asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Lebas

From 0 to 5969

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی۔(الاعراف؛٣٢)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛کھاؤ،پیواور پہنو اور خیرات کرو بغیر اسراف اور تکبر کے۔ابن عباس کا قول ہے کہ جو چاہو کھاؤ،پیو اور پہنو لیکن دو غلطیاں نہ کرنا یعنی اسراف اور تکبر۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تکبر کے سبب کپڑا گھسیٹ کر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہیں فرمائے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٣)

كِتَابُ اللِّبَاسِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ} [الأعراف: 32] وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالبَسُوا وَتَصَدَّقُوا، فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلاَ مَخِيلَةٍ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " كُلْ مَا شِئْتَ، وَالبَسْ مَا شِئْتَ، مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ، أَوْ مَخِيلَةٌ " حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: يُخْبِرُونَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5783

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہبند کا ایک حصہ غیر ارادی طور پر لٹک جاتا ہے سوائے اس کے کہ ہر وقت ادھر متوجہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ازارہ من غیر خیلاء؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٤)

بَابُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنْ غَيْرِ خُيَلاَءَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القِيَامَةِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلاَءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5784

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے اٹھے اور مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن ختم ہو گیا، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ازارہ من غیر خیلاء؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا، حَتَّى أَتَى المَسْجِدَ، وَثَابَ النَّاسُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، وَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا، وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يَكْشِفَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5785

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التشمیر فی الثیاب؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٦)

بَابُ التَّشْمِيرِ فِي الثِّيَابِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ بِلاَلًا جَاءَ بِعَنَزَةٍ فَرَكَزَهَا، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى العَنَزَةِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ وَرَاءِ العَنَزَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5786

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ازار کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ دوزخ میں ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما أسفل من الکعبین فھو فی النار؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٧)

بَابُ مَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ مِنَ الإِزَارِ فَفِي النَّارِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5787

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف قیامت کے دن نظر نہیں فرماے گا جو تکبر کے سبب اپنی چادر کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٨)

بَابُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الخُيَلاَءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5788

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی یا ابو القاسم نے فرمایا کہ کوئی شخص حلہ پہن کر اور خود پر خوش ہو کر جا رہا تھا اور اپنے بالوں میں کنگھی کرتا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا،پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٩)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ، تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ، مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5789

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص غرور میں اپنا تہمد گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ اس کی متابعت یونس نے زہری سے کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٩٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ، إِذْ خُسِفَ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلَّلُ فِي الأَرْضِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ» تَابَعَهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5790

جریر بن زید نے بیان کیا کہ میں سالم بن عبداللہ بن عمر کے ساتھ ان کے گھر کے دروازے پر تھا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٧٧١ کےطرح بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ عَمِّهِ جَرِيرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - عَلَى بَابِ دَارِهِ - فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 0000

شعبہ نے بیان کیا،فرماتے ہیں میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور مکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا۔“ (شعبہ نے کہا کہ) میں نے محارب سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہبند کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تہبند یا قمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اور زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی اور نافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا (ازراہ تکبر) لٹکائے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩١)

حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الفَضْلِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: لَقِيتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ - عَلَى فَرَسٍ، وَهُوَ يَأْتِي مَكَانَهُ الَّذِي يَقْضِي فِيهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الحَدِيثِ - فَحَدَّثَنِي فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القِيَامَةِ» فَقُلْتُ لِمُحَارِبٍ: أَذَكَرَ إِزَارَهُ؟ قَالَ: مَا خَصَّ إِزَارًا وَلاَ قَمِيصًا تَابَعَهُ جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَزَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَهُ. وَتَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5791

زہری، ابوبکر بن محمد، حمزہ بن ابی اسید اور معاویہ بن عبداللہ بن جعفر سے منقول ہے کہ ان بزرگوں نے حاشیہ دارکپڑے پہنے ہیں۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ میں بھی بیٹھی ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے طلاق دے دی لیکن جب مدت طلاق پوری ہو گئی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا اور اللہ کی قسم یا رسول اللہ!ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہے مگر اس پھندنے جیسی اور اپنی چادر کا کنارا پکڑ کر دکھایا۔خالد بن سعید رضی اللہ عنہ جو دروازے پر کھڑے تھے اور انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہوئی تھی، اس نے بھی ان کی بات سنی۔ بیان کیا کہ خالد رضی اللہ عنہ (وہیں سے) بولے۔ ابوبکر! آپ اس عورت کو روکتے نہیں کہ کس طرح کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے لیکن اللہ کی قسم اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور بڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ (تمہارے دوسرے شوہر عبدالرحمٰن بن زبیر) تمہارا مزا نہ چکھ لیں اور تم ان کا مزا نہ چکھ لو پھر بعد میں یہی قانون بن گیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الازار المھذب؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٢)

بَابُ الإِزَارِ المُهَدَّبِ وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَحَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: «أَنَّهُمْ لَبِسُوا ثِيَابًا مُهَدَّبَةً» حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسَةٌ، وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، فَسَمِعَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ قَوْلَهَا وَهُوَ بِالْبَابِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، قَالَتْ: فَقَالَ خَالِدٌ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلاَ تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلاَ وَاللَّهِ مَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ» فَصَارَ سُنَّةً بَعْدُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5792

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے حرمت شراب سے پہلے شراب کے نشہ میں جب ان کی اونٹنی ذبح کر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر اس کی شکایت کی تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر تشریف لے چلنے لگے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے۔ آخر آپ اس گھر میں پہنچے جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہوں نے آپ حضرات کو اجازت دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاردیۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٣)

بَابُ الأَرْدِيَةِ وَقَالَ أَنَسٌ: «جَبَذَ أَعْرَابِيٌّ رِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ البَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5793

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی حکایت فرمایا:ترجمہ کنز الایمان"میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔(یوسف ٩٣) نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ!احرام باندھنے والا کس طرح کا کپڑا پہنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ،ٹوپی اور موزے نہیں پہنے گا ہاں جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن سکتا ہے لیکن وہ ٹخنوں سے نیچے ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٤)

بَابُ لُبْسِ القَمِيصِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى حِكَايَةً عَنْ يُوسُفَ: {اذْهَبُوا بِقَمِيصِي- هَذَا فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا} [يوسف: 93] حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَلْبَسُ المُحْرِمُ القَمِيصَ، وَلاَ السَّرَاوِيلَ، وَلاَ البُرْنُسَ، وَلاَ الخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لاَ يَجِدَ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ مَا هُوَ أَسْفَلُ مِنَ الكَعْبَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5794

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس جب اسے قبر میں داخل کیا جا چکا تھا تشریف لائے پھر آپ کے حکم سے اس کی لاش نکالی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر اسے رکھا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی اور اللہ ہی خوب جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، وَوُضِعَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5795

نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو اس کے لڑکے (عبداللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی قمیص مجھے عطا فرمائے تاکہ میں اپنے باپ کو اس کا کفن دوں اور آپ ان کی نماز جنازہ پڑھا دیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں عطا فرمائی اور فرمایا کہ نہلا دھلا کر مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ جب نہلا دھلا لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ہے؟چنانچہ ارشاد ہوا؛ ترجمہ کنز الایمان"تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ تعالیٰ ہر گز انھیں نہیں بخشے گے۔(التوبہ ٨٠)پس یہ آیت نازل ہوئی" اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا۔(التوبہ ٨٤) اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٦)

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ. فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ، وَقَالَ: «إِذَا فَرَغْتَ مِنْهُ فَآذِنَّا» فَلَمَّا فَرَغَ آذَنَهُ بِهِ، فَجَاءَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَجَذَبَهُ عُمَرُ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى المُنَافِقِينَ، فَقَالَ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} [التوبة: 80] فَنَزَلَتْ: {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: 84] فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5796

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں جیسی بیان فرمائی جن کے اوپر لوہے کی زرہیں ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ سینے کے ساتھ گلے سے لگے ہوئے ہوں۔پس صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کی متابعت ابن طاؤس نے اپنے والد سے کی ہے اور ابوالزناد نے اعرج سے کی ”دو جبوں“ کے ذکر کے ساتھ اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا"جبتان‏"اور جعفر نے اعرج کے واسطہ سے «جبتان‏.‏» کا لفظ بیان کیا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٧)

بَابُ جَيْبِ القَمِيصِ مِنْ عِنْدِ الصَّدْرِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلَ البَخِيلِ وَالمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ المُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ، حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ البَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ، وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ «هَكَذَا فِي جَيْبِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَوَسَّعُ» تَابَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ: «فِي الجُبَّتَيْنِ» وَقَالَ حَنْظَلَةُ: سَمِعْتُ طَاوُسًا: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «جُبَّتَانِ» وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ الأَعْرَجِ: «جُبَّتَانِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5797

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو میں پانی لے کر حاضر تھا۔ آپ نے وضو کیا آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور آپ اپنا چہرہ انور دھویا پھر اپنی آستینیں چڑھانے لگے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور انہیں دھویا اور سر پر اور موزوں پر مسح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من لبس جبۃ ضیقۃ الکمین فی السفر؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٨)

بَابُ مَنْ لَبِسَ جُبَّةً ضَيِّقَةَ الكُمَّيْنِ فِي السَّفَرِ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الضُّحَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي المُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: «انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَتَلَقَّيْتُهُ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ- وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ، فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَعَلَى خُفَّيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5798

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انور دھویا، ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھی چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو (کہنیوں تک) دھویا۔ پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس جبۃ الصوف فی الغزو؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٧٩٩)

بَابُ لُبْسِ جُبَّةِ الصُّوفِ فِي الغَزْوِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ المُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «أَمَعَكَ مَاءٌ» قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: «دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ» فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5799

یہ بھی قبا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا چاک پیچھے ہوتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں اپنے والد کو ساتھ لے کر چلا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کر دو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو آپ باہر تشریف لائے۔اور آپ کے اوپر ایک قبا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے ہی لیے رکھ چھوڑی تھی۔ مسور نے بیان کیا کہ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القباء وفروج حریر؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٠)

بَابُ القَبَاءِ وَفَرُّوجِ حَرِيرٍ وَهُوَ القَبَاءُ، وَيُقَالُ: هُوَ الَّذِي لَهُ شَقٌّ مِنْ خَلْفِهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيِّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: «خَبَأْتُ هَذَا لَكَ» قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5800

ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج (قباء) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا (ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير‏.‏»۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القباء وفروج حریر؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا، كَالكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ» تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: «فَرُّوجٌ حَرِيرٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5801

مسدد،معتمر،ان کے والد ماجد نے حضرت انس کو ریشمی ملی اونی زرد ٹوپی پہنے دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرانس؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٢)

بَابُ البَرَانِسِ وَقَالَ لِي مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى أَنَسٍ، بُرْنُسًا أَصْفَرَ مِنْ خَزٍّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5802

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!احرام باندھنے والا کس طرح کا کپڑا پہنے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محرم کے لیے) کہ قمیص نہ پہنو، نہ عمامے، نہ پاجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملے تو وہ (چمڑے کے) موزوں کو ٹخنہ سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگایا گیا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرانس؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْبَسُوا القُمُصَ، وَلاَ العَمَائِمَ، وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ، وَلاَ البَرَانِسَ، وَلاَ الخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ، وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلاَ الوَرْسُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5803

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (محرم کے بارے میں) فرمایا ”جسے تہبند نہ ملے وہ پاجامہ پہنے اور جسے چپل نہ ملیں وہ موزے پہنیں۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السراويل؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٤)

بَابُ السَّرَاوِيلِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5804

حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہمیں کس چیز کے پہننے کا حکم ہے؟ فرمایا کہ قمیص نہ پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے پہنو۔ البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہوں تو وہ چمڑے کے ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس لگا ہوا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السراويل؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ: «لاَ تَلْبَسُوا القَمِيصَ، وَالسَّرَاوِيلَ، وَالعَمَائِمَ، وَالبَرَانِسَ، وَالخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ نَعْلاَنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ، وَلاَ تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلاَ وَرْسٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5805

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے,نہ پاجامہ،نہ ٹوپی اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے (پھر پہنے)۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فی العمامۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٥؛حدیث نمبر ٥٨٠٦)

بَابٌ فِي العَمَائِمِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَلْبَسُ المُحْرِمُ القَمِيصَ، وَلاَ العِمَامَةَ، وَلاَ السَّرَاوِيلَ، وَلاَ البُرْنُسَ، وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلاَ وَرْسٌ، وَلاَ الخُفَّيْنِ إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُمَا فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5806

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں باہر تشریف لائے کہ سیاہ پٹی بندھی تھی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر چادر کا کنارہ باندھا۔ عروہ کا بیان ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے (ہجرت کی) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمر بند کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا پہنچے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التقنع؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٧)

بَابُ التَّقَنُّعِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ» وَقَالَ أَنَسٌ: «عَصَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ» حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: هَاجَرَ نَاسٌ إِلَى الحَبَشَةِ مِنَ المُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَتَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًا لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ» قَالَ: إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الخُرُوجِ» قَالَ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِالثَّمَنِ» قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الجِهَازِ، وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَأَتْ بِهِ الجِرَابَ، وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ. ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكُثَ فِيهِ ثَلاَثَ لَيَالٍ، يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ غُلاَمٌ شَابٌّ لَقِنٌ ثَقِفٌ، فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلاَ يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ، حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلاَمُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ، فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ العِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهِمَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلاَثِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5807

زہری نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے خود پہن رکھا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المغفر؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٨)

بَابُ المِغْفَرِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ المِغْفَرُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5808

حضرت خباب کا بیان ہے کہ ہم ایک مرض کی عرض لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ایک دھاری دار چادر سے ٹیک لگاے ہوے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر (یمن کے) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آ گیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجیئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٩)

بَابُ البُرُودِ وَالحِبَرَةِ وَالشَّمْلَةِ وَقَالَ خَبَّابٌ: «شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الحَاشِيَةِ»، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، حَتَّى «نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ البُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ»، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، «فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5809

ابوحازم نے بیان کیا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئیں (جو اس نے خود بنی تھی) سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ پردہ کیا تھا پھر بتلایا کہ یہ ایک اونی چادر تھی جس کے کناروں پر حاشیہ ہوتا ہے۔ ان خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند کے طور پر پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ جماعت صحابہ میں سے ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف) نے اس چادر کو چھوا اور عرض کی یا رسول اللہ! یہ مجھے عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ صحابہ نے اس پر ان سے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سائل کو محروم نہیں فرماتے۔ ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن ہو۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ وہ چادر اس صحابی کے کفن ہی میں استعمال ہوئی۔ حضرت خباب کا بیان ہے کہ ہم ایک مرض کی عرض لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ایک دھاری دار چادر سے ٹیک لگاے ہوے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ، قَالَ سَهْلٌ: هَلْ تَدْرِي مَا البُرْدَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ، فَجَسَّهَا رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِيهَا، قَالَ: «نَعَمْ» فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ فِي المَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ القَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ، سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهَا إِلَّا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ. قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5810

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے جنت میں ستر ہزار کی ایک جماعت داخل ہو گی ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی دھاری دار چادر سنبھالتے ہوئے اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! عکاشہ کو بھی انہیں میں سے بنا دے۔ اس کے بعد قبیلہ انصار کے ایک صحابی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے عکاشہ دعا کرا چکا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١١)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدْخُلُ الجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هِيَ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ القَمَرِ» فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، قَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «سَبَقَكَ عُكَاشَةُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5811

قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا کپڑا زیادہ پسند تھا؟حبرہ چادر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٢)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَيُّ الثِّيَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا؟ قَالَ: «الحِبَرَةُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5812

قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا کپڑا زیادہ پسند تھا؟حبرہ چادر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٣)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الحِبَرَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5813

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال(ظاہری)فرمایا تو آپ کے اوپر حبرہ چادر ڈالی ہوئی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٤)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5814

حضرت عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جب گرنے لگی تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٥)

بَابُ الأَكْسِيَةِ وَالخَمَائِصِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5815

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک نقشی چادر میں نماز پڑھی اور اس کے نقش و نگار پر نماز ہی میں ایک نظر ڈالی۔پھر سلام پھیر کر فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کو واپس دے دو۔ کیونکہ نماز کے دوران اس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور ابوجہم کی سادی چادر لیتے آؤ۔ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم بنی عدی بن کعب قبیلے میں سے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٦ و حدیث نمبر ٥٨١٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهُ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ غَانِمٍ، مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5816/5817

ابوبردہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء») اور ایک موٹا تہبند نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان ہی دو کپڑوں میں ہوا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: «قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5818

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب اشتمال الصماء؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٩)

بَابُ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُلاَمَسَةِ وَالمُنَابَذَةِ، وَعَنْ صَلاَتَيْنِ: بَعْدَ الفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ بِالثَّوْبِ الوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5819

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص (خریدار) دوسرے (بیچنے والے) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا (اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے (جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک) اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا (ایک چادر) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ دوسرا کندھا کھلا رہے اوردوسرے کندھا پر ڈالنے کے لئے کوئی کوئی کپڑا یا لباس نہ ہو۔ دوسرا لباس احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹ کر بیٹھ جانا کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب اشتمال الصماء؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، نَهَى عَنِ المُلاَمَسَةِ وَالمُنَابَذَةِ فِي البَيْعِ» وَالمُلاَمَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلاَ يُقَلِّبُهُ إِلَّا بِذَلِكَ. وَالمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ، وَيَنْبِذَ الآخَرُ ثَوْبَهُ، وَيَكُونَ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلاَ تَرَاضٍ، وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ، فَيَبْدُو أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ. وَاللِّبْسَةُ الأُخْرَى: احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5820

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ایک یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢١)

بَابُ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ بِالثَّوْبِ الوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ، وَعَنِ المُلاَمَسَةِ وَالمُنَابَذَةِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 2821

عبیداللہ بن عبداللہ،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور ایک کپڑے میں اس طرح لپیٹ کر بیٹھنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر کپڑے کو کوئی حصہ نہ ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5822

عمرو بن سعید بن عاص نے حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ طویل عرصہ تک پہنو حتیٰ کہ پرانا کر کے پھاڑو اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٣)

بَابُ الخَمِيصَةِ السَّوْدَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ فُلاَنٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ العَاصِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: «مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَكْسُوَ هَذِهِ» فَسَكَتَ القَوْمُ، قَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ، فَأَخَذَ الخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا، وَقَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ، هَذَا سَنَاهْ» وَسَنَاهْ بِالحَبَشِيَّةِ حَسَنٌ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5823

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور صبح اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا کر تحنیک کر وا لی جائے۔ چنانچہ صبح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية») تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ، انْظُرْ هَذَا الغُلاَمَ، فَلاَ يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، فَغَدَوْتُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْثِيَّةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الفَتْحِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5824

ایوب نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (اپنے شوہر کی) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات (چوٹ کے) دکھائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو (جیسا کہ عادت ہے) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہو گیا ہے۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ (ان کی) بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ہے چنانچہ وہ بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان سے کوئی اور شکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں) اس پر ان کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کی (جماع کے وقت)کھال بھی رگڑدیتا ہوں مگر یہ شریر ہے، یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ (رفاعہ) اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک یہ (عبدالرحمٰن دوسرے شوہر) تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ثیاب الخضر؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٥)

بَابُ ثِيَابِ الخُضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ القُرَظِيُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ، فَشَكَتْ إِلَيْهَا وَأَرَتْهَا خُضْرَةً بِجِلْدِهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَى المُؤْمِنَاتُ؟ لَجِلْدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ ثَوْبِهَا. قَالَ: وَسَمِعَ أَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبٍ، إِلَّا أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذِهِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهَا، فَقَالَ: كَذَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ -[149]-، إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ، تُرِيدُ رِفَاعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ تَحِلِّي لَهُ، أَوْ: لَمْ تَصْلُحِي لَهُ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ " قَالَ: وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ لَهُ، فَقَالَ: «بَنُوكَ هَؤُلاَءِ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ، فَوَاللَّهِ، لَهُمْ أَشْبَهُ بِهِ مِنَ الغُرَابِ بِالْغُرَابِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5825

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو (جو فرشتے تھے) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثیاب البیض؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٦)

بَابُ الثِّيَابِ البِيضِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ بِشِمَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَمِينِهِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يَوْمَ أُحُدٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5826

ابوالاسود دولی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر‏.‏») ضرور بیان کرتے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ بات قریب المرگ ہو یا اس سے قبل،جب بھی کوئی تائب اور نادم ہو اور کہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثیاب البیض؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنِ الحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ، وَهُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الجَنَّةَ " قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ» وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا عِنْدَ المَوْتِ، أَوْ قَبْلَهُ إِذَا تَابَ وَنَدِمَ، وَقَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، غُفِرَ لَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5827

قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب (خط) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے (اس میں لکھا تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے (مردوں کو) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے (کپڑے وغیرہ ریشم کے) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٨)

بَابُ لُبْسِ الحَرِيرِ وَافْتِرَاشِهِ لِلرِّجَالِ، وَقَدْرِ مَا يَجُوزُ مِنْهُ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ، وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الإِبْهَامَ، قَالَ: فِيمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الأَعْلاَمَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5828

عاصم نے بیان، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی۔ زہیر (راوی حدیث) نے بیچ کی اور شہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ الحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَصَفَّ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ، وَرَفَعَ زُهَيْرٌ الوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5829

سلیمان تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“ سلیمان تیمی کا بیان ہے کہ ابو عثمان نے ہم سے مذکورہ حدیث بیان کی،پھر ابو عثمان نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٩؛حدیث نمبر ٥٨٣٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُلْبَسُ الحَرِيرُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لَمْ يُلْبَسْ فِي الآخِرَةِ مِنْهُ» حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ وَأَشَارَ أَبُو عُثْمَانَ، بِإِصْبَعَيْهِ: المُسَبِّحَةِ وَالوُسْطَى

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5830

ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں (کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو) لیکن وہ نہیں مانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، ریشم اور دیباج ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے (مسلمانوں) کے لیے آخرت میں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٩؛حدیث نمبر ٥٨٣١)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ، بِالْمَدَايِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ وَالفِضَّةُ، وَالحَرِيرُ وَالدِّيبَاجُ، هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5831

عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا،فرماتے ہیں میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے زور سے فرمایا کہ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٢)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ شَدِيدًا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الآخِرَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5832

ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5833

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي ذِبْيَانَ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ» وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَتْ مُعَاذَةُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عَمْرٍو بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ: سَمِعَ عُمَرَ: سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5834

عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے معلوم کرو میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الحَرِيرِ فَقَالَتْ: ائْتِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: سَلْ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ» فَقُلْتُ: صَدَقَ، وَمَا كَذَبَ أَبُو حَفْصٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، وَقَصَّ الحَدِيثَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5835

اس کی زبیدی،زہری،حضرت انس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی (نرمی و ملائمت پر) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب مس الحریر من غیر لبس؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٦)

بَابُ مَسِّ الحَرِيرِ مِنْ غَيْرِ لُبْسٍ وَيُرْوَى فِيهِ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِيرٍ، فَجَعَلْنَا نَلْمُسُهُ وَنَتَعَجَّبُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5836

اور عبیدہ فرماتے ہیں کہ یہ پہننے کے حکم میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب افتراش الحریر؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٧)

بَابُ افْتِرَاشِ الحَرِيرِ وَقَالَ عَبِيدَةُ: «هُوَ كَلُبْسِهِ» حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5837

عاصم،ابوبردہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «قسي» کیا چیز ہے؟ بتلایا کہ یہ کپڑا تھا جو ہمارے یہاں (حجاز میں) شام یا مصر سے آتا تھا اس پر چوڑی ریشمی دھاریاں پڑی ہوتی تھیں اور اس پر ترنج جیسے نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور «ميثرة» زین پوش وہ کپڑا کہلاتا تھا جسے عورتیں ریشم سے اپنے شوہروں کے لیے بناتی تھیں۔ یہ جھالر دار چادر کی طرح ہوتی تھی وہ اسے زرد رنگ سے رنگ دیتی تھیں جیسے اوڑھنے کے رومال ہوتے ہیں اور جریر نے بیان کیا کہ ان سے زید نے بیان کیا کہ «قسية» وہ چوخانے کپڑے ہوتے تھے جو مصر سے منگوائے جاتے تھے اور اس میں ریشم ملا ہوا ہوتا تھا اور «ميثرة» درندوں کے چمڑے کے زین پوش۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ «ميثرة» کی تفسیر میں عاصم کی روایت کثرت طرق اور صحت کے اعتبار سے یہی زیادہ درست ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القسی؛جلد؛٧ص؛١٥١؛) معاویہ بن سوید بن مقرن نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میاثر اور قسی کپڑوں کے پہننے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القسی؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٣٨)

بَابُ لُبْسِ القَسِّيِّ وَقَالَ عَاصِمٌ: عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيٍّ: مَا القَسِّيَّةُ؟ قَالَ: ثِيَابٌ أَتَتْنَا مِنَ الشَّأْمِ، أَوْ مِنْ مِصْرَ، مُضَلَّعَةٌ فِيهَا حَرِيرٌ وَفِيهَا أَمْثَالُ الأُتْرُنْجِ، وَالمِيثَرَةُ: كَانَتِ النِّسَاءُ تَصْنَعُهُ لِبُعُولَتِهِنَّ، مِثْلَ القَطَائِفِ يُصَفِّرْنَهَا " وَقَالَ جَرِيرٌ: عَنْ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ: القَسِّيَّةُ: ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ فِيهَا الحَرِيرُ، وَالمِيثَرَةُ: جُلُودُ السِّبَاعِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «عَاصِمٌ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ فِي المِيثَرَةِ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المَيَاثِرِ الحُمْرِ وَالقَسِّيِّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5838

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کو ریشم پہننے کی اجازت دی تھی کیونکہ دونوں حضرات کو خارش تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یرخص للرجال من الحریر للحکۃ؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٣٩)

بَابُ مَا يُرَخَّصُ لِلرِّجَالِ مِنَ الحَرِيرِ لِلْحِكَّةِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي لُبْسِ الحَرِيرِ، لِحِكَّةٍ بِهِمَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5839

زید بن وہب کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عورتوں میں بانٹ دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤٠)

بَابُ الحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَسَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَرَأَيْتُ الغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5840

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا (عورتوں وغیرہ میں سے) کسی کو پہنا دو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ ابْتَعْتَهَا تَلْبَسُهَا لِلْوَفْدِ إِذَا أَتَوْكَ وَالجُمُعَةِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ» وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ حُلَّةً سِيَرَاءَ حَرِيرٍ كَسَاهَا إِيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا، أَوْ تَكْسُوَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5841

زہری کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے اوپر سرخ ریشمی چادر تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤٢)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: «أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بُرْدَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5842

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں منصوبہ سازی کی تھی، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن (مکہ کے راستہ میں) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں (وہ قضائے حاجت کے لیے) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا (اور ان کے حقوق) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں (اپنی بیٹی ام المؤمنین) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہو۔لیکن اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگے۔ انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے (بادشاہ وغیرہ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب (مدینہ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتجوز من اللباس والبسط؛جلد؛٧ص؛١٥٢؛حدیث نمبر ٥٨٤٣)

بَابُ مَا كَانَ- النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَجَوَّزُ مِنَ اللِّبَاسِ وَالبُسْطِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ، عَنِ المَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الأَرَاكَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ فَقَالَ: عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا فِي الجَاهِلِيَّةِ لاَ نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا، مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلاَمٌ، فَأَغْلَظَتْ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ؟ قَالَتْ: تَقُولُ هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا: إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ لَهَا، فَقَالَتْ: أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ؟ فَرَدَّدَتْ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا، فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِالأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، قُلْتُ لَهُ: وَمَا هُوَ، أَجَاءَ الغَسَّانِيُّ؟ قَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَجِئْتُ فَإِذَا البُكَاءُ مِنْ حُجَرِهِنَّ كُلِّهَا، وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَعَلَى بَابِ المَشْرُبَةِ وَصِيفٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِي، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، «فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ» فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ، «فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5843

ہند بنت حارث نے بیان کیا اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہوئی اور کیا کیا رحمتیں نازل ہوئی۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہند کی آستینوں میں انگلیوں کے قریب بٹن لگے ہوئے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتجوز من اللباس والبسط؛جلد؛٧ص؛١٥٢؛حدیث نمبر ٥٨٤٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يَقُولُ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الفِتْنَةِ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الخَزَائِنِ، مَنْ- يُوقِظُ صَوَاحِبَ الحُجُرَاتِ، كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ يَوْمَ القِيَامَةِ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَكَانَتْ هِنْدٌ لَهَا أَزْرَارٌ فِي كُمَّيْهَا بَيْنَ أَصَابِعِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5844

سعید بن عمرو نے حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک کالی چادر بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، کسے یہ چادر دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد کو بلا لاؤ۔ چنانچہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور مجھے وہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عنایت فرمائی اور فرمایا طویل عرصہ تک پہنو دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر آپ اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ام خالد! «سنا ‏"‌‏.‏ والسنا» یہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا ہے اچھا ہے۔ اسحاق بن سعید نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے گھر کی ایک عورت نے بیان کیا کہا کہ انہوں نے وہ چادر ام خالد رضی اللہ عنہا کے پاس دیکھی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یدعی لمن لبس ثوبا جدیدا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٥)

بَابُ مَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ العَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، قَالَ: «مَنْ تَرَوْنَ نَكْسُوهَا هَذِهِ الخَمِيصَةَ» فَأُسْكِتَ القَوْمُ، قَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْبَسَنِيهَا بِيَدِهِ، وَقَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي» مَرَّتَيْنِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمِ الخَمِيصَةِ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَيَّ وَيَقُولُ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا وَيَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا» وَالسَّنَا بِلِسَانِ الحَبَشِيَّةِ الحَسَنُ قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي: أَنَّهَا رَأَتْهُ عَلَى أُمِّ خَالِدٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5845

مسدد،عبد الوارث،عبد العزيز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ کے کپڑے سے ممانعت فرمائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النھی عن التزعفران للرجال؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٦)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5846

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو ورس اور زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثوب المزعفر؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٧)

بَابُ الثَّوْبِ المُزَعْفَرِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ المُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ بِزَعْفَرَانٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5847

ابواسحاق کا بیان ہے کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ حلے میں دیکھا آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثوب الاحمر؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٨)

بَابُ الثَّوْبِ الأَحْمَرِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ البَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5848

معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کیا کہ ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب(یرحمک اللہ سے)دینے کا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب اللباس،بَابُ المِيثَرَةِ الحَمْرَاءِ،حدیث نمبر ٥٨٤٩)

بَابُ المِيثَرَةِ الحَمْرَاءِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: عِيَادَةِ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: عَنْ لُبْسِ الحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالقَسِّيِّ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَالمَيَاثِرِ الحُمْرِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5849

سعید ابو مسلمہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔فرمایا ہاں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٥٠)

بَابُ النِّعَالِ السِّبْتِيَّةِ وَغَيْرِهَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5850

عبید بن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں آپ کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھتا ہوں جو میں نے آپ کے کسی ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن جریج! وہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (خانہ کعبہ کے) کسی کونے کو طواف میں ہاتھ نہیں لگاتے صرف دو ارکان یمانی (یعنی صرف رکن یمانی اور حجر اسود) کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صاف زین کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا کپڑا زرد رنگ سے رنگتے ہیں یا زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں ہوتے ہیں تو سب لوگ تو ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں لیکن آپ احرام نہیں باندھتے بلکہ ترویہ کے دن(8 ذی الحجہ کو)کو احرام باندھتے ہیں۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ خانہ کعبہ کے ارکان کے متعلق جو تم نے کہا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوتے دیکھا۔ صاف تری کے چمڑے کے جوتوں کے متعلق جو تم نے پوچھا تو میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی چمڑے کا جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ اس کو پہنے ہوئے وضو کرتے تھے اس لیے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ ایسا ہی جوتا استعمال کروں۔ زرد رنگ کے متعلق تم نے جو کہا ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خضاب کرتے یا کپڑے رنگتے دیکھا ہے اس لیے میں بھی اس زرد رنگ کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام باندھنے کا مسئلہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی وقت احرام باندھتے جب اونٹ پر سوار ہو کر جانے لگتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٥١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلَّا اليَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ، أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الأَرْكَانُ: " فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا اليَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ:فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الإِهْلاَلُ: فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5851

عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے ہی پہن لیں لیکن ان کو ٹخنے کے نیچے تک کاٹ دیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ المُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ. وَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5852

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جس کو چادر میسر نہ ہو تو شلوار پہن لے اور جس کو جوتے نہ مل سکیں تو وہ موزے پہن لے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِزَارٌ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَعْلاَنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5053

مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے،کنگھی کرنے اور جوتا پہننے میں داہنی طرف سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب یبدا بالنعل الیمنی؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٤)

بَابُ يَبْدَأُ بِالنَّعْلِ اليُمْنَى حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَتَنَعُّلِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5854

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو داہنی طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے شروع کرے تاکہ دایاں پاؤں پہننے میں اول اور اتارنے میں آخری رہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ینزع نعلہ الیسری؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٥)

بَابُ يَنْزِعُ نَعْلَهُ اليُسْرَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِاليَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، لِيَكُنِ اليُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5855

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛کوئی تم میں سے ایک جوتا پہن کر نہ چلے چاہیے کہ دونوں جوتے اتارے یا دونوں پہنے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لا یمشی فی نعل واحدۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٦)

بَابُ لاَ يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5856

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک میں دو تسمے ہوتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قبالان فی نعل ومن رای قبالا واحدا واسعا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٧)

بَابُ قِبَالاَنِ فِي نَعْلٍ، وَمَنْ رَأَى قِبَالًا وَاحِدًا وَاسِعًا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالاَنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5857

عیسیٰ بن طہمان کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس جوتے پہن کر تشریف لائے جن دو دو تسمے تھے تو ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قبالان فی نعل ومن رای قبالا واحدا واسعا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، بِنَعْلَيْنِ لَهُمَا قِبَالاَنِ فَقَالَ ثَابِتٌ البُنَانِيُّ: «هَذِهِ نَعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5858

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں تشریف فرما تھے اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لیے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو لینے میں ایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو کچھ پانی مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے بدن پر لگا لیتا ہے اور جسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی کو لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القبۃ الحمراء من ادم؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٩)

بَابُ القُبَّةِ الحَمْرَاءِ مِنْ أَدَمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلًا أَخَذَ وَضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَبْتَدِرُونَ الوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5859

زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں ایک قبے میں ایک جگہ جمع کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القبۃ الحمراء من ادم؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ وَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5860

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ (رات کی نماز کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں تھکتا مگر تم (عمل سے) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الجلوس علی الحصیر ونحوہ؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦١)

بَابُ الجُلُوسِ عَلَى الحَصِيرِ وَنَحْوِهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ حَتَّى كَثُرُوا، فَأَقْبَلَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5861

لیث،ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لے آؤ۔میں نے اسے گستاخ شمار کیا اور عرض کی کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں؟فرمایا کہ بیٹے!وہ ظالم حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں۔چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر دیباج کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی بٹن لگی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المزرر بالذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٢)

بَابُ المُزَرَّرِ بِالذَّهَبِ وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ مَخْرَمَةَ قَالَ لَهُ: يَا بُنَيِّ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ عَلَيْهِ أَقْبِيَةٌ فَهُوَ يَقْسِمُهَا، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ، فَذَهَبْنَا فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ لِي: يَا بُنَيِّ ادْعُ لِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْظَمْتُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: يَا بُنَيِّ، إِنَّهُ لَيْسَ بِجَبَّارٍ، فَدَعَوْتُهُ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرٌ بِالذَّهَبِ، فَقَالَ: «يَا مَخْرَمَةُ، هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ» فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5862

معاویہ بن سوید بن مقرن کا بیان ہے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں سے روکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے یا راوی نے کہا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم سے، استبرق سے، دیباج سے، سرخ میثرہ سے، قسی سے اور چاندی کے برتن سے منع فرمایا تھا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں یعنی بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، (کسی بات پر) قسم کو پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٣)

بَابُ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ البَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبْعٍ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ " أَوْ قَالَ: " حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الحَرِيرِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالمِيثَرَةِ الحَمْرَاءِ، وَالقَسِّيِّ، وَآنِيَةِ الفِضَّةِ. وَأَمَرَنَا بِسَبْعٍ: بِعِيَادَةِ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلاَمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ المُقْسِمِ، وَنَصْرِ المَظْلُومِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5863

بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے ممانعت فرمائی ہے۔عمر،شعبہ،قتادہ،نضر نے بشیر بن نمیک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ» وَقَالَ عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ: سَمِعَ النَّضْرَ: سَمِعَ بَشِيرًا، مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5864

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔لہذا آپ نے وہ اتار دی اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ، فَرَمَى بِهِ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5865

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر «محمد رسول الله‏.‏» کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لی تو آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس انگوٹھی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنا پھر عمر رضی اللہ عنہ اور پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنا۔ آخر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گر گئی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٦)

بَابُ خَاتَمِ الفِضَّةِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، وَنَقَشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ مِثْلَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ وَقَالَ: «لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا». ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الفِضَّةِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَبِسَ الخَاتَمَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، حَتَّى وَقَعَ مِنْ عُثْمَانَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5866

حضرت عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنی لیکن پھر اتار دی اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَنَبَذَهُ فَقَالَ: «لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا» فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5867

ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کر دیں اور پہننے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دی۔ اس روایت کی متابعت ابراہیم بن سعد، زیاد اور شعیب نے زہری سے کی ہے اور ابن مسافر نے زہری سے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ «خاتما من ورق‏.» بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٨)

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اصْطَنَعُوا الخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ» تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَزِيَادٌ، وَشُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ ابْنُ مُسَافِرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَرَى: خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5868

حمید کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات تک تاخیر کر دی۔پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کے انتظار میں رہوگے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فص الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٩)

بَابُ فَصِّ الخَاتَمِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ العِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5869

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی اور اس میں نگینہ بھی تھا،یحییٰ،ایوب،حمید،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فص الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٧٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ» وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ: سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5870

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی زوجیت میں لینے کی حاجت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ وہ ایک تہبند پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر (کرتے کی جگہ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہبند مہر میں دے دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہبند یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الحدید؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٧١)

بَابُ خَاتَمِ الحَدِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: جِئْتُ أَهَبُ نَفْسِي، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَنَظَرَ وَصَوَّبَ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: «عِنْدَكَ شَيْءٌ تُصْدِقُهَا؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «انْظُرْ» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ قَالَ: لاَ وَاللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: أُصْدِقُهَا إِزَارِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِزَارُكَ إِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ» فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَلَسَ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ: «مَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ» قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَكَذَا، لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا، قَالَ: «قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5871

قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے کچھ لوگوں (شاہان عجم) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ جس پر یہ کندہ تھا «محمد رسول الله» ۔ گویا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقش الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٢)

بَابُ نَقْشِ الخَاتَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى رَهْطٍ، أَوْ أُنَاسٍ مِنَ الأَعَاجِمِ»، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لاَ يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، " فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، نَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنِّي بِوَبِيصِ، أَوْ بِبَصِيصِ الخَاتَمِ فِي إِصْبَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ فِي كَفِّهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5872

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش «محمد رسول الله» تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقش الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ بَعْدُ فِي بِئْرِ أَرِيسَ، نَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5873

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( «محمد رسول الله») کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پر کوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخاتم فی الخنصر؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٤)

بَابُ الخَاتَمِ فِي الخِنْصَرِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، قَالَ: «إِنَّا اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلاَ يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ» قَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5874

قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (کے بادشاہ کو) خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ اتِّخَاذُ الْخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّيْءُ، أَوْ لِيُكْتَبَ بِهِ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ وَغَيْرِهِمْ؛ترجمہ؛انگوٹھی کسی ضرورت سے مثلاً مہر کرنے کے لیے یا اہل کتاب وغیرہ کو خطوط لکھنے کے لیے بنانا؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٥)

بَابُ اتِّخَاذِ الخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّيْءُ، أَوْ لِيُكْتَبَ بِهِ إِلَى أَهْلِ الكِتَابِ وَغَيْرِهِمْ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَقْرَءُوا كِتَابَكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5875

نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور جب اسے پہنتے تو نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی لیکن اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ کا قول ہے کہ نافع نے ”داہنے ہاتھ میں“ بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جعل فص الخاتم فی بطن کفہ؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٦)

بَابُ مَنْ جَعَلَ فَصَّ الخَاتَمِ فِي بَطْنِ كَفِّهِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَاصْطَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَقِيَ المِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ اصْطَنَعْتُهُ، وَإِنِّي لاَ أَلْبَسُهُ» فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ قَالَ جُوَيْرِيَةُ: وَلاَ أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ: فِي يَدِهِ اليُمْنَى

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5876

عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کروایا«محمد رسول الله» اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر «محمد رسول الله» نقش کروایا ہے۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کرواے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛لا ینقش علی نفسہ خاتمہ؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٧)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَنْقُشُ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِهِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: «إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلاَ يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5877

ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے میرے لیے خط لکھا اور انگوٹھی (مہر) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں ”محمد“ دوسری سطر میں ”رسول“ اور تیسری سطر میں ”اللہ“۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ھل یجعل نقش الخاتم ثلاثۃ اسطر؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٧٨)

بَابٌ: هَلْ يُجْعَلُ نَقْشُ الخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ، " وَكَانَ نَقْشُ الخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5878

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ (کنویں میں) گر گئی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ھل یجعل نقش الخاتم ثلاثۃ اسطر؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٧٩)

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَزَادَنِي أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ، وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَفِي يَدِ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ، جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسَ قَالَ: فَأَخْرَجَ الخَاتَمَ فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِهِ فَسَقَطَ، قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مَعَ عُثْمَانَ، فَنَزَحَ البِئْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5879

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سونے کی انگوٹھیاں پہنیں۔ طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے (اور صدقہ کی ترغیب دلائی) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخاتم للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٠)

بَابُ الخَاتَمِ لِلنِّسَاءِ وَكَانَ عَلَى عَائِشَةَ، خَوَاتِيمُ ذَهَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: «فَأَتَى النِّسَاءَ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الفَتَخَ وَالخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5880

سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں،کڑے صدقہ میں دینے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القلائد والسخاب للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨١)

بَابُ القَلاَئِدِ وَالسِّخَابِ لِلنِّسَاءِ يَعْنِي قِلاَدَةً مِنْ طِيبٍ وَسُكٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ المَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5881

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار (جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو (وضو کے بغیر) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب استعارۃ القلائد؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٢)

بَابُ اسْتِعَارَةِ القَلاَئِدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «هَلَكَتْ قِلاَدَةٌ لِأَسْمَاءَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهَا رِجَالًا، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ، وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ» زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5882

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں اور گلوں کی طرف بڑھا رہی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القرط للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛) سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھائیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد پھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے، آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القرط للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٣)

بَابُ القُرْطِ لِلنِّسَاءِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَمَرَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ» حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى يَوْمَ العِيدِ رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ المَرْأَةُ تُلْقِي قُرْطَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5883

نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منا کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ حسن بن علی کو بلاؤ چناچہ حسن بن علی کھڑے ہوئے اور چل پڑے اور ان کی گردن میں سخاب تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پھیلا کر فرمایا کہ ایسے۔امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلا کر کہا کہ ایسے چناچہ آپ نے اسے سینے سے لگا کر کہا اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السخاب للصبیان؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٤)

بَابُ السِّخَابِ لِلصِّبْيَانِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ المَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ: «أَيْنَ لُكَعُ - ثَلاَثًا - ادْعُ الحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ». فَقَامَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5884

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو زنانی مشابہت اختیار کرے اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردانی مشابہت کریں۔ عمرو بن مرزوق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ہمیں شعبہ نے خبر دی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الْمُتَشَبِّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتُ بِالرِّجَالِ:؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٥)

بَابٌ: المُتَشَبِّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتُ بِالرِّجَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ» تَابَعَهُ عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5885

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکالا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ إِخْرَاجِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الْبُيُوتِ؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٦)

بَابُ إِخْرَاجِ المُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ البُيُوتِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالمُتَرَجِّلاَتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ: «أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ» قَالَ: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلاَنًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلاَنًا

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5886

زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان (بادیہ نامی) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو (اس کے موٹاپے کی وجہ سے) چار بل پڑتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ بل پڑتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سامنے سے چار بل کا مطلب یہ ہے کہ (موٹے ہونے کی وجہ سے) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے (آگے کی) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان‏» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية‏.‏» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»، «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان‏» بھی کہنا درست ہوا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ إِخْرَاجِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الْبُيُوتِ؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٧)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي البَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ، يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا، فَهِيَ تُقْبِلُ بِهِنَّ، وَقَوْلُهُ: وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، يَعْنِي أَطْرَافَ هَذِهِ العُكَنِ الأَرْبَعِ، لِأَنَّهَا مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ، وَإِنَّمَا قَالَ بِثَمَانٍ، وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ، وَوَاحِدُ الأَطْرَافِ، وَهُوَ ذَكَرٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5887

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی مونچھیں اتنی ترشواے کہ جلد نظر آنے لگتی تھی نیز داڑھی اور مونچھیں کے درمیانی بال ترشوا دیتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مونچھوں کا ترشوانا فطرت میں سے ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٨٨)

بَابُ قَصِّ الشَّارِبِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يُحْفِي شَارِبَهُ حَتَّى يُنْظَرَ إِلَى بَيَاضِ الجِلْدِ، وَيَأْخُذُ هَذَيْنِ، يَعْنِي بَيْنَ الشَّارِبِ وَاللِّحْيَةِ حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، ح قَالَ أَصْحَابُنَا: عَنِ المَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5888

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے)روایت کیا کہ پانچ چیزیں ہیں یا فرمایا کہ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھیں پست کرنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٨٩)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً: " الفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الفِطْرَةِ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5889

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛فطرت میں سے موے زیر ناف کا صاف کرنا،ناخن تراشنا اور مونچھوں کا کتروانا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٠)

بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنَ الفِطْرَةِ: حَلْقُ العَانَةِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5890

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ فطرت پانچ باتیں ہیں ختنہ کروانا،موئے زیر ناف کی صفائی کرنا،مونچھیں تراشنا ناخن کٹوانا اور بغل کے بال اکھاڑنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الآبَاطِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5891

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھی بڑھاؤ مونچھیں تراشواو اور جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جتنی زائد ہوتی اسے ترشوا دیتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5892

ترجمہ کنز الایمان؛معاف کرنے والا۔زیادہ اور بہت زیادہ مال۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب إعفاء اللحی؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٣)

بَابُ إِعْفَاءِ اللِّحَى {عَفَوْا} [النساء: 43]: «كَثُرُوا وَكَثُرَتْ أَمْوَالُهُمْ» حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5893

محمد بن سیرین کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے معلوم کیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگایا کرتے تھے؟فرمایا کہ آپ بڑھاپے کے نزدیک بہت کم پہنچے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٤)

بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الشَّيْبِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: أَخَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ إِلَّا قَلِيلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5894

ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ خضاب کی عمر کو پہنچے ہی تھے اگر میں چاہتا تو آپ کی داڑھی مبارک کے سفید بالوں کو شمار کر سکتا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ، عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يَخْضِبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5895

اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک تھے۔عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٦)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ - وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلاَثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ - فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ، فَاطَّلَعْتُ فِي الجُلْجُلِ، فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5896

سلام کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عبد اللہ بن موہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہ ہماری جانب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خضاب والا موے مبارک لے کر آئیں۔لیکن ہم سے ابو نعیم،نصیر بن ابو الاشعب نے ابن موہب سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سرخ بال دکھایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٧ و حدیث نمبر ٥٨٩٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، «- فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعَرًا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا» وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَرَتْهُ «شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5897/5898

ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛بیشک یہود و نصاریٰ خضاب نہیں کرتے لہٰذا تم ان کی مخالفت کیا کرو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخضاب؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٨٩٩)

بَابُ الخِضَابِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5899

ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ پست قد نہ آپ بہت زیادہ سفید تھے اور نہ بالکل گندمی رنگ والے نہ آپ کے بال گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٠)

بَابُ الجَعْدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ البَائِنِ، وَلاَ بِالقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ القَطَطِ، وَلاَ بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5900

ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئےسنا، انہوں نے بیان کہا کہ میں نے سرخ حلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) مجھ سے میرے بعض اصحاب نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک کبھی شانہ مبارک کے قریب ہوتے تھے۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ سے زیادہ یہ حدیث بیان کرتے سنا جب بھی وہ یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ اس روایت کی متابعت شعبہ نے کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے کانوں کی لو تک تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠١)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ البَرَاءَ، يَقُولُ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي، عَنْ مَالِكٍ: «إِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ» قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: - «سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلَّا ضَحِكَ -» قَالَ شُعْبَةُ: «شَعَرُهُ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5901

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات خانہ کعبہ کے پاس خواب میں ایک شخص دکھایا گیا میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ، كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ، أَعْوَرِ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ الدَّجَّالُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5902

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے مبارک شانوں تک ہوا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حِبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5903

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے مبارک شانوں تک ہوا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، «كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5904

قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ مکمل گھنگھریالے بلکہ ان کے درمیان میں تھے جو کبھی کان تک ہوتے اور کبھی کندھوں تک۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٥)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا، لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلاَ الجَعْدِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5905

قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھ پر گوشت تھے اور آپ کے بعد میں دوسرا اور کوئی نہیں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک نہ بالکل گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان کے درمیان میں تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ اليَدَيْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا، لاَ جَعْدَ وَلاَ سَبِطَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5906

قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھ اور دونوں مبارک پاؤں پر گوشت تھے چہرہ انور اتنا حسین تھا کہ آپ جیسے نہ میں نے پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد اور آپ کی مبارک ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ اليَدَيْنِ وَالقَدَمَيْنِ، حَسَنَ الوَجْهِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ بَسِطَ الكَفَّيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5907

قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اور ایک شخص کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں پر گوشت تھے۔چہرہ انور اتنا حسین کہ میں نے آپ کے بعد ایسا اور کوئی نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٨ و حدیث نمبر ٥٩٠٩)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ القَدَمَيْنِ، حَسَنَ الوَجْهِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5908/5909

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پیر مبارک اور ہتھیلیاں مبارک پر گوشت تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٠)

وَقَالَ هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَثْنَ القَدَمَيْنِ وَالكَفَّيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5910

حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیاں مبارک اور دونوں پاؤں مبارک پر گوشت تھے۔بعد میں ایسا کوئی نہیں دیکھا جو آپ سے بالکل مشابہت رکھتا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١١ و حدیث نمبر ٥٩١٢)

وَقَالَ أَبُو هِلاَلٍ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الكَفَّيْنِ وَالقَدَمَيْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ شَبَهًا لَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5911/5912

مجاہد نے بیان کیا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ ”کافر“ لکھا ہو گا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تمہیں ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے صاحب (خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھو (کہ آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں)اور حضرت موسیٰ گندمی رنگت کے،گھنگھریالے بالوں والے اور سرخ اونٹ پر سوار ہوں گے۔گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں جبکہ وہ وادی میں اتر کر تلبیہ پڑھیں گے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاكَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: «أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الوَادِي يُلَبِّي»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5913

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے (وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بال جماتے دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٤)

بَابُ التَّلْبِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقْ، وَلاَ تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5914

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال جما لیے تھے اور احرام کے وقت یوں آپ لبیک کہہ رہے تھے «لبيك اللهم لبيك،‌‌‌‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‌‌‌‏ إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ان کلمات کے اوپر اور کچھ آپ نہیں بڑھاتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٥)

حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ» لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الكَلِمَاتِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5915

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ عمرہ کر کے احرام کھول چکے ہیں حالانکہ آپ نے احرام نہیں کھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے۔ اس لیے جب تک میری قربانی کا نحر نہ ہو لے میں احرام نہیں کھول سکتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٦)

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5916

عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس کام میں اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے جس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا گیا ہو۔چناچہ اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکاتے جبکہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گیسوئے مبارک کو لٹکایا کرتے لیکن پھرمانگ نکالنے لگے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الفرق؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٧)

بَابُ الفَرْقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ، وَكَانَ أَهْلُ الكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ المُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، فَسَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5917

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا؛گویا میں اب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مانگ میں خوشبو دار چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ حالت احرام میں ہیں۔عبد اللہ بن رجا نے مفرق النبی کہا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الفرق؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5918

حضرت سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس رات انہیں کے ہاں باری تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی داہنی طرف کر دیا۔ عمرو بن ہشیم،ابو بشر نے اسی طرح روایت کر کے کہا کہ میرے گیسوئے کو پکڑ کر یا میرے سر کو پکڑ کر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الذوائب؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٩)

بَابُ الذَّوَائِبِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الحَارِثِ خَالَتِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، قَالَ: «فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ» قَالَ: «فَأَخَذَ بِذُؤَابَتِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ» حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ: بِهَذَا، وَقَالَ: بِذُؤَابَتِي، أَوْ بِرَأْسِي

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5919

نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے «قزع‏.‏» سے منع فرمایا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ «قزع‏.‏» کیا ہے؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے۔ (تو اسے «قزع‏.‏» کہتے ہیں) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن «قزع‏.‏» یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القزع؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٠)

بَابُ القَزَعِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ القَزَعِ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: وَمَا القَزَعُ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: إِذَا حَلَقَ الصَّبِيَّ، وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَهَا هُنَا وَهَا هُنَا، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ. قِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: فَالْجَارِيَةُ وَالغُلاَمُ؟ قَالَ: لاَ أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ: الصَّبِيُّ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ: أَمَّا القُصَّةُ وَالقَفَا لِلْغُلاَمِ فَلاَ بَأْسَ بِهِمَا، وَلَكِنَّ القَزَعَ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ غَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا وَهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5920

عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی کہ سر کے کچھ بال مونڈے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القزع؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢١)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ القَزَعِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5921

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام میں رہنے کے لیے اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی میں نے اسی طرح (دسویں تاریخ کو) منیٰ میں طواف زیارت کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے آپ کو خوشبو لگائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تطییب المرآۃ زوجھا بیدھا؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٢)

بَابُ تَطْيِيبِ المَرْأَةِ زَوْجَهَا بِيَدَيْهَا حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «طَيَّبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ، وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5922

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الطیب فی الراس واللحیۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٣)

بَابُ الطِّيبِ فِي الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5923

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا اذن (اجازت) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر (کسی کے) ستر پر نہ پڑے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الامتشاط؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٤)

بَابُ الِامْتِشَاطِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى فَقَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الأَبْصَارِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5924

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حالت حیض کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھا کرتی تھی۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ترجیل الحائض زوجھا؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٥)

بَابُ تَرْجِيلِ الحَائِضِ زَوْجَهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ» حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5925

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الترجیل والتیمن؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٦)

بَابُ التَّرْجِيلِ وَالتَّيَمُّنِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ، فِي تَرَجُّلِهِ وَوُضُوئِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5926

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔" (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی المسک؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٧)

بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي المِسْكِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5927

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یستحب من الطیب؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٨)

بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الطِّيبِ حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5928

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (جب ان کو) خوشبو (ہدیہ کی جاتی تو) آپ وہ واپس نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من لم یر الطیب؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٩)

بَابُ مَنْ لَمْ يَرُدَّ الطِّيبَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5929

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ (ایک قسم کی مرکب) خوشبو لگائی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الذریرۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٣٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5930

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه‏» ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المتفلجات للحسن؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٣١)

بَابُ المُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى» مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ} [الحشر: 7]

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5931

حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٢)

بَابُ الوَصْلِ فِي الشَّعَرِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ، وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ»،

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5932

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٣)

وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5933

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے صفیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٤)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ» تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5934

منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت فرمائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٥)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ المِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَنْكَحْتُ ابْنَتِي، ثُمَّ أَصَابَهَا شَكْوَى، فَتَمَرَّقَ رَأْسُهَا، وَزَوْجُهَا يَسْتَحِثُّنِي بِهَا، أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا؟ " فَسَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5935

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٦)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5936

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں پر، جڑوانے والیوں پر، گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ نافع نے کہا کہ گودنا کبھی مسوڑے پر بھی گودا جاتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ» وَقَالَ نَافِعٌ: «الوَشْمُ فِي اللِّثَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5937

عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور‏.‏» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٨)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ المَدِينَةَ، آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا، فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ اليَهُودِ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ. يَعْنِي الوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5938

علقمہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، ان سب پر لعنت فرمائی تو ام یعقوب نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور کتاب اللہ میں اس پر لعنت موجود ہے۔ ام یعقوب نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا اور کہیں بھی ایسی کوئی آیت مجھے نہیں ملی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم کو یہ آیت معلوم نہیں «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا‏» یعنی ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے بھی تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“(الحشر؛٧) (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المتنمصات؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٣٩)

بَابُ المُتَنَمِّصَاتِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «لَعَنَ عَبْدُ اللَّهِ، الوَاشِمَاتِ وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» فَقَالَتْ أُمُّ يَعْقُوبَ: مَا هَذَا؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَمَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ، وَفِي كِتَابِ اللَّهِ؟» قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: " وَاللَّهِ لَئِنْ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5939

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٠)

بَابُ المَوْصُولَةِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5940

ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کو لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤١)

حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ المُنْذِرِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الحَصْبَةُ، فَامَّرَقَ شَعَرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمَوْصُولَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5941

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٢)

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَاشِمَةُ وَالمُوتَشِمَةُ، وَالوَاصِلَةُ وَالمُسْتَوْصِلَةُ» يَعْنِي: لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5942

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» مَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5943

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور کی حدیث ذکر کی جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں نے بھی منصور کی حدیث کی طرح ام یعقوب سے سنا ہے وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الواشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٤)

حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «العَيْنُ حَقٌّ» وَنَهَى عَنِ الوَشْمِ حَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، حَدِيثَ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ أُمِّ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5944

عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اور سود لینے والے اور دینے والے، گودنے والی اور گودانے والی (پر لعنت فرمائی ہے)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الواشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي، فَقَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الكَلْبِ، وَآكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ، وَالوَاشِمَةِ وَالمُسْتَوْشِمَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5945

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنے کا کام کرتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے (اور اس وقت موجود صحابہ سے) کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی نے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گودنے کے متعلق سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: امیرالمؤمنین! میں نے سنا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا سنا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ گودنے کا کام نہ کرو اور نہ گدواؤ۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٦)

بَابُ المُسْتَوْشِمَةِ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، فَقَامَ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، مَنْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الوَشْمِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ أَنَا سَمِعْتُ، قَالَ: مَا سَمِعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ تَشِمْنَ وَلاَ تَسْتَوْشِمْنَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5946

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5947

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» مَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5948

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہوں۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٩)

بَابُ التَّصَاوِيرِ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيرُ» وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5949

سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب عذاب المصورين یوم القیامۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٠)

بَابُ عَذَابِ المُصَوِّرِينَ يَوْمَ القِيَامَةِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ، فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ المُصَوِّرُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5950

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ تصویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب عذاب المصورين یوم القیامۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥١)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5951

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس میں تصویر والی کوئی چیز نہ چھوڑتے مگر اسے توڑ دیتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقض الصور؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٢)

بَابُ نَقْضِ الصُّوَرِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5952

ابوزرعہ نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں، میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں (مروان بن حکم کے گھر میں) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ! کیا (بغل تک دھونے کے بارے میں) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقض الصور؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، دَارًا بِالْمَدِينَةِ، فَرَأَى أَعْلاَهَا مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً» ثُمَّ دَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ إِبْطَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مُنْتَهَى الحِلْيَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5953

سفیان بن عیینہ نے بیان کیا،کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (قاسم بن ابی بکر) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر(غزوہ تبوک)سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو تو شک بنالیں۔ (بخاری شریف ،کتاب اللباس،بَابُ مَا وُطِئَ مِنَ التَّصَاوِيرِ،حدیث نمبر ٥٩٥٤)

بَابُ مَا وُطِئَ مِنَ التَّصَاوِيرِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ القَاسِمِ، وَمَا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهَا تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ وَقَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ» قَالَتْ: فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5954

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من وطی من التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَعَلَّقْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْزِعَهُ فَنَزَعْتُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5955

اور میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من وطی من التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٦)

وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5956

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویر کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویر ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٧)

بَابُ مَنْ كَرِهَ القُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَقُلْتُ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ، قَالَ: «مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ» قُلْتُ: لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَإِنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5957

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔“ بسر نے بیان کیا کہ (اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد) پھر حضرت زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے کپڑے کے نقوش کو مستثنٰی کیا تھا اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ» قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ، فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ، رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ: «إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ» وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ الحَارِثِ، حَدَّثَهُ بُكَيْرٌ، حَدَّثَهُ بُسْرٌ، حَدَّثَهُ زَيْدٌ، حَدَّثَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5958

عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا۔ اسے انہوں نے گھر کے ایک کنارے پر لٹکا دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ نکال ڈال،کیونکہ اس پردے کی تصویریں نماز میں میرے سامنے ہوتی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الصَّلاَةِ فِي التَّصَاوِيرِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٩)

بَابُ كَرَاهِيَةِ الصَّلاَةِ فِي التَّصَاوِيرِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ، سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمِيطِي عَنِّي، فَإِنَّهُ لاَ تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلاَتِي»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5959

سالم سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں(ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ ایک وقت پر جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن آنے میں دیر ہوئی۔تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزری پھر آپ باہر تشریف لاے اور ملاقات کے وقت ان سے شکایت کی کہ مقررہ وقت پر کیوں نہیں آے حضرت جبریل نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم کسی ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٦٠)

بَابُ لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ، فَرَاثَ عَلَيْهِ، حَتَّى اشْتَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا وَجَدَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5960

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں (رحمت کے) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛ بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ:؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٦١)

بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى البَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ قَالَ: «مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ» فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " وَقَالَ: «إِنَّ البَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ المَلاَئِكَةُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5961

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ان کے والد(وہب بن عبداللہ) نے کہا انہوں نے ایک غلام خریدا جو پچھنا لگاتا تھا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکالنے کی اجرت، کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے سود لینے والے، دینے والے، گودنے والی، گدوانے والی اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ لَعَنَ الْمُصَوِّرَ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٢)

بَابُ مَنْ لَعَنَ المُصَوِّرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ اشْتَرَى غُلاَمًا حَجَّامًا، فَقَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الكَلْبِ، وَكَسْبِ البَغِيِّ، وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ وَالمُصَوِّرَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5962

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے۔ جب تک ان سے خاص طور سے پوچھا نہ جاتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں تصویر بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٣)

بَابُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ القِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَتَادَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُمْ يَسْأَلُونَهُ، وَلاَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سُئِلَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ القِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5963

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اسی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الاِرْتِدَافِ عَلَى الدَّابَّةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٤)

بَابُ الِارْتِدَافِ عَلَى الدَّابَّةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ، عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5964

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے (فتح کے موقع پر) تو عبدالمطلب کی اولاد نے(جو مکہ میں تھی) آپ کا استقبال کیا۔ (یہ سب بچے ہی تھے) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ: باب:ایک جانور سواری پر تین آدمیوں کا سوار ہونا؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٥)

بَابُ الثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالآخَرَ خَلْفَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5965

بعض نے کہا ہے کہ جانور کے مالک کو جانور پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق ہے۔ البتہ اگر وہ کسی دوسرے کو (آگے بیٹھنے کی) اجازت دے تو جائز ہے۔ ایوب کا بیان ہے کہ عکرمہ کے سامنے یہ ذکر ہوا کہ سواری پر تین افراد کا بیٹھنا بری بات ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو آپ قثم بن عباس کو اپنی سواری پر آگے اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ یا قثم پیچھے تھے اور فضل آگے تھے (رضی اللہ عنہم) اب تم ان میں سے کسے برا کہو گے اور کسے اچھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ حَمْلِ صَاحِبِ الدَّابَّةِ غَيْرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ؛ترجمہ؛جانور کے مالک کا دوسرے کو سواری پر اپنے آگے بٹھانا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٦)

بَابُ حَمْلِ صَاحِبِ الدَّابَّةِ غَيْرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الدَّابَّةِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ: - ذُكِرَ شَرُّ الثَّلاَثَةِ عِنْدَ - عِكْرِمَةَ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالفَضْلَ خَلْفَهُ، أَوْ قُثَمَ خَلْفَهُ، وَالفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَأَيُّهُمْ شَرٌّ أَوْ أَيُّهُمْ خَيْرٌ؟»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5966

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا،ان سے معاذ بن جبل نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یامعاذ! میں بولا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں اور مستعد ہوں ۔ پھر آپ نے تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں بولا، یا رسول اللہ! حاضر ہوں اور مستعد ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! اور مستعد ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم ہے اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حق ہیں؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ!اور مستعد ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔ جب کہ وہ یہ کام کر لیں۔ میںپ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ پھر بندوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛ بَابُ إِرْدَافِ الرَّجُلِ خَلْفَ الرَّجُلِ؛ترجمہ؛ایک مرد دوسرے مرد کے پیچھے ایک سواری پر بیٹھ سکتا ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٧)

بَابُ إِرْدَافِ الرَّجُلِ خَلْفَ الرَّجُلِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا أَخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5967

ابو اسحاق کا بیان ہے فرماتے ہیں،میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور وہ چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی پھسلی تو میں چلایا کی عورت،عورت پھر میں اتر گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا (راوی نے بیان کیا کہ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں،توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ بخاری شریف؛کتاب اللباس؛بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ الرَّجُلِ؛ترجمہ؛سواری ر پر عورت کا مرد کے پیچھے بیٹھنا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٨)

بَابُ إِرْدَافِ المَرْأَةِ خَلْفَ الرَّجُلِ حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يَسِيرُ، وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ، فَقُلْتُ: المَرْأَةَ، فَنَزَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا أُمُّكُمْ» فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَنَا، أَوْ: رَأَى المَدِينَةَ قَالَ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5968

عباد بن تمیم اپنے چچا(عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں(چت) لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر اٹھا کر رکھے ہوئے تھے۔ بخاری شریف؛کتاب اللباس؛103. بَابُ الاِسْتِلْقَاءِ، وَوَضْعِ الرِّجْلِ عَلَى الأُخْرَى؛ترجمہ؛چت لیٹ کر ایک پاؤں کا دوسرے پاؤں پر رکھنا؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٩)

بَابُ الِاسْتِلْقَاءِ وَوَضْعِ الرِّجْلِ عَلَى الأُخْرَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ: أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَضْطَجِعُ فِي المَسْجِدِ، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Lebas, Hadees No. 5969

Bukhari Shareef : Kitabul Lebas

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ اللِّبَاسِ

|

•