
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، اور وہ صحت اور فراغت ہے۔“ عباس عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ہند نے، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّقَاقِ وَأَنْ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ:عیش تو آخرت کا عیش ہے؛٨ص٨٨؛حدیث نمبر٦٤١٢)
معاویہ بن قرہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!عیش تو آخرت کا عیش ہے انصار اور مہاجرین میں مصالحت فرما۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّقَاقِ وَأَنْ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ:عیش تو آخرت کا عیش ہے؛٨ص٨٨؛حدیث نمبر٦٤١٣)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودتے جاتے تھے اور ہم مٹی کو اٹھاتے جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے فرماتے «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره، فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت کر۔“ اس روایت کی متابعت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّقَاقِ وَأَنْ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ:عیش تو آخرت کا عیش ہے؛٨ص٨٨؛حدیث نمبر٦٤١٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آزمائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینھ کی طرح جس کا اگایا سبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روند ہوگیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال(الحدید ٢٠) ابو حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛بَابُ مَثَلِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ؛آخرت میں دنیاوی زندگی کی مثال؛٨ص٨٨؛حدیث نمبر٦٤١٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک غریب یا مسافر ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نے فرمایا کہ دنیا میں ایک غریب یا مسافر کی طرح رہو؛٨ص٨٩؛حدیث نمبر٦٤١٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔(آل عمران ١٨٥) اور فرمایا:انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں۔(الحجر٣) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دنیا پیٹھ پھیر کر چلی جانے والی اور آخرت پیش آنے والی ہے،ان میں سے ایک ہر ایک کے بیٹے ہیں،مگر تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے نہ بنو کیوں کہ آج عمل حساب نہیں لیکن کل حساب ہے اور عمل نہیں،بمزحزحہ سے مراد دور کرنے والا۔ ربیع بن خثیم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مربع شکل بنائی۔ پھر اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو اس سے باہر نکلا ہوا تھا۔ اس کے بعد درمیان والے خط کے اس حصے میں جو مربع کے درمیان میں تھا چھوٹے چھوٹے بہت سے خطوط کھینچے اور پھر فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو (بیچ کا) خط باہر نکلا ہوا ہے وہ اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خطوط اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک (مشکل) سے بچ کر نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛ بَابٌ في الأَمَلِ وَطُولِهِ؛لمبی امیدیں؛٨ص٨٩؛حدیث نمبر٦٤١٧)
اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ انسان کی امید اور یہ اسکی موت کا ہے وہ ان کے درمیان ہی پھنسا رہتا ہے کہ قریبی خط سے موت آجاتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں؛ بَابٌ في الأَمَلِ وَطُولِهِ؛لمبی امیدیں؛٨ص٨٩؛حدیث نمبر٦٤١٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کہا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا۔(فاطر ٣٧) ابو سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول نہیں فرماتا جس کی عمر وہ دراز کر دے حتیٰ کہ وہ ساٹھ سال تک جا پہنچے۔۔“ اس روایت کی متابعت ابوحازم اور ابن عجلان نے مقبری سے کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ؛جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اللہ اس کی عذر قبول نہیں فرمائے گا؛٨ص٨٩؛حدیث نمبر٦٤١٩)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بوڑھے انسان کا دل دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ جوان رہتا ہے، دنیا کی محبت اور زندگی کی لمبی امید۔“ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا کہ مجھے سعید اور ابوسلمہ نے خبر دی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ؛جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اللہ اس کی عذر قبول نہیں فرمائے گا؛٨ص٨٩؛حدیث نمبر٦٤٢٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوں جوں ابن آدم کی عمر بڑھتی ہے اسی قدر اس کے ساتھ دو چیزیں بڑھتی جاتی ہیں یعنی مال کی محبت اور لمبی امید۔شعبہ نے بھی قتادہ سے اسے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ؛جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اللہ اس کی عذر قبول نہیں فرمائے گا؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢١)
اس کے متعلق حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ زہری کا بیان ہے کہ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کلی فرمائی،یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے پانی لے کر ان پر کلی کی تھی جو ان کے گھر میں تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْعَمَلِ الَّذِي يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ؛رضاے الٰہی کے لیے کیا گیا کام؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٢)
وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا جو بنی سالم کے ایک فرد تھے کہ ایک صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا ”کوئی بندہ جب قیامت کے دن اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کیا ہوگا اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرم کر دے گا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْعَمَلِ الَّذِي يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ؛رضاے الٰہی کے لیے کیا گیا کام؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ہے:اپنے بندہ مؤمن کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی جزا نہیں جبکہ میں اس کی کوئی پیاری چیز چھین لوں اور وہ صبر کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْعَمَلِ الَّذِي يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ؛رضاے الٰہی کے لیے کیا گیا کام؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٤)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن عدی کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بحرین وہاں کا جزیہ لانے کے لیے بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی اور ان پر علاء بن الحضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے جزیہ کا مال لے کر آئے تو انصار نے ان کے آنے کے متعلق سنا اور صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ابوعبیدہ کے آنے کے متعلق تم نے سن لیا ہے اور یہ بھی کہ وہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو تم اس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی، اللہ کی قسم!مجھے تمہاری غربت کا کوئی خوف نہیں ہے بلکہ تمہارے بارے میں یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا وسیع کر دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کر دی گئی تھی اور اس پر ایسے ہی فریفتہ ہونے لگو۔جیسا پہلے لوگ ہوے اور یوں تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٥)
ابوالخیر نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جس طرح میت پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے لیے پیش خیمہ ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، واللہ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا(فرمایا کہ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم!مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے خوف ہے کہ تم دنیا پر فریفتہ نہ ہو جاؤ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٦)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمہارے لیے نکال دے گا۔ پوچھا گیا زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا کہ دنیا کی چمک دمک، اس پر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو سکتی ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا، پوچھنے والے کہاں ہیں؟ پوچھنے والے نے کہا کہ حاضر ہوں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس سوال کا حل ہمارے سامنے آ گیا تو ہم نے ان صاحب کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلائی سے تو صرف بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مال سرسبز اور خوشگوار (گھاس کی طرح) ہے اور جو چیز بھی ربیع کے موسم میں اگتی ہیں وہ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہیں۔ سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کہ جب اس نے کھا لیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کر لی اور پھر پاخانہ پیشاب کر دیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھا لیا اور یہ مال بھی بہت شیریں ہے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وہ بہترین ذریعہ ہے اور جس نے اسے ناجائز طریقہ سے حاصل کیا تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩١؛حدیث نمبر٦٤٢٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے۔اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔“ عمران نے بیان کیا کہ مجھے نہیں معلوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کو دو مرتبہ دہرایا یا تین مرتبہ۔ پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے لیکن ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، وہ خیانت کریں گے اور ان پر سے اعتماد جاتا رہے گا۔ وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں مٹاپا پھیل جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩٠؛حدیث نمبر٦٤٢٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو ان کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے۔اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩١؛حدیث نمبر٦٤٢٩)
قیس بن ابو حازم نے بیان کیا کہ میں نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، اس دن ان کے پیٹ میں سات داغ لگائے گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اپنی موت کی دعا کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ گزر گئے اور دنیا نے ان کےکچھ نہیں گھٹایا اور ہمیں جو دنیا کا مال ملا اس کے رکھنے کے لئے ہم مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں پاتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩١؛حدیث نمبر٦٤٣٠)
قیس کا بیان ہے کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا:ہمارے جو ساتھی وفات پاگئے۔دنیا ان ثواب کو ذرا بھی کم نہیں کر سکتی اور ہم نے ان کے بعد کچھ مال پایا تو ہمیں اس کو رکھنے کے لئے مٹی کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ملی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩١؛حدیث نمبر٦٤٣١)
ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا؛دنیا کی آرائش اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچنا؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے لوگو بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہر گز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں۔(فاطر ٥،٦) آیت میں «سعير» کا لفظ ہے جس کی جمع «سعر» آتی ہے۔ مجاہد نے کہا جسے فریابی نے وصل کیا کہ «غرور» سے شیطان مراد ہے۔ معاذ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ ابن ابان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے وضو کا پانی لے کر آیا وہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا کہ جس نے اس طرح وضو کیا اور پھر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر یہ بھی فرمایا کہ دھوکہ نہ کھانا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلاَ يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ}؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٣)
حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہ فرمائے گا۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «حفالة» اور «حثالة.» دونوں کے ایک معنی ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ ذَهَابِ الصَّالِحِينَ؛نیک لوگوں کا اٹھ جقنا؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں۔(التغابن١٥) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دینار و درہم کے بندے، عمدہ ریشمی چادروں کے بندے، سیاہ کملی کے بندے، تباہ ہو گئے کہ اگر انہیں دیا جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض رہتے ہیں۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے) سچی توبہ کرتا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس مال (بھیڑ بکری) کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے، وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ منبر پر کہتے سنا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٢؛حدیث نمبر٦٤٣٧)
عباس بن سہل بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ مکرمہ میں منبر پر یہ کہتے سنا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر انسان کو ایک وادی سونا بھر کے دے دیا جائے تو وہ دوسری کا خواہشمند کرے گا اگر دوسری دے دی جائے تو تیسری کا خواہشمند کرے گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ پاک اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٣؛حدیث نمبر٦٤٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔" (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٣؛حدیث نمبر٦٤٣٩)
ابوالولید نے بیان کیا، ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہ ہم اسے قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ؛جو مال کے فتنے سے بچا لیا گیا؛٨ص٩٣؛حدیث نمبر٦٤٤٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں کہ بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:اے اللہ!ہم میں طاقت نہیں مگر یہی کہ جن چیزوں سے ہمارے دلوں کو مزین کیا ہے ان سے خوش ہوتے ہیں۔اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مال کو وہیں خرچ کروں جہاں خرچ کرنا ہے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مال کا سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ پھر فرمایا کہ یہ مال۔ اور بعض اوقات سفیان نے یوں بیان کیا کہ (حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) اے حکیم! یہ مال سرسبز اور خوشگوار نظر آتا ہے پس جو شخص اسے نیک نیتی سے لے اس میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس شخص جیسا ہو جاتا ہے جو کھاتا جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا الْمَالُ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ مال میں تازگی اور مٹھاس ہے؛٨ص٩٣؛حدیث نمبر٦٤٤١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ہم میں سے تو ایسا کوئی بھی نہیں کیونکہ ہمیں تو اپنا مال ہی سب سے زیادہ محبوب ہے۔فرمایا تو جو آگے بھیج دیا وہ اپنا مال ہے اور جو پیچھے چھوڑ دیا وہ وارث کا مال ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا قَدَّمَ مِنْ مَالِهِ فَهْوَ لَهُ؛جو راہ خدا میں آگے بھیج دیا وہی مال اپنا ہے؛٨ص٩٣؛حدیث نمبر٦٤٤٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف لے جا رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی شخص نہیں تھا میں نے سوچا کہ شاید آپ کو کسی کا ساتھ چلنا ناپسند ہو۔پس میں چاندنی میں آپ کے پیچھے چلتا رہا کہ آپ پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوذر! یہاں آؤ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے۔ پھر میں نے آپ سے سنا، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ”چاہے چوری ہو، چاہے زنا ہو“ ابوذر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ پتھریلی زمین (حرہ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے جبرائیل! خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں،میں نے کہا خواہ اس نے چوری کی یا زنا کیا؟کہا ہاں اس نے شراب ہی پی ہو۔ نضر بن شعبہ،حبیب بن ابو ثابت اور اعمش اور عبد العزيز بن رفیع نے زید بن وہب سے اس کی روایت کی ہے۔امام بخاری نے فرمایا کہ ابو صالح نے جو حدیث حضرت ابو الدرداء سے روایت کی وہ مرسل ہے درجہ صحت کو نہیں پہنچی۔ہم نے بایں وجہ بیان کر دی کہ اس کا حال معلوم ہوجائے اور صحیح حدیث ابو ذر ہے۔امام بخاری سے کہا گیا کہ حضرت ابو درداء سے تو عطاء بن یسار نے بھی اسے روایت کیا ہے فرمایا کہ وہ بھی مرسل ہے صحیح حدیث ابوذر ہے نیز فرمایا کہ حضرت ابو درداء کی حدیث پر یہ اضافہ کر لو کہ جب کوئی مرے اور مرتے وقت«لا إله إلا الله» کہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُّونَ؛زیادہ مال جمع کرنے والے کم نیکیوں والے ہوتے ہیں؛٨ص٩٤؛حدیث نمبر٦٤٤٣)
زید بن وہب کا بیان ہے کہ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:آپ کو یہ پسند نہ تھا کہ آپ کے پاس کوہ احد جتنا سونا ہونا؛٨ص٩٤؛حدیث نمبر٦٤٤٤)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو یہ بات مجھے ناپسند ہے کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور کچھ بھی ان میں سے میرے پاس رہے مگر جو میں قرض ادا کرنے کے لئے رکھ چھوڑدوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا؛٨ص٩٤؛حدیث نمبر٦٤٤٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:کیا یہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کر رہے ہیں مال اور بیٹوں سے۔۔۔۔تا۔۔۔ان کاموں سے جدا ہیں جنہیں وہ کر رہے ہیں۔(المؤمنون٦٣)ابن عیینہ کا قول ہے کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے وہ انہیں ضرور کر کے رہیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تونگری مال و اسباب کی کثرت سے نہیں بلکہ تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ؛تونگری دل کی تونگری ہے؛٨ص٩٥؛حدیث نمبر٦٤٤٦)
ابو حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا کہ اس شخص (گزرنے والے) کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ساری دنیا جتنا سونا ملنے سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ فَضْلِ الْفَقْرِ؛فقر کی فضیلت؛٨ص٩٥؛حدیث نمبر٦٤٤٧)
ابووائل کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے پاس جمع ہوگیا۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر (اس دنیا میں) نہیں لیا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (انہی) میں سے تھے، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی (اس چادر کا ان کو کفن دیا گیا تھا) اس چادر سے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب فضل الفقر؛٨ص٩٥؛حدیث نمبر٦٤٤٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کی رہنے والیاں اکثر عورتیں تھیں۔“ ابورجاء کے ساتھ اس حدیث کو ایوب سختیانی اور عوف اعرابی نے بھی روایت کیا ہے اور صخر بن جویریہ اور حماد بن نجیح دونوں اس حدیث کو ابورجاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب فضل الفقر؛٨ص٩٦؛حدیث نمبر٦٤٤٩)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان پر کھانا تناول نہیں فرمایا حتیٰ کہ وفات پائی اور تا دم آخر کبھی چپاتی نہیں کھائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب فضل الفقر؛٨ص٩٦؛حدیث نمبر٦٤٥٠)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے مگر میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوا تھوڑے سے جَو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی لیکن میں نے انہیں ناپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب فضل الفقر؛٨ص٩٦؛حدیث نمبر٦٤٥١)
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور جو میرے دل میں اور جو میرے چہرے پر تھا آپ نے پہچان لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اے ابوہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ چلنے لگے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی۔ جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ کہا فلاں یا فلانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ میں بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے۔ البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلوا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب صفہ والے آئیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی، وہ آ گئے اور اجازت چاہی۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا لو اور اسے ان سب حاضرین کو دے دو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا۔ ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا، ابوہر! میں نے عرض کیا، لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سچ فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب بالکل گنجائش نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے دے دو، میں نے پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا نوش فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے دنیا سے الگ تھلگ رہ کر زندگی بسر فرمائی تھی؛٨ص٩٦؛حدیث نمبر٦٤٥٢)
قیس نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں سب سے پہلا عربی ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلائے۔ ہم نے اس حال میں وقت گزارا ہے کہ جہاد کر رہے ہیں اور ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز حبلہ کے پتوں اور اس ببول کے سوا کھانے کے لیے نہیں تھی اور بکری کی مینگنیوں کی طرح ہم پاخانہ کیا کرتے تھے۔پھر بنو اسد مجھے اسلام پر ملامت کرنے بیٹھے ہیں اگر صورت حال یہی ہے تو میں بدبخت ہوا اور میری تمام کوششیں ضائع گئیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٣)
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے ایک دن میں دو کھانے کبھی نہیں کھاے مگر ان میں سے ایک کھانا کھجوریں ہوتیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٤)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا ہوتا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہوتی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:ہم پر ایسا ماہ بھی گزرتا جس میں آگ نہ جلائی گئی ہو جبکہ کھجوریں اور پانی پر ہی خوراک کا دار و مدار ہوتا ماسوائے اس گوشت کے جو ہمیں دیا جاتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٦)
قتادہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کا تانبائی بھی کھڑا تھا اور فرمایا کہ تم کھاؤ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی چپاتی کھائی ہو۔حتیٰ کہ حق سے جا ملے اور نہ میں نے یہ دیکھا کہ آپ نے بکری کے بھنے ہوئے گوشت کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٧)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:ہم پر ایسا ماہ بھی گزرتا جس میں آگ نہ جلائی گئی ہو جبکہ کھجوریں اور پانی پر ہی خوراک کا دار و مدار ہوتا ماسوائے اس گوشت کے جو ہمیں دیا جاتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر سے فرمایا، بیٹے! ہم دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیویوں) کے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا۔ میں نے پوچھا پھر آپ کی گزر اوقات کس چیز پر ہوتی؟فرمایا کہ صرف دو کالی چیزوں پر، کھجور اور پانی۔ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے ریوڑ تھے وہ اپنے گھروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ بھیج دیتے اور آپ ہمیں وہی دودھ پلا دیتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٧؛حدیث نمبر٦٤٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!ال محمد کو اتنا رزق دے جس سے وہ قوت پائیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٠)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسا عمل زیادہ پسند تھا؟فرمایا کہ جو ہمیشہ ہو۔مسروق کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا کہ حضور تہجد کے لیے کب کھڑے ہوا کرتے تھے؟فرمایا کہ جب مرغ کی اذان سنتے تو کھڑے ہوا کرتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦١)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے محبوب وہ عمل تھا جس کو عمل کرنے والا ہمیشہ کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلاے گا۔لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!کیا آپ کو بھی؟فرمایا کہ مجھے بھی نہیں،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔لہٰذا درستی،میانہ روی اختیار کر کے صبح و شام اور رات کے آخری حصے میں کچھ کرتے رہو حتیٰ کہ مقصود تک پہنچ جاؤ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے اعمال میں درستی میانہ روی پیدا کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو تم میں سے کسی کے عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل وہ جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ قلیل ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٤)
ابو سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔فرمایا کہ جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو اور فرمایا کہ اعمال کی مقدور بھر پابندی کیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب القصد والمداومۃ علی العمل؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٥)
علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ ام المؤمنین:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کیسا ہے؟کیا کوئی کام کسی دن کے لئے خاص تھا فرمایا کہ نہیں،آپ کے عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے وہ تم سے کون کر سکتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب القصد والمداومۃ علی العمل؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے قریب رہو (میانہ روی اختیار کرو) اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اور آپ بھی نہیں یا رسول اللہ! فرمایا اور میں بھی نہیں۔ سوا اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں ڈھانپ لے۔ مدینی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ موسیٰ بن عقبہ نے یہ حدیث ابوسلمہ سے ابوالنصر کے واسطے سے سنی ہے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور عفان بن مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”درستی کے ساتھ عمل کرو اور خوش رہو۔“ اور مجاہد نے بیان کیا کہ «سدادا سديدا» ہر دو کے معنیٰ صدق کے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب القصد والمداومۃ علی العمل؛٨ص٩٨؛حدیث نمبر٦٤٦٧)
بلال بن علی نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ تمہیں نماز پڑھانے کے ابھی ابھی میں نے اس دیوار سے ہٹ کر جنت اور دوزخ کو ان کی مثالی شکل میں دیکھا ہے میں نے بھلائی و برائی کو کسی دن ایسا نہیں دیکھا جیسا بھلائی و برائی کو آج دیکھا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛باب القصد والمداومۃ علی العمل؛٨ص٩٩؛حدیث نمبر٦٤٦٨)
اور سفیان بن عیینہ نے کہا کہ قرآن کی کوئی آیت مجھ پر اتنی سخت نہیں گزری جتنی (سورۃ المائدہ) کی یہ آیت ہے «لستم على شىء حتى تقيموا التوراة والإنجيل وما أنزل إليكم من ربكم»ترجمہ کنز الایمان:تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا۔(المائدہ ٦٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الرَّجَاءِ مَعَ الْخَوْفِ؛خوف کے ساتھ؛٨ص٩٩؛حدیث نمبر٦٤٦٩)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:صابروں ہی کو ان کا ثواب بھر پور دیا جائے گا بےگنتی۔(الزمر،١٠) عطاء بن یزید کا بیان ہے کہ انہیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ چند انصاری صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال کا سوال کیا۔پس ہر سوال کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا دیا کہ آپ کے پاس جتنا مال تھا سب ختم ہوگیا سب کچھ اپنے ہاتھوں خرچ کردیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی اچھی چیز میرے پاس ہو گی میں اسے تم سے بچا کے نہیں رکھتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جو تم میں (سوال سے) بچتا رہے گا اللہ بھی اسے غیب سے دے گا اور جو شخص دل پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ بھی اسے صبر دے گا اور جو بےپرواہ رہنا اختیار کرے گا اللہ بھی اسے بےپرواہ کر دے گا اور اللہ کی کوئی نعمت صبر سے بڑھ کر تم کو نہیں ملی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ؛اللہ تعالیٰ کی حرام فرمائی ہوئی چیزوں پر صبر؛٨ص٩٩؛حدیث نمبر٦٤٧٠)
زیاد بن علاقہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھا کرتے کہ آپ کے مبارک پیروں پر ورم آجاتا اور سوج جاتے تو آپ سے کہا گیا۔چناچہ فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ؛اللہ تعالیٰ کی حرام فرمائی ہوئی چیزوں پر صبر؛٨ص٩٩؛حدیث نمبر٦٤٧١)
ربیع بن خثیم تابعی نے بیان کیا کہ مراد ہے کہ تمام انسانی مشکلات میں اللہ پر بھروسہ اختیار کرے۔ حصین بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ}؛جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٢)
ہشیم کا بیان ہے کہ ہم سے یہ حدیث کئی حضرات نے بیان کی،جن میں سے ایک حضرت مغیرہ ہیں،دوسرے فلاں اور تیسرا ایک اور شخص۔شعبی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب روایت کی ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ کو لکھا کہ کوئی حدیث جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو وہ مجھے لکھ بھیجو۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير» کہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ یہ تین مرتبہ پڑھتے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےفائدہ بات چیت کرنے، زیادہ سوال کرنے، مال ضائع کرنے، اپنی چیز بچا کر رکھنے اور دوسروں کی مانگتے رہنے، ماؤں کی نافرمانی کرنے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے۔ اور ہشیم سے روایت ہے، انہیں عبدالملک ابن عمیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے وراد سے سنا، وہ یہ حدیث مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ؛بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٣)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے۔ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا۔(ق١٨) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مجھے اس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے اور اس کی جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ؛زبان کی حفاظت کرنا؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ؛زبان کی حفاظت کرنا؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٥)
حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ”دعوت تین دن اس کا جائزہ ہے۔پوچھا گیا کہ اس کا جائزہ کیا ہے؟فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی خاطر داری کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ چپ رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ:بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ؛زبان کی حفاظت کرنا؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب کوئی بات کہتا ہے اور اس کے نتیجے پر غور نہیں کرتا اس کی وجہ سے جہنم میں جا گرتا ہے حالانکہ وہ سے اتنی دور تھی جتنی مغرب سے مشرق۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ؛زبان کی حفاظت کرنا؛٨ص١٠٠؛حدیث نمبر٦٤٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ؛زبان کی حفاظت کرنا؛٨ص١٠١؛حدیث نمبر٦٤٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سات سات شخص ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے ان میں سے ایک وہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ؛اللہ کے خوف سے ڈرنا؛٨ص١٠١؛حدیث نمبر٦٤٧٩)
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلی امتوں میں کا، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر لینا۔پس جس دن تیز ہوا چلے تو میری خاک کو سمندر میں اڑا دینا۔چناچہ انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اکھٹا کر کے فرمایا۔جو تو نے کیا اس پر کس چیز نے تجھے آمادہ کیا؟عرض کی کہ تیرے خوف نے مجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا پس اسے بخش دیا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ؛اللہ سے ڈرنا؛٨ص١٠١؛حدیث نمبر٦٤٨٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے «لم يبتئر» کی تفسیر «لم يدخر» کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا (اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ) دیکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہو جا۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ ”مجھے دریا میں بہا دینا“ یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ؛اللہ سے ڈرنا؛٨ص١٠١؛حدیث نمبر٦٤٨١)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری مثال اور جسے دیکر اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے ایسے شخص جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک لشکر جرار اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں واضح ڈرانے والا ہوں۔لہٰذا خود کو بچا لو،خود کو بچا لو اس پر ایک جماعت نے اس کی بات مان لی اور رات ہی رات اطمینان سے کسی محفوظ جگہ پر نکل گئے اور نجات پائی۔ لیکن دوسری جماعت نے اسے جھٹلایا اور دشمن کے لشکر نے صبح کے وقت اچانک انہیں آ لیا اور تباہ کر دیا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الاِنْتِهَاءِ عَنِ الْمَعَاصِي؛گناہوں سے دوری؛٨ص١٠١؛حدیث نمبر٦٤٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الاِنْتِهَاءِ عَنِ الْمَعَاصِي؛گناہوں سے دوری؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ جو ان کاموں سے دور ہوجائے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الاِنْتِهَاءِ عَنِ الْمَعَاصِي؛گناہوں سے دوری؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تم بھی وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جہنم کو شہوتوں سے ڈھانپا گیا ہے اور جنت کو مصیبتوں سے ڈھانپا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ؛جہنم شہوتوں سے ڈھانپی گئی ہے؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٧)
ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح سے دوزخ بھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ»؛جنت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٨)
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے اچھا شعر جو کسی شاعر نے کہا،یہ ہے کہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مٹ جانے والی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ»؛جنت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم سے کوئی ایسے شخص کو دیکھ لے جو مال اور حسن میں اس سے زیادہ ہو تو چاہیئے کہ ایسے شخص کو بھی دیکھے جو ان میں اس سے نیچے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ لِيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ وَلاَ يَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ؛اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور اس کو نہ دیکھو جو اوپر ہے؛٨ص١٠٢؛حدیث نمبر٦٤٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل سے روایت کرتے ہوئے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں اور انہیں واضح فرما دیا۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے یہاں ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھ دیتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ أَوْ بِسَيِّئَةٍ؛جو نیکی یا بدی کا ارادہ کرے؛٨ص١٠٣؛حدیث نمبر٦٤٩١)
غیلان کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم عمل کرتے ہو اور اپنے بعض اعمال کو بال سے بھی زیادہ باریک جانتے ہو لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم انہیں ہلاکت خیز شمار کیا کرتے تھے۔امام بخاری کے نزدیک الموبقات سے ہلاک کرنے والی چیزیں مراد ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ؛جو گناہوں کو حقیر جاننے سے بچا؛٨ص١٠٣؛حدیث نمبر٦٤٩٢)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی (اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا دارومدار خاتمہ پرہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ وَمَا يُخَافُ مِنْهَا؛اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے اور جو خاتمہ سے ڈرا؛٨ص١٠٣؛حدیث نمبر٦٤٩٣)
عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی:اے اللہ کے رسول!۔عطاء بن یزید لیثی کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے اچھا ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت زبیدی، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یونس و ابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب (زہری) سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْعُزْلَةُ رَاحَةٌ مِنْ خُلاَّطِ السُّوءِ:بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے؛٨ص١٠٣؛حدیث نمبر٦٤٩٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آے گا کہ اس کا بہترین مال ایک ریوڑ ہوگا جس کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور پانی کے مقامات پر رہے گا وہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ وَمَا يُخَافُ مِنْهَا؛اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے اور جو خاتمہ سے ڈرا؛٨ص١٠٤؛حدیث نمبر٦٤٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔“ پوچھا: یا رسول اللہ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ فرمایا ”جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ؛امانت داری کا اٹھ جانا؛٨ص١٠٤؛حدیث نمبر٦٤٩٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔ پھر انہوں نے قرآن شریف سے اس کا حکم جان لیا اور حدیث شریف سے اس کا حکم جان لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے اٹھ جانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آدمی ایک نیند سوئے گا اور (اسی میں) امانت اس کے دل سے ختم ہو گی اور اس بےایمانی کا ہلکا نشان پڑ جائے گا۔ پھر ایک اور نیند لے گا اب اس کا نشان چھالے کی طرح ہو جائے گا جیسے تو پاؤں پر ایک چنگاری لڑھکائے تو ظاہر میں ایک چھالا پھول آتا ہے اس کو پھولا دیکھتا ہے، پر اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہو گا، کہا جائے گا کہ بنی فلاں میں ایک امانت دار شخص ہے۔ کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہو گا۔“ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے ایک ایسا وقت بھی گزارا ہے کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اسے حق کی طرف پھیر دیتا۔ اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کا حاکم اس سے میرا حق دلا دیتا اب میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خرید و فروخت ہی نہیں کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ؛امانت داری کا اٹھ جانا؛٨ص١٠٤؛حدیث نمبر٦٤٩٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ اونٹوں کی طرح ہوجائیں گے کہ تعداد میں سو ہوں لیکن سواری کے قابل نہ ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ؛امانت داری کا اٹھ جانا؛٨ص١٠٤؛حدیث نمبر٦٤٩٨)
مسدد،یحییٰ،سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی۔سلمہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے آپ کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چنانچہ میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (کسی نیک کام کے نتیجہ میں) جو شہرت کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ اسے مشہور کر دے گا۔ اسی طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دکھلا دے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ؛دکھاوا اور شہرت؛٨ص١٠٤؛حدیث نمبر٦٤٩٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک، یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا، اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ؛جو اللہ کی اطاعت کے لیے خود کو مشقت میں ڈالے؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠٠)
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی(دوسری سند) حمیدالطویل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا (کوئی جانور دوڑ میں) اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا۔ پھر ایک اعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے آگے بڑھ گیا۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا اور کہنے لگے کہ افسوس عضباء پیچھے رہ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہےکہ جب دنیا میں وہ کسی چیز کو بڑھاتا ہے تو اسے وہ گھٹاتا بھی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ؛تواضع اختیار کرنا؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور کسی کام میں مجھے تردد نہیں ہوتا جس کو میں کرتا ہوں مگر مؤمن کی موت کو برا جاننے میں مجھے تردد نہیں کیونکہ اسے برا جانتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ؛تواضع اختیار کرنا؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے"(سورہ نحل٧٧) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے اور اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا پھر انہیں دراز کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان؛میں اور قیامت ساتھ ساتھ ہیں؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠٣)
ابو التیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اور مجھے اس طرح ساتھ بھیجا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان؛میں اور قیامت ساتھ ساتھ ہیں؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠٤)
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے اور قیامت کو اس طرح ساتھ بھیجا گیا ہے یعنی دو انگلیاں۔ اسرائیل نے بھی ابو حصین سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان؛میں اور قیامت ساتھ ساتھ ہیں؛٨ص١٠٥؛حدیث نمبر٦٥٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے، یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا حالت ایمان میں پہلے بھلائی نہ کمائی ہو۔پس قیامت آ جائے گی اور دو آدمی کپڑا درمیان میں (خرید و فروخت کے لیے) پھیلائے ہوئے ہوں گے۔ ابھی خرید و فروخت بھی نہیں ہوئی ہو گی اور نہ انہوں نے اسے لپیٹا ہی ہو گا (کہ قیامت قائم ہو جائے گی) اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہو گا اور اسے پی بھی نہیں سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کرا رہا ہو گا اور اس کا پانی بھی نہ پی پائے گا۔ قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اسے کھانے بھی نہ پائے گا۔“۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ طلوع الشمس من مغربھا؛٨ص١٠٦؛حدیث نمبر٦٥٠٦)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے) ہوتی ہے، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہو جاتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابودواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ»؛جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا چاہتا ہے؛٨ص١٠٦؛حدیث نمبر٦٥٠٧)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرے اللہ تعالیٰ اس ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ»؛جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا چاہتا ہے؛٨ص١٠٦؛حدیث نمبر٦٥٠٨)
عروہ بن زبیر نے کتنے ہی اہل علم حضرات سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت صحت میں فرمایا کرتے کہ کسی نبی کی اس وقت روح قبض نہیں کی جاتی جب تک جنت میں اس کے رہنے کی جگہ اسے دکھا نہ دی جاتی ہو اور پھر اسے (دنیا یا آخرت کے لیے) اختیار دیا جاتا ہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا تو آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی چھا گئی، پھر جب آپ کو ہوش آیا تو آپ چھت کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگے۔ پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» میں نے کہا کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ترجیح نہیں دے سکتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی حدیث ہے جو آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمائی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے اپنی زبان مبارک سے ادا فرمایا یعنی یہ ارشاد کہ «اللهم الرفيق الأعلى۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ»؛جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا چاہتا ہے؛٨ص١٠٦؛حدیث نمبر٦٥٠٩)
ابو عمر ذکوان مولیٰ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات کے وقت) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور دست مبارک نیچے تشریف لے آیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٠)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کچھ اعرابی ننگے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور پوچھتے۔"قیامت کب قائم ہوگی"؟چناچہ آپ ان کے سب سے کم عمر آدمی کی طرف دیکھ کر فرماتے۔اگر یہ زندہ رہا تو بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ تم پر قیامت قائم ہوجائے گی،ہشام کا بیان ہے کہ اس مراد ان کی موت ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١١)
کعب بن مالک کا بیان ہے کہ حضرت ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا مستریح اور مستراح منہ لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!مستریح اور مستریح منہ سے کیا مراد ہے۔فرمایا مؤمن بندہ جب مرتا ہے تو وہ مصیبتوں سے نجات پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں جانا چاہتا ہے اور بدکار آدمی جب مرتا ہے تو اس کے مر جانے سے اللہ کے بندے شہر،درخت اور جانور بھی راحت پانا چاہتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٢)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مستریح اور مستراح منہ یہ ہے کہ مؤمن آرام پانا چاہتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میت کے ساتھ تین چیزیں جاتیں ہیں۔اس کے اہل و عیال،اس کا مال اور اس کے اعمال۔پس اس کے اہل و عیال اور اس کا مال تو واپس آجاتے ہیں اور اس کے اعمال اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے خواہ وہ جہنم میں ہو یا جنت میں پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے حتیٰ کہ اسے اٹھایا جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اس چیز تک جا چکے جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؛سکرات موت؛٨ص١٠٧؛حدیث نمبر٦٥١٦)
مجاہد نے کہا کہ «صور.» ایک سینگ کی طرح ہے۔ اور (سورۃ یٰسین میں جو ہے «فانما هی زجرة واحدة») تو «زجرة» کے معنی چیخ کے ہیں (دوسری بار) پھونکنا اور «صيحة» پہلی بار پھونکنا۔ اور ابن عباس نے کہا «ناقور» (جو سورۃ المائدہ میں ہے) «صور.» کو کہتے ہیں (وصلہ الطبری و ابن ابی حاتم) «الراجفة» (جو سورۃ والنازعات میں ہے) پہلی بار صور کا پھونکنا، «الرادفة» (جو اسی سورت میں ہے) دوسری بار کا پھونکنا۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن اعرج دونوں نے بیان کیا،کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے منتخب فرمایا۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں سے منتخب فرمایا۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ نَفْخِ الصُّورِ؛صور پھونکنے کا بیان؛٨ص١٠٨؛حدیث نمبر٦٥١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تمام مسلمان بے ہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا ہوں گا تو حضرت موسیٰ عرش کو پکڑے کھڑے ہوں گے۔میں نے نہیں جانتا کہ کیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں ہیں۔اس کی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ نفخ الصور؛٨ص١٠٨؛حدیث نمبر٦٥١٨)
اس کی نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے داہنے دست قدرت سے زمین کو اپنے قبضے میں فر ما لے گا اور آسمان کو لپیٹ لے گا،پھر فرماے گا کہ حقیقی بادشاہ میں ہوں،آج زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ؛اللہ تعالیٰ کی زمین کو اپنے قبضے میں فرمانا؛٨ص١٠٨؛حدیث نمبر٦٥١٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے دست قدرت سے لپیٹ دے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی کو اکٹھی کر لیتے ہو۔ پھر ایک یہودی آیا اور بولا: ابوالقاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں۔ تو اس نے (بھی یہی) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ پھر (اس نے) خود ہی پوچھا کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ (پھر خود ہی) بولا کہ ان کا سالن «بالام ونون.» ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی کے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ یوم القیامۃ؛اللہ تعالیٰ کی زمین کو اپنے قبضے میں فرمانا؛٨ص١٠٨؛حدیث نمبر٦٥٢٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔لوگوں کو بروز قیامت کے روز سفید اور چٹیل زمین پر جمع کیا جائے گا جو گندم کی سفید روٹی کی طرح ہوگی۔حضرت سہل یا کسی دوسرے نے فرمایا کہ محشر میں کسی کا جھنڈا نہیں ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ یوم القیامۃ؛اللہ تعالیٰ کی زمین کو اپنے قبضے میں فرمانا؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کے تین گروہ ہوں گےایک رغبت کرنے اور ڈرنے والے ہوں گے۔ (دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٢)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی:یا نبی اللہ!کافر کا حشر کے روز منہ کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟فرمایا کہ جس نے دنیا میں اسے دونوں پیروں سے چلایا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلاے۔قتادہ نے کہا۔ہمارے رب کی قسم،کیوں نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور پیدل چل کر بن ختنہ ملو گے۔“ سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ان (نو یا دس حدیثوں) میں سے ہے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ دوران خطبہ ممبر پر فرما رہے تھے:تم اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملو گے برہنہ پاؤں،برہنہ جسم اور غیر مختون ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٥)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده»(الانبیاء ١٠٤) کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔پس کہنے والا کہےگا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» کہ ”اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور تو ہرشے پر گواہ ہے۔اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے(المائدہ ١٠٧)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے (مرتد ہوتے رہے)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٦)
قاسم بن محمد بن ابو بکر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١٠٩؛حدیث نمبر٦٥٢٧)
عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ (امت مسلمہ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان (تعداد میں) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١١٠؛حدیث نمبر٦٥٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو بلایا جائے گا۔چناچہ وہ اپنی اولاد کو دیکھیں گے۔پس کہا جاے گا کہ یہ تمہارے باپ ہیں آدم علیہ السلام ہیں۔وہ وہ عرض کریں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد (ننانوے فیصد دوزخی ایک جنتی)۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ؛حشر کی کیفیت؛٨ص١١٠؛حدیث نمبر٦٥٢٩)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔(الحج ١)آنے والی آگئی۔قیامت قریب آگئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ}؛٨ص١١٠؛حدیث نمبر٦٥٣٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لئے جس دن لوگ رب العالمين کے حضور کھڑے ہوں گے۔(المطففین ٦) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے:وتقطعت بہم الاسباب فرمایا تعلقات صرف دنیا میں ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس روز لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے،فرمایا کہ کوئی تو پسینے میں اپنی کانوں کی لو تک ڈوبا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَلاَ يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ}؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بروز قیامت لوگوں کا پسینہ بہ نکلے گا،حتیٰ کہ بعض لوگوں کا پسینہ تو زمین میں ستر گز تک پھیل جائے گا اور ان کے منہ کو بند کر کے کانوں تک جا پہنچے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَلاَ يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ}؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣٢)
قیامت کو «حاقة» بھی کہتے ہیں کیونکہ اس دن بدلہ ملے گا اور وہ کام ہوں گے جو ثابت اور حق ہیں۔ «حقة» اور «حاقة» کے ایک ہی معنی ہیں اور «قارعة» اور «غاشية» اور «صاخة» بھی قیامت ہی کو کہتے ہیں۔ اسی طرح «يوم التغابن» بھی کیونکہ اس دن جنتی کافروں کی جائیداد دبا لیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگوں کے درمیان جس چیز کا سب سے پہلے فیصلے کیا جائے گا وہ خون ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛بروز قیامت قصاص لیا جائے گا؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے (اس دنیا میں) معاف کرا لے۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے (معاف کرا لے) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس (مظلوم) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛بروز قیامت قصاص لیا جائے گا؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے اپنے گھر کے مقابلہ میں زیادہ بہتر طریقے پر پہچان لے گا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛بروز قیامت قصاص لیا جائے گا؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣٥)
ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا۔وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی:کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ ترجمہ کنز الایمان:اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا۔(انشقاق، ٨)فرمایا کہ یہ تو صرف حاضری ہے۔ عمرو بن علی،یحییٰ،عثمان بن اسود،ابن ابی ملیکہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی۔ابن جریج،محمد بن سلیم اور ایوب اور صالح بن رستم،ابن ابی ملیکہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ؛جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا؛٨ص١١١؛حدیث نمبر٦٥٣٦)
قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے ترجمہ کنز الایمان:تو وہ جو اپنا نامہ اعمال داہنا ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے عنقریب سہل حساب لیا جاے گا“(انشقاق ٧،٨)چانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو محض حاضری ہوگی ورنہ قیامت کے دن جس کا حساب لیا گیا اس کو عذاب ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ؛جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا؛٨ص١١٢؛حدیث نمبر٦٥٣٧)
علی بن عبداللہ،معاذ بن ہشام،ان کے والد،قتادہ،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بروز قیامت جب کافر کو پیش کیا جائے گا تو اس سے کہا جاے گا کہ اگر تیرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اتنا دینے کو تیار ہوجاتا؟وہ اثبات میں جواب دے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان سوال کیا گیا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ؛جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا؛٨ص١١٢؛حدیث نمبر٦٥٣٨)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر جلد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کلام فرماے گا اور اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ اللہ کی راہ میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ؛جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا؛٨ص١١٢؛حدیث نمبر٦٥٣٩)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، پھر آپ نے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا جہنم سے بچو۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ جہنم دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے (لوگوں میں) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعہ سے ہی (جہنم سے) بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ؛جس کا حساب ہوا اسے عذاب ہوگا؛٨ص١١٢؛حدیث نمبر٦٥٤٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھ پر امتیں پیش کی گئیں۔پس ایک ایک نبی گزرنے لگا اور اس کے ساتھ اس کی امت تھی ایک نبی ایسا بھی گزرا کہ اس کے ساتھ ایک ہی امتی تھا۔ایک نبی کے ساتھ دس افراد۔ایک نبی کے ساتھ پانچ سو۔ایک صرف تنہا۔پھر میں نے دیکھا تو انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دور سے نظر آئی۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کیا یہ میری امت ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ افق کی طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت زبردست جماعت دکھائی دی۔ فرمایا کہ یہ ہے آپ کی امت اور یہ جو آگے آگے ستر ہزار کی تعداد ہے ان لوگوں سے حساب نہ لیا جائے گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا۔ میں نے پوچھا: ایسا کیوں ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے۔ غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کرواتے تھے، شگون نہیں لیتے تھے، اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھ کر بڑھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ؛جنت میں ستر ہزار بغیر حساب داخل ہوں گے؛٨ص١١٢؛حدیث نمبر٦٥٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی۔ ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی، اٹھاتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ؛جنت میں ستر ہزار بغیر حساب داخل ہوں گے؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٢)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کے ستر ہزار ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔یا سات لاکھ،جنہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے،ان سے ایک تعداد کے اندر شک ہے،حتیٰ کہ ان کے پہلے سے آخری تک سب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ؛جنت میں ستر ہزار بغیر حساب داخل ہوں گے؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے،پھر ان کے درمیان ایک منادی ندا کرنے کھڑا ہوگا کہ اے اہل جہنم!اور اے اہل جنت!اب موت نہیں،ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ؛جنت میں ستر ہزار بغیر حساب داخل ہوں گے؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنتیوں سے کہا جائے گا۔کہ اہل جنت!تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔موت نہیں آے گی اور جہنمیوں سے کہا جائے گا۔اے اہل جہنم!تمہیں ہمیشہ رہنا ہے،موت نہیں آئے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ؛جنت میں ستر ہزار بغیر حساب داخل ہوں گے؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٥)
اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے کھانا جسے اہل جنت کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا زائد حصہ ہوگا۔ «عدن» کے معنی ہمیشہ رہنا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «عدنت بأرض» یعنی میں نے اس جگہ قیام کیا اور اسی سے «معدن» آتا ہے «في معدن صدق.» (یا «مقعد صدق.» جو سورۃ القمر میں ہے) یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں عورتیں تھیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٦)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہاں اکثر داخل ہونے والے زیادہ تر مسکین ہیں اور مالدار لوگ ایک طرف روکے گئے ہیں، ان کا حساب لینے کے لیے باقی ہے اور جو لوگ دوزخی تھے وہ تو دوزخ کے لیے بھیج دئیے گئے اور میں نے جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٣؛حدیث نمبر٦٥٤٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو!جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیں گے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیونکہ اب تو، تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہو گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کر دوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٤٩)
حمید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت نوعمر تھے تو ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی،(آپ مجھے بتائیں)اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی اور صبر پر ثواب کی امیدوار رہوں گی اور اگر وہ دوسری جگہ ہے تو آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ارشاد فرمایا کہ تم پر افسوس یا تم دیوانی ہو! کیا ایک ہی جنت ہے اس کے لیے تو بہت سی جنت اور وہ (حارثہ) جنت الفردوس میں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا کہ تیز رفتار سوار تین دن میں جتنی دور جا سکے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥١)
حضرت سہل بن سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلتا رہے تو سایہ ختم نہ ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٢)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی پھرتیلے اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساے میں ایک سو سال تک بھی چلتا رہے تب بھی وہ ختم نہ ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٣)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد داخل ہوں گے۔ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ ان میں سے کون سی تعداد مروی ہے چناچہ وہ دوسرے کو پکڑے ہوئے ہوں گے،حتیٰ کہ ان کے چہرے چاند رات کے چاند کی مانند ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٤)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٥)
میرے والد نے نعمان بن ابو عیاش سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے لیکن وہ یہ اضافہ کرتے ہیں۔جس طرح تم مشرقی اور مغربی افق پر غروب ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٤؛حدیث نمبر٦٥٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں (اس عذاب سے نجات پانے کے لیے) دے دو گے، وہ کہے گا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے (توحید کا) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٥٧)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ دوزخ سے شفاعت کے ذریعہ نکالے جائیں گے گویا کہ «ثعارير» ہوں۔“ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ «ثعارير» کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد سفید ککڑیاں ہیں۔جن کے منہ جھڑ گئے ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: اے ابومحمد! (یہ عمرو بن دینار کی کنیت ہے) کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے شفاعت کے ذریعہ نکالے جائیں گے؟فرمایا ہاں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٥٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کچھ لوگ عذاب پانے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے۔پس جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی انہیں جہنمی کہ کر پکاریں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٥٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو اسے دوزخ سے نکال لو۔ اس وقت ایسے لوگ نکالے جائیں گے اور وہ اس وقت جل کر کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے۔ اس کے بعد انہیں ”نہر حیاۃ“ (زندگی بخش دریا) میں ڈالا جائے گا۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ اور شگفتہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کی جگہ پر کوڑے کرکٹ کا دانہ (اسی رات یا دن میں) اگ آتا ہے یا راوی نے کہا ( «حميل السيل» کے بجائے) «حمية السيل» کہا ہے۔ یعنی جہاں سیلاب کا زور ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اس دانہ سے زرد رنگ کا لپٹا ہوا بارونق پودا اگتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٦٠)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو جہنمیوں میں سے جس آدمی کو قیامت میں سب سے ہلکا عذاب دیا جائے گا اس کے دونوں قدموں کی پشت پر چنگاری رکھی جائے گی جس کے سبب اس کا دماغ بھی کھولتا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٦١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس دوزخی کو سب سے کم عذاب ہوگا اس کے دونوں پیروں پر چنگاریاں رکھی جائیں گی جن کے سبب اس کا دماغ یو کھول رہا ہوگا جیسے ہانڈی یا دیگچی میں ابال آتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٦٢)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا تو چہرہ مبارک پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔پھر دوزخ کا ذکر فرمایا کہ دوزخ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر۔اگر کوئی ایسا نہ کر سکے تو اچھی بات کہ کر بچ جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٥؛حدیث نمبر٦٥٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ کے حضور آپکے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو فرمایا۔شاید قیامت کے دن انہیں میری شفاعت فائدہ پہنچاے،چناچہ وہ دوزخ میں ہوں گے کہ آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچ جائے گی،جس کے سبب ان کا دماغ بھی کھولتا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٦؛حدیث نمبر٦٥٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو اکٹھا کرے گا تو وہ کہیں گے کہ کاش!کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں شفاعت کرتا تاکہ ہم اس جگہ سے نجات پاتے۔پس وہ حضرت آدم کی خدمت میں حاضر کر عرض کریں گےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اور آپ کے اندر اپنی خاص روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔لہذا اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے۔چناچہ وہ اپنی لغزش کا ذکر کر کے فرمائیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو پائے گا تم نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ وہ اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن یہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ، اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا، اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن یہ بھی کہیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے تمام اگلے پچھلے تمام لغزشیں معاف کر دئیے گئے ہیں ۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ اس وقت میں اپنے رب سے (شفاعت کی) اجازت چاہوں گا اور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھا لو، مانگو دیا جائے گا، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو، شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنے رب کی اس وقت ایسی حمد بیان کروں گا کہ جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا اور اسی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا، تیسری یا چوتھی مرتبہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے (یعنی جن کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ ہے) قتادہ رحمہ اللہ اس موقع پر کہا کرتے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٦؛حدیث نمبر٦٥٦٥)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کچھ لوگ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے سبب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔چناچہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی انہیں جہنمی کے نام سے پکاریں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٦؛حدیث نمبر٦٥٦٦)
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حارثہ بن سراقہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حارثہ بدر کی لڑائی میں تیر لگ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، اگر وہ جنت میں ہے تو اس پر میں نہیں روؤں گی، ورنہ جلد آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم دیوانی ہوگئی ہو۔کیا ایک ہی جنت ہے؟وہاں تو بہت سی جنتیں ہیں اور وہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٦؛حدیث نمبر٦٥٦٧)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام سفر کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بڑھ کر ہے اور جنت میں تمہاری ایک کمان کے برابر جگہ یا ایک قدم کے فاصلے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بہتر ہے اور اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت روئے زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو آسمان سے لے کر زمین تک منور کر دے اور ان تمام کو خوشبو سے بھر دے اور اس کا دوپٹہ «دنيا وما فيها).» سے بڑھ کر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٧؛حدیث نمبر٦٥٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں جو بھی داخل ہو گا اسے اس کا جہنم کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر نافرمانی کی ہوتی (تو وہاں اسے جگہ ملتی) تاکہ وہ اور زیادہ شکر کرے اور جو بھی جہنم میں داخل ہو گا اسے اس کا جنت کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اچھے عمل کئے ہوتے (تو وہاں جگہ ملتی) تاکہ اس کے لیے حسرت و افسوس کا باعث ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٧؛حدیث نمبر٦٥٦٩)
سعید بن ابو سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ!میرا خیال یہی تھا کہ اس کے متعلق سب سے پہلے تم مجھ سے پوچھو گے کیونکہ حدیث کے ساتھ تمہاری بے پناہ وابستگی میں نے دیکھی ہے ۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٧؛حدیث نمبر٦٥٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہوجا کیوں کہ تیرے لیے دنیا کے برابر بلکہ اس سے دس گنا ہے یا تیرے لیے دس دنیاؤں کے برابر ہے۔وہ عرض گزار ہوگا کہ مجھے کیوں مزاق بنایا جارہا ہے حالانکہ تو حقیقی بادشاہ ہے چناچہ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٧؛حدیث نمبر٦٥٧١)
عبد اللہ بن حارث بن نوفل نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ سے ابوطالب کو کوئی نفع پہنچا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جنت اور دوزخ کی حالت؛٨ص١١٧؛حدیث نمبر٦٥٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل (ابر) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جسکی عبادت کیا کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے ہو لیں گے۔ جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے تجھ سے اللہ کی پناہ۔ ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آئے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے(کیونکہ وہ حشر میں ایک بار اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے)پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا (آؤ میرے ساتھ ہو لو) میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ!سلامتی۔ اے اللہ!سلامتی اور وہاں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دیکھے ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پھر سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ اس کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے اور اس طرح ان میں سے بعض تو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور بعض کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہو گا، پھر وہ نجات پا جائے گا۔ حتی کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرما چکا ہوگا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہوگی۔ یعنی وہ جنہوں نے کلمہ «لا إله إلا الله» کی گواہی دی ہو گی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم میں سجدوں کے نشان کو کھائے۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو نکالیں گے۔ یہ جل کر کوئلے ہو چکے ہوں گے پھر ان پر پانی چھڑکا جائے گا جسے «ماء الحياة» زندگی بخشنے والا پانی کہتے ہیں۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جیسے سیلاب کے بعد زرخیز زمین میں دانہ اگ آتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہو گا اور وہ کہے گا اے میرے رب! اس کی بدبوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، ذرا میرا منہ آگ کی طرف سے دوسری طرف پھیر دے۔ وہ اسی طرح اللہ سے دعا کرتا رہے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو کہیں تو کوئی دوسری چیز مانگنی شروع نہ کر دے۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں مانگوں گا۔ چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا۔ اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے ابھی یقین نہیں دلایا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ افسوس! اے ابن آدم! تو بہت زیادہ وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ برابر اسی طرح دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور چیز مانگنے لگے گا۔ وہ شخص کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب وہ جنت کے اندر کی نعمتوں کو دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا، پھر کہے گا اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے سوا کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ اے ابن آدم! افسوس، تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت بندہ نہ بنا۔ وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کر چنانچہ وہ اس کی خواہش کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کرو، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں اور دی جاتی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے کہا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الصِّرَاطُ جَسْرُ جَهَنَّمَ؛الصراط جہنم کے اوپر ہوگا؛٨ص١١٨؛حدیث نمبر٦٥٧٣)
عطاء نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس ٹکڑے تک پہنچے کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں نے یوں ہی سنا ہے، یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابُ الصِّرَاطُ جَسْرُ جَهَنَّمَ؛الصراط جہنم کے اوپر ہوگا؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بےشمار خوبیاں عطاء فرمائیں۔(الکوثر١) حضرت عبد اللہ بن زید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حوض کوثر پر مجھ سے ملنے پر صبر کرو۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٥)
ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نیا کیا۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی، ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٦)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے سامنے حوض کوثر ہوگا،اتنے فاصلے پر جتنا فاصلہ جربا اور اذرح کے درمیان ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٧)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی (خیر کثیر) ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر (بھلائی) کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہو گی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٧٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے حوض کی لمبائی اتنی ہے جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء کا یمن سے ہے۔اس میں اتنی بڑی تعداد میں پیالے ہوں گے جتنے آسمان کے تارے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں جنت کی سیر کر رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١١٩؛حدیث نمبر٦٥٨١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حوض کوثر پر میرے سامنے سے میری امت کے کچھ لوگ گزریں گے،حتیٰ کہ میں ان کو پہچان لوں گا۔پس انہیں مجھ سے دور کر دیا جائے گا میں کہوں گا یہ تو میرے صحابہ ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢٠؛حدیث نمبر٦٥٨٢)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں۔جو میرے پاس سے گزرے گا وہ پئے گا اور جو پی لے گا اسے کبھی پیاس پیاس نہیں لگے گی۔میرے سامنے سے کچھ ایسے لوگ گزریں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے۔پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢٠؛حدیث نمبر٦٥٨٣)
ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ (یعنی یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ) میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کیا پس میں کہوں گا دور دور ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ «سحقا» بمعنی «بعدا» ہے، «سحيق» یعنی «بعيد»، «أسحقه» یعنی «أبعده.» (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢٠؛حدیث نمبر٦٥٨٤)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بروز قیامت میرے پاس سے میرے ساتھیوں کی ایک جماعت گزرے گی۔پس وہ حوض کوثر سے دور کر دئے جائیں گے۔میں کہوں گا کہ اے رب!میرے ساتھی۔فرمایا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نیا کیا؟یہ الٹی ایڑی گھوم گئے مرتد ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢٠؛حدیث نمبر٦٥٨٥)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن میرے پاس سے میرے ساتھیوں کی ایک جماعت گزرے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نیا کیا؟ یہ الٹی ایڑی پھر کر مرتد ہوگئے تھے۔“ (دوسری سند) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے «فيجلون» (بجائے «فيحلؤون») کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل «فيحلؤون» بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢٠؛حدیث نمبر٦٥٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی جانب ۔ میں کہوں گا کہ کس سبب سے؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں مرتد ہو گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ کس سبب سے؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں مرتد ہوگئے تھے۔میرے خیال میں بغیر چرواہے کے اونٹوں کی طرح ان میں سے کوئی نجات نہیں پائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٨٧)
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٨٨)
حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٨٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور شہداء احد پر اسی طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔میں تمہارا پیش خیمہ ہوں اور خدا کی قسم، میں اپنے حوض کو اب بھی رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطاء کی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٩٠)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض کوثر کا ذکر فرماتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ جتنا فاصلہ مدینہ منورہ اورصفا کے درمیان ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٩١)
اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہو گا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے۔ اس پر مستورد نے کہا: کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن (پینے کے) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٩٢)
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم ہے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا۔خدا کی قسم،یہ تو اپنی الٹے پاؤں پھرتے رہے ہیں۔ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «أعقابكم تنكصون» اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھر گئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الرِّقَاقِ؛بَابٌ في الْحَوْضِ؛حوض کوثر کا بیان؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر٦٥٩٣)
Bukhari Shareef : Kitabur Reqaq
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الرِّقَاقِ
|
•