
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دَین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔(النساء ١١،١٢) محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، دونوں حضرات پیدل چل کر آئے تھے۔ دونوں حضرات جب آئے تو مجھ پر غشی طاری تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا مجھے ہوش ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنے مال کی (تقسیم) کس طرح کروں؟ یا اپنے مال کا کس طرح فیصلہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیتیں نازل ہوئیں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛باب اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی جو اوپر مذکور ہوا؛جلد ٨ص١٤٨؛حدیث نمبر٦٧٢٣)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ گمان کرنے والوں سے پہلے علم حاصل کر لو یعنی جو لوگ گمان سے باتیں کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گمان سے بچتے رہنا کیوں کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور برائیاں تلاش نہ کرو،تجسس نہ کرو کسی سے بغض و عناد نہ رکھو اور تعلقات منقطع نہ کرو بلکہ اے اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن کر رہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛؛جلد ٨ص١٤٨؛حدیث نمبر٦٧٢٤)
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس علیہما السلام،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک اور خیبر کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛3. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٥)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔ بیان کیا کہ اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے تعلق کاٹ لیا اور آخری وقت تک ان سے کلام نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٦)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہماری کوئی وارث نہیں،جو ہم چھوڑے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٧)
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے مالک بن اوس کی اس حدیث کا ایک حصہ ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ان کے حاجب یرفاء نے جا کر ان سے کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن بن زبیر اور سعد آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آنے دو۔ چنانچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔ پھر کہا، کیا آپ علی و عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آنے کی اجازت دیں گے؟ کہا کہ ہاں آنے دو۔ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؟ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذات مراد لیتے تھے۔جملہ حاضرین بولے کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمر، حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں اب آپ لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ حصے مخصوص کر دئیے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان:اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑاے تھے نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔(الحشر٦)یہ تو خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہارے لیے ہی مخصوص کیا تھا اور تمہارے سوا کسی کو اس پر ترجیح نہیں دی تھی، تمہیں کو اس میں سے دیتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ آخر اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو اللہ کے مقرر کردہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل آپ کی زندگی بھر رہا۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر آپ نے حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں چنانچہ انہوں نے اس پر قبضہ میں رکھ کر اس طرز عمل کو جاری رکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی تو میں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں۔ میں بھی دو سال سے اس پر قابض ہوں اور اس مال میں وہی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہو۔ آپ دونوں کی بات ایک ہے اور معاملہ بھی ایک ہی ہے۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے ہو اور آپ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کا حصہ لینے آئے ہو جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں اسے آپ کو دے سکتا ہوں لیکن آپ لوگ اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں تو اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، قیامت تک۔اگر آپ حضرات اس کے بند و بست سے عاجز آگئے تو مجھے واپس دے دیجئے میں خود اس کا بندوبست کر لوں گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری میراث کے دینار تقسیم نہیں کئے جائیں گے بلکہ جو میں چھوڑوں اس میں سے میری ازواج مطہرات اور میرا کام کرنے والوں کے مصارف سے جو بچے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٢٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوگیا تو آپ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان کو حضرت ابوبکر کے پاس میراث کا سوال کرنے کے لئے بھیجیں تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہماری کوئی میراث نہیں ہم جو چھوڑے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں۔جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے اوپر قرض ہو لیکن ادا کرنے کے لئے کچھ نہ چھوڑا ہو تو اس کا ادا کرنا ہمارے ذمے ہے اور جو وہ مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مال چھوڑے وہ اس کے گھر والوں کا ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣١)
زید بن ثابت کا قول ہے کہ جب کوئی مرد یا عورت بیٹی چھوڑے تو اس کے لئے نصف اور اگر وہ دو یا زیادہ ہوں تو ان کے لیے دو تہائی اور اگر ان کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو دوسرے شرکاء کو دے کر باقی مال سے مرد کو عورت سے دگنا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا میں مکہ مکرمہ میں بیمار پڑ گیا اور موت کے قریب پہنچ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں تو کیا مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصہ کا صدقہ کر دینا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے، اگر تم اپنے بچوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو گی تو اس کے ذریعہ درجہ و مرتبہ بلند ہو گا اور میرے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو گا اور بہتوں کو نقصان پہنچے گا۔لیکن صدمہ ہے سعد بن خولہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ ہوتا رہا کیونکہ ان کا مکہ مکرمہ میں وصال ہوگیا تھا۔سفیان اور سعد بن خولہ نے کہا جو بنی عامر بن لوئ کے ایک فرد تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ؛بیٹیوں کی میراث؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٣)
اسود بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس یمن میں معلم اور امیر بن کر تشریف لائے تو ہم نے ان سے ایک ایسے فوت شدہ کے متعلق دریافت کیا جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن پیچھے چھوڑی تو انہوں نے آدھا مال بیٹی کو اور آدھا بہن کو دیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٤)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ بیٹے کا بیٹا خود بیٹے کے حکم میں ہے جبکہ ان کے سوا اور اولاد نہ ہو پوتے بیٹوں کی طرح ہے اور پوتیاں بیٹیوں کی طرح ہے اور انہیں بھی اسی طرح ترکہ ملے گا جیسے انہیں اور وہ بھی اسی طرح دوسروں کو محروم کریں گے جیسے یہ لیکن بیٹے کی موجودگی میں ہوتا میراث نہیں پاے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میراث اس کے مستحق افراد تک پہنچا دو اور جو مال باقی بچے وہ اس مرد کا ہے جو سب سے قریب ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الاِبْنِ، إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ؛پوتے کی میراث (کتنی ہے) جب بیٹا نہ ہو؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٥)
ہزیل بن شرحبیل نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جا، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہوا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ رہا۔میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ ابْنَةِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةٍ؛بیٹی کی موجودگی میں نواسی کی میراث؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٦)
ابوبکر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ دادا باپ کی طرح ہے؟ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی «يا بني آدم» ”اے آدم کے بیٹو!“ «واتبعت ملة آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوب» ”اور میں نے اتباع کی ہے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی“ اور اس کا ذکر نہیں ملتا کہ کسی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آپ کے زمانہ میں اختلاف کیا ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد اس زمانہ میں بہت تھی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے وارث میرے پوتے ہوں گے بھائی نہیں ہوں گے اور میں اپنے پوتوں کا وارث نہیں ہوں گا۔ عمر، علی، ابن مسعود اور زید رضی اللہ عنہم سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ اس کا ہے جو سب سے قریب ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ؛باپ یا بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٧)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اس امت میں کسی کو خلیل بناتا تو اسے بناتا۔لیکن اسلامی دوستی میں زیادہ فضیلت ہے یا فرمایا کہ یہ زیادہ بہتر ہے انہوں نے دادا کو باپ کی جگہ قرار دیا۔یہ فرمایا کہ اس کا فیصلہ باپ کی جگہ کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ؛باپ یا بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٣٨)
عطاء نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور خاوند کے لیے چوتھائی اور اولاد نہ ہو تو خاوند کا نصف اور بیوی کا چوتھائی ملے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ؛اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ بنی لحیان کی جس عورت کا بچہ گرا دیا گیا ہے اسے ایک غلام یا لونڈی خون بہا دیا جائے پھر وہ عورت وفات پا گئی جس کو خون بہا دلایا گیا تھا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ میراث اس عورت کے بیٹے اور خاوند کو ملے گی اور خون بہا عصبہ کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ؛بیوی اور خاوند کو اولاد وغیرہ کے ساتھ کیا ملے گا؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٠)
ابراهيم نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف ملے گا پھر سلیمان راوی نے کہا کہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کا ذکر نہ کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً؛بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤١)
ابو قیس نے ہزمل سے روایت کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کا وہی فیصلہ کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کے لئے نصف پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً؛بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٢)
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا،پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھڑکاتو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ وَالإِخْوَةِ؛بہنوں اور بھائیوں کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آخری آیت (میراث کی) سورۃ نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کہ ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔“ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خاوند کو آدھا حصہ ملے گا اور اخیائی بھائی کو چھٹا حصہ (بموجب فرض کے) پھر جو مال بچ رہے گا یعنی ایک ثلث وہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا (کیونکہ دونوں عصبہ ہیں)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا ان کی جان سے بھی زیادہ مالک ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا نگران ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ؛عورت کے دو چچازاد بھائی ہوں،ایک ان میں سے اس کی اولاد سے اور دوسرا خاوند ہو؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ؛عورت کے دو چچازاد بھائی ہوں،ایک ان میں سے اس کی اولاد سے اور دوسرا خاوند ہو؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٦)
سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «ولكل جعلنا موالي» اور «والذين عقدت أيمانكم» کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت «جعلنا موالي» نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے «والذين عقدت أيمانكم»ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنا دے ہیں"(النساء آیت نمبر ٣٣)نازل ہوئی تو اس نے حکم کو منسوخ کردیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ذی رحم رشتے؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٧)
نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیوی پر لعان کیا اور اس کے پیچھے سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی اور لڑکا عورت کو دلوایا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْمُلاَعَنَةِ؛لعان کرنے والی عورت کی وراثت کا بیان؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً؛بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً؛بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٠)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لڑکا پڑا ہوا ملے اور اس کے ماں باپ نہ معلوم ہوں تو وہ آزاد ہو گا۔ اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ؛جو آزاد کرے ولا اس کے لیے ہے،گرے پڑے بچے کے متعلق وراثت کا حکم؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ؛جو آزاد کرے ولا اس کے لیے ہے،گرے پڑے بچے کے متعلق وراثت کا حکم؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٢)
ہزیل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مسلمان سائبہ کر کے نہیں چھوڑا کرتے ہاں دور جاہلیت کے لوگ سائبہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ میراث السائبۃ؛سائبہ کی میراث؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٣)
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدا ہے لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے یا یہ فرمایا کہ قیمت ادا کردو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ میراث السائبۃ؛سائبہ کی میراث؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٤)
ابراہیم تیمی نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ؛غلام آقا کی برائی کرے تو گناہ ہے؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٥)
عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ؛غلام آقا کی برائی کرے تو گناہ ہے؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٦)
حسن کے خیال میں اس کے لیے ولا نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولا اس کے لیے ہے جو آزاد کرے تمیم داری سے اس کا مرفوعاً ہونا منقول ہے۔فرمایا کہ ان کی زندگی اور موت میں وہ لوگوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں اور لوگوں نے اس خبر کی صحت میں اختلاف کیا ہے۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہوگی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیوں کہ ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ؛جس کے ہاتھ پر کوئی مسلمان ہو؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٧)
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہوگی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ؛جس کے ہاتھ پر کوئی مسلمان ہو؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٨)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ لوگ ولاء کی شرط رکھتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے خرید لو کیوں کہ ولاء تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ؛کیا عورت ولا کی وارث ہوگی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٩)
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے لیے ہے جس نے چاندی دی اور نوازا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ؛کیا عورت ولا کی وارث ہوگی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے یا جو کچھ آپ نے فرمایا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ؛قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہے اور بھانجا بھی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦١)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہن کا بیٹا اسی قوم سے ہے یا ان ہی میں شامل ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ؛قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہے اور بھانجا بھی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦٢)
حضرت شریح دشمن کے قبضے میں بھی قیدی کو میراث دلاتے اور فرماتے کہ وہ اس کی زیادہ حاجت رکھتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ قیدی کی وصیت اس کا آزاد کرنا ہے اور اپنے مال میں اس کے تصرف کو جائز سمجھو جب تک اپنے دین سے نہ پھرے کیوں کہ وہ اسی کا مال ہے اس میں جو چاہے کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَسِيرِ؛قیدی کی وراثت کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٣)
جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہوگیا اسے میراث سے حصہ نہیں ملے گا۔ عمر بن عثمان نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کافر کی اور کافر مسلمان کا وارث نہیں۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛ بَابُ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ؛مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کی میراث نہیں پاسکتا؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٤)
عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان۔ اس باب میں حدیث نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛ بَابُ مَنِ ادَّعَى أَخًا أَوِ ابْنَ أَخٍ؛جو بھائی یا بھتیجہ ہونے کا دعویٰ کرے؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٥)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے لیے دعویٰ کرے اور اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔ پھر میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں کانوں کے ساتھ سنا اور دل میں یاد رکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ؛جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٦٦٦ و حدیث نمبر ٦٧٦٧)
عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو،جو اپنے باپ سے منہ پھیر کر دوسرے کا باپ بناے تو یہ کفر ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ؛جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے،ایسا نہ کیجئے یہ اسی کا بیٹا ہے۔چناچہ انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے (اپنے قبیلہ میں)مدیۃ کہا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ ابْنًا؛کسی عورت کا دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ میرا ہے؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٩)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مسرور تشریف لائے اور چہرہ انور جگمگا رہا تھا فرمایا کہ تم نے نہیں دیکھا کہ قیافہ شناس نے ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کے قدموں کو دیکھ کر کہا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْقَائِفِ؛قیافہ شناش کا بیان؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٠)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت مسرور میرے پاس تشریف فرما ہوئے۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ!تم نہ دیکھا کہ قیافہ شناس مدلجی آیا۔پھر اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا جبکہ ان پر چادر پڑی ہوئی تھی۔جس سے ان کے سر ڈھکے ہوئے اور پاؤں کھلے ہوئے تھے پھر اس نے کہا کہ ان میں سے ایک کے پاؤں دوسرے سے ہیں۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْقَائِفِ؛قیافہ شناش کا بیان؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧١)
Bukhari Shareef : Kitabul Faraiz
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الفَرَائِضِ
|
•