asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Hudud

From 6772 to 6859

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا زنا کرتے میں اس(زانی)سے ایمان کا نور اٹھا لیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة‏.‏» کے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الزنا وشرب الخمر، لاَ يُشْرَبُ الْخَمْرُ؛جو حدود توڑے شراب پئے اور زنا کرے،شراب نہ پی جائے؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٢)

كِتَابُ الحُدُودِ بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنَ الحُدُودِ بَابُ لاَ يُشْرَبُ الخَمْرُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «يُنْزَعُ مِنْهُ نُورُ الإِيمَانِ فِي الزِّنَا» حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ» وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا النُّهْبَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6772

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے پٹائی کی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الْخَمْرِ؛شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الخَمْرِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ضَرَبَ فِي الخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6773

ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ مَنْ أَمَرَ بِضَرْبِ الْحَدِّ فِي الْبَيْتِ؛جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٤)

بَابُ مَنْ أَمَرَ بِضَرْبِ الحَدِّ فِي البَيْتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ، قَالَ: " جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ، أَوْ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ، شَارِبًا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، قَالَ: فَضَرَبُوهُ، فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6774

عبداللہ بن ابی ملکہ نے حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھاجنہوں نے اسے مارا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٥)

بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِنُعَيْمَانَ، أَوْ بِابْنِ نُعَيْمَانَ، وَهُوَ سَكْرَانُ، فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ فِي البَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6775

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق چھڑی اور جوتوں سے سزا دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6776

ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کہو اور اس پر شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، قَالَ: «اضْرِبُوهُ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ القَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ: «لاَ تَقُولُوا هَكَذَا، لاَ تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6777

عمیر بن سعید نخعی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الحَارِثِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، سَمِعْتُ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ النَّخَعِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ حَدًّا عَلَى أَحَدٍ فَيَمُوتَ، فَأَجِدَ فِي نَفْسِي، إِلَّا صَاحِبَ الخَمْرِ، فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6778

یزید بن خصیفہ کا بیان ہے کہ حضرت سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے (اور اسے مارتے) آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو (80) اسی کوڑے مارے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٩)

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الجُعَيْدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا، حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ، فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ، حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6779

زید بن اسلم نے اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! اسے کتنی مرتبہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں تو یہ جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ الْمِلَّةِ؛جس نے شرابی پر لعنت کی اور وہ خارج اسلام نہیں؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٨٠)

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الخَمْرِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ المِلَّةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: اللَّهُمَّ العَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6780

ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا،اسے کیا ہوا،اسے اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ الْمِلَّةِ؛جس نے شرابی پر لعنت کی اور وہ خارج اسلام نہیں؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ. فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ: مَا لَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6781

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ السَّارِقِ حِينَ يَسْرِقُ؛چور جب چوری کرتا ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٢)

بَابُ السَّارِقِ حِينَ يَسْرِقُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6782

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی کہ خود چراتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور کشتی کی رسی چراتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔اعمش راوی کا قول ہے کہ لوگوں کے خیال میں بیضہ سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد ایسی رسی سمجھتے تھے جو کئی درہم کی ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَعْنِ السَّارِقِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ؛چور کا نام لیے بغیر اس پر لعنت بھیجنا درست ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٣)

بَابُ لَعْنِ السَّارِقِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، يَسْرِقُ البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ» قَالَ الأَعْمَشُ: «كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ بَيْضُ الحَدِيدِ، وَالحَبْلُ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْهَا مَا يَسْوَى دَرَاهِمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6783

ابوادریس خولانی کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے عہد کرو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور آپ نے یہ آیت پوری پڑھی(سورہ ممتحنہ،١٢)”پس تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے یہاں ہے اور جو شخص ان میں سے غلطی کر گزرا اور اس پر اسے سزا ہوئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جو شخص ان میں سے کوئی غلطی کر گزرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو اگر اللہ چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر عذاب دے گا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَةٌ؛حد قائم ہونے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٤)

بَابٌ: الحُدُودُ كَفَّارَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الخَوْلاَنِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا - وَقَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ كُلَّهَا - فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6784

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ”ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ”پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، سوا اس کے حق کے، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے۔ ہاں! کیا میں نے تمہیں پیغام حق پہنچا دیا۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ تم پر افسوس یا تمہاری خرابی میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ ظَهْرُ الْمُؤْمِنِ حِمًى، إِلاَّ فِي حَدٍّ أَوْ حَقٍّ؛حد یا حق کے سوا مؤمن کی پیٹھ کی حفاظت؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٥)

بَابٌ: ظَهْرُ المُؤْمِنِ حِمًى إِلَّا فِي حَدٍّ أَوْ حَقٍّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَبِي: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ: «أَلاَ، أَيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً» قَالُوا-: أَلاَ شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ: «أَلاَ، أَيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً» قَالُوا: أَلاَ بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ: «أَلاَ، أَيُّ يَوْمٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً» قَالُوا: أَلاَ يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ» ثَلاَثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ: أَلاَ، نَعَمْ. قَالَ: «وَيْحَكُمْ، أَوْ وَيْلَكُمْ،، لاَ تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6785

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان ہی کو پسند کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو، اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِقَامَةِ الْحُدُودِ وَالاِنْتِقَامِ لِحُرُمَاتِ اللَّهِ؛حدیں قائم کرنا اور اللہ کی حرمات کا انتقام لینا؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٦)

بَابُ إِقَامَةِ الحُدُودِ وَالِانْتِقَامِ لِحُرُمَاتِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ، فَإِذَا كَانَ الإِثْمُ كَانَ أَبْعَدَهُمَا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ، حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6786

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی (جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے بھی (چوری) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِقَامَةِ الْحُدُودِ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ؛امیر اور غریب پر حدود قائم کرنا؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٧)

بَابُ إِقَامَةِ الحُدُودِ عَلَى الشَّرِيفِ وَالوَضِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أُسَامَةَ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الحَدَّ عَلَى الوَضِيعِ وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6787

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِّ، إِذَا رُفِعَ إِلَى السُّلْطَانِ؛جب مقدمہ سلطان تک پہنچے تو حد میں سفارش کرانے میں کراہیت؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٨)

كَرَاهِيَةِ الشَّفَاعَةِ فِي الحَدِّ إِذَا رُفِعَ إِلَى السُّلْطَانِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمُ المَرْأَةُ المَخْزُومِيَّةُ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ» ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ، قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6788

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو۔(المائدہ٣٨) کتنا ہاتھ کاٹا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیلی کے پاس سے کاٹا۔ایک عورت نے چوری کی تو اس کے بارے میں قتادہ کا قول ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا یہی اس کی سزا ہے۔ حضرت المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹ لیا جائے گا۔“ اس روایت کی متابعت عبدالرحمٰن بن خالد زہری کے بھتیجے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٩)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} [المائدة: 38] وَفِي كَمْ يُقْطَعُ؟ وَقَطَعَ عَلِيٌّ، مِنَ الكَفِّ وَقَالَ قَتَادَةُ، فِي امْرَأَةٍ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ شِمَالُهَا: «لَيْسَ إِلَّا ذَلِكَ» حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُقْطَعُ اليَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا» تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6789

عروہ بن زبیر اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھائی دینار کے بدلے چور کا ہاتھ کاٹا جاے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٠)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6790

محمد بن عبد الرحمن انصاری نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھائی دینار کی چوری کے بدلے ہاتھ کاٹا جاے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩١)

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حَدَّثَتْهُمْ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تُقْطَعُ اليَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6791

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ہے۔مگر چمڑے کی یا دوسری ڈھال کی قیمت کی چوری پر۔ عثمان،حمید بن عبد الرحمن،ہشام، عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٧٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ: «أَنَّ يَدَ السَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ثَمَنِ مِجَنٍّ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ» حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6792

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ چمڑے کی یا دوسری ڈھال سے کم قیمت کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔اور ان میں سے ہر ایک قیمتی ہوتی تھی۔وکیع،ابن ادریس ہشام نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمْ تَكُنْ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ» رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6793

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چمڑے کی یا دوسری ڈھال سے کم قیمت کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا اور ان میں سے ہر ایک قیمتی ہوتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٤)

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ المِجَنِّ تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6794

نافع مولیٰ عبد اللہ بن عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا اور اس کی قیمت تین درہم ہوتی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٥)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ» تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ قِيمَتُهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6795

نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کے بدلے ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی, نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٦ و حدیث نمبر ٦٧٩٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ» حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6796/6797

نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ڈھال کے بدلے کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔اسی طرح سے محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے اور لیث نے نافع سے قیمتہ کا لفظ روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر ٦٧٩٨)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ» تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَقَالَ اللَّيْثُ:حَدَّثَنِي نَافِعٌ قِيمَتُهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6798

ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت فرمائی کہ خود چراے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاے اور رسی چراے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر ٦٧٩٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، يَسْرِقُ البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6799

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ آتی اور میں اس کی ضرورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردیا کرتی پھر اس نے توبہ کی اور بڑی اچھی توبہ کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ؛چور کی توبہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٨٠٠)

بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ -، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ» قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَابَتْ، وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6800

ابوادریس کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے پاس ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہو گی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کر لی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کر لے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ؛چور کی توبہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٢؛حدیث نمبر٦٨٠١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ: «أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6801

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب۔(المائدہ٣٣) ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب المحاربين من اھل الکفرۃ والردۃ؛جلد ٨ص١٦٢؛حدیث نمبر٦٨٠٢)

بَابُ المُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الكُفْرِ وَالرِّدَّةِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ} [المائدة: 33] حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ الجَرْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ، فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوْا المَدِينَةَ «فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا» فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ «فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6802

ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ والوں کے ہاتھ پاؤں کٹواے لیکن داغ نہیں لگواے حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَمْ يَحْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الرِّدَّةِ حَتَّى هَلَكُوا؛حضور نے محاربين کو داغ نہیں لگواے حتیٰ کہ وہ مر گئے؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٣)

بَابُ «لَمْ يَحْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الرِّدَّةِ حَتَّى هَلَكُوا» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَطَعَ العُرَنِيِّينَ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6803

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ لوگ صفہ میں ٹھہرے۔مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے (زخم سے خون کو روکنے کے لیے) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَمْ يُسْقَ الْمُرْتَدُّونَ الْمُحَارِبُونَ حَتَّى مَاتُوا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدین؛ اور محاربين کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مر جائیں؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٤)

بَابُ لَمْ يُسْقَ المُرْتَدُّونَ المُحَارِبُونَ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا فِي الصُّفَّةِ، فَاجْتَوَوْا المَدِينَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْغِنَا رِسْلًا، فَقَالَ: «مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ» فَأَتَوْهَا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيخُ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ، وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ، ثُمَّ أُلْقُوا فِي الحَرَّةِ، يَسْتَسْقُونَ فَمَا سُقُوا حَتَّى مَاتُوا قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ: «سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6804

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ الْمُحَارِبِينَ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محاربين کی آنکھیں نکلوادیں؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٥)

بَابُ سَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ المُحَارِبِينَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ، أَوْ قَالَ: عُرَيْنَةَ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: مِنْ عُكْلٍ، قَدِمُوا المَدِينَةَ «فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا» فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا قَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ «فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ» قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ: «هَؤُلاَءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6805

حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ؛فواحش کو ترک کر دینے کی فضیلت؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٦)

بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الفَوَاحِشَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلاَءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي المَسْجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6806

ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ؛فواحش کو ترک کر دینے کی فضیلت؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6807

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بدکاری نہیں کرتے۔(الفرقان ٦٨)اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بےشک وہ بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔(بنی اسرائیل ٦٨) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک مرد ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٨)

بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ يَزْنُونَ} [الفرقان: 68] {وَلاَ تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا} أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لاَ يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ» وَإِمَّا قَالَ: «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ، وَيَظْهَرَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً القَيِّمُ الوَاحِدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6808

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا الفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَزْنِي العَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: «هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6809

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١٠)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6810

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہوگی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ اسے چھوڑو اسے چھوڑو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١١)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِثْلَهُ. قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُهُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ: «دَعْهُ دَعْهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6811

امام حسن بصری کا قول ہے کہ جو اپنی بہن سے زنا کرے اس پر زنا کی حد قائم ہوگی۔ شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب انہوں نے جمعہ کے دن ایک عورت کو رجم کیا تو فرمایا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رجم کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١٢)

بَابُ رَجْمِ المُحْصَنِ وَقَالَ الحَسَنُ: «مَنْ زَنَى بِأُخْتِهِ حَدُّهُ حَدُّ الزَّانِي» حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ المَرْأَةَ يَوْمَ الجُمُعَةِ، وَقَالَ: «قَدْ رَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6812

شیبانی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا؟انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے کہا کہ سورہ النور سے پہلے یا بعد؟فرمایا کہ یہ مجھے معلوم نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٣)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: " هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ؟ قَالَ: لاَ أَدْرِي "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6813

ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے زنا کیا ہے پھر اس نے اپنے اوپر چار دفعہ گواہی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا جس کے مطابق اسے رجم کر دیا گیا اور وہ شادی شدہ تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ: «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمْ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6814

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ کو علم نہیں کہ جنون والے کو جب تک فاقہ نہ ہو جائے بچہ جب تک بالغ نہ ہوجاے اور سونے والا جب تک بیدار نہ ہو اس سے قلم ساقط ہوجاتا ہے۔ ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رونق افروز تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لاَ يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ؛پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٥)

بَابٌ: لاَ يُرْجَمُ المَجْنُونُ وَالمَجْنُونَةُ وَقَالَ عَلِيٌّ، لِعُمَرَ: " أَمَا عَلِمْتَ: أَنَّ القَلَمَ رُفِعَ عَنِ المَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ " حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَبِكَ جُنُونٌ» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَهَلْ أَحْصَنْتَ» قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6815

ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا۔پس میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا۔ہم نے مقام رجم پر سنگسار کیا۔جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا پس ہم نے اسے مقام حرہ پر پکڑ کر سنگسار کردیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لاَ يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ؛پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٦)

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6816

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سعد اور حضرت ابن زمعہ کے درمیان تنازعہ ہوا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عبد بن زمعہ!یہ بچہ تمہارا ہے کیونکہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو اور اے سودہ!اس سے پردہ کرنا ہم سے قتیبہ نے لیث کے حوالے سے اتنا زائد بیان کیا کہ زانی کے لئے پتھر ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ؛زانی کے لئے پتھر ہیں؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٧)

بَابٌ: لِلْعَاهِرِ الحَجَرُ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ» زَادَ لَنَا قُتَيْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ: «وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6817

محمد بن زیاد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ؛زانی کے لئے پتھر ہیں؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٨)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6818

عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ الرَّجْمِ فِي الْبَلاَطِ؛بلاط میں رجم؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٩)

بَابُ الرَّجْمِ فِي البَلاَطِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ أَحْدَثَا جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمْ: «مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ» قَالُوا: إِنَّ أَحْبَارَنَا أَحْدَثُوا تَحْمِيمَ الوَجْهِ وَالتَّجْبِيهَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: ادْعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّوْرَاةِ، فَأُتِيَ بِهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ سَلاَمٍ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَإِذَا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرُجِمَا عِنْدَ البَلاَطِ، فَرَأَيْتُ اليَهُودِيَّ أَجْنَأَ عَلَيْهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6819

ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ  قبیلہ اسلم کے ایک صاحب (ماعز بن مالک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا فرمایا۔یونس،ابن جریج نے زہری سے نماز پڑھنا روایت نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الرَّجْمِ بِالْمُصَلَّى؛عیدگاہ میں رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢٠)

بَابُ الرَّجْمِ بِالْمُصَلَّى حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِكَ جُنُونٌ» قَالَ: لاَ، قَالَ: «آحْصَنْتَ» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَصَلَّى عَلَيْهِ لَمْ يَقُلْ يُونُسُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: «فَصَلَّى عَلَيْهِ». سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، يَصِحُّ؟ قَالَ: رَوَاهُ مَعْمَرٌ، قِيلَ لَهُ: رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ؟ قَالَ: لاَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6820

عطاء کا قول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے پر حد جاری نہیں فرمائی۔ابن جریج کا قول ہے کہ رمضان میں جماع کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہیں دی۔حضرت عمر نے ہرنی والے کو سزا نہیں دی۔اس سلسلے میں ابو عثمان،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حمید بن عبد الرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رمضان شریف میں اپنی زوجہ سے صحبت کر بیٹھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۔چناچہ آپ نے پوچھا۔کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟عرض کی کہ نہیں۔فرمایا،کیا تم دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟عرض کی کہ نہیں۔فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا؛جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں پھر اس کی توبہ کے بعد امیر کو خبر دی اور فتویٰ پوچھا تو اس پر کوئی سزا نہیں؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢١)

بَابٌ: مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الحَدِّ، فَأَخْبَرَ الإِمَامَ، فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ، إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا قَالَ عَطَاءٌ: «لَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: «وَلَمْ يُعَاقِبِ الَّذِي جَامَعَ فِي رَمَضَانَ» وَلَمْ يُعَاقِبْ عُمَرُ، صَاحِبَ الظَّبْيِ وَفِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً» قَالَ: لاَ، قَالَ: «هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6821

عباد بن عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ (دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا؛جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں پھر اس کی توبہ کے بعد امیر کو خبر دی اور فتویٰ پوچھا تو اس پر کوئی سزا نہیں؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢٢)

وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَسْجِدِ، قَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ: «مِمَّ ذَاكَ» قَالَ: وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ لَهُ: «تَصَدَّقْ» قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَجَلَسَ، وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا وَمَعَهُ طَعَامٌ - قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا أَدْرِي مَا هُوَ - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ المُحْتَرِقُ» فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي، مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ؟ قَالَ: «فَكُلُوهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: الحَدِيثُ الأَوَّلُ أَبْيَنُ، قَوْلُهُ: «أَطْعِمْ أَهْلَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6822

عبداللہ بن ابو طلحہ نے بیان کیا، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے۔ آپ مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ بیان کیا کہ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا یا فرمایا کہ تیری غلطی یا حد (معاف کر دی) (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْحَدِّ وَلَمْ يُبَيِّنْ، هَلْ لِلإِمَامِ أَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ؛اگر کوئی شخص حد کا اقرار کرے اور وضاحت نہ کرے تو کیا امام اس پر پردہ ڈالے؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٣)

بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالحَدِّ وَلَمْ يُبَيِّنْ هَلْ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ القُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ، قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ، أَوْ قَالَ: حَدَّكَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6823

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ حاضر ہوے تو آپ نے ان سے فرمایا:شاید تم نے بوسہ دیا یا اشارہ کیا یا دیکھا ہے؟عرض کی کہ یا رسول اللہ!نہیں۔پھر پھر آپ نے بغیر کنایہ کے پوچھا کی صحبت کی ہے؟راوی کا بیان ہے کہ اس وقت آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ هَلْ يَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ؛کیا امام اقرار کرنے والے کو یہ کہ سکتا ہے کہ تم نے مس کیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٤)

بَابٌ: هَلْ يَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ: لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ» قَالَ: لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَنِكْتَهَا». لاَ يَكْنِي، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6824

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ کا بیان ہے کہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ؛زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٥)

بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ المُقِرَّ: هَلْ أَحْصَنْتَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ، فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، يُرِيدُ نَفْسَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَجَاءَ لِشِقِّ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَبِكَ جُنُونٌ» قَالَ: لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَحْصَنْتَ» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6825

ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے فرمایا کہ میں ان لوگوں میں شریک تھا۔جنہوں نے اسے رجم کیا۔ہم نے مصلی پر اسے رجم کیا اور جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا پس ہم نے اسے حرہ کے مقام پر پکڑا اور رجم کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ؛زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٦)

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الحِجَارَةُ جَمَزَ، حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6826

عبیداللہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا اور اے انیس! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ (زنا کا) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا؛زنا کا اقرار کرنا؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٧)

بَابُ الِاعْتِرَافِ بِالزِّنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، قَالاَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي؟ قَالَ: «قُلْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ العِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي: أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَعَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ، المِائَةُ شَاةٍ وَالخَادِمُ رَدٌّ، عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا قُلْتُ لِسُفْيَانَ: لَمْ يَقُلْ: فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ؟ فَقَالَ: «الشَّكُّ فِيهَا مِنَ الزُّهْرِيِّ، فَرُبَّمَا قُلْتُهَا، وَرُبَّمَا سَكَتُّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6827

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ خدشہ ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آے گا۔جب کہنے والا کہے گا کہ ہمیں تو قرآن کریم میں رجم کا حکم ہی نہیں ملتا۔پس وہ اللہ تعالیٰ کے ایک نازل کردہ فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائے گا خبردار ہو جاؤ کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنا حق ہے جبکہ اس پر گواہی قائم ہو جاے یا حمل ٹھہر جاے یا اعتراف کرے۔ سفیان کا قول ہے کہ مجھے یہ ارشاد بھی یاد ہے کہ آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ان کے بعد ہم نے رجم کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا؛زنا کا اقرار کرنا؛جلد ٨ص١٦٨؛حدیث نمبر٦٨٢٨ و حدیث نمبر ٦٨٢٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ، حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ: لاَ نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى وَقَدْ أَحْصَنَ، إِذَا قَامَتِ البَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ - قَالَ سُفْيَانُ: كَذَا حَفِظْتُ - أَلاَ وَقَدْ «رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6828/6829

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں صاحب سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت تو اچانک فیصلے کے تحت ہوگئی تھی۔اس پر عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں ان شاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو اپنے کاموں میں غضب چاہتےہیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! ایسا نہ کیجئے۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے۔جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے (مسجد نبوی) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا، ان میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اپنے زمانہ میں) رجم کرایا۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کر بیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو۔ خواہ مرد ہوں یا عورت، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھا کر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھا کر تعریفیں کی گئیں (ان کو اللہ کا بیٹا بنا دیا گیا) بلکہ (میرے لیے صرف یہ کہو کہ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی، خدا ترس ہو۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوا دیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے۔ اس وقت میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوبکر! ہمیں اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس لے چلئے۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری، انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ (سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں) اور انہوں نے پوچھا۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب (سردار خزرج) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی۔ پھر کہا: امابعد! ہم اللہ کے دین کے مددگار (انصار) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین! کم تعداد میں ہو۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی۔ میری بڑی خواہش تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور اللہ کی قسم! وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزاوار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن مار دی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذر یوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں (دونوں مل کر کام کریں) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ میں ڈر گیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھاؤ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی اس کے بعد ہم سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: بھائیو! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے قتل کردیا ۔ میں نے کہا ان کو اللہ تعالیٰ قتل کیا ہوگا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کر بیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا (پھوٹ پڑ جاتی) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے، نہ اس کی جس سے بیعت کی اس ڈر سے کہ قتل کر دئے جائیں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْحُبْلَى مِنَ الزِّنَا إِذَا أَحْصَنَتْ؛زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادی شدہ ہو؛جلد ٨ص١٦١ سے ١٧٠ تک؛حدیث نمبر٦٨٣٠)

بَابُ رَجْمِ الحُبْلَى مِنَ الزِّنَا إِذَا أَحْصَنَتْ حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالًا مِنَ المُهَاجِرِينَ، مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَبَيْنَمَا أَنَا فِي مَنْزِلِهِ بِمِنًى، وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا، إِذْ رَجَعَ إِلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا أَتَى أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ اليَوْمَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، هَلْ لَكَ فِي فُلاَنٍ؟ يَقُولُ: لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلاَنًا، فَوَاللَّهِ مَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا فَلْتَةً فَتَمَّتْ، فَغَضِبَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَقَائِمٌ العَشِيَّةَ فِي النَّاسِ، فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أُمُورَهُمْ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ لاَ تَفْعَلْ، فَإِنَّ المَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَاءَهُمْ، فَإِنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى قُرْبِكَ حِينَ تَقُومُ فِي النَّاسِ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَقُومَ فَتَقُولَ مَقَالَةً يُطَيِّرُهَا عَنْكَ كُلُّ مُطَيِّرٍ، وَأَنْ لاَ يَعُوهَا، وَأَنْ لاَ يَضَعُوهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ المَدِينَةَ، فَإِنَّهَا دَارُ الهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ، فَتَخْلُصَ بِأَهْلِ الفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ، فَتَقُولَ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا، فَيَعِي أَهْلُ العِلْمِ مَقَالَتَكَ، وَيَضَعُونَهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا. فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لَأَقُومَنَّ بِذَلِكَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَدِمْنَا المَدِينَةَ فِي عُقْبِ ذِي الحَجَّةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، حَتَّى أَجِدَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ جَالِسًا إِلَى رُكْنِ المِنْبَرِ، فَجَلَسْتُ حَوْلَهُ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مُقْبِلًا، قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ: لَيَقُولَنَّ العَشِيَّةَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ، فَأَنْكَرَ عَلَيَّ وَقَالَ: مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ قَبْلَهُ، فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى المِنْبَرِ، فَلَمَّا سَكَتَ المُؤَذِّنُونَ قَامَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قَدْ قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا، لاَ أَدْرِي لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجَلِي، فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لاَ يَعْقِلَهَا فَلاَ أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا، رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، وَالرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتِ البَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ، ثُمَّ إِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ. أَلاَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لاَ تُطْرُونِي كَمَا أُطْرِيَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ قَائِلًا مِنْكُمْ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلاَنًا، فَلاَ يَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ: إِنَّمَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ، أَلاَ وَإِنَّهَا قَدْ كَانَتْ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا، وَلَيْسَ مِنْكُمْ مَنْ تُقْطَعُ الأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ، مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ المُسْلِمِينَ فَلاَ يُبَايَعُ هُوَ وَلاَ الَّذِي بَايَعَهُ، تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلاَ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الأَنْصَارَ خَالَفُونَا، وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ المُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلاَءِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ، لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلاَنِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ القَوْمُ، فَقَالاَ: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ المُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلاَءِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالاَ: لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَقْرَبُوهُمْ، اقْضُوا أَمْرَكُمْ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ، فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَكَتِيبَةُ الإِسْلاَمِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ المُهَاجِرِينَ رَهْطٌ، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ، فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنَ الأَمْرِ. فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ، وَكُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي، إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، فَقَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ العَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ، فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي، لاَ يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ، أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ المَوْتِ شَيْئًا لاَ أَجِدُهُ الآنَ. فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا المُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا المُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. فَكَثُرَ اللَّغَطُ، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ، حَتَّى فَرِقْتُ مِنَ الِاخْتِلاَفِ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ، وَبَايَعَهُ المُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَتْهُ الأَنْصَارُ. وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ،فَقُلْتُ: قَتَلَ اللَّهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ عُمَرُ: وَإِنَّا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَى مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ، خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا القَوْمَ وَلَمْ تَكُنْ بَيْعَةٌ: أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ بَعْدَنَا، فَإِمَّا بَايَعْنَاهُمْ عَلَى مَا لاَ نَرْضَى، وَإِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَيَكُونُ فَسَادٌ، فَمَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ المُسْلِمِينَ، فَلاَ يُتَابَعُ هُوَ وَلاَ الَّذِي بَايَعَهُ، تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلاَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6830

جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے۔(النور ٢،٣)ابن عیینہ نے کہا کہ حد میں ترس نہ آئے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیر شادی شدہ زانی کو ایک سو کوڑے مارنے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کرنے کا حکم فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣١)

بَابُ البِكْرَانِ يُجْلَدَانِ وَيُنْفَيَانِ {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلاَ تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ المُؤْمِنِينَ الزَّانِي لاَ يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا- إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى المُؤْمِنِينَ} قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: «رَأْفَةٌ فِي إِقَامَةِ الحَدِّ» حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ " النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ: جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6831

ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جلا وطن کیا اور پھر یہی طریقہ رائج ہوگیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٢)

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، «غَرَّبَ، ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تِلْكَ السُّنَّةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6832

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس پر حد قائم کرتے ہوئے ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ بِنَفْيِ عَامٍ، بِإِقَامَةِ الحَدِّ عَلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6833

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مخنثوں پر لعنت فرمائی ہے جو مرد کو عورتوں کی مشابہت کریں اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔چناچہ فلاں کو نکال دو اور فلاں کو بھی نکال دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ نَفْيِ أَهْلِ الْمَعَاصِي وَالْمُخَنَّثِينَ؛بدکاروں اور مخنثوں کا شہر بدر کرنا؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٤)

بَابُ نَفْيِ أَهْلِ المَعَاصِي وَالمُخَنَّثِينَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالمُتَرَجِّلاَتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ: «أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ» وَأَخْرَجَ فُلاَنًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلاَنًا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6834

حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ان کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں، میرا لڑکا ان کے یہاں مزدور تھا اور پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے کو رجم کیا جائے گا۔ چنانچہ میں نے سو بکریوں اور ایک کنیز کا فدیہ دیا۔مجھے بتایا گیا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی لازمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ بکریاں اور کنیز تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ملے گی اور انیس! صبح اس عورت کے پاس جاؤ اور پوچھنا تاکہ اسے رجم کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسے رجم کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَمَرَ غَيْرَ الإِمَامِ بِإِقَامَةِ الْحَدِّ غَائِبًا عَنْهُ؛جو امام کی موجودگی میں حد قائم کرنے کا حکم دے؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٥)

بَابُ مَنْ أَمَرَ غَيْرَ الإِمَامِ بِإِقَامَةِ الحَدِّ غَائِبًا عَنْهُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ: صَدَقَ، اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكِتَابِ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنَ الغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ العِلْمِ، فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الغَنَمُ وَالوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ، فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا» فَغَدَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6835

اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسبِ دستور ان کے مہر انہیں دو قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی جب وہ قید میں آجائیں پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لیے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(النساء ٣٥) حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کنیز کے متعلق پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور اسے بیچ ڈالو خواہ ایک رسی ہی قیمت میں ملے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے یقین نہیں کہ تیسری مرتبہ (کوڑے لگانے کے حکم) کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ؛جب کوئی کنیز زنا کرائے؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٦ و حدیث نمبر ٦٨٣٧)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ المُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى المُحْصَنَاتِ مِنَ العَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ العَنَتَ مِنْكُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ غَيْرَ}، {مُسَافِحَاتٍ} [النساء: 25]: زَوَانِي، {وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ} [النساء: 25]: أَخِلَّاءَ بَابُ إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا- مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: «إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «لاَ أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6836/6837

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا معلوم ہوجاے تو اسے کوڑے مارو لیکن ملامت نہ کرو۔پھر زنا کرے تو کوڑے اور ملامت نہ کرو پھر تیسری دفعہ بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ ایک رسی ہی اس کی قیمت میں ملے۔اسی طرح اسماعیل بن امیہ،سعید،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لا ت‍ثریب علی علی الامۃ اذا زنت ولاتنقی؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٣٨ و حدیث نمبر ٦٨٣٩)

بَابُ لاَ يُثَرَّبُ عَلَى الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلاَ تُنْفَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَجْلِدْهَا وَلاَ يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلاَ يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ» تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6838/6839

شیبانی نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا، میں نے پوچھا سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد، انہوں نے بتلایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس روایت کی متابعت علی بن مسہر، خالد بن عبداللہ المحاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے کی ہے اور بعض نے (سورۃ النور کے بجائے) سورۃ المائدہ کا ذکر کیا ہے لیکن پہلی روایت صحیح ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ أَحْكَامِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِحْصَانِهِمْ إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الإِمَامِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٠)

بَابُ أَحْكَامِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِحْصَانِهِمْ، إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الإِمَامِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، عَنِ الرَّجْمِ فَقَالَ: «رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْتُ: أَقَبْلَ النُّورِ أَمْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: «لاَ أَدْرِي» تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالمُحَارِبِيُّ، وَعَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: المَائِدَةِ، وَالأَوَّلُ أَصَحُّ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6840

نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا کہ اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ أَحْكَامِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِحْصَانِهِمْ إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الإِمَامِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اليَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ» فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، قَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى المَرْأَةِ، يَقِيهَا الحِجَارَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6841

حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ!ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِذَا رَمَى امْرَأَتَهُ أَوِ امْرَأَةَ غَيْرِهِ بِالزِّنَا عِنْدَ الْحَاكِمِ وَالنَّاسِ، هَلْ عَلَى الْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا فَيَسْأَلَهَا عَمَّا رُمِيَتْ بِهِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٢)

بَابُ إِذَا رَمَى امْرَأَتَهُ أَوِ امْرَأَةَ غَيْرِهِ بِالزِّنَا، عِنْدَ الحَاكِمِ وَالنَّاسِ، هَلْ عَلَى الحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا فَيَسْأَلَهَا عَمَّا رُمِيَتْ بِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الآخَرُ، وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ-، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - قَالَ مَالِكٌ: وَالعَسِيفُ: الأَجِيرُ - فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ العِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ: «فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6842

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جب کوئی نماز پڑھے اور دوسرا اس کے آگے سے گزرنے لگے تو اسے روکے،اگر نہ مانے تو اس سے لڑے۔حضرت ابو سعید نے ایسا کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک گردن پر رکھ پر آرام فرما تھے۔انہوں نے فرمایا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے۔چناچہ مجھ پر ناراض ہوے اور میری کوک میں گھونسے مارے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے علاوہ کوئی چیز حرکت کرنے میں رکاوٹ نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ؛سلطان کے علاوہ جو اپنے گھر والوں یا دوسروں کو ادب سکھاے؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٣ و حدیث نمبر ٦٨٤٤)

بَابُ مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ» وَفَعَلَهُ أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي» فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، فَعَاتَبَنِي وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي «وَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6843/6844

عبد الرحمن بن قاسم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر آے اور انہوں نے مجھے زور سے مکے مارے اور فرمایا کہ تو نے ہار کی وجہ سے لوگوں کو روک دیا ہے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے سبب موت میرے قریب تھی کیونکہ مجھے تکلیف پہنچ رہی تھی۔آگے اسی طرح حدیث بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ؛سلطان کے علاوہ جو اپنے گھر والوں یا دوسروں کو ادب سکھاے؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ القَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً، وَقَالَ: «حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلاَدَةٍ، فَبِي المَوْتُ، لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَوْجَعَنِي نَحْوَهُ» لَكَزَ وَوَكَزَ وَاحِدٌ "

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6845

حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اسے ختم کئے بغیر سانس نہ لوں۔جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا۔کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب آتا ہے؟حالانکہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ؛جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھے تو اسے قتل کردے؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٦)

بَابُ مَنْ رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ المُغِيرَةِ، عَنِ المُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ، لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6846

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعْرِيضِ؛تعریض کے متعلق؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعْرِيضِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا أَلْوَانُهَا» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ» قَالَ: أُرَاهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ: «فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6847

سلیمان بن یسار نے عبد الرحمن بن جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٤٨)

بَابٌ: كَمُ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6848

عبدالرحمن بن جابر نے اس آدمی سے روایت کی ہے کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی کو دس سے زیادہ ضربوں کی سزا نہ دی جائے سواے اللہ کی حدوں میں سے کسی حد کو قائم کرتے ہوئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٤٩)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، عَمَّنْ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ عُقُوبَةَ فَوْقَ عَشْرِ ضَرَبَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6849

بکیر نے بیان کیا کہ میں سلیمان بن یسار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبدالرحمٰن بن جابر آئے اور سلیمان بن یسار سے بیان کیا پھر سلیمان بن یسار ہماری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے بیان کیا ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، فَحَدَّثَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لاَ تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6850

ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال (مسلسل افطار کے بغیر کئی دن کے روزے رکھنے)کے روزے سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون میری مثل ہے؟بیشک میں رات گزارتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے لیکن وصال کے روزے سے صحابہ نہیں رکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کے بعد دوسرے دن کا وصال کے روزے رکھیں پھر اس کے بعد لوگوں نے چاند دیکھ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر (عید کا) چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور وصال کے روزے رکھتا۔ یہ آپ نے تنبیہاً فرمایا تھا کیونکہ وہ وصال کے روزے رکھنے پرمصر تھے۔ اس روایت کی متابعت شعیب، یحییٰ بن سعید اور یونس نے زہری سے کی ہے اور عبدالرحمٰن بن خالد فہمی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ» فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنَ المُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ» فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ: «لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ» كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ حِينَ أَبَوْا تَابَعَهُ شُعَيْبٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6851

سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی کہ وہ غلے کے ڈھیر کو اس جگہ پر بغیر ناپ تول کے بیچ دیا کرتے لہٰذا وہ اس سے ان کے ٹھکانوں پر لے جاتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٢)

حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا، أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6852

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معاملے میں اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا خواہ کیسی ہی آپ کو اذیت دی گئی ہو۔ہاں جب خدا کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے حکم سے انتقام لیتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٣)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6853

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ شوہر نے کہا تھا کہ اگر اب بھی میں (اپنی بیوی کو) اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے یہ روایت محفوظ رکھی ہے کہ ”اگر اس عورت کے ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر ایسا سرخ رو بچہ جنا تو یہ جھوٹا ہے۔میں نے زہری کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس نے ایسا بچہ جنا جس کو ناپسند کیا جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٤)

بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ المُتَلاَعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَّقَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ زَوْجُهَا: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا " قَالَ: فَحَفِظْتُ ذَاكَ مِنَ الزُّهْرِيِّ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا فَهُوَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَهُوَ. وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: جَاءَتْ بِهِ لِلَّذِي يُكْرَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6854

قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلا گواہی رجم کرتا(تو اسے ضرور کرتا) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو اعلانیہ بدکاری کرتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ، المُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً عَنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ» قَالَ: لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6855

قاسم بن محمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی پھر وہ واپس آئے۔ اس کے بعد ان کی قوم کے ایک صاحب یہ شکایت لے کر ان کے پاس آئے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھے بڑے بول کے سبب اس میں مبتلا کیا گیا ہے۔پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور اس شخص کے بارے میں آپ کو بتایا جس کو اپنی زوجہ کے ساتھ دیکھا تھا اور یہ زرد رنگ،کم گوشت اور سیدھے بالوں والے تھے جبکہ وہ شخص جس کے بارے میں اپنی زوجہ کے پاس دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا وہ گندمی رنگ کا،موٹی پنڈلیوں والا اور موٹا شخص تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو ظاہر کر دے۔ چنانچہ اس عورت کے یہاں اسی شخص کی شکل کا بچہ پیدا ہوا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ وہی تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا گواہی کے رجم کرتا تو اسے رجم کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ تو وہ عورت تھی جو اسلام میں لانے اعلانیہ فحاشی کا مظاہرہ کیا کرتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبِطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدِلًا، كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي المَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ» فَقَالَ: لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6856

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں ۔ مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(النور ٥) بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (النور ٢٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن ایماندار انجان عورتوں کو تہمت لگانا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَمْيِ الْمُحْصَنَاتِ؛پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٧)

بَابُ رَمْيِ المُحْصَنَاتِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ المُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلاَ تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الفَاسِقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 5] {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ المُحْصَنَاتِ الغَافِلاَتِ المُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: 23] حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6857

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بَری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قذف العبید؛غلاموں پر تہمت لگانا؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٨)

بَابُ قَذْفِ العَبِيدِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: «مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ، جُلِدَ يَوْمَ القِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6858

حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر فریق مخالف کھڑا ہوا، یہ زیادہ سمجھدار تھا اور کہا کہ انہوں نے سچ کہا۔ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیجئے اور یا رسول اللہ! مجھے (گفتگو کی) اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کرتا تھا پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ میں نے اس کے فدیہ میں ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ملنی چاہئے اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہی کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اور اے انیس اس عورت کے پاس صبح جانا اور اس سے پوچھنا اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے رجم کرنا، اس عورت نے اقرار کر لیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ هَلْ يَأْمُرُ الإِمَامُ رَجُلاً فَيَضْرِبُ الْحَدَّ غَائِبًا عَنْهُ وقد فعله عمر؛کیا امام کسی شخص کو حکم دے سکتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں کسی پر حد لگاے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے؛جلد ٨ص١٧٦؛حدیث نمبر٦٨٥٩)

بَابٌ: هَلْ يَأْمُرُ الإِمَامُ رَجُلًا فَيَضْرِبُ الحَدَّ غَائِبًا عَنْهُ وَقَدْ فَعَلَهُ عُمَرُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ، قَالاَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ» فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا فِي أَهْلِ هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ العِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، المِائَةُ وَالخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَيَا أُنَيْسُ اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Hudud, Hadees No. 6859

Bukhari Shareef : Kitabul Hudud

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الحُدُودِ

|

•