
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا زنا کرتے میں اس(زانی)سے ایمان کا نور اٹھا لیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة.» کے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الزنا وشرب الخمر، لاَ يُشْرَبُ الْخَمْرُ؛جو حدود توڑے شراب پئے اور زنا کرے،شراب نہ پی جائے؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٢)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے پٹائی کی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الْخَمْرِ؛شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٣)
ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ مَنْ أَمَرَ بِضَرْبِ الْحَدِّ فِي الْبَيْتِ؛جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٤)
عبداللہ بن ابی ملکہ نے حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھاجنہوں نے اسے مارا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق چھڑی اور جوتوں سے سزا دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٦)
ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کہو اور اس پر شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٧)
عمیر بن سعید نخعی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٨)
یزید بن خصیفہ کا بیان ہے کہ حضرت سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے (اور اسے مارتے) آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو (80) اسی کوڑے مارے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ؛(شراب میں)چھڑی اور جوتے سے مارنا؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٧٩)
زید بن اسلم نے اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! اسے کتنی مرتبہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں تو یہ جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ الْمِلَّةِ؛جس نے شرابی پر لعنت کی اور وہ خارج اسلام نہیں؛جلد ٨ص١٥٨؛حدیث نمبر٦٧٨٠)
ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا،اسے کیا ہوا،اسے اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ الْمِلَّةِ؛جس نے شرابی پر لعنت کی اور وہ خارج اسلام نہیں؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨١)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ السَّارِقِ حِينَ يَسْرِقُ؛چور جب چوری کرتا ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٢)
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی کہ خود چراتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور کشتی کی رسی چراتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔اعمش راوی کا قول ہے کہ لوگوں کے خیال میں بیضہ سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد ایسی رسی سمجھتے تھے جو کئی درہم کی ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَعْنِ السَّارِقِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ؛چور کا نام لیے بغیر اس پر لعنت بھیجنا درست ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٣)
ابوادریس خولانی کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے عہد کرو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور آپ نے یہ آیت پوری پڑھی(سورہ ممتحنہ،١٢)”پس تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے یہاں ہے اور جو شخص ان میں سے غلطی کر گزرا اور اس پر اسے سزا ہوئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جو شخص ان میں سے کوئی غلطی کر گزرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو اگر اللہ چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر عذاب دے گا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَةٌ؛حد قائم ہونے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٤)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ”ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ”پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، سوا اس کے حق کے، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے۔ ہاں! کیا میں نے تمہیں پیغام حق پہنچا دیا۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ تم پر افسوس یا تمہاری خرابی میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ ظَهْرُ الْمُؤْمِنِ حِمًى، إِلاَّ فِي حَدٍّ أَوْ حَقٍّ؛حد یا حق کے سوا مؤمن کی پیٹھ کی حفاظت؛جلد ٨ص١٥٩؛حدیث نمبر٦٧٨٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان ہی کو پسند کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو، اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِقَامَةِ الْحُدُودِ وَالاِنْتِقَامِ لِحُرُمَاتِ اللَّهِ؛حدیں قائم کرنا اور اللہ کی حرمات کا انتقام لینا؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٦)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی (جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے بھی (چوری) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِقَامَةِ الْحُدُودِ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ؛امیر اور غریب پر حدود قائم کرنا؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٧)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِّ، إِذَا رُفِعَ إِلَى السُّلْطَانِ؛جب مقدمہ سلطان تک پہنچے تو حد میں سفارش کرانے میں کراہیت؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو۔(المائدہ٣٨) کتنا ہاتھ کاٹا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیلی کے پاس سے کاٹا۔ایک عورت نے چوری کی تو اس کے بارے میں قتادہ کا قول ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا یہی اس کی سزا ہے۔ حضرت المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹ لیا جائے گا۔“ اس روایت کی متابعت عبدالرحمٰن بن خالد زہری کے بھتیجے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦٠؛حدیث نمبر٦٧٨٩)
عروہ بن زبیر اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھائی دینار کے بدلے چور کا ہاتھ کاٹا جاے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٠)
محمد بن عبد الرحمن انصاری نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھائی دینار کی چوری کے بدلے ہاتھ کاٹا جاے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩١)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ہے۔مگر چمڑے کی یا دوسری ڈھال کی قیمت کی چوری پر۔ عثمان،حمید بن عبد الرحمن،ہشام، عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٧٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٢)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ چمڑے کی یا دوسری ڈھال سے کم قیمت کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔اور ان میں سے ہر ایک قیمتی ہوتی تھی۔وکیع،ابن ادریس ہشام نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٣)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چمڑے کی یا دوسری ڈھال سے کم قیمت کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا اور ان میں سے ہر ایک قیمتی ہوتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٤)
نافع مولیٰ عبد اللہ بن عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا اور اس کی قیمت تین درہم ہوتی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٥)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کے بدلے ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی, نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٧٩٦ و حدیث نمبر ٦٧٩٧)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ڈھال کے بدلے کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔اسی طرح سے محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے اور لیث نے نافع سے قیمتہ کا لفظ روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر ٦٧٩٨)
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت فرمائی کہ خود چراے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاے اور رسی چراے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر ٦٧٩٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ آتی اور میں اس کی ضرورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردیا کرتی پھر اس نے توبہ کی اور بڑی اچھی توبہ کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ؛چور کی توبہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦١؛حدیث نمبر٦٨٠٠)
ابوادریس کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے پاس ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہو گی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کر لی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کر لے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ؛چور کی توبہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٢؛حدیث نمبر٦٨٠١)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب۔(المائدہ٣٣) ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب المحاربين من اھل الکفرۃ والردۃ؛جلد ٨ص١٦٢؛حدیث نمبر٦٨٠٢)
ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ والوں کے ہاتھ پاؤں کٹواے لیکن داغ نہیں لگواے حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَمْ يَحْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الرِّدَّةِ حَتَّى هَلَكُوا؛حضور نے محاربين کو داغ نہیں لگواے حتیٰ کہ وہ مر گئے؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ لوگ صفہ میں ٹھہرے۔مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے (زخم سے خون کو روکنے کے لیے) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لَمْ يُسْقَ الْمُرْتَدُّونَ الْمُحَارِبُونَ حَتَّى مَاتُوا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدین؛ اور محاربين کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مر جائیں؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ الْمُحَارِبِينَ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محاربين کی آنکھیں نکلوادیں؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٥)
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ؛فواحش کو ترک کر دینے کی فضیلت؛جلد ٨ص١٦٣؛حدیث نمبر٦٨٠٦)
ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ؛فواحش کو ترک کر دینے کی فضیلت؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بدکاری نہیں کرتے۔(الفرقان ٦٨)اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بےشک وہ بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔(بنی اسرائیل ٦٨) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک مرد ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہوگی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ اسے چھوڑو اسے چھوڑو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ؛زنا کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١١)
امام حسن بصری کا قول ہے کہ جو اپنی بہن سے زنا کرے اس پر زنا کی حد قائم ہوگی۔ شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب انہوں نے جمعہ کے دن ایک عورت کو رجم کیا تو فرمایا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رجم کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٤؛حدیث نمبر٦٨١٢)
شیبانی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا؟انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے کہا کہ سورہ النور سے پہلے یا بعد؟فرمایا کہ یہ مجھے معلوم نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٣)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے زنا کیا ہے پھر اس نے اپنے اوپر چار دفعہ گواہی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا جس کے مطابق اسے رجم کر دیا گیا اور وہ شادی شدہ تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ؛شادی شدہ زانی کو رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ کو علم نہیں کہ جنون والے کو جب تک فاقہ نہ ہو جائے بچہ جب تک بالغ نہ ہوجاے اور سونے والا جب تک بیدار نہ ہو اس سے قلم ساقط ہوجاتا ہے۔ ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رونق افروز تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لاَ يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ؛پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٥)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا۔پس میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا۔ہم نے مقام رجم پر سنگسار کیا۔جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا پس ہم نے اسے مقام حرہ پر پکڑ کر سنگسار کردیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لاَ يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ؛پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٦)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سعد اور حضرت ابن زمعہ کے درمیان تنازعہ ہوا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عبد بن زمعہ!یہ بچہ تمہارا ہے کیونکہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو اور اے سودہ!اس سے پردہ کرنا ہم سے قتیبہ نے لیث کے حوالے سے اتنا زائد بیان کیا کہ زانی کے لئے پتھر ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ؛زانی کے لئے پتھر ہیں؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٧)
محمد بن زیاد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ؛زانی کے لئے پتھر ہیں؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٨)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ الرَّجْمِ فِي الْبَلاَطِ؛بلاط میں رجم؛جلد ٨ص١٦٥؛حدیث نمبر٦٨١٩)
ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب (ماعز بن مالک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا فرمایا۔یونس،ابن جریج نے زہری سے نماز پڑھنا روایت نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الرَّجْمِ بِالْمُصَلَّى؛عیدگاہ میں رجم کرنا؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢٠)
عطاء کا قول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے پر حد جاری نہیں فرمائی۔ابن جریج کا قول ہے کہ رمضان میں جماع کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہیں دی۔حضرت عمر نے ہرنی والے کو سزا نہیں دی۔اس سلسلے میں ابو عثمان،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حمید بن عبد الرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رمضان شریف میں اپنی زوجہ سے صحبت کر بیٹھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۔چناچہ آپ نے پوچھا۔کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟عرض کی کہ نہیں۔فرمایا،کیا تم دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟عرض کی کہ نہیں۔فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا؛جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں پھر اس کی توبہ کے بعد امیر کو خبر دی اور فتویٰ پوچھا تو اس پر کوئی سزا نہیں؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢١)
عباد بن عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ (دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا؛جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں پھر اس کی توبہ کے بعد امیر کو خبر دی اور فتویٰ پوچھا تو اس پر کوئی سزا نہیں؛جلد ٨ص١٦٦؛حدیث نمبر٦٨٢٢)
عبداللہ بن ابو طلحہ نے بیان کیا، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے۔ آپ مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ بیان کیا کہ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا یا فرمایا کہ تیری غلطی یا حد (معاف کر دی) (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْحَدِّ وَلَمْ يُبَيِّنْ، هَلْ لِلإِمَامِ أَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ؛اگر کوئی شخص حد کا اقرار کرے اور وضاحت نہ کرے تو کیا امام اس پر پردہ ڈالے؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٣)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ حاضر ہوے تو آپ نے ان سے فرمایا:شاید تم نے بوسہ دیا یا اشارہ کیا یا دیکھا ہے؟عرض کی کہ یا رسول اللہ!نہیں۔پھر پھر آپ نے بغیر کنایہ کے پوچھا کی صحبت کی ہے؟راوی کا بیان ہے کہ اس وقت آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ هَلْ يَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ؛کیا امام اقرار کرنے والے کو یہ کہ سکتا ہے کہ تم نے مس کیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٤)
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ کا بیان ہے کہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ؛زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٥)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے فرمایا کہ میں ان لوگوں میں شریک تھا۔جنہوں نے اسے رجم کیا۔ہم نے مصلی پر اسے رجم کیا اور جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا پس ہم نے اسے حرہ کے مقام پر پکڑا اور رجم کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ؛زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٦)
عبیداللہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا اور اے انیس! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ (زنا کا) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا؛زنا کا اقرار کرنا؛جلد ٨ص١٦٧؛حدیث نمبر٦٨٢٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ خدشہ ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آے گا۔جب کہنے والا کہے گا کہ ہمیں تو قرآن کریم میں رجم کا حکم ہی نہیں ملتا۔پس وہ اللہ تعالیٰ کے ایک نازل کردہ فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائے گا خبردار ہو جاؤ کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنا حق ہے جبکہ اس پر گواہی قائم ہو جاے یا حمل ٹھہر جاے یا اعتراف کرے۔ سفیان کا قول ہے کہ مجھے یہ ارشاد بھی یاد ہے کہ آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ان کے بعد ہم نے رجم کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا؛زنا کا اقرار کرنا؛جلد ٨ص١٦٨؛حدیث نمبر٦٨٢٨ و حدیث نمبر ٦٨٢٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں صاحب سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت تو اچانک فیصلے کے تحت ہوگئی تھی۔اس پر عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں ان شاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو اپنے کاموں میں غضب چاہتےہیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! ایسا نہ کیجئے۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے۔جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے (مسجد نبوی) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا، ان میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اپنے زمانہ میں) رجم کرایا۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کر بیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو۔ خواہ مرد ہوں یا عورت، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھا کر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھا کر تعریفیں کی گئیں (ان کو اللہ کا بیٹا بنا دیا گیا) بلکہ (میرے لیے صرف یہ کہو کہ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی، خدا ترس ہو۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوا دیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے۔ اس وقت میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوبکر! ہمیں اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس لے چلئے۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری، انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ (سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں) اور انہوں نے پوچھا۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب (سردار خزرج) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی۔ پھر کہا: امابعد! ہم اللہ کے دین کے مددگار (انصار) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین! کم تعداد میں ہو۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی۔ میری بڑی خواہش تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور اللہ کی قسم! وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزاوار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن مار دی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذر یوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں (دونوں مل کر کام کریں) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ میں ڈر گیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھاؤ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی اس کے بعد ہم سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: بھائیو! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے قتل کردیا ۔ میں نے کہا ان کو اللہ تعالیٰ قتل کیا ہوگا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کر بیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا (پھوٹ پڑ جاتی) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے، نہ اس کی جس سے بیعت کی اس ڈر سے کہ قتل کر دئے جائیں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْحُبْلَى مِنَ الزِّنَا إِذَا أَحْصَنَتْ؛زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادی شدہ ہو؛جلد ٨ص١٦١ سے ١٧٠ تک؛حدیث نمبر٦٨٣٠)
جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے۔(النور ٢،٣)ابن عیینہ نے کہا کہ حد میں ترس نہ آئے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیر شادی شدہ زانی کو ایک سو کوڑے مارنے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کرنے کا حکم فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣١)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جلا وطن کیا اور پھر یہی طریقہ رائج ہوگیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٢)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس پر حد قائم کرتے ہوئے ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب البکران یجلدان وینفیان؛غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جلا وطن کئے جائیں؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٣)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مخنثوں پر لعنت فرمائی ہے جو مرد کو عورتوں کی مشابہت کریں اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔چناچہ فلاں کو نکال دو اور فلاں کو بھی نکال دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ نَفْيِ أَهْلِ الْمَعَاصِي وَالْمُخَنَّثِينَ؛بدکاروں اور مخنثوں کا شہر بدر کرنا؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٤)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ان کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں، میرا لڑکا ان کے یہاں مزدور تھا اور پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے کو رجم کیا جائے گا۔ چنانچہ میں نے سو بکریوں اور ایک کنیز کا فدیہ دیا۔مجھے بتایا گیا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی لازمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ بکریاں اور کنیز تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ملے گی اور انیس! صبح اس عورت کے پاس جاؤ اور پوچھنا تاکہ اسے رجم کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسے رجم کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَمَرَ غَيْرَ الإِمَامِ بِإِقَامَةِ الْحَدِّ غَائِبًا عَنْهُ؛جو امام کی موجودگی میں حد قائم کرنے کا حکم دے؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٥)
اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسبِ دستور ان کے مہر انہیں دو قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی جب وہ قید میں آجائیں پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لیے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(النساء ٣٥) حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کنیز کے متعلق پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور اسے بیچ ڈالو خواہ ایک رسی ہی قیمت میں ملے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے یقین نہیں کہ تیسری مرتبہ (کوڑے لگانے کے حکم) کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ؛جب کوئی کنیز زنا کرائے؛جلد ٨ص١٧١؛حدیث نمبر٦٨٣٦ و حدیث نمبر ٦٨٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا معلوم ہوجاے تو اسے کوڑے مارو لیکن ملامت نہ کرو۔پھر زنا کرے تو کوڑے اور ملامت نہ کرو پھر تیسری دفعہ بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ ایک رسی ہی اس کی قیمت میں ملے۔اسی طرح اسماعیل بن امیہ،سعید،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ لا تثریب علی علی الامۃ اذا زنت ولاتنقی؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٣٨ و حدیث نمبر ٦٨٣٩)
شیبانی نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا، میں نے پوچھا سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد، انہوں نے بتلایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس روایت کی متابعت علی بن مسہر، خالد بن عبداللہ المحاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے کی ہے اور بعض نے (سورۃ النور کے بجائے) سورۃ المائدہ کا ذکر کیا ہے لیکن پہلی روایت صحیح ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ أَحْكَامِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِحْصَانِهِمْ إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الإِمَامِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٠)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا کہ اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ أَحْكَامِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِحْصَانِهِمْ إِذَا زَنَوْا وَرُفِعُوا إِلَى الإِمَامِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤١)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ!ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ إِذَا رَمَى امْرَأَتَهُ أَوِ امْرَأَةَ غَيْرِهِ بِالزِّنَا عِنْدَ الْحَاكِمِ وَالنَّاسِ، هَلْ عَلَى الْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا فَيَسْأَلَهَا عَمَّا رُمِيَتْ بِهِ؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٢)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جب کوئی نماز پڑھے اور دوسرا اس کے آگے سے گزرنے لگے تو اسے روکے،اگر نہ مانے تو اس سے لڑے۔حضرت ابو سعید نے ایسا کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک گردن پر رکھ پر آرام فرما تھے۔انہوں نے فرمایا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے۔چناچہ مجھ پر ناراض ہوے اور میری کوک میں گھونسے مارے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے علاوہ کوئی چیز حرکت کرنے میں رکاوٹ نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ؛سلطان کے علاوہ جو اپنے گھر والوں یا دوسروں کو ادب سکھاے؛جلد ٨ص١٧٢؛حدیث نمبر٦٨٤٣ و حدیث نمبر ٦٨٤٤)
عبد الرحمن بن قاسم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر آے اور انہوں نے مجھے زور سے مکے مارے اور فرمایا کہ تو نے ہار کی وجہ سے لوگوں کو روک دیا ہے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے سبب موت میرے قریب تھی کیونکہ مجھے تکلیف پہنچ رہی تھی۔آگے اسی طرح حدیث بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ أَدَّبَ أَهْلَهُ أَوْ غَيْرَهُ دُونَ السُّلْطَانِ؛سلطان کے علاوہ جو اپنے گھر والوں یا دوسروں کو ادب سکھاے؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٥)
حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اسے ختم کئے بغیر سانس نہ لوں۔جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا۔کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب آتا ہے؟حالانکہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ مَنْ رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ؛جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھے تو اسے قتل کردے؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعْرِيضِ؛تعریض کے متعلق؛جلد ٨ص١٧٣؛حدیث نمبر٦٨٤٧)
سلیمان بن یسار نے عبد الرحمن بن جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٤٨)
عبدالرحمن بن جابر نے اس آدمی سے روایت کی ہے کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی کو دس سے زیادہ ضربوں کی سزا نہ دی جائے سواے اللہ کی حدوں میں سے کسی حد کو قائم کرتے ہوئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٤٩)
بکیر نے بیان کیا کہ میں سلیمان بن یسار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبدالرحمٰن بن جابر آئے اور سلیمان بن یسار سے بیان کیا پھر سلیمان بن یسار ہماری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے بیان کیا ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٠)
ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال (مسلسل افطار کے بغیر کئی دن کے روزے رکھنے)کے روزے سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون میری مثل ہے؟بیشک میں رات گزارتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے لیکن وصال کے روزے سے صحابہ نہیں رکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کے بعد دوسرے دن کا وصال کے روزے رکھیں پھر اس کے بعد لوگوں نے چاند دیکھ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر (عید کا) چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور وصال کے روزے رکھتا۔ یہ آپ نے تنبیہاً فرمایا تھا کیونکہ وہ وصال کے روزے رکھنے پرمصر تھے۔ اس روایت کی متابعت شعیب، یحییٰ بن سعید اور یونس نے زہری سے کی ہے اور عبدالرحمٰن بن خالد فہمی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥١)
سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی کہ وہ غلے کے ڈھیر کو اس جگہ پر بغیر ناپ تول کے بیچ دیا کرتے لہٰذا وہ اس سے ان کے ٹھکانوں پر لے جاتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٢)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معاملے میں اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا خواہ کیسی ہی آپ کو اذیت دی گئی ہو۔ہاں جب خدا کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے حکم سے انتقام لیتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ؛تعریض اور ادب کے لیے کتنی سزا ہو؛جلد ٨ص١٧٤؛حدیث نمبر٦٨٥٣)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ شوہر نے کہا تھا کہ اگر اب بھی میں (اپنی بیوی کو) اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے یہ روایت محفوظ رکھی ہے کہ ”اگر اس عورت کے ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر ایسا سرخ رو بچہ جنا تو یہ جھوٹا ہے۔میں نے زہری کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس نے ایسا بچہ جنا جس کو ناپسند کیا جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٤)
قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلا گواہی رجم کرتا(تو اسے ضرور کرتا) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو اعلانیہ بدکاری کرتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٥)
قاسم بن محمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی پھر وہ واپس آئے۔ اس کے بعد ان کی قوم کے ایک صاحب یہ شکایت لے کر ان کے پاس آئے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھے بڑے بول کے سبب اس میں مبتلا کیا گیا ہے۔پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور اس شخص کے بارے میں آپ کو بتایا جس کو اپنی زوجہ کے ساتھ دیکھا تھا اور یہ زرد رنگ،کم گوشت اور سیدھے بالوں والے تھے جبکہ وہ شخص جس کے بارے میں اپنی زوجہ کے پاس دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا وہ گندمی رنگ کا،موٹی پنڈلیوں والا اور موٹا شخص تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو ظاہر کر دے۔ چنانچہ اس عورت کے یہاں اسی شخص کی شکل کا بچہ پیدا ہوا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ وہی تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا گواہی کے رجم کرتا تو اسے رجم کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ تو وہ عورت تھی جو اسلام میں لانے اعلانیہ فحاشی کا مظاہرہ کیا کرتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛ بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتُّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ؛اگر کسی شخص کی بے حیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوجاے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں ۔ مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(النور ٥) بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (النور ٢٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن ایماندار انجان عورتوں کو تہمت لگانا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ رَمْيِ الْمُحْصَنَاتِ؛پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بَری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ قذف العبید؛غلاموں پر تہمت لگانا؛جلد ٨ص١٧٥؛حدیث نمبر٦٨٥٨)
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر فریق مخالف کھڑا ہوا، یہ زیادہ سمجھدار تھا اور کہا کہ انہوں نے سچ کہا۔ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیجئے اور یا رسول اللہ! مجھے (گفتگو کی) اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کرتا تھا پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ میں نے اس کے فدیہ میں ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ملنی چاہئے اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہی کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اور اے انیس اس عورت کے پاس صبح جانا اور اس سے پوچھنا اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے رجم کرنا، اس عورت نے اقرار کر لیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْحُدُودِ؛بَابُ هَلْ يَأْمُرُ الإِمَامُ رَجُلاً فَيَضْرِبُ الْحَدَّ غَائِبًا عَنْهُ وقد فعله عمر؛کیا امام کسی شخص کو حکم دے سکتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں کسی پر حد لگاے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے؛جلد ٨ص١٧٦؛حدیث نمبر٦٨٥٩)
Bukhari Shareef : Kitabul Hudud
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الحُدُودِ
|
•