asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Marda

From 5640 to 5677

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ،(ترجمہ کنز الایمان):جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پاے گا۔(پ٥؛النساء ١٣٣) عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مصیبت ایسی نہیں جو کسی مسلمان کو پہنچے مگر اس سبب سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"حتیٰ کہ اس کانٹے کے بدلے بھی جو اسے چبھ جاے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: باب:بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١١٤؛حدیث نمبر ٥٦٤٠)

كِتَابُ المَرْضَى بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ المَرَضِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123] حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ المُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5640

عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: باب:بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١١٤؛حدیث نمبر ٥٦٤١)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا يُصِيبُ المُسْلِمَ، مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ، وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حُزْنٍ وَلاَ أَذًى وَلاَ غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5641

حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال کھیتی کے پودوں کی طرح ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا، ان سے ابن کعب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: باب:بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١١٤؛حدیث نمبر ٥٦٤٢ و حدیث نمبر ٥٦٤٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَثَلُ المُؤْمِنِ كَالخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً، وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً، وَمَثَلُ المُنَافِقِ كَالأَرْزَةِ، لاَ تَزَالُ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً» وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ: حَدَّثَنِي سَعْدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5642/5643

عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی کھیتی کے پودوں کی طرح ہے،جب ہوا آتی ہے تو اسے ایک طرف جھکا دیتی ہے اور جب رک جاتی ہے تو وہ سیدھا ہوجاتا ہے یعنی بلا سے بچ جاتا ہے اور بدکار شخص کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو اکڑ کر سیدھا کھڑا رہتا ہے۔حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: باب:بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١١٤؛حدیث نمبر ٥٦٤٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ المُؤْمِنِ كَمَثَلِ الخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ، وَالفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ، صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً، حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5644

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: باب:بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١١٥؛حدیث نمبر ٥٦٤٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الحُبَابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5645

ابو وائل مسروق سے راوی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے کسی ایسے آدمی کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شدائد میں مبتلا ہوا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ شدۃ المرض؛جلد؛٧ص؛١١٥؛حدیث نمبر ٥٦٤٦)

بَابُ شِدَّةِ المَرَضِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5646

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آپ کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا اجر بھی دوگنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ شدۃ المرض؛جلد؛٧ص؛١١٥؛حدیث نمبر ٥٦٤٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قُلْتُ: إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: «أَجَلْ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا حَاتَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5647

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کانٹا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ؛جلد؛٧ص؛١١٥؛حدیث نمبر ٥٦٤٨)

بَابٌ: أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا؟ قَالَ: «أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ» قُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: «أَجَلْ، ذَلِكَ كَذَلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5648

ابووائل نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ وُجُوبِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ: باب:بیمار کی مزاج پرسی کا واجب ہونا؛جلد؛٧ص؛١١٥؛حدیث نمبر ٥٦٤٩)

بَابُ وُجُوبِ عِيَادَةِ المَرِيضِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5649

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، دیباج، استبرق (ریشمی کپڑے) پہننے سے اور قسی اور مثیرہ (ریشمی) کپڑوں کی دیگر جملہ قسمیں پہننے سے منع فرمایا تھا اور آپ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جنازہ کے پیچھے چلیں، مریض کی مزاج پرسی کریں اور سلام کو پھیلائیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ وُجُوبِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ: باب:بیمار کی مزاج پرسی کا واجب ہونا؛جلد؛٧ص؛١١٦؛حدیث نمبر ٥٦٥٠)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَعَنِ القَسِّيِّ، وَالمِيثَرَةِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَتْبَعَ الجَنَائِزَ، وَنَعُودَ المَرِيضَ، وَنُفْشِيَ السَّلاَمَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5650

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ بیمار پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کو تشریف لائے ان بزرگوں نے دیکھا کہ مجھ پر بے ہوشی غالب ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے ہوش آ گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں کس طرح اس کا فیصلہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ عِيَادَةِ الْمُغْمَى عَلَيْهِ: باب:بیہوش کی عیادت کرنا؛جلد؛٧ص؛١١٦؛حدیث نمبر ٥٦٥١)

بَابُ عِيَادَةِ المُغْمَى عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ المُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: مَرِضْتُ مَرَضًا، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَوَجَدَانِي أُغْمِيَ عَلَيَّ، «فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ» فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ المِيرَاثِ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5651

عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ عطاء کا بیان ہے کہ انہوں نے ام زفر یعنی مزکورہ عورت کو جو لمبے قد کی اور سیاہ رنگ کی تھی خانہ کعبہ کر پردوں کے پاس دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يُصْرَعُ مِنَ الرِّيحِ:؛جلد؛٧ص؛١١٦؛حدیث نمبر ٥٦٥٢)

بَابُ فَضْلِ مَنْ يُصْرَعُ مِنَ الرِّيحِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي، قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ لاَ أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: «أَنَّهُ رَأَى أُمَّ زُفَرَ تِلْكَ امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ، عَلَى سِتْرِ الكَعْبَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5652

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء (آنکھوں) کے بارے میں آزماتا ہوں (یعنی نابینا کر دیتا ہوں) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب فضل ذھب بصرہ؛جلد؛٧ص؛١١٦؛حدیث نمبر ٥٦٥٣)

بَابُ فَضْلِ مَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الهَادِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى المُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الجَنَّةَ " يُرِيدُ: عَيْنَيْهِ، تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، وَأَبُو ظِلاَلٍ هِلاَلٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5653

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے مسجد میں رہنے والے ایک انصاری کی عیادت کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گئی اور پوچھا، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے(ترجمہ)”ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے(ترجمہ)”کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (مکہ مکرمہ کی گھاس) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ (مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار) کے پانی پر اتروں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل (مکہ کے قریب دو پہاڑوں) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب عیادۃ النساء الرجال؛جلد؛٧ص؛١١٦؛حدیث نمبر ٥٦٥٤)

بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ الرِّجَالَ وَعَادَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ، رَجُلًا مِنْ أَهْلِ المَسْجِدِ، مِنَ الأَنْصَارِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، قُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الحُمَّى، يَقُولُ: [البحر الرجز] كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ: [البحر الطويل] أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً ... بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ ... وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا المَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5654

ابوعثمان نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو کہلوا بھیجا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین و معلوم ہے۔ اس لیے اللہ سے اس مصیبت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب عیادۃ الصبیان؛جلد؛٧ص؛١١٧؛حدیث نمبر ٥٦٥٥)

بَابُ عِيَادَةِ الصِّبْيَانِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، وَهُوَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَعْدٌ وَأُبَيٌّ، نَحْسِبُ: أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ، وَيَقُولُ: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى، فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ» فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ جُئِّثُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الرُّحَمَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5655

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے «لا بأس طهور إن شاء الله» ”کوئی فکر کی بات نہیں۔ ان شاءاللہ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے“ لیکن اس دیہاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہوگا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب عیادۃ الأعراب؛جلد؛٧ص؛١١٧؛حدیث نمبر ٥٦٥٦)

بَابُ عِيَادَةِ الأَعْرَابِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ: «لاَ بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» قَالَ: قُلْتَ: طَهُورٌ؟ كَلَّا، بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ، أَوْ تَثُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ القُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5656

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب عیادۃ المشرک؛جلد؛٧ص؛١١٧؛حدیث نمبر ٥٦٥٧)

بَابُ عِيَادَةِ المُشْرِكِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ غُلاَمًا لِيَهُودَ، كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: «أَسْلِمْ» فَأَسْلَمَ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ: لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5657

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ کچھ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے ایک مرض کے دوران مزاج پرسی کرنے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن صحابہ کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم (مقتدی) بھی اٹھاؤ اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مطابق قول حمیدی یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر (مرض الوفات) میں نماز بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ إِذَا عَادَ مَرِيضًا فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِهِمْ جَمَاعَةً؛جلد؛٧ص؛١١٧؛حدیث نمبر ٥٦٥٨)

بَابُ إِذَا عَادَ مَرِيضًا، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِهِمْ جَمَاعَةً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضِهِ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا، فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ: «اجْلِسُوا» فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «إِنَّ الإِمَامَ لَيُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ الحُمَيْدِيُّ: «هَذَا الحَدِيثُ مَنْسُوخٌ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّى قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5658

عائشہ بنت سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)سے روایت کی ہے کہ میں مکہ میں بہت سخت بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! (اگر وفات ہو گئی تو) میں مال چھوڑوں گا اور میرے پاس سوا ایک لڑکی کے اور کوئی وارث نہیں ہے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں اور ایک تہائی چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا پھر آدھے کی وصیت کر دوں اور آدھا (اپنی بچی کے لیے) چھوڑ دوں فرمایا کہ نہیں پھر میں نے کہا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں اور باقی دو تہائی لڑکی کے لیے چھوڑ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا (سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) اور میرے چہرے اور پیٹ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پھیرا پھر فرمایا: اے اللہ! سعد کو شفاء عطا فرما اور اس کی ہجرت کو مکمل کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے جگر کے حصہ پر میں اب تک پا رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ وضع الید علی المریض؛جلد؛٧ص؛١١٨؛حدیث نمبر ٥٦٥٩)

بَابُ وَضْعِ اليَدِ عَلَى المَرِيضِ حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ: تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوًا شَدِيدًا، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَتْرُكُ مَالًا، وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً، فَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ؟ فَقَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِّصْفَ؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي - فِيمَا يُخَالُ إِلَيَّ - حَتَّى السَّاعَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5659

حارث بن سوید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تم میں کے دو آدمیوں کے برابر بخار چڑھتا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا اجر ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ وضع الید علی المریض؛جلد؛٧ص؛١١٨؛حدیث نمبر ٥٦٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ» فَقُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5660

حارث بن سوید کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ہوا۔ میں نے آپ کا جسم چھوا، آپ کو تیز بخار تھا۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا اجر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ وَمَا يُجِيبُ؛جلد؛٧ص؛١١٨؛حدیث نمبر ٥٦٦١)

بَابُ مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ، وَمَا يُجِيبُ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَمَسِسْتُهُ، وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: «أَجَلْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، إِلَّا حَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5661

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا «لا بأس طهور إن شاء الله» کہ ”کوئی فکر نہیں اگر اللہ نے چاہا (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا“ لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ ہرگز نہیں یہ تو ایسا بخار ہے جو ایک بوڑھے پر غالب آ چکا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کر ہی رہے گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ وَمَا يُجِيبُ؛جلد؛٧ص؛١١٨؛حدیث نمبر ٥٦٦٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: «لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ: كَلَّا، بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، كَيْمَا تُزِيرَهُ القُبُورَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5662

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے کی پالان پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو تشریف لے جا رہے تھے، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا۔یہ اس کے (ظاہراً)مسلمان ہونے کے قبل کی بات ہے اس مجلس میں ہر گروہ کے لوگ تھے مسلمان بھی، مشرکین بھی یعنی بت پرست اور یہودی بھی۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، سواری کی گرد جب مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی اور کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے پھر آپ نے انہیں اللہ کے طرف بلایا اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا اے شخص جو کچھ تم کہ رہے ہو مجھے یہ اچھا نہیں لگتا اگر حق ہیں تو ہماری مجلس میں انہیں بیان کر کے ہم کو تکلیف نہ پہنچایا کرو، اپنے گھر جاؤ وہاں جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو۔ اس پر ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں ضرور تشریف لائیں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ اس پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں جھگڑے بازی ہو گئی اور قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کر بیٹھتے لیکن آپ انہیں خاموش کرتے رہے یہاں تک کہ سب خاموش ہو گئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا سعد! تم نے سنا نہیں ابوحباب نے کیا کہا، آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور اس سے درگزر فرمایئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ نعمت عطا فرما دی جو عطا فرمانی تھی (آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے) اس بستی کے لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور اپنا سردار بنا لیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ہے ختم کر دیا تو وہ اس پر بگڑ گیا یہ جو کچھ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے اسی کا نتیجہ ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَرِدْفًا عَلَى الْحِمَارِ؛جلد؛٧ص؛١١٨؛حدیث نمبر ٥٦٦٣)

بَابُ عِيَادَةِ المَرِيضِ، رَاكِبًا وَمَاشِيًا، وَرِدْفًا عَلَى الحِمَارِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ، عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ، يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِي المَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَالمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَاليَهُودِ، وَفِي المَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ المَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، قَالَ: لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَقَفَ، وَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ القُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: يَا أَيُّهَا المَرْءُ، إِنَّهُ لاَ أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ المُسْلِمُونَ وَالمُشْرِكُونَ وَاليَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَكَتُوا، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ: «أَيْ سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟» - يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ - قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَلَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا أَعْطَاكَ، وَلَقَدِ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ البَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ، فَلَمَّا رَدَّ ذَلِكَ بِالحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5663

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ کسی گھوڑے پر۔ (بلکہ آپ پیدل تشریف لائے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب عیادۃ المریض راکبا وماشیا وردفا علی الحمار؛جلد؛٧ص؛١١٩؛حدیث نمبر ٥٦٦٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5664

اور جیسا کہ ایوب علیہ السلام نے کہا کہ مجھے تکلیف ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے"(الانبیاء؛٨٣) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزرے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ سلگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام بلوایا اور اس نے میرا سر مونڈ دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ ادا کر دینے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَقُولَ إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَارَأْسَاهْ، أَوِ اشْتَدَّ بِي الْوَجَعُ؛جلد؛٧ص؛١١٩؛حدیث نمبر ٥٦٦٥)

بَابُ قَوْلِ المَرِيضِ: " إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَا رَأْسَاهْ، أَوِ اشْتَدَّ بِي الوَجَعُ وَقَوْلِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: {أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} [الأنبياء: 83] حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ القِدْرِ، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَا الحَلَّاقَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ أَمَرَنِي بِالفِدَاءِ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5665

قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ (سر کے شدید درد کی وجہ سے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے سر پھٹا! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا میری زندگی میں ہو گیا (یعنی تمہارا انتقال ہو گیا) تو میں تمہارے لیے استغفار اور دعا کروں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا افسوس، اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میرا مر جانا ہی پسند کرتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ تو اسی دن رات اپنی کسی بیوی کے یہاں گزاریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ میں خود درد سر میں مبتلا ہوں۔ میرا ارادہ ہوتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں (خلافت کی) وصیت کر دوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کہنے والے کچھ اور کہیں (کہ خلافت ہمارا حق ہے) یا آرزو کرنے والے کسی اور بات کی آرزو کریں (کہ ہم خلیفہ ہو جائیں) پھر میں نے اپنے جی میں کہا (اس کی ضرورت ہی کیا ہے) خود اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کو خلیفہ نہ ہونے دے گا نہ مسلمان اور کسی کی خلافت ہی قبول کریں گے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَقُولَ إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَارَأْسَاهْ، أَوِ اشْتَدَّ بِي الْوَجَعُ؛جلد؛٧ص؛١١٩؛حدیث نمبر ٥٦٦٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَبُو زَكَرِيَّاءَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ القَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَا رَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَا ثُكْلِيَاهْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ، لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ وَأَعْهَدَ: أَنْ يَقُولَ القَائِلُونَ - أَوْ يَتَمَنَّى المُتَمَنُّونَ - ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ المُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى المُؤْمِنُونَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5666

حارث بن سوید کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم میں کے دو آدمیوں کے برابر ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہے۔ کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَقُولَ إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَارَأْسَاهْ، أَوِ اشْتَدَّ بِي الْوَجَعُ؛جلد؛٧ص؛١١٩؛حدیث نمبر ٥٦٦٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قَالَ: «أَجَلْ، كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ» قَالَ: لَكَ أَجْرَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5667

عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے فرمایا کہ ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں حجۃ الوداع کے زمانہ میں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا میں نے عرض کیا کہ میری بیماری جس حد کو پہنچ چکی ہے اسے آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب دولت ہوں اور میری وارث میری صرف ایک لڑکی کے سوا اور کوئی نہیں تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھا کر دوں، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بہت کافی ہے اگر تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہو گا اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَا رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَقُولَ إِنِّي وَجِعٌ، أَوْ وَارَأْسَاهْ، أَوِ اشْتَدَّ بِي الْوَجَعُ؛جلد؛٧ص؛١٢٠؛حدیث نمبر ٥٦٦٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، زَمَنَ حَجَّةِ الوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بَلَغَ بِي مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: بِالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5668

عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کئی صحابہ موجود تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاؤ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم غلط راہ پر نہ چلو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سخت تکلیف میں ہیں اور تمہارے پاس قرآن مجید تو موجود ہے ہی، ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس مسئلہ پر گھر میں موجود صحابہ کا اختلاف ہو گیا اور بحث کرنے لگے۔ بعض صحابہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (لکھنے کی چیزیں) دے دو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو اور بعض صحابہ وہ کہتے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور بحث بڑھ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے زیادہ افسوس یہی ہے کہ ان کے اختلاف اور بحث کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر نہیں لکھی جو آپ مسلمانوں کے لیے لکھنا چاہتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ قَوْلِ الْمَرِيضِ قُومُوا عَنِّي؛جلد؛٧ص؛١٢٠؛حدیث نمبر ٥٦٦٩)

بَابُ قَوْلِ المَرِيضِ قُومُوا عَنِّي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي البَيْتِ رِجَالٌ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ» فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ القُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ. فَاخْتَلَفَ أَهْلُ البَيْتِ فَاخْتَصَمُوا، مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الكِتَابَ، مِنَ اخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5669

جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میری خالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچپن میں لے گئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھانجے کو درد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا اور میں نے آپ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو کر نبوت کی مہر آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھی۔ یہ مہر نبوت حجلہ عروس کی گھنڈی جیسی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ مَنْ ذَهَبَ بِالصَّبِيِّ الْمَرِيضِ لِيُدْعَى لَهُ؛جلد؛٧ص؛١٢٠؛حدیث نمبر ٥٦٧٠)

بَابُ مَنْ ذَهَبَ بِالصَّبِيِّ المَرِيضِ لِيُدْعَى لَهُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الجُعَيْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، «فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، وَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الحَجَلَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5670

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی تکلیف میں اگر کوئی شخص مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیئے اور اگر ایسا کرنا ہی پڑےتو یہ کہنا چاہیئے «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي،‌‌‌‏ وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ”اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھ کو اٹھا لے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ: باب:مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧١)

بَابُ تَمَنِّي المَرِيضِ المَوْتَ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ البُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ المَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الوَفَاةُ خَيْرًا لِي "

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5671

قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا (لگے عمارتیں بنوانے) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ: باب:مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧٢)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ، نَعُودُهُ، وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: «إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لاَ نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ، وَلَوْلاَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ» ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ المُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ، إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5672

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں،میں بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے (عمل میں) میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو اور تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یا وہ نیک ہو گا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ ہی کرے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ: باب:مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الجَنَّةَ» قَالُوا: وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لاَ، وَلاَ أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَلاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ المَوْتَ: إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5673

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے،فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا سہارا لیے ہوئے تھے (مرض الموت میں) اور فرما رہے تھے «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں کے ساتھ ملا دے۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ: باب:مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَيَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5674

حضرت عائشہ بنت سعد نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ سعد کو شفا عطاء فرما۔ مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے «أذهب الباس رب الناس،‌‌‌‏ ‌‌‌‏ اشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك،‌‌‌‏ ‌‌‌‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔“ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم اور ابوالضحیٰ سے کہ ”جب کوئی مریض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا۔“ اور جریر بن عبدالحمید نے منصور سے، انہوں نے ابوالضحی اکیلے سے یوں روایت کیا کہ ”آپ جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ دُعَاءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧٥)

بَابُ دُعَاءِ العَائِدِ لِلْمَرِيضِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا» حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ، قَالَ: «أَذْهِبِ البَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا» قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ: عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبِي الضُّحَى: «إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ» وَقَالَ جَرِيرٌ: عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، وَحْدَهُ، وَقَالَ: «إِذَا أَتَى مَرِيضًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5675

محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دو اس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں (جس کے والد اور اولاد نہ ہو) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت عائشہ بنت سعد نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ سعد کو شفا عطاء فرما۔ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛بَابُ وُضُوءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ؛جلد؛٧ص؛١٢١؛حدیث نمبر ٥٦٧٦)

بَابُ وُضُوءِ العَائِدِ لِلْمَرِيضِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ: «صُبُّوا عَلَيْهِ» فَعَقَلْتُ، فَقُلْتُ: لاَ يَرِثُنِي إِلَّا كَلاَلَةٌ، فَكَيْفَ المِيرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الفَرَائِضِ

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5676

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس (بیمار پرسی کے لیے) گئی اور پوچھا کہ محترم والد بزرگوار! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔(ترجمہ)”ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے“ اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے وہ یہ اشعار پڑھتے۔(ترجمہ)”کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات وادی (مکہ) میں اس طرح گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (گھاس) کے درخت ہوں گے اور کیا کبھی پھر میں مجنہ کے گھاٹ پر اتر سکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔“ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» ”اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر جیسا کہ ہمیں (اپنے وطن) مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت عطا کر اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے جحفہ (نامی گاؤں) میں بھیج دے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب المرضی؛باب من دعا برفع الوباء والحمی؛جلد؛٧ص؛١٢٢؛حدیث نمبر ٥٦٧٧)

بَابُ مَنْ دَعَا بِرَفْعِ الوَبَاءِ وَالحُمَّى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الحُمَّى يَقُولُ: [البحر الرجز] كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ: [البحر الطويل] أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً ... بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ ... وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا المَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Marda, Hadees No. 5677

Bukhari Shareef : Kitabul Marda

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ المَرْضَى

|

•