asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Azahi

From 5545 to 5574

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ مشہور سنت ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٤٥)

كِتَابُ الأَضَاحِيِّ بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «هِيَ سُنَّةٌ وَمَعْرُوفٌ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، وَقَدْ ذَبَحَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً، فَقَالَ: «اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» قَالَ مُطَرِّفٌ: عَنْ عَامِرٍ، عَنِ البَرَاءِ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ المُسْلِمِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5545

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ المُسْلِمِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5546

عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٧)

بَابُ قِسْمَةِ الإِمَامِ الأَضَاحِيَّ بَيْنَ النَّاسِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهَنِيِّ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ قَالَ: «ضَحِّ بِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5547

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ الأُضْحِيَّةِ لِلْمُسَافِرِ وَالنِّسَاءِ: باب:مسافروں اور عورتوں کی طرف سے قربانی ہونا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٨)

بَابُ الأُضْحِيَّةِ لِلْمُسَافِرِ وَالنِّسَاءِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا لَكِ أَنَفِسْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ» فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى، أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5548

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور (کہا کہ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے (ذبح کیا)۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُشْتَهَى مِنَ اللَّحْمِ يَوْمَ النَّحْرِ: باب:قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٩)

بَابُ مَا يُشْتَهَى مِنَ اللَّحْمِ يَوْمَ النَّحْرِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ - وَذَكَرَ جِيرَانَهُ - وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ؟ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ قَالَ: فَتَجَزَّعُوهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5549

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں، تین پے در پے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا) یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے اموال۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ (ابن ابی بکرہ نے) یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر (ایک کی دوسرے پر) اس طرح باحرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ (میرا یہ پیغام) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے (اس کا پیغام تم کو) پہنچا دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ قَالَ الأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ: باب:جس نے کہا کہ قربانی صرف دسویں تاریخ تک ہی درست ہے؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٠)

بَابُ مَنْ قَالَ الأَضْحَى يَوْمُ النَّحْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو القَعْدَةِ، وَذُو الحِجَّةِ، وَالمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ البَلْدَةَ؟» قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ - وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ - أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5550

نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ الأَضْحَى وَالْمَنْحَرِ بِالْمُصَلَّى: باب:عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥١)

بَابُ الأَضْحَى وَالمَنْحَرِ بِالْمُصَلَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي المَنْحَرِ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: «يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5551

نافع کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قربانی) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ الأَضْحَى وَالْمَنْحَرِ بِالْمُصَلَّى: باب:عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5552

یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم مدینہ منورہ میں قربانی کے جانور کو خوب فربہ کرتے اور عام مسلمان بھی قربانی کے جانور کو اسی طرح فربہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٣)

بَابٌ فِي أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، قَالَ: «كُنَّا نُسَمِّنُ الأُضْحِيَّةَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ المُسْلِمُونَ يُسَمِّنُونَ» حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5553

ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے دنبے کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اس کی متابعت وہیب نے کی، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ» تَابَعَهُ وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5554

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ضَحِّ أَنْتَ بِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5555

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد (اس کی قربانی) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہوگی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کے طریقے کو پا لیتا ہے۔اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے (بیان کیا) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔“ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم کی پٹھیا۔“ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔" (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» : باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٦)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ المَعَزِ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي، يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ، قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ المَعَزِ، قَالَ: «اذْبَحْهَا، وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ» ثُمَّ قَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ المُسْلِمِينَ» تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَتَابَعَهُ وَكِيعٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَقَالَ عَاصِمٌ، وَدَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: «عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ» وَقَالَ زُبَيْدٌ، وَفِرَاسٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: «عِنْدِي جَذَعَةٌ» وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ: «عَنَاقٌ جَذَعَةٌ» وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: «عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5556

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک (اس روایت میں یہ لفظ ہیں) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» : باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ البَرَاءِ، قَالَ: ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْدِلْهَا» قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ - قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ - قَالَ: «اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «عَنَاقٌ جَذَعَةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5557

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے دنبے کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں دنبے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ ذَبَحَ الأَضَاحِيَّ بِيَدِهِ: باب:اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٨)

بَابُ مَنْ ذَبَحَ الأَضَاحِيَّ بِيَدِهِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5558

ایک صاحب نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ: باب:جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٩)

بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ وَأَعَانَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ، فِي بَدَنَتِهِ وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى، بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا لَكِ أَنَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، اقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ» وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5559

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آکر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے (عید کی نماز سے پہلے) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی چھ ماہ کے عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلاَةِ: باب:قربانی کا جانور نماز عید الاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٠)

بَابُ الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلاَةِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ المِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ؟ فَقَالَ: «اجْعَلْهَا مَكَانَهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ - أَوْ تُوفِيَ - عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5560

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا(انہوں نے یہ بھی کہا کہ) میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے جو دو بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دنبے کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦١)

بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ» فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، - وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ - فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَذَرَهُ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ؟ فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ، يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5561

حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٢)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ البَجَلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5562

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ البَرَاءِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ» فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَلْتُ. فَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ» قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، آذْبَحُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، ثُمَّ لاَ تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» قَالَ عَامِرٌ: هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5563

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو دنبے ذبح فرمایا کرتے جو چتکبرے اور سینگوں والے ہوتے۔آپ قدم مبارک ان کے پہلوؤں پر رکھا کرتے اور اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛باب وضع القدم علی صفح الذبییحۃ؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٤)

بَابُ وَضْعِ القَدَمِ عَلَى صَفْحِ الذَّبِيحَةِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5564

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے دنبے کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا قدم مبارک ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الذَّبْحِ: باب:ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر کہنا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٥)

بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الذَّبْحِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5565

مسروق کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں (نشانی کے طور پر) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ چیز بھی حرام نہ ہوئی جو مردوں پر اپنی بیویوں کے بارے میں حلال ہے،حتیٰ کہ لوگ لوٹ آئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛. بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ: باب: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا جانور حرم میں کسی کے ساتھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٦)

بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ: أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ المُؤْمِنِينَ، إِنَّ رَجُلًا يَبْعَثُ بِالهَدْيِ إِلَى الكَعْبَةِ وَيَجْلِسُ فِي المِصْرِ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ، فَلاَ يَزَالُ مِنْ ذَلِكِ اليَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الحِجَابِ، فَقَالَتْ: لَقَدْ «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الكَعْبَةِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ، حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5566

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ (بجائے «لحوم الأضاحي» کے) «لحوم الهدى‏.‏» کا لفظ استعمال کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٧)

بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: عَمْرٌو أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المَدِينَةِ» وَقَالَ غَيْرَ مَرَّةٍ: «لُحُومَ الهَدْيِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5567

ابن خباب نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گئے اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ یہ بات تمہارے بعد ظاہر ہوئی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٨)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ القَاسِمِ، أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، يُحَدِّثُ: " أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا فَقَدِمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ، قَالُوا: هَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا، فَقَالَ: أَخِّرُوهُ لاَ أَذُوقُهُ "، قَالَ: " ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ، حَتَّى آتِيَ أَخِي أَبَا قَتَادَةَ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5568

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» فَلَمَّا كَانَ العَامُ المُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ المَاضِي؟ قَالَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ العَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5569

عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٠)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ، فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «لاَ تَأْكُلُوا إِلَّا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ» وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5570

ابو عبیدہ مولی ابن ازہر کا بیان ہے کہ میں بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧١)

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ: أَنَّهُ شَهِدَ العِيدَ يَوْمَ الأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ العِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا الآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5571

ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں) حاضر تھا۔ اس دن جمعہ بھی تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں۔ (عید اور جمعہ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے (نماز عید کے بعد ہی) تو وہ واپس جا سکتا ہے، میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٢)

قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الجُمُعَةِ، فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ العَوَالِي فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5572

ابوعبید نے بیان کیا کہ پھر میں عید کی نماز میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٣)

قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلاَثٍ» وَعَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نَحْوَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5573

سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ سے کوچ کرتے وقت روٹی زیتون کے تیل سے کھاتے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے (تین دن کے بعد) پرہیز کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا مِنَ الأَضَاحِيِّ ثَلاَثًا» وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْكُلُ بِالزَّيْتِ حِينَ يَنْفِرُ مِنْ مِنًى، مِنْ أَجْلِ لُحُومِ الهَدْيِ

Bukhari Shareef, Kitabul Azahi, Hadees No. 5574

Bukhari Shareef : Kitabul Azahi

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَضَاحِيِّ

|

•