو اس میں یہ اندیشہ ہے کہ اس نے یہ شکار خود اپنے لیے پکڑا تھا اور اگر دوسرے کتے بھی تمہارے کتوں کے سوا شکار میں شریک ہو جائیں تو نہ کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ: باب:جب کتا شکار میں سے خود کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨٣)

بَابُ إِذَا أَكَلَ الكَلْبُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ؟ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ}: «الصَّوَائِدُ وَالكَوَاسِبُ» {اجْتَرَحُوا} [الجاثية: 21]: «اكْتَسَبُوا» {تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ} [المائدة: 4]- إِلَى قَوْلِهِ - {سَرِيعُ الحِسَابِ} [البقرة: 202] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنْ أَكَلَ الكَلْبُ فَقَدْ أَفْسَدَهُ، إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَاللَّهُ يَقُولُ: {تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ} [المائدة: 4] فَتُضْرَبُ وَتُعَلَّمُ حَتَّى يَتْرُكَ " وَكَرِهَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ عَطَاءٌ: «إِنْ شَرِبَ الدَّمَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الكِلاَبِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ المُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الكَلْبُ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلاَبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ تَأْكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5483

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور بسم اللہ بھی پڑھی اور کتے نے شکار پکڑا اور اسے مار ڈالا تو اسے کھاؤ اور اگر اس نے خود بھی کھا لیا تو تم نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر دوسرے کتے جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کتے کے ساتھ شکار میں شریک ہو جائیں اور شکار پکڑ کر مار ڈالیں تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم نے شکار پر تیر مارا پھر وہ شکار تمہیں دو یا تین دن بعد ملا اور اس پر تمہارے تیر کے نشان کے سوا اور کوئی دوسرا نشان نہیں ہے تو ایسا شکار کھاؤ لیکن اگر وہ پانی میں گر گیا ہو تو نہ کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛8. بَابُ الصَّيْدِ إِذَا غَابَ عَنْهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً: باب:جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو وہ کیا کرے؟؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨٤)

بَابُ الصَّيْدِ إِذَا غَابَ عَنْهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا خَالَطَ كِلاَبًا، لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَأَمْسَكْنَ وَقَتَلْنَ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي المَاءِ فَلاَ تَأْكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5484

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ وہ شکار تیر سے مارتے ہیں پھر دو یا تین دن پر اسے تلاش کرتے ہیں، تب وہ مردہ حالت میں ملتا ہے اور اس کے اندر ان کا تیر گھسا ہوا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو کھا سکتا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ الصَّيْدِ إِذَا غَابَ عَنْهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً: باب:جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو وہ کیا کرے؟؛جلد؛٧ص؛٨٧؛حدیث نمبر٥٤٨٥)

وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى: عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِرُ أَثَرَهُ اليَوْمَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ، ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ، قَالَ: «يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5485

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لیا ہو اور پھر وہ کتا شکار پکڑ کے مار ڈالے اور خود بھی کھا لے تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے خود اپنے لیے پکڑا ہے۔ میں نے کہا کہ میں کتا شکار پر چھوڑتا ہوں لیکن اس کے ساتھ دوسرا کتا بھی مجھے ملتا ہے اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے دوسرے کتے پر نہیں پڑھی اور میں نے آپ سے تیر کے ڈنڈے سے شکار کا حکم پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شکار نوک کی دھار سے مرا ہو تو کھا لیکن اگر تو نے اس کی چوڑائی سے اسے مارا ہے تو اب وہ موقوذہ کے حکم میں ہے پس اسے نہ کھا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا وَجَدَ مَعَ الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ: باب: شکاری جب شکار کے ساتھ دوسرا کتا پائے تو وہ کیا کرے؟؛جلد؛٧ص؛٨٨؛حدیث نمبر٥٤٨٦)

بَابُ إِذَا وَجَدَ مَعَ الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ، فَأَخَذَ فَقَتَلَ فَأَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي، أَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ، لاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ فَقَالَ: «لاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ» وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ المِعْرَاضِ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلاَ تَأْكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5486

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم اس قوم میں سکونت رکھتے ہیں جو ان کتوں سے شکار کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اگر وہ کتا تمہارے لیے شکار لایا ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو لیکن اگر کتے نے خود بھی کھا لیا ہو تو وہ شکار نہ کھاؤ کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس نے وہ شکار خود اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر اس کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی شکار میں شریک ہو جائے تو پھر شکار نہ کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما جاء فی الصید؛شکار کے احکام؛جلد؛٧ص؛٨٨؛حدیث نمبر٥٤٨٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّصَيُّدِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الكِلاَبِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ المُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الكَلْبُ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ تَأْكُلْ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5487

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتن میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں، جہاں میں اپنے تیر سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے۔ تو اس میں سے کیا چیز ہمارے لیے جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتن میں بھی کھاتے ہو تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ لیکن ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو کر پھر ان میں کھاؤ اور تم نے شکار کی سر زمین کا ذکر کیا ہے تو جو شکار تم اپنے تیر سے مارو اور تیر چلاتے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سکھاے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بغیر سکھاے کتے سے کیا ہو اور اسے ذبح بھی خود ہی کیا ہو تو اسے بھی کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما جاء فی الصید؛شکار کے احکام؛جلد؛٧ص؛٨٨؛حدیث نمبر٥٤٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ المُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الكِتَابِ، نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي المُعَلَّمِ وَالَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا، فَأَخْبِرْنِي: مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الكِتَابِ تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ: فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ: فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5488

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران (مکہ کے قریب ایک مقام) میں ہم نے ایک خرگوش کو پایا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرما لیا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما جاء فی الصید؛شکار کے احکام؛جلد؛٧ص؛٨٨؛حدیث نمبر٥٤٨٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا، فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، «فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5489

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ مکہ کے راستہ میں ایک جگہ پر اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے پیچھے رہ گئے خود ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام سے نہیں تھے اسی عرصہ میں انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور (اسے شکار کرنے کے ارادہ سے) اپنے گھوڑے پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے (جو محرم تھے) کوڑا مانگا لیکن انہوں نے دینے سے انکار کیا پھر اپنا نیزہ مانگا لیکن اسے بھی اٹھانے کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے وہ خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کیا اور اسے شکار کر لیا پھر بعض نے اس کا گوشت کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ اس کے بعد جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کا حکم پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت کیا البتہ اس روایت میں یہ لفظ زیادہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے یا نہیں۔ (بخاری شریف؛کتاب الذبائح والصید؛باب ما جاء فی الصید؛شکار کے احکام؛جلد؛٧ص؛٨٩؛حدیث نمبر٥٤٠٩ و حدیث نمبر ٥٤٩١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطًا فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ» حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5490/5491

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں،میں مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ دوسرے لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا اور ایک گھوڑے پر سوار تھا۔ میں پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا عادی تھا پھر اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے جو دیکھا تو ایک گورخر تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں! میں نے کہا کہ یہ تو گورخر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ جو تم نے دیکھا ہے وہی ہے۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا اس لیے ان سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا دے دو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں نے اتر کر خود کوڑا اٹھایا اور اس کے پیچھے سے اسے مارا، وہ وہیں گر گیا پھر میں نے اسے ذبح کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اسے لے کر آیا۔ میں نے کہا کہ اب اٹھو اور اسے اٹھاؤ، انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں چھوئیں گے۔ چنانچہ میں ہی اسے اٹھا کر ان کے پاس لایا۔ بعض نے تو اس کا گوشت کھایا لیکن بعض نے انکار کر دیا پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں اب تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکنے کی درخواست کروں گا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بچا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا کھاؤ کیونکہ یہ ایک کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب التصید علی الجبال؛جلد؛٧ص؛٨٨؛حدیث نمبر٥٤٩٢)

بَابُ التَّصَيُّدِ عَلَى الجِبَالِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَأَنَا رَجُلٌ حِلٌّ عَلَى فَرَسٍ، وَكُنْتُ رَقَّاءً عَلَى الجِبَالِ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ، إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَشَوِّفِينَ لِشَيْءٍ، فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، فَإِذَا هُوَ حِمَارُ وَحْشٍ، فَقُلْتُ لَهُمْ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: لاَ نَدْرِي، قُلْتُ: هُوَ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ، فَقَالُوا: هُوَ مَا رَأَيْتَ، وَكُنْتُ نَسِيتُ سَوْطِي، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي سَوْطِي، فَقَالُوا: لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ ضَرَبْتُ فِي أَثَرِهِ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا ذَاكَ حَتَّى عَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: قُومُوا فَاحْتَمِلُوا، قَالُوا: لاَ نَمَسُّهُ، فَحَمَلْتُهُ حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ، فَأَبَى بَعْضُهُمْ، وَأَكَلَ بَعْضُهُمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْرَكْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ الحَدِيثَ، فَقَالَ لِي: «أَبَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «كُلُوا، فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوهُ اللَّهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5492

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ شکار وہ ہے جس کو کسی حیلے سے پکڑا جائے اور طعام وہ ہے جس کو دریا پھینک دے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو دریا کا جانور مر کر پانی کے اوپر تیر کر آئے وہ حلال ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”اس کا کھانا“ سے مراد دریا کا مردار ہے، سوا اس کے جو بگڑ گیا ہو۔ بام مچھلی کو یہودی نہیں کھاتے، لیکن ہم (فراغت سے) کھاتے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی شریح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہر دریائی جانور مذبوحہ ہے۔ اسے ذبح کی ضرورت نہیں۔ عطاء نے کہا کہ دریائی پرندے کے متعلق میری رائے ہے کہ اسے ذبح کرے۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے پوچھا، کیا نہروں کا شکار اور سیلاب کے گڑھوں کا شکار بھی دریائی شکار ہے (کہ اس کا کھانا بلا ذبح جائز ہو) کہا کہ ہاں۔ پھر انہوں نے (دلیل کے طور پر) سورۃ النحل کی اس آیت کی تلاوت کی «هذا عذب فرات سائغ شرابه وهذا ملح أجاج ومن كل تأكلون لحما طريا‏» کہ ”یہ دریا بہت زیادہ میٹھا ہے اور یہ دوسرا دریا بہت زیادہ کھارا ہے اور تم ان میں سے ہر ایک سے تازہ گوشت (مچھلی) کھاتے ہو"(فاطر؛ ١٢) اور حسن رضی اللہ عنہ دریائی کتے کے چمڑے سے بنی ہوئی زین پر سوار ہوئے اور شعبی نے کہا کہ اگر میرے گھر والے مینڈک کھائیں تو میں نہ کھلاتااور حسن بصری کچھوا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دریائی شکار کھاؤ خواہ نصرانی نے کیا ہو یا کسی یہودی نے کیا ہو یا مجوسی نے کیا ہو اور ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس شراب میں نمک اور مچھلی ڈال دیں اور سورج کی دھوپ اس پر پڑے تو پھر وہ شراب نہیں رہتی۔ عمرو بن دینار کا بیان ہے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خبط میں شریک تھے، ہمارے امیر الجیش ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم سب بھوک سے بیتاب تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینکی۔ ایسی مچھلی دیکھی نہیں گئی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے، ہم نے وہ مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر (کھڑی کر دی) تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ}؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٣)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ البَحْرِ} [المائدة: 96] وَقَالَ عُمَرُ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَ {طَعَامُهُ} [عبس: 24]: مَا رَمَى بِهِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: الطَّافِي حَلاَلٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «طَعَامُهُ مَيْتَتُهُ، إِلَّا مَا قَذِرْتَ مِنْهَا، وَالجِرِّيُّ لاَ تَأْكُلُهُ اليَهُودُ، وَنَحْنُ نَأْكُلُهُ» وَقَالَ شُرَيْحٌ، صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ فِي البَحْرِ مَذْبُوحٌ» وَقَالَ عَطَاءٌ: «أَمَّا الطَّيْرُ فَأَرَى أَنْ يَذْبَحَهُ» وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " صَيْدُ الأَنْهَارِ وَقِلاَتِ السَّيْلِ، أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ تَلاَ: {هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا} [فاطر: 12] وَرَكِبَ الحَسَنُ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى سَرْجٍ مِنْ جُلُودِ كِلاَبِ المَاءِ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «لَوْ أَنَّ أَهْلِي أَكَلُوا الضَّفَادِعَ لَأَطْعَمْتُهُمْ» وَلَمْ يَرَ الحَسَنُ، بِالسُّلَحْفَاةِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كُلْ مِنْ- صَيْدِ البَحْرِ نَصْرَانِيٍّ أَوْ يَهُودِيٍّ أَوْ مَجُوسِيٍّ» وَقَالَ أَبُوالدَّرْدَاءِ، فِي المُرِي: «ذَبَحَ الخَمْرَ النِّينَانُ وَالشَّمْسُ» حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «غَزَوْنَا جَيْشَ الخَبَطِ، وَأُمِّرَ أَبُوعُبَيْدَةَ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى البَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ يُرَ مِثْلُهُ، يُقَالُ لَهُ العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5493

عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سوار روانہ کئے۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمیں قریش کے تجارتی قافلہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی تھی پھر (کھانا ختم ہو جانے کی وجہ سے) ہم سخت بھوک اور فاقہ کی حالت میں تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم سلم کے پتے (خبط) کھا کر وقت گزارتے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام ”جیش الخبط“ پڑ گیا اور سمندر نے ایک مچھلی باہر ڈال دی۔ جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی تیل کے طور پر اپنے جسم پر ملی جس سے ہمارے جسم تندرست ہو گئے۔ بیان کیا کہ پھر ابو عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کی ہڈی لے کر کھڑی کی تو ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ ہمارے ساتھ ایک صاحب (قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما) تھے جب ہم بہت زیادہ بھوکے ہوئے تو انہوں نے یکے بعد دیگر تین اونٹ ذبح کر دیئے۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ}؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: «بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الخَبَطِ، وَأَلْقَى البَحْرُ حُوتًا يُقَالُ لَهُ العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ، حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا» قَالَ: «فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ، فَلَمَّا اشْتَدَّ الجُوعُ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5494

ابویعفور نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات یا چھ غزووں میں شریک ہوئے، ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ سفیان، ابوعوانہ اور اسرائیل نے ابویعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی نے، سات غزوہ کے لفظ روایت کئے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب اکل الجراد؛ٹڈی کھانا؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٥)

بَابُ أَكْلِ الجَرَادِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الجَرَادَ» قَالَ سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَإِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى: «سَبْعَ غَزَوَاتٍ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5495

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:یا رسول اللہ!ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سکھاے ہوئے کتے سے اور بےسکھائے کتے سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سکھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سکھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب انیۃ المجوس والمیتۃ؛اتش پرستوں کے برتن اور مردار؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٦)

بَابُ آنِيَةِ المَجُوسِ وَالمَيْتَةِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الخَوْلاَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الكِتَابِ، فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي المُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ: فَلاَ تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لاَ تَجِدُوا بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ: فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5496

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح خیبر کی شام کو لوگوں نے آگ روشن کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ تم لوگوں نے کس لیے روشن کی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ پالتو گدھے کا گوشت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہانڈیوں میں کچھ (گدھے کا گوشت) ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ہانڈی میں جو کچھ (گوشت وغیرہ) ہے اسے ہم پھینک دیں اور برتن دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی کر سکتے ہو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب انیۃ المجوس والمیتۃ؛اتش پرستوں کے برتن اور مردار؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٧)

حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا أَمْسَوْا يَوْمَ فَتَحُوا خَيْبَرَ، أَوْقَدُوا النِّيرَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلاَمَ أَوْقَدْتُمْ هَذِهِ النِّيرَانَ؟» قَالُوا: لُحُومِ الحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، قَالَ: «أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا، وَاكْسِرُوا قُدُورَهَا» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ، فَقَالَ: نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ ذَاكَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5497

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر کوئی بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تو کوئی حرج نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه وإنه لفسق‏» ”اور نہ کھاؤ اس جانور کو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بلاشبہ یہ نافرمانی ہے اور بھول جانے والے کو فاسق نہیں کہا جا سکتا۔“ اور اللہ تعالیٰ کا قرآن میں فرمان «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم ليجادلوكم وإن أطعتموهم إنكم لمشركون‏» ”اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کو پٹی پڑھاتے ہیں تاکہ وہ تم سے کٹ حجتی کریں اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو البتہ تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔“ رافع بن خدیج سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام ذی الحلیفہ میں تھے کہ (ہم) لوگ بھوک اور فاقہ میں مبتلا ہو گئے پھر ہمیں (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے تھے۔ لوگوں نے جلدی کی بھوک کی شدت کی وجہ سے (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی غنیمت کے جانوروں کو ذبح کر لیا) اور ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ہانڈیاں الٹ دی گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کی تقسیم کی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی لوگ اس اونٹ کے پیچھے دوڑے لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک شخص نے اس پر تیر کا نشانہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں جنگلیوں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی جانور بھڑک کر بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم (دھاردار) لکڑی سے ذبح کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی خون بہا دے اور (ذبح کرتے وقت) جانور پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ البتہ (ذبح کرنے والا آلہ) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے۔ دانت اس لیے نہیں کہ یہ ہڈی ہے (اور ہڈی سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے) اور ناخن کا اس لیے نہیں کہ حبشی لوگ ان کو چھری کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الذَّبِيحَةِ، وَمَنْ تَرَكَ مُتَعَمِّدًا: باب: ذبح پر بسم اللہ پڑھنا اور جس نے اسے قصداً چھوڑ دیا ہو اس کا بیان؛جلد؛٧ص؛٩١؛حدیث نمبر٥٤٩٨)

بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الذَّبِيحَةِ، وَمَنْ تَرَكَ مُتَعَمِّدًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «مَنْ نَسِيَ فَلاَ بَأْسَ» وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ} [الأنعام: 121]: «وَالنَّاسِي لاَ يُسَمَّى فَاسِقًا» وَقَوْلُهُ: {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ} [الأنعام: 121] حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا فَنَصَبُوا القُدُورَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، وَكَانَ فِي القَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ البَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» قَالَ: وَقَالَ جَدِّي: إِنَّا لَنَرْجُو، أَوْ نَخَافُ، أَنْ نَلْقَى العَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالقَصَبِ؟ فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْهُ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الحَبَشَةِ "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5498

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نوفل سے مقام بلد کے نشیبی حصہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ نے وہ دستر خوان جس میں گوشت تھا جسے ان لوگوں نے آپ کی ضیافت کے لیے پیش کیا تھا مگر ان پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا، آپ نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو جانور اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو میں انہیں نہیں کھاتا، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما ذبح علی النصب والاصنام؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٤٩٩)

بَابُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَالأَصْنَامِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ المُخْتَارِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لاَ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5499

جندب بن سفیان بجلی نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ» : باب: اس بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جانور کو اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنا چاہیئے؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٥٠٠)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ البَجَلِيِّ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَةً ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5500

ابن کعب بن مالک سے مروی ہے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی (چراتے وقت ایک مرتبہ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا (انہوں نے یہ کہا کہ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما انہر الدم من القصب والمروۃ والحدید؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٥٠١)

بَابُ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ مِنَ القَصَبِ وَالمَرْوَةِ وَالحَدِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لاَ تَأْكُلُوا حَتَّى- آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ - أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ - «فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5501

بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو ”سوق مدنی“ میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما انہر الدم من القصب والمروۃ والحدید؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٥٠٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سَلِمَةَ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ، وَهُوَ بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، «فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5502

رافع نے اپنے دادا جان(رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس چھری نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو (دھار دار) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو تو (اس سے ذبح کیا ہوا جانور) کھا سکتے ہو لیکن ناخن اور دانت سے ذبح نہ کیا گیا ہو کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور دانت ہڈی ہے . اور ایک اونٹ بھاگ گیا تو (تیر مار کر) اسے روک لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا یہ اونٹ بھی جنگلی جانوروں کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں اس لیے جو تمہارے قابو سے باہر ہو جائے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما انہر الدم من القصب والمروۃ والحدید؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٥٠٣)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لَنَا مُدًى، فَقَالَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ الظُّفُرَ وَالسِّنَّ، أَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الحَبَشَةِ، وَأَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ» وَنَدَّ بَعِيرٌ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5503

ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ذبیحۃ المراۃ والامۃ؛جلد؛٧ص؛٩٠؛حدیث نمبر٥٥٠٤)

بَابُ ذَبِيحَةِ المَرْأَةِ وَالأَمَةِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، «فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا» وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا، مِنَ الأَنْصَارِ: يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ: بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5504

انصار کے ایک آدمی نےمعاذ بن سعد یا سعد بن معاذ سے روایت کی ہے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ذبیحۃ المراۃ والامۃ؛جلد؛٧ص؛٩٢؛حدیث نمبر٥٥٠٥)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5505

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ یعنی(ایسے جانور کو جسے ایسی دھاردار چیز سے ذبح کیا گیا ہو)جو خون بہا دے۔سوا دانت اور ناخن کے (یعنی ان سے ذبح کرنا درست نہیں ہے)۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لا یذکی بالسن والعظم والظفر؛جلد؛٧ص؛٩٢؛حدیث نمبر٥٥٠٦)

بَابُ لاَ يُذَكَّى بِالسِّنِّ وَالعَظْمِ وَالظُّفُرِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلْ - يَعْنِي - مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5506

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہےکہ (گاؤں کے) کچھ لوگ ہمارے یہاں گوشت (بیچنے) لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی (ذبح کرتے وقت) لیا تھا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم ان پر کھاتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور کھا لیا کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ لوگ ابھی اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے۔ اس کی متابعت علی نے دراوردی سے کی اور اس کی متابعت ابوخالد اور طفاوی نے کی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ذبیحۃ الاعراب ونحوھم؛جلد؛٧ص؛٩٢؛حدیث نمبر٥٥٠٧)

بَابُ ذَبِيحَةِ الأَعْرَابِ وَنَحْوِهِمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ المَدَنِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ، لاَ نَدْرِي: أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ؟ فَقَالَ: «سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوهُ» قَالَتْ: وَكَانُوا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالكُفْرِ تَابَعَهُ عَلِيٌّ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَتَابَعَهُ أَبُو خَالِدٍ، وَالطُّفَاوِيُّ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5507

ارشاد الہی"آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں ہیں اور ان لوگوں کا کھانا بھی جنہیں کتاب دی گئی ہے تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔“(المائدہ؛٥) زہری نے کہا کہ نصاریٰ عرب کے ذبیحہ میں کوئی حرج نہیں اور اگر تم سن لو کہ وہ (ذبح کرتے وقت) اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیتا ہے اسے نہ کھاؤ اور اگر نہ سنو تو اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لیے حلال کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کفر کا علم تھا۔ علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت نقل کی جاتی ہے۔ حسن اور ابراہیم نے کہا کہ غیر مختون (اہل کتاب) کے ذبیحہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (آیت میں) «طَعامهم» سے مراد اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور ہے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں (یہودیوں کے ذبیحہ کی) چربی تھی۔ میں اس پر جھپٹا کہ اٹھا لوں لیکن مڑ کے جو دیکھا تو پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر شرما گیا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ذبائح اھل الکتاب وشحومھا،من اھل الحرب وغیرھم؛جلد؛٧ص؛٩٣؛حدیث نمبر٥٥٠٨)

بَابُ ذَبَائِحِ أَهْلِ الكِتَابِ وَشُحُومِهَا، مِنْ أَهْلِ الحَرْبِ وَغَيْرِهِمْ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {اليَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} [المائدة: 5] وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: " لاَ بَأْسَ بِذَبِيحَةِ نَصَارَى العَرَبِ، وَإِنْ سَمِعْتَهُ يُسَمِّي لِغَيْرِ اللَّهِ فَلاَ تَأْكُلْ، وَإِنْ لَمْ تَسْمَعْهُ فَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَكَ وَعَلِمَ كُفْرَهُمْ - وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوُهُ وَقَالَ الحَسَنُ، وَإِبْرَاهِيمُ: «لاَ بَأْسَ بِذَبِيحَةِ الأَقْلَفِ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " طَعَامُهُمْ: ذَبَائِحُهُمْ " حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ، فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5508

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی اجازت دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جو جانور تمہارے قابو میں ہونے کے باوجود تمہیں عاجز کر دے (اور ذبح نہ کرنے دے) وہ بھی شکار ہی کے حکم میں ہے اور (فرمایا کہ) اونٹ اگر کنوئیں میں گر جائیں تو جس طرف سے ممکن ہو اسے ذبح کر لو۔ علی، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی راے بھی یہی ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جلدی کر لو یا (اس کے بجائے) «أرن» کہا یعنی جلدی کر لو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتا دوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب ما ند من البھائم فھو بمنزلۃ الوحش؛جلد؛٧ص؛٩٢؛حدیث نمبر٥٥٠٩)

بَابُ مَا نَدَّ مِنَ البَهَائِمِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الوَحْشِ وَأَجَازَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا أَعْجَزَكَ مِنَ البَهَائِمِ مِمَّا فِي يَدَيْكَ فَهُوَ كَالصَّيْدِ، وَفِي بَعِيرٍ تَرَدَّى فِي بِئْرٍ: مِنْ حَيْثُ قَدَرْتَ عَلَيْهِ فَذَكِّهِ " وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَائِشَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لاَقُو العَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: " اعْجَلْ، أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الحَبَشَةِ " وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5509

ابن جریج نے عطاء سے بیان کیا کہ ذبح اور نحر، صرف ذبح کرنے کی جگہ یعنی (حلق پر) اور نحر کرنے کی جگہ یعنی (سینہ کے اوپر کے حصہ) میں ہی ہو سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کیا جن جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے (حلق پر چھری پھیر کر) انہیں نحر کرنا (سینہ کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر ذبح کرنا) کافی ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اللہ نے (قرآن مجید میں) گائے کو ذبح کرنے کا ذکر کیا ہے پس اگر تم کسی جانور کو ذبح کرو جسے نحر کیا جاتا ہے (جیسے اونٹ) تو جائز ہے لیکن میری رائے میں اسے نحر کرنا ہی بہتر ہے ذبح گردن کی رگوں کا کاٹنا ہے۔ میں نے کہا کہ گردن کی رگیں کاٹتے ہوئے کیا حرام مغز بھی کاٹ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے ضروری نہیں سمجھتا اور مجھے نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حرام مغز کاٹنے سے منع کیا ہے۔ آپ نے فرمایا صرف گردن کی ہڈی تک (رگوں کو) کاٹا جائے گا اور چھوڑ دیا جائے گا تاکہ جانور مر جائے اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) فرمان «وإذ قال موسى لقومه إن الله يأمركم أن تذبحوا بقرة‏» ”اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ بلاشبہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔“ اور فرمایا «فذبحوها وما كادوا يفعلون‏» ”(البقرہ؛٦٦)پھر انہوں نے ذبح کیا اور وہ کرنے والے نہیں تھے۔“ سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ذبح حلق میں بھی کیا جا سکتا ہے اور سینہ کے اوپر کے حصہ میں بھی۔ ابن عمر، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر سر کٹ جائے گا تو کوئی حرج نہیں۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب النحر والذبح؛جلد؛٧ص؛٩٣؛حدیث نمبر٥٥١٠)

بَابُ النَّحْرِ وَالذَّبْحِ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ: «لاَ ذَبْحَ وَلاَ مَنْحَرَ إِلَّا فِي المَذْبَحِ وَالمَنْحَرِ» قُلْتُ: أَيَجْزِي مَا يُذْبَحُ أَنْ أَنْحَرَهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، ذَكَرَ اللَّهُ ذَبْحَ البَقَرَةِ، فَإِنْ ذَبَحْتَ شَيْئًا يُنْحَرُ جَازَ، وَالنَّحْرُ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَالذَّبْحُ قَطْعُ الأَوْدَاجِ» قُلْتُ: فَيُخَلِّفُ الأَوْدَاجَ حَتَّى يَقْطَعَ النِّخَاعَ؟ قَالَ: «لاَ إِخَالُ» وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، نَهَى عَنِ النَّخْعِ، يَقُولُ: «يَقْطَعُ مَا دُونَ العَظْمِ، ثُمَّ يَدَعُ حَتَّى تَمُوتَ» وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً} [البقرة: 67] وَقَالَ: {فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ} [البقرة: 71] وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: «الذَّكَاةُ فِي الحَلْقِ وَاللَّبَّةِ» وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٌ: «إِذَا قَطَعَ الرَّأْسَ فَلاَ بَأْسَ» حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ المُنْذِرِ، امْرَأَتِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: «نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5510

فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب النحر والذبح؛جلد؛٧ص؛٩٣؛حدیث نمبر٥٥١١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: «ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَكَلْنَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5511

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا (اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر) پھر اسے کھایا۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے «نحر‏.‏» کے ذکر کے ساتھ کی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب النحر والذبح؛جلد؛٧ص؛٩٣؛حدیث نمبر٥٥١٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ المُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: « نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ» تَابَعَهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ: فِي النَّحْرِ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5512

ہشام بن زید نےکہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٣)

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ المُثْلَةِ وَالمَصْبُورَةِ وَالمُجَثَّمَةِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ، عَلَى الحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا، أَوْ فِتْيَانًا، نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ البَهَائِمُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5513

اسحاق بن سعید بن عمرو نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سناکہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے مویشیوں وغیرہ کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِي يَحْيَى رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلاَمِ مَعَهُ فَقَالَ: ازْجُرُوا غُلاَمَكُمْ عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ لِلْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5514

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا (یہ کہا کہ) چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٥)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ، أَوْ بِنَفَرٍ، نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «مَنْ فَعَلَ هَذَا؟» إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا " تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا المِنْهَالُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالحَيَوَانِ» وَقَالَ عَدِيٌّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5515

عدی،سعید بن جبیر،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٥٠١ کے مثل مروی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٦) عدی بن ثابت کا بیان ہے کہ، میں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہزنی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٦)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالمُثْلَةِ» حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالمُثْلَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5516

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحم الدجاج؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٧)

بَابُ لَحْمِ الدَّجَاجِ حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ دَجَاجًا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5517

زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ہم میں اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارہ تھا پھر کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا، حاضرین میں ایک شخص سرخ رنگ کا بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے میں شریک نہیں ہوا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تھا اسی وقت سے مجھے اس سے گھن آنے لگی ہے اور میں نے قسم کھا لی ہے کہ اب اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شریک ہو جاؤ میں تمہیں خبر دیتا ہوں یا انہوں نے کہا کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر حاضر ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ خفا تھے آپ صدقہ کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ اسی وقت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ کا سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ آپ ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی جانور نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں، اشعری کہاں ہیں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ سفید کوہان والے اونٹ دے دیئے۔ تھوڑی دیر تک تو ہم خاموش رہے لیکن پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں اور اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غافل رکھا تو ہم کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے آپ سے سواری کے اونٹ ایک مرتبہ مانگے تھے تو آپ نے ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہ دینے کی قسم کھا لی تھی ہمارے خیال میں آپ اپنی قسم بھول گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں سواری کے لیے جانور عطا فرمایا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کوئی قسم کھا لوں اور پھر بعد میں مجھ پر واضح ہو جائے کہ اس کے سوا دوسری چیز اس سے بہتر ہے اور پھر وہی میں نہ کروں جو بہتر ہے، میں قسم توڑ دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحم الدجاج؛جلد؛٧ص؛٩٤؛حدیث نمبر٥٥١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي القَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ، فَلَمْ يَدْنُ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: ادْنُ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ أَكَلَ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ آكُلَهُ، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ، أَوْ أُحَدِّثْكَ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، قَالَ: «مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبٍ مِنْ إِبِلٍ، فَقَالَ: «أَيْنَ الأَشْعَرِيُّونَ؟ أَيْنَ الأَشْعَرِيُّونَ» قَالَ: فَأَعْطَانَا خَمْسَ ذَوْدٍ غُرَّ الذُّرَى، فَلَبِثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اسْتَحْمَلْنَاكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، فَظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5518

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخیل؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥١٩)

بَابُ لُحُومِ الخَيْلِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: «نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5519

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخیل؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الخَيْلِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5520

اس کے متعلق حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتےہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کر دی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢١)

بَابُ لُحُومِ الحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ فِيهِ عَنْ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5521

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ اس روایت کی متابعت ابن مبارک نے کی تھی، ان سے نافع نے اور ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے سالم نے اسی طرح سے بیان کیا۔ اس کے متعلق حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ» تَابَعَهُ ابْنُ المُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5522

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع فرما دیا تھا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالحَسَنِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُتْعَةِ عَامَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5523

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا اور گھوڑوں کے لیے رخصت فرما دی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الخَيْلِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5524

عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيٌّ، عَنِ البَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالاَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5525

ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ اس روایت کی متابعت زبیدی اور عقیل نے ابن شہاب سے کی ہے۔ مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٦ و حدیث نمبر ٥٥٢٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ، قَالَ: «حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ» تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5526/5527

مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر دوسرے صاحب آئے اور کہا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے پھر تیسرے صاحب آئے اور کہا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کرایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں چنانچہ اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ (گدھے کے) گوشت سے جوش مار رہی تھیں۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٥؛حدیث نمبر٥٥٢٨)

وَقَالَ مَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَالمَاجِشُونُ، وَيُونُسُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ -رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُفْنِيَتْ الحُمُرُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ» فَأُكْفِئَتْ القُدُورُ، وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5528

سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور (استدلال میں) اس آیت کی تلاوت کی «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما‏» (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب لحوم الخوم الحمر الانسیۃ؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٢٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: يَزْعُمُونَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؟» فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَاكَ الحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الغِفَارِيُّ، عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ وَلَكِنْ أَبَى ذَاكَ البَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَرَأَ: {قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا}

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5529

ابوادریس خولانی نے اور وہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر، ابن عیینہ اور ماجشون نے زہری کی سند سے کی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ: باب:ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے (پرندے) کے گوشت کھانے کے بارے میں؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٣٠)

بَابُ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ» تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَالمَاجِشُونُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5530

ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب جلود المیتۃ؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٣١)

بَابُ جُلُودِ المَيْتَةِ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: «هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» قَالُوا: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، قَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5531

سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہو گیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے (تو بہتر ہوتا) (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب جلود المیتۃ؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٣٢)

حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: «مَا عَلَى أَهْلِهَا لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5532

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو زخمی بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہو گیا ہو اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے زخم سے جو خون جاری ہو گا اس کا رنگ تو خون ہی جیسا ہو گا مگر اس میں مشک جیسی خوشبو ہو گی۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب المسک؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٣٣)

بَابُ المِسْكِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ القَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5533

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے (جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب المسک؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر ٥٥٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5534

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ ہم مرالظہران میں تھے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے پھر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے دونوں کولہے یا (راوی نے بیان کیا کہ) اس کی دونوں رانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب الارنب؛جلد؛٧ص؛٩٦؛حدیث نمبر٥٥٣٥)

بَابُ الأَرْنَبِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى القَوْمُ فَلَغِبُوا، فَأَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، " فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا - أَوْ قَالَ: بِفَخِذَيْهَا - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهَا "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5535

عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ساہنہ میں خود نہیں کھاتا لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب الضب؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٣٦)

بَابُ الضَّبِّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5536

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا ساہنہ لایا گیا آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بعض عورتوں نے کہا کہ آپ جو کھانا دیکھ رہے ہیں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، عورتوں نے کہا کہ یہ ساہنہ ہے یا رسول اللہ! چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس کھینچ لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن چونکہ یہ ہمارے ملک میں نہیں پایا جاتا اس لیے میں اس سے بچتا ہوں خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب الضب؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٣٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ خَالِدِ بْنِ الوَلِيدِ: أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «لاَ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5537

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے،حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ ایک چوہا گھی میں پڑ کر مر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو اور باقی گھی کو کھاؤ۔ سفیان سے کہا گیا کہ معمر اس حدیث کو زہری سے بیان کرتے ہیں کہ ان سے سعید بن مسیب اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث زہری سے صرف عبیداللہ سے بیان کرتے سنی ہے کہ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، ان سے میمونہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے یہ حدیث ان سے بارہا سنی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ الْجَامِدِ أَوِ الذَّائِبِ: باب:جب جمے ہوئے یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہا پڑ جائے تو کیا حکم ہے؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٣٨)

بَابُ إِذَا وَقَعَتِ الفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ الجَامِدِ أَوِ الذَّائِبِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُهُ: عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: «أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ» قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، عَنِْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ إِلَّا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا "

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5538

یونس نے، زہری سے پوچھا کہ اگر کوئی جانور چوہا یا کوئی اور جمے ہوئے یا غیر جمے ہوئے گھی یا تیل میں پڑ جائے اور مر جائے تو اس کے متعلق کہا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوہے کہ متعلق جو گھی میں مر گیا تھا، حکم دیا کہ اسے اور اس کے چاروں طرف سے گھی نکال کر پھینک دیا جائے اور پھر باقی گھی کھایا گیا۔ ہمیں یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے پہنچی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ الْجَامِدِ أَوِ الذَّائِبِ؛ باب:جب جمے ہوئے یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہا پڑ جائے تو کیا حکم ہے؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٣٩)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الدَّابَّةِ تَمُوتُ فِي الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ، وَهُوَ جَامِدٌ أَوْ غَيْرُ جَامِدٍ، الفَأْرَةِ أَوْ غَيْرِهَا، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِفَأْرَةٍ مَاتَتْ فِي سَمْنٍ، فَأَمَرَ بِمَا قَرُبَ مِنْهَا فَطُرِحَ، ثُمَّ أُكِلَ» عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5539

عبید اللہ بن عبد اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہے کا حکم پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو پھر باقی گھی کھا لو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ الْجَامِدِ أَوِ الذَّائِبِ؛ باب:جب جمے ہوئے یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہا پڑ جائے تو کیا حکم ہے؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٤٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ، فَقَالَ: «أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5540

سالم کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ چہرے پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع کیا ہے۔ عبیداللہ بن موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی روایت کیا، کہا ہم کو عمرو بن محمد عنقزی نے خبر دی، انہوں نے حنظلہ سے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب الوسم والعلم فی الصورۃ؛چہرے پر داغ یا نشان لگانا؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٤١)

بَابُ الوَسْمِ وَالعَلَمِ فِي الصُّورَةِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّورَةُ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ» تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا العَنْقَزِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ: «تُضْرَبُ الصُّورَةُ»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5541

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی(عبداللہ بن ابی طلحہ نومولود) کو لایا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹوں کے باڑے میں تشریف رکھتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک بکری کو داغ رہے تھے (شعبہ نے کہا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ (ہشام نے) کہا کہ اس کے کانوں کو داغ رہے تھے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛باب الوسم والعلم فی الصورۃ؛چہرے پر داغ یا نشان لگانا؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٤٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُحَنِّكُهُ، وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، «فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً - حَسِبْتُهُ قَالَ - فِي آذَانِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5542

ایسے جانور کا گوشت نہیں کھانا چاہیے جیسا کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔طاؤس اور عکرمہ کا قول ہے کہ چوری کے ذبیحہ کو پھینک دو۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آلہ خون بہا دے اور (جانوروں کو ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ بشرطیکہ ذبح کا آلہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں اس کی وجہ تمہیں بتاؤں گا۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور جلدی کرنے والے لوگ آگے بڑھ گئے تھے اور غنیمت پر قبضہ کر لیا تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے والے صحابہ کے ساتھ تھے چنانچہ (آگے پہنچنے والوں نے جانور ذبح کر کے) ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الٹ دینے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت لوگوں کے درمیان تقسیم کی۔ اس تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر آپ نے قرار دیا تھا پھر آگے کے لوگوں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا۔ لوگوں کے پاس گھوڑے نہیں تھے پھر ایک شخص نے اس اونٹ پر تیر مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جانور بھی کبھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے لگتے ہیں۔ اس لیے جب ان میں سے کوئی ایسا کرے تو تم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ غَنِيمَةً فَذَبَحَ بَعْضُهُمْ غَنَمًا أَوْ إِبِلاً بِغَيْرِ أَمْرِ أَصْحَابِهِمْ لَمْ تُؤْكَلْ؛جلد؛٧ص؛٩٨؛حدیث نمبر٥٥٤٣)

بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ غَنِيمَةً، فَذَبَحَ بَعْضُهُمْ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا، بِغَيْرِ أَمْرِ أَصْحَابِهِمْ، لَمْ تُؤْكَلْ لحَدِيثِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ طَاوُسٌ، وَعِكْرِمَةُ: فِي ذَبِيحَةِ السَّارِقِ: «اطْرَحُوهُ» حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّنَا نَلْقَى العَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلُوهُ، مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ وَلاَ ظُفُرٌ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الحَبَشَةِ " وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوا مِنَ الغَنَائِمِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ وَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، ثُمَّ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْ أَوَائِلِ القَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ البَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا مِثْلَ هَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5543

جیسا کی حضرت رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا، پھر ایک آدمی نے تیر سے اسے مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے ان میں سے جو تمہارے قابو سے باہر ہو جائیں، ان کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ رافع نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اکثر غزوات اور دوسرے سفروں میں رہتے ہیں اور جانور ذبح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتیں۔ فرمایا کہ دیکھ لیا کرو جو آلہ خون بہا دے یا (آپ نے بجائے «نهر» کے) «أنهر» فرمایا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہو کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبش والوں کی چھری ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ إِذَا نَدَّ بَعِيرٌ لِقَوْمٍ فَرَمَاهُ بَعْضُهُمْ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ فَأَرَادَ إِصْلاَحَهُمْ فَهْوَ جَائِزٌ: باب:جب کسی قوم کا کوئی اونٹ بدک جائے اور ان میں سے کوئی شخص خیر خواہی کی نیت سے اسے تیر سے نشانہ لگا کر مار ڈالے تو جائز ہے؟؛جلد؛٧ص؛٩٧؛حدیث نمبر٥٥٤٤) اے ایمان والوکھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔ اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو نا چار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(البقرہ؛ ١٧٢؛١٧٣) اور فرمایا:"تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے"(المائدہ؛٣)اور فرمایا"تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم ا س کی آیتیں مانتے ہو"۔ "اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تو تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔"(الانعام(١١٨،١١٩) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے؛" تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کی مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون"(الانعام؛١٤٥) تو اللہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ تم پر صرف مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا سب حرام کردیا ہے پھر جومجبور ہو اس حال میں کہ نہ خواہش سے کھارہاہو اور نہ حد سے بڑھ رہا ہو توبیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ النحل؛١١٥،١١٤) سور کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے یا وہ نافرمانی کا جانور ہو جس کے ذبح میں غیرُاللہ کا نام پکارا گیا ہو تو جو مجبور ہوجائے (اور اس حال میں کھائے کہ) نہ خواہش (سے کھانے) والا ہو اور نہ ضرورت سے بڑھنے والاتو بے شک آپ کا رب بخشنے والا مہربان ہے۔(الانعام؛١٤٥) اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(المائدہ؛٩٠) (بخاری شریف:کتاب الذبائح والصید؛بَابُ أَكْلِ الْمُضْطَرِّ: باب:جو شخص بھوک سے بےقرار ہو (صبر نہ کر سکے) وہ مردار کھا سکتا ہے؛جلد؛٧ص؛٩٧)

بَابُ إِذَا نَدَّ بَعِيرٌ لِقَوْمٍ، فَرَمَاهُ بَعْضُهُمْ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَأَرَادَ إِصْلاَحَهُمْ، فَهُوَ جَائِزٌ لِخَبَرِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنَ الإِبِلِ، قَالَ: فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ فِي المَغَازِي وَالأَسْفَارِ، فَنُرِيدُ أَنْ نَذْبَحَ فَلاَ تَكُونُ مُدًى، قَالَ: «أَرِنْ، مَا نَهَرَ - أَوْ أَنْهَرَ - الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، غَيْرَ السِّنِّ وَالظُّفُرِ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ، وَالظُّفُرَ مُدَى الحَبَشَةِ» بَابُ إِذَا أَكَلَ المُضْطَرُّ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ، وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ، إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ المَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ، فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ، فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 173] وَقَالَ: {فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ} [المائدة: 3] وَقَوْلِهِ: (فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ. وَمَا لَكُمْ أَنْ لاَ تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فُصِّلَ لَكُمْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ) وَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلاَ: {قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «مُهْرَاقًا» {أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ، فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ - غَفُورٌ رَحِيمٌ} [الأنعام: 145] وَقَالَ: {فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلاَلًا طَيِّبًا، وَاشْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ، إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ المَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لغَيْرِ اللَّهِ بِهِ، فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}

Bukhari Shareef, Kitabuz Zabayehe Was Saide, Hadees No. 5544

Bukhari Shareef : Kitabuz Zabayehe Was Saide

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ

|

•