asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabud Diyat

From 6860 to 6917

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے۔(النساء ٩٣) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا:یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔(الفرقان ٦٨) (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٠ و حدیث نمبر ٦٨٦١)

كِتَابُ الدِّيَاتِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] الآيَةَ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6860/6861

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن اپنے دین میں ہمیشہ فراخی میں رہتا ہے یعنی یہ آسانی عمل کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق خون نہیں کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٢)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ العَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَزَالَ المُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6862

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہلک امور میں سے جن کے واقع ہونے کے بعد نکلنے کا راستہ نہ ہو۔بغیر جواز کے حرام خون بہانا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٣)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الأُمُورِ، الَّتِي لاَ مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا، سَفْكَ الدَّمِ الحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6863

ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے پہلے لوگوں کے درمیان جن باتوں کا فیصلہ کیا جاے گا وہ خون کے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٢؛حدیث نمبر٦٨٦٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6864

عطاء بن یزید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے عرض کیا:یا رسول اللہ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تو وہ قتل سے پہلی والی تمہاری جگہ پر ہوگا اور تم اس کی پہلی والی جگہ پر جو اس کے یہ کلمہ کہنے سے پہلے تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٥)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ: أَنَّ المِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الكِنْدِيَّ، حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، وَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَقْتُلْهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، آقْتُلُهُ؟ قَالَ: «لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6865

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب کوئی مؤمن اپنے ایمان کو کافروں کی وجہ سے پوشیدہ رکھتا ہو۔پھر وہ اپنے ایمان کو ظاہر کردے،پھر تم اسے قتل کردو،حالانکہ یہ اسی طرح تھا جیسے تم اس سے پہلے مکہ مکرمہ میں اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٦)

وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ: «إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ فَقَتَلْتَهُ؟ فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6866

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جس نے ایک جان کو جلا لیا(المائدہ٣٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا مگر حق کے ساتھ تو اسے زندہ بچا کر گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔ مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی جان قتل نہیں کی جاتی مگر اس میں سے ایک حصہ حضرت آدم علیہ السلام کے اس بیٹے پر ہوتا ہے۔جس نے سب سے پہلے قتل کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٧)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} [المائدة: 32] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَنْ حَرَّمَ قَتْلَهَا إِلَّا بِحَقٍّ {فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا} [المائدة: 32] " حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6867

محمد بن زید نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف لوٹ نہ جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي: عَنْ أَبِيهِ: سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6868

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہو(پھر فرمایا) تم میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ: «اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6869

شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٣؛حدیث نمبر٦٨٧٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، - أَوْ قَالَ: - اليَمِينُ الغَمُوسُ " شَكَّ شُعْبَةُ وَقَالَ مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: " الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، أَوْ قَالَ: وَقَتْلُ النَّفْسِ "

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6870

عبیداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الكَبَائِرُ». ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ابْنِ أَبِي - بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَكْبَرُ الكَبَائِرِ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ، - أَوْ قَالَ: وَشَهَادَةُ الزُّورِ - "

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6871

ابوظبیان نے بیان کیا،کہا کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی طرف بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٢)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: فَصَبَّحْنَا القَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، قَالَ: وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لِي: «يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: «أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ اليَوْمِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6872

صنابحی کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے (منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ، وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ، بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6873

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» رَوَاهُ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6874

امام حسن بصری کا بیان ہے کہ حضرت احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں ان صاحب(حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا}؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ المُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ، قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا التَقَى المُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالقَاتِلُ وَالمَقْتُولُ فِي النَّارِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا القَاتِلُ، فَمَا بَالُ المَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6875

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔(البقرہ ١٧٨) قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ سُؤَالِ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالإِقْرَارِ فِي الْحُدُودِ؛قاتل سے سوال کرنا حتی کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ہے؛جلد ٩ص٤؛حدیث نمبر٦٨٧٦)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاصُ فِي القَتْلَى الحُرُّ بِالحُرِّ وَالعَبْدُ بِالعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 178] بَابُ سُؤَالِ القَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ، وَالإِقْرَارِ فِي الحُدُودِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلاَنٌ أَوْ فُلاَنٌ، حَتَّى سُمِّيَ اليَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالحِجَارَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6876

ہشام بن زید بن انس کا بیان ہے کہ ان کے جد امجد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر (انکار کے لیے) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا (اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا؛جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٧)

بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فُلاَنٌ قَتَلَكِ؟» فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا، قَالَ: «فُلاَنٌ قَتَلَكِ؟» فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ: «فُلاَنٌ قَتَلَكِ؟» فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهُ بَيْنَ الحَجَرَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6877

جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(المائد٤٥) مسروق نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے سوائے اس کے ان تین باتوں میں سے کوئی ایک ہو۔جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا (مرتد)یعنی مسلمان کی جماعت کو چھوڑ دینے والا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب حدیث کے شروع میں قرآن کی آیت؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٨)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالعَيْنَ بِالعَيْنِ وَالأَنْفَ بِالأَنْفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلاَثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ "

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6878

ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ؛جس نے پتھر سے مار ڈالا؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٧٩)

بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالحَجَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ: «أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ؟» فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ لاَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ لاَ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6879

ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا، ان سے حرب بن شداد نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے (شاہ یمن ابرہہ کے) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر مسلط فرمایا۔خبردار ہوجاؤ اس میں قتل کرنا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کی ایک ساعت کے لیے حلال ہوا تھا۔سن لو اس وقت وہ اسی طرح حرام ہے۔ (سن لو) اس کا کانٹا نہ اکھاڑا جائے، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہا دیا جائے یا قصاص دیا جائے۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب حضرت عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھیوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے «القتل‏.‏» کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ؛جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٨٠)

بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا» وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ، قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ، بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلاَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا يُودَى وَإِمَّا يُقَادُ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ اليَمَنِ، يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ» ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الإِذْخِرَ، فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا الإِذْخِرَ» وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ فِي الفِيلِ قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ: «القَتْلَ» وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: «إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ القَتِيلِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6880

مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت لیکن دیت نہ تھی پس اللہ تعالیٰ نے اس امت سے فرمایا"اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی"۔(البقرہ ١٧٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ العفو سے مراد قتل عمد میں بھی دیت کا قول کر لینا ہے" فاتباع بالمعروف"سے یہ مراد ہے کہ تقاضا بھلائی کے ساتھ ہوا اور ادا کرنا اچھے طریقے سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ؛جلد ٩ص٥؛حدیث نمبر٦٨٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِصَاصُ} [البقرة: 178] فِي القَتْلَى - إِلَى هَذِهِ الآيَةِ - {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ} [البقرة: 178] " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَالعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي العَمْدِ» قَالَ: {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 178] «أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6881

نافع بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو تین شخص بہت ناپسند ہیں حرم سے حد سے نکلنے والا،مسلمان کہلاکر جاہلیت کے طریقوں کو اپنانے والا اور بغیر کسی حق کے کسی آدمی کے خون کا مطالبہ کرنے والا تاکہ اس کا خون بہا دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ بَابُ مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ؛جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٢)

بَابُ مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلاَثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةَ الجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ "

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6882

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب غزوہ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی۔(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے (غلطی میں) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ؛قتل خطأ کو معاف کر دینا؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٣)

بَابُ العَفْوِ فِي الخَطَإِ بَعْدَ المَوْتِ حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي المَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «هُزِمَ المُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ» ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ يَعْنِي الوَاسِطِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ: يَا عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ، حَتَّى قَتَلُوا اليَمَانِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَبِي أَبِي، فَقَتَلُوهُ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ: وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ "

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6883

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے، تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(النساء٩٢) قتادہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے (ہاں) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ؛جب قتل کا اقرار کر لیا تو پھر اسے قتل کیا جائے گا؛جلد ٩ص٦؛حدیث نمبر٦٨٨٤)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلاَنٌ، أَفُلاَنٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ اليَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَجِيءَ بِاليَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالحِجَارَةِ " وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ: بِحَجَرَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6884

قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو قتل کردیا جس نے زیور کے سبب ایک لڑکی کو قتل کیا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنا؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٥)

بَابُ قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6885

اہل علم نے کہا ہے کہ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عورت کا قصاص مرد سے ہر قتل عمد میں یا زخمی ہونے کی صورت میں لیا جائے گا۔ یہی قول عمر بن عبدالعزیز، ابراہیم، ابوالزناد کا اپنے اساتذہ سے منقول ہے۔ اور ربیع کی بہن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرمایا تھا۔ عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ دوا کو ناپسند فرمایا ہوگالیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ؛مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں کا قصاص؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٦)

بَابُ القِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الجِرَاحَاتِ وَقَالَ أَهْلُ العِلْمِ: يُقْتَلُ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ: «تُقَادُ المَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ، فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَهَا مِنَ الجِرَاحِ» وَبِهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَأَبُو الزِّنَادِ عَنْ أَصْحَابِهِ وَجَرَحَتْ أُخْتُ الرُّبَيِّعِ إِنْسَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «القِصَاصُ» حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: «لاَ تُلِدُّونِي» فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ المَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ، غَيْرَ العَبَّاسِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6886

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سب سے آخر میں ہیں اور سب پر سبقت لے جانے والے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٧)

بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوْ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6887

اور اسی سند کے ساتھ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر کوئی تیرے گھر میں جھانکے اور اندر آنے کی اجازت نہ لی ہو،پھر تو اسے پتھر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٨)

وَبِإِسْنَادِهِ: «لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ، وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6888

یحییٰ نے حمید سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ اقدس میں جھانکا تو آپ نے اسے مارنے کے لیے تیر کا پھل اٹھایا۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟فرمایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ؛جو از خود حق حاصل کرے یا بغیر اجازت سلطان قصاص لے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٨٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا» فَقُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6889

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب غزوہ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی تو ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو سنبھالو۔پس آگے والے اور پیچھے والے مدمقابل ہوگئے۔پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد ماجد نرغے میں ہیں۔چناچہ یہ پکارتے رہے کہ اے اللہ کے بندو!یہ تو میرے والد ہیں،یہ تو میرے والد ہیں۔حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم!کسی نے ان کی نہ سنی حتیٰ کہ انہیں قتل کردیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ آپ لوگوں کو معاف فرمائے۔عروہ کا بیان ہے کہ باقی تمام عمر حضرت حذیفہ کو اس کا صدمہ رہا حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ؛جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا قتل ہوجائے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٩٠)

بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ المُشْرِكُونَ، فَصَاحَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ اليَمَانِ، فَقَالَ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي " قَالَتْ: «فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ» قَالَ عُرْوَةُ: «فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6890

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ اے عامر!کیا آپ ہمیں اپنے اشعار نہیں سنائیں گے؟چناچہ انہوں نے اشعار سناے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!آپ ہمیں ان سے اور نفع لینے دیتے۔ چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی (کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ (اللہ کے راستہ میں) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اس کے قتل سے بہتر کس کی موت ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جب کوئی غلطی سے خود کو قتل کر بیٹھے تو اس کی دیت نہیں ہے؛جلد ٩ص٧؛حدیث نمبر٦٨٩١)

بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَهُ حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ، فَحَدَا بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ السَّائِقُ» قَالُوا: عَامِرٌ، فَقَالَ: «رَحِمَهُ اللَّهُ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ، فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ، فَقَالَ القَوْمُ: حَبِطَ: عَمَلُهُ، قَتَلَ نَفْسَهُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ: «كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ، إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، وَأَيُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6891

زرارہ بن اوفی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ؛جب کوئی کسی کو کاٹے اور اس شخص کے دانت گر جائیں؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٢)

بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلًا فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الفَحْلُ؟ لاَ دِيَةَ لَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6892

صفوان بن یعلیٰ کا بیان ہے کہ ان کے والد نے فرمایا کہ میں کسی غزوہ کے لیے نکلا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ:؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ، فَعَضَّ رَجُلٌ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6893

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نضر کی بیٹی نے ایک لڑکی کو تھپڑ مارا جس کے سبب اس کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے۔پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے تو آپ نے قصاص کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ السِّنِّ بِالسِّنِّ؛دانت کے بدلے دانت؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٤)

بَابُ السِّنَّ بِالسِّنِّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ لَطَمَتْ جَارِيَةً فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالقِصَاصِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6894

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھوٹی انگلی اور انگوٹھا۔ محمد بن بشار،ابن ابو عدی،شعبر،قتادہ عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہی سنا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الأَصَابِعِ؛انگلیوں کی دیت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٥)

بَابُ دِيَةِ الأَصَابِعِ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ» يَعْنِي الخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6895

اور مطرف نے شعبی سے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہی دونوں ایک دوسرے شخص کو لائے اور کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی (اصل میں چور یہ تھا) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو باطل قرار دیا اور ان سے پہلے کا (جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا) خون بہا لیا اور کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم لوگوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو میں تم دونوں کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء (یمن کے لوگ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ؛کئی افراد نے ایک شخص کو قتل کیا تو کیا سب سے قصاص لیا جائے گا؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٦)

بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ، هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ وَقَالَ مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: فِي رَجُلَيْنِ شَهِدَا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ سَرَقَ، فَقَطَعَهُ عَلِيٌّ، ثُمَّ جَاءَا بِآخَرَ وَقَالاَ: أَخْطَأْنَا، فَأَبْطَلَ شَهَادَتَهُمَا، وَأُخِذَا بِدِيَةِ الأَوَّلِ، وَقَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُكُمَا» وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ غُلاَمًا قُتِلَ غِيلَةً، فَقَالَ عُمَرُ: «لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ» وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ: «إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا»، فَقَالَ عُمَرُ: مِثْلَهُ وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَلِيٌّ وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ وَأَقَادَ عُمَرُ، مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ وَأَقَادَ عَلِيٌّ، مِنْ ثَلاَثَةِ أَسْوَاطٍ وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ، مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6896

عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مرض میں دوا پلائی۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ پلاؤ لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ پلاؤ۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا: «لاَ تَلُدُّونِي» قَالَ: فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ المَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي» قَالَ: قُلْنَا: كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا العَبَّاسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6897

اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ تمہارے دو گواہ ہونے چاہیے ورنہ اس کی قسم ہوگی“ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا قسامت میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے قصاص نہیں لیا (صرف دیت دلائی) اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو جنہیں انہوں نے بصرہ کا امیر بنایا تھا ایک مقتول کے بارے میں جو گھی بیچنے والوں کے محلہ کے ایک گھر کے پاس پایا گیا تھا لکھا کہ اگر مقتول کے اولیاء کے پاس کوئی گواہی ہو (تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے) ورنہ خلق اللہ پر ظلم نہ کرو کیونکہ ایسے معاملہ کا جس پر گواہ نہ ہوں قیامت تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ بشیر بن یسار کا بیان ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ ہو گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛قسامت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٨)

بَابُ القَسَامَةِ وَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ» وَقَالَ- ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: «لَمْ يُقِدْ بِهَا مُعَاوِيَةُ» وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ، وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَى البَصْرَةِ، فِي قَتِيلٍ وُجِدَ عِنْدَ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ السَّمَّانِينَ: «إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلاَ تَظْلِمُ النَّاسَ، فَإِنَّ هَذَا لاَ يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ» حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ: - زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ - سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ: قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ: «الكُبْرَ الكُبْرَ» فَقَالَ لَهُمْ: «تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ» قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: «فَيَحْلِفُونَ» قَالُوا: لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ اليَهُودِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6898

ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک دن تخت پر لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھے اور سب کو اجازت دی۔لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا:قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ!تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا:یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہوگی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں (اشراف عرب) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ (ابوقلابہ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے (خیبر کے ارادہ سے) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں (خیبر میں) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں (کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا (ابوقلابہ نے کہا کہ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو (جس نے قتل کیا تھا) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش ہونے لگی۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی پیر ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام دفتر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہیں شام کی طرف ملک بدر کردیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛قسامت کا بیان؛جلد ٩ص٨؛حدیث نمبر٦٨٩٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ: حَدَّثَنَا الحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مِنْ آلِ أَبِي قِلاَبَةَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ العَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي القَسَامَةِ؟ قَالَ: نَقُولُ: القَسَامَةُ القَوَدُ بِهَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الخُلَفَاءُ. قَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلاَبَةَ؟ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، عِنْدَكَ رُءُوسُ الأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ العَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟ قَالَ: لاَ. قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ؟ قَالَ: لاَ، قُلْتُ: فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلاَثِ خِصَالٍ: رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ. فَقَالَ القَوْمُ: أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي السَّرَقِ، وَسَمَرَ الأَعْيُنَ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَفَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا» قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا، قُلْتُ: وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلاَءِ، ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ، وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا. فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَاليَوْمِ قَطُّ، فَقُلْتُ: أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ؟ قَالَ: لاَ، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللَّهِ لاَ يَزَالُ هَذَا الجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بِمَنْ تَظُنُّونَ، أَوْ مَنْ تَرَوْنَ، قَتَلَهُ» قَالُوا: نَرَى أَنَّ اليَهُودَ قَتَلَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى اليَهُودِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: «آنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا؟» قَالُوا: لاَ، قَالَ: «أَتَرْضَوْنَ نَفْلَ خَمْسِينَ مِنَ اليَهُودِ مَا قَتَلُوهُ» فَقَالُوا: مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ، ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ، قَالَ: «أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» قَالُوا: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ اليَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ، فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ، فَأَخَذُوا اليَمَانِيَّ فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ، وَقَالُوا: قَتَلَ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، فَقَالَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ، قَالَ: فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ، فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي المَقْتُولِ، فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالُوا: فَانْطَلَقَا وَالخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ، أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الغَارُ عَلَى الخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ القَرِينَانِ، وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي المَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالقَسَامَةِ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6899

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے میں جھانکا تو آپ تیر یا تیر کا پھل لے کر اس کی جانب کھڑے ہوئے اور مارنے کے درپے ہوے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١٠؛حدیث نمبر٦٩٠٠)

مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَلاَ دِيَةَ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ، أَوْ بِمَشَاقِصَ، وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6900

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آلہ تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تو مجھے دیکھے گا تو میں اسے تیری آنکھ میں مار دیتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھنے کے سبب ہی سے تو اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١٠؛حدیث نمبر٦٩٠١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ البَصَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6901

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر کوئی شخص بغیر اجازت تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم اس کی آنکھ میں کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر مواخذہ نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ؛جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6902

ابوجحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو کتاب کے بارے میں دی گئی ہو اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَاقِلَةِ؛عاقلہ کا بیان؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٣)

بَابُ العَاقِلَةِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي القُرْآنِ؟ وَقَالَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي فَلَقَ الحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي القُرْآنِ، إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ، وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ» قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: «العَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6903

ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے،جس کے سبب ایک کا حمل گر گیا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ غلام یا لونڈی ایک ایک بردہ دیت میں دیا جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٤)

بَابُ جَنِينِ المَرْأَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6904

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عورت کا حمل گرادینے کی دیت کے متعلق مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلاَصِ المَرْأَةِ، فَقَالَ المُغِيرَةُ: «قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6905

پس حضرت محمد بن مسلمہ نے بھی گواہی دی کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے وقت حاضر تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٦)

فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6906

ہشام نے اپنے والد ماجد حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل ساقط کر دینے کے متعلق فیصلہ سنا ہو؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا کہا کہ ایک ایسا گواہ لائے جو اس بات کی شہادت دے۔پس حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فیصلہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ: مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السِّقْطِ؟ فَقَالَ المُغِيرَةُ: أَنَا سَمِعْتُهُ «قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ» قَالَ: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا. فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا.

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6907

محمد بن عبداللہ،محمد بن سابق،ہشام بن عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے عورت کا حمل ساقط کرنے کے متعلق اسی طرح مشورہ کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ؛عورت کا حمل؛جلد ٩ص١١؛حدیث نمبر٦٩٠٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سَمِعَ المُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلاَصِ المَرْأَةِ، مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6908

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے حمل (کے گرانے) پر ایک غلام یا کنیز تاوان دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور تاوان عصبہ ادا کریں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدیات؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ؛عورت کا حمل اور یہ کہ دیت باپ پر ہے اور باپ کے عصبہ پر بیٹے پر نہیں ہے؛جلد٩ص١١،حدیث نمبر ٦٩٠٩)

بَابُ جَنِينِ المَرْأَةِ، وَأَنَّ العَقْلَ عَلَى الوَالِدِ وَعَصَبَةِ الوَالِدِ، لاَ عَلَى الوَلَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ المَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ العَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6909

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مر گئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہوگی اور عورت کی دیت اس کے وارثوں کو حکم فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدیات؛بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ؛عورت کا حمل اور یہ کہ دیت باپ پر ہے اور باپ کے عصبہ پر بیٹے پر نہیں ہے؛جلد٩ص١١،حدیث نمبر ٦٩١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ، عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ المَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6910

منقول ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک قرآن مجید پڑھانے والے کو لکھا کہ اون صاف کرنے کے لیے میرے پاس لونڈی بھیج دیجئے لیکن کسی آزاد کو نہ بھیجنا۔ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا؛جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١١)

بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا وَيُذْكَرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، بَعَثَتْ إِلَى مُعَلِّمِ الكُتَّابِ: «ابْعَثْ إِلَيَّ غِلْمَانًا يَنْفُشُونَ صُوفًا، وَلاَ تَبْعَثْ إِلَيَّ حُرًّا» حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: «فَخَدَمْتُهُ فِي الحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6911

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور کافروں کا دیا ہوا مال ملے تو اس میں سے پانچواں حصہ ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ؛کان اور کنوئیں میں دب کر مرنے والا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٢)

بَابٌ: المَعْدِنُ جُبَارٌ وَالبِئْرُ جُبَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «العَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالبِئْرُ جُبَارٌ، وَالمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الخُمُسُ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6912

اور ابن سیرین نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،جانور کے لات مار دینے پر تاوان نہیں دلاتے تھے لیکن اگر کوئی لگام موڑتے وقت جانور کو زخمی کر دیتا تو سوار سے تاوان دلاتے تھے اور حماد نے کہا کہ لات مارنے پر تاوان نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی شخص کسی جانور کو اکسائے (اور اس کی وجہ سے جانور کسی دوسرے کو لات مارے) تو اکسانے والے پر تاوان ہو گا۔ شریح نے کہا کہ اس صورت میں تاوان نہیں ہو گا جبکہ بدلہ لیا ہو کہ پہلے اس نے جانور کو مارا اور پھر جانور نے اسے لات سے مارا۔ حکم نے کہا اگر کوئی مزدور کسی گدھے کو ہانک رہا ہو جس پر عورت سوار ہو پھر وہ عورت گر جائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں اور شعبی نے کہا کہ جب کوئی جانور ہانک رہا ہو اور پھر اسے تھکا دے تو اس کی وجہ سے اگر جانور کو کوئی نقصان پہنچا تو ہانکنے والا ضامن ہو گا اور اگر جانور کے پیچھے رہ کر اس کو (معمولی طور سے) آہستگی سے ہانک رہا ہو تو ہانکنے والا ضامن نہ ہو گا۔ محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جانور کسی کو مار دیں تو تاوان نہیں اور کنوئیں یا کان میں کام کرنے والا دب کر مر جائے تو تاوان نہیں۔اور دبا ہوا مال ملے تو خمس ادا کرنا ہوگا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ؛چوپائے خون کردے تو معاف ہے؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٣)

بَابٌ: العَجْمَاءُ جُبَارٌ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: «كَانُوا لاَ يُضَمِّنُونَ مِنَ النَّفْحَةِ، وَيُضَمِّنُونَ مِنْ رَدِّ العِنَانِ» وَقَالَ حَمَّادٌ: «لاَ تُضْمَنُ النَّفْحَةُ إِلَّا أَنْ يَنْخُسَ إِنْسَانٌ الدَّابَّةَ» وَقَالَ شُرَيْحٌ: «لاَ تُضْمَنُ مَا عَاقَبَتْ، أَنْ يَضْرِبَهَا فَتَضْرِبَ بِرِجْلِهَا» وَقَالَ الحَكَمُ، وَحَمَّادٌ: «إِذَا سَاقَ المُكَارِي حِمَارًا عَلَيْهِ امْرَأَةٌ فَتَخِرُّ، لاَ شَيْءَ عَلَيْهِ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «إِذَا سَاقَ دَابَّةً فَأَتْعَبَهَا، فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَتْ، وَإِنْ كَانَ خَلْفَهَا مُتَرَسِّلًا لَمْ يَضْمَنْ» حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «العَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ، وَالبِئْرُ جُبَارٌ، وَالمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الخُمُسُ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6913

مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کسی ایسے کو قتل کرے جس کے ساتھ معاہدہ تھا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ؛جو بغیر کسی جرم کے ذمی کو قتل کردے؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٤)

بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6914

ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہ ہو؟اور سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ لاَ يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ؛کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا؛جلد٩ص١٢،حدیث نمبر ٦٩١٥)

بَابٌ: لاَ يُقْتَلُ المُسْلِمُ بِالكَافِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: ح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي القُرْآنِ؟، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي فَلَقَ الحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي القُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ، وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ» قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: «العَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6915

اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ یحییٰ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انبیاء کرام میں کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ؛جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے؛جلد٩ص١٣،حدیث نمبر ٦٩١٦)

بَابُ إِذَا لَطَمَ المُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الغَضَبِ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6916

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھےغصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیغمبروں پرمجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔ اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ؛جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے؛جلد٩ص١٣،حدیث نمبر ٦٩١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى المَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ لَطَمَ فِي وَجْهِي، قَالَ: «ادْعُوهُ». فَدَعَوْهُ، قَالَ: «لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِاليَهُودِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى البَشَرِ، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: «لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ العَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ»

Bukhari Shareef, Kitabud Diyat, Hadees No. 6917

Bukhari Shareef : Kitabud Diyat

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الدِّيَاتِ

|

•