
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے۔(النساء ٩٣) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا:یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔(الفرقان ٦٨) (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٠ و حدیث نمبر ٦٨٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن اپنے دین میں ہمیشہ فراخی میں رہتا ہے یعنی یہ آسانی عمل کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق خون نہیں کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہلک امور میں سے جن کے واقع ہونے کے بعد نکلنے کا راستہ نہ ہو۔بغیر جواز کے حرام خون بہانا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٣)
ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے پہلے لوگوں کے درمیان جن باتوں کا فیصلہ کیا جاے گا وہ خون کے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٤)
عطاء بن یزید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے عرض کیا:یا رسول اللہ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تو وہ قتل سے پہلی والی تمہاری جگہ پر ہوگا اور تم اس کی پہلی والی جگہ پر جو اس کے یہ کلمہ کہنے سے پہلے تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب کوئی مؤمن اپنے ایمان کو کافروں کی وجہ سے پوشیدہ رکھتا ہو۔پھر وہ اپنے ایمان کو ظاہر کردے،پھر تم اسے قتل کردو،حالانکہ یہ اسی طرح تھا جیسے تم اس سے پہلے مکہ مکرمہ میں اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جس نے ایک جان کو جلا لیا(المائدہ٣٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا مگر حق کے ساتھ تو اسے زندہ بچا کر گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔ مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی جان قتل نہیں کی جاتی مگر اس میں سے ایک حصہ حضرت آدم علیہ السلام کے اس بیٹے پر ہوتا ہے۔جس نے سب سے پہلے قتل کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٧)
محمد بن زید نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف لوٹ نہ جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٨)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہو(پھر فرمایا) تم میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٩)
شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٧٠)
عبیداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧١)
ابوظبیان نے بیان کیا،کہا کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی طرف بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٢)
صنابحی کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے (منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٣)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٤)
امام حسن بصری کا بیان ہے کہ حضرت احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں ان صاحب(حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔(البقرہ ١٧٨) قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ سُؤَالِ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالإِقْرَارِ فِي الْحُدُودِ؛قاتل سے سوال کرنا حتی کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ہے؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٦)
ہشام بن زید بن انس کا بیان ہے کہ ان کے جد امجد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر (انکار کے لیے) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا (اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا؛جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٧)
جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(المائد٤٥) مسروق نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے سوائے اس کے ان تین باتوں میں سے کوئی ایک ہو۔جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا (مرتد)یعنی مسلمان کی جماعت کو چھوڑ دینے والا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب حدیث کے شروع میں قرآن کی آیت؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٨)
ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ؛جس نے پتھر سے مار ڈالا؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٩)
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا، ان سے حرب بن شداد نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے (شاہ یمن ابرہہ کے) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر مسلط فرمایا۔خبردار ہوجاؤ اس میں قتل کرنا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کی ایک ساعت کے لیے حلال ہوا تھا۔سن لو اس وقت وہ اسی طرح حرام ہے۔ (سن لو) اس کا کانٹا نہ اکھاڑا جائے، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہا دیا جائے یا قصاص دیا جائے۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب حضرت عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھیوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے «القتل.» کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ؛جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٨٠)
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت لیکن دیت نہ تھی پس اللہ تعالیٰ نے اس امت سے فرمایا"اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی"۔(البقرہ ١٧٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ العفو سے مراد قتل عمد میں بھی دیت کا قول کر لینا ہے" فاتباع بالمعروف"سے یہ مراد ہے کہ تقاضا بھلائی کے ساتھ ہوا اور ادا کرنا اچھے طریقے سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٨١)
نافع بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو تین شخص بہت ناپسند ہیں حرم سے حد سے نکلنے والا،مسلمان کہلاکر جاہلیت کے طریقوں کو اپنانے والا اور بغیر کسی حق کے کسی آدمی کے خون کا مطالبہ کرنے والا تاکہ اس کا خون بہا دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ بَابُ مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ؛جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٢)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب غزوہ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی۔(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے (غلطی میں) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ؛قتل خطأ کو معاف کر دینا؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے، تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(النساء٩٢) قتادہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے (ہاں) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ؛جب قتل کا اقرار کر لیا تو پھر اسے قتل کیا جائے گا؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٤)
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو قتل کردیا جس نے زیور کے سبب ایک لڑکی کو قتل کیا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنا؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٥)
اہل علم نے کہا ہے کہ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عورت کا قصاص مرد سے ہر قتل عمد میں یا زخمی ہونے کی صورت میں لیا جائے گا۔ یہی قول عمر بن عبدالعزیز، ابراہیم، ابوالزناد کا اپنے اساتذہ سے منقول ہے۔ اور ربیع کی بہن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرمایا تھا۔ عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ دوا کو ناپسند فرمایا ہوگالیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ؛مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں کا قصاص؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سب سے آخر میں ہیں اور سب پر سبقت لے جانے والے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٧)
اور اسی سند کے ساتھ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر کوئی تیرے گھر میں جھانکے اور اندر آنے کی اجازت نہ لی ہو،پھر تو اسے پتھر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٨)
یحییٰ نے حمید سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں جھانکا تو آپ نے اسے مارنے کے لیے تیر کا پھل اٹھایا۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟فرمایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب غزوہ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی تو ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو سنبھالو۔پس آگے والے اور پیچھے والے مدمقابل ہوگئے۔پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد ماجد نرغے میں ہیں۔چناچہ یہ پکارتے رہے کہ اے اللہ کے بندو!یہ تو میرے والد ہیں،یہ تو میرے والد ہیں۔حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم!کسی نے ان کی نہ سنی حتیٰ کہ انہیں قتل کردیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ آپ لوگوں کو معاف فرمائے۔عروہ کا بیان ہے کہ باقی تمام عمر حضرت حذیفہ کو اس کا صدمہ رہا حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ؛جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا قتل ہوجائے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٩٠)
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ اے عامر!کیا آپ ہمیں اپنے اشعار نہیں سنائیں گے؟چناچہ انہوں نے اشعار سناے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!آپ ہمیں ان سے اور نفع لینے دیتے۔ چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی (کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ (اللہ کے راستہ میں) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اس کے قتل سے بہتر کس کی موت ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جب کوئی غلطی سے خود کو قتل کر بیٹھے تو اس کی دیت نہیں ہے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٩١)
زرارہ بن اوفی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ؛جب کوئی کسی کو کاٹے اور اس شخص کے دانت گر جائیں؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٢)
صفوان بن یعلیٰ کا بیان ہے کہ ان کے والد نے فرمایا کہ میں کسی غزوہ کے لیے نکلا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ:؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٣)
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نضر کی بیٹی نے ایک لڑکی کو تھپڑ مارا جس کے سبب اس کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے۔پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے تو آپ نے قصاص کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ السِّنِّ بِالسِّنِّ؛دانت کے بدلے دانت؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٤)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھوٹی انگلی اور انگوٹھا۔ محمد بن بشار،ابن ابو عدی،شعبر،قتادہ عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہی سنا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الأَصَابِعِ؛انگلیوں کی دیت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٥)
اور مطرف نے شعبی سے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہی دونوں ایک دوسرے شخص کو لائے اور کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی (اصل میں چور یہ تھا) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو باطل قرار دیا اور ان سے پہلے کا (جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا) خون بہا لیا اور کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم لوگوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو میں تم دونوں کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء (یمن کے لوگ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ؛کئی افراد نے ایک شخص کو قتل کیا تو کیا سب سے قصاص لیا جائے گا؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٦)
عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مرض میں دوا پلائی۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ پلاؤ لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ پلاؤ۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٧)
اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ تمہارے دو گواہ ہونے چاہیے ورنہ اس کی قسم ہوگی“ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا قسامت میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے قصاص نہیں لیا (صرف دیت دلائی) اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو جنہیں انہوں نے بصرہ کا امیر بنایا تھا ایک مقتول کے بارے میں جو گھی بیچنے والوں کے محلہ کے ایک گھر کے پاس پایا گیا تھا لکھا کہ اگر مقتول کے اولیاء کے پاس کوئی گواہی ہو (تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے) ورنہ خلق اللہ پر ظلم نہ کرو کیونکہ ایسے معاملہ کا جس پر گواہ نہ ہوں قیامت تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ بشیر بن یسار کا بیان ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ ہو گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛قسامت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٨)
ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک دن تخت پر لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھے اور سب کو اجازت دی۔لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا:قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ!تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا:یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہوگی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں (اشراف عرب) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ (ابوقلابہ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے (خیبر کے ارادہ سے) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں (خیبر میں) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں (کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا (ابوقلابہ نے کہا کہ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو (جس نے قتل کیا تھا) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش ہونے لگی۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی پیر ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام دفتر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہیں شام کی طرف ملک بدر کردیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛قسامت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے میں جھانکا تو آپ تیر یا تیر کا پھل لے کر اس کی جانب کھڑے ہوئے اور مارنے کے درپے ہوے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١٠؛حدیث نمبر٦٩٠٠)
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آلہ تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تو مجھے دیکھے گا تو میں اسے تیری آنکھ میں مار دیتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھنے کے سبب ہی سے تو اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١٠؛حدیث نمبر٦٩٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر کوئی شخص بغیر اجازت تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم اس کی آنکھ میں کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر مواخذہ نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٢)
ابوجحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو کتاب کے بارے میں دی گئی ہو اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَاقِلَةِ؛عاقلہ کا بیان؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٣)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے،جس کے سبب ایک کا حمل گر گیا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ غلام یا لونڈی ایک ایک بردہ دیت میں دیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عورت کا حمل گرادینے کی دیت کے متعلق مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٥)
پس حضرت محمد بن مسلمہ نے بھی گواہی دی کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے وقت حاضر تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٦)
ہشام نے اپنے والد ماجد حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل ساقط کر دینے کے متعلق فیصلہ سنا ہو؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا کہا کہ ایک ایسا گواہ لائے جو اس بات کی شہادت دے۔پس حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فیصلہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٧)
محمد بن عبداللہ،محمد بن سابق،ہشام بن عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے عورت کا حمل ساقط کرنے کے متعلق اسی طرح مشورہ کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٨)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے حمل (کے گرانے) پر ایک غلام یا کنیز تاوان دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور تاوان عصبہ ادا کریں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدیات؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ؛عورت کا حمل اور یہ کہ دیت باپ پر ہے اور باپ کے عصبہ پر بیٹے پر نہیں ہے؛جلد٩ص١١،حدیث نمبر ٦٩٠٩)
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مر گئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہوگی اور عورت کی دیت اس کے وارثوں کو حکم فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدیات؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ؛عورت کا حمل اور یہ کہ دیت باپ پر ہے اور باپ کے عصبہ پر بیٹے پر نہیں ہے؛جلد٩ص١١،حدیث نمبر ٦٩١٠)
منقول ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک قرآن مجید پڑھانے والے کو لکھا کہ اون صاف کرنے کے لیے میرے پاس لونڈی بھیج دیجئے لیکن کسی آزاد کو نہ بھیجنا۔ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا؛جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١١)
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور کافروں کا دیا ہوا مال ملے تو اس میں سے پانچواں حصہ ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ؛کان اور کنوئیں میں دب کر مرنے والا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٢)
اور ابن سیرین نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،جانور کے لات مار دینے پر تاوان نہیں دلاتے تھے لیکن اگر کوئی لگام موڑتے وقت جانور کو زخمی کر دیتا تو سوار سے تاوان دلاتے تھے اور حماد نے کہا کہ لات مارنے پر تاوان نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی شخص کسی جانور کو اکسائے (اور اس کی وجہ سے جانور کسی دوسرے کو لات مارے) تو اکسانے والے پر تاوان ہو گا۔ شریح نے کہا کہ اس صورت میں تاوان نہیں ہو گا جبکہ بدلہ لیا ہو کہ پہلے اس نے جانور کو مارا اور پھر جانور نے اسے لات سے مارا۔ حکم نے کہا اگر کوئی مزدور کسی گدھے کو ہانک رہا ہو جس پر عورت سوار ہو پھر وہ عورت گر جائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں اور شعبی نے کہا کہ جب کوئی جانور ہانک رہا ہو اور پھر اسے تھکا دے تو اس کی وجہ سے اگر جانور کو کوئی نقصان پہنچا تو ہانکنے والا ضامن ہو گا اور اگر جانور کے پیچھے رہ کر اس کو (معمولی طور سے) آہستگی سے ہانک رہا ہو تو ہانکنے والا ضامن نہ ہو گا۔ محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جانور کسی کو مار دیں تو تاوان نہیں اور کنوئیں یا کان میں کام کرنے والا دب کر مر جائے تو تاوان نہیں۔اور دبا ہوا مال ملے تو خمس ادا کرنا ہوگا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ؛چوپائے خون کردے تو معاف ہے؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٣)
مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کسی ایسے کو قتل کرے جس کے ساتھ معاہدہ تھا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ؛جو بغیر کسی جرم کے ذمی کو قتل کردے؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٤)
ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہ ہو؟اور سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ لاَ يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ؛کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٥)
اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ یحییٰ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انبیاء کرام میں کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ؛جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے؛جلد٩ص١٣،حدیث نمبر ٦٩١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھےغصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیغمبروں پرمجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔ اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ؛جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے؛جلد٩ص١٣،حدیث نمبر ٦٩١٧)
Bukhari Shareef : Kitabud Diyat
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الدِّيَاتِ
|
•